گنگارام حکومت ہند اور مہاراجہ پٹیالہ کے ہاں ملازمت کر رہے تھے لیکن اچانک انہوں نے ایک بڑا فیصلہ کیا اور ملازمت سے استعفیٰ دیا اور قوم کی فلاح کا ارادہ بنا لیا انہوں نے فلاحی کاموں کیلئے سارا پیسہ اپنی جیب سے خرچ کیا۔ یہ پیسہ انہوں نے اپنی کاشتکاری سے حاصل کیا۔گنگا رام نے 1903ء میں سرکاری نوکری چھوڑی اور منٹگمری (موجودہ ساہیوال) کے قریب پچاس ہزار ایکڑ بے آباد زمین لیز پر لی‘ اس کی آبادکاری شروع کی اورتین سال کے مختصر عرصے میں یہ بیابان ایک سرسبز قطعہ اراضی میں تبدیل کر دیا۔اس کیلئے انہوں نے لوئر باری دوآب کینال سے آبپاشی کا نظام قائم کیا اور رینالہ خورد میں اس نہر پر ایک میگاواٹ کاپن بجلی گھر تعمیر کیا۔ اس بجلی سے اپنی ساری زمینوں پر آبپاشی کی غرض سے ٹیوب ویل چلائے۔ یہاں چار عدد ٹربائنیں 1921ء میں نصب کی گئی تھیں اور آج انہیں ایک کم سو سال ہو چکے ہیں۔ چار میں سے تین ٹربانیں اصلی حالت میں چل رہی ہیں اور سال بھر میں قریب دس گیارہ ماہ چلتی رہتی ہیں۔
Do you know that blogging is a fun of writing, in simple words you can also call it a digital diary, where you can share your perspective, your experiences, observations and thoughts with millions of people. The word blog comes from the combination of the English words 'web' and 'log'. A blog refers to a writing or article that is published on the World Wide Web (digital media/electronic . You can comment on social issues, politics, education, sports, fashion and business and many other things
جمعہ، 21 نومبر، 2025
سر گنگا رام جو یائے علم -ائے موت ایسوں کو نہیں کھایا کر
جمعرات، 20 نومبر، 2025
ابو الفتح عمر خیام بن ابراہیم نیشا پوری، المعروف، عمر خیام
میں خود حیران تھی کہ وہ شاعر جس کی کتابوں کے تراجم انگریز وں نے کئے اور ان کی شاعری سے فیض بھی اٹھایا تو ہماری نظروں سے وہ کیوں اوجھل رہے شائداس کی وجہ یہ ہو کہ فارسی زبان معاشرے سے ناپید کر دی گئ ابو الفتح عمر خیام بن ابراہیم نیشاپوری، المعروف، عمر خیام جن کے عِلم وفضل کا اعتراف اہل ِایران سے بڑھ کر اہل ِیورپ نے کیا۔لاتعداد ہستیاں شہرت و عظمت کی بلندیاں چھونے، اورکچھ عرصہ ستاروں کی مانند چمکنے کے بعد معدوم ہوکر خاک نشیں ہو گئیں، ماضی کی گرد میں ایسی گُم ہوئیں کہ نشاں تک نہ رہا، لیکن اِن ہی میں کئی ایسے نام وَر بھی ہوئے، جن کی شہرت زندگی میں بھی چاردانگِ عالم تھی، تو بعد ازمرگ بھی نام و مقام بلند رہا۔ یہاں تک کہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی انھیں دوام حاصل ہے۔ عمرخیّام ایران کے شہر نیشا پورمیں1048ء میں پیدا ہوئے اور4دسمبر 1131ء میں اُن کا انتقال ہوا۔ وہ اپنے دَور کے نام وَر فلسفی، ریاضی دان، ماہرِ علمِ نجوم، عالم، طبیب اور کئی دیگر علوم میں یگانۂ روزگارتھے۔ ان علوم کے علاوہ شعر و سخن میں بھی بہت بلند مقام رکھتے تھے
اور بلاشبہ اُن کا شمار دنیا کے مقبول ترین شعراء میں ہوتا ہے۔ فارسی زبان میں اُن کی رباعیات آج بھی دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ بے پناہ خوبیوں کے حامل، خیّام، عہدِ سلجوقی میں سلجوقی سلطنت سے وابستہ تھے اور ان کی ہمہ گیر شہرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے 1970ء میں چاند کے ایک گڑھےاور1980ء میں ایک سیارچے کا نام، اُن کے نام پر رکھا گیا۔ یوجین اونیل، اگاتھا کرسٹی اور اسٹیون کنگ جیسے مشہور ادیبوں نے اپنی کتابوں کے نام عمرخیّام کے اقتباسات پر رکھے۔عمرخیّام کو اگرچہ زیادہ شہرت شاعری کی بدولت ملی۔ تاہم، وہ اسے انتہائی غیرسنجیدہ اور فراغت کا مشغلہ سمجھتے تھے، یہی وجہ تھی کہ انھوں نے زندگی بھر اپنا کلام مرتّب نہیں کیا، لیکن، مشرق و مغرب میں انھیں اصل شہرت اُن کی شاعری ہی کی وجہ سے ملی۔ اُن کی رباعیات نے جنہیں وہ ’’وقتے خوش گزرے‘‘ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے،
کہتے ہیں عمر خیّام جب پیچیدہ علوم کے مسائل سے فارغ ہوتے، تو تفریحِ طبع اور دل جوئی کے لیے شعر کہتے۔اُن کی شاعری کا حاصل اُن کی فارسی رباعیات ہیں، مولانا شبلی لکھتے ہیں کہ’’خیّام کی رباعیاں اگرچہ ہزاروں کی تعداد میں ہیں، لیکن سب میں قدرِ مشترک صرف چند مضامین، مثلاً، دُنیا کی بے ثباتی، خوش دلی کی ترغیب، شراب کی تعریف، مسئلہ جبر اور توبہ استغفارہیں۔ وہ ہر ایک مضمون کو سو سو بار اس طرح بدل کر ادا کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا کہ وہ کوئی نئی چیز ہے۔مثلاً ’’توبہ استغفار‘‘ ایک قدیم موضوع ہے، لیکن جس طرح خیّام اسے ادا کرتے ہیں، سننے والے کی آنکھ سے آنسو نکل پڑتے ہیں۔ مغفرت کی دُعا، اس جدّتِ اسلوب سے مانگتے ہیں کہ دُعا کا اثر بڑھ جاتا ہے۔‘‘ جب کہ معروف ایرانی اسکالر، مجتبیٰ مینوی کا کہنا ہے کہ،’’بلاشبہ، شعرائے ایران میں ایسا کوئی نظر نہیں آتا، جسے خیّام کی مانند عالمی شہرت ملی ہو۔
‘عمر خیّام کے عہد کے فلسفی، علماء و فضلا اُن سے ملاقات کے خواہش مند رہتے اورگاہے بہ گاہے اُن کی خدمت میں حاضری دیتے۔ وہ عمر خیّام سے اختلاف کے باوجود اُن کا احترام کرتے تھے۔ ان کے علم و فضل ہی کی بدولت اُنھیں ’’حجۃ الحق‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ تاحیات حق و صداقت کے متلاشی رہے۔ حکیم بو علی سینا کے مشہور شاگرد، ابو نصر محمد ابراہیم نے اُن کی مدح میں عربی میں جو قطعہ لکھا ہے، اس سے اُن کی قدر و منزلت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ترجمہ:’’اے بادِ صبا! علّامہ خیّام کو ہمارا سلام پہنچادے۔ وہ عالی جناب، جن کے آستانے پر خود زمین یوں سجدہ ریز ہے، جیسے حکمت کی بھیک مانگنے والا۔ وہ ایسے بزرگ ہیں، جن کے سحابِ حکمت سے حکمت کی بوسیدہ ہڈیوں میں حیاتِ جاوداں پیدا ہوئی ہے۔ ’’کون و تکلیف‘‘ کے مسائل پر اُنھوں نے وہ افادات فرمائے، جس کے بعد کسی دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔‘‘
بدھ، 19 نومبر، 2025
شہرت کی بلندیوں پر مسند نشین ''عابدہ پروین''
عابدہ پروین (ولادت: 20 فروری 1954ء) پاکستانی صوفی مسلم گلوکارہ، کمپوزر اور موسیقار ہیں۔گائیکی کے ذریعے صوفیانہ کلام کوپھیلانے کی بات کی جائے تو شاید اس وقت پورے برصغیر میں عابدہ پروین سے بڑا کوئی نام نہیں۔ انھوں نے صرف پاکستان اور بھارت میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں صوفی شعراکے پیغام کو پھیلایا۔ عابدہ پروین کاایک موسیقار گھرانے سے ہے۔ انھوں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد استاد غلام حیدر سے حاصل کرنے کے بعد ریڈیو پاکستان سے اپنی فنی زندگی کا آغاز کیا۔2012ء میں عابدہ پروین کی فنکارانہ خدمات کے اعتراف میں انھیں ہلالِ امتیازسے نوازا گیا، اسی برس انھیں بھارت کی بیگم اختر اکیڈمی آف غزل کی طرف سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈبھی دیا گیا۔ عابدہ پروین کو اس سے پہلے حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس بھی مل چکا ہے۔2015ءمیں بھی پاکستان اور بیرونِ ممالک میں عابدہ پروین نے کئی شوز کیے اور موسیقی کی دنیا میں منفرد شناخت کی حامل رہیں۔
منگل، 18 نومبر، 2025
ون ویلنگ کیا ہے ؟وہ جرم جس میں پورا سماج شامل ہے
ون ویلنگ کیا ہے ؟ میرے خیال میں وہ جرم جس میں پورا سماج شامل ہے- مستند خبر ہے کہ اسلام آباد کی ایک ون ویلر لڑکی ون ویلنگ ریس کے دوران حادثے کا شکار ہو کر دونوں ٹانگیں تڑوا بیٹھی ہے - ون ویلنگ موٹر سائیکل ریس محض جان لیوا کھیل ہی نہیں بلکہ بعض مجرمانہ ذہنیت کے حامل افراد نے اسے ناجائز کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے۔ ایسے افراد نہ صرف ون یلنگ پر ریس لگواتے ہیں بلکہ اس ریس پر جوا بھی کھیلتے ہیں اور یہ سب کچھ کرنے کے لئے وہ ون ویلنگ کے جنون میں مبتلا نوجوان لڑکوں کا استعمال کرتے ہیں، ان موٹر سائیکلوں کی چین گراریاں بدل کر موٹر سائیکل کووزن میں ہلکا اور مزید خطرناک بنایا جاتا ہے۔موٹر سائیکل میکنک اچھی خاصی رقم کے عوض موٹر سائیکل کی ازسر نو مرمت کرتے ہیں اور اس میں خطرناک پرزے نصب کر کے اس کی رفتار کو بڑھا دیتے ہیں۔آلٹرموٹر سائیکل میکینکس کا کہنا ہے کہ انکے پاس موٹر سائیکل کا کام کروانے کیلئے بچے، بڑے اور نوجوان سب ہی آتے ہیں، جو ریسیں لگائی جاتی ہیں یا ون ویلنگ کی جاتی ہے ان ریسوں میں اصل کردار میکینک کا ہوتا ہے، میکینک کی طرف سے ریس کی موٹر سائیکل تیار کی جاتی ہے
اور پھر اسے چلانے کے لیے جسے مقرر کیا جاتا ہے اسے رائیڈر کہتے ہیں وہ رائیڈر اپنی زندگی کی پرواہ کیے بغیر اپنے گروپ اوراپنے میکینک کا نام روشن کرنے کے لیے ریس لگاتا ہے جوبعض اوقات جان لیوابھی ثابت ہوجاتاہے اگر موٹر سائیکل قابو سے باہر ہوجائے یا سلپ ہوجائے تو سر کی چوٹ جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے اور اپنے آپ کو بہادر دکھانے کے لیے ون ویلنگ کرتے ہیں، جب کہ بعض نوجوان شرطیں بھی لگاتے ہیں۔ اس شرط کے چکر میں زندگی کی بازی بھی ہار جاتے ہیں.، موٹر سائیکل کی ریس کے لیے مختلف شاہراہوں کا انتخاب کیا جاتا ہے. موٹر سائیکل کی ریس پر گروپس کے درمیان شرطیں بھی لگائی جاتی ہیں،ون ویلنگ اور ریس کے بعد جب فیصلے کا وقت آتا ہے تو بعض اوقات ان گروپوں کے درمیان تصادم بھی ہوجاتا ہے اور فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع ہوجاتا ہے. ایسے مستریوں کے خلاف بھی کارروائی کی جانی چایئے جو موٹر سائیکل کو ون ویلنگ کے لیے تیار کرکے دیتے ہیں
۔والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ون ویلنگ جیسے خونی کھیل کا حصہ بننے سے روکیں۔جو والدین اپنے بچوں کو موٹر سائیکل خرید کر دیدیتے ہیں، مگر ان کی سرگرمیوں پرنظر نہیں رکھتے وہ بھی قابل گرفت ہیں۔ والدین کئی جتن کرکے اپنے بچوں کو موٹر سائیکل دلاتے ہیں کہ ان کے بچے کو تعلیمی ادارے تک جانے میں پریشانی کا سامنا نہیں ہو، مگر بچے اپنے والدین کی طرف سے دی جانے والی اس سہولت کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ موٹر سائیکل کے ساتھ ہیلمیٹ بھی دلائیں کیوں کہ ہیلمیٹ سے سر محفوظ رہتا ہے۔ کسی حادثے کی صورت میں ہیڈ انجری نہیں ہوتی اور بچنے کے چانس زیادہ ہوتے ہیں۔ عموماً نوجوان ہیلمیٹ کا استعمال بہت کم کرتے ہیں۔ ہر والدین کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اچھے مقام پر فائز ہو اور والدین کا نام روشن کریں، لیکن ون ویلنگ کے دوران زخمی ہونے یا معذور ہوجانے کے سبب وہ، والدین پر بوجھ بن جاتے ہیں۔
جوان اولاد کی معذوری والدین کی موت ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ گھر کے ماحول میں مثبت سوچ کو فروغ دیں کیونکہ اگر منفی سوچ کا شکار ہو کر بچے نے آزاد سانس لینے کاسوچ لیا تو وہ ون ویلنگ سمیت کسی بھی جرم میں ملوث ہو سکتا ہے۔گھر کے بعد کسی کی بھی انسان کی دوسری تربیت گاہ اس کی درس گاہ ہوتی ہے جہاں آپ کے پاس بہت سے آپشن ہوتے ہیں اگر مثبت سوچ کے حامل اساتذہ کی شاگردگی میسر ہو جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ خود ہر برائی سے بچ سکتے ہیں۔ وقت ہم سے یہ تقاضا چاہتا ہے کہ ون ویلنگ کے مضمر اثرات کے بارے میں نئی نسل کو آگاہ کیا جائے ان کو بتایا جائے کہ یہ کھیل ہر گز نہیں یہ جرم کا راستہ ہے
پیر، 17 نومبر، 2025
پاکستان میں چھوٹے صوبے کیوں ضروری ہیں'پارٹ 2
2001ء میں جو لوکل گورنمنٹ آرڈیننس بنا وہ لوکل گورنمنٹ کی تاریخ میں اچھا نظام قراردیا گیا۔لوکل گورنمنٹ نے عوام کی حقیقی خدمت کیانہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ میئر ڈسٹرکٹ کا ایگزیکٹو ہیڈ تھا، وہ سسٹم صرف 8سال پاکستان میں چل سکا، سیاسی گورنمنٹس اورصوبائی اسمبلی وجود میں آئیں تو لوکل گورنمنٹ نظام کو ختم کر کے ایک ڈمی مئر کی غلام ایسی حکومت بنا دی گئ جس کو صرف اپنے مفادات عزیز ہیں حکومت کے تین ستون ہیں،وفاق،صوبے اورلوکل گورنمنٹ، جس نے عوام کی حقیقی خدمت کی ہے وہ لوکل گورنمنٹ ہے۔میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے لوکل گورنمنٹ کو پاکستان میں کبھی مستحکم نہیں رہنے دیا گیا، ۔دنیا میں 172 ممالک بلوچستان سے رقبہ میں چھوٹےان کا کہنا تھا کہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا 52فیصد ہے، دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں کہ ایک فیڈریٹنگ یونٹ باقی تمام سے بڑا ہو، دنیا میں 172ممالک ایسے ہیں جو رقبے میں بلوچستان سے چھوٹے ہیں، بلوچستان رقبے میں سب سے بڑا اورآبادی میں سب سے چھوٹا صوبہ ہے،
چین کی آبادی آج 150کروڑ ہے اس کے 31صوبے ہیں، امریکا نے خود کو 17صوبوں سے شروع کیا آج 50 ہیں، انڈونیشیا کی آبادی 27کروڑ ہے اور اس کے 34صوبے ہیں، پاکستان کی آبادی 25کروڑ ہونے والی ہے اور 4 صوبے ہیں، نائیجیریا آبادی کے لحاظ سے چھٹا بڑا ملک ہے،اس کے 27صوبے ہیں، برازیل 20کروڑ آبادی کا ملک اوراس کے 36صوبے ہیں، میکسیکو کی آبادی 13کروڑ اورصوبے 31ہیں۔۔عوام کی اقتصادی فلاح ریاست کی ذمہ داری ہےمیاں عامر محمود نے بتایا کہ وجود میں آنے کے بعد کسی بھی گورنمنٹ کی 7ذمہ داریاں ہوتی ہیں، عوام کی اکنامک ویلفیئر ریاست کی ذمہ داری ہے، حکومت خود ایسی پالیسی لاتی ہے جس سے عوام معاشی طور پر ترقی کرسکیں، سرحدوں کی حفاظت بھی فیڈرل گورنمنٹ کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ورلڈبینک کے ایک گروپ نے پاکستان کے بارے میں سٹڈی کی، ورلڈبینک نے ایک رپورٹ شائع کی کہ پاکستان 100سال کا ہونے پر کیسا ہوگا، ہم نے اپنے علاقوں کو ایک جیسی ترقی نہیں دی، ہم نے 79سالوں میں صرف 5کیپیٹل سٹیز کو ڈویلپ کیا ہے،-
پنجاب اگر ایک ملک ہوتو دنیا کا 13واں بڑا ملک ہوگا۔کراچی سے نکلیں تو پورا سندھ کچی آبادی کا منظر پیش کرتا ہےچیئرمین دنیا میڈیا گروپ نے بتایا کہ خیبرپختونخوا چلے جائیں تو ساری ترقی پشاور میں نظر آئے گی، پشاور کی بھی حالت اتنی اچھی نہیں، لاہور سے باہر نکلیں گے تو پنجاب میں ویسی ترقی نظر نہیں آئے گی، پنجاب گورنمنٹ نے اب لاہور سے باہر بھی ترقی کا کچھ کام شروع کیا ہے، کراچی سے باہر نکلیں تو پورا سندھ کچی آبادی کا منظر پیش کرے گا۔میاں عامر محمود نے کہا کہ جب ایک شہر کو ترقی دیتے ہیں تو وہ بھی زیادہ نقل مکانی ہونے کی وجہ سے ترقی نہیں کرتا، لاہور میں ہر سال انسان بڑھتے ہیں، لاہور میں ہر سال لوگوں کی نقل مکانی بہت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلی مردم شماری 1951میں ہوئی اس وقت آبادی 3کروڑ30لاکھ تھی، آج پاکستان کی آبادی 25کروڑ کے قریب ہے، پنجاب آج 13کروڑ آبادی کا صوبہ بن چکا ہے، سندھ 6ملین سے شروع ہوا، آج صرف کراچی کی آبادی 3کروڑ سے زیادہ ہے۔پنجاب ملک ہوتا تو دنیا کا 13 واں بڑا ملک ہوتا
انہوں نے کہا کہ دنیا میں صرف 12ایسے ملک ہیں جو پنجاب سے بڑے ہیں،پنجاب اگر ایک ملک ہوتو دنیا کا 13واں بڑا ملک ہوگا، صرف 31ملک ہیں جن کی آبادی سندھ سے زیادہ ہے، دنیا میں 41ممالک ایسے جن کی آبادی خیبرپختونخوا سے زیادہ ہے، بلوچستان کو دیکھیں تو 172ممالک ایسے ہیں جو رقبے میں بلوچستان سے چھوٹے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری تجویز ہے سندھ کے7ڈویژن ہیں اس کو 7حصوں میں تقسیم کیا جائے، کراچی اورحیدرآباد کیلئے تحریک بہت دیر سے چل رہی ہے، خیبرپختونخوا کے بھی 7ڈویژن ہیں، ہزارہ، ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی الگ صوبے کی تحریک چل رہی ہے۔چیئرمین دنیا میڈیا گروپ نے کہا کہ یواین نے ایک سروے کیا، سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گول میں 193ممالک کا سروے کیا گیا اور ہمارا نمبر 140واں ہے، ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں 193ممالک کا سروے کیا گیا ہم 168نمبر پر ہیں، قانون کی بالادستی کے حوالے سے سروے میں ہم142 ممالک میں 129نمبر پر ہیں، گلوبل ہنگر انڈیکس میں 127ممالک کا سروے ہوا،ہمارانمبر109واں ہے۔44 فیصد بچوں کو متوازن غذا نہیں ملتی، ان44فیصد بچوں کی ذہنی ہمارا وطن پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ارباب اقتدار بار ' بار سوچیں
اتوار، 16 نومبر، 2025
بخارا قدیم تاریخ میں
ہفتہ، 15 نومبر، 2025
پاکستان میں چھوٹے صوبے کیوں ضروری ہیں'پارٹ 1
کچھ عرصہ پہلے ایبٹ آباد کے مقام پر ہمارے محترم ایسے ماہرین کا سیمینار ہوا اس سیمینار میں ا نہوں نے پاکستان کے موجودہ شہری مسائل پر بہت فراخدلانہ تجزیہ کیا اور ساتھ میں وطن کے حالات کو بتدریج بہتری کی جا نب لے جانے کی بات کی تو دیکھتے ہیں کہ ان کی رپورٹ کیا ہے- پاکستان میں پہلی مردم شماری ء1951میں ہوئی اس وقت آبادی 3کروڑ30لاکھ تھی، آج پاکستان کی آبادی 25کروڑ کے قریب ہے، پنجاب آج 13کروڑ آبادی کا صوبہ بن چکا ہے، سندھ 6ملین سے شروع ہوا، آج صرف کراچی کی آبادی 3کروڑ سے زیادہ ہے۔پنجاب ملک ہوتا تو دنیا کا 13 واں بڑا ملک ہوتاانہوں نے کہا کہ دنیا میں صرف 12ایسے ملک ہیں جو پنجاب سے بڑے ہیں،پنجاب اگر ایک ملک ہوتو دنیا کا 13واں بڑا ملک ہوگا، صرف 31ملک ہیں جن کی آبادی سندھ سے زیادہ ہے، دنیا میں 41ممالک ایسے جن کی آبادی خیبرپختونخوا سے زیادہ ہے، بلوچستان کو دیکھیں تو 172ممالک ایسے ہیں جو رقبے میں بلوچستان سے چھوٹے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری تجویز ہے سندھ کے7ڈویژن ہیں اس کو 7حصوں میں تقسیم کیا جائے، کراچی اورحیدرآباد کیلئے تحریک بہت دیر سے چل رہی ہے، خیبرپختونخوا کے بھی 7ڈویژن ہیں، ہزارہ، ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی الگ صوبے کی تحریک چل رہی ہے۔چیئرمین دنیا میڈیا گروپ نے کہا کہ یواین نے ایک سروے کیا، سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گول میں 193ممالک کا سروے کیا گیا اور ہمارا نمبر 140واں ہے، ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں 193ممالک کا سروے کیا گیا ہم 168نمبر پر ہیں، قانون کی بالادستی کے حوالے سے سروے میں ہم142 ممالک میں 129نمبر پر ہیں، گلوبل ہنگر انڈیکس میں 127ممالک کا سروے ہوا،ہمارانمبر109واں ہے۔ دنیا میں 172 ممالک بلوچستان سے رقبہ میں چھوٹےان کا کہنا تھا کہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا 52فیصد ہے، دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں کہ ایک فیڈریٹنگ یونٹ باقی تمام سے بڑا ہو،
دنیا میں 172ممالک ایسے ہیں جو رقبے میں بلوچستان سے چھوٹے ہیں، بلوچستان رقبے میں سب سے بڑا اورآبادی میں سب سے چھوٹا صوبہ ہے، آپ کوئٹہ میں بیٹھ کر اتنے بڑے رقبے پر گورنمنٹ کی رٹ قائم نہیں کرسکتےان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین کی آبادی آج 150کروڑ ہے اس کے 31صوبے ہیں، امریکا نے خود کو 17صوبوں سے شروع کیا آج 50 ہیں، انڈونیشیا کی آبادی 27کروڑ ہے اور اس کے 34صوبے ہیں، پاکستان کی آبادی 25کروڑ ہونے والی ہے اور 4 صوبے ہیں، نائیجیریا آبادی کے لحاظ سے چھٹا بڑا ملک ہے،اس کے 27صوبے ہیں، برازیل 20کروڑ آبادی کا ملک اوراس کے 36صوبے ہیں، میکسیکو کی آبادی 13کروڑ اورصوبے 31ہیں۔عوام کی اقتصادی فلاح ریاست کی ذمہ داری ہے، حکومت خود ایسی پالیسی لاتی ہے جس سے عوام معاشی طور پر ترقی کرسکیں، سرحدوں کی حفاظت بھی فیڈرل گورنمنٹ کی ذمہ داری ہے
ورلڈبینک کے ایک گروپ نے پاکستان کے بارے میں سٹڈی کی، ورلڈبینک نے ایک رپورٹ شائع کی کہ پاکستان 100سال کا ہونے پر کیسا ہوگا، ہمارے 44فیصد بچوں کو متوازن غذا نہیں ملتی، ان44فیصد بچوں کی ذہنی اورجسمانی نشوونما ٹھیک نہیں ہوگی، یہ 44فیصد بچے 20سال بعد کوئی کام نہیں کرسکیں گے، یہ 44فیصد بچے جب بڑے ہوں گے تو پاؤں کی سب سے بڑی زنجیر ہوگی، ہم نے اپنے 20سال بعد کا مستقبل بھی برباد کرلیا۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو کوئی کام نہیں کرسکیں گے-یبٹ آباد انٹرنیشنل میڈیکل کالج میں ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان کے زیراہتمام ’’2030 کا پاکستان، چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں‘ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اوراس میں صوبوں کی تعداد 4 ہے، ہم نے وقت گزرنے کے ساتھ اپنے صوبوں کو چھوٹا نہیں کیا۔چیئرمین دنیا میڈیا گروپ نے کہا ہے کہ پاکستان کے 4صوبوں کو دیکھا جائے تو کوئی ترتیب نظر نہیں آئے گی، لوکل گورنمنٹس کو بنتے اورٹوٹتے ہوئے دیکھا،
اور ہمارا وطن پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ارباب اقتدار بار ' بار سوچیں
ازبکستان وسط ایشیا کا قدیم اور خوبصورت ملک ہے
ازبکستان 'وسط ایشیا کا سب سے زیادہ آبادی والاملک سمجھا جاتا ہے 'اس میں شاہراہ ریشم پر آباد سمرقند اور بخارا جیسے شہروں میں بڑی بڑی مساجد اور مقبرے ہیں -لاکھوں ازبک باشندوں کے لیے یہ مقدس مقامات ہیں جبکہ دہائیوں کی تنہائی اور مطلق العنان دور سے باہر آنے کے بعد وہاں کی حکومت کے لیے یہ تاریخی وراثت سیاحت کو فروغ دینے کا بڑا موقع فراہم کرتی ہے۔سمرقند میں درجنوں خوبصورت مزار ہیں جن میں بادشاہ تیمور لنگ، ماہر فلکیات الغ بیگ اور قثم ابن عباس شامل ہیں۔ قثم جنھیں ازبکستان میں زندہ پیر کے نام سے جانا جاتا ہے وہ حضرت محمد کے چچازاد بھائی عباس کے بیٹے تھے اور اس علاقے میں انھوں نے ہی پہلے پہل اسلام سے لوگوں کو متعارف کرایا۔ایران کے مشہور بادشاہ تیمور لنگ کا مزار-اس کے علاوہ سمرقند میں بہت سے معروف عالم فاضل اور مسلم سائنسدانوں کے مزار ہیں-یہ ایک مزار ایسا ہے جو دوسروں سے یکسر مختلف ہے۔ ہر صبح سنکڑوں افراد شہر کے باہر پہاڑی پر موجود عجیب طرز تعمیر کے مزار کی زیارت کے لیے جاتے ہیں۔
یہ مزار پستے اور خوبانی کے درختوں کے درمیان پرانے شہر میں موجود ہے۔یہاں کی فضا میں چڑیوں کی چہچہاہٹ اور دعا و مناجات کی آوازیں گونجتی ہیں۔ یہاں آنے والے زائرین اہل خانہ کے ساتھ بینچوں پر کھاتے پیتے نظر آتے ہیں جبکہ نوجوان اس کے ساتھ سیلفیاں لے رہے ہوتے ہیں۔ازبکستان وسطی ایشیا کے وسط میں اس مقام پر واقع ہے جہاں اس کی سرحد یں ترکمانستان ، قازقستان ، کرغزستان ، تاجکستان اور افغانستان سے ملتی ہے۔ اس کا دو تہائی سے زیادہ حصہ صحرا اور مغرب میں ہے۔ صرف امدادی ڈیلٹا ہی ہے جہاں امو دریا دریائے ارل کے باقی حصوں میں خالی ہوجاتا ہے۔ تاہم ، مشرق میں ، ازبکستان اپنے پڑوسیوں کے پہاڑوں کی طرف اوپر کی طرف جھکا ہوا ہے۔ یہیں سے ملک میں زندگی بخشنے والے دریا نکلتے ہیں۔امیر ترین کھیتوں (اور اس وجہ سے زیادہ تر آبادی) پہاڑوں کے خلاء میں ، ان کے اڈے پر ملنے والے جہازوں پر اور اس ملک کے دو بڑے دریا - امو دریا اور سریر دریا کے ساتھ بسی ہوئی ہے۔ ازبکستان میں دنیا کا کچھ حصہ موجود ہے سمرقند ، بخارا اور خیوا سمیت قدیم ترین ، انتہائی تاریخی شہر۔آب و ہواازبکستان میں انتہائی براعظم آب و ہوا موجود ہے۔
یہ عام طور پر جنوب میں گرم اور شمال میں سب سے زیادہ سرد ہوتا ہے۔ اگر آپ ٹریکنگ میں دلچسپی رکھتے ہیں تو ، تو گرمیوں کے موسم جولائی اور اگست کے بہترین وقت ہیں کیونکہ گرمیاں تقریبا خشک ہوتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں ازبکستان خاص طور پر گرمی اور ڈرائر گرمیاں اور سرد اور لمبی سردیوں کے نتیجے میں بحر ارال سے خشک آؤٹ ہونے کی وجہ سے خاص طور پر متاثر ہوا تھا۔ازبکستان ایک خشک ، دوہری سرزمین ملک ہے جس میں 11 فیصد انتہائی کاشت کی جانے والی ، سیراب دریا کی وادیوں پر مشتمل ہے۔ اس کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی گنجان آباد دیہی معاشروں میں رہتی ہے۔ ازبکستان دنیا کا دوسرا بڑا کپاس برآمد کرنے والا اور پانچواں سب سے بڑا پیداواری ملک ہے۔ برآمدی آمدنی کے بڑے ماخذ کے طور پر ملک کاٹن کی پیداوار پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ دیگر بڑے برآمد کناروں میں سونا ، قدرتی گیس اور تیل شامل ہیں۔لوگ اور ثقافت ازبکستان ایک کثیر القومی ملک ہے۔ دو اہم زبانیں ازبک اور روسی ہیں لیکن آپ کو دوسری کئی زبانیں بھی سنیں گی جن میں کورین ، انگریزی ، جرمن ، تاجک اور ترکی بھی شامل ہیں۔
ازبک آبادی کے علاوہ ، ازبکستان میں بہت سی دوسری قومیتیں ہیں ، جن میں سب کی اپنی طرز زندگی ہے۔ازبکستان میں لوگ طرح طرح کے لباس پہنتے ہیں۔ دیہات میں آپ روایتی لباس پہننے والی خواتین کو لمبے رنگ کے لباس اور اسکارفس کا مشاہدہ کریں گے۔ شہروں میں وہ کم روایتی اور زیادہ جدید ہیں۔ مرد جینز پتلون پہنتے ہیں۔ شارٹس کو شاذ و نادر ہی پہنا جاتا ہے اور عام طور پر صرف شہر کے لوگ۔ازبک عوام بہت مہمان نواز ہیں اور انہیں اپنے گھر میں مہمان رکھنا اعزاز کی بات ہے۔ یہاں تک کہ مہمانوں کے لئے بیٹھنے کے خصوصی انتظامات ہیں۔ سب سے بڑے فرد یا معزز مہمان کو عام طور پر دروازے سے دور میز کے سر پر بیٹھنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ نوجوان یا میزبان دروازے کے پاس بیٹھے بیٹھے "ویٹر" کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ وہ برتن لاتے اور لے جاتے ہیں ، چائے ڈالتے ہیں اور دوسرے کام کرتے ہیں۔ صحراؤں اور پہاڑوں کے درمیان ، نخلستانوں اور زرخیز وادیوں کے بیچ انہوں نے اناج اور پالنے والے مویشی پالے ہیں۔موسموں نے قومی کھانے کی ترکیب کو بہت متاثر کیا۔ گرمیوں میں پھل ، سبزیاں اور گری دار میوے بڑے پیمانے پر کھانا پکانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ ازبیکستان میں پھل بہت زیادہ بڑھتے ہیں جیسے انگور ، خربوزے ، خوبانی ، ناشپاتی ، سیب ، چیری ، انار ، لیموں ، انجیر اور کھجور۔ سبزیاں بھی بہت ہوتی ہیں ،
جمعہ، 14 نومبر، 2025
دریائے ہگلی پر ہاؤڑا برج کیوں بنایا گیا
ہندوستان کا عظیم الشان د ریائے گنگا مغربی ہمالیہ سے شروع ہوتا ہے اور اپنے سفر طے کرتا ہوا جیسے ہی مغربی بنگال کی جانب آتا ہے۔ ایک ہی وقت میں یہ دو الگ الگ دریاؤں،دریائے پدما اور دریائے ہگلی میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ دریائے پدما بنگلہ دیش سے گزر کر خلیج بنگال اور دریائے ہگلی میں گرتا ہے،شاہجہاں کے عہد میں ایسٹ انڈیا کمپنی دریائے ہگلی کے پاس ایک کوٹھی بنا چکی تھی۔ اورنگزیب کے عہد میں انہوں نے 3 گا ؤں بھی خرید لئے جو ہگلی کے نسبت دریائے گنگا کے کنارے سے اور بھی قریب تھے۔ ان میں سے ایک کا نام کالی گھاٹ تھا یہ وہی مقام تھا جو اب کلکتہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہاں 1690ء میں انگریزوں نے ایک قلعہ تعمیر کیا اور فورٹ ولیم اس کا نام رکھا۔فرانسیسی بھی ہند میں انگریزوں کیساتھ ساتھ ہی آئے تھے انہوں نے بھی اپنے مقامات تجارت بنا رکھے تھے۔ ان میں سے بڑے بڑے یہ تھے ''مہی‘‘ مغربی ساحل پر، ''پانڈی چری‘‘ مدراس کے جنوب میں مشرقی ساحل پر، ''چندرنگر‘‘ بنگال میں کلکتہ سے کوئی 20 میل کے فاصلے پر۔لیکن کمپنی کو اب دریا کے دوسری جانب بھی اپنی تجارت کو وسعت دینا تھا جس کے لئے ہاؤڑا برج کا منصوبہ زیر غور آیا ۔
جمعرات، 13 نومبر، 2025
منوڑہ بیچ پرقوم کا سرمایہ تین ڈاکٹرز ڈوب گئے
کراچی میں منوڑہ ہمالیہ ساحل پر ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کے فائنل ایئر کے طلبہ کی پکنگ سانحہ میں تبدیل ہو گئی، 7 طلبا سمندر میں ڈوب گئے تھے، تین کو بچا لیا گیا، تین کی میتیں نکال لی گئیں جبکہ ایک طالب علم ابھی تک مسنگ ہے مستقبل کے 15 ڈاکٹروں کا ایک گروپ پکنک کے لئے منوڑہ کے ساحل گیا تھا، جہاں تند وتیز لہریں 7طلبا کو بہا کر لے گئیں، ساحل پر موجود ریسکیو عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تین طلبا کی لاشیں نکال لیں۔جاں بحق ہونے والوں میں احمد کاشف، اشارب منیر اور اشہد شامل ہے جو میڈیکل کے فائنل ایئر کے طالب علم تھے، لاشیں جب گھر پہنچیں تو جوان میتیں دیکھ کر گھر اور محلے میں کہرام مچ گیا۔ترجمان یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی پکنک ہاکس بے ساحل پر تھی، جس 150 طالبعلم شامل تھے، جبکہ حادثے کا شکار ہونے والے طلبہ (15 کے گروپ میں) ذاتی حیثیت میں منوڑہ تفریح کے لئے گئے تھے، مذکورہ 15 طلبا کی پکنک کے بارے میں کالج انتظامیہ یا پرنسپل ڈاؤ میڈیکل کو مطلع نہیں کیا تھا، ہاکس بے پر پکنک منانے والے طلبہ بخیریت واپس کالج پہنچ گئے جبکہ منوڑہ پر یہ افسوسناک حادثہ پیش آیا۔
فائنل ائیر ڈی 26 بیج کے ہی 15 طلباء نے اپنے طور پر پی این ایس ہمالیہ منوڑا پر پکنک منانے کا پروگرام ایک شہید طالب علم کے والد کے ذریعے ترتیب دیا تھا جہاں یہ طلبا کالج انتظامیہ کو مطلع کیے بغیر پکنک منانے گئے تھے ۔فائنل ائیر ڈی 26 بیج کے مذکورہ طلباء نے بڑے گروپ سے علیحدہ ہو کر اپنے طور پر پی این ایس ہمالیہ منوڑا پر پکنک منانے کا پروگرام ترتیب دیا تھا ۔کالج انتظامیہ نے 150 طلبا وطالبات کو سیکیورٹی گارڈز اور تمام تر احتیاطی اور حفاظتی انتظامات کے ساتھ ڈاؤ میڈیکل کالج سے روانہ کیا جبکہ مذکورہ 15 طلباء کی پکنک کے بارے میں کالج انتظامیہ یا پرنسپل ڈاؤ میڈیکل کالج کو مطلع نہیں کیا گیاتھا ۔ہاکس بے پر پکنک منانے والے طلبہ بخیریت واپس کالج پہنچ گئے ہیں جبکہ منوڑہ پر یہ افسوس ناک حادثہ پیش آیا جب دوپہر کے وقت کسی بے رحم موج نے ایک طالب علم کو اپنی گرفت میں لے لیا تو باقی طلبہ اسے بچانے کے لیے بھاگے جس کے نتیجے میں احمد کاشف ،محمد اشارب منیر اور سید اشہد عباس فاطمی ڈوب کر شہید ہو گئے جن کی میتیں سول اسپتال کے مردہ خانے لائی گئیں ۔
تین طلبہ کو ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا جہاں دو طلبہ رضوان اور ربیع کو طبی امداد دے کر داخل کر لیا گیا جبکہ ایک طالب علم عبدالمجید کو میڈیکل آئی سی یو منتقل کر دیا گیا ہے۔ ڈاؤ یونیورسٹی انتظامیہ نے زیر علاج طلبہ کی طبی نگہداشت کے لیے خصوصی ہدایت جاری کر دی ہیں اور سول اسپتال کی انتظامیہ ان کی خصوصی نگہداشت کر رہی ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے شہید ہونے والے طلبہ کے لیے جمعہ کے روز تعزیتی اجلاس معین آڈیٹوریم میں صبح 9 بجے منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ منوڑہ پر یہ افسوس ناک حادثہ پیش آیا جب دوپہر کے وقت کسی بے رحم موج نے ایک طالب علم کو اپنی گرفت میں لے لیا تو باقی طلبہ اسے بچانے کے لیے بھاگے جس کے نتیجے میں احمد کاشف ،محمد اشارب منیر اور سید اشہد عباس فاطمی ڈوب کر شہید ہو گئے جن کی میتیں سول اسپتال کے مردہ خانے لائی گئیں ۔ تین طلبہ کو ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا جہاں دو طلبہ رضوان اور ربیع کو طبی امداد دے کر داخل کر لیا گیا جبکہ ایک طالب علم عبدالمجید کو میڈیکل آئی سی یو منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈاؤ یونیورسٹی انتظامیہ نے زیر علاج طلبہ کی طبی نگہداشت کے لیے خصوصی ہدایت جاری کر دی ہیں اور سول اسپتال کی انتظامیہ ان کی خصوصی نگہداشت کر رہی ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے شہید ہونے والے طلبہ کے لیے جمعہ کے روز تعزیتی اجلاس معین آڈیٹوریم میں صبح 9 بجے منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔اںتدائی طور پر حادثے کا شکار ہونے والے طالبعلموں نے بتایا ہے کہ وہ بیچ پر بال سے کھیل رہے تھے کہ بال بال سمندرکی لہروں کے ساتھ چلی گئی جسے لینے کے لیے ایک طالب علم گیا توتیز اور اونچی لہروں کی نذر ہو گیا،باقی طالب علم اسے بچاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئے۔ ایم ایس سول اسپتال ڈاکٹر خالد بخاری نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق تین طالب علموں کی میتیں سول ٹراما سینٹر لائی گئیں تھی جبکہ تین 3 متاثرہ طالب علموں کولایا گیا تھا جن میں سے 2 طالب علموں کی حالت خطرے سے باہر اور ایک کی حالت تشویشناک ہے۔پولیس کے مطابق متوفی طالبعلم اشارب منیر نے اپنے والد کے ذریعے ہٹ بک کروایا تھا۔
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
محترم شبر زیدی ہمارے ایک معتبر سیاست دان ہیں وہ تو پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ بلدیہ فیکٹری کے سانحہ میں مہاجر ملوث نہیں ہیں بلکہ ...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
اب منجھلی آپا اپنی سسرال جا چکی تھیں - فریال بجو کا بی ایس سی کا رزلٹ آ چکا تھا فریال بجو یونیورسٹی جانے کے لئے پر تول رہی تھیں -لیکن می...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...