پیر، 23 فروری، 2026

پنجاب کے سیاسی ڈیروں کی پہچان -موڑھے یا مونڈھے

 



اگر آپ راولپنڈی اسلام آباد سے جی ٹی روڈ کے راستے سفر کریں تو دریائے جہلم پار کرنے کے بعد آپ کو سڑک کے اطرف میں مچھلی فروشوں کے ڈھابوں کے بعد پنجاب کے سیاسی ڈیروں کی پہچان سمجھے جانے والے رنگارنگ موڑھے اور دلکش خوبصورت دھاگوں اور شیشوں سے مزین مختلف سجاوٹی اشیاء کی دکانیں نظر آئیں گی۔یہ دکانیں ایک زمانے میں بہت بڑی تعداد میں تھیں۔ اب اگرچہ ان کی تعداد کم ہوگئی ہے لیکن وہ سرائے عالمگیر کی مستقل پہچان بن چکی ہیں۔سرائے عالمگیر پاکستان کے صوبہ پنجاب ضلع گجرات کی تحصیل سرائے عالمگیر کا مرکزی قصبہ ہے۔ جو دریائے جہلم کے مشرقی کنارے پر 575 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ شہر کے مشرق میں نہر اپر جہلم ہے۔مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیرنے جی ٹی روڈ اور دریائے جہلم پر واقع سٹریٹجک محل وقوع اور کشمیر سے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں سرائے قائم کی تھی اور اسی کی نسبت سے اس کا نام بھی سرائے عالمگیر پڑگیایہ تو سرائے عالمگیر کا تعارف اور تاریخ ہے لیکن اس شہر کے بیچوں بیچ گزرتے جی ٹی روڈ پر واقع روائتی موڑھوں کی دکانیں بھی اپنے اندر ایک تاریخ سموئے ہوئے ہیں۔موڑھوں کی ایک دکان کے مالک چاچا سراج دین کے مطابق 'ان موڑھوں اور سجاوٹی اشیاء کے ان کے کاروبار کا سفر فیروز پور انڈیا سے شروع ہوتا ہے اور قصور کے راستے 55 سال قبل سرائے عالمگیر پہنچتا ہے۔'چاچا سراج دین نے بتایا کہ سرائے عالمگیر سے جہلم جانے والے پرانے راستے جس کے ساتھ ریلوے لائن بھی موجود ہے پر جائیں تو وہاں ان کے کاروبار سے متعلق خام مال تیار کرتے بچے بوڑھے اور جوان ملیں گے۔


 ان سب کے آباو اجداد انڈیا سے ہجرت کرکے قصور آئے تھے لیکن وہاں مزدوری نہ ہونے کے باعث یہاں آگئے کیوں کہ دریائے جہلم کے ساتھ  بیلے اور جنگل میں سے سر اور سرکنڈے اور مسجدوں کی صفیں تیار کرنے کے لیے ڈب آسانی سے بلا روک ٹوک کاٹنے کو مل جاتا ہے۔امداد علی نے 18 برس میں کم و بیش 20 ہزار سے زیادہ موڑھے بنائے ہیں  دکان کے پچھلے حصے میں کاریگر امداد علی موڑھے بنانے میں مصروف تھے۔ انھوں نے اپنا تعلق بھی قصور سے بتایا اور کہا کہ وہ عرصہ 18 سال سے موڑھے بنا رہے ہیں ویسے تو کبھی انھوں نے گنتی نہیں رکھی تاہم اس عرصے میں کم و بیش 20 ہزار سے زیادہ موڑھے بنائے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دکان کے مالک میٹریل یعنی سرکنڈے (بانس سے ملتا جلتا پودا جو سائز میں بہت پتلا اور چھوٹا ہوتا ہے)، سر (اسی پودے سے بننے والے تنکے) اور دیگر میٹریل مزدوروں سے خریدتے ہیں۔ مزدور یہ سب جنگل سے کاٹ کر لاتے ہیں اس کی صفائی کرتے ہیں اور پھرفروخت کرتے ہیں۔


موڑھا تیار کرنے کے لیے سائز کے لحاظ سے کٹائی کرتے ہیں اور پھر اسے ڈوری سے ایک ایک سرکنڈا جوڑ کر کھڑا کرتے ہیں۔ ایک موڑھا تیار کرنے میں کم از کم چار گھنٹے لگتے ہیں جس کے بعد ریکسین یا کپڑا لگانے والے کا کام شروع ہوتا ہے جو ڈیڑھ سو روپے مزدوری لیتا ہے۔'منھوں نے بتایا کہ 'ایسا بھی ہوا کہ ایک ڈیرے دار شخص کو دس موڑھے بنا کر دیے تو دس سال بعد وہ واپس آیا اور میرے کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دس سال پہلے والے موڑھے ابھی تک اسی حالت میں ہیں۔ اب نئے بنا کر دو ہمیں بہت پسند ہیں۔ میں نے دن رات محنت کرکے ان کو دوبارہ مال تیار کرکے دیا۔'سرائے عالمگیر میں بارشوں کے موسم میں کام میں تعطل آ جاتا ہے اسی دکان میں موجود ایک اور کاریگر محمد بلال نے فینسی شیشے، شو پیس، مہندی والی ٹوکریاں اور ہاتھ کے پنکھے بنانے کے بارے میں بتایا۔سرائے عالمگیر سے گزرنے والی ریلوے لائن کے سامنے خالی جگہ اور گھروں کے سامنے موڑھوں اور ان روائتی چیزوں میں استمال ہونے والی اشیا ’ سرکنڈوں‘، ’سر‘ اور ’ڈب‘ کے ڈھیر لگے پڑے رہتے ہیں۔بارشوں کے موسم میں یہاں کام میں تعطل آ جاتا ہے لیکن اس کے علاوہ پورا سال ہر گھر کے کم و بیش تمام افراد یہ اشیا بنانے کے کام میں جتے رہتے ہیں۔ کچھ ’سرکنڈوں‘ (بانس نما پودے) کی چھلائی کرتے ہیں، کچھ مسجدوں کی صفیں بناتے ہیں تو کوئی چیکیں (برآمدوں اور دالانوں کے باہر لگایا جانے والا پردہ)  بناتے ہیں۔ یہ چیزیں تیار کرکے وہ جی ٹی روڈ پر دکانداروں کو تھوک کے حساب سے فروخت کرتے ہیں۔


یہاں موجود ایک بزرگ محمد اکبر نے اردو نیوز کو بتایا کہ 'ہم انڈیا میں فروزپور رہتے تھے۔ تقسیم کے بعد قصور آئے اور گنڈا سنگھ بارڈر سے ڈب وغیرہ کاٹ کر صفیں اور پھوہڑ بناتے تھے۔ 65 کی جنگ کی وجہ سے قصور چھوڑنا پڑا اور سرائے عالمگیر آکر ڈیرے ڈالے۔ان کا کہنا تھا کہ بھٹو دور میں انہیں یہاں گھر بنانے کے لیے  پانچ پانچ مرلے زمین الاٹ ہوئی تھی جس کے بعد وہ یہاں مستقل طور پر مقیم ہو گئے'ہم گھر کے سارے افراد یہی کام کرتے ہیں۔ بڑے سرکنڈے اور ڈب کاٹ کر لاتے ہیں۔ چھوٹے صفائی کرتے ہیں۔ پھوہڑ بناتے ہیں، چیکیں بناتے ہیں اور سرکیاں تیار کرتے ہیں۔ آٹھ سال کی عمر کے بچے سے لے کر ساٹھ ستر سال کے بوڑھوں تک سب یہی کام کرتے ہیں۔ اب چونکہ صفوں کا کام ختم ہوتا جا رہا ہے تو ساتھ میں مستریوں کے ساتھ مزدوری بھی کرنا پڑ جاتی ہے۔'تاہم زمانے کی بدلتی روایات اور ضروریات کے تحت محمد اکبر کو اپنا ہنر ڈوبتا نظر آ رہا ہے۔  ’ہماری ساری عمر یہی کام کرتے گزر گئی ہے۔ وقت بدلنے کے ساتھ موڑھوں کی جگہ پلاسٹک کی کرسیوں نے لے لی ہے جبکہ صفوں کی جگہ کارپٹ اور چٹائیاں آگئی ہیں۔  وسائل اور علم کی کمی کے باعث ہم اپنے روائتی کام کو زیادہ جدت بھی نہیں دے سکے۔ اس لیے ہمیں مستقبل قریب میں یہ کام معدوم ہوتا نظر آتا ہے 
تحریر انٹر نیٹ سے لی ہے

اتوار، 22 فروری، 2026

جب ایک محنت کش کی مامتا جیت گئ

 

خادمة اور علاج  بالصدقةصدقہ جاریہ کا ایک خوبصورت اور سچا واقعہ، جو سعودی عرب کے ایک گھر میں پیش آیا۔ جس کی برکت ایسے ظاہر ہوئی کہ دنیا حیران رہ گئی۔ یہ واقعہ درجنوں عرب ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوا۔ ہم صحيفة الاقتصادية كے حوالے سے اسے نقل کررہے ہیں۔واقعہ سے قبل ایک حدیث پڑھ لیں: داووا مرضاكم بالصدقة اپنے بیماروں کا علاج صدقے سے کیا کرو۔انڈونیشیا سے خادمات کا سعودیہ میں آنا عام سی بات ہے۔ سعودی گھرانوں میں ہزاروں کی تعداد میں انڈونیشی خادمات کام کرتی ہیں۔ ایک سعودی گھرانے نے خادمات مہیا کرنے والے ریکروٹنگ ایجنٹ کی معرفت خادمہ بلوائی۔ خادمہ نے گھر میں کام کرنا شروع کر دیا۔گھر کی مالکن نے چند دن کے بعد غور کیا کہ خادمہ چپ چاپ اور اداس سی رہتی ہے۔ اس نے محسوس کیا کہ یہ چھپ چھپ کر روتی بھی رہتی ہے۔ سعودی عرب میں ابھی اسے ہفتہ دس دن ہی گزرے تھے۔ کسی نے اسے کچھ کہا بھی نہیں پھر یہ کیوں روتی ہے؟ ایک دن سعودی مالکن نے خادمہ کو اپنے سامنے بٹھا لیا۔ اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگی: میری بیٹی! بتاوٴ تم ہر وقت روتی کیوں رہتی ہو؟ ہر وقت تمہاری آنکھیں سوجی رہتی ہیں۔ خادمہ نے حوصلہ پا کر اشاروں سے اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بتایا: میں ایک مدت سے سعودی عرب آنے کی کوشش کر رہی تھی۔


 ایجنٹ کو نقد رقم اور پاسپورٹ جمع کرا رکھا تھا۔ اسی دوران میری شادی ہو گئی۔ وقت گزرتا چلا گیا۔ میری سعودی عرب آنے کی خواہش زوروں پر تھی۔ ایجنٹ کے ساتھ رابطہ تھا۔ اسی دوران خدا تعالیٰ نے مجھے بیٹا عطا فرمایا۔ میرے بیٹے کی عمر دس بارہ دن کی تھی کہ ایجنٹ نے بتایا کہ تمہارے کاغذات مکمل ہوگئے ہیں۔ تمہیں فوری طور پر سعودی عرب جانا ہوگا۔ ایک طرف بیٹا اور اس کی محبت، دوسری طرف غربت اور سعودی عرب آنے کی خواہش…میں گھریلو حالات سے مجبور تھی، اس لیے بیٹے کو چھوڑ کر سعودی عرب آ گئی۔ اب مجھے میرا بیٹا یاد آتا ہے۔ میں اس کی محبت میں دیوانی ہو گئی ہوں۔ اسے یاد کرکر کے روتی رہتی ہوں۔ سعودی مالکن نے ایک لمبی آہ بھری، کچھ سوچا۔ اس کے دل میں خیال آیا کہ یہ رب کو راضی کرنے کا اور صدقہ جاریہ کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اسلام میں سب سے بہترین کام کسی مسلمان کو خوشی مہیا کرنا ہے اور پھر اس نے ایک عجیب و غریب فیصلہ کیا۔ وہ اندر گئی، پیسوں والی الماری کو کھولا۔ اس کی کتنی تنخواہ ہے؟ اس نے دو سال کی تنخواہ کا حساب کیا۔ رقم گنی اور اسے لے کر خادمہ کے پاس آ گئی۔ کہنے لگی: یہ دو سال کی تنخواہ پیشگی پکڑو۔ میں ابھی تمہاری سیٹ بک کراتی ہوں۔ تم فوراً انڈونیشیا روانہ ہو جاوٴ۔ دو سال تک اپنے بیٹے کو دودھ پلاوٴ۔ جب دو سال کا ہو جائے تو ہمیں فون کر دینا، ہم تمہارے لیے دوبارہ ویزا بھجوا دیں گے اور تم پھر سے سعودی عرب آ جانا۔



ذرا غور کیجیے، اس عورت نے کتنا خوبصورت فیصلہ کیا۔ کیا یہ اس کے لیے صدقہ جاریہ نہیں؟ اس قسم کے فیصلے انسان کو انسانیت کے بلند مقام پر فائز کر دیتے ہیں اور حق تعالی کے نزدیک اس کے مرتبہ کو بہت بڑھا دیتے ہیں۔پھر دلچسپ بات یہ کہ یہ خادمہ صرف اس خاتون کیلئے بلائی گئی تھی جو خون کے کینسر میں مبتلا تھی، یہ تاکہ اس کی خدمت کرسکے۔ جب خاتون نے اسے واپس بھیجنے کا ارادہ کیا تو بیٹے نے کہا: امی جان آپ بیمار ہیں، آپ کیلئے تو اسے بلایا تھا، آپ اس کو واپس بھیجتی ہیں؟ خاتون نے کہا میں گزارہ کر سکتی ہوں اور پھر اسپتال میں اس کا معائنہ ہوتا رہتا۔ جب اگلی بار اسپتال گئی اس کی ٹیسٹ رپورٹ نیگیٹو آئی۔ اس کی مہلک بیماری کا نام ونشان مٹ چکا تھا۔ ڈاکٹر سارے حیران تھے کہ اس اسٹیج تک پہنچنے کے بعد یہ ٹیسٹ نیگیٹو کیسا آیا۔ احتیاطا دوبارہ ٹیسٹ کروائے گئے۔ مگر شافی الامراض رب کی طرف سے شفاء نازل ہوچکی تھی۔ سب مبارک باد دینے لگے۔


 یہ خاتون صرف اپنے رب کا شکریہ ادا کرتی رہی۔ بے شک صدقہ سے ہر بلا ٹلتی ہے۔اللہ سب کو اپنی حفاظت میں  رکھےنلا شبہ قدرت کی بنا ئ ہو    ئ    چیزوں میں شفا ہی شفا ہے-صدقہ کی مذید برکات - بے شک  صدقہ بلا ؤں  کو رد کرتا ہے
 ۔رسولُ الله ﷺ: الصَّدَقَةُ تَمنَعُ سَبعينَ نَوعا مِن أنواعِ البَلاءِ ، أهوَنُها الجُذامُ والبَرَصُ . (كنز العمّال :  )
 ۔رسول اللہ ص :صدقہ ستر قسم کی بلاؤں کو دور کرتا ہے جن میں سے آسان ترین بلا جذام اور برص ہے۔
 ۔عنه ﷺ: الصَّدَقةُ تَسُدُّ سَبعِينَ بابا مِن الشَّرِّ. (بحارالانوار : ۹۶ / ۱۳۲ / ۶۴) ۔رسول اللہ ص :صدقہ ستر برائیوں کے دروازے بند کردیتا ہے۔ ۔عنه ﷺ: الصَّدَقَةُ تَدفَعُ مِيتَةَ السُّوءِ . ( الكافي : ۴ / ۲ / ۱) ۔رسول اللہ ص :صدقہ بری موت سے بچاتا ہے۔ ۔عنه ﷺ: تَصَدَّقُوا وداوُوا مَرضاكُم بالصَّدَقَةِ ؛ فإنَّ الصدقةَ تَدفَعُ عنِ الأعراضِ والأمراضِ ، وهِيَ زيادَةٌ في أعمارِكُم وحَسَناتِكُم . (كنز العمّال : )  ۔رسول اللہ ص :صدقہ دیا کرو اور مریضوں کی دوا صدقہ سے کیا کرو، کیونکہ صدقہ عزتوں کی حفاظت کرتا ہے۔ بیماریوں سے بچاتا ہے اور اس سے تمہاری عمریں اور نیکیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ ۔الإمام عليٌّ ع : الصَّدَقةُ دَواءٌ مُنجِحٌ . (نهج البلاغة : الحكمة ۷) ۔امام علی ع:صدقہ شفا موثر دوا ہے۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

پنجاب کے سیاسی ڈیروں کی پہچان -موڑھے یا مونڈھے

  اگر آپ راولپنڈی اسلام آباد سے جی ٹی روڈ کے راستے سفر کریں تو دریائے جہلم پار کرنے کے بعد آپ کو سڑک کے اطرف میں مچھلی فروشوں کے ڈھابوں کے ب...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر