پیر، 16 فروری، 2026

باب خیبر پاکستان کا خوبصورت چہرہ

 


جمرود کے مقام پر درہ خیبر کی تاریخی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے لیے جون 1963ء میں شارع پر ایک خوبصورت محرابی دروازہ ’’باب خیبر‘‘ تعمیر کیا گیا۔ یہ سطح سمندر سے 1066 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس دروازے پر مختلف تختیاں بھی نصب کی گئی ہیں، جن پر درہ سے گزرنے والے حکمرانوں اور حملہ آوروں کے نام بھی درج ہیں۔ درہ خیبر تاریخی، جغرافیائی اور محل وقوع کے لحاظ سے بے نظیر ہے۔ اسے برصغیر کا دروازہ کہا جاتا ہے، جو پشاور کے عین مغرب میں واقع ہے۔سلسلہ کوہ سلیمان، جو کوہ ہمالیہ کی شاخ ہے، سطح مرتفع سے شروع ہوتا ہے، اس سلسلے کی پہاڑیاں اور وادیاں خیبر پر پہنچ کر ایک ہو جاتی ہیں۔ اصل درہ قلعہ جمرود سے شمال مغرب میں تقریباً تین میل پر شروع ہوتا ہے اور کوئی 23 میل طویل ہے۔ درہ خیبر ویران و بے گیاہ اور دشوار و ہموار چٹانوں سے گزرتا ہوا علی مسجد کے قریب آکر رفتہ رفتہ تنگ ہوجاتا ہے اور مناظر بھی یکسر بدل جاتے ہیں۔ اس کے بعد درہ بَل کھاتا ہوا انتہائی بلندی پر لنڈی کوتل کی سطح مرتفع (3,518 فٹ) تک جا پہنچتا ہے۔ یہاں سے سڑک نشیب کا رُخ کرتی ہے اور شنواری علاقے سے گزرتی ہوئی طورخم پہنچتی ہے۔ اس جگہ ڈیورینڈ لائن (پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیاسی اور بین الاقوامی حد) دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے۔ جمرود سے اس کا فاصلہ تقریباً 33 کلومیٹر ہے


۔ پشاور سے کوئی پانچ دس منٹ کی مسافت پر واقع باب خیبر سے کابل جایا جا سکتا ہے۔ باب خیبر افغان سرحد سے متصل  پاکستان کی  ایک خوبصورت محرابی  دروازہ  ہے جسے دیکھنے دنیا بھر کے سیاح جوق در جوق آتے ہیں  ایک ایسی علامت ہے جو دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بن چکی ہے۔درہ خیبر  کی تاریخ اور سیاسی اہمیت کا اندازہ اسی ایک بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر یہ درہ نہ ہوتا تو آج برصغیر پاک وہند کی تاریخ بالکل ہی مختلف ہوتی۔ بظاہر یہ کوئی وادی گل پوش ہے نہ دلکش سیر گاہ، اس میں گنگناتے آبشار اور چشمے ہیں نہ خو ش منظر باغات، تاہم دنیا کے کونے کونے سے سیاح درہ خیبر دیکھنے آتے ہیں۔ وہ اس دشوار گزار اور پرپیچ پہاڑی راستے کی سیاسی اور جغرافیائی اہمیت کو جانتے ہیں۔ یہ درہ ہمیں مہم جوئی پر اکساتا ہے ہمارے خون کو حرارت اور دل کو ولولہ تازہ عطا کرتا ہے درس عمل دیتا ہے اور کچھ کارنامہ کر گزرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ درہ خیبر نے تاریخ میں اتنے زیادہ حملے دیکھے اور برداشت کئے ہیں جو ایشیاء کے کسی اور مقام بلکہ دنیا کے کسی اور علاقے نے ہر گز نہیں دیکھے جہاں سورج اور ہوا میں ایسی تاثیر ہے جو ان مردان کہستان کو الجھنے، بڑھنے اور مرنے مارنے پر اکساتی ہے۔ وہ اپنی آزادی کے تحفظ کا راز جانتے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ جو قوم اپنی ناموس کے لیے مرنا نہیں جانتی۔ وہ مٹ جایا کرتی ہے۔


 مشہور زمانہ ڈیورنڈ لائن درہ خیبر کے بلند پہاڑوں سے گزرتی ہوئی اپنا طویل فاصلہ طے کرتی ہے یہ دنیا کا مشہور درہ سلسلہ کوہ سلیمان میں پشاور سے ساڑھے 17 کلو میٹر(11 میل) کے فاصلے پر قلعہ جمرود سے شروع ہوتا ہے اور تورخم (پاک افغان بارڈر)56 کلو میٹر (35 میل) تک پھیلا ہوا ہے برصغیر جنوبی ایشیاء کے وسیع میدانوں تک رسائی کے لیے چاہے وہ نقل مکانی کی خاطر ہو یا حملے کی، اس درے نے ہمیشہ تاریخ کے نئے نئے ادوار قائم کئے ہیں۔ یہ درہ قوموں، تہذیبوں، فاتحوں اور نئے نئے مذاہب کی بقاء اور فنا عروج اور زوال کی ایک مکمل تاریخ ہے ایک ریلوے لائن جو فن انجینئرنگ کا  شاہکار  ہے- میٹر3500 فٹ اونچے درے میں سے گزرتی ہے اور لنڈی  کوتل پر ختم ہو جاتی ہے جو پشاور سے 52 کلو میٹر(32 میل) دور ہے۔ تورخم تک پختہ سڑک جاتی ہے۔ تورخم میں سیاحوں کے لیے ایک ہوٹل بھی قائم ہے اس کی لگژری کوچز، درہ خیبر تک چکر لگاتی رہتی ہیں۔ یہاں پہاڑی سلسلہ کبھی تو اتنا کشادہ ہو جاتا ہے کہ گزر گاہ ڈیڑھ کلو میٹر (ایک میل) ہوتی ہے اور کبھی اتنا تنگ کہ صرف 16 میٹر(52 فٹ) رہ جاتی ہے یہاں کی ریلوے لائن عجائبات میں شمار ہوتی ہے۔ جو مسلسل سرنگوں میں سے گزرتی ہوئی۔ انتہائی پیچیدہ راستوں اور پلوں کو پار کرتی ہوئی سرحد افغانستان تک پہنچتی ہے 


بہرحال یہ درہ خیبر ماقبل تاریخ سے آج تک اقوام عالم کی گزر گاہ رہا ہے اور تاریخ کے صفحات پر اس کے انمٹ نقوش ثبت ہیں۔ مشہور زمانہ ڈیورنڈ لائن درہ خیبر کے بلند پہاڑوں سے گزرتی ہوئی اپنا طویل فاصلہ طے کرتی ہے اور ہمیشہ ایسی کشمکش کو دھراتی ہے جس سے اس درہ کے دونوں طرف کے ممالک متاثر ہوتے ہیں۔ درہ خیبر، جس علاقے میں واقع ہے اسے خیبر ایجنسی کہا جاتا ہے یہ قبائلی علاقہ’’یاغستان‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ قبائلی عوام اب تک اپنی قبائلی علاقے کی قدیم روایات کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کے اپنے قانون اور دستور ہیں۔ ان کے تمام مقدمات اور معاملات قبائلی جرگوں میں طے کئے جاتے ہیں۔ پولیٹیکل ایجنسی کا حاکم پولیٹیکل ایجنٹ کہلاتا ہے۔ پولیس کے بجائے ایجنسی میں خاصہ دار اور خیبر رائفلز کے جوان امن و امان قائم رکھنے میں مدد دیتے ہیں خیبر ایجنسی اور تیراہ کے بیسیوں مقامات ایسے ہیں جنہیں مقامی لوگوں کے سوا اب تک کوئی دیکھ نہیں پایا۔ کسی بیرونی شخص کو وہاں جانے کی اجازت نہیں، نہ ہی قبائلی اپنے اندرونی معاملات میں کسی کی مداخلت کو پسند کرتے ہیں۔ خیبر ایجنسی میں پولیٹیکل تحصیلوں لنڈی کوتل، جمرود اور باڑہ پر مشتمل ہے اس کا رقبہ کوئی 995 مربع میل ہے اس علاقے کا انتظام براہ راست وفاقی حکومت کے تحت ہے۔ 

اتوار، 15 فروری، 2026

روز گارڈن آف ڈھاکہ فن تعمیر کا انمول نگینہ

 


 


 پرانے ڈھاکہ کے علاقے تکتلی میں داس لین، موتی جھیل کے جدید کاروباری ضلع کے قریب اور ڈھاکہ کے گوپی بگ علاقے میں بلدھا گارڈن کے قریب گلاب کے پھولوں سے لدی پھندی یہ   حویلی ایک ہندو زمیندار (زمیندار) ہرشی کیش داس نے بنوائی تھی۔ہریشی   تخلیق کار تھے جنہوں نے بلدھا گارڈن کو نمایاں کرنے کے لیے ولا کا کام شروع کیا تھا، وہ ایک دہائی تک حویلی میں مقیم رہے۔ 1927 میں، وہ دیوالیہ ہو گئے اور انہوں نے یہ حویلی ایک اور زمیندار بشارالدین سرکار کو فروخت کر دی  ۔ بعد ازاں بشارالدین سرکار کے خاندان نے اس کی موت کے بعد اس حویلی کو ایک تاجر کو فروخت کر دیا۔حکومت نے اس جگہ کو میوزیم میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا انکشاف کیا ہے۔روز گارڈن محل 19ویں صدی کے آخر میں ایک ہندو زمیندار ہرشیکیش داس نے تعمیر کروایا تھا۔ اس وقت کے آس پاس بلدھا گارڈن میں منعقد ہونے والے جلسے شہر کے امیر ہندو باشندوں کی سماجی زندگی کا ایک اہم حصہ تھے۔ کہانی یہ ہے کہ بلدھا گارڈن میں ایک جلسہ (پارٹی) میں کسی کے ذریعہ ہرشیکیش داس کی توہین کی گئی اور اس نے بلدھا گارڈن کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا باغ بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہاں انہوں نے اپنا جلسہ کیا۔ باغ کا مرکز ایک خوبصورت پویلین ہے۔ تاہم، یہ ایک رہائش گاہ کے طور پر نہیں بنایا گیا تھا، بلکہ موسیقی کی پرفارمنس جیسی تفریح ​​کے لیے ایک ترتیب (حالانکہ اس کے بعد کے مالکان نے اسے گھر کے طور پر استعمال کیا تھا)۔



 اس اسراف طرز زندگی کی وجہ سے ہرشیکیش داس دیوالیہ ہو گئے اور نتیجتاً وہ جائیداد بیچنے پر مجبور ہو گئے۔1937 میں روز گارڈن محل کو ڈھاکہ کے ایک ممتاز تاجر خان بہادر قاضی عبدالرشید نے برہمن باریا ضلع کے تحت مرحوم بشیر الدین سرکار کے خاندان کے افراد سے خریدا تھا۔ انہوں نے عمارت کا نام راشد منزل رکھ دیا۔ ان کے بیٹے قاضی رقیب کو وراثت میں ملی اور اس کے بعد اس کے زندہ رہنے والے خاندان نے اس جائیداد کی دیکھ بھال کی، اس کی دیکھ بھال میں ان کی اہلیہ لیلیٰ رقیب چیف نگراں تھیں۔عمارت کو اس کے سابقہ ​​مالکان نے اصل کردار کو پوری طرح برقرار رکھتے ہوئے اس کی تزئین و آرائش کی تھی۔بنگلہ دیش کی حکومت نے 9 اگست 2018 کو اعلان کردہ خریداری میں عمارت کو 331.70 کروڑ روپے میں خریدا۔ اس کے بعد حکومت نے اس مقام کو میوزیم میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔فن تعمیرلاج گراؤنڈ فلور پر آٹھ اپارٹمنٹس پر مشتمل ہے جس میں  ایک30’-0”+15’-0” مرکزی ہال ہے جب کہ اوپری منزل میں مزید پانچ اپارٹمنٹس ہیں جن میں درمیان میں 45’-0”+15’-0” کی پیمائش کا ایک بڑا ڈانس ہال ہے۔ تمام اپارٹمنٹس ایلیٹ موزیک، متعدد رنگ برنگی اسکائی لائٹس اور دیوار کے زیورات سے مزین ہیں۔ ان میں سے کچھ لکڑی، بیلجیم کے رنگین شیشے اور لوہے میں پودوں اور جانوروں کے خاکوں سے مزین ہیں۔ ڈانس ہال کے اوپر ایک شاندار گنبد ہے، اور رقص کا دائرہ جھرنوں سے گھرا ہوا ہے۔ چھت پھولوں کی طرز کی ہے اور بلجیئم سے سے منگوائے ہوئے سبز آئینوں  سے مزین ہے۔ لمبے کرسٹل فانوس چھت سے لٹک رہے ہیں۔



 بال روم چھت کی طرف جانے سے پہلے ایک پیچیدہ ڈیزائن کردہ سرپل سیڑھی۔ عمارت کے عقب میں مشرق کی طرف ایک برآمدہ تین محراب والا داخلی پورچ ہے جو اوپری منزل کے لیے سیڑھیوں کی طرف جاتا ہے۔ اصل میں باغ میں ایک آرائشی چشمہ تھا، جس کا ڈھانچہ اب بھی موجود ہے۔ باغ میں کئی کلاسیکی سنگ مرمر کے مجسمے ہیں،  .اسے روز گارڈن کہا جاتا ہے کیونکہ ایک زمانے میں یہ گھر دنیا بھر سے گلابوں سے بھرا ہوا ایک سرکلر ڈرائیو سے گھرا ہوا تھا۔ میرے دادا کا اصرار تھا کہ گلاب کی جو بھی قسم مل سکتی ہے اسے ان کے باغ میں شامل کیا جائے اور ہر رنگ کے پھول ہوں ر وز گارڈن پیلس 1830-1835 کے درمیان کسی وقت بنایا گیا تھا اور بالآخر میرے پردادا خان بہادر قاضی عبدالرشید کو فروخت کر دیا گیا تھا۔ (خان بہادر انگریزوں کا دیا ہوا لقب ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جو خاندان کے نام کو سب سے پہلے رکھتا ہے۔) میرے عظیم دادا پارلیمنٹ کے پہلے بنگالی رکن تھے۔ (تاریخ اور فن تعمیر کے بارے میں  روز گارڈن کے مالک کے پوتے کی زبانی ' یہ وہ گھر ہے جس میں میرے والد بڑے ہوئے ہیں۔ یہ اب ایک تاریخی مقام ہے، جو میری عظیم خالہ کی دیکھ بھال میں ہے، شادیوں اور پارٹیوں کے لیے کرائے پر دیا گیا ہے۔ میری خالہ اور اس کے بچے پراپرٹی پر ایک نئے گھر میں رہتے ہیں۔ جب کسی دوسری جگہ کا دورہ کیا تو ہم نے ایک وسیع گلاب کا باغ دیکھا جس کے بارے میں میرے چچا نے کہا کہ اس نے انہیں باغات کی یاد دلائی جو کبھی گھر کو گھیرے ہوئے تھے۔اسے روز گارڈن کہا جاتا ہے کیونکہ  اس گارڈن میں وسیع وعریض زمینی رقبے پر گلابوں کی کاشت کی ہوئی ہے۔  دنیا  بھر کے گلابوں کی نت نئ اقسام  اپنے باغ میں دیکھنے کے متمنی  کا کہنا تھا  کہ گلاب کی بھی  جو بھی قسم ملتی جائے  اسے ان کے باغ میں شامل کیا جائے


بلدہ گارڈن دراصل پرانے ڈھاکہ کے واری محلے میں ایک سڑک کے دونوں طرف دو باغات ہیں۔ اس بوٹینیکل گارڈن کی بنیاد 1909 میں مقامی زمیندار نریندر نارائن رائے چودھری (1880-1943) نے رکھی تھی، جو ایک مشہور ماہر فطرت اور انسان دوست تھے۔ باغات کا نام سائبیل اور سائیک یونانی افسانوں کے کرداروں کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ پراپرٹی حکومت نے 1962 میں حاصل کی تھی۔ باغات میں 672 پرجاتیوں کے 15,000 پودوں کا شاندار ذخیرہ ہے۔ بنگلہ دیش کا نیشنل بوٹینک گارڈن اور بنگلہ دیش نیشنل ہربیریم بنگلہ دیش میں پودوں کے تحفظ کا سب سے بڑا مرکز ہے، جس کا رقبہ تقریباً 84 ہیکٹر (210 ایکڑ) ہے۔ یہ بنگلہ دیش کے قومی چڑیا گھر کے قریب، ڈھاکہ میں میرپور-2 - 1216 میں واقع ہے۔ یہ 1961 میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ ایک نباتاتی باغ ہے، فطرت سے محبت کرنے والوں اور نباتات کے ماہرین کے لیے ایک علمی مرکز اور ایک سیاحتی مقام ہے۔ ہربیریم میں پودوں کے تقریباً 100,000 محفوظ نمونوں کا سائنسی ذخیرہ ہے۔ 

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

باب خیبر پاکستان کا خوبصورت چہرہ

  جمرود کے مقام پر درہ خیبر کی تاریخی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے لیے جون 1963ء میں شارع پر ایک خوبصورت محرابی دروازہ ’’باب خیبر‘‘ تعمیر کیا گیا...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر