blogging لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
blogging لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 9 اگست، 2026

پاکستان میں نئے صوبے وقت کی اہم ضرورت

  


ایک چھوٹی سی مثال ہے ایک خاندان ہوتا ہے اس خاندان کا بیٹا جوان ہوتا ہے بہو بیاہ کر گھر آتی ہے  پورے گھر میں بہو اور بیٹے کو ایک کمرہ ملتا ہے وہ اسی ایک کمرے سے ہنسی خوشی  زندگی کا آغآز کرتے ہیں  پھر دو بچے ہو جاتے ہیں پھر پتا چلتا ہے بیٹا بہو الگ ہو گئے فیمیلی بڑی ہو گئ تھی اب ایک کمرے میں گزارہ مشکل ہو رہا تھا 'اب بیٹے کی ماں کہیں اس تبدیلی کو قبول کر لیتی ہے  اور کہیں رنجش پیدا ہو جاتی ہے -بس صوبوں کی مزید گنجائش کی یہی مثال کافی ہے کہ اب ایک جگہ گزارہ نہیں ہو رہا ہے اگر دیکھا جائے تو دنیا میں کتنے ایسے ملک ہیں جو پاکستان سے چھوٹے ہیں لیکن وہ اپنے عوام کی بھلائ کے لئے کئ چھوٹے صوبوں میں تقسیم ہیں ہمارے پڑوس  ایران میں اکتیس  صوبے ہیں اور  ہر صوبہ کا ایک دار الخلافہ ہے جس کو کو مرکز کہتے ہیں اور جو عام طور پر صوبہ کا سب سے بڑا شہر ہوتا ہے۔ مرکز یا صوبائی دار الخلافہ کا انتظام علاقائی حکومت چلاتی ہے۔ جس کا سربراہ گورنر جزل ہوتا ہے جس کو ایرانی وزارت داخلہ وفاقی کابینہ کی منظوری سے مقرر کرتی ہے۔1950ء تک ایران کل 12 صوبوں میں تقسیم تھا، جن کو 1950 میں انتظامی طور پر تبدیل کر کے 10 ریاستوں میں تبدیل کر دیا گیا  کئی ریاستوں کو ایک ایک کر کے صوبوں کا درجہ دیا جاتا رہا اور ساتھ ہی ساتھ نئے صوبے بھی بنائے جاتے رہے،  ۔ اس وقت ایران کے اکتیس صوبے ہیں۔اب  میں پاکستان کی جا نب آتی ہوں قیامِ پاکستان کے وقت ملک کی آبادی محدود تھی، وسائل اور انتظامی ضروریات بھی آج کے مقابلے میں مختلف تھیں، لیکن وقت کے ساتھ حالات مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔   مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی تقریباً 25کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔


 اسی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 76 لاکھ، سندھ کی 5 کروڑ 56 لاکھ، خیبر پختونخوا کی تقریباً 4 کروڑ 8 لاکھ اور بلوچستان کی تقریباً ایک کروڑ 49 لاکھ ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض صوبائی اکائیاں آبادی، رقبے اور انتظامی پیچیدگی کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہو چکی ہیں۔لاہور (کورٹ رپورٹر)پاکستان بار کونسل کے 250ویں اجلاس میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق اہم قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی، اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ نئے صوبوں کا قیام صرف آئین، پارلیمانی عمل اور قومی اتفاقِ رائے کے مطابق ہونا چاہئے ۔ پاکستان بار کونسل کا 250واں اجلاس وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل مسعود چشتی کی صدارت میں ہوا، جس میں ممبر پاکستان بار کونسل احسن بھون،طاہر نصر اللہ وڑائچ، عامر سعید راں و دیگر اراکین  نے شرکت کی۔اجلاس میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ نئے صوبوں کا قیام آئین پاکستان، پارلیمانی طریقہ کار اور قومی اتفاقِ رائے کے مطابق ہونا چاہئے اور اس معاملے کو سیاسی مفادات کے بجائے قومی مفاد کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے ۔پاکستان بار کونسل نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ نئے صوبوں کے معاملے پر قومی مفاد میں بامعنی مذاکرات کا آغاز کریں تاکہ آئینی تقاضوں کے مطابق قابلِ قبول اور دیرپا حل نکالا جا سکے ۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر ایک قومی سیمینار منعقد کیا جائے گا، جس میں پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، تمام صوبائی بار کونسلوں، قانونی ماہرین اور متعلقہ حلقوں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔



قرارداد میں کہا گیا کہ قومی سیمینار کا مقصد وفاق کو مزید مضبوط بنانا، بہتر طرزِ حکمرانی کو فروغ دینا اور نئے صوبوں کے معاملے پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے تاکہ مستقبل میں اس اہم آئینی مسئلے پر جامع اور قابلِ عمل پیش رفت ممکن ہو سکے ۔پاکستان بار کونسل نے واضح کیا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ صرف آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے تحت ہی آگے بڑھایا جانا چاہئے اور اس حوالے سے قومی مکالمے کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سردار محمد یوسف نے کہا کہ 2010 میں صوبہ ہزارہ کی تحریک شروع ہوئی، ہمارے 7 نوجوانوں نے اس معاملے پر اپنی جانیں دیں، مختلف جماعتوں کے لوگوں کا ایک ہی موقف تھا صوبہ ہزارہ بنایا جائے، ہم سب اس پر متفق ہیں کہ صوبہ ہزارا بننا چاہیے۔وزیر مذہبی امور نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی صوبہ ہزارہ کے لیے 3 بار آئینی قرارداد منظور کر چکی ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے بل پیش کیے جاچکے ہیں، بل لا اینڈ جسٹس کی قائمہ کمیٹیوں کو بھیجے جا چکے ہیں، پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے بلز کی قانونی حیثیت پر اسپیکر قومی اسمبلی سے رابطہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 25 کروڑ آبادی کے پیش نظر انتظامی طور پرنئے یونٹس اور صوبے بننا وقت کی ضرورت ہے، صوبے بننے سے انتظام، ریونیو کی وصولی اور  ترقیاتی کام بہتر ہوسکیں گے، چھوٹے انتظامی یونٹس سے عوام کے مسائل حل اور پاکستان مستحکم ہوگا انشا اللہ 

 



، نئے صوبوں کے قیام کےلیے پرامن جدوجہد اور سیاسی قائدین سے رابطے جاری رہیں گے  ۔ نئے صوبے اگر بنائے جائیں تو ان کی بنیاد آبادی، رقبہ، جغرافیائی آسانی، معاشی صلاحیت، وسائل کی دستیابی اور انتظامی ضرورت ہونی چاہیے، نہ کہ سیاسی مفادات یا لسانی و قومی تقسیم۔ اس معاملے کا ایک اہم پہلو مالی بوجھ بھی ہے۔ ایک نیا صوبہ صرف ایک نیا نام نہیں ہوتا بلکہ ایک مکمل انتظامی نظام کا قیام ہوتا ہے۔ نئی صوبائی اسمبلی، سیکرٹریٹ، پولیس ڈھانچہ، عدالتی نظام، سرکاری تحریر میں انٹر نیٹ سے مدد لی گئ ہےدفاتر، ملازمین، رہائشی سہولیات اور ترقیاتی ادارے قائم کرنا پڑتے ہیں   -اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مقتدر اراکین اسمبلی مل کر نئے صوبوں کے لئے بات کریں گے 

تحریر میں گوگل کی مدد شامل ہے

بدھ، 5 اگست، 2026

دنیا کی تجارت کا محور سونا

  سونا    زمانہ  ء قدیم سے عالمی سطح پر تجارت کی جانے والی ایک شے ہے، اور دنیا  کے ہر ملک میں اس کی مانگ ہے  اس مانگ کو پورا کرنے کے لیے، 21ویں صدی میں سوڈان جنوبی افریقہ اور گھانا کے بعد افریقہ کا تیسرا سب سے بڑا سونا پیدا کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ پھر بھی ان دونوں ممالک کے برعکس، سونے کی بڑی اکثریت - ایک اندازے کے مطابق 85 فیصد - بڑی صنعتی کانوں سے نہیں آتی بلکہ چھوٹے پیمانے پر "فنکارانہ" کان کنی سے، دیہی علاقوں میں کی جاتی ہے جن کے پاس ان کیمیکلز سے ہونے والے خطرات کے بارے میں محدود یا کوئی معلومات نہیں ہیں جن پر وہ انحصار کرتے ہیں سوڈان میں سونے کی کان کنی کی ایک طویل تاریخ ہے۔ نوبیا کی قدیم تہذیب، شمالی سوڈان میں، بہت زیادہ سونا فراہم کرتی تھی جو قدیم مصر اور بابل میں عزت کی جاتی تھی - مثال کے طور پر، توتنخمین کا مقبرہ، نیوبین سونے سے بھرا ہوا تھا۔ آج، سونا سوڈانی ثقافت کا اہم جز ہے ، جو عام طور پر شادیوں میں تحفے میں دیا جاتا ہے اور نسل در نسل  استعمال ہوتا  ہے۔ نوبین  تہذیب  اہرام مصر سے بھی کئ ہزار سال پہلے کی تہذیب ہوتی تھی اس  تہذیب میں  مر جانے والوں کے ساتھ بھی سونا دیا جاتا تھا    ایک قدیم قبرستان  میں دیکھا جا سکتا ہے  کہ ایک درمیانی عمر کے شخص کی ایک شاندار تدفین میں ایک بستر اور تابوت دونوں شامل تھے جو روایتی نوبین اور مصری ثقافت کا ملاپ تھا۔مقبرے میں پیتل کے پیالے، ایک نقش و نگار سے مزین لکڑی کا ڈبہ اور تعویذوں کا ایک ڈھیر بھی موجود تھا جنہیں جادو کے لیے استعمال ہونے والی اشیا سمجھا جاتا تھا اور لوہے کے ہتھیاروں کا ایک ذخیرہ بھی جو نوبیا میں لوہے کے ابتدائی استعمال کا ثبوت ہے



 دنیا میں سونے کے بڑے ذخائر اور سب سے اہم سونے کی کانیں درج ذیل ممالک میں واقع ہیں:امریکہ خاص طور پر ریاست نیواڈا کا Carlin Trend دنیا کے امیر ترین سونے کے علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ازبکستانMuruntau Mine دنیا کی سب سے بڑی کھلی سونے کی کانوں میں سے ایک ہانڈونیشیاGrasberg Mine سونے اور تانبے کی دنیا کی سب سے بڑی کانوں میں سے ایک ہے۔اب تک دنیا میں نکالا گیا تقریباً تمام سونا اگر ایک جگہ جمع کیا جائے تو اس سے تقریباً 22 میٹر (72 فٹ) لمبائی، چوڑائی اور اونچائی کا ایک مکعب (Cube) بن سکتا ہے۔سیندک کا سونا پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع سیندک کاپر-گولڈ پراجیکٹ سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہاں صرف سونا ہی نہیں بلکہ تانبا (Copper) اور چاندی (Silver) بھی بڑی مقدار میں موجود ہیں۔اہم معلومات:سیندک کا ذخیرہ کو 1960 اور 1970 کی دہائی میں ارضیاتی سروے کے ذریعے دریافت کیا گیا۔تجارتی پیداوار 1995 میں شروع ہوئی، بعد میں منصوبے کی آپریشنل ذمہ داری چینی کمپنی Metallurgical Corporation of China (MCC) نے لیز کے تحت سنبھالی۔اس منصوبے سے ہر سال تانبے کے ساتھ سونا اور چاندی بھی بطور ضمنی پیداوار حاصل ہوتی ہے، جو پاکستان کے اہم معدنی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔عیسیٰ کانےakane – ملک کی سب سے بڑی اور مغربی افریقہ کی اہم سونے کی کانوں میں شمار ہوتی ہے۔ مختلف ذرائع میں مجموعی زیرِ زمین ذخائر کے اندازے مختلف ہیں


، لیکن برکینا فاسو مسلسل افریقہ کے بڑے سونا پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، اور حالیہ برسوں میں اس کی سالانہ پیداوار تقریباً 55 سے 60 ٹن کے درمیان رہی ہے۔افریقہ سونے کی پیداوار اور ذخائر کے لحاظ سے دنیا کے اہم ترین براعظموں میں شمار ہوتا ہے۔ درج ذیل ممالک میں سونا بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے:گھانا-افریقہ کے سب سے بڑے سونا پیدا کرنے والے ممالک میں شامل۔اہم کانیں: Obuasi، Tarkwa، Ahafo۔ملکی معیشت میں سونے کا اہم کردار ہے۔جنوبی افریقہ  دنیا کا سب سے بڑا سونا پیدا کرنے والا ملک تھا۔آج بھی یہاں سونے کے بہت بڑے ذخائر موجود ہیں۔مالی افریقہ کے نمایاں سونا پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔برکینا فاس میں حالیہ برسوں میں سونے کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔- تنزانیہ مشرقی افریقہ کا ایک خوبصورت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ یہ ملک اپنی جنگلی حیات، سیاحت، زرعی پیداوار اور بالخصوص معدنی وسائل کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ تنزانیہ کے معدنی وسائل میں سونا سب سے اہم مقام رکھتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران سونے کی کان کنی نے تنزانیہ کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ آج تنزانیہ افریقہ میں سونے کی پیداوار کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے اور دنیا کی عالمی سونے کی منڈی میں بھی اس کی اہم حیثیت قائم ہو چکی ہے۔




سونا نہ صرف تنزانیہ کی برآمدات کا سب سے اہم حصہ ہے بلکہ لاکھوں افراد کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی ہے۔ حکومت نے معدنی وسائل کے بہتر استعمال، سرمایہ کاری کے فروغ اور جدید کان کنی کے طریقوں کو اپنانے کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کرائی ہیں، جس کے نتیجے میں سونے کی پیداوار میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔تنزانیہ میں سونے کی دریافت تنزانیہ میں سونے کی دریافت نوآبادیاتی دور میں ہوئی۔ بیسویں صدی کے آغاز میں یہاں سونے کے ذخائر کی نشاندہی کی گئی، جس کے بعد مختلف علاقوں میں کان کنی کا آغاز ہوا۔ ابتدا میں یہ کام محدود پیمانے پر ہوتا تھا، لیکن آزادی کے بعد حکومت نے معدنیات کے شعبے کو ترقی دینے پر توجہ دی۔1990ء کی دہائی میں حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے دروازے کھولے، جس کے نتیجے میں دنیا کی بڑی کان کنی کمپنیوں نے تنزانیہ میں سرمایہ کاری شروع کی۔ اس اقدام نے ملک کی سونے کی صنعت میں انقلاب برپا کر دیا۔



لکھنؤ میں شیعت اوج کمال تک

 شا ہا ن اودھ کی تاریخ کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں ہیں تو سب ہی نوابین لکھنؤ علم دوست بھی تھے ،عالم اور علم پرور تھے -انھیں میں مرزا حسن رضا خاں سرفراز الداولہ ہندوستان کی تاریخ شیعیت کی ممتاز و منفرداو رعظیم شخصیت نظر آتی ہے جس کا احسان عظیم شیعہ قوم و مذہب پر ناقابل فراموش ہے۔’’نام حسن رضا خاں اور سرفراز الدولہ خطاب فیض آباد کے رئیس اعظم تھے‘‘    ۔’’سرفراز الدولہ ہی کی کوششوں سے فیض آباد میں شیعوں کی پہلی نماز جمعہ قائم ہوئی اور اس طرح ہندوستان میں شیعوں کی ایک الگ شناخت قائم ہوئی’نواب حسن رضا خاں نے مولوی دلدار علی معروف بہ غفرانمآب کو پانچ ہزار روپئے دے کرمزید تعلیم کے لئے نجف اشرف بھیج دیا تھا‘‘لکھنؤ کی عزاداری کا فروغ بہت کچھ سرفراز الدولہ کے رجحان کا نتیجہ ہے۔انھوں نے ہی بڑے امامباڑے (آصفی امامباڑے ) کی تعمیر کی تجویز رکھی تھی۔۔مولوی دلدار علی ایران و عراق سے سند اجتہاد لے کر آئے تو سرفراز الدولہ نے انھیں اپنے بیٹے کا اتالیق مقرر کیا‘ ’تذکرۃ العلماءاور آئینہ حق میں درج ہے کہ پہلی نماز ظہرین لکھنؤ میں با جماعت نواب آصف الدولہ کے زمانہ میں ۱۳؍رجب ۱۲۰۰ھ بروز جمعہ مطابق ۳۳مئی ۱۷۸۶ءسرفراز الدولہ مرزا حسن رضا خاں کے مکان پر واقع ہوئی ۔بقول مولوی عبد الحی یہ پہلا دن ہے کہ وسط ہند میں شیعوں نے اپنی نماز جمعہ و جماعت علاحدہ کرلیا‘   مولانا دلدار علی نےشیعہ فرقے کی اول نماز ظہرین بجماعت ۱۳؍رجب ۱۲۰۰ھ مطابق ۱۲؍مئی ۱۷۸۶ءکو نواب حسن رضا خاں کے مکان پر پڑھائی تھی‘‘


’نواب حسن رضا خاں نے مولانا دلدار علی صاحب کو نصیرآباد سے بلا کر لکھنؤ میں بڑے اعزاز و احترام سے رکھا‘‘ نواب آصف الدولہ اور ان کے وزیر سرفراز الدولہ حسن رضا خاں نے لکھنؤ میں شیعہ عقیدے کو دربار ی مزہب کی حیثیت دے رکھی تھی ۔عدالتوں میں بیشتر مفتی اگرچہ غازی الدین حیدر کے عہد تک علمائے اہل سنت ہی سے تھے لیکن حسن رضا خاں نے ایک شیعہ عالم مرزا محمد عسکری کو پانچ سو روپئے مشاہرے پر مفتی دربار مقرر کردیا تھااور انھیں سے احکام شرعیہ حاصل کئے جاتے تھے ۔جب مولانا دلدار علی نصیرآبادی اجازہ اجتہاد عراق سے لے کر آئے تو دربار میں ان کی بہت تعظیم و تکریم ہوئی‘‘ مرزا حسن رضا خاں سرفراز الدولہ ہندوستان کی تاریخ شیعیت کی عظیم شخصیت جس کا احسان ِعظیم شیعہ قوم و مذہب پر ناقابل فراموش ہے:مولانا دلدار علی نے کوئی درباری عہدہ اپنے لئے پسند نہیں کیا ۔ان کی کفالت کے لئے ایک ہزار روپئے ماہوار کی وہ جائیداد کافی تھی جو انھیں بہو بیگم یعنی والدہ آسف الدولہ نے بطورمعافی دی تھی -مرزا حسن رضا خاں سرفراز الدولہ نے بہت سے مدرسے،مساجد،امامباڑے تعمیر کرائے بہت سے اوقاف اور کتب خانے وغیرہ قائم کئے جو اسلام اور شیعیت کی تبلیغ و ترویج اور نشر اشاعت میں آج بھی موثر کردار ادا کر رہے ہیں


۔مرزا حسن رضا خاں سرفراز الدولہ ہندوستان کی تاریخ شیعیت کی عظیم شخصیت جس کا احسان ِعظیم شیعہ قوم و مذہب پر ناقابل فراموش ہے: مولانا ابن حسن املویسلام ہو ہمار ا اودھ کے متدین و متشرع اور علم پرور نوابین و وزرائےاعظم و علمائے کرام پر جن کا عظیم احسان ہے شیعیان ہند پر۔مومنین سے التماس ہے کہ ایک سورہ فاتحہ سے ان کی ارواح پاک کو ایصال ثواب فرما دیں۔ڈاکٹر نسیم اقتدار علی کے بقول :''لکھنؤ کی روایتی تہذیب جس کی ستائش میں لکھنے والوں کے قلم آج بھی تر وتازہ اور بیان کرنے والوں کے دہن شگفتہ ہیں ان کی داغ بیل اٹھارویں صدی کے ربع اول میں سعادت خاں برہان الملک کی صوبہ داری کے زمانے میں پڑی۔نوابین اودھ کے زمانے میں بتدریج اسے فروغ حاصل ہوا اور واجد علی شاہ کے عہد میں نقطۂ عروج پر پہنچ کر زوال حکومت کے ساتھ دبے پائوں مائل بہ زوال ہونے لگی ۔''شاہان اودھ نے عزاداری کا جو اہتمام کیا وہ قابل داد وتحسین ہے۔شاہان اودھ کے مذہبی رجحان کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ماہ عزا کا چاند فلک پر نمودار ہوتے ہی فضا مکمل طور پر سوگوار نظر آتی تھی۔لوگ سبز وسیاہ لباس زیب تن کرتے اور اس طرح یہ بات عام ہو جاتی کہ شہید کربلا کی شہادت کے دن آن پہنچے ہیں ۔شاہان اودھ میں نواب جلال الدین حیدر ملقب بہ شجاع الدولہ جب تخت نشین ہوئے تو عزاداری کو اور فروغ ہوا ۔


نواب شجاع الدولہ کے بعد آپ کے بیٹے نواب آصف الدولہ نے عزاداری کو خاص اہمیت دی ۔اسی لئے آپ کو لکھنؤ میں             عزاداری کا بانی کہا جاتا ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ نواب آصف الدولہ کے دور میں عزائے سید الشہداء علیہ السلام کاجو فروغ ہوا اس کا عشر عشیر بھی اودھ کے دوسروے حکمرانوں کے دور میں نظر نہیں آتا ہے ۔مشہور ہے کہ نواب آصف الدولہ کے وزیر خاص سرفراز الدولہ نے آپ کو آصفی امام باڑہ کی تعمیر کی طرف متوجہ کیا ۔نواب موصوف اپنی سخاوت اور فن تعمیر میں غیر معمولی دلچسپی رکھنے کے بموجب مشہور زمانہ تھے ۔آپ کے بارے میں یہ مثل مشہور تھی:''جس کو نہ دے مولا ،اُ س کو دے آصف الدولہ۔ اللہ تمام عاشقا ن امام علیہ السلام کو جنت اولیٰ کی ٹھنڈی چھاؤں میں رکھے آمین

ہفتہ، 1 اگست، 2026

ہم جو تاریک کانوں میں مارے گئے

 

 

 ۔‘ہم جو تاریک کانوں میں مارے گئے ' انتہائ بوجھل دل کے ساتھ خبر پڑھی 'یہ معلوم ہونا چاہئے کہ  بیشتر ممالک میں کان کنوں کی جان و مال کے تحفظ کے لئے کوئ  پیشگی انتظامات نہیں ہوتے ہیں  اور حادثے کی صورت میں یہ غریب طبقہ جان کی بازی ہار جاتا ہے 'بلوچستان (31 جولائی، 2026) سے تقریباً 40 کلومیٹر (25 میل) دور سورنج کے علاقے میں کوئلے کی کان میں  بہت زوردار دھماکہ ہوا -پاکستانی حکام کے مطابق، جنوب مغربی پاکستان میں کوئلے کی کان میں دھماکے سے 34 کان کن ہلاک ہو گئے ہیں۔جمعرات کو ہونے والا مہلک دھماکہ، جو ممکنہ طور پر میتھین گیس کے جمع ہونے کی وجہ سے ہوا  دھماکے کے وقت 40 کے قریب کان کن جائے وقوعہ پر موجود تھے۔بلوچستان کے سینیئر سرکاری کان کنی اہلکار غنی بلوچ نے کہا کہ تمام کان کنوں کی تلاش تک امدادی کارروائیاں جاری رہیں گی، تاہم انہوں نے مزید کہا کہ میتھین کے دھماکوں کی وجہ سے آکسیجن تیزی سے ضائع ہونے کی وجہ سے "کسی کے زندہ ہونے کے امکانات کم ہو گئے ہیں"مائنز کے چیف انسپکٹر نے بتایا کہ بچاؤ کی کوششیں 4,000 فٹ (1,219 میٹر) کی گہرائی میں ہو رہی تھیں متاثرین کے لیے اظہار تعزیت کرتے ہوئے، بلوچستان کے وزیر برائے معدنیات و معدنیات شعیب نوشیروانی نے کہا کہ ہر متاثرہ خاندان کے لیے 500,000 پاکستانی روپے دئے جائیں گے انہوں نے دھماکے کی وجہ کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ بلوچستان بھر میں کوئلے کی کانوں کے حفاظتی جائزے کا وعدہ کیا-


سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع شانگلہ کی آبادی ساڑھے آٹھ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس ضلع میں کان کنی کے حادثات نے بیواؤں، یتیم بچوں اور عمر بھر کے لیے معذور ہونے والے مزدوروں کی ایک بڑی تعداد بھی چھوڑ دی ہے۔پیرآباد میاں کلے کے رہائشی شاہ خالد کے لیے یہ حادثہ دو نسلوں پر پھیلا ایک المیہ ہے۔ انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’میرے ایک بھائی کی اس حادثے میں  جا ن گئی ہے جبکہ میرے تین چچا زاد بھائی بھی اس میں شامل ہیں۔ ان کی عمریں 17، 19، 21 اور 23 سال تھیں۔‘وہ بتاتے ہیں کہ ایک نوجوان نے ایف اے تک تعلیم حاصل کی تھی جبکہ باقیوں نے پانچویں جماعت کے بعد تعلیم چھوڑ دی تھی۔ ’ان سب کی شادیاں ہو چکی تھیں۔ وہ صرف اپنی شادیوں کے قرضے اتارنے کے لیے کان میں کام کر رہے تھے۔‘ شاہ خالد بتاتے ہیں کہ حادثے کے وقت ان کے دو بھائی دن کی شفٹ مکمل کر کے باہر آ چکے تھے جبکہ سب سے چھوٹا بھائی رات کی ڈیوٹی کے لیے اندر گیا تھا۔ یہ اس خاندان کے لیے یہ دوسرا بڑا سانحہ ہے۔شاہ خالد نے روتے ہوئے اردو نیوز کو بتایا ’میرے والد بھی 2003 میں کوئٹہ کی ایک کوئلہ کان میں حادثے کا شکار ہو کر جاں بحق ہوئے تھے۔ میری والدہ اس صدمے کو دوبارہ برداشت نہیں کر پا رہیں۔ اور اب میرے بھائی کی شادی کو صرف تین ماہ ہوئے تھے۔ ایک چچا زاد بھائی کا ایک بیٹا ہے،  


  بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے سورینج میں کوئلے کی دو کوئلہ کانوں میں دھماکے کے بعد 32 مزدوروں کی لاشیں نکالی لی گئی ہیں جن میں سے 31 مزدوروں کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ سے بتایا گیا ہے جبکہ انہی 31 افراد میں سے 23 افراد ایک ہی یونین کونسل پیرآباد میاں کلے سے تعلق رکھتے ہیں-کوئٹہ سے قریباً 35 کلومیٹر دور سورینج میں واقع شیخ عزیز لیز کی سردار عثمان اور علی بھائی کول کمپنیوں کی دو کوئلہ کانوں میں یہ حادثہ جمعرات کو پیش آیا تھا اور جمعے کو دوسرے روز بھی آپریشن جاری رہا۔  جبکہ ضلع شانگلہ میں سوگ کا سماں ہے اور مقامی سطح پر عوام احتجاج بھی کر ریے ہیں۔ یونین کونسل پیرآباد میں ’آل پاکستان مائنز لیبر فیڈریشن‘ کے مرکزی صدر عابد یار نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’حادثہ جمعرات کو دوپہر قریباً دو بجے اس وقت پیش آیا جب سورینج میں دو مختلف کوئلہ کانوں میں میتھین گیس کا دھماکہ ہوا۔


 شانگلہ پولیس کی جانب سے بلوچستان کوئلہ کان حادثے میں جاں بحق مزدوروں کی میتوں کو مکمل سیکیورٹی اور پروٹوکول فراہم.ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے کوئلہ کان حادثے میں جاں بحق محنت کش ودود اللہ کی میت جب ضلع شانگلہ کے داخلی مقام دندئی چیک پوسٹ پر پہنچی تو ایس ڈی پی او بشام عثمان منیر اور ایس ایچ او تھانہ دندئی محمد افضل نے پولیس نفری کے ہمراہ میت کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرتے ہوئے تعزیتی طور پراس کا استقبال کیا۔  مینگورہ سے تقریباً 40 کلومیٹر دور واقع ضلع شانگلہ کی پانچوں تحصیلوں میں ہزاروں خاندانوں کا روزگار آج بھی بلوچستان اور ملک کے دوسرے حصوں کی کوئلہ کانوں سے وابستہ ہے۔ غربت، محدود زرعی وسائل اور مقامی سطح پر روزگار کی کمی نے نوجوانوں کو ایسے پیشے سے وابستہ کر رکھا ہے جہاں ہر شفٹ زندگی اور موت کے درمیان ایک نئے امتحان کی مانند ہوتی ہے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ شانگلہ کے درجنوں گھر ایک ساتھ اجڑے ہوں۔ نو جنوری 2025 کو بلوچستان کے علاقے سنجدی میں کوئلے کی کان میں دھماکے کے نتیجے میں 12 مزدور جان سے گئے تھے جن میں سے 10 کا تعلق شانگلہ سے تھا۔ اس سے پہلے 2011 میں بلوچستان میں پاکستان مائن ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کی کان میں ہونے والے دھماکے کے بعد ایک ہی دن شانگلہ کے علاقے پیرآباد میں 42 کان کنوں کی لاشیں پہنچائی گئی تھیں۔

ہفتہ، 25 جولائی، 2026

ایک ہندوعا شق سرکار مدینہ'دلو رام کوثری'

   سر زمین ہندوستان  اپنی تاریخ، تہذیب، روحانیت اور علمی ورثے کے اعتبار سے ایک نہایت بابرکت سرزمین ہے حضرت نوح علیہ السلام نے اسی خطہ زمین سے یہاں کے لوگوں پر سینکڑوں برس حکومت کی ۔ یہی  وہ خطہ ہے جہاں صدیوں سے مختلف قومیں، زبانیں اور ثقافتیں ساتھ ساتھ پروان چڑھتی رہی ہیں۔ اس سرزمین نے نہ صرف بڑے بڑے دانشور، شاعر، عالم اور رہنما پیدا کیے بلکہ ایسے اولیاء و صلحاء بھی عطا کیے جنہوں نے اپنے اخلاق، محبت اور خدمت کے ذریعے دلوں کو جیت لیا۔ہندوستان کی برکت کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ یہاں دین و علم کی روشنی ہمیشہ قائم رہی۔ مدارس، خانقاہیں، مساجد اور علمی مراکز نے عوام کی دینی و اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ اس سرزمین پر آنے والے بزرگوں نے لوگوں کو محبت، امن، صبر، برداشت اور بھائی چارے کا درس دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی فضا میں روحانیت کے سر چشمے پھوٹتے رہے ،یہاں پر  رواداری اور اخلاق کی ایک خاص خوشبو محسوس ہوتی ہے۔یہ سرزمین قدرتی نعمتوں سے بھی مالا مال ہے۔ یہاں کی زرخیز زمینیں، بہتے ہوئے دریا، بلند پہاڑ، سرسبز میدان اور متنوع موسم اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ زراعت، تجارت، صنعت اور ہنر کے میدان میں بھی ہندوستان کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔




 یہاں کے لوگ محنتی، باصلاحیت اور تہذیب یافتہ ہیں، جو اس سرزمین کی مزید برکت کا سبب بنتے ہیں۔ یہاں کے صوفیاء اور اولیاء نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ اصل عظمت انسانیت کی خدمت، سچائی، عاجزی اور اخلاص میں ہے۔مختصراً، ہندوستان کی زمین واقعی بابرکت ہے کیونکہ یہ علم، روحانیت، محبت، ثقافت اور قدرتی حسن کا حسین امتزاج ہے -دلو رام کی نعت سے لگاؤ کی وجہ سے انہیں     ہندوستان کا فردوسی بھی کہا جاتا ہےجو ایک قادر الکلام  شاعر تھے  دلورام کے نعتیہ رحجانات کے رد عمل میں  فرقہ   پرست ہندوؤں نے شدید ملامت اور تنگ نظری اور طنعہ زنی سے انھیں زچ کیا۔ لیکن دلورام کوثری نے نعت گوئی ترک نہ کی ۔ دلورام نے بالاخر اسلام قبول کر لیا اور نام کوثر علی کوثری رکھا/ہندو پس منظر۔*وہ کہتے ہیں عشقِ محمد میں نہیں شرطِ مسلماں ہونا ہے کوثری ہندو بھی ہےطلبگارِ محمد (صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم )آپ کی شاعری مسلمانوں اور ہندووں میں یکساں مقبول تھی۔جب ان کے    دل میں عشقِ نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت اور عقیدت  کا چراغ  پوری آب و تاب سے چمکا تو انہوں نے   محبوبِ کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت میں کثرت سے نعت کہنا شروع کردی۔






ہندوؤں نے ان پر شدید اعتراض کیا اور کہا "کہ تم ہندو ہو کر مسلمانوں کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعریف میں اشعار کہتے ہوں تم کیسے ہندو ہو۔ ہندوؤں نے سختی سے کہا کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ تم نے ہندوؤں کا نام شرمندہ کیا ہے"۔دِلورام کوثری نے جواب دیا، "مجھے میرے   پیار سے دور نہ کرو!"د لو رام نے اپنی نعت خوانی سے دنیا پر ثابت کر دیا کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) سے محبت کرنے کی کوئی شرط نہیں ہے! کوثری ہندو ہو کر بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا طلبگار ہے۔بسترِ مرگ پر معجزہ۔*دِلورام  بہت بیمار ہو کر بستر مرگ پر پہنچ گئے۔ اخبارات اور رسائل کے ذریعہ بھارت بھر میں ان کی خراب صحت کی خبر پھیل گئی۔ 28 دسمبر 1931 کی وہ سرد صبح بھی آن پہنچی۔  جب یہ دیوانہ عاشقِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شدید تکلیف و بیماری کی حالت میں تھے۔ نزع کے وقت ان سے محبت و عقیدت رکھنے والوں نے انہیں گھیرا ہوا تھا اور لوگوں کی کثیر تعداد ان کے گرد جمع تھی۔ لیکن وہ مسلسل دروازے کی طرف دیکھے جارہے تھے جیسے کسی کا نتظار کررہے ہوں۔


 کچھ ہی  دیر کے بعد، وہ اپنے ہاتھوں پر وزن ڈال کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگے اور اپنے پاس موجود افراد سے کہا کہ انہیں اٹھایا جائے لوگوں نے انہیں سہارا دیا تو وہ اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ لوگ حیرت و پریشانی سے یہ سب ماجرا دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے دِلورام  سے پوچھا، "کیا معاملہ ہے؟" دِلورام آبدیدہ ہو گئے اور روتے ہوئے کہنے لگے۔ "میں نے ساری عمر جن  کی تعریف کی ہے وہ آ گئےہیں اور اپنی جان 'جان آفریں کے سپرد کر دی  اور ایک سچا عاشق اپنے معشوق کے قدموں میں پہنچ گیا-خدا دلورام کو اپنی دائمی نعمتوں سے فیضیاب کرتا رہے آمین

 

انہیں مردہ مت کہو (القران)


وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوٰتٌ ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّلٰکِنۡ لَّا تَشْعُرُوۡنَ ﴿سورہ بقرہ ۱۵۴﴾شہداء کے فضائل-انہیں مردہ مت کہو (القران)اس آیت میں شہداء کو مردہ کہنے سے منع کیا گیا ہے ، نہ زبان سے انہیں مردہ کہنے کی اجازت ہے اور نہ دل میں انہیں مردہ سمجھنے کی اجازت ہے ، جیسا کہ ایک اور مقام پر فرمانِ باری تعالیٰ ہے : وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوٰتًا ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوۡنَ ۔ (ال عمران:۱۶۹)ترجمہ : اور جو اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں ، انہیں رزق دیا جاتا ہے ۔موت کے بعد اللہ تعالیٰ شہداء کو زندگی عطا فرماتا ہے ، ان کی ا رواح پر رزق پیش کیا جاتا ہے ، انہیں راحتیں دی جاتی ہیں ، ان کے عمل جاری رہتے ہیں ، ان کا اجرو ثواب بڑھتا رہتا ہے ، حدیث شریف میں ہے کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے بدن میں جنت کی سیر کرتی اور وہاں کے میوے اور نعمتیں کھاتی ہیں ۔ (شعب الایمان ، السبعون من شعب الایمان، ۷/۱۱۵، الحدیث: ۹۶۸۶)حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : اہل جنت میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا :اے ابن آدم!تو نے اپنی منزل و مقام کو کیسا پایا ۔ وہ عرض کرے گا : اے میرے رب ! عَزَّوَجَلَّ ، بہت اچھی منزل ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ’’تو مانگ اور کوئی تمنا کر ۔ وہ عرض کرے گا : میں تجھ سے اتنا سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے دنیا کی طرف لوٹا دے اور میں دس مرتبہ تیری راہ میں شہید کیا جاؤں ۔ (وہ یہ سوال اس لئے کرے گا ) کہ اس نے شہادت کی فضیلت ملاحظہ کر لی ہو گی ۔(سنن نسائی ، کتاب الجہاد، ما یتمنی اہل الجنۃ، ص۵۱۴، الحدیث: ۳۱۵۷)بعض شہداء وہ ہیں کہ ان پر دنیا کے یہ احکام تو جاری نہیں ہوتے لیکن آخرت میں ان کے لیے شہادت کا درجہ ہے جیسے ڈوب کر یا جل کر یا دیوار کے نیچے دب کر مرنے والا،طلب ِعلم اورسفرِحج غرض راہ خدا میں مرنے والا یہ سب شہید ہیں۔ حدیثوں میں ایسے شہداء کی تعداد چالیس سے زائد ہے۔مکمل تفصیل کیلئے بہارِ شریعت حصہ چہارم ملاحظہ فرمائیں ۔وَلٰکِنۡ لَّا تَشْعُرُوۡنَ : لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ۔ یعنی یہ بات تو قطعی ہے کہ شہداء زندہ ہیں لیکن ان کی حیات کیسی ہے اس کا ہمیں شعور نہیں اسی لئے ان پر شرعی احکام عام میت کی طرح ہی جاری ہوتے ہیں جیسے قبر ، دفن، تقسیمِ میراث ، ان کی بیویوں کا عدت گزارنا ، عدت کے بعد کسی دوسرے سے نکاح کرسکنا وغیرہ 

مختصر تفسیر :وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوٰتًا :

اور جو اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا ۔

شانِ نزول :حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جب تمہارے بھائی اُحد میں شہید ہوئے تواللہ تعالیٰ نے ان کی اَرواح کو سبز پرندوں کے جسم عطا فرمائے ، وہ جنتی نہروں پر سیر کرتے پھرتے ہیں ، جنتی میوے کھاتے ہیں ، سونے کی اُن قندیلوں میں رہتے ہیں جو عرش کے نیچے لٹک رہی ہیں ۔ جب ان شہداء کرام نے کھانے ، پینے اور رہنے کے پاکیزہ عیش پائے تو کہا کہ پیچھے دنیا میں رہ جانے والے ہمارے بھائیوں کو کون خبر دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور جنگ سے بیٹھ نہ رہیں ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں انہیں تمہاری خبر پہنچاؤں گا۔ پس یہ آیت نازل فرمائی ۔

 (ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فی فضل الشہادۃ، ۳/۲۲، الحدیث: ۲۵۲۰)اس سے ثابت ہوا کہ اَرواح باقی ہیں جسم کے فنا ہونے کے ساتھ فنا نہیں ہوتیں ۔ یہاں آیت میں شہدا ء کی کئی شانیں بیان ہوئی ہیں : فرمایا کہ وہ کامل زندگی والے ہیں ، وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس ہیں ۔ آیتِ مبارکہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ شہیدوں کے روح اور جسم دونوں زندہ ہیں ۔ علماء نے فرمایا کہ شہداء کے جسم قبروں میں محفوظ رہتے ہیں ، مٹی ان کو نقصان نہیں پہنچاتی اور صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے زمانے میں اور اس کے بعداس بات کا بکثرت معائنہ ہوا ہے کہ اگر کبھی شہداء کی قبریں کھل گئیں تو ان کے جسم تر و تازہ پائے گئے ۔ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ ۔جنت میں جانے کے بعد شہید یہ تمنا کرے گا کہ مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے اور دس بار (اللہ کے راستے میں ) قتل کیا جاؤں۔دُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے: میری یہ تمنا ہے کہ میں اللہتعالیٰ کے راستے میں جہاد کروں ، پھر شہید کیا جاؤں ، پھر جہاد کروں ، پھر شہید کیا جاؤں ، پھر جہاد کروں پھر شہید کیا جاؤں۔

جمعرات، 23 جولائی، 2026

پاکستان کی تعلمی پسماندگی کا مجرم کون ہے

                      پاکستان کی تعلمی پسماندگی کا مجرم کون ہے اس ایک جملے  کے پیچھے  دیکھئے '    پاکستان  جیسا خطہء زمین جو ایک جانب معدنی وسائل سے مالامال  ہے تو دوسری جانب  اس کا چپہ چپہ  سیاحت کے دلدار نظارے لئے  سیاحوں کی راہیں تکتا ہے 'لیکن جہاں کہیں فائدہ اٹھا یا بھی جاتا ہے تو سیدھا اشرافیہ کے خزانوں میں چلا جاتا ہے عام  لوگ اس سے فیضیاب ہو ہی نہیں  سکتے ہیں اور اس معاشرتی نا انصافی کے خلاف بول سکتےبہیں اس کے نتیجے میں ہماری معصوم بچہ قوم چکی کی کے پاٹوں میں پس گئ ہےکہیں ننھی کلیاں رات کو سڑک کے کنارے ابلے انڈے بیچ رہی ہیں تو کہیں ننھے پھول 'پھول بیچ کر گھر کی دال سڑکوں پر رُل رہے ہوتے ہیں یا دن کی جھلستی دھوپ میں کچھ بیچ رہے ہوتے ہیں تاکہ گھر کا خرچ چلا سکیں  لیکن  ہماری حکومتوں کی ترجیح تعلیم نہیں ہے صرف اپنے عشرت کدے ہیں  اپنی شوگر ملیں ہیں اپنے آئ پی پیز ہیں        امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا کے تر قی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز اُن کی تعلیمی پالیسوں میں پوشیدہ ہے،یعنی کسی بھی ملک کی تر قی وخوشحالی کا انحصار اُس کی تعلیمی پالیسی پر ہو تا ہے،آج برطانیہ،چین،جاپان اور سنگاپور سمیت دنیا کے بہت سے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں،دوسری جنگ عظیم کاشکست خوردہ جاپان آج ساری دنیا کو تعلیمی میدان میں پیچھے چھوڑچکا ہے،وہاں شر ح خواندگی 99 فیصدہے جو کہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بعد ہر طبقہ کے  اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کا کہنا ہے کہ دنیا کے221 ممالک میں مذکورہ بالا شرح خواندگی کے ساتھ پاکستان 180 ویں نمبر پر ہے۔حد تو یہ ہے کہ شرح خواندگی میں پاکستان جنوبی ایشیاء میں صرف افغانستان اور بنگلہ دیش سے اوپر ہے جبکہ چین، ایران، سری لنکا، نیپال اور حتیٰ کہ برما بھی پاکستان سے آگے ہے۔




 اکثر طلبہ گھریلو زمہ داریوں سے نبردآزما ہونے کیلئے تعلیم کو خیر باد کہہ دیتے ہیں جبکہ چند ایک ہی اپنی تعلیمی اور معاشی ذمہ داریوں کو اکٹھا ادا کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے یونیسکو کی جاری کردہ اِسی رپورٹ کے حوالے سے کچھ مزید اعداد و شمار بھی جاری کئے ہیں، جن کی تفصیل کچھ اس طرح ہےلک بھر میں 75 فیصد لڑکے اور لڑکیاں میٹرک یعنی10ویں کلاس سے بھی پہلے سکول کو سدا کیلئے خیرباد کہہ دیتے ہیں۔3 سے 5 سال کی عمر کے سندھ سے تعلق رکھنے والے 72 اور بلوچستان کے 78 فیصد طلبا سکول نہیں جاتےجبکہ دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت پاکستان کی تعلیمی کا رکردگی کا جا ئزہ بتاتا ہے کہ ہماری شرح خواندگی جنوبی ایشیا کی کم ترین شرح خواندگی میں شمار ہوتی ہے،افسوسناک پہلو یہ ہے کہ خطے کے آٹھ ممالک بنگلہ دیش،بھوٹان،بھارت،ایران،مالدیپ نیپال اورسری لنکا میں پاکستان نیپال کے بعد پسماندگی کی انتہائی آخری صف میں کھڑا ہے،جہاں خواندگی کی شرح74 فیصد ہے،جبکہ نیپال میں شرح خواندگی65 فیصد،سری لنکا میں94 فیصد،بھارت میں92 فیصد،مالدیپ میں96فیصد،بنگلہ دیش میں85 فیصد،بھوٹان میں88 فیصد اور ایران میں 93 فیصد ہے۔پاکستان میں حکومتیں تعلیم پر کتنا خرچ کرتی رہی ہیں اِس کا اندازہ یونیسکو کے جاری کردہ اعداد وشمار سے ہو سکتا ہے،جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے حکمران تعلیم کو کتنی ترجیح دیتے ہیں،



جبکہ اقوام متحدہ نے مجموعی قومی پیداوار کا کم سے کم4 فیصد تعلیم کیلئے مختص کرنے کا عالمی معیار مقرر کر رکھاہے لیکن پاکستان کی زبوں حال تعلیمی تصویر یہ دلخراش منظر پیش کرتی ہے کہ 13 برس قبل بھی اور آج بھی ہم اپنے مجموعی بجٹ کاصرف 2 فیصد تعلیم کو دیتے ہیں۔         آج ہمارا حال یہ ہے کہ UNO کے ایجوکیشن انڈکس میں پا کستا ن کا 173ممالک میں 166واں نمبر ہے اور ہمارے اسکولوں میں بچوں کی تعداد ہر سال کم سے کم ہو تی جا ر ہی ہے، ایک رپورٹ کے مطابق 100میں سے صر ف 25بچے اسکول جا تے ہیں اور اِن 25میں سے 6 بچے ہی ہا ئی اسکول کی سطح تک پہنچ پا تے ہیں،اِس وقت ہمارے اسکولوں میں اساتذہ کی شدید قلت ہے اور ہر 60 بچوں کیلئے صرف ایک استاد موجود ہے جوکہ دنیا کا کم ترین تناسب ہے،جبکہ ہمارے بہت سے اسکولوں کی حالت ایسی ہے کہ وہ ”اسکو ل“ کہلائے جانے کے قابل ہی نہیں ہیں،اُن میں پڑھائی نہ ہونے کے برابر ہے اور اکثر اسکول پانی و بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں،اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کروڑ 70 لاکھ بچے زیور تعلیم سے محروم ہیں،جبکہ 67 لاکھ پاکستانی بچے تو ایسے ہیں جو بنیادی ابتدائی تعلیم سے بھی نابلد ہیں، /پاکستان میں بچوں کی صورتحال پر عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں بچوں کی تعداد 11 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ یا ملک کی مجموعی آبادی کا 47 فیصد ہے


جس کے نتیجے میں بنیادی خدمات پر بھاری دباؤ ہے جبکہ موسمیاتی خطرات، علاقائی عدم مساوات اور محدود مالی وسائل نے مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ملک میں 5 سے 16 سال عمر کے تقریباً دو کروڑ 51 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔   اوریہ شرح نا خواندگی آگے بہت جلد ہی پاکستان کے مستقبل پر اثر انداز ہو گی جب تعلیم کا علم و تحقیق سے رشتہ ٹوٹ جاتا تو اس کا حال ایسے بیمار جسم جیسا ہوجاتا ہے جس پر مختلف جراثیم حملہ آور ہوجاتے ہیں۔ تحقیق اور علم سے تعلیم کا رشتہ ٹوٹنے کے بعد کسی نہ کسی طرح امتحانوں میں نمبر لینا، 8 یا 10 اے گریڈ لینا وغیرہ ہی لائق کہلانے کا واحد معیار رہ جاتا ہے۔ یہ ہے وہ صورتحال جس کا آج ہمیں سامنا ہے مگر ہماری ساری توجہ جڑ کے بجائے کہیں اور ہی ہے۔۔وزیر تعلیم کا مزید کہنا تھا کہ تعلیم بالغان کی مہم کا آغاز کیا گیا تھا لیکن اعلیٰ ثانوی تعلیم کے بعد سماجی کام بطور لازمی مضمون متعارف کروانے کی ضرورت ہے جس میں حصہ لینے والے بالغ طالبعلموں کو پڑھنے لکھنے کی بنیادی تربیت دی جائے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں قانونی تبدیلیوں اور صوبوں کی رضامندی شامل ہونا ضروری ہے۔اساتذہ، صحافیوں اور ڈاکٹروں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ پیسے کی دوڑ میں اس لیے شامل نہ ہوں کیوں کہ ان کے پیشے عظیم ہیں، محض دیوانے کا خواب ہے۔ امریکہ، یورپ، چین اور جاپان میں پیسہ پہلی قدر نہیں، وہاں کے استاد ہمارے جیسے ممالک سے کیوں زیادہ بہتر ہیں؟ وہاں تعلیمی معیار کیوں بہتر ہے؟ پیسے کے پہلی قدر بننے سے انکار نہیں مگر جس تعلیمی انحطاط کا ہمیں سامنا ہے اس کی بنیادی وجہ کچھ اور ہے۔ دیکھنے والی بات تو یہ ہے کہ کیا مسئلہ علم و ہنر سے تعلیم کے تعلق کا تو نہیں؟



ہفتہ، 18 جولائی، 2026

دنیا کا تعمیراتی عجوبہ "دیوار چین"

 

دیوار چین کیوں تعمیر کی گئی ؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنے کی جستجو میں ان گنت تحقیقات ہوئی ہیں اور سب میں متعدد باتیں مشترک بھی پائی گئیں ان میں ایک یہ ہے کہ یہ دیوار دفاعی دفاعی نقطہ نگاہ سے تعمیر ہونا شروع ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ دیوار چین کی تعمیر یسوع مسیح کی پیدائش سے تقریبا دوسو سال پہلے شروع ہوئی تھی، (اس بارے میں تاریخ میں مختلف ادوار کا ذکر ملتا ہے)۔ ان دنوں چین کے بڑے دشمنوں میں منگول تاتار تھے  یہ چور ڈاکو اور جنگجو قسم کے لوگ تھے اور آئے دن چین پر حملہ آور ہوتے رہتے تھے۔ انہی حملوں سے بچاؤ کے لئے ایک حفاظتی اور دفاعی دیوار پندرہ سو کلومیٹر  تعمیر کی گئی -یسوع مسیح کی پیدائش سے تقریباً دو سو سال پہلے چین کے بادشاہ چن شی ہوانگ نے اپنے ملک کو دشمنوں کے حملوں سے محفوظ کرنے کے لیے شمالی سرحد پر ایک دیوار بنانے کی خواہش کی۔ اس دیوار کی ابتدا چین اور منچوکو کی سرحد کے پاس سے کی گئی۔ اس زمانے میں ہن اور تاتار چین کے بڑے دشمن تھے، جو وسط ایشیاء میں کافی طاقتور سمجھے جاتے تھے۔ یہ دیوار خلیج لیاؤتنگ سے منگولیا اور تبت کے سرحدی علاقے تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً تیرہ ہزار ایک سو ستر میل ہے اور یہ مختلف علاقوں میں بیس سے لے کر تیس فٹ تک اونچی ہے۔ بنیاد کے قریب اس کی چوڑائی پچیس فٹ اور اوپر سے بارہ فٹ کے قریب ہے۔ ہر دو سو گز کے فاصلے پر حفاظتی پہریداروں کے لیے مضبوط پناہ گاہیں بنی ہوئی ہیں۔


 مہینوں کا سفر اب محض گھنٹوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، دنیا کے کونے میں کہیں بھی ایک معمولی واقعہ ہو جائے تو اس کی خبر دنیا کے ان کناروں تک پہنچ جاتی ہے جہاں تک انسان رہتا ہے۔ اور تو اور اب دنیا کے کسی بھی چھوٹے سے کمرہ میں مقید ہوں تو ہزاروں میل دور بیٹھے اپنے عزیزو اقارب کے ساتھ ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے براہ راست گفتگو کرسکتے ہیں، کوسوں دور ہونے کے باوجود غمی، خوشی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ سائنس ہی کی بدولت ممکن ہوا ہے جو انسان ہی کا کارنامہ ہے لیکن آج کا انسان یہ بھول جاتا ہے کہ جب سائنس نہیں تھی، بجلی نہیں تھی، مشینیں نہیں تھیں اور آمدو رفعت کے ذرائع نہیں تھے بلکہ جانوروں کے ساتھ سفر کیا جاتا تھا، اس زمانے میں انسانوں نے اپنے ہاتھوں سے ایسی ایسی عمارتیں، بت، دیواریں اور نہ جانے کیاکچھ تعمیر کر چھوڑا جس کی نقل آج کے سائنسی دور میں بھی ممکن نہیں ہے اور وہ سب دنیا کی عظیم تعمیراتی عجائبات میں شامل ہوئیں، ایسے انسانوں کےبارے میں کیا سوچا جا سکتا ہے؟۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عظیم انسان کون ہے ؟ اگر آج کا انسان عظیم ہے تو پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ زمانہ قدیم کا انسان عظیم تر تھا اور ہے۔ انسانی ہاتھوں کی یہ تعمیرات اور تاریخ چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ زمانہ قدیم کے انسانوں نے ناممکن کو ممکن میں بدل ڈالا تھا۔ آج کی جس سائنس پر فخر کیا جاتا ہے


کیا وہ سائنس آج تاج محل، اہرام مصر، زیوس کا مجسمہ، اسکندریہ کا روشن مینار وغیرہ تعمیر کرسکتی ہے؟ تعمیر تو دور کی بات رہی، آج کی سائنس ان کی نقل کرنے میں بھی ناکام رہے گی۔   لیکن حقیقی عجائبات وہی ہیں جو ہزاروں سال قبل انسانی ہاتھوں سےتعمیر ہوئی تھیں۔ زمانہ قدیم کے انسانوں کے ہاتھوں تعمیراتی عجوبوں میں عظیم ایک دیوار چین The greatwall of China بھی ہے۔ اس کے متعلق ہو شربا قسم کے قصے، افسانے اور کہانیاں اقوام عالم کی زبانوں میں لکھے موجود ہیں، دیوار چین کی عظمت کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس بارے میں عالمی سطح پر یہ یقین کر لیا گیا تھاکہ اس کو چاند کی سطح سے بھی ایک لکیر کی مانند دیکھا گیا ہے،حالانکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جو لوگ چین جا کر دیوار چین دیکھنے کی سکت نہیں رکھتے وہ گوگل کے ذریعے دیوارچین کو دیکھ کر حیرت کے سمندر میں ڈوبکی لگا سکتے ہیں ،سانپ کی مانند بل کھاتی   چین کی یہ قدیم اور عظیم دیوار چین آج دنیا کے لئے سب سے بڑا نظارے کی حیثیت رکھتی ہے۔


یہ عظیم دیوار چین کے شمال میں واقع ہے جو حقیقت میں ایک قلعہ نما دیوار ہے جو پہاڑوں ، میدانوں ، سبزہ زاروں اور صحرائے گوپی سے بل کھاتی ہوئی گزرتی ہے۔ یہ صدیوں میں بننے والی مختلف دفاعی دیواروں کا مجموعہ ہے جس کی تعمیر کی ابتداء کئی سو سال پہلی قبل از مسیح (ق م) ہوئی تھی اور تکمیل 1644عیسوی میں ہوئی تھی ۔ تاریخ کے مطابق چین کے پندرہ سے زائد شاہی خاندانوں کے سینکڑوں برس کے ادوار میں بھی عظیم دیوار چین کی تعمیر ہوتی رہی تھی ۔ تاریخ دانوں نے اس کی تعمیر کی مدت1700 سے2000 سال بتائی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ چین کے 15 صوبوں میں سے ہو کر گزرتی ہے ۔ یونیسکو نے 1987 میں اس کو عالمی ورثہ قرار دیا تھا ۔  

جمعہ، 17 جولائی، 2026

سبیل حسین ع (پیاسوں کی داستاں سناتا ہوا پانی)

  

 اسلامی معاشروں میں پانی پلانا نہایت بڑی نیکی سمجھا جاتا تھا۔ اسی بنا پر بہت سے مسلمان صدقۂ جاریہ کے طور پر سبیل قائم کرتے تھے۔ اس کی بنیاد اس مشہور حدیث پر بھی رکھی جاتی ہے جس میں حضرت سعد بن عبادہ نے نبی کریم سے پوچھا کہ ان کی والدہ کے انتقال کے بعد ان کی طرف سے کون سی صدقہ افضل ہے، تو جواب میں فرمایا گیا: “پانی پلانا”۔   چنانچہ سعد بن عبادہ نے مدینہ میں ایک سبیل قائم کی جسے سقایۃ سعد کہا جاتا تھا۔ابتدا میں سبیلیں اکثر مساجد، مدارس یا خانقاہوں کے ساتھ تعمیر کی جاتی تھیں، مگر بعد کے زمانوں میں یہ آزاد عمارتوں کی شکل میں بھی بننے لگیں۔ بعض مقامات پر سبیل کے ساتھ قرآن کی تعلیم کے لیے مکتب یا کمرہ بھی بنایا جاتا تھا۔ سبیل (جمع: اسبلہ، سُبُل)ادراصل ایک ایسا وقفی انتظام ہوتا تھا جس کے ذریعے مسافروں اور راہ گیروں کو مفت پانی پلایا جاتا تھا تاکہ اس عمل سے ثواب حاصل کیا جائے۔سبیل کا مفہوملغت میں اسبلہ، لفظ سبیل کی جمع ہے۔ اصطلاح میں اس سے مراد ایسا عوامی مقام ہے جہاں پانی اس نیت سے فراہم کیا جائے کہ مسافر اور راہ گیر وہاں سے پانی پی سکیں۔ یہ عمل اسلامی معاشرے میں صدقہ اور خیرات کی ایک اہم صورت سمجھا جاتا تھا۔قرونِ وسطیٰ میں سبیلیںقرونِ وسطیٰ کے اسلامی شہروں میں سبیلوں کی تعمیر ایک عام روایت تھی۔ 


اگرچہ پانی کے چشمے یا فوارے قدیم زمانوں سے مختلف تہذیبوں میں موجود تھے، لیکن مسلمانوں نے انھیں وقف اور رفاہی خدمت کی صورت میں خاص اہمیت دی۔ امرا، سلاطین اور صاحبِ ثروت لوگ آپس میں نیکی کے جذبے سے سبیلیں بنانے میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اسی وجہ سے اسلامی شہروں کی گلیوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر سبیلیں قائم کی جاتی تھیں تاکہ عام لوگوں کو پینے کا پانی آسانی سے دستیاب ہو سکے۔ان تعمیرات کی سماجی اہمیت بھی بہت زیادہ تھی۔ سبیلیں صرف مسافروں ہی کے لیے نہیں بلکہ شہر کے عام باشندوں کے لیے بھی مفید ہوتی تھیں۔ بہت سی سبیلوں کے ساتھ مسافروں کے قیام کے لیے چھوٹے مکانات بھی تعمیر کیے جاتے تھے۔مصر اور دیگر علاقوں میں سبیلیں-مصر میں سبیلوں کی باقاعدہ تعمیر مملوک دور میں زیادہ نمایاں ہوئی اور اس کا آغاز تقریباً چھٹی صدی ہجری / بارہویں صدی عیسوی سے ہوا۔ ان میں سے زیادہ تر سبیلیں سلاطین، امرا اور ان کی خواتین کی طرف سے بنوائی جاتی تھیں۔ بعض لوگ انھیں اپنے گناہوں کے کفارے یا صدقۂ جاریہ کے طور پر تعمیر کرواتے تھے، جبکہ بعض انھیں اپنے مرحوم رشتہ داروں کے نام پر بنواتے تھے۔


۔ پورے برصغیر پاک و ہند میں ماہِ محرم الحرام کی آمد پر 'سبیلوں' (پانی اور دودھ کی سبیل) کا اہتمام ایک انتہائی نمایاں اور تاریخی روایت ہے۔ یہ سلسلہ حضرت امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کی عظیم قربانی کی یاد تازہ کرنے اور پیاسوں کو پانی پلانے کی نیت سے کیا جاتا ہے۔اس خوبصورت اور تاریخی روایت کے چند اہم پہلو یہ ہیں:مقصد اور جذبہ: نواسۂ رسولؐ اور شہدائے کربلا کی پیاس کی یاد میں عزاداروں اور راہگیروں کو ٹھنڈا پانی، دودھ، شربت اور سبیلِ حسینی پیش کی جاتی ہے۔مقام اور وسعت: یہ سبیلیں گلی محلوں، مرکزی شاہراہوں، امام بارگاہوں کے باہر اور جلوسوں کے راستوں پر انتہائی عقیدت کے ساتھ لگائی جاتی ہیں۔مذہبی ہم آہنگی: برصغیر میں یہ روایت صرف ایک خاص مکتبہ فکر تک محدود نہیں ہے، بلکہ مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر کے لوگ گرمی کی شدت میں اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔اکثر سبیلوں کے نیچے ایک بڑا پانی کا ذخیرہ (صہریج) بنایا جاتا تھا جس میں پانی محفوظ رکھا جاتا تھا۔ وہاں سے پانی نکال کر پینے کے لیے فراہم کیا جاتا تھا۔ 


ان سبیلوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ ہر مذہب اور قوم کے لوگ مسلمان، عیسائی، یہودی اور غیر ملکی مسافر—بلا امتیاز وہاں سے پانی پی سکتے تھے۔ اسی وجہ سے یہ ادارے اسلامی معاشروں میں انسانی خدمت اور رفاہ عامہ کی علامت سمجھے جاتے تھےبین المذاہب ہم آہنگی کی سبیلیں (گلگت بلتستان و نگر): گلگت اور وادیِ نگر جیسے علاقوں میں محرم کے دوران مقامی مسیحی برادری اور دیگر مذاہب کے لوگ عزاداروں کے لیے پانی اور چائے کی خصوصی سبیلیں لگاتے ہیں، جو مذہبی رواداری کی ایک بہترین مثال ہیں۔روہڑی اور سکھر کی تاریخی سبیلیں: سندھ کے شہر روہڑی میں نویں محرم کے تاریخی "نوڈھال جلوس" (Karbala Processions) کے موقع پر صدیوں پرانی روایتی سبیلیں قائم ہوتی ہیں جہاں زائرین کی خدمت کی جاتی ہے۔پاکستان میں محرم الحرام کے دوران لگائی جانے والی سبیلیں عقیدت، سخاوت اور لنگر حسینی کی تقسیم کا ایک عظیم الشان مظہر ہیں۔ ملک کے بڑے شہروں خصوصاً کراچی اور لاہور میں ایسی تاریخی اور وسیع سبیلیں لگائی جاتی ہیں جنہیں دنیا بھر میں ان کے حجم اور انفرادیت کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔پاکستان کی چند سب سے مشہور اور منفرد سبیلیں درج ذیل ہیں:1۔ کراچی کی سبیلیں (پاکستان کی سب سے بڑی سبیلیں)انچولی اور نمائش چورنگی کی سبیلیں: نمائش چورنگی (ایم اے جناح روڈ) اور انچولی سوسائٹی کراچی میں مرکزی جلوسوں کے راستے پر واقع ہیں۔ یہاں ملک کی سب سے بڑی سبیلیں قائم کی جاتی ہیں جہاں لاکھوں عزاداروں اور شہریوں کو ٹھنڈا دودھ، بادام و پستہ کا شربت، اور لنگر تقسیم کیا جاتا ہے۔کھارادر اور کھوڑی گارڈن کی سبیلیں: کراچی کے قدیم علاقوں میں کئی دہائیوں پرانی روایتی سبیلیں سجائی جاتی ہیں، جہاں شیرمال اور تافتان بھی خصوصی طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔2۔ لاہور کی تاریخی سبیلیںدربارِ بی بی پاک دامن کی سبیلیں: لاہور میں مزار بی بی پاک دامن کے ارد گرد محرم کے پہلے دس دن انتہائی بڑے پیمانے پر لنگر اور دودھ کی سبیلوں کا انتظام ہوتا ہے جہاں ہر مکتبہ فکر کے لوگ آتے ہیں۔شادمان کی عظیم الشان سبیل: لاہور کے علاقے شادمان میں محرم الحرام کے دوران ایک بہت بڑی سبیل اور لنگرِ حسینی کا اہتمام کیا جاتا ہے جو اپنے وسیع انتظامات کے لیے مشہور ہے


مکمل مضمون گوگل کا مرہون منت ہے

بدھ، 15 جولائی، 2026

ولی دکنی 'حیدر آبد دکن کے ابتدائ شاعر


 

ولی دکنی  کا شمار  حیدر آبا د کی مردم خیز سر زمین  پر اردو کے ابتدائی شاعروں میں ہوتا ہے۔اگر چہ ان سے پہلے بھی اردو شاعری  میں امیر خسرو دست یاب ہیں لیکن کلام کی خوب صورتی اور دل کشی کے حوالے سے   ولی کواردو کے ابتدائی شعرا میں خاص مقام و مرتبہ حاصل ہے۔انہوں نے اردو میں فارسی تراکیب کو رواج دیا بلکہ اردو غزل کو ایسا رنگ دنے کی سعی کی جو بالاخر اردو غزل کا طرہ امتیاز قرار پایا ۔اگر چہ ان سے پہلے بھی اردو شاعری کے نمونے دست یاب ہیں لیکن کلام کی خوب صورتی اور دل کشی کے حوالے ولی کواردو کے ابتدائی شعرا میں خاص مقام و مرتبہ حاصل ہے۔انہوں نے اردو میں فارسی تراکیب کو رواج دیا  ۔ ولی دکنی کے وطن  کی نسبت متضاد آرا ملتی ہیں۔گجرات والے انہیں بھارت کی ریاست گجرات سے بتاتے ہیں جب کہ حیدرآباد کے تحقیق کار ان کی پیدائش کا سلسلہ دکن سے جوڑتے ہیں۔تا ہم بعض مشہور روایات کے مطابق وہ عبداللہ قطب شاہ کے دور میں 1667کو اورنگ آباد پیدا ہوئے۔اگر چہ ولی دکنی کی عمر کا زیادہ تر حصہ احمد آباد بسر ہوا مگر انہوں نے دہلی کا سفر بھی کیا۔دہلی کے سفر سے پہلے ان کی شاعری کا رنگ ڈھنگ کچھ اور تھا۔وہاں ان کی ملاقات سعد اللہ گلشن   جیسے صوفی سے ہوئی۔سعد اللہ گلشن ان کے کلام سے بے حد متاثر ہوئے۔


انہوں نے ولی کو مشورہ دیا کہ پرانے فارسی کے مضامین کو ریختہ میں لانا چاہیے۔یوں ولی دکنی نے ریختہ گوئی کی ابتدا کی۔ان کی شاعری سے غزل کے نئے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ولی دکنی سے پہلے کے شعرا کہ جن میں قلی قطب شاہ اور امیر خسرو اگر چہ قابل ذکر ہیں ۔مگر ان کی زباں اور ولی کی زبان میں کافی فرق پایا جاتا ہےولی دکنی (اصل نام ولی محمد) اردو کے 'بابائے غزل' ہیں۔ ان کی پیدائش ۱۶۶۷ء میں اورنگ آباد اور وفات ۱۷۰۷ء میں ہوئی- ولی کی شاعری کا دائرہ گجرات، اورنگ آباد اور دہلی تک پھیلا ہوا تھا。 دہلی کے مشہور بزرگ صوفی 'شاہ سعد اللہ گلشن' سے ملاقات کے بعد انہوں نے فارسی مضامین کو اردو (ریختہ) میں ڈھالنا شروع کیا جس سے اردو غزل کو باقاعدہ عروج ملا۔  ولی کے اشعار سے دکنی ہونا ثابت ہے۔ بچپن کی تعلیم اپنے آبائ شہر میں حاصل کرنے   کے بعد حصول علم کے لیے احمد آباد آگئے۔ جو اس زمانے میں علم و فن کا مرکز تھا۔ وہاں حضرت شاہ وجیہ الدین کی خانقاہ کے مدرسے میں داخل ہو گئے۔ لیکن   ولی کی عمر کا بیشتر حصہ احمد آباد میں گذرا۔ اس شہر کے فراق میں انھوں نے ایک پردرد قطعہ بھی لکھا۔ 


 ولی نے گجرات، سورت اور دہلی کا سفر بھی کیا۔ اس کے متعلق اشارے ان کے کلام میں موجود ہیں۔دہلی میں ولی کی سعد اللہ گلشن سے ملاقات ہوئی۔ تو وہ ان کا کلام دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور مشورہ دیا کہ ان تمام مضامین کو جو فارسی میں بیکار پڑے ہیں۔ ریختہ کی زبان میں کام میں لانا چاہیے، تاہم یہ بات متنازع ہے  قائم چاند پوری نے اپنے تذکرے نکاتِ سخن میں لکھا ہے کہ ولی نے سعد کے مشورے پر عمل کیا اور دوسری مرتبہ دہلی گئے تو ان کے کلام کی خوب قدر ہوئی اور یہاں تک شہرت ہوئی کی امراءکی محفلوں میں اور جلسوں اور کوچہ و بازار میں ولی کے اشعار لوگوں کی زبان پر تھے۔ ولی دکنی کو محمد حسین آزاد نے اردو شاعری میں وہی مقام دیا ہے جو انگریزی شاعری میں چاسر اور فارسی شاعری میں رودکی کو حاصل ہےولی کی زباں کافی حد تک دور حاضر کی لسانی ساخت سے ملتی جلتی ہے۔دکن میں ولی سے قبل اردو غزل اس لیے بھی روایت نہ بنا سکی کہ دکن کی ریاستوں پر فارسی کا اثر تھا۔یہی وجہ ہے کہ دکن میں غزل کے ابتدائی ایام میں خارجیت کا رنگ غالب نظر آتا ہے۔انہوں نے اردو کو زبان اور بیان کے نئے سانچوں سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ولی دکنی کی غزل میں وہ تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں جو آنے والے ادوار میں غزل کی خاص پہچان بنیں۔



ولی نے ہندی ۔فارسی اور علاقائی زبانوں کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے اظہار کی نئی راہ نکالی۔ان کے کلام میں مختکف زبانوں کے ایسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو باہم ربط رکھتے ہیں اور ان کے کلام میں بے میل محسوس نہیں ہوتے۔انہوں نے ہندوستانی زبانوں کے ایسے الفاط برتے ہہیں جو عام فہم ہیں اور قاری کو تفہیم میں دقت محسوس نہیں ہوتی ۔یہی وجہ ہے کی صدیاں گزرنے کا باوجود ان کا کلام عام فہم ہے اور ان کے زیادہ تر الفاظ ہماری روز مرہ بول چال کے محسوس ہوتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ولی دکنی اردو زبان اور غزل کا ایسے  معمار تھے جس نے  زبان و ادب  کی ترویج  کے لئے  ایک عالی شان عمارت کی داغ بیل ڈالی۔ 

خوب رو خوب کام کرتے ہیں

یک نگہ میں غلام کرتے ہیں 

وو صنم جب سوں بسا دیدۂ حیران میں آ

آتش عشق پڑی عقل کے سامان میں آ

ناز دیتا نہیں گر رخصت گل گشت چمن

اے چمن‌‌ زار حیا دل کے گلستان میں آ

عیش ہے عیش کہ اس مہ کا خیال روشن

شمع روشن کیا مجھ دل کے شبستاں میں آ

یاد آتا ہے مجھے وو دو گل باغ   وفا

اشک کرتے ہیں مکاں گوشۂ دامان میں آ

موج بے تابیٔ دل اشک میں ہوئی جلوہ نما

جب بسی زلف صنم طبع پریشان میں آ

نالہ و آہ کی تفصیل نہ پوچھو مجھ سوں

دفتر درد بسا عشق کے دیوان میں آ

پنجۂ عشق نے بیتاب کیا جب سوں مجھے

چاک دل تب سوں بسا چاک گریبان میں آ

دیکھ اے اہل نظر سبزۂ خط میں لب لعل

رنگ یاقوت چھپا ہے خط ریحاں میں آ

حسن تھا پردۂ تجرید میں سب سوں آزاد

طالب عشق ہوا صورت انسان میں آ

شیخ یہاں بات تری پیش نہ جاوے ہرگز

عقل کوں چھوڑ کے مت مجلس رندان میں آ

درد منداں کو بجز درد نہیں صید مراد

اے شہ ملک جنوں غم کے بیابان میں آ

حاکم وقت ہے تجھ گھر میں رقیب بد خو

دیو مختار ہوا ملک سلیمان میں آ

چشمۂ آب بقا جگ میں کیا ہے حاصل

یوسف حسن ترے چاہ زنخدان میں آ

جگ کے خوباں کا نمک ہو کے نمک پروردہ

چھپ رہا آ کے ترے لب کے نمک دان میں آ

بس کہ مجھ حال سوں ہمسر ہے پریشانی میں

ظلم کو چھوڑ سجن شیوۂ احسان میں آ

یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا

ولی دکنی


بدھ، 8 جولائی، 2026

ہندوستان (امروہہ) میں سادات کی آمد

 

  امروہہ صوبہ اترپردیش کے مغرب میں واقع ہے جس کی کل آبادی: 200000 ہے اورمسلم آبادی 60  فیصد  اور  اسی میں شیعہ آبادی  کا تناسب  پندرہ فیصد بتایا جاتا  ہے  ۔ امروہہ کے نقوی سادات کےمورث اعلیٰ حضرت شرف الدین شاہ ولایت نقوی ہیں جن کا سلسلہ نسب امام علی نقی علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔سادات کا یہ قافلہ منگولوں کی ایران پر فوج کشی کے باعث ایران سے ہجرت کر کے امروہہ میں وارد ہوا سادات امروہہ کا شجرہ دو فٹ چوڑا اور 276 فٹ اور 6 انچ (92 گز اور 6 انچ) لمبا ہے، یہ شجرہ باریک جھلّی(پوست) پر مکمل طور پر خوبصورت و دیدہ زیب ہے ڈیزائن سے اول تا آخر مزین ہے اس شجرہ کی ابتداء حضرت آدمؑ اور رسولوں اور مشہور پیغمبروں سے ہوتے ہوئے مشہور صفی بزرگ حضرت سید شاہ شرف الدین واسطی جو شاہ ولایت کے نام سے معروف ہیں آٹھ سو سال پہلے قریہ امروہہ (یو۔پی) میں تشریف لائے اور وہیں کے ہوکر رہ گئےانکی اولادں کا سلسلہ جو آٹھ سو سالوں پر محیط ہے ، اولادوں میں سنی شیعہ دونوں ہیں اس شجرہ میں بلا تفریق ، عابدی، نقوی، تقوی، زیدی، کاظمی ، رضوی ، نقشبندی، اور چشتیہ وغیرہ ہیں۔سادات امروہہ (دوسرا حصہ) دو فٹ چوڑا اور 436 فٹ 8انچ (145 گز، 8،انچ)لمبا نقاشی وغیرہ سے مزیّن باریک جھلّی(پوست) پر ہے۔یہاں کے لوگ ہمیشہ دیندار رہے ہیں ان کی دینداری کی علامت 20/مساجد اور 72/ حسینیہ و کربلا ہیں۔ یہ لوگ ہمیشہ تعلیم یافتہ رہے ہیں اور درسگاہوں کو بھی بنایا


  دوسرے حصے میں شاہ ولایت رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد وقاضی سید امیر علی کی اولاد تاج الدین سید شرف الدین جہانگیر قاضی محمود سالار کی اولادوں کا سلسلہ نسب ہے ۔  اس شجرہ میں حضرت امام حسینؑ کی اولاد امام زین العابدین ، عبد اللہ الباھر، حضرت امام محمد باقرؑ، علی، عبداللہ، عمر الاشرف، علی الاصغر وغیرہ کا نسب نامہ ہے-امروہہ از لحاظ جغرافیائی : شہر امروہہ ہندوستان کی راجدھانی دہلی سے صرف 130 کیلومیٹر پر واقع ہے دہلی سے نزدیک ہونے کی وجہ سے، امروہہ کا موسم دہلی کی طرح ہے۔ یہ شہر علاقوں اور محلوں میں تقسیم کیا گیا ہے امروہہ ایک مسلم اکثریتی آبادی ہے۔امروہہ کے علمی، فرہنگی اور مذہبی مراکز: بیسویں صدی کی ابتدا میں سادات نے ترقی کی کو شش شروع کی اور چند روشن خیال ہستیوں نے قومی ادارے قائم کیے۔ حاجی سیدمقبول احمد نے بامداد دیگراں خاندان 1902ء میں امام المدارس کی ابتدا کی اس مدرسہ کے لیے حاجی سید مقبول احمد اور سید محمد باقر نے موضع "سربراہ " اور "قائم پور" وقف کیے اور مولوی سید مجتبے ٰ حسن عرف چاند کی کوششوں سے ہائی اسکول ہوا۔ جو اب انٹر میڈیٹ کالج ہے مولاناسید نجم الحسن کی تحریک پر نور المدارس قائم ہوا اور مولوی سید اعجاز حسن جن کو گزیٹر مراد آبا د 1911ء میں قائد سادات امروہہ لکھا گیاہے سید المدارس کے بانی ہوئے۔ ان تمام مدارس سے تعلیم کا بہت چرچاہوا خصوصاً امام المدارس سے انگریزی تعلیمی ترقی میں بہت مدد ملی۔امروہہ میں 72 عزاخانے (چھوٹے - بڑے)پائے جاتے ہیں  ۔

 

امروہہ کے سادات کو برصغیر میں علم، تقویٰ، اور شاعری کے حوالے سے ایک خاص مقام حاصل ہے۔ امروہہ میں آباد خاندان: امروہہ میں مختلف خاندان پائے جاتے ہیں جن میں نقوی، عابدی، تقوی اور زیدی کے نام لئے جاسکتے ہیں نیز غیر سادات خاندان بھی یہاں آباد ہیں۔امروہہ کی شخصیات :امروہہ شہر جسکو علم و ادب کا گہوارہ کہا جاتا ہے اس سرزمین پر ایک سے ایک بڑی شخصیات نے آنکھیں کھولیں ہیں مولانا سید قائم رضا نسیمؔ آپ کو اردو میں جدید مرثیہ کا بانی کہا جاتا ہے موصوف نے 300 کے قریب مرثئے کہے جو لاجواب ہیں ، سادات امروہہ کی اہم میراث-امروہہ ضلع امروہہ کی تاریخ پر طائرانہ نظر: پہلے شخص جو سرزمین امروہہ پر وارد ہو ئے وہ سید شاہ نصیر الد ین اور عابد ی خاندان کے مو رث تھے۔ ان کی حیات ہی میں چو دھویں صدی عیسوی اور ساتویں صدی ہجر ی کے آغا ز میں سید حسین شر ف الد ین شا ہ ولا یت مور ث اعلیٰ خاندان  سرزمین امروہہ پر وارد ہو ئے۔ ان حضر ات کا تعلق اس زمر ہ صوفیا ئے کرام سے تھا جو ممالک اسلامیہ خصو صاًایران پر مسلسل منگولو ں کے حملو ں کی وجہ سے واردہند ستان ہو ئے اور جن کی سعی و کوشش کی بدولت ہند و ستان کی سر زمین پراسلا م پھیلا اور اس طر ح منگولوں کا یہ فتنہ، اسلا م کے لیے مفید ثا بت ہوا۔



                            امروہہ میں سادات کی آمد اور قیام عزاداری   دوسری یہ کہ ہندووں کی تگا اور راجپوت قو میں برابر سر کشی اور بغاوت پر آمادہ رہتی تھیں یہ تھے علاقہ روہیلکھنڈ کے حالات جس کو اس وقت کٹھہر کہتے تھے جب سید شر ف الد ین شاہ ولا یت۔ ان کے اعزااور اسلا ف نے امر وہہ کو اپنا مر کز بنا کر تبلیغ اسلام اور استحکام حکو مت کی ذمہ داری سنبھا لی تبلیغ اس و سیع پیما نہ پر کی کہ آ پ شاہ ولا یت کہلائے اور حسب مقا صد العارفین وثمر ات القدوس آ پ کی ولا یت”ازگنگ تاسنگ“تھی۔ یعنی دریائے گنگ سے لے کر ہمالیہ پہاڑ تک جس میں وہ سب علاقہ شامل ہے جس کو روہیلکھنڈ کہتے ہیں۔ شاہ صاحب اور ان کے اسلاف کی تبلیغ کی بدولت اس شہر میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب ہندوستان کے دیگر علاقوں میں سب سے زیادہ ہے اور امروہہ کے حلقہ میں آج بھی تمام ہندوستان میں سب سے زیادہ مسلم ووٹوں کا تناسب ہے۔ اسی دور میں تبلیغ دین کے ساتھ ہما رے بزر گو ں نے ملک کی خدمت بھی انجام دی۔ انھوں نے اپنی بہادری اور شجا عت سے تما م سر کش گر وہوں کے سر کر کے امن وامان قائم کیا ان اسلامی خد ما ت کی بنا ء پر حسب گزیٹر ضلع مر اد آباد 1911ء شہنشاہ اکبر کے زمانہ سے بہت پہلے سادات امر وہہ کا شمار ہندو ستان کے ممتازتر ین خاندانوں میں تھا اور وہ ایک اعلیٰ شہر ت کے ما لک بن چکے تھے۔ معاشرتی اعتبار سے اس دور میں سادات کی زندگی بہت سادہ تھی اور ان کے  آمکا نا ت معمولی تھے۔ ان کا سامان خانہ داری چند ضروری اشیائے زندگی پر منحصرتھا۔ ان کا طعام دور مغلیہ کی لذّتوں سے  آشنا نا تھا۔ ان کی زبان عر بی اور فا رسی دونوں تھیں

تحریر کے لئے گوگل سے استفادہ کیا ہے

 

ایک مایہ ء ناز خاتون رہنما 'عقیلہ ناز

   

 


   پاکستان میں مزارعین کی خستہ حالی ایک دیرینہ اور پیچیدہ مسئلہ ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں غیر منصفانہ جاگیردارانہ نظام، زمین کے مالکانہ حقوق کا فقدان اور جدید زرعی بحران شامل ہیں۔ ان محنت کشوں کو بنیادی حقوق، تعلیم، اور صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔. مالکانہ حقوق کا فقدان-پاکستان میں بالخصوص صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ میں لاکھوں مزارعین نسلوں سے زمینوں پر کاشتکاری کر رہے ہیں، مگر انہیں زمین کی ملکیت سے محروم رکھا جاتا ہے۔ اس کی بڑی مثال اوکاڑہ اور پاک پتن کے اور پنجاب سیڈ کارپوریشن کے علاقے ہیں جہاں مزارعین کو مالکانہ حقوق دینے کی بجائے اکثر  با اثر لوگوں کی جانب سے بے دخلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے ایک ا نقلابی خاتون نے ان غریبوں کے لئے آواز اٹھائ  وہ آواز تھی عقیلہ ناز کی        لیکن یہ آواز بڑی جلدی خاموش ہو گئ - (اے ایم پی) کی ممتاز رہنما، کسان خواتین کی توانا آواز اور بے زمین مزارعین کے حقوق کی جدوجہد کی نمایاں علامت عقیلہ ناز کینسر کے مرض میں مبتلا رہنے کے بعد بدھ کے روز ملتان میں انتقال کر گئیں۔ ان کی عمر 50 سال تھی۔ان کی وفات سے کسانوں کی تحریک، انسانی حقوق کی تنظیموں، خواتین کے حقوق کے کارکنوں اور ترقی پسند حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔


ان کے ساتھی انہیں ایک ایسی نڈر اور بااصول رہنما کے طور پر یاد کر رہے ہیں جنہوں نے اوکاڑہ اور خانیوال کے فوجی فارموں کے مزارعین کی حقِ ملکیت کی تحریک میں صف اول کا کردار ادا کیا اور شدید ریاستی دباؤ، مقدمات، گرفتاریوں اور دھمکیوں کے باوجود کبھی اپنے مؤقف سے دستبردار نہیں ہوئیں۔عقیلہ ناز گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک پاکستان میں بے زمین کسانوں کی تحریک کا نمایاں چہرہ رہیں۔ ان کی جرات، استقامت اور قیادت نے ہزاروں دیہی خواتین کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے، منظم ہونے اور تحریک کا حصہ بننے کا حوصلہ دیا۔ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی ان کسان خاندانوں کے لیے وقف کر دی جن کے آباؤ اجداد نسلوں سے زمینیں کاشت کرتے آئے، لیکن انہیں کبھی ان زمینوں کی قانونی ملکیت نہیں ملی۔عقیلہ ناز کا تعلق پنجاب کے ضلع خانیوال کے ایک کسان خاندان سے تھا۔ انہوں نے ہائی اسکول تک تعلیم حاصل کی، مگر مالی مشکلات کے باعث مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکیں۔ تاہم، وہ خود کہا کرتی تھیں کہ انجمن مزارعین پنجاب نے انہیں عملی زندگی کا وہ شعور، تجربہ اور اعتماد دیا جو کسی اعلیٰ تعلیمی ڈگری سے کم نہیں تھا۔ان کی جدوجہد کی بنیاد ان کے خاندانی پس منظر میں بھی موجود تھی۔ ان کے والد سیموئل رحمت کسانوں کے حقوق کے سرگرم حامی تھے۔ ان کے آباؤ اجداد نے برطانوی دور میں پنجاب کے نہری علاقوں کی آبادکاری کے دوران زمینیں آباد کیں، لیکن دوسرے ہزاروں کسان خاندانوں کی طرح انہیں بھی ان زمینوں کی ملکیت حاصل نہ ہو سکی۔ یہی احساس محرومی بعد میں عقیلہ ناز کی زندگی کا مقصد بن گیا۔


انجمن مزارعین پنجاب کی تحریک کا آغاز 1988 میں ہوا، جب پنجاب کے مختلف اضلاع میں سرکاری اور فوجی فارموں کی زمینیں نسلوں سے کاشت کرنے والے مزارعین نے متعلقہ اداروں کے دعووں کو چیلنج کیا۔ کسانوں کا مؤقف تھا کہ سرکاری ریونیو ریکارڈ کے مطابق یہ ادارے زمینوں کے قانونی مالک نہیں ہیں، اس لیے نسلوں سے کاشتکاری کرنے والے خاندانوں کو ملکیتی حقوق دیے جائیں۔1990 کی دہائی میں یہ تحریک تیزی سے پھیلی اور پنجاب کے تقریباً دس اضلاع میں لاکھوں کسان اس میں شامل ہوگئے۔ تحریک کا نعرہ ‘مالکی یا موت’ پورے خطے میں مزاحمت کی علامت بن گیا۔عقیلہ ناز نے مئی 2000 میں، انجمن مزارعین پنجاب میں شمولیت اختیار کی۔ اس وقت شاید انہیں بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ تحریک ان کی پوری زندگی کا محور بن جائے گی۔ چند ہی برسوں میں وہ ایک سرگرم کارکن سے کسان خواتین کی صف اول کی رہنما بن گئیں اور خواتین کو تحریک کا مضبوط ستون بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔اوکاڑہ اور خانیوال کے فوجی فارموں کے مزارعین کی تحریک پاکستان کی اہم عوامی تحریکوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس تحریک کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ جن کسان خاندانوں نے چار نسلوں سے ان زمینوں کو آباد رکھا ہے، انہیں بے دخل کرنے کے بجائے ان زمینوں کی قانونی ملکیت دی جائے۔ اس مقصد کے لیے کسانوں نے طویل احتجاج، جلسے، ریلیاں اور لانگ مارچ کیے۔  


 انہیں پولیس، رینجرز اور دیگر ریاستی اداروں کی کارروائیوں، گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ان کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں کسان خواتین تحریک کے ہر مرحلے میں نمایاں کردار ادا کرنے لگیں۔ وہ جلسوں، احتجاجی مظاہروں، مذاکرات اور تنظیم سازی میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں اور ہر قسم کی دھمکیوں اور دباؤ کے باوجود پیچھے نہیں ہٹیں۔تحریک کے دوران عقیلہ ناز کو جھوٹے مقدمات، رینجرز اور پولیس کی کارروائیوں، بااثر زمینداروں کی مخالفت اور بعض مذہبی حلقوں کی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ مشکل ترین حالات میں بھی کارکنوں کا حوصلہ بلند رکھتیں اور ہمیشہ پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی تھیں۔انہوں نے انجمن مزارعین پنجاب کے بانی رہنماؤں، خصوصاً ڈاکٹر کرسٹوفر جان، کے ساتھ مل کر کسانوں کی تنظیم سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ 2008 سے 2011 تک تنظیم کی فنانس سیکریٹری رہیں، بعد ازاں ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن منتخب ہوئیں اور پھر جنرل سیکریٹری کے عہدے پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ ایک بہترین مقرر، مؤثر لکھاری اور کامیاب تنظیم ساز کے طور پر بھی جانی جاتی تھیں۔عقیلہ ناز کی خدمات کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انہیں 2010 میں بنگلہ دیش میں جنوبی ایشیا کے ابھرتے ہوئے سماجی کارکنوں کے لیے قائم ’میٹو میموریل ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز معروف سماجی کارکن کملا بھاسین نے اپنی مرحوم بیٹی Meetoکی یاد میں قائم کیا تھا۔ یہ ایوارڈ انہیں کسان خواتین کے حقوق، دیہی تنظیم سازی اور سماجی انصاف کے لیے ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔انہوں نے بعد میں ’پیزنٹ ویمن سوسائٹی‘ کے نام سے ایک الگ پلیٹ فارم قائم کیا تاکہ دیہی خواتین کے مسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے وہ خواتین کی زمین پر ملکیت، میاں بیوی کی مشترکہ ملکیت کے حق، زرعی خواتین مزدوروں کی اجرت وغیرہ وغیرہ



ہفتہ، 4 جولائی، 2026

بھوک کا درد بڑا ظالم ہوتا ہے

 

یہ کینیا میں اپنا غربت بھرا بچپن گزارنے والی ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جس نے  اپنی غربت سے لڑنے کا فیصلہ کیا -یہ لڑکی جیبوتی تھی اس نے  ایک پختہ عزم کیا کہ وہ اپنی محنت اور حوصلے سے صرف اپنی  نہیں بلکہ پورے گائوں کے لوگوں کی زندگی کو بہتر بنائے گی۔کچھ عرصے  کی سخت  جدوجہد  کے بعدقسمت  نے اس پر  مہربانی کی  اور اس کو آگسٹانا کالج سے اسکالرشپ مل گئی۔وہ امریکہ چلی گئی جہاں پڑھنے کے ساتھ وہ جاب بھی کرتی رہی۔رات تک وہ تھکن سے چور ہوجاتی۔وہ کمپیوٹر سے نابلد تھی۔ٹائپنگ نہ کرسکنے کی وجہ سے اس کو کئی گھنٹوں تک اپنی اسائنمنٹ لکھنی پڑتی،بالآخر اس کی زندگی میں ایک دلچسپ موڑآیا۔ اس کو ریاضی کے لیے ’’جاوا‘‘ کا کورس کرناتھااور یہیں سے اس کا رجحان کمپیوٹر کی طرف بڑھنے لگا۔اس کے دل میں اپنی قوم کادرد تھا۔وہ دن رات یہی سوچتی رہی کہ کیسے میں ان لوگوں کی زندگی بدل سکتی ہوں۔ایک رات اچانک اس کے ذہن میں ایک آئیڈیاآیا۔اس نے دیکھاکہ بڑی بڑی کمپنیوں میں استعمال ہونے والے کمپیوٹرز میں جب معمولی خرابی بھی آتی توانتظامیہ اس کوسٹور روم میں جمع کرتی اور کمپنی کے لیے نئے سسٹم آرڈرز کرتی۔اس نے کمپنیز سے بات کرکے یہ تمام کمپیوٹرز حاصل کیے اور انھیں کینیا منتقل کیا۔اس سارے عمل پرآنے والے اخراجات اس نے اپنی جیب سے بھرے ۔


پھر چیبوئ نے TechLit Africaکے نام سے ایک ادارہ بنایا،جس کے تحت امریکہ سے آنے والے کمپیوٹرز کو کھول کر ان کے ہارڈوئرز صاف کیے جاتے ، انھیں دوبارہ استعمال کے قابل بنادیاجاتااورپھر مقامی اسکولوں میں تقسیم کردیے جاتے ۔چیبوئی نے اپنے علاقے میں کمپیوٹر ایکسپرٹس کو ڈھونڈکرانھیں بچوں کو پڑھانے کی درخواست کی۔یوں پرانے اور کسی حدتک بے کار کمپیوٹرزکے ساتھ بچوں کوآئی ٹی اسکلز سکھائے جانے لگیں اور انتہائی کم وقت میں بڑے شاندار نتائج ملے ۔چیبوئی کہتی ہے: مجھے بھوک کادرد یاد ہے ۔یہ بہت ظالم ہے ۔میں نے اس کوبہت قریب سے دیکھاہے اور اسی درد نے میرے اندر وہ شعلہ روشن کیا جس کی بدولت میں نے اپنی زندگی اور اپنی قوم کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے جدوجہد شروع کی۔آج میرے ادارے میں چار ہزار سے زائد بچے جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کررہے ہیں اورمجھے امید ہے کہ یہاں سے پڑھنے والے بچے فری لانس مارکیٹ میں گرافک ڈیزائننگ، کوڈنگ، سوشل میڈیا مارکیٹنگ کی بدولت کینیا کی معیشت کوبدل کر رکھ دیں گے۔اس کائنات میں موجود ہر انسان خاص ہے۔تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے کسی نہ کسی قابلیت سے نوازرکھاہے۔وہ اگر ہمت سے کام لے تواس قابلیت کی بدولت اپنی زندگی اور دوسر ے انسانوں کی زندگیوں کو آسان بناسکتاہے۔روزمرہ زندگی میں ہر انسان کے سامنے مختلف طرح کے حالات آتے ہیں۔


یہ حالات کبھی کبھار انسان کو بے بس کردیتے ہیں ، وہ مایوس اور پریشان ہوجاتاہے اور ہمت ہارکر بیٹھ جاتاہے جبکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی پختہ ہمت کے سامنے کسی بھی طرح کے حالات کچھ اہمیت نہیں رکھتے ۔وہ جس قدربھی تنگی میں ہوں،اپناحوصلہ جوان رکھتے ہیں اور کسی نہ کسی طرح خود کو حالات کے اس بھنور سے نکال ہی دیتے ہیں۔ ہم اس بات  کو جانتے ہیں باہمت لوگوں کی وہ کون سی صفات ہوتی ہیں جو انھیں عام لوگوں سے ممتاز بنادیتی ہیں او ر وہ معاشرے میں ایک شاندار تبدیلی لے کرآتے ہیں اسی طرح کمزورلوگوں کی وہ کون سی خامیاں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے وہ پیچھے رہ جاتے ہیں اور زندگی میں کوئی نمایاں کام نہیں کرپاتے۔کمزور ہمت لوگ ہمیشہ اس یقین کے قیدی ہوتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔انھیں ہمیشہ ہارنے کااندیشہ ہوتاہے۔ناکام ہونے ، گرجانے اور ہدف پر نہ پہنچنے کا خوف۔انھیں دوسروں کی رائے سے بھی خوف آتاہے۔یہ تنقید سے ڈرتے ہیں۔ناپسندیدگی سے ان کی جان جاتی ہے۔لوگ ایسا نہ کہہ دیں ، ویسا نہ کہہ دیں۔میں اگر ناکام ہوگیاتو معلوم نہیں زمانہ کیا کہے گا۔یہ اورایسے متعدد خیالات نے انھیں اپنا قیدی بنایاہوتاہے اور اس وجہ سے یہ کوئی بھی عملی قدم نہیں اٹھاسکتے۔اس کے برعکس باہمت لوگ ہمیشہ پُرامیدرہتے ہیں۔وہ آزاد ہوتے ہیں۔وہ ہمیشہ کچھ کرنے کی جستجومیں ہوتے ہیں۔وہ ہمیشہ مثبت اورامیدافزاگفتگو کرتے ہیں کیوں کہ انھیں معلو م ہوتاہے کہ وہ جوبھی بولتے ہیں ،وہ الفاظ خیالات کا روپ دھارلیتے ہیں اورپھر اسی طرح کے واقعات ان کی زندگی میں رونما ہوناشروع ہوجاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ’’میں نہیں کرسکتا‘‘ ان کی زندگی میں نہیں ہوتا۔ان کے سامنے مشکل سے مشکل ہدف کیوں نہ ہو، اس کوحاصل کرنے کے لیے وہ سوچتے ہیں ، راستے بدل کر دیکھتے ہیں اور نئے امکانات کا جائزہ لے کراس کی طرف بڑھتے ہیں اور ایک نہ ایک دن اس کو کامیابی سے حاصل کرلیتے ہیں۔یہ تنقید سے ڈرتے ہیں۔لوگ ایسا نہ کہہ دیں ، ویسا نہ کہہ دیں۔میں اگر ناکام ہوگیاتو معلوم نہیں زمانہ کیا کہے گا۔زرا سوچئے !آپ کا شمار کن لوگوں میں ہوتا ہے

تحریر انٹر نیٹ کی مدد سے لکھی گئ ہے



ہفتہ، 27 جون، 2026

کثیر التصانیف ادیب و عالم شمس العلماء مرزا قلیچ بیگ

    

مرزا قلیچ بیگ 4 اکتوبر،1853ء ٹنڈو ٹھوڑو، حیدرآباد، سندھ، بمبئی پریزیڈنسی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرزا فریدون بیگ کا تعلق وسطی ایشیا کے علاقے جارجیا   سے  تھا لیکن  ان کے دشمنوں نے کے  ایک جنگ میں قید کر کے سندھ کے مرزا خُسرو بیگ کے ہاتھ ایک غلام کے طور پر فروخت کر دیا گیا۔ خُسرو بیگ، مرزا فریدون کو اپنے ساتھ سندھ لے آیا اور انھیں آزاد کر کے تعلیم و تربیت دلوائی۔ فریدون بیگ نے خُسرو بیگ کی بیٹی سے شادی کی۔ برطانیہ افواج کے ہاتھوں تالپور میروں کی حکومت کے خاتمے اور سندھ پر انگریزوں کے قبضے کے بعد فریدون بیگ حیدرآباد کے مضافات میں واقع ایک گھر میں سکونت پزیر ہوئے ۔مرزا قلیچ بیگ نے ابتدائی تعلیم مکتب سے حاصل کی اور بعد ازاں گورنمنٹ ہائی اسکول حیدرآباد میں داخلہ لے لیا۔ اس کے بعد انھوں نے الفنسٹن کالج بمبئی (Elphinstone College ) میں داخلہ لیا۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد سندھ واپس لوٹے اور انھوں نے عدالتی امتحان پاس کر کے مختیار کار کے طور پر شکارپور میں تعینات ہوئے۔ برطانوی راج کی تیس سالہ ملازمت کے اختتام پر 1910ء میں ڈپٹی کلکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے سندھ سے تعلق رکھنے والے انیسویں صدی کے مشہور و معروف عالم، صاحبِ دیوان شاعر، ماہرِ لسانیات، ماہرِ لطیفیات، مورخ، مترجم، ناول نگار اور ڈراما نویس تھے۔


 انھوں نے آٹھ مختلف زبانوں میں تقریباً 457 کتابیں تصنیف، تالیف و ترجمہ کیں، ان میں عربی، بلوچی، انگریزی، فارسی، سندھی، سرائیکی، ترکی اور اردو زبانیں شامل ۔ ان کی کتب تاریخ، لطیفیات، شاعری، بچوں کا ادب، تنقید، سائنس کے علاوہ لاتعداد موضوعات پر مشتمل ہیں۔ انھوں نے زینت کے نام سے پہلا سندھی ناول اور ابتدائی سندھی ڈراموں میں سے ایک خورشید لکھا۔ اس کے علاوہ انھوں نے شیکسپئر کے لاتعداد ڈراموں کو سندھی کے قالب میں ڈھالا۔ -مرزا قلیچ بیگ کے والد دراصل جارجیا یا گرجستان کے رہنے والے تھے۔ مرزا قلیچ بیگ کی پوتی مہر افروز مرزا حبیب نے " جارجین ساگا " کے نام سے کتاب لکھی ہے جس میں مرزا قلیچ بیگ کے خاندان کو صرف ایک نسل پہلے جارجیا سے سندھ آمد کا تفصیلی بیان ہے مرزا صاحب اپنے دو کی سب سے بڑی سندھی علمی شخصیت کے طور پر ابھرے۔آپ کثیر التصانیف تھےانہوں نے 140 سے زیادہ کتابیں لکھیں۔انہوں نے کم عمری سے ہی دوسروں کو تعلیم دینا شروع کردی تھی اور ابھی اسکول میں تھے کہ لوگ اُن سے فارسی پڑھنے آنے لگےپھر انہوں نے الفنٹن کالج بمبئی میں پڑھتے ہوئے وہاں درس وتدریس کا سلسلہ بھی شروع کردیا۔وہ سندھی, فارسی ترکی اور انگریزی میں مہارت سے لکھتے پڑھتے تھے اور ایک شاعر, ماہر تعلیم اور معلم کے طور پر سندھ میں اُن کا بڑا مقام ہے۔ "مرزا صاحب نے ہی پہلی سندھی ادبی کانفرنس لاڑکانہ میں منعقد کرائی۔


 اگر کتابوں کے ساتھ اُن کے کتابچے بھی شامل کرلیے جائیں تو انہوں نے اپنی پچاس سالہ زندگی میں ساڑے چار سو سے زائد تصانیف, تالیف و ترجمہ چھوڑی ہیں۔ اُن میں عربی, بلوچی, انگریزی, فارسی, سندھی, سرائیکی, ترکی اور اُردو زبان میں تحریریں شامل ہیں۔ ا نتہائی ذہین ہونے کی وجہ سے وہ   انگریزی میں پہلا رینک حاصل کرتے رہے ۔ اپنی 76 سالہ زندگی میں انہوں نے 18 سال کے بعد ہی لکھنا شروع کیا ہوگا، ان حسابات کے مطابق وہ ہمیں ہر سال اوسطاً 7 کتابیں دے چکے ہیں جو کہ ایک ریکارڈ بھی ہے اور سندھی ادب پر ​​احسان بھی۔مرزا قلیچ بیگ نے تقریباً دس ڈرامے اور بیس ناول لکھے۔ ان کے ناول مان زینت، دلارام، خدایاوری، حاجی بابا اصفغانی اور جولین ہوم سبھی مقبول تھے۔ سندو کے ناول زینت اور دلارام وہ ناول ہیں جو سماجی مسائل پر مبنی تھے جن میں اچھے برے اور اخلاقی مسائل شامل تھے۔ ان ناولوں میں بنیادی طور پر سوانح اور تقدیر ہے جو فلسفہ ہے۔ ان کی علمی، ادبی اور تعلیمی خدمات کے اعتراف میں اس وقت کی حکومت نے انہیں 1924ء میں ’’شمس علما (علماء)‘‘ کا خطاب دیا۔مرزا قلیچ بیگ سندھی ادب کے عظیم ادیب، سندھی ادب کے سچے خادم اور سندھی ادب کے خزانے میں ایک عظیم تخلیق کار بن گئے ہیں۔

 

 (بعض جگہوں پر   ان کی  450 سے زائد  تصنیفات  کا ذکر ہے) جن میں سے 42 کتابوں کا انگریزی اور سندھی میں ترجمہ کیا۔ اپنی 76 سالہ زندگی میں انہوں نے 18 سال کے بعد ہی لکھنا شروع کیا ہوگا، ان حسابات کے مطابق وہ ہمیں ہر سال اوسطاً 7 کتابیں دے چکے ہیں جو کہ ایک ریکارڈ بھی ہے اور سندھی ادب پر ​​احسان بھی۔ مرزا قلیچ بیگ نے دس کے قریب ڈرامے اور بیس ناول لکھے۔ ان کے ناول مان زینت، دلارام، خدایاوری، حاجی بابا اصفغانی اور جولین ہوم سبھی مقبول تھے۔ سندو کے ناول زینت اور دلارام وہ ناول ہیں جو سماجی مسائل پر مبنی تھے جن میں اچھے برے اور اخلاقی مسائل شامل تھے۔ ان ناولوں میں بنیادی طور پر فلسفہ ہے۔  جب مرزا قلیچ بیگ 19 اگست 1928ء کو ریٹائر ہونے کے بعد بمبئی چلے گئے تو وہ گردے کی بیماری میں مبتلا ہوگئے اور اس دوران ڈاکٹروں نے انہیں کتابیں لکھنے سے روک دیا لیکن بہت ساری محبت کی وجہ سے وہ انہیں لکھنے سے روک نہیں سکے۔ ادب بمبئی سے واپسی کے بعد اپریل 1929 کی پہلی تاریخ کو ہالہ کے مخدوم صاحب کے پاس گئے، واپسی پر ان کی گردن میں شدید درد محسوس ہوا اور پھر انہوں نے لکھنا چھوڑ دیا۔ وہ سو گئے اور اسی حالت میں 3 جولائی 1929 کو ان کی روح پرواز کر گئی اور خود خالق کو پا لیا۔

منگل، 23 جون، 2026

شیزو فرینیا ایک نظر نا آ نے والی لیکن تکلیف دہ بیماری ہے

 

  بڑا ہی مشہور مقولہ ہے 'تندرستی ہزار نعمت ہے 'اللہ پاک ہر ایک کو بیماری سے بچائے لیکن بہر حال یہ امتحان بھی زندگی میں آتے رہتے ہیں 'ہماری زندگی میں بیماری کی شکل میں آنے  والی  ایک  بیماری  شیزو فرینیا بھی ایک ہے یہ بیماری ظاہری  طور پر نظر نہیں آتی ہے لیکن مریض کے اندر ڈیرے جمائے ہوتی ہے شیزوفرینیا کے مریضوں ک و عجیب و غریب خیالات ستاتے رہتے ہیں، ان کی باتوں میں اور سوچ میں ربط نہیں پایا جاتا۔ ان کے خیالات بھٹکتے رہتے ہیں۔ ان کے فقروں سے مطلب نکالنا عام طور پر مشکل ہوتا ہے۔ ان کے کپڑے گندے اور بعض اوقات کیچڑ وغیرہ سے لت پت ہوتے ہیں۔ ان میں اعتماد کی کمی اور معاملات کو جانچنے کی صلاحیت کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ان کے خیالات بگاڑ کا شکار ہوتے ہیں مثلاً وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے دماغ میں جو خیالات آتے ہیں وہ ان کے ذاتی نہیں ہیں بلکہ کسی اور نے ان کے دماغ میں ان کو ٹھونسا ہے۔ یہ لوگ کسی بات پر اپنا ردعمل بھی ظاہر نہیں کرتے۔ ایسے مریض اپنے آپ کو وہ تصور کرتے ہیں جو وہ ہوتے نہیں مثلاً اپنے آپ کو بہت مشہور ایکڑ ماننا یا کسی ملک کا صدر اور وزیراعظم سمجھنا یا پھر اپنے آپ کو کسی جگہ کی شہزادی  یا ملکہ بتا نا نتیجتاً  ا ن  باتوں کے سبب  یہ لوگ خود کو تنہائی کا شکار بنا لیتے ہیں۔


 ایسے لوگوں کوکام کرنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شیزوفرینیا کے نصف یا کچھ کم مریض اس بات کو ماننے کے لئے ہی تیار نہیں ہوتے کہ وہ کسی بیماری کا شکار ہیں لہٰذا وہ ادویات کو مناسب طریقے سے استعمال بھی نہیں کرتے۔ ان مریضوں کے چہرے عام طور پر کسی قسم کے جذبات سے عاری ہوتے ہیں۔ ایک بہت اہم علامت جو زیادہ تر مریضوں میں پائی جاتی ہے وہ نفسیاتی طور پر پائی جانے والی پیاس کی زیادتی ہے جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ پانی یا دوسرے مشروب پیتے رہتے ہیں۔شیزوفرینیا کی علامات کو مثبت اور منفی دو درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ مثبت علامات عام طور پر وہ ہوتی ہیں جن سے کسی نارمل صحت مند انسان کا واسطہ نہیں پڑتا۔ اچھی بات یہ ہے کہ ان پر ادویات کا بہتر اثر ہوتا ہے۔ اگرچہ ان کو مثبت علامات کہا جاتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ اچھی بھی ہوں۔ ان پر مریضوں کو جو آوازیں سنائی دیتی ہیں وہ آپس میں باتیں بھی کر سکتی ہیں اور مریض کے مطابق اس کو مختلف قسم کے خطرات سے بھی آگاہ کرتی رہتی ہیں۔کچھ مریض یہ تصور کرتے ہیں کہ ان کو مافوق الفطرت قوتیں حاصل ہیں۔ بعض اوقات مریض مزاحیہ انداز کی حرکات کرنے لگتے ہیں مثلاً بلاوجہ کودنے لگ جانا یا کسی ایک خاص زاویے سے جسم کو موڑ توڑ کر بیٹھے رہنا۔منفی علامات یا منفی درجے میں ان مریضوں کو شامل کیا جاتا ہے جو زندگی میں اپنی دلچسپی کھو دیتے ہیں حتیٰ کہ وہ ان کاموں کو بھی سرانجام نہیں دے سکتے جو وہ پہلے بآسانی کر لیتے تھے


 لیکن ان علامات کو پہچاننا اتنا آسان ثابت نہیں ہوتا خصوصاً نوجوانوں میں کیونکہ صحت مند نوجوانوں کے موڈ میں بھی نارملی بہت زیادہ اتار چڑھائو دیکھنے کو ملتا ہے۔ بعض اوقات ایسے مریضوں میں جذبات نامی کوئی چیز نظر نہیں آتی حتیٰ کہ جب وہ بات بھی کرتے ہیں تو چہرہ ہر قسم کے تاثرات سے خالی ہوتا ہے یعنی نہ خوشی نہ غم ان کے چہرے پر آتا ہے۔ ایسے لوگ اگر کوئی کام شروع کرتے ہیں تو اس کو انجام تک پہنچانا ان کے بس کا روگ نہیں ہوتا بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ سوچتے ہی رہتے ہیں  ۔ یہ مرض چالیس فیصد لڑکوں اور بیس فیصد سے زائد لڑکیوں میں انیس سال کی عمر سے پہلے شروع ہو جاتا ہے۔شیزوفرینیا کی وجوہات موروثی اور سماجی دونوں کا مجموعہ ہوتی ہیں۔ اگر کسی کے خونی رشتہ داروں میں مرض پایا جاتا ہے تو اس کو مرض ہونے کے امکانات سات فیصد بڑھ جاتے ہیں۔جڑواں بچوں میں سے اگر ایک کو مرض لاحق ہو تو دوسرے بچے کو مریض ہونے کے چالیس فیصد امکانات ہیں۔ اگر والدین میں سے ایک کو مرض ہو تو بچوں میں تیرہ فیصد جبکہ دونوں والدین کے متاثر ہونے کی صورت میں امکانات پچاس فیصد ہو جاتے ہیں اور سماجی وجوہات میں بچے کا ماحول ،نشہ آور ادویات کا استعمال اور والدین اور رشتہ داروں کا رویہ اہم ہیں۔بعض والدین بہت زیادہ سخت اور غصہ والے ہوتے ہیں یا والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کی وفات ہو جانا بھی بچے پر برا اثر ڈالتی ہے۔ جنسی بداخلاقی بھی باعث بن سکتی ہے۔


 نشہ آور اشیاء کا استعمال بھی ایک وجہ بن سکتا ہے۔ ماں کو اگر حمل کے دوران وائرل انفکشن ہو جائے یا پیدا ہونے سے قبل بچے میں آکسیجن کی کمی واقع ہو جائے یا ماں غذائی قلت کا شکار ہو جائے تو اس کا اثر پیٹ میں پرورش پانے والے بچے پر ہوتا ہے۔شیزوفرینیا ایک کرانک، زیادہ شدت والی اور مضمحل کرنے والی ذہنی بیماری کا نام ہے۔ اس میں مریض کے خیالات بکھرے ہوتے ہیں اور اس کا معاشرتی رویہ نارمل نہیں ہوتا بلکہ عام طور پر سوسائٹی کے قوانین اور رسم و رواج کے مخالف ہوتا ہے۔اس مرض میں مبتلا فرد اپنے قریب ترین افراد کو اپنا دشمن اور غیروں کو اپنا دوست سمجھتا ہے۔ اور ہر لمحہ اپنوں کی ایذا رسانی میں مصروف کار رہتا ہے۔غیروں  کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے اپنوں کی برائیا ں کرتا ہے اور اپنے آ پ کو مظلوم ظاہر کرتا ہے اس مرض میں مبتلا افراد سمجھتے ہیں کہ باقی سب غلط ہیں اور وہ خود ٹھیک ہیں۔ 
یہ مضمون انٹر نیٹ کی مدد سے لکھا گیا  ہے 

پیر، 22 جون، 2026

عظیم تر جراح اور طبیب ابوالقاسم خلف ابن العباس الزہراوی

 

 اسپین کےجنوبی علاقہ  اندلس کے مردم خیز خطے                 اورقرطبہ کے شمال   میں شہر الزہرا میں    پیدا ہونے والے  عظیم تر جراح اور طبیب                       ابوالقاسم خلف ابن العباس  الزہراوی                مانے جاتے ہیں جن کی جراحی کا شہرہ گزرے  ہوئے کل میں بھی تھا اور آج بھی  ہے، ان کا زمانہ اندلس میں چوتھی صدی ہجری (دسویں صدی عیسوی) ہے، ان کی زندگی جلیل القدر کارناموں سے بھرپور ہے - وہ عبد الرحمن سوم الناصر کے طبیبِ خاص تھے، پھر ان کے بیٹے الحکم دوم المستنصر کے طبیبِ خاص ہوئے، ۔  ان کی سب سے بڑی تصنیف “التصریف لمن عجز عن التالیف” ہے جو کئی زبانوں میں ترجمہ ہوکر کئی بار شائع ہو چکی ہے۔دنیائے اسلام میں ایسے ایسے نامور مسلم سائنسدان ، فلسفی ، موجد اور طبیب وغیرہ پیدا ہوئے ہیں کہ جو روشنی کے مینارے ہیں۔ جن کے کارناموں ، ایجادات نظریات سے آج بھی استفادہ حاصل کیا جاتا ہے۔الزہراوی جنھیں سرجری یعنی جراحت کے پیشے کا باوا آدم کہا اور مانا جاتا ہے ۔ ایک مسلم سائنسدان مصنف ، موجد ، جراح اور طبیب تھے- انھوں نے بہت سے آلاتِ جراحی ایجاد کئےاسی لیئے یہ موجد بھی ہیں۔ ان کے ایجاد کردہ آلاتِ جراحی کی تصاویر ان کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اسی لیئے الزہراوی علم جراحت کے بانی کہلاتے ہیں۔زہراوی کی علمی طبّی کاوشوں کا یورپ کے طبّی مدارس میں بہت گہرا اثر رہا ہے ان کی کتابوں کا کئی یورپی زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے ۔ ان کی کتابوں کو یورپی یونیورسٹیوں میں سر جری کے طالب علموں کو بطورِ نصاب بھی پڑھایا جاتا رہا ہے اور حوالے کی کتاب (ریفرنس بک ) کے طور پر بھی یہ کتابیں شاملِ نصاب رہی ہیں-


ابوالقاسم نے نہایت عمدہ اسلامی اور علمی ماحول میں آنکھ کھولی اور اپنے زمانے کی بہترین یونی ورسٹی میں علم حاصل کیا۔ بڑے بڑے شفاخانوں میں اس نے جراحی میں کمال پیدا کیا۔ ابوالقاسم کے زمانے میں مسلمان اس فن میں ماہر تھے اور ہسپتال میں انسان کا پوسٹ مارٹم بھی سکھایا جاتا تھا،۔ ان میں         بیان کردہ کئی اوزار آج بھی ہسپتالوں میں استعمال ہورہے ہیں جب کہ طبابت کا علم سائنس کے زور سے بہت ترقی کر چکا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹروں کو سرجری میں جو رتبہ حاصل ہو اہے، وہ ابوالقاسم اور ایسے ہی دوسرے عربی اطبا کا طفیل ہے۔ انگریز دانش وروں نے بھی ابوالقاسم کی تعریف کی ہے۔ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ انہوں نے شروع میں سے بہت کچھ سیکھا اور جراحی کی کتاب سے خوب روشنی حاصل کی۔1368ء میں ابوالقاسم کی سرجری یورپ میں خوب مشہور ہو چکی تھی۔ ان کا تعلق اندلس سے تھا جسے اسلام کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی تاریخ میں بڑا مقام اور اہمیت حاصل رہی ہے۔اس مسلمان سائنس داں کو قرطبہ کے شمال مغرب میں امویوں بسائے گئے شہر الزہراء سے نسبت رکھنے کے سبب الزہراوی کہا جاتا ہے۔۔ الزہراوی کی زندگی کے حقائق اور تفصیلات بہت کم معلوم ہوئے ہیں، لیکن ان کی اہم تصانیف میں ان کی کتاب “الزہراوی” ہے جب کہ ابوالقاسم کی کتاب التصریف برسوں تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی گئی خاص طور پر اٹلی میں اس کو بڑی لگن اورتوجہ سے پڑھایا گیا۔ یہ کتاب پہلی بار 1497ء میں لاطینی زبان میں وینس میں چھاپی گئی، پھر 1500ء میں لوکے ٹس میں چھپی، اس کے بعد 1541 میں سٹرس برگ میں اور پانچ سال بعد باسل میں چھاپی گئی۔ اس کی شرحیں بھی لکھی گئیں۔ ابوالقاسم نے اس کتاب کے علاوہ بھی طب پر کئی کتابیں لکھیں ۔ اب ان کے لاطینی ترجمے یورپی لائبریریوں میں مل سکتے ہیں۔


الزہراوی نے فن ِجراحت( سرجری) کے کئی طریقوں کو ایجاد کیا ، ان کی تکنیک ، اور آلاتِ جراحی ایجاد کئے ۔موجودہ دور میں بھی ان کے آلاتِ جراحی کے نمونوں سے دنیا آج بھی مُستفید ہورہی ہے۔الزہراوی نہ صرف جراح تھے بلکہ عظیم طبیب بھی تھے-آپ نے آنکھوں کے موتیا ، مختلف امراضِ چشم ،حلق، دانت، مسوڑھے، جبڑہ ، زبان، اور ہڈیوں کے ٹوٹنے اور ہڈیوں کےاُکھڑنے اور گردوں اور سر وغیرہ کے باے میں تفصیلا ًبیان کیاہے۔ فنِ جراحی میں انھوں نے پتھری نکالنے کا طریقہ بھی بیان کیاہے جو میڈیکل سا ئنس میں جدید طریقہ سمجھا جاتا ہے ۔دانت کی دوبارہ تنصیب دانتوں کی تراش ان ہی کا کا میاب جراحی عمل ہےانھوں نے اپنی کتا بوں میں طب، خاص کر علمِ جراحت ،علم الادویہ اور صحت پر بحث کی ہے ۔ان کی تصانیف میں ایک مشہور کتاب “ الزہراوی ” ہے جبکہ ان کی ایک اور قابلِ ستائش تصنیف “التصریف لمن عجز عن التالیف” ہے جس کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔انھوں نے ہی تصاویر کی مدد سے آلاتِ جراحی کی ساخت ، شکل کو بیان کیا اور اپنی کتابوں میں درج کیا ہے اور اُن کا استعمال بھی بتایا ہے اور اسی لیےسرجری یعنی علمِ جراحی میں انکا بڑا نام ہے۔ ابو القاسم الزہراوی "قرون ِ وسطیٰ کے متعدد بار حوالہ شد جراحی نمائندہ" کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ڈونلڈ کیمپ بیل، عرب ادویات کے تاریخ دان، یورپ میں الزہراوی کی مقبولیت کو یوں بیان کرتے ہیں:"یورپ کے طبی نظام پر ابو القاسم کا بڑا اثر یہ تھا کہ اس کے قابلِ فہم انداز اور پیش کرنے کے طریقے نے مغرب کے علما میں عربی ادب کی حمایت میں احساس اجاگر کیا:


 ابو القاسم کے طریقوں نے گیلن کے طریقوں کو گرہن لگا دیا اور پانچ سو سال تک طبی یورپ میں نمایاں حیثیت برقرار رکھی، حتیٰ کہ اس کے فائدہ مند نہ ہونے کے بعد بھی یہ اہم مقام رکھتے ہیں۔ تاہم، اس نے عیسائی یورپ میں جراحت کے معیار کو بڑھانے میں مدد کی  ہڈیوں کے چٹخنے اور جوڑنے پر اپنی کتاب میں، وہ بیان کرتا ہے کہ "جراحت کا یہ حصہ بے ہودہ اور غیرتہذیب یافتہ اذہان کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے، اسی وجہ سے یہ حقارت میں شمار کیا جاتا ہے۔"الزہراوی نے ناسور کے علاج کے لیے ایک آلہ دریافت کیا اور بہت سارے امراض کا استری سے علاج کیا، زہراوی وہ پہلے طبیب تھے جنھوں نے “ہیموفیلیا” نہ صرف دریافت کیا بلکہ اس کی تفصیل بھی لکھی                           زہراوی کا یورپ میں بڑا عظیم اثر رہا، ان کی کتب کا یورپ کی بہت ساری زبانوں میں ترجمہ کیا گیا اور یورپ کی طبی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہیں، یورپ کے جراحوں نے ان سے خوب استفادہ کیا اور ان سے اقتباس بھی کیا، حتی کہ بعض اوقات بغیر حوالہ دیے ان کی دریافتیں اپنے نام منسوب کر لیں، ان کی کتاب “الزہراوی” پندرہویں صدی عیسوی کے شروع سے لے کر اٹھارویں صدی عیسوی کے اواخر تک یورپ کے اطباء کا واحد ریفرنس رہی۔ ان کے ایجاد کردہ آلات جراحی آج تک استعمال ہوتے ہیں۔قرطبہ کی گلیاں جہاں وہ رہتا تھا کو، اس کے اعزاز میں "ابو القاسم گلی" کے نام سے منسوم کیا گیا۔ اس گلی میں گھر نمبر 6 میں رہتا تھا جس کی آج طلائی تختی یافتہ ہسپانوی سیاح بورڈ حفاظت کرتا ہے جس پر کنندہ ہے : "یہ وہ گھر ہے جہاں الزہراوی رہتا تھا

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

پاکستان میں نئے صوبے وقت کی اہم ضرورت

   ایک چھوٹی سی مثال ہے ایک خاندان ہوتا ہے اس خاندان کا بیٹا جوان ہوتا ہے بہو بیاہ کر گھر آتی ہے  پورے گھر میں بہو اور بیٹے کو ایک کمرہ ملتا...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر