blogging لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
blogging لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 20 ستمبر، 2026

اسپینش فلو جو 5 کروڑ جانیں لے گیا

 

اسپینش فلو (1918–1920) انسانی تاریخ کی مہلک ترین وبائی امراض میں سے ایک تھا، جو 5 کروڑ سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بن گیا ۔ جب  میں خود اس تباہ کن وبا کے اوپر غور کیا تو میرا زہن پہلی جنگ عظیم کی جانب گیا  لاکھوں سپاہی اپنے اپنے گھروں سے دور سرد موسم میں ناکافی خوراک  کے ساتھ لڑ رہے تھے جن میں بالآخر قوت مدافعت جواب دے گئ اور وہ  نمو نیہ جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہوئے  تو دوسری جانب اس بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کی ایک بنیادی وجہ اس دور میں طبی سہولتوں کا شدید فقدان اور    بیماری کی آ گہی نا ہونا تھا ۔ عوام اسے ایک بیکٹیریل انفیکشن سمجھتے رہے۔سائنسی معلومات اور ادویات کی کمی-ویکسین اور اینٹی بائیوٹکس کا نہ ہونا: اس وقت انفلوئنزا کی کوئی ویکسین دستیاب نہیں تھی۔ مزید یہ کہ ثانوی انفیکشن (جیسے نمونیا) کے علاج کے لیے اینٹی بائیوٹکس (جیسے پینسلین) ابھی ایجاد نہیں ہوئی تھیں۔پہلی جنگِ عظیم کا اثر: یہ وبا پہلی جنگِ عظیم کے آخری مہینوں میں پھیلی۔ بہترین ڈاکٹرز، نرسیں اور طبی وسائل جنگی محاذوں پر تعینات تھے، جس کی وجہ سے شہری ہسپتال خالی اور بے یارومددگار رہ گئے۔ہسپتالوں میں جگہ ختم ہو گئی۔ اسکولوں، گرجا گھروں اور سرکاری عمارتوں کو عارضی ہسپتالوں میں تبدیل کرنا پڑا، جہاں بنیادی طبی سہولتیں تک موجود نہیں تھیں۔


. حفاظتی سامان (PPE) اور آلات کا فقدان-مریضوں کے لیے آکسیجن سلنڈر اور وینٹی لیٹرز جیسی لائف سپورٹ مشینیں موجود نہیں تھیں۔طبی عملے کے پاس حفاظتی ماسک اور دستانے انتہائی ناقص معیار کے تھے، جس کی وجہ سے ڈاکٹر اور نرسیں خود بڑی تعداد میں اس بیماری کا شکار ہو کر ہلاک ہو گئے۔ جس کی وجہ سے عوام کو وبا کی شدت کا بروقت علم نہ ہو سکا اور احتیاطی تدابیر (جیسے لاک ڈاؤن یا ماسک کا استعمال) میں بہت تاخیر ہوئی۔ طبی تاریخ کے اس اہم اور ہولناک واقعے کے بارے میں چند اہم حقائق درج ذیل ہیں: پہلی جنگِ عظیم کی وجہ سے جرمنی، برطانیہ، فرانس اور امریکہ جیسے ممالک میں میڈیا پر سخت سنسرشپ تھی تاکہ فوجیوں کا حوصلہ پست نہ ہو، اس لیے انہوں نے اس بیماری کی خبروں کو چھپایا۔اسپین کا کردار: چونکہ اسپین اس جنگ میں غیر جانبدار تھا، وہاں کے میڈیا نے اس بیماری کے پھیلاؤ کی خبریں کھل کر شائع کیں۔ دنیا نے پہلی بار اس خطرناک بیماری کی خبریں اسپین کے اخبارات سے سنیں، جس کی وجہ سے اس کا نام غلطی سے "اسپینش فلو" پڑ گیا۔یہ کیوں اتنا خطرناک تھا؟


نوجوانوں پر حملہ: عام طور پر فلو یا زکام بچوں اور بوڑھوں کے لیے خطرناک ہوتا ہے، لیکن اسپینش فلو کی سب سے عجیب اور ہولناک بات یہ تھی کہ اس نے 20 سے 40 سال کے صحت مند نوجوانوں کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا۔تیز رفتار اثر: یہ وائرس اتنا شدید تھا کہ کچھ مریضوں میں علامات ظاہر ہونے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر پھیپھڑوں میں پانی بھر جاتا تھا اور وہ دم گھٹنے کی وجہ سے وفات پا جاتے تھے۔وائرس کی طاقت: ماہرین کے مطابق یہ ایک انتہائی متعدی اور شدید نوعیت کا ایویئن (پرندوں سے منتقل ہونے والا) انفلوئنزا وائرس تھا جس نے انسانوں میں تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت پیدا کر لی تھی۔اس تباہ کن وبا کے بعد ہی دنیا بھر میں جدید پبلک ہیلتھ سسٹمز، قرنطینہ(Quarantine) کے قوانین اور وائرسز پر تحقیق کے طریقوں میں انقلابی تبدیلیاں لائی گئیں  مییہ وبا 1918 میں شروع ہوئی اور اس کی تین لہریں (یعنی بیماری کے پھیلاؤ میں تیزی کے ادوار) آئیں: بہار، خزاں اور موسم سرما میں۔ خزاں کی لہر سب سے زیادہ مہلک ثابت ہوئی۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ 1920 میں اس کی ایک چوتھی لہر بھی آئی تھی۔ موسمی فلو اور دیگر بیماریوں کے برعکس (جن میں اس عمر کے لوگوں کے شدید بیمار ہونے کا امکان کم ہوتا ہے)، اس وبا میں 20 سے 40 سال کی عمر کے غیر معمولی طور پر زیادہ لوگ ہلاک ہوئے۔ سائنسدان اب بھی اس بات کا مطالعہ کر رہے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا تھا۔


1918 اور 1919 کے درمیان دنیا بھر میں تقریباً 5 کروڑ (50 ملین) افراد فلو کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ کچھ ماہرین کے اندازے کے مطابق یہ تعداد 10 کروڑ (100 ملین) تک بھی ہو سکتی ہے۔ صرف امریکہ میں تقریباً 6 لاکھ 75 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔پہلی جنگِ عظیم 11 نومبر 1918 کو پہلی جنگ عظیم ختم ہوئی تھی-        اسپینش فلو (Spanish flu) کی عالمی وبا دنیا میں 1918ء سے 1920ء کے دوران پھیلی تھی۔اہم تفصیلات:آغاز: اس کی ابتدائی لہر مارچ 1918ء میں شروع ہوئی، جبکہ خزاں 1918ء (اکتوبر اور نومبر) میں اس کی دوسری اور سب سے زیادہ خطرناک لہر نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔مدت: یہ تباہ کن وبا جنوری 1918ء سے لے کر دسمبر 1920ء تک مختلف مراحل میں جاری رہی۔متاثرہ افراد: اس سے دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی (یعنی لگ بھگ 50 کروڑ افراد) متاثر ہوئی تھی۔

دلوں کے بادشاہ عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ

 

 دلوں کے بادشاہ عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ -  دنیا  میں  حکومت  دو قسم کی ہوتی ہے ایک خطہ  زمین پر اور دوسری حکومت جو   قلوب پر  کی جاتی ہے عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کی حکومت ظاہر و باطن دونوں پر قائم ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی  آل پاک  کا یہ درخشاں ستارہ  امام  جعفر صادق علیہ السلام  کی تیسری نسل مبارک میں طلوع ہوا ۔اور تبلیغ اسلام کی کرنیں بکھیرتا ہوا  دشمنان  اہل بیت عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور دوانقی  کے حکم پر شہید کر دیا گیا  -آپ گھوڑوں کے تاجر کے روپ میں سر زمین سندھ پر وارد ہوئے   آپ کا  مزار کراچی کے علاقے کلفٹن میں ایک اونچے ریتلے ٹیلے یا پہاڑی پر واقع ہے۔ تاریخی روایات اور سوانحی بیانات کے مطابق آپ کو ساحلی پٹی کے اس بلند مقام پر دفن کرنے یا آپ کی آرام گاہ یہاں بننے کی چند اہم وجوہات یہ تھیں:حفاظت  قبر : اس دور میں عباسی حکومت کی طرف سے سادات اور اہل بیت کے خلاف سخت ترین سیاسی دباؤ اور ظلم و ستم کا سلسلہ جاری تھا۔ شہادت کے بعد آپ کے مریدوں اور عقیدت مندوں نے آپ کے جسدِ خاکی کی حفاظت کے لیے اس بلند و بالا اور قدرے ناہموار پہاڑی مقام کا انتخاب کیا تاکہ سرکاری یا مخالف عناصر کی رسائی آسان نہ ہو اور وہ آپ کی قبر کی حفاظت کر سکیں۔ ساحلی محل وقوع: ماضی میں یہ پہاڑی   ٹیلہ اپنے  اردگرد سمندری پانی اور لہروں سے گھرا ہوا ایک تنہا اور  ایسا  مقام تھا جس عوام الناس کے لئے کوئ کشش نہیں تھی  ،




 حضرت عبد اللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کے بعد  آپ کے ساتھیوں اور مریدوں نے  جو  حکومتی قوتوں کی نظروں سے بچاؤ  کے لئے  آپ کی تدفین کے لئے اس ویران ٹیلہ کا انتخاب کیا ۔مریدین کا قیام: آپ کے عقیدت مند   اپنی حیات تک  اسی پہاڑی پر ہی خیمہ زن رہے تاکہ قبرِ مبارک کی پہرہ داری کی جا سکے اور قبر کو یا آپ کے جسد کو    نقصان پہنچانے سے بچایا جا سکے۔ لیکن شان خداوندی دیکھئے کہ میلوں دور تک سمندر کے کھارے پانی سے گھرے ہوئے اس ٹیلے کے دامن میں اللہ پاک نے آپ کی قبر کی رکھوالی کرنے والوں کے لئے میٹھے پانی کا چشمہ جاری و ساری کر دیا جو آج تک جاری ہے-151ہجری میں ابو جعفر منصور کومعلوم ہواکہ عبداﷲ شاہ الاشتر سندھ میں مقیم ہیں جس پر منصور کی پریشانی بڑھتی جارہی تھی ۔وہ حضرت عبد اﷲ شاہ غازی کو سندھ میں عباسی حکومت کیلئے خطرہ محسوس کررہا تھا ، اُس نے گورنرعمر بن حفص سے جواب طلبی کی اور ُاسے گورنرسندھ سے معزول کرکے افریقہ کا گورنر بنا کر افریقہ بھیج دیا اور ہشام بن عمروتغلبی کوسندھ کا نیا گورنر بنا کر خصوصی ہدایات کیساتھ بھیجا کہ عبد اﷲ شاہ غازی کوگرفتار کرواور راجہ کی طرف سے کسی قسم کی رکاوٹ ہوتو راجہ کو قتل کردیا جائے مگر ہشام بن عمرو جو خود بھی سادات کا احترام کرتا اور اُن سے دلی عقیدت رکھتا تھا 


عبداﷲ شاہ الاشتر کی سند ھ میں غیر معمولی شہرت ومقبولیت کی وجہ سے نئے گورنرہشام بن عمرو انہیں گرفتار کرنے میں ترد کاشکار رہا مختلف حیلوں اور بہانوں سے عبداﷲ شاہ غازی کی گرفتاری سے متعلق ابو جعفر منصور کو ٹالتا رہا وہ اہل بیت کے خون ناحق کو اپنی گردن کا طوق نہیں بنانا چاہتا تھا  -انہی دنوں میں سندھ کے ایک اور علاقے  میں بغاوت ہوئی جوکہ عبد اﷲ شاہ غازی کے قیام کے قریب کا علاقہ تھا گورنرہشام بن عمرو نے اپنے بھائی سفیع بن عمر  کو عبد اﷲ شاہ غازی کے قتل کا حکم دے کر  سندہ کو روانہ کیا کیونکہ سندھ  اس وقت حجاز کا حصہ تھا  آپ اس وقت صبح کی  ہوا خوری کے لئے  بمعہ مریدوں کے  ساحل سمندر پر موجود تھے نکلے ہوئے تھے -سفیع بن عمرو لشکریوں کے ہمراہ اس علاقے میں ٹھہرا ہوا تھا دور سے عبداﷲ شاہ غازی  ، رحمۃ اللہ علیہ کے گھوڑوں کو دیکھا اور  حملہ آوار ہوا اس کے ساتھ اس کے فوجی تھے جبکہ آپ کے ساتھ دس یا بارہ ساتھی تھے  آپ نے بے جگری سے مقابلہ کیا لیکن پھر  بالآخر شہید ہو گئے


قرب وجوار کے لوگوں کوجب آپ کی شہادت کے واقعہ کا علم ہوا تو بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے ادھر سفیع نے اپنے بھائی گورنر ہشام بن عمروکواس کی اطلاع دی گورنر کچھ بول نہیں سکا کیونکہ یہ عباسی حکمراں ابو جعفر منصور کے حکم کی بجا آوری تھی اس نے اس کی اطلاع بغداد میں ابو جعفر منصور کودی ۔ادھر آپ کے مریدوں نے آپ کے جسد مبارک کو چھپا کر دور ایک اونچی پہاڑی پر لے گئے اور اسی پہاڑی پر آپ کو سپر دخاک کیا گیا ۔  اس وقت یہاں  کئی کئی میل کوئی آبادی نہیں تھی بحری آمد و رفت بھی اُس وقت صرف دیبل موجو دہ بن قاسم پورٹ پر ہوا کرتی تھی   اس لئے آپ کی قبر دشمنان اہل بیت کی نظروں سے اوجھل رہی  آپ صاحب کشف و کرامت ولی خدا   ہیں     اور  عوام کے دلوں پر آ پ کی باشاہت قائم ہے اور بالخصوص  پورے ملک میں  جبکہ بالعموم  پوری دنیا میں آ پ کے عقیدت مند  کثیر تعداد میں   پائے جاتے ہیں 

 خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
تحریر و تلخیص سیدہ زائرہ عابدی

پیر، 14 ستمبر، 2026

نیٹی جیٹی پُرانا پُل آج کی بہترین فوڈ اسٹریٹ

 

     بڑی مشہور مثل ہے 'ہاتھی مرے پہ سوا لاکھ کا  'جی جناب  انگریز  بہادر  بھی کیا زیرک نگاہ   تھا جس نے کراچی کی    تاریخ ہی بدل ڈالی              ویسے تو   کراچی کے طول عرض میں ایسے اعلیٰ پائے کے  میگا منصوبے کھڑے کر دئے  جو بوسیدہ و کہنہ ہو کے بھی نا صرف کراچی بلکہ کراچی آنے والے  لاگوں کے لئے آج بھی سود مند ثابت ہو رہے ہیں -اس ضمن میں  سمندر میں پتھر ڈال کر بوٹ بیسن     نیٹی  جیٹی  کی بندرگاہ بنا کر کراچی کو بہترین سمندری  پورٹ مہیا کی اور ریل کی پڑی اس بیسن  کے   کنارے تک بچھائ -یہ تو ہوا نیٹی جیٹی کا تجارتی پہلو  دوسری  ایک اہم سہولت     کراچی کے قرب و جوار میں  سمندر کے سینے پر پھیلے ہوئے لاتعداد  جزیروں  کے باسیوں کے لئے بھی  سمندری آمدورفت کے لئے  راستہ بنایا جسے کے پی ٹی  عملہ، عوام اور پاکستان بحریہ کے ملازمین بھی  آنے جانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔1998سنہء 1864 میں بننے والی اس جیٹی   کے  (بنیادی ستونوں) میں شدید زنگ لگنے کا انکشاف ہوا، جس سے جیٹی کی ساختی حفاظت اور استحکام متاثر ہوا اور عوام کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔ حال ہی میں، کے پی ٹی انتظامیہ نے جیٹی  کی باقی ماندہ پرانے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لیے 'بوٹ بیسن فیز-II   تعمیرِ نو' کا منصوبہ شروع کیا۔ اس منصوبے میں جیٹی کے بوسیدہ ڈھانچے کو گرانا اور ڈریجنگ (تہہ کی صفائی اور گہرائی بڑھانے) کی بہتر گہرائی کے ساتھ جدید جیٹی کی تعمیر شامل تھی۔جب برطانوی حکام نے اس راستے کی تعمیر شروع کی جس نے آبی علاقے کو تقسیم کر دیا تھا، تو انہوں نے احتیاط سے اس بات کا جائزہ لیا کہ آیا چنا کریک (Chinna Creek) کے مغربی جانب آبی گزرگاہوں کو بند کرنے سے بندرگاہ میں موجود جہازوں پر کوئی منفی اثر پڑے گا یا نہیں۔


 یہ راستہ 1864 میں 643,440 روپے کی لاگت سے مکمل ہوا، اور اس کے ساتھ ایک اضافی ریلوے پل بھی تعمیر کیا گیا۔یہ پل اسی عرصے کے دوران تعمیر کیا گیا تھا جب علاقے میں دیگر اہم پل تعمیر کیے گئے تھے۔ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر، ایک نیا اور کشادہ پل، 'جناح برج'، تعمیر کیا گیا جس نے پرانے پل کی جگہ لے لی۔ آج، پرانے پل کو ایک 'فوڈ اسٹریٹ' میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور اسے 'پورٹ گرینڈ فوڈ اینڈ انٹرٹینمنٹ کمپلیکس' کا نام دیا گیا ہے۔ ان دو پلوں کے متوازی 'پورٹ گرینڈ ٹرین ٹریک' (جسے 'چنا کریک برج' بھی کہا جاتا ہے) موجود ہے، جو کراچی سٹی اسٹیشن کو کراچی منکی یارڈ کے راستے کیماڑی سے ملاتا ہے۔ پاکستان ریلویز کے زیرِ انتظام 379 میٹر (1,243.4 فٹ) طویل یہ پل خصوصی طور پر مال بردار ٹرینوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ کراچی کو ویسے تو روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے۔  لیکن  آج کل  کراچی  کے  طول عرض میں  بجلی کی بندش سے بڑی بد دلی   سی پھیلی ہوئ ہے ۔اور جب بجلی   موجود ہو تو اس علاقے کی رونق دیدنی ہوتی اور علاقہ بقعہءنور بنا ہوتا ہے   چنا کریک (China Creek) ماضی میں کراچی کی ایک قدرتی کھاڑی (Creek)  جہاں  بحری جہاز آتے اور جاتے تھے تھا، اب اس علاقے میں کئ ایکڑ پر مشتل بینظیر پارک بنایا جا چکا ہے ۔اس کے بارے میں کچھ اہم حقائق یہ ہیں:تاریخی حیثیت: یہ کراچی کی بندرگاہ (برٹش دور) کے قریب واقع ایک قدرتی آبی گزرگاہ تھی جہاں سمندر کا پانی اندرونی حصوں تک آتا تھا۔نام کی وجہ: مانا جاتا ہے کہ ماضی میں یہاں چینی باشندوں کی بستیاں  موجود تھیں، جس کی وجہ سے اس کا نام 'چنا کریک' پڑا۔موجودہ صورتحال: وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زمین کی بھرائی (Land reclamation) اور ترقیاتی کاموں کی وجہ سے یہ کھاڑی سکڑ گئی۔ آج اس کا زیادہ تر حصہ کراچی پورٹ ٹرسٹ  نیٹی جیٹی کے آس پاس کے علاقوں میں تبدیل ہو چکا ہے، اور اب یہ ماضی کی طرح ایک کھلی کھاڑی نہیں رہی جہاں دیو ہیکل بحری جہاز آ کر لنگر انداز ہوں  لیکن اس کے کنارے ایک بہترین کئ ایکڑ پر محیط بینظیر بھٹو پارک بن چکا ہے 

 



شام ڈھلتے ہی شہر کے  پرانے  پل   پر  لوگوں کی آمد شروع ہو جاتی ہے۔ جن میں کثیر تعداد میں عور تیں  اور  بچوں سے لے کر بوڑھوں تک شامل ہوتے  ہیں۔ پل کے فٹ پاتھ پر  لو گ گندھا ہواآٹا لے کر فروخت  کرتے نظر آتے ہیں     یہ آٹا پلاسٹک کی پلیٹوں میں رکھا ہوتا ہے۔  اور پانچ روپئے اور دس روپئے  قیمت  دے کر  اکثر لوگ یہ پلیٹیں لے کر آٹا پل کے نیچےگزرنے والے پانی میں پھینک دیتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ یہ آٹا مچھلی کھائےگی اور ان کے دل کی مراد پوری ہوگی۔  اس طرح یہ پل لوگوں کی  منتیں مرادیں  پوری کرنے کے لیے بھی ایک اہم مقام بن گیا ہے۔ایک نوجوان   جو پل پر خراماں  خراماں  مٹر گشتی کر رہا تھا  اس کا کہنا ہے کہ اس نے کوئی منت نہیں مانگی البتہ اس کے دوست امتحانوں کے دنوں میں یہاں آتے ہیں اور کامیابی کی منت مانگتے ہیں۔کیا کسی کی مراد پوری ہوئی ہے؟ نوجوان نے بتایا کہ ان کے ایک رشتے دار سرکاری افسر ہیں۔ ان کی اولاد نہیں تھی۔ وہ ہر جمعرات کو یہاں آتے تھے۔ تین سال قبل ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی۔نیٹِو جیٹی پر منت مانگنے کا یہ سلسلہ کب سے جاری ہے، کسی کو نہیں معلوم۔


میانوالی کے رہنے والے کمال بتاتے ہیں کہ وہ بہت عرصے سے یہاں آٹا بیچ رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ رکشہ چلاتے تھے۔ مگر پیٹرول مہنگا ہوگیا اور انہوں نے آٹا فروخت کرنا شروع کر دیا۔ اب وہ روزانہ تقریباً ڈیڑھ سو روپے کما لیتے ہیں۔ وہ روزانہ تین کلو آٹا بیچتے ہیں۔ جبکہ مخصوص راتوں کو یہ مقدار دگنی ہو جاتی ہے۔ایک باریش پتھارے والے نے بتایا کہ وہ گزشتہ آٹھ سال سے یہ کام کر رہے ہیں۔ شب برات کو یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ ان کے پاس ایک سفید پرچی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عریضہ ہے جس پر جو بھی مراد ہو تحریر کی جاتی ہے۔ پھر اس کو آٹے میں گوندھ کر درود شریف پڑھنے کے بعد سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے۔لیاری سے آنے والے ایک جوڑے میں سے محمود نے بتایا کہ وہ یہاں ہوا خوری کے لیے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ یہاں نوکری، اولاد اور شادی کی منتیں مانگنے آتے ہیں۔ اور منت پوری ہونے پر ایک کلو آٹا یا باجرہ یا گھر سے اناج لے کر آتے ہیں اور پانی میں بہا دیتے ہیں۔ہر جمعرات اور پیر کی رات کو بڑی بھیڑ ہوتی ہے۔ گاڑیوں والے بھی یہاں آٹا بہاتے نظر آتے ہیں۔ یہاں آنے والی خواتین نے عموماً نقاب اوڑھا ہوتا ہے

اتوار، 13 ستمبر، 2026

عباسی شہید ہسپتال کل اور آج کے آئینے میں

 



عباسی شہید ہسپتال کل اور آج کے آئینے میں8 ستمبر  2026ء کی خاص خبر جو وطن عزیز کے دو موقر روزناموں میں چھپی- کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے سب سے بڑے طبی مراکز میں شمار ہونے والے عباسی شہید اسپتال میں گزشتہ 10 سال سے ایم آر آئی کی سہولت غیر فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔اسپتال میں نصب ایم آر آئی مشین 2016 میں خراب ہوئی تھی، تاہم ایک دہائی گزرنے کے باوجود مشین کی مرمت یا بحالی ممکن نہیں ہوسکی۔ایم آر آئ مشین کی اہمیتْ   ایم آر آئی (MRI - Magnetic Resonance Imaging) مشین انسانی جسم کے اندرونی حصوں کی تفصیلی تصاویر لینے کے لیے طاقتور مقناطیس (Magnets)، ریڈیو لہروں (Radio Waves) اور کمپیوٹر کا استعمال کرتی ہے۔ اس میں کسی قسم کی نقصان دہ شعاعیں (جیسے ایکس رے یا سی ٹی اسکین میں ہوتی ہیں) استعمال نہیں ہوتیں۔یہ مشین بنیادی طور پر درج ذیل چار مراحل میں کام کرتی ہے:1. طاقتور مقناطیسی میدان (Magnetic Field)انسانی جسم کا تقریباً 70 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے، اور پانی میں ہائیڈروجن کے ایٹمز (Protons) ہوتے ہیں۔عام حالت میں یہ پروٹونز جسم میں مختلف سمتوں میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔جیسے ہی مریض کو ایم آر آئی مشین کے اندر لے جایا جاتا ہے، مشین کا انتہائی طاقتور مقناطیس ان تمام پروٹونز کو ایک سیدھ میں (ایک لائن میں) کر دیتا ہے۔2. ریڈیو لہروں کا استعمال (Radio Waves)پروٹونز کے سیدھے ہونے کے بعد، مشین جسم کے مطلوبہ حصے کی طرف ریڈیو فریکوئینسی (RF) کی لہریں چھوڑتی ہے۔یہ لہریں ان پروٹونز سے ٹکراتی ہیں اور انہیں اپنی جگہ سے تھوڑا سا ہٹا یا "ڈسٹرب" کر دیتی ہیں۔3. سگنل کا اخراج (Releasing Signals)جب ریڈیو لہروں کو بند کیا جاتا ہے، تو پروٹونز دوبارہ اپنی اصل مقناطیسی پوزیشن میں واپس آنے لگتے ہیں۔اپنی اصل جگہ واپس آتے ہوئے یہ پروٹونز خود سے کمزور ریڈیو سگنلز خارج کرتے ہیں۔


اس سارے عمل میں جسم کے مختلف حصے (جیسے ہڈیاں، پٹھے، یا چربی) مختلف رفتار سے اپنی جگہ واپس آتے ہیں، اس لیے ان کے سگنلز بھی الگ الگ ہوتے ہیں۔4. کمپیوٹر امیجنگ (Image Creation)مشین میں لگے ہوئے سینسرز ان سگنلز کو ریکارڈ کرتے ہیں اور کمپیوٹر کو بھیجتے ہیں۔کمپیوٹر ان سگنلز کا حساب لگا کر جسم کے اندرونی حصے کی انتہائی واضح اور تھری ڈی (3D) تصویر تیار کر دیتا ہے۔ ایم آر آئی ایک انتہائی اہم تشخیصی عمل ہے جس کے ذریعے دماغ، ریڑھ کی ہڈی، جوڑوں اور جسم کے دیگر پیچیدہ مسائل کی بروقت تشخیص ہوتی ہے۔ اس سہولت کی عدم دستیابی کے باعث غریب مریضوں کو جناح اور سول اسپتال جیسے دیگر مراکز کا رخ کرنا پڑتا ہے۔شہریوں نے اسپتال میں جاری اس بدانتظامی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 10 سال کا طویل عرصہ کسی مشین کی خرابی دور کرنے کے لیے نامناسب ہے -شہریوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک سرکاری اسپتال کی اہم مشین 10 سال سے خراب ہے


 اور افسوس کا مقام  ہے کہ حکو مت نے مکمل سرف نظر کیا ہوا ہے جس کی بناء پر عوامی حلقوں نے میئر کراچی اور کے ایم سی حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پرانی مشین اب قابل مرمت نہیں رہی تو فوری طور پر نئی ایم آر آئی مشین فراہم کی جائے تاکہ مریضوں کی مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ عباسی شہید اسپتال کراچی کا ایک بڑا سرکاری طبی مرکز ہے جہاں روزانہ بڑی تعداد میں مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ ایسے میں ایک بنیادی تشخیصی سہولت کا 10 سال سے بند ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔ شہرِ قائد کے سب سے بڑے طبی مراکز میں سے ایک عباسی شہید اسپتال میں ایم آر آئی کی اہم تشخیصی سہولت گزشتہ 10 برس سے مکمل طور پر غیر فعال ہے جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسپتال انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ یہ مشین 2016 میں خراب ہوئی تھی، تب سے اب تک اسے ٹھیک نہیں کیا جا سکا۔


انتظامیہ نے اس تشویشناک صورتحال پر میئر کراچی کو بارہا خطوط لکھے اور اعلیٰ حکام کو اس سنگین مسئلے سے آگاہ کیا، لیکن تاحال کے ایم سی کی جانب سے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔اسپتال انتظامیہ نے بھی مشین کی طویل عرصے سے خرابی کی تصدیق کردی ہے۔ جس کے بعد مشین کو قابل استعمال بنانے کے لیے مختلف اوقات میں ماہرین اور متعلقہ ٹیموں نے اسپتال کا دورہ کیا۔ تاہم مسئلہ حل نہیں ہوسکا اور ایم آر آئی کی سہولت مسلسل بند رہی۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مشین کا معائنہ کرنے والی ٹیموں نے اس کی خرابی اور درکار مرمت کے حوالے سے کے ایم سی کو بھی آگاہ کیا جبکہ اسپتال کی جانب سے بھی اس معاملے پر کئی مرتبہ میئر کراچی کو بھی خطوط لکھے جاچکے ہیں ۔مشین طویل عرصے سے آؤٹ آف آرڈر ہونے کے باعث ایم آر آئی وارڈ بھی مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔

منگل، 8 ستمبر، 2026

مخملیں وادیوں کی سر زمین 'جنت ارضی کشمیر

 



:   کشمیر صرف ایک جغرافیائی خطے کا نام نہیں، بلکہ یہ قدرت کے حسن کا وہ شاہکار ہے جہاں پہنچ کر انسان دنیا  کو بھول جاتا ہے۔ اس کی حسین وادیاں اور خوبصورت جھیلیں رہتی دنیا تک انسانوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی رہیں گی، اور یہی وجہ ہے کہ اسے بلا مبالغہ 'زمین پر جنت ' کہا جاتا ہے۔کشمیر کی اصل خوبصورتی اس کی مخملی وادیوں میں چھپی ہے۔ وادیِ کشمیر چاروں طرف سے ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑوں سے گھری ہوئی ہے۔ یہاں کے گھنے چیڑ اور دیودار کے جنگلات، ہریالی سے لہراتے ہوئے میدان اور بل کھاتے ہوئے ٹھنڈے پانی کے چشمے انسان کو دنگ کر دیتے ہیں۔ گلبرگ، پہلگام اور سونامبرگ جیسی وادیاں اپنی ہریالی اور دلفریب مناظر کی وجہ سے دنیا بھر کے مسافروں کے دل موہ لیتی ہیں۔ سردیوں میں جب یہ وادیاں برف کی سفید چادر اوڑھ لیتی ہیں، تو ان کا حسن مزید نکھر جاتا ہے۔ یہ خطہ اپنی بے مثال قدرتی خوبصورتی، فلک بوس برف پوش پہاڑوں، سرسبز وادیوں،اسمان سے باتیں کرتے  بلند و بالا  چنار کے درختوں  اور شیشے کی طرح چمکتی جھیلوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ کائنات کے اس حسین ترین حصے کو دیکھنے کے لیے ہر سال لاکھوں سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔                کے ضلع پونچھ میں راولا کوٹ سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بنجوسہ جھیل کو پاکستان کے بہترین سیاحتی مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔راولا کوٹ سے آدھے گھنٹے کے فاصلے پر گھنے جنگلات میں واقع بنجوسہ جھیل کی خوبصورتی دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہے، سر سبز وادی میں گھری جھیل سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بنی رہتی ہے۔جھیل کے ارد گرد گھنے جنگل اور پہاڑوں نے اسے اور بھی دلکش بنا دیا ہے، جھیل کے اطراف پھیلا ہوا سبزہ ہی سبزہ، تازا ہوا اور نیلا پانی سیاحوں کی تسکین کا باعث بنتا ہے،



 بنجوسہ جھیل   پر سیر کے لئےآنے والے بوٹنگ سے بھی خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔یہاں گرمیوں میں بھی موسم خوش گوار رہتا ہے جبکہ سردیوں میں شدید سردی ہوتی ہے اور درجۂ حرارت منفی 5 سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے، دسمبر اور جنوری میں برف باری بھی ہوتی ہے۔بنجوسہ جھیل میں سیاحوں کی آمد سارا سال جاری رہتی ہے، جن کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ مل کر سیاحوں کو بھی جھیل کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے تاکہ قدرت کے اس شاہکار کا حسن ماند نہ پڑے۔بنجوسہ جھیل کی خوبصورتی کا خیال رکھتے ہوئے آزاد کشمیر میں سیاحت کو مزید فروغ دیا جاسکتا ہے تاکہ قدرت کے دیے ہوئے اس تحفے سے  جس طرح کشمیر قدرتی مناظر کا گہوارہ ہے اسی طرح وہاں کی گھریلو دستکاریاں بھی قابلِ تعریف ہیں۔ ان کی مختلف دستکاریاں بھی قابلِ تعریف ہیں۔ ان کی مختلف دستکاریاں جیسے سونے چاندی کا کام، ریشمی پٹو، پیپر ماشی کشیدہ کاری، شال، دوشالے، گبّے، قالین، نمدے، وڈکارونگ، پوشتین وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں کشمیری ہاتھ سے تیار کرتے ہیں۔ تیاری کے بعد ان میں اتنی کشش ہوتی ہے کہ ہر دیکھنے والا محو ہو جاتا ہے۔ چونکہ کشمیر ایک نہایت حسین اور دل خوش کن جگہ ہے، اس لئت یہاں تمام دنیا سے سیاح آتے ہیں اور وہاں کی ان خوبصورت دستکاریوں کے کچھ نمونے اپنی واپسی پر اپنے ساتھ ضرور لے جاتے ہیں۔ آج کشمیری کھریلو دستکاری کی چیزوں کی مانگ کافی بڑھ رہی ہے۔




 اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں کی دستکاری مقبولیت حاصل کر رہی ہے-برتن بنانا:- سونے چاندی اور تانبے کے برتن بنانا کشمیری کھریلو صنعت میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ تھال، گلدان، کٹوریاں، سگریٹ کیس، چمچے، ٹی سٹ وغیرہ بڑے نفیس تیار کئے جاتے ہیں۔ ان پر بڑے خوب صورت انداز میں مرصع  کاری اور مینا کاری کررے ہیں-شال دوشالے:- ساری دنیا میں کشمیری شال اور دوشالے اپنی خوبصورتی کی وجہ سے کافی مشہور ہیں۔ اور ان کے بنانے والے کاریگر تعریف کے قابل ہیں۔ ان شالوں اور دوشالوں پر جو کشیدہ کاری کی جاتی ہے ان کی نفاست اور خوبصورتی دیکھتے ہی بنتی ہے۔ یہ شال دوشالے لداخی بھیڑوں کی اُون سے تیار کی جاتی ہیں۔ لداخی بھیڑوں کے اُون دیگر جگہ کی بھیڑوں سے بہتر ہوتا ہے۔: کشیدہ کاری:- اس کام کے لئے خاص طور پر سرینگر بہت مشہور ہے۔  پیپر ماشی:- یہ صنعت بھی کشمیریوں میں بہت مقبول ہے۔ پھٹے پُرانے چیتھڑوں یا گلے سڑے ردّی کاغز کے ٹکڑوں کو ایک برتن میں سڑاکر ان کی لگدی مٹی کی طرح بناتے ہیں پھر اس لگدی کو مختلف قسم کے سانچوں میں ڈھال کر مختلف خوبصورت اور عمدہ چیزیں بناتے ہیں۔ خاص طور سے سُرمے دانی، زیورات کے ڈبے، قلمدان، پھولدان، ڈبّے، سگار بکس وغیرہ۔ پھر ان پر عمدہ قسم کی نقاشی کرتے ہیں بعد میں وارنش کرکے تیار کر دیتے ہیں جو بہت دیدہ زیب ہوتی ہے۔ لوئیاں اور پٹّو:- کشمیر میں عورتیں چاہے وہ بڑے گھر کی ہو یا چھوٹے۔ سردی کے موسم میں اُون کاتیں ہیں۔ اور مرد اس اُون سے لوئیاں اور پٹّو تیار کرتے ہیں۔ یہ کام ساری وادی میں کیا جاتا ہے۔ لدّاخ میں بھی پٹّو اور کمبل کا کام ہوتا ہے۔ وُڈ کارونگ:- یہ کام بھی کشمیر کی بہترین دستکاری میں شمار ہوتا ہیں۔ چنار کی لکڑی اور اخروٹ کی لکڑی پر کھُدائی کا کام بڑے خوب صورت ڈھنگ سے کیا جاتا ہے۔ طرح طرح کے بیل بوٹے بنائے جاتے ہیں۔ پھر ان پر مرصّع کاری کی جاتی ہے۔


ان لکڑیوں سے میز، کرسیاں، سگار بکس، صندوق، ٹیبل لیمپ وغیرہ تیار کئے جاتے : نمدہ سازی اور قالین بنانا:- کشمیریوں کے گھروں میں نمدہ سازی، قالین بنانا، گبّے بنانا بھی ایک بہترین دستکاری ہے۔ سرینگر میں نمدے بنائے جاتے ہیں اور اننت ناگ میں گبّے بنائے جاتے ہیں۔ قالین بنانے کا کام بھی سرینگر میں کیا جاتا ہے۔ نمدوں اور گبّوں پر کشیدہ کاری بھی کی جاتی ہے-: ولو ورکس:- چھڑیاں، ٹفن بکس، ٹوکریاں وغیرہ بید کے چھلکوں سے اعلٰی پیمانے پر کرتے ہیںسرینگر اور جمّوں میں کرکٹ کے بلّے بنانے کے کار خانے ہیں جو بید کی لکڑی سے تیار کئے جاتے ہیںپوستین بنانے کے لئے بلّی، لومڑی اوع چیتے کی کھال بھی استعمال کرتے ہیں۔چھنیٹ کا کام:- اس کام کے لئے سرینگر، سانبہ، جموّں، اننتناگ اور بارمولہ بہت مشہور ہیں۔ بڑے دلکش ڈیزاین بنائے جاتے ہیں۔پتھر کا کام:- کشمیری پتھر کے کام کرنے میں بھی ماہر ہیں۔ یہ پتھروں سے مالا، ہار، کانٹے اور آرائش کی دیگر چیزیں تیار کرتے ہیں۔غرض یہ کہ کشمیر کی کھریلو دستکاری فائدہ مند ہے خوبصورت ہے دلکش ہے اور سجاوٹ -ڈل جھیل سری نگر کے مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے ڈل جھیل سری نگر کے مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے، جسے اکثر "شہر کا دل" کہا جاتا ہے۔ اس کی پرسکون سطح نیلے آسمان اور برف پوش پہاڑوں کی عکاسی کرتی ہے، ڈل جھیل زائرین کو مکمل سکون کا احساس فراہم کرتی ہے۔ زائرین شکارا کی روایتی کشتیوں کی سواریوں کا تجربہ کر سکتے ہیں، رنگین تیرتے بازاروں سے گزر سکتے ہیں، یا جھیل پر واقع پرتعیش ہاؤس بوٹس میں آرام کر سکتے ہیں۔صرف ایک خوبصورت قدرتی جگہ سے زیادہ، ڈل جھیل مقامی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ ماہی گیر، کشتیوں پر تجارت کرنے والے تاجر، اور شکارہ کشتی کشمیری ثقافت کی ایک متحرک ٹیپسٹری تخلیق کرتے ہیں۔ سردیوں میں، جب جھیل جم جاتی ہے، تو یہ آئس سکیٹنگ کا ایک مثالی مقام بن جاتا ہے، جو گرمیوں سے بالکل مختلف منظر پیش کرتا ہے۔

اتوار، 6 ستمبر، 2026

زرا عمررفتہ کو آواز دینا -میری کہانی میری زبانی

 

  شادی کے بعد ہم نے چالیس روپئے ماہانہ کرائے پر اپنی ضروریات کے مطابق  امی    جان کے گھر کے قریب    ایک مکان لے کر زندگی کی ابتداء کی ,مکان کی مکانیت یہ تھی ایک بیڈ روم ایک بیڈروم کے ہی اتنا برامدہ اور اتنا ہی بڑا آنگن  ایک چھوٹا سا کچن غسل خانہ  اورعلیٰحدہ سے   ٹوائلٹ  -یہی اس زمانے کا رواج تھا اس مکان کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ ہماری مالک مکان ہمارے ہی ساتھ والے گھر میں رہتی تھی جو بہت با اخلاق خاتون تھیں  اور میرا بہت خیال رکھتی تھیں  ان دنوں میرا اسکول چل رہا تھا اس لئے میں اکثر چھٹی کے بعد  اپنے میکے چلی جایا کرتی کبھی اپنے ہی گھر آجاتی تھی ,,اس وقت اپنی شادی شدہ زندگی کی زمّہ داریوں کو نباہنے کے ساتھ ساتھ   میری توجّہ کا مرکز میری والدہ اور چھوٹے بہن بھائ ہو ا کرتے تھے اور میری پوری کوشش ہوتی تھی کہ میں کسی بھی صورت وقت نکال کر اپنی پیاری ماں کی کوئ تو خدمت کر کے گھر واپس آجاؤن ،میں نے دیکھا کہ اللہ پاک شکر خورے کو شکر ضرور دیتا ہئے چنانچہ اس مالک کے کرم سےمیری شادی کے   بعد ہی   انیّس سو پینسٹھ میں ہی والد صاحب  نے بینکنگ کا ایک امتحان پاس کیا اور ابا جان کی ترقی ہوئ اس ترقی سے ابا جان کو بنک کی جانب سے   بنگلے کی رہائش کی آ فر ہوئ اور  میرے والدین  لالوکھیت کے مکان سے اٹھ کرفیڈرل بی ایریا کے علاقے میں  دو سو چالیس گز کے بنگلے میں  دستگیر نمبر نو میں آگئے،والدہ جیسے ہی فیڈرل بی ایریا شفٹ ہوئیں انہوں نے مجھے بھی اپنے برابر کے مکان بلاکر رکھ  لیا فیڈرل بی ایریا ان دنوں نیا نیا آباد ہونا شروع ہواتھاہمارے  گھر سے بلکل قریب  اونچے اونچے درختوں کی باڑھ تھی اور اس باڑھ کے اندر تازہ سبزیوں کے کھیت ہوا کرتے تھے -ان کھیتوں کی آبیاری کے لئے صبح منہ اندھیرے رہٹ چلا کرتی تھی -


وہ سبزیاں  سبزی والے  کھیتوں سے لے کر اپنے اپنے ٹھیلوں پر  سجا  کر گلی کوچوں میں بیچا کرتے تھے  آ م کا موسم قریب آنے پر کوئل کی کوک وہ بھی صبح صادق میں بہت ہی پیاری سنائ دیتی تھی اور یہاں کے مکانات  بھی  ہرے بھرے درختوں کے درمیان اور لہلہاتے کھیتوں کے قریب ترتیب میں بھی اچھّے لگتے تھے اور رہائش کے لئے بھی کشادہ تھے  یہ نئ بستی    مجھے  اسوقت  کی ڈیفنس سوسائٹی دکھائ دیتی تھی   چنانچہ والد صاحب جو جہد مسلسل سے وابستہ رہتے ہوئے ترقّی کی جانب گامزن تھے ہما را یہ گھر کرائے کا تھا لیکن والد صاحب نے جلد ہی پھر بنکینگ کا امتحان پاس کیا اس کامیابی نے محض پانچ برس کی قلیل مدت میں  ان  کو  دوسو چالیس گز کے  بنگلے  سے اٹھا کر نارتھ ناظم آباد بلاک ڈی  بابلعلم کی بیک پر  پانچ سو گز کے  اپنے زاتی بنگلے میں بٹھا دیا میری والدہ  ایف بی ایریا میں پانچ سال رہیں اور میں انکے ہمراہ دوسرے گھر مین رہتی رہی اس طر ح پورے پانچ سال گزر گئے  ،لیکن پانچ سالوں  بعدجب مجھے محسوس ہوا کہ اب میں کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہوں تب میں نے قلم کا سفر شروع کیا میرے قلمی سفر کی ابتداء  جنگ اخبار میں معاشرتی موضوعات سےہو ئ لیکن  جلد ہی  افسانہ نگاری شر وع کی

 

افسانہ نگاری کا سفر طویل رہا ،پاکیزہ ،دوشیزہ جنگ ڈائجسٹ ،حنا ،آنچل اخبار جہاں سچّی کہانیا ں آئیڈئیل اور بھئ کئ جن کے نام بھی زہن میں نہیں ہیں ان میں لکھتی رہی ،میرا خیال ہئے کہ آج کے دور میں ناول کے مقابلے میں افسانہ زیادہ پڑھا جانے والا ادب ہئے لیکن ناول پڑھنے والے بھی کم نہیں ہیں ،شائد افسانہ نگاری کی جانب میری زیادہ توجّہ کا سبب بھی یہی ہو کہ افسانہ لکھنا مجھے ناول کی نسبت ہمیشہ آسان لگا در اصل میرے خیال میں ناول ایک بڑی اور کشادہ زہنی کی تخلیق ہوتا ہے ،اور میں اپنی گونا گوں زمّے داریوں کے سبب بڑی سوچ پر آنا نہیں چاہتی ہوں یہاں کینیڈا میں میری اون لائن ناول میں سہاگن بنی !مگر، عالمی اخبار کی زینت بنی ، یہ ناول در حقیقت میں نے پاکستان میں روز افزوں بڑھتی ہوئ شرح'' طلاق''' جیسے ناروا و ناپسندیدہ امر پر لکھی اس کے لکھنے کا مقصد نوجوان نسل کو پیغام دینا تھا کہ شادی ہوجانے  کے بعد ایک دوسرے کی کوتاہیوں اور کمزوریو ں کو نظر انداز کرتے ہوئے گھر کی بنیاد کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں،اسی طرح میری کوشش یہی ہوتی ہئے کہ میں اپنی افسانوی تحریروں کے زریعے اپنے سماج کو کوئ ایسا مثبت پیغام دے سکوں جو پڑھنے والے کی رہ نمائ کا باعث ہو  افسانہ نگاری کا لم نویسی آج بھی  جاری ہئے افسانہ نگاری نا ول نویسی معاشرتی مضامین کچھ روحانیت کے کام  پر بھی توجّہ ہئےاس کے علاوہ ایک دستر خوان بھی شمع کا دستر خوان کے نام سے بازار میں آیا ،میرے ایک افسانو ی مجموعے رنگ شفق کی یہاں کینیڈاایڈمنٹن میں ہی ملٹی کلچرل  کونسل کی روح رواں محترمہ صوفیہ یعقو ب صاحبہ نے رونمائ کروائ اور ٹورانٹو سے کہنہ مشق ادیب و شاعرجناب تسلیم الٰہی زلفی نے میرے اس مجموعے پر تبصرہ لکھا 


یہ مجھ جیسی کم علم رکھنے والی طالبہ کے لئے ایک یقینی  اعزاز کی بات ہے بات یہ ہئے کہ انسان سماج میں رہتے ہوئے کبھی اکیلا کچھ نہیں کر سکتا ہئے اس کو ہر حال میں سہاروں کی ضرورت ہوتی ہئے رہبری بھی چا ہیے ہوتی ہئے ،یہ میری خوش   انوار علیگی   کی شکل   میں -میری  خوش  قسمتی ہئے کہ مجھے تمام عمر ،اچھّے راہبر ،اور اچھّے استاد میسّر آئے جنہوں نے فراخ دلی سےمیری بھرپور رہ نمائ کی اور ادب کی دنیا میں مجھے قدم جمانے کے موقع فراہم کئے-کبھی قبلہ رئیس امروہوی کی            شکل میں   

بدھ، 2 ستمبر، 2026

کلو چھولے والے کی شادی پارٹ 1(اشاعت مکرر)

 


اب میں اپنے قارئین کو ا پنی زندگی کے وہ اوّلین دن بتانے چلی ہوں جو بہت پر مشقّت تو تھے لیکن بچپن کی انوکھی آرزؤں سے معمور تھے ،ہمارے چاروں جانب ہندوستان کے شورش زدہ علاقوں سے آیا ہوا سماج تھا -بڑے بڑے  قابل نام بھی تھے اور بہت چھوٹے چھوٹے سماجی حیثیت  والے لوگ بھی جو اپنی جانیں بچا کر پاکستان کی  آ بسے تھے -انہی  لوگوں میں  ایک گھر ایسا بھی تھا جس کے  دو ہی نفوس تھے ایک بوڑھی ماں اور ایک اس کا بیٹا جن کی گزر بسر کے لئے بس ایک چھولے کا ٹھیلا تھا  -اس زمانے میں جب کسی گھر میں شادی ہوتی تھی تو رات کے وقت ڈھو لک کی محفل ضرور سجتی تھی اور میرے پیروں میں پہئے لگ جاتے تھے کہ کس طرح میں اس گھر میں پہنچ جاؤں جہاں ڈھولک بج رہی ہے ،مقصد واحد ہوتا تھا کہ ڈھول بجانے ولی لڑکی کی انگلیاں کس طرح چل رہی ہیں خود دیکھوں اور سیکھوں مگر یہ شوق آ ج بھی ناتمام ہی رہی-ابّا جان تو رات کے وقت گھر سے قدم نکالنے کے ہی سخت مخالف تھے اور امّی جان ابّا جان کے تابع تھیں، میری عمر یہی کوئ سات یا آٹھ برس کے دور میں تھی ایسے میں ہمارے سامنے والے محلّے کے ایک گھر سے مجھے دن کے وقت ڈھولک بجنے کی آواز آئ اور میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ ابّا جان تو گھر پر نہیں ہیں مجھے اجازت دے دیجئے



بس امّی جان نے اجازت د ی اور میں نے جھٹ پٹ چھوٹے بھائ کوگود میں اٹھایا اور چند منٹ میں کلّو چھولے والے کے گھر پہنچ گئ ،میں بھائ کے بغیر گھر سے قدم نکالنے کی بھی مجاز نہیں تھی کیونکہ وہ ڈھائ برس کی جان میری واپسی تک امّی جان کا جینا حرام کردیتا ،-بہر حال میں نے گلی میں نکل دیکھا  ڈھولک کی آواز کدھر سے آری ہے اچانک میری نظر ٹہری تو  مجھے  کلو چھولے والے کے  گھر کے اندر  عورتیں جاتی نظر آئیں  اس وقت کلٰو چھولے والے کا گھر مجھے دور سے ہی پرستان کے شہزادے کا گھر دکھا ئ دینے لگا گھر کے اندر باہر بلاروک ٹوک آنا جانا لگا ہوا تھا میں بھی اسی آپا دھاپی میں اندر پہنچ کر شادی کے گھر کے مناظر کے مشاہدے میں لگ گئ --کچّے آنگن میں ایک طرف کوری ہانڈی میں پانی کے اندر ننھی ننھی مچھلیاں تیر رہی تھیں میں نے ہانڈی میں جھانکا اور پھر گود میں موجود بھائ کو مچھلیاں دکھائیں دوسری طرف بڑے سے تھال میں سل پر پیسی گئ کچّی مہندی بھیگی ہوئ تھی جس کی سوندھی خوشبو گلی کے اندر دور تک مہک رہی تھی اور ساتھ ہی مہکتے چنبیلی کے تیل میں ابٹن کی خوشبو بھی ملی جلی تھی-گھر کے کچّے آنگن کی ملتانی مٹّی سے شائد رات کو ہی لپائ کی گئ تھی آنگن بلکل صاف ستھرا تھا


اور اب اس پرگھر کی عورتیں ایک رسم ادا کرنے جا رہی تھیں یعنی لال رنگ کے بھیگے ہوئے گیرو اور صندل کے آمیزے میں سات سہاگنوں کے ہاتھ ڈبو کر ان کو آنگن کی دیوار پر چھاپنا تھا ،بڑی بوڑھی کا سختی سے حکم تھا کہ خبر دار ہاتھ الگ الگ تھال پر نا پڑے اور ٹیڑھا میڑھا بھی نا پڑے یہ سب بد شگونیاں سہاگ بھرے بھاگ کے گھر میں بد شگونیاں مانی جاتی ہیں-اس رسم کو پہلی دفع ہی دیکھنے کا میرا اتّفاق تھا گھر کی سب سے بڑی بوڑھی خاتون کو لا کر چار پائ پر بٹھا یا گیا اور گیرواور صندل کا سرخ آمیزے سے بھرا تھال ان کے آگے رکھ دیا گیا ساتھ ہی گڑ کا اور مرمروں کا بڑا سا تھا ل آیا اور پھرڈھولک کی تھاپ پر عورتوں نے کوئ اپنی دیہاتی زبان میں گیت گانا شروع کیا ساتھ ہی آوازیں بھی دی جانے لگیں اری او کہاں ہے آ ری آ ،آج ہمرے دوارے سہاگن آئ گیو رے ، عورتیں آتی گئیں ڈھول بجتی رہی اور صندل اور گیرو کے چھاپے دیوار کو سجاتے رہے


 کلّو چھولے والے کا تعارف تو رہ ہی گیا یہ ایک بمشکل بیس بائیس سال کا انتہائ درجے کا سانولا لیکن دلکش نقوش والا نوجوان تھا ،جو ٹھیک دس بجے دوپہر سے پہلے اپنی ماں کے ہاتھ کے تیّار کئے ہوئے مزیدار چٹ پٹے چھولے کا ٹھیلا لے کر لب سڑک ہمارے گھر سے کچھ فاصلے کھڑا ہوجاتا تھا اور اس کے چھولے اتنے مذیدار ہوتے تھے کہ دوپہر کو یہ گھر واپس چلاجاتا تھا مجھے یا د ہے جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا تو بڑی حیرت سے دیکھتی رہی تھی سرسوں کے تیل میں چپڑا ہوا سرجس کے بال بلکل جٹ سیاہ اس پر سرسوں کے تیل کی اس کے ماتھے تک آئ ہوئ بہار، بڑی بڑی آنکھیں جن میں بہتا کاجل رچا ہوا ،لیکن وہ اپنے اطراف سے بیگانہ اپنے چھولوں کی دنیا میں مگن سر جھکا کے آتا اور سر جھکا کے واپس جا تا جب اس کی شادی ہوئ تب مجھے معلوم ہوا کہ یہ اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھا اور اس کی ماں نانی اور خالائیں اس کی شادی پر اپنے اپنے ارمان پورے کر رہی تھیں - خیر میری دلچسپی کا ساما ن اس گھر کی رسمیں تھیں میں جن کو دل و جان سے دیکھ بھی رہی تھی اور نگاہوں کے راستے حفظ بھی کر رہی تھی-  -بہر حال میرا بچپن کا ایک انتہائ شوق تھا کہ میں کسی طرح ڈھولک بجانا سیکھ جاؤں

منگل، 1 ستمبر، 2026

سانحہ نیپال

   قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال، جنگلات کی کٹائی، آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے اسباب نے قدرت کے نظام میں ایسی دراڑیں پیدا کردی ہیں جن کے نتائج اب دنیا کے سامنے ہیں۔ اس اعتبار سے نیپال کا سانحہ محض نیپال کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک انتباہ ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کے شمالی علاقے میں پہار کے ٹوٹنے کا سانحہ پیش آ چکا جس نے پوری جیتی جاگتی بستی کو  نگل لیا تھا -بات یہ ہے کہ پاکستان بھی قطبی علاقوں کے علاوہ دنیا کے سب سے بڑے برفانی ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، بالخصوص قراقرم اور ہمالیائی سلسلہ کوہ میں موجود گلیشیئرز ہمارے آبی مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، مون سون کے بدلتے ہوئے انداز اور سرحد پار دریاں کے پانی کا انتظام ایسے معاملات ہیں جن کا تعلق براہِ راست ہماری قومی سلامتی اور مستقبل سے ہےانسانی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبیں اس وقت عروج پاتی ہیں جب وہ عقل، بصیرت اور دوراندیشی سے کام لیتی ہیں، اور اس وقت زوال کا شکار ہوتی ہیں جب ان کے سامنے موجود واضح نشانیاں اور انتباہات نظرانداز کر دئیے جاتے ہیں۔اگرانسان قدرت کے ساتھ بے اعتدالی کا سلوک جاری رکھتا رہا، اگر اقوام موسمیاتی تبدیلی اور آبی وسائل جیسے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہیں، تو آنے والی نسلوں کے لیے اس سے بھی بڑے سانحات منتظر ہوسکتے ہیں۔ سوچئے زرا  جب  فطرت مسکراتی ہے تو پہاڑوں پر سبزہ اترتا ہے، دریاں میں زندگی دوڑتی ہے اور وادیاں گیت گاتی ہیں؛ لیکن جب یہی اللہ  کے  جلال کا ایک رخ دکھاتی ہے تو پہاڑ بھی گویا رو پڑتے ہیں، وادیاں ماتم کدہ بن جاتی ہیں اور انسان اپنی تمام تر قوت، علم اور غرور کے باوجود اپنی بے بسی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانیت کو ہر قسم کی آفت، وبا، سیلاب، زلزلے اور قدرتی و انسانی تباہی سے محفوظ فرمائے،


اقوام کو عدل، تعاون اور باہمی احترام کی راہ دکھائے، ہمیں قدرت کے انتباہات کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، اور پاکستان سمیت پوری دنیا کو ایسے فیصلے کرنے کی بصیرت دے جو آنے والی نسلوں کے لیے امن، پانی، ماحول اور زندگی کو محفوظ بنا سکیں۔ آمین  صبح 8 بج کر 37 منٹ قریب قریب نیپال اور چین کی سرحد کے قریب، کھٹمنڈو کے شمالی علاقے میں شام جھٹکے محسوس کرتے محسوس ہوئے۔ جیولوجیکل ابتدائی طور پر اس سمندر کو 4. شدید زلزلے سے تعبیر کیا گیا تھا، تاہم اس کے بعد مزید تجزیوں کے مختلف قرار دیے جانے کے بعد یو ایس جی ایس کے مطابق اس علاقے سے برف اور چٹانوں کا ایک بہت بڑا ملبہ نیچے آیا اور لدھیاں کھولا دریائے جا گرنے میں۔ یہ دریا آگے جاکر بھوٹے کوشی دریا میں شامل ہے، جو چین سے نیپال کی طرف بہت زیادہ ہے جیولوجیکل ابتدائی طور پر اس سمندر کو 4. شدید زلزلے سے تعبیر کیا گیا تھا، تاہم اس کے بعد مزید تجزیوں کے مختلف قرار دیے جانے کے بعد یو ایس جی ایس کے مطابق اس علاقے سے برف اور چٹانوں کا ایک بہت بڑا ملبہ نیچے آیا اور لدھیاں کھولا دریائے جا گرنے میں۔ یہ دریا آگے جاکر بھوٹے کوشی دریا میں شامل ہوتا ہے، جو چین سے نیپال کی طرف سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر رسک کنٹرول اتھارٹی کے مطابق ملک کے تازہ ترین اعداد و شمار اور سیلاب میں تباہ کن لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہونے والی تعداد 734 ہو گئی۔یپال اور تبت کی سرحد پر واقع ہمالیائی خطے میں گلیشیئر کا پھٹنا یا ٹوٹنا کسی زلزلے کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ موسمیاتی تبدیلی avalanche) کا ایک ملا جلا اور پیچیدہ واقعہ تھا۔


 [1, 2, 3] (Climate Change)، پرما فراسٹ (برف جمی مٹی) کے پگھلنے اور چٹان و برف کے تودے گرنے (Ice-rockسائنسی تجزیات اور سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق یہ حادثہ درج ذیل وجوہات کی بنا پر پیش آیا:. گلیشیئر کا بڑا حصہ ٹوٹنا (Glacier Collapse)سمندر کی سطح سے تقریباً 5,200 میٹر کی بلندی پر واقع گلیشیئر (لانگ ٹانگ لیرونگ کے قریب) کا ایک بہت بڑا نچلا حصہ یکدم کٹ کر نیچے وادی میں جا گرا۔ ماہرین کے مطابق یہ حصہ تقریباً 1,300 میٹر چوڑا تھا اور یوں لگا جیسے کسی نے چاقو سے گلیشیئر کا نچلا دھڑ کاٹ کر پہاڑ سے نیچے پھینک دیا ہو۔ [1, 2, 3]2. بلندی سے گرنے کا شدید اثر (The Avalanche)برف اور چٹانوں کا یہ گرجتا ہوا تودہ تقریباً 1,200 میٹر (4,000 فٹ) نیچے موجود وادی (Lhende Khola) میں گرا۔ یہ اثر اتنا شدید تھا کہ زمین ہل گئی اور زلزلہ پیما مشینوں پر اس کی شدت 5.2 میگنیٹیوڈ ریکارڈ کی گئی، جسے شروع میں لوگ حقیقی زلزلہ سمجھ بیٹھے تھے۔  3. عارضی بند (Natural Dam) اور اس کا پھٹنا-جب لاکھوں ٹن برف، مٹی اور بھاری چٹانیں تیز رفتاری سے نیچے دریا کی وادی میں گریں، تو انہوں نے وہاں بہنے والے دریا کا راستہ عارضی طور پر روک دیا اور ایک قدرتی بند یا جھیل بن گئی۔ چند ہی منٹوں میں پیچھے پانی کا دباؤ اس حد تک بڑھ گیا کہ یہ کمزور عارضی بند دھماکے سے پھٹ گیا۔ 4. مٹی اور پتھروں کا سونامی (Tsunami of Dirt)ند ٹوٹنے سے پانی، پگھلی ہوئی برف، کیچڑ اور دیو ہیکل چٹانوں کا ایک خوفناک ریلا 190 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی زیادہ کی رفتار سے نیچے کی طرف بڑھا۔ چونکہ یہ مون سون کا موسم تھا اور زمین پہلے ہی پانی سے بھری ہوئی تھی، اس لیے اس ریلے نے راستے کی مزید مٹی اور پتھروں کو اپنے اندر لپیٹ لیا۔ اسی وجہ سے صرف 30 منٹ کے اندر دریاؤں میں پانی کی سطح 9 میٹر (30 فٹ) تک بلند ہو گئی اور نیچے واقع بستیوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں  ملااورسب کچھ  تہس نہس  ہو گیا ۔ 

 

نیپال میں آفات سے نمٹنے کے سرکاری ادارے کے مطابق تبت، نیپال کے سرحدی علاقے میں آنے والے تباہ کُن سیلاب کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس سیلاب کے بعد 3,900 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں 600 سے زیادہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ دریائے تریشولی کے کنارے واقع پن بجلی منصوبوں پر کام کر رہے تھے اور سیلاب کے باعث ان منصوبوں سے منسلک سرنگوں میں کیچڑ بھر جانے کے باعث وہ وہاں پھنس گئے ہیں۔سرنگوں میں پھنس جانے والے ان 600 کے لگ بھگ ورکرز کی زندگیاں بچانے کے لیے مختلف ممالک کے ماہر انجینیئرز سرنگوں کے اندر ہوا پمپ کر رہے ہیں۔ اگرچہ امدادی ٹیم ایک سرنگ میں داخل ہونے میں کامیاب بھی ہوئی، تاہم وہاں کسی شخص کے نہ ملنے پر یہ ٹیم واپس لوٹ آئی۔نیپال کے ایک پن بجلی منصوبے پر کام کرنے والے 33 سالہ لاپتہ انجینیئر اورَس بھنڈاری کی اہلیہ انوشیلا بھنڈاری نے بی بی سی نیپالی سے گفتگو میں کہا کہ ’کاش ہم انھیں ڈھونڈ سکیں۔ کاش وہ گھر واپس آ جائیں۔‘سرنگوں میں موجود افراد کو بچانے کے لیے کی جانے والی امدادی کارروائیوں کی قیادت چین اور نیپال کے فوجی اہلکاروں پر مشتمل ایک بین الاقوامی ٹیم کر رہی ہے، جبکہ انڈیا، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کے ماہرین بھی اس آپریشن میں شریک ہیں۔

نیپال میں ہندو مسلم فسادات

   نیپال میں ہندوستانی مسلم فسادات، قوم کے کئی گھر، گاڑیاں نذرآتش     جنوبی نیپال کے ملحقہ سرحدی علاقے میں ہندوستانی اور مسلم برادریوں کے درمیان پرتشد فسادات پھوٹ پڑے، جن کے دوران متعدد مسلم آبادی بھارت کے علاقے، دکانوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور پھوٹ پھوٹ کا واقعہ پیش کیا۔ سنجیدگی ہوئی پیش نظر آپ نے غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فسادات کا آغاز ضلع سنساری کے علاقے دیوان گنج میں ایک  مذہبی کے دوران لاؤڈ اسپیکر  کو مذہبی نشانوں کے استعمال پر تلخ کلامی سے ہوا، جو بعد ازاں سنگ باری اور پرتشد تصادم میں تبدیل ہو گیا۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے؟ حکومت نے کہا کہ حکومت نے سختی سے عمل درآمد اور سوشل میڈیا کی نگرانی جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا  -بات یہ ہے کہ انتہا   پسند ہندوؤں کی جانب سے مسلسل  اشتعال انگیزی اور کوششیں  کی جا رہی  تھیں کہ مسلمانوں کو نقصان  پہنچایا جائے  پھر یوں ہوا کہ ہے کہ  انٹر نیٹ پر بھی دیکھا گیا  کہ مسلمان بزرگوں کی  داڑھیاں نوچی جا رہی ہیں اور ان کی تزلیل کی جا رہی ہے۔  مسلمانوں کے گھروں کو اور مساجد کو آگ لگائ گئ   1000 مسلمان شہید کئے گئے 100 مساجد اور قران پاک کو شہید کیا گیا -

 

کھٹمنڈو (صباح نیوز) جنوبی نیپال کے بھارت سے ملحقہ سرحدی اضلاع میں ہندو اور مسلم برادریوں کے درمیان پرتشدد فسادات پھوٹ پڑے، جن کے دوران متعدد علاقوں میں مسلم آبادی کے گھروں، دکانوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور توڑ پھوڑ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فسادات کا آغاز ضلع سنساری کے علاقے دیوان گنج میں ایک مذہبی جلوس کے دوران لاؤڈ اسپیکر اور مذہبی پرچموں کے استعمال پر ہونے والی تلخ کلامی سے ہوا، جو بعد ازاں سنگ باری اور پرتشدد تصادم میں تبدیل ہو گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق مشتعل ہجوم نے رہائشی علاقوں کا رخ کرتے ہوئے متعدد مکانات، دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی، جس کے باعث کئی خاندان اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔ پولیس اور مشتعل افراد کے درمیان جھڑپوں میں اب تک کم از کم 3 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔صورتحال پر قابو پانے کے لیے نیپال پولیس اور نیپال آرمی نے متاثرہ اضلاع میں فلیگ مارچ اور گشت شروع کر دیا ہے۔


 حکام کے مطابق املاک کو نقصان پہنچانے، گھروں کو نذر آتش کرنے اور تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ قانون ہاتھ میں لینے اور افواہیں پھیلانے والوں کی فوری گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔نیپال کی حکومت اور وزیراعظم نے عوام سے تحمل، مذہبی رواداری اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت نے متاثرہ اضلاع میں کرفیو پر سختی سے عمل درآمد اور سوشل میڈیا کی کڑی نگرانی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ اشتعال انگیز مواد اور افواہوں کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔ اگست کے آخری ہفتے تک کچھ ہندوستانی فسادات کے حق میں آگ لگنے کے بعد وہ اگست میں چھپے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ جھڑپوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔نیپال میں ایک احتجاج کے دوران ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کی گئی اور بعد ازاں اسے آگ لگا دی گئی۔ رپورٹس کے مطابق مسجد کے اندر موجود قرآنِ کریم کے نسخے اور احادیث کی کتابیں بھی جلا دی گئیں۔یہ واقعہ اس تباہ کن سیلاب سے تقریباً چار ہفتے قبل پیش آیا تھا جو بعد میں آیا 


بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فسادات کا آغاز ضلع سنساری کے علاقے دیوان گنج میں ایک مذہبی جلوس کے دوران لاؤڈ اسپیکر اور مذہبی پرچموں کے استعمال پر ہونے والی تلخ کلامی سے ہوا، جو بعد ازاں سنگ باری اور پرتشدد تصادم میں تبدیل ہو گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق مشتعل ہجوم نے رہائشی علاقوں کا رخ کرتے ہوئے متعدد مکانات، دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی، جس کے باعث کئی خاندان اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔ پولیس اور مشتعل افراد کے درمیان جھڑپوں میں اب تک کم از کم 3 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔صورتحال پر قابو پانے کے لیے نیپال پولیس اور نیپال آرمی نے متاثرہ اضلاع میں فلیگ مارچ اور گشت شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق املاک کو نقصان پہنچانے، گھروں کو نذر آتش کرنے اور تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ قانون ہاتھ میں لینے اور افواہیں پھیلانے والوں کی فوری گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔نیپال کی حکومت اور وزیراعظم نے عوام سے تحمل، مذہبی رواداری اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت نے متاثرہ اضلاع میں کرفیو پر سختی سے عمل درآمد اور سوشل میڈیا کی کڑی نگرانی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ اشتعال انگیز مواد اور افواہوں کا بروقت تدارک کیا جا سکے

 

ہفتہ، 29 اگست، 2026

پھول جو بن کھلے مرجھا گئے

 


پمز اسپتال سانحہ کیسے پیش آیا؟ پمز انتظامیہ نے ابتدائی رپورٹ تیار کرلی جس کے مطابق این آئی سی یو میں انکوبیٹر کے ساتھ آکسیجن کی مقدار بتانے والا نیبولائزر پھٹا۔ نیبولائزر پھٹنے سے آکسیجن نے آگ پکڑ لی۔رپورٹ کے مطابق آگ سے دھواں پیدا ہوا اور وہ پائپ کے ذریعہ بچوں کے سانس میں گیا، بچوں کی موت آکسیجن بند ہونے اور جھلسنے سے ہوئی، آگ پہلے کم تھی پھر تیزی سے پھیلی۔خیال رہے کہ پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں آگ لگنے سے 14نومولود بچوں کی جان چلی گئی، ریسکیو اور اسپتال انتظامیہ کے مطابق آگ ایئرکنڈیشنر کمپریسر پھٹنے کے باعث لگی، آکسیجن سلینڈرز کی موجودگی کے باعث آگ تیزی سے پھیلی، ایک نومولود کو بچا لیا گیا۔پمز اسپتال واقعے پر سب سے پہلے خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں، وزیر صحت مصطفی کمال  سانحے میں جاں بحق بچوں کی میتیں ورثا کو دے دی گئیں۔ والدین اور عینی شاہدین نے نرسری میں عملے کی غیر موجودگی اور دروازے بند ہونے کا الزام  عائد کرتے ہوئے ریسکیو اداروں کے دیر سے پہنچنے کی شکایت  کی۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز نے عملے کی غیر موجودگی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی یو میں 2 ڈاکٹرز، 4 نرسز اور دیگر عملہ موجود تھا، اسپتال میں تسلی بخش فائر سسٹم موجود تھا۔کھڑکیوں کے شیشے توڑ کر    لوگوں نے  اپنی مدد آپ کے تحت کام کیا - ایگزٹ ڈور پر تالے پڑے ہوئے  تھے ٹوٹے ہوئے  شیشوں والی کھڑ کیوں  سے لواحقین اپنے بچوں کی سوختہ  لاشوں تک پہنچے  اور لکڑی کی سیڑھی کے زریعہ  ان معصوم پھولو ں کی  میتیں اتار کر لائَے 


سی ڈی اے نے آگ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیموں کے فوری پہنچنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ آگ پر قابو پاتے ہوئے بچوں کو فوری آئی سی یو منتقل کیا گیا۔ضلعی انتظامیہ نے تحقیقات کے لیے 8رکنی انکوائری کمیٹی بنا دی، کمیٹی 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرے گی پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کی ابتدائی رپورٹ آگئی -پمز اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے کے افسوسناک واقعے کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی۔پمز اسپتال میں آگ لگنے کے واقعے سے متعلق انتظامیہ نے ابتدائی بیان جاری کردیا، جس کے مطابق آگ لگنے کا واقعہ صبح 6 بج کر 38 منٹ پر پیش آیا۔رپورٹ کے مطابق نرسری کے اندر چنگاری بھڑکی اور چند سکینڈ میں شدید آگ پھیل گئی، انکیوبیٹر پر آکسیجن پوائنٹس کے باعث آگ نے اچانک شدت اختیار کی۔پمز اسپتال کے کسی ڈاکٹر کو کچھ نہیں ہوا، صرف بچے جلنے تھے، جاں بحق بچے کی ماں کی دہائی-پمز انتظامیہ کے مطابق 2 ڈاکٹرز اور 2 نرسز نے ریسکیو آپریشن شروع کیا، سیکیورٹی عملہ بھی مدد کے لیے پہنچا، عملے نے بچوں کو نکالنے کےلیے 2 مرتبہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کی


انتظامیہ کے مطابق صبح 6 بج کر 39 منٹ پر دھماکا ہوا۔ چھتیں گر گئیں، ڈیوٹی عملے نے نرسری سے ملحقہ کمرے سے بچوں کو بحفاظت ن ریسکیو کے دوران 3 ماؤں کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔پمز اسپتال انتظامیہ کے مطابق اسی منزل پر قائم گائنی وارڈ کے 73 مریضوں کو بھی چند منٹ میں بحفاظت نکالا گیا۔اسپتال میں نصب 35 فائر ایکس ٹنگوشرز عملے نے آگ پر قابو پانے کے لیے استعمال کیے۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا  کہنا ہے کہ پمز اسپتال سانحے کی وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق فوری، جامع تحقیقات کی جائیں گی، ذمہ دار پائے جانے والوں کے خلاف سخت ترین کاروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔اپنے بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پمز اسپتال واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔ درد ناک واقعے میں 14 نومولود جاں بحق ہوئے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ اس مشکل گھڑی میں سوگوار خاندانوں کو صبر، حوصلہ اور استقامت عطا فرمائے، ہمارے بچوں کی حفاظت ہر صورت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔پمز اسپتال کے کسی ڈاکٹر کو کچھ نہیں ہوا، صرف بچے جلنے تھے، جاں بحق بچے کی ماں کی دہائی-خیال رہے کہ پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں جھلس کر جاں بحق 14 نومولود کے والدین غم سے نڈھال ہیں،


 والدین نے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرنے اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔پمز اسپتال میں آگ لگنے سے 14 نوزائیدہ بچوں کے جاں بحق ہونے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو معطل کردیاوفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے پر سب سے پہلے خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہیں۔استعفے کے سوال پر مصطفیٰ کمال کا جواب، احتجاج کے باعث واپس بھی جانا پڑ گیاصحافی کے سوال پر کہ کیا آپ مستعفی ہو رہے ہیں؟ مصطفیٰ کمال نے جواب دیا کہ وزیراعظم ان کے باس ہیں، وزیراعظم نے انہیں کچھ باتیں کرنے سے روکا ہے۔ پہلے وزیراعظم سے بات کرلیں، پھر کچھ کہیں گے۔واقعے کے ذمے داروں کے تعین کیلئے وزیراعظم نے سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی بنادی ہے۔اسی دوران پمز انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق بچوں کی انتہائی نگہداشت میں نصب انکیوبیٹر کے ساتھ آکسیجن کی مقدار بتانے والے آلے میں چھوٹا دھماکا ہوا۔ چنگاری کے باعث آکسیجن نے آگ پکڑلی۔والدین اور عینی شاہدین نے نرسری میں طبی عملے کی غیر موجودگی کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ دروازے بھی بند تھے۔ انہوں نے ریسکیو اداروں پر دیر سے پہنچنے کا الزام بھی لگایا۔سی ڈی اے کے فائر ڈپارٹمنٹ نے رپورٹ دی ہے کہ پمز میں آگ سے بچاؤ اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات ناکافی تھے۔ یہ بھی کہا کہ ہنگامی اخراج کے راستے باہر سے مستقل طور پر بند تھے۔پمز انتظامیہ کے مطابق تمام ایمرجنسی ایگزٹس مکمل طور پر کھلے اور فعال تھے، نوزائیدہ بچوں کی اموات پر متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔

منگل، 25 اگست، 2026

نبئ آخر الؔزماں صلؔی اللہ علیہ واٰ لہ وسلؔم

  پرور دگار عالم نے آپ  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم  کو     انسانوں کی راہبری کے لئے  مبعوث کیا     اور حیات انسانی کے اخلاقی پہلوؤں کو حضور اکرمؐ نے ا ن کو عملی صورت میں پیش کیا ہے۔آپؐ کے حسن خلق کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ آپؐ اپنے اہل وعیال ،اعزہ و اقارب اور اصحاب و رفقا کے ساتھ جو رویہ رکھتے اسی طرح کا رویہ اعداء کے ساتھ بھی رکھتے۔اگر اپنوں کی لغزشوں سے صرف نظر کرتے ہیں تو سخت اعداء کو بھی معاف کر دیتے ہیں۔مسلمان کی عیادت کوکار ثواب کہتے ہیں تو خود یہودی کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے ہیں۔ خدمت خلق کی تلقین کرتے ہیں تو خود سب کی خدمت میں سب سے زیادہ فعال نظرآتے ہیں۔حضور اکرمؐ نے تہذیب اخلاق کے حوالے سے مختلف صورتوں میں راہنمائی فرمائی۔انسانی حیات کی جتنی جہات ہیں، ان سب کے حوالے سے حضور اکرمؐ نے اپنا خلق پیش فرمایا۔ نہ صرف اپنے موجودہ عہد اور اپنے خطے کے مطابق بلکہ اس میں ہر عہد اورہر خطے کے ساتھ انسانی فطرت کے مطابق اس کے معاملات ،ضروریات اور خواہشات کی تہذیب و تطہیر کے تناظر میں ایک مکمل حسن خلق کا  نمونہ پیش کیا۔


اس کے ساتھ انسانی کیفیات جیسے خوشی، غم ، غصہ فقر، تونگری وغیرہ مختلف مواقعوں پر ایک منضبط اور مہذب حالت کا اظہار ہی خلق عظیم کی ہر عمل کی احسن صورت ہےحضور اکرمؐ نے حسن اخلاق کے اظہار میں کبھی مقابل یا مخاطب کی خاندانی وسماجی یامعاشی حیثیت کو بنیاد نہ بنایا بلکہ آپؐ کے پیش نظر کسی کا انسان ہونا ہی کافی تھا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپؐ کامقصد احترام انسانیت کا فروغ اور وقار آدمیت کی پاسبانی تھا۔یہودی کا جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جانا ،مسلم و غیر مسلم وفود کی مہمان نوازی کرنا ،دیگر مذاہب کے ساتھ امن کے معاہدے کرنا یہ سب سماجی وبین الاقوامی اخلاقیات کے مظاہر تھے۔ اسی طرح عائلی اخلاقیات میں ازواج سے حسن سلوک کرنا ،راحت و رنج کا لحاظ کرنا ، خوش طبعی فرمانا، ضروریات کا خیال کرنا ، ان کے خاندانی و مذہبی پس منظر پر سکوت فرمانا ، ذہنی و جسمانی تشدد سے مکمل مجتنب اوران کی تربیت فرمانا وغیرہ یہ سب عائلی اخلاقیات کا حصہ ہیں۔ایک مسلمان سے دوسرے مسلمان سے تعلق کی بنیاد تو ایمان ہی ہے ’ کہ آپ کا اسوہ حسنہ تو قرآن ہی ہے۔‘


‘ گو کہ مکمل حیات انسانی کا عملی دستور ہے لیکن اگر اس کو صرف اخلاق حسنہ ہی کے تناظر میں دیکھ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ انسانی زندگی میں جو بھی معاملہ اخلاق کے حوالے سے ہے یا اس کا جامع، اکمل اور خوب صورت مظہر ذات رسالتؐ کے علاوہ کہیں اور نظر نہ آئے گا۔آپؐ کی ذات اقدس کا ظاہری حسن اگر نظر کو راحت دیتا تھا تو اخلاق و کردار کا جمال فکرو عمل کو کمال عطا کرتا ہے۔ قرآن کریم نے حیات انسانی کے اخلاقی پہلوؤں کے ضمن میں جو اصول بھی دیے ہیں حضور اکرمؐ نے اس کو عملی صورت میں پیش کیا ہے۔آپؐ کے حسن خلق کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ آپؐ اپنے اہل وعیال ،اعزہ و اقارب اور اصحاب و رفقا کے ساتھ جو رویہ رکھتے اسی طرح کا رویہ اعداء کے ساتھ بھی رکھتے۔اگر اپنوں کی لغزشوں سے صرف نظر کرتے ہیں تو سخت اعداء کو بھی معاف کر دیتے ہیں۔مسلمان کی عیادت کوکار ثواب کہتے ہیں تو خود یہودی کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے ہیں۔ خدمت خلق کی تلقین کرتے ہیں تو خود سب کی خدمت میں سب سے زیادہ فعال نظرآتے ہیں۔ مساوات کے ثمرات بیان کرتے ہیں تو خودمسجد نبوی کی تعمیر میں بنفس نفیس حصہ لیتے ہیں اور غزوہ خندق میں صحابہ کرام ؓ کے ساتھ خندق کھودتے نظر آتے ہیں۔ 


عمل کی کون سی جہت ہے جو اسوہ حسنہ میں نظر نہیں آتی ؟ خیر کا کون سے پہلو ہے جو آپؐ کی ذات میں نہیں اور کون سا وہ اخلاقی وصف ہے جو آپؐ نے نہیں پیش کیا ؟ جو کہا وہ کیا ،قول و فعل میں کامل مطابقت ہے اور مطابقت بھی ایسی کہ جوزندگی کو خوشگوار ، فکر کو رسا ،عمل کو استحکام اور اعضا ء کو توانا رکھتی ہے۔نبی کریمﷺجس خطے میں مبعوث ہوئے وہ معاشرہ اپنے رذائل کے اعتبار سے جہاں انتہائی پستی کا شکار تھا تو وہاں ان کے چند اخلاقی اوصاف ایسے بھی تھے جس سے اس معاشرے سے عمومی محاسن کا پتہ چلتا ہے جیسے مہمان نوازی ایفائے عہد،شجاعت ،جرات،حریت وغیرہ۔آپﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے مجھے سب سے محبوب اور آخرت میں میرے سب سے قریب وہ شخص ہو گا جو خوش خلق ہے‘‘ ۔عبادات اسلامیہ کو اگر ان کے وسیع اور جامع اثرات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوگا کہ یہ تشکیلِ کردار و اخلاق اور مثبت رویوں کی تربیت کا بڑا منظم ومرتب پلان ہے۔تمام عبادات مومن کو بااخلاق بنانے کے لیے مختلف جہات اور متنوع اندازسے تربیت اخلاق کرتی ہیں۔بد اخلاقی کی کوئی صورت کسی بھی موقع یا کسی بھی انداز سے قابل قبول نہیں اور نہ یہ مومن کو زیب دیتا ہے۔ حضور اکرمؐ نے ریاست مدینہ کی صورت میں جس معتدل اورانسان دوست معاشرہ کی بنیاد رکھی اس کی بنیاد ہی میں اخلاقی پہلو نظر آتے ہیں۔ان میں ایک عدل ہے اور دوسرا احسان۔عدل کا اظہار میثاق مدینہ کی صورت میں ہوا جبکہ احسان کا اظہار مواخات مدینہ کی صورت میں ہوا

پیر، 24 اگست، 2026

مرادیں ایسے بھی بر آتی ہیں

 

ایک  سچی کہانی    :--       ایک مرتبہ کا زکر ہے  ایک شخص فجر کی نماز کے بعد مسجد سے نکل رہا تھا۔ اس نے اپنے پڑوسی کو سلام کیا، مگر پڑوسی نے جواب نہ دیا۔ اسے تعجب ہوا، کیونکہ دونوں کے درمیان بہت اچھے تعلقات تھے۔ پھر اس نے محسوس کیا کہ شاید پڑوسی کسی شدید پریشانی میں مبتلا ہے؛ وہ گم سم، فکرمند اور لوگوں سے بے نیاز سا چلا جا رہا تھا۔وہ اس کے قریب گیا اور پوچھا:’’کیا بات ہے؟‘‘پڑوسی نے کہا:’’عمارت کے مالک نے مجھے کرایہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے مکان خالی کرنے کو کہا ہے، اور اللہ کی قسم! میرے پاس کرایہ دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔‘‘اس نے کہا ’’انشاء اللہ، میں کوئی انتظام کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔‘‘وہ شخص بیان کرتا ہے:’’عصر کی نماز سے تقریباً پانچ منٹ پہلے اچانک میرے دل میں خیال آیا کہ میں مسجدِ عکاشہ بن محصن میں نماز پڑھوں۔


یہ مسجد ہمارے علاقے سے زیادہ دور نہیں تھی، لیکن مجھے خود بھی معلوم نہیں کہ یہ خیال اچانک کیوں آیا۔نماز ختم ہوئی ااور ہم باہر نکلنے لگے تو میری ملاقات ایک ایسے دوست سے ہوگئی جسے میں نے بہت عرصے سے نہیں دیکھا تھا۔اس نے بتایا کہ وہ بہت دور رہتا ہے، لیکن آج اس علاقے میں رہنے والے ایک رشتہ دار کے ہاں دوپہر کے کھانے پر آیا تھا، اس لیے اس نے اسی مسجد میں نماز پڑھنے کا فیصلہ کیا۔گفتگو کے دوران اس دوست نے اچانک، بغیر کسی خاص مناسبت کے، مجھ سے پوچھا:’کیا تم کسی ایسے غریب خاندان کو جانتے ہو جس کے پاس رہنے کے لیے جگہ نہ ہو؟‘میں نے پوچھا:’کیوں؟‘اس نے کہا:’میں ایک چھوٹے سے وقف کا نگران ہوں جسے اس کے مالک نے اللہ تعالیٰ کے لیے وقف کیا تھا


اس   بلڈنگ میں بیس فلیٹ ہیں۔ کل ان میں سے ایک خاندان اپنے مالی حالات بہتر ہوجانے کی وجہ سے وہاں سے منتقل ہوگیا ہے۔ اس نے سوچا کہ اب یہ جگہ کسی زیادہ ضرورت مند خاندان کو دے دی جائے۔‘میں بے اختیار پکار اٹھا:’میرے پاس ایسا خاندان ہے! اپنا فون نمبر دو اور خدا کے لیے یہ فلیٹ کسی اور کو مت دینا۔‘اس نے کہا:’فکر نہ کرو، اسے اپنی طرف سے  ا لاٹ سمجھو۔ اور جس خاندان کو تم لاؤ گے، اسے ایک پیسہ بھی ادا نہیں کرنا ہوگا، کیونکہ یہ اللہ کے لیے وقف ہےہمیشہ کے لیے۔‘وہ شخص کہتا ہے’’واپسی پر اپنے محلے کی طرف جاتے ہوئے میں ان حیرت انگیز واقعات کے بارے میں سوچتا رہا۔ فجر کے وقت اچانک اپنے پڑوسی کی پریشانی معلوم ہونا، پھر عصر کی نماز کے لیے ایک ایسی مسجد میں چلے جانا جہاں میں نے زندگی میں کبھی نماز نہیں پڑھی تھی،


 ایسے علاقے میں جانا جہاں برسوں سے نہیں گیا تھا، اور وہاں اتفاقاً ایک ایسے دوست سے ملاقات ہوجانا جسے دس سال سے نہیں دیکھا تھا، حتیٰ کہ میرے پاس اس کا فون نمبر بھی نہیں تھا—اور پھر اسی شخص کے پاس ایک ضرورت مند خاندان کے لیے مفت رہائش موجود ہونا میں سوچنے لگا کہ شاید میرے پڑوسی کا اپنے رب کے ہاں کوئی خاص مقام ہے، کوئی پوشیدہ نیکی ہے، یا اس نے کوئی ایسا عظیم عمل کیا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی پریشانی دور کردی۔‘‘جب وہ اپنے محلے میں پہنچا تو فوراً اپنے غریب پڑوسی کے گھر گیا اور اسے خوش خبری سنائی۔خبر سنتے ہی وہ شدتِ خوشی سے رونے لگا۔ یہاں تک کہ زمین پر بیٹھ گیا اور کھڑا نہ رہ سکا۔اس شخص نے اس سے پوچھا ’’فجر کی نماز کے بعد سے اب تک تم نے ایسا کیا عمل کیا ہے؟‘‘غریب پڑوسی نے جواب دیا:’’اللہ کی قسم! میں نے کچھ خاص نہیں کیا۔البتہ فجر کی نماز سے واپس آیا تو میری بیوی نے مجھے بہت پریشان دیکھا۔ اس نے مشورہ دیا کہ ہم دونوں مل کر غروبِ آفتاب تک مسلسل نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتے رہیں۔ ہم نے یہی کیا، اور اب تم یہ خوش خبری لے کر میرے پاس آگئے ہو۔ یقین کرو، ہم نے اس دوران درود شریف پڑھنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔‘‘

اللّٰهم صلِّ وسلم وبارك على نبينا محمد ﷺ۔

نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجیے  ۔

جمعہ، 21 اگست، 2026

فائر بریگیڈ کراچی 'تباہی سے دوچار محکمہ

 

   کراچی جیسے میگا شہر میں  ریسکیو 1122 کے پاس کوئی فائر اسٹیشن نہیں بلکہ عملہ گاڑیوں کے ساتھ فٹ پاتھوں پر ڈیوٹیاں کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 نے 4 عارضی فائر اسٹیشن قائم کیے ہیں جن میں ایک گلشن اقبال میں ہیڈ کوارٹر، دوسرا راشد منہاس روڈ پر لکی ون مال کے قریب اسپتال، تیسرا فائر ڈیفنس اور چوتھا گلشن معمار میں ہے۔ تاہم ریسکیو 1122 کے پاس اسنار کل دستیاب نہیں۔دلچسپ امر یہ کہ آتشزدگی اور ایمبولنس کے لیے بھی کالز اسی کنٹرول روم میں وصول کی جاتی ہیں مگر ایمبولنس کسی اور ادارے سے روانہ کی جاتی ہے۔کراچی میں فائر اسٹیشن کی بہت کمی ہے، ہم چندگاڑیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں: چیف فائر آفیسر-بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک لاکھ کی آبادی پر ایک ماڈل فائر اسٹیش گاڑیاں اور 144 افراد کا عملہ ہونا ضروری ہے۔اس حساب سے 2 کروڑ کی آبادی کے شہر کو   200 فائر اسٹیشن، 800 گاڑیاں اور 28 ہزار 800 کا عملہ درکار ہے۔جب اتنے بڑے شہر میں کُل 28 فائر اسٹیشن ہوں تو قدرتی طور پر آگ لگنے کے مقام سے ان کا فاصلہ اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہےکہ کوشش کے باوجود متعلقہ عملہ بروقت نہیں پہنچ پاتا جس کے باعث آگ بے قابو ہونے اور جانی و مالی نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔دوسری جانب کراچی فائر بریگیڈ کی 30 سے زائد گاڑیاں سالوں سے خراب ہیں اوران کی مرمت اب تک نہیں ہوپائی ہے۔-


اس وقت بھی محکمہ فائر بریگیڈ میں ڈرائیورز سمیت 440 اسامیاں خالی   -وفاقی حکومت نے 2021 میں 50 فائر ٹینڈرز اور دو باؤزرز کے ایم سی کو فراہم کیے تھے جو شہر کے فائر اسٹیشنز کے علاوہ صنعتی ایریاز کو بھی دو دو کے حساب سے فراہم کیے گئے۔ تاہم عملے کی کمی یہاں بھی آڑے آرہی ہے۔ حالت یہ ہے کہ آج بھی محکمہ فائر بریگیڈ میں ڈرائیورز سمیت 440  اسامیاں خالی ہیں۔میئرکراچی مرتضیٰ وہاب نے فائر فائٹرز کی نئی بھرتیوں کے لیے سندھ حکومت سے اجازت طلب تو کرلی ہے لیکن شہر کی بہتری کے لیے اُن سے جن انقلابی فیصلوں اور ٹھوس اقدامات کی توقع کی جارہی تھی وہ تاحال پوری نہیں ہوئی۔سب سے زیادہ ریونیو وصول کرنے والی وفاقی حکومت بھی کراچی کی بہتری کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کر رہی۔  بلدیہ عظمی کراچی کا محکمہ فائر بریگیڈ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا، فائر بریگیڈ کی 10 سال سے 250 اسامیاں خالی ہیں، نئے فائرٹینڈرز آخری بار25 سال پہلے خریدے گئے تھے، ڈیزل کی عدم دستیابی اور فائر ٹینڈرز کی مرمت نہ ہونے کے باعث شہر قائد کے 16 فائر اسٹیشن غیر فعال ہوگئے ہیں،


سردی کے خشک موسم میں تیز ہواؤں سے آتشزدگی کے بڑھتے واقعات پر قابو پانا مشکل ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق فائر ٹینڈرز نہ ملنے اور وسائل کی شدید کمی سے بلدیہ عظمی کراچی کا محکمہ فائربریگیڈ تباہی سے دوچار ہے، محکمہ فائر بریگیڈ میں ڈرائیوروں کی 242 اسامیاں خالی ہیں محکمے میں آخری بار سال2009 میں بھرتیاں ہوئی تھیں جس کے بعد سے اب تک 10سال گزرگئے کوئی اپائٹمنٹ نہیں ہوا ہے، ہر سال 20 سے 25 ملازمین رٹائرڈ ہوجاتے ہیں-(پی پی آئی) کراچی               میں محکمہ فائر بریگیڈ کے پاس عالمی معیار کا عملہ ہے نہ آلات ،یہی سبب ہے کہ سانحہ بلدیہ ہو یا  مہران ٹائون کا واقعہ، محکمہ فائر بریگیڈ کی کارکردگی پر ہمیشہ سوالیہ نشان اٹھتے رہتے ہیں،بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک لاکھ کی آبادی پر ایک ماڈل فائر اسٹیشن میں چار گاڑیاں اور 144 افراد کا عملہ ہونا ضروری ہے۔اس حساب سے ڈھائی کروڑ کی آبادی کے شہر کو 250 فائر اسٹیشن، 1000 گاڑیاں اور ۶۳ ہزار کا عملہ درکار ہے۔لیکن یہاں 20 فائر اسٹیشن، 36 گاڑیاں اور 687 افراد کا عملہ میسرہے جو نہ صرف ناکافی ہے بلکہ ایمر جنسی کی صورت میںہولناک تباہی کے خدشات بھی  حقیقت بن سکتے ہیں ۔


پاکستان کا سب سے بڑا شہر ،کراچی  فائر بریگیڈ کے محکمہ کی حالت زار سے پریشان ہے۔ شہر بھر میں 24 فائرٹینڈر میں سے 18 فائر ٹینڈر کی گاڑیاں خراب  ہیں۔22فائر اسٹیشن میں سے صرف 6 فائر اسٹیشن فعال اور چار اسنار کل میں سے صرف ایک کام کر رہی ہے-گر شہر میں کوئی بڑی آگ لگ جائے تو اس محکمے کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ فوری آگ پر قابو پایا جا سکے ۔جبکہ حکمران  محکمہ فائربریگیڈ کی زبوں حالی پر خاموش  ہیں

بدھ، 19 اگست، 2026

کراچی کا فائر بریگیڈ کا خستہ حال محکمہ 'پارٹ 1


کراچی کے  دارالخلافہ  کی حیثیت ختم کر  کے جب اسے اسلام آباد شفٹ کیا گیا اسی وقت سے کرچی کا زوال ہو گیا  اور ہر محکمہ بد حال ہو گیا  'اب کراچی صرف سونے کے انڈے دینے والی مرغی ہے جس کے کھانے پینے کی حکومت کو کوئ پرواہ نہیں  ہے 'گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ کے دوران 29 سالہ فائر فائٹر فرقان شوکت کو جلتی ہوئی عمارت کے اندر سے کسی شخص کی مدد کے لیے پکار سنائی دی۔ پلازے کا ڈھانچہ کمزور ہو چکا تھا اور کسی بھی لمحے گرنے کا خطرہ تھا، لیکن فرقان نے باہر کھڑے رہنے کے بجائے یہ کہتے ہوئے دوبارہ اندر جانے کا فیصلہ کیا کہ اسے پھنسے ہوئے شخص کو بچانا ہے۔تیسرے درجے کی اس شدید آگ نے گل پلازا کی تقریباً 1200 دکانوں کو تباہ کر دیا، متعدد افراد جان سے گئے جبکہ کئی لوگ لاپتا ہوئے۔ بند اور گنجان کمرشل عمارت میں دھواں، شدید گرمی، ناقص راستے، آگ بجھانے کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی اور غیر محفوظ تعمیرات ریسکیو آپریشن کو انتہائی خطرناک بنا رہی تھیں۔ انہی حالات میں فرقان اپنے ساتھیوں کے ساتھ لوگوں کی جان بچانے کے لیے عمارت کے اندر موجود تھا۔فرقـان کے ساتھ کام کرنے والے سینئر فائر افسر واجد علی کے مطابق عمارت گرنے سے کچھ دیر پہلے دونوں کی بات ہوئی تھی۔ فرقان نے انہیں محتاط رہنے کا کہا تو واجد علی نے جواب دیا کہ تم خود بھی احتیاط کرو کیونکہ تم ابھی نوجوان اور نئے ہو۔ آگ شدت اختیار کرنے اور عمارت کا ڈھانچہ گرنے کے قریب پہنچنے پر ٹیم نے باہر نکلنے کی کوشش کی۔


 فرقان بھی دوڑا، لیکن راستے میں ٹھوکر کھا کر گر گیا اور اسی لمحے عمارت کا ملبہ اس پر آ گرا۔اس حادثے میں فرقان کی کمر، چہرہ، ہاتھ اور جسم کا بڑا حصہ بری طرح جھلس گیا۔ اس کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ جدید حفاظتی لباس، سانس لینے کے آلات اور دیگر ضروری سامان کے بغیر صرف عام یونیفارم میں اتنی خطرناک آگ کا مقابلہ کر رہا تھا۔ ان کے بھائی محمد نعمان کے مطابق مناسب حفاظتی سوٹ ہوتا تو شاید فرقان کا جسم اس قدر نہ جلتا۔فرقـان شوکت نے صرف تین سال قبل کراچی فائر بریگیڈ میں ملازمت اختیار کی تھی اور وہ اپنی ٹیم کا سب سے کم عمر رکن تھا۔ لوگوں کی مدد کا جذبہ اسے بچپن سے تھا۔ اس نے یہ پیشہ اپنے والد سے حاصل کیا تھا، جنہوں نے 35 سال فائر بریگیڈ میں خدمات انجام دیں، ڈیوٹی کے دوران مفلوج ہوئے اور 2018 میں ملازمت کے دوران ہی انتقال کر گئے تھے۔فرقـان کے گھر والوں نے اس رات جاگتے ہوئے گزاری۔ انہیں معلوم تھا کہ وہ جلتی ہوئی عمارت کے اندر موجود ہے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کی بے چینی بڑھ رہی تھی۔ بعد میں جب اس کی شہادت کی خبر پہنچی تو یہ خاندان کے لیے دوسری نسل کی قربانی بن گئی۔


فرقـان اپنے پیچھے نوجوان بیوہ اور شیر خوار بیٹا محمد رحیم چھوڑ گیا۔ وہ اپنے بیٹے کو بڑا ہو کر وکیل بنانا چاہتا تھا۔ اس کی بہن شمیلہ شوکت نے اپنے بھائی کا خواب پورا کرنے کا عزم کرتے ہوئے کہا کہ وہ محمد رحیم کو قانون کی تعلیم دلائیں گی۔گل پلازا کا سانحہ صرف ایک عمارت اور بازار کی تباہی نہیں، بلکہ کراچی کے فائر فائٹرز کو درپیش سنگین مسائل کی ایک دردناک مثال بھی ہے۔ دو کروڑ سے زیادہ آبادی والے شہر میں محدود فائر اسٹیشن، پرانی گاڑیاں، ہائیڈرنٹ نظام کی عدم موجودگی، حفاظتی لباس، سانس کے آلات، تھرمل کیمروں اور جدید تربیت کی کمی ایسے اہلکاروں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہی ہے جو دوسروں کو بچانے کے لیے اپنی جانیں داؤ پر لگا دیتے ہیں۔فرقـان شوکت بھی اپنی جان بچا سکتا تھا، لیکن عمارت کے اندر سے آنے والی مدد کی آواز سن کر وہ واپس آگ میں چلا گیا۔ اس کی بہن کے الفاظ میں: ہم نے اپنا چھوٹا ہیرو کھو دیا، وہ دنیا سے چلا گیا لیکن ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گاکراچی میں محکمہ فائر بریگیڈ کی بدحالی کے برعکس سندھ حکومت کے تحت ریسکیو 1122 کو بین الاقوامی طرز پر شاندار ادارہ بنادیا گیا ہے۔


گلشن اقبال میں ادارے کے ہیڈ کوارٹر میں قائم ریسکیو 1122 کنٹرول روم جدید ترین سہولتوں سے آراستہ ہے جہاں ایک وقت شفٹ میں 36 آپریٹرز ڈیوٹی کرتے ہیں۔ترجمان حسان الحسیب نے اس نمائندے کو دورہ کرتے ہوئے بتایا کہ کنٹرول روم میں صوبے بھر سے موصول ہونے والی تمام کالز ریکارڈ کی جاتی ہیں۔ کال فوری طور پر ڈسپیچر کے ذریعے قریب ترین گاڑی کے عملے کو فارورڈ کر دی جاتی ہے جو فوراً روانہ ہو جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 کیلئے کراچی میں کل 1500 ملازمین بھرتی کیے جا چکے ہیں جن میں سے 224 فائر فائٹرز بھی شامل ہیں۔کراچی فائر بریگیڈ کا دکھڑا یہ ہے کہ ان کے پاس 28 فائر اسٹیشنز پر عملہ ناکافی ہے۔ ریسکیو 1122 کا المیہ یہ ہے کہ ان کے پاس ابتدائی تمام عملہ اور وسائل موجود ہیں مگر مطلوبہ تعداد میں فائر ٹینڈرز نہیں ہیں۔حسان الحسیب کے مطابق کراچی کی آبادی کے تناسب سے ان کے پاس 200 فائر ٹینڈر ہونا چاہئیں مگر صرف 3 بڑے اور 7 چھوٹی فائر بریگیڈ گاڑیاں ہیں جو آٹے میں نمک برابر بھی نہیں۔

۔

منگل، 18 اگست، 2026

پاکستان میں جنسی جرائم میں ہولناک اضافہ

 

-پاکستان میں جنسی جرائم میں ہولناک اضافہ -پاکستان میں کوئی ایک بھی ایسا ادارہ نہیں ہے، جو صرف اس طرح کے جرائم پر ریسرچ کر رہا ہو۔ پاکستان میں سن دس ہزار انیس میں پندرہ ہزار سے زائد جنسی ہراسانی کے کیس رپورٹ ہوئے، جن میں اس طرح کے بلیک میلنگ کے واقعات بھی تھے۔ لیکن ماہرین اور متاثرہ افراد کا خیال ہے کہ اس نوعیت کے سینکڑوں واقعات سماج کے خوف کی وجہ سے رپورٹ ہی نہیں ہوتےکسی بھی معاشرے کی اخلاقی صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین افراد، خصوصاً بچوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ بدقسمتی سے آج کا پاکستانی سماج اس کسوٹی پر مسلسل ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ کراچی میں حالیہ انکشافات، جہاں ایک ہی شخص کے ہاتھوں درجنوں بلکہ ممکنہ طور پر سو سے زائد بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سامنے آئے، محض ایک واقعہ یا پولیس کیس نہیں بلکہ ایک تہذیبی بحران کی علامت ہیں۔ یہ سوال اب محض یہ نہیں رہا کہ جرم ہوا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایسا جرم بار بار کیوں ہو رہا ہے؟ اور ہماری اجتماعی آنکھیں کیوں بند رہتی ہیں؟ گزشتہ دہائی میں جس تیزی سے اخلاقی اقدار کمزور ہوئیں، خاندانی نگرانی ختم ہوئی، اور ڈیجیٹل دنیا بے لگام ہوئی، اسی رفتار سے درندگی کو بھی سماجی آکسیجن میسر آئی۔ مغرب کی اندھی تقلید، نام نہاد جدت پسندی، اور ’’ذاتی آزادی‘‘ کے مسخ شدہ تصورات نے شرم، حیا اور ذمے داری جیسے بنیادی انسانی اصولوں کو متروک  بنا دیا   ہے


 اسکول، گھر، اور محلے میں وہ نظام جو کبھی بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرتا تھا، اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ والدین مصروفیت اور زندگی کے دباؤ میں گم ہیں، بچے موبائل اور انٹرنیٹ کی دنیا میں الجھ گئے ہیں اور معاشرہ یہ سوچ کر خاموش ہے کہ شاید یہ مسئلہ کسی اور کا ہے۔ اعداد وشمار ہمارے سماجی زوال کی ایک خوفناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ گزشتہ چھے سال میں صرف ایک صوبے میں کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 5,761 سے زائد مقدمات درج کیے گئے، جن میں 638 اجتماعی زیادتی کے واقعات شامل تھے۔ مجموعی طور پر 9,524 ملزمان نامزد ہوئے، مگر 1,073 ملزمان گرفتاری سے بچ گئے، جبکہ اجتماعی زیادتی کے 1,710 ملزمان میں سے 258 قانون کی گرفت سے باہر رہے۔ کراچی کے حالیہ واقعات نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ یہ جرائم انفرادی نہیں، بلکہ ایک سماجی مرض بن چکے ہیں، سماجی بے حسی نے درندوں کے لیے ماحول فراہم کر دیا ہے۔ اکثر والدین بدنامی کے خوف میں خاموش رہتے ہیں، بچے خوف اور شرمندگی میں کچھ نہیں کہتے اور یوں مجرم سال ہا سال بغیر مزاحمت کے کام کرتا رہتا ہے۔ 


یہاں ایک اور پہلو قابل غور ہے: محلہ سسٹم کی کمی۔ وہ محلہ جہاں کبھی بزرگ شام کو بچوں کو کھیلتے دیکھتے، ان پر نظر رکھتے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کو فوراً نوٹ کرتے تھے، اب وہاں دروازے بند ہوگئے ہیں، نظریں نیچی ہیں، اور ذمے داری محدود ہو گئی ہے۔ پڑوسی ایک دوسرے کے بچوں کو نہیں جانتے، نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ کون کہاں جا رہا ہے یا کس کے ساتھ وقت گزار رہا ہے۔ یہی خلا درندوں کے لیے سازگار ہوا ہے۔ اب ضروری ہے کہ بزرگ دوبارہ اپنا ماضی والا کردار ادا کریں، بچوں کی حفاظت کے لیے حساس رہیں اور غیر متعلقہ افراد پر بھی نظر رکھیں۔ بچوں کی حفاظت صرف والدین کی نہیں، پورے سماج کی ذمے داری ہے۔ ڈیجیٹل فحاشی اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ اسمارٹ فون، غیر فلٹر شدہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے جنسی مواد کو چند لمحوں میں ہر عمر کی دسترس میں دے دیا ہے۔ یہ نہ صرف بچوں کے ذہنوں کو متاثر کر رہا ہے بلکہ بڑوں کے رویوں کو بھی مسخ کر رہا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جنسی جرائم میں ملوث افراد کی بڑی تعداد کی ذہنی اور نفسیاتی تشکیل میں آن لائن فحش مواد بنیادی عنصر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جرم صرف ذاتی بگاڑ یا اخلاقی کمزوری نہیں، بلکہ یہ سماجی اور تکنیکی ماحول کے نتائج بھی ہیں۔ قانونی اور عدالتی نظام کی کمزوری اس المیے کو اور بڑھا دیتی ہے۔ فاسٹ ٹریک عدالتیں نہ ہونا، پراسیکیوشن کا کمزور ہونا، تفتیشی اداروں کی تربیت میں خلا اور مقدمات کی سست روی، سب مل کر جرم کو مزید پراثر بناتے ہیں۔ حالیہ گرفتاریوں کے بعد سندھ حکومت نے بیانات دیے اور پولیس کو شاباش دی، مگر یہ کافی نہیں۔



 محض بیانات اور وقتی کارروائیاں درندوں کی تعداد کم نہیں کر سکتیں۔ سخت قانونی سزائیں، فاسٹ ٹریک عدالتیں، پولیس اور تفتیشی اداروں کی تربیت، ڈیجیٹل مواد پر مؤثر کنٹرول اور متاثرہ بچوں کے لیے نفسیاتی بحالی مراکز ناگزیر ہیں۔ مگر قانون سے پہلے کردار اور شعور کی ضرورت ہے، اور یہ کردار گھر، اسکول اور محلے میں بنتا ہے۔ اس معاشرتی بحران میں خاموشی سب سے بڑا دشمن ہے۔ ہم اکثر خبر پڑھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، لیکن یہ خبر ہر روز کی حقیقت ہے۔ یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جب معاشرہ خاموش ہو جائے، تو درندے بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہر وہ لمحہ جس میں ہم نے نظرانداز کیا، ہر وہ دن جس میں ہم نے خاموشی اختیار کی، دراصل ہم نے ایک اور بچے کو خطرے کے حوالے کیا۔ یہ المیہ یہ بھی بتاتا ہے کہ محض ریاستی اقدامات کافی نہیں۔ سماجی سطح پر بھی ہر فرد کی ذمے داری ہے۔ ہر شخص کو اپنے اور دوسرے بچوں پر نظر کے ساتھ اپنے محلے میں حرکت پر نظر رکھنی ہوگی، غیر متعلقہ افراد کی موجودگی پر حساس ہونا ہوگا اور والدین کے ساتھ مل کر بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی بات سنیں اور ان کی آن لائن سرگرمیوں پر نگرانی رکھیں۔ یہ معاشرتی زوال صرف آج کا نہیں، بلکہ برسوں کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ ہر نسل جسے ہم نے تعلیم، تربیت اور حفاظت کی جگہ بے حسی اور غفلت میں پرورش دی، آج وہ نتیجہ سامنے ہے۔ اخلاقی اقدار کی کمزوری، خاندانی روابط کی ٹوٹ پھوٹ اور ڈیجیٹل فحاشی نے بچوں کی زندگیوں پر اثرات ڈالے ہیں۔ اگر ہم نے آج اس بحران کے خلاف سنجیدہ قدم نہ اٹھایا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ وقت ہے کہ ہم صرف خبریں نہ پڑھیں بلکہ اپنی سماجی ذمے داری سمجھیں، محلے، گھر اور اسکول میں کردار ادا کریں، اور بچوں کی حفاظت کو ہر ممکنہ اقدام کے ساتھ یقینی بنائیں۔ جب معاشرہ اپنی ذمے داری کو سنجیدگی سے نبھائے گا، تب ہی ایسے درندوں کے لیے کوئی جگہ نہیں رہے گی۔ یہی وہ وقت ہے جب ہم اپنے ضمیر، اپنے محلے اور اپنے بچوں کے لیے کھڑے ہوں، کیونکہ بچوں کی حفاظت صرف قانون کی نہیں بلکہ پورے معاشرتی شعور کی ضرورت ہے

خدا کے گھر کا رزق کن کو ملتا ہے

مختصر تفسیر :وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوٰتًا :

اور جو اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا 

 ں مردہ مت کہو (القران)اس آیت میں شہداء کو مردہ کہنے سے منع کیا گیا ہے ، نہ زبان سے انہیں مردہ کہنے کی اجازت ہے اور نہ دل میں انہیں مردہ سمجھنے کی اجازت ہے ، جیسا کہ ایک اور مقام پر فرمانِ باری تعالیٰ ہے : وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوٰتًا ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوۡنَ ۔ (ال عمران:۱۶۹)ترجمہ : اور جو اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں ، انہیں رزق دیا جاتا ہے ۔موت کے بعد اللہ تعالیٰ شہداء کو زندگی عطا فرماتا ہے ، ان کی ا رواح پر رزق پیش کیا جاتا ہے ، انہیں راحتیں دی جاتی ہیں ، ان کے عمل جاری رہتے ہیں ، ان کا اجرو ثواب بڑھتا رہتا ہے ، حدیث شریف میں ہے کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے بدن میں جنت کی سیر کرتی اور وہاں کے میوے اور نعمتیں کھاتی ہیں ۔ (شعب الایمان ، السبعون من شعب الایمان، ۷/۱۱۵، الحدیث: ۹۶۸۶)حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : اہل جنت میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا :اے ابن آدم!تو نے اپنی منزل و مقام کو کیسا پایا ۔ وہ عرض کرے گا : اے میرے رب ! عَزَّوَجَلَّ ، بہت اچھی منزل ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ’’تو مانگ اور کوئی تمنا کر ۔ وہ عرض کرے گا : میں تجھ سے اتنا سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے دنیا کی طرف لوٹا دے اور میں دس مرتبہ تیری راہ میں شہید کیا جاؤں ۔ (وہ یہ سوال اس لئے کرے گا ) کہ اس نے شہادت کی فضیلت ملاحظہ کر لی ہو گی ۔(سنن نسائی ، کتاب الجہاد، ما یتمنی اہل الجنۃ، ص۵۱۴، الحدیث: ۳۱۵۷)بعض شہداء وہ ہیں کہ ان پر دنیا کے یہ احکام تو جاری نہیں ہوتے لیکن آخرت میں ان کے لیے شہادت کا درجہ ہے جیسے ڈوب کر یا جل کر یا دیوار کے نیچے دب کر مرنے والا،طلب ِعلم اورسفرِحج غرض راہ خدا میں مرنے والا یہ سب شہید ہیں۔ حدیثوں میں ایسے شہداء کی تعداد چالیس سے زائد ہے۔ 


 یعنی یہ بات تو قطعی ہے کہ شہداء زندہ ہیں لیکن ان کی حیات کیسی ہے اس کا ہمیں شعور نہیں اسی لئے ان پر شرعی احکام عام میت کی طرح ہی جاری ہوتے ہیں جیسے قبر ، دفن، تقسیمِ میراث ، ان کی بیویوں کا عدت گزارنا ، عدت کے بعد کسی دوسرے سے نکاح کرسکنا وغیرہ      -شانِ نزول :حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جب تمہارے بھائی اُحد میں شہید ہوئے تواللہ تعالیٰ نے ان کی اَرواح کو سبز پرندوں کے جسم عطا فرمائے ، وہ جنتی نہروں پر سیر کرتے پھرتے ہیں ، جنتی میوے کھاتے ہیں ، سونے کی اُن قندیلوں میں رہتے ہیں جو عرش کے نیچے لٹک رہی ہیں ۔ جب ان شہداء کرام نے کھانے ، پینے اور رہنے کے پاکیزہ عیش پائے تو کہا کہ پیچھے دنیا میں رہ جانے والے ہمارے بھائیوں کو کون خبر دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور جنگ سے بیٹھ نہ رہیں ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں انہیں تمہاری خبر پہنچاؤں گا۔ پس یہ آیت نازل فرمائی ۔ 


 (ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فی فضل الشہادۃ، ۳/۲۲، الحدیث: ۲۵۲۰)اس سے ثابت ہوا کہ اَرواح باقی ہیں جسم کے فنا ہونے کے ساتھ فنا نہیں ہوتیں ۔ یہاں آیت میں شہدا ء کی کئی شانیں بیان ہوئی ہیں : فرمایا کہ وہ کامل زندگی والے ہیں ، وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس ہیں ۔ آیتِ مبارکہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ شہیدوں کے روح اور جسم دونوں زندہ ہیں ۔ علماء نے فرمایا کہ شہداء کے جسم قبروں میں محفوظ رہتے ہیں ، مٹی ان کو نقصان نہیں پہنچاتی اور صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے زمانے میں اور اس کے بعداس بات کا بکثرت معائنہ ہوا ہے کہ اگر کبھی شہداء کی قبریں کھل گئیں تو ان کے جسم تر و تازہ پائے گئے ۔ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ ۔جنت میں جانے کے بعد شہید یہ تمنا کرے گا کہ مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے اور دس بار (اللہ کے راستے میں ) قتل کیا جاؤں۔دُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے: میری یہ تمنا ہے کہ میں اللہتعالیٰ کے راستے میں جہاد کروں ، پھر شہید کیا جاؤں ، پھر جہاد کروں ، پھر شہید کیا جاؤں ، پھر جہاد کروں پھر شہید کیا جاؤں۔



اللہ کے راستے میں جان دینے والا ، بلکہ حیاتِ ابدی ودائمی کی سرفرازی و سرخروئی سے بہرہ مند اور زندہ جاوید ہو کر انسانوں کے لئے نشانِ عظمت بن جاتا ہے۔ شہادت اور شہید کا قرآن و حدیث میں بہت بلند و ارفع مقام و مرتبہ بیان کیا گیا ہے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نظر میں شہید انتہائی معزز و مکرم ہوتا ہے۔قرآن کریم میں شہادت کی عظمت و فضیلت کو متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے اور اس کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے کہ یہ کتنی بڑی اور عظیم سعادت ہے اور مومن کو کس بلندی پر فائز کر دیتی ہے۔ مومن کی زندگی کی حقیقت یہ ہے کہ اس کی جان و مال اللہ تعالیٰ نے جنت کےعوض خریدلی ہے۔ فرمایاگیا کہ ’’یقیناً اللہ نے مومنوں سے ان کی جان و مال جنت کے بدلے خریدلئے ہیں کہ جنت انہی کی ہے، وہ اللہ کے راستے میں جنگ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں قتل کرتے ہیں اور قتل ہوتے بھی ہیں۔ یہ سچا وعدہ ہے تورات ، انجیل اور قرآن میں، اور اللہ سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے۔ لہٰذا اس سودے پر خوشی مناؤ جو اس نے تم سے کیا ہے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔‘‘ (سورۃ التوبہ:111) 

بلاگنگ شروع کرنے کے لیے، کیا کیا کام کرنا ضروری ہیں

 

-niche بلاگنگ شروع کرنے کے لیے، کیا کیا کام کرنا ضروری ہیں -پہلے اپنے پسندیدہ موضوع کا انتخاب کریں جس کو نیش    کہتے ہیں ، پھر ورڈپریس یا بلاگر پر بلاگ بنائیں، معیاری مضامین لکھیں اور سرچ انجن آپٹیمائزیشن (SEO) کے ذریعے اپنی ویب سائٹ پر ٹریفک لائیں۔ موضوع کا انتخاب ایک ایسے موضوع کا انتخاب کریں جس میں آپ کی مہارت یا گہری دلچسپی ہو۔ عوام کی ضروریات اور مطالبات کو مدنظر رکھیں۔ پلیٹ فارم سلیکشن بلاگر: ابتدائیوں کے لیے مفت اور آسان ترین پلیٹ فارم۔ ورڈپریس: پیشہ ورانہ اور مکمل کنٹرول کے لیے بہترین۔ ڈومین اور ہوسٹنگ اپنے بلاگ کے لیے ایک مختصر اور سادہ ڈومین نام خریدیں۔ اچھی اور تیز ویب ہوسٹنگ کا انتخاب کریں۔ مواد کی تیاری اور SEO اچھے، مفید اور قارئین کو حل کرنے والے مضامین لکھیں۔ گوگل پر رینکنگ کے لیے گوگل سرچ سینٹرل کے بنیادی اصولوں کے مطابق SEO کریں۔ کمائی (منیٹائزیشن) بلاگ کے مشہور ہونے کے بعد گوگل ایڈسینس یا ایفیلیٹ مارکیٹنگ کے ذریعے کمانا شروع کریں۔LiveJournal ایک اور مفت اور مقبول بلاگنگ سروس ہے جو آپ کو نجی جرائد، بلاگز، ڈسکشن فورمز، اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس بنانے کی اجازت دیتی ہے۔ 1999 سے اب تک 14 ملین سے زیادہ بلاگز اور کمیونٹیز بن چکی ہیں۔ LiveJournal آپ کو اپنے موبائل فون سے بلاگ پوسٹ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ چند سال پہلے تک بلاگز صرف لکھنے تک محدود تھے لیکن اب بلاگنگ صرف لکھنے تک محدود نہیں رہی بلکہ فوٹو بلاگز، اسکیچ بلاگز، ویڈیو بلاگز، میوزک بلاگز اور آڈیو (پوڈکاسٹ) کی آمد سے اس کا دائرہ بہت وسیع ہوگیا ہے اور یہ سب اب انٹرنیٹ کا ایک بڑا حصہ بن چکے ہیں۔



بلاگنگ کیوں؟بلا شبہ آج کل انٹرنیٹ پر بلاگنگ سب سے اہم سرگرمی ہے۔ لاکھوں لوگ اپنے بلاگ لکھتے ہیں یا دوسرے لوگوں کے بلاگ پڑھتے ہیں۔بلاگنگ شروع کرنے کے لیے، پہلے اپنے پسندیدہ موضوع (Niche) کا انتخاب کریں، پھر ورڈپریس یا بلاگر پر ایک بلاگ بنائیں، معیاری مضامین لکھیں، اور سرچ انجن آپٹیمائزیشن (SEO) کے ذریعے اپنی ویب سائٹ پر ٹریفک چلائیں۔اپنے بلاگ کے لیے ایک مختصر اور سادہ ڈومین نام خریدیں۔  ’گوگل بلاگر‘ کے مطابق، جو شاید اس وقت بلاگنگ کا سب سے بڑا مرکز ہے، ’بلاگ آپ کی ذاتی ڈائری ہے، آپ کی روزمرہ کی سرگرمیوں کی ایک ڈائری، ایک ایسی جگہ جہاں سے آپ رابطہ قائم کرتے ہیں، ایک ایسا ذریعہ ہے جہاں سے اہم ترین خبریں نکلتی ہیں،‘ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی دریافتوں، ایجادات اور خیالات کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہے۔ وہ اپنی سوچ سے دوسروں کو سوچتا دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ وہ جستجو ہے جو لوگوں کو بلاگ لکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ کیونکہ بلاگز وہ جگہ ہے جہاں وہ کھل کر اپنے خیالات، اپنی دریافتوں، اپنے منصوبوں کا اظہار کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، انہیں بلاگز کی شکل میں ایک دنیا ملتی ہے جہاں وہ حکمرانی کرتے ہیں۔بہت سی کمپنیاں اپنے ملازمین کو بلاگ لکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ مائیکرو سافٹ کے سینکڑوں ملازمین باقاعدگی سے بلاگ لکھتے ہیں۔ یہی حال دوسری بڑی کمپنیوں کا بھی ہے جن کے ملازمین اپنے اہم تجربات اور مشاہدات کو اپنے بلاگز میں بیان کر کے اپنے قارئین کی رہنمائی کرتے ہیں۔بلاگز کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ سیاست کا ایک اہم ہتھیار بن چکے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بہت سی سیاسی شخصیات اپنے بلاگ لکھتی ہیں۔بلاگ دو انگریزی الفاظ ویب   اور  لاگ کا مجموعہ ہے، جو ان ویب سائٹس کے لیے استعمال ہوتا ہے جو معلومات کو تاریخی ترتیب میں محفوظ کرتی ہیں۔


ویب لاگ کا لفظ سب سے پہلے 1997 میں Jorn Barger نے استعمال کیا، جو robotwisdom.com کے نام سے ایک ویبلاگ سائٹ چلاتے ہیں۔ اس کے بعد، لفظ بلاگ کو پیٹر مرہولز نے مزاحیہ انداز میں لفظ "ویبلاگ" کو توڑ کر استعمال کیا جیسا کہ ہم بلاگ کرتے ہیں، اور یہیں سے لفظ "بلاگ" مقبول ہوا۔ Xanga نامی سائٹ جو بلاگنگ میں ایک بڑا نام ہے، 1998 تک اس کے صرف 100 بلاگ تھے، لیکن 2005 تک یہ تعداد 20 ملین سے تجاوز کر گئی۔ اس کے بعد بلاگ ہوسٹنگ کے دیگر لاتعداد ٹولز میدان میں آئے اور بلاگنگ کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ اوپن ڈائری بلاگنگ پہلا تھا جس نے صارفین کو کسی بھی بلاگ پر تبصرہ کرنے کی اجازت دی، جو بہت کامیاب رہا۔‘ یہ انسانی فطر ت ہے کہ وہ اپنی دریافت، ایجاد اور خیالات دوسروں کو بتانا چاہتا ہے۔ وہ اپنی سوچ سے دوسرے کو سوچتے دیکھنا چاہتا ہے۔ یہی وہ جستجو ہے جو لوگوں کو بلاگز لکھنے پر مجبور کرتی ہے کیوں کہ بلاگ ہی وہ جگہ ہے جہاں وہ اپنے خیالات، اپنی دریافتیں ، اپنے منصوبے کھْل کر بیان کرسکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں انہیں بلاگ کی صورت میں ایک دنیا مل جاتی ہے ،جہاں وہ حکومت کرتے ہیں۔ بہت سی کمپنیاں اپنے ملازمین کو بلاگز لکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ مائیکروسافٹ کے سیکڑوں ملازمین باقاعدگی سے بلاگ لکھتے ہیں۔


 یہی حال دیگر اہم کمپنیوں کا ہے جن کے ملازمین اپنے بلاگز میں اپنے اہم تجربات اور مشاہدات بیان کر کے اپنے قارئین کی رہنمائی کرتے ہیں۔ بلاگز کے بارے میں یہ بھی کہاجاتا ہے کہ یہ سیاست کا ایک اہم اوزار بن چکے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ ترقی یافتہ اقوام کی بہت سی سیاسی شخصیتیں اپنے بلاگز لکھتی ہیں۔ بلاگز کی سیاسی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے ۔ اسی طرح دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی یہ صورتِ حال دیکھنے میں آتی رہتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ عہدیداران ہوں یا کسی یونی ورسٹی کے محققین، فلمی ستارے ہوں یا ذرائع ابلاغ سے منسلک لوگ، بلاگز سب کی ضرورت بن چکے ہیں۔ بلاگز اتنے مشہور ہو چکے ہیں کہ اب یہ پیسہ کمانے کا ایک ذریعہ بھی بن چکے ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا مشہور بلاگ ہو جسے آپ اشتہارات سے پاک دیکھیں۔ لوگوں میں دوسروں کے بلاگ پڑھنے کا رجحان، اپنے بلاگ لکھنے سے بھی زیادہ ہے۔ اس لئے بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ پوری ویب سائٹ کے مقابلے میں اسی سائٹ پر موجود کسی مخصوص بلاگ کے ملاحظہ کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں۔ اس لئے ایسے بلاگز پر اشتہارات لگا کر ان کی شہرت سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے جب کہ گوگل ایڈسنس کے اشتہارات تو آپ کو تقریباً ہر چھوٹے بڑے بلاگ پر نظر آتے ہی رہتے ہیں

 مضمون انٹر نیٹ کی مدد سے لکھا گیا پہے


نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

اسپینش فلو جو 5 کروڑ جانیں لے گیا

  اسپینش فلو (1918–1920) انسانی تاریخ کی مہلک ترین وبائی امراض میں سے ایک تھا، جو 5 کروڑ سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بن گیا ۔ جب  میں خود ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر