ہفتہ، 27 دسمبر، 2025

امام باقر علیہ السلام ولادت اور فضائل

 




تمام  عالمین کی مومن مخلوقات کو فرزند نبی (صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ) پنجم کی ولادت با سعادت مبارک ہو حضرت امام محمد باقر علیہ السلام  حضرت امام زین العابدین                 علیہ السلام کے فرزند اور اہل تشیع کے پانچویں امام ہیں. آپ کو امام باقر علیہ السّلام کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔  آپ کا سلسلہ نسب ماں اور باپ دونوں کی طرف حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم )  تک جا پہنچتا ہے۔ آپ کے دادا سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السّلام ہیں جو حضرت رسول خدامحمدمصطفیٰ کے چھوٹے نواسے ہیں اور آپ کی والدہ جناب ام عبد اللہ فاطمہ علیہا السّلام حضرت امام حسن علیہ السّلام کی صاحبزادی ہیں جو حضرت رسول کے بڑے نواسے ہیں۔ ولادت با سعادت -آپ کی ولادت روز جمعہ یکم رجب 57ھ میں ہوئی . یہ وہ وقت تھا جب امام حسن علیہ السّلام کی وفات کو سات برس ہوچکے تھے اور امام حسین علیہ السّلام مدینہ میں خاموشی کی زندگی بسر کررہے تھے اور وقت کی رفتار تیزی سے واقعہ کربلا کے اسباب فراہم کررہی تھی . یہ زمانہ آل رسول علیہم السّلام اور شیعانِ اہل بیت علیہم السّلام کے لیے بے حد پرآشوب تھا . چُن چُن کر محبانِ علی علیہ السّلام گرفتار کیے جارہے تھے،  تلوار کے گھاٹ اتارے جارہے تھے یا سولیوں پر چڑھائے جارہے تھے ۔  سانحہ کربلا -تین برس امام محمد باقر علیہ السّلام اپنے جد بزرگوار حضرت امام حسین علیہ السّلام کے زیرِسایہ رہے . جب آپ کاسن پورے تین سال کا ہوا تو امام حسین علیہ السّلام کے ہمراہ مدینہ سے سفر کرتے ہوئے کربلا پہنچے . یہ خالق کی منشاء کی ایک تکمیل تھی کہ وہ روز عاشور میدان ُ قربانی میں نہیں لائے گئے .


 ورنہ جب ان سے چھوٹے سن کا بچہ علی اصغر علیہ السّلام تیر ستم کا نشانہ ہوسکتا تھا تو امام محمد باقر علیہ السّلام کابھی قربان گاہ شہادت پر لاناممکن تھا . مگر سلسلہ امامت کادنیامیں قائم رہنا نظام کائنات کے برقرار رہنے کے لیے ضروری اور اہم تھا اور امام محمد باقر علیہ السّلام کربلا کے میدان اور کوفہ و شام کےبازاروں اور درباروں میں آل رسول پر ہونے والے مظالم کے گواہ اور عینی شاہد بنے اور انقلاب کربلا کی قربانیوں کو رائیگاں ہونے سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔  واقعہ کربلا کے بعد امام زین العابدین علیہ السّلام کو مسلمانوں کی بد ترین بے وفائی اور حکمرانوں کے ظلم و ستم نے ظاہری طور پر بالکل الگ اور نہایت سکوت کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا لہذا آپ امامت کے فرائض کی ادائيگی کرتے ہوئے اہل دنیا کو حقیقی اسلام اور حقیقی اسلامی کی تعلیمات و عقائد سے آگاہ کرنے کے لیے کبھی محراب عبادت اور مناجات کا سہارا لیتے اور کبھی اپنے مظلوم بابا کاماتم کر کے دنیا والوں کو وارثانِ رسالت اور نمائندگانِ شریعت کی معرفت اور ان کی دین کے لیے قربانیوں کو جاننے کی دعوت دیتے.یہ وہی زمانہ تھا جس میں امام محمد باقر علیہ السّلام نے نشونما پائی .61 ھ سے 95ھ تک 34برس اپنے بابا کی زندگی کامطالعہ کرتے رہے اور اپنے فطری اور خداداد ذاتی کمالات کے ساتھ ان تعلیمات سے فائدہ اٹھاتے رہے جو انھیں اپنے والد ُ بزرگوار کی زندگی کے آئینہ میں برابر نظر آتی رہیں۔ 


 امامت کی ذمہ داری -حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام کو 38 برس کی عمر میں اپنے والد بزرگوار حضرت امام زین العابدین علیہ السّلام کی شہادت کا صدمہ سہنا پڑااور اس کے ساتھ ہی امامت کی ذمہ داریاں بھی آپ ہی کےسپرد کر دی گئی۔ آپ رسول خدا کے پانچویں برحق جانشین اور امام قرار پائے۔ آپ کا دورامامت یہ وہ زمانہ تھا جب بنی امیہ کی سلطنت اپنی مادری طاقت کے لحاظ سے بڑھاپے کی منزلوں سے گزر رہی تھی. بنی ہاشم پر ظلم وستم اورخصوصاً کربلا کے واقعہ نے کسی حد تک دنیا کی آنکھوں کو کھول دیا توابین کا جہاد، مختار اور ان کے ہمراہیوں کے خون حسین علیہ السّلام کا بدلہ لینے میں اقدامات اور نہ جانے کتنے ہی ایسے واقعات سامنے آ چکے تھے جن سے سلطنت شام کی بنیادیں ہل گئیں تھیں جس کے نتیجہ میں امام محمد باقر علیہ السّلام کے زمانہ امامت کو حکومت کے ظلم وتشدد کی گرفت سے کچھ آزادی نصیب ہوئی اور آپ کو خلق خدا کی اصلاح وہدایت کا کچھ زیادہ موقع مل گیا . امام حسین علیہ السّلام کی عزاداری اور تبلیغ دین سانحہ کربلا کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور اپنے بابا کی تمام زندگی کا امام مظلوم علیہ السّلام کے غم میں تنہا رونے کا مطالعہ کرچکنے کے بعد آپ کے دل میں یہ تکلیف دہ احساس ایک فطری امر تھا کہ جس غم ورنج، گریہ وزاری اور اہتمام کے ساتھ دنیا والوں کو امام حسین علیہ السّلام کا ماتم برپا کرنا چاہیے تھا ویسا دنیا والوں نے نہیں کیا۔ لہذا امام محمد باقر علیہ السّلام نے اس پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے مجالس عزاء کا سارا سال انعقاد فرماتے اور کمیت بن زید اسدی بڑے شاعروں کو بلا کر مراثیہائے امام حسین علیہ السّلام پڑھواتے اور سنتے اور ان مجالس میں لوگوں کو شرکت کی دعوت دیتے ۔



 رجب 60ء کو جب سید الشہداء امام حسین علیہ السلام نے اسلام کی بقاء کا سفر شروع کیا تو ان میں آپ علیہ السلام بھی شریک تھے۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک 4 سال کے لگ بھگ تھی۔ آپ نے اپنی آنکھوں سے پاکیزہ اوصاف کی رذائل کیساتھ جنگ دیکھی۔ آپ  علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے اپنے پیاروں اور 72 جانثاروں کو تہہ تیغ ہوتے دیکھا۔ تین دن کی سخت ترین گرمی اور دھوپ میں پیاس کی شدت کو برداشت کرنے والوں میں آپ بھی شریک تھے۔ شب عاشور خیموں کے لُٹنے، چادروں کے چھننے اور سید سجاد علیہ السلام کی علالت کو آپ نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تھا۔ کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور شام سے مدینہ تک کے تمام مظالم کو سر کرنے والوں میں آپ بھی شامل تھے۔ کربلا کے پیغام رسانوں، مقصد امام حسین کی پہچان کرانے والوں اور روداد غم سنانے والوں میں آپ سید سجاد علیہ السلام اور سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے ساتھ برابر کے شریک تھے۔ وگرنہ یزید نے یہ ٹھان لیا تھا کہ حسین علیہ السلام کے مقصد کو کربلا میں ہی دفن کر دیا جائے،ایک مرتبہ آپ سات سال کی عمر میں اپنے والد کے ساتھ حج پر جا رہے تھے۔ راستے میں ایک حیرت زدہ شخص نے سوال کیا، فرزند! تم کون ہو ؟ کہاں جا رہے ہو اور زاد راہ کیا ہے ؟ آپ نے اپنے جواب سے اُس شخص کو لا جواب کر دیا، اور فرمایا میرا سفر من اللہ اور الی اللہ (اللہ سے اور اللہ کی طرف) ہے۔ میرا زادِ راہ تقوی ہے۔ میرا نام محمد ابن علی ابن الحسین ابن علی ابن ابی طالب ہے۔

 

جمعہ، 26 دسمبر، 2025

شا لامار باغ حسن تعمیر کا نمونہ

 

 

شالیمار باغ یا شالامار باغ مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے لاہور میں 1641ء-1642ء میں تعمیر کرایا۔ باغ ایک مستطیل شکل میں ہے اور اس کے اردگرد اینٹوں کی ایک اونچی دیوار ہے۔ شمال سے جنوب کی طرف لمبائی 658 میٹر اور مشرق سے مغرب کی طرف چوڑائی 258 میٹر ہے۔ باغ 3 حصوں میں بٹا ہوا ہے اور تینوں کی بلندی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ایک حصہ دوسرے سے 4.5 میٹر تک بلند ہے۔ ان حصوں کے نام فرح بخش، فیض بخش اور حیات بخش ہیں۔باغ کو ایک نہر سیراب کرتی ہے۔ اس میں 410 فوارے، 5 آبشاریں اور آرام کے لیے کئی عمارتیں ہیں اور مختلف اقسام کے درخت ہیں۔اہمیت شالامار باغ لاہور مغلیہ طرزِ تعمیر کا بہترین نمونہ ہے۔ جس میں خوبصورت چبوترے راستے پانی کی نہریں آبشاریں اور فوارے شامل ہیں۔ یونیسکو کی بین الاقوامی ثقافتی ور کمیٹی نے اس باغ کی خوبصورتی اور اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو 30 اگست 1981ء کو دنیا کے محفوظ عجائبات کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ تا کہ اس کی صحیح معنوں میں نگہداشت ہو سکے۔اس کی تعمیر شہنشاہ شاہجہاں کے حکم سے 1641ء میں شروع کی گئی اور یہ 1642ء میں مکمل ہوا۔ باغ کی تعمیر شاہجہاں کے ایک امیر اللہ خان کی نگرانی میں علی مردان اور ملا وا ملک تولی کے تعاون سے ہوئی۔شالامار باغ کے چاروں اطراف بلند حصاری دیوار ہے۔ یہ شمالاً جنوباً تین تختوں پر بنایا گیا ہے۔ اس کا بالائی تختہ "مزح بخش" درمیانی تختہ "فیض بخش" اور زیریں تختہ "حیات بخش" کے نام سے موسوم ہے۔ باغ کا رقبہ شمالاً جنوباً 658 میٹر طول اور شرقاً غرباً 258 میٹر عرض پر محیط ہے۔ اس کے بالائی تختہ میں 105 فوارے نصب ہیں جبکہ درمیانی تختہ میں 152 فوارے اور زیریں تختہ 153 فوارے نصب ہیں۔ اس طرح ان فواروں کی کل تعداد 410 بنتی ہے۔


اس کے علاوہ یہاں پر پانی کے بہاؤ کے لیے پانچ تختے ہیں جس میں سنگ مر مر کا عظیم تخت اور ساون بھادوں کی بارودری بھی ہے۔ شالامار باغ مغلیہ باغات کی تمام تر اہم خصوصیات کا مرقع ہے جس میں بلند راستے اور پانی کے بہاؤ کی نہریں وغیرہ شامل ہیں۔ باغ کو سیراب کرنے کے لیے 100 میل لمبی نہر دور بھارت میں وادھو پور کے مقام سے نکالی گئی جسے "شاہ نہر" اور بعد ازاں "ہنسی نہر" کا نام دیا گیا۔ باغ میں موسم سرما اور گرما کے پھلدار درخت جن میں آم، چیری، خوبانی، آلوچہ، جامن، سیب، بادام، کھٹے میٹھے نارنگیاں اور دیگر پھلدار اور خوشبودار پودے بکثرت لگائے گئے۔باغ میں متعدد عظیم عمارات بھی ہیں۔ ان متاثر کن عمارات میں بارہ دریاں، دیوان خاص و عام، خواب گاہ، شاہی حمام، دروازے اور برجیاں شامل ہیں۔ خاص کر دیوان خاص و عام، آرام گاہ، بیگم صاحبہ کی خواب گاہ، ساون بھادوں کی بارہ دری اور نقار خانہ کی عمارات شامل ہیں۔ ان عمارات کے کونوں میں برج اس کے تاریخی حسن کو دوبالا کرتے ہیں۔  مغل بادشاہ شاہجہان نے جب لاہور میں دربار لگایا تو علی مردان خان نے اسے بتایا کہ اس کے پاس ایک ایسا شخص موجود ہے جو نہر بنانے میں بڑی مہارت رکھتا ہے۔ شاہ جہاں نے خوش ہو کر حکم دیا کہ دریائے راوی سے ایک نہر نکال کر لاہور کے پاس سے گزاری جائے۔ شاہ جہان نے یہ نہر تیار کرنے کے لیے دو لاکھ روپے دیے۔ ایک سال کے بعد جب شاہ جہاں دوبارہ لاہور آیا تو نہر مکمل ہو چکی تھی۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ اس نہر کے کنارے ایک وسیع و عریض اور بہت خوبصورت باغ تعمیر کیا جائے اور اس باغ میں بارہ دری، شاہی غسل خانے، فوارے اور جابجا پھلدار درخت لگائے جائیں۔


 شاہی ماہر تعمیرات نے باغ کی تعمیر کے لیے جس زمین کا انتخاب کیا وہ علاقہ کے معروف زمیندار میاں محمد یوسف عرف مہر مہنگا کی ذاتی ملکیت تھی۔ بادشاہ کو جب اس بات کا علم ہوا تو میاں محمد یوسف کو منہ مانگی رقم دینا چاہی پر میاں محمد یوسف نے یہ زمین بلا معاوضہ بادشاہ کو تحفہ کے طور پر پیش کر دی۔ بادشاہ اس رویہ پر اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے باغ کی تعمیر مکمل ہونے پر میاں محمد یوسف کو ہی ناظم شالامار مقرر کر دیا۔ باغ کے تعمیر کے لیے بادشاہ نے خلیل اللہ خان کو مقرر کیا لہٰذا خلیل اللہ خان نے ملک کے کئی اور افسروں کو ساتھ لگا کر اس باغ کی تعمیر شروع کر دی۔ باغ کے لیے درختوں کے پورے قندھار اور کابل سے منگوائے گئے۔ یہ باغ شالا مار تھا جو اسی(80) ایکڑ زمین پر پھیلا ہوا ہے اس باغ کا سنگ بنیاد 1637ء میں رکھا گیا۔ اس پر چھ لاکھ روپے کے لگ بھگ لاگت آئی ڈیڑھ سال کے عرصہ میں یہ مکمل ہوا تھا۔  باغ میں ایک دلکش تالاب بھی بنا ہوا ہے جس میں بہت سارے فوارے لگے ہوئے ہیں۔ فواروں کا پانی سنگ مرمر کے حوضوں میں گرتا ہے۔ یہ فوارے گرمیوں کے موسم میں جگہ ٹھنڈی رکھنے کے لیے لگوائے گئے تھے۔ یہاں پر سنگ مرمر کی پانچ خوبصورت بارہ دریاں بنائی گئی ہیں۔ بادشاہ ان بارہ دریوں میں بیٹھ کر برسات کا نظارہ کیا کرتا تھا۔ باغ کے ایک حصے میں جسے حیات بخش کہتے ہیں۔ سنگ مرمر کا ایک بہت ہی خوشنما تخت بنوایا گیا ہے شاہ جہاں اس تخت پر بیٹھ کر اپنا دربار لگایا کرتا تھا۔ کچھ فاصلے پر سنگ مرمر کی ایک آبشار بنی ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر کی بیٹی زیب النساء چونکہ شاعرہ تھی اس لیے اکثر اس جگہ بیٹھ کر شعر کہا کرتی تھی۔


 شالا مار باغ میں شاہ جہاں نے اپنے لیے حمام بھی بنوایا تھا۔ حمام کے تین حصے تھے ایک حصے میں دو فوارے اور دوسرے حصے میں حوض ہے اس حوض میں گرم اور ٹھنڈا دونوں طرح کا پانی لایا جاتا تھا۔ سنگ مرمر کے کئی طاقچے چراغ رکھنے کے لیے بنوائے گئے تھے۔ جب یہاں چراغ جلائے جاتے تھے تو حوض میں گرنے والا پانی بارش کا سماں پیدا کرتا اور چراغ کی روشنی بجلی کی چمک کی طرح معلوم ہوتی بادشاہ اس نظارے سے بہت لطف اٹھاتا تھا۔ باغ فرح بخش، جسے پائیں باغ بھی کہا جاتا تھا حیات بخش سے نیچے بنا ہوا ہے شالا مار باغ میں بہت پھلدار درخت لگے ہوئے ہیں۔ شاہجہان جب لاہور آیا تو امیروں اور وزیروں نے عرض کی کہ حضور! شالامار باغ مکمل ہو چکا ہے۔ بادشاہ باغ میں داخل ہوا تو شالامار کا حسن دیکھ کر باغ باغ ہو گیا۔ اس وقت شاہجہان کے نائبین نے حاضر ہو کر مبارکبادیں دیں اور سب نے مل کر شاہی حکومت کی بہتری اور برتری کے لیے دعائیں مانگیں۔ اس موقع پر ملک کے بڑے بڑے عالم، فاضل اور بزرگ موجود تھے۔ ان عالموں نے بادشاہ سے کہا کہ آج تک دنیا میں ایسا خوبصورت باغ نہ کہیں دیکھا نہ سنا ہے۔ باغ کے گرد اونچی اونچی دیواریں بنائی گئیں۔ لاہور کا شالا مار باغ دنیا کے عظیم الشان باغوں میں شمار ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب کسی دوست ملک کا سربراہ، بادشاہ یا کوئی نامور شخص پاکستان کے دورے پر آتا ہے تو لاہور میں شالا مار باغ کی سیر ضرور کرتا ہے اس باغ میں معزز مہمانوں کو شہریوں کی طرف سے استقبالیہ دیا جاتا ہے ہزاروں شہری معزز مہمان سے ملتے ہیں اور بات چیت کرکے محظوظ ہوتے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد دوست ملکوں کے سربراہ اور نامور رہنماء اکثر یہاں آتے رہتے ہیں اور باغ میں استقبالیہ ان کے پروگرام کا لازمی جزو ہوتا ہے۔

 

جمعرات، 25 دسمبر، 2025

ہم جنس پرستوں کا راکھ میں مدفون شہر'پومپئ'

 

  انسانی بستیوں سے چھینا گیا وہ شہر جسے قدرت نے 1500 سال بعد لفظ بہ لفظ دنیا کے سامنے پیش کر دیاکیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کوئی پورا شہر، جس کی گلیاں، مکانات، کھانے پینے کی اشیاء اور یہاں تک کہ دیواروں پر لکھیہوئی روزمرہ کی باتیں بھی ایک ہی لمحے میں وقت کے ہاتھوں منجمد ہو جائیں، اور پھر ڈیڑھ ہزار سال بعد بالکل اسی طرح دوبارہ دریافت ہو جائیں؟ یہ کسی ٹائم کیپسول کی کہانی نہیں بلکہ رومن سلطنت کے مشہور شہر "پومپیئی" (Pompeii) کا سنسنی خیز اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔یہ واقعہ 79 عیسوی کا ہے، جب پومپیئی شہر اپنے عروج پر تھا اور رومن امراء کے لیے عیش و عشرت کا مرکز مانا جاتا تھا۔ یہ شہر نیپلز کے قریب، Mount Vesuvius نامی خوبصورت پہاڑ کے دامن میں واقع تھا۔ شہر کے باسی اس بات سے بے خبر تھے کہ یہ پہاڑ دراصل ایک خطرناک آتش فشاں تھا جو صدیوں سے خاموش تھا۔24 اگست 79 عیسوی کو، ظہر کے وقت، Mount Vesuvius اچانک اور بغیر کسی وارننگ کے پھٹ پڑا۔ یہ پھٹنا اتنا خوفناک تھا کہ آسمان کالے دھوئیں، راکھ اور چٹانوں کے ٹکڑوں سے بھر گیا۔ راکھ کا یہ طوفان 15 میل کی اونچائی تک جا پہنچا۔ 



چند ہی گھنٹوں میں، پومپیئی شہر 20 فٹ سے زیادہ آتش فشانی راکھ کی موٹی تہہ کے نیچے دب گیا، اور اس کے ساتھ ہی شہر کی تمام زندگی بھی دفن ہو گئی۔ یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ ہزاروں لوگ بھاگ نہیں پائے اور وہ جس حالت میں تھے، اسی میں منجمد ہو کر رہ گئے۔پومپیئی شہر اگلے 1500 سال تک دنیا کی نظروں سے اوجھل رہا اور تاریخ کے اوراق سے مٹ گیا۔ پھر 1748 میں اتفاقی طور پر جب کھدائی کا کام شروع ہوا تو ماہرین آثار قدیمہ نے جو کچھ دریافت کیا، وہ دنیا کے لیے ایک صدمہ اور تاریخی معجزہ تھا۔راکھ کی یہ موٹی تہہ شہر کے لیے سب سے بڑی محافظ ثابت ہوئی۔ اس نے شہر کو وقت اور موسم کے اثرات سے مکمل طور پر بچا لیا۔ جب آثار قدیمہ کے ماہرین نے راکھ ہٹائی، تو انہیں ایک ایسا شہر ملا جو ڈیڑھ ہزار سال پہلے تھم گیا تھا۔ انہیں دیواروں پر رنگین پینٹنگز، بازاروں میں روٹیاں، ہوٹلوں میں کھانے کے برتن، اور سڑکوں پر چلتے ہوئے لوگوں کی باقیات ملیں۔ گھروں کے اندر ان کا فرنیچر، سامان اور یہاں تک کہ چولہے پر رکھا کھانا بھی اسی طرح موجود تھا۔ دیواروں پر گرافیٹی (دیواروں پر لکھے گئے پیغامات) اور انتخابی پوسٹرز بھی اتنے تازہ تھے جیسے کل ہی لکھے گئے ہوں۔اس شہر کو وقت میں منجمد کرنے کا سب سے خوفناک پہلو انسانی باقیات تھیں۔ جب لاشیں سڑ گل گئیں تو ان کے گرد سخت راکھ کا ایک خول بن گیا۔ ماہرین نے ان خالی خولوں میں پلاسٹر آف پیرس بھر کر ان لوگوں کے حتمی لمحات کو مجسم کر دیا۔ آج بھی جب آپ پومپیئی جاتے ہیں، تو آپ ان لوگوں کی اشکال دیکھ سکتے ہیں جو اپنی جان بچانے کی آخری کوشش کر رہے تھے، یا بستروں پر سوئے ہوئے تھے، یا اپنے خاندان کو گلے لگا رہے تھے۔ یہ منظر کسی بھی زائر کو جذباتی کر دیتا ہے کیونکہ یہ ایک شہر کی ہولناک موت کی خاموش گواہی ہے۔پومپیئی کی دریافت نے رومی تاریخ، ثقافت، طرزِ زندگی اور فن تعمیر کے بارے میں معلومات کا خزانہ کھول دیا۔ ہمیں رومن سوسائٹی کے بارے میں وہ تفصیلات معلوم ہوئیں جو ہمیں تاریخی کتابوں سے کبھی نہ ملتیں۔


 قدرت کے اس شدید غضب نے ایک ایسا المناک معجزہ پیدا کیا جس نے شہر کو فنا تو کر دیا، لیکن اسے تاریخ کے ہاتھوں سے بچا کر ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ پومپیئی آج بھی ایک ایسی کھڑکی ہے جو ہمیں ڈیڑھ ہزار سال پہلے کی رومن زندگی میں جھانکنے کا موقع دیتی ہے۔موجودہ ملک اٹلی کے علاقے کمپانیہ میں ناپولی کے نزدیک واقع تھا جولگ بھگ 2ہزار سال قبل 79ءمیں ویسوویوس نامی آتش فشاں پہاڑ کے پھٹنے سے یہ تباہ ہو گیا تھا۔ آتش فشاں سے اس قدر لاوہ اور راکھ نکلی تھی کہ یہ شہر 4 سے 6 میٹر (13 سے 20 فٹ) راکھ کے نیچے دفن ہو گیا۔ماہرین نے کھدائی کرکے پومپئی کے آثار دریافت کیے ہیں جن کی دیواریں پر اس قدیم زمانے کی زبان میں کچھ تحاریر موجود تھیں۔ اب ان تحریروں کا ترجمہ کر لیا گیا ہے جس سے ایسا انکشاف ہوا ہے جس نے اس شہر پر عذاب الہٰی نازل ہونے کی حقیقت بیان کر دی ہے۔دوہزار سال قبل لاوے اور راکھ میں دبنے کے باوجود جب اس شہر کی دریافت کے بعد کھدائی کی گئی توماہرین آثار قدیمہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے تھے کہ لوگ مردہ حالت میں محفوظ ہیں اور ایسا لگ رہا تھا کہ خدا نے اخلاق باختہ حرکتیں کرنے والی قوم کو آنے والی دنیاکے لئے نشانِ عبرت بنادیا ہ

بدھ، 24 دسمبر، 2025

قلعہ بالا حصار 'پشاور

،  زمانہ قدیم کی تاریخ دیکھئے  شہر فصیل بند بنائے جاتے تھے تاکہ حملہ آوروں سے  شہر اور ان کے باسیوں کو بچا  یا جا سکے،  پھر قلعوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ  ان قلعوں کی موجودگی شاہی طاقت اور حکمرانی کا مرکز ہوتی تھی،  یہ عسکری ضروریات  کے لئے  اپنے زمانے کا رائج اسلحہ محفوظ رکھتے تھے اس کے علاوہ  سیاسی اور انتظامی امور کی انجام دہی کے لیے استعمال ہوتے تھے، جن میں محل، مسجدیں،  بھی شامل تھے، جیسا کہ لاہور قلعہ. قلعوں کی تعمیر کے اہم مقاصد:دفاعی تحفظ: یہ سب سے اہم وجہ تھی۔ قلعے مضبوط دیواروں، برجوں اور خفیہ راستوں سے بنائے جاتے تھے تاکہ دشمن کے حملوں سے خود کو اور اندر موجود آبادی کو محفوظ رکھا جا سکے  -ان قلعوں میں بارش کا پانی جمع کرنے اور پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے تالاب اور ذخائر بھی بنائے جاتے تھے. اس کے ساتھ یہ قلعےطاقت اور رعب کا مظہر اور اختیار کی علامت ہوتے تھے. ان کی عظیم الشان تعمیرات سے عوام پر رعب قائم کیا جاتا تھا ثقافتی اور مذہبی مرکز: قلعوں میں مساجد، دربار اور دیگر مذہبی مقامات بھی تعمیر کیے جاتے تھے، جو فن تعمیر کا شاہکار ہوتے تھے. مختصر یہ کہ قلعے صرف فوجی چوکی نہیں ہوتے تھے، بلکہ یہ ایک مکمل سیاسی، سماجی، اور دفاعی نظام کا مرکز تھے، جو حکمرانوں کو تحفظ اور اقتدار فراہم کرتے تھے. ،بالاحصار پشاور میں واقع ایک قدیم قلعہ اور تاریخی مقام ہے ۔ تیمور شاہ درانی نے اس قلعے کا نام بالاحصار رکھا جس کے لفظی معنی بلند قلعہ کے ہیں۔ یہ قلعہ ایک طویل عرصے تک درانیوں کا زیر استعمال رہا،


 19ویں صدی میں جب سکھوں نے پشاور پر حملہ کیا تو یہ قلعہ ان کے زیر استعمال آیا اور انھوں نے اس کا نام سمیر گڑھ رکھا لیکن مقامی طور پر سمیر گڑھ کا نام مشہور نہ ہو سکا۔ اس وقت قلعے کو بطور فرنٹیئر کورپس ہیڈکوارٹر استعمال کیا جا رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ قلعہ اتنا پرانا ہے جتنا کہ پشاور کا شہر، قلعہ کی زمین سے مجموعی بلندی 92 فٹ ہے اس کی دیواریں پختہ سرخ اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہیں قلعہ کی اندرونی دیوار کی بلندی 50فٹ ہے۔ دوہری دیواروں والے اس قلعہ کا کل رقبہ سوا پندرہ ایکڑ رقبہ پر محیط ہے جبکہ اس کا اندرونی رقبہ دس ایکڑ بنتا ہے  -اس خوبصورت قلعے کے اندر ایک خوبصورت میوزیم بنایا گیا ہے جہاں مختلف کمروں میں فرنٹیئر کورپس کی مختلف شاخوں کی نمائندگی کی گئی ہے جن میں خیبر رائفلز، سوات سکاؤٹس، مہمند رائفلز، چترال سکاؤٹس، کُرم ملٹری، باجوڑ سکاؤٹس، شوال رائفلز، دیر سکاؤٹس، جنوبی وزیرستان و ٹوچی سکاؤٹس اور خٹک سکاؤٹس شامل ہیں۔ یہاں ان علاقوں میں مختلف آپریشنز سے بازیاب کیے گئے آلاتِ حرب، نقشے، سپاہوں کی وردیاں، تصاویر، تلواریں، پستول، جھنڈے، مختلف علاقوں کی ثقافتیں، ٹرک آرٹ اور چھوٹی توپیں شامل ہیں۔ یہاں ایک پھانسی گھاٹ اور خوبصورت چھوٹی سی سووینیئر شاپ بھی ہے جہاں سے آپ پشاور کی مشہور پشاوری چپل اور درہ خیبر کے ماڈل خرید سکتے ہیں۔ یہاں موجود ایک تختی پہ روڈیارڈ کپلنگ کے وہ مشہور الفاظ بھی درج ہیں جو انھوں نے اس فورس کے بارے میں کہے تھے :



الاحصار قلعہ پشاور،پاکستان میں واقع ایک قلعہ پشاور کا سب سے قدیم اور تاریخی مقام ہے ۔درانی سلطنت کا پشاور موسم سرما اور کابل موسم گرما میں دار الحکومت ہوتا تھا، اس لیے سردیوں میں درانی شاہان اس قلعے میں رہا کرتے تھے۔تیمور شاہ درانی نے اس قلعے کا نام بالاحصار رکھا جس کے لفظی معنی بلند قلعہ کے ہے۔ یہ قلعہ ایک طویل عرصے تک درانیوں کا زیر استعمال رہا، 19ویں صدی میں جب سکھوں نے پشاور پر حملہ کیا تو یہ قلعہ ان کے زیر استعمال آیا اور   اس وقت  سےقلعے کو فرنٹیئر کانسٹبلری بطور ہیڈکوارٹر استعمال کر رہی ہے۔ہندوکش زلزلہ 2015ء کے دوران میں اس قلعہ کا ایک دیوار جزوی طور پر متاثر ہوا تھا جسے دوبارہ تعمیر کرایا گیا ہے۔ یہ قلعہ اتنا پرانا ہے جتنا کہ پشاور کا شہر، قلعہ کی زمین سے مجموعی بلندی 92 فٹ ہے اس کی دیواریں پختہ سرخ اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہیں قلعہ کی اندرونی دیوار کی بلندی 50فٹ ہے۔ دوہری دیواروں والے اس قلعہ کا کل رقبہ سوا پندرہ ایکڑ رقبہ پر محیط ہے جبکہ اس کا اندرونی رقبہ دس ایکڑ بنتا ہے ایک پختہ سڑک بل کھاتی ہوئی قلعہ کے اندر تک جاتی ہے۔مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر نے اپنی خودنوشت تزک بابری میں قلعہ بالا حصار کا ذکر کیا ہے۔ وہ باگرام (پشاور) کے قریب اپنی فوجوں کے اترنے اور شکار کے لیے روانگی کا ذکر کرتا ہے۔ 


جب مغل بادشاہ ہمایوں نے افغان بادشاہ شیر شاہ سوری سے شکست کھائی تو افغانوں نے قلعہ بالا حصار کو تباہ کر دیا۔جب ہمایوں نے شاہ ایران کی مدد سے اپنا کھویا ہوا تخت دوبارہ حاصل کر لیا تو اس نے کابل سے واپسی پر پشاور میں قیام کیا اور قلعہ بالا حصار کو دوبارہ تعمیر کروایا اس نے قلعہ میں ایک بڑا فوجی دستہ تعینات کیا اور ایک ازبک جرنیل سکندر خان کو قلعہ کا نگران مقرر کیا۔ پہلی مرتبہ قلعے میں یہاں توپیں نصب کی گئیں۔احمد شاہ ابدالی نے بھی وادی پشاور مغلوں سے چھین لی تھی۔ احمد شاہ ابدالی کے فرزند تیمور ابدالی نے پشاور کو اپنا سرمائی دار الخلافہ بنالیا۔ اس نے قلعہ بالا حصار میں اپنی رہائش کے لیے محلات تعمیر کروائے اور اپنے حفاظتی دستے کے لیے ایرانی اور تاجک سپاہی بھرتی کیے۔ جب 1779ء میں ارباب فیض اللہ خان نے قلعہ بالا حصار پر یلغار کی تو اسی حفاظتی دستے نے تیمور شاہ کی حفاظت کی۔ 1793ء میں تیمور شاہ کی وفات کے بعد شاہ زمان سریر آرائے سلطنت ہوا۔ اس کے دور میں سکھ پنجاب پر قابض ہو گئے۔1834ء میں سکھوں نے پشاور پر قبضہ کر لیا پہلے تو سکھوں نے قلعہ بالا حصار کی اینٹ سے اینٹ بجا دی لیکن جلد ہی انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ہری سنگھ نلوہ اور سردار کھڑک سنگھ نے اس قلعہ کی اہمیت کے پیش نظر اسے دوبارہ تعمیر کرایا۔ مہاراجا رنجیت سنگھ کے حکم پر شیر سنگھ نے قلعہ بالا حصار کچی اینٹوں سے بنوایا   تھا۔ سکھوں کے دور کی ایک لوح آج بھی قلعہ بالا حصار کی مرکزی دیوار میں نصب دیکھی جا سکتی ہے 


منگل، 23 دسمبر، 2025

رانا بھگوان داس محب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم

 

سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس   کے بارے میں  یہ ایک پرانا مضمون ہے  جو میں نے  اب پبلش کیا ہے-جمعہ کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے سربراہ کا عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور کمیشن میں تعینات کیے جانے والے دو نئے ارکان سے حلف لیا۔جمعرات کو چئرمین فیڈرل سروس کمیش کا حلف اٹھایا تھا۔18 دسمبر 2009سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے جمعہ کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے سربراہ کا عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور کمیشن میں تعینات کیے جانے والے دو نئے ارکان سے حلف لیا۔سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے جمعرات کو چئرمین فیڈرل سروس کمیش کا حلف اٹھایا تھا۔ ان کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی اور صدر آصف علی زرداری نے رانا بھگوان داس سے حلف لیا۔سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی بطور چئرمین پبلک سروس کمیشن تقرری کا خیر مقدم کیا گیا ہے اور اسے ایک مثبت قدم قرار دیا گیا ہے۔مبصرین کے مطابق ایک ایماندار اور منصف شخص کو اس ادارے کی قیادت سونپنے سے ملکی افسر شاہی کو سیاست سے پاک کرنے میں بڑی حد تک مدد ملے گی۔


ان مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس قسم کی شکایت سامنے آتی رہی ہیں کہ مختلف حکومتوں کے دورے میں بیوروکریسی میں سیاسی بنیادوں پر تعیناتیاں ہوتی رہی ہیں جس سے بیوروکریسی بھی سیاسی رسہ کشی کا حصہ بنتی رہی ہے۔سابق سکریٹری اطلاعات اشفاق گوندل نے رانا بھگوان داس کی تعیناتی پر کہاکہ وہ ایک نہایت ایماندار اور اچھی شہرت کے حامل جج رہے ہیں اور ان کا چئرمین بننا ایک مثبت قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ فیڈرل سروس کمیشن وہ واحد ادارہ ہے جو میرٹ کی بنیاد پر سرکاری نوکریوں میں بھرتیاں کرنے کا مجاز ہے اور اس ادارے میں ایک ایماندار اور انصاف پسند شخص کی موجودگی ہے میرٹ کی پالیسی کو یقینی بنانے میں بہت مدد ملے گی۔انہوں نے کہ اس ادارے کے تحت مقابلے کے امتحانات کے ذریعے ایک عام آدمی کو بھی اعلی سرکاری نوکری حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے-انہوں نے کہا کہ اور ایسی جگہ پر بھگوان داس جیسے شخص کی موجودگی ایک بہت ہی خوش آئند قدم ہے۔


فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے اختیارات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں حال ہی میں ریٹائر ہونے والے سکریٹری اطلاعات نے کہا کہ صدر مشرف کے دور میں اس ادارے کے اس وقت کے سربراہ جمشید گلزار کیانی کو قومی سلیکشن بورڈ کو بھی سربراہ بنا دیا گیا تھا۔سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے جمعرات کو چئرمین فیڈرل سروس کمیش کا حلف اٹھایا تھا۔ ان کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی اور صدر آصف علی زرداری نے رانا بھگوان داس سے حلف لیا۔سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی بطور چئرمین پبلک سروس کمیشن تقرری کا خیر مقدم کیا گیا ہے اور اسے ایک مثبت قدم قرار دیا گیا ہے۔

مبصرین کے مطابق ایک ایماندار اور منصف شخص کو اس ادارے کی قیادت سونپنے سے ملکی افسر شاہی کو سیاست سے پاک کرنے میں بڑی حد تک مدد ملے گی۔ ان مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس قسم کی شکایت سامنے آتی رہی ہیں کہ مختلف حکومتوں کے دورے میں بیوروکریسی میں سیاسی بنیادوں پر تعیناتیاں ہوتی رہی ہیں جس سے بیوروکریسی بھی سیاسی رسہ کشی کا حصہ بنتی رہی ہے۔سابق سکریٹری اطلاعات اشفاق گوندل نے رانا بھگوان داس کی تعیناتی پر کہا کہ وہ ایک نہایت ایماندار اور اچھی شہرت کے حامل جج رہے ہیں اور ان کا چئرمین بننا ایک مثبت قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ فیڈرل سروس کمیشن وہ واحد ادارہ ہے جو میرٹ کی بنیاد پر سرکاری نوکریوں میں بھرتیاں کرنے کا مجاز ہے اور اس ادارے میں ایک ایماندار اور انصاف پسند شخص کی موجودگی ہے میرٹ کی پالیسی کو یقینی بنانے میں بہت مدد ملے گی۔انہوں نے کہ اس ادارے کے تحت مقابلے کے امتحانات کے ذریعے ایک عام آدمی کو بھی اعلی سرکاری نوکری حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اور ایسی جگہ پر بھگوان داس جیسے شخص کی موجودگی ایک بہت ہی خوش آئند قدم ہے۔

 

۔ منتخب نعتیہ کلام بطور خراجِ تحسین

این جمالِ دو عالم تری ذاتِ عالی​

دو عالم کی رونق تری خوش جمالی​

خدا کا جو نائب ہوا ہے یہ انسان​

یہ سب کچھ ہے تری ستودہ خصالی ​

تو فیاضِ عالم ہے دانائے اعظم​

مبارک ترے در کا ہر اِک سوالی​

نگاہِ کرم ہو نواسوں کا صدقہ​

ترے در پہ آیا ہوں بن کے سوالی ​

میں جلوے کا طالب ہوں ، اے جان عالم!​

دکھادے ،دکھادے وہ شانِ جمالی ​

ترے آستانہ پہ میں جان دوں گا ​

نہ جاؤں، نہ جاؤں، نہ جاؤں گا خالی ​

تجھے واسطہ حضرتِ فاطمہؓ کا​

میری لاج رکھ لے دو عالم کے والی ​

نہ مایوس ہونا ہے یہ کہتا ہے بھگوانؔ

کہ جودِ محمدﷺ ہے سب سے نرالی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عرش حق کی طرف جب چلے مجتبی

جلوہ آرا تھا ہر سمت نور خدا

کہکشاں سے بنا اک نیا راستہ

فرش خاکی تا سدرة المنتہی

احتراما تھے ایستادہ جن و ملک

نغمہ گر حور و غلماں تھے صل اعلی

نعرہ کرتے تھے سب اصفیاء اتقیاء

آج دولہا بنا سید الانبیاء

عرش اعظم سے آنے لگی یہ صدا

مرحبا  مصطفیﷺ  مرحبا مصطفیﷺ 

زد میں گردوں ہی کیا ماہ و انجم بھی ہیں

کس نے جانا ہے یاں عشق کا مرتبہ

پہنچے معراج میں جب رسول خدا

کائنات دوعالم سے آئی صدا

جب خودی کی حقیقت سے پردہ اٹھا

پھر کہاں دوسرا میں رہا دوسرا

حسن اور عشق میں آج پردہ کشا

فرش پہ مصطفیﷺ عرش پہ کبریا

شان معراج سے بس یہ عقدہ کھلا

مرکز عشق ہیں خاتم الانبیاءﷺ

لا نبیﷺ بعدی ہے قول محبوب حق

ورد اس کا ہے بھگوانؔ صبح و مسا[5]////


عظیم الشان رومن سلطنت جب رو بہ زوال ہوئ


سلطنت روما میں  اس عہد کا سب سے بڑا تھیٹر تعمیر کیا گیا جسے2007ء میں دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔روم میں کولوزیم، جو دنیا کی سب سے مشہور اور حیرت انگیز تاریخی یادگاروں میں سے ایک ہے، رومی سلطنت کی طاقت کی علامت ہے اور اٹلی کے قدیم ترین ڈھانچے میں سے ایک ہے۔ یہ عظیم ایمفی تھیٹر، جو 2000 سال سے زیادہ پرانا ہے، قدیم روم میں گلیڈی ایٹر کی لڑائیوں، تاریخی شوز اور شاندار تقریبات کا مقام رہا ہے۔ غیر معمولی فن تعمیر اور تاریخی اتار چڑھاؤ سے لے کر ان کہانیوں تک جو تاریخی پتھر کی دیواروں کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں۔ کولوسیم کی تعمیر غالباً نیرو کے دور میں ہی شروع ہو گئی تھی کیونکہ اس میں نیرو کا ایک دیوہیکل مجسمہ نصب تھا، اسی لیے یہ   کے نام سے معروف ہو گیا ورنہ اس کا اصل نام فلیوین ایمفی تھیٹر تھا۔یہاں گلیڈیٹر کے نام سے باقاعدہ تربیت یافتہ غلاموں کو حکمرانوں اور شہریوں کی تفریح  طبع کے لیے شیروں سے لڑایا جاتا اور ان کے بے بسی سے مرنے کا تماشا دیکھا جاتا۔ ان تماشوں سے یہاں بیک وقت 50 ہزار تماشائی لطف اندوز ہو سکتے تھے۔ ہالی ووڈ کی فلم گلیڈیٹر میں اسی انسانیت سوز کھیل کو فوکس کیا گیا۔


برطانیہ کے قدیم قبرستان سے ملنے والے انسانی ڈھانچے پر شیر کے  دانتوں کے کاٹنے کے نشانات ملے ہیں، جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ رومن دور میں  انسانوں کو شیروں سے لڑوایا جاتا تھا۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق قدیم رومن دور کی تاریخ میں انسانوں کو جنگلی جانوروں سے لڑوائے جانے کے قصے ملتے ہیں جنہیں اس وقت کی تحریروں اور فن پاروں کا موضوع بھی بنایا جاتا رہا ہے،   برطانیہ کے قدیم شہر یارک کے ایک قبرستان میں انسانی باقیات ملی ہیں جو اس حوالے سے واضح ثبوت فراہم کرتی ہیں۔یارک شہر سے ملنے والے ایک انسانی ڈھانچے کے نچلے حصے پر شیر یا کسی وحشی جانور کے دانتوں کے کاٹنے کے واضح نشانات موجود ہیں۔آئر لینڈ کی مائینوتھ یونی ورسٹی سے تعلق رکھنے والے آرکیالوجسٹ پروفیسر ٹم تھامسن نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ شیروں کے ساتھ انسانوں کو لڑوایا جاتا تھا، جب یارک سے ملے ایک انسانی ڈھانچے کا فارنزک تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ انسانی ڈھانچے پر پائے گئے دانتوں کے نشانات کسی بڑے جانور غالباً شیر کے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ملنے والے اس انسانی ڈھانچے پر دانتوں کے نشان کے علاوہ چوٹوں کے نشانات بھی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کسی بڑے گوشت خور جانور کی جانب سے لگائے گئے تھے۔


اس تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ میں رومن دور میں یہاں خطرناک جانوروں اور انسانوں کی لڑائیاں کرائی جاتی تھیں۔واضح رہے کہ ان خونی کھیلوں میں حصہ لینے والے رومن جنگجوؤں کو گلیڈی ایٹرز کہا جاتا ہےاسی طرح معروف فلم بین حر BENHUR یروشلم میں 70ء یہودی بغاوت کے پس منظر میں بنی ہے جسکے مرکزی کردار ایک یہودی کو رومی اپنا غلام بنا کر روم لے آتے ہیں۔ یاد رہے کہ پہلی صدی عیسوی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانے والے یہی رومی تھے۔رومی سلطنت پرعیسائیت کا غلبہ اور یونانی علمی ورثے کی تبا ہی تھی صدی عیسوی میں قسطنطین اعظم وہ پہلا رومی بادشاہ تھا جس نے عیسائیت قبول کی اور قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کو روم کا دارالحکومت بنایا۔ بعد ازاں عیسائیت کو رومی سلطنت کے سرکاری مذہب کی حیثیت دیدی گئی، یوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت پر ایمان لانے والوں کو پہلی مرتبہ غلبہ اور اقتدار حاصل ہوا۔ قسطنطین ہی کے زمانے سے چرچ نے سیاسی معاملات میں کردار ادا کرنا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے شرک پر مبنی قدیم رومی مذاہب کے ماننے والوں اور ان کی ثقافت کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کے مندروں کو گرجاؤں میں تبدیل کیا، پاگان عبادت پر پابندی لگا دی گئی یہاں تک کہ ان کے علمی ورثہ تک کو تباہ کر دیا گیا۔


 اسی صورتحال کا نتیجہ صرف روم ہی نہیں بلکہ پورے یورپ کے فکری و شعوری زوال کے طور پر سامنے آیا۔ اسی کے بعد کیتھولک چرچ کے زیراثر جو کلچر پروان چڑھا اس میں علم کی تحصیل خانقاہوں یا کانوینٹس (Convents) تک ہی محدود ہو کر رہ گئی۔بعد ازاں رومی سلطنت مشرقی (صدر مقام قسطنطنیہ) اور مغربی حصوں (صدر مقام روم) میں بٹ گئی۔  عوام میں پسماندگی پھیل گئ اور بادشاہوں میں عیش پرستی بڑھ گئ زراعت تباہ ہوگئ اور کسان شہروں کی جانب نقل مکانی کرنے لگےشہروں میں گندگی کے ڈھیر لگ  گئے  جس کی صفائ مفقود ہو گئ  مغربی رومی سلطنت جو کیتھولک چرچ کے زیراثر تھی، عظیم الشان رومن سلطنت کو زوال کیوں ہوا-اس زوال کی ابتداء رومن ایمپائر کی دو حصوں  میں تقسیم سے ہوئ مشرق اور مغرب روم -مغربی رومی سلطنت کا زوال  -رومیوں کی تاریخ کا ایک لمحہ ہے، جس میں مغربی رومی سلطنت کے   زوال کو بیان کیا گیا ہے کیونکہ وہ اپنی حکمرانی کو برقرار رکھنے اور اپنی حکمرانی کو نافذ کرنے میں ناکام رہے کیونکہ ان کے جوانوں کا بڑا حصہ راہبانہ راستے پر چل پڑااور آخر کار ان کا وسیع علاقہ منہدم اور منتشر ہو گیا۔ آج کے مورخین فوج کی غیر موثریت اور کمی، روم کی صحت اور آبادی میں کمی، معیشت کا عدم استحکام، شہنشاہوں کی نااہلی، اقتدار کے حصول پر اندرونی کشمکش، وقتاً فوقتاً مذہبی تبدیلیوں اور نا اہلی جیسے عوامل پر غور کرتے ہیں۔ اندرونی حکومت کی طاقت اور صلاحیت کے کھو جانے کی وجہ کے طور پر جس نے رومیوں کو مشق کرنے کی اجازت دی وہ کہتے ہیں کہ یہ ان کے زیر اقتدار علاقوں اور صوبوں پر موثر تھا۔ نیز رومی تہذیب کے اردگرد وحشیوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور حملے  روم کے زوال اور تباہی کا سبب بنے۔ 

اتوار، 21 دسمبر، 2025

شازیہ کیانی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی '' تحریر ''

     

 

 ·شازیہ کیانی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی اس  تحریر نے میرے دل کو خون کے آنسو رلایا ہے 

ہجرت کے نئے ریکارڈ — پاکستان کی بلند ترین “مہاجر ت”

 پاکستان کے نام ایک نیا ریکارڈ درج ہو رہا ہے، مگر یہ وہ ریکارڈ نہیں جس پر فخر کیا جائے۔ ہمارے ہاں جس “ہجرت” کا چرچا ہو رہا ہے، وہ کسی تہوار کی خوشی نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر روز ہمارے دلوں میں درد، ذہنوں میں سوالوں اور مستقبل کے بارے میں خوف کا بیج بوتی جا رہی ہے۔ حیرت کی بات نہیں کہ رواں سال بھی لاکھوں پاکستانی اپنے وطن سے باہر جا رہے ہیں — وہ تعلیم یافتہ جوان، ہنر مند پیشہ ور، ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ماہر، اور وہ مزدور بھی جو اپنے خاندان کے لیے بہتر زندگی کا خواب دیکھتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ تین سالوں میں تقریباً 2,894,645 پاکستانی ملک چھوڑ چکے ہیں — تقریباً 2.9 ملین انسان جو پاکستان سے باہر مواقع کی تلاش میں نکلے ہیں۔  یہ صرف ایک تعداد نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہماری قومی ناکامی، حکومتی عدم دلچسپی اور مستقبل کے بحران کی گواہ ہے۔پاکستان سے جانے والوں میں صرف غیر ہنرمند مزدور ہی نہیں بلکہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں ہم اپنی قوم کی امید سمجھتے تھے — ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی اسپیشلسٹس، اساتذہ، اور دیگر پیشہ ور۔ 

اور یہ اعداد و شمار ہی نہیں رُکتے۔ صرف سال 2024 میں ہی 727,381 پاکستانی قانونی ملازمتوں کے لیے بیرون ملک منتقل ہوئے، جبکہ 2023 میں یہ تعداد 862,625 تھی — جو خود ایک بے مثال ہجرتی لہر تھی۔ یہ کوئی افواہ نہیں، یہ حقیقت ہے۔پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کی بلند ترین ہجرت دیکھ رہا ہے —اور ذمہ دار وہی ہیں جو روز ٹی وی پر “سب اچھا ہے” کے نعرے لگاتے ہیں۔تقریباً 29 لاکھ پاکستانی صرف پچھلے تین سال میں ملک چھوڑ چکے ہیں۔

2023 میں 8 لاکھ 62 ہزار2024 میں 7 لاکھ 27 ہزار اور یہ سب کوئی فارغ لوگ نہیں تھےیہ ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ایکسپرٹس، اساتذہ، اور ہنر مند نوجوان تھے۔ یعنی قوم کا دماغ، قوم کا مستقبل،قوم کی امید — سب جہاز میں بیٹھ گیا۔پھر حیرت ہوتی ہے کہ ایئرپورٹس پر لڑائیاں کیوں ہوتی ہیں؟

سوال جواب کیوں؟

غصہ کیوں؟ جناب!

جب کوئی لاکھوں روپے لگا کراس “منحوس نظام” سے جان بچا کر نکلنے کی کوشش کرے گاتو وہ مسکرائے گا نہیں — وہ چیخے گا۔ طنز یہ ہے کہ

ایک طرف لوگوں پر آف لوڈنگ،دوسری طرف باہر ممالک سے بین لگوانے کی کوششیں،اور تیسری طرف قوم کو بتایا جا رہا ہے کہ دیکھیں! برین ڈرین رک گیا ہے”۔ واہ!لوگوں کو زبردستی قید کر کے کہا جا رہا ہے“دیکھو، سب خوشحال ہیں”۔ یہ ہجرت نہیں…یہ اعتماد کا قتل ہے۔یہ ریاست سے مایوسی ہے۔یہ اس نوجوان کا جنازہ ہےجو کبھی کہتا تھا:میں پاکستان میں کچھ کر کے دکھاؤں گا” آج وہی نوجوان کہتا ہے:

“بس کسی طرح یہاں سے نکل جاؤں” یاد رکھیں:قومیں سرحدیں بند کر کے نہیں بچتیں  قومیں امید دے کر بچتی ہیں۔ اور جہاں امید ختم ہو جائے

وہاں پاسپورٹ ہی سب سے قیمتی دستاویز بن جاتا ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے لاکھوں روپے کی ڈگریوں،سخت محنت، اور شب و روز آسانی سے نہیں حاصل کیں — مگر اب وہ اپنے وطن کے دروازوں کی بجائے دوسرے ملکوں کے سفرناموں میں نظر آ رہے ہیں۔یہ وہی لوگ ہیں جنہیں کبھی پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لیے کہا جاتا تھا، مگر آج وہ اپنی صلاحیتیں، خواب اور مستقبل سب کے سب لے کر جا رہے ہیں — بس ملک چھوڑنے کا ٹکٹ ہاتھ میں ہے۔اب اگر کوئی حیران ہوتا ہے کہ جب لوگ لاکھوں روپے خرچ کر کے یہ ملک چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں تو لڑائی جھگڑا، سوال جواب اور غصہ کیوں؟ جواب بالکل سادہ ہے: یہ لوگ اپنے َمستقبل، عزت، اور تحفظ کے لیے سوال پوچھ رہے ہیں — سوال جو شاید برسوں سے جواب کے انتظار میں رہ گیا ہے۔ اور ساتھ ہی، ہمارے یہاں حکومتی بیان بازیاں جاری ہیں کہ “سب ٹھیک ہے، خوشحالی نظر آ رہی ہے، ترقی کی رفتار تیز ہے” — ایسے بیانات جیسے ایک مایوس نوجوان کو تسلی دے دیں گے کہ واقعی ساری مشکلات ختم ہو گئی ہیں! حقیقت میں، نعرے بڑھتے جا رہے ہیں مگر زندگیاں اور خواب باہر نکل رہے ہیں۔ جب پاکستان دنیا بھر میں لوگوں کی بین الاقوامی امیج کو بہتر بنانے کے لیے نئی پالیسیاں اپناتا ہے، وہی پالیسیاں لاکھوں شہریوں کو مجبوراً ملک چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہیں — اور یہ کوئی “ہجرت” نہیں، یہ ایک خروج ہے، ایک بھاگ نکلنے کی داستان ہے جس کا اختتام نظر نہیں آتا۔ آخر میں ایک سچ — یہ ہجرت صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ ایک ایسا بریہ اشارہ ہے کہ اگر پاکستان نے آج اپنی نوجوان قوت کو روکنے کے لیے پالیسیاں، مواقع اور حقیقی مستقبل نہ دیا تو کل وہ لوگ نہ صرف ملے گے بلکہ وہ نام بھی دنیا کے نقشے پر پاکستان سے زیادہ روشن ہوں گے۔ پاکستان نے بہت سی بار اعلانِ ترقی کیے، مگر اصل ترقی تب آئے گی جب یہ نوجوان وطن میں رہ کر ترقی کے سفر کا حصہ بنیں، نہ کہ دروازہ کھول کر باہر کی زمین پر قدم جمانے کو مجبور ہوں۔  

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر