ہو تمام دینا کے مشہور و معرو ف ہومیوپیتھک کے ڈاکٹر ہنیمین کہتے ہیں کہ سلفر ایک (NoN-Matalic)پیلے رنگ کا پتھر ہے۔ 2؍ہزار سال پہلے یہ انسانی جلد پر کھجلی کے مرض میں استعمال ہوتا تھا اور آج بھی ہوتا ہے۔ حکمت میں اس کا پوڈر اور مرہم بناکر استعمال کیا جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں سلفر کی ڈلی پانی کے مٹکے میں ڈال دیا کرتے تھے تاکہ جراثیم مر جائیں۔ آج کل یہ کام نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر ہنیمین کے مطابق گرمی دانوں کو اگر کھجالیا جائے تو شدید جلن محسوس ہو تی ہے۔ اس مرض کو (PROM)کا نام دیا گیا ہے اور سلفر کو (Anti Proma)دوا کہا گیا مزید یہ کہ اس کو باریک پیس کر Liquid میں تبدیل کیا گیا پھر مختلف طاقت کی پوٹینسی بناکر صحت مند انسانوں پر تجربات کیے گئے ۔ ریسرچ سے پتہ چلا کہ دو سو سے زائد امراض میں سلفر کا ایک اہم مقام ہے اس کا تمامتر کریڈٹ ڈاکٹر ہنیمین کو جاتا ہے۔ آج ساری دنیا میں ہومیوپیتھک کو (Altenat Systam)تسلیم کیا جاتا ہے۔ڈاکٹر J.T.Kentایک بڑا نام ہے آپ کہتے ہیں کہ سلفر کی خوبیوں کا شمارا ایک مشکل کام ہے آگے کہتے ہیں تمام بیماریوں میں اس کو پسندیدیگی سے دیکھا جاتا ہے اور اچھے نتائج حاصل کیے جاتے ہیں۔ ڈاککہتے ہیں سلفر کا مریض دبلا پتلا ہوتا ہے اور ہمیشہ بھوک محسوس کرتا ہے لیکن جب کھانا سامنے آجائے تو بھوک ختم ہو جاتی ہے۔ ذہنی کیفیات کچھ اس طرح ہیں کہ اکیلا رہنا اچھا لگتاہے۔ ہومیو پیتھک کے ایک اور نامی گرامی ڈاکٹرجان ہنری اپنی کتاب (A ditionery of Prictud Matamia Modia)جس کی تین جلدی ہیں۔ سلفر کے معجزات، کمالات اور علامات کو بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے
Knowledge about different aspects of the world, One of the social norms that were observed was greetings between different nations. It was observed while standing in a queue. An Arab man saw another Arab man who apparently was his friend. They had extended greetings that included kisses on the cheeks and holding their hands for a prolonged period of time. , such warm greetings seem to be rareamong many people, . this social norm signifies the difference in the extent of personal space well.
ہفتہ، 10 جنوری، 2026
سلفر (گندھک)انسان کے لئے کیوں ضروری ہے
جمعہ، 9 جنوری، 2026
محل علی قاپو 'اصفہان
اصفہان شہر کے لئے دنیا بھر میں ایک مشہور کہاوت مانی جاتی ہے کہ اصفہان نصف جہان ۔کیو نکہ قدیم قدرتی علاقوں کے ساتھ سینکڑوں اور ہزاروں سال پرانا اور چھ ہزار سے زیادہ تاریخی یادگاروں سے سجا ہوا ایران کی سر زمین پر مثل ایک نگینہ ہے۔تاریخی یادگاروں اور دستکاری کی بے مثال قسم جو صدیوں سے اس صوبے کے مختلف حصوں میں نسل در نسل گزرتی رہی ہے اور آج دنیا کے لئے ایک قیمتی ورثہ کی حیثیت سے ہے ، اصفہان ایک فنکارانہ ، تاریخی اور قدرتی میوزیم جیسا شہر ہے۔ اس شہر کی سیاحت کا دنیا بھر میں ثقافت سے محبت کرنے والے سیاحوں کا خواب ہے۔ آباؤ اجداد کی یادگاریں تاریخی اور ثقافتی وجود کا نتیجہ ہیں ، جن میں سے بیشتر تیسری صدی قبل مسیح کی تاریخ ہیں۔ اس شہر میں قدیم قبائلیوں کے لئے مٹی اور مٹی کے برتنوں سے بنا ہوا زیگ گورٹ یا عبادت گاہ ہے۔ یہ تاریخی یادگار 1310 ء میں آثار قدیمہ کی کھدائی کے بعد دریافت ہوئی تھی۔قدیم ریشم پہاڑی کے کھنڈرات میں کئی قدیم آثار ملے ہیں ، جو فرانس کے لوور میوزیم ، ایران کے نیشنل میوزیم ، فنن گارڈن میوزیم اور قدیم عمارت کے ایک میوزیم میں رکھے گئے ہیں۔زمین اور ان پہاڑیوں کے آس پاس کئی ہزار سال قدیم برتنوں کی موجودگی سے پتہ چلتا ہے کہ ہزاروں سال قبل انسان اس علاقے میں رہتا تھا۔اصفہان کی تاریخی عمارتوں کی لمبی تاریخ اور قیمتی فن تعمیر نے بھی خطے کی کچھ تاریخی یادگاروں کو بنایا ہے ،محل علی قاپو اس وقت یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل ہو چکا ہے
نقش جہاں اسکوائر شہر اصفہان کا ایک بہت بڑا مستطیل مربع ہے جو صفوی دور سے عمارتوں سے گھرا ہوا ہے۔ اس کی جدید شکل میں میدان شاہ عباس کے دور میں قائم ہوا تھا۔ماضی میں ، یہ چوک مختلف رسومات اور پولو گیمز کے انعقاد کے لئے ایک جگہ تھا ، لیکن آج یہ ایک عوامی تعلق اور نماز جمعہ کے انعقاد اور قومی اور مذہبی رسومات کی جگہ بن گیا ہے۔نغش جہاں جہاں اسکوائر کی تاریخی عمارتوں میں عالی قپو ، عباسی گرینڈ مسجد ، شیخ لوطفلہ اللہ مسجد اور قیصرگیٹ شامل ہیں۔ اس عمارت کے آس پاس دو سو کمرے موجود ہیں ، جو اصفہان کے دستکاری اور تحائف کی فراہمی کے مقامات ہیں۔* اصفہان کی تاریخی مساجد بھی شامل ہیں جو اس صوبے کے مختلف شہروں میں بکھری ہوئی ہیں۔ 'شیخ لوطف اللہ مسجد' اصفہان کی ایک انتہائی خوبصورت تاریخی یادگار میں سے ایک ہے ، جو ہر دیکھنے والے کو حیرت میں ڈال دیتی ہے اور ان کی تعریف کرتی ہے۔اصفہان گرینڈ مسجد اسلام کے بعد کے عہد کی عمارتوں اور فن پاروں کا ایک مجموعہ ہے جس میں بہت سارے لوگوں کے آثار شامل ہیں اور ایک ہزار سالوں میں ایران کی تاریخ میں اسلامی دور کی کچھ تعمیراتی پیشرفتوں کو دکھایا گیا ہے۔ الجائیتو التار جو اس مسجد میں واقع ہے ، بیڈنگ آرٹ کے شاہکاروں میں سے ایک ہے۔عظمت ، فن تعمیر اور سجاوٹ کے لحاظ سے 'امام مسجد' اصفہان میں واقع سب سے اہم صفوید مسجد بھی ہے۔
اردستان گرینڈ مسجد ایران کی قدیم مساجد میں سے ایک ہے ، اور اس کی اصل عمارت ابتدائی اسلامی صدیوں کی ہے۔'زوارہ گرینڈ مسجد' ، ارڈسٹن کے شمال مشرق میں 15 کلومیٹر شمال میں ، سلجوق کے دور میں تعمیر ہونے والی ایران کی پہلی چار پورچ مسجد ہے ، اور 'گولپیگن گرینڈ مسجد' سلجوق دور کے ایک قابل قدر کام ہے۔اونج گاؤں ، پوڈھے ، ساروار اور عباسی گاؤں ، حکیم ، جمعہ ، ہوجات السلام اور مساجد میں جامع مساجد کی تعمیر اصفہان فن تعمیر کے دیگر تاریخی اور قیمتی کام ہیں۔* آگ کے مندر اور گرجا گھرآگ مندروں اور بہت سے تاریخی گرجا گھروں کو دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کے طور پر بھی سمجھا جاتا ہے ، جس میں صوبہ اصفہان کے تاریخی پرکشش مقامات شامل ہیں۔ ہگوپ چرچ پہلا آرمینیائی چرچ تھا جو جولفا ، اصفہان میں تعمیر ہوا تھا ، لیکن فن تعمیر اور مصوری کی آرائش کے معاملے میں جولفا کا سب سے مشہور تاریخی چرچ چرچ آف سان ہے ، جسے چرچ آف وانک کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کی بنیاد 1065 ء میں رکھی گئی تھی۔شاہ عباس اول کے دور کے بعد جولفا کا سب سے اہم تاریخی چرچ 'بیدخم' یا 'بیت الہم' کا مشہور چرچ ہے جو جولافا اسکوائر میں واقع ہے اور مریم چرچ سے ملحق ہے۔"پتھر ماؤنٹین فائر ٹیمپل" بھی اصفہان کے قدیم ورثہ میں سے ایک ہے ، جس کی باقیات اب 1680 میٹر پر پتھر پہاڑ میں دکھائی دیتی ہیں۔'نیاسر کا قدیم آگ مندر' نیلے رنگ کے بہار کے ساتھ ہی نائسار ہال نامی ایک اونچی چٹان پر بھی کھڑا ہے
عالمی شہرت کے حامل صوبہ اصفہان کے شاندار باغات بھی اس خطے کے دیگر قیمتی کاموں میں شامل ہیں اور ہمیشہ سیاحوں کی توجہ مبذول کراتے ہیں ۔'فور گارڈن' مختلف باغات کا ایک بہت بڑا اور خوبصورت مجموعہ ہے ، جن میں سے کچھ ابھی بھی کھڑے ہیں۔* مینارخصوصی فن تعمیر کے ساتھ پرانے مینار صوبہ اصفہان کی دوسری تاریخی کشش ہیں۔ محل عالی قاپو اصفہان، ایران میں ایک شاہی محل ہے۔ یہ محل صفوی خاندان کے ایرانی شہنشاہوں کی سرکاری رہائش گاہ کے طور پر کام کرتا تھا۔ یونیسکو نے اس محل اور اسکوائر کو اس کی ثقافتی اور تاریخی اہمیت کی وجہ سے عالمی ثقافتی ورثہ کے طور پر لکھا ہے۔ محل اڑتالیس میٹر اونچا ہے اور چھ منزلیں ہیں، ہر ایک منزل سیڑھی سے قابل رسائی ہے۔ چھٹی منزل، میوزک ہال میں، دیواروں میں گہرے سرکلر طاق پائے جاتے ہیں، جو نہ صرف جمالیاتی قدر رکھتے ہیں، بلکہ صوتی بھی ہیں۔ علی قاپو کو صفوی فن تعمیر کا بہترین نمونہ اور ایران کے اسلامی ورثے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔اصفہان کا میدان نقش جہاں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی حیثیت رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں شہر میں 11 ویں سے 19 ویں صدی کے دوران میں اسلامی طرز تعمیر کے شاندار نمونے بھی موجود ہیں۔ یہ شہر خوبصورت اسلامی طرز تعمیر کی عمارات، محلات، مساجد اور میناروں کے باعث دنیا بھر میں معروف ہے۔ یہاں ایران کے تمام شہروں سے زیادہ سیاح آتے ہیں۔علاوہ ازیں اصفہان اپنے خوبصورت قالینوں کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے۔ آج کل اصفہان کی صنعتیں قالین، کپڑے کی مصنوعات، لوہا اور ہاتھ سے بنی اشیاء تیار کرتی ہیں۔ یہاں کارخانوں کی کل تعداد 2 ہزار سے زیادہ ہے۔
جمعرات، 8 جنوری، 2026
سبیل حسین'پیاسوں کی داستاں ہے
سات محرم الحرام کے روز یزیدی فوج نے کربلا کے میدان میں خانوادہء نبوت کے 72 جانثاروں کا اور ان کے انصار کا قافلہ موجود تھا ان نفوس قُدسیہ میں نوجوان، بچے اور خواتین شامل تھیں۔ لیکن دُشمنِ اسلام کے ہاتھ پر بیت کرنے سے صاف انکار کردیا۔ جس کو دیکھتے ہوئے یزیدی فوج کی جانب سے سات محرم سے ان کا پانی بند کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ یزیدی فوج کو بچوں پر بھی رحم نہ آیا۔ باوجود اس کے کربلا کے اس ریگستان کی کڑکتی دھوپ میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی قیادت میں یہ مختصر قافلہ دین محمدی کی بقاء کی خاطر ڈٹا رہا۔شدید گرمی: کربلا کا علاقہ شدید گرم اور صحرائی تھا، اور پانی کی عدم دستیابی سے یہ حالت ہو گئی کہ بچوں، خواتین اور بزرگوں سمیت سب کو پیاس کی شدت کا سامنا تھا، خاص طور پر چھوٹے بچوں کو بہت تکلیف ہوئی.-یہاں تک کہ خیام اہلبیت سے معصوم بچوں کی العطش العطش کی صدائیں سنائ دینے لگیں ظلم کی انتہا: یہ پانی کی بندش دشمن کے ظلم اور امام حسینؑ کو کمزور کرنے کی ایک بڑی چال تھی، جس سے اہل بیتؑ کی صبر اور استقامت کا امتحان لیا گیا. یہ واقعہ عاشور کے دن تک جاری رہا، جہاں پیاس کے عالم میں ہی امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں نے جام شہادت نوش کیا.
ان سبیل حسین سید الشہداء لگانے والوں کا کہنا ہے کہ سبیل لگانا عالم انسانیت کو یہ پیغام دینا ہے کہ جو پانی بند کرتے ہیں انہیں یزیدی کہا جاتا ہے اور جو پانی پلاتے ہیں انہیں حسینی کہتے ہیں۔ کیونکہ جیو اور جینے دو کا پیغام دنیا بھر میں عام کرنا ہے۔ جس کے لیے سبیل لگا کر مسافروں کو پانی پلایا جاتا ہے۔ نوجوانوں کے مطابق سات محرم الحرام کو کربلا میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے رفقاء پر پانی کو بند کردیا گیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں محرم کے ان ایام میں سبیل کا اہتمام کرکے بغیر مذہب و ملت اور بغیر رنگ و نسل کے سب کو پانی پلایا جاتا ہے۔ جس دوران امت مسلمہ میں اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام دیا جاتا ہے۔محرم الحرام کا آغاز ہوتے ہی سبیل لگانے اور لنگر تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، ہر سال کی طرح اس سال بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔اسی سلسلے کی ایک کڑی ملتان میں ہر سال اپنی مثال آپ ایک منفرد سبیل لگائی جاتی ہے جس کا سلسلہ 500 سال سے چلتا آ رہا ہے۔ملتان کے علاقے حسین آگاہی بازار میں لگائی جانے والی اس سبیل کی انفرادیت یہ ہے کہہ اس میں مٹی کے برتنوں میں پانی بھر کر ساری رات کے لیے رکھ دیا جاتا ہے اور پھر صبح ٹھنڈا اور خوشبودار پانی لوگوں کو پلایا جاتا ہے۔’
مٹکے والی سبیل‘ کے نام سے مشہور اس سبیل کو لگانے والے قیصر عباس کا کہنا ہے کہ 5 صدیوں سے ان کے آباؤاجداد معصومینِ کربلا کی یاد میں یہ سبیل لگاتے چلے آ رہے ہیں۔قیصر عباس اپنے آباؤاجداد سے اس سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہیںوہ شہریوں کو پانی پلانے کے لیے گلاس بھی مٹی کے استعمال کرتے ہیں تاکہ مٹی کی بھینی بھینی خوشبو برقرار رہے۔واضح رہے کہ 500 سال قبل شروع کی جانے والے ’مٹکوں یا گھڑوں والی سبیل‘ حضرت امام حسین ؓ اور ان کے 72 رفقاء کی یاد میں آج تک جاری ہے۔مٹی کے برتنوں میں ٹھنڈے پانی کی یہ سبیل یکم محرم الحرام سے 13 محرم تک جاری رہتی ہے۔-پاکستان کے صوبے پنجاب میں ایک عاشق امام علیہ السلام اپنی سبیل پر تازہ گنے کا جوس پلاتے ہیں وہ عاشور سے ایک روز پہلے کئ من گنے لا کر رکھ لیتے ہیں -ایک صاحب جو لیکچرر ہیں انہوں نے اپنے سبیل کے جاری و ساری رکھنے کے لئے حضرت علی ابر کے نام سے ایک کاروں کا شو روم بنایا ہوا اور اس کی آمدنی سید الشہداء کی راہوں میں خرچ کرتے ہیں -عشق کا معیار ہے جو ہر ایک کا اپنا ہے
اس کے علاوہ صوبہ پنجاب میں سونے کے گلاسوں میں شربت پلانے والی سبیل بھی سجائ جاتی ہے اس سبیل پر مفت عمرے اور حج کی قرعہ اندازی بھی ہوتی ہے ،اور جن کے نام قرعہ اندازی میں نکلتے ہیں ان کو حج اور عمرے کی زیارات پر بھیجا بھی جاتا ہے- جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے اور لوگوں کی حیثیت میں اضافہ ہو ہو رہا ہے ویسے ویسے سبیلوں پر عام طور پر اہتمام بھی بڑھ رہا ہے اب پانی، کے علاوہ 'روح افزا، گلاب کا شربت، یا فالودہ پیش کیا جاتا ہے. گرمی کے دنوں میں ٹھنڈے دودھ، لسی، یا ملک شیک (جیسے کیلے کا ملک شیک، یا فالسے کا ملک شیک) شامل کیے جا تے ہیں تاکہ لوگوں کو زیادہ راحت مل سکے.سبیل کا بنیادی مقصد لوگوں کو پیاس بجھانے اور گرمی سے راحت دلانے کے لیے کچھ ٹھنڈا فراہم کرنا ہے، اور ملک شیک اس مقصد کو بہتر طریقے سے پورا کرتا ہے جی ہاں، اس سبیل پر دودھ اور شربت کے ساتھ ملک شیک یا ٹھنڈا دودھ بھی پیش کیا جا تا ہے، خاص طور پر گرمی کے موسم میں، یہ لوگوں کو ریفریش کرتا ہے، عزاداروں کی زیادہ خدمت کی جاسکے حالانکہ یہ روایتی طور پر پانی، شربت یا فالودے تک محدود ہوتا ہے، مگر جدید دور میں یہ آپشن بھی مقبول ہو رہا ہے تاکہ زیادہ لوگوں کی ضروریات پوری کی جا سکیں، اس میں مختلف فلیورز (جیسے الائچی، کیوڑا) اور آئس کریم شامل کر کے اسے مزید بہتر بنایا جاتا ہے. اور عزاداروں کی خدمت کی جاتی ہے
بدھ، 7 جنوری، 2026
د یوار چین عجائبات دنیا کا ایک عجوبہ
تاریخ دانوں نے اس کی تعمیر کی مدت1700 سے2000 سال بتائی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ چین کے 15 صوبوں میں سے ہو کر گزرتی ہے ۔ یونیسکو نے 1987 میں اس کو عالمی ورثہ قرار دیا تھا ۔ 1346 میں لکھے گئے ابن بطوطہ کے سفر نامے میں بھی دیوار چین کا تذکرہ ملتا ہے قبل از مسیح کی قدیم تحریر میں اس دیوار کا نام‘‘ چانگ چنگ’’لکھا گیا تھا جس کے معنی لمبی دیوار کے ہیں ۔ اس دیوار کی تعمیر میں چاول کا آٹا استعمال کیا گیا جس کے باعث اینٹوں کی پختگی صدیوں تک برقرار رہی دیوار چین کیوں تعمیر کی گئی ؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنے کی جستجو میں ان گنت تحقیقات ہوئی ہیں اور سب میں متعدد باتیں مشترک بھی پائی گئیں ان میں ایک یہ ہے کہ یہ دیوار دفاعی دفاعی نقطہ نگاہ سے تعمیر ہونا شروع ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ دیوار چین کی تعمیر یسوع مسیح کی پیدائش سے تقریبا دوسو سال پہلے شروع ہوئی تھی، (اس بارے میں تاریخ میں مختلف ادوار کا ذکر ملتا ہے)۔ ان دنوں چین کے بڑے دشمنوں میں منگول تاتار تھے جو وسطیٰ ایشیا کے طاقتور لوگ تھے،یہ چور ڈاکو اور جنگجو قسم کے لوگ تھے اور آئے دن چین پر حملہ آور ہوتے رہتے تھے۔ انہی حملوں سے بچاؤ کے لئے ایک حفاظتی اور دفاعی دیوارکے بارےمیں سوچا گیا تھا۔ کن شی ہوانگ بادشاہ کے دور میں پندرہ سو کلومیٹر دیوار تعمیر کی گئی تھی جو پانچ سے آٹھ میٹر بلند تھی۔
اس کی نیچے سے چوڑائی پچیس فٹ جب کہ اوپر سے بارہ فٹ کے قریب تھی۔ اس کو دیوار چین کی ابتداء کہا جاتا ہے جو دفاعی نقطہ نگاہ سے شروع ہوئی تھی، بعد میں دیوار کی بلندی ہر دور میں مختلف رہی ہے۔ دیوار چین پر500 میٹر بلند ایسے ٹاور بھی تعمیر کئے گئے تھے جہاں سے تیر انداز، تیروں کی بارش کیا کرتے تھے ۔ سینکڑوں کی تعداد میں چھوٹے بڑے قلعے تعمیر ہوئے ۔عظیم دیوار چین کی تعمیر اپنے اندر محض مٹی، پتھر، پانی اور چاول کے آٹا کی آمیزش ہی نہیں سموئے ہوئے ہے بلکہ انسانی آنسو، خون، پسینہ اور اس دور کے بادشاہوں کا ’جبر‘ بھی اس میں شامل ہے، اس کی تعمیر میں لاکھوں انسان موت سے ہمکنار ہوئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس ابتدائی تعمیر کے دور میں تین لاکھ سے زائد انسانوں کو دس سال تک جبری طور پر اس کی تعمیر میں شامل کیا گیا تھا جو یقینا جبری مشقت کے زمرے میں آتی ہے۔ وقت گزرتا رہا اور پھر اس تعمیر کا سلسلہ نہ رکا، سینکڑوں، ہزاروں سال گزر گئے، ہر بادشاہ کے دور میں کئی کئی ہزار کلومیٹر دیوار تعمیر کی جاتی رہی۔ گویا یہ ایک ایسی واحد انسانی تعمیر ہے جو کئی صدیوں میں مکمل ہوئی، ہزاروں سال تک اس کی تعمیر کا سلسلہ جاری رہا۔ درجنوں سلطنتوں کے ادوار میں اس کی دفاعی نقطہ نگاہ سے تعمیر کا سلسلہ جاری رہا اور یہ کئی کئی ہزار کلو میٹروں کے حساب سے تعمیر ہوتی رہی اور بالاخر ایک وقت وہ بھی آیا جب ان سبھی دیواروں کو یکجا کردیا گیا اور یوں ’’عظیم دیوار چین‘‘ کی تخلیق ہوئی۔ اس دوران منگولوں اور دیگر بیرونی حملوں کے باعث یہ دیوار ٹوٹتی بھی رہی اور اس کی تعمیر بھی ہوتی رہی
۔ تاریخ کی کتب میں لکھا ہے کہ جب کئی ہزار سال تک بادشاہوں نے اس دیوار کی طرف توجہ نہ دی اور اپنے اندرونی معاملات میں الجھے رہے تو دیوارشکست و ریخت کا شکار ہونا شروع ہوئی ،1234 عیسوی میں چنگیز خان نے اس کا فائدہ اٹھایا اور شہنشاہ چین کو اقتدار سے محروم کرنے میں کامیابی حاصل کرلی اور چنگیز خان کی تاتاری فوج دیوار چین کو روندتی ہوئی شمالی علاقہ سے چین میں داخل ہوگئی اور منگول خاندان سلطنت کی بنیاد رکھی ۔ 1368 میں چین کے منگ خاندان نے ایک بار پھر تاتاریوں کو چین سے نکالنے میں کامیابی حاصل کر لی اور چین کی حفاظت کے لئے شمالی سرحدوں پر دیوار چین کی تعمیر نو شروع کی، پھر یہی وہ منگ خاندان کا دور حکومت ہے جس میں دیوار چین کی تعمیر کی تکمیل ہوئی اور اس کی لمبائی ہزاروں کلومیٹر تھی۔ یہ دیوار زیادہ تر پتھروں سے تعمیر کی گئی تھی، اور پتھروں کے درمیانی خلا کا مٹی اور اینٹ کے روڑوں سے پر کیا گیا تھا۔ ارد گرد کی نگرانی کے لئے جگہ جگہ چوکور میناروں کی تعمیر کی گئی، جس سے چین شمالی سرحدوں سے ہر قسم کے حملوں سے محفوظ ہو گیا تھا ۔ آثار قدیمہ کے ایک سروے کے مطابق دیوار چین کی کل لمبائی21196 کلو میٹر(13171میل) ہے۔ دیوار چین کی تعمیر کا سب سے بڑا حصہ ’’منگ خاندان‘‘ کے دور میں تعمیر ہوا جو 1368 اور1644 کے عرصہ کا تھا۔ منگ دور میں 8851 کلو میٹر دیوار تعمیر ہوئی جس میں 359 کلو میٹر خندقیں اور25000 حفاظتی ٹاور اس میں شامل تھے، مجموعی طور پر کئی لاکھ انسان دیوار کی تعمیر میں موت کا شکار ہوئے ،
دیوار پر ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے بڑے قلعے بھی تعمیر کئے گئے تھے، قلعوں میں موجود سپاہیوں کو کمک کی فراہمی میں یہ دیوار بہت مفید ثابت ہوتی رہی۔ شاہراہ ریشم کے تحفظ کے لئے بھی اس دیوار سے کام لیا جاتا رہا ہے۔ تاریخ میں جن جن چینی بادشاہوں کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے اس کی تعمیر اور اس کے بڑھانے میں کردار ادا کیا ان میں قبل مسیح اور عیسوی دور کے بادشاہ شامل ہیں عظیم دیوار چین دور حاظر میں ایک ثقافت کا رنگ اختیارکر چکی ہے، دنیا بھر کے لاکھوں سیاح اس کو دیکھنے جاتے ہیں ۔ عام لوگوں کے علاوہ سینکڑوں دنیا کی بڑی بڑی سیاسی اور حکومتی شخصیات دیوار چین کو دیکھ چکی ہیں۔ ان میں یوایس ایس آر کے سابق صدر، امریکی رچرڈ نکسن انہوں نے اپنے دورہ چین فروری1972 میں کہا تھا کہ ’’صرف ایک عظیم قوم ہی ایسی عظیم الشان دیوار تعمیر کرسکتی ہے‘‘، رونلڈ ریگن سابق امریکی صدر، برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر1977، جاپان کے سابق وزیر اعظم، برطانیہ کی کوئین الزبتھ دوم،صدر بارک اوباما، ڈیوڈ کیمرون برطانیہ کے وزیر اعظم، بھارت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی، امریکی صدربل کلنٹن، جارج بش، روس کے صدر پیوٹن، مصر کے صدر بشر السد، کینڈا کے وزیر اعظم وغیرہ شامل ہیں، ان کے علاوہ دیگر اور بھی عالمی شخصیات شامل ہیں جنہوں نے دیوار چین کو دیکھا اور اس کی تعمیر پر زمانہ قدیم کے انسان کو اس کی ہمت، بہادری پر خراج تحسین پیش کیا
پیر، 5 جنوری، 2026
آئیکون آف دی سیز'دنیا کا سب سے بڑا کروز شپ
دنیا کا سب سے بڑا کروز شپ امریکہ کی ریاست فلوریڈا سے اپنے پہلے سفر پر روانہ ہوا ہے، لیکن 365 (1198 فٹ) لمبے اس بحری جہاز کے متعلق کچھ تفصیل سے آ گہی ہو جائے ۔آئیکون آف دی سیز‘ نامی جہاز رائل کیریبین گروپ کی ملکیت ہے اور پر 7600 مسافروں کو سوار کرنے کی گنجائش ہے۔اپنے پہلے سفر پر یہ بحری جہاز کیریبیئن میں سات روزہ سفر پر جا رہا ہے۔ ماہرین ماحولیات نے متنبہ کیا ہے کہ ایل این جی سے چلنے والے اس جہاز سے فضا میں نقصان دہ میتھین گیس کا اخراج ہو گا۔فن لینڈ کے شہر ترکو کے ایک شپ یارڈ میں تعمیر کیے گئے اس جہاز میں سات سوئمنگ پول اور چھ واٹر سلائیڈز ہیں۔ اس کی تعمیر پر 2 ارب ڈالر لاگت آئی جبکہ اس میں مہمانوں کی تواضع کے لیے 40 سے زیادہ ریستوران، بارز اور لاؤنج بھی ہیں۔’آئیکون آف دی سیز‘ تقریباً دو ارب ڈالر کی لاگت سے تیار ہوا ہےایل این جی روایتی ایندھن (جیسا کہ پیٹرول، ڈیزل) کے مقابلے میں زیادہ صاف طور پر جلتی ہے۔ میتھین گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ سے کہیں زیادہ طاقتور گرین ہاؤس گیس ہے۔ انٹرنیشنل کونسل آن کلین ٹرانسپورٹیشن (آئی سی سی ٹی) کے میرین پروگرام کے ڈائریکٹر برائن کومر کا کہنا ہے کہ ’یہ غلط سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’ہمارا اندازہ ہے کہ سمندری ایندھن کے طور پر ایل این جی کا استعمال تیل کے مقابلے میں 120 فیصد زیادہ گرین ہاؤس گیسوں (زہریلی اور مضر صحت گیسوں) کا اخراج کرتا ہے۔‘رواں ہفتے کے اوائل میں آئی سی سی ٹی نے ایک رپورٹ جاری کی تھی
اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایل این جی ایندھن سے چلنے والے جہازوں سے میتھین کا اخراج موجودہ قواعد و ضوابط سے کہیں زیادہ ہے۔آئیکون آف دی سیز میں 40 سے زیادہ ریستوران، بارز اور لاؤنج ہیں،اس جہاز میں 7 سوئمنگ پولز بھی ہیں میتھین ایک طاقتور گرین ہاؤس گیس ہے جو 20 سالوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں 80 گنا زیادہ حدت پیدا کرتی ہے۔ عالمی حدت کی رفتار کو سست کرنے کے لیے اس گیس کے اخراج کو کم کرنے کو اہم سمجھا جاتا ہے‘رائل کیریبین کا کہنا ہے کہ آئیکون آف دی سیز جدید جہازوں کے لیے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کی حد سے 24 فیصد زیادہ توانائی کی بچت کرتا ہے۔کمپنی 2035 تک نیٹ زیرو جہاز متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کروز لائنز انٹرنیشنل ایسوسی ایشن کے مطابق کروز انڈسٹری سیاحت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبوں میں سے ایک ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کروز انڈسٹری نے 2021 میں عالمی معیشت میں 75 ارب ڈالر کا حصہ ڈالا ہے۔عالمی شہرت یافتہ فٹ بال کھلاڑی لیونل میسی نے، جو اس وقت انٹر میامی کی جانب سے کھیلتے ہیں، جہاز کے نام رکھنے کی تقریب میں شرکت کی۔ انھیں خاص طور پر بنائے گئے سٹینڈ پر فٹ بال رکھتے ہوئے دیکھا گیا تاکہ جہاز کے کمان پر شیمپین کی بوتل توڑنے کی روایتی ’خوش قسمتی‘ کو متحرک کیا جا سکے۔اس جہاز سے متعلق اہم حقائق آئیکون آف دی سیز دنیا کا سب سے بڑا کروز جہاز ہے جس کا وزن 250800 ٹن ہے۔
اس کی لمبائی تقریبا 365 میٹر (1198 فٹ) ہے۔ یہ اپنے حجم میں ٹائٹینک سے پانچ گنا بڑا ہے اور اس جہاز کی تیاری پر رائل کیریبین انٹرنیشنل کو 1.79 ارب ڈالرکی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی تھی۔رائل کیریبین کی ویب سائٹ کے مطابق مسافروں اور سیاحوں کے لیے اس جہاز کی ٹکٹ کی قیمت 1,723 ڈالر سے لے کر 2,639 ڈالر فی کس تک ہے۔ کروز اپنے پہلے سفر کے دوران امریکی جزائر ورجن میں سینٹ کٹس اینڈ نیویس اور شارلٹ امالی میں رُکے گا لیکن 365 میٹر (1198 فٹ) لمبے اس بحری جہاز کے ماحول پر اثرات سے متعلق خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔آئیکون آف دی سیز‘ نامی جہاز رائل کیریبین گروپ کی ملکیت ہے اور پر 7600 مسافروں کو سوار کرنے کی گنجائش ہے۔اپنے پہلے سفر پر یہ بحری جہاز کیریبیئن میں سات روزہ سفر پر جا رہا ہے۔ ماہرین ماحولیات نے متنبہ کیا ہے کہ ایل این جی سے چلنے والے اس جہاز سے فضا میں نقصان دہ میتھین گیس کا اخراج ہو گا۔فن لینڈ کے شہر ترکو کے ایک شپ یارڈ میں تعمیر کیے گئے اس جہاز میں سات سوئمنگ پول اور چھ واٹر سلائیڈز ہیں۔ اس کی تعمیر پر 2 ارب ڈالر لاگت آئی جبکہ اس میں مہمانوں کی تواضع کے لیے 40 سے زیادہ ریستوران، بارز اور لاؤنج بھی ہیں۔’آئیکون آف دی سیز‘ تقریباً دو ارب ڈالر کی لاگت سے تیار ہوا ہےایل این جی روایتی ایندھن (جیسا کہ پیٹرول، ڈیزل) کے مقابلے میں زیادہ صاف طور پر جلتی ہے۔ میتھین گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ سے کہیں زیادہ طاقتور گرین ہاؤس گیس ہے۔ انٹرنیشنل کونسل آن کلین ٹرانسپورٹیشن (آئی سی سی ٹی) کے میرین پروگرام کے ڈائریکٹر برائن کومر کا کہنا ہے کہ ’یہ غلط سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’ہمارا اندازہ ہے کہ سمندری ایندھن کے طور پر ایل این جی کا استعمال تیل کے مقابلے میں 120 فیصد زیادہ گرین ہاؤس گیسوں (زہریلی اور مضر صحت گیسوں) کا اخراج کرتا ہے۔‘
رواں ہفتے کے اوائل میں آئی سی سی ٹی نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ایل این جی ایندھن سے چلنے والے جہازوں سے میتھین کا اخراج موجودہ قواعد و ضوابط سے کہیں زیادہ ہے۔آئیکون آف دی سیز میں 40 سے زیادہ ریستوران، بارز اور لاؤنج ہیں،اس جہاز میں 7 سوئمنگ پولز بھی ہیں میتھین ایک طاقتور گرین ہاؤس گیس ہے جو 20 سالوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں 80 گنا زیادہ حدت پیدا کرتی ہے۔ عالمی حدت کی رفتار کو سست کرنے کے لیے اس گیس کے اخراج کو کم کرنے کو اہم سمجھا جاتا ہے‘رائل کیریبین کا کہنا ہے کہ آئیکون آف دی سیز جدید جہازوں کے لیے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کی حد سے 24 فیصد زیادہ توانائی کی بچت کرتا ہے۔
جدید دنیا میں تیل کے کنوئیں دوستی یا دشمنی کا محور
شیزوفرینیا ایک کرانک، ذہنی بیماری کا نام ہے
شیزوفرینیا ایک کرانک، زیادہ شدت والی اور مضمحل کرنے والی ذہنی بیماری کا نام ہے۔ اس میں مریض کے خیالات بکھرے ہوتے ہیں اور اس کا معاشرتی رویہ نارمل نہیں ہوتا بلکہ عام طور پر سوسائٹی کے قوانین اور رسم و رواج کے مخالف ہوتا ہے۔اس مرض میں مبتلا فرد اپنے قریب ترین افراد کو اپنا دشمن اور غیروں کو اپنا دوست سمجھتا ہے۔ اور ہر لمحہ اپنوں کی ایذا رسانی میں مصروف کار رہتا ہے۔غیروں کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے اپنوں کی برائیا ں کرتا ہے اور اپنے آ پ کو مظلوم ظاہر کرتا ہے اس مرض میں مبتلا افراد کو صحیح اور غلط میں تمیز کرنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ باقی سب غلط ہیں اور وہ خود ٹھیک ہیں۔ شیزو فرینیا میں مبتلا مریض معاشرے سے کٹ جاتا ہے-شیزوفرینیا کی بیماری کو سنجیدگی سے لینا بہت ضروری ہے کیونکہ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مریض کیا سوچتا ہے؟ کس طرح محسوس کرتا ہے اور کس طرح ری ایکشن کا اظہار کرتا ہے؟ مریض عام طور پر معاشرے کے مطابق نارمل رویے کا اظہار نہیں کرتا ۔عام لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ مریض دہری یا تہری شخصیت کا حامل ہوتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس مرض میں مبتلا لوگوں کی بہت بڑی تعداد تشدد پر مائل نہیں ہوتی اور نہ ہی ان سے دوسرے لوگوں کو کوئی خطرہ ہوتا ہے۔
شیزوفرینیا کے مریض عام طور پر فریب نظری کا شکار ہوتے ہیں اور انہیں خیالی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ انہیں عجیب و غریب خیالات ستاتے رہتے ہیں، ان کی باتوں میں اور سوچ میں ربط نہیں پایا جاتا۔ ان کے خیالات بھٹکتے رہتے ہیں۔ ان کے فقروں سے مطلب نکالنا عام طور پر مشکل ہوتا ہے۔ ان کے کپڑے گندے اور بعض اوقات کیچڑ وغیرہ سے لت پت ہوتے ہیں۔ ان میں اعتماد کی کمی اور معاملات کو جانچنے کی صلاحیت کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ان کے خیالات بگاڑ کا شکار ہوتے ہیں مثلاً وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے دماغ میں جو خیالات آتے ہیں وہ ان کے ذاتی نہیں ہیں بلکہ کسی اور نے ان کے دماغ میں ان کو ٹھونسا ہے۔ یہ لوگ کسی بات پر اپنا ردعمل بھی ظاہر نہیں کرتے۔ایسی وجوہات کی بنا پر یہ لوگ خود کو تنہائی کا شکار بنا لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کوکام کرنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ویسے بھی اگر کوئی کام کریں تو سست روی کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کی یادداشت بھی کمزور ہوتی ہے۔شیزوفرینیا کے نصف یا کچھ کم مریض اس بات کو ماننے کے لئے ہی تیار نہیں ہوتے کہ وہ کسی بیماری کا شکار ہیں لہٰذا وہ ادویات کو مناسب طریقے سے استعمال بھی نہیں کرتے۔ ان مریضوں کے چہرے عام طور پر کسی قسم کے جذبات سے عاری ہوتے ہیں۔
ایک بہت اہم علامت جو زیادہ تر مریضوں میں پائی جاتی ہے وہ نفسیاتی طور پر پائی جانے والی پیاس کی زیادتی ہے جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ پانی یا دوسرے مشروب پیتے رہتے ہیں۔شیزوفرینیا کی علامات کو مثبت اور منفی دو درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ مثبت علامات عام طور پر وہ ہوتی ہیں جن سے کسی نارمل صحت مند انسان کا واسطہ نہیں پڑتا۔ اچھی بات یہ ہے کہ ان پر ادویات کا بہتر اثر ہوتا ہے۔ اگرچہ ان کو مثبت علامات کہا جاتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ اچھی بھی ہوں۔ ان پر مریضوں کو جو آوازیں سنائی دیتی ہیں وہ آپس میں باتیں بھی کر سکتی ہیں اور مریض کے مطابق اس کو مختلف قسم کے خطرات سے بھی آگاہ کرتی رہتی ہیں۔ ایسے مریض اپنے آپ کو وہ تصور کرتے ہیں جو وہ ہوتے نہیں مثلاً اپنے آپ کو بہت مشہور ایکڑ ماننا یا کسی ملک کا صدر اور وزیراعظم سمجھنا۔کچھ مریض یہ تصور کرتے ہیں کہ ان کو مافوق الفطرت قوتیں حاصل ہیں۔بعض اوقات مریض مزاحیہ انداز کی حرکات کرنے لگتے ہیں مثلاً بلاوجہ کودنے لگ جانا یا کسی ایک خاص زاویے سے جسم کو موڑ توڑ کر بیٹھے رہنا۔منفی علامات یا منفی درجے میں ان مریضوں کو شامل کیا جاتا ہے جو زندگی میں اپنی دلچسپی کھو دیتے ہیں حتیٰ کہ وہ ان کاموں کو بھی سرانجام نہیں دے سکتے جو وہ پہلے بآسانی کر لیتے تھے
لیکن ان علامات کو پہچاننا اتنا آسان ثابت نہیں ہوتا ۔ بعض اوقات ایسے مریضوں میں جذبات نامی کوئی چیز نظر نہیں آتی حتیٰ کہ جب وہ بات بھی کرتے ہیں تو چہرہ ہر قسم کے تاثرات سے خالی ہوتا ہے یعنی نہ خوشی نہ غم ان کے چہرے پر آتا ہے۔ ایسے لوگ اگر کوئی کام شروع کرتے ہیں تو اس کو انجام تک پہنچانا ان کے بس کا روگ نہیں ہوتا بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ سوچتے ہی رہتے ہیں ۔ ان مریضوں کو کسی کام پر توجہ دینا نہایت مشکل معلوم ہوتا ہے اور نہ ہی ان میں اس بات کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ مرض چالیس فیصد لڑکوں اور بیس فیصد سے زائد لڑکیوں میں انیس سال کی عمر سے پہلے شروع ہو جاتا ہے۔شیزوفرینیا کی وجوہات موروثی اور سماجی دونوں کا مجموعہ ہوتی ہیں۔ اگر کسی کے خونی رشتہ داروں میں مرض پایا جاتا ہے اس کو مرض ہونے کے امکانات سات فیصد بڑھ جاتے ہیں۔ جڑواں بچوں میں سے اگر ایک کو مرض لاحق ہو تو دوسرے بچے کو مریض ہونے کے چالیس فیصد امکانات ہیں۔ اگر والدین میں سے ایک کو مرض ہو تو بچوں میں تیرہ فیصد جبکہ دونوں والدین کے متاثر ہونے کی صورت میں امکانات پچاس فیصد ہو جاتے ہیں اور سماجی وجوہات میں بچے کا ماحول ،نشہ آور ادویات کا استعمال اور والدین اور رشتہ داروں کا رویہ اہم ہیں۔بعض والدین بہت زیادہ سخت اور غصہ والے ہوتے ہیں یا والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کی وفات ہو جانا بھی بچے پر برا اثر ڈالتی ہے۔ جنسی بداخلاقی بھی باعث بن سکتی ہے۔ نشہ آور اشیاء کا استعمال بھی ایک وجہ بن سکتا ہے۔ ماں کو اگر حمل کے دوران وائرل انفکشن ہو جائے یا پیدا ہونے سے قبل بچے میں آکسیجن کی کمی واقع ہو جائے یا ماں غذائی قلت کا شکار ہو جائے تو اس کا اثر پیٹ میں پرورش پانے والے بچے پر ہوتا ہے۔
اتوار، 4 جنوری، 2026
بلند و بالا پہاڑوں کے بیچ بینف نیشنل پارک کینیڈا کی سیر
بینف نیشنل پارک اس وقت کینیڈا کے مقبول ترین سیاحتی شہروں میں سے ایک خوبصورت شہر ہے۔ 1976 میں بین الاقوامی خلائی یونین اور خلائی اجسام کو نام دینے والے ادارے نے رسمی طور پر مریخ کے ایک گڑھے کا نام بینف رکھا۔ اس گڑھے کا قطر 5 کلومیٹر ہے۔سردیوں میں درجہ حرارت منفی 15 سے منفی پانچ تک رہتا ہے۔ گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 22 ڈگری اور کم سے کم 7 ڈگری رہتا ہے۔ سال بھر برفباری کسی بھی وقت ہو سکتی ہے۔ سالانہ برف کی شرح 2 اعشاریہ 34 میٹر ہے۔ قدرتی مناظر کی خوبصورتی شروع ہو جاتی ہے اور بینف پہنچ کر تو بندہ عش عش کر اٹھتا ہے۔ یہ ایسا ٹاؤن ہے جیسا عموما ً فلموں میں دکھایا جاتا ہے، چاروں جانب سے پہاڑوں میں گھرا ہوا، کہیں آبشار گر رہی ہے تو کہیں جھرنے۔ شہر میں داخل ہوتے ہی احساس ہوتا ہے کہ اگر سیاحوں کیلئے ایک آئیڈیل جگہ بنانی ہو تو وہ ایسی ہوگی۔ بینف میں چلنے والی بسیں سیاحوں کو آس پاس کے خوبصورت مقامات تک لے جاتی ہیں، ہر بات کی رہنمائی کیلئے جگہ جگہ نقشے اور سمت کے نشان لگے ہیں، شہر کی ٹرانسپورٹ ایپ کے ذریعے بھی آپ معلومات لے سکتے ہیں۔ یہ سب باتیں ہم جیسے لوگوں کو بہت متاثر کرتی ہیں-کینیڈا اپنے شاندار اور قدیم قدرتی مناظر کے لیے مشہور ہے، اور بینف نیشنل پارک کو راکی پہاڑوں کے دل میں ایک چمکتا ہوا نگینہ سمجھا جاتا ہے۔ اپنے بلند و بالا پہاڑوں، کرسٹل صاف جھیلوں اور بھرپور ماحولیاتی نظام کے ساتھ، یہ دنیا بھر کے لاکھوں مسافروں کے لیے خوابوں کی منزل بن گیا ہے۔
بینف نیشنل پارک کی سیر نہ صرف فطرت میں غرق ہونے کا سفر ہے، بلکہ دلچسپ بیرونی سرگرمیوں کا تجربہ کرنے، مقامی ثقافت کے بارے میں جاننے اور ناقابل فراموش یادیں تخلیق کرنے کا موقع بھی ہے بینف نیشنل پارک دریافت کریں: کینیڈا کے دل میں ایک قدرتی جنت۔کینیڈا اپنے شاندار اور قدیم قدرتی مناظر کے لیے مشہور ہے، اور بینف نیشنل پارک کو راکی پہاڑوں کے دل میں ایک چمکتا ہوا ہیرا سمجھا جاتا ہے۔ اپنے بلند و بالا پہاڑوں، کرسٹل صاف جھیلوں اور بھرپور ماحولیاتی نظام کے ساتھ، یہ دنیا بھر کے لاکھوں مسافروں کے لیے خوابوں کی منزل بن گیا ہے۔ بینف نیشنل پارک کی سیر نہ صرف فطرت میں غرق ہونے کا سفر ہے، بلکہ دلچسپ بیرونی سرگرمیوں کا تجربہ کرنے، مقامی ثقافت1. بینف نیشنل پارک کی تلاش کی تاریخ اور اہمیت۔بینف نیشنل پارک، جو 1885 میں قائم ہوا، کینیڈا کا پہلا قومی پارک تھا۔ 1885 میں قائم کیا گیا، بینف نیشنل پارک کینیڈا کا پہلا قومی پارک ہے اور دنیا کے قدیم ترین پارکوں میں سے ایک ہے۔ اسے ابتدائی طور پر ریلوے کے کارکنوں نے دریافت کیا تھا جنھیں قدرتی گرم چشمے ملے تھے۔ اس کے بعد سے، بینف تیزی سے ایک مقبول سیاحتی مقام بن گیا ہے، جو بے شمار سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی جگہ بن گیا ہے۔
بینف نیشنل پارک کی تلاش صرف ایک خوبصورت منظر کا سفر نہیں ہے بلکہ تاریخی جڑوں کی طرف واپسی بھی ہے۔یہ شہر ٹرانس کینیڈا ہائی وے پر واقع ہے۔تاریخ-1880 کی دہائی میں بینف کو پہلے پہل بسایا گیا۔ 1883 میں کینیڈین پیسیفک ریلوے کے ملازمین کو یہاں سلفر پہاڑ کے ایک جانب گرم پانی کے چشمے ملے۔ 1885 میں کینیڈا نے یہاں وفاقی ریزرو کے لیے 26 مربع کلومیٹر کا علاقہ مختص کر دیا۔ اس علاقے کو بین الاقوامی تفریحی اور سپا کے مرکز کے لیے ترویج دی جانے لگی۔ 1887 میں ریزرو کا علاقہ بڑھا کر 673 مربع کلومیٹر کر دیا گیا۔ اس وقت اسے راکی ماؤنٹین پارک کا نام دیا گیا۔ کینیڈا میں نیشنل پارک کے نظام کی یہ ابتدا ثابت ہوئی بینف کے شہر کو ریلوے اسٹیشن کے پاس سیاحتی مرکز کے طور پر بنایا گیا۔ اسے 1990 تک حکومت کے نیشنل پارک کے نظام نے چلایا جس کے بعد سے اسے کینیڈین نیشنل پارک کے اندر موجود شہر کا درجہ دے دیا گیا۔1884 میں اس علاقے کو لارڈ سٹیون نے بینف کا نام دیا۔ لارڈ سٹیون کینیڈین پیسیفک ریلوے کے ایک سابقہ ڈائریکٹر تھے۔ ان کی جنم بھومی کا نام بینف تھا جو سکاٹ لینڈ میں واقع ہے۔ کینیڈین پیسیفک ریلوے نے اپنی پٹڑی کے نزدیک بہت سارے ہوٹل بنائے اور بینف سپرنگز ہوٹل کو بین الاقوامی سیاحی مرکز قرار دیا۔2007 میں بینف کی کل آبادی 8721 افراد تھی جس میں سے 7437 افراد مستقل طور پر یہاں آباد ہیں۔ غیر مستقل آبادی کی تعداد 1284 افراد ہے۔ یہاں کا کل رقبہ 4 اعشاریہ 85 مربع کلومیٹر ہے۔ آبادی کی گنجانیت 1381 اعشاریہ 7 افراد فی مربع کلومیٹر ہے۔
یہاں کل عمارات کی تعداد 2844 جبکہ مستقل طور پر آباد عمارتیں 2568 ہیں۔ اوسط سالانہ گھریلو آمدنی 55017 ڈالر ہے۔1985 میں اقوام متحدہ نے بینف نیشنل پارک کو کینیڈا کے راکی پہاڑی سلسلے کے پارکوں میں سے ایک اور عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دے دیا۔ اس پارک میں ہر تاریخی نشان سیاحت کی ترقی، فطرت کے تحفظ، اور مقامی لوگوں کی ثقافتی نقوش کی کہانیاں رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنف سیاحوں کے لیے ایک خاص مقام بن گیا ہے. شاندار قدرتی خوبصورتی سے مالا مال بینف کینیڈا کے سب سے بڑے پرکشش مقامات میں سے ایک ایسی دلکش جگہ ہے ، جس کی پورے کینیڈا میں کہیں اور مثال نہیں ملتی۔ 6,600 کلومیٹر سے زیادہ کے رقبے پر محیط یہ پارک ایک متنوع ماحولیاتی نظام کا حامل ہے، جس میں پہاڑ، گلیشیئر، وادیاں، جھیلیں اور گھنے جنگلات شامل ہیں۔یہاں کے طول و عرض میں سردیوں میں سفید برف سے ڈھک جاتے ہیں بینف نیشنل پارک کی سیر کرنا اپنے آپ کو ایڈونچر اور جوش میں پوری طرح غرق کرنے کا ایک موقع ہے۔بینف کا دورہ کرتے وقت سب سے زیادہ لطف اندوز ہونے والے تجربات میں سے ایک قدرتی گرم چشموں میں بھیگنا ہے Banff کا دورہ کرتے وقت سب سے زیادہ خوشگوار تجربات میں سے ۔ بینف اپر ہاٹ اسپرنگس سلفر سے بھرپور پانی کے لیے مشہور ہے، جو طویل دنوں کی تلاش کے بعد آرام کے متلاشی لوگوں کو بھر پور توانا ہونے میں مدد کرتا ہے۔۔
مظفّرگڑھ صوبہ پنجاب کا ایک زرخیز شہر ہے-parT 2
رجب طیّب اردوان اسپتال -اگر ضلعے کی پَس ماندگی کی ایک بڑی وجہ، طویل عرصے سے یہاں کی سیاست میں چند خاندانوں کی اجارہ داری کو بھی قرار دیا جائے، تو غلط نہ ہوگا۔ ان خاندانوں میں کھر، قریشی، ہنجرا، بخاری، دستی، نواب، گرمانی، جتوئی، گوپانگ، چانڈیہ، لغاری اور سیال شامل ہیں۔ جب کہ ان ہی سرداروں میں سردار کوڑا خان مرحومؒ کی خدمات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،جنہوں نے اپنی ہزاروں ایکڑ اراضی غریب و نادار لوگوں کے لیےوقف کرکے خدمتِ خلق کی عظیم مثال قائم کی۔ آج بھی ان کی جائیداد سے حاصل ہونے والی آمدنی نادار و مستحق افراد کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جارہی ہے۔2010ء میں مظفّرگڑھ میں آنے والے بدترین سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے، سیکڑوں انسانی جانوں کا زیاں ہوا۔ تاہم، مشکل کی اس گھڑی میں دیگر ممالک کے علاوہ دوست ملک ترکی نے خصوصی طور پر یہاں کے مصیبت زدہ لوگوں کی دل کھول کر مدد کی۔ ترکی کے تعاون سے ڈیرہ غازی خان روڈ پر اعلیٰ معیار کا 300 بیڈز پر مشتمل ایک اسپتال تعمیر کیا گیا، جہاں روزانہ سیکڑوں مریضوں کے مفت علاج کے ساتھ مفت ادویہ بھی فراہم کی جاتی ہیں۔سردار کوڑا خان جتوئی-صرف یہی نہیں، بلکہ غریب،بے گھر افراد کے لیے 1400گھروں پر مشتمل رہایشی کالونی بھی تعمیر کی گئی۔
ترکی کے تعاون سے بنایا گیا ’’رجب طیّب اردوان اسپتال‘‘ یہاں کے باسیوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ بلاشبہ، دوست ملک تُرکی نے یہاں کے لوگوں کی ہر طرح سے مدد کرکے دوستی اور انسانی ہم دردی کی ایک بڑی مثال قائم کی۔ ضلعے کے دیگر مسائل کی بات کی جائے، تو یہاں کی ٹوٹی پھوٹی خستہ حال سڑکیں برسوں سے تعمیر و مرمت کی راہ دیکھ رہی ہیں، پورے ضلعے میں صحت و صفائی اور نکاسیِ آب کا نظام انتہائی ناقص ہونے کے باعث ہیپاٹائیٹس، تپِ دق اورگُردوں سمیت سرطان جیسے خطرناک موذی امراض کی شرح میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ فضائی آلودگی کے باعث آنکھوں، جِلد اور سانس کے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ 2010 ءمیں آنے والے بدترین سیلاب کے بعد یہاں زیر ِزمین پینے کا پانی آلودہ ہونے سے متعدد بیماریاں پھیلنے لگیں، تو حکومتِ پنجاب کی جانب سے کروڑوں روپے کی لاگت سے صاف اور میٹھے پانی کا منصوبہ شروع کیا گیا، لیکن بدقسمتی سے یہ بھی کرپشن کی نذر ہوکر آج تک پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔ اگرچہ سیلاب کی تباہی کے بعد بہت سے ممالک اور عالمی اداروں سے اربوں روپے کی امداد حاصل ہوئی، جس سے نئے سرے سے ایک نیا شہر بنایا جاسکتا تھا، تاہم بدقسمتی سے اس میں بھی زیادہ پیسا کرپشن ہی کی نذر ہوگیا۔ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ جنگلات کے افسران کی ملی بھگت سے کئی سو ایکڑز پر موجود جنگلات کو اجاڑ دیا گیا، درختوں کی کٹائی کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے، جس کا سدّباب بے حد ضروری ہے۔
تھرمل پاور اسٹیشن-زرعی لحاظ سے یہاں کی زرخیز زمینیں بہترین پیداواری صلاحیت رکھتی ہیں، لیکن نہری پانی کی غیر مساوی تقسیم اور پانی کی چوری کے باعث چھوٹے کاشت کاروں کی زمینیں بنجر ہوتی جارہی ہیں۔ ضلعے کی زرخیز زمینوں کا بیش تر حصّہ سرکاری تحویل میں ہے، اگر یہ زمینیں کاشت کاری کے لیے غریب ہاریوں کو دے دی جائیں، تٖو کروڑوں روپے ماہانہ آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے۔ تاہم، بدقسمتی سے ملک کے دیگر علاقوں کی طرح یہاں بھی قبضہ مافیا نے کل سرکاری رقبے کے آدھے سے زیادہ حصّے پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ شہر میں جگہ جگہ تجاوزات کے باعث بازار، سڑکیں اور گلیاں سکڑتی جارہی ہیں، جب کہ بسوں اور رکشوں کے غیر قانونی اڈوں اور بے ہنگم ٹریفک نے بھی شہر کا حُسن ماند کردیا ہے۔ اگرچہ موجودہ حکومت نے دوسرے اضلاع کی طرح مظفّرگڑھ میں بھی تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن شروع تو کیا ہے، لیکن سیاسی مداخلت کے باعث حالیہ آپریشن بُری طرح ناکام ہوتا نظر آتا ہے۔
ضلع مظفّر گڑھ سے تعلق رکھنے والے بہت سے سیاست دانوں نے ملک گیر شہرت پائی، جن میں نواب زادہ نصر اللہ خان، غلام مصطفیٰ کھر، سردار عبدالقیوم خان، نصرللہ خان جتوئی، حنا ربانی کھر اور جمشید احمد خان دستی کے علاوہ علم و فکر کے اعتبار سے پروفیسر شاہدہ حسین مرحوم، پروفیسر ڈاکٹر کریم ملک مرحوم، شجاعت مندخان، پروفیسر ڈاکٹر محمد شعیب خان قلندرانی اور محمد جمیل کے نام قابلِ ذکر ہیں، جب کہ مضطر بخاری اور رضا ٹوانہ نام وَر شاعر گزرے ہیں اور صحافتی حوالے سے خان عبدالکریم خان ،اعجاز رسول بھٹّہ، اے بی مجاہد اور عبدالسمیع خان کی خدمات کو بھی کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا۔فنون لطیفہ کے حوالے سے مظفرگڑھ کے بڑے اور نامور نام پیش خدمت ہیں گلوکار استاد پٹھانے خاں, گلوکار استاد شوکت علیم, اداکار توقیر ناصر, اداکارہ سائرہ خان, اداکار شیخ اسد عاقب, اداکار بلال اعوان, اداکار عرفان ساگر, اداکار ادریس ملک, شاعر کشفی ملتانی, شاعر مخدوم غفور ستاری, شاعر انور سعید انور, شاعر خلیل مرزا, شاعر سعید اختر سعید, شاعر مخدوم نوید ستاری, شاعر رضا ٹوانہ, شاعر افضل چوہان, شاعر احمد سعید گل, شاعر سلیم نتکانی, شاعر شکیل عادل-جبکہ صحافت کے شہسواروں میں عون رضا گوپانگ۔ اعجاز رسول بھٹہ۔ اے بی مجاہد۔ شیخ کاشف نذیر محمد عدنان مجتبی بہترین اور بے باک صحافت میں مشہور ہیں
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا
میں سہاگن بنی مگر !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...
-
نام تو اس کا لینارڈ تھا لیکن اسلام قبول کر لینے کے بعد فاروق احمد لینارڈ انگلستانی ہو گیا-یہ سچی کہانی ایک ایسے انگریز بچّے لی...