ہفتہ، 17 جنوری، 2026

شہریوں کے لئے چالان کے نام پر بھاری جرمانے

 شہریوں کے چالان یا جینے کا جرمانہ حکومت یہ تو بتائے؟             ٹریفک                         قوانین کی خلاف ورزی پریو رپی ممالک  میں بھی  چالان  کے لیے کیمروں سے تصاویر نکالی جاتی ہیں، بھاری جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں لیکن اس سب سے پہلے وہ نظام تخلیق کیا جاتا ہے جہاں سڑکیں عوام کو میسر ہوں، سڑکوں پر نشانات بھی ہوں اور اس سے بھی پہلے ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کا سخت ترین نظام ہوتا ہے۔ اگر آپ کو ٹریفک اشاروں سے درست آگاہی نہیں، گاڑی چلانے کا طریقہ نہیں معلوم تو پھر آپ کو لائسنس ہی نہیں ملے گا، اور لائسنس نہیں ہوگا تو گاڑی کیسے چلا سکیں گے۔مقررہ سال سے زیادہ پرانی گاڑی کو فٹنس کے سخت مرحلے سے گزر کر ہی سڑک پر چلنے کی اجازت ہوتی ہے اور کوئ ڈرائور اوور اسپیڈ کر ہی نہیں سکتا ہے ورنہ تو بھاری جرمانہ دینا پڑ سکتا ہے  سڑکیں قال رشک حد تک ہموار ہوتی ہیں  لیکن اگر کراچی سمیت سندھ بھر کا جائزہ لیں تو کئی کئی دہائی پرانی گاڑیاں سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں، نہ ان کی فٹنس کی کسی کو فکر ہے، نہ ماحولیات کو تباہ کرنے پر کسی کی نظر ہے، ہر چھوٹی بڑی گاڑی میں پریشر ہارن ہونا عام سی بات ہے، اشارے کام کریں یا نہ کریں اس بات سے کسی کو کوئی مطلب نہیں ہے۔بھاری گاڑیوں یعنی ٹینکر، ڈمپر وغیرہ کی اکثریت پر نمبر پلیٹ ہوتی ہی نہیں ہے اور اگر ہو بھی تو سندھ سے باہر کی ہوتی ہے۔ میڈیا روزانہ کی بنیاد پر اسے رپورٹ کرتا رہتا ہے


 دکانداروں نے کوریڈرو اور فٹ پاتھ تک گھیر رکھے ہیں، جہاں خالی زمین ہو وہاں کوئی نہ کوئی قبضہ کرلیتا ہے۔ جب اور جہاں دل چاہتا ہے لٹیرا آدھمکتا ہے، سڑک، گلی حتیٰ کہ آپ اپنے گھر کے دروازے تک پر محفوظ نہیں ہیں۔ کہیں بھی آپ کو لوٹا جاسکتا ہے۔ تھانے جائیں تو پہلے تو آپ کو تھانے میں کوئی منہ نہیں لگائے گا، اگر کوئی جان پہچان یا سفارش لے کر پہنچ جائیں تو پہلے تھانے والوں کا زور ہوگا کہ آپ ایف آئی آر کے بجائے ڈکیتی یا چوری کی درخواست دے کر اپنی بھی جان چھڑائیں اور پولیس پر بھی بوجھ نہ ڈالیں۔ پارک میں جھانکیں تو وہاں بھی تجارتی سرگرمیاں نظر آئیں گی۔ بڑے بڑے شاپنگ سینٹرز ہیں لیکن انھوں نے پارکنگ کے لیے مختص جگہ پر دکانیں بنا کر بیچ ڈالی ہیں، نقشہ چیک کریں تو پارکنگ لکھی نظر آئے گی۔پہلے پارکنگ فیس ہوتی تھی اب پارکنگ فیس ختم کردی گئی لیکن گاڑی یا موٹرسائیکل پارک کرنے کے پیسے اب بھی دینا پڑتے ہیں ہر سڑک پر یا شاپنگ سینٹر کے باہر کچھ لوگ کھڑے ہوتے ہیں جو گاڑیاں لگواتے ہیں اور پہلے تو دس بیس روپے تھے اب تو موٹرسائیکل تک کے 30روپے سے کم چارج نہیں کیے جاتے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر بائیک یا گاڑی چوری ہوجائے، کوئی ٹوٹ پھوٹ ہوجائے تو آپ کوئی دعویٰ بھی نہیں کرسکتے۔ علاقے کا تھانہ سڑکوں کو ٹکڑوں میں بانٹ کر مبینہ طور پر روزانہ یا ہفتے کی بنیاد پر بھتہ وصول کرتا ہے۔



 اور اب تو مریض کی ایمبولینس بھی روک کر پہلے چالان کی رقم وصو ل کی جاتی ہے پھر ایمبولینس کو چھوڑا جاتا ہے  دودھ، سبزی، روٹی کسی چیز کی سرکاری قیمت پر شاذ ہی عمل ہورہا ہے، ہر ایک اپنی مرضی کی قیمت وصول کر رہا ہے، اگر احتجاج کرو تو دکاندار کہتا ہے کہ آگے بڑھو، جو کرسکتے ہو کرلو۔جس کا مال اس کی مرضی، جس قیمت پر چاہے فروخت کرے، وغیرہ وغیرہ۔ ایک دو یا دس نہیں اس شہر کے ہزاروں مسائل ہیں جنہیں ٹھیک کیا جانا ضروری ہے لیکن حکومت کی نظر میں سب سے بڑا کام یہی تھا کہ ای چالان نظام نافذ کردیا جائےکراچی سمیت سندھ میں کیا ہورہا ہے، اب اس پر کوئی بات نہیں کررہا سب ہی ای چالان پر بات کر رہے ہیں۔ کیا حکومت کا صرف یہی ایک کام تھا؟ باقی کام کون کرے گا؟ صوبے کو قبضہ مافیا سے نجات کون دلائے گا؟سڑکیں کون بنائے گا اور فٹ پاتھوں اور سڑکوں سے قبضہ کون چھڑائے گا؟ ڈکیتوں کو نکیل کون ڈالے گا؟ مہنگائی سے نجات کون دلائے گا؟ نوکریوں کا بندوبست کس کی ذمہ داری ہے؟ یہ اور اس جیسے لاتعداد سوالات ہیں جو عوام ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، 


کیا حکومتی   کار پردازوں کو یہ  سب نظر نہیں آتا؟کئ  موتر سائکل  سواروں چالان نا ہونے کے سبب  سکوں پر اپنی موٹر سائکلیں نذر آتش کر دیں میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک تیس ہزار سے زیادہ چالان ہوچکے ہیں، ان میں سیٹ بیلٹ نہ باندھنے اور بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل چلانے والوں کے زیادہ چالان کیے ہیں، جرمانوں کی رقم اتنی زیادہ ہے کہ بہت سے لوگوں کے مطابق وہ چالان کی رقم جمع کرانے کے بجائے موٹرسائیکل جمع کرادیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اگر عوام یا دوسری سیاسی جماعتیں یہ الزام لگائیں کہ ای چالان کا مقصد ٹریفک قوانین کا نفاذ اور ان پر عمل نہیں بلکہ عوام کی جیبوں سے پیسا نکلوانا ہے تو سندھ حکومت اس کا دفاع کیسے کرپائے گی؟ حکومت کا یہ اختیار ہے کہ صوبے یا کسی شہر کی بھلائی کے لیے بہتر سے بہتر قوانین بنائے لیکن اس سے قبل عوام کی آگاہی کے لیے بھی تو اقدامات کیے جانے چاہئیں۔پالیسی سازوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عوام ہی ہیں جو انھیں حق حکمرانی بخشتے ہیں، اپنے حقوق کے دفاع کے لیے منتخب کرکے ایوانوں میں بھیجتے ہیں۔ عوام کو ان کا حق ملنا چاہیے اگر آج آپ انھیں یہ حق نہیں دیں گے تو جب کبھی عوام کو اپنے ووٹ سے حکمرانوں کو بدلنے کا موقع ملا تو وہ یہ کر گزریں گے اور آپ خود کو ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔




 ·


























جمعہ، 16 جنوری، 2026

جامن کا پیڑپارٹ' 1-افسانہ نگار کرشن چندر


   رات  کو بڑے زور کا جھکڑ چلا۔ سکریٹریٹ کے لان میں جامن کا ایک درخت گرپڑا۔ صبح جب مالی نے دیکھا تو اسے معلوم پڑا کہ درخت کے نیچے ایک آدمی دبا پڑاہے خون کا دباؤ، سانس کی آمد و رفت، دل اور پھیپھڑوں کی جانچ‌کر کے رپورٹ بھیج دی کہ، اس آدمی کا پلاسٹک سرجری کا آپریشن تو ہو سکتا ہے، اور آپریشن کامیاب بھی ہو جائے‌گا،مگر آدمی مر جائے‌گا۔رات کو بڑے زور کا جھکڑ چلا۔ سکریٹریٹ کے لان میں جامن کا ایک درخت گرپڑا۔ صبح جب مالی نے دیکھا تو اسے معلوم پڑا کہ درخت کے نیچے ایک آدمی دبا پڑاہے مالی دوڑا-دوڑا چپراسی کے پاس گیا۔ چپراسی دوڑا-دوڑا کلرک کے پاس گیا۔کلرک دوڑا-دوڑا سپرنٹنڈنٹ کے پاس گیا۔ سپرنٹنڈنٹ دوڑا-دوڑا باہر لان میں آیا۔منٹوں میں گرے ہوئے درخت کے نیچے دبے ہوئے آدمی کے گرد مجمع ‘ اکٹھا ہو گیا۔بیچارا! جامن کا درخت کتنا پھل دارتھا۔ ایک کلرک بولا۔اس کی جامن کتنی رسیلی ہوتی تھیں۔دوسرا کلرک بولا۔میں پھلوں کے موسم میں جھولی بھر‌کےلے جاتا تھا۔ میرے بچے اس کی جامنیں کتنی خوشی سے کھاتے تھے۔تیسرے کلرک نے تقریباً آبدیدہ ہوکر کہا۔مگر یہ آدمی؟مالی نے دبےہوئے آدمی کی طرف اشارہ کیا۔ہاں، یہ آدمی! سپرنٹنڈنٹ سوچ میں پڑ گیا۔پتہ نہیں زندہ ہے کہ مر گیا! ایک چپراسی نے پوچھا۔مر گیا ہوگا۔ اتنا بھاری تنا جن کی پیٹھ پر گرے، وہ بچ کیسے سکتا ہے! دوسرا چپراسی بولا۔نہیں میں زندہ ہوں! دبےہوئے آدمی نے بہ مشکل، کراہتے ہوئے کہا۔زندہ ہے! ایک کلرک نے حیرت سے کہا۔درخت کو ہٹاکر اس کو نکال لیناچاہیے۔ مالی نے مشورہ دیا۔مشکل معلوم ہوتا ہے۔


ایک کاہل اور موٹا چپراسی بولا۔درخت کا تنا بہت بھاری اور وزنی ہے۔کیا مشکل ہے؟ مالی بولا۔ اگر سپرنٹنڈنٹ صاحب حکم دے تو ابھی پندرہ-بیس مالی، چپراسی اور کلرک زور لگاکردرخت کے نیچے سے دبے آدمی کو نکال سکتے ہیں۔مالی ٹھیک کہتا ہے۔بہت-سےکلرک ایک ساتھ بول پڑے۔ لگاؤ زور، ہم تیار ہیں۔ایک دم بہت سے لوگ درخت کو کاٹنے پر تیار ہو گئے۔ٹھہرو!، سپرنٹنڈنٹ بولا،میں انڈر-سکریٹری سے مشورہ کر لوں۔سپرنٹنڈنٹ انڈر-سکریٹری کے پاس گیا۔ انڈر-سکریٹری ڈپٹی سکریٹری کے پاس گیا۔ ڈپٹی سکریٹری جوائنٹ سکریٹری کے پاس گیا۔ جوائنٹ سکریٹری چیف سکریٹری کے پاس  گیاچیف سکریٹری نے جوائنٹ سکریٹری سے کچھ کہا۔ جوائنٹ سکریٹری نے ڈپٹی سکریٹری سے کچھ کہا۔ ڈپٹی سکریٹری نےانڈر سکریٹری سے کچھ کہا۔ ایک فائل بن گئی۔فائل چلنے لگی۔ فائل چلتی رہی۔ اسی میں آدھا دن گزر گیا۔دوپہر کو کھانے پر دبے ہوئے آدمی کے گرد بہت بھیڑ ہو گئی تھی۔ لوگ طرح-طرح کی باتیں کر رہے تھے۔ کچھ من چلے کلرکوں نے معاملے کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہا۔وہ حکومت کے فیصلے کا انتظار کئے بغیر درخت کو خود سے ہٹانے کا تہیہ کر رہے تھے کہ اتنےمیں سپرنٹنڈنٹ فائل لئے بھاگا-بھاگا آیا، بولا-ہم لوگ خود سے اس درخت کو یہاں سے ہٹا نہیں سکتے۔ ہم لوگ محکمہ تجارت سے متعلق ہیں اور یہ درخت کا معاملہ ہے جو محکمہ زراعت کی تحویل میں ہے۔ اس لئے میں اس فائل کو ارجنٹ مارک کرکے محکمہ زراعت میں بھیج رہا ہوں۔ وہاں سے جواب آتے ہی اس کو ہٹوا دیا جائے‌گا۔



دوسرے دن محکمہ زراعت سے جواب آیا کہ درخت ہٹوانے کی ذمہ داری محکمہ تجارت پر عائد ہوتی ہے۔یہ جواب پڑھ‌کر محکمہ تجارت کو غصہ آ گیا۔ انہوں نے فوراً لکھا کہ درختوں کو ہٹوانے یا نہ ہٹوانے کی ذمہ داری محکمہ زراعت پر عائد ہوتی ہے۔ محکمہ تجارت کااس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔دوسرے دن بھی فائل چلتی رہی۔ شام کو جواب بھی آ گیا۔ ہم اس معاملےکو ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ کے سپرد کر رہے ہیں کیونکہ یہ ایک پھل دار درخت کا معاملہ ہے اور ایگریکلچرل ڈپارٹمنٹ صرف اناج اور کھیتی باڑی کے معاملوں میں فیصلہ کرنے کامجاز ہے۔ جامن کا درخت ایک پھل دار درخت ہے اس لئے درخت ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ کےدائرہ اختیار میں آتا ہے۔رات کو مالی نے دبے ہوئے آدمی کو دال-بھات کھلایا حالانکہ لان کے چاروں طرف پولیس کا پہرا تھا کہ کہیں لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لےکر درخت کو خود سےہٹوانے کی کوشش نہ کریں۔ مگر ایک پولیس کانسٹبل کو رحم آ گیا اور اس نے مالی کودبے ہوئے آدمی کو کھانا کھلانے کی اجازت دے دی۔مالی نے دبے ہوئے آدمی سے کہا،تمہاری فائل چل رہی ہے۔ امید ہے کہ کل تک فیصلہ ہو جائے‌گا۔دبا ہوا آدمی کچھ نہ بولا۔مالی نے درخت کے تنے کو غور سے دیکھ‌کر کہا،حیرت گزری کہ تناتمہارے کولہے پر گرا۔ اگر کمر پر گرتا تو ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جاتی۔دبا ہوا آدمی پھر بھی کچھ نہ بولا۔مالی نے پھر کہا،تمہارا یہاں کوئی وارث ہو تو مجھے اس کا اتہ پتہ بتاؤ۔



میں اس کو خبر دینے کی کوشش کروں‌گا۔میں لاوارث ہوں۔دبے ہوئےآدمی نے بڑی مشکل سے کہا۔مالی افسوس ظاہر کرتا ہوا وہاں سے ہٹ گیا۔تیسرے دن ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ سے جواب آ گیا۔ بڑا کڑا جواب تھا، اورطنز آمیز۔ ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ کا سکریٹری ادبی مزاج کا آدمی معلوم ہوتا تھا-اس نےلکھا تھا ؛حیرت ہے، اس وقت جب ‘ درخت اگاؤ ‘ اسکیم بڑے پیمانے پر چل رہی ہیں، ہمارے ملک میں ایسے سرکاری افسر موجود ہیں جو درخت کاٹنے کا مشورہ دیتے ہیں،وہ بھی ایک پھل دار درخت کو!اور پھر جامن کے درخت کو! جس کا پھل عوام بڑی رغبت سےکھاتے ہیں!! ہمارا محکمہ کسی حالت میں اس پھل دار درخت کو کاٹنے کی اجازت نہیں دےسکتا۔اب کیا کیا جائے؟ ایک منچلے نے کہا۔اگر درخت کاٹا نہیں جا سکتا تو اس آدمی کو کاٹ‌کر نکال لیاجائے! یہ دیکھیے، اسی آدمی نے اشارے سے بتایا۔ اگر اس آدمی کو بیچ میں سے یعنی دھڑ کے مقام سے کاٹا جائے تو آدھا آدمی ادھر سے نکل آئے‌گا اور آدھا آدمی ادھر سےباہر آ جائے‌گا، اور درخت وہیں کا وہیں رہے‌گا۔مگر اس طرح سے تو میں مر جاؤں‌گا! دبے ہوئے آدمی نے احتجاج کیا۔یہ بھی ٹھیک کہتا ہے! ایک کلرک بولا۔آدمی کو کاٹنے والی تجویز پیش کرنے والے نے پرزور احتجاج کیا،آپ جانتے نہیں ہیں۔ آج کل پلاسٹک سرجری کے ذریعے دھڑ کے مقام پر اس آدمی کو پھر سےجوڑا جا سکتا ہے۔اب فائل کو میڈیکل ڈپارٹمنٹ میں بھیج دیا گیا۔ میڈیکل ڈپارٹمنٹ نے فوراًاس پر ایکشن لیا اور جس دن فائل ملی اس نے اسی دن اس محکمے کا سب سے قابل پلاسٹک سرجن تحقیقات کےلئے بھیج دیا۔


جامن کا پیڑ پارٹ'2'افسانہ نگار کرشن چندر

 

سرجن نے دبے ہوئے آدمی کو اچھی طرح ٹٹول‌کر، اس کی صحت دیکھ‌کر، خون کا دباؤ، سانس کی آمد و رفت، دل اور پھیپھڑوں کی جانچ‌کر کے رپورٹ بھیج دی کہ، اس آدمی کا پلاسٹک سرجری کا آپریشن تو ہو سکتا ہے،لہذا یہ تجویز بھی رد کر دی گئی رات کو مالی نے دبے ہوئے آدمی کے منھ میں کھچڑی کے لقمے ڈالتے ہوئے اس کوبتایا،اب معاملہ اوپر چلا گیا ہے۔ سنا ہے کہ سکریٹریٹ کے سارے سکریٹریوں کی میٹنگ ہوگی۔ اس میں تمہارا کیس رکھا جائے‌گا۔ امید ہے سب کام ٹھیک ہو جائے‌گا۔دبا ہوا آدمی ایک آہ بھر‌کر آہستہ سے بولا- ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو‌گے لیکن خاک ہو جائیں‌گے ہم، تم کو خبر ہونے تک!مالی نے اچنبھے سے منھ میں انگلی دبائی۔ حیرت سے بولا، کیا تم شاعرہو؟دبے ہوئے آدمی نے آہستہ سے سر ہلا دیا۔دوسرے دن مالی نے چپراسی کو بتایا۔ چپراسی نے کلرک کو، اور کلرک نےہیڈکلرک کو۔ تھوڑے ہی عرصے میں سکریٹریٹ میں یہ افواہ پھیل گئی کہ دبا ہوا آدمی شاعر ہے۔بس پھر کیا تھا۔ لوگ جوق-در-جوق شاعر کو دیکھنے کے لئے آنے لگے۔ اس کی خبر شہر میں پھیل گئی۔ اور شام تک محلے-محلے سے شاعر جمع ہونا شروع ہو گئے۔سکریٹریٹ کا لان بھانت-بھانت کے شاعروں سے بھر گیا۔ سکریٹریٹ کے کئی کلرک اورانڈر-سکریٹری تک، جن کو ادب اور شاعری سے لگاؤ تھا، رک گئے۔کچھ شاعر دبے ہوئےآدمی کو اپنی غزلیں اور نظمیں سنانے لگے۔



کئی کلرک اس سے اپنی غزلوں پر اصلاح لینےکے لئے مصر ہونے لگے۔جب یہ پتہ چلا کہ دبا ہوا آدمی شاعر ہے تو سکریٹریٹ کی سب-کمیٹی نےفیصلہ کیا کہ چونکہ دبا ہوا آدمی ایک شاعر ہے لہذا اس فائل کا تعلق نہ ایگریکلچرل ڈپارٹمنٹ سے ہے، نہ ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ سے بلکہ صرف اور صرف کلچرل ڈپارٹمنٹ سے ہے۔پہلے کلچرل ڈپارٹمنٹ سے استدعا کی گئی کہ جلد سے جلد اس معاملے کا فیصلہ کرکےبدنصیب شاعر کو اس شجرسایہ دار سے رہائی دلائی جائے۔فائل کلچرل ڈپارٹمنٹ کے مختلف شعبوں سے گزرتی ہوئی ادبی اکادمی کے سکریٹری کے پاس پہنچی۔ بیچارا سکریٹری اسی وقت اپنی گاڑی میں سوار ہوکر سکریٹریٹ پہنچااور دبے ہوئے آدمی سے انٹرویو لینے لگا۔تم شاعر ہو؟اس نے پوچھاجی ہاں۔دبے ہوئے آدمی نےجواب دیا۔کیا تخلص کرتے ہو؟عبث۔عبث! سکریٹری زور سے چیخا۔کیا تم وہی ہو جس کا مجموعہ کلام عبث کے پھول حال ہی میں شائع ہوا ہے؟دبے ہوئے شاعر نے اثبات میں سر ہلایا۔کیا تم ہماری اکادمی کے ممبر ہو؟ سکریٹری نے پوچھا۔نہیں!حیرت ہے! سکریٹری زور سےچیخا۔اتنا بڑا شاعر!’عبث کے پھول ‘ کا مصنف!! اور ہماری اکادمی کا ممبرنہیں ہے! اف، اف کیسی غلطی ہو گئی ہم سے! کتنا بڑا شاعر اور کیسے گوشہ گمنامی میں دبا پڑا ہے!گوشہ گمنامی میں نہیں بلکہ ایک درخت کے نیچے دبا ہوا…براہ کرم مجھے اس درخت کے نیچے سے نکالیے۔ابھی بندوبست کرتا ہوں۔ سکریٹری فوراً بولا اور فوراً جاکر اس نے اپنے محکمہ میں رپورٹ پیش کی۔



دوسرے دن سکریٹری بھاگا-بھاگا شاعر کے پاس آیا اور بولا، مبارک ہو،مٹھائی کھلاؤ، ہماری سرکاری اکادمی نے تم کو اپنی مرکزی کمیٹی کا ممبر چن لیا ہے۔یہ لو پروانہ انتخاب!مگر مجھے اس درخت کے نیچے سے تونکالو۔دبے ہوئے آدمی نے کراہ کر کہا۔ اس کی سانس بڑی مشکل سے چل رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ شدید تشنج اور کرب میں مبتلا ہے۔یہ ہم نہیں کر سکتے۔سکریٹری نے کہا۔جو ہم کر سکتے تھے وہ ہم نے کر دیا ہے۔ بلکہ ہم تو یہاں تک کر سکتےہیں کہ اگر تم مر جاؤ تو تمہاری بیوی کو وظیفہ دلا سکتے ہیں۔ اگر تم درخواست دوتو ہم یہ بھی کر سکتے ہیں۔میں ابھی زندہ ہوں۔شاعررک رک کر بولا۔مجھے زندہ رکھو۔مصیبت یہ ہے، سرکاری اکادمی کا سکریٹری ہاتھ ملتے ہوئے بولا، ہمارا محکمہ صرف کلچر سے متعلق ہے۔اس کے لئے ہم نے ‘ فاریسٹ ڈپارٹمنٹ ‘ کو لکھ دیا ہے۔ ‘ ارجنٹ ‘ لکھا ہے۔شام کو مالی نے آکر دبے ہوئے آدمی کو بتایا کہ کل فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کے آدمی آکر اس درخت کو کاٹ دیں‌گے اور تمہاری جان بچ جائے‌گی۔مالی بہت خوش تھا کہ گو دبے ہوئے آدمی کی صحت جواب دے رہی تھی مگر وہ کسی نہ کسی طرح اپنی زندگی کے لئے لڑے جا رہا ہے۔ کل صبح تک کسی نہ کسی طرح اس کو زندہ رہنا ہے۔


دوسرے دن جب فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کے آدمی آری-کلہاڑی لےکر پہنچے تو ان کو درخت کاٹنے سے روک دیا گیا۔ معلوم یہ ہوا کہ محکمہ خارجہ سے حکم آیا کہ اس درخت کو نہ کاٹا جائے، وجہ یہ تھی کہ اس درخت کو دس سال پہلے حکومت پی ٹونیا کے وزیراعظم نےسکریٹریٹ کے لان میں لگایا تھا۔ اب یہ درخت اگر کاٹا گیا تو اس امر کا شدیداندیشہ تھا کہ حکومت پی ٹونیا سے ہمارے تعلقات ہمیشہ کے لئے بگڑ جائیں‌گے۔مگر ایک آدمی کی جان کا سوال ہے! ایک کلرک غصے سے چلایا۔دوسری طرف دو حکومتوں کے تعلقات کا سوال ہے۔ دوسرے کلرک نے پہلے کلرک کو سمجھایا۔ اور یہ بھی توسمجھو کہ حکومت پی ٹونیا ہماری حکومت کو کتنی امداد دیتی ہے۔ کیا ہم ان کی دوستی کی خاطر ایک آدمی کی زندگی کو بھی قربان نہیں کر سکتے؟شاعر کو مر جانا چاہیے۔بلاشبہ۔انڈر سکریٹری نے سپرنٹنڈنٹ کو بتایا۔آج صبح وزیراعظم باہر-ملکوں کے دورے سے واپس آ گئے ہیں۔ آج چار بجے محکمہ خارجہ اس درخت کی فائل ان کے سامنےپیش کرے‌گا۔ جو وہ فیصلہ دیں‌گے وہی سب کو منظور ہوگا۔شام پانچ بجے خود سپرنٹنڈنٹ شاعر کی فائل لےکر اس کے پاس آیا۔ سنتےہو؟ آتے ہی خوشی سے فائل ہلاتے ہوئے چلایا، وزیراعظم نے درخت کوکاٹنے کا حکم دے دیا ہے اور اس واقعہ کی ساری بین الاقوامی ذمہ داری اپنے سر پر لےلی ہے۔ کل وہ درخت کاٹ دیا جائے‌گا اور تم اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کر لو‌گے۔سنتے ہو؟ آج تمہاری فائل مکمل ہوگئی! سپرنٹنڈنٹ نے شاعر کے بازو کو ہلاکر کہا۔ مگر شاعر کا ہاتھ سرد تھا۔آنکھوں کی پتلیاں بے جان تھیں اور چیونٹیوں کی ایک لمبی قطار اس کے منھ میں جا رہی تھی۔ اس کی زندگی کی فائل بھی مکمل ہو چکی تھی۔

 

 


بدھ، 14 جنوری، 2026

پاکستان میں ہاکی کے کھیل کے زوال کی دردناک کہانی



ہاکی میں پاکستان کا عروج و زوال، ایک دردناک کہانی- پاکستان نے اولمپک گیمز میں ہاکی کا گولڈ میڈل 1960کے روم اولمپکس میں پہلی بار جیتا تھا جبکہ چار بار ہالی کا ورلڈ کپ بھی جیتا ۔اس کے علاوہ چیمپئنز ٹرافی ، ایشین گیمز اور ایشیا کپ کے اعزازات بھی حاصل کئے لیکن اس کھیل میں زقال کی یہ انتہا ہے کہ پاکستان دوسری بار اولمپک گیمز ہاکی میں دوسری بار کوالیفائی نہ کرسکا ایک وقت تھا جب شکیل عباسی ہاکی کے ایک مانے ہوئے فارورڈ تھے ، اب وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ہاکی کو ایک کیرئر کے طور پر چن کر بڑی غلطی کی ۔37 شکیل عباسی نے تین اولمپک گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کی ایک وقت تھا جب وہ دنیا میں ہاکی کے بہترین سنٹر فارورڈ مانے جا تے تھے اب وہ انگلینڈ ، ہالینڈ اور ملائشیا میں پروفیشنل ہاکی کھیل کر گزر بسر کر رہے ہیں ،کورونا وائرس کے دنیا بھر میں پھیلنے کی وجہ سے کھیلوں کی سرگرمیاں بھی متاثر ہیں ۔۔انہوں نے تین اولمپک گیمز کے علاوہ آٹھ چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹس میں بھی حصہ لیا ۔1984 کے لاس اینجلس اولمپکس جہاں پاکستان نے آخری بار طلائی تمغہ جیتا تھا ، شکیل عباسی کے آخری اولمپکس تھے ۔انہوں نے تین سو سے زائد میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی ۔ہاکی میں زبوں حالی کا یہ عالم ہے کہ دنیا میں صفول کی پاکستان ہاکی ٹیم اب عالمی درجہ بندی میں اٹھارہوین نمبر پر ہے ۔ ہاکی ماہرین اور شیدائیوں کی رائے میں ہاکی اب ایک مردہ کھیل ہے جو متروک ہو چکا ۔یہ کھہل اب ویںتی لیٹر پر ہے ۔ پاکستان نے 1956 کے میلبورن اولمپک گیمز میں پہلی بار ہاکی کا نقرئی تمغہ جیتا تھا اور روم میں طلائی تمغی جیت کر بھارت کا چھٹی بار مسلسل طالئی تمغہ جیتنے کا سلسلہ توڑ دیا ۔پاکستان پہلی بار سیول اولمپکس کے لئے کوالیفائی نہیں کرسکا تھا ۔ہاکی میں پاکستان کا زوال 1980 کی دہائی سے شروع ہوا تھا ، کچھ ماہرین کی رائے میں جب 1970 کی دہائی میں آسٹرو ٹرف متعارف ہوئی تو پاکستان خود کو مصنوعی ٹرف سے مانوس نہ کرسکا ۔پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں قدرتی گھاس پر ہاکی کھیلنے کے ماہر تھے ۔اب ہاکی فٹنس کا کھیل مانا جاتا ہے اور پکاستان اس معیار پر پورا نہیں اتر پارہا ۔"ہاکی کا سلطان: پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کی سنہری تاریخ اور زوال کا سفر"تعارف:پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم ایک وقت میں دنیا کی سب سے مضبوط اور کامیاب ٹیم شمار ہوتی تھی۔ 20ویں صدی میں پاکستان نے عالمی سطح پر ہاکی کے میدان میں ایسے کارنامے انجام دیے جو آج بھی تاریخ کے صفحات پر سنہری حروف میں لکھے جاتے ہیں۔سنہری دور (1950 تا 1994):اولمپکس میں فتوحات:1. 1960 روم اولمپکس – گولڈ میڈل2. 1968 میکسیکو اولمپکس – گولڈ میڈل3. 1984 لاس اینجلس اولمپکس – گولڈ میڈل4. اولمپک سلور میڈلز – 1956 (میلبورن)، 1964 (ٹوکیو)، 1972 (میونخ)5. برونز میڈل – 1976 (مونٹریال)ورلڈ کپ کی کامیابیاں:1. 1971 – چیمپیئن (پہلا ورلڈ کپ – اسپین)2. 1978 – چیمپیئن (ارجنٹینا)3. 1982 – چیمپیئن (بھارت)4. 1994 – چیمپیئن (سڈنی، آسٹریلیا)پاکستان واحد ملک ہے جس نے چار مرتبہ ہاکی ورلڈ کپ جیتا – جو کہ ایک عالمی ریکارڈ ہے۔دیگر عالمی اعزازات:ایشین گیمز گولڈ میڈلز:1958، 1962، 1970، 1974، 1978، 1982، 1990چیمپیئنز ٹرافی:فاتح – 1978، 1980، 1994سلطان اذلان شاہ کپ:جیت – 1999، 2000، 2003مشہور کھلاڑی:1. سمیع اللہ خان – فلائنگ ہارس کے لقب سے مشہور2. شہباز احمد – دنیا کے بہترین فارورڈز میں شمار3. حسن سردار – مڈ فیلڈ کے سلطان4. کلیم اللہ – مشہور اسٹرائیکر5. منصور احمد – لیجنڈری گول کیپرزوال کا آغاز:1994 کے بعد پاکستان کی کارکردگی میں واضح تنزلی نظر آئی:1996 سے آج تک کوئی ورلڈ کپ یا اولمپک میڈل حاصل نہیں ہوا2016 ریو اولمپکس اور 2021 ٹوکیو اولمپکس میں کوالیفائی کرنے میں ناکامی2014 ورلڈ کپ میں آخری پوزیشن2023 ایشین گیمز میں بھی ناقصکارکردگیوجوہات:ناقص انتظامیہ اور کرپشن-جدید ہاکی کے تقاضوں سے ناواقفیت-کوچنگ اور انفراسٹرکچر کی کمی-نوجوان کھلاڑیوں میں دلچسپی کی کمی-حالیہ کوششیں اور مستقبل کی امید:پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) نے نوجوان ٹیلنٹ کو فروغ دینے کے لیے اکیڈمیز قائم کیںنجی شعبے کی شراکت سے لیگ کا منصوبہ-2025 میں نیشنل ہاکی لیگ متعارف کرانے کی تیاری-دلچسپ حقائق:پاکستان نے 1978 کے ورلڈ کپ میں تمام میچز جیت کر ورلڈ کپ جیتا-1982 کے فائنل میں بھارت کو 7-1 سے شکست دی – جو کہ سب سے بڑا مارجن ہے-شہباز احمد کو دو بار ورلڈ الیون کا کپتان بنایا گیا-اختتامیہ:پاکستان ہاکی کی کہانی محض ایک کھیل کی نہیں، بلکہ ایک قوم کی فخر کی علامت ہے۔ اگرچہ آج حالات بدتر ہیں، لیکن اگر درست سمت میں اقدامات کیے جائیں تو وہ وقت دور نہیں جب سبز ہلالی پرچم ایک بار پھر ہاکی کے میدان میں سر بلند ہوگا۔



منگل، 13 جنوری، 2026

پی ٹی وی کی ایک بے مثال اداکارہ "عظمیٰ گیلانی "

 

 یہ  بڑا مشہور محاورہ  ہے قدر گوہر شاہ داند  یا بداند جوہری  ' تو  یہ    پی ٹی وی کا بلکل ابتدائ  دور تھا اور  پی ٹی وی کے  ہونہار پروڈیوسرز اور ڈائرکٹرز کو ہونہار با صلاحیت    اور تعلیم یافتہ  لڑکیوں کی تلاش تھی  ایسے میں   پی  ٹی وی کے کسی  جوہری کی نگاہ انتخاب میں عظمیٰ   گیلانی آ گئیں    اور پی ٹی وی کی  ڈرامہ انڈسٹری کو   عظمیٰ گیلانی نام  کا  گوہر مل گیا ۔یہ عظمٰی گیلانی کے کیرئر  کی  ابتداء تھی۔لیکن اصل میں تو عظمٰی گیلانی کے عظمٰی گیلانی بننے کی ابتدا تب ہوئی جب انھیں اشفاق احمد کی مقبول ترین ڈراما سیریز ’ایک محبت سو افسانے‘ کے کھیل ’نردبانِ عرفان‘ میں کمہار کی بیوی کےکردار پر گریجویٹ ایوارڈ دیا گیا۔اس مقام تک پہنچنے میں انھیں پانچ سال لگ گئے۔وہ 45 سال پر محیط اپنے کیریئر کے ساتھ، پاکستان کی ابتدائی ٹی وی اداکاراؤں میں سے ایک ہیں جنہوں نے 1964 میں پاکستان میں ٹیلی ویژن کے ابھرنے کے بعد شہرت حاصل کی انہوں نے اپنے ٹیلی ویژن کیریئر کا آغاز کرنے سے قبل 1965 میں عنایت شاہ گیلانی سے شادی کی عظمیٰ گیلانی، جو پاکستان کی سب سے کامیاب اور متاثر کن اداکاراؤں میں سے ایک ہیں، نے اپنے فنی پہلو کو تلاش کرنے کے لیے بہت کوششیں کی ہیں اور تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک محنت اور لگن کے ساتھ اداکاری کی ہے۔ عظمیٰ گیلانی    نے  پی ٹی وی کے مشہور ترین ڈراموں )وارث 1979(، )دہلیز 1981(، )نشیمن 1982( اور )پناہ 1981۔ افغان تنازعہ کے پس منظر میں فلمایا گیا


'پناہ'، جس میں 20 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کو پاکستان میں حفاظت کی تلاش میں دیکھا گیا، ان کی یادگار پرفارمنس میں سے ایک تھی۔ عظمیٰ کا کردار ایک افغانی خاتون کا تھا جو رہنے کے لیے جگہ تلاش کر رہی تھی۔ ملک کے ہر فرد نے اس کردار کی تعریف کی تھی، اور انہوں نے 1982 میں پاکستان کے صدر سے "پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ" حاصل کیا۔اکثر ڈراموں میں مضبوط خاتون کے کردار میں ہی نظر آتی ہیں مگر المیہ اداکاری میں بھی ان کا جواب نہیں جس میں قابل ذکر 'پناہ' ہے جو افغان مہاجرین کے اوپر تھا۔ اسی طرح اور ڈرامے، بدلتے قالب، نشیمن، پگلی، بے وارث، نیلے ہاتھ اور دیگر متعدد کلاسیک ڈراموں میں کام کیا تاہم کرئیر کے عروج میں انہیں کینسر کا بھی سامنا رہا مگر پھر بھی وہ اپنا معیار برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں اور اب بھی وہ ٹی وی ڈراموں میں مصروف عمل ہیں۔ان کی فنی  خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انھیں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ دیا۔ . اُن کے والد ریاست بہاولپور کے ایک بارسوخ فرد تھے۔ پہلے بہاول پور میں قیام پزیر رہیں پھر شادی کے بعد لاہور منتقل ہوئیں۔پاکستان شوبز انڈسٹری کی لازوال اداکارہ عظمیٰ گیلانی نے سوشل میڈیا پر نئی تصاویر شیئر کر کے مداحوں کو بتا دیا کہ وہ ان دنوں کہاں ہیں۔ پاکستان میں اردو ڈرامے کی تاریخ پی ٹی وی کے ڈراموں اور پی ٹی وی کے ڈراموں کی تاریخ عظمٰی گیلانی کے نام اور کام کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔بلاشبہ عظمیٰ گیلانی پاکستانی شوبز انڈسٹری کا بہت بڑا نام ہیں،


 ان کے بغیر پاکستانی اردو ڈرامے کی تاریخ نامکمل ہے۔انہوں نے ڈرامہ سیریل ’قلعہ کہانی‘ سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا جبکہ اشفاق احمد کی مقبول ڈراما سیریز ’ایک محبت سو افسانے‘ کے کھیل ’نردبان عرفان‘ میں انہیں بہترین اداکارہ کے اعزاز سے نوازا گیا-عظمیٰ گیلانی خوبرو دلکش باصلاحیت   اداکارہ  تھیں جو  اپنے کرداروں کا انتخاب انتہائی چھان پھٹک کر کرتی تھیں انہوں نے امجد اسلام امجد کے مقبول ڈرامے ’وارث‘ میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔وارث ڈرامہ بھی پی ٹی وی کا یادگار ڈرامہ تھا اور اس میں عظمیٰ گیلانی کا کردار ناقابل فراموش تھا  ، رفیق وڑائچ اور یاور حیات سے ملاقات اور اشفاق احمد کی لکھی سیریز ’قلعہ کہانی‘ کے ایک کھیل ’پاداش‘ میں ہندو باندی کا کردار ملنے کے بارے میں بتاتی ہیں۔ڈرامے میں ایک جگہ جب قطب الدین ایبک گھوڑے سےگرتا ہے تو ملکہ کو بادشاہ کی موت کی خبر سنانے کے لیے باندی محل کی راہداریوں سے بھاگتی ہوئی جاتی ہے لیکن جب ملکہ تک پہنچتی ہے تو ملکہ ہیرے کی انگوٹھی چاٹ کر مر چکی ہوتی ہے، اس پر انھیں ایک دلخراش چیخ مارنی ہوتی ہے۔عظمٰی بتاتی ہیں کہ ریہرسل کے دوران چیخ کے منظر پر ایک دو بار ایسا بھی ہوا کہ سٹوڈیو کا چوکیدار بھاگا بھاگا اندر آیا اور سرا ئیکی میں بولا: ’ کیا تھی گے، اے چیک کیں ماری اے؟‘ (کیا ہوگیا ہے ،یہ چیخ کس نے ماری ہے؟)۔


پی ٹی وی کی معروف سینئر اداکارہ عظمیٰ گیلانی نے اپنے کیریئر کے عروج پر ٹی وی چھوڑنے کی اصل اور جذباتی وجہ بیان کر دی۔عظمیٰ گیلانی پاکستان کے کلاسک ڈراموں کی پہچان رہی ہیں، ان کے مقبول ترین ڈراموں میں درجنوں شاہکار شامل ہیں، وہ گزشتہ کئی سالوں سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔ان دنوں عظمیٰ گیلانی پاکستان کے دورے پر ہیں، جہاں وہ مختلف ٹی وی اور ریڈیو پروگراموں میں شرکت کر رہی ہیں اور اپنے ساتھی فنکاروں سے ملاقاتیں بھی کر رہی ہیں، حال ہی میں وہ ایک پروگرام میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے پہلی بار کھل کر بتایا کہ انہوں نے شوبز کو کیوں چھوڑاعظمیٰ گیلانی ڈراموں میں پھر کام کی خواہشمند، کام کیوں نہیں کر رہیں؟پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ گیلانی نے بتایا کہ اشفاق احمد صاحب نے ایک بار مجھ سے کہا تھا کہ تم بہت گہرا پیار کرنے والی ہو، تم اپنے بچوں سے اتنی محبت کرتی ہو تو اُنہیں چھوڑ کیسے پاؤ گی؟ اُنہوں نے مزید کہا کہ بچوں کی محبت نے مجھے آسٹریلیا جانے پر مجبور کیا، یہ میری سب سے بڑی قربانی تھی کہ اپنے کیریئر کے عروج پر میڈیا چھوڑ کر بچوں کے پاس چلی گئی، میں نے سوچا اگر زندگی کے صرف دس سال بھی رہ جائیں، تو میں اپنے بچوں سے صرف چند دن ہی مل پاؤں گی، اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ میں ہمیشہ اُن کے ساتھ رہوں۔



پیر، 12 جنوری، 2026

جب میں اپنی ماں کی خواہش پروکیل بنا

 

سکرسکردو کے ایک جج صاحب  نے ایک  واقعہ سنا یا کہ میری عدالت میں ایک نوجوان وکیل تھا اس نے پی ایچ ڈی فزکس کر رکھی تھی اور وکالت کے پیشے سے منسلک تھا انتہائی زیرک تھا بات انتہائی مدلل کرتا تھا اس کی خوبی یہ تھی کہ وہ ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا میری وہاں پوسٹنگ کے دوران میں نے اسے کبھی کوئی کیس ہارتے ہوئے نہیں دیکھا میں اس کی سچائی کا اتنا گرویدہ تھا کہ بعض دفعہ اس کی بات پر بغیر کسی دلیل کے میں فیصلہ سنا دیتا تھا اور میرا فیصلہ ٹھیک ہوتا تھا وہاں تعنیات ہر جج ہی ان کا گرویدہ تھا پوری عدالت میں سب ہی اس کا احترام کرتے تھے بعض مواقعوں پر ججز صاحبان اس سے کیس ڈسکس کر کے فیصلہ کرتے تھے میں اتنا اس کے تعلیم یافتہ ہونے کے باوجو اس فیلڈ میں آنے اور پھر جج بن جانے کی اہلیت ہونے کے باوجود وکیل رہنے کی وجہ جاننا چاہتا تھا بہت کوشش کے بعد اپنے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے یہ سوال اس سے پوچھ ہی لیا...اس نے بتایا کہ میرے نانا انتہائی غریب تھے ان کی اولاد میں بس دو ہی بیٹیاں تھیں انہوں نے بھٹے پر محنت مزدوری کر کے اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلوائی ان کی پرورش کی اور پھر ان کی شادیاں کیں میری والدہ کی قسمت اچھی تھی وہ گورنمنٹ سکول میں ٹیچر لگ گئیں جب کہ میری خالہ کو سرکاری ملازمت نہ مل سکی میرے نانا نے بھٹہ سے قرض لے کر اپنی بیٹیوں کی شادی کی میری والدہ نے گھریلو اخراجات سے بچت کر کے میرے نانا کی قرض اتارنے میں مدد کی


مگر پھر میرے والد صاحب نے ان کو منع کر دیا تو میرے نانا خود ہی قرض کے عوض مزدوری کرنے لگے  جب کہ دوسری طرف میری خالہ کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی تو انہوں نے میری خالہ کو تنگ کرنا شروع کر دیا کئی بار مار پیٹ کر کے میری خالہ کو گھر سے نکالا گیا پھر گاؤں والوں کی مداخلت سے ان کو راضی کر کے بھیجا گیا اور تیسرے مہینے پھر وہ سسرال والوں کے ہاتھوں مار کھا کر والد کی دہلیز پر آ بیٹھیں یہاں تک کہ أخری بار جب ان کے سسرال والے ان کو لے کر گئے تو ان کے شوہر نے دوسری شادی کر لی اور میرے خالہ کو اس شرط پر ساتھ رکھنے کی ہامی بھر لی کہ گھر کے سارے اخراجات میرے نانا اٹھائیں گے میرے نانا بیٹی کا گھر بسانے کی خاطر مزید مقروض ہوتے گئے اور پھر سردیوں کی ایک دھند میں لپٹی ہوئی صبح کو جب وہ سائیکل پر جا رہے تھے تو کسی  ٹرالے کے نیچے أ گئے اور اس دنیا سے کوچ کر گئیے جب میرے نانا فوت ہوئے تو تب بھی مقروض تھے....میری والدہ نے میرے والد سے چوری اپنا زیور بیچ کر میرے نانا کے قرض ادا کئے ان کی تجہیزو تکقین کا انتظام کیا اس معاملے میں میرے دادھیال والوں نے میری والدہ سے کوئی تعاون نہ کیا یہاں تک کہ میرے والد نے بھی نہیں نانا کی وفات کے بعد میری خالہ کے سسرال والوں نے میری خالہ کو مجبور کرنا شروع کر دیا کہ وہ میری والدہ سے گھر کے اخراجات کا مطالبہ کرے میری خالہ نے انکار کر دیا تو ان کو طلاق ہو گئی


 مگر نہ تو ان کو ان کا سامان واپس کیا گیا اور نہ ہی زیور بلکہ ان کا حق مہر بھی نہ دیا گیا میری واالدہ اور خالہ کے پاس آخری سہارا قانون کا تھا اور قانون طاقتور کی باندی ھے میری والدہ اور خالہ نے ہائی کورٹ تک کیس لڑا مگر اپنا حق نہ لے سکیں اور پھر خالہ ہائی کورٹ میں کیس سنوائی کی پیشی کے بعد واپس آئیں اور خود سوزی کر لی ان کے کی تجہیزو تکفین بھی میری والدہ کے ذمہ تھی.میری والدہ نے یہ کام بھی بخوبی کیا مگر بہن کی موت کے بعد ان کا چہرہ بجھ گیا یہاں تک کہ میری کامیابی پر میری والدہ خوش نہ ہوتیں تو یہاں تک کہ جب میں نے پی ایچ ڈی کی تو میرے دور پار کے سارے رشتہ دار خوش ہوئے مگر میری ماں کے چہرے پر پہلے جیسی خوشی نہیں تھی.میں نے اس رات مصلے پر بیٹھی دعا مانگتی اپنی ماں کو اپنے سینے سے لگا لیا اور پوچھا کہ آپ کی اداسی کی وجہ کیا ہے ؟میری والدہ نے مصلے کو تہہ کیا اور کہا کہ میں چاہتی ہوں تم وکیل بنوزندگی میں پہلی بار میری والدہ نے کسی خواہش کا اظہار کیا تھا میں نے وجہ پوچھی تو میری والدہ نے الٹا سوال داغ دیا تھا کہ أپ کو پتہ ہے آپ کی خالہ نے خودکشی کیوں کی تھی میں نے کہا نہیں تو میری والدہ نے جواب دیا کہ تمہاری خالہ کے پاس وکیل کی فیس کے پیسے نہیں تھے تو وکیل نے جسم کا تقاضا کیا تھا -میری خالہ نے اس دن گھر آ کر خود کشی کر لی تھی


 اس دن میرے دل میں خواہش آئی تھی کہ میں اپنے بیٹے کو وکیل بناؤں گی ایسا وکیل جو پیسوں کے عوض جسم کا مطالبہ نہیں کرے گا ایسا وکیل جو مظلوم کو انصاف چھین کر لے دے گا مگر میں کبھی تمہارے والد اور تمہارے ڈر سے اس خواہش کا اظہار نہیں کر سکی میری والدہ نے بات مکمل کر کے رونے لگی تو میں نے ان کے قدم چومے اور وعدہ کیا کہ میں ایسا ہی وکیل بنوں گا اور پھر وکالت میں داخلہ لے لیا میرے اس فیصلے سے تمام فیملی ممبر اور دوست احباب حیران تھے مگر میری والدہ بہت خوش تھیں میں جب تک جاگ کر پڑھتا رہتا تھا میری والدہ میرے ساتھ جاگ کر أیت الکرسی پڑھ کر مجھ پر پھونکتی رہتی تھی میں نے وکالت میں بھی گولڈ میڈل لیا اور اپنی ماں کا خواب پورا کر دیا مگر افسوس کہ میری والدہ اس خواب کی تعبیر نہ دیکھ سکیں۔میں وکیل بننے کے بعد ہمیشہ سچ کے لئیے لڑا میں نے کبھی کسی ظالم کو سپورٹ نہیں کیا میں ہر کامیابی پر اپنی والدہ کی قبر پر جاتا ہوں مگر ایک عرصہ تک میری والدہ مجھے خواب میں نہیں ملیں چند ماہ پہلے میں نے ایک یتیم لڑکی کا کیس لڑا نہ صرف اس کا سامان اور حق مہر لے کر دیا بلکہ اس کے بچوں کا ماہانہ خرچ بھی لے کر دیا اس دن جب والدہ صاحبہ کی قبر پر گیا تو رات کو میری والدہ خواب میں مجھے ملیں اسی مصلے سے اٹھ کر مجھے سینے سے لگایا اور مجھ پر کچھ پڑھ کر پھونکا اس دن مجھے لگا کہ میں نے زندگی کا مقصد حاصل کر لیا ہے۔!  

اتوار، 11 جنوری، 2026

ڈولفنز اپنی ذہانت، اور بازی گری کی صلاحیتوں سے مالامال مچھلی ہے

 

برطانوی تیراک روب ہوئی نیوزی لینڈ کے نارتھ آئی لینڈ کے ساحل کے قریب اپنی بیٹی کے ساتھ پُرسکون تیراکی سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ اچانک سمندر نے ایک ناقابلِ یقین منظر دکھایا۔ کہیں سے ڈولفنز کا ایک غول نمودار ہوا اور انہوں نے باقاعدہ دائرہ بنا کر باپ بیٹی کو گھیر لیا، نرمی سے انہیں اپنے درمیان رکھتے ہوئے ایک جگہ محدود کر دیا۔ ہر بار جب روب باہر کی طرف تیراکی کرنے کی کوشش کرتا، دو ڈولفنز اسے واپس اندر کی طرف موڑ دیتیں—محافظ، پُرعزم، جیسے کسی ان دیکھی خطرے سے بچا رہی ہوں۔  جلد ہی اصل خطرہ سامنے آ گیا: تقریباً تین میٹر لمبی گریٹ وائٹ شارک اسی علاقے میں داخل ہو چکی تھی۔ اسی لمحے ڈولفنز کا رویہ بدل گیا۔ وہ اپنی دُم سے پانی پر زور زور سے وار کرنے لگیں، باہمی ہم آہنگی سے تیز حرکتیں کرنے لگیں اور ایک زندہ دیوار بنا لی—واضح طور پر شکاری کو ڈرانے اور دور بھگانے کے لیے۔  تقریباً چالیس منٹ تک ڈولفنز اسی حفاظتی حصار میں رہیں، اور روب اور اس کی بیٹی کو جانے نہ دیا۔ جب آخرکار شارک پیچھے ہٹ گئی، تب جا کر ڈولفنز نے دائرہ کھولا اور دونوں کو بحفاظت ساحل کی طرف جانے دیا۔یہ حیرت انگیز منظر ایک لائف گارڈ اور ساحل پر موجود کئی افراد نے بھی دیکھا۔


 یہ واقعہ اُن متعدد رپورٹس میں شامل ہو گیا ہے جو اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ ڈولفنز بعض اوقات انسانوں کو شارک کے حملوں سے بچانے کے لیے غیر معمولی دفاعی رویہ اختیار کرتی ہیں۔ڈولفن جسے عام طور پر مچھلی کہا جاتا ہے دراصل ممالیہ جانور ہیں جو اپنے آپ کو پانی میں رہنے کے لیے پوری طرح ڈھال چکے ہیں۔ ڈولفن کے گروپ میں لگ بھگ 40 انواع کے جانورشامل ہیں جن میں سمندری ڈولفن، دریائی ڈولفن اور دیگر ڈولفن شامل ہیں۔ پانی میں رہنے والے ممالیہ جانور چونکہ مچھلیوں کی طرح پانی سے آکسیجن حاصل نہیں کر سکتے اس لیے انھیں تھوڑی تھوڑی دیر بعد سانس لینے کے لیے سطح پر آنا پڑتا ہے۔وھیل اور ناروھال کی طرح ڈولفن بھی سونار (آواز) کی مدد سے شکار اور راستہ تلاش کرتی ہیں۔ڈولفنز دانتوں والی وہیلز سے تعلق رکھنے والی 44 اقسام کا ایک گروہ ہیں۔ کرۂ ارض کے تمام سمندروں میں ڈولفنز پائی جاتی ہیں۔ ڈولفنز کی بعض اقسام جنوبی ایشیا اور جنوبی امریکا کے دریاؤں کے میٹھے پانیوں میں رہتی ہیں۔ ڈالفنز کی سب سے بڑی قسم (اوکرا) 30 فٹ سے بھی زیادہ لمبی ہو سکتی ہے جبکہ سب سے چھوٹی، ہیکٹرز ڈولفن، صرف ساڑھے چار فٹ لمبی ہوتی ہے۔


ڈولفنز اپنی ذہانت، غول میں رہنے کی فطرت اور بازی گری کی صلاحیتوں کی وجہ سے جانی مانی ہیں۔ لیکن ان میں ایسی صلاحیتیں بھی پائی جاتی ہیں جن کے بارے میں کم لوگ جانتے ہیں اور یہی ایک ڈولفن کو ڈولفن بناتی ہیں۔ ڈولفنز چھوٹے دانتوں والی فیل ماہی (Cetaceans) ہیں۔ یہ بحری میملز کا وہ گروہ ہیں جو زمینی میملز سے ارتقا پذیر ہوا۔ ڈولفنز کی خمیدہ ’’چونچ‘‘ کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے وہ ہر وقت مسکراتی رہتی ہیں۔ ڈولفنز ان جانوروں سے ارتقا پذیر ہوئیں جن کی ٹانگیں جسم کے نیچے تھیں، اسی لیے ڈولفنز کی دُم تیرتے ہوئے اوپر نیچے حرکت کرتی ہے جبکہ مچھلیوں کی دم دائیں بائیں حرکت کرتی ہے۔ دانتوں والی دیگر وہیلز کی طرح ان میں سونگھنے کی استعداد کم ہوتی ہے۔ان کی بعض اقسام میں 130 تک دانت ہوتے ہیں۔ ڈولفنز دنیا کے تمام بحروں اور بحیروں میں پائی جاتی ہیں۔ ان میں سمندری ساحلی اور کم گہرے پانیوں کے علاقے بھی شامل ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر ڈولفنز نسبتاً گرم، منطقہ حاری یا معتدل پانیوں میں رہنا پسند کرتی ہیں لیکن ایک قسم، اوکرا (جسے بعض اوقات کِلر وہیل بھی کہا جاتا ہے) بحر قطب شمالی اور بحر شمالی انٹارکٹیکا دونوں میں رہتی ہے۔ ڈولفن کی پانچ اقسام تازہ اور قدرے نمکین پانی کو ترجیح دیتی ہیں اور یہ براعظم جنوبی امریکا اور جنوبی ایشیا میں رہتی ہیں (اور ان میں دریائے سندھ میں پائی جانے والی اندھی ڈولفن ’’بلہن‘‘ بھی شامل ہے)۔ڈولفنز گوشت خور ہیں۔ یہ شکار کو اپنے مضبوط دانتوں سے پکڑتی ہیں، اس کے بعد اسے یا تو نگل لیتی ہیں یا چیر پھاڑ کر چھوٹے ٹکڑے کر دیتی ہیں۔


یہ نسبتاً کم کھاتی ہیں، مثال کے طور پر باٹل نوز ڈولفن اپنے وزن کا تقریباً پانچ فیصد روزانہ کھاتی ہے۔ ڈولفنز کی بہت سی اقسام کھانے کی تلاش کیلئے ہجرت کرتی ہیں۔ یہ بہت طرح کے جانور کھاتی ہیں جن میں مچھلیاں، قیر ماہی (Squid)، قشری، جھینگے اور آکٹوپس شامل ہیں۔ بڑی اوکرا ڈولفن بحری میملز جیسا کہ سِیل اور بحری پرندے جیسا کہ پینگوئن بھی کھاتی ہے۔ ڈولفن کی بہت سی اقسام گروہ کی صورت میں مچھلیوں کو نرغے میں لیتی ہیں۔ یہ ماہی گیروں کی کشتیوں کا بھی پیچھا کرتی ہیں تاکہ ان کی پھینکی ہوئی ’’بے کار اشیا‘‘ کھا سکیں۔ زیادہ تر ڈولفنز پانچ سے آٹھ برس کی عمر میں بالغ ہو جاتی ہیں۔ ڈولفن ایک سے چھ سالوں میں ایک بچہ دیتی ہیں اور اسے دودھ بھی پلاتی ہیں۔ بچہ 11 سے 17 ماہ ماں کے پیٹ میں رہتا ہے۔ اس عرصے کی طوالت پر مقام کا اثر بھی پڑتا ہے۔ پیدائش پر بچے 35-40 انچ لمبے ہوتے ہیں اور ان کا وزن 23 سے 65 پاؤنڈز ہوتا ہے۔ ماں فوراً اپنے بچے کو سطح آب پر لے آتی ہے تاکہ وہ سانس لے سکے۔ بچہ اپنے والدین سے مختلف ہوتا ہے۔ اس کی جِلد گہرے رنگ کی ہوتی ہے جس پر ہلکے نشانات ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ مٹتے جاتے ہیں۔۔ بچہ فوراً تیرنے کے قابل ہوتا ہے لیکن اسے غول کے تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

تربیلا ، ورسک اور منگلا ڈیم کے ڈیزائنر،مہتاب خان

 


مہتاب خان (مرحوم)،،،!!! (مغربی پاکستان کے پہلے چیف-(سول) انجینئر،، تربیلا ، ورسک اور منگلا ڈیم کے ڈیزائنر،، صدارتی ایوارڈ،، تمغہء امتیاز،، گولڈ میڈلسٹ)


مہتاب خان مرحوم کی زندگی نوجوانوں کیلئے ہر لحاظ سے فقید المثال ہے ،،، نہایت ہی غربت ،، پسماندگی اور نامساعد حالات میں پیدا ہونے والے مہتاب خان کے دور میں شاہڈھیرئ گاؤں اسکول نام کی چیز سے نا آشنا تھا!پر گاؤں میں اسکول کی عدم موجودگی اور غربت اس مردآہن کے راستے کی دیوار نہیں بن پائیں،، پڑھنے لکھنے کا شوق تھا،،لگن تھی،، لہذا اپنی علمی پیاس بجھانے اور جہالت کی تاریکیوں کو چھیرنے کے سفر پر نکلے اور ودودیہ اسکول سیدو شریف میں داخلہ لیا،،، جبکہ اسکول کے قریب رہنے کی غرض سے کانجو میں ایک مسجد میں رہائش اختیار کرلی،! پر مسجد کے طلباء کا رویہ ان کے ساتھ کافی سوتیلا تھا،، کیونکہ ان کی نظر میں وہ اللہ کے گھر میں بیٹھ کر انگریزوں کی کتابیں پڑھتے تھے،،!! وہ محلہ بھر کی مساجد سے "وظیفے" اکھٹے کرکے ادھر مسجد میں ہی کھا لیتے،، لیکن پھر مسجد کے طلباء نے انگریزی تعلیم کی وجہ سے ان کا سوشل بائیکاٹ کردیا،، اور انہیں ساتھ کھانے سے بیدخل کر دیا!مسجد میں ان کی زندگی کافی مشکل ہوگئ تھی،، لہذا وہاں سے نکل انہوں نے علیگرامہ میں ایک مشہور و معروف شخص کے ڈیرے  حجرے پر رہائش اختیار کرلی،، جہاں انہیں رات کو دیا جلاکر پڑھنے کی عیاشی میسر تھی،ودودیہ اسکول سیدو شریف سے مڈل پاس کرنے کے بعد انہوں نے تھانہ ہائی اسکول میں داخلہ لیا،، یہ انگریزوں کا دور تھا،، اور تھا نہ کے خوانین (خانان) کے بچوں کو پولیٹیکل ایجنٹ انتظامیہ کی طرف سے اسکالر شپ ملتا،،!! مہتاب خان کی زندگی بڑی مشکل تھی،، اور آگے اندھیرا تھا کہ ان حالات میں پڑھائی کیسے جاری رکھیں گے


،،!خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ان دنوں ان خوانین کے بچوں نے کسی بات پر ہڑتال کرکے اسکول کا بائیکاٹ کر دیا،، بس یہ مہتاب خان کی زندگی میں ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا!اسکول کے انگریز پرنسپل نے اپنے بڑوں کو تجویز دیدی کہ اس دفعہ وہ اسکالر شپ کی رقم ایک غریب مگر ہونہار طالب علم کو دینا چاہتا ہے! پرنسپل کو اجازت مل گئ،، لہذا اس نے مہتاب خان کو اپنے دفتر میں بلاکر اسے جھولی پھیلانے کو کہا!مہتاب خان نے جھولی دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر پھیلائی،، اور انگریز پرنسپل اس کی جھولی میں سکے ڈالنے لگا،، مہتاب خان کے بقول سکے اتنے زیادہ تھے،، کہ ان کیلئے اپنی جھولی کو سنبھالنا مشکل ہوگیا،!اب رقم ہاتھ تو آگئ تھی،، پر اسے سنبھال کر رکھنے کا مرحلہ درپیش تھا،، اس کا حل یہ نکالا کہ مہتاب خان مرحوم نے تھانہ بازار میں ایک دکاندار سے بات کی،، رقم اس کے پاس امانتا رکھوائی،، اس شرط پہ کہ جب اسے رقم کی ضرورت ہوگی،، وہ تھوڑی تھوڑی لیا کریں گے،،!!اس زمانے میں پشاور بورڈ کا قیام عمل میں نہیں آیاتھا اور لاہور تعلیمی بورڈ تھا،، مہتاب خان نے میٹرک امتیازی پوزیشن سے پاس کیا،میٹرک کرنے کے بعد مہتاب خان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آیا ان کی تعلیم مکمل ہوگئ ہے،، یا آگے پڑھنا ہے،، اسکول کے پرنسپل نے ان کی رہنمائی کرکے بتایا کہ آگے اور پڑھنا ہے،! میٹرک میں نمایاں کامیابی کے بعد مہتاب خان کا نام کافی مشہور ہوگیا،، 


 اسلامیہ کالج پشاور کے انگریز پرنسپل تک بھی بات پہنچ گئ،، جو بڑی بےتابی سے اس نوجوان سے رابطہ کرنے کی کوشش میں لگ گئے!ان دنوں دیولئ گاؤں کے منجور خان (مرحوم) کسی کام سے پشاور گئے تھے،، وہاں پرنسپل کو پتہ چلا کہ ایک ایسا شخص سوات سے آیا ہے،، جو مہتاب خان کو جانتا ہے،،!!پرنسپل صاحب نے اسی وقت مہتاب خان کے نام ایک خط لکھ کر مرحوم و مغفور منجور خان کے ہاتھ ارسال کیا،،!! مہتاب خان کے بقول وہ اس وقت ہیدل نواں کلی (نویکلے) کی چڑھائی اتر رہےتھے کہ منجور خان کا وہاں سے گذر ہوا،، مہتاب خان پر نظر پڑتے ہی تانگہ رکوایا،، اور انہیں پاس بلاکر خط حوالے کردیا،،!! مہتاب خان کے بقول انہوں نے ادھر کھڑے کھڑے وہ خط پڑھا،، اور پڑھنے کے بعد ان پر سرور و دیوانگی کی سی کیفیت طاری ہوگئ،، اور وہیں سڑک پہ کھڑے کھڑے دیوانہ وار اچھلنے لگا،،،!!سکالر شپ ملنے کے بعد مہتاب خان نے اسلامیہ کالج پشاور سے نمایاں پوزیشن میں بی ایس سی کیا،،، اس کے بعد علیگڑھ کالج (انڈیا) سے ایم ایس سی (ریاضی) کیا ،، بعد میں انہوں نے سول انجینئرنگ (بیچلر) کی ڈگری حاصل کی!اسی دوران دوسری جنگ عظیم چھڑ گئ،، اور برطانوی راج کو نوجوان پائلٹوں کی ضرورت پیش آگئ،، جس کا حل یہ نکالا گیا کہ انجنئرنگ کے طلباء کو جہاز اڑانے کی تربیت دی جائے،، ان میں مہتاب خان بھی شامل تھے،، انہوں نے تین مہینے تک پائلٹ کی ٹریننگ لیکر کچھ عرصہ کیلئے جنگی جہاز بھی اڑایا،،!!


اس کے علاوہ انہوں نے ایل ایل بی بھی کیا تھا،،،!!جب انہوں نے سول انجینئرنگ (بیچلر) کی ڈگری مکمل کی،، تو اس وقت امریکہ کی طرف سے سالانی ایک طالب علم کو فل پیڈ اسکالر شپ دی جاتی تھی،، اس سال یہ اسکالر شپ مہتاب خان کو ملی،، اس طرح وہ امریکہ چلے گئے،، اور ٹیکساس یونیورسٹی سے ماسٹر (سول انجینئرنگ ) کی ڈگری حا صل کی،،تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ امریکہ میں رہنے کے  بجائے اپنے وطن کی خدمت کیلئے واپس آگئے،،تب سوات کے شاہی خاندان کی جانب سے انہیں جاب کی آفر مل گئ،، لیکن اس وقت ایک انگریز انجینئر نے انہیں مشورہ دیا کہ سوات میں وہ ضائع ہوجائینگے،، کیونکہ علاقہ محدود اور مواقع گنتی کے ہیں،، اس انگریز نے انہیں سول انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ میں ایس ڈی او کا عہدہ پیش کیا،مہتاب خان نے یہ پیشکش قبول کرلی،،  جس کے بعد کامیابیوں نے ان کے قدم چومے اور زندگی بھر ہم رکاب رہیں 

یہہ کلی بھی اس گلستان خزاں منظر میں تھی

ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی

یہ تحریر میں نے اپنی فیس بک سے عاریتاً لی ہے 

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر