بدھ، 25 فروری، 2026

مترانوالی بستی کے بے گھر مکین کہاں جائیں ؟

 

آج مورخہ 25 فروری 2026  ء روزنامہ  نواءے وقت میں ہمارے وطن کے محترم صحافی  مطلوب وڑائچ   رقمطراز ہیں کہ غریب لوگوں سے ان کی چھتیں چھین لی گئیں۔ کسی کے پاس ایک مرلے کا گھر تھا، کسی کے پاس دو مرلوں کی کچی پکی چھت — وہ بھی مٹی میں ملا دی گئی۔ میترانوالی کو یوں اجاڑا گیا جیسے کسی بستی پر جنگ اتر آئی ہو۔ کرینوں اور بلڈوزروں کی گھن گرج میں غریبوں کے گھر، دکانیں اور تھڑے زمین بوس کر دیے گئے۔ منظر ایسا تھا کہ دل بے اختیار کہہ اٹھا: یہ گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے۔ایک ایرانی کہاوت ہے ۔ ماں نے بیٹے سے پوچھا: ‘‘مجھے کیسے پتا چلے گا کہ تم جہاز اڑا رہے ہو؟’’ بیٹے نے ہنستے ہوئے کہا: ‘‘ماں! جب میں گھر کے اوپر سے گزروں گا تو ایک بم گرا دوں گا، آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ کا بیٹا گزرا ہے۔’’ آج اپنے ہی شہر پر جو گزر رہی ہے، وہ اسی مثال کی تلخ بازگشت محسوس ہوتی ہے۔میں یہ سطور کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں لکھ رہا۔ اس دھرتی کا قرض مجھ پر ہے — اس مٹی کا جس نے مجھے جنم دیا، پروان چڑھایا، پہچان دی۔ انٹرنیشنل سیاست کے ایوانوں تک پہنچنے کے بعد بہت سے لوگ اپنی جڑیں بھول جاتے ہیں،مگر میں اس مٹی کی خوشبو کو کیسے فراموش کر دوں؟ نہ مجھے کسی وضاحت کی ضرورت ہے، نہ کسی مقابلے کی۔ اللہ نے علم، فہم اور ادراک سے نوازا ہے، اور دنیا اس کا اعتراف بھی کرتی ہے۔آج میترانوالی کی غریب مائی، بیوہ عورتیں اور محنت کش خاندان اپنے اجڑے گھروں کے سامنے کھڑے ہیں




۔ میں اپنے گاؤں—نہیں، اپنے قصبے—میترانوالی کی بات کر رہا ہوں۔ میں نے اسے کبھی گاؤں نہیں کہا؛ یہ سیالکوٹ کے نمایاں قصبوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ پڑھے لکھے لوگوں کی دھرتی ہے، باوقار انسانوں کی بستی ہے۔ میں یہیں پیدا ہوا، یہیں تعلیم پائی، یہیں سیاست کا آغاز کیا، یہی میری طلبہ سیاست کی درسگاہ تھی۔مجھے یاد ہے 2011 ء یا 2012ء  میں، جب میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے ان 26 اراکین میں شامل تھا جنہیں بے نظیر بھٹو نے منتخب کیا تھا، میں نے میترانوالی کے لیے سوئی گیس کا منصوبہ منظور کروایا۔ اْس وقت کے چیئرمین میاں مصباح الرحمن سے 6 کروڑ 30 لاکھ روپے کا منصوبہ منظور ہوا۔ کچھ منتخب نمائندوں نے اسمبلی میں شور مچایا کہ’’غیر منتخب افراد کے کہنے پر کام ہو رہے ہیں، کل ہمیں ووٹ کون دے گا؟‘‘میترنوالی کے ایک طرف سے لیکر دوسری طرف تک دو کلومیٹر سے بھی زیادہ عوام کا رش تھا اور شیخوں کے دائرے میں عوام کا ایک بہت بڑا جم غفیر جلسے کی صورت میں تھا۔ پھر وہی کہاوت سچ ثابت ہوئی — گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے۔میترانوالی صرف اینٹوں اور گلیوں کا نام نہیں، یہ ایک شعور ہے۔ یہاں ’’احساس‘‘ ویلفیئر سوسائٹی نے صفائی اور سیوریج کا نظام سنبھالا، جو دراصل حکومت کا کام تھا۔ اعجاز چیمہ اور امتیاز چیمہ کی ذاتی دلچسپی سے گلیوں اور سڑکوں کی حالت سنوری، پانی کے مسائل حل ہوئے اور ایک مخیر شخص نے میترنوالی کو پہلا صاف پانی کا پلانٹ گفٹ کیا۔ سید ریاض الحسن گیلانی، سابق ایڈووکیٹ جنرل وفاقی شرعی عدالت، نے رنگ روڈ جیسے منصوبے مکمل کرائے۔


 بریگیڈیئر حامد سعید نے ترقیاتی کاموں کے دروازے کھولے اور میترانوالی کے بے شمار ترقیاتی کام مکمل کیے۔وہ مشرف دور میں بلدیات کے وزیر تھے مگر افسوس، ان کے ناموں کے بورڈ بھی کچھ لوگوں کو کھٹکنے لگے۔احساس ویلفیئر نے واٹر پلانٹ لگایا، پندرہ برس تک پورے قصبے کو صاف پانی فراہم کیا۔ بیس ہزار سے زائد آبادی کا نظام چند مخلص لوگوں نے اپنے ذاتی وسائل سے چلایا۔مگر جب سازشوں اور دھڑے بندیوں نے سر اٹھایا تو وہ ہاتھ کھینچ لیے گئے جو خدمت کے لیے اٹھے تھے۔ آج گھروں میں فریج اور ٹی وی تو ہیں، مگر گلیوں میں صفائی نہیں، سیوریج بیٹھ چکی ہے۔میترانوالی وہ دھرتی ہے جس نے کبھی چودھراہٹ اور بدمعاشی کو قبول نہیں کیا۔ یہاں پیدا ہونے والا ہر شخص اپنے وقار میں ’’چوہدری‘‘ ہے؛ کوئی کسی پر برتری کا تاج نہیں رکھتا۔ اس دھرتی نے خون خرابہ بھی دیکھا، اختلاف بھی، مگر آخرکار سبق یہی ملا کہ عزت خدمت میں ہے، نہ کہ دکھاوے میں۔جو سکون جھک کر خدمت کرنے میں ہے، وہ دولت کے انبار میں نہیں۔ کل کچھ نہ تھا، آج اللہ کے کرم سے بہت کچھ ہے، مگر اصل دولت دلوں کا اعتماد ہے۔ اور گھر کی چھت چھیننے والوں نے اپنا بھرم بھی ہمیشہ کے لئے چھین لیا ہے رمضان کے مقدس مہینے میں بے گھر لوگ حیران کھڑے ہیں کہاں جائیں 



آئیے حسد نہیں، خدمت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا مقابلہ کریں۔ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے بجائے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں۔ یہی اس دھرتی کا قرض بھی ہے اور اس کا تقاضا بھی۔میری دھرتی، میرا قصبہ، میرا دکھ۔آج میترانوالی کی غریب مائیں، عورتیں—جن میں بیوہ خواتین بھی شامل ہیں—اپنے اجڑے گھروں کے سامنے کھڑی ہیں۔ ان کے گھر، دکانیں، تھڑے سب مٹا دیے گئے۔ میں اپنے گاؤں نہیں، اپنے قصبے میترانوالی کی بات کر رہا ہوں—سجناں دا شہر، سجناں دی دھرتی۔ اسی مٹی سے ہمارا تعلق ہے، اسی سے ہم پہچانے جاتے ہیں۔ میترانوالی کے معنی ہیں سجنوں کی دھرتی  اورمیں اسی دھرتی کا باسی ہوں، یہیں تعلیم پائی، یہیں سیاست کا آغاز کیا، طلبہ سیاست بھی یہیں سے کی اور نام بھی یہیں سے کمایا۔آج اس دھرتی پر جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر دل کڑھتا ہے۔ میترانوالی کے ایک ٹک ٹاکر نے خدمت کے جذبے کے تحت میترانوالی کے مسائل کو سوشل میڈیا پر اجاگر کرنے کی کوشش کی اور حکومت نے اس کا نوٹس بھی لیا مگر ہمیشہ کی طرح میترانوالی کو پھر بدخواہوں کی نظر لگ گئی۔اور غریبوں نے چھپڑوں اور سرکاری املاک پر جو غیرقانونی گھر اور سر چھپانے کے لیے جھونپڑے بنا رکھے تھے وہ قانون اور کرینوں کی زد میں آ گئے۔اور اس طرح ہنستا مسکراتا میترانوالی غزہ کی مانند نظر آنے لگااور سوشل میڈیا کے توسط سے جو رحمت برسنے لگی تھی وہ زحمت میں تبدیل ہو گئی۔



منگل، 24 فروری، 2026

اسٹینلے پارک، وینکوور، برٹش کولمبیا




  اسٹینلے پارک، وینکوور، برٹش کولمبیا1888 میں کھولا گیا اور گورنر جنرل لارڈ اسٹینلے کے اعزاز میں نامزد کیا گیا، یہ پارک اس دور کے بڑے شہری پارکوں کا مظہر ہے۔ اپنی شاندار ترتیب کے لیے قابل ذکر، یہ پارک اپنے قدرتی ماحول اور اس کی ثقافتی خصوصیات کے درمیان ہم آہنگی کا رشتہ ظاہر کرتا ہے۔ گھنے اور اونچے درختوں والے زمین کی تزئین کی، بنیادی طور پر انسانی ہاتھ سے غیر تبدیل شدہ، برٹش کولمبیا کے ساحلی جنگل کو ظاہر کرتا ہے۔ تفریحی سہولیات اور باغات جو سالوں میں متعارف کرائے گئے ہیں اس نے اسے بے حد مقبول بنانے میں مدد کی ہے۔ سمندر، شہر اور پہاڑوں کے درمیان واقع یہ شاندار 400 ہیکٹر پارک کینیڈا میں سب سے مشہور ہے۔ *نوٹ: اس عہدہ کی شناخت جائزہ لینے کے لیے کی گئی ہے۔ جائزہ مندرجہ ذیل وجوہات میں سے کسی ایک وجہ سے شروع کیا جا سکتا ہے - پرانی زبان یا اصطلاحات، تاریخ کی ایک اہم تہہ کی عدم موجودگی، حقائق پر مبنی غلطیاں، متنازعہ عقائد اور طرز عمل، یا اہم نیا علم۔تاریخی مقام کی تفصیل-اسٹینلے پارک نیشنل ہسٹورک سائٹ آف کینیڈا وینکوور کے بہت زیادہ تعمیر شدہ شہری منظر نامے کے درمیان ایک شاندار سبز نخلستان ہے۔ جنگلاتی اور تفریحی زمین پر مشتمل یہ پارک تین اطراف سے انگلش بے، فرسٹ ناروز، اور برارڈ انلیٹ سے گھرا ہوا ہے،


 چوتھی طرف مرکزی کاروباری ضلع اور وینکوور شہر کے مغربی کنارے کے رہائشی محلے سے متصل ہے۔ سرکاری شناخت سے مراد پارک کی حدود میں موجود قدرتی اور ثقافتی وسائل ہیں۔ہیریٹیج ویلیو-اسٹینلے پارک کو کینیڈا کا ایک قومی تاریخی مقام نامزد کیا گیا تھا کیونکہ: اس کی شاندار ترتیب میں اور اس کے قدرتی ماحول اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کے ثقافتی عناصر کے درمیان تعلق کے ذریعے، یہ کینیڈا کے بڑے شہری پارک کا مظہر ہے۔اسٹینلے پارک ایک جزیرہ نما پر تیار کیا گیا تھا جس نے پہلے اقوام متحدہ کی رسمی جگہ کے طور پر کام کیا، پھر ایک برطانوی فوجی ریزرو کے طور پر، اور پھر آخر کار 1888 میں ایک عوامی پارک کے طور پر قائم کیا گیا۔ 1913 اور 1936 کے درمیان وینکوور سٹی کی طرف سے تیار کیا گیا، اس کے ابتدائی سپرنٹنڈنٹ W.S. Rawlings برطانوی سابقہ سے متاثر تھا، باغات، ڈیزائن کردہ مناظر اور تفریحی سہولیات کے ساتھ قدرتی خصوصیات کو ملاتا تھا۔ جنگ کے بعد کے دور میں ایکویریم، چھوٹی ٹرین اور بچوں کے چڑیا گھر سمیت اضافی پرکشش مقامات شامل کیے گئے۔ یہ پارک ایک رسمی مقام بھی بنا ہوا ہے، جس میں قابل ذکر لوگوں اور واقعات کی یاد منائی جاتی ہے جیسے کہ پولین جانسن، لارڈ اسٹینلے، جان ڈرینی، وینکوور سینٹینیئل، برٹش کولمبیا لمبرمین، پہلی جنگ عظیم میں جاپانی کینیڈین، سالویشن آرمی، اور چیہالیس، ایچ ایم ایس، بیور، اور دیگر کے درمیان جہازوں کے ملبے۔کئی سالوں کے دوران، متعدد معماروں اور زمین کی تزئین کے معماروں نے پارک کے ماحول میں مخصوص شراکت کی ہے۔ 



ان میں ولیم لیونگ اسٹون (پویلین گارڈن، 1913)، تھامس ماوسن (لوسٹ لیگون اور کاز وے، 1916-26)، چارلس مارینگا (ہارڈنگ میموریل، 1923 اور پرومینیڈ، 1925)، واکر اور میک فیرسن (پِچ اور پٹ گالف کورس)، انڈر 19 پارکس، انڈر 19 پارکس شامل ہیں۔ 1946-50 اور گولف کورس ٹکٹ بوتھ، 1953-55)، اور ایلین کک (ٹیڈ اور میری گریگ روڈوڈینڈرون گارڈن، 1989)۔ اس کے علاوہ، پارک کئی خاص طور پر ہنر مند کاریگروں کے کام کی نمائش کرتا ہے جن میں جیمز کننگھم (ماسٹر میسن، دہاتی پتھر کا کام)، بل ریڈ (سکیڈنز مورچوری پول کی تولید جیکسن، چیف آف اسکائیڈ گیٹ)، ڈوگ کرینمر (نہی-اس-بِک سالمن پول کی تولید، پو کے ولی ریسٹورے اور پو ویزے کی وللی ریسٹوریل پول۔ افسانہ)، ایلن نیل (تھنڈر برڈ ہاؤس پوسٹس کی بحالی)، یورویا (وکیاس پول)، یااکوتلاس، چارلی جیمز (تھنڈر برڈ ہاؤس پوسٹس، سیسا کالس پول)، سڈنی مارچ (مجسمہ ساز، لارڈ اسٹینلے مونومنٹ)، شوسواپ فرسٹ نیشن (پیٹروگلیف راک)، اور ایلن بروڈ میں گرل، اور ایک لڑکی۔ 1970)۔ماخذ: تاریخی مقامات اور یادگاروں کا بورڈ آف کینیڈا، منٹس، 1988؛ یادگاری سالمیت کا بیان، جون 2002۔کردار کی تعریف کرنے والے عناصر-کلیدی عناصر جو سائٹ کے ورثے کے کردار میں حصہ ڈالتے ہیں ان میں شامل ہیں:


 اس کی ترتیب جو جنگل، پہاڑوں اور سمندر کو یکجا کرتی ہے۔ قدرتی اور ثقافتی علاقوں کے متعلقہ مقامات، افعال اور مادی اجزاء کے باہمی تعلقات؛ قدرتی عناصر کی سالمیت اور کثرت، جیسے کہ نئے اور پرانے نمو کے جنگلات، سمندری اور ساحل کے قریب رہائش گاہیں، اور بنیادی ارضیات؛ ثقافتی عناصر کا تنوع بشمول باغ کے مناظر، ڈیزائن کیے گئے پارک کے مناظر، پارک کی سرگرمیوں سے وابستہ عمارتیں اور ڈھانچے، یادگاریں، ایتھلیٹک سہولیات، اور آؤٹ ڈور میوزیم ڈسپلے؛ آپ میں ڈیزائن کیے گئے باغات کی ترتیب کی سالمیت، پودوں کی اقسام، خصوصیت کے عناصر اور ان کے اصل مواد اور تناسب کے ڈھانچے؛ ڈیزائن کیے گئے مناظر کے مقامات، ساخت، تعمیر شدہ خصوصیات اور پودے لگانا، بشمول لارڈ اسٹینلے مونومنٹ، بروکٹن پوائنٹ، سیپرلے میڈوز، دی سیوال، دی لوسٹ لیگون، دی پویلین اور مالکن باؤل، لمبر مینز آرچ، ٹینس کورٹ اور لان باؤلنگ گرین، گلاب کے باغ  خصوصی پودوں      کے ساتھ۔

پیر، 23 فروری، 2026

پنجاب کے سیاسی ڈیروں کی پہچان -موڑھے یا مونڈھے

 



اگر آپ راولپنڈی اسلام آباد سے جی ٹی روڈ کے راستے سفر کریں تو دریائے جہلم پار کرنے کے بعد آپ کو سڑک کے اطرف میں مچھلی فروشوں کے ڈھابوں کے بعد پنجاب کے سیاسی ڈیروں کی پہچان سمجھے جانے والے رنگارنگ موڑھے اور دلکش خوبصورت دھاگوں اور شیشوں سے مزین مختلف سجاوٹی اشیاء کی دکانیں نظر آئیں گی۔یہ دکانیں ایک زمانے میں بہت بڑی تعداد میں تھیں۔ اب اگرچہ ان کی تعداد کم ہوگئی ہے لیکن وہ سرائے عالمگیر کی مستقل پہچان بن چکی ہیں۔سرائے عالمگیر پاکستان کے صوبہ پنجاب ضلع گجرات کی تحصیل سرائے عالمگیر کا مرکزی قصبہ ہے۔ جو دریائے جہلم کے مشرقی کنارے پر 575 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ شہر کے مشرق میں نہر اپر جہلم ہے۔مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیرنے جی ٹی روڈ اور دریائے جہلم پر واقع سٹریٹجک محل وقوع اور کشمیر سے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں سرائے قائم کی تھی اور اسی کی نسبت سے اس کا نام بھی سرائے عالمگیر پڑگیایہ تو سرائے عالمگیر کا تعارف اور تاریخ ہے لیکن اس شہر کے بیچوں بیچ گزرتے جی ٹی روڈ پر واقع روائتی موڑھوں کی دکانیں بھی اپنے اندر ایک تاریخ سموئے ہوئے ہیں۔موڑھوں کی ایک دکان کے مالک چاچا سراج دین کے مطابق 'ان موڑھوں اور سجاوٹی اشیاء کے ان کے کاروبار کا سفر فیروز پور انڈیا سے شروع ہوتا ہے اور قصور کے راستے 55 سال قبل سرائے عالمگیر پہنچتا ہے۔'چاچا سراج دین نے بتایا کہ سرائے عالمگیر سے جہلم جانے والے پرانے راستے جس کے ساتھ ریلوے لائن بھی موجود ہے پر جائیں تو وہاں ان کے کاروبار سے متعلق خام مال تیار کرتے بچے بوڑھے اور جوان ملیں گے۔


 ان سب کے آباو اجداد انڈیا سے ہجرت کرکے قصور آئے تھے لیکن وہاں مزدوری نہ ہونے کے باعث یہاں آگئے کیوں کہ دریائے جہلم کے ساتھ  بیلے اور جنگل میں سے سر اور سرکنڈے اور مسجدوں کی صفیں تیار کرنے کے لیے ڈب آسانی سے بلا روک ٹوک کاٹنے کو مل جاتا ہے۔امداد علی نے 18 برس میں کم و بیش 20 ہزار سے زیادہ موڑھے بنائے ہیں  دکان کے پچھلے حصے میں کاریگر امداد علی موڑھے بنانے میں مصروف تھے۔ انھوں نے اپنا تعلق بھی قصور سے بتایا اور کہا کہ وہ عرصہ 18 سال سے موڑھے بنا رہے ہیں ویسے تو کبھی انھوں نے گنتی نہیں رکھی تاہم اس عرصے میں کم و بیش 20 ہزار سے زیادہ موڑھے بنائے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دکان کے مالک میٹریل یعنی سرکنڈے (بانس سے ملتا جلتا پودا جو سائز میں بہت پتلا اور چھوٹا ہوتا ہے)، سر (اسی پودے سے بننے والے تنکے) اور دیگر میٹریل مزدوروں سے خریدتے ہیں۔ مزدور یہ سب جنگل سے کاٹ کر لاتے ہیں اس کی صفائی کرتے ہیں اور پھرفروخت کرتے ہیں۔


موڑھا تیار کرنے کے لیے سائز کے لحاظ سے کٹائی کرتے ہیں اور پھر اسے ڈوری سے ایک ایک سرکنڈا جوڑ کر کھڑا کرتے ہیں۔ ایک موڑھا تیار کرنے میں کم از کم چار گھنٹے لگتے ہیں جس کے بعد ریکسین یا کپڑا لگانے والے کا کام شروع ہوتا ہے جو ڈیڑھ سو روپے مزدوری لیتا ہے۔'منھوں نے بتایا کہ 'ایسا بھی ہوا کہ ایک ڈیرے دار شخص کو دس موڑھے بنا کر دیے تو دس سال بعد وہ واپس آیا اور میرے کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دس سال پہلے والے موڑھے ابھی تک اسی حالت میں ہیں۔ اب نئے بنا کر دو ہمیں بہت پسند ہیں۔ میں نے دن رات محنت کرکے ان کو دوبارہ مال تیار کرکے دیا۔'سرائے عالمگیر میں بارشوں کے موسم میں کام میں تعطل آ جاتا ہے اسی دکان میں موجود ایک اور کاریگر محمد بلال نے فینسی شیشے، شو پیس، مہندی والی ٹوکریاں اور ہاتھ کے پنکھے بنانے کے بارے میں بتایا۔سرائے عالمگیر سے گزرنے والی ریلوے لائن کے سامنے خالی جگہ اور گھروں کے سامنے موڑھوں اور ان روائتی چیزوں میں استمال ہونے والی اشیا ’ سرکنڈوں‘، ’سر‘ اور ’ڈب‘ کے ڈھیر لگے پڑے رہتے ہیں۔بارشوں کے موسم میں یہاں کام میں تعطل آ جاتا ہے لیکن اس کے علاوہ پورا سال ہر گھر کے کم و بیش تمام افراد یہ اشیا بنانے کے کام میں جتے رہتے ہیں۔ کچھ ’سرکنڈوں‘ (بانس نما پودے) کی چھلائی کرتے ہیں، کچھ مسجدوں کی صفیں بناتے ہیں تو کوئی چیکیں (برآمدوں اور دالانوں کے باہر لگایا جانے والا پردہ)  بناتے ہیں۔ یہ چیزیں تیار کرکے وہ جی ٹی روڈ پر دکانداروں کو تھوک کے حساب سے فروخت کرتے ہیں۔


یہاں موجود ایک بزرگ محمد اکبر نے اردو نیوز کو بتایا کہ 'ہم انڈیا میں فروزپور رہتے تھے۔ تقسیم کے بعد قصور آئے اور گنڈا سنگھ بارڈر سے ڈب وغیرہ کاٹ کر صفیں اور پھوہڑ بناتے تھے۔ 65 کی جنگ کی وجہ سے قصور چھوڑنا پڑا اور سرائے عالمگیر آکر ڈیرے ڈالے۔ان کا کہنا تھا کہ بھٹو دور میں انہیں یہاں گھر بنانے کے لیے  پانچ پانچ مرلے زمین الاٹ ہوئی تھی جس کے بعد وہ یہاں مستقل طور پر مقیم ہو گئے'ہم گھر کے سارے افراد یہی کام کرتے ہیں۔ بڑے سرکنڈے اور ڈب کاٹ کر لاتے ہیں۔ چھوٹے صفائی کرتے ہیں۔ پھوہڑ بناتے ہیں، چیکیں بناتے ہیں اور سرکیاں تیار کرتے ہیں۔ آٹھ سال کی عمر کے بچے سے لے کر ساٹھ ستر سال کے بوڑھوں تک سب یہی کام کرتے ہیں۔ اب چونکہ صفوں کا کام ختم ہوتا جا رہا ہے تو ساتھ میں مستریوں کے ساتھ مزدوری بھی کرنا پڑ جاتی ہے۔'تاہم زمانے کی بدلتی روایات اور ضروریات کے تحت محمد اکبر کو اپنا ہنر ڈوبتا نظر آ رہا ہے۔  ’ہماری ساری عمر یہی کام کرتے گزر گئی ہے۔ وقت بدلنے کے ساتھ موڑھوں کی جگہ پلاسٹک کی کرسیوں نے لے لی ہے جبکہ صفوں کی جگہ کارپٹ اور چٹائیاں آگئی ہیں۔  وسائل اور علم کی کمی کے باعث ہم اپنے روائتی کام کو زیادہ جدت بھی نہیں دے سکے۔ اس لیے ہمیں مستقبل قریب میں یہ کام معدوم ہوتا نظر آتا ہے 
تحریر انٹر نیٹ سے لی ہے

اتوار، 22 فروری، 2026

جب ایک محنت کش کی مامتا جیت گئ

 

خادمة اور علاج  بالصدقةصدقہ جاریہ کا ایک خوبصورت اور سچا واقعہ، جو سعودی عرب کے ایک گھر میں پیش آیا۔ جس کی برکت ایسے ظاہر ہوئی کہ دنیا حیران رہ گئی۔ یہ واقعہ درجنوں عرب ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوا۔ ہم صحيفة الاقتصادية كے حوالے سے اسے نقل کررہے ہیں۔واقعہ سے قبل ایک حدیث پڑھ لیں: داووا مرضاكم بالصدقة اپنے بیماروں کا علاج صدقے سے کیا کرو۔انڈونیشیا سے خادمات کا سعودیہ میں آنا عام سی بات ہے۔ سعودی گھرانوں میں ہزاروں کی تعداد میں انڈونیشی خادمات کام کرتی ہیں۔ ایک سعودی گھرانے نے خادمات مہیا کرنے والے ریکروٹنگ ایجنٹ کی معرفت خادمہ بلوائی۔ خادمہ نے گھر میں کام کرنا شروع کر دیا۔گھر کی مالکن نے چند دن کے بعد غور کیا کہ خادمہ چپ چاپ اور اداس سی رہتی ہے۔ اس نے محسوس کیا کہ یہ چھپ چھپ کر روتی بھی رہتی ہے۔ سعودی عرب میں ابھی اسے ہفتہ دس دن ہی گزرے تھے۔ کسی نے اسے کچھ کہا بھی نہیں پھر یہ کیوں روتی ہے؟ ایک دن سعودی مالکن نے خادمہ کو اپنے سامنے بٹھا لیا۔ اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگی: میری بیٹی! بتاوٴ تم ہر وقت روتی کیوں رہتی ہو؟ ہر وقت تمہاری آنکھیں سوجی رہتی ہیں۔ خادمہ نے حوصلہ پا کر اشاروں سے اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بتایا: میں ایک مدت سے سعودی عرب آنے کی کوشش کر رہی تھی۔


 ایجنٹ کو نقد رقم اور پاسپورٹ جمع کرا رکھا تھا۔ اسی دوران میری شادی ہو گئی۔ وقت گزرتا چلا گیا۔ میری سعودی عرب آنے کی خواہش زوروں پر تھی۔ ایجنٹ کے ساتھ رابطہ تھا۔ اسی دوران خدا تعالیٰ نے مجھے بیٹا عطا فرمایا۔ میرے بیٹے کی عمر دس بارہ دن کی تھی کہ ایجنٹ نے بتایا کہ تمہارے کاغذات مکمل ہوگئے ہیں۔ تمہیں فوری طور پر سعودی عرب جانا ہوگا۔ ایک طرف بیٹا اور اس کی محبت، دوسری طرف غربت اور سعودی عرب آنے کی خواہش…میں گھریلو حالات سے مجبور تھی، اس لیے بیٹے کو چھوڑ کر سعودی عرب آ گئی۔ اب مجھے میرا بیٹا یاد آتا ہے۔ میں اس کی محبت میں دیوانی ہو گئی ہوں۔ اسے یاد کرکر کے روتی رہتی ہوں۔ سعودی مالکن نے ایک لمبی آہ بھری، کچھ سوچا۔ اس کے دل میں خیال آیا کہ یہ رب کو راضی کرنے کا اور صدقہ جاریہ کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اسلام میں سب سے بہترین کام کسی مسلمان کو خوشی مہیا کرنا ہے اور پھر اس نے ایک عجیب و غریب فیصلہ کیا۔ وہ اندر گئی، پیسوں والی الماری کو کھولا۔ اس کی کتنی تنخواہ ہے؟ اس نے دو سال کی تنخواہ کا حساب کیا۔ رقم گنی اور اسے لے کر خادمہ کے پاس آ گئی۔ کہنے لگی: یہ دو سال کی تنخواہ پیشگی پکڑو۔ میں ابھی تمہاری سیٹ بک کراتی ہوں۔ تم فوراً انڈونیشیا روانہ ہو جاوٴ۔ دو سال تک اپنے بیٹے کو دودھ پلاوٴ۔ جب دو سال کا ہو جائے تو ہمیں فون کر دینا، ہم تمہارے لیے دوبارہ ویزا بھجوا دیں گے اور تم پھر سے سعودی عرب آ جانا۔



ذرا غور کیجیے، اس عورت نے کتنا خوبصورت فیصلہ کیا۔ کیا یہ اس کے لیے صدقہ جاریہ نہیں؟ اس قسم کے فیصلے انسان کو انسانیت کے بلند مقام پر فائز کر دیتے ہیں اور حق تعالی کے نزدیک اس کے مرتبہ کو بہت بڑھا دیتے ہیں۔پھر دلچسپ بات یہ کہ یہ خادمہ صرف اس خاتون کیلئے بلائی گئی تھی جو خون کے کینسر میں مبتلا تھی، یہ تاکہ اس کی خدمت کرسکے۔ جب خاتون نے اسے واپس بھیجنے کا ارادہ کیا تو بیٹے نے کہا: امی جان آپ بیمار ہیں، آپ کیلئے تو اسے بلایا تھا، آپ اس کو واپس بھیجتی ہیں؟ خاتون نے کہا میں گزارہ کر سکتی ہوں اور پھر اسپتال میں اس کا معائنہ ہوتا رہتا۔ جب اگلی بار اسپتال گئی اس کی ٹیسٹ رپورٹ نیگیٹو آئی۔ اس کی مہلک بیماری کا نام ونشان مٹ چکا تھا۔ ڈاکٹر سارے حیران تھے کہ اس اسٹیج تک پہنچنے کے بعد یہ ٹیسٹ نیگیٹو کیسا آیا۔ احتیاطا دوبارہ ٹیسٹ کروائے گئے۔ مگر شافی الامراض رب کی طرف سے شفاء نازل ہوچکی تھی۔ سب مبارک باد دینے لگے۔


 یہ خاتون صرف اپنے رب کا شکریہ ادا کرتی رہی۔ بے شک صدقہ سے ہر بلا ٹلتی ہے۔اللہ سب کو اپنی حفاظت میں  رکھےنلا شبہ قدرت کی بنا ئ ہو    ئ    چیزوں میں شفا ہی شفا ہے-صدقہ کی مذید برکات - بے شک  صدقہ بلا ؤں  کو رد کرتا ہے
 ۔رسولُ الله ﷺ: الصَّدَقَةُ تَمنَعُ سَبعينَ نَوعا مِن أنواعِ البَلاءِ ، أهوَنُها الجُذامُ والبَرَصُ . (كنز العمّال :  )
 ۔رسول اللہ ص :صدقہ ستر قسم کی بلاؤں کو دور کرتا ہے جن میں سے آسان ترین بلا جذام اور برص ہے۔
 ۔عنه ﷺ: الصَّدَقةُ تَسُدُّ سَبعِينَ بابا مِن الشَّرِّ. (بحارالانوار : ۹۶ / ۱۳۲ / ۶۴) ۔رسول اللہ ص :صدقہ ستر برائیوں کے دروازے بند کردیتا ہے۔ ۔عنه ﷺ: الصَّدَقَةُ تَدفَعُ مِيتَةَ السُّوءِ . ( الكافي : ۴ / ۲ / ۱) ۔رسول اللہ ص :صدقہ بری موت سے بچاتا ہے۔ ۔عنه ﷺ: تَصَدَّقُوا وداوُوا مَرضاكُم بالصَّدَقَةِ ؛ فإنَّ الصدقةَ تَدفَعُ عنِ الأعراضِ والأمراضِ ، وهِيَ زيادَةٌ في أعمارِكُم وحَسَناتِكُم . (كنز العمّال : )  ۔رسول اللہ ص :صدقہ دیا کرو اور مریضوں کی دوا صدقہ سے کیا کرو، کیونکہ صدقہ عزتوں کی حفاظت کرتا ہے۔ بیماریوں سے بچاتا ہے اور اس سے تمہاری عمریں اور نیکیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ ۔الإمام عليٌّ ع : الصَّدَقةُ دَواءٌ مُنجِحٌ . (نهج البلاغة : الحكمة ۷) ۔امام علی ع:صدقہ شفا موثر دوا ہے۔

ہفتہ، 21 فروری، 2026

کراچی عروس البلاد سے کھنڈر بننے تک کا سفر

  


کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور صنعتی، تجارتی، تعلیمی، مواصلاتی و اقتصادی مرکز ہے۔ اس کا شمار دنیا کے چند سب سے بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ صوبہ سندھ کا دارالحکومت اور دریائے سندھ کے مغرب میں بحیرہ عرب کی شمالی ساحل پر واقع ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ اور ہوائی اڈہ بھی یہاں ہے۔ کراچی 1947ء سے 1960ء تک پاکستان کا دارالحکومت بھی رہا۔ موجودہ کراچی کی جگہ پر واقع قدیم ماہی گیروں کی بستیوں میں سے ایک کا نام کولاچی جو گوٹھ تھا۔انگریزوں نے انیسویں صدی میں اس شہر کی تعمیر و ترقی کی بنیادیں ڈالیں۔ 1947ء میں پاکستان کی آزادی کے وقت کراچی کو نو آموز مملکت کا دارالحکومت منتخب کیا گیا۔ اس کی وجہ سے شہر میں لاکھوں مہاجرین کی آمد ہوئی۔ بین الاقوامی بندرگاہ ہونے کی وجہ سے شہر میں صنعتی سرگرمیاں دیگر شہروں سے قبل شروع ہو گئیں۔ 1959ء میں پاکستان کے دار الحکومت کی اسلام آباد منتقلی کے باوجود کراچی کی آبادی اور معیشت میں ترقی کی رفتار کم نہیں ہوئی۔پورے پاکستان سے لوگ روزگار کی تلاش میں کراچی آتے ہیں اور اس وجہ سے یہاں مختلف مذہبی، نسلی اور لسانی گروہ آباد ہیں۔ کراچی کو اسی وجہ سے منی پاکستان بھی کہتے ہیں۔


شہر کا رقبہ 3،527 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ ایک ناہموار میدانی علاقہ تھا، جس کی شمالی اور مغربی سرحدیں پہاڑیاں تھیں۔ شہر کے درمیان سے دو بڑی ندیاں گزرتی ہیں، ملیر ندی اورلیاری ندی۔ اس کے ساتھ ساتھ شہر سے کئی اور چھوٹی بڑی ندیاں گزرتی ہیں۔کراچی شہر کی بلدیہ کا آغاز 1933ء میں ہوا۔ ابتدا میں شہر کا ایک میئر، ایک نائب میئر اور 57 کونسلر ہوتے تھے۔ 1976ء میں بلدیہ کراچی کو بلدیہ عظمی کراچی بنا دیا گیا۔ سن 2000ء میں حکومت پاکستان نے سیاسی، انتظامی اور مالی وسائل اور ذمہ داریوں کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس کے بعد 2001ء میں اس منصوبے کے نفاذ سے پہلے کراچی انتظامی ڈھانچے میں دوسرے درجے کی انتظامی وحدت یعنی ڈویژن، کراچی ڈویژن، تھا۔ کراچی ڈویژن میں پانچ اضلاع، ضلع کراچی جنوبی، ضلع کراچی شرقی، ضلع کراچی غربی،ضلع کراچی وسطی اور ضلع ملیر شامل تھے۔سن 2001ء میں ان تمام ضلعوں کو ایک ضلعے میں جوڑ لیا گیا۔ اب کراچی کا انتظامی نظام تین سطحوں پر واقع ہے۔سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ، ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشن، یونین کونسل ایڈمنسٹریشن۔ضلع کراچی کو 18 ٹاؤن میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان سب کی منتخب بلدیاتی انتظامیہ موجود ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں اور اختیارات میں پانی کی فراہمی، نکاسی آب، کوڑے کی صفائی، سڑکوں کی مرمت، باغات، ٹریفک سگنل اور چند دیگر زمرے آتے ہیں۔


 بقیہ اختیارات ضلعی انتظامیہ کے حوالے ہیں۔یہ ٹاؤنز مزید 178 یونین کونسلوں میں تقسیم ہیں جو مقامی حکومتوں کے نظام کی بنیادی اکائی ہے۔ ہر یونین کونسل 13 افراد کی باڈی پر مشتمل ہے، جس میں ناظم اور نائب ناظم بھی شامل ہیں۔ یوسی ناظم مقامی انتظامیہ کا سربراہ اور شہری حکومت کے منصوبہ جات اور بلدیاتی خدمات کے علاوہ عوام کی شکایات حکام بالا تک پہنچانے کا بھی ذمہ دار ہے۔کراچی شہر مندرجہ ذیل قصبات میں تقسیم ہے: نیو کراچی ٹاؤن، نارتھ ناظم آباد، اورنگی ،صدر، شاہ فیصل، سائٹ، کیماڑی ، کورنگی ، لانڈھی، لیاقت آباد، لیاری، ملیر، بلدیہ ، بن قاسم ، گڈاپ ، گلبرگ ، گلشن اورجمشید ٹاؤن۔واضح رہے کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کراچی میں قائم ہے لیکن وہ کراچی کا ٹاؤن نہیں اور نہ ہی کسی ٹاؤن کا حصہ ہے بلکہ پاک افواج کے زیر انتظام ہے۔ایک اندازے کے مطابق ہر ماہ 45 ہزار افراد شہر قائد پہنچتے ہیں۔ کراچی میں سب سے زیادہ آبادی اردو بولنے والے مہاجرین کی ہے جو 1947ء میں تقسیم برصغیرکے بعد ہندوستان کے مختلف علاقوں سے آکر کراچی میں آباد ہوئے تھے۔ ہندوستان سے آئے ہوئے ان مسلم مہاجرین کو نو آموز مملکت پاکستان کی حکومت کی مدد سے مختلف رہائش گاہیں نوازی گئیں، 


جن میں سے اکثر پاکستان چھوڑ کر بھارت جانے والی ہندو اور سکھ برادری کی تھی۔1998ء کی مردم شماری کے مطابق شہر کی لسانی تقسیم اس طرح سے ہے: اردو بولنے والے 65 فیصد، پنجابی 8 فیصد، سندھی 7.22 فیصد، پشتو 11.42 فیصد، بلوچی 4.34 فیصد، سرائیکی 2.11 فیصد، دیگر 7.4 فیصد۔ دیگر میں گجراتی، داؤدی بوہرہ، میمن، گھانچی، براہوی، مکرانی، بروشسکی، عربی، فارسی اور بنگالی شامل ہیں۔ شہر کی اکثریت مسلمان ہے جن کی تعداد 96.49 فیصد ہے۔ عیسائی 2.35 فیصد، ہندو 0.83 فیصد، احمدی 0.17 فیصد اور دیگر 0.13 فیصد ہیں۔ دیگر میں پارسی، یہودی اور بدھ مت شامل ہیں۔قومی محصولات کا 70 فیصد کراچی سے حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان کے تمام سرکاری و نجی بینکوں کے دفاتر کراچی میں قائم ہیں۔ جن میں سے تقریبا تمام کے دفاتر پاکستان کی وال اسٹریٹ ’’آئی آئی چندریگر روڈ‘‘ پر قائم ہیں۔بینکنگ اور تجارتی دارالحکومت ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی میں پاکستان میں کام کرنے والے تمام کثیر القومی اداروں کے بھی دفاتر قائم ہیں۔ یہاں پاکستان کا سب سے بڑا بازار حصص کراچی اسٹاک ایکسچینج بھی موجود ہے جو 2005ء میں پاکستان کے جی ڈی پی میں 7 فیصد اضافے میں اہم ترین کردار قرار دیاجاتا ہے۔یہاں پاکستان کا سافٹ ویئر مرکز بھی ہے۔ کئی نجی ٹیلی وژن اور ریڈیو چینلوں کے صدر دفاتر بھی یہاں ہیں، جن میں سے جیو، اے آر وائی، ہم، اور آج مشہور ہیں۔کراچی میں کئی صنعتی زون واقع ہیں جن میں کپڑے، ادویات، دھاتوں اور آٹو موبائل کی صنعتیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔ مزيد برآں ایک نمائشی مرکز ایکسپو سینٹر بھی ہے، جس میں کئی علاقائی و بین الاقوامی نمائشیں منعقد ہوتی ہیں۔ ٹویوٹا اور سوزوکی موٹرز کے کارخانے بھی یہیں قائم ہیں۔ اس صنعت سے متعلق دیگر اداروں میں ملت ٹریکٹرز، آدم موٹر کمپنی اور ہینو پاک کے کارخانے بھی یہیں موجود ہیں۔کراچی بندرگاہ اور محمد بن قاسم بندرگاہ پاکستان کی دو اہم ترین بندرگاہیں ہیں

جمعہ، 20 فروری، 2026

اشفا ق احمد پاکستان کی مایہء ناز شخصیت

 



 

اشفاق احمد ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے مشہور و معروف افسانہ نگار، ڈراما نویس، ناول نگار، مترجم اور براڈ کاسٹر تھے۔ ان کا ڈراما سیریل ایک محبت سو افسانے پاکستان ٹیلی وژن کی لازوال ڈراما سیریل ہے۔حالات زندگی؛اشفاق احمد خان ہندوستان کے شہر ہوشیار پور کے ایک   گاؤں خان پور میں ڈاکٹر محمد خان کے گھر 22 اگست1925ء کو   ایک کھاتے پیتے پٹھان گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔  آپ کے والد ایک قابل محنتی ا نسا ن تھے۔ جن کی مرضی کے خلاف گھر میں پتا بھی نہیں ہل سکتا تھا۔ گھر کا ماحول روایتی تھا۔ بندشوں اور بہت سی روائتی پابندیوں  کا سامنا تھا  ۔تعلیم-اشفاق احمد کی پیدائش کے بعد اُن کے والد ڈاکٹر محمد خان کا تبادلہ خان پور (انڈیا) سے فیروز پور ہو گیا۔ اشفاق احمد نے اپنی تعلیمی زندگی کا آغاز اسی گائوں فیروز پورسے کیا۔ اور فیروز پور کے ایک قصبہ مکستر سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔اشفاق احمد نے ایف ۔ اے کا امتحان بھی اسی قصبہ فیروز پور کے ایک کالج ”رام سکھ داس “ سے پاس کیا ۔ اس کے علاوہ بی۔اے کا امتحان امتیازی نمبروں کے ساتھ فیروز پور کے ”آر، ایس ،ڈی “RSD کالج سے پاس کیا۔ قیام پاکستان کے بعد اشفاق احمداپنے خاندان کے ہمراہ فیروز پور (بھارت) سے ہجرت کرکے پاکستان آ گئے۔ پاکستان آنے کے بعد اشفاق احمد نے گورنمنٹ کالج لاہور کے ”شعبہ ارد و “ میں داخلہ لیا۔ جہاں کل چھ طلباءو طالبات زیر تعلیم تھے۔ کالج میں انگریزی کے اساتذہ اردو پڑھایا کرتے تھے۔کتابیں بھی انگریزی میں تھیں،جبکہ اپنے وقت کے معروف اساتذہ پروفیسر سراج الدین، خواجہ منظور حسین ،آفتاب احمد اور فارسی کے استاد مقبول بیگ بدخشانی گورنمنٹ کالج سے وابستہ تھے۔اور یہ سب اشفاق احمد کے استاد رہے۔




 اُس زمانے میں بانو قدسیہ (اہلیہ اشفاق احمد ) نے بھی ایم اے اردو میں داخلہ لیا۔جب بانو نے پہلے سال پہلی پوزیشن حاصل کی تو اشفاق احمد کے لیے مقابلے کا ایک خوشگوار ماحول پیدا ہوا۔ انھوں نے بھی پڑھائی پر توجہ مرکوز کر لی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سالِ آخر میں اشفاق احمد اوّل نمبر پر رہے۔ جبکہ بانو قدسیہ نے دوسری پوزیشن حاصل کی ” یہ وہ دور تھا جب اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی میں اردو کی کلاسیں ابھی شروع نہیں ہوئی تھیں۔اعلیٖ تعلیم-گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کیا، اٹلی کی روم یونیورسٹی اور گرے نوبلے یونیورسٹی فرانس سے اطالوی اور فرانسیسی زبان میں ڈپلومے کیے اور نیویارک یونیورسٹی سے براڈکاسٹنگ کی خصوصی تربیت حاصل کی۔ ملازمت اشفاق احمد نے ديال سنگھ کالج، لاہور میں دو سال تک اردو کے لیکچرر کے طور پر کام کیا اور بعد میں روم یونیورسٹی میں اردو کے استاد مقرر ہو گئے۔ وطن واپس آکر انھوں نے ادبی مجلہ داستان گو جاری کیا جو اردو کے آفسٹ طباعت میں چھپنے والے ابتدائی رسالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انھوں نے دو سال ہفت روزہ لیل و نہار کی ادارت بھی کی۔وہ 1967ء میں مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے جو بعد میں اردو سائنس بورڈ میں تبدیل ہو گیا۔ وہ 1989ء تک اس ادارے سے وابستہ رہے۔ وہ صدر جنرل ضیاءالحق کے دور میں وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر بھی مقرر کیے گئے۔



ازدواجی زندگی گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے کے دوران میں بانو قدسیہ ان کی ہم جماعت تھیں۔بانو قدسیہ کا تعلق فیروز وپور مشرقی پنجاب ( بھارت ) سے تھا۔ قیام پاکستان کے ہجرت کرکے لاہور میں آکر قیام کیا۔ دونوں میں ذہنی ہم آہنگی اتنی ہو گئی کہ شادی کا فیصلہ کر لیا۔ اُن کے والد ایک غیر پٹھان لڑکی کو بہو بنانے کے حق میں نہ تھے۔ بقول  ممتاز مفتی ' اس نے جوانی میں روایت توڑ محبت کی اسے اچھی طرح علم تھا کہ گھر والے کسی غیر پٹھان لڑکی کو بہو بنانے کے لیے تیار نہ ہوں گے ۔ اسے یہ بھی علم تھا کہ گھر میں اپنی محبت کا اعلان کرنے کی اس میں کبھی جرات پیدا نہ ہوگی اس کے باوجود ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ وہ محبت میں کامیاب ہو گیا۔ اگر چہ شادی کے بعد اُسے مجبوراً گھر چھوڑنا پڑا۔اشفاق احمد ان نامور ادیبوں میں شامل ہیں جو قیام پاکستان کے فوراً بعد ادبی افق پر نمایاں ہوئے۔1953ء میں ان کا افسانہ گڈریا ان کی شہرت کا باعث بنا۔ انھوں نے اردو میں پنجابی الفاظ کا تخلیقی طور پر استعمال کیا اور ایک خوبصورت شگفتہ نثر ایجاد کی جو انھی کا وصف سمجھی جاتی ہے۔ اردو ادب میں کہانی لکھنے کے فن پر اشفاق احمد کو جتنا عبور تھا وہ کم لوگوں کے حصہ میں آیا۔افسانہ نگار ی ایک محبت سو افسانے اور اجلے پھول ان کے ابتدائی افسانوں کے مجموعے ہیں۔ بعد میں سفردر سفر (سفرنامہ)، کھیل کہانی (ناول)، ایک محبت سو ڈرامے (ڈراما سیریز) اور توتا کہانی (ڈراما سیریز) ان کی نمایاں تصانیف ہیں۔ 



اشفاق احمد بتاتے ہیں کہ ان کی بیوی، بانو قدسیہ، یونیورسٹی میں پڑھاتی تھیں۔ وہ روزانہ صبح بانو قدسیہ کو یونیورسٹی چھوڑنے جاتے۔ یونیورسٹی کے گیٹ پر پہنچ کر خود گاڑی سے اترتے اور دوسری طرف جا کر بیوی کے لیے دروازہ کھولتے۔بانو قدسیہ بڑے وقار سے گاڑی سے اترتیں، اپنی سہیلیوں کے ساتھ گیٹ کے اندر داخل ہوتیں، اور اشفاق احمد واپس لوٹ جاتے۔ دوپہر کو وہ پھر بیوی کو لینے آتے، اور اسی عزت و احترام سے دروازہ کھول کر بٹھاتے۔بانو قدسیہ کی سہیلیاں روز یہ منظر دیکھتیں اور رشک سے کہتیں کہ کتنا محبت کرنے والا شوہر ہے! وہ دعائیں کرتیں کہ اللہ انہیں بھی ایسا شریکِ حیات عطا کرے۔ ان کے نزدیک یہ منظر محبت کی علامت تھا۔لیکن اشفاق احمد ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ اصل میں ایسی کوئی “خاص” محبت کی بات نہیں تھی۔ حقیقت یہ تھی کہ گاڑی کا دروازہ اندر سے کھلتا ہی نہیں تھا، اس لیے مجبوراً باہر سے کھولنا پڑتا تھا!کہانی کا اصل حسن یہی ہے کہ ایک چھوٹی سی مجبوری نے دوسروں کی نظروں میں ایک خوبصورت محبت کا روپ دھار لیا
    

بدھ، 18 فروری، 2026

ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا 'علم کی شمع فروزاں

 


دنیا میں ایسے کم ہی لوگ ہیں جو ایک سے زائد شعبوں میں نہ صرف عبور رکھتے ہیں بلکہ ان میں مہارت کے باعث معاشرے میں مثبت رویے کے فروغ کا باعث بھی بنتے ہیں۔ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ کا شمار بھی ان ہی چند لوگوں میں سے ایک تھا۔ میٹھاس بھری اردو اور شائستہ لب و لہجے میں ایسی گفتگو جو نصیحت، ذہانت ، علم اور تجربے سے آراستہ تھی اب شاید سننے کو نہ ملے۔ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ کا جب بھی نام لیا جائے گا تو ذہن میں ان کی علمی اور ادبی خدمات گردش کریں گی۔ڈاکٹرعارفہ  سیدہ زہرہ   کا مقام پاکستان کے تعلیمی اور ادبی حلقوں میں  بزرگ استاد اور دانشور کا تھا  -ڈاکٹر عارفہ سید زہرا نہ صرف اردو ادب اور زبان میں اپنی گہری علمیت کے باعث جانی جاتی تھیں بلکہ انسانی حقوق کی فعال کارکن اور شاعرہ کے طور پر بھی ممتاز مقام رکھتی تھیں۔وہ تعلیم، تاریخ اور سماجی علوم میں نمایاں خدمات کیلیے جانی جاتی تھیں اور ان کا شمار پاکستان کے مؤثر تعلیمی اور فکری شخصیات میں ہوتا تھا۔ نصف صدی سے زائد عرصے تک تدریس کے شعبے سے وابستہ رہنے والی ڈاکٹر عارفہ نے اپنی تعلیم اور خدمات کے ذریعے کئی نسلوں کی تربیت کی، سیدہ زہرانے پہلے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، پھر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور مزید ڈگری منووا میں ہوائی یونیورسٹی سے حاصل کی۔ عارفہ سیدہ فارمن کرسچن کالج میں تاریخ کی پروفیسر ہیں اور لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کی سابقہ پرنسپل ہیں۔ وہ خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن میں چیئرپرسن تھیں۔ وہ اردو زبان اور ادب کے بارے میں اپنی معلومات کے لیے پہچانی جاتی تھیں



 اور وہ دانشورانہ تاریخ اور جنوب ایشیائی معاشرتی امور میں مہارت رکھتی   تھیں     عارفہ سیدہ زہرا نے لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی سے آنرز کے ساتھ بیچلر آف آرٹس مکمل کیا۔ انھوں نے لاہور میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے اردو میں ماسٹر آف آرٹس حاصل کیا۔ انھوں نے منووا میں یونیورسٹی آف ہوائی سے ایشیائی تعلیم میں ماسٹر آف آرٹس اور ہسٹری میں فلسفہ ڈاکٹریٹ کیا ان کے 1983 کے مقالے کا عنوان سرسید احمد خان، 1817-1898 تھا:  ڈاکٹر عارفہ سید زہرا نہ صرف اردو ادب اور زبان میں اپنی گہری علمیت کے باعث جانی جاتی تھیں بلکہ انسانی حقوق کی فعال کارکن اور شاعرہ کے طور پر بھی ممتاز مقام رکھتی تھیں۔وہ تعلیم، تاریخ اور سماجی علوم میں نمایاں خدمات کیلیے جانی جاتی تھیں اور ان کا شمار پاکستان کے مؤثر تعلیمی اور فکری شخصیات میں ہوتا تھا۔ نصف صدی سے زائد عرصے تک تدریس کے شعبے سے وابستہ رہنے والی ڈاکٹر عارفہ نے اپنی تعلیم اور خدمات کے ذریعے کئی نسلوں کی تربیت کی، سیدہ زہرانے پہلے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، پھر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور مزید ڈگری منووا میں ہوائی یونیورسٹی سے حاصل کی۔ عارفہ سیدہ فارمن کرسچن کالج میں تاریخ کی پروفیسر ہیں اور لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کی سابقہ پرنسپل ہیں۔ وہ خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن میں چیئرپرسن تھیں۔ وہ اردو زبان اور ادب کے بارے میں اپنی معلومات کے لیے پہچانی جاتی تھیں اور وہ دانشورانہ تاریخ اور جنوب ایشیائی معاشرتی امور میں مہارت رکھتی     تھیں  عارفہ سیدہ زہرا نے لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی سے آنرز کے ساتھ بیچلر آف آرٹس مکمل کیا۔ انھوں نے لاہور میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے اردو میں ماسٹر آف آرٹس حاصل کیا۔  ان کی گفتگو سنیں تو یوں معلوم ہوتا جیسے زندگی کے تجربوں اور تجزیوں سے آراستہ ایک کھلی کتاب ہو۔



بچے کی نفسیات سے لے کر معاشرتی رویوں، اقدار، تاریخ اور حال کا ملاپ، علم کے حقیقی معنی، اردو زبان کی شیرینی و اہمیت اور جینے کا سلیقہ ،غرض کوئی ایسا موضوع نہیں بچا جس پر ڈاکٹر عارفہ زہرہ نے بھر پور روشنی نہ ڈالی ہو۔ان کی گفتگو ان کے غورو فکر کا بھرپور عکس تھی۔ گفتگو میں نرمی، لہجے میں وقار اور سوچ میں گہرائی ان کی پہچان تھی۔انسان کے ساتھ ایک مشن۔1966 سے 1972 تک، عارفہ سیدہ لاہور کالج فارویمن میں لیکچرار رہی۔ وہ 1972 میں اسسٹنٹ پروفیسر بن گئیں اور 1984 تک پڑھاتی رئیں۔ انھوں نے 1988-1989 تک پرنسپل بننے سے قبل 1985-1988ء تک لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کے وائس پرنسپل کی خدمات انجام دیں۔  1989 سے 2002 تک وہ گورنمنٹ کالج آف ویمن، گلبرگ کی پرنسپل رہی۔ 2002 سے 2005 تک وہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کی ممبر رہی۔ زہرہ خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن میں چیئرپرسن تھیں۔عارفہ سیدہ، پنجاب کی سابق نگران صوبائی وزیر بھی ہیں۔ انھوں نے اگست 2009 میں پروفیسر ہسٹری کے طور پر فورمان کرسچن کالج میں فیکلٹی میں شمولیت اختیار کی۔ وہ مندرجہ ذیل اداروں میں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز، نیشنل کالج آف آرٹس، نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ میں فیکلٹی کی رکن تھیں۔ . ان کی تحقیق دانشورانہ تاریخ، تاریخی تجزیہ اور تنقید، انسانی حقوق اور صنف ادب اور معاشرتی امور کے شعبوں میں ہے۔عارفہ سیدہ 1986ء تا 2009ء تک گورنمنٹ کالج فار ویمن گلبرگ لاہور کی پرنسپل رہیں۔ وہ 7 زبانوں پر عبور رکھتی تھیں۔عارفہ سیدہ تعلیمی، انتظامی، سماجی اور ثقافتی کمیٹیوں کی رُکن بھی رہیں


معروف پروفیسر ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا نومبر 2025انتقال کر گئیں۔إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
وہ   انسان دوستی کی روشن  مثال تھیں۔ان کی  گفتگو میں وقار، قلم میں بصیرت، اور علم، فکر اورعمل میں سچائی تھی۔قوم ایک ایسی عظیم شخصیت سے محروم ہو گئی جو ہمیشہ سچ بولنے اور حق کے لیے ڈٹ جانے کی مثال بنی رہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے اور اُن کے درجات بلند کرے۔آمین 🤲🏻پاکستانی ڈرامہ نگار، ٹی وی ڈرامہ سیریل کے مصنف اور شاعر اصغر ندیم سید نے  ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔اصغر ندیم سید نے عارفہ سیدہ کے انتقال پر گہرے دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کا انتقال لاہور میں ہوا، اِن کی کی نمازِ جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔الحمرا کے چیئرمین رضی احمد نے ڈاکٹر عارفہ سیدہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُنہوں نے اردو زبان کو تہذیب اور تحقیق کا موضوع بنایا۔رضی احمد نے کہا کہ نامور ادیبہ و دانشور ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا زبان وادب کا درخشندہ ستارہ تھیں، عارفہ سیدہ نے چالیس سال سے زائد عرصہ تدریسی خدمات انجام دیںوزیرِ اعظم شہباز شریف نے ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحومہ کی ارود زبان کے فروغ و ترویج،  تدریس اور تحقیق کے میدان میں خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔وزیرِ اعظم نے مرحومہ کی مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا بھی کی ہے۔پاکستانی ڈرامہ نگار، ٹی وی ڈرامہ سیریل کے مصنف اور شاعر اصغر ندیم سید نے  ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔اصغر ندیم سید نے عارفہ سیدہ کے انتقال پر گہرے دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کا انتقال لاہور میں ہوا، اِن کی کی نمازِ جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

مترانوالی بستی کے بے گھر مکین کہاں جائیں ؟

  آج مورخہ 25 فروری 2026  ء روزنامہ  نواءے وقت میں ہمارے وطن کے محترم صحافی  مطلوب وڑائچ   رقمطراز ہیں کہ غریب لوگوں سے ان کی چھتیں چھین لی ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر