محترم شبر زیدی ہمارے ایک معتبر سیاست دان ہیں وہ تو پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ بلدیہ فیکٹری کے سانحہ میں مہاجر ملوث نہیں ہیں بلکہ ایک دوسری قومیت کے فرد ہیں -اس بد ترین سانحہ نے کراچی کے ہر فرد کوخون کے آنسو رلایا تھا-اس سانحہ نے 260 محنت کشوں کے گھروں کے چراغ گل کر کے ان کے آنگنوں کو تاریک کر دیا تھا-لیکن کوئ اصل مجرم آ ج تک پکڑا نہیں گیا-
-۔سپریم کورٹ نے 10 جون کو بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی کیس میں ایم کیو ایم کے دو کارکنوں، رحمان بھولا اور زبیر چریا، کو بری کر دیا تھا اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی اور بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ (ایس ایچ سی) کی جانب سے برقرار رکھی گئی سزائے موت کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ عدالت نے ملزمان کو 'شک کا فائدہ دیتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیا تھانظرِ ثانی کی یہ درخواست سندھ کے پراسیکیوٹر جنرل شبیر شاہ کی جانب سے دائر کی گئی۔ درخواست میں سندھ حکومت نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے۔درخواست میں یہ قانونی سوال اٹھایا گیا کہ آیا آئین کا آرٹیکل 188 ایسے فیصلے پر لاگو ہوتا ہے جو "حقائق اور قانون کے منافی" ہو۔ سندھ حکومت کا مؤقف تھا کہ فیصلے میں "چشم دید گواہوں، طبی اور دیگر شواہد کو نظر انداز کرنے کی خامی" موجود ہے۔
اس کے علاوہ قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکلز 4 اور 17 کے اطلاق کے حوالے سے بھی اعتراضات اٹھائے گئے۔درخواست کے مطابق، فیصلے میں زخمی گواہوں اور ماہرین کے ان شواہد کو بھی نظر انداز کیا گیا جن میں آگ لگانے کے لیے کیمیکل کے استعمال کا ذکر تھا۔11 ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن میں واقع علی انٹرپرائزز گارمنٹ فیکٹری کی کثیر المنزلہ عمارت میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 260 سے زائد مزدور زندہ جل کر ہلاک ہو گئے تھے؛ یہ ملک کی تاریخ کا بدترین صنعتی حادثہ تھا۔سن 2023 میں سندھ ہائی کورٹ نے ایم کیو ایم کے دو کارکنوں کو سنائی گئی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کر دی تھیں، جب کہ اس سے قبل ایک خصوصی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے انہیں سنائی گئی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا بلدیہ فیکٹری آتشزدگی میں استعمال ہونے والا کیمیکل 'انتہائی' آتش گیر تھا، محقق کا کہنا ہےسندھ ہائی کورٹ نے اپنے 46 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ فرانزک رپورٹ سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ فیکٹری میں آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے نہیں لگی تھی۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ شواہد اور گواہوں کے بیانات سے تصدیق ہوتی ہے کہ زبیر چریا نے ہی فیکٹری کو آگ لگائی تھی۔
یہ وہ دور تھا جس میں مہاجر نوجوانوں کے نام بگاڑے گئے اور ان کو تضحیک آمیز ناموں سے پکارا گیا وزیر داخلہ نصیراللہ بابر نے یہ کار خیر انجام دی تھا -کراچی: بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی کے متاثرین کے سوگوار خاندان ہفتے کے روز مزدور تنظیموں کے ہمراہ کراچی پریس کلب پہنچے؛ اپنے والد، بیٹے، شوہر، بھائی، بہن یا بیٹی کی فریم شدہ تصاویر مضبوطی سے تھامے ہوئے، یہ خاندان یہ جاننے کے خواہشمند تھے کہ گزشتہ 14 سالوں سے انہیں جھوٹ کیوں سنایا جاتا رہا۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ کے حالیہ فیصلے نے پرانے زخم تازہ کر دیے ہیں، کیونکہ بینچ نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے دو کارکنوں، عبدالرحمن بھولا اور زبیر عرف چریا، کو 11 ستمبر 2012 کو فیکٹری میں آگ لگانے کے الزام سے بری کر دیا ہے۔عدالت نے دونوں افراد کو 'شک کا فائدہ' (benefit of doubt) دیا کیونکہ تقریباً 400 گواہوں میں سے صرف ایک نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ملزمان میں سے کسی ایک کو کیمیکل کا تھیلا اٹھائے دیکھا تھا، جبکہ کسی نے بھی درحقیقت آگ لگتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔
نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن (NTUF) کے جنرل سیکریٹری ناصر منصور نے کہا، "اس کا مطلب یہ ہے کہ متاثرہ خاندان اور مزدور تنظیمیں شروع ہی سے جو بات کہہ رہے تھے، ۔ جبکہ بعد میں سندھ ہائی کورٹ نے فیکٹری کے سیکیورٹی گارڈز اور دیگر ملازمین کو بھی بری کر دیا۔ اور اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ بلدیہ فیکٹری کے 260 سے زائد مزدوروں کی ہلاکت کا کوئی بھی ذمہ دار نہیں ہے۔"انہوں نے کہا، "یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر اس مقدمے کو دہشت گردی اور بھتہ خوری کا کیس نہ بنایا جاتا، تو لیبر ڈیپارٹمنٹ، فائر بریگیڈ، ای او بی آئی، سوشل سیکیورٹی کے اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں اور ناکامیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جاتا۔" ”یہ افسوسناک امر ہے کہ مقدمے کی سمت کو دانستہ طور پر ایک خاص رخ پر موڑ دیا گیا تاکہ ان ذمہ دار عناصر کو بچایا جا سکے۔