پرور دگار عالم نے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو انسانوں کی راہبری کے لئے مبعوث کیا اور حیات انسانی کے اخلاقی پہلوؤں کو حضور اکرمؐ نے ا ن کو عملی صورت میں پیش کیا ہے۔آپؐ کے حسن خلق کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ آپؐ اپنے اہل وعیال ،اعزہ و اقارب اور اصحاب و رفقا کے ساتھ جو رویہ رکھتے اسی طرح کا رویہ اعداء کے ساتھ بھی رکھتے۔اگر اپنوں کی لغزشوں سے صرف نظر کرتے ہیں تو سخت اعداء کو بھی معاف کر دیتے ہیں۔مسلمان کی عیادت کوکار ثواب کہتے ہیں تو خود یہودی کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے ہیں۔ خدمت خلق کی تلقین کرتے ہیں تو خود سب کی خدمت میں سب سے زیادہ فعال نظرآتے ہیں۔حضور اکرمؐ نے تہذیب اخلاق کے حوالے سے مختلف صورتوں میں راہنمائی فرمائی۔انسانی حیات کی جتنی جہات ہیں، ان سب کے حوالے سے حضور اکرمؐ نے اپنا خلق پیش فرمایا۔ نہ صرف اپنے موجودہ عہد اور اپنے خطے کے مطابق بلکہ اس میں ہر عہد اورہر خطے کے ساتھ انسانی فطرت کے مطابق اس کے معاملات ،ضروریات اور خواہشات کی تہذیب و تطہیر کے تناظر میں ایک مکمل حسن خلق کا نمونہ پیش کیا۔
اس کے ساتھ انسانی کیفیات جیسے خوشی، غم ، غصہ فقر، تونگری وغیرہ مختلف مواقعوں پر ایک منضبط اور مہذب حالت کا اظہار ہی خلق عظیم کی ہر عمل کی احسن صورت ہےحضور اکرمؐ نے حسن اخلاق کے اظہار میں کبھی مقابل یا مخاطب کی خاندانی وسماجی یامعاشی حیثیت کو بنیاد نہ بنایا بلکہ آپؐ کے پیش نظر کسی کا انسان ہونا ہی کافی تھا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپؐ کامقصد احترام انسانیت کا فروغ اور وقار آدمیت کی پاسبانی تھا۔یہودی کا جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جانا ،مسلم و غیر مسلم وفود کی مہمان نوازی کرنا ،دیگر مذاہب کے ساتھ امن کے معاہدے کرنا یہ سب سماجی وبین الاقوامی اخلاقیات کے مظاہر تھے۔ اسی طرح عائلی اخلاقیات میں ازواج سے حسن سلوک کرنا ،راحت و رنج کا لحاظ کرنا ، خوش طبعی فرمانا، ضروریات کا خیال کرنا ، ان کے خاندانی و مذہبی پس منظر پر سکوت فرمانا ، ذہنی و جسمانی تشدد سے مکمل مجتنب اوران کی تربیت فرمانا وغیرہ یہ سب عائلی اخلاقیات کا حصہ ہیں۔ایک مسلمان سے دوسرے مسلمان سے تعلق کی بنیاد تو ایمان ہی ہے ’ کہ آپ کا اسوہ حسنہ تو قرآن ہی ہے۔‘
‘ گو کہ مکمل حیات انسانی کا عملی دستور ہے لیکن اگر اس کو صرف اخلاق حسنہ ہی کے تناظر میں دیکھ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ انسانی زندگی میں جو بھی معاملہ اخلاق کے حوالے سے ہے یا اس کا جامع، اکمل اور خوب صورت مظہر ذات رسالتؐ کے علاوہ کہیں اور نظر نہ آئے گا۔آپؐ کی ذات اقدس کا ظاہری حسن اگر نظر کو راحت دیتا تھا تو اخلاق و کردار کا جمال فکرو عمل کو کمال عطا کرتا ہے۔ قرآن کریم نے حیات انسانی کے اخلاقی پہلوؤں کے ضمن میں جو اصول بھی دیے ہیں حضور اکرمؐ نے اس کو عملی صورت میں پیش کیا ہے۔آپؐ کے حسن خلق کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ آپؐ اپنے اہل وعیال ،اعزہ و اقارب اور اصحاب و رفقا کے ساتھ جو رویہ رکھتے اسی طرح کا رویہ اعداء کے ساتھ بھی رکھتے۔اگر اپنوں کی لغزشوں سے صرف نظر کرتے ہیں تو سخت اعداء کو بھی معاف کر دیتے ہیں۔مسلمان کی عیادت کوکار ثواب کہتے ہیں تو خود یہودی کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے ہیں۔ خدمت خلق کی تلقین کرتے ہیں تو خود سب کی خدمت میں سب سے زیادہ فعال نظرآتے ہیں۔ مساوات کے ثمرات بیان کرتے ہیں تو خودمسجد نبوی کی تعمیر میں بنفس نفیس حصہ لیتے ہیں اور غزوہ خندق میں صحابہ کرام ؓ کے ساتھ خندق کھودتے نظر آتے ہیں۔
عمل کی کون سی جہت ہے جو اسوہ حسنہ میں نظر نہیں آتی ؟ خیر کا کون سے پہلو ہے جو آپؐ کی ذات میں نہیں اور کون سا وہ اخلاقی وصف ہے جو آپؐ نے نہیں پیش کیا ؟ جو کہا وہ کیا ،قول و فعل میں کامل مطابقت ہے اور مطابقت بھی ایسی کہ جوزندگی کو خوشگوار ، فکر کو رسا ،عمل کو استحکام اور اعضا ء کو توانا رکھتی ہے۔نبی کریمﷺجس خطے میں مبعوث ہوئے وہ معاشرہ اپنے رذائل کے اعتبار سے جہاں انتہائی پستی کا شکار تھا تو وہاں ان کے چند اخلاقی اوصاف ایسے بھی تھے جس سے اس معاشرے سے عمومی محاسن کا پتہ چلتا ہے جیسے مہمان نوازی ایفائے عہد،شجاعت ،جرات،حریت وغیرہ۔آپﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے مجھے سب سے محبوب اور آخرت میں میرے سب سے قریب وہ شخص ہو گا جو خوش خلق ہے‘‘ ۔عبادات اسلامیہ کو اگر ان کے وسیع اور جامع اثرات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوگا کہ یہ تشکیلِ کردار و اخلاق اور مثبت رویوں کی تربیت کا بڑا منظم ومرتب پلان ہے۔تمام عبادات مومن کو بااخلاق بنانے کے لیے مختلف جہات اور متنوع اندازسے تربیت اخلاق کرتی ہیں۔بد اخلاقی کی کوئی صورت کسی بھی موقع یا کسی بھی انداز سے قابل قبول نہیں اور نہ یہ مومن کو زیب دیتا ہے۔ حضور اکرمؐ نے ریاست مدینہ کی صورت میں جس معتدل اورانسان دوست معاشرہ کی بنیاد رکھی اس کی بنیاد ہی میں اخلاقی پہلو نظر آتے ہیں۔ان میں ایک عدل ہے اور دوسرا احسان۔عدل کا اظہار میثاق مدینہ کی صورت میں ہوا جبکہ احسان کا اظہار مواخات مدینہ کی صورت میں ہوا