اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
اللہ پاک جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے'آمین-شہادت سے قبل جب ان سے کہا گیا کہ انکو بنکر میں ہونا چاہئے تو - انہوں نے سوال کیا 'کیا بنکر اتنا بڑا ہے جس میں پورا ایران آ جائےپھر انہوں نے کہا میرا مرنا اور جینا ایرانی عوام کے ساتھ ہے-آیت اللہ علی خامنہ ای نے سنہ دو ہزار نو میں کہا تھا ’میری روح غریب ہے اور جسم نامکمل اور میرے پاس وہ تھوڑی سی عزت ہے جو آپ نے مجھے دی ہے۔ میں یہ سب انقلاب اور اسلام کے لیے قربان کر دوں گا‘۔ایران میں علی خامنہ ای کے منہ سے نکلی بات حتمی ہوتی ہے۔ وہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اپنے ملک کے رہبرِ اعلٰی ہیں۔لیکن باہر کی دنیا شاید ان کے بارے میں صرف دو چیزیں جانتی ہے: ایک تو یہ کہ ان کا نام ان کے پیشرو آیت اللہ خمینی جیسا ہی ہے اور دوسرے یہ کہ وہ اس شخص کے سائے میں جی رہے ہیں جو درجے میں ان کے کم ہیں یعنی صدر محمود احمدی نژاد۔ہم اکثر علی خامنہ ای کو امریکہ کے خلاف خطبے دیتے دیکھتے ہیں اور وہ سیاہ پگڑی اور سفید داڑھی میں ایک ایسی شخصیت لگتے ہیں جس تک رسائی ممکن نہ ہو۔علی خامنہ ای ایران کے مقدس ترین شہر مشہد میں سنہ 1939 میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے عالم بننے کا فیصلہ کیا۔ یہ ایک آسان فیصلہ نہیں تھا کیونکہ وہ شاہ محمد رضا پہلوی کے دورِ حکومت میں بڑے ہوئے۔ رضا شاہ ایک سیکولر بادشاہ تھا جو مذہب کو ایک قدیم اور مشکوک چیز سمجھتا تھا۔آیت اللہ خامنہ ای کی سوانح عمری لکھنے والے مہدی خلجی کا کہنا ہے کہ ’خامنہ ای بہت کم عمری میں صرف گیارہ برس کی عمر میں عالم بن گئے تھے‘۔بطور ایک بااثر خطیب، وہ شاہِ ایران کے ناقدین میں شامل ہوئے۔
علی خامنہ ای " زندگی، اقتدار اور اثرات آیت اللہ سید علی خامنہ ای گزشتہ کئی دہائیوں تک ایران کی سب سے طاقتور شخصیت رہے۔ وہ 1989 سے رہبرِ اعلیٰ کے منصب پر فائز تھے اور ریاستی نظام، فوج، عدلیہ اور بڑے سیاسی فیصلوں پر حتمی اختیار رکھتے تھے۔ 1979 کے انقلاب کے بعد، جس کی قیادت روح اللہ خمینی نے کی، خامنہ ای نئی اسلامی حکومت کے اہم چہروں میں شامل ہو گئے۔1981 میں وہ ایران کے صدر منتخب ہوئے۔ ان کا دور صدارت ایران عراق جنگ کے مشکل سالوں پر مشتمل تھا۔1989 میں روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد ماہرینِ مجلس نے انہیں رہبرِ اعلیٰ منتخب کیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب وہ عملی طور پر ملک کے سب سے بااختیار فرد بن گئے۔رہبرِ اعلیٰ کی حیثیت سے خامنہ ای کو مسلح افواج کی کمان-عدلیہ اور ریاستی میڈیا پر اثر اہم عہدیداروں کی تقرری-بڑے حکومتی فیصلوں پر ویٹو پاور حاصل رہی۔ ایرانی صدور آتے جاتے رہے، لیکن ریاستی پالیسیوں کی بنیادی سمت ان کے ہاتھ میں رہی۔ان کے چھ بچے ہیں، مگر خاندان عمومی طور پر میڈیا سے دور رہا-علی خامنہ ای کی زندگی طاقت، نظریے اور طویل المدتی حکمرانی کی مثال ہے۔ وہ تقریباً تین دہائیوں تک ایک ایسے نظام کے ستون رہے جس میں مذہبی اور سیاسی قیادت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ان کے حامی انہیں استحکام اور مزاحمت کی علامت کہتے تھے جبکہ ناقدین انہیں سخت گیر پالیسیوں کا ذمہ دار قرار دیتے تھے، عرصہ دراز سے امریکہ کیساتھ خراب تعلقات کی وجہ سے اسے بار بار ٹارگٹ کیا گیا لیکن کچھ ہاتھ نا اسکا، امریکا اسرائیل نے اسے جھکانے کی ہر قسم کوشش کی لیکن کچھ نا کر سکیں
اخر کار گزشتہ دن کو ایک حملے میں اس عظیم دور کا خاتمہ ہوا اور علی خامنہ ای شہید ہوگئے، اس کی شہادت کے تصدیق ایرانی سرکاری ٹی وی سے کی گئی، 40 دن کا سوگ کا اعلان کیا گیا،آیت اللہ خامنہ ای سنہ 1939 میں ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد کے ایک مذہبی خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر پر ہیں اور ان کے والد ایک غیر معروف شیعہ عالم تھے۔انھوں نے بچپن میں مذہبی تعلیم حاصل کی اور 11 برس کی عمر میں وہ ایک عالم کے طور پر اہل ہو گئے تھے۔اپنے دور کے دیگر عالموں کی طرح، ان کے کام کی نوعیت مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی بھی تھی۔بطور ایک بااثر خطیب، وہ شاہِ ایران کے نقادین میں شامل ہوئے۔ بالآخر سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے نتیجے میں ایران کے شاہ کا تختہ الٹ دیا گیا۔پولیس نے انھیں چھ مرتبہ گرفتار کیا اور انھیں تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔سنہ 1979 کے انقلاب کے ایک سال بعد، آیت اللہ روح اللہ خمینی نے انھیں تہران میں جمعے کی نماز کا امام مقرر کر دیا۔سنہ 1981 میں خامنہ ای ایران کے صدر منتخب ہوئے جبکہ سنہ 1989 میں روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد مذہبی رہنماؤں نے انھیں آیت اللہ خمینی کا جانشین مقرر کر دیاخامنہ ای بہت کم ایران سے باہر جاتے ہیں۔ وہ مرکزی تہران میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ ایک سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ ۔1980 کی دہائی میں ان پر ہونے والے ایک قاتلانہ حملے کے بعد سے خامنہ ای اپنا دایاں بازو استعمال نہیں کر سکتے ہیں۔ بالآخر سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے نتیجے میں ایران کے شاہ کا تختہ الٹ دیا گیا۔خامنہ ای کئی برسوں تک روپوش رہے اور انھیں جیل بھی کاٹنی پڑی۔
شاہِ ایران کی خفیہ پولیس نے انھیں چھ مرتبہ گرفتار کیا اور انھیں تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔سنہ 1979 کے انقلاب کے ایک سال بعد، آیت اللہ روح اللہ خمینی نے انھیں تہران میں جمعے کی نماز کا امام مقرر کر دیا۔سنہ 1981 میں خامنہ ای ایران کے صدر منتخب ہوئے جبکہ سنہ 1989 میں روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد مذہبی رہنماؤں نے انھیں آیت اللہ خمینی کا جانشین مقرر کر دیا۔آیت اللہ خامنہ ای ایران کے سب کے طاقر شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں۔خامنہ ای بہت کم ایران سے باہر جاتے تھے اور مرکزی تہران میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ ایک سادہ زندگی گزارتے تھے۔کہا جاتا ہے کہ وہ باغبانی اور شاعری کے شوقین تھے۔ سید علی خامنہ ای نے اپنی تعلیم کا آغاز چار سال کی عمر میں مکتب اور قرآن کریم کے درمیان کیا۔ انہوں نے پرائمری اسکول میں اپنی تعلیم جاری رکھی، اور کچھ قاری قرآن کی تلاوت اور تجوید کی گواہی سے مستفید ہوئے ، اور پرائمری اسکول کا مرحلہ مکمل کرنے کے بعد آپ نے سلیمان خان اسلامی مدرسہ میں دینی علوم کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔ آپ نے مدرسہ نواب کا درمیانی مرحلہ مکمل کیا۔ اس نے مقدمات اور درجات میں اپنے والد کا احسان حاصل کیا۔ ہمزمان با تحصیل ہوزوی، ہائی سکول راو ہور تو سیکنڈری ایجوکیشن۔سنہ 1334 ہجری میں آپ نے آیت اللہ سید محمد ہادی میلانی کے درس میں شرکت کی اور دو سال بعد سنہ 1336 میں آپ اپنے اہل خانہ کے ساتھ نجف گئے اور حوزہ علمیہ نجف کے مشہور اساتذہ کے اسباق میں شرکت کی لیکن آپ کے والد نجف میں رہنے پر راضی نہ ہوئے، اس لیے آپ نے ایک سال تک تعلیم حاصل کی اور ایک سال تک تعلیم حاصل کی۔ اور کروڑوں ایرانی عوام کے دلوں پر طویل عرصے تک راج کرتے ہوئے با الآخر جنت الفردوس کے سفر پر روانہ ہوگئے
تحریر و تلخیص 'سیدہ زائرہ عابدی