ہفتہ، 14 فروری، 2026

۔دلاور فگاراورعشق کا پرچہ

 

 شہنشاہِ ظرافت دلاور فگار، اردو کے ممتاز مزاح نگار اور پاکستان کے دانشور جن کا منفرد طرزِ ادائیگی بھی ان کی ایک الگ پہچان بنا، ۸ جولائی ۱۹۲۹ میں ہندوستان کے ایک شہر بدایوں میں پیدا ہوئے۔ اپنی ابتدائی تعلیم بدایوں میں ہی حاصل کی اور بعد ازاں آگرہ یونیورسٹی سے اُردو ادب میں پوسٹ گریجویشن کیا، مزید برآں انہوں نے معاشیات میں بھی ڈگری حاصل کی۔ پاکستان آنے کے بعد انہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی اور عبداللہ ہارون کالج میں درس وتدریس کے عہدے پر فائز ہوئے، جہاں اس دور میں فیض احمد فیض صاحب بطور پرنسپل تعینات تھے۔ روزگار کے سلسلے میں کراچی کے ترقیاتی ادارے کے۔ڈی۔اے میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ، ٹاؤن پلاننگ بھی منسلک رہے۔ دلاور فگار کا علمی سفر ۱۴ سال کی کم عمری سے ہی شروع ہوگیا تھا اور یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ سفر کی ابتداء ہی میں بدایوں کے مشہور شاعر   جناب ظفر یاب حسین جام نوائی کا ساتھ ملا جو کہ ان کے پڑوس ہی میں رہتے تھے اور ان کے بیٹے آفتاب ظفر اور مہتاب ظفر دلاور فگار کے دوست تھے جن کے توسط سے وہ جام نوائی صاحب سے ملے اور ان کی شاگردی اختیار کی۔ جب جام صاحب ہجرت کر کے پاکستان آگئے تو دلاور فگار نے ایک اور مشہور شاعر اور اسکالر جناب جامی بدایونی سے رہنمائی حاصل کی۔فگار صاحب کی طبعیت میں طنزو مزاح فطری طور پہ موجود تھا جو کہ ان کی سخت زندگی کے باوجود ان کے کلام میں بہت نمایاں ہے، ان کا پہلا مجموعۂ کلام “حادثے “ ان کے مشکل دنوں کی عکاسی کرتا ہے۔ بدایوں کے بلدیاتی انتخابات کے دوران فگار نے ایک طویل مزاحیہ نظم لکھی جو کہ ایک کتابچہ کی شکل میں شائع ہوئی اور اس ماحول کے حساب سے بہت مشہور ہوئی،



اور غالباً تب ہی سے فگار صاحب نے طنزو مزاح کو سنجیدگی سے اپنا اسلوب بنا لیا اور اس کے بعد ان کی نظمیں ریڈیو انٹرویو ، ماسٹر صاحب اور شاعرِ اعظم ان کی پہچان بنیں۔۱۹۶۸ تک فگار  صاحب ہندوستان کے ادبی حلقوں میں اپنی جگہ بنا چکے تھے لیکن پھر پاکستان آگئے، اپنی کتاب “انگلیاں فگار اپنی” کے دیباچہ میں انہوں نے ان حالات کا تذکرہ کیا ہے جو ان کے پاکستان آنے کا سبب بنے۔ ۱۹۷۰ کی دہائی کے عام انتخابات کے دوران پی ٹی وی نے ایک مشاعرہ ٹیلی کاسٹ کیا جس میں دلاور فگار نے اپنے مخصوص انداز سے نظم “میں اپنا ووٹ کس کو دوں” سنائی اور حیران کن کامیابی پائی، دلاور فگار کا نام راتوں رات زبان زدِ عام ہو گیا اور بعد میں ان کی نظمیں کے ڈی اے سے شکوہ، کراچی کی بس، گدھے کا قتل اور عشق کا پرچہ ان کو مقبولیت کی بلندیوں پر لے گئیں۔ دلاور فگار کا تعلق شاعروں کی اس نسل سے تھا جو شاعری کی فنی صلاحیتوں کی قدر کرتا ہے۔ انھوں نےمتناسب، طنزیہ زبان کے استعمال سے اپنے فن کو کمال بخشا ہے اور اپنے بہت سے ہم عصروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ دلاور فگار وہ مزاح نگار ہیں جنکا مزاح اتنا بر وقت محسوس ہوتا ہے جیسے کہ کل ہی لکھا گیا ہو، جیسا کہ دلاور فگار نے اپنے ایک شعر میں محاورتاً اشارہ کیا کہ “ حالاتِ حاضرہ کو کئی سال ہو گئے”۔انہوں نے ہندوستان کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش (یو پی) کے مشہور و معروف مردم خیز قصبے بدایوں کے ’حمیدی صدیقی‘ خاندان میں ماسٹر شاکر حسین کے گھر آنکھ کھولی۔ والد مقامی اسکول میں استاد تھے۔



 آپ نے اپنا پہلا شعر 14 برس کی عمر میں کہا تھا۔ بدایوں میں اعلیٰ تعلیم کا کوئی مرکز نہیں تھا، اس لیے وہاں سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی، بعدازاں 1953ء میں بی اے کیا اور پھر آگرہ یونیورسٹی سے فرسٹ ڈویژن میں اردو اور معاشیات میں ایم اے کیا۔ صرف یہی نہیں آپ انگریزی میں بھی ایم اے کرنا چاہتے تھے لیکن وہ معاش کی جدوجہد کی وجہ سے مکمل نہ ہوسکا۔ہندوستان میں ہی والد صاحب کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے، پھر جب 1968ء میں پاکستان آئے تو یہاں بھی ان کی شاعری کی بڑی پذیرائی ہوئی۔ یہاں کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ اپنی نظم ’شاعر اعظم‘ میں فیض صاحب کا عقیدت سے ذکر کرتے ہیں۔ وہ عبداللہ ہارون کالج لیاری میں بحیثیت لیکچرار کچھ عرصے تک اردو پڑھاتے رہے۔ فیض صاحب اس کالج کے پرنسپل تھے۔ درس و تدریس کے علاوہ وہ کچھ عرصہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ٹاؤن پلاننگ کے طور پر (کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی) کے ڈی اے سے بھی وابستہ رہے۔دلاور فگار من موجی، غالب اور جون ایلیا کی طرح مست اور شعر و شاعری کے نشے میں ڈوبے رہنے والے ایسے لوگوں میں سے تھے جنہوں نے سماجی اور معاشی زندگی کو بہتر بنانے اور مال و زر بنانے کی کبھی کوشش نہیں کی، وہ کچھ اور طرح کے ہی تھے۔انہوں نے ابتدا سنجیدہ غزل سے کی، اس ضمن میں وہ خود بتاتے ہیں کہ ’لوگ کہتے ہیں کہ میں طنز و مزاح نگار ہوں۔



گویا کہ طنز نگاری، شاعری یا کم از کم سنجیدہ شاعری سے الگ کوئی فن ہے۔ جہاں تک میری طنز نگاری کا تعلق ہے، یہ میری سنجیدہ شاعری ہی کی بنیاد پر مبنی ہے، ظاہر ہے کہ بالاخانے کو گراؤنڈ فلور سے الگ نہیں کیا جاسکتا‘۔آپ کی مزاحیہ شاعری کا تعارف یا آغاز بھی اتفاقی طور پر ہوا۔ وہ اپنے دوستوں کو مزاحیہ نظمیں لکھ کر دیتے تھے۔ ایک مشاعرے میں جس میں معروف فلم اسٹار دلیپ کمار مرحوم بھی موجود تھے اور اس کی میزبانی شکیل بدایونی کررہے تھے گلفام بدایونی نے دلاور فگار کی لکھی نظم پڑھی، لیکن شکیل بدایونی نے اسی مشاعرے میں گلفام سے اگلوایا کہ یہ اشعار انہیں دلاور فگار نے لکھ کردیے تھے۔ یوں شکیل بدایونی اور دوستوں کے کہنے پر دلاور فگار مشاعروں میں طنزیہ کلام خود پڑھنے لگے اور بے حد مقبول ہوئے۔بدایوں میں ہونے والے مشاعروں میں وہ ’شباب بدایوں‘ کی حیثیت سے باضابطہ شرکت کرتے رہے۔ آپ کے مزاحیہ شعری مجموعوں میں انگلیاں فگار اپنی، ستم ظریفیاں، آداب عرض، شامت اعمال، مطلع عرض ہے، سنچری، خدا جھوٹ نہ بلوائے، چراغِ خنداں اور کہا سنا معاف شامل ہیں۔دلاور فگار پاکستان آنے کے بعد درس و تدریس کے شعبے اور کے ڈی اے سے بھی منسلک رہےفگار نے اپنی زندگی میں کبھی مال و دولت جمع کرنے کی سعی نہیں کیپروفیسر ولی بخش قادری بچپن کے دوست بھی تھے اور ہم جماعت بھی۔ وہ دلاور فگار کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’وہ منکسر مزاج اور دوست نواز واقع ہوئے،

جمعہ، 13 فروری، 2026

ڈھاکہ مشرق کی وینس کہا جانے والا شہر

 بھی مشرق کا وینس کہا جانے والاڈھاکہ  شہر وسطی بنگلہ دیش میں دریائے گنگا کے مشرقی کنارے پر آباد ہے-مغل بادشاہوں نے اس شہر باغات محلات مقابر مسا جد سے  مالا مال کیا تو انگریز حکمرانوں  ،نے  شہر  کو  بجلی ریلوے ، سینما ، مغربی طرز کی یونیورسٹیز اور کالجوں اور جدید پانی کی فراہمی دی۔ یہ 1905 کے بعد مشرقی بنگال اور صوبہ آسام کا دار الحکومت ہونے کے ناطے برطانوی راج میں ایک اہم انتظامی اور تعلیمی مرکز بن گیا۔۔آدم جی جوٹ مل  یہاں کی  دنیا کی سب سے بڑی جوٹ مل تھی-آزادی کے بعد، پاکستان کی سب سے بڑی برآمد یا ایکسپورٹ، پٹ سن تھی جس کی ساری پیداوار، سابقہ مشرقی پاکستان (یا موجودہ بنگلہ دیش) میں ہوتی تھی لیکن برصغیر کی کل 108 جوٹ ملوں میں سے کوئی ایک بھی جوٹ مل پاکستان کی حدود میں نہیں آئی تھی۔پاکستان کا خام مال کلکتہ یا ڈنڈی، سکاٹ لینڈ جاتا تھا جہاں کی جوٹ اور کپڑا ملوں سے تیار شدہ مصنوعات نہ صرف دنیا بھر میں فروخت ہوتی تھیں بلکہ خود پاکستان واپس بھی آتی تھیں۔ پٹ سن کے ریشے سے جہاں عام استعمال میں آنے والی بوریاں وغیرہ بنتی تھیں ،وہاں کاغذ اور کپڑے سمیت دو سو کے لگ بھگ دیگر مصنوعات بھی تیار ہوتی تھیں۔دنیا کی سب سے بڑی جوٹ مل-15 مارچ 1950ء کو ڈھاکہ کے قریب نارائن گنج میں حکومت پاکستان اور مغربی پاکستان کے ایک نجی سرمایہ کار آدم جی صنعتی گروپ کی مشترکہ سرمایہ کاری کے تحت پانچ کروڑ روپے کے سرمایے سے دنیا کی سب سے بڑی جوٹ مل کا سنگ بنیاد رکھا گیا جو چار سو ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی تھی۔



آدم جی جوٹ ملز کا افتتاح 21 دسمبر 1951ء کو ہوا تھا۔ اس میں تین ہزار لومز اور 23 ہزار کے قریب افراد کام کرتے تھے۔ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد 1972ء میں بنگلہ دیش میں شیخ مجیب الرحمان کی حکومت نے آدم جی جوٹ ملز کو قومی تحویل میں لے لیا -ڈھاکہ ملک بنگلہ دیش کا دار الحکومت ہے۔ دریائے برہم پتر کے معاون دریا گنگا کے مشرقی   کنارے          پر  واقع اس شہر کی آبادی 90 لاکھ سے زيادہ ہے جس کی بدولت یہ بنگلہ دیش کا سب سے بڑا اور دنیا کے گنجان آباد ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ شہر پٹ سن کی بہت بڑی منڈی اور صنعت و تجارت کا مرکز ہے۔ یہاں کی ململ دنیا بھر میں مشہور تھا۔ ڈھاکہ اپنی خوبصورت مساجد کی وجہ سے بھی شہرت رکھتا ہے۔ یہ دنیا کا چھٹا سب سے بڑا اور ساتواں سب سے زیادہ گنجان آباد شہر ہے۔ مغل دور حکومت میں یہ شہر جہانگیر نگر کے نام سے جانا جاتا تھا۔ برطانوی راج میں یہ کلکتہ کے بعد ریاست بنگال کا دوسرا بڑا شہر بن گیا۔1921ء میں یہاں ڈھاکہ یونیورسٹی قائم ہوئی۔تقسیم ہند کے بعد یہ مشرقی پاکستان کا انتظامی دار الحکومت قرار پایا جبکہ 1971ء میں سقوط ڈھاکہ کے بعد 1972ء میں اسے نو آموز مملکت بنگلہ دیش کا دار الحکومت قرار دیا گیا۔---مغل دور (17ویں صدی) میں ڈھاکہ، جسے "جہانگیر نگر" کہا جاتا تھا، بنگال کا ایک اہم اور خوشحال دارالحکومت، تجارتی مرکز، اور فن تعمیر کا شاہکار تھا۔ یہ شہر اپنی ململ، مسالوں، اور دریا کے کنارے پھیلی ہوئی مصروف بندرگاہوں کے لیے مشہور تھا، جو غیر ملکی سرمایہ کاری اور ٹیکسٹائل کی پیداوار کا مرکز بنا ہوا تھانگلہ دیش میں آج کل بھی  کپڑا سازی صنعت جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی اور عالمی سطح پر معروف صنعت ہے، جو ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔


 عالمی سطح پر ’’ریڈی میڈ گارمنٹس‘‘ کے شعبے میں بنگلہ دیش چین کے بعد دوسرا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک ہے۔ یہ صنعت ملک کے مجموعی برآمدات میں تقریباً 80 فیصد جبکہ جی ڈی پی میں 11 سے 15 فیصد تک حصہ رکھتی ہےبنگلہ دیش میں کپڑا سازی صنعت کی بنیاد 1970ء اور 1980ء کی دہائی میں اس وقت پڑی جب جاپانی اور کوریائی کمپنیوں نے ملک میں کم لاگت مزدوری اور برآمدی امکانات کو دیکھتے ہوئے سرمایہ کاری کی۔ ابتدائی طور پر محدود سطح پر چلنے والی صنعت نے جلد ہی بین الاقوامی برانڈز اور یورپی منڈیوں تک رسائی حاصل کر لی-ترقی اور معاشی اہمیت-1990ء کی دہائی کے بعد بنگلہ دیشی ٹیکسٹائل شعبہ تیزی سے ترقی کرتا گیا اور آج اس شعبے سے اندازاً 4.2 ملین افراد وابستہ ہیں، جن میں 60 سے 70 فیصد خواتین مزدور شامل ہیں۔اس صنعت نے نہ صرف معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا بلکہ خواتین کو مالی خود مختاری بھی فراہم کی۔بنگلہ دیش مختلف اقسام کے تیار شدہ ملبوسات بناتا ہے، جن میں شامل ہیں:ٹی شرٹس-جینز اور ڈینم مصنوعات-سویٹر-بچوں اور خواتین کے ملبوسات-نِٹ ویئر اور اسپورٹس ویئر-صنعت کو درپیش چیلنجز-اگرچہ بنگلہ دیشی کپڑا صنعت بین الاقوامی سطح پر مستحکم ہے،


  پھر بھی  اس کو کئی اہم چیلنجز کا سامنا ہے، جیسے کہ:مزدوروں کی تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ-فیکٹریوں میں حفاظتی اقدامات کی کمی-ماحولیاتی آلودگی اور صنعتی فضلہ-عالمی منڈی میں قیمتوں کا دباؤ-2013 میں ڈھاکا کی مشہور "رانا پلازہ" فیکٹری حادثے کے بعد عالمی سطح پر بنگلہ دیشی فیکٹریوں کے حفاظتی معیار پر نظرثانی ہوئی اور ہزاروں صنعتوں نے حفاظتی تصدیق نامے حاصل کیے۔مستقبل اور پائیداری-بنگلہ دیش اب اپنی صنعت کو "گرین انڈسٹری" کی جانب منتقل کر رہا ہے۔ اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ ’’LEED (لیڈ) سرٹیفائیڈ‘‘ ماحول دوست ٹیکسٹائل فیکٹریاں بنگلہ دیش میں موجود ہیں، جس سے عالمی برانڈز کا اعتماد مزید بڑھا ہے۔عالمی منڈیاں-بنگلہ دیش کی کپڑا صنعت کی اہم برآمدی منڈیاں درج ذیل ہیں:امریکہ-یورپی یونین-کینیڈا-جاپان-برطانیہ-چین اور بھارت (خام مال کی درآمد اور مخصوص مصنوعات کی برآمد)




منہ دکھائ میں کیا دیا



اور نگین نے لمحے کے ہزارویں حصّے میں دل میں فیصلہ کیا کہ وہ دنیا کے کسی بھی فرد پر اپنی نجی زندگی کارازاس وقت تک فاش نہیں کر ے گی جب تک دنیا والوں پر خود سے حقیقت آشکار نہیں ہو جاتی ہےچنانچہ ربیکا کے جواب میں کچھ کہنے کے بجائےا س نے مسکراتے ہوئے سر جھکا لیا اور پھر ربیکا نے اسے دوبارہ گلے سےلگا کر دعاء دی سدا سہاگن رہو اور جلدی سے چاند سے بیٹے کی ماں بنو، او ر وہ سر جھکائے ہوئے ربیکا کی دعائیں لیتی رہی پھروہ اس سے مخاطب ہو کر کہنے لگی کہ،ہم سب ناشتے پر تمھارا انتظار کر یں گے ،بواجی  ناشتہ بنا رہی ہیں ،اس نے نظریں جھکائے ہوئے کہا میں ناشتے سے پہلے بابا جانی کو سلام کرنا چاہتی ہوں ربیکا اس کی سعادت مندی پر خوشی سے نہال ہو کر بولی خوشا نصیب کہ اتنی اچّھی بہو ہمارے گھر آئ ہے ،چلو میں تم کو بابا جانی کے پاس لے چلتی ہوں,ربیکا نے اس سے کہا تو جی اچھّا ! کہ کراس نے سر پر لئے ہوئے دوپٹے کا ہلکا سا گھونگھٹ نکال لیا ربیکا کے کمرے میں داخل ہوتے ہی شامیل ان دونو ں کی باتو ں کی سن گن لینےدروازے کے باہر چپ چاپ کھڑا ہو گیا تھا ،کیونکہ اس کو ڈرتھا کہ نگین کہیں اس کی  باجی سے ا س کی شکائتیں تو نہیں کرے گی لیکن نگین کوئ بھی حرف شکائت زبان پر نہیں لائ اور شامیل نے حقارت سے کہا ،

ابھی ہماری بہن کو اپنی بہو بیگم کی آوا رگی کی کہانیاں معلوم نہیں ہیں زرا معلوم ہو جائیں پھر دیکھنا ہے کہ باجی کا کیا ردعمل ہوگا اور پھر وہ نفرت سے پھنکارتا ہوا دروازے کے قریب سے ہٹ گیا  اور پھر جب وہ ربیکا کے ساتھ  با با جانی کے قریب  پہنچی تو وہ بستر پر لیٹے ہوئے تھے انہوں نے اس کی جانب دیکھا اور ایک پر مسرّت مسکراہٹ ان کے ہونٹوں پر پھیل گئ اور نگین نے ان کے قریب پہنچ کر اپنا سر جھکایا تو انہوں نے  بستر پر لیٹے لیٹے اس کے سر پر ہاتھ رکھّا  او  کے ہاتھ کے بزرگانہ لمس نے اس کے دل کے اندر ایک ہوک سی اٹھی اور بس پھر صبر کا دامن اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور اس نے باباجانی کے سینے پر سر جو ٹکا یا تو اچا نک اس کی ہچکیاں بندھ گئیں گھر میں سب کو معلوم ہو چکا تھا کہ وہ اپنے ماں باپ سے محروم ہو کر اس گھر کی دہلیز پر آئ ہے اس لئے سب ہی اس کی دلجوئ کرنے لگے بابا جانی کی آنکھیں بھی اس کے اس طرح رونے سے بھیگتی گئیں ربیکا نے اس کو اٹھانا چاہا تو خلیق احمد نے ربیکا کو منع کیا اور کہا رولینے دو غبار نکل جائے گا تو اس کا دل ہلکا ہو جائے گا ،اور وہ اپنا جھرّیوں بھرا کمزور ہاتھ  اس کے سر پر از راہ شفقت رکھے رہے ،وہ کسی سے کہ نہیں سکتی تھی کہ اس کی تمام رات پھانسی کے پھندے پر جھول کر صبح ہوئ ہے ،اور اب وہ سچ مچ مر جانے کی خواہاں ہے پھر انہوں نے ربیکا سے کہا کہ وہ ان کی میز کی اوپر کی دراز میں رکھّا مخملی ڈبّہ نکال دے ،ربیکا نے اپنے بابا جانی کو ڈبّہ دیا تو انہو ں نے کہا بیٹی اب سر اٹھا کر دیکھو یہ تمھاری منہ دکھائ میرے پاس امانت رکھی ہوئ تھی جسے شامیل کی امّی اپنی طرف سے میرے پاس  رکھواکر دنیا سے گئیںتھیں اب تمھاری یہ امانت میں تمھیں سونپ رہا ہوں،یہ شامیل کی امّی نے مجھ کو دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ شامیل کی دلہن کے لئے ہے ،تم اس کو خود کھول کر دیکھو اور اس نے جیسے ہی مخملی ڈبّہ کھولااس کی اور کمرے  میں موجود ہر فردکی آنکھیں  ہیروں کی چمک دمک سے خیرہ ہونے لگیں اور اس کو بے اختیار اپنی بڑی آپا کے ہاتھوں کے کنگن یاد آگئےربیکا نے وہ کنگن وہیں پر اس کی نازک کلائیوں میں پہنا کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور بولی مبارک ہو پھر ان  سب نے ناشتے کی میز پر آکر ساتھ میں ناشتہ کیا ،شامیل کی کر سیاس کے عین برابر میں تھی اور اس نے اپنے آپ پر کمال ضبط سے قابو پایا ہوا تھا  ناشتے کے کچھ ہی دیر بعد اس کی بڑی آپا اپنے بچّوں کے ساتھ اس سے ملنے آگئیں کیونکہ شام میں ولیمہ تھا اس لئے ا س کا میکہ کا جانا ولیمے کے اگلے دن پر رکھّا گیا تھا ولیمے کی دلہن تیّار کرنے کے لئے اس کی تیّاری کا وقت آگیا تو ربیکا اسکو ولیمے کی تیّاری کے لئےبیوٹی  پارلر چلی گئ ربیکا کے شوہر معروف نے بہت ہی کم وقت میں ولیمے کا بہت ہی اعلٰی انتظام کیا تھا ویسے تو کم وقت کی وجہ سے شادی کے کارڈ چھپنے کی نوبت نہیں آئ تھی لیکن فون پرہی تما م قریبی عزیزوں اور مہمانوں کو بلا لیا گیا تھا اور خوبئ قسمت کہ شادی لان بھی مل گیا تھا اور وہ اب بیوٹی پارلر سے دلہنبن کر تیّار ہو کے آئ اسٹیج پر اکیلی بیٹھی تھی  ,,اس کے چاروں طراف روشنی,خوشبو , اور رنگوں کی برسات رم جھم رم جھم کرتی اتر رہی تھی اور وہ اپنے اطراف کی ہر شئے سے بیگانہ اپنے آپ میں گم سم اداس اورتنہا تھی  اس کا دل  بھی اپنےآپ کو بلکل تنہا محسوس کر رہا تھا اور باہر کی تنہا الگ سے جان لیوا تھی ,اسٹیج پرکبھی کبھار ربیکا اس کے پاس مہمانوں سےتعارف کے لئے آجاتی اور کبھی     زوا لفقار کی مسز چکّر لگا لیتی تھیں ،اور شامیل نے تو بھولے سے بھی ایک مرتبہ اس کی جانب نگاہ التفات بھی نہیں ڈاالی تھی وہ مہمانو ں کو ریسیو کرنے کے بہانے باہر ہی باہر تھا پھر اچانک شور ہو ا دلہن والے آگئے دلہن والے آگئے ،اورپھر زراسی دیر میں  اس کی بہنیںسب اسٹیج پر تھیں   فریال تنویر کی ہمراہی میں اپنی جڑواں بیٹیوں کے سا تھ  لاہور سے ولیمے کی تقریب میں شامل ہونے پہنچ چکی تھی ،وہ سب سے پہلے اپنی گول مٹول گلابی رنگ کی گڑیا جیسی بیٹی کو گود میں لئے ہوئے اس کے برابر میں آبیٹھی اوربولی نگین فلائٹ نا ملنے سے ہم بارات میں نہیں آسکے پھر اس نے بڑی ہی رازداری سے نگین سے پوچھا منہ دکھائ میں کیا ملا اور فریا ل کے سوال نے نگین کو موت کے کنوئیں میں دھکیل دیا ،منہ دکھائ ،،،

جمعرات، 12 فروری، 2026

دروازے کی آہٹ پر وہ اپنے حواسو ں میں لوٹ آئ

 

  نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے بہت ہمّت کرلی تھی کہ اپنے آپ کو سنبھالا ہوا تھا مگر دل پر بھلا کس کو اختیار ہوسکتا ہے ،اور اس کا دل سینے کے پنجرے میں پھڑپھڑا رہا تھا کہ اس کو جان ودل سے ا پنا بنانے والا کبھی بھی واپس نہیں آنے کے لئے اس سے روٹھ کردنیا سے جا چکا تھا,,سو چوں کے انہی جان گسل لمحات میں ,ایجاب وقبول کے لئے مولاناصاحب طلال کے ہمراہ اس کے پاس آگئے'ایجاب و قبول کا مرحلہ شروع ہوا نصرت نگین بنت اسلام الدّین آپ کو مبلغمہر شرعی شامیل احمد ابن خلیق احمد کے ساتھ نکاح منظور ہے اور مولاناصاحب کے الفاظ پورے ہونے سے پہلے اس نے اپنے آپ کو بے ہوش ہونے سے بچایا ،اورپھر اس نے مولانا کے دوسر ی بار کے مرحلے پر پہنچنے پر آہستہ سے ہاںکہاور نکاح نامے کو اپنی موت کا پروانہ سمجھ کر سائن کر دئےاور نکاح کے بعد اس کی منجھلی آپا اور بڑی آپا نے اس کے دونو ں بازوتھام کر شامیل کے پہلو میں لا کر بٹھا دیا، اس نے نا تو اپنی نگاہیں اوپراٹھائیں اور ناہی شامیل نے اس کے پہلو کی قربت کو اپنے نزدیک پسند کیا اسلئے کچھ فاصلہ پر کھسک کر بیٹھ گیا جس کو سب نے اس کی شرم و حیا کی تعبیرجانا مووی بنتی رہی تصاویر کھینچی جاتی رہیںفو ٹو گرافر مووی میکر باربار اصر ار کرنے لگا زرا سا کلوز ہو جائیے ,,زرا سا کلوز ہو جائیے اور وہ زراسا کلوز ہوتا اور پھر دور ہوجاتا ، اور وہ بے روح کی مانند ساکت ہیرہی اور بغیر ایک آنسو بہائے رخصت ہو کرشامیل کے گھر میں سر جھکائے'جھکائے آ گئ'


اس شادی میں اس کے میکے میں ناکوئ رسمیں ہوئیں ناریتیں ہوئیں نا ڈھولک کی تھاپ پر کسی سہیلی نے کوئ سہاگ گیت گا یا ،بس منجھلی آپا ہی تو تھیں جنہوں نے اس کے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگا دی تھی اور بیوٹی پارلر لے جاکر دلہن بنوا لائ تھیں-شامیل کے ٹرپل اسٹوری گھر میں مہمان بھرے ہوئے تھے ،پہلے رسمیں ریتیں ہوئیں جن کو اس نے ایک مشینی روبو ٹ کی طرح پو را کروا لیاحالانکہ بہت کم وقت کے نوٹس پر یہ تقریب منعقد کی تھی مگر دونوں جانب سےسمجھدار لوگ اس تقریب کے کرتا دھرتا تھا ادھر سے طلال اور فرحین تھے ادھرسے ربیکا اور معروف تھے ،تمام کام سلیقے سے انجام پا گئے تھےاور اب ربیکا اور اس کی بھابھی نے اس کو حجلہ عروسی میں پہنچا دیا ان دونو ں کےکمرے سے جانے کے بعد اس نے ٹوٹے ہوئے دل کی کرچیں سمیٹ کر آہستہ سےگھونگھٹ کی اوٹ سے کمرے کا جائزہ لیا ،ہر ،ہر شے نفیس تھی ،,,,,, ہر طرف رنگوں کی خوشبوؤں کی بارات تھی کمرے کے دروازے اور کھڑکیوں پر پڑے ہوئے حریری پردے اے ,سی کی نرم خنکی اور کمرے کی چھت کے درمیان لگے ہوئے سنہرے پینٹڈ پنکھے کی ہلکی ہوا میں رات کے ماحول کو خوابناک بنا رہے تھے اور اس ماحول میں وہ اکیلی تھی رات دھیرے دھیرے سرک رہی تھی اورپھولوں سے مہکتے چپر کھٹ جیسے حسین بیڈ پرتنہا بیٹھی ہوئ اپنے حا لیہ ماضی کے لئے سوچے جارہی تھی کہ کاش جب بڑی
آپا نے اس کو رشتے کے بارے میں جاننے کے لئے اور لڑکے کی تصاویر دیکھنےکے لئے لفافہ دیاتھا تو اس نے ایک نظر کیوں نہیں دیکھ لیا ،اگر وہ دیکھ لیتی تو شائد کوئ بھی بہانہ کر کے انکار کر دیتی,



 لیکن یہ تو اس کے گمان کے لاکھویں حصّے میں بھی نہیں تھا کہ کراچی کے لڑکے کا رشتہ اس کے ساتھ پنڈی میں طے ہوگا اور شادی پھر کراچی میں ہی ہو گی اور پھر بلکل اچانک ہی اس کا زہن یعسوب کی جانب چلا گیا ،یہ شب عروسی تو اس کو اپنے خوابوں کےشہزادے یعسوب کے ساتھ منانی تھی لیکن اس کے دل کے راج محل کا شہزادہ اسکے ارمانوں کی دنیا لوٹ کر منوں مٹی کے نیچے جاسویا تھا ،پھر یعسوب زہن سے محو ہو گیا اور ایک دم شجاعت کی سوچوں نے اس کے زہن پرقبضہ کیا ,, وہ جانتی تھی کہ یعسوب اس قسم کی باتوں سے کتنا ناراض ہوتاہے اس لئے وہ یعسوب کی غیر موجود گی میں ہی اپنا ہاتھ دکھا کر قسمت کاحال جاننا چاہتی تھی ایسے میں ایک دن جب وہ زویا کے ساتھ لائبریری میں ا سٹڈی کر رہی تھی اسےجیسے ہی شجاعت لائبریری میں نظر آیا اس نے زویا کو اس کے پاس بھیج کراسے اپنے پاس بلا لیا اور شجاعت نے اس کے ہاتھ کی لکیریں دیکھ کراس سےکہا تھا کہ لڑکی ابھی بھی وقت ہے سنبھل جاؤ اپنی کشتئء حیات کو بھنور میں ڈبونے کے بجائے کنارے پر لے آؤ ،پھر شجاعت نے کہا تھا ،تمھاری محبّت کے آسمان پر مجھ کو گہن لگتا دکھائ دے رہا ہے ، روشنی کی رمق بھی نہیں ہے،اور اس نے حیرا ن ہو کر اس سے پوچھا تھا کیا مطلب؟تو اس نے جوا بدیا تھاتم ایک دوسرے کو ٹو ٹ کر چاہو گے سب کو یقین ہو گا کہ تمھاری شادی ہو گی لیکن کمند یہا ں آکے پھر ٹوٹ جائے گی پھر جو شادی ہو گی اس کا ابتدائ عرصہ بہت تلخ ہوگا اس شادی کے آسمان پربہت زیادہ غلط فہمیاں ہیں ,,بد گمانیاں ہیں,, اور دوریاں ہیں اگر اس ڈولتی کشتی کواللہ نے سنبھال لیا تو ٹھیک ہے ورنہ یہ شادی اپنے اختتام کوپہنچ جائے گی-



اور اس نے کہا تھا ارے شجاعت زرا ہولے ہولے ڈراؤاور پھر جب اس نے ناجانےکس دھن میں یعسوب کو شجاعت کی کہی ہوئ باتیں بتائ تھیں تو یعسوب نے سخت غصّے کے عالم میں کہا تھا میں شجاعت کو شوٹ کردوں گا ،لیکن تقدیر کا لکھا پورا ہو کر رہا تھا اور اس کی زندگی کے آسمان پراندھیرا پھیل چکا تھا اور پھر ابھی اس کی بے خودی کا عا لم ٹوٹا نہیں تھاکہ شامیل نے کمرے میں اپنے داخل ہونے کی آہٹ کی اور وہ اپنے حواسو ں کی دنیا میں لوٹ آئ شامیل نے اندر آ کے کمرے کے دروازے کو لاک نہیں کیا بس بند کر دیا اورپہلے وہ کمرے میں ہی اپنی پشت پر دونو ں ہاتھ باندھے ٹہلتا رہا پھر اس نےکاٹ دار لہجے میں کہاہاں! کیا ہوا تمھارے اس عاشق کا جو مجنوں بنا تمھارے پیچھے پھرتا تھا ،اور شامیل کی آواز کہیں بہت دورسے اس کے کانوں میں آ ئ اور پھر طنز کےزہر میں ڈوبا ہواایک اور نشتر اس کی جانب پھینکا ,,یہ بھی خوب رہی جب ساری رنگ رلیاں منا لیں تو دوسرا شکار تلاش کر لیااب یہ نہیں معلوم کہ اس کا دل تم سے بھر گیا یا تمھارا دل اس سے بھر گیابہر خوب ، میرے ساتھ جو تم نے یہ کھیل کھیلا ہے اس کا حساب تو میں تم سےلے کے رہوں گا اور میرے گھر کی چھت صرف بابا جانی کی زندگی تک تمھارے لئےہے,اور پھر اس نے آگے بڑھ کر الماری سے اپنا نائٹ سوٹ نکالا ،اور پھر ہاتھ میں بغیر لفافے کے کچھ تصاویر اس کی جانب اچھال کر بولا آج کی رات دلہنوں کو منہ دکھائ بھی تو دی جاتی ہے ناں! یہ تمھاری آج کی رات کی منہ دکھائ ہےاور پھر وہ کپڑے تبدیل کرنے چلا گیا ،نگین نے اس کی پھینکی ہوئ تصاویرگھونگھٹ کے اندر سے چپکے چپکے دیکھیں 

خبردار آپ کا مخاطب کا چشمہ آپ کی وڈیو بنا رہا ہے

 

سمارٹ چشمے  دنیا میں تیزی سے مقبولیت حاصل  کر رہے ہیں  بلکہ  انہیں  پہننے والی ٹیکنالوجی کا مستقبل کہا جا رہا ہے،۔ لیکن سماجی  ماہرین کہہ رہے ہیں  کہ یہ چشمے   خواتین کی پرائیویسی کو نقصان پہنچانے، ان کی توہین کرنے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کے لیے استعمال ہو  سکتے  ہیں۔ شیزی کہتی ہیں کہ ایک شخص نے ان کے علم میں لائے بغیر اور ان کی اجازت لیے بغیر سمارٹ چشمے سے ان کی ویڈیو بنائی۔ اس کے بعد وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی، جہاں اسے تقریباً 10 لاکھ بار دیکھا گیا اور سینکڑوں تبصرے کیے گئے۔ بہت سے تبصرے جنسی نوعیت کے اور توہین آمیز تھے۔ شیزی نے کہا   میرا کیا قصور تھا کہ مجھے ایک اجنبی سے راستے میں روکا اور مجھ سے کہا وہ مجھے جانتا ہے  آپ فلاں 'فلاں یو ٹیوبر ہیں   ’مجھے بالکل نہیں معلوم تھا کہ  وہ زراسی دیر میں مجھے کس طرح سے دھوکہ دے رہا ہے  ہاں تم نے صحیح پہچانا  اور وہ کچھ کہے بغیر چلا گیا ،  لیکن اس زرا سی دیر میں اس نے میری  وڈیو بنائ  - گھر جا کر  میری  اس وڈیو  کو فوٹو شاپ سے عریاں کیا  اور پیسہ کمانے کے لئے  اس کو وائرل کر دیا ۔ اس چیز نے مجھے بہت ڈرا دیا ہے۔ اب میں عوامی مقامات پر جانے سے ڈرتی ہوں۔


‘اونا کہتی ہیں کہ گذشتہ جون میں برائٹن کے ساحل پر دھوپ کا چشمہ پہنے ایک آدمی ان کے پاس آیااس شخص نے ان کا نام پوچھا، وہ کہاں سے ہیں اور کیا وہ اسے اپنا نمبر دے سکتی ہیں۔انھوں نے شائستگی سے انکار کیا اور کہا کہ ان کا بوائے فرینڈ ہے۔کچھ ہفتوں بعد انھیں ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو بھیجی گئی۔ یہ اس شخص کے ساتھ گفتگو کی ریکارڈنگ تھی جسے اس کے نقطہ نظر سے فلمایا گیا تھا۔ تب اونا کو احساس ہوا کہ وہ شخص انھیں اپنے چشموں سے فلما رہا ہے۔جو بھی سمارٹ چشمے پہنتا ہے اسے سمارٹ فون کی طرح ہی معلومات اور ایپس تک رسائی مل جاتی ہے۔ سمارٹ چشمے پہنے شخص نقشے دیکھ سکتا ہے، موسیقی سن سکتا ہے اور ویڈیو ریکارڈ کر سکتا ہے۔اونا کی ویڈیو کا سکرین شاٹ جو ٹک ٹاک سے لیا گیا ہے۔ وہ سڑک پار کر رہی ہیں اور گفتگو میں مصروف ہیں۔ ویڈیو اس شخص کے زاویے سے فلمائی گئی ہے جس سے وہ بات کر رہی ہیں،اونا کی ویڈیو تقریباً 10 لاکھ بار دیکھی گئی، ہزاروں لوگوں نے اسے لائک کیا اور سینکڑوں تبصرے کیے گئےاونا کہتی ہیں کہ ویڈیو پر ویوز بڑھتے دیکھ کر انھیں گھبراہٹ کا احساس ہونے لگاان کے مطابق ویڈیو سے یہ بھی معلوم ہو رہا تھا کہ وہ برطانیہ کے علاقے برائٹن میں رہتی ہیں، ویڈیو پر آنے والے تبصرے توہین آمیز تھے، ’یہ سب میرےاختیار سے بالکل باہر تھا اور یہی بات مجھے ڈرا رہی تھی۔‘اونا نے پولیس کو آگاہ کیا لیکن انھیں بتایا گیا کہ پولیس کچھ نہیں کر سکتی کیوں کہ عوامی مقامات پر لوگوں کی ویڈیو بنانا غیر قانونی نہیں ہے۔


اونا کہتی ہیں کہ ’ایسے واقعات ہر اس عورت کے ساتھ ہوتے ہیں جسے میں جانتی ہوںاور آپ کی  گفتگو فلمائی جا سکتی ہے اور آن لائن نشر کی جا سکتی ہے، یہ سوچنا بھی ’خوف ناک اور ڈراؤنا ہے۔‘بی بی سی نے اونا کی ویڈیو پوسٹ کرنے والے اکاؤنٹ کے مالک سے رابطہ کیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔جس شخص نے اونا کو فلمایا تھا، انھوں نے اپنے ٹک ٹاک پیج پر ایسی ہی سینکڑوں ویڈیوز پوسٹ کی ہوئی تھیں، اور وہ اکیلے ایسے نہیں جو اس طرح کا مواد بنا رہے ہیں۔ایک نوجوان لڑکی پارک میں بیٹھی ہے۔ اس کے بال سنہرے رنگ کے ہیں اور اس کے سر پر دھوپ کا  چشمہ رکھا ہے،  لندن سے تعلق رکھنے والی کیٹ بتاتی ہیں کہ سمارٹ چشمے پہنے ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان کے علم میں لائے بغیراور ان کی رضامندی لیے بغیر ان کی وڈیو بنا ئ۔وہ جم میں تھیں جب ایک آدمی ان کے پاس آیا اور ان کا نمبر مانگا لیکن کیٹ نے نمبر دینے سے انکار کر دیا۔اگلے دن اس گفتگو کی ویڈیو انھیں بھیجی گئی جو ٹک ٹاک پر اپ لوڈ کی گئی تھی۔آن لائن نشر ہونے کے چھ گھنٹے کے اندر اندر وہ ویڈیو تقریباً 50 ہزار بار دیکھی جا چکی تھی۔ ویڈیو پر کیٹ کیسی نظر آ رہی تھیں اور ان کا رویہ کیسا تھا، اس بارے میں بہت سے توہین آمیز اور نا مناسب تبصرے آئے۔گروک اے آئی کا خواتین کی نیم برہنہ تصاویر بنانے کے لیے استعمال: ’نامناسب مواد بنانے کا عمل تکنیکی خامی نہیں، کاروباری انتخاب ہے‘ہیلو! مجھے آپ کی ایک تصویر ملی ہے۔ 

۔‘: واٹس ایپ پر آنے والا پُراسرار پیغام جو اکاؤنٹ ہیک ہونے کا باعث بن سکتا ہےکیٹ نے بتایا، ’ایسا لگا مجھے الٹی آ جائے گی۔ میں پریشان ہوں، انٹرنیٹ پر لوگ میری نقلیں اتار رہے ہیں، میرا مذاق اڑا رہے ہیں، یہ سمجھے بغیر کہ جو کچھ ہوا اس میں میری رضامندی شامل نہیں تھی۔‘کیٹ کہتی ہیں کہ انھیں اس شخص پر سخت غصہ ہے جس نے انھیں فلمایا، ’یہ سب آن لائن سستی توجہ لینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ پھر آپ کو گندے تبصرے ملتے ہیں جس سے آپ کا اعتماد اور عزت نفس متاثر ہوتے ہیں۔‘کیٹ نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا کہ دو بار ان پر جنسی حملہ ہو چکا ہے، ’کبھی آپ کو لگتا ہے آپ کی ذہنی صحت بہتر ہو رہی ہے، لیکن پھر اس طرح کے واقعات سب کچھ الٹ دیتےہیں 
یہ تحریر میں نے انٹرنیٹ سے لی ہے

بدھ، 11 فروری، 2026

کیا بسنت کا موسم آیا ہے ؟

 

 
    موسم بہار کی آمد پر پانچ فروری کو لاہور اور پاکستان کے دیگر شہروں میں بسنت کا تہوار منایا جارہا ہے۔ جہاں پنجاب میں یہ سرکاری سطح پر بھی منایا جاتا ہے، وہیں سرحد کے معاشرے میں بسنت منانے کا رواج نہیں ہے۔ اس موقع پر چاروں طرف آسمان پتنگوں سے بھر جاتا ہے، رات کو سفید پتنگیں اور دن میں رنگ برنگی پتنگیں آسمان کے حسن میں اضافہ کرتی ہیں۔ محرم کی آمد کے سبب اس سال بسنت کا یہ تہوار جو پہلے فروری کےدوسرے یا تیسرے ہفتے میں منایا جاتا تھا اس سال پہلے ہفتے ہی میں منایا جارہا ہے۔بسنت کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اس موقع پر بہت لوگ ہلاک یا زخمی بھی ہوجاتے ہیں۔ ہلاکتیں عام طور پتنگ کٹ جانے کے بعد پیش آنے والے حالات کے باعث پیش آتی ہیں۔ پتنگ جب تک اڑتی ہے تب تک وہ زندگی کی علامت ہے اور جب اس کی ڈور کٹ جاتی ہے تو کبھی کبھی وہ موت بن کرگرتی ہے۔کٹی پتنگ کے ساتھ اگر دھاتی تار ہو تو خون خشک کرنےاورجھلسا دینے والا کرنٹ جان لے لیتا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی موت کا کھیل بن گئی ہے۔ دھاتی تار والی پتنت پر پابندی عائد ہے۔ صوبہ سرحد میں بسنت منانے کا رجحان نہیں ہے۔کیا اسلام میں تفریح پر کوئی پابندی ہے؟ پشاور یونیورسٹی کے اسلامک سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا ہے: ’اسلام تفریع پر کوئی پابندی نہیں لگاتا بس صرف اس کے لئے چند اصول اس نے وضع کیے ہیں، اگر ان کے اندر رہ کر تہوار منائے جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اسلام تو تیر اندازی جیسے شوق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے


۔‘دورِ مغلیہ میں تصوف کے پیروکار بسنت کے موقع پر پیلے کپڑے پہنتے تھے، پیلے پھولوں سے سزاتے تھے، اور رات دن قوالیاں گاتے اور سنتے تھے۔ بسنت کی تاریخ میں صوفیوں کی شراکت رہی ہے۔ آج کل پاپولر مذہبی رہنما ماڈرن پاکستان میں بسنت کی ہندو تہوار کی حیثیت سے مذمت کرتے ہیں۔ یہ رکنا چاہئے تھا۔ تاریخی اعتبار سے لاہور وہ شہر ہے جہاں پتنگ بازی عام ہونے لگی لیکن مجھے نہیں معلوم کہ یہ کب سے امراء کے مشغلہ بن گئی۔پنجاب کی اکثریت اس وقت اسلام سے دور ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے آرمی میں ان لوگوں کی اکثریت کے باوجود ہروہ کام جو ملک کو تباہی کے دہانے پر لائے جارہا ہے وہ پروموٹ کیا جارہا ہے، مجھ کو پاکستانی ہونے پر شرم ہے۔کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ ایک پاکستان میں دو پاکستان ہیں۔ غریبوں کا الگ پاکستان، امیروں کا الگ۔ اس جیسے خودساختہ تہواروں سے بےشک امیر لوگوں کو تفریح کا موقع ہاتھ آتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ غریب لوگ مزید احساس محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔ایک طرف تو ہم کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہزاروں لوگ تنگ دستی اور بےروزگار سے تنگ آکر خود کشی کرنے پر مجبور ہیں۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو لوگ روپئے کو پتنگ بناکر ہوا میں اڑا رہے ہیں۔ کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ ایک پاکستان میں دو پاکستان ہیں۔



 غریبوں کا الگ پاکستان، امیروں کا الگ۔ اس جیسے خودساختہ تہواروں سے بےشک امیر لوگوں کو تفریح کا موقع ہاتھ آتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ غریب لوگ مزید احساس محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔میرے خیال میں اگر مجھے کوئی چیز پسند نہیں تو کوئی بھی اس کو پسند نہ کرے۔ یا تو قدرت کا نظام ہی روزی دینے کا، جو لوگ اپنا بخار بھی کسی کو نہ دیں وہ بسنت والے دن ہزاروں روپئے خرچ کرتے ہیں اور اس دن اربوں روپئے خرچ ہوتے ہیں۔ کتنوں کا روزگار لگا ہوا ہے۔بی بی سی انڈائریکٹلی بسنت کو پروموٹ کررہی ہے، ورنہ اس کو میڈیا میں لانے کا کیا مقصد ہے۔ یہ پبلسٹی کا بہت اچھا طریقہ ہے۔ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔اگر جناب قبلہ ایاز صاحب اس کو جائز قرار دے رہے ہیں تو وہ اپنا قبلہ درست کریں۔ وہ سلطان پرویز مشرف غزنوی کا ایاز نہ بنیں۔ یہ حرام کی کمائی سے کھیلا جانے والا امیروں کا کھیل ہے۔ جس میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بیہودہ حرکات و سکنات سے لوگوں کو متوجہ کرنے کی وکشش کرتے ہیں۔ یہ نام نہاد مشرفِزم کو ہوا دیے کے لئے کیا جارہا ہے۔اسلام میں انٹرٹینمینٹ منا نہیں۔ لیکن انٹرٹینمینٹ تہذیب کے دائرے میں ہونی چاہئے۔اس کو سرکاری سطح پر منانا صحیح نہیں ہے۔ یہ غریب لوگوں کا انٹرٹینمینٹ تھا جسے گیارہ ستمبر کے بعد کے روشن خیالوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ہائیجیک کرلیا ہے۔پہلے تو اس کو ہم لوگ جشنِ بہاراں کا نام دیتے تھے لیکن اب ہم نے بسنت کہنا شروع کردیا ہے، یعنی کہ بہار کی آمد بہت ہی فضول رسم سے کرتے ہیں۔۔۔۔



یہ کام کافروں کا ہے مسلمانوں کا نہیں جو لوگ اللہ کے حکم کے آگے کاروں کو فالو کرتے ہیں ان کو اس کی سزا مرنے کے بعد بھگتنی پڑے گی اور جب کوئی اس گندے کام کو کرتے  اسلام کسی بھی قسم کی تفریح سے نہیں روکتا۔ بشرطیکہ یہ تفریح کسی کی جان، مال یا عزت کو داؤ پر لگاکر نا حاصل کی جائے۔ اسی طرح بسنت کے لئے بھی اسلام میں کوئی منادی نہیں ہے لیکن اس کے لئے ضابطۂ اخلافق ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ اول تو اس کھیل کو آبادی سے باہر منتقل کردیا جائے تاکہ دھاتی ڈور سے شہ رگ کٹنے کے واقعات نا ہوں اور نہ ہی کرنٹ لگنے کے واقعات ہوں۔ بسنت ہندو دھرم کا مخصوص تہوار ہے، جو ہزاروں سال سے اُن کی عید کے طور پر معروف چلا آرہا ہے، اس دن اِن کے ہاں طرح طرح کے کھانے پکاکربرہمنوں کوکھلائے جاتے تھے،مستند مؤرخ وریاضی دان ابوریحان البیرونی کہتے ہیں:”اسی مہینے ( یعنی بیساکھ) میں استواء ربیعی ہوتا ہے جس کا نام بسنت ہے، حساب سے اس وقت کا پتہ لگا کر اس دن عید کرتے اور برہمنوں کو کھلاتے ہیں ۔”بہار کے پہلے ہفتے جب کھیتوں میں سرسوں کے پیلے پھول لہرانے لگتے ہیں تو یہ لوگ زرد کپڑے پہنتے ہیں ، پیلے چاول کھاتے ہیں ، بھنگڑا ناچ ہوتا ہے، یہ تہوار مناکر اپنی دیوی”سرسوتی” اور دوسری دیویوں اور دیوتاؤں کو یہ لوگ خراج تحسین پیش کرتے ہیں 

پیر، 9 فروری، 2026

امجد اسلام امجد -اگر کبھی میری یاد آئے

 

 اگر کبھی میری یاد آئے
تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں
کسی ستارے کو دیکھ لینا
 ا مجد اسلام امجد-ایک  عالمی  اور  پاکستانی  شہرت یافتہ اردو شاعر، ڈراما نگار، گیت نگار، کالم نگار تھے۔ 50 سال پر محیط کیریئر میں انھوں نے ستر سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ انھیں اپنے ادبی کام، شاعری اور ٹی وی ڈراموں کے لیے بہت سے اعزازات ملے، جن میں تمغہ حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز اور ہلال امتیاز شامل ہیں۔سوانح۰امجد اسلام کی پیدائش 4 اگست 1944 کو لاہور میں ہوئی۔ انھوں نے اسلامیہ کالج لاہور سے بی۔ اے کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی            سے اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔  انھوں نے اپنے کیریئر کے آغاز ایم اے او کالج لاہور کے شعبہ اردو میں استاد کی حیثیت سے کیا۔ 1975ء اور 1979ء کے درمیان امجد پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے ڈائریکٹر رہے۔  1989ء میں انھیں اردو سائنس بورڈ کا ڈائریکٹر بنادیا گیا۔ انھوں نے چلڈرن لائبریری کامپلیکس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں۔اعزازات امجد اسلام امجد کو ان کی ادبی خدمات کی وجہ سے انھیں تمغائے حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔


امجد اسلام امجد ادبی محفلوں کی جان تھے اور اردو ادب کا مان بھی۔ ادب کے کئی شعبوں میں اپنے تخلیقی رنگ دکھائے۔ 40 سے زیادہ کتابیں لکھیں، تراجم کئے، کالم لکھے، نقاد اور ڈرامہ نگار کے حوالے سے نام کمایا، غزلیں تخلیق کیں اور جدید نظم نگاری کے موجد          قرار پائے۔ پی ٹی وی پر ان کے ڈراموں نے تو ہر طرف دھوم مچا دی ۔ پاکستان ہی نہیں بھارت میں بھی ان کے ڈرامے اتنے شوق سے دیکھے جاتے تھے کہ سڑکیں ویران اور بازار سنسان نظر آتے تھے۔  ۔ ان کی طبیعت میں زندہ دلی، شگفتگی تھی۔ وہ جس محفل میں بھی ہوتے وہاں قہقہے       گونجتےتھے۔پروڈیوسر ساحرہ نے ان سے سیریزکیلئے ''برزخ‘‘ کے نام سے ایک ڈرامہ لکھوایا۔ اسی سلسلے میں ''موم کی گڑیا‘‘ کے نام سے دوسرا ڈرامہ بھی ان کا ہی لکھا ہوا تھا۔انہوں نے 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں سرکاری ٹی وی کیلئے متعدد ایسے ڈرامے تحریر کیے جنہوں نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ یہ وہ ڈرامے ہیں جو شاید ہی کبھی ناطرین کے ذہنوں سے محو ہو سکیں۔ ان کے مقبول ترین ڈراموں میں وارث، دہلیز، سمندر، وقت، رات، فشار، دن، ایندھن سمیت دیگر شامل ہیں۔


 ان کی برجستگی، جملے بازی اور مزاح مشہور تھا۔ ان کے کالم میں تازہ کاری تھی اور توانائی بھی۔نہوں نے اپنے ڈراموں اور تصانیف کے ذریعے ایک نسل کی فکری آبیاری کی۔ ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں بہت سے ملکی اور غیر ملکی ایوارڈز سے نوازا گیا حکومت پاکستان نے انہیں 1987 میں تمغہ حسن کارکردگی اور 1998 میں ستارہ امتیاز سے نوازا۔ پانچ مرتبہ ٹیلی ویژن کے بہترین رائٹر، 16 گریجویٹ ایوارڈز حاصل کئے۔ 2019 میں انہیں ترکی کے اعلیٰ ثقافتی اعزاز نجیب فاضل انٹرنیشنل اینڈ کلچرل آرٹس سے نوازا گیا۔  اپنے کیریئر کا آغاز شعبہ تدریس سے کیا۔ پنجاب آرٹس کونسل، اردو سائنس بورڈ اورچلڈرن لائبریری کمپلیکس سمیت متعدد سرکاری اداروں میں سرکردہ عہدوں پر ذمہ داریاں نبھائیں۔مصروف ہونے کے باوجود تسلسل کے ساتھ درس و تدریس کے شعبے سے بھی جڑے رہے ، ان کی خاص بات تھی کہ وہ استاد کی حیثیت سے کتاب سامنے رکھ کر نہیں پڑھاتے تھے۔انہوں نے کہا کہ امجد اسلام امجد نے اپنی زندگی میں لاتعداد نوجوانوں کو پڑھایا ، وہ صرف زبان ہی نہیں سکھاتے تھے، بلکہ اس کو تخلیقی انداز میں استعمال کرنے کی ترغیب بھی دیتے تھے۔ ان کی تعلیم کی جانب ماڈرن اپروچ نے انہیں ہردل  عزیزی کی اونچی دہلیز پر لا کھڑا کیا تھا 


 اردو ادب کے فروغ کے لئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے قریبی      دوستوں کا کہنا ہے کہ مشاعرے کی روایت میں غزل سنائی جاتی ہے لیکن امجد اسلام امجد یہاں بھی اپنی الگ راہ بنانے والوں میں شامل تھے۔وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مشاعروں میں نظمیں سنانے میں ایسی کامیابی حاصل کی کہ اکثر ان کی نظمیں سامعین کو یاد ہوتی تھیں اور ان کے ساتھ ساتھ انہیں پڑھا کرتے تھے۔ایوب خاور کے بقول امجد اسلام امجد غزل کے تو اچھے شاعر تھے ہی، نظم اور نغمہ نگار ی میں بھی انہیں کمال حاصل تھا۔ ایک زمانےمیں ترقی پسند شاعر ی کی طرف رجحان ہونے کی وجہ سے ان کی شاعری میں ایک اور زاویے کا اضافہ ہوگیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مشاعروں میں نظمیں سنانے میں ایسی کامیابی حاصل کی کہ اکثر ان کی نظمیں سامعین کو یاد ہوتی تھیں اور ان کے ساتھ ساتھ انہیں پڑھا کرتے تھے۔ایوب خاور کے بقول امجد اسلام امجد غزل کے تو اچھے شاعر تھے ہی، نظم اور نغمہ نگار ی میں بھی انہیں کمال حاصل تھا۔ ایک زمانےمیں ترقی پسند شاعر ی کی طرف رجحان ہونے کی وجہ سے ان کی شاعری میں ایک اور زاویے کا اضافہ ہوگیا تھا۔
اور پھر قانون قدرت کے مطابق     انہوں نے دائ  اجل کو لبیک  کہا اور لاہور کی  زمین میں  خاک   کی چادر اوڑھ  کر سو گئے  تاریخ وفات:10 فروری 2023ء 
 

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

۔دلاور فگاراورعشق کا پرچہ

    شہنشاہِ ظرافت دلاور فگار، اردو کے ممتاز مزاح نگار اور پاکستان کے دانشور جن کا منفرد طرزِ ادائیگی بھی ان کی ایک الگ پہچان بنا، ۸ جولائی ۱...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر