Zairas Blog World
Knowledge about different aspects of the world, One of the social norms that were observed was greetings between different nations. It was observed while standing in a queue. An Arab man saw another Arab man who apparently was his friend. They had extended greetings that included kisses on the cheeks and holding their hands for a prolonged period of time. , such warm greetings seem to be rareamong many people, . this social norm signifies the difference in the extent of personal space well.
پیر، 23 فروری، 2026
پنجاب کے سیاسی ڈیروں کی پہچان -موڑھے یا مونڈھے
اتوار، 22 فروری، 2026
جب ایک محنت کش کی مامتا جیت گئ
خادمة اور علاج بالصدقةصدقہ جاریہ کا ایک خوبصورت اور سچا واقعہ، جو سعودی عرب کے ایک گھر میں پیش آیا۔ جس کی برکت ایسے ظاہر ہوئی کہ دنیا حیران رہ گئی۔ یہ واقعہ درجنوں عرب ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوا۔ ہم صحيفة الاقتصادية كے حوالے سے اسے نقل کررہے ہیں۔واقعہ سے قبل ایک حدیث پڑھ لیں: داووا مرضاكم بالصدقة اپنے بیماروں کا علاج صدقے سے کیا کرو۔انڈونیشیا سے خادمات کا سعودیہ میں آنا عام سی بات ہے۔ سعودی گھرانوں میں ہزاروں کی تعداد میں انڈونیشی خادمات کام کرتی ہیں۔ ایک سعودی گھرانے نے خادمات مہیا کرنے والے ریکروٹنگ ایجنٹ کی معرفت خادمہ بلوائی۔ خادمہ نے گھر میں کام کرنا شروع کر دیا۔گھر کی مالکن نے چند دن کے بعد غور کیا کہ خادمہ چپ چاپ اور اداس سی رہتی ہے۔ اس نے محسوس کیا کہ یہ چھپ چھپ کر روتی بھی رہتی ہے۔ سعودی عرب میں ابھی اسے ہفتہ دس دن ہی گزرے تھے۔ کسی نے اسے کچھ کہا بھی نہیں پھر یہ کیوں روتی ہے؟ ایک دن سعودی مالکن نے خادمہ کو اپنے سامنے بٹھا لیا۔ اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگی: میری بیٹی! بتاوٴ تم ہر وقت روتی کیوں رہتی ہو؟ ہر وقت تمہاری آنکھیں سوجی رہتی ہیں۔ خادمہ نے حوصلہ پا کر اشاروں سے اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بتایا: میں ایک مدت سے سعودی عرب آنے کی کوشش کر رہی تھی۔
ہفتہ، 21 فروری، 2026
کراچی عروس البلاد سے کھنڈر بننے تک کا سفر
جمعہ، 20 فروری، 2026
اشفا ق احمد پاکستان کی مایہء ناز شخصیت
بدھ، 18 فروری، 2026
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا 'علم کی شمع فروزاں
منگل، 17 فروری، 2026
پلہ مچھلی مچھلیوں کی ملکہ
پیر، 16 فروری، 2026
باب خیبر پاکستان کا خوبصورت چہرہ
جمرود کے مقام پر درہ خیبر کی تاریخی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے لیے جون 1963ء میں شارع پر ایک خوبصورت محرابی دروازہ ’’باب خیبر‘‘ تعمیر کیا گیا۔ یہ سطح سمندر سے 1066 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس دروازے پر مختلف تختیاں بھی نصب کی گئی ہیں، جن پر درہ سے گزرنے والے حکمرانوں اور حملہ آوروں کے نام بھی درج ہیں۔ درہ خیبر تاریخی، جغرافیائی اور محل وقوع کے لحاظ سے بے نظیر ہے۔ اسے برصغیر کا دروازہ کہا جاتا ہے، جو پشاور کے عین مغرب میں واقع ہے۔سلسلہ کوہ سلیمان، جو کوہ ہمالیہ کی شاخ ہے، سطح مرتفع سے شروع ہوتا ہے، اس سلسلے کی پہاڑیاں اور وادیاں خیبر پر پہنچ کر ایک ہو جاتی ہیں۔ اصل درہ قلعہ جمرود سے شمال مغرب میں تقریباً تین میل پر شروع ہوتا ہے اور کوئی 23 میل طویل ہے۔ درہ خیبر ویران و بے گیاہ اور دشوار و ہموار چٹانوں سے گزرتا ہوا علی مسجد کے قریب آکر رفتہ رفتہ تنگ ہوجاتا ہے اور مناظر بھی یکسر بدل جاتے ہیں۔ اس کے بعد درہ بَل کھاتا ہوا انتہائی بلندی پر لنڈی کوتل کی سطح مرتفع (3,518 فٹ) تک جا پہنچتا ہے۔ یہاں سے سڑک نشیب کا رُخ کرتی ہے اور شنواری علاقے سے گزرتی ہوئی طورخم پہنچتی ہے۔ اس جگہ ڈیورینڈ لائن (پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیاسی اور بین الاقوامی حد) دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے۔ جمرود سے اس کا فاصلہ تقریباً 33 کلومیٹر ہے
۔ پشاور سے کوئی پانچ دس منٹ کی مسافت پر واقع باب خیبر سے کابل جایا جا سکتا ہے۔ باب خیبر افغان سرحد سے متصل پاکستان کی ایک خوبصورت محرابی دروازہ ہے جسے دیکھنے دنیا بھر کے سیاح جوق در جوق آتے ہیں ایک ایسی علامت ہے جو دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بن چکی ہے۔درہ خیبر کی تاریخ اور سیاسی اہمیت کا اندازہ اسی ایک بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر یہ درہ نہ ہوتا تو آج برصغیر پاک وہند کی تاریخ بالکل ہی مختلف ہوتی۔ بظاہر یہ کوئی وادی گل پوش ہے نہ دلکش سیر گاہ، اس میں گنگناتے آبشار اور چشمے ہیں نہ خو ش منظر باغات، تاہم دنیا کے کونے کونے سے سیاح درہ خیبر دیکھنے آتے ہیں۔ وہ اس دشوار گزار اور پرپیچ پہاڑی راستے کی سیاسی اور جغرافیائی اہمیت کو جانتے ہیں۔ یہ درہ ہمیں مہم جوئی پر اکساتا ہے ہمارے خون کو حرارت اور دل کو ولولہ تازہ عطا کرتا ہے درس عمل دیتا ہے اور کچھ کارنامہ کر گزرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ درہ خیبر نے تاریخ میں اتنے زیادہ حملے دیکھے اور برداشت کئے ہیں جو ایشیاء کے کسی اور مقام بلکہ دنیا کے کسی اور علاقے نے ہر گز نہیں دیکھے جہاں سورج اور ہوا میں ایسی تاثیر ہے جو ان مردان کہستان کو الجھنے، بڑھنے اور مرنے مارنے پر اکساتی ہے۔ وہ اپنی آزادی کے تحفظ کا راز جانتے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ جو قوم اپنی ناموس کے لیے مرنا نہیں جانتی۔ وہ مٹ جایا کرتی ہے۔
مشہور زمانہ ڈیورنڈ لائن درہ خیبر کے بلند پہاڑوں سے گزرتی ہوئی اپنا طویل فاصلہ طے کرتی ہے یہ دنیا کا مشہور درہ سلسلہ کوہ سلیمان میں پشاور سے ساڑھے 17 کلو میٹر(11 میل) کے فاصلے پر قلعہ جمرود سے شروع ہوتا ہے اور تورخم (پاک افغان بارڈر)56 کلو میٹر (35 میل) تک پھیلا ہوا ہے برصغیر جنوبی ایشیاء کے وسیع میدانوں تک رسائی کے لیے چاہے وہ نقل مکانی کی خاطر ہو یا حملے کی، اس درے نے ہمیشہ تاریخ کے نئے نئے ادوار قائم کئے ہیں۔ یہ درہ قوموں، تہذیبوں، فاتحوں اور نئے نئے مذاہب کی بقاء اور فنا عروج اور زوال کی ایک مکمل تاریخ ہے ایک ریلوے لائن جو فن انجینئرنگ کا شاہکار ہے- میٹر3500 فٹ اونچے درے میں سے گزرتی ہے اور لنڈی کوتل پر ختم ہو جاتی ہے جو پشاور سے 52 کلو میٹر(32 میل) دور ہے۔ تورخم تک پختہ سڑک جاتی ہے۔ تورخم میں سیاحوں کے لیے ایک ہوٹل بھی قائم ہے اس کی لگژری کوچز، درہ خیبر تک چکر لگاتی رہتی ہیں۔ یہاں پہاڑی سلسلہ کبھی تو اتنا کشادہ ہو جاتا ہے کہ گزر گاہ ڈیڑھ کلو میٹر (ایک میل) ہوتی ہے اور کبھی اتنا تنگ کہ صرف 16 میٹر(52 فٹ) رہ جاتی ہے یہاں کی ریلوے لائن عجائبات میں شمار ہوتی ہے۔ جو مسلسل سرنگوں میں سے گزرتی ہوئی۔ انتہائی پیچیدہ راستوں اور پلوں کو پار کرتی ہوئی سرحد افغانستان تک پہنچتی ہے
بہرحال یہ درہ خیبر ماقبل تاریخ سے آج تک اقوام عالم کی گزر گاہ رہا ہے اور تاریخ کے صفحات پر اس کے انمٹ نقوش ثبت ہیں۔ مشہور زمانہ ڈیورنڈ لائن درہ خیبر کے بلند پہاڑوں سے گزرتی ہوئی اپنا طویل فاصلہ طے کرتی ہے اور ہمیشہ ایسی کشمکش کو دھراتی ہے جس سے اس درہ کے دونوں طرف کے ممالک متاثر ہوتے ہیں۔ درہ خیبر، جس علاقے میں واقع ہے اسے خیبر ایجنسی کہا جاتا ہے یہ قبائلی علاقہ’’یاغستان‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ قبائلی عوام اب تک اپنی قبائلی علاقے کی قدیم روایات کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کے اپنے قانون اور دستور ہیں۔ ان کے تمام مقدمات اور معاملات قبائلی جرگوں میں طے کئے جاتے ہیں۔ پولیٹیکل ایجنسی کا حاکم پولیٹیکل ایجنٹ کہلاتا ہے۔ پولیس کے بجائے ایجنسی میں خاصہ دار اور خیبر رائفلز کے جوان امن و امان قائم رکھنے میں مدد دیتے ہیں خیبر ایجنسی اور تیراہ کے بیسیوں مقامات ایسے ہیں جنہیں مقامی لوگوں کے سوا اب تک کوئی دیکھ نہیں پایا۔ کسی بیرونی شخص کو وہاں جانے کی اجازت نہیں، نہ ہی قبائلی اپنے اندرونی معاملات میں کسی کی مداخلت کو پسند کرتے ہیں۔ خیبر ایجنسی میں پولیٹیکل تحصیلوں لنڈی کوتل، جمرود اور باڑہ پر مشتمل ہے اس کا رقبہ کوئی 995 مربع میل ہے اس علاقے کا انتظام براہ راست وفاقی حکومت کے تحت ہے۔
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
پنجاب کے سیاسی ڈیروں کی پہچان -موڑھے یا مونڈھے
اگر آپ راولپنڈی اسلام آباد سے جی ٹی روڈ کے راستے سفر کریں تو دریائے جہلم پار کرنے کے بعد آپ کو سڑک کے اطرف میں مچھلی فروشوں کے ڈھابوں کے ب...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...
-
نام تو اس کا لینارڈ تھا لیکن اسلام قبول کر لینے کے بعد فاروق احمد لینارڈ انگلستانی ہو گیا-یہ سچی کہانی ایک ایسے انگریز بچّے لی...