جمعرات، 5 فروری، 2026

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

 



چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل طویل تھا۔ مائوزے تنگ کی لاکھوں مزدوروں اور کسانوں پر مشتمل ''پیپلز لبریشن آرمی'' تھی، جس کے پاس کوئی اسلحہ تو درکنار غذا اور سفر کی بنیادی سہولیات تک نہ تھیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس مارچ میں دو لاکھ افراد شریک تھے اور منزل پر پہنچتے تک اس کے شرکا صرف چالیس ہزار رہ گئے، باقی لوگ بھوک اور نامساعد حالات کا شکار ہوگئے۔ اس مارچ کو روس کی حمایت ضرور تھی، مگر روس خود ابھی انقلاب کے بعد سنبھل رہا تھا، لہٰذا مائو کو گوریلا کارروائیوں کا سہارا بھی لینا پڑا۔ فوج سے چھینے گئے سامان سے سرخ فوج کا شعبۂ مواصلات قائم کیا گیا۔ کسانوں کو پہلی مرتبہ چاقوئوں سے مسلح کیا گیا۔ بظاہر تجارت کی غرض سے مغربی اقوام چین میں وارد ہوئیں اور حالات اپنے موافق دیکھے، تو طاقت کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے اور سیاسی معاملات میں مداخلت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ انیسویں صدی میں یہ مہم شدید تر ہوگئی۔ یہاں تک کہ انگریزوں سے تجارتی معاملات پر مڈبھیڑ ہوئی اور انگریزوں نے چین کے علاقے ہانگ کانگ پر قبضہ کر لیا۔ یوں یہ استحصال بڑھتا ہی چلا گیا۔ 1840ء میں انگریزوں اور فرانسیسیوں نے چین کو بہ زور زیرنگیں کرلیا۔ 1894 ء میں چین کی جاپان سے جنگ نے مشکلات مزید بڑھا دیں۔ 


 سامراجیوں کی توسیع پسندی پر چینی عوام نے باقاعدہ مزاحمت کی اور حریت پسندی کا عَلم بلند کیا، مگر انہیں کچل دیا گیا اور اب چین سے باقاعدہ کسی مفتوحہ ملک جیسا برتائو کیا جانے لگا۔1905ء میں چینی راہ نمائوں نے نظام حکومت کی اصلاح کی خاطر پارلیمانی نظام کا مطالبہ کیا۔ بالآخر 1909ء میں صوبائی اور 1910ء میں قومی سطح پر منتخب ایوان قائم کیا گیا۔ قومی اسمبلی کے نصف ارکان منتخب، جب کہ نصف نام زَد تھے۔تاہم انہیں ابھی قانون سازی کا اختیار نہیں دیا گیا۔ یہ وعدہ کیا گیا کہ قانون سازی 1913ء میں کی جا سکے گی۔ فوری قانون سازی کے مطالبے کے ساتھ خاندانی حکومت کے خلاف بھی تحریک زور پکڑنے لگی۔جنگ کے ساتھ انہیں سخت موسم اور فاقہ کشی کا بھی سامنا تھا، اور یہ عوامل بھی ان کی اموات کا سبب تھے۔ تمام مفتوحہ علاقوں کی زمینیں کسانوں میں بانٹ دی جاتی تھیں۔ چین کے کروڑوں غریبوں نے سرخ فوج کا قول و فعل دیکھ لیا تھا۔ اب ان کو متنفر کرنا مشکل تھا، ان کی فوج کا حجم بڑھتا ہی چلا گیا۔مائوزے تنگ کی قیادت میں اشتمالیوں نے فتوحات حاصل کرنا شروع کیں اور چیانگ کی حکومت جزیرہ فارموسا میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئی۔ یکم اکتوبر 1949ء کو پورے چین پر کمیونسٹوں کا قبضہ ہو گیا اور عوامی جمہوریہ چین کا قیام عمل میں آیا۔عوامی جمہوریہ چین کو دنیا بھر کے ممالک نے تسلیم کر لیا، مگر امریکا 22 برس تک اس کا انکاری رہا۔ چیانگ کائی شیک کی حکومت جزیرہ تائیوان تک محدود تھی۔ امریکا تائیوان کی حکومت ہی کو چین کی نمائندہ حکومت قرار دیتا رہا۔ اسی بنا پر چین کو اقوام متحدہ کی رکنیت بھی نہ ملی۔ جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل میں بھی چین کی رکنیت بدستور تائیوان کو حاصل رہی۔ 1971ء میں واشنگٹن نے بیجنگ کو تسلیم کیا اور یوں 25 اکتوبر 1971ء کو عوامی جمہوریہ چین کو جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کا رکن بنایا گیا۔1911



 میں    پھر چین کے جمہوریت پسندوں نے باقاعدہ بغاوت کردی، جس کے نتیجے میں شہنشاہ تخت سے دست بردار ہو گیا اور جمہوریت کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔ چینی راہ نما سن یات سین (Sun Yat-sen) نے عارضی حکومت قائم کی اور پارلیمان نے عارضی دستور نافذ کیا۔ سن یات سین نے قومیت، جمہوریت اور اشتراکیت کے اصول کو اپنے لائحہ عمل کی آس قرار دیا، تاکہ قومی آزادی، نسلی اتحاد اور سیاسی مساوات اور کاشت کاروں اور مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے اور اپنے ان اصولوں کو روبہ عمل لانے کے لیے ایک نئی جماعت قائم کی، جو ''کومن تانگ'' (Kuomintang)کے نام سے مشہور ہوئی۔سن یات سین انتشار پسند عناصر کو ختم کر کے متحدہ مملکت قائم نہ کر سکا۔ بیرونی ریشہ دوانیاں اور چین کے فوجی سرداروں کی خودسری اس کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ تھیں۔ 1925ء میں سن یات سین کا انتقال ہوگیا اور ''چیانگ کائی شیک'' (Chiang Kai-shek) کومن تانگ کا قائد بنا، لیکن کومن تانگ کا سخت گیر حصہ، چیانگ کا مخالف اور اشتمالیت کا عَلم بردار تھا۔ چیانگ کیمونزم کو چین کے لیے خطرناک تصور کرتا تھا۔ چناں چہ چیانگ کی اپنے مخالفین سے جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ چیانگ ان کی قوت ختم کرنے میں ناکام رہا۔اور پھر چینیوں کا باپ ماؤزے تنگ میدان عمل میں اتر آیا  فوج سے چھینے گئے سامان سے سرخ فوج کا شعبۂ مواصلات قائم کیا گیا۔ کسانوں کو پہلی مرتبہ چاقوئوں سے مسلح کیا گیا۔ ہ ظاہر تجارت کی غرض سے مغربی اقوام چین میں وارد ہوئیں اور حالات اپنے موافق دیکھے، تو طاقت کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے اور سیاسی معاملات میں مداخلت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔



انیسویں صدی میں یہ مہم شدید تر ہوگئی۔ یہاں تک کہ انگریزوں سے تجارتی معاملات پر مڈبھیڑ ہوئی اور انگریزوں نے چین کے علاقے ہانگ کانگ پر قبضہ کر لیا۔ یوں یہ استحصال بڑھتا ہی چلا گیا۔ 1840ء میں انگریزوں اور فرانسیسیوں نے چین کو بہ زور زیرنگیں کرلیا۔ 1894 ء میں چین کی جاپان سے جنگ نے مشکلات مزید بڑھا دیں۔ تو کم خواب چینی بھی بیدار ہونے اور حریت پسندی کے سپنے بُننے لگے۔ انیسویں صدی کے آخری برسوں میں آزادی کی امنگ نے منظم تحریک کی شکل دھار لی۔ 1900ء میں سام راجیوں کی توسیع پسندی پر چینی عوام نے باقاعدہ مزاحمت کی اور حریت پسندی کا عَلم بلند کیا، مگر انہیں کچل دیا گیا اور اب چین سے باقاعدہ کسی مفتوحہ ملک جیسا برتائو کیا جانے لگا۔1905ء میں چینی راہ نمائوں نے نظام حکومت کی اصلاح کی خاطر پارلیمانی نظام کا مطالبہ کیا۔ بالآخر 1909ء میں صوبائی اور 1910ء میں قومی سطح پر منتخب ایوان قائم کیا گیا۔ قومی اسمبلی کے نصف ارکان منتخب، جب کہ نصف نام زَد تھے۔۔۔ تاہم انہیں ابھی قانون سازی کا اختیار نہیں دیا گیا۔ یہ وعدہ کیا گیا کہ قانون سازی 1913ء میں کی جا سکے گی۔۔۔ فوری قانون سازی کے مطالبے کے ساتھ خاندانی حکومت کے خلاف بھی تحریک زور پکڑنے لگی۔جنگ کے ساتھ انہیں سخت موسم اور فاقہ کشی کا بھی سامنا تھا، اور یہ عوامل بھی ان کی اموات کا سبب تھے۔ تمام مفتوحہ علاقوں کی زمینیں کسانوں میں بانٹ دی جاتی تھیں۔ چین کے کروڑوں غریبوں نے سرخ فوج کا قول و فعل دیکھ لیا تھا۔ اب ان کو متنفر کرنا مشکل تھا، ان کی فوج کا حجم بڑھتا ہی چلا گیا۔مائوزے تنگ کی قیادت میں اشتمالیوں نے فتوحات حاصل کرنا شروع کیں


منگل، 3 فروری، 2026

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

 

میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے بہت ہمّت کر کےاپنے آپ کو سنبھالا ہوا تھا مگر دل پر بھلا کس کو اختیار ہوسکتا ہے ،اور اس کا دل سینے کے پنجرے میں پھڑپھڑا رہا تھا کہ اس کو جان ودل سے ا پنا بنانے والا کبھی بھی واپس نہیں آنے کے لئے اس سے روٹھ کردنیا سے جا چکا تھا,,سو چوں کے انہی جان گسل لمحات میں ,ایجاب وقبول کے لئے مولاناصاحب طلال کے ہمراہ اس کے پاس آگئے'ایجاب و قبول کا مرحلہ شروع ہوا نصرت نگین بنت اسلام الدّین آپ کو مبلغ                   مہر شرعی شامیل احمد ابن خلیق احمد کے ساتھ نکاح منظور ہے اور مولاناصاحب کے الفاظ پورے ہونے سے پہلے اس نے اپنے آپ کو بے ہوش ہونے سے بچایا ،اورپھر اس نے مولانا کے دوسر ی بار کے مرحلے پر پہنچنے پر آہستہ سے ہاںکہاور نکاح نامے کو اپنی موت کا پروانہ سمجھ کر سائن کر دئےاور نکاح کے بعد اس کی منجھلی آپا اور بڑی آپا نے ,,نے اس کے دونو ں بازوتھام کر شامیل کے پہلو میں لا کر بٹھا دیا، اس نے نا تو اپنی نگاہیں اوپراٹھائیں اور ناہی شامیل نے اس کے پہلو کی قربت کو اپنے نزدیک پسند کیا اسلئے کچھ فاصلہ پر کھسک کر بیٹھ گیا جس کو سب نے اس کی شرم و حیا کی تعبیرجانا مووی بنتی رہی تصاویر کھینچی جاتی رہیںفو ٹو گرافر مووی میکر باربار اصر ار کرنے لگا زرا سا کلوز ہو جائیے ,,زرا سا کلوز ہو جائیے اور وہ زراسا کلوز ہوتا اور پھر دور ہوجاتا ،اور وہ بے روح کی مانند ساکت ہی رہی اور بغیر ایک آنسو بہائے رخصت ہو کرشامیل کے گھر میں سر جھکائےہوئے آ گئ'اس شادی میں اس کے میکے میں ناکوئ رسمیں ہوئیں ناریتیں ہوئیں نا ڈھولک کی تھاپ پر کسی سہیلی نے کوئ سہاگ گیت گا یا ،بس منجھلی آپا ہی تو تھیں جنہوں نے اس کے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگا دی تھی اور بیوٹی پارلر لے جاکر دلہن بنوا لائ تھیں-


البتّہ شامیل کے یہاں اس کے بابا جانی کی بیماری کے باوجود شادی کےہنگامے کا پورا پورا اہتمام اس لئے کیا گیا تھا کہ شامیل کہیں یہ نہیں سوچے کہ گھر میں چھوٹا ہونے کے سبب وہ نظر انداز کر دیا گیا- شامیل کے ساتھ انتہائ عجلت میں حادثاتی شادی نےجس میں اس کا پورا، پورا قصور شامل تھا ,اس کو زہنی اور جسمانی دونوں طرح سے بے حد تھکا دیا تھا ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب شامیل نے رات گئے کمرے میں آکے اس کواس کےماضی کے زہر بھرے کچوکے دئے تو اس کے زہن نے مزید بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا  کیونکہ اسکا د ماغ اب مذید بو جھ اٹھا نے سے  قا صر ہو چکا تھا جس کا نتیجہ اب ظاہر ہو ا اس کو پتا ہی نہیں چلا کہ کب وہ بے ہوش ہوگئ البتّہ جب اسے ہوش آیا تو کمرے میں گھپ اندھیرا چھایا  ہواتھا اور تمام  ماحول پر رات کی  خاموشی طاری تھی اور اس کے ہاتھوں اور پیروں کی طاقت سلب ہو چکی تھی ,کچھ دیرتو اس کی سمجھ ہی میں نہیں  آیا کہ کہ وہ کہاں پر ہے ؟ اورایک اجنبی گھر میں کیوں ہے ؟ اپنی بڑی آپا کے گھر کیوں نہیں ہے پھر جب کچھ, کچھ اس  کے حواس واپس ہونے لگے تو اس کو یاد آیا کہ اس کی شادی ہو چکی ہے اور اب وہ بڑی آپا کے گھر کے بجائے شامیل کے گھر میں موجود ہے ، پھر اس کے لئےتختہء دار پر گزرتی ہوئ اس شب مرگ و سوگ میں اس کا دھیان یعسوب کی جانب  چلا گیا جو اس کو حالات کے منجھد ھار میں مر ،مر کے جینے اور جی، جی کے مرنے  کے لئےتنہا  چھوڑ کر چلا گیا تھا 


اس نے سوچا کہ یعسوب کے بجائے اگر وہ مرجاتی تو کتنا اچھّا ہوتا بے اختیار اس کی آنکھوں سے اپنی بے بسی پر آنسوؤں کی جھڑی لگی تو اس نے آنسوپونچھنے کے لئے اپنے ہاتھ کو جیسےہی جنبش دی اس کی کلائیوں میں موجود کانچ کی چوڑیاں کھنک اٹھیں اور اس نے اپنا                 ہاتھ وہیں پر رو ک دیا اورسنبھل کر سو چا کہ کہ کہیں اس کے رونے سے کارپٹ پر سوئے ہوئے شامیل کی آنکھ نا کھل جائے اور پھر ایک نیا ہنگامہ کھڑا ہو جائے اس لئے اس نے خاموشی سے اپنے آنسوؤں کویونہی بہتے رہنے دیا اوریہ آنسوبہتے ہوئے اس کا تکیہ بھگوتے رہے اور اسی طرح وہ ناجانے کب نیند کی آغوش میں چلی گئ ,,اور پھر صبح سویرے جب اس کی آ نکھ کھلی تواس نے سب سے پہلے بیڈ پر پھیلی ہوئ اپنی, یعسوب کے ساتھ منگنی کی تمام بے تر تیب ا لٹی اور سیدھی پڑی ہوئ وہ ار مان بھرے جذبوں سے کھینچی ہوئ تصاویرجو اس وقت ان دونو ں کی                   زندگی کا یادگار ترین موقع تھا , جلدی جلدی سمیٹ کر تکئے کے نیچے چھپا دیں اور پھر اللہ کا شکر ادا کیا کہ شامیل کے سو کر اٹھنے سے پہلے ہی وہ خود اٹھ گئ , کھول کر اس میں سے گھر کے پہننے کے لئے سادہ جوڑا نکالا, حالانکہ اس کی ہر حرکت آہستہ آہستہ ''سے ہی عبارت تھی لیکن پھر بھی کلائیوں میں پہنی ہوئ کانچ کی چوڑیاں انہیں روکنے کے باوجود کھنک جانے سے شامیل کی آنکھ کھل گئ اور اس نے  کمرے میں پھیلی ہوئ ملگجی روشنی میں کارپٹ پرسوٹ کیس کھولے بیٹھی ہوئ نگین کو نیم وا آنکھوں سے دیکھا لیکن پھروہ جان بوجھ کرسوتا ہی بنا پڑا رہا 


, اور پھروہ وہا ں سے اپنے کپڑے لے کر فورا ہی چلی گئ ،اور پھر ڈ ریسنگ            روم سے تیّار ہو کر کمرے میں آئ تو شامیل کمرے سے جا چکا تھا , اس نے شامیل کے کمرے سے یوں چلے جانے پر اللہ کا شکر ادا کیا او ایک بار پھر بیڈ پر بیٹھ کر کمرے کا جا ئزہ لیا اس وقت حجلہء عروسی میں گزری ہوئ رات کے گلاب کے سارے تازہ مہکتے ہوئے پھولو ں پر مردنی چھائ ہوئ تھی اورموتئے کی کھلکھلاتی ہوئ تازہ معطّر کلیوں نے سہاگ رات کی سونی سیج کے سرہانےاپنی ہی بانہوں میں اداسی سے سر نیہو ڑا دیا تھا ریشمی حریریپردے اس طرح ساکت تھے جس طرح جنازہ اٹھنے سے پہلے ماحول کو سکوت ہوتا ہے اور پردوں میں کالے کوبراجنکی لال لال زبانیں رات کے اندھیرے میں اس کی طرف لپک رہی تھیں اب پردوں سے لپٹے ہوئے سو رہے تھے اور کمرے میں ہ rجگہ شامیل کی نفرت کی چنگاریا  ں چٹختی پھر رہی تھیں اور اس کی سہاگ رات زندگی بھر کا سوگ بن کر گزر گئ تھی اورپھر اس سے پہلے کہ اسکی وحشت اور بھی دو چند ہو جاتی ,,کہ کمرے کے دروازے پر دستک ہوئ ،اور وہ اپنی جگہ سےاٹھ کر دروازے کی جانب بڑھی  دروازہ بند تو تھا نہیں ادھ کھلا تھا ،چناچہ ربیکا دستک دے کراندر آ گئیں  اس نے فوراً ربیکا کو مودّبانہ سلام کیا تو ربیکا نے اسے گلے سے لگایا اور ماتھے پر پیار کر کے مسکراتے ہوئے کہنے لگیں........ ، کہو دلہن بیگم تمھیں ہمارا بھائ کیسا لگا

پیر، 2 فروری، 2026

شکار پور چار سو سالہ تہذیب و تمدن سے آراستہ شہر

 



 سندھ کی سرزمین اپنی ابتدا سے ہی ہر لحاظ سے ایک امیر کبیر دولت دے مالا مال رہی ہے اسی سر زمین پر دریائے سندھ کے بائیں کنارے سے کچھ ہی فاصلے پر واقع چار سوسالہ تاریخ کو اپنے اندر سمونے والابالائی سندھ کا یہ تاریخی شہر شکارپور ، ماضی میں اپنی خوب صورتی اور یہاں بسنے والے لوگوں کی تہذیب ، تمدن، تعلیم و تربیت کے ساتھ ، ساتھ تجارت کے باعث بھی جانا پہچانا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے اسے بّر صغیر سمیت دیگربیرونی ممالک کی کاروباری منڈیوں میں اہم تجارتی مرکز کی حیثیت بھی حاصل رہی ۔ اُسی زمانے میں تاجر قافلے اونٹ گاڑیوں پر سوار ہوکر یہاں پرقائم تاریخی قلعے قافلےمیں قیام و طعام کرکے اپنے تجارتی مقاصد حاصل کرلینے کے بعد یہاں سے اپنی منزلوں کو روانہ ہوجاتے تھے۔ سندھ میں برطانوی راج قائم ہونے کے بعد سندھ کو انتظامی لحاظ سے تین اضلاع کراچی،حیدرآباد اور شکارپور میں تقسیم کردیا گیا،پھر وقتاً فوقتاً یہاں مختلف شعبہ جات میں تبدیلیاں اور ترقیاں رونما ہونے لگیں، نئے طرز زندگی کو اپناتے ہوئے قدیم آلات کی جگہ جدید آلات نے لے لی۔ اس زمانے میں (ایس آر سی) سندھ ریلوے کمپنی کو کراچی سے کوٹری تک ریلوے لائین بچھانے کی ذمےداری دی گئی۔ اس سے پہلے دریائے سندھ میں انڈس فلوٹیلا کی اسٹیم بوٹس کے ذریعے سفرکیا جاتا تھا، جو کہ دریا کےبہاؤ کی مخالف سمت ہونے کے باعث کئی دن لے لیتا تھا، جب کہ واپسی کا سفر دریا کے بہاؤ کی درست سمت ہونے کے باعث کچھ کم دنوں میں طےہوپاتا تھا۔


 پھریہاں سفری سہولتوںاور مال کی ترسیل کے لیے ریل کی پٹڑیاں بچھائی گئیں، جن پرکالی تیز رفتار ریل گاڑیاں چلنے لگیں، جنہوں نے سفر کے طویل تر لمحات کو مختصر کرکے ریل کے سفر کو لوگوں کے لیےآنے جانے کا ایک آسان اور محفوظ ذریعہ بنادیا۔ اُن دنوں شکارپور سمیت دیگر ملحقہ علاقوں میں ،جن اشیائےخورونوش اور دیگراشیائے صرف کی دریائے سندھ کے راستے کشتیوں کےذریعے تجارت کی جاتی تھیں، وہ مال گاڑیوں کے ذریعےآنے جانےلگیں۔اُس وقت کوٹری براستہ دادو،ریلوے لائین پرضلع شکارپور کا پہلا ریلوےجنکشن ’’رُک اسٹیشن ‘‘ کے نام سے1898ء میں تعمیر کرایا گیا۔شروعاتی دور میں اس اسٹیشن کے ذریعے شکارپورکی تجارت کوپورےسندھ سمیت برصغیر ودیگر مغربی ممالک کے ساتھ جوڑدیا گیا۔ 120برس قبل تعمیر کرایا گیا ،یہ اسٹیشن آج تک فن تعمیر کی ایک زندہ مثال ہے،جو کہ اتنے برس بیت جانے کے باوجود آج بھی لوگوں کے لیے کسی شاہکار سے کم نہیں۔ اسٹیشن کے قیام کے بعد کئی دَہائیوں تک اس کی رونقیں دیکھنے لائق تھیں،کیوں کہ اس اسٹیشن سے ملحقہ شہروں اور دیہات کےزیادہ تر رہائشی ریل گاڑی کو ہی اپنا ذریعہ سفر بناتے تھے۔اُس وقت اسٹیشن تک پہنچنے کا ایک واحد ذریعہ بیل گاڑیاں ہوا کرتی تھیں ۔ گزشتہ دس پندرہ برسوں کے دوران پاکستان میں ریلوے کےزوال کے ساتھ ہی یہ ریلوے اسٹیشن بھی اپنی رونقیں کھو بیٹھا ہے۔

اب اس کی ویرانی کا یہ عالم ہے کہ نہ تو یہاں کوئی مسافر نظر آتا ہے اور نہ ہی یہاں وہ سہولتیں موجو دہیں، جو ماضی میں اس کا حسن ہوا کرتی تھیں۔ یہاں ریل گاڑیاں نہ رکنے کی وجہ سے آج کل ملحقہ علاقوں کے عام شہری اور دیہاتی سستے اور آرام دہ سفر سے محروم ہو چکے ہیں۔اس اسٹیشن کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ آج بھی سکون کے متلاشی لوگ اپنے دیہات میں گھومنے آتے ہیں ،تو ایک بار ہی سہی ، لیکن اس پُرسکون اور خوب صورت اسٹیشن کا چکر ضرور لگانے آتے ہیں۔ رُک کے بعد شکارپورریلوے اسٹیشن کی تعمیر کا کام عمل میں آیا،جسے 1901 میں مکمل طور پر تعمیر کر لیا گیا۔ اس اسٹیشن کو رُک اسٹیشن کی طرح زیادہ خوب صورت تو نہیں بنایا گیا تھا، لیکن شہر میں اسٹیشن کا قیام یہاں کے شہریوں سمیت تاجروں کے لیےنہایت ہی خوش آئند ثابت ہوا۔دیو قامت دھواں اڑاتے ہوئے کالے انجن والی یہ ریل گاڑیاں اس وقت کے لوگوں کے لیے حیران کن تو تھیں، ساتھ ساتھ سفری سہولتوں کے مزے لوٹنے کا ذریعہ بھی تھیں۔ اُونٹ گاڑیوں پر لدا ہوا مال اب مال گاڑیوں کے ذریعے آنے جانےلگا ۔117برس قبل تعمیر کرائے گئے اس اسٹیشن پر ریل گاڑیوں اور مال گاڑیوں کی آمد ورفت کے باعث یہاں بہت بڑا مال گودام بھی بنایا گیا، جس سےخاص طور پر یہاں پیدا ہونے والی نمایاں کاشت دھان اور گندم کے کاشت کاروں اور تاجروں کو بہت فائدہ پہنچا۔ 


بزرگوں کا کہنا ہے کہ ’’کسی زمانے میں یہاں اتنے مال کی آمد و رفت ہوتی تھی، کہ ریلوے کے گوداموں میں سامان رکھنے کی جگہ کم پڑ جاتی تھی۔ سارا دن گاڑیوں کی آمد ورفت کے باعث اسٹیشن پرلوگوں کا ہجوم ہر وقت رہنے کے باعث یہاں ایک میلے کا سماں بندھا رہتا تھا۔‘‘ اس اسٹیشن سے وابستہ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ایک زمانے میں اس اسٹیشن سے مختلف مقامات کو جانے والی ریل گاڑیوں کےریکارڈ ٹکٹ فروخت ہوئے تھے،کیوں کہ یہاں کے لوگوں کااپنی تعلیم، کاروبار اور ملازمت کے باعث پاکستان کے مختلف علاقوں میں آناجانا معمول کا حصہ تھا، لیکن اب یہ اسٹیشن تقریباً ساڑھے بارہ لاکھ کے آبادی رکھنے والے ضلع شکارپور کے عوام کے لیے امید کی ایک واحد کرن بنا ہوا ہے،۔ شکار پور ریلوے اسٹیشن ہمیشہ سےمقتددر حلقوں کی توجہ کا طالب رہا ہے۔ اس وقت یہاں سے مین لائین پررات کے اوقات میں کراچی کے لیے براستہ روہڑی صرف ایک گاڑی سکھر ایکسپریس چلتی ہے، جب کہ بولان میل، خوشحال خان خٹک ایکسپریس براستہ لاڑکانہ دادو لائین پر کراچی کے لیے ،اکبر ایکسپریس اور جعفرایکسپریس براستہ روہڑی تا پنجاب چلا کرتی ہیں، جن میں شکارپور کے کوٹے کی ٹوٹی پھوٹی خستہ حال بوگیاں کسی آفت زدہ علاقے سے آئی ہوئی لگتی ہیں،جن کے بیت الخلاءناقابلِ استعمال اورٹوٹی پھوٹی خستہ حال سیٹوں پر سفر مشکل ترین ہوجاتا ہے۔ شکارپور ریلوے اسٹیشن کی اراضی پر گزشتہ کئی برسوں سے منظور شدہ پارک تاحال نہیں بن پایا، جس سے ریلوے ملازمین سمیت اسٹیشن کے قریب رہنے والوں کے پاس صحت مند تفریح کے مواقع میسر نہیں ہیں۔

اتوار، 1 فروری، 2026

ایک درویش منصف اعلیٰ' جسٹس منیر مغل

   ہائی کورٹ کا ایک ولی صفت جج

میرے پاس چند دن قبل ایک ریٹائرڈ پولیس افسر آئے۔ ان کا چھوٹا سا مسئلہ تھا، میں نے ان کی جتنی مدد کر سکتا تھا کر دی۔ اس کے بعد گفتگو شروع ہوئی تو میں نے ان سے زندگی کا کوئی حیران کن واقعہ سنانے کی درخواست کی۔میری فرمائش پر انہوں نے ایک ایسا واقعہ سنایا جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا اور میں نے سوچا، مجھے یہ آپ کے ساتھ بھی شیئر کرنا چاہیے۔ پولیس افسر کا کہنا تھا: میں 1996ء میں لاہور میں ایس ایچ او تھا۔ میرے والد علیل تھے، میں نے انھیں سروسز اسپتال میں داخل کرا دیا۔ سردیوں کی ایک رات میں ڈیوٹی پر تھا اور والد اسپتال میں اکیلے تھے۔ اچانک ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی اور وہ الٹیاں کرنے لگے۔میرے خاندان کا کوئی شخص ان کے پاس نہیں تھا۔ وہ دو مریضوں کا کمرہ تھا، ان کے ساتھ دوسرے بیڈ پر ایک مریض داخل تھا۔ اس مریض کا اٹینڈنٹ موجود تھا۔ وہ اٹھا، اس نے ڈسٹ بین اور تولیہ لیا اور میرے والد کی مدد کرنے لگا۔ وہ ساری رات ابا جی کی الٹیاں صاف کرتا رہا۔ اس نے انھیں قہوہ بھی بنا کر پلایا اور ان کا سر اور بازو بھی دبائے۔ صبح ڈاکٹر آیا تو اس نے اسے میرے والد کی کیفیت بتائی اور اپنے مریض کی مدد میں لگ گیا۔ میں نو بجے صبح وردی پہن کر تیار ہو کر والد سے ملنے اسپتال آ گیا۔اباجی کی طبیعت اس وقت تک بحال ہو چکی تھی۔ مجھے انھوں نے اٹینڈنٹ کی طرف اشارہ کر کے بتایا: "رات میری اس مولوی نے بڑی خدمت کی۔" میں نے اٹینڈنٹ کی طرف دیکھا۔ وہ ایک درمیانی عمر کا باریش دھان پان سا ملازم تھا۔ میں نے مسکرا کر اس کا شکریہ ادا کیا لیکن پھر سوچا، اس نے ساری رات میرے والد کی خدمت کی ہے، مجھے اسے ٹپ دینی چاہیے۔ 


میں نے جیب سے پانچ سو روپے نکالے اور اس کے پاس چلا گیا۔ وہ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اسے پانچ سو روپے پکڑانے لگا۔ وہ کرسی پر کسمسایا لیکن میں نے رعونت بھری آواز میں کہا: "لے مولوی، رکھ یہ رقم، تیرے کام آئے گی۔" وہ نرم آواز میں بولا: "نہیں بھائی نہیں، مجھے کسی معاوضے کی ضرورت نہیں۔ میں نے رات دیکھا، آپ کے والد اکیلے ہیں اور تکلیف میں ہیں۔ میں فارغ تھا، لہٰذا میں اللہ کی رضا کے لیے ان کی خدمت کرتا رہا۔ آپ لوگ بس میرے لیے دعا کردیں، وغیرہ وغیرہ۔" لیکن میں باز نہ آیا، میں نے فیصلہ کر لیا کہ ہر صورت اسے پیسے دے کر رہوں گا۔پولیس افسر رکے، اپنی گیلی آنکھیں اور بھاری گلہ صاف کیا اور پھر بولے: "انسان جب طاقت میں ہوتا ہے تو یہ معمولی معمولی باتوں پر ضد باندھ لیتا ہے۔ یہ ہر صورت اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا ہے۔ میں نے بھی پیسے دینے کی ضد بنا لی تھی، مگر مولوی مجھ سے زیادہ ضدی تھا۔ وہ نہیں مان رہا تھا۔ میں اس کی جیب میں پیسے ڈالتا تھا اور وہ نکال کر کبھی میری جیب میں ڈال دیتا تھا اور کبھی ہاتھ میں پکڑا دیتا تھا۔"میں نے اس دھینگا مشتی میں اس سے پوچھا: "مولوی یار تم کرتے کیا ہو؟" اس نے جواب دیا: "بس ایسے ہی لوگوں کی خدمت کرتا ہوں۔" وہ مجھے اپنا کام نہیں بتانا چاہتا تھا۔ میں نے اب اس کا ذریعہ روزگار جاننے کی ضد بھی بنا لی،


 اس سے بار بار اس کا کام پوچھنے لگا۔ اس نے تھوڑی دیر ٹالنے کے بعد بتایا: "میں کچہری میں کام کرتا ہوں۔" مجھے محسوس ہوا یہ کسی عدالت کا اردلی یا کسی وکیل کا چپڑاسی ہو گا۔ میں نے ایک بار پھر پانچ سو روپے اس کی مٹھی میں دے کر اوپر سے اس کی مٹھی دبوچ لی اور پھر رعونت سے پوچھا: "مولوی تم کچہری میں کیا کرتے ہو؟"اس نے تھوڑی دیر میری طرف دیکھا اور پھر اپنے والد کی طرف دیکھا۔ لمبی سانس لی اور آہستہ آواز میں بولا: "مجھے اللہ نے انصاف کی ذمے داری دی ہے۔ میں لاہور ہائی کورٹ میں جج ہوں۔"مجھے اس کی بات پر یقین نہ آیا، میں نے پوچھا: "کیا کہا؟ تم جج ہو!" اس نے آہستہ کہا: "جی ہاں، میرا نام جسٹس منیر احمد مغل ہے اور میں لاہور ہائی کورٹ کا جج ہوں۔"یہ سن کر میرے ہاتھ سے پانچ سو روپے گر گئے اور میرا وہ ہاتھ جو میں نے پندرہ منٹ سے اس کے کندھے پر رکھا ہوا تھا، وہ اس کے کندھے پر ہی منجمد ہو گیا۔جسٹس صاحب نے بڑے پیار سے میرا ہاتھ اپنے کندھے سے اتارا، کھڑے ہوئے، جھک کر فرش سے پانچ سو روپے اٹھائے، میری جیب میں ڈالے اور پھر بڑے پیار سے اپنے مریض کی طرف اشارہ کر کے بتایا: "یہ میرے والد ہیں۔ میں ساری رات ان کی خدمت کرتا رہا، ان کا پاخانہ تک صاف کیا۔ اس میں شکریے کی کوئی ضرورت نہیں۔"میں نے رات دیکھا، آپ کے والد اکیلے ہیں اور ان کی طبیعت زیادہ خراب ہے، لہٰذا میں انھیں اپنا والد سمجھ کر ان کی خدمت کرتا رہا۔ اس میں شکریے کی کوئی ضرورت نہیں۔ (جاوید چودھری)


جسٹس منیر مغل نے ایم۔اے اور ایل۔ایل۔بی کے بعد مولانا عبیداللہ سندھی کی تفسیر پر پی ایچ ڈی کیا۔ ان کا دوسرا پی ایچ ڈی جامعۃ الازہر مصر سے تھا، جس کے لیے انہوں نے عربی زبان بھی سیکھی۔ ان کے علاوہ ملکی جسٹس منیر مغل نے ایم۔اے اور ایل۔ایل۔بی کے بعد مولانا عبیداللہ سندھی کی تفسیر پر پی ایچ ڈی کیا۔ ان کا دوسرا پی ایچ ڈی جامعۃ الازہر مصر سے تھا، جس کے لیے انہوں نے عربی زبان بھی سیکھی۔ ان کے علاوہ ملکی و بین الاقوامی قوانین پر 24 کتابیں تصنیف کیں۔ وہ عدالت میں تیزی سے مقدمات نمٹانے کے لیے مشہور تھے۔ ان کی عدالت میں انصاف کا انداز نہایت متاثر کن تھا۔ ایک مقدمے میں جب امیر لوگوں کے وکیل اور غریب استاد کا کیس آیا، جسٹس صاحب نے استاد کے احترام میں سارا دن عدالت کھڑے ہو کر مقدمات نمٹائے اور پانچ منٹ میں فیصلہ سنایا۔جسٹس مغل والدین کی خدمت کے حوالے سے بھی مشہور تھے۔ ان کے سامنے یوں دست بستہ کھڑے ہوا کرتے تھے کہ گویا نماز کی نیت باندھ رکھی ہے۔ والد کے زیادہ بیمار ہونے پر انہوں نے بیڈ کے قریب گھنٹی رکھی تاکہ والد پاؤں سے دبائیں اور وہ فوراً پہنچ جاتے۔ اپنی بیوی اور بچوں کو بھی والد کے کام میں ہاتھ نہیں لگانے دیتے تھے۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی علم، محنت اور والدین کی خدمت میں گزاری۔ عدالت میں بھی ان کا رویہ عاجزانہ اور ایماندارانہ تھا۔15 اپریل 2024 کو یہ فرشتہ صفت دنیا سے رخصت ہوا۔ ن کی سادہ زندگی، عاجزی اور والدین کے لیے غیر معمولی خدمت آج بھی عدلیہ اور معاشرے کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ اللہ قرب کے اعلیٰ مراتب سے نوازے۔

ہفتہ، 31 جنوری، 2026

فصاحت و بلاغت کا بہتا ہوا سمندر صحیفہء سجادیہ

 



صحیفۂ سجّادیہ ۵۴ دعاؤں پر مشتمل ہے ، ان میں سے بعض دعائیں مفصّل اور طویل ہیں اور کچھ دعائیں نسبتاً مختصر ہیں۔ان دعاؤں کو پڑھنے کی مختلف مناسبتوں اور مواقع کو صحیفۂ سجادیہ کی فہرست میں بیان کیا گیا ہے ، ان دعاؤں کے مضامین میں دین، اخلاقی اقدار، قرآنی تعلیمات ، عبادت اور بندگی کے آداب کو نہایت حسین انداز سے پیش کیا گیا ہے ۔ اس سلسلہ میں اس کی فہرست کی طرف رجوع کیا جا دسکتا ہے ، ان دعاؤں میں سے بعض کے عناوین درجِ ذیل ہیں:خدا ، حاملانِ عرش اور فرشتوں کی حمد و ثنا میں دعا، اپنے اور اپنے رشتہ داروں کے حق میں دعا، مشکلات و مصائب میں دعا، خدا کی پناہ طلب کرنے کے لئے ، گناہوں کی مغفرت کے لئے ، گناہوں کے اقرار کے لئے ، حاجت طلب کرنے کے لئے ، بیماری کی حالت میں ، شیطانِ مردود سے خدا کی پناہ مانگنے کے لئے ، اچھے اخلاق کے لئے، تندرستی کے لئے ، ماں باپ اور اولاد کے لئے ، پڑوسیوں اور دوستوں کے لئے ، سرحدوں کے محافظوں کے لئے ، توبہ کے لئے ، وسعتِ رزق کے لئے ، رعدو برق کے وقت ، نئے مہینہ کا چاند دیکھنے کے وقت ، ماہ رمضان کی آمد اور اختتام کے موقع پر ، عیدِ فطر اور عرفہ کے موقع پر ، ختمِ قرآن کی دعا اور اس کے علاوہ دسیوں دیگر مناسبتوں پر پڑھی جانے والی دعائیں۔مختلف مناسبتوں سے اس طریقہ کے استفادے سے ایک دعا گزاراور خدا سے مانوس مسلمان کا کوئی وقت خالی نہیں بچتا چونکہ اس کی زندگی کے لمحہ لمحہ کے لئے پروردگارِ عالم کی بارگاہ میں راز و نیاز کے لئے دستور العمل موجود ہے ۔


اپنے لئے اور اپنے دوستوں کے لیے حضرت کی دعا۔صحیفہ سجادیہ                                  -اے وہ جس کی بزرگی وعظمت کے عجائب ختم ہونے والے نہیں ۔ تو محمد اوران کی آل پر رحمت نازل فرما اورہمیں اپنی عظمت کے پردوں میں چھپا کر کج اندیشیوں سے بچا لے ۔ اے وہ جس کی شاہی وفرمانروائی کی مدت ختم ہونے والی نہیں تو رحمت نازل کر محمد اور ا ن کی آل پراورہماری گردنوں کو اپنے غضب وعذاب       کے ( بندھنوں ) سے آزاد رکھ ۔ اے وہ جس کی رحمت کے خزانے ختم ہونے والے نہیں۔ رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اور اپنی رحمت میں ہمارا بھی حصہ قرار دے۔ اے وہ جس کے مشاہدہ سے آنکھیں قاصر ہیں رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اوراپنی بارگاہ سے ہم کو قریب کر لے۔ اے وہ جس کی عظمت کے سامنے تمام عظمتیں پست و حقیر ہیں رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اورہمیں اپنے ہاں عزت عطا کر۔ اے وہ جس کے سامنے راز ہائے سر بستہ ظاہر ہیں رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اور ہمیں اپنے سامنے رسوا نہ کر۔ بارالہا! ہمیں اپنی بخشش وعطا کی بدولت بخشش کرنے والوں کی بخشش سے بے نیاز کر دے


 پروردگارا اپنی پیوستگی کے ذریعہ قطع تعلق کرنے والوں کی بے تعلقی ودوری کی تلافی کر دے تاکہ تیری بخشش وعطا کے ہوتے ہوئے دوسرے سے سوال نہ کریں اورتیرے فضل واحسان کے ہوتے ہوئے کسی سے ہراساں نہ ہوں۔ اے اللہ ! محمد اورا ن کی آل پر رحمت نازل فرما اورہمارے نفع کی تدبیر کر اورہمارے نقصان کی تدبیر نہ کر اورہم سے مکر کرنے والے دشمنوں کو اپنے مکر کا نشانہ نہ بنا اور ہمیں اس کی زد پر نہ رکھ ۔ اورہمیں دشمنوں پر غلبہ دے دشمنوں کو ہم پر غلبہ نہ دے ۔ بارالہا ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اورہمیں اپنی ناراضی سے محفوظ رکھ اوراپنے فضل وکرم سے ہماری نگہداشت فرما اور اپنی جانب ہمیں ہدایت کر اوراپنی رحمت سے دور نہ کر کہ جسے تو اپنی ناراضگی سے بچائے گا وہی بچے گا اورجسے تو ہدایت کرے گا وہی (حقائق پر ) مطلع ہو گا اورجسے تو (اپنی رحمت سے )قریب کرے گا وہی فائدہ میں رہے گا۔اے معبود !تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اورہمیں زمانہ کے حوادث کی سختی اورشیطان کے ہتھکنڈوں کی فتنہ انگیزی اورسلطان کے قہر وغلبہ کی تلخ کلامی سے اپنی پناہ میں رکھ ۔ بارالہا! بے نیاز ہونے والے تیرے ہی کمال قوت واقتدار کے سہارے بے نیاز ہوتے ہیں ۔ رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور ہمیں بے نیاز کر دے اورعطا کرنے والے تیری ہی عطا وبخشش کے حصہ وافر میں سے عطا کرتے ہیں ۔


 رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور ہمیں بھی (اپنے خزانہ رحمت سے )عطا فرما۔ اور ہدایت پانے والے تیری ہی ذات کی درخشندگیوں سے ہدایت پاتے ہیں ۔ رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پراورہمیں ہدایت فرما۔ بارالہا ! جس کی تو نے مدد کی اسے مدد نہ کرنے والوں کا مدد سے محروم رکھنا کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اورجسے تو عطا کرے اس کے ہاں روکنے والوں کے روکنے سے کچھ کمی نہیں ہو جاتی ۔اورجس کی تو خصوصی ہدایت کرے اسے گمراہ کرنے والوں کا گمراہ کرنا بے راہ نہیں کر سکتا۔ رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اوراپنے غلبہ اورقوت کے ذریعہ بندوں(کے شر) سے ہمیں بچائے رکھ اوراپنی عطا وبخشش کے ذریعہ دوسروں سے بے نیاز کر دے اوراپنی رہنمائی سے ہمیں راہ حق پر چلا۔ اے معبود ! تو محمد اوران کی آل پر رحمت نازل فرما اورہمارے دلوں کی سلامتی اپنی عظمت کی یاد میں قرار دے اورہماری جسمانی فراغت (کے لمحوں ) کو اپنی نعمت کے شکریہ میں صرف کر دے اورہماری زبانوں کی گویائی کو اپنے احسان کی توصیف کے لیے وقف کر دے۔ اے اللہ ! تو رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اور ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو تیری طرف دعوت دینے والے اورتیری طرف کا راستہ بتانے والے ہیں اوراپنے خاص الخاص مقربین میں سے قرار دے۔ اے سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے


جمعہ، 30 جنوری، 2026

اردو کے نامور شاعر علامہ سیماب اکبر آبادی

 

 مورخ  جب بھی تاریخ اُردو ادب لکھے گا  توضرور  ایک عظیم شخصیت علامہ سیماب اکبر آبادی کا نام اس تایخ میں ضرور لکھے گا  ہمہ جہت پہلووں سے سجی ہوئ ان کی شخصیت کے لئے کہنا مشکل ہے کہ وہ بڑے ادیب تھے یا بڑے غزل گو، یا بڑے نظم نگار،وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، در حقیقت  وہ ایک  پوری اد بی اکیڈمی تھے۔ تین سو سے زائد نظم و نثر کی چھوٹی بڑی کتابوں کے خالق  جنہوں نے اپنی زندگی کے پورے پچاس سال ادب کی خدمت گزاری میں گزارے-اردو کے نامور شاعر علامہ سیماب اکبر آبادی کی تاریخ پیدائش 5 جون 1880ءہے۔علامہ سیماب اکبر آبادی آگرہ (اکبر آباد) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا۔ وہ شاعری میں داغ دہلوی کے شاگرد تھے مگر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ خود ان کے ڈھائی ہزار تلامذہ ہندوستان بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔علامہ سیماب اکبر آبادی کو اردو، فارسی اور ہندی زبان کے قادر الکلام شعرا میں شمار کیا جاتا ہے ان کی تصانیف کی تعداد 300 کے لگ بھگ ہے۔ انتقال سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے قرآن پاک کا منظوم ترجمہ وحی منظوم کے نام سے مکمل کیا تھا۔ان کے پوتے  کا کہنا ہے  کہ  (حضرت سیماب اکبرآبادی) کے انتقال کے وقت میری عمر ۵؍ یا ۶؍ سال کی تھی لہٰذا اُن کے بارے میں بہت سی باتیں آنکھوں دیکھی نہیں ہیں بلکہ کانوں سنی ہیں۔ اکثر باتیں والد صاحب (مرحوم اعجاز صدیقی) کی زبانی سنی ہیں۔


اردو کے نامور شاعر علامہ سیماب اکبر آبادی کی تاریخ پیدائش 5 جون 1880ءہے۔علامہ سیماب اکبر آبادی آگرہ (اکبر آباد) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا۔ وہ شاعری میں داغ دہلوی کے شاگرد تھے مگر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ خود ان کے ڈھائی ہزار تلامذہ ہندوستان بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔علامہ سیماب اکبر آبادی کو اردو، فارسی اور ہندی زبان کے قادر الکلام شعرا میں شمار کیا جاتا ہے ان کی تصانیف کی تعداد 300 کے لگ بھگ ہے۔ انتقال سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے قرآن پاک کا منظوم ترجمہ وحی منظوم کے نام سے مکمل کیا تھا۔ قصرِ ادب ادارے سے ماہنامہ پیمانہ جاری کیا۔ پھر بیک وقت ماہنامہ ثریا، ماہنامہ شاعر، ہفت روزہ تاج، ماہنامہ کنول، سہ روزہ ایشیا شائع کیا۔ ساغر نظامی جو سیماب اکبر آبادی کے شاگرد تھے وہ بھی قصر ادب سے وابستہ رہے۔ ان کی لکھی کتابوں کی تعداد 284 ہے جس میں 22 شعری مَجمُوعے ہیں جن میں "وحی منظوم" بھی شامل ہے جس کی اشاعت کی کوشش 1949 میں ان کو پاکستان لے گئی جہاں کراچی شہر میں 1951 میں انکا انتقال ہوا۔مثنوی روم کا منظوم اردو ترجمہمولوی فیروز الدین کی فرمائش پر مثنوی مولانا روم کا منظوم اردو ترجمہ شروع کیا جس کے لیے وہ لاہور منتقل ہوئے اور اپنا ادارہ قصرادب بھی لاہور ہی لے آئے۔ مثنوی مولانا روم کو فارسی سے اسی بحر میں اردو میں منظوم ترانے کام شروع کیا اور اس کا نام الہام منظوم رکھا تقریبا 45 ہزار افراد 6 جلدوں میں ترتیب پائے۔ مولوی فیروز الدین کے بقول انھوں نے مثنوی روم کا منظوم اردو ترجمہ امیر مینائی سمیت کئی نامور شاعروں کے سپرد کرنا چاہا مگر یہ مشکل کام ان میں سے کسی کے بس کا نہ تھا۔


۔ اُن کے پوتے کا کہنا ہے اُن کی محبت و شفقت اس واقعہ سے بھی جھلکتی ہے کہ جب میں تھوڑا بڑا ہوا اور گھٹنوں کے بل چلنے لگا تو گھر میں (جو بڑی سی حویلی کی شکل میں تھا) قالین بچھوا دیا تھا تاکہ میرے گھٹنوں پر خراش نہ آئے۔ سفر پر جاتے تو میرا تکیہ ساتھ لے جاتے تھے تاکہ اپنائیت کا احساس کم یا ختم نہ ہو۔ اسی طرح مشاعرہ کیلئے روانہ ہونے سے قبل کہتے تھے کہ افتخار کو میرے پاس دے دو۔ روانگی سے قبل تھوڑی دیر مجھے کھِلاتے۔دادا جان، جیسا کہ والد صاحب سے سنا ہے، شاگردوں کی تربیت بڑی شفقت کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ چونکہ شاگردوں کی بڑی تعداد تھی جو ملک بھر میں پھیلی ہوئی تھی اس لئے کلام پر اصلاح خط و کتابت کے ذریعہ ہوا کرتی تھی۔ اُن کا طرۂ امتیاز یہ تھا کہ کسی مصرعہ میں سقم ہو تو پورا کا پورا مصرعہ کبھی نہیں بدلتے تھے بلکہ ایک آدھ لفظ کو اِدھر اُدھر کرکے اُس سقم کو دور کردیا کرتے تھے۔ جو شعر اچھا ہوتا اُس کے آگے ’’ص‘‘ لکھ دیتے تھے۔ شاگردوں کو بتاتے تھے کہ قافیہ کس طرح خیال دیتا ہے۔ اُنہیں علم قوافی سے بھی روشناس کرتے اور یہ بھی بتاتے کہ حرف روی کیا ہوتا ہے۔ شاگردو ں میں جو خصوصیات پاتے وہ اُن پر اُجاگر کردیا کرتے تھے۔ اُنہیں یہ بھی سمجھاتے تھے کہ کاغذ کیسا ہو اور روشنائی کیسی، کس طرح لکھنا چاہئے اور حاشیہ کتنا چھوڑنا چاہئے۔ اُن کے شاگردوں کی تعداد ویسے تو ہزاروں میں تھی لیکن باقاعدہ تلامذہ کی تعداد لگ بھگ ۳؍ سو تھی۔ وہ اپنے تمام شاگردوں کو معنوی اولاد کہتے تھے۔


 اگر ان میں سے کوئی اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر آگیا تو خوب ضیافتیں ہوتی تھیں۔ اُن کے تلامذہ میں شاعرات بھی تھیں۔ کوئی شاگرد یا شاگردہ گھر آتی تو دادی اُن کی تواضع میں گویا بچھی جاتی تھیں اور جب وہ واپس جاتے تو اُنہیں تحائف دیئے جاتے تھے۔ اب اُن کا صرف ایک شاگرد بی ایس این جوہر بقید حیات ہیں جن کی عمر ۸۰؍ سال ہے اور میرٹھ میں مقیم ہیں۔ جہاں تک شاگردوں کے شاگرد کا تعلق ہے تو وہ بہت سے ہیں۔ مثلاً شہ زور کاشمیری (جن کی یاد میں ڈاک ٹکٹ جاری ہوا تھا)، اُن کے شاگر حامدی کاشمیری ہیں۔ تخلیق شعر کے وقت اُن کی عجب کیفیت ہوتی تھی۔ اکثر اوقات یہ صبح کاذب کا وقت ہوتا۔ جب والد صاحب نے شعر کہنا شروع کیا تو ہدایت دی کہ اساتذہ کے پانچ ہزار اشعار یاد کریں تب ہی شعر کہنے کی اجازت ملے گی۔ بابو جی (والد صاحب) کیلئے یہ کام مشکل نہ تھا کیونکہ اُنہیں دیوان غالب تقریباً ازبر تھا۔ تربیت کا یہ اسلوب تھا دادا جان کا۔ یہی اسلوب والد صاحب نے میری تربیت کیلئے بھی اپنایا۔ جب میں شعر کہنے لگا تو والد صاحب نے تاکید کی تھی کہ اس سے پہلے اساتذہ کے پانچ سو اشعار یاد کریں۔ مجھے یاد ہے، میں نے اُنہیں ۱۰۰؍ شعر سنائے تھے۔ مشاعروں میں دادا جان شروع میں ترنم سے کلام سناتے تھے لیکن پھر تحت اللفظ میں سنانے لگے۔ ایچ ایم وی نے ایک ریکارڈ بنایا تھا جس میں اُنہیں ترنم اور تحت اللفظ، دونوں میں شعر پڑھتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔ 

جمعرات، 29 جنوری، 2026

گورنمنٹ ہاسپٹلز میں ا ینٹی ریبیز ویکسین دستیاب نہیں ہے

 

  پورے کراچی  کے    گورنمنٹ ہاسپٹلز  میں کتے  کے کاٹ لینے کی ویکسین دستیاب نہیں ہے-جبکہ کتے کے کاٹنے کے واقعات  میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے-گورنمنٹ اسپتال نیوکراچی اور عباسی شہید اسپتال میں اینٹی ریبیز ویکسین نہیں سال 2025 میں صوبے میں 22 شہریوں کی کتوں کے کاٹنے سے ہلاکت اور 29 ہزار افراد زخمی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ میں آوارہ کتوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے اور ریبیز پروگرام کے تحت ویکسین کی عدم دستیابی کے معامل پر درخواست گزار طارق منصور ایڈووکیٹ نے آئینی بینچ کو تفصیلات سے آگاہ کردیا ہے۔عدالت نے سندھ حکومت اور دیگر فریقین سے چار ہفتوں میں رپورٹس طلب کرلی ہے۔ طارق منصور ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ عدالت نے 2024 میں آوارہ کتوں کے خلاف کارروائی کرنے اور ریبیز کنٹرول پروگرام شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالتی احکامات کے باوجود سندھ حکومت نے ریبز کنٹرول پروگرام شروع نہیں کیا۔درخواست گزار نے کہا کہ کے ایم سی ہیلپ لائن نمبر 1093 بھی غیر فعال ہوچکا ہے۔عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ عدالتی احکامات پر عملدر آمد کیوں نہیں کیا جارہا؟ جس پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ویکسینشن ہر جگہ دستیاب ہیں باقی ڈی جی سے رپورٹ جمع کروا دیں گے۔طارق منصور ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ کیونکہ آوارہ کتوں کے غول کراچی کی ہر گلی اور محلے میں دندنا رہے ہیں


جسٹس یوسف علی سعید کا کہنا تھا کہ جواب آنے دیں تمام پہلووں کا جائزہ لے کر حکم نامہ جاری کریں گے۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ کیس جلدی سنا جائے کتوں کے کاٹنے سے صوبے میں ہزاروں لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ 2 دسمبر ،5 202کراچی (بابر علی اعوان / اسٹاف رپورٹر) سندھ میں ریبیز اور آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کی صورت اختیار کر چکے ہیں،جناح اور انڈس اسپتال میں 18 ہلاکتیں رپورٹ۔ وزارِت صحت سندھ  کے مطابق صوبے بھر میں ایک سال کے دوران کتے کے کاٹے کے 2 لاکھ 84 ہزار 138 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق رپورٹ نہ ہونے والے کیسز کی تعداد بھی ہزاروں میں ہو سکتی ہے کیونکہ صوبے میں بیماریوں کے اعداد و شمار جمع کرنے کا کوئی مکمل اور منظم نظام موجود نہیں۔دوسری جانب انڈس اسپتال کورنگی میں زیرِ علاج جیکب آباد سے تعلق رکھنے والا 12 سالہ حیدر علی بدھ کو ریبیز سے انتقال کر گیا، جس کے بعد انڈس اسپتال میں رواں سال ریبیز سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 9 ہو گئی ہے۔


 انڈس اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق ان ہلاکتوں کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جاں بحق ہونے والے پانچ افراد نے قریبی مراکز سے ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین لگوائی تھی اس کے باوجود ریبیز کا مرض ان میں سرائیت کرگیا اور وہ جانبرنہ ہو سکے جس سے ویکسین کی افادیت اور لگانے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی میں بھی رواں سال ریبیز سے 9 مریض جاں بحق ہوئے۔ اس طرح صرف دو اسپتالوں میں ریبیز کے باعث 18 افراد انتقال کر چکے ہیں، جو بیماری کی شدت اور سنگینی کو واضح کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق کتے کے کاٹے کے بیشتر متاثرین کو بروقت اور مکمل پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسیس (PEP) میسر نہیں آ پاتی، جس کے باعث معمولی زخم بھی جان لیوا بیماری میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریبیز ایک مکمل طور پر قابلِ بچاؤ مرض ہے تاہم علامات ظاہر ہونے کے بعد یہ تقریباً ہمیشہ مہلک ثابت ہوتا ہے۔


ماہرین صحت کے مطابق سندھ میں آوارہ کتوں کی آبادی، ویکسینیشن، نس بندی اور ریبیز کو کنٹرول کرنے کے نظام میں واضح کمزوریاں موجود ہیں  اس لئےجب تک مؤثر ڈاگ کنٹرول، ماس ویکسینیشن اور ٹھوس عملی اقدامات نہیں کئے جاتے ریبیز سے انسانی جانوں کے ضیاع کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں تشویشناک اضافے پر قانون ساز بنچ نے سماعت کی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ صوبے میں سال 2025 کے دوران کتوں کے کاٹنے سے 22 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 29 ہزار سے زائد شہری زخمی ہوچکے ہیں درخواست گزار ایڈووکیٹ گزار طارق منصور نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات کے باوجود سندھ حکومت نے ء2025 میں 2000 سے زائد افراد کو کنٹرول نہیں کیا۔ کے ایم سی کی ہیلپ لائن 1093 کو بھی غیر فعال کر دیا گیا ہے۔سماعت کے دوران یہ کڑوا سچ سامنے آیا کہ سندھ گورنمنٹ اسپتال نیو کراچی اور عباسی شہید اسپتال جیسے بڑے طبی مراکز میں بھی اینٹی ریبیز ویکسین دستیاب نہیں۔ جہاں ایک طرف درخواست گزار نے ویکسین کی عدم دستیابی اور آوارہ کتوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی شکایت کی۔ جہاں پراسیکیوٹر نے دعویٰ کیا کہ ویکسین ہر جگہ موجود ہے اور اس حوالے سے ڈی جی رپورٹ پیش کی جائے گی جسٹس یوسف علی سعید نے ریمارکس دیئے کہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد باضابطہ حکم جاری کیا جائے گا،

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر