اتوار، 26 اپریل، 2026

بابائے جدید طبیعیات ( گلیلیوگلیلی)حصہ دوم

 


گلیلیو نے 1634ء اپنی اجرام فلکی سے متعلق  کتاب  کیا شائع کی تو سارا ملک اس کے خلاف ہو گیا اور روم کی مذہبی عدالت میں اس پر مقدمہ چلایا گیا۔  اس نے ستاروں کے علم کا مزید مطالعہ کیا اور اپنے دوستوں کو بتایا کہ نظام شمسی کا مرکز آفتاب ہے1607 میں نیدر لینڈ کے ایک چشمے کے لینس کاریگر ہانس لپرہے نے جب دو لینس ایک دفتی کے ٹیوب میں رکھے تو اس نے یہ دیکھا کے اس کی مدد سے دور کی چیزیں بڑی اور پاس دکھائی دیتی ہیں۔ جلد ہی یہ پہلی دوربین بچوں کے کھلونے کی شکل میں یورپ کے شہروں میں بازاروں اور میلوں میں مقبول ہونے لگی، خاص طور پر فرانس میں۔1609 میں جب گیلیلیو نے اس کھلونے کے بارے میں سنا تو اس کو اس کی اہمیت کا احساس ہوا اور اس نے فوراً ہی اس کو بجائے زمین پر دور کی چیزوں کو دیکھنے کے اس کا رخ آسمان کی طرف کیا جو آج تک کسی نے نہیں کیا تھا۔ یہ کائنات میں انسان اور ہماری زمین سے مطابق ہماری سمجھ میں آنے والے ایک زبردست انقلاب کی شروعات تھی۔سب سے پہلے گیلیلیو نے اپنے اس نئے کھلونے کا رخ چاند کی طرف کیا تو اس نے یہ پایا کہ چاند کی سطح اوبڑ کھابڑ ہے کہیں گڈھے ہیں تو کہیں چھوٹی پہاڑیاں اور بڑے پہاڑ ہیں۔ارسطو کے نظریہ کے مطابق ہماری زمین اٹل ہے اور سورج ، چاند ، سیارے اور ستارے اس کے گر د چکر لگاتے ہیں ۔ اس سمجھ کو عیسائی چرچ کی پر زور حمایت حاصل تھی اور یہ یورپ کی مکمل سمجھ کا صدیوں تک حصہ رہی ۔ اس سمجھ کو پہلا سخت چیلنج سولہویں صدی میں ’کوپرنیکس‘ نے کیا۔ اس نے مشاہدہ کی بنیاد پر یہ کہا کہ اصل میں سارے سیار ے (مع ہماری زمین) سورج کے چاروں طرف چکر لگاتے ہیں ۔ارسطو کے حرکت کے بارے میں فلسفہ کو پوری طرح غلط ثابت کرنے کا اصل سہرا گیلیلیو کے سر ہی جاتا ہے۔ گیلیلیو ایک ریاضی داں ، فلسفی تھا اور فلورینس کے بادشاہ کا مشیر خاص تھا۔ 


اس نے نہ صرف ریاضی کی لیاقت کا استعمال کیا بلکہ بڑی ہوشیاری کے ساتھ تجربات بھی کئے۔اس کی مشہور کتاب (Dialogue Concerning the Two Chief World Systems) نہایت دلچسپ طریقہ سے دو لوگوں کی بات چیت کی شکل میں سائنسی دلائل کے استعمال کی بہترین مثال ہے۔ اس کتاب میں اس نے دلیلوں کی مدد سے ارسطو کی سمجھ کو ہمیشہ کے لئے غلط ثابت کردیا اور سائنسی سمجھ کی بنیاد کو شاید پہلی بار مشاہدوں کی کسوٹی پر پرکھنے کا طریقہ رائج کیا۔گلیلیو کایہ کہنا کہ زمین سورج کے چاروں طرف گھومتی ہے چرچ کو بہت ہی ناگوار گزرا جس کے نتیجہ میں اس کو نظر بند کر دیا گیا ۔ چرچ کو اپنی غلطی ماننے میں تقریباً 400 سال لگے۔ارسطو کا ماننا تھا کہ حرکت کے لئے مستقل قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ گلیلیو صحیح معنی میں حرکت اور قوت کے رشتہ کو سمجھ پایا۔ اس نے تجربہ کرکے یہ دکھایا کہ قوت صرف حرکت میں تبدیلی کے لئے ضروری ہوتی ہے اور اگر قوت کا استعمال نہ ہوتا تو حرکت کرنے والی چیز کی رفتار میں کوئی تبدیلی نہ ہوگی۔ لیکن کتنی قوت سے رفتار میں کتنی تبدیلی ہوگی یہ تب معلوم ہوا جب1687 میں نیوٹن کی کتاب (The Mathematical Principle of Natural Philosophy) منظر عام پر آئی۔ اس کتاب میں حرکت کو سمجھنے اور ناپنے کے تین مقولوں نے ساری سمجھ کو صاف کردیا۔ اس کے اس مشاہدے سے یہ بھرم ٹوٹ گیا کہ آسمانی چیزیں کسی ایسی خاص مادہ سے نہیں بنی ہیں جو ہم اپنی زمین پر ہر جگہ دیکھتے ہیں۔


اس نے پھر دوربین کو اپنی کہکشاں (Miley Way) کو دیکھنے کے لئے استعمال کیا۔ اس وقت یہ خیال تھا کہ یہ کہکشاں آسمان میں پھیلے ہوئے ایک بادل کی طرح ہے۔ دوربین سے دیکھنے کے بعد اس نے یہ پایا کہ بجائے ایک بادل کے اس کہکشاں میں کروڑوں ستارے ہیں۔گیلیلیو کو سب سے زیادہ حیرت انگیز چیز دکھائی دی جب اس نے اپنی دوربین کا رخ جوپیٹر (عطارو) کی طرف کیا۔ اس وقت تک فلکیاتی سائنسداں جوپیٹر کو ایک آوارہ سیارہ کے نام سے جانتےتھے اور آسمان میں اس کے چلنے کے راستہ کو اچھی طرح سمجھنے میں کافی دشواریاں تھیں اور ایسا لگتا تھا کہ یہ سیارہ کچھ اپنی مرضی سے گھوم رہا ہے۔گیلیلیو حیرت میں پڑ گیا جب اس نے دوربین سے جوپیٹر کے پاس تین چھوٹے کالے نقطے دیکھے۔ شروع میں اس نے سوچا کہ شائد یہ کچھ نئے ستارے ہیں جن سے کسی وجہ سے روشنی نہیں آرہی ہے۔ کچھ دن اور انتظار کرنے کے بعد جب اس نے دوبارہ دوربین سے دیکھا تو اس مرتبہ تین کے بجائے چار چھوٹے نقطے کچھ اپنی جگہ سے ہٹے دکھائی دیئے اس مشاہدے کے بعد گیلیلیو فوراً ہی سمجھ گیا کہ یہ چار نقطے اصل میں جوپیٹر کے چاند ہیں جو اس کے چاروں طرف چکر لگا رہیں ہیں۔ اس دریافت کے اس زمانے میں بڑے دور رس نتائج تھے۔ یہ ثابت ہوا کہ جس طرح ہماری زمین کے گِرد ایک چاند چکر لگا رہا ہے ویسے اور سیاروں کے گرد بھی ان کے چاند چکر لگا رہے ہیں۔ یعنی کائنات میں ہماری زمین کی کوئی خاص جگہ نہیں ہے کہ ہر چیز اس کے گرد چکر لگائے  ۔



یہ سوچ کہ سارا علم پرانی کتابوں میں موجود ہے سائنسی مشاہدوں نے بار بار غلط ثابت کیا ہے کہ سارے سیارے سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں یہ سمجھ اور مستحکم ہوئی جب گیلیلیو نے اپنی دوربین کا رخ وینس (زہرہ) کی طرف کیا۔ اس نے یہ دیکھا کہ بالکل جس طرح ہمارے چاند کا روشن حصہ مہینہ بھر میں بدلتا ہے ویسے ہی زہرہ کا روشن حصہ وقت کے ساتھ بدلتا ہے۔ جیسے چاند کی پہلی تاریخ سے چودہ تاریخ تک چاند کا روشن زیادہ ہوتا ہوا روشن حصہ دکھائی دیتا ہے اور اس کے بعد پھر چاند سے آنے والی روشنی غائب ہو جاتی ہے اسی طرح زہرہ (وینس) کا روشن حصہ وقت کے ساتھ بدلتا ہے صرف فرق یہ کہ زہرہ کے روشن حصہ میں بدلاؤ پورے ایک سال میں ہوتا ہے۔ ان مشاہدوں نے یہ ثابت کردیا کہ سارے سیارے سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ گیلیلیو نے یہ بھی ثابت کیا کہ زہرہ (وینس) زمین اور سورج کے بیچ میں ہے۔یہ ساری حیرت انگیز دریافت ایک معمولی سے دفتی کے سلینڈر میں دورلینس کی دوربین سے ہے۔اب بھی بہت چیزیں دریافت ہونے کے انتظار میں ہیں صرف اپنے اندھے اعتقادوں کو چھوڑنے کی ضرورت ہے۔گلیلیو (انگریزی: Galileo) ایک اطالوی ماہر فلکیات اور فلسفی تھا۔ سائنسی انقلاب پیدا کرنے میں گیلیو کا کردار اہم ہے۔ وہ شاقول اور دوربین كا نامور موجد ہے- گالی لیو نے اشیا کی حرکات، دوربین، فلکیات کے بارے میں بیش قیمت معلومات فراہم کیں۔ اسے جدید طبیعیات کا باپ کہا جاتا ہے۔

ہفتہ، 18 اپریل، 2026

اطالوی ماہر طبیعات گلیلیو گلیلی

 

 مشہور اطالوی سائنسدان گلیلیو گلیلی              جب         سترہ سال کا نوجوان طالب علم تھا  ایک شام  اٹلی کے مقام پیسا کے ایک گرجا میں کھڑا چھت سے لٹکے ہوئے ایک لیمپ پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ ہوا چل رہی تھی۔ لیمپ ہوا سے جھول رہا تھا، کبھی کم کبھی زیادہ۔ ہزاروں آدمیوں نے اس سے پہلے لیمپ کو اسی طرح جھولتے دیکھا ہو گا، لیکن کسی نے اس سائنسی اصول کی طرف توجہ نہیں دی تھی جو سادہ مثال کی حرکت میں چھپا تھا۔وہ دیکھتا رہا اورغور کرتا رہا  اور پھر  اپنی دوربین         سے فلکیات میں انقلاب برپا کیا جب اس نے 17ویں صدی کے اوائل میں بیرونی اجسام کے مطالعہ کے لیے دوربین کا استعمال کیا۔ اس وقت تک اس مقصد کے لیے میگنیفیکیشن کے آلات استعمال نہیں کیے گئے تھے۔ گیلیلیو کے اہم کام کے بعد سے، دنیا میں تیزی سے زیادہ طاقتور نظری دوربینیں تیار کی گئی ہیں، جیسا کہ برقی مقناطیسی طیف کے ہر علاقے میں تابکاری کا پتہ لگانے اور اس کی پیمائش کرنے کے قابل آلات کی ایک وسیع صف ہے۔ مختلف قسم کے معاون آلات (مثلاً کیمرہ، سپیکٹروگراف، اور چارج کپلڈ ڈیوائس) کی ایجاد اور ٹیلی سکوپ سسٹم کے ساتھ مل کر الیکٹرانک کمپیوٹر، راکٹ اور خلائی جہاز کے استعمال سے مشاہداتی صلاحیت کو مزید بڑھایا گیا ہے۔ ان پیش رفتوں نے نظام شمسی، آکاشگنگا کہکشاں، اور مجموعی طور پر کائنات کے بارے میں سائنسی علم میں پیشرفت میں ڈرامائی طور پر تعاون کیا ہے۔،


 نے 1609ء میں اس ڈیزائن کو بہتر بنا کر پہلی بار فلکیاتی مشاہدات کے لیے استعمال کیا، جس کی وجہ سے اکثر انہیں دوربین کا موجد سمجھا جاتا ہے۔ دیکھا گیا  کہ جو  جو لوگ اپنے کام سے لگن رکھتے ہیں    ان کی زندگی شروع ہی سے عام لوگوں سے کچھ مختلف ہوتی ہے۔ ان کی طبیعت میں کھوج اور تجسس کا مادہ شروع سے موجود ہوتا ہے۔ اس ہونہار طالب علم کا نام گلیلیو تھا۔اس زمانے میں گھڑیاں تو تھیں نہیں اور یہ طالب علم اس جھولتے ہوئے لیمپ کا وقفہ معلوم کرنا چاہتا تھا۔ اس نے گھڑی کا کام اپنی نبض سے لیا اور یہ معلوم کیا کہ لیمپ خواہ زیادہ جھول رہا ہو یا کم اس کی ایک حرکت میں یکساں وقت لگتا ہے۔ وجہ ظاہر ہے جسم جب زیادہ فاصلہ طے کرتا ہے تو اس کی رفتار بھی زیادہ ہوتی ہے اور جب وہ کم فاصلہ طے کرتا ہے تو اس کی رفتار بھی کم ہوتی ہے۔ پس ایک حرکت کا وقفہ برابر ہی رہتا ہے۔ یہ تجربہ اور اس کا اصول بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے لیکن آج ہماری زندگی میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ اب بھی پینڈولم والے کلاک کہیں کہیں نظر آ جاتے ہیں۔ پینڈولم کا فائدہ یہ ہے کہ کلاک اس کی مدد سے وقت صحیح دیتے ہیں۔لیلیو جس وقت ان باتوں پر غور کر رہا تھا، اس وقت اس کی عمر صرف سترہ برس تھی۔ اس کا دریافت کیا ہوا اصول آج بھی موجود ہے اور ہمارے کام آتا ہے۔


 گلیلیو اٹلی کے شہر پیسا میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ ایک قابل ریاضی دان تھا۔ وہ اپنے بیٹے کو تاجر بنانا چاہتا تھا۔ لیکن گلیلیو کو کاروبار سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ علم حاصل کرنا چاہتا تھا۔ لہٰذا اسے پیسا کی یونیورسٹی میں داخل کرا دیا گیا۔ طالب علمی کے زمانے میں ہی اس نے ان اصولوں کی مخالفت شروع کر دی جو ایک ہزار سال سے مشہور چلے آ رہے تھے اور جنہیں قدیم یونانی فلسفیوں نے وضع کیا تھا۔جلد ہی اس نے ریاضی میں اتنا نام پیدا کیا کہ اسے اسی یونیورسٹی میں پروفیسر کا عہدہ مل گیا۔بات دراصل یہ تھی کہ اس زمانے کے تمام سائنس دان قدیم یونانی فلسفی ارسطو کو اپنا استاد مانتے تھے۔ ارسطو نے ایک اصول وضع کیا تھا کہ اگر سو پونڈ اور ایک پونڈ کے دو وزنی جسم ایک ساتھ ایک ہی اونچائی سے نیچے گرائے جائے تو سو پونڈ والا جسم ایک پونڈ والے جسم کے مقابلے میں سو گنا زیادہ تیزی سے زمین پر گرے گا۔ گلیلیو نے یہ قانون غلط ثابت کر دکھایا اور لوگوں کو بتایا کہ ایک ہی شکل اور حجم کے دو جسم بلندی سے ایک ساتھ گریں گے خواہ ان کا وزن کچھ بھی ہو۔ 1602ء میں گلیلیو نے ایک تھرمامیٹر ایجاد کیا لیکن اس کی زیادہ شہرت اس دوربین کی وجہ سے ہوئی جو دن رات کی محنت سے تیار کی اور جو بائیس میل دور تک کی چیزوں کو بڑھا چڑھا کر دکھا سکتی تھی۔کچھ اور تحقیق اور تجربے کے بعد گلیلیو نے ایک ایسی دوربین بنائی جو اجرام فلکی کے مشاہدے کے کام آ سکتی تھی۔ اس نے اس کا رخ چاند کی طرف پھیرا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ چاند پر ہماری زمین کی طرح پہاڑ اور ریگستان موجود ہیں۔


 قدیم ہیئت دان ان کو سمندر سمجھتے تھے۔ یہ تو زمین آسمان کا فرق نکل آیا۔ گلیلیو نے معلوم کیا کہ کہکشائیں بہت سے ستاروں کا مجموعہ ہیں۔ اس کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے نتائج کی پروا کیے بغیر قدیم خیالات کی مخالفت کی کیونکہ وہ ان کو غلط سمجھتا تھا۔ اس وقت لوگوں کو یہ بتایا جاتا تھا کائنات کا مرکز زمین ہے اور سورج ہماری زمین کے گرد گھومتا ہےگلیلیو نے کہا زمین تو صرف ایک سیارہ ہے وہ دوسرے سیاروں کی طرح سورج کے گرد گھومتی ہے۔ لوگوں نے یہ بات سنی تو ان کے غصے کی حد نہ رہی۔ وہ سمجھے کہ گلیلیو ان کے قدیم مذہبی اعتقادات سے کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے گلیلیو کو مذہبی رہنماؤں کا دشمن بنا دیا۔ گلیلیو خود روم گیا اور بات صاف کی۔ 1611ء میں گلیلیو نے روم میں یہ اعلان کر ڈالا کہ سورج کی سطح پر سیاہ داغ ہیں۔ اب اس کے دشمنوں کو نیا بہانہ مل گیا۔ مذہبی عدالت نے گلیلیو کو تنبیہ کر دی۔ بے چارہ چند روز خاموش رہا۔ اب وہ بوڑھا ہو گیا تھا اور بیمار بھی رہنے لگا تھا۔ لیکن اس کی ایجادات کا سلسلہ جاری رہا۔ اس نے خوردبین بھی ایجاد کی جو بعد میں طبی سائنس کی ترقی کا سبب بن گئی۔

ہفتہ، 4 اپریل، 2026

ایران کی ایک عالی دما غ مقناطیسی شخصیت 'علی ارد شیرلاریجانی

 

علی اردشیر لاریجانی (3 جون 1958– 17 مارچ 2026ء)، ایران کے ایک قدامت پسند سیاست دان، فلسفی اور سابق فوجی افسر تھے۔وہ قُم کے حلقہ انتخاب سے منتخب ہوئے اور 12 جون 2008 سے مجلس شورائ اسلامی ایران کے سپیکر رہے تھے۔مارچ 2016 میں مجلس شورائی اسلامی ایران کے دسویں دور کے انتخابات میں قُم سے دوسری بار منتخب ہوئے۔ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نشریاتی ادارے کے سربراہ، وزیر ثقافت و اسلامی راہنمائی اور سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔علی لاریجانی: ’فلسفی‘ سے ایران کی طاقتور ترین شخصیت تکلاریجانی ایک ہی وقت میں دانشور، سخت گیر قانون ساز اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر تھے۔ ان کے قتل کے بعد ایران کی جنگی حکمت عملی کیا رخ اختیار کرے گی؟ایران کے طاقتور ترین خاندانوں میں سے ایک سے تعلق رکھنے والے علی لاریجانی ایرانی سیاست کا ایک ایسا نام تھے جو گذشتہ تین دہائیوں سے طاقت کے ایوانوں میں مسلسل موجود رہے-علی لاریجانی کی طاقت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جنوری 2026 میں منتخب صدر مسعود پزشکیان نے کابینہ اجلاس میں تسلیم کیا تھا کہ انٹرنیٹ پابندیاں ہٹوانے کے لیے انہیں لاریجانی سے اپیل کرنی پڑتی ہے۔ان کا پورا نام علی اردشیر لاریجانی تھا اور وہ ہر فن مولا شخص تھے۔ انہوں نے مشہور جرمن فلسفی امانوئل کانٹ پر کتاب لکھی، اس کے ساتھ ہی انہوں نے پاسداران انقلاب میں اہم عہدوں پر کام کیا۔ وہ پارلیمان کی سپیکر شپ سے لے کر جوہری مذاکرات تک ہر محاذ پر موجود رہے


۔وہ اسرائیلی حملے میں قتل ہونے سے قبل سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری کی حیثیت سے ایرانی کی سب سے طاقتور شخصیات میں سے ایک تھے۔ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ منتخب صدر مسعود پزشکیان کی بجائے عملی طور پر ایران کی روزمرہ حکومت چلا رہے تھے۔تین جون 1958 کو پیدا ہونے والے علی لاریجانی کا تعلق ایران کی مذہبی اور سیاسی اشرافیہ سے ہے۔ والد آیت اللہ میرزا ہاشم آملی ایک معروف عالم دین تھے جو 1931 میں رضا شاہ کے دباؤ کی وجہ سے نجف چلے گئے تھے، لیکن 1961 میں ایران واپس آئےلاریجانی خاندان ایران میں طاقت کا مترادف ہے۔ ان کے بھائی صادق لاریجانی عدلیہ کے سابق سربراہ رہے۔ دوسرے بھائی محمد جواد اور باقر لاریجانی نے بھی اعلیٰ مذہبی اور تعلیمی عہدے سنبھالے۔ لاریجانی خود آیت اللہ مرتضیٰ مطہری کے داماد تھے، جب کہ مطہری ایران کے 1979 کے انقلاب کے نظریاتی بانیوں میں سے ایک تھے۔ایران کی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کی موت کی تصدیقکی-ایران میں اس وقت انچارج کون ہے، نیا سپریم لیڈر کون ہوسکتا ہے؟۔انہی خاندانی روابط کی بنا پر لاریجانی نے ایرانی معاشرے کے دو طاقتور ترین مراکز میں اہمیت حاصل کی، ایک طرف وہ علما کے قریب تھے جب کہ دوسری جانب پاسداران سے بھی ان کے گہرے تعلقات تھے، جب کہ بیوروکریسی میں ان کے حامی موجود تھے۔فلسفی سپاہی-لاریجانی کی شخصیت کا سب سے دلچسپ پہلو ان کا تعلیمی سفر ہے۔ انہوں نے قم کے مدرسے سے روایتی مذہبی تعلیم حاصل کی، لیکن ساتھ ہی آریامہر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے کمپیوٹر سائنس اور ریاضی میں بیچلرز کی ڈگری لی۔اس کے بعد انہوں نے تہران یونیورسٹی سے مغربی فلسفے میں پی ایچ ڈی کی۔


 ان کی تحقیق کا موضوع امانوئل کانٹ، ساؤل کرپکے، اور ڈیوڈ لیوس تھے۔ لاریجانی نے ان فلسفیوں پر کتابیں لکھیں، اور تہران یونیورسٹی میں ادب اور انسانیت کے شعبے میں تدریس بھی کی۔ یہ وہ دور تھا جب وہ بیک وقت ایک اکیڈمک اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر تھے۔سیاسی سفر-لاریجانی کا سیاسی سفر انقلاب کے فوراً بعد شروع ہوا۔ پہلے محنت و سماجی امور کے نائب وزیر، پھر انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے نائب وزیر مقرر ہوئے۔ 1994 میں انہیں اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ کا سربراہ بنایا گیا۔ ایک ایسا عہدہ جو ایران میں انتہائی طاقتور سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ عوامی رائے کو تشکیل دیتا ہے۔اس عہدے پر دس سال تک 2004 تک لاریجانی نے ایران کی میڈیا پالیسی کو کنٹرول کیا۔2004  میں لاریجانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سکیورٹی مشیر بنے، کہا جاتا ہے کہ انہیں خامنہ ای کا مکمل اعتماد حاصل تھا۔2005  میں صدر احمدی نژاد نے انہیں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا اور لاریجانی نے مغرب کے ساتھ جوہری مذاکرات کی سربراہی سنبھالی۔


 یہ وہ دور تھا جب ایران کے جوہری پروگرام پر دنیا کی نظریں تھیں اور لاریجانی نے تکنیکی علم اور سفارتی مہارت دونوں کا مظاہرہ کیا۔لیکن احمدی نژاد کے ساتھ پالیسی اختلافات کی بنا پر 2007 میں لاریجانی نے استعفیٰ دے دیا۔2008 میں لاریجانی ایران کی پارلیمنٹ (مجلس) کے سپیکر منتخب ہوئے اور مسلسل 12 سال اس عہدے پر رہے۔ اس دوران انہوں نے مختلف دھڑوں میں توازن برقرار رکھا، اور خود کو ایک تجربہ کار قانون ساز کے طور پر ثابت کیا۔اس دوران لاریجانی کو ’قدامت پسند سے اعتدال پسند‘ کی طرف بڑھنے والے سیاست دان کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ 2016 کے پارلیمانی انتخابات میں اصلاح پسندوں کی تحریک نے انہیں سپورٹ کیا، حالانکہ وہ خود کو ’آزاد امیدوار‘ کہتے رہے۔میں اسرائیلی حملے میں مارے جانے والے ایران کے چیف سکیورٹی افسر علی لاریجانی اور بسیج فورس کے کمانڈر غلام سلیمانی کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔

تحریر انٹر نیٹ سے لی گئ ہے 

منگل، 31 مارچ، 2026

عظیم جراح اور طبیب ابوالقاسم خلف ابن العباس الزہراوی

 اسپین کےجنوبی علاقہ  اندلس کے مردم خیز خطے                 اورقرطبہ کے شمال   میں شہر الزہرا میں    پیدا ہونے والے  عظیم تر جراح اور طبیب                       ابوالقاسم خلف ابن العباس  الزہراوی                مانے جاتے ہیں جن کی جراحی کا شہرہ گزرے  ہوئے کل میں بھی تھا اور آج بھی  ہے، ان کا زمانہ اندلس میں چوتھی صدی ہجری (دسویں صدی عیسوی) ہے، ان کی زندگی جلیل القدر کارناموں سے بھرپور ہے جس کے نتیجے میں قیمتی آثار چھوڑے، وہ عبد الرحمن سوم الناصر کے طبیبِ خاص تھے، پھر ان کے بیٹے الحکم دوم المستنصر کے طبیبِ خاص ہوئے، ۔  ان کی سب سے بڑی تصنیف “التصریف لمن عجز عن التالیف” ہے جو کئی زبانوں میں ترجمہ ہوکر کئی بار شائع ہو چکی ہے۔دنیائے اسلام میں ایسے ایسے نامور مسلم سائنسدان ، فلسفی ، موجد اور طبیب وغیرہ پیدا ہوئے ہیں کہ جو روشنی کے مینارے ہیں۔ جن کے کارناموں ، ایجادات نظریات سے آج بھی استفادہ حاصل کیا جاتا ہے۔الزہراوی جنھیں سرجری یعنی جراحت کے پیشے کا باوا آدم کہا اور مانا جاتا ہے ۔ ایک مسلم سائنسدان مصنف ، موجد ، جراح اور طبیب تھے- انھوں نے بہت سے آلاتِ جراحی ایجاد کئےاسی لیئے یہ موجد بھی ہیں۔ ان کے ایجاد کردہ آلاتِ جراحی کی تصاویر ان کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اسی لیئے الزہراوی علم جراحت کے بانی کہلاتے ہیں۔زہراوی کی علمی طبّی کاوشوں کا یورپ کے طبّی مدارس میں بہت گہرا اثر رہا ہے ان کی کتابوں کا کئی یورپی زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے ۔ ان کی کتابوں کو یورپی یونیورسٹیوں میں سر جری کے طالب علموں کو بطورِ نصاب بھی پڑھایا جاتا رہا ہے اور حوالے کی کتاب (ریفرنس بک ) کے طور پر بھی یہ کتابیں شاملِ نصاب رہی ہیں-


ابوالقاسم نے نہایت عمدہ اسلامی اور علمی ماحول میں آنکھ کھولی اور اپنے زمانے کی بہترین یونی ورسٹی میں علم حاصل کیا۔ بڑے بڑے شفاخانوں میں اس نے جراحی میں کمال پیدا کیا۔ ابوالقاسم کے زمانے میں مسلمان اس فن میں ماہر تھے اور ہسپتال میں انسان کے بدن کی تشریح سکھانے اور جراحی میں ماہر بنانے کے لیے طالب علموں کو لاشوں کی چیرپھاڑ کی مشق بھی کرائی جاتی تھی، جیسے آج کل میڈیکل کالجوں میں کرائی جاتی ہے۔ ان میں         بیان کردہ کئی اوزار آج بھی ہسپتالوں میں استعمال ہورہے ہیں جب کہ طبابت کا علم سائنس کے زور سے بہت ترقی کر چکا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹروں کو سرجری میں جو رتبہ حاصل ہو اہے، وہ ابوالقاسم اور ایسے ہی دوسرے عربی اطبا کا طفیل ہے۔ انگریز دانش وروں نے بھی ابوالقاسم کی تعریف کی ہے۔ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ انہوں نے شروع میں سے بہت کچھ سیکھا اور جراحی کی کتاب سے خوب روشنی حاصل کی۔1368ء میں ابوالقاسم کی سرجری یورپ میں خوب مشہور ہو چکی تھی۔ ان کا تعلق اندلس سے تھا جسے اسلام کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی تاریخ میں بڑا مقام اور اہمیت حاصل رہی ہے۔اس مسلمان سائنس داں کو قرطبہ کے شمال مغرب میں امویوں بسائے گئے شہر الزہراء سے نسبت رکھنے کے سبب الزہراوی کہا جاتا ہے۔محققین کے مطابق وہ عبد الرّحمن سوم الناصر کے طبیبِ خاص تھے اور بعد میں ان کے بیٹے الحکم دوم المستنصر کے طبیبِ خاص مقرر ہوئے۔ الزہراوی کی زندگی کے حقائق اور تفصیلات بہت کم معلوم ہوئے ہیں، لیکن ان کی اہم تصانیف میں ان کی کتاب “الزہراوی” ہے جب کہ ابوالقاسم کی کتاب التصریف برسوں تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی گئی خاص طور پر اٹلی میں اس کو بڑی لگن اورتوجہ سے پڑھایا گیا۔ یہ کتاب پہلی بار 1497ء میں لاطینی زبان میں وینس میں چھاپی گئی، پھر 1500ء میں لوکے ٹس میں چھپی، اس کے بعد 1541 میں سٹرس برگ میں اور پانچ سال بعد باسل میں چھاپی گئی۔ اس کی شرحیں بھی لکھی گئیں۔ ابوالقاسم نے اس کتاب کے علاوہ بھی طب پر کئی کتابیں لکھیں ۔ اب ان کے لاطینی ترجمے یورپی لائبریریوں میں مل سکتے ہیں۔

 

 


الزہراوی نے فن ِجراحت( سرجری) کے کئی طریقوں کو ایجاد کیا ، ان کی تکنیک ، اور آلاتِ جراحی ایجاد کئے ۔موجودہ دور میں بھی ان کے آلاتِ جراحی کے نمونوں سے دنیا آج بھی مُستفید ہورہی ہے۔الزہراوی نہ صرف جراح تھے بلکہ عظیم طبیب بھی تھے-آپ نے آنکھوں کے موتیا ، مختلف امراضِ چشم ،حلق، دانت، مسوڑھے، جبڑہ ، زبان، اور ہڈیوں کے ٹوٹنے اور ہڈیوں کےاُکھڑنے اور گردوں اور سر وغیرہ کے باے میں تفصیلا ًبیان کیاہے۔ فنِ جراحی میں انھوں نے پتھری نکالنے کا طریقہ بھی بیان کیاہے جو میڈیکل سا ئنس میں جدید طریقہ سمجھا جاتا ہے ۔دانت کی دوبارہ تنصیب دانتوں کی تراش ان ہی کا کا میاب جراحی عمل ہےانھوں نے اپنی کتا بوں میں طب، خاص کر علمِ جراحت ،علم الادویہ اور صحت پر بحث کی ہے ۔ان کی تصانیف میں ایک مشہور کتاب “ الزہراوی ” ہے جبکہ ان کی ایک اور قابلِ ستائش تصنیف “التصریف لمن عجز عن التالیف” ہے جس کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔انھوں نے ہی تصاویر کی مدد سے آلاتِ جراحی کی ساخت ، شکل کو بیان کیا اور اپنی کتابوں میں درج کیا ہے اور اُن کا استعمال بھی بتایا ہے اور اسی لیےسرجری یعنی علمِ جراحی میں انکا بڑا نام ہے۔ ابو القاسم الزہراوی "قرون ِ وسطیٰ کے متعدد بار حوالہ شد جراحی نمائندہ" کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ڈونلڈ کیمپ بیل، عرب ادویات کے تاریخ دان، یورپ میں الزہراوی کی مقبولیت کو یوں بیان کرتے ہیں:"یورپ کے طبی نظام پر ابو القاسم کا بڑا اثر یہ تھا کہ اس کے قابلِ فہم انداز اور پیش کرنے کے طریقے نے مغرب کے علما میں عربی ادب کی حمایت میں احساس اجاگر کیا:



 ابو القاسم کے طریقوں نے گیلن کے طریقوں کو گرہن لگا دیا اور پانچ سو سال تک طبی یورپ میں نمایاں حیثیت برقرار رکھی، حتیٰ کہ اس کے فائدہ مند نہ ہونے کے بعد بھی یہ اہم مقام رکھتے ہیں۔ تاہم، اس نے عیسائی یورپ میں جراحت کے معیار کو بڑھانے میں مدد کی  ہڈیوں کے چٹخنے اور جوڑنے پر اپنی کتاب میں، وہ بیان کرتا ہے کہ "جراحت کا یہ حصہ بے ہودہ اور غیرتہذیب یافتہ اذہان کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے، اسی وجہ سے یہ حقارت میں شمار کیا جاتا ہے۔"الزہراوی نے ناسور کے علاج کے لیے ایک آلہ دریافت کیا اور بہت سارے امراض کا استری سے علاج کیا، زہراوی وہ پہلے طبیب تھے جنھوں نے “ہیموفیلیا” نہ صرف دریافت کیا بلکہ اس کی تفصیل بھی لکھی                           زہراوی کا یورپ میں بڑا عظیم اثر رہا، ان کی کتب کا یورپ کی بہت ساری زبانوں میں ترجمہ کیا گیا اور یورپ کی طبی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہیں، یورپ کے جراحوں نے ان سے خوب استفادہ کیا اور ان سے اقتباس بھی کیا، حتی کہ بعض اوقات بغیر حوالہ دیے ان کی دریافتیں اپنے نام منسوب کر لیں، ان کی کتاب “الزہراوی” پندرہویں صدی عیسوی کے شروع سے لے کر اٹھارویں صدی عیسوی کے اواخر تک یورپ کے اطباء کا واحد ریفرنس رہی۔ ان کے ایجاد کردہ آلات جراحی آج تک استعمال ہوتے ہیں۔قرطبہ کی گلیاں جہاں وہ رہتا تھا کو، اس کے اعزاز میں "ابو القاسم گلی" کے نام سے منسوم کیا گیا۔ اس گلی میں گھر نمبر 6 میں رہتا تھا جس کی آج طلائی تختی یافتہ ہسپانوی سیاح بورڈ حفاظت کرتا ہے جس پر کنندہ ہے : "یہ وہ گھر ہے جہاں الزہراوی رہتا تھا۔

بدھ، 25 مارچ، 2026

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سانحہ منٹھار

  غ  غربت بھی کیا بلا ہے 'کوئ میرے وطن کے غریبوں سے پوچھے جہاں کروڑوں کی گا ڑیاں  ان صاحب ثروت افراد میں مثل ریوڑیوں کے تقسیم ہوتی ہیں  جن کے پاس پہلے ہی لگژری گاڑیا مفت میں پہلے ہی ملی ہوئ  ہوتی ہیں آئیے ان غرباء کی زندگیوں پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں  - عید سر پہ کھڑی ہے اور  غریب خواتین کو اس رقم کی ضرورت ہے جس رقم سے وہ اپنے اور گھر والوں کے لئے رزق کا بندوبست کریں گی لیکن پھر   ان پر قیامت ٹوٹ پڑتی ہےرحیم                  یار خان کے نواحی علاقے منٹھار بنگلہ کے چک نمبر 125 میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصول کرنے کیلئے آئی خواتین پر چھت گرنے سے 8 جاں بحق اور 76 زخمی ہو گئیں۔ کہا جاتا ہے کہ امداد کیلئے آنے والی خواتین کی تعداد سینکڑوں میں تھی اور 200 سے زائد خواتین ریٹیلر شاپ کی چھت پر موجود تھیں۔ حادثے کے بعد قیامت کا سماں تھا، ہر طرف چیخ و پکار اور آہ و بکا کی آوازیں آرہی تھیں۔یہ خواتین جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنے کیلئے دو وقت کی روٹی کا ترلہ کر رہی تھیں کہ جان کی بازی ہار گئیں۔ بڑی بات یہ ہے کہ اتنے بڑے سانحہ پر وزیر اعظم اور وزیرا علیٰ کی طرف سے کوئی نمائندہ نہ موقع پر پہنچا اور نہ امداد کا اعلان ہوا۔


 البتہ صدر زرداری کی طرف سے وفات پانے والی خواتین کیلئے دس دس لاکھ اور زخمی خواتین کیلئے تین تین لاکھ امداد کا اعلان ہوا ہے۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک سے غربت کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے جائیں، ملک میں غربت بڑھ رہی ہے، غربت اور امارت کے درمیان فاصلے طویل ہوتے جا رہے ہیں، مانگنے والا چاہے جتنا صحت مند کیوں نہ ہو معذور بن جاتا ہے۔رحیم یار خان کے سانحہ میں بھی مجبور خواتین ماری گئیں، یہ حادثہ اُن تلخ حقائق کو بے نقاب کرتا ہے کہ سرائیکی وسیب میں غربت، بیروزگاری، جہالت، پسماندگی، محرومی و محکومی کے باعث وسیب کے غریب لوگ مشکلات کا شکار ہیں۔  ؟ یہ پروگرام عظیم خاتون محترمہ بینظیر بھٹو کے نام پر شروع کیا گیا ہے، اس کی چیئرپرسن بھی خاتون ہیں، پنجاب کی وزارت اعلیٰ بھی ایک خاتون کے پاس ہے۔ اگر بے سہارا اور بزرگ خواتین کے مسائل کا احساس ان خواتین کو نہیں تو پھر کس کو ہو گا؟۔وسیب کی یہ مجبور خواتین رمضان شریف میں کیا کیا ضرورتیں اور کیا کیا خواہشیں لے کر امدادی سنٹر گئیں مگر وہ میتوں کی صورت میں گھر پہنچیں تو نہ صرف اُن کے گھروں میں بلکہ پورے وسیب میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔


 آج جب دنیا جدید ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو چکی ہے، پنشن اور تنخواہوں کی طرح یہ امداد بھی بینکوں کے ذریعے خواتین کو مل سکتی ہے۔  ؟ بیمار، لاچار، ضعیف و بزرگ خواتین کی بڑی بڑی لائنیں لگوانا اور اُن کی عزت نفس مجروح کرنا ، سارا دن انہیں ذلیل و خوار کرنا، کہاں کی دانشمندی ہے؟ یہ واقعہ وطن وسیب کے ہر شخص کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے۔ خصوصاً خطے کے جاگیردار، سیاستدان اور مقتدر مراکز کے حکمران جنہوں نے سرائیکی وسیب میں صنعتی ترقی نہیں ہونے دی، جنہوں نے آج تک پورے وسیب میں ایک بھی ٹیکس فری انڈسٹریل زون قائم نہیں ہونے دیا اور وہ لوگ جو کہ صوبے کے راستے میں رکاوٹ ہیں میں سمجھتا ہوں کہ یہی لوگ اس سانحہ کے ذمہ دار بھی ہیں۔


انکم سپورٹ پروگرام میں طرح طرح کی شکایات ہیں، یہ بھی شکایت ہے کہ اس سے دو نمبری سے صاحب حیثیت لوگ بھی استفادہ کرتے ہیں۔ مظلوم خواتین ایک عرصے سے فریاد کرتی آرہی ہیں کہ ایجنٹ اور انکم سپورٹ پروگرام فراہم کرنے والا عملہ ہر خاتون سے پندرہ سو روپے بھتہ لیتا ہے آج تک ان شکایات کا ازالہ نہیں ہوا۔ غریب اور بے سہارا خواتین جن میں عمر رسیدہ اور علیل خواتین بھی شامل ہوتی ہیں اُن کیلئے بیٹھنے تک کا انتظام نہیں ہوتا، پانی پوچھنا تو دور کی بات ہے ، حالانکہ ریٹیلر سنٹر والے بہت پیسے اکٹھے کر رہے ہوتے ہیں۔ سانحہ رحیم یار خان نے سب کچھ آشکار کر دیا ہے۔سانحہ کے موقع پر خواتین نے جو شکایت کی اُس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ خواتین کا کہنا ہے کہ شروع میں اے ٹی ایم کارڈ سے رقم نکالنے میں سہولت تھی مگر موجودہ نظام سے زیادہ تر خواتین کا عملے سے جھگڑا ہوتا ہے یا قطار میں پہلے کھڑے ہونے پر خواتین کو مارا پیٹا جاتا ہے جس میں کئی خواتین زخمی ہوکر واپس لوٹ جاتی ہیں، ہر جگہ یہی صورتحال ہے۔ خواتین نے جذباتی انداز میں یہ بھی کہا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں وہ روزے سے پورا دن قطار میں کھڑی رہتی ہیں۔ بعض اوقات شدید گرمی میں عورتیں بے ہوش ہوجاتی ہیں اس طرح جینے سے بہتر ہے کہ اس رقم کو ہی نہ دیا جائے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر عورت کو بینک میں اکائونٹ کھولنے کا اختیار دیا جائے تاکہ وہ جب چاہے رقم نکال سکے یا بینک میں اپنے اکائونٹ میں محفوظ رکھے تاکہ وہ قطاروں میں کھڑے ہونے کی تکلیف سے بچ سکے۔ حکومت کو سب مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اس معاملے پر غور کرے اور بینک کے ذریعے خواتین کو عزت اور احترام کے ساتھ یہ امداد فراہم  صنعت کی مستحکم ترقی کا غربت کے خاتمے میں اہم کردار ہےصنعت غربت سے نجات دلانے اور آمدن میں اضافے کا بنیادی ستون ہے۔ حال ہی میں مرکزی حکومت اور مقامی حکومتوں نے وبا کے اثرات پر قابو پانے اور صنعت کی مستحکم ترقی میں غربا کی مدد کے لیے مختلف پالیسیاں اور اقدامات اختیار کئے ہیں

منگل، 24 مارچ، 2026

بلدھا گارڈن بنگال کا قدیم نباتاتی باغ

 

بلدھا گارڈن بنگال کے اس حصے میں قائم قدیم ترین نباتاتی باغات میں سے ایک ہے۔ اسٹیٹ آف بلدہ کے زمیندار نریندر نارائن رائے چودھری نے اسے 1909 میں بنانا شروع کیا اور 1943 میں اپنی موت تک اس میں اضافہ کرتے رہے۔ اس نے بیک وقت میوزیم کا مجموعہ بنایا، جو بلدہ میوزیم کے نام سے جانا جاتا تھا۔ میوزیم کے مجموعے اب بنگلہ دیش کے نیشنل میوزیم میں رکھے گئے ہیں۔ بلدھا گارڈن پرانے ڈھاکہ میں واری میں واقع ہے جو 3.36 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس میں 672 اقسام کے پودوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ شامل ہے جس میں بہت سے نایاب بھی شامل ہیں۔ یہ گواہی دی جاسکتی ہے کہ ملک میں غیر ملکی پودوں کا سب سے زیادہ ذخیرہ بلدھا گارڈن میں رکھا گیا ہے۔ ایک ماہر فطرت، انسان دوست اور شاعر نریندر نارائن رائے چودھری نے 1909 میں اپنی جائیداد پر باغ قائم کیا۔ انہوں نے مختلف ممالک سے پھول اور نایاب پودے لا کر انتظامات کا آغاز کیا۔ ایک اندازے کے مطابق باغ کے گھر میں 50 مختلف ممالک سے نایاب پھول آتے ہیں۔ اس نے میوزیم کا مجموعہ بھی بنایا جسے بلدھا میوزیم کہا جاتا ہے۔ محکمہ جنگلات کے تحت نیشنل بوٹینیکل گارڈن اب بلدھا گارڈن کا انتظام کرتا ہے۔باغ کو دو یونٹوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بڑی اکائی کا نام زرخیزی کی یونانی فطرت کی دیوی سائبیل کے نام پر رکھا گیا ہے۔ سائکی چھوٹی اکائی کا نام ہے جس کا مطلب ہے روح۔ 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد، محکمہ جنگلات نے ماضی کی اس شان کو بحال کرتے ہوئے باغ کی ترقی اور تزئین و آرائش کی اور دو نئے گرین ہاؤسز بھی تعمیر کیے اور شہری سہولیات کو جدید بنایا۔

 

 

سائنسی نام:- Betea Monosperma 

ڈھاک جسکو بنگال کینو ، پالش ، Bastard  جنوبی ایشیا کا گھنے سائے   اور نارمل گروتھ والا پھولدار درخت ہے اسکے خوبصورت چمکیلے پھولوں کی وجہ سے ڈھاک کو Ornamental Tree کا درجہ حاصل ہے اور پھولوں کے چمکدار ڈارک  سرخ رنگ کی وجہ سے جانا جاتا  ہے      Flame Of The Forest  ۔ ڈھاک جنوبی ایشیا کا مقامی پودا ہے اس ڈھاک کا پودا انڈیا ، بنگلادیش ، نیپال , سری لنکا ، تھائی لینڈ اور پاکستان میں بکثرت پایا جاتا ہے ۔ ڈھاک کا درخت 49 فیٹ تک قد کر سکتا ہے جہاں تک اسکے فوائد کی بات کریں تو ڈھاک کی لکڑی نرم اور پائیدار ہونے کے ساتھ ساتھ واٹر پروف ہوتی ہے اور پانی والی جگہوں پر استعمال کے لئے بہترین ہے ۔ ڈھاک کے پتوں کو ریشم کے کیڑوں کو پالنے کے لئے انڈیا میں بکثرت استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ڈھاک کی گوند کو کمرک کہا جاتا ہے جو کہ مخصوص کھانوں میں استعمال کی جاتی ہے ڈھاک کے پھولوں سے رنگ کشید کیا جاتا ہے اور اس رنگ کو کیسری رنگ کہا جاتا ہے درختی پودوں میں ڈھاک کا اپنا مقام ہے، ایک پودا ضوور لگائیں- .خوبصورت پودا ہےسائنسی نام:- Betea Monosperma ڈھاک جسکو بنگال کینو ، پالش ، Bastard   جنوبی ایشیا کا گھنے سائے والا نارمل گروتھ والا پھولدار درخت ہے اسکے خوبصورت چمکیلے پھولوں کی وجہ سے ڈھاک کو Ornamental Tree کا درجہ حاصل ہے اور پھولوں کے چمکدار ڈارک ریڈ رنگ کی وجہ سے ڈھاک کو Flame Of The Forest بھی کہا جاتا ہے۔ ڈھاک جنوبی ایشیا کا مقامی پودا ہے اس طرح ڈھاک کا پودا انڈیا ، بنگلادیش ، نیپال , سری لنکا ، تھائی لینڈ اور پاکستان میں بکثرت پایا جاتا ہے ۔


 ڈھاک کا درخت 49 فیٹ تک قد کر سکتا ہے جہاں تک اسکے فوائد کی بات کریں تو ڈھاک کی لکڑی نرم اور پائیدار ہونے کے ساتھ ساتھ واٹر پروف ہوتی ہے اور پانی والی جگہوں پر استعمال کے لئے بہترین ہے ۔ ڈھاک کے پتوں کو ریشم کے کیڑوں کو پالنے کے لئے انڈیا میں بکثرت استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ڈھاک کی گوند کو کمرکس کہا جاتا ہے جو کہ مخصوص کھانوں میں استعمال کی جاتی ہے ڈھاک کے پھولوں سے رنگ کشید کیا جاتا ہے اور اس رنگ کو کیسری رنگ کہا جاتا ہے درختی پودوں میں ڈھاک کا اپنا مقام ہے بلدھا گارڈن بنگال کے اس حصے میں قائم قدیم ترین نباتاتی باغات میں سے ایک ہے۔ اسٹیٹ آف بلدہ کے زمیندار نریندر نارائن رائے چودھری نے اسے 1909 میں بنانا شروع کیا اور 1943 میں اپنی موت تک اس میں اضافہ کرتے رہے۔ اس نے بیک وقت میوزیم کا مجموعہ بنایا، جو بلدہ میوزیم کے نام سے جانا جاتا تھا۔ میوزیم کے مجموعے اب بنگلہ دیش کے نیشنل میوزیم میں رکھے گئے ہیں۔ بلدھا گارڈن پرانے ڈھاکہ میں واری میں واقع ہے جو 3.36 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس میں 672 اقسام کے پودوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ شامل ہے جس میں بہت سے نایاب بھی شامل ہیں۔ یہ گواہی دی جاسکتی ہے کہ ملک میں غیر ملکی پودوں کا سب سے زیادہ ذخیرہ بلدھا گارڈن میں رکھا گیا ہے۔ ایک ماہر فطرت، انسان دوست اور شاعر نریندر نارائن رائے چودھری نے 1909 میں اپنی جائیداد پر باغ قائم کیا۔ انہوں نے مختلف ممالک سے پھول اور نایاب پودے لا کر انتظامات کا آغاز کیا۔ ایک اندازے کے مطابق باغ کے گھر میں 50 مختلف ممالک سے نایاب پھول آتے ہیں۔



 اب کچھ ڈھا ک کے  نباتاتی  فوائد  اور روز مرہ    کے استعمال  کے   بارے میں   جانئے :   اس کے تین پتوں کو گھاس یا تیلیوں کی مدد سے جوڑ کر ایک برتن کی سی شکل دے دی جاتی ہے جسے دونا کہا جاتا ہے- ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں ڈھاک کے پتے روزانہ دونے بنانے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں- اس کو پتل یا پتر بھی کہا جاتا ہے جس پر دال بھات وغیرہ رکھ کر پروسا جاتا ہے- ہندوستان اور بنگلہ دیش میں  حلوائی ڈھاک کے پتوں کے دونے میں ہی رسگلے گلاب جامن اور قلاقند رکھ کر دیا کرتے تھے- دوسری کھانے پینے کی اشیا اور گوشت  اور ’’پھول‘‘ اور ’’ہا ر‘‘ وغیرہ انہی پتوں میں رکھ کر دیئے جاتے تھے - لیکن ڈھاک نے ہمیں ایک عجیب محاورہ دیا اور وہ ڈھاک کے تین پات رہ گئے اس لئے کہ ڈھاک کے تین ہی پات یعنی پتے ہوتے ہیں اور   اکثر کوششیں نا کام ہوتی ہیں اور کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلتا ایسے ہی موقع پر ڈھاک کے تین پات محاورہ استعمال کیا جاتا ہے ۔(اتنی بار کوشش کی مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین بات  - گل ٹیسو‘‘ ڈھاک ہی کے پھول ہوتے ہیں- ڈھاک کا گوند کمرکس کہلاتا ہے- کمر پشت اور رحم کی طاقت کیلئے دوسری دواؤں کے ہمراہ یا گھی میں بھون کر اس کی پنجبری بناکر زچہ کو کھلاتے ہیں۔  اسی وجہ سے اس کانام کمرکس مشہور ہے۔حکیموں اور ویدوں  کے مطابق اس کے مستقل استعمال سے انسان کے چہرے پر نہ جھریاں پڑتی ہیں نہ مسوڑھے گلتے ہیں اور نہ بال سفید ہوتے ہیں بلکہ چہرہ گلابی اور جلد شادابی ہوجاتی ہے-ڈھاک کے بیج پنساری کے پاس تخم پلاس پاپڑا کے نام سے ملتے ہیں۔  یہ نیم، پیپل، برگد کی طرح با آسانی ہوجاتا ہے پاکستان میں بھی اکثر علاقوں میں اگایا جاتا ہے

یہ تحریر گوگل سرچ کی مدد سے لکھی گئ ہے

پیسے دو' جیون ساتھی لو ( برائیڈل مارکیٹ آف بلغاریہ)

 

 ۔ شادی بلغاریہ  کا شادی  بازار   جہاں نوعمر لڑکیوں  کو ان کے  مستقبل کے  شوہر خر یدنے آتے ہیں'  اسٹارا زگورا میں کھلے بازار کا انعقاد سال میں چار بار ہوتا ہے۔ روما کے غریب خاندان اسے مالی طور پر فائدہ مند شادیوں کا بندوبست کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ 'دلہن کے بازار' کے طور پر تقریب کی شہرت نسلوں پرانی ہے۔بلغاریہ کے ایک 'دلہن بازار' میں متعدد نوجوان روما خواتین کو ممکنہ شادی کرنے والوں کے سامنے پیش کیا  جاتا  ہے      جہاں غریب خاندانوں کو اپنے بچوں کے لیے مالی طور پر فائدہ مند شادیوں کا بندوبست کرنے کا موقع دیا جاتا ہےیہاں ممکنہ دلہنیں بھڑکیلے   لباس پہنتی  ہیں، چمکدار زیورات، اونچی ایڑیاں اور منی اسکرٹس  خاص لباس ہیں۔اور فروخت ہونے والی تقریب میں ان کے ارد گرد ایسے نوجوان ہیں جن کے خاندان کو امید ہے کہ انہیں اچھی قیمت پر بیوی مل جائے گی۔سٹارا زگورا میں جمع ہونے والے خاندان تقریباً 18,000 روما کی کمیونٹی کا حصہ ہیں جو کالیدزی کے نام سے مشہور ہیں، جو روایتی طور پر تانبے کے کام کا کام کرتے ہیں۔وہ ایک انتہائی غریب علاقے میں سب سے زیادہ غربت زدہ لوگوں میں سے ہیں اور باہمی طور پر فائدہ مند یونینز بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔دلہن کا بازار' - موسم بہار اور موسم گرما کے دوران مختلف مذہبی تعطیلات پر سال میں چار بار منعقد کیا جاتا ہے - روما کے خانہ بدوشوں کے لیے ملنے اور نہ صرف گپ شپ کرنے، بلکہ اپنے نوعمر بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے میچ میکر ملنے کا ایک موقع ہے۔


لڑکے اور لڑکیاں ایک نادر موقع پر گاڑیوں پر ساتھ ساتھ رقص کرتے ہیں ، جس میں نوجوانوں کو جنس مخالف کے ساتھ گھل مل جانے کی اجازت کم ہی ہوتی ہے۔Kalaidzhi، جو تقریباً تمام مذہبی آرتھوڈوکس عیسائی ہیں، 15 یا اس ۔یہ ایک ہائی اسکول ڈانس کی طرح شروع ہوتا ہے، لڑکوں اور لڑکیوں کے گروپوں کے ساتھ الگ الگ جھنڈوں میں، کبھی کبھار ہاتھ ملاتے اور ایک دوسرے   کا قرب اختیار   کرتے ہیں - جب کہ مائیں اور باپ احتیاط سے پس منظر میں رہتے ہیں۔سال میں دو بار ہونے والے ان دلہن میلوں کے علاوہ، لڑکے اور لڑکیاں صرف انٹرنیٹ چیٹس میں رابطہ رکھتے ہیں۔برائیڈل مارکیٹ' کے طور پر ایونٹ کی شہرت نسل در نسل چلی جاتی ہے۔ یہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں گھوڑوں کی تجارت کے بازار کے ساتھ کھلے میدان میں ہوا کرتا تھا، جہاں دلہنیں اسٹیج پر کھڑی ہوتی تھیں اور لڑکوں کا مقابلہ ہوتا تھا۔لیکن پولیس نے گزشتہ سال گھوڑوں کے تاجروں کے ساتھ کشیدگی سے بچنے کے لیے اسے شہر میں منتقل کر دیا تھا۔ ۔اگر نوجوان ایک دوسرے سے گرم جوشی رکھتے ہیں، تو یہ میلہ اس قیمت کے بارے میں پیچیدہ مالی گفت و شنید کو متحرک کر سکتا ہے جو ایک نوجوان کے خاندان کو ایک عورت کے والدین کو اس کی منہ مانگی قیمت  ادا کرنا ہو گی اگر وہ شادی کرنا چاہتے ہیں۔دلہن کی قیمت - 5,000 اور 10,000 لیو (£ 2,200 سے £ 4,300) کے درمیان - حالیہ برسوں میں کم ہوئی ہے کیونکہ ملازمتیں ختم ہوگئی ہیں



  شادی کی تقریبات بہت زیادہ  سادہ ہوتی  ہے۔لیکن کہا جاتا ہے کہ قیمتیں اب بھی ایک 'بہت خوبصورت' نوجوان عورت کے لیے بڑھ رہی ہیں  عام طور پر لڑکی اسکرٹ، یا منی اسکرٹ اونچی ہیل کے ساتھ پہن کر بھڑکتے ہوئے لباس میں اس مارکیٹ میں اپنے والدین کے ہمراہ موجود ہوتی ہے۔ برائیڈل مارکیٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں لڑکیوں کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ منتخب ہونے والے لڑکے ساتھ رقص کرسکتی ہیں۔ اور اگر کوئی لڑکا کسی لڑکی میں دلچسپی ظاہر کرتا ہے تو ایسے موقعے پر دونوں کے والدین یا سرپرست ایک دوسرے سے ملنا ضروری سمجھتے ہیں۔بعدازاں لڑکی کی قیمت سے متعلق مذاکرات بھی اسہی موقعے پر ہوتے ہیں، برائیڈل مارکیٹ میں دلہن کی قیمت دوہزار آٹھ سو ڈالر سے پانچ ہزار چھ سو ڈالر تک ہوسکتی ہے۔ اگرچہ کہ دلہنوں کی قیمت میں حالیہ برسوں میں بے روزگاری اور مہنگائی کے سبب کافی کمی واقعے ہوئی ہے۔عام طورپر اس عیسائی کمیونٹی کے افراد انتہائی روایتی ہیں اور عام طور پر لڑکیوں کو چودہ یا پندرہ سال کی عمر کے بعد اسکول بھیجنا بند کردیتے ہیں کہ کہیں وہ لڑکوں سے میل جول نہ بڑھا لیں۔


کہا جاتا ہے کہ دلہن کے بازار کی یہ رسم یہاں پر کہیں پرانی ہے، اور پہلے یہ ایک چھوٹے دیہات میں منعقد ہوا کرتی تھی، جس میں لڑکی ایک اسٹیج پر کھڑا کیا جاتا تھا جبکہ اسکی بولی بھی لگائی جاتی تھی اور جیتنے والے کو لڑکی سونپ دی جاتی تھی۔گزشتہ سال پولیس نے امن و امان کے خدشے اور بولی لگانے والے افراد میں تنازے کے پیش نظر اس فیسٹیول کی جگہ کو اس شہر میں منتقل کیا ہے۔آپ نے اتوار بازار یا سستے بازار کا نام تو ضرور سنا ہوگالیکن آج ہم آپ کو ایک ایسے بازار کے بارے میں بتائیں گے جہاں والدین اپنی لڑکیوں کو کسی دولہے کی تلاش میں لے کر جاتے ہیں جبکہ کچھ والدین اپنے لڑکوں کو اس آس پر لے کر آتے ہیں کہ انہیں اپنے لڑکے کے لئے ’سستی لڑکی‘مل جائے گی۔’دلہن بازار‘ کے نام سے مشہور یہ بازار سال میں چار بار منعقد کیا جاتا ہے-بلغاریہ کے شہر سٹارا زاگورا کے قریب میلے میں ’روما‘ سے تعلق رکھنے والے ’کلیدزی‘قبیلے کے 18ہزار افراد شرکت کرتے ہیں۔یہ افراد بلغاریہ کے معاشرے میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارتے ہیں اور اپنی ہی کمیونٹی میں کوئی مناسب رشتے کی تلاش میں سرگرداں ہوتے ہیں۔

 ۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

بابائے جدید طبیعیات ( گلیلیوگلیلی)حصہ دوم

  گلیلیو نے 1634ء اپنی اجرام فلکی سے متعلق  کتاب  کیا شائع کی تو سارا ملک اس کے خلاف ہو گیا اور روم کی مذہبی عدالت میں اس پر مقدمہ چلایا گیا...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر