بدھ، 25 مارچ، 2026

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سانحہ منٹھار

  غ  غربت بھی کیا بلا ہے 'کوئ میرے وطن کے غریبوں سے پوچھے جہاں کروڑوں کی گا ڑیاں  ان صاحب ثروت افراد میں مثل ریوڑیوں کے تقسیم ہوتی ہیں  جن کے پاس پہلے ہی لگژری گاڑیا مفت میں پہلے ہی ملی ہوئ  ہوتی ہیں آئیے ان غرباء کی زندگیوں پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں  - عید سر پہ کھڑی ہے اور  غریب خواتین کو اس رقم کی ضرورت ہے جس رقم سے وہ اپنے اور گھر والوں کے لئے رزق کا بندوبست کریں گی لیکن پھر   ان پر قیامت ٹوٹ پڑتی ہےرحیم                  یار خان کے نواحی علاقے منٹھار بنگلہ کے چک نمبر 125 میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصول کرنے کیلئے آئی خواتین پر چھت گرنے سے 8 جاں بحق اور 76 زخمی ہو گئیں۔ کہا جاتا ہے کہ امداد کیلئے آنے والی خواتین کی تعداد سینکڑوں میں تھی اور 200 سے زائد خواتین ریٹیلر شاپ کی چھت پر موجود تھیں۔ حادثے کے بعد قیامت کا سماں تھا، ہر طرف چیخ و پکار اور آہ و بکا کی آوازیں آرہی تھیں۔یہ خواتین جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنے کیلئے دو وقت کی روٹی کا ترلہ کر رہی تھیں کہ جان کی بازی ہار گئیں۔ بڑی بات یہ ہے کہ اتنے بڑے سانحہ پر وزیر اعظم اور وزیرا علیٰ کی طرف سے کوئی نمائندہ نہ موقع پر پہنچا اور نہ امداد کا اعلان ہوا۔


 البتہ صدر زرداری کی طرف سے وفات پانے والی خواتین کیلئے دس دس لاکھ اور زخمی خواتین کیلئے تین تین لاکھ امداد کا اعلان ہوا ہے۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک سے غربت کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے جائیں، ملک میں غربت بڑھ رہی ہے، غربت اور امارت کے درمیان فاصلے طویل ہوتے جا رہے ہیں، مانگنے والا چاہے جتنا صحت مند کیوں نہ ہو معذور بن جاتا ہے۔رحیم یار خان کے سانحہ میں بھی مجبور خواتین ماری گئیں، یہ حادثہ اُن تلخ حقائق کو بے نقاب کرتا ہے کہ سرائیکی وسیب میں غربت، بیروزگاری، جہالت، پسماندگی، محرومی و محکومی کے باعث وسیب کے غریب لوگ مشکلات کا شکار ہیں۔  ؟ یہ پروگرام عظیم خاتون محترمہ بینظیر بھٹو کے نام پر شروع کیا گیا ہے، اس کی چیئرپرسن بھی خاتون ہیں، پنجاب کی وزارت اعلیٰ بھی ایک خاتون کے پاس ہے۔ اگر بے سہارا اور بزرگ خواتین کے مسائل کا احساس ان خواتین کو نہیں تو پھر کس کو ہو گا؟۔وسیب کی یہ مجبور خواتین رمضان شریف میں کیا کیا ضرورتیں اور کیا کیا خواہشیں لے کر امدادی سنٹر گئیں مگر وہ میتوں کی صورت میں گھر پہنچیں تو نہ صرف اُن کے گھروں میں بلکہ پورے وسیب میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔


 آج جب دنیا جدید ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو چکی ہے، پنشن اور تنخواہوں کی طرح یہ امداد بھی بینکوں کے ذریعے خواتین کو مل سکتی ہے۔  ؟ بیمار، لاچار، ضعیف و بزرگ خواتین کی بڑی بڑی لائنیں لگوانا اور اُن کی عزت نفس مجروح کرنا ، سارا دن انہیں ذلیل و خوار کرنا، کہاں کی دانشمندی ہے؟ یہ واقعہ وطن وسیب کے ہر شخص کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے۔ خصوصاً خطے کے جاگیردار، سیاستدان اور مقتدر مراکز کے حکمران جنہوں نے سرائیکی وسیب میں صنعتی ترقی نہیں ہونے دی، جنہوں نے آج تک پورے وسیب میں ایک بھی ٹیکس فری انڈسٹریل زون قائم نہیں ہونے دیا اور وہ لوگ جو کہ صوبے کے راستے میں رکاوٹ ہیں میں سمجھتا ہوں کہ یہی لوگ اس سانحہ کے ذمہ دار بھی ہیں۔


انکم سپورٹ پروگرام میں طرح طرح کی شکایات ہیں، یہ بھی شکایت ہے کہ اس سے دو نمبری سے صاحب حیثیت لوگ بھی استفادہ کرتے ہیں۔ مظلوم خواتین ایک عرصے سے فریاد کرتی آرہی ہیں کہ ایجنٹ اور انکم سپورٹ پروگرام فراہم کرنے والا عملہ ہر خاتون سے پندرہ سو روپے بھتہ لیتا ہے آج تک ان شکایات کا ازالہ نہیں ہوا۔ غریب اور بے سہارا خواتین جن میں عمر رسیدہ اور علیل خواتین بھی شامل ہوتی ہیں اُن کیلئے بیٹھنے تک کا انتظام نہیں ہوتا، پانی پوچھنا تو دور کی بات ہے ، حالانکہ ریٹیلر سنٹر والے بہت پیسے اکٹھے کر رہے ہوتے ہیں۔ سانحہ رحیم یار خان نے سب کچھ آشکار کر دیا ہے۔سانحہ کے موقع پر خواتین نے جو شکایت کی اُس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ خواتین کا کہنا ہے کہ شروع میں اے ٹی ایم کارڈ سے رقم نکالنے میں سہولت تھی مگر موجودہ نظام سے زیادہ تر خواتین کا عملے سے جھگڑا ہوتا ہے یا قطار میں پہلے کھڑے ہونے پر خواتین کو مارا پیٹا جاتا ہے جس میں کئی خواتین زخمی ہوکر واپس لوٹ جاتی ہیں، ہر جگہ یہی صورتحال ہے۔ خواتین نے جذباتی انداز میں یہ بھی کہا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں وہ روزے سے پورا دن قطار میں کھڑی رہتی ہیں۔ بعض اوقات شدید گرمی میں عورتیں بے ہوش ہوجاتی ہیں اس طرح جینے سے بہتر ہے کہ اس رقم کو ہی نہ دیا جائے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر عورت کو بینک میں اکائونٹ کھولنے کا اختیار دیا جائے تاکہ وہ جب چاہے رقم نکال سکے یا بینک میں اپنے اکائونٹ میں محفوظ رکھے تاکہ وہ قطاروں میں کھڑے ہونے کی تکلیف سے بچ سکے۔ حکومت کو سب مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اس معاملے پر غور کرے اور بینک کے ذریعے خواتین کو عزت اور احترام کے ساتھ یہ امداد فراہم  صنعت کی مستحکم ترقی کا غربت کے خاتمے میں اہم کردار ہےصنعت غربت سے نجات دلانے اور آمدن میں اضافے کا بنیادی ستون ہے۔ حال ہی میں مرکزی حکومت اور مقامی حکومتوں نے وبا کے اثرات پر قابو پانے اور صنعت کی مستحکم ترقی میں غربا کی مدد کے لیے مختلف پالیسیاں اور اقدامات اختیار کئے ہیں

منگل، 24 مارچ، 2026

بلدھا گارڈن بنگال کا قدیم نباتاتی باغ

 

بلدھا گارڈن بنگال کے اس حصے میں قائم قدیم ترین نباتاتی باغات میں سے ایک ہے۔ اسٹیٹ آف بلدہ کے زمیندار نریندر نارائن رائے چودھری نے اسے 1909 میں بنانا شروع کیا اور 1943 میں اپنی موت تک اس میں اضافہ کرتے رہے۔ اس نے بیک وقت میوزیم کا مجموعہ بنایا، جو بلدہ میوزیم کے نام سے جانا جاتا تھا۔ میوزیم کے مجموعے اب بنگلہ دیش کے نیشنل میوزیم میں رکھے گئے ہیں۔ بلدھا گارڈن پرانے ڈھاکہ میں واری میں واقع ہے جو 3.36 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس میں 672 اقسام کے پودوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ شامل ہے جس میں بہت سے نایاب بھی شامل ہیں۔ یہ گواہی دی جاسکتی ہے کہ ملک میں غیر ملکی پودوں کا سب سے زیادہ ذخیرہ بلدھا گارڈن میں رکھا گیا ہے۔ ایک ماہر فطرت، انسان دوست اور شاعر نریندر نارائن رائے چودھری نے 1909 میں اپنی جائیداد پر باغ قائم کیا۔ انہوں نے مختلف ممالک سے پھول اور نایاب پودے لا کر انتظامات کا آغاز کیا۔ ایک اندازے کے مطابق باغ کے گھر میں 50 مختلف ممالک سے نایاب پھول آتے ہیں۔ اس نے میوزیم کا مجموعہ بھی بنایا جسے بلدھا میوزیم کہا جاتا ہے۔ محکمہ جنگلات کے تحت نیشنل بوٹینیکل گارڈن اب بلدھا گارڈن کا انتظام کرتا ہے۔باغ کو دو یونٹوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بڑی اکائی کا نام زرخیزی کی یونانی فطرت کی دیوی سائبیل کے نام پر رکھا گیا ہے۔ سائکی چھوٹی اکائی کا نام ہے جس کا مطلب ہے روح۔ 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد، محکمہ جنگلات نے ماضی کی اس شان کو بحال کرتے ہوئے باغ کی ترقی اور تزئین و آرائش کی اور دو نئے گرین ہاؤسز بھی تعمیر کیے اور شہری سہولیات کو جدید بنایا۔

 

 

سائنسی نام:- Betea Monosperma 

ڈھاک جسکو بنگال کینو ، پالش ، Bastard  جنوبی ایشیا کا گھنے سائے   اور نارمل گروتھ والا پھولدار درخت ہے اسکے خوبصورت چمکیلے پھولوں کی وجہ سے ڈھاک کو Ornamental Tree کا درجہ حاصل ہے اور پھولوں کے چمکدار ڈارک  سرخ رنگ کی وجہ سے جانا جاتا  ہے      Flame Of The Forest  ۔ ڈھاک جنوبی ایشیا کا مقامی پودا ہے اس ڈھاک کا پودا انڈیا ، بنگلادیش ، نیپال , سری لنکا ، تھائی لینڈ اور پاکستان میں بکثرت پایا جاتا ہے ۔ ڈھاک کا درخت 49 فیٹ تک قد کر سکتا ہے جہاں تک اسکے فوائد کی بات کریں تو ڈھاک کی لکڑی نرم اور پائیدار ہونے کے ساتھ ساتھ واٹر پروف ہوتی ہے اور پانی والی جگہوں پر استعمال کے لئے بہترین ہے ۔ ڈھاک کے پتوں کو ریشم کے کیڑوں کو پالنے کے لئے انڈیا میں بکثرت استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ڈھاک کی گوند کو کمرک کہا جاتا ہے جو کہ مخصوص کھانوں میں استعمال کی جاتی ہے ڈھاک کے پھولوں سے رنگ کشید کیا جاتا ہے اور اس رنگ کو کیسری رنگ کہا جاتا ہے درختی پودوں میں ڈھاک کا اپنا مقام ہے، ایک پودا ضوور لگائیں- .خوبصورت پودا ہےسائنسی نام:- Betea Monosperma ڈھاک جسکو بنگال کینو ، پالش ، Bastard   جنوبی ایشیا کا گھنے سائے والا نارمل گروتھ والا پھولدار درخت ہے اسکے خوبصورت چمکیلے پھولوں کی وجہ سے ڈھاک کو Ornamental Tree کا درجہ حاصل ہے اور پھولوں کے چمکدار ڈارک ریڈ رنگ کی وجہ سے ڈھاک کو Flame Of The Forest بھی کہا جاتا ہے۔ ڈھاک جنوبی ایشیا کا مقامی پودا ہے اس طرح ڈھاک کا پودا انڈیا ، بنگلادیش ، نیپال , سری لنکا ، تھائی لینڈ اور پاکستان میں بکثرت پایا جاتا ہے ۔


 ڈھاک کا درخت 49 فیٹ تک قد کر سکتا ہے جہاں تک اسکے فوائد کی بات کریں تو ڈھاک کی لکڑی نرم اور پائیدار ہونے کے ساتھ ساتھ واٹر پروف ہوتی ہے اور پانی والی جگہوں پر استعمال کے لئے بہترین ہے ۔ ڈھاک کے پتوں کو ریشم کے کیڑوں کو پالنے کے لئے انڈیا میں بکثرت استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ڈھاک کی گوند کو کمرکس کہا جاتا ہے جو کہ مخصوص کھانوں میں استعمال کی جاتی ہے ڈھاک کے پھولوں سے رنگ کشید کیا جاتا ہے اور اس رنگ کو کیسری رنگ کہا جاتا ہے درختی پودوں میں ڈھاک کا اپنا مقام ہے بلدھا گارڈن بنگال کے اس حصے میں قائم قدیم ترین نباتاتی باغات میں سے ایک ہے۔ اسٹیٹ آف بلدہ کے زمیندار نریندر نارائن رائے چودھری نے اسے 1909 میں بنانا شروع کیا اور 1943 میں اپنی موت تک اس میں اضافہ کرتے رہے۔ اس نے بیک وقت میوزیم کا مجموعہ بنایا، جو بلدہ میوزیم کے نام سے جانا جاتا تھا۔ میوزیم کے مجموعے اب بنگلہ دیش کے نیشنل میوزیم میں رکھے گئے ہیں۔ بلدھا گارڈن پرانے ڈھاکہ میں واری میں واقع ہے جو 3.36 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس میں 672 اقسام کے پودوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ شامل ہے جس میں بہت سے نایاب بھی شامل ہیں۔ یہ گواہی دی جاسکتی ہے کہ ملک میں غیر ملکی پودوں کا سب سے زیادہ ذخیرہ بلدھا گارڈن میں رکھا گیا ہے۔ ایک ماہر فطرت، انسان دوست اور شاعر نریندر نارائن رائے چودھری نے 1909 میں اپنی جائیداد پر باغ قائم کیا۔ انہوں نے مختلف ممالک سے پھول اور نایاب پودے لا کر انتظامات کا آغاز کیا۔ ایک اندازے کے مطابق باغ کے گھر میں 50 مختلف ممالک سے نایاب پھول آتے ہیں۔



 اب کچھ ڈھا ک کے  نباتاتی  فوائد  اور روز مرہ    کے استعمال  کے   بارے میں   جانئے :   اس کے تین پتوں کو گھاس یا تیلیوں کی مدد سے جوڑ کر ایک برتن کی سی شکل دے دی جاتی ہے جسے دونا کہا جاتا ہے- ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں ڈھاک کے پتے روزانہ دونے بنانے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں- اس کو پتل یا پتر بھی کہا جاتا ہے جس پر دال بھات وغیرہ رکھ کر پروسا جاتا ہے- ہندوستان اور بنگلہ دیش میں  حلوائی ڈھاک کے پتوں کے دونے میں ہی رسگلے گلاب جامن اور قلاقند رکھ کر دیا کرتے تھے- دوسری کھانے پینے کی اشیا اور گوشت  اور ’’پھول‘‘ اور ’’ہا ر‘‘ وغیرہ انہی پتوں میں رکھ کر دیئے جاتے تھے - لیکن ڈھاک نے ہمیں ایک عجیب محاورہ دیا اور وہ ڈھاک کے تین پات رہ گئے اس لئے کہ ڈھاک کے تین ہی پات یعنی پتے ہوتے ہیں اور   اکثر کوششیں نا کام ہوتی ہیں اور کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلتا ایسے ہی موقع پر ڈھاک کے تین پات محاورہ استعمال کیا جاتا ہے ۔(اتنی بار کوشش کی مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین بات  - گل ٹیسو‘‘ ڈھاک ہی کے پھول ہوتے ہیں- ڈھاک کا گوند کمرکس کہلاتا ہے- کمر پشت اور رحم کی طاقت کیلئے دوسری دواؤں کے ہمراہ یا گھی میں بھون کر اس کی پنجبری بناکر زچہ کو کھلاتے ہیں۔  اسی وجہ سے اس کانام کمرکس مشہور ہے۔حکیموں اور ویدوں  کے مطابق اس کے مستقل استعمال سے انسان کے چہرے پر نہ جھریاں پڑتی ہیں نہ مسوڑھے گلتے ہیں اور نہ بال سفید ہوتے ہیں بلکہ چہرہ گلابی اور جلد شادابی ہوجاتی ہے-ڈھاک کے بیج پنساری کے پاس تخم پلاس پاپڑا کے نام سے ملتے ہیں۔  یہ نیم، پیپل، برگد کی طرح با آسانی ہوجاتا ہے پاکستان میں بھی اکثر علاقوں میں اگایا جاتا ہے

یہ تحریر گوگل سرچ کی مدد سے لکھی گئ ہے

پیسے دو' جیون ساتھی لو ( برائیڈل مارکیٹ آف بلغاریہ)

 

 ۔ شادی بلغاریہ  کا شادی  بازار   جہاں نوعمر لڑکیوں  کو ان کے  مستقبل کے  شوہر خر یدنے آتے ہیں'  اسٹارا زگورا میں کھلے بازار کا انعقاد سال میں چار بار ہوتا ہے۔ روما کے غریب خاندان اسے مالی طور پر فائدہ مند شادیوں کا بندوبست کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ 'دلہن کے بازار' کے طور پر تقریب کی شہرت نسلوں پرانی ہے۔بلغاریہ کے ایک 'دلہن بازار' میں متعدد نوجوان روما خواتین کو ممکنہ شادی کرنے والوں کے سامنے پیش کیا  جاتا  ہے      جہاں غریب خاندانوں کو اپنے بچوں کے لیے مالی طور پر فائدہ مند شادیوں کا بندوبست کرنے کا موقع دیا جاتا ہےیہاں ممکنہ دلہنیں بھڑکیلے   لباس پہنتی  ہیں، چمکدار زیورات، اونچی ایڑیاں اور منی اسکرٹس  خاص لباس ہیں۔اور فروخت ہونے والی تقریب میں ان کے ارد گرد ایسے نوجوان ہیں جن کے خاندان کو امید ہے کہ انہیں اچھی قیمت پر بیوی مل جائے گی۔سٹارا زگورا میں جمع ہونے والے خاندان تقریباً 18,000 روما کی کمیونٹی کا حصہ ہیں جو کالیدزی کے نام سے مشہور ہیں، جو روایتی طور پر تانبے کے کام کا کام کرتے ہیں۔وہ ایک انتہائی غریب علاقے میں سب سے زیادہ غربت زدہ لوگوں میں سے ہیں اور باہمی طور پر فائدہ مند یونینز بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔دلہن کا بازار' - موسم بہار اور موسم گرما کے دوران مختلف مذہبی تعطیلات پر سال میں چار بار منعقد کیا جاتا ہے - روما کے خانہ بدوشوں کے لیے ملنے اور نہ صرف گپ شپ کرنے، بلکہ اپنے نوعمر بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے میچ میکر ملنے کا ایک موقع ہے۔


لڑکے اور لڑکیاں ایک نادر موقع پر گاڑیوں پر ساتھ ساتھ رقص کرتے ہیں ، جس میں نوجوانوں کو جنس مخالف کے ساتھ گھل مل جانے کی اجازت کم ہی ہوتی ہے۔Kalaidzhi، جو تقریباً تمام مذہبی آرتھوڈوکس عیسائی ہیں، 15 یا اس ۔یہ ایک ہائی اسکول ڈانس کی طرح شروع ہوتا ہے، لڑکوں اور لڑکیوں کے گروپوں کے ساتھ الگ الگ جھنڈوں میں، کبھی کبھار ہاتھ ملاتے اور ایک دوسرے   کا قرب اختیار   کرتے ہیں - جب کہ مائیں اور باپ احتیاط سے پس منظر میں رہتے ہیں۔سال میں دو بار ہونے والے ان دلہن میلوں کے علاوہ، لڑکے اور لڑکیاں صرف انٹرنیٹ چیٹس میں رابطہ رکھتے ہیں۔برائیڈل مارکیٹ' کے طور پر ایونٹ کی شہرت نسل در نسل چلی جاتی ہے۔ یہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں گھوڑوں کی تجارت کے بازار کے ساتھ کھلے میدان میں ہوا کرتا تھا، جہاں دلہنیں اسٹیج پر کھڑی ہوتی تھیں اور لڑکوں کا مقابلہ ہوتا تھا۔لیکن پولیس نے گزشتہ سال گھوڑوں کے تاجروں کے ساتھ کشیدگی سے بچنے کے لیے اسے شہر میں منتقل کر دیا تھا۔ ۔اگر نوجوان ایک دوسرے سے گرم جوشی رکھتے ہیں، تو یہ میلہ اس قیمت کے بارے میں پیچیدہ مالی گفت و شنید کو متحرک کر سکتا ہے جو ایک نوجوان کے خاندان کو ایک عورت کے والدین کو اس کی منہ مانگی قیمت  ادا کرنا ہو گی اگر وہ شادی کرنا چاہتے ہیں۔دلہن کی قیمت - 5,000 اور 10,000 لیو (£ 2,200 سے £ 4,300) کے درمیان - حالیہ برسوں میں کم ہوئی ہے کیونکہ ملازمتیں ختم ہوگئی ہیں



  شادی کی تقریبات بہت زیادہ  سادہ ہوتی  ہے۔لیکن کہا جاتا ہے کہ قیمتیں اب بھی ایک 'بہت خوبصورت' نوجوان عورت کے لیے بڑھ رہی ہیں  عام طور پر لڑکی اسکرٹ، یا منی اسکرٹ اونچی ہیل کے ساتھ پہن کر بھڑکتے ہوئے لباس میں اس مارکیٹ میں اپنے والدین کے ہمراہ موجود ہوتی ہے۔ برائیڈل مارکیٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں لڑکیوں کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ منتخب ہونے والے لڑکے ساتھ رقص کرسکتی ہیں۔ اور اگر کوئی لڑکا کسی لڑکی میں دلچسپی ظاہر کرتا ہے تو ایسے موقعے پر دونوں کے والدین یا سرپرست ایک دوسرے سے ملنا ضروری سمجھتے ہیں۔بعدازاں لڑکی کی قیمت سے متعلق مذاکرات بھی اسہی موقعے پر ہوتے ہیں، برائیڈل مارکیٹ میں دلہن کی قیمت دوہزار آٹھ سو ڈالر سے پانچ ہزار چھ سو ڈالر تک ہوسکتی ہے۔ اگرچہ کہ دلہنوں کی قیمت میں حالیہ برسوں میں بے روزگاری اور مہنگائی کے سبب کافی کمی واقعے ہوئی ہے۔عام طورپر اس عیسائی کمیونٹی کے افراد انتہائی روایتی ہیں اور عام طور پر لڑکیوں کو چودہ یا پندرہ سال کی عمر کے بعد اسکول بھیجنا بند کردیتے ہیں کہ کہیں وہ لڑکوں سے میل جول نہ بڑھا لیں۔


کہا جاتا ہے کہ دلہن کے بازار کی یہ رسم یہاں پر کہیں پرانی ہے، اور پہلے یہ ایک چھوٹے دیہات میں منعقد ہوا کرتی تھی، جس میں لڑکی ایک اسٹیج پر کھڑا کیا جاتا تھا جبکہ اسکی بولی بھی لگائی جاتی تھی اور جیتنے والے کو لڑکی سونپ دی جاتی تھی۔گزشتہ سال پولیس نے امن و امان کے خدشے اور بولی لگانے والے افراد میں تنازے کے پیش نظر اس فیسٹیول کی جگہ کو اس شہر میں منتقل کیا ہے۔آپ نے اتوار بازار یا سستے بازار کا نام تو ضرور سنا ہوگالیکن آج ہم آپ کو ایک ایسے بازار کے بارے میں بتائیں گے جہاں والدین اپنی لڑکیوں کو کسی دولہے کی تلاش میں لے کر جاتے ہیں جبکہ کچھ والدین اپنے لڑکوں کو اس آس پر لے کر آتے ہیں کہ انہیں اپنے لڑکے کے لئے ’سستی لڑکی‘مل جائے گی۔’دلہن بازار‘ کے نام سے مشہور یہ بازار سال میں چار بار منعقد کیا جاتا ہے-بلغاریہ کے شہر سٹارا زاگورا کے قریب میلے میں ’روما‘ سے تعلق رکھنے والے ’کلیدزی‘قبیلے کے 18ہزار افراد شرکت کرتے ہیں۔یہ افراد بلغاریہ کے معاشرے میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارتے ہیں اور اپنی ہی کمیونٹی میں کوئی مناسب رشتے کی تلاش میں سرگرداں ہوتے ہیں۔

 ۔

اتوار، 22 مارچ، 2026

باکو جدید اور قدیم کے آئینے میں

 ملک کا دارالحکومت   تیل کی دولت سے مالا مال اس ملک کا سمند ر پانیوں کے ساتھ ساتھ تیل بھی اگلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باکو شہر کے نواح کا سفر کرتے ہوئے یا پھر شہر سے باہر نکل کر دیگر علاقوں کی طرف جائیں تو سمندر میں لگی ہوئی کرینیں نظر آئیں گی۔ یہ مشینیں تیل کی تلاش کا کام کرتی ہیں۔جہاں تک آذربائیجان میں نظامِ حکومت  کا سوال ہے تو وہاں بھی ایک  غیر جمہوری حکومت ہے ۔ الہام علیوف ملک کے صدر ہیں   جو ان کے اجداد کی مسند ہے ۔  آبادی کے لحاظ سے یہ ایک بڑا شہر ہے۔ یہ آذربائیجان کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ بحیرہ کیسپیئن کے کنارے واقع ہے۔ باکو تیل کی دولت سے مالا مال علاقے میں واقع ہونے کے باعث تیل کی صنعتوں کا مرکز ہے۔ شہر 11 اضلاع اور 48 قصبہ جات میں تقسیم ہے۔ باکو کے وسط میں قدیم شہر واقع ہے جس کے گرد فصیل ہے۔ دسمبر 2000ء میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ شطرنج کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی گیری کیسپاروف کا تعلق اسی شہر سے ہے۔جزیرہ نما آبشاران سے پہلی مرتبہ مشینوں کے ذریعے 1842ء میں تیل نکالا گیا۔ 1877ء میں یہاں ریلوے لائن بچھائی گئی۔ 1907ء میں باکو سے باطوم (بحیرہ اسود) تک تیل کی پائپ لائن مکمل ہو گئی اور معدنی تیل برآمد ہونے لگا۔ روسی انقلاب کے بعد 31 جولائی 1918ء سے 28 اپریل 1920ء تک باکو آزاد مملکت آذربائیجان کا دار الحکومت رہا، پھر سرخ فوج نے اس پر قبضہ کر لیا۔ دسمبر 1991ء میں سقوط روس کے بعد باکو آزاد جمہوریہ آذربائیجان کا صدر مقام بن گیا۔ باکو کے قریب پارسیوں (مجوسیوں) کا آتش کدہ آج بھی قائم ہے۔ مجوسی مذہب کے بانی زرتشت کا تعلق آذربائیجان ہی سے تھا۔


اس شہر کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ پہاڑ پر تعمیر کردہ عمارات پر مشتمل ہے۔ یہاں کہیں آپ کو سیڑھیاں اُتر کر غاروں میں تعمیرشُدہ دُکانوں میں جانا پڑتا ہے، تو کہیں سیڑھیاں چڑھ کر پتّھر سے بنی سڑک کے دونوں اطراف واقع غار نما دُکانوں کا رُخ کرنا پڑتا ہے، جن میں آذربائیجان کی مقامی مصنوعات فروخت کے لیے رکھی گئی ہیں اور ان میں بھی قالین اور شالیں نمایاں ہیں۔ ساحل پر واقع نیشنل پارک تھا۔ طویل ساحلی پٹّی پر جدید طرزِ تعمیر کے حامل ہوٹلز، ریسٹورنٹس، شاپنگ مالز اور وسیع و عریض باغ واقع ہے۔   ساحل پر غیر مُلکی سیّاحوں کے علاوہ مقامی باشندے بھی بہت بڑی تعداد میں موجود تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پورا باکو شہر ہی ساحل پر اُمڈ آیا ہے۔ یہاں بنے شاپنگ مالز میں دُنیا کے تمام بڑے برانڈز کی مصنوعات اور تفریحِ طبع کا سامان موجود ہے۔نیشنل پارک میں ایک ’’مِنی وینس‘‘ بھی ہے، جہاں نہریں بہہ رہی ہیں اور ان کے کنارے دِیدہ زیب سنگِ مرمر سے پختہ کیے گئے ہیں۔ نہروں کے کنارے پُھولوں سے ڈھکی راہ داریاں اور اوپر چھوٹے چھوٹے پُل ہیں۔ مِنی وینس کی سَیر کے دوران ہمیں تازہ بلیو بیری اور اسٹرا بیری فروخت کرنے والا ایک مقامی باشندہ دکھائی دیا۔ اگر آپ کے پاس مغربی پاسپورٹ ہو تو  آپ کی باکو سماج میں آؤ بھگت ہو گی  ۔باکو معاشرے میں رشوت ستانی عام ہے  میرے نزدیک اس رشوت ستانی کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان و پاکستان کے نوجوان یورپ جانے کے چکر میں آذربائیجان جاتے ہیں پھر وہاں سے یورپ نکلنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ آذری حکام جانتے ہیں کہ یہ لوگ کیوں آرہے ہیں‘ ان کی اس خواہش اور ویزہ کے حصول میں غلط بیانی ان لوگوں کی کمزوری بن جاتی ہے 



اور یوں ان کے لیے رشوت دینا لازم ہوجاتا ہے۔ ایک پاکستانی کا کہنا ہے  کہ میرے ساتھ باکو ایئر پورٹ پر جب اس طرح کا برتائو کیا جانے لگا تو میں نے اپنا تعارفی کارڈ پیش کیا‘ اس پر امیگریشن افسر نے خوش اسلوبی سے نہ صرف مہر لگائی بلکہ ادب سے سلام بھی کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہمارے اپنے معاملات درست ہوں تو ایسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ آذربائیجان کے کسی بھی باشندے کو آپ ملیں تو اس کی وضع قطع اور گفت و شنید سے آپ کو مسلم ہونے کا تاثر نہیں ملے گا۔ لوگوں کی اکثریت آذری زبان کے ساتھ ساتھ روسی اور فارسی زبان بھی سمجھتی ہے۔ یہ ایک شیعہ اکثریتی ملک ہے اوراس کے ایران کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات ہیں۔ روسی اور مغربی کلچر کے مظہر اس ملک میں عملاً اسلام دور دور تک نظر نہیں آتا۔ شہر کے فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے یا زیرِ زمین میٹرو ٹرین کے سٹیشنوں پر جاتے ہوئے آپ کو جگہ جگہ شراب کے ٹھیلے نظر آئیں گے، یہاں شرب پانی کے بھاؤ بکتی ہے اور سرِ بازار کھلے آسمان تلے رقص و سرود کا انتظام ہوتا ہے۔ فٹ پاتھ کے ساتھ ساتھ واقع شراب خانوں میں نوجوان لڑکیوں کا ناچنا ایک مکمل انڈسڑی کی صورت اختیار کرچکاہے۔ 



کچھ ایسے پاکستانی بھی نظر آئے جو ماؤں اور بہنوں کا زیور بیچ کر تو کوئی زمین کے ٹکڑے اور مال مویشی بیچ کراس لیے آذربائیجان آ تے ہیں  کہ  یہاں سے کسی یورپ کےملک نکل جا ئیں گے اور اپنے رزق حلال سے اپنے گھر والوں کا مقدر بدل دیں  گے۔اس معا شرے میں  نوجوان لڑکیاں اور لڑکے کسی بھی مغربی ملک سے کہیں زیادہ مادر پدر آزاد اور بے راہ روی کا شکار نظر آتے ہیں ۔ خواتین دکانیں چلاتی اور کاروبار کرتی ہیں۔ کھانا پینا اور طرزِ زندگی سو فیصد روسیوں والا ہے۔ باکو ائیر پورٹ دارالحکومت میں واقع ہے  ۔ شہر میں زیرِ زمین ریل کا نظام پہلے سے موجود ہے اور اسے مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ آذری کرنسی کا نامــ’منات ‘ہے جو تقریباً ایک128 روپے کے برابر ہے یعنی یہ ڈالر سے بھی زیادہ مستحکم ہے۔ باکو کا نام فارسی لفظ بادکوبہ (ہواؤں کا مارا ہوا) سے مشتق ہے اور اس کے محل وقوع کے لحاظ سے بہت موزوں ہے۔ قرون وسطٰی کے مورخین اسے باکویہ، بلاکوہ اور باکہ بھی لکھتے ہیں۔ تاریخ میں اس کا ذکر تیسری صدی ہجری کے بعد برابر آتا ہے۔ باکو عرصے تک شاہان شیروان کے ماتحت رہا۔ 1550ء میں صفوی سلطان طہماسپ اول کا اس پر قبضہ ہو گیا۔ 1583ء تا 1660ء یہ شہر عثمانی ترکوں کے ماتحت رہا۔ 1806ء میں روسیوں نے اسے ایرانیوں سے چھین لیا۔  باکو کے دو بڑے قدیم ترین اور تاریخی اہمیت کے حامل مقامات کی  معلومات  اگلی تحریر  میں 

اس تحریر میں گوگل سرچ سے استفادہ کیا گیا     ہے

 

بدھ، 18 مارچ، 2026

‏قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں میں تقسیم تھا

 

 ‏قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں میں تقسیم تھا‘ قلات سب سے بڑی ریاست تھی‘ اس کے پاس بلوچستان کا 20 فیصد رقبہ تھا جب کہ باقی 80 فیصد علاقہ خاران‘ بیلا‘ مکران اور برٹش بلوچستان میں تقسیم تھا‘ قلات ریاست 1405 میں بنی اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی جغرافیائی حدود افغانستان میں قندہار‘ ایران میں بندر عباس اور کرمان تک پھیل گئیں‘ اس زمانے میں قلات میں بلوچ اور براہوی دونوں قبائل آباد تھے لہٰذا قلات کو بلوچ براہوی سلطنت کہا جاتا تھا‘ انگریز نے 1876میں کوئٹہ پر قبضہ کیا اور یہاں چھاؤنی بنا لی‘انگریز نے بعدازاں کوئٹہ سے ملحقہ علاقے خان آف قلات سے لیز پر لے لیے اور یوں برٹش بلوچستان وجود میں آ گیا۔بلوچستان کا نام اس سے قبل تاریخ میں موجود نہیں تھا‘ انگریز کا فوکس پشتون علاقوں کی طرف تھا لہٰذا وہ افغان سرحد کے ساتھ ساتھ پشتون علاقوں میں اپنا اثرورسوخ بڑھاتے چلے گئےکوئٹہ کے بعد زیارت اور فورٹ سنڈیمن ان کے بڑے مرکز تھے‘ ڈیرہ بگٹی‘ کوہلو‘ سبی‘ چاغی‘ لورا لائی اور پشین بھی ان میں شامل تھے‘ باقی تمام ریاستیں اور علاقے خودمختار رہے‘ بہرحال 1947میں انگریز نے ہندوستان کی 565 پرنسلی اسٹیٹس کی طرح بلوچستان کی ریاستوں کو بھی دو آپشن دیے‏بھارت میں شامل ہوجائیں یا پھر پاکستان کے ساتھ مل جائیں‘ برٹش بلوچستان (یعنی کوئٹہ) نے جون 1947میں پاکستان کے حق میں قرارداد پاس کر دی‘ نواب آف خاران نے لیڈ لی اور یہ پاکستان میں شامل ہو گئے۔چند دن بعد ریاست بیلا اور مکران بھی پاکستان میں شامل ہو گئی یوں قلات پیچھے رہ گئی‘






خان آف قلات میر احمد یار خان اپنے سرداروں کو قائل کر رہے تھے لیکن اس میں بہت وقت ضایع ہو گیا‘ اس دوران آل انڈیا ریڈیو نے قلات کے بھارت میں شامل ہونے کی خبر نشر کر دی‘ اس سے افراتفری پھیل گئ خان آف قلات نے قائداعظم سے ملاقات کی اور 30 مارچ 1948 کو پاکستان میں شمولیت کا اعلان کر دیا‘ اس اعلان میں ان کا خاندان اور دوسرے سرداروں کی رضامندی شامل نہیں تھی چناں چہ میر احمد یار خان کے بھائی پرنس عبدالکریم خان نے بلوچستان نیشنل لبریشن کمیٹی (بی این ایل سی) کے نام سے گوریلا تنظیم بنائی اور بغاوت شروع کر دی۔ پاکستان نے بی این ایل سی کو کچلنے کے لیے بلوچستان میں فوج داخل کر دی اور اس کے بعد بلوچستان میں کبھی امن قائم نہ ہو سکا‘ اس زمانے میں مشرقی پاکستان آبادی کے لحاظ سے بڑا صوبہ تھا‘ باقی صوبے چھوٹے تھے چناں چہ الیکشن کی صورت میں مشرقی پاکستان کے ایم این اے زیادہ تعداد میں اسمبلی آ جاتے تھے اور یوں حکومت بنگالیوں کے پاس چلی جاتی تھی اور یہ اسٹیبلشمنٹ کو سوٹ نہیں کرتا تھا چناں چہ سکندر مرزا کے دور میں ون یونٹ بنا دیا گیا‏جس کے بعد مشرقی پاکستان ایک صوبہ اور باقی چار صوبے مل کر دوسرا صوبہ بن گئے‘ بلوچستان نے اسے تسلیم نہیں کیا اور یوں یہاں دوسری مرتبہ بغاوت شروع ہو گئی‘ اس بغاوت کو کچلنے کے لیے فیلڈ مارشل ایوب خان نے بلوچستان میں دوسری مرتبہ فوج چڑھا دی‘ قلات پر قبضہ ہو گیا اور خان آف قلات کا محل لوٹ لیا گیا‘ اس کے بعد پے در پے آپریشن ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ نوبت جعفر ایکسپریس پر قبضے تک پہنچ گئی۔ہمیں آگے بڑھنے سے قبل دو حقیقتوں کا ادراک کرنا ہوگا‘ پہلی حقیقت بلوچستان کی جغرافیائی صورت حال ہے‘ بلوچستان ایک بنجر اور بیابان علاقہ ہے جس کی وجہ سے م



‘ سکندر اعظم سے لے کر برطانیہ تک کبھی کسی بڑی فوج نے یہاں سے گزرنے کی غلطی نہیں کی‘ اس کی وجہ چارے‘ پانی اور خوراک کی کمی تھی‘ ماضی میں فوجیں گھوڑوں پر سفر کرتی تھیں اور گھوڑوں کو چارہ اور پانی درکار ہوتا تھا اور بلوچستان میں یہ دونوں نہیں تھے‏لہٰذا بلوچستان کو ماضی میں کسی بڑی یلغار کا سامنا نہیں کرنا پڑا‘ تمام طاقتوں بشمول مغل اور برطانیہ انھیں آزاد تسلیم کرتے رہے اوی کی تمام حکومتیں اور بادشاہ بلوچستان کے سرداروں سے ڈیل کرتے رہے‏یہ سرداروں کو دے دلا کر راضی کرلیتے تھے اور یوں بلوچستان ان کے ہاتھ میں رہتا تھا‘ انگریز نے بھی خان آف قلات سے ہزاروں مربع میل کا علاقہ کرائے پر لے رکھا تھا اور یہ انھیں اس کا کرایہ دیتے تھے چناں چہ بڑی طاقتوں اور حکومتوں سے وصولی سرداروں کے ڈی این اے میں شامل ہو گئی ہے۔ حکومت پاکستان بھی یہ غلطی کرتی رہی‘ اس نے ہر دور میں سرداروں کو ہاتھ میں رکھا‘ یہ کبھی ایک سردار کو اقتدار دے کر دوسروں کو کنٹرول کرتی تھی اور کبھی دوسرے سرداروں کو آگے لا کر پہلے سرداروں کو قابو کر لیتی تھی‘ 



صوبے کا ترقیاتی بجٹ بھی یہ سب آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں‘ آپ المیہ دیکھیے عبدالقدوس بزنجو صرف 544 ووٹ لے کر ایم پی اے بنے (ٹوٹل رجسٹرڈ ووٹ 57666 تھے) اور یہ ان 544 ووٹوں کے ذریعے بعدازاں وزیراعلیٰ بن گئے‘ لوگ انھیں سلیپنگ وزیراعلیٰ کہتے تھے کیوں کہ یہ اپنی شبینہ مصروفیات کی وجہ سے دن بارہ بجے اٹھتے تھے اور اس کے بعد اگلی مصروفیات کا بندوبست شروع کر دیتے تھے اور یہ کھیل بلوچستان میں ہزار سال سے جاری ہے یعنی سرداروں کو ہاتھ میں رکھیں‘ ان کے مطالبات پورے کرتے رہیں اور سسٹم چلاتے رہیں‘ اس بندوبست میں سردار امیر سے امیر ہوتے چلے گئے جب کہ عوام غریب سے غریب ہوتے چلے گئے۔  


منگل، 17 مارچ، 2026

موسم سرما کے ہجرتی پرندوں کا مسکن ہالیجی جھیل

  



ہالیجی جھیل  ٹھٹھہ سے پہلے شمال کی جانب اپنی نوعیت کی انمول جھیل ہونے کے ساتھٍ  پاکستان کے آبی مقامات میں ایک بہترین تفریح گاہ ہے۔                                          کبھی جا کر دیکھئے تاحدِ نگاہ بہتا ہوا پانی، لہراتی سرسراتی تازہ ہوائیں، پیپل کے درختوں کی راحت بھری چھاؤں اور خوبصورت چہچہاتے پرندے یہاں کے ماحول میں ایسی دلکشی پیدا کر تے ہیھے کہ دیکھنے والے کے قلب کا تصور ناقابل بیان ہوتا ہے۔اِس بار ہم نے سفر کے لیے ہالیجی جھیل کا انتخاب کیا۔ ہالیجی جھیل کراچی سے ٹھٹھہ جانیوالی شاہراہ پر تقریباً 85 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ ٹھٹھہ سے پہلے شمال کی جانب یہ جھیل اپنی نوعیت کی انمول جھیل ہے۔ اِس نفسا نفسی کے دور میں جہاں زندگی اتنی تیز ہوگئی ہے کہ کسی کو کسی کا کچھ خیال ہی نہیں، وہاں اِس قدر پُرسکون ماحول کی موجودگی میں انسان وہ سب کچھ بھول جاتا ہے جو وہ چھوڑ کر آیا ہے۔معلومات کے مطابق اِس جھیل کی لمبائی 685 مربع میل بتائی جاتی ہے اور اِس کی گہرائی اوسط 17 فٹ تک ہے۔ اِس جھیل میں کنجھر جھیل سے بھی پانی چھوڑا جاتا تھا، لیکن اب یہ بند کردیا گیا ہے۔پرندوں حیوانات اور نباتات کی بہتات نے اسے قدرتی مناظر اور ماحول کے متلاشی لوگوں کیلئے اہم مقام بنا دیا ہے۔ کراچی سے قریب اور قومی شاہراہ سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہونے کی وجہ سے اس جھیل پر پہنچنا بھی آسان ہے اور یہ اس کی مقبولیت کی ایک اور بڑی وجہ ہے۔پاکستان کی خوبصورت جھیلیں ہر سال روس ، سائبیریا اور شمال وسطی ایشیائی ریاستوں کے انتہائی سرد علاقوں سے لا کھوں کی تعداد میں آنے والے ہجرتی مہمان پرندوں کا عارضی مسکن ہوتی ہیں  'جن میں ہالیجی جھیل خاص طور پر  ان پرندوں سے آباد ہو کر لہلہاتی ہے 



ہالیجی جھیل کی ساری دلکشی اور تمام تر حسن اس کا نیلا پانی، مقامی اور مہمان پرندوں کی بہتات اور اس کے دلکش جزیروں کے باسیوں سے عبارت ہے۔آج سے اٹھارہ ہزار سال قبل جب زمین کے موسمی حالات نے تبدیل ہونا شروع کیا اور زمین کا درجہ حرارت بتدریج بڑھنے لگا تو اس کے نتیجے میں قطبوں پر جمی برف پگھلنا شروع ہو گئی، بلندی سے پگھلتی ہوئی یہ برف زمین پر پانی بن کر پھیل گئی، جس کی وجہ سے زمین کئی خطوں میںتقسیم ہو گئی۔ پاکستان میں کئی پہاڑی سلسلے ہیں، ان پر جمی برف کے پگھلنے کے باعث یہاں بہت زیادہ آبی ذخائر بھی ہیں اور بہت سی آبی گزرگاہیں بھی۔ ہمالیائی سلسلوں سے نکلنے والے آبی راستے شمال کے بلندو بالا پہاڑوں سے جنوب کی دلدلی علاقوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔دریائے سندھ ہمارے ملک کا مرکزی دریا ہے جو شمال کے بلندو بالا ہمالیائی خطوں سے شروع ہوتا ہے اور پھر بحیرۂ عرب میں جا گرتا ہے۔ ہالیجی جھیل در حقیقت ایک تالاب تھا جہاں بارش کا پانی جمع رہتا تھا اس کے اطراف میں قسم قسم کے پرندے، حیوانات اور نباتات پائے جاتے تھے لیکن اس صدی کی تیسری دہائی میں اس تالاب کو ایک وسیع ذخیرہ آب کی شکل دے دی گئی جس کے باعث یہ کراچی شہر کی آبادی کو پانی کی فراہمی کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن گیا۔محل و قوع کے اعتبار سے ہالیجی جھیل قومی شاہراہ پر واقع ہے۔ کراچی سے باآسانی چند گھنٹے کی مسافت کے بعد بذریعہ سڑک وہاں پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ کراچی سے 88کلو میٹر اور ٹھٹھہ سے صرف 21کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ،جب آپ کراچی سے ٹھٹھہ کی جانب قومی شاہراہ پر سفر کریں تو 88کلو میٹر اور بائیں جانب ایک بورڈ نظر آتا ہے جو ہالیجی جھیل جانے والے کچے راستے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس راستے پر 5کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد آپ ہالیجی جھیل کی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں۔ہالیجی کے گردو نواح میں بھی مزید خوبصورت جھیلیں واقع ہیں۔ بائیں جانب جو جھیل ہالیجی سے ملحق ہے اس کا نام چنیجی جھیل ہے جس میں موسم برسات کے بعد کافی عرصہ پانی جمع رہتا ہے۔ جب اس میں پانی کی کثرت ہو تو یہاں پرندوں کی بھی بہتات ہو جاتی ہے۔ہڈیرو جھیل ہالیجی کے نواح میں دوسری جھیل ہے یہاں نمکین پانی ہے۔ پانی جب چٹانی کناروں سے ٹکراتا ہے تو ایک قابل دید منظر ہوتا ہے، اس جھیل میں آبی پرندوں کی انتہائی نایاب اقسام بھی پائی جاتی ہیں۔ ان میں بگلے، کونج اور پیلی کسن نمایاں ہیں۔  


۔ان دو جھیلوں کے علاوہ تیسری جھیل کنیھجر جھیل ہے۔ یہاں بھی انواح و اقسام کے پرندے پائے جاتے ہیں۔یہ ایک خوبصورت تفریحی مقام ہے۔ ہالیجی سے اس کا فاصلہ 50کلو میٹر ہے۔ کراچی کے باشندوں اور ملکی سیاحوں کیلئے اس پر فضا مقام پر تیراکی، پانی میں ڈبکیاں لگانا اور کھیل کود ایک پسندیدہ مشغلہ ہے۔ ہالیجی جھیل اور کینھجر جھیل دونوں بین الاقوامی اہمیت کے آبی مقامات قرار دیئے گئے ہیں۔ ہالیجی پرندوں کے مشاہدے کیلئے ایک بہترین مقام ہے، جہاں انگنت اقسام کے پرندے  تمام  سال ہی موجود ہوتے  ہیں۔یہاں پرندوں کے جھنڈ اور پودے ایک دوسرے میں مدغم نظر آتے ہیں۔شکاری پرندے مثلاً باز،شکرے وغیرہ چھوٹے پرندوں پر بار بار حملہ کرتے نظر آتے ہیں۔ سارس اور بگلے کبھی کبھار گھنٹوں پانی ہی میں کھڑے اپنی غذا سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔  ہالیجی اور ملحقہ علاقوں میں ان کی آمد ستمبر کے مہینے سے شروع ہوتی ہے۔جھیل کی اس پرسکون دنیا کے اوپر بھی ایک دنیا محو پرواز نظر آتی ہے جس میں مچھلی خور شاہین، سار اور چیلیں وغیرہ شامل ہیں ۔حکومت سندھ نے ٹھٹھہ ضلع میں پرندوں کی جنت کےنام سے مقبول ہالیجی جھیل کو تازہ پانی کی فراہمی شروع کردی ہے۔ محکمہ جنگلی و آبی حیات کے ماہرین کو توقع ہے کہ پانی کی فراہمی کے بعد تباہ شدہ جھیل دوبارہ ملکی و غیرملکی پرندوں کی آماجگاہ اور سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بن سکے گی۔کراچی سے اسی کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہالیجی جھیل کے بارے میں محکمہ جنگلی حیات سندھ کے سربراہ کنزرویٹر حسین بخش بھاگت نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہالیجی جھیل کو بحال رکھنے کے لیے اٹھائیس فٹ پانی درکار ہوتا ہے اور حکومت سندھ کی حالیہ کوششوں کے بعد اب تک انیس فٹ پانی جھیل میں جمع ہوچکا ہے۔


ہالیجی جھیل کو کراچی واٹر بورڈ کے زیرانتظام جام برانچ نامی کینال سے پانی فراہم ہوتا رہا ہے جو ضلع ٹھٹھہ میں واقع ایک اور جھیل کینجھر سے پانی حاصل کرتا ہے مگر گزشتہ چند برسوں سے جھیل کو پانی کی اس طرح فراہمی کا سلسلہ بند ہوگیا تھا۔پانی کی کمی کی وجہ سے ہالیجی جھیل میں پرندوں کی آمد کا سلسلہ کم ہوگیا ہے۔ حسین بخش کے مطابق ان کےمحکمے کے انیس سو چہتر میں کیے گئے ایک سروے کےمطابق ہالیجی جھیل پر اندرون ملک اور بیرون ملک سے دو لاکھ پرندوں کی آمد ہوئی ہے جس میں ستر یا اسی قسم کے مختلف رنگ و نسل کے پرندے شامل ہیں مگر پانی کی کمی کی وجہ سے گزشتہ سال ان کےمحکمے کے سروے کے مطابق بمشکل آٹھ سے دس ہزار دیسی پرندوں کی آمد ہوئی ہے۔ہالیجی جھیل کےبارے میں محکمہ جنگلی حیات کی کتابوں میں درج ہے کہ برطانوی راج کے دوران ہالیجی جھیل کو پانی جمع کرنے کی جگہ بنایا گیا تاکہ کراچی میں کیمپ کرنے والے دستوں کو پانی فراہم کیا جاسکے۔ پاکستان کی آزادی سے پہلے ہی ہالیجی جھیل پانی جمع کرنے والے تالاب سے بڑھ کر ایک مکمل جھیل کی شکل اختیار کرچکی تھی۔ون یونٹ کے خاتمےکےبعد ہالیجی کا انتظام وائلڈ لائف مینیجمنٹ فنڈ نے سنبھالا۔ایران میں انیس سو اکہتر کے دوران عالمی کنزرویشن مینجمنٹ کی جانب سے ویٹ لینڈ کی فہرست بنائی گئی۔ جس کے تحت ہالیجی کو پاکستان کی پہلی ’رامسر‘ سائٹ قرار دیا گیا ہے۔ 

اتوار، 15 مارچ، 2026

زراعت و معیشت میں پاکستانی عورت کا کردار

  پاکستان  ایک زرعی ملک ہے۔ اور یہاں کی تقریباً ۷۰؍ فبصد آبادی زراعت کرتی ہے۔  پاکستان میں دیہی علاقوں کی   عورتیں بیج بویائی سے فصل کی تیاری اور اس کی کٹائی، اس کے بعد کے عمل سے لے کر مارکیٹنگ وغیرہ مراحل میں سرگرم رہتی ہیں۔ زرعی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ کام کرنے والی عورتوں کا تناسب مردوں کے مقابل بڑھا ہے۔ ملک کی معاشی ترقی اور خوشحال زندگی کے لئے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ جس سے ملک کی معیشت میں کافی مدد ہوئی ہے۔ وہی حکومت نے بھی عورتوں کے لئے مخلتف اسکیموں اور دیگر سہولیات کا انتظام کیا ہے۔ لیکن عورتوں کی کم علمی انہیں ان سہولتوں سے محروم رکھے ہوئے ہیں۔ یہ عورتیں واقعی میں ہمت و شجاعت اور خود اعتمادی کی مثال ہیں۔ ان کے کاموں کی فہرست بنانا ناممکن ہے تب بھی کچھ کا ذکر اس طرح....کھیت میں کام کرنے والی عورتوں کو کھیت کے سارے بھاری کاموں سے نمٹنا پڑتا ہے، رات دن بغیر کسی توقف کے وہ کھیت اور گھر کی ذمہ داریاں سنبھالتی ہیں۔ کٹائی کا زمانہ ہو یا ہل چلانے کا وقت، وہ مرد کے ساتھ ساتھ کام کرتی ہیں۔ اُس کے علاوہ انہیں پالتو جانوروں کی دیکھ بھال، چھوٹے موٹے گھریلو کام اور بچوں کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے۔ وہ اپنی ساری ذمہ داریاں نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیتی ہیں۔ ان عورتوں کو واقعی خراج تحسین پیش کیا جانا چاہئے،



 اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت کو آج کے دور میں معاشی کفالت کے لئے اپنے شوہر کا ساتھ دینا پڑتا ہے اور ماں، بیٹی، بہن، بہو اور بیوی کے روپ میں بھی اہم کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ گھریلو عورتیں بھی دن رات اپنی ذمہ داریوں کو خوشدلی ہی سے ادا کرتی ہیں اور ملازمت پیشہ بھی۔ لیکن ان میں کھیتوں میں کام کرنے والی مزدور عورتیں ’’ محنت کش ‘‘ عورتیں ہیں۔ وہ اپنے کاموں میں اس قدر گھری رہتی ہیں کہ انہیں اپنے آپ کو سنوارنے، بناؤ سنگھار کرنے تک کا موقع نہیں ملتا۔ دہری زندگی جینے کے باوجود یہ عورتیں اپنے ماتھے پر کوئی شکن نہیں لاتی نہ ہی زبان سے شکایت کرتی ہیں۔ ان کے کپڑے ملگجے ہوتے ہیں، بال بکھرے ہوئے پھر بھی ان کے چہرے سے بشاشت ٹپکتی نظر آتی ہے۔ وہ ہمت اور دلیری کی مثال ہے۔ غربت، مفلسی، رہنے کے لئے ڈھنگ سے گھر نہیں اور تن ڈھانکنے کے لئے صحیح سےکپڑے نہیں تب بھی وہ مسکراتی ہیں۔ زندگی کو پوری طرح نہ جیتے ہوئے بھی جیتی ہیں۔  زمانے کی  مشکلات جھیل  کر بھی وہ سورج کی پہلی کرن کے ساتھ کمر کس کر کھیت میں جٹ جاتی ہیں۔ گرمی اور سردی کے موسم ہو یا بارش یہ موسم کی سختی برداشت کر کے کام کرتی ہیں اور مہنگائی کا مقابلہ کرتی ہیں۔غریب خاندان میں عورت کے لئے زندگی بالخصوص دشوار ہوتی ہے۔پھر بھی وہ اپنے   گھر کی معاشی حالت میں اضافہ کے لئے کوشاں رہتی ہیں۔ 


یہ وہ باہمت عورتیں ہیں جو معاشی صورتحال سے نبرد آزما ہوکر بھی معاشرے کی بنیادی تشکیل کرتی ہیں۔ جبکہ وہ بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہوتی ہیں۔ ایک اینکر پرسن  کے ساتھ  ایک محنت کش  عورت سے بات چیت کے دوران اس نے مجھے بتایا کہ، ’’بیٹی دکھ اور تکلیف کسے نہیں  ہوتے ہیں .. یہ تو زندگی کا حصہ ہے، میرے حصے میں جو آیاہے، اسے خوشی سے جی رہی ہوں۔ ‘‘بیشک یہ عورتیں خود اعتمادی، با ہمت اور دلیری کی مثال ہیں لیکن اب بھی ان میں تعلیمی بیداری پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ وہ حکومت کے ذریعے فراہم کی جانے والی سہولیات سے مستفید ہوسکیں۔ خاندانی ملکیت میں انہیں حق حاصل ہے اس کی طرف بھی توجہ دینی ضروری ہے۔ یہ عورتیں زیا دہ پڑھی لکھی نہیں ہیں تب بھی وہ پوری ایمانداری اور خود اعتمادی سے اپنا کام کرتی ہیں۔ کھیتوں میں فصلوں کو لہلہاتے دیکھ خوش ہوتی ہیں مانو خدا نے ان کی محنت کا ثمر انہیں دے دیا ہو۔ ان مزدور عورتوں سے ہمیں جہاں ہمت و خود اعتمادی کا درس ملتا ہے وہی اس بات کا احساس بھی ہوتا ہے کہ ہماری پر سکون زندگی کے پیچھے ان کا اہم کردار پوشیدہ ہے۔


 متعلقہ خبرلیکن ہر جگہ عدم مساوات اور امتیازی سلوک زرعی نظام میں خواتین کے لیے رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔ پوری دنیا میں، خواتین عام طور پر مردوں سے بدتر حالات اور کم اجرت پر کام کرتی ہیں اور بہت سے ممالک میں اب بھی زمین کی ملکیت سے متعلق خواتین کے لیے قانونی تحفظ ناکافی ہے۔ایف اے او کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، جب تک انہیں مویشیوں، پانی اور بیجوں کے ساتھ ساتھ زمین، ٹیکنالوجی اور اپنے روزگار بڑھانے کے لیے درکار مالی وسائل تک مکمل رسائی اور کنٹرول حاصل نہیں ہوتا، خواتین زرعی نظام میں اپنا مکمل   حصہ نہیں ڈال سکتیں۔امریکہ کے امداد کے عالمی ادارے یو ایس ایڈ کے فیڈ دی فیوچر پروگرام کی ڈپٹی کوآرڈینیٹر ڈینا آسپیسیٹو کا کہنا ہے "اگر زرعی نظام میں خواتین کو مردوں جیسی سہولتوں تک رسائی حاصل ہو، ان سے زیادہ نا بھی ہوں – صرف ان جیسی ہوں ۔ تو ہم قومی مجموعی پیداوار کو دس کھرب ڈالر تک پہنچا سکتے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے بھوکے لوگوں کی تعداد میں ساڑھے چار کروڑ تک کمی لا سکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یو ایس ایڈ نے خواتین کے لیے گرو نامی پروگرام شروع کیا ہے جس سے خواتین کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ڈپٹی کوآرڈینیٹر نے کہا کہ ’’ اس کے لیے کوشش کے تین پہلو ہیں۔ پہلا خواتین کسانوں کی پیداواری صلاحیت اور لچک پر مرکوز ہے۔


نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سانحہ منٹھار

  غ   غربت بھی کیا بلا ہے 'کوئ میرے وطن کے غریبوں سے پوچھے جہاں کروڑوں کی گا ڑیاں  ان صاحب ثروت افراد میں مثل ریوڑیوں کے تقسیم ہوتی ہیں ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر