پیر، 9 مارچ، 2026

خطبہ از نہج البلاغہ بزبان امیر المومنین

تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے ، جس کی مدح تک بولنے والوں کی رسائی نہیں، جس کی نعمتوں کو گننے والے گن نہیں سکتے، نہ کوشش کرنے والے اس کا حق ادا کر سکتے ہیں، نہ بلند پرواز ہمتیں اسے پا سکتی ہیں، نہ عقل و فہم کی گہرائیاں اس کی تہ تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس کے کمالِ ذات کی کوئی حد معین نہیں، نہ اس کیلئے توصیفی الفاظ ہیں، نہ اس (کی ابتدا) کیلئے کوئی وقت ہے جسے شمار میں لایا جا سکے، نہ اس کی کوئی مدت ہے جو کہیں پر ختم ہو جائے- اس نے مخلوقات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا، اپنی رحمت سے ہواؤں کو چلایا اور تھرتھراتی ہوئی زمین پر پہاڑوں کی میخیں گاڑیں۔دین کی ابتدا  اس کی معرفت ہے، کمالِ معرفت اس کی تصدیق ہے، کمالِ تصدیق توحید ہے، کمالِ توحید تنزیہ و اخلاص ہے اور کمالِ تنزیہ و اخلاص یہ ہے کہ اس سے صفتوں کی نفی کی جائے، کیونکہ ہر صفت شاہد ہے کہ وہ اپنے موصوف کی غیر ہے اور ہر موصوف شاہد ہے کہ وہ صفت کے علاوہ کوئی چیز ہے۔لہٰذا جس نے ذاتِ الٰہی کے علاوہ صفات مانے اس نے ذات کا ایک دوسرا ساتھی مان لیا اور جس نے اس کی ذات کا کوئی اور ساتھی مانا اس نے دوئی پیدا کی اور جس نے دوئی پیدا کی اس نے اس کیلئے جز بنا ڈالا اور جو اس کیلئے اجزا کا قائل ہوا وہ اس سے بے خبر رہا اور جو اس سے بے خبر رہا


 اس نے اسے قابلِ اشارہ سمجھ لیا اور جس نے اسے قابلِ اشارہ سمجھ لیا اس نے اس کی حد بندی کر دی اور جو اسے محدود سمجھا وہ اسے دوسری چیزوں ہی کی قطار میں لے آیا اور جس نے یہ کہا کہ ’’وہ کس چیز میں ہے‘‘؟ اس نے اسے کسی شے کے ضمن میں فرض کر لیا اور جس نے یہ کہا کہ ’’وہ کس چیز پر ہے؟‘‘ اس نے اور جگہیں اس سے خالی سمجھ لیں۔ لہٰذا اوہ ہے ہوا نہیں، موجود ہے مگر عدم سے وجود میں نہیں آیا، وہ ہر شے کے ساتھ ہے نہ جسمانی اتصال کی طرح، وہ ہر چیز سے علیحدہ ہے نہ جسمانی دوری کے طور پر، وہ فاعل ہے لیکن حرکات و آلات کا محتاج نہیں، وہ اس وقت بھی دیکھنے والا تھا جب کہ مخلوقات میں کوئی چیز دکھائی دینے والی نہ تھی، وہ یگانہ ہے اس لئے کہ اس کا کوئی ساتھی ہی نہیں ہے کہ جس سے وہ مانوس ہو اور اسے کھو کر پریشان ہو جائے۔س نے پہلے پہل خلق کو ایجاد کیا بغیر کسی فکر کی جولانی کے اور بغیر کسی تجربہ کے جس سے فائدہ اٹھانے کی اسے ضرورت پڑی ہو اور بغیر کسی حرکت کے جسے اس نے پیدا کیا ہو اور بغیر کسی ولولہ اور جوش کے جس سے وہ بیتاب ہوا ہو۔ ہر چیز کو اس کے وقت کے حوالے کیا، بے جوڑ چیزوں میں توازن و ہم آہنگی پیدا کی، ہر چیز کو جداگانہ طبیعت اور مزاج کا حامل بنایا اور ان طبیعتوں کیلئے مناسب صورتیں ضروری قرار دیں۔ وہ ان چیزوں کو ان کے وجود میں آنے سے پہلے جانتا تھا، ان کی حد و نہایت پر احاطہ کئے ہوئے تھا اور ان کے نفوس و اعضاء کو پہچانتا تھا۔



 اسی طرح امیر المومنین علیہ السلام پیغمبر ﷺ کی سیرت کو مشعل راہ بناتے ہوئے تلوار کی قوت اور دست و بازو کے زور کا مظاہرہ نہیں کرتے، چونکہ آپؑ سمجھ رہے تھے کہ دشمن کے مقابلہ میں بے ناصر و مددگار اٹھ کھڑا ہونا کامرانی و کامیابی کے بجائے شورش انگیزی و زیاں کاری کا سبب بن جائے گا۔ اس لئے اس موقع کے لحاظ سے طلب امارت کو ایک گدلے پانی اور گلے میں پھنس جانے والے لقمہ سے تشبیہ دی ہے۔ چنانچہ جن لوگوں نے چھینا جھپٹی کر کے اس لقمہ کو چھین لیا تھا اور ٹھونس ٹھانس کر اسے نگل لینا چاہا تھا، ان کے گلے میں بھی یہ لقمہ اٹک کر رہ گیا کہ نہ نگلتے بنتی تھی اور نہ اُگلتے بنتی تھی۔ یعنی نہ تو وہ اسے سنبھال سکتے تھے جیسا کہ ان لغزشوں سے ظاہر ہے جو اسلامی احکام کے سلسلے میں کھائی جاتی تھیں اور نہ یہ پھندا اپنے گلے سے اتار نے کیلئے تیار ہوتے تھے۔ فرمایا ہے کہ:پھر یہ کہ اس نے کشادہ فضا، وسیع اطراف و اکناف اور خلا کی وسعتیں خلق کیں اور ان میں ایسا پانی بہایا جس کے دریائے مواج کی لہریں طوفانی اور بحر زخار کی موجیں تہ بہ تہ تھیں، اگر میں ان ناساز گار حالات میں خلافت کے ثمر نا رسیدہ کو توڑنے کی کوشش کرتا تو اس سے باغ بھی اجڑتا اور میرے ہاتھ بھی کچھ نہ آتا۔ جیسے ان لوگوں کی حالت ہے کہ غیر کی زمین میں کھیتی تو کر بیٹھے مگر نہ اس کی حفاظت کر سکے نہ جانوروں سے اسے بچا سکے، نہ وقت پر پانی دے سکے اور نہ اس سے کوئی جنس حاصل کر سکے



،  ان    اقتدار  پر بیٹھنے والوں کے لئے مولا نے فرمایا 'لوگوں کی تو یہ حالت ہے کہ اگر کہتا ہوں کہ اس زمین کو خالی کر و تا کہ اس کا مالک خود کاشت کرے اور خود نگہداشت کرے تو یہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ کتنے حریص اور لالچی ہیں اور چپ رہتا ہوں تو یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ موت سے ڈر گئے ہیں۔ بھلا یہ تو بتائیں کہ میں کس موقعہ پر ڈرا اور کب جان بچا کر میدان سے بھاگا، جبکہ ہر چھوٹا بڑا معرکہ میری بے جگری کا شاہد اور میری جرأت و ہمت کا گواہ ہے۔ جو تلواروں سے کھیلے اور پہاڑوں سے ٹکرائے وہ موت سے نہیں ڈرا کرتا۔ میں تو موت سے اتنا مانوس ہوں کہ بچہ ماں کی چھاتی سے اتنا مانوس نہیں ہوتا۔ سنو! میرے چپ رہنے کی وجہ وہ علم ہے جو پیغمبر ﷺ نے میرے سینے میں ودیعت فرمایا ہے۔ اگر ابھی سے اسے ظاہر کر دوں تو تم سراسیمہ و مضطرب ہو جاؤ گئے، کچھ دن گزرنے دو تو تم خود میری خاموشی کی وجہ جان لو گے اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے کہ اسلام کے نام سے کیسے کیسے لوگ اس مسند پر آئیں گے اور کیا کیا تباہیاں مچائیں گے۔ میری خاموشی کا یہی سبب ہے کہ یہ ہو کر رہے گا، ورنہ بے وجہ خاموشی نہیں۔ اگر بولتا ہوں تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ دنیوی سلطنت پر مٹے ہوئے ہیں اور چپ رہتا ہوں تو کہتے ہیں کہ موت سے ڈر گئے۔ افسوس! اب یہ بات جب کہ میں ہر طرح کے نشیب و فراز دیکھے بیٹھا ہوں۔ خدا کی قسم! ابو طالبؑ کا بیٹا موت سے  مانوس ہے

اتوار، 8 مارچ، 2026

جنگ بدر کا 17 رمضان کو معرکہ ہوا


غزوہ بدر  : کفر اور اسلام  کی  سب سے پہلی اور اہم جنگ تھی جو ـ تاریخ 17 رمضان سنہ 2 ہجری کو بمقام بدر ـ مسلمانوں اور مشرکین قریشکے درمیان لڑی گئی۔ اس جنگ میں گوکہ مسلمانوں کی افراد قوت کم تھی لیکن انھوں نے مشرکین پر فتح پائی۔ تاریخی حوالوں کے مطابق مسلمانوں کی فتح کے اسباب میں ایک اہم سبب مسلمانوں ـ اور بطور خاص مولا  علی علیہ السلام اور حضرت حمزہ سید الشہداء کی خاص جانفشانی تھی۔ اس جنگ میں صبح کے وقت پیغمبر نے اپنے لشکر کی صف آرائی کا اہتمام کیا اور اسی اثناء میں قریش کی سپاہ عَقَنْقَل نامی ٹیلے سے ظاہر ہوئی۔ رسول خدا  حضرت محمد سرور ا نبیاءصلی  اللہ علیہ واٰلہ وسلمنے دیکھا تو بارگاہ احدیت میں التجا کی: "اے رب متعال! یہ قریش ہیں جو غرور و تکبر کے ساتھ تجھ سے لڑنے اور تیرے رسول کو جھٹلانے آئے ہیں؛ بار خدایا! میں اس نصرت کا خواہاں ہوں جس کا تو نے مجھے وعدہ دیا ہے! انہیں صبح کے وقت نیست و نابود کردے”۔قیادت کا پرچم ـ بنام عقاب جو صرف اکابرین اور خاص افراد کو ملا کرتا تھا، مولا علی  علیہ السلامکے ہاتھ میں تھا۔دو بدو لڑائی شروع ہونے سے قبل، ابو جہل نے اپنے لشکریوں کے جذبات ابھارنے اور انہیں مشتعل کرنے کی غرض سے "عامر حضرمی” کو حکم دیا کہ اپنا سر مونڈ لے اور سر پر مٹی ڈال کر اپنے بھائی عمرو حضرمی کے خون کا مطالبہ کرے۔ مروی ہے کہ: عامر پہلا شخص تھا جو مسلمانوں کی صفوں پر حملہ آور ہوا تاکہ ان کی صفوں کو درہم برہم کرے؛ لیکن                           حضرت محمد سرور ا نبیاءصلی  اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے سپاہیوں نے ثابت قدمی دکھائی         لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب عتبہ ابن ربیعہ اس کا بیٹا الولید اور اس کا بھائی شیبہ (تمام امیہ سے تھے) اپنی مشرک فوج کے سامنے کھڑے ہوئے



اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ان کے پاس ان کے برابر کے لوگ بھیجیں۔ سینکڑوں صحابہ آپ کے اردگرد تھے اور ان میں سے بہت سے اس بات کی توقع کر رہے تھے کہ آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بلایا جائے گا لیکن آپ نے اپنے خاندان سے شروع کرنے کا انتخاب کیا۔آ پ نے عقاب نام کا پرچم  مولا علی کو دیا مسلمانوں نے پیغمبر اسلام(ص) کے لئے ایک سائبان بنایا اور سعد بن مُعاذ سمیت انصار کے چند افراد نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالی؛ تاہم                  مسند ابن حنبل میں علی علیہ السلام سے منقولہ روایت کے مطابق ـ جو زیادہ تر تاریخی منابع میں بھی نقل ہوئی ہے ـ بدر کے روز رسول خدا(ص) کا ٹھکانا دشمن سے قریب ترین نقطے پر تھا اور جب جنگ میں شدت آجاتی تھی تو مسلمان آپ(ص) کی پناہ میں چلے جاتے تھے۔ امکان پایا جاتا ہے کہ متذکرہ بالا سائبان جنگ کی قیادت و ہدایت کے مرکز کے عنوان سے بنایا گیا ہوگا اور رسول اللہ حضرت محمد سرور ا نبیاءصلی  اللہ علیہ واٰلہ وسلم کبھی کبھی اس میں مستقر ہوتے رہے ہونگے۔رسول خداحضرت محمد سرور ا نبیاءصلی  اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے چچا حمزہ، علی (ع) اور عبیدہ بن حارث کو میدان میں بھیجا؛ حمزہ نے عتبہ کو ہلاک کیا اور علی(ع) نے ولید کو اور عبیدہ نے حمزہ اور علی(ع) کی مدد سے شیبہ کا کام تمام کیا۔ امام علی(ع) سے منقولہ روایت کے مطابق، آپ(ع) تینوں افراد کے قتل میں شریک ہوئے تھے۔بوجھ بہت زیادہ تھا اور بھاری بوجھ صرف وہی لوگ اٹھا سکتے تھے جن سے اس کا تعلق تھا۔




اس نے علی حمزہ اور عبیدہ ابن الحارث (تمام رسول کے قبیلے سے) کو تینوں جنگجوؤں کا سامنا کرنے کے لیے بلایا۔عتبہ، شیبہ اور ولید کے ہلاک ہوجانے کے بعد جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے لیکن اللہ کی غیبی امداد اور مسلمانوں کی شجاعت اور پامردی کے نتیجے میں مشرکین بہت جلد مغلوب ہوئے۔ تواریخ کے مطابق گھمسان کی لڑائی کے دوران، رسول خدا              حضرت محمد سرور ا نبیاءصلی  اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مٹھی بھر ریت اٹھا کر قریشیوں کی جانب پھینک دی اور ان پر نفرین کی۔ یہی امر مشرکین کے فرار ہونے اور ان کی شکست و ناکامی کا سبب ہوا۔ قریش کا لشکر اپنا مال و اسباب چھوڑ کر میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ گیا اور بعض افراد شکست کی خبر مکیوں کے لئے لے گئے۔جنگ بدر میں 14 مسلمان شہید ہوئے (جن میں سے 6 کا تعلق مہاجرین اور 8 کا تعلق انصار سے تھا) اور مشرکین میں سے 70 افراد ہلاک ہوئے اور اتنے ہی افراد کو قیدی بنایا گیا۔ابن قتیبہ دینوری نے مشرکین کے مقتولین کی تعداد 50 اور قیدیوں کی تعداد 44 بتائی ہے جن میں سے 35 افراد علی (ع) کے ہاتھوں مارے گئے۔ دریں اثناء سینکڑوں قریشی اطراف کے صحراؤں میں منتشر ہوگئے تھے اور رات کے اندھیرے اور مسلمانوں کے ہاتھ سے نجات پانے کے لئے گوشہ عافیت ڈھونڈ رہے تھے۔رسول خدا(ص) کو ابو جہل کی ہلاکت کی خبر سننے کا انتظار تھا اور آپ   حضرت محمد سرور ا نبیاءصلی  اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کو پیشوایان کفر کا سرکردہ اور فرعون امت جیسے خطابات سے نوازا تھا،


چنانچہ آپ(ص) نے اس کی ہلاکت کی خبر سنتے ہی فرمایا: "اے میرے رب! تو نے مجھ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرکے دکھایا ابو جہل دو نو عمر نوجوانوں "معاذ ‌بن عمرو” اور "معاذ‌ بن عفراء” کے ہاتھوں مارا گیا اور ابھی اس کی جان میں جان تھی جب عبداللہ بن مسعود نے اس کا سر تن جدا کیا۔جنگ کے نتائج کی اہمیت سے اتنا واقف کوئی نہیں تھا جتنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم۔ ہم جنگ شروع ہونے سے پہلے اس کی دعا میں اس کی پریشانی کی گہرائی کو پڑھ سکتے ہیں جب وہ اپنے رب سے دعا کرتے ہوئے کھڑا ہوا تھا: "خدایا یہ قریش ہے، یہ اپنے تمام غرور اور گھمنڈ کے ساتھ تیرے رسول کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ خدا میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ کل ان کو ذلیل کر دے۔ خدا اگر آج یہ مسلمان گروہ فنا ہو جائے تو تیری عبادت نہیں ہوگی!"اس جنگ میں جس میں کافر فوج 950 جنگجوؤں پر مشتمل تھی اور مسلمانوں کی تعداد 314 سے زیادہ نہیں تھی-پھر بھی اللہ تعلیٰ نے مسلمانوں کو صبرو استقامت کے ساتھ فتح نصیب کی

ہفتہ، 7 مارچ، 2026

گیارہ برس کا عالم ایک طلسماتی شخصیت خامنہ ای

 


 
اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
اللہ پاک جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے'آمین-شہادت  سے قبل جب ان سے کہا گیا کہ انکو بنکر میں ہونا چاہئے تو - انہوں نے سوال کیا 'کیا بنکر اتنا  بڑا  ہے جس میں پورا ایران آ جائےپھر انہوں نے کہا میرا مرنا اور جینا ایرانی عوام کے ساتھ ہے-آیت اللہ علی خامنہ ای نے سنہ دو ہزار نو میں کہا تھا ’میری روح غریب ہے اور جسم نامکمل اور میرے پاس وہ تھوڑی سی عزت ہے جو آپ نے مجھے دی ہے۔ میں یہ سب انقلاب اور اسلام کے لیے قربان کر دوں گا‘۔ایران میں علی خامنہ ای کے منہ سے نکلی بات حتمی ہوتی ہے۔ وہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اپنے ملک کے رہبرِ اعلٰی ہیں۔لیکن باہر کی دنیا شاید ان کے بارے میں صرف دو چیزیں جانتی ہے: ایک تو یہ کہ ان کا نام ان کے پیشرو آیت اللہ خمینی جیسا ہی ہے اور دوسرے یہ کہ وہ اس شخص کے سائے میں جی رہے ہیں جو درجے میں ان کے کم ہیں یعنی صدر محمود احمدی نژاد۔ہم اکثر علی خامنہ ای کو امریکہ کے خلاف خطبے دیتے دیکھتے ہیں اور وہ سیاہ پگڑی اور سفید داڑھی میں ایک ایسی شخصیت لگتے ہیں جس تک رسائی ممکن نہ ہو۔علی خامنہ ای ایران کے مقدس ترین شہر مشہد میں سنہ 1939 میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے عالم بننے کا فیصلہ کیا۔ یہ ایک آسان فیصلہ نہیں تھا کیونکہ وہ شاہ محمد رضا پہلوی کے دورِ حکومت میں بڑے ہوئے۔ رضا شاہ ایک سیکولر بادشاہ تھا جو مذہب کو ایک قدیم اور مشکوک چیز سمجھتا تھا۔آیت اللہ خامنہ ای کی سوانح عمری لکھنے والے مہدی خلجی کا کہنا ہے کہ ’خامنہ ای بہت کم عمری میں صرف گیارہ برس کی عمر میں عالم بن گئے تھے‘۔بطور ایک بااثر خطیب، وہ شاہِ ایران کے ناقدین میں شامل ہوئے۔



علی خامنہ ای " زندگی، اقتدار اور اثرات  آیت اللہ سید علی خامنہ ای گزشتہ کئی دہائیوں تک ایران کی سب سے طاقتور شخصیت رہے۔ وہ 1989 سے رہبرِ اعلیٰ کے منصب پر فائز تھے اور ریاستی نظام، فوج، عدلیہ اور بڑے سیاسی فیصلوں پر حتمی اختیار رکھتے تھے۔  1979 کے انقلاب کے بعد، جس کی قیادت روح اللہ خمینی نے کی، خامنہ ای نئی اسلامی حکومت کے اہم چہروں میں شامل ہو گئے۔1981 میں وہ ایران کے صدر منتخب ہوئے۔ ان کا دور صدارت ایران عراق جنگ کے مشکل سالوں پر مشتمل تھا۔1989 میں روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد ماہرینِ مجلس نے انہیں رہبرِ اعلیٰ منتخب کیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب وہ عملی طور پر ملک کے سب سے بااختیار فرد بن گئے۔رہبرِ اعلیٰ کی حیثیت سے خامنہ ای کو مسلح افواج کی کمان-عدلیہ اور ریاستی میڈیا پر اثر اہم عہدیداروں کی تقرری-بڑے حکومتی فیصلوں پر ویٹو پاور حاصل رہی۔ ایرانی صدور آتے جاتے رہے، لیکن ریاستی پالیسیوں کی بنیادی سمت ان کے ہاتھ میں رہی۔ان کے چھ بچے ہیں، مگر خاندان عمومی طور پر میڈیا سے دور رہا-علی خامنہ ای کی زندگی طاقت، نظریے اور طویل المدتی حکمرانی کی مثال ہے۔ وہ تقریباً تین دہائیوں تک ایک ایسے نظام کے ستون رہے جس میں مذہبی اور سیاسی قیادت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ان کے حامی انہیں استحکام اور مزاحمت کی علامت کہتے تھے جبکہ ناقدین انہیں سخت گیر پالیسیوں کا ذمہ دار قرار دیتے تھے، عرصہ دراز سے امریکہ کیساتھ خراب تعلقات کی وجہ سے اسے بار بار ٹارگٹ کیا گیا لیکن کچھ ہاتھ نا اسکا، امریکا اسرائیل نے اسے جھکانے کی ہر قسم کوشش کی لیکن کچھ نا کر سکیں




اخر کار گزشتہ دن کو ایک حملے میں اس عظیم دور کا خاتمہ ہوا اور علی خامنہ ای شہید ہوگئے، اس کی شہادت کے تصدیق ایرانی سرکاری ٹی وی سے کی گئی، 40 دن کا سوگ کا اعلان کیا گیا،آیت اللہ خامنہ ای سنہ 1939 میں ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد کے ایک مذہبی خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر پر ہیں اور ان کے والد ایک  غیر معروف شیعہ عالم تھے۔انھوں نے بچپن میں مذہبی تعلیم حاصل کی اور 11 برس کی عمر میں وہ ایک عالم کے طور پر اہل ہو گئے تھے۔اپنے دور کے دیگر عالموں کی طرح، ان کے کام کی نوعیت مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی بھی تھی۔بطور ایک بااثر خطیب، وہ شاہِ ایران کے نقادین میں شامل ہوئے۔ بالآخر سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے نتیجے میں ایران کے شاہ کا تختہ الٹ دیا گیا۔پولیس نے انھیں چھ مرتبہ گرفتار کیا اور انھیں تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔سنہ 1979 کے انقلاب کے ایک سال بعد، آیت اللہ روح اللہ خمینی نے انھیں تہران میں جمعے کی نماز کا امام مقرر کر دیا۔سنہ 1981 میں خامنہ ای ایران کے صدر منتخب ہوئے جبکہ سنہ 1989 میں روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد مذہبی رہنماؤں نے انھیں آیت اللہ خمینی کا جانشین مقرر کر دیاخامنہ ای بہت کم ایران سے باہر جاتے ہیں۔ وہ مرکزی تہران میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ ایک سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ ۔1980 کی دہائی میں ان پر ہونے والے ایک قاتلانہ حملے کے بعد سے خامنہ ای اپنا دایاں بازو استعمال نہیں کر سکتے ہیں۔ بالآخر سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے نتیجے میں ایران کے شاہ کا تختہ الٹ دیا گیا۔خامنہ ای کئی برسوں تک روپوش رہے اور انھیں جیل بھی کاٹنی پڑی۔ 



شاہِ ایران کی خفیہ پولیس نے انھیں چھ مرتبہ گرفتار کیا اور انھیں تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔سنہ 1979 کے انقلاب کے ایک سال بعد، آیت اللہ روح اللہ خمینی نے انھیں تہران میں جمعے کی نماز کا امام مقرر کر دیا۔سنہ 1981 میں خامنہ ای ایران کے صدر منتخب ہوئے جبکہ سنہ 1989 میں روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد مذہبی رہنماؤں نے انھیں آیت اللہ خمینی کا جانشین مقرر کر دیا۔آیت اللہ خامنہ ای ایران کے سب کے طاقر شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں۔خامنہ ای بہت کم ایران سے باہر جاتے تھے اور مرکزی تہران میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ ایک سادہ زندگی گزارتے تھے۔کہا جاتا ہے کہ وہ باغبانی اور شاعری کے شوقین تھے۔  سید علی خامنہ ای نے اپنی تعلیم کا آغاز چار سال کی عمر میں مکتب اور قرآن کریم کے درمیان کیا۔ انہوں نے پرائمری اسکول میں اپنی تعلیم جاری رکھی، اور کچھ قاری قرآن کی تلاوت اور تجوید کی گواہی سے مستفید ہوئے ، اور پرائمری اسکول کا مرحلہ مکمل کرنے کے بعد آپ نے سلیمان خان اسلامی مدرسہ میں دینی علوم کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔ آپ نے مدرسہ نواب کا درمیانی مرحلہ مکمل کیا۔ اس نے مقدمات اور درجات میں اپنے والد کا احسان حاصل کیا۔ ہمزمان با تحصیل ہوزوی، ہائی سکول راو ہور تو سیکنڈری ایجوکیشن۔سنہ 1334 ہجری میں آپ نے آیت اللہ سید محمد ہادی میلانی کے درس میں شرکت کی اور دو سال بعد سنہ 1336 میں آپ اپنے اہل خانہ کے ساتھ نجف گئے اور حوزہ علمیہ نجف کے مشہور اساتذہ کے اسباق میں شرکت کی لیکن آپ کے والد نجف میں رہنے پر راضی نہ ہوئے، اس لیے آپ نے ایک سال تک تعلیم حاصل کی اور ایک سال تک تعلیم حاصل کی۔  اور کروڑوں  ایرانی عوام کے دلوں پر طویل عرصے تک  راج  کرتے ہوئے با الآخر جنت الفردوس کے سفر پر روانہ ہوگئے 
تحریر و تلخیص 'سیدہ زائرہ عابدی 

جنگ خندق کفر اور اسلام کی معرکۃ الآرا جنگ

 

۔اس جنگ کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ بنو نضیر کو جب حضور انور  ﷺنے مدینہ منورہ سے جلا وطن کر دیا تو وہ خیبر میں جا کر بھی شرارتوں سے باز نہ آئے، ان کے بڑے مکہ معظمہ پہنچے اور قریش مکہ سے کہا کہ آؤ ہم تم مل کر داعئی اسلام ﷺسے جنگ کریں اور ان کو، ان کے کام کو اور ان کے ساتھیوں کو، سب کو ختم کر دیں، قریش کو آمادہ کرنے کے بعد  یہ لوگ یہودیوں کے سردار قبیلہ بنی غطفان کے پاس گئے اور انہیں بتایا کہ دیکھو محمدﷺسے جنگ کرنی ہے، قریش مکہ نے ہمارا ساتھ دینے کا وعدہ کر لیا ہے، تم لوگ بھی ہمارے ساتھ جنگ میں شریک ہو جاؤ؛ تاکہ اسلام اور مسلمانوں کا قصہ ہی ختم ہو جائے۔ ان کے علاوہ دیگر قبائل کی جماعتیں بھی جنگ کرنے کے لیے تیار ہو گئیں    ۔اس سلسلے میں کفار نے  کئی معاہدے کیے اور ایک بہت بڑی فوج اکٹھی کر لی مگر مسلمانوں نے سلمان فارسی کے مشورہ سے مدینہ کے ارد گرد ایک خندق کھود لی۔ خندق کھودنے کی عرب میں یہ پہلی مثال تھی کیونکہ اصل میں یہ ایرانیوں کا طریقہ تھا۔ ایک ماہ کے محاصرے اور اپنے بے شمار افراد کے قتل کے بعد مشرکین مایوس ہو کر واپس چلے گئے۔ اسے غزوہ خندق یا جنگِ احزاب کہا جاتا ہے۔ احزاب کا نام اس لیے دیا جاتا ہے کہ اصل میں یہ کئی قبائل کا مجموعہ تھی۔ جیسے آج کل امریکا، برطانیہ وغیرہ کی اتحادی افواج کہلاتی ہیں۔ اس جنگ کا ذکر قرآن میں سورۃ الاحزاب میں ہے۔غزوہ خندق کے مقام پر مسجد فتح (اوپر) اور مسجد سلمان فارسی (نیچے)جنگ احد کے بعد قریش، یہودی اور عرب کے دیگر بت پرست قبائل کے درمیان میں طے پایا کہ مل جل کر اسلام کو ختم کیا جائے۔ 



اس سلسلے میں پہلا معاہدہ قریش کے سردار ابوسفیان اور مدینہ سے نکالے جانے والے یہودی قبیلہ بنی نضیر کے درمیان میں ہوا۔ اس کے بعد بنی نضیر کے نمائندے نجد روانہ ہوئے اور وہاں کے مشرک قبائل 'غطفان' اور 'بنی سلیم' کو ایک سال تک خیبر کا محصول دے کر مسلمانوں کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا۔ اسلام کے خلاف اس اتحاد کو قرآن نے احزاب کا نام دیا ہے۔ ان میں ابوسفیان کی قیادت میں 4000 پیدل فوجی، 300 گھڑ سوار اور 1500 کے قریب شتر سوار (اونٹوں پر سوار) شامل تھے۔ دوسری بڑی طاقت قبیلہ غطفان کی تھی جس کے 1000 سوار انینہ کی قیادت میں تھے۔ اس کے علاوہ بنی مرہ کے 400، بنی شجاع کے 700 اور کچھ دیگر قبائل کے افراد شامل تھے۔ مجموعی طور پر تعداد دس ہزار سے تجاوز کر گئی جو اس زمانے میں اس علاقے کے لحاظ سے ایک انتہائی بڑی فوجی طاقت تھی۔ یہ فوج تیار ہو کر ابو سفیان کی قیادت میں فروری یا مارچ 627ء میں مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لیے مدینہ روانہ ہو گئی۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس سازش کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اصحاب سے مشورہ کیا۔ سلمان فارسی نے ایک دفاعی خندق کھودنے کا مشورہ دیا جو عربوں کے لیے ایک نئی بات تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ مشورہ پسند آیا چنانچہ خندق کی تعمیر شروع ہو گئی۔ مدینہ کے اردگرد پہاڑ تھے اور گھر ایک دوسرے سے متصل تھے جو ایک قدرتی دفاعی فصیل کا کام کرتے تھے۔ ایک جگہ کوہِ عبیدہ اور کوہ راتج کے درمیان میں سے حملہ ہو سکتا تھا اس لیے وہاں خندق کھودنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کی کھدائی میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سمیت سب لوگ شریک ہوئے۔




 اس دوران میں سلمان فارسی نہایت جوش و خروش سے کام کرتے رہے اور اس وجہ سے انصار کہنے لگے کہ سلمان ہم میں سے ہیں اور مہاجرین کہنے لگے کہ سلمان ہم میں سے ہیں۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ 'سلمان میرے اہلِ بیت سے ہیں'۔ کھدائی کے دوران میں سلمان فارسی کے سامنے ایک بڑا سفید پتھر آ گیا جو ان سے اور دوسرے ساتھیوں سے نہ ٹوٹا۔ آخر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود تشریف لائے اور کلہاڑی کی ضرب لگائی۔ ایک بجلی سی چمکی اور پتھر کا ایک ٹکرا ٹوٹ کر الگ ہو گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تکبیر بلند کی۔ دوسری اور تیسری ضرب پر بھی ایسا ہی ہوا۔ سلمان فارسی نے سوال کیا کہ ہر دفعہ بجلی سی چمکنے کے بعد آپ تکبیر کیوں بلند کرتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا کہ جب پہلی دفعہ بجلی چمکی تو میں نے یمن اور صنعاء کے محلوں کو کھلتے دیکھا۔ دوسری مرتبہ بجلی چمکنے پر میں نے شام و مغرب کے کاخہائے سرخ کو فتح ہوتے دیکھا اور جب تیسری بار بجلی چمکی تو میں نے دیکھا کہ کاخہائے کسریٰ میری امت کے ہاتھوں مسخر ہو جائیں گے'۔ بیس دن میں خندق مکمل ہو گئی۔ جو تقریباً پانچ کلومیٹر لمبی تھی، پانچ ہاتھ (تقریباً سوا دو سے ڈھائی میٹر) گہری تھی اور اتنی چوڑی تھی کہ ایک گھڑ سوار جست لگا کر بھی پار نہ کر سکتا تھا۔مسلمانوں کی تعداد 3000 کے قریب تھیغزوہ خندق کا مقام-خندق کھدنے کے تین روز بعد دشمن کی فوج مدینہ پہنچ گئی اور خندق دیکھ کر مجبوراً رک گئی۔ ان کی عظیم فوج اس خندق کی وجہ سے ناکارہ ہو کر رہ گئی۔ کئی دن تک ان کے سپاہی خندق کو پار کرنے کی کوشش کرتے رہے۔




بیرونی محاذ: ایمان کفر کے مقابلے پر-کچھ دن کے بعد عمرو ابن عبد ود کی قیادت میں پانچ سواروں(عمرو بن عبد ود، عکرمہ بن ابو جہل، ضرار بن الخطاب، نوفل بن عبد اللہ اور ابن ابی وھب) نے خندق کو ایک کم چوڑی جگہ سے پار کر لیا۔ عمرو بن عبد ود عرب کا مشہور سورما تھا اور اس کی دہشت سے لوگ کانپتے تھے۔ اس نے سپاہ اسلام کو للکار کر جنت کا مذاق بناتے ہوئے کہا کہ 'اے جنت کے دعویدارو کہاں ہو؟ کیا کوئی ہے جسے میں جنت کو روانہ کر دوں یا وہ مجھے دوزخ میں بھیج دے' اور اپنی بات کی تکرار کرتا رہا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ 'کوئی ہے جو اس کے شر کو ہمارے سروں سے دور کرے؟'۔ علی نے آمادگی ظاہر کی۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو اجازت نہ دی اور دوسری اور پھر تیسری دفعہ پوچھا۔ تینوں دفعہ علی ہی تیار ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انھیں اپنا عمامہ اور تلوار عطا کی اور فرمایا کہ ' کل ایمان کل کفر کے مقابلے پر جا رہا ہے'۔ ایک سخت جنگ جس کے دوران میں گردو غبار چھا گیا تھا نعرہ تکبیر کی آواز آئی۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ 'خدا کی قسم علی نے اسے قتل کر دیا ہے'۔ عمرو بن عبد ود کے قتل کی دہشت اتنی تھی کہ اس کے باقی ساتھی فوراً فرار ہونے لگے۔ نوفل بن عبد اللہ فرار ہوتے وقت خندق میں گر گیا جسے نیچے اتر کر علی نے قتل کر دیا۔ باقی فرار ہو گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ' روزِ خندق علی کی ضربت تمام جن و انس کی عبادت سے افضل ہے

جمعرات، 5 مارچ، 2026

روشن آنکھیں مسکراتا چہرہ جس کا نام ہے لبنیٰ ٹوانہ

 

لبنیٰ ٹوانہ سندھ پولیس کی ایک نامور اور بہادر خاتون افسر ہیں، جو 1999 سے خدمات انجام دے رہی ہیں اور 2000 میں بطور ایس ایچ او (SHO) کام کرنے والی ابتدائی خواتین میں شامل ہیں। وہ کراچی میں ایس پی (SP) پولیس کے عہدے پر خدمات سرانجام دے چکی ہیں اور ایف آئی اے (FIA) کی پہلی خاتون اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھی رہ چکی ہیں، جنہیں خصوصاً خواتین کے مسائل حل کرنے میں مہارت حاصل ہے جرائم کا خاتمہ پولیس کا اولین فرض                                                 اس حقیقت سے کوئی انکاری نہیں کہ موجودہ دور میں کسی بھی شعبے یا ادارے میں مردوں کے ساتھ خواتین کی شمولیت نا گزیر ہو چکی ہے ۔ قابل، باصلاحیت اور باہمت خواتین نے مردوں کے شانہ بشانہ چل کر جواں مردی، سے اپنا لوہا بھی منوایا ہے اس وقت ہر شعبہ خواتین کے بغیر اد ھوراہی نظر آتا ہے۔ان ہی میں پنجاب کے زمیندار سیاسی راجپوت ٹوانہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی سندھ پولیس کی باصلاحیت ،قابل نڈر خاتون ایس پی لبنی ٹوانہ کا شماربھی ہو تا ہے ان کے والد بھی سرکاری آفیسر تھے، بڑی بہن راحیلہ ٹوانہ سابق مشیر وزیراعلی سندھ اور سابق ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی تھیں، بھائی ایف بی آر میں ڈپٹی کمشنر ہیں ایک بہن پاکستان کی پہلی کمسن شاعرہ اور احمد فراز، پیر نصیر الدین نصیر گولڑہ شریف کی شاگرد ہیں، ایک بہن فری لانس صحافی اورایک ہاوس وائف ہے۔ایک شادی شدہ بیٹی ہے۔ معروف سیاستداں ، ، پولیس اور ایف آئی اے میں مختلف عہدوں پرفائز رہنے والی لبنی ٹوانہ آج کل ایس پی کمپلینٹ سیل ضلع ایسٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دےرہی ہیں ۔ صاف گو، نرم مزاج اور خوش گفتار لبنی ٹوانہ سےکی گئی بات چیت کا احوال قارئین کی نذر ہے۔



 ·س۔ سب سے پہلے ہمیں اپنی جائے پیدائش اور ابتدائی تعلیم کے بارے میں کچھ بتائیں ؟ج۔ میری پیدائش فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے قریب اپنے آبائی گاؤں میں ہوئی۔ والد صاحب پاکستان مشین ٹول فیکٹری کراچی میں سرکاری آفیسر تھے ، ہماری رہائش بھی پی ایم ٹی ایف کالونی میں تھی۔ تعلیم کا آغاز کے جی سے پی ایم ٹی ایف ماڈل اسکول سے کیا ۔ میٹرک آرمی پبلک اسکول کراچی سے، گریجویشن پی ای سی ایچ ایس گورنمنٹ گرلز کالج سے کیا۔س۔ خاتون ہوتے ہوئے پولیس کے شعبے کا انتخاب آپ کی خواہش تھی یا حادثاتی طور پر آ ئیں ؟ج۔ بی اے کرنے کے بعد پہلی نوکری پی ایم ٹی ایف ماڈل اسکول میں بحیثیت ٹیچر ایک سال کی، بعد ازاں محکمہ پولیس کا رخ کرلیا، پولیس میں آنے کی پہلی وجہ اس کی خوبصورت یونیفارم ،جب کہ دوسری وجہ بچپن سے خدمت خلق کا جذبہ بننی۔ خوشی اس بات کی ہے کہ میں اپنی سروس کا حق ادا کر رہی ہوں۔س۔ یہ بتائیں پولیس میں پہلی تعیناتی کہاں اور کس عہدے پر ہوئی ؟ج۔ اگست 1994 میں بحیثیت لیڈی انسپکٹر بھرتی ہوئی۔ پولیس ٹریننگ کالج سعیدآباد سے ایک سال کی اکیڈمک ٹریننگ کرنے کے بعد پولیس کے ABCD کئے اور پہلی تقرری بحیثیت ایس ایچ او ویمن پولیس اسٹیشن ضلع ملیر میں ہوئی، جہاں ضلع ملیر کے 16 تھانوں کے مقدمات تفتیش کے لیے بھیجےجاتے تھے۔س۔ ایس پی بننے سے قبل کن عہدوں پر اور کہاں کہاں خدمات انجام دیں ۔ پولیس میں بحیثیت ایس ایچ او، ویمن پولیس اسٹیشن کراچی 2000 تک کام کیا۔ اس کے بعد مئی 2000 میں میری خدمات فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی(ایف آئی اے) کے حوالے کردی گئیں ،



جہاں پہلی انسپکٹر امیگریشن انچارج ، پہلی انسپکٹر انویسٹی گیشن تعینات رہنے کے بعد پہلی خاتون اسسٹنٹ ڈائریکٹ امیگریشن بنی ، ایف آئی اے کے تمام شعبوں میں تفتیشی آفیسر کے طور پر کامیاب تفتیش کی، جن میں امیگریشن، کمرشل بینک سرکل، کارپوریٹ کرائم سرکل، اینٹی کرپشن سرکل، سائبر کرائم سرکل، اینٹیہیومن ٹریفکنگ سرکل وغیرہ میں کام کیا۔س۔ اگر پولیس افسر نہ ہو تیں تو کس محکمے میں جانا پسند کرتیں ؟ج۔ مجھے درس و تدریس کا شعبہ بھی بہت پسند ہے، اگر پولیس میں نہیں ہوتی توایک استاد ہوتی۔س۔ مزاجاََ کیسی ہیں، غصہ آتاہے ؟ج۔ مجموعی طور پر میں نرم مزاج ہوں، دوران گفتگو بد زبانی اور بدتمیزی کی قائل نہیں ، غصہ آنا یا غصہ کرنا ایک نارمل عمل ہے، جب کوئی خلاف مزاج بات ہو یا کوئی جھوٹ بول کر آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرے، ہٹ دھرمی دکھائے ،دھوکا دے یا کسی پر ظلم کرے تو غصہ آتا ہے۔س۔ کیا محکمہ پولیس میں خواتین مردوں سے بہتر انداز میں خدمات انجام دے ر ہی ہیں ؟ج۔ پولیس میں خواتین زیادہ محنت اور لگن سے کام کرتی ہیں، مگر انھیں وسائل میسر نہیں ، کوئی ہمدرد اور اچھا افسر ہو تو ان کو کافی حد تک سہولتیں فراہم کر دیتے ہیں۔س۔ اعلی پولیس افسران کے دعوؤں کے باوجود شہر میں اسٹریٹ کرائمز کا جن کیوں بے قابو ہے ؟ج۔ ہوشربا مہنگا ئی، بےروزگاری اور منشیات کا فروغ شہر میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز کا اصل سبب ہیں ،جن پر قابو پانا ناگزیر ہے۔س۔ دوران سروس کوئی ناقابل فراموش واقعہ پیش آیا؟ج۔ جی ہاں،ویسےتو کئی واقعات ہیں،


س۔ گھر میں اور خاندان والوں کے ساتھ بھی کیا پولیس افسرکا رویہ ہوتا ہے ؟ج۔ جی ہاں اس وقت خاص طور پر جب کسی کو کوئی قانونی مدد یا مشورے کی ضرورت ہو ورنہ عام حالات میں گھر والوں یا خاندان والوں کے سامنے نرم مزاج اور ملنسار ہوں۔ س۔ ایک دن کے لیے آئی جی سندھ بنا دیا جائے تو پہلا کام کون سا کریں گی ؟ ج۔ ایک دن کا آئی جی بننے کا کوئی فائدہ نہیں پھر بھی اگر ایسا ہوا تو ڈی ایس پی سے لے کر کانسٹیبل تک سب کو ان کا جائز حق دوں گی جن کی ترقی صرف نذرانے نہ دینے کی وجہ سے رکی ہوئی ہے۔ ان کی فوری ترقی اور جو مراعات ان کا حق ہے وہ ان کو دوں گی۔ ایس پی لبنیٰ ٹوانہ نمائندہ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے س۔ کیا ملازمت علاوہ گھر کے کام خود کرتی ہیں یا ملازم رکھے ہیں؟ج۔ مجھے گھر کے کام کرنا ہمیشہ سے پسند ہے۔ ہماری والدہ ،نانی، خالہ اور پھوپھی نےسب بہنوں کو گھر گرستی کے تمام کام سکھا دیئے تھے ، جن سے ہماری زندگی میں کافی آسانیاں ہیں۔س ۔ کیا گھومنے پھرنے کی شوقین ہیں ؟ج۔ جی ہاں مجھے گھومنے پھرنے کا جنوں کی حدتک شوق ہے، تاریخی مقام دیکھنا، پکنک پر سب کے ساتھ جانا، خریداری کرنا، بہت اچھا لگتا ہے۔س۔ فارغ اوقات یا چھٹی کیسے گزارتیں ہیں ؟ج۔ پولیس اور ایف آئی اے کی ملازمت میں فارغ اوقات کا ملنا بہت مشکل ہے۔ جب کبھی تھوڑا وقت مل جائے توگھر کےہی کسی کام میں وقت گزر جاتا ہے یا اپنی فیملی کے ساتھ گپ شپ میں وقت گزار لیا۔

بدھ، 4 مارچ، 2026

سروں کے خوبرو بادشاہ محمد رفیع

     کہا جاتا ہے کہ ایک روز کندن لال سہگل`                         کا پروگرام تھا۔ وہ اپنے وقت کے مشہور گلوکار تھے اور انھیں سننے کے لیے سینکڑوں کا مجمع تھا، مگر بجلی فیل ہونے کی وجہ سے سہگل نے گانے سے انکار کر دیا۔ اسی وقت رفیع کے بھائی نے پروگرام کے منتظمین سے کہا کہ ان کا بھائی بھی ایک گلوکار ہے اور اسے موقع دیا جائے۔مجمعے کی ناراضی کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے رفیع کو گانے کا موقع دیا۔ 13 سال کی عمر میں انھوں نے اِسٹیج پر   جب فر فارمنس دی تو لوگ بھول گئے کہ وہ تو سہگل کو سننے آئے  تھے ۔ اسی پروگرام میں موسیقار شیام سندر موجود تھے۔ انھوں نے ایک جوہری کی طرح رفیع کو پرکھ لیا اور انھیں بمبئی آنے کی دعوت دی۔ بس یہیں سے رفیع کا گلوکاری کا یادگار سفر شروع ہوا۔رفیع کی زندگی میں سب سے بڑا موڑ اس وقت آیا جب موسیقار اعظم نوشاد نے انھیں گانے کا موقع دیا۔ اس وقت نوشاد علی اور طلعت محمود کی جوڑی بہت کامیاب تھی نوشاد کا ہر گیت طلعت گاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز نوشاد نے طلعت کو گانے سے قبل سگریٹ پیتے دیکھ لیا۔ اصولوں کے پکے نوشاد بہت برہم ہوئے اور انھوں نے طلعت کی بجائے رفیع کو چن لیا۔ رفیع نے زندگی میں کبھی سگریٹ یا شراب کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔نوشاد کے ساتھ رفیع کی جوڑی بہت کامیاب رہی۔ بیجوباؤرا کے سارے نغمے ہٹ ہوئے۔من تڑپت ہری درشن کو آج،جیسا کلاسیکی گیت ہو یاتقسیم ہند سے قبل انھوں نے کئی فلموں میں نغمے گائے۔ 


’یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے‘ان کے ہزا رہا یاد گار نغموں میں سے ایک ہے۔-نوشاد سے ملاقات چاہے مجھے کوئی جنگلی کہےکا چنچل نغمہ رفیع کو ہر طرح کے گیت گانے میں مہارت حاصل تھی۔ انھوں نے وہ نغمے بھی گائے جسے اس وقت کے دوسرے گلوکاروں نے گانے سے منع کر دیا تھا۔ کشور کمار نے ’ہاتھی میرے ساتھی کا گیت             نفرت کی دنیا کو چھوڑ کر‘گانے سے منع کر دیا تھا کیونکہ اس میں آواز کی لے کافی اونچی تھی لیکن رفیع نے یہ گیت گایا اور بہت مقبول ہوا۔نغمگی کا یہ سفر بہت کامیاب رہا۔ انھوں نے اردو ،ہندی ،مراٹھی، گجراتی، بنگالی بھوجپوری تمل کے علاوہ کئی زبانوں میں گیت گائے۔ رفیع کی خاصیت تھی کہ وہ جس فنکار کے لیے گاتے اسی کی آواز اور اسی کے انداز کو اپناتے۔فلم پیاسا میں جانی واکر کے لیے انھوں نے ’تیل مالش’ کا جو گیت گایا اسے سن کر لگتا ہے کہ سامنے جانی واکر ہی گا رہے ہیں اور اس کا اعتراف خود جانی واکر نے بھی کیا تھا۔رفیع بہت سیدھے اور صاف دل انسان تھے۔ کئی مرتبہ انھوں نے بغیر ایک پیسہ لیے گیت گایا۔ ایک بڑے موسیقار نے رفیع کی موت کے بعد اعتراف کیا کہ ان کے پاس رفیع کو دینے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ گیت ختم ہونے کے بعد انھوں نے رفیع صاحب سے نظریں نہیں ملائیں اور دنیا کو دکھانے کے لیے ایک خالی لفافہ پکڑا دیا۔ رفیع نے اسے لے لیا لیکن بعد میں ملاقات کے بعد کبھی اس کا تذکرہ بھی نہیں کیا جب بھی ملے مسکرا کر ملے۔


گلوکار محمد رفیع دنیائے موسیقی کے ان نامور اور شہرت یافتہ گلوکار رہے کہ جنھوں نے اپنے فن کیرئیر میں 4516 گیت گا کر بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔ انھوں نے انمول گھڑی، میلہ، انداز، دیدار، بیجو باورہ، دوبیگھا زمین، دیوداس، چوری چوری، پیاسا، کاغذ کے پھول، تیرے گھر کے سامنے، گائیڈ، ارادھنا، ابھیمان، نیا دور، کشمیر کی کلی، مغل اعظم، جنگلی، پروفیسر، چائنا ٹاؤن، تاج محل، میرے محبوب، سنگم، دوستی، وقت، خاندان، جانور، تیسری منزل، میرا سایہ، دل دیا درد لیا، کھلونا، دوستانہ، پاکیزہ، کاروان، لیلیٰ مجنوں سمیت تقریباً ہزار کے قریب فلموں میں گیت گائے، ان کے یادگار گیتوں میں ’کیا ہوا تیرا وعدہ‘، ’بہاروں پھول برساؤ‘، ’لکھے جو خط تجھے‘، ’چُرا لیا ہے تم نے جو دل کو‘، ’تیری پیاری پیاری صورت کو کسی کی نظر نہ لگے‘، ’دل کے جھرکوں پے تجھ کو بٹھا کے ‘، ’چاہے مجھے کوئی جنگلی کہے‘، ’چودھویں کا چاند ہو‘، ’بابل کی دعائیں لیتی جا‘، ’تعریف کروں کیا اس کی‘، ’چاہوں گا میں تمھیں سانجھ سویرے‘، ’یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں‘، ’تیری آنکھوں کے سوا‘، ’چھپ گئے سارے نظارے ‘، ’پردہ ہے پردہ ‘، ’او میری محبوبہ‘، ’یہ ریشمی زلفیں‘، ’آنکھوں ہی آنکھوں میں ‘، ’اٹھرا برس کی تو‘، ’یہ میرا پریم پتر پڑھ کر‘، ’تجھے جیون کی ڈور سے ‘، ’یونہی تم مجھ سے بات کرتی ہو‘، ’مجھے تیری محبت کا سہارا‘، ’بھری دنیا میں آخر دل کو سمجھانے ‘، ’آدمی مسافر ہے‘، ’میرے دشمن تو میری دوستی کو ترسے‘، ’رم جھم کے گیت ساون گائے‘، ’یہ دل تم بن کہیں لگتا نہیں‘، ’آجا تجھ کو پکارے میرے گیت‘، ’سہانی رات ڈھل چکی‘، ’زندہ باد زندہ باد اے محبت‘، ’تمھاری نظر کیوں خفا ہو گئی‘، ’تیری دنیا سے دور‘، ’جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا‘، ’میرے متوا میرے میت رے‘، ’میرے پیار کی آواز پے چلی آنا‘، ’وعدہ کرلے ساجنا‘،


 ’یہ چاند سا روشن چہرہ‘، ’اکیلے اکیلے کہاں جا رہے ہو‘، ’ایسا موقع پھر کہاں ملے گا‘، ’آنے سے اس کے آئے بہار‘، ’خوش رہے تو سدا‘، ’بار بار دیکھو‘،’باغوں میں بہار ہے‘، ’ہوئے ہم عشق میں برباد ہیں برباد رہیں گے‘، ’میرے دوست قصہ یہ ‘، ’سلامت رہے دوستانہ‘، وغیرہ شامل ہیں۔اوپی نیر رفیع کے زبردست مداح تھے، اور 60 کی دہائی کے آخر میں ہونے والی گرماگرمی سے پہلے رفیع او پی کی ہر فلم کا لازمی جزو ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے 194 گیتوں میں رفیع کی آواز استعمال کی۔ او پی ردم کے بادشاہ کہلاتے تھے اور انہوں نے پنجاب کے کھلے میدانوں کھلیانوں کے بےمحابا کھلنڈرے پن اور شاداب شوخیوں کو برصغیر کے گوشے گوشے تک پہنچا دیا۔یہ کام وہ رفیع کے بغیر نہیں کر سکتے تھے، کیوں کہ 40 کی دہائی کے اواخر تک بالی وڈ میں ناک سے گانے والے گلوکاروں کا راج تھا۔ رفیع بھرے گلے سے گانے والے پہلے گلوکار تھے جو او پی نیر کی تھرکتی الھڑ دھنوں سے انصاف کر سکتے تھے۔  دوسری طرف او پی نیر نے جس تنوع اور کثرت سے رفیع کی آواز کے امکانات کھنگالے ہیں، اگر وہ ہمارے سامنے نہ ہوتے تو رفیع کا نام سن کر جو تصویر ذہن میں آتی ہے، اس کے رنگ ذرا پھیکے رہتے۔ مگر یہ سوال اب بھی اٹھتا ہے کہ ان  کی فرشتوں کے پروں جیسی ملائم اور مے ناب جیسی نشیلی آواز کو کس موسیقار نے سب سے عمدگی سے استعمال کیاہے ا کر تمام اہم موسیقاروں کے ساتھ رفیع کے کام کا بغور جائزہ لیا۔  محمد رفیع امرتسر کے ایک گاؤں کوٹلہ سلطان سنگھ میں پیدا ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے بچپن کے دنوں میں ایک فقیر ان کی گلی میں آتا تھا، جو بلند آواز میں گیت گاتا تھا۔ رفیع کو اسے گنگناتا دیکھ کر ان کے بڑے بھائی نے استاد وحید خان کی سرپرستی میں انھیں موسیقی کی تعلیم دلوائی ۔

منگل، 3 مارچ، 2026

کیلاشی قوم کے منفرد رسم و رواج

 

کالاش (انگریزی: Kalash) کوہ ہندوکش میں واقع ایک قبیلہ ہے جو کہ صوبہ سرحد کے ضلع چترال میں آباد ہے۔ یہ قبیلہ کیلاش زبان بولتی ہے جو کہ دری زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ زبان اس خطہ میں نہایت جداگانہ مشہور ہے۔ لسانیات کے ماہر رچرڈ سٹرانڈ کے مطابق ضلع چترال میں آباد قبائل نے یہ نام قدیم کافرستان سے مستعار لیا ہے۔ کالاشہ یا کالاش قبائل نے وقت کے ساتھ چترال میں اپنا اثررسوخ بڑھایا۔ ایک حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کالاش نام دراصل “کاسوو“ جو کہ بعد میں “کاسیو“ استعمال ہوتا تھا۔ یہ نام نورستان کے قبائل نے یہاں آباد قبائل کے لیے مخصوص کر رکھا تھا۔ بعد کے ادوار میں یہ کاسیو نام کالاسایو بنا اور رفتہ رفتہ کالاسہ اور پھر کالاشہ اور اب کالاش بن گیا۔ کیلاش قبائل کی ثقافت یہاں آباد قبائل میں سب سے جداگانہ خصوصیات کی حامل ہے۔ یہ قبائل مذہبی طور پر کئی خداؤں کو مانتے ہیں اور ان کی زندگیوں پر قدرت اور روحانی تعلیمات کا اثر رسوخ ہے۔ یہاں کے قبائل کی مذہبی روایات کے مطابق قربانی دینے کا رواج عام ہے جو کہ ان کی تین وادیوں میں خوشحالی اور امن کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔ کالاش قبائل میں مشہور مختلف رواج اور کئی تاریخی حوالہ جات اور قصے عام طور پر روم قدیم روم کی ثقافت سے تشبیہ دیے جاتے ہیں۔ گو وقت کے ساتھ ساتھ قدیم روم کی ثقافت کے اثرات میں کمی آئی ہے اور اب کے دور میں زیادہ تر ہند اور فارس کی ثقافتوں کے زیادہ اثرات واضع ہیں۔ کالاش قبائل کے قبائلی رواج میں اختلاف پایا جاتا تھا۔ بیسویں صدی سے پہلے تک یہاں رواج نہایت وسیع تھے اور گذشتہ صدی میں ان غیر مسلم قبائل میں ان رواجوں کی پیروی اسلام قبول کرنے کے بعد سے کافی کمی آئی ہے۔



 کیلاش قبائل کے سردار سیف جان جو کہ اقلیت کے مطابق، “اگر کوئی کیلاش فرد اسلام قبول کر لے، وہ ہمارے درمیان زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ ہم اپنی شناخت کے لیے انتہائی سخت مزاج رکھتے ہیں “تقریباً تین ہزار کیلاش اسلام قبول کر چکے ہیں یا پھر ان کی اولادیں مسلمان ہو چکی ہیں۔ یہ لوگ اب بھی وادی کیلاش کے علاقے میں رہائش پزیر ہیں اور اپنی زبان اور قدیم ثقافت کی پیروی کرتے ہیں۔ اب ان لوگوں کو “شیخ“ کہا جاتا ہے اور کالاش قبائل کی تقریباً نصف آبادی پر مشتمل یہ لوگ اپنا جداگانہ اثررسوخ رکھتے ہیں۔ کالاش عورتیں لمبی اور کالی پوشاکیں پہنتی ہیں، جو کہ سیپیوں اور موتیوں سے سجائی گئی ہوتی ہیں۔ کالے لباس کی وجہ سے یہ چترال میں سیاہ پوش کہلائے جاتے ہیں۔ کیلاش مردوں نے پاکستان میں عام استعمال کا لباس شلوار قمیص اپنا لی ہے اور بچوں میں بھی پاکستانی لباس عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔پاکستانی معاشرے کے برعکس عورتوں اور مردوں کا سماجی میل ملاپ برا نہیں سمجھا جاتا۔ “باشیلانی“ ایک جدا گاؤں ہے جو کہ عورتوں کے لیے مخصوص ہے۔ یہاں حاملہ عورتیں ہی لازمی رہائش پذیر ہوتی ہیں اور پیدا ہونے والے بچوں کو باشیلانی کہا جاتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد عورتوں کا پاک ہونا لازم ہے اور ایک رواج بھی عام ہے جس کو اپنانے کے بعد ہی کوئی عورت اپنے شوہر کی طرف واپس جا سکتی ہے۔ گھر سے فرار ہو کر شادی کا رواج عام ہے۔ نوعمر لڑکیاں اور شادی شدہ عورتیں بھی گھر سے فرار اختیار کرتی ہیں۔ زیادہ تر یہ قبائل اس رویہ کو عمومی خیال کرتی ہے اور اس صورت میں جشن کے موقع پر قبول کر لیا جاتا ہے۔



کئی مواقعوں پر زیلی قبیلوں میں اس موضوع پر فساد بھی برپا ہو جاتا ہے۔ امن کے قائم ہونے تک تلخی برقرار رہتی ہے اور صلح عام طور پر ثالث کی موجودگی کے بغیر طے نہیں ہوتی۔ صلح کے لیے جو رواج عام ہے اس کے مطابق مرد جس کے ساتھ عورت فرار اختیار کرے وہ اس عورت کے خاندان یا پہلے شوہر کو قیمت ادا کرتا ہے۔ یہ قیمت عام طور پر دگنے خرچے کے برابر ہوتا ہے جو اس عورت کا شوہر شادی اور عورت کے خاندان کو ادا کرتا ہےرومبور، بریر اور بمبوریت کو ملا کر وادی کالاش کا نام دیا گیا ہے، کالاش پاکستان کے ضلع چترال کی وادی کالاش میں آباد ایک قبیلہ ہے جنہیں کالاش کافر بھی کہا جاتا ہے ان کے آباواجداد شام سے نقل مکانی کرکے چترال کے رومبور، بریر اور بمبوریت میں آبسے ہیں۔چترال کی وادی کیلاش میں آباد تہذیب کے باسیوں کی ابتدا سے متعلق حتمی رائے قائم کرنا ممکن نہیں اور یہاں کے لوگوں کے نسلی اجداد کا تعین بھی مشکل ہے۔ تاہم اس ضمن میں دو نظریات ہیں۔ پہلے تصور میں کالاش قبیلے کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ افغانستان کے راستے سکندراعظم کے ساتھ آئے تھے اور یہاں کے ہوکر رہ گئے۔ 


  ایک رائے یہ ہے کہ کالاش یونانیوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس ماہرین آثارقدیمہ کی جدید تحقیق کے مطابق کالاش کے لوگ آریائی نسل سے ہیں۔کالاش قبیلے کی زبان کالاشہ یا کلاشوار کہلاتی ہے۔ کالاش کے لوگ دو بڑے اور دو چھوٹے تہوار مناتے ہیں، جس میں چلم جوش اور چوموس شامل ہیں۔ چوموس سب سے اہم اور مشہورتہوار ہے، جو 14 دن تک جاری رہتا ہے۔ یہ تہوار دسمبر میں منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار ان کی عبادت بھی ہے اور ثقافت بھی۔ چوموس تہوار ان کے لیے روحانی تازگی کے ساتھ ساتھ جسمانی مسرت بھی ہے۔ اس تہوار میں کالاش کے لوگ اپنے رب کے لیے، اپنے مرے ہوئے لوگوں، رشتے داروں اور اپنے مال مویشیوں کے لیے عبادت کرتے ہیں اور ان کی سلامتی کے لیے دعا کرتے ہیں۔ جیسنوک رسم بھی اس تہوار میں ادا کی جاتی ہے۔ اس رسم میں پانچ سے سات سال کے بچوں کو نئے کپڑے پہنا کر ان کو بپتسمہ دیا جاتا ہے۔ اس تہوار کے آخری تین دنوں میں، جس میں اس تہوار میں مرد اور عورتیں شراب پیتے ہیں اور تین دن کی روپوشی کے بعد یہ لوگ اپنی جگہوں سے باہر نکل آتے ہیں۔ جس کے بعد یہ لوگ ساری رات ایک جگہ پر جمع ہوکر رقص کرتے ہیں اور گیت گاتے ہیں۔ یہ ان کا سال کا آخری دن ہوتا ہے۔اس تہوار کے آخری روز لویک بیک کا تہوار ہوتا ہے، جس میں کالاش قبیلے کے مرد، خواتین، بزرگ اور بچے نئے کپڑے پہن کر مل کر رقص کرتے ہیں اور نئے سال کی خوشیاں مناتے ہیں۔ ان تہواروں میں عورتیں اونی سوتی کپڑوں کی لمبی قمیض پہنتی ہیں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

خطبہ از نہج البلاغہ بزبان امیر المومنین

تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے ، جس کی مدح تک بولنے والوں کی رسائی نہیں، جس کی نعمتوں کو گننے والے گن نہیں سکتے، نہ کوشش کرنے والے اس کا حق ادا ک...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر