منگل، 17 فروری، 2026

پلہ مچھلی مچھلیوں کی ملکہ

 

  پلہ مچھلی کوسندھ میں مچھلیوں کا ” بادشاہ” بھی کہا جاتا ہے۔ پلہ مچھلی ایک بزرگ خواجہ خضر سندھ میں لائے تھے۔ بادشاہ محمد تغلق کو پلہ مچھلی بہت پسند تھی۔ پلہ مچھلی بہت ڈرپوک ہوتی ہے۔ اگر دریا میں پانی کم ہو جائے اور بادلوں میں گرج چمک ہو تو وہ سمت کی طرف بھاگتی ہے۔ پلہ مچھلی جسامت کے لحاظ سے لمبوترا اور نیچے بطنی حصے میں بہت دبا ہوا یا چپکا ہوا ہوتا ہے پلے کے سارے جسم پر سفید چمکدار چھلکے ھوتے ھیں اور وه سلیٹی نظر آتا ہے اپنے چھلوں کی وجہ  سے پلا جب دریا میں ہوتا ہے تو پانی میں کہکشاں جیسے رنگ نمودار ہوتے ہیں.1930 میں سکھر کے قریب بیراج تعمیر ہونے کے بعد پلا اس کے دروازوں کو پار نہیں کر سکتا تھا جس کی وجہ  سے پلا سکھر سے واپس آتے ماہی گیروں کے ہاتھ لگتا یا پھر جو بچ جاتا وه سمندر میں چلا جاتا 1955 میں جامشورو کے قریب ایک اور بیراج بنایا گیا جس کے بعد پلا جے اس سفر کو پیش نظر رکھتے ہوئے  پلا مخالف سمت میں سفر کرتا ہے کوٹری بیراج کی تعمیر میں ایک زینہ  بنایا گیا ہے لیکن وه بھی کسی فنی طور پر اس قدر ناقص ثابت  ہوا کہ  پلا کوٹری سے آگے نا جا سکا یہاں تک  کہ مصنوعی طریقے سے پلا کو بیراج کی دوسری جانب دھکیلنے سے بھی وه مقصد پورا نہیں ہو سکاہے اس کا نتیجہ یہ  نکلا ہے کہ  کوٹری سے بالائی حصے میں پلا معدوم ہوچکا ہے کوٹری بیراج اور سکھر بیراج کی تعمیر بھی پلا کی نسل کو برقرار رکھنے اور اس اہم غذائی ذریعے کو بڑھانے میں مدد نہ  دے سکا تاھم پانی کے بہاءو میں جو کمی آئی ھے وه اس سلسلے کو تیز کرنے کے لئے کافی ھےسندھ میں راٹلو میان سے لے کر جام شورو اور ضلع ٹھٹہ میں کھارو چھار تک ایک زمانے میں پلہ پکڑنے کی ساٹھ/60 سے زائد جیٹیاں {JETTIE} موجود تھیں۔



 دریائے سندھ کے آخری علاقہ پلہ مچھلی کے خزانے سے خالی ہوگیا، ڈیلٹا کی 17 بڑی کریکس میں 6 ہزار سے زائد مچھلی کے نسل کش جال لگا دیئے گئے، پلہ کی آنی دریائے سندھ کے میٹھے پانی تک نہیں پہنچ سکی، سمندر میں ہی پلہ مچھلی کی نسل تباہ ہونے لگی، خطرناک جالوں کیخلاف قانون بے اثر، فشریز افسران اور مچھلی کی نسل کشی کرنے والی مافیا کروڑوں روپے کمانے لگے، ماہی گیر اور پلہ مچھلی کے شوقین مایوسی میں مبتلا ہیں۔ کراچی سے کاجر کریک سے دریائے سندھ کے آخری علاقے کی 17 بڑی کریکس میں 6 ہزار سے زائد مچھلی کے نسل کش جال لگا کر پلہ مچھلی کو مکمل طور پر ختم کیا گیا ہے، ہر سال جاری مہینوں میں نمکین پانی سے میٹھے پانی کی طرف سفر کرنے والی پلہ مچھلی کے راستوں پر نسل کش جا لگاکر پلہ کی آنی کو میٹھے پانی تک پہنچنے نہیں دیا گیا ہے۔ دریائے سندھ کے نمکین اور میٹھے پانی کے میلاپ سے 70ء کی دہائی تک 50 ہزار ٹن سالانہ پلہ مچھلی ماری جاتی تھی اور اس وقت مکمل آنی والا پلہ 20 روپے فی کس فروخت کیا جاتا تھا، پلہ مچھلی سے بھرپور سمندر اور دریا آہستہ آہستہ غیر فطری طریقوں، بااثر افراد کی لالچ اور محکمہ فشریز کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے آج پلہ مچھلی نایاب ہوگئی ہے۔جو عام آدمی کے کھانے کے بس کی بات نہیں



 رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نسل کش جال فشریز کے افسران کی رضا مندی اور بھاری رشوت کے عیوض پھٹی کریک، دبو کریک، چھان کریک، حجامڑو کریک، ترچھان کریک، سنہڑی کریک، گھوڑو کریک، مل کریک، والڑی ۔اس مچھلی میں کریک، کانیر کریک اور کاجر کریک تک اور دریائے سندھ کے راستوں چھریجا میان، موسیٰ میان، روہڑی میان، آتھرکی میان سمیت متعدد راستوں پر جال لگا کر پیمانے پر پلہ مچھلی کی نسل کشی کی جارہی ہے۔” المنظر کا خوبصورت منظر ہو اور “پلا”مچھلی کی اشتہا انگیز خوشبو۔ذائقے کے اعتبار سے مچھلیوں کی  ملکہ تصور کی جانے والی یہ مچھلی جس کا حیا تیاتی یا سا ئنسی نام tenualosa ilshaہے۔اس کا شہرہ صرف سندھ تک ہی محدود نہیں بلکہ اسے بنگلہ دیش اور بھارت میں بھی بہت پسند کیا جا تا ہے۔اپمے ذائقے اور خوشبو کی طرح اس کی زندگی بھی منفرد نوعیت کی ہے۔یہ مچھلی میٹھے اور کھارے دونوں پا نیوں میں رہتی ہے۔یہ اپنی زندگی کا زیادہ حصہ کھارے پانی میں گزارتی ہے۔مقامی لوگ اسے طاقتور مچھلی کہتے ہیں جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ پانی کے دھارے کی مخالف سمت میں سفر کر کے سمندر سے دریا میں داخل ہوتی ہے۔ایک زمانے میں پلا مچھلی یہ سفر کرتی ہوئی سکھر تک پہنچ جاتی تھی اور اس وقت اس کا وزن 5 کلو تک ہوجاتا تھا۔




مگر اب یہ صرف جامشورو تک ملتی ہے کیونکہ جب سے وہاں پر پل بنایا گیا ہے اب اس کے گیٹوں سے پلا کراس نہیں کر پاتی ہے۔ اب جیسے پانی کا اخراج زیادہ ہو گیا ہے اور ملک کے اندر سیلاب آ چکا ہے تو پانی کے بہاؤ کو آگے سمندر کی طرف چھوڑنے کے لیے جامشورو کے پل کے دروازے کھول دیے گئے ہیں جہاں سے کچھ پلا مچھلی نکل کر سکھر کی طرف روانہ ہو گئی ہے اور کچھ پلا وہاں بھی مل سکتی ہے اور یہ پلا وزن میں زیادہ ہو گی اور اس کی لمبائی بھی بڑی ہو گی اور اس کو کھانے میں بھی زیادہ مزا آئے گا۔ جب دریائے سندھ میں پانی اس مقدار میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ ڈیلٹا سے ہو کر سمندر میں گرے تو پلا مچھلی نے سندھ میں رکنے سے منہ موڑ لیا اور پھر آگے کہیں اپنا مسکن تلاش کیا مگر پھر بھی کچھ سمندر میں ملتی تھی۔ اب تو تین سال سے جیسے ہی دریائے سندھ کے پانی کی خوشبو پلا مچھلی کو ملی تو وہ اس طرف لوٹ آئی ہے۔ دریائے سندھ میں پلا جون، جولائی اور اگست تک رہتی ہے پھر واپس سمندر کی طرف لوٹ جاتی ہے اور باقی جو رہ جاتی ہے وہ بھی شکار ہو جاتی ہے۔پلا مچھلی کو بنگلہ دیش کی قومی مچھلی کا درجہ حاصل ہےاور اسے مغربی بنگال،اڈیسہ،تریپورہ،آسام(بھارت)میں بھی بہت مقبولیت حاصل ہے۔



پیر، 16 فروری، 2026

باب خیبر پاکستان کا خوبصورت چہرہ

 


جمرود کے مقام پر درہ خیبر کی تاریخی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے لیے جون 1963ء میں شارع پر ایک خوبصورت محرابی دروازہ ’’باب خیبر‘‘ تعمیر کیا گیا۔ یہ سطح سمندر سے 1066 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس دروازے پر مختلف تختیاں بھی نصب کی گئی ہیں، جن پر درہ سے گزرنے والے حکمرانوں اور حملہ آوروں کے نام بھی درج ہیں۔ درہ خیبر تاریخی، جغرافیائی اور محل وقوع کے لحاظ سے بے نظیر ہے۔ اسے برصغیر کا دروازہ کہا جاتا ہے، جو پشاور کے عین مغرب میں واقع ہے۔سلسلہ کوہ سلیمان، جو کوہ ہمالیہ کی شاخ ہے، سطح مرتفع سے شروع ہوتا ہے، اس سلسلے کی پہاڑیاں اور وادیاں خیبر پر پہنچ کر ایک ہو جاتی ہیں۔ اصل درہ قلعہ جمرود سے شمال مغرب میں تقریباً تین میل پر شروع ہوتا ہے اور کوئی 23 میل طویل ہے۔ درہ خیبر ویران و بے گیاہ اور دشوار و ہموار چٹانوں سے گزرتا ہوا علی مسجد کے قریب آکر رفتہ رفتہ تنگ ہوجاتا ہے اور مناظر بھی یکسر بدل جاتے ہیں۔ اس کے بعد درہ بَل کھاتا ہوا انتہائی بلندی پر لنڈی کوتل کی سطح مرتفع (3,518 فٹ) تک جا پہنچتا ہے۔ یہاں سے سڑک نشیب کا رُخ کرتی ہے اور شنواری علاقے سے گزرتی ہوئی طورخم پہنچتی ہے۔ اس جگہ ڈیورینڈ لائن (پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیاسی اور بین الاقوامی حد) دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے۔ جمرود سے اس کا فاصلہ تقریباً 33 کلومیٹر ہے


۔ پشاور سے کوئی پانچ دس منٹ کی مسافت پر واقع باب خیبر سے کابل جایا جا سکتا ہے۔ باب خیبر افغان سرحد سے متصل  پاکستان کی  ایک خوبصورت محرابی  دروازہ  ہے جسے دیکھنے دنیا بھر کے سیاح جوق در جوق آتے ہیں  ایک ایسی علامت ہے جو دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بن چکی ہے۔درہ خیبر  کی تاریخ اور سیاسی اہمیت کا اندازہ اسی ایک بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر یہ درہ نہ ہوتا تو آج برصغیر پاک وہند کی تاریخ بالکل ہی مختلف ہوتی۔ بظاہر یہ کوئی وادی گل پوش ہے نہ دلکش سیر گاہ، اس میں گنگناتے آبشار اور چشمے ہیں نہ خو ش منظر باغات، تاہم دنیا کے کونے کونے سے سیاح درہ خیبر دیکھنے آتے ہیں۔ وہ اس دشوار گزار اور پرپیچ پہاڑی راستے کی سیاسی اور جغرافیائی اہمیت کو جانتے ہیں۔ یہ درہ ہمیں مہم جوئی پر اکساتا ہے ہمارے خون کو حرارت اور دل کو ولولہ تازہ عطا کرتا ہے درس عمل دیتا ہے اور کچھ کارنامہ کر گزرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ درہ خیبر نے تاریخ میں اتنے زیادہ حملے دیکھے اور برداشت کئے ہیں جو ایشیاء کے کسی اور مقام بلکہ دنیا کے کسی اور علاقے نے ہر گز نہیں دیکھے جہاں سورج اور ہوا میں ایسی تاثیر ہے جو ان مردان کہستان کو الجھنے، بڑھنے اور مرنے مارنے پر اکساتی ہے۔ وہ اپنی آزادی کے تحفظ کا راز جانتے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ جو قوم اپنی ناموس کے لیے مرنا نہیں جانتی۔ وہ مٹ جایا کرتی ہے۔


 مشہور زمانہ ڈیورنڈ لائن درہ خیبر کے بلند پہاڑوں سے گزرتی ہوئی اپنا طویل فاصلہ طے کرتی ہے یہ دنیا کا مشہور درہ سلسلہ کوہ سلیمان میں پشاور سے ساڑھے 17 کلو میٹر(11 میل) کے فاصلے پر قلعہ جمرود سے شروع ہوتا ہے اور تورخم (پاک افغان بارڈر)56 کلو میٹر (35 میل) تک پھیلا ہوا ہے برصغیر جنوبی ایشیاء کے وسیع میدانوں تک رسائی کے لیے چاہے وہ نقل مکانی کی خاطر ہو یا حملے کی، اس درے نے ہمیشہ تاریخ کے نئے نئے ادوار قائم کئے ہیں۔ یہ درہ قوموں، تہذیبوں، فاتحوں اور نئے نئے مذاہب کی بقاء اور فنا عروج اور زوال کی ایک مکمل تاریخ ہے ایک ریلوے لائن جو فن انجینئرنگ کا  شاہکار  ہے- میٹر3500 فٹ اونچے درے میں سے گزرتی ہے اور لنڈی  کوتل پر ختم ہو جاتی ہے جو پشاور سے 52 کلو میٹر(32 میل) دور ہے۔ تورخم تک پختہ سڑک جاتی ہے۔ تورخم میں سیاحوں کے لیے ایک ہوٹل بھی قائم ہے اس کی لگژری کوچز، درہ خیبر تک چکر لگاتی رہتی ہیں۔ یہاں پہاڑی سلسلہ کبھی تو اتنا کشادہ ہو جاتا ہے کہ گزر گاہ ڈیڑھ کلو میٹر (ایک میل) ہوتی ہے اور کبھی اتنا تنگ کہ صرف 16 میٹر(52 فٹ) رہ جاتی ہے یہاں کی ریلوے لائن عجائبات میں شمار ہوتی ہے۔ جو مسلسل سرنگوں میں سے گزرتی ہوئی۔ انتہائی پیچیدہ راستوں اور پلوں کو پار کرتی ہوئی سرحد افغانستان تک پہنچتی ہے 


بہرحال یہ درہ خیبر ماقبل تاریخ سے آج تک اقوام عالم کی گزر گاہ رہا ہے اور تاریخ کے صفحات پر اس کے انمٹ نقوش ثبت ہیں۔ مشہور زمانہ ڈیورنڈ لائن درہ خیبر کے بلند پہاڑوں سے گزرتی ہوئی اپنا طویل فاصلہ طے کرتی ہے اور ہمیشہ ایسی کشمکش کو دھراتی ہے جس سے اس درہ کے دونوں طرف کے ممالک متاثر ہوتے ہیں۔ درہ خیبر، جس علاقے میں واقع ہے اسے خیبر ایجنسی کہا جاتا ہے یہ قبائلی علاقہ’’یاغستان‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ قبائلی عوام اب تک اپنی قبائلی علاقے کی قدیم روایات کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کے اپنے قانون اور دستور ہیں۔ ان کے تمام مقدمات اور معاملات قبائلی جرگوں میں طے کئے جاتے ہیں۔ پولیٹیکل ایجنسی کا حاکم پولیٹیکل ایجنٹ کہلاتا ہے۔ پولیس کے بجائے ایجنسی میں خاصہ دار اور خیبر رائفلز کے جوان امن و امان قائم رکھنے میں مدد دیتے ہیں خیبر ایجنسی اور تیراہ کے بیسیوں مقامات ایسے ہیں جنہیں مقامی لوگوں کے سوا اب تک کوئی دیکھ نہیں پایا۔ کسی بیرونی شخص کو وہاں جانے کی اجازت نہیں، نہ ہی قبائلی اپنے اندرونی معاملات میں کسی کی مداخلت کو پسند کرتے ہیں۔ خیبر ایجنسی میں پولیٹیکل تحصیلوں لنڈی کوتل، جمرود اور باڑہ پر مشتمل ہے اس کا رقبہ کوئی 995 مربع میل ہے اس علاقے کا انتظام براہ راست وفاقی حکومت کے تحت ہے۔ 

اتوار، 15 فروری، 2026

روز گارڈن آف ڈھاکہ فن تعمیر کا انمول نگینہ

 


 


 پرانے ڈھاکہ کے علاقے تکتلی میں داس لین، موتی جھیل کے جدید کاروباری ضلع کے قریب اور ڈھاکہ کے گوپی بگ علاقے میں بلدھا گارڈن کے قریب گلاب کے پھولوں سے لدی پھندی یہ   حویلی ایک ہندو زمیندار (زمیندار) ہرشی کیش داس نے بنوائی تھی۔ہریشی   تخلیق کار تھے جنہوں نے بلدھا گارڈن کو نمایاں کرنے کے لیے ولا کا کام شروع کیا تھا، وہ ایک دہائی تک حویلی میں مقیم رہے۔ 1927 میں، وہ دیوالیہ ہو گئے اور انہوں نے یہ حویلی ایک اور زمیندار بشارالدین سرکار کو فروخت کر دی  ۔ بعد ازاں بشارالدین سرکار کے خاندان نے اس کی موت کے بعد اس حویلی کو ایک تاجر کو فروخت کر دیا۔حکومت نے اس جگہ کو میوزیم میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا انکشاف کیا ہے۔روز گارڈن محل 19ویں صدی کے آخر میں ایک ہندو زمیندار ہرشیکیش داس نے تعمیر کروایا تھا۔ اس وقت کے آس پاس بلدھا گارڈن میں منعقد ہونے والے جلسے شہر کے امیر ہندو باشندوں کی سماجی زندگی کا ایک اہم حصہ تھے۔ کہانی یہ ہے کہ بلدھا گارڈن میں ایک جلسہ (پارٹی) میں کسی کے ذریعہ ہرشیکیش داس کی توہین کی گئی اور اس نے بلدھا گارڈن کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا باغ بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہاں انہوں نے اپنا جلسہ کیا۔ باغ کا مرکز ایک خوبصورت پویلین ہے۔ تاہم، یہ ایک رہائش گاہ کے طور پر نہیں بنایا گیا تھا، بلکہ موسیقی کی پرفارمنس جیسی تفریح ​​کے لیے ایک ترتیب (حالانکہ اس کے بعد کے مالکان نے اسے گھر کے طور پر استعمال کیا تھا)۔



 اس اسراف طرز زندگی کی وجہ سے ہرشیکیش داس دیوالیہ ہو گئے اور نتیجتاً وہ جائیداد بیچنے پر مجبور ہو گئے۔1937 میں روز گارڈن محل کو ڈھاکہ کے ایک ممتاز تاجر خان بہادر قاضی عبدالرشید نے برہمن باریا ضلع کے تحت مرحوم بشیر الدین سرکار کے خاندان کے افراد سے خریدا تھا۔ انہوں نے عمارت کا نام راشد منزل رکھ دیا۔ ان کے بیٹے قاضی رقیب کو وراثت میں ملی اور اس کے بعد اس کے زندہ رہنے والے خاندان نے اس جائیداد کی دیکھ بھال کی، اس کی دیکھ بھال میں ان کی اہلیہ لیلیٰ رقیب چیف نگراں تھیں۔عمارت کو اس کے سابقہ ​​مالکان نے اصل کردار کو پوری طرح برقرار رکھتے ہوئے اس کی تزئین و آرائش کی تھی۔بنگلہ دیش کی حکومت نے 9 اگست 2018 کو اعلان کردہ خریداری میں عمارت کو 331.70 کروڑ روپے میں خریدا۔ اس کے بعد حکومت نے اس مقام کو میوزیم میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔فن تعمیرلاج گراؤنڈ فلور پر آٹھ اپارٹمنٹس پر مشتمل ہے جس میں  ایک30’-0”+15’-0” مرکزی ہال ہے جب کہ اوپری منزل میں مزید پانچ اپارٹمنٹس ہیں جن میں درمیان میں 45’-0”+15’-0” کی پیمائش کا ایک بڑا ڈانس ہال ہے۔ تمام اپارٹمنٹس ایلیٹ موزیک، متعدد رنگ برنگی اسکائی لائٹس اور دیوار کے زیورات سے مزین ہیں۔ ان میں سے کچھ لکڑی، بیلجیم کے رنگین شیشے اور لوہے میں پودوں اور جانوروں کے خاکوں سے مزین ہیں۔ ڈانس ہال کے اوپر ایک شاندار گنبد ہے، اور رقص کا دائرہ جھرنوں سے گھرا ہوا ہے۔ چھت پھولوں کی طرز کی ہے اور بلجیئم سے سے منگوائے ہوئے سبز آئینوں  سے مزین ہے۔ لمبے کرسٹل فانوس چھت سے لٹک رہے ہیں۔



 بال روم چھت کی طرف جانے سے پہلے ایک پیچیدہ ڈیزائن کردہ سرپل سیڑھی۔ عمارت کے عقب میں مشرق کی طرف ایک برآمدہ تین محراب والا داخلی پورچ ہے جو اوپری منزل کے لیے سیڑھیوں کی طرف جاتا ہے۔ اصل میں باغ میں ایک آرائشی چشمہ تھا، جس کا ڈھانچہ اب بھی موجود ہے۔ باغ میں کئی کلاسیکی سنگ مرمر کے مجسمے ہیں،  .اسے روز گارڈن کہا جاتا ہے کیونکہ ایک زمانے میں یہ گھر دنیا بھر سے گلابوں سے بھرا ہوا ایک سرکلر ڈرائیو سے گھرا ہوا تھا۔ میرے دادا کا اصرار تھا کہ گلاب کی جو بھی قسم مل سکتی ہے اسے ان کے باغ میں شامل کیا جائے اور ہر رنگ کے پھول ہوں ر وز گارڈن پیلس 1830-1835 کے درمیان کسی وقت بنایا گیا تھا اور بالآخر میرے پردادا خان بہادر قاضی عبدالرشید کو فروخت کر دیا گیا تھا۔ (خان بہادر انگریزوں کا دیا ہوا لقب ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جو خاندان کے نام کو سب سے پہلے رکھتا ہے۔) میرے عظیم دادا پارلیمنٹ کے پہلے بنگالی رکن تھے۔ (تاریخ اور فن تعمیر کے بارے میں  روز گارڈن کے مالک کے پوتے کی زبانی ' یہ وہ گھر ہے جس میں میرے والد بڑے ہوئے ہیں۔ یہ اب ایک تاریخی مقام ہے، جو میری عظیم خالہ کی دیکھ بھال میں ہے، شادیوں اور پارٹیوں کے لیے کرائے پر دیا گیا ہے۔ میری خالہ اور اس کے بچے پراپرٹی پر ایک نئے گھر میں رہتے ہیں۔ جب کسی دوسری جگہ کا دورہ کیا تو ہم نے ایک وسیع گلاب کا باغ دیکھا جس کے بارے میں میرے چچا نے کہا کہ اس نے انہیں باغات کی یاد دلائی جو کبھی گھر کو گھیرے ہوئے تھے۔اسے روز گارڈن کہا جاتا ہے کیونکہ  اس گارڈن میں وسیع وعریض زمینی رقبے پر گلابوں کی کاشت کی ہوئی ہے۔  دنیا  بھر کے گلابوں کی نت نئ اقسام  اپنے باغ میں دیکھنے کے متمنی  کا کہنا تھا  کہ گلاب کی بھی  جو بھی قسم ملتی جائے  اسے ان کے باغ میں شامل کیا جائے


بلدہ گارڈن دراصل پرانے ڈھاکہ کے واری محلے میں ایک سڑک کے دونوں طرف دو باغات ہیں۔ اس بوٹینیکل گارڈن کی بنیاد 1909 میں مقامی زمیندار نریندر نارائن رائے چودھری (1880-1943) نے رکھی تھی، جو ایک مشہور ماہر فطرت اور انسان دوست تھے۔ باغات کا نام سائبیل اور سائیک یونانی افسانوں کے کرداروں کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ پراپرٹی حکومت نے 1962 میں حاصل کی تھی۔ باغات میں 672 پرجاتیوں کے 15,000 پودوں کا شاندار ذخیرہ ہے۔ بنگلہ دیش کا نیشنل بوٹینک گارڈن اور بنگلہ دیش نیشنل ہربیریم بنگلہ دیش میں پودوں کے تحفظ کا سب سے بڑا مرکز ہے، جس کا رقبہ تقریباً 84 ہیکٹر (210 ایکڑ) ہے۔ یہ بنگلہ دیش کے قومی چڑیا گھر کے قریب، ڈھاکہ میں میرپور-2 - 1216 میں واقع ہے۔ یہ 1961 میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ ایک نباتاتی باغ ہے، فطرت سے محبت کرنے والوں اور نباتات کے ماہرین کے لیے ایک علمی مرکز اور ایک سیاحتی مقام ہے۔ ہربیریم میں پودوں کے تقریباً 100,000 محفوظ نمونوں کا سائنسی ذخیرہ ہے۔ 

ہفتہ، 14 فروری، 2026

۔دلاور فگاراورعشق کا پرچہ

 

 شہنشاہِ ظرافت دلاور فگار، اردو کے ممتاز مزاح نگار اور پاکستان کے دانشور جن کا منفرد طرزِ ادائیگی بھی ان کی ایک الگ پہچان بنا، ۸ جولائی ۱۹۲۹ میں ہندوستان کے ایک شہر بدایوں میں پیدا ہوئے۔ اپنی ابتدائی تعلیم بدایوں میں ہی حاصل کی اور بعد ازاں آگرہ یونیورسٹی سے اُردو ادب میں پوسٹ گریجویشن کیا، مزید برآں انہوں نے معاشیات میں بھی ڈگری حاصل کی۔ پاکستان آنے کے بعد انہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی اور عبداللہ ہارون کالج میں درس وتدریس کے عہدے پر فائز ہوئے، جہاں اس دور میں فیض احمد فیض صاحب بطور پرنسپل تعینات تھے۔ روزگار کے سلسلے میں کراچی کے ترقیاتی ادارے کے۔ڈی۔اے میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ، ٹاؤن پلاننگ بھی منسلک رہے۔ دلاور فگار کا علمی سفر ۱۴ سال کی کم عمری سے ہی شروع ہوگیا تھا اور یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ سفر کی ابتداء ہی میں بدایوں کے مشہور شاعر   جناب ظفر یاب حسین جام نوائی کا ساتھ ملا جو کہ ان کے پڑوس ہی میں رہتے تھے اور ان کے بیٹے آفتاب ظفر اور مہتاب ظفر دلاور فگار کے دوست تھے جن کے توسط سے وہ جام نوائی صاحب سے ملے اور ان کی شاگردی اختیار کی۔ جب جام صاحب ہجرت کر کے پاکستان آگئے تو دلاور فگار نے ایک اور مشہور شاعر اور اسکالر جناب جامی بدایونی سے رہنمائی حاصل کی۔فگار صاحب کی طبعیت میں طنزو مزاح فطری طور پہ موجود تھا جو کہ ان کی سخت زندگی کے باوجود ان کے کلام میں بہت نمایاں ہے، ان کا پہلا مجموعۂ کلام “حادثے “ ان کے مشکل دنوں کی عکاسی کرتا ہے۔ بدایوں کے بلدیاتی انتخابات کے دوران فگار نے ایک طویل مزاحیہ نظم لکھی جو کہ ایک کتابچہ کی شکل میں شائع ہوئی اور اس ماحول کے حساب سے بہت مشہور ہوئی،



اور غالباً تب ہی سے فگار صاحب نے طنزو مزاح کو سنجیدگی سے اپنا اسلوب بنا لیا اور اس کے بعد ان کی نظمیں ریڈیو انٹرویو ، ماسٹر صاحب اور شاعرِ اعظم ان کی پہچان بنیں۔۱۹۶۸ تک فگار  صاحب ہندوستان کے ادبی حلقوں میں اپنی جگہ بنا چکے تھے لیکن پھر پاکستان آگئے، اپنی کتاب “انگلیاں فگار اپنی” کے دیباچہ میں انہوں نے ان حالات کا تذکرہ کیا ہے جو ان کے پاکستان آنے کا سبب بنے۔ ۱۹۷۰ کی دہائی کے عام انتخابات کے دوران پی ٹی وی نے ایک مشاعرہ ٹیلی کاسٹ کیا جس میں دلاور فگار نے اپنے مخصوص انداز سے نظم “میں اپنا ووٹ کس کو دوں” سنائی اور حیران کن کامیابی پائی، دلاور فگار کا نام راتوں رات زبان زدِ عام ہو گیا اور بعد میں ان کی نظمیں کے ڈی اے سے شکوہ، کراچی کی بس، گدھے کا قتل اور عشق کا پرچہ ان کو مقبولیت کی بلندیوں پر لے گئیں۔ دلاور فگار کا تعلق شاعروں کی اس نسل سے تھا جو شاعری کی فنی صلاحیتوں کی قدر کرتا ہے۔ انھوں نےمتناسب، طنزیہ زبان کے استعمال سے اپنے فن کو کمال بخشا ہے اور اپنے بہت سے ہم عصروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ دلاور فگار وہ مزاح نگار ہیں جنکا مزاح اتنا بر وقت محسوس ہوتا ہے جیسے کہ کل ہی لکھا گیا ہو، جیسا کہ دلاور فگار نے اپنے ایک شعر میں محاورتاً اشارہ کیا کہ “ حالاتِ حاضرہ کو کئی سال ہو گئے”۔انہوں نے ہندوستان کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش (یو پی) کے مشہور و معروف مردم خیز قصبے بدایوں کے ’حمیدی صدیقی‘ خاندان میں ماسٹر شاکر حسین کے گھر آنکھ کھولی۔ والد مقامی اسکول میں استاد تھے۔



 آپ نے اپنا پہلا شعر 14 برس کی عمر میں کہا تھا۔ بدایوں میں اعلیٰ تعلیم کا کوئی مرکز نہیں تھا، اس لیے وہاں سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی، بعدازاں 1953ء میں بی اے کیا اور پھر آگرہ یونیورسٹی سے فرسٹ ڈویژن میں اردو اور معاشیات میں ایم اے کیا۔ صرف یہی نہیں آپ انگریزی میں بھی ایم اے کرنا چاہتے تھے لیکن وہ معاش کی جدوجہد کی وجہ سے مکمل نہ ہوسکا۔ہندوستان میں ہی والد صاحب کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے، پھر جب 1968ء میں پاکستان آئے تو یہاں بھی ان کی شاعری کی بڑی پذیرائی ہوئی۔ یہاں کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ اپنی نظم ’شاعر اعظم‘ میں فیض صاحب کا عقیدت سے ذکر کرتے ہیں۔ وہ عبداللہ ہارون کالج لیاری میں بحیثیت لیکچرار کچھ عرصے تک اردو پڑھاتے رہے۔ فیض صاحب اس کالج کے پرنسپل تھے۔ درس و تدریس کے علاوہ وہ کچھ عرصہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ٹاؤن پلاننگ کے طور پر (کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی) کے ڈی اے سے بھی وابستہ رہے۔دلاور فگار من موجی، غالب اور جون ایلیا کی طرح مست اور شعر و شاعری کے نشے میں ڈوبے رہنے والے ایسے لوگوں میں سے تھے جنہوں نے سماجی اور معاشی زندگی کو بہتر بنانے اور مال و زر بنانے کی کبھی کوشش نہیں کی، وہ کچھ اور طرح کے ہی تھے۔انہوں نے ابتدا سنجیدہ غزل سے کی، اس ضمن میں وہ خود بتاتے ہیں کہ ’لوگ کہتے ہیں کہ میں طنز و مزاح نگار ہوں۔



گویا کہ طنز نگاری، شاعری یا کم از کم سنجیدہ شاعری سے الگ کوئی فن ہے۔ جہاں تک میری طنز نگاری کا تعلق ہے، یہ میری سنجیدہ شاعری ہی کی بنیاد پر مبنی ہے، ظاہر ہے کہ بالاخانے کو گراؤنڈ فلور سے الگ نہیں کیا جاسکتا‘۔آپ کی مزاحیہ شاعری کا تعارف یا آغاز بھی اتفاقی طور پر ہوا۔ وہ اپنے دوستوں کو مزاحیہ نظمیں لکھ کر دیتے تھے۔ ایک مشاعرے میں جس میں معروف فلم اسٹار دلیپ کمار مرحوم بھی موجود تھے اور اس کی میزبانی شکیل بدایونی کررہے تھے گلفام بدایونی نے دلاور فگار کی لکھی نظم پڑھی، لیکن شکیل بدایونی نے اسی مشاعرے میں گلفام سے اگلوایا کہ یہ اشعار انہیں دلاور فگار نے لکھ کردیے تھے۔ یوں شکیل بدایونی اور دوستوں کے کہنے پر دلاور فگار مشاعروں میں طنزیہ کلام خود پڑھنے لگے اور بے حد مقبول ہوئے۔بدایوں میں ہونے والے مشاعروں میں وہ ’شباب بدایوں‘ کی حیثیت سے باضابطہ شرکت کرتے رہے۔ آپ کے مزاحیہ شعری مجموعوں میں انگلیاں فگار اپنی، ستم ظریفیاں، آداب عرض، شامت اعمال، مطلع عرض ہے، سنچری، خدا جھوٹ نہ بلوائے، چراغِ خنداں اور کہا سنا معاف شامل ہیں۔دلاور فگار پاکستان آنے کے بعد درس و تدریس کے شعبے اور کے ڈی اے سے بھی منسلک رہےفگار نے اپنی زندگی میں کبھی مال و دولت جمع کرنے کی سعی نہیں کیپروفیسر ولی بخش قادری بچپن کے دوست بھی تھے اور ہم جماعت بھی۔ وہ دلاور فگار کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’وہ منکسر مزاج اور دوست نواز واقع ہوئے،

جمعہ، 13 فروری، 2026

ڈھاکہ مشرق کی وینس کہا جانے والا شہر

 بھی مشرق کا وینس کہا جانے والاڈھاکہ  شہر وسطی بنگلہ دیش میں دریائے گنگا کے مشرقی کنارے پر آباد ہے-مغل بادشاہوں نے اس شہر باغات محلات مقابر مسا جد سے  مالا مال کیا تو انگریز حکمرانوں  ،نے  شہر  کو  بجلی ریلوے ، سینما ، مغربی طرز کی یونیورسٹیز اور کالجوں اور جدید پانی کی فراہمی دی۔ یہ 1905 کے بعد مشرقی بنگال اور صوبہ آسام کا دار الحکومت ہونے کے ناطے برطانوی راج میں ایک اہم انتظامی اور تعلیمی مرکز بن گیا۔۔آدم جی جوٹ مل  یہاں کی  دنیا کی سب سے بڑی جوٹ مل تھی-آزادی کے بعد، پاکستان کی سب سے بڑی برآمد یا ایکسپورٹ، پٹ سن تھی جس کی ساری پیداوار، سابقہ مشرقی پاکستان (یا موجودہ بنگلہ دیش) میں ہوتی تھی لیکن برصغیر کی کل 108 جوٹ ملوں میں سے کوئی ایک بھی جوٹ مل پاکستان کی حدود میں نہیں آئی تھی۔پاکستان کا خام مال کلکتہ یا ڈنڈی، سکاٹ لینڈ جاتا تھا جہاں کی جوٹ اور کپڑا ملوں سے تیار شدہ مصنوعات نہ صرف دنیا بھر میں فروخت ہوتی تھیں بلکہ خود پاکستان واپس بھی آتی تھیں۔ پٹ سن کے ریشے سے جہاں عام استعمال میں آنے والی بوریاں وغیرہ بنتی تھیں ،وہاں کاغذ اور کپڑے سمیت دو سو کے لگ بھگ دیگر مصنوعات بھی تیار ہوتی تھیں۔دنیا کی سب سے بڑی جوٹ مل-15 مارچ 1950ء کو ڈھاکہ کے قریب نارائن گنج میں حکومت پاکستان اور مغربی پاکستان کے ایک نجی سرمایہ کار آدم جی صنعتی گروپ کی مشترکہ سرمایہ کاری کے تحت پانچ کروڑ روپے کے سرمایے سے دنیا کی سب سے بڑی جوٹ مل کا سنگ بنیاد رکھا گیا جو چار سو ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی تھی۔



آدم جی جوٹ ملز کا افتتاح 21 دسمبر 1951ء کو ہوا تھا۔ اس میں تین ہزار لومز اور 23 ہزار کے قریب افراد کام کرتے تھے۔ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد 1972ء میں بنگلہ دیش میں شیخ مجیب الرحمان کی حکومت نے آدم جی جوٹ ملز کو قومی تحویل میں لے لیا -ڈھاکہ ملک بنگلہ دیش کا دار الحکومت ہے۔ دریائے برہم پتر کے معاون دریا گنگا کے مشرقی   کنارے          پر  واقع اس شہر کی آبادی 90 لاکھ سے زيادہ ہے جس کی بدولت یہ بنگلہ دیش کا سب سے بڑا اور دنیا کے گنجان آباد ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ شہر پٹ سن کی بہت بڑی منڈی اور صنعت و تجارت کا مرکز ہے۔ یہاں کی ململ دنیا بھر میں مشہور تھا۔ ڈھاکہ اپنی خوبصورت مساجد کی وجہ سے بھی شہرت رکھتا ہے۔ یہ دنیا کا چھٹا سب سے بڑا اور ساتواں سب سے زیادہ گنجان آباد شہر ہے۔ مغل دور حکومت میں یہ شہر جہانگیر نگر کے نام سے جانا جاتا تھا۔ برطانوی راج میں یہ کلکتہ کے بعد ریاست بنگال کا دوسرا بڑا شہر بن گیا۔1921ء میں یہاں ڈھاکہ یونیورسٹی قائم ہوئی۔تقسیم ہند کے بعد یہ مشرقی پاکستان کا انتظامی دار الحکومت قرار پایا جبکہ 1971ء میں سقوط ڈھاکہ کے بعد 1972ء میں اسے نو آموز مملکت بنگلہ دیش کا دار الحکومت قرار دیا گیا۔---مغل دور (17ویں صدی) میں ڈھاکہ، جسے "جہانگیر نگر" کہا جاتا تھا، بنگال کا ایک اہم اور خوشحال دارالحکومت، تجارتی مرکز، اور فن تعمیر کا شاہکار تھا۔ یہ شہر اپنی ململ، مسالوں، اور دریا کے کنارے پھیلی ہوئی مصروف بندرگاہوں کے لیے مشہور تھا، جو غیر ملکی سرمایہ کاری اور ٹیکسٹائل کی پیداوار کا مرکز بنا ہوا تھانگلہ دیش میں آج کل بھی  کپڑا سازی صنعت جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی اور عالمی سطح پر معروف صنعت ہے، جو ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔


 عالمی سطح پر ’’ریڈی میڈ گارمنٹس‘‘ کے شعبے میں بنگلہ دیش چین کے بعد دوسرا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک ہے۔ یہ صنعت ملک کے مجموعی برآمدات میں تقریباً 80 فیصد جبکہ جی ڈی پی میں 11 سے 15 فیصد تک حصہ رکھتی ہےبنگلہ دیش میں کپڑا سازی صنعت کی بنیاد 1970ء اور 1980ء کی دہائی میں اس وقت پڑی جب جاپانی اور کوریائی کمپنیوں نے ملک میں کم لاگت مزدوری اور برآمدی امکانات کو دیکھتے ہوئے سرمایہ کاری کی۔ ابتدائی طور پر محدود سطح پر چلنے والی صنعت نے جلد ہی بین الاقوامی برانڈز اور یورپی منڈیوں تک رسائی حاصل کر لی-ترقی اور معاشی اہمیت-1990ء کی دہائی کے بعد بنگلہ دیشی ٹیکسٹائل شعبہ تیزی سے ترقی کرتا گیا اور آج اس شعبے سے اندازاً 4.2 ملین افراد وابستہ ہیں، جن میں 60 سے 70 فیصد خواتین مزدور شامل ہیں۔اس صنعت نے نہ صرف معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا بلکہ خواتین کو مالی خود مختاری بھی فراہم کی۔بنگلہ دیش مختلف اقسام کے تیار شدہ ملبوسات بناتا ہے، جن میں شامل ہیں:ٹی شرٹس-جینز اور ڈینم مصنوعات-سویٹر-بچوں اور خواتین کے ملبوسات-نِٹ ویئر اور اسپورٹس ویئر-صنعت کو درپیش چیلنجز-اگرچہ بنگلہ دیشی کپڑا صنعت بین الاقوامی سطح پر مستحکم ہے،


  پھر بھی  اس کو کئی اہم چیلنجز کا سامنا ہے، جیسے کہ:مزدوروں کی تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ-فیکٹریوں میں حفاظتی اقدامات کی کمی-ماحولیاتی آلودگی اور صنعتی فضلہ-عالمی منڈی میں قیمتوں کا دباؤ-2013 میں ڈھاکا کی مشہور "رانا پلازہ" فیکٹری حادثے کے بعد عالمی سطح پر بنگلہ دیشی فیکٹریوں کے حفاظتی معیار پر نظرثانی ہوئی اور ہزاروں صنعتوں نے حفاظتی تصدیق نامے حاصل کیے۔مستقبل اور پائیداری-بنگلہ دیش اب اپنی صنعت کو "گرین انڈسٹری" کی جانب منتقل کر رہا ہے۔ اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ ’’LEED (لیڈ) سرٹیفائیڈ‘‘ ماحول دوست ٹیکسٹائل فیکٹریاں بنگلہ دیش میں موجود ہیں، جس سے عالمی برانڈز کا اعتماد مزید بڑھا ہے۔عالمی منڈیاں-بنگلہ دیش کی کپڑا صنعت کی اہم برآمدی منڈیاں درج ذیل ہیں:امریکہ-یورپی یونین-کینیڈا-جاپان-برطانیہ-چین اور بھارت (خام مال کی درآمد اور مخصوص مصنوعات کی برآمد)




منہ دکھائ میں کیا دیا



اور نگین نے لمحے کے ہزارویں حصّے میں دل میں فیصلہ کیا کہ وہ دنیا کے کسی بھی فرد پر اپنی نجی زندگی کارازاس وقت تک فاش نہیں کر ے گی جب تک دنیا والوں پر خود سے حقیقت آشکار نہیں ہو جاتی ہےچنانچہ ربیکا کے جواب میں کچھ کہنے کے بجائےا س نے مسکراتے ہوئے سر جھکا لیا اور پھر ربیکا نے اسے دوبارہ گلے سےلگا کر دعاء دی سدا سہاگن رہو اور جلدی سے چاند سے بیٹے کی ماں بنو، او ر وہ سر جھکائے ہوئے ربیکا کی دعائیں لیتی رہی پھروہ اس سے مخاطب ہو کر کہنے لگی کہ،ہم سب ناشتے پر تمھارا انتظار کر یں گے ،بواجی  ناشتہ بنا رہی ہیں ،اس نے نظریں جھکائے ہوئے کہا میں ناشتے سے پہلے بابا جانی کو سلام کرنا چاہتی ہوں ربیکا اس کی سعادت مندی پر خوشی سے نہال ہو کر بولی خوشا نصیب کہ اتنی اچّھی بہو ہمارے گھر آئ ہے ،چلو میں تم کو بابا جانی کے پاس لے چلتی ہوں,ربیکا نے اس سے کہا تو جی اچھّا ! کہ کراس نے سر پر لئے ہوئے دوپٹے کا ہلکا سا گھونگھٹ نکال لیا ربیکا کے کمرے میں داخل ہوتے ہی شامیل ان دونو ں کی باتو ں کی سن گن لینےدروازے کے باہر چپ چاپ کھڑا ہو گیا تھا ،کیونکہ اس کو ڈرتھا کہ نگین کہیں اس کی  باجی سے ا س کی شکائتیں تو نہیں کرے گی لیکن نگین کوئ بھی حرف شکائت زبان پر نہیں لائ اور شامیل نے حقارت سے کہا ،

ابھی ہماری بہن کو اپنی بہو بیگم کی آوا رگی کی کہانیاں معلوم نہیں ہیں زرا معلوم ہو جائیں پھر دیکھنا ہے کہ باجی کا کیا ردعمل ہوگا اور پھر وہ نفرت سے پھنکارتا ہوا دروازے کے قریب سے ہٹ گیا  اور پھر جب وہ ربیکا کے ساتھ  با با جانی کے قریب  پہنچی تو وہ بستر پر لیٹے ہوئے تھے انہوں نے اس کی جانب دیکھا اور ایک پر مسرّت مسکراہٹ ان کے ہونٹوں پر پھیل گئ اور نگین نے ان کے قریب پہنچ کر اپنا سر جھکایا تو انہوں نے  بستر پر لیٹے لیٹے اس کے سر پر ہاتھ رکھّا  او  کے ہاتھ کے بزرگانہ لمس نے اس کے دل کے اندر ایک ہوک سی اٹھی اور بس پھر صبر کا دامن اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور اس نے باباجانی کے سینے پر سر جو ٹکا یا تو اچا نک اس کی ہچکیاں بندھ گئیں گھر میں سب کو معلوم ہو چکا تھا کہ وہ اپنے ماں باپ سے محروم ہو کر اس گھر کی دہلیز پر آئ ہے اس لئے سب ہی اس کی دلجوئ کرنے لگے بابا جانی کی آنکھیں بھی اس کے اس طرح رونے سے بھیگتی گئیں ربیکا نے اس کو اٹھانا چاہا تو خلیق احمد نے ربیکا کو منع کیا اور کہا رولینے دو غبار نکل جائے گا تو اس کا دل ہلکا ہو جائے گا ،اور وہ اپنا جھرّیوں بھرا کمزور ہاتھ  اس کے سر پر از راہ شفقت رکھے رہے ،وہ کسی سے کہ نہیں سکتی تھی کہ اس کی تمام رات پھانسی کے پھندے پر جھول کر صبح ہوئ ہے ،اور اب وہ سچ مچ مر جانے کی خواہاں ہے پھر انہوں نے ربیکا سے کہا کہ وہ ان کی میز کی اوپر کی دراز میں رکھّا مخملی ڈبّہ نکال دے ،ربیکا نے اپنے بابا جانی کو ڈبّہ دیا تو انہو ں نے کہا بیٹی اب سر اٹھا کر دیکھو یہ تمھاری منہ دکھائ میرے پاس امانت رکھی ہوئ تھی جسے شامیل کی امّی اپنی طرف سے میرے پاس  رکھواکر دنیا سے گئیںتھیں اب تمھاری یہ امانت میں تمھیں سونپ رہا ہوں،یہ شامیل کی امّی نے مجھ کو دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ شامیل کی دلہن کے لئے ہے ،تم اس کو خود کھول کر دیکھو اور اس نے جیسے ہی مخملی ڈبّہ کھولااس کی اور کمرے  میں موجود ہر فردکی آنکھیں  ہیروں کی چمک دمک سے خیرہ ہونے لگیں اور اس کو بے اختیار اپنی بڑی آپا کے ہاتھوں کے کنگن یاد آگئےربیکا نے وہ کنگن وہیں پر اس کی نازک کلائیوں میں پہنا کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور بولی مبارک ہو پھر ان  سب نے ناشتے کی میز پر آکر ساتھ میں ناشتہ کیا ،شامیل کی کر سیاس کے عین برابر میں تھی اور اس نے اپنے آپ پر کمال ضبط سے قابو پایا ہوا تھا  ناشتے کے کچھ ہی دیر بعد اس کی بڑی آپا اپنے بچّوں کے ساتھ اس سے ملنے آگئیں کیونکہ شام میں ولیمہ تھا اس لئے ا س کا میکہ کا جانا ولیمے کے اگلے دن پر رکھّا گیا تھا ولیمے کی دلہن تیّار کرنے کے لئے اس کی تیّاری کا وقت آگیا تو ربیکا اسکو ولیمے کی تیّاری کے لئےبیوٹی  پارلر چلی گئ ربیکا کے شوہر معروف نے بہت ہی کم وقت میں ولیمے کا بہت ہی اعلٰی انتظام کیا تھا ویسے تو کم وقت کی وجہ سے شادی کے کارڈ چھپنے کی نوبت نہیں آئ تھی لیکن فون پرہی تما م قریبی عزیزوں اور مہمانوں کو بلا لیا گیا تھا اور خوبئ قسمت کہ شادی لان بھی مل گیا تھا اور وہ اب بیوٹی پارلر سے دلہنبن کر تیّار ہو کے آئ اسٹیج پر اکیلی بیٹھی تھی  ,,اس کے چاروں طراف روشنی,خوشبو , اور رنگوں کی برسات رم جھم رم جھم کرتی اتر رہی تھی اور وہ اپنے اطراف کی ہر شئے سے بیگانہ اپنے آپ میں گم سم اداس اورتنہا تھی  اس کا دل  بھی اپنےآپ کو بلکل تنہا محسوس کر رہا تھا اور باہر کی تنہا الگ سے جان لیوا تھی ,اسٹیج پرکبھی کبھار ربیکا اس کے پاس مہمانوں سےتعارف کے لئے آجاتی اور کبھی     زوا لفقار کی مسز چکّر لگا لیتی تھیں ،اور شامیل نے تو بھولے سے بھی ایک مرتبہ اس کی جانب نگاہ التفات بھی نہیں ڈاالی تھی وہ مہمانو ں کو ریسیو کرنے کے بہانے باہر ہی باہر تھا پھر اچانک شور ہو ا دلہن والے آگئے دلہن والے آگئے ،اورپھر زراسی دیر میں  اس کی بہنیںسب اسٹیج پر تھیں   فریال تنویر کی ہمراہی میں اپنی جڑواں بیٹیوں کے سا تھ  لاہور سے ولیمے کی تقریب میں شامل ہونے پہنچ چکی تھی ،وہ سب سے پہلے اپنی گول مٹول گلابی رنگ کی گڑیا جیسی بیٹی کو گود میں لئے ہوئے اس کے برابر میں آبیٹھی اوربولی نگین فلائٹ نا ملنے سے ہم بارات میں نہیں آسکے پھر اس نے بڑی ہی رازداری سے نگین سے پوچھا منہ دکھائ میں کیا ملا اور فریا ل کے سوال نے نگین کو موت کے کنوئیں میں دھکیل دیا ،منہ دکھائ ،،،

جمعرات، 12 فروری، 2026

دروازے کی آہٹ پر وہ اپنے حواسو ں میں لوٹ آئ

 

  نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے بہت ہمّت کرلی تھی کہ اپنے آپ کو سنبھالا ہوا تھا مگر دل پر بھلا کس کو اختیار ہوسکتا ہے ،اور اس کا دل سینے کے پنجرے میں پھڑپھڑا رہا تھا کہ اس کو جان ودل سے ا پنا بنانے والا کبھی بھی واپس نہیں آنے کے لئے اس سے روٹھ کردنیا سے جا چکا تھا,,سو چوں کے انہی جان گسل لمحات میں ,ایجاب وقبول کے لئے مولاناصاحب طلال کے ہمراہ اس کے پاس آگئے'ایجاب و قبول کا مرحلہ شروع ہوا نصرت نگین بنت اسلام الدّین آپ کو مبلغمہر شرعی شامیل احمد ابن خلیق احمد کے ساتھ نکاح منظور ہے اور مولاناصاحب کے الفاظ پورے ہونے سے پہلے اس نے اپنے آپ کو بے ہوش ہونے سے بچایا ،اورپھر اس نے مولانا کے دوسر ی بار کے مرحلے پر پہنچنے پر آہستہ سے ہاںکہاور نکاح نامے کو اپنی موت کا پروانہ سمجھ کر سائن کر دئےاور نکاح کے بعد اس کی منجھلی آپا اور بڑی آپا نے اس کے دونو ں بازوتھام کر شامیل کے پہلو میں لا کر بٹھا دیا، اس نے نا تو اپنی نگاہیں اوپراٹھائیں اور ناہی شامیل نے اس کے پہلو کی قربت کو اپنے نزدیک پسند کیا اسلئے کچھ فاصلہ پر کھسک کر بیٹھ گیا جس کو سب نے اس کی شرم و حیا کی تعبیرجانا مووی بنتی رہی تصاویر کھینچی جاتی رہیںفو ٹو گرافر مووی میکر باربار اصر ار کرنے لگا زرا سا کلوز ہو جائیے ,,زرا سا کلوز ہو جائیے اور وہ زراسا کلوز ہوتا اور پھر دور ہوجاتا ، اور وہ بے روح کی مانند ساکت ہیرہی اور بغیر ایک آنسو بہائے رخصت ہو کرشامیل کے گھر میں سر جھکائے'جھکائے آ گئ'


اس شادی میں اس کے میکے میں ناکوئ رسمیں ہوئیں ناریتیں ہوئیں نا ڈھولک کی تھاپ پر کسی سہیلی نے کوئ سہاگ گیت گا یا ،بس منجھلی آپا ہی تو تھیں جنہوں نے اس کے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگا دی تھی اور بیوٹی پارلر لے جاکر دلہن بنوا لائ تھیں-شامیل کے ٹرپل اسٹوری گھر میں مہمان بھرے ہوئے تھے ،پہلے رسمیں ریتیں ہوئیں جن کو اس نے ایک مشینی روبو ٹ کی طرح پو را کروا لیاحالانکہ بہت کم وقت کے نوٹس پر یہ تقریب منعقد کی تھی مگر دونوں جانب سےسمجھدار لوگ اس تقریب کے کرتا دھرتا تھا ادھر سے طلال اور فرحین تھے ادھرسے ربیکا اور معروف تھے ،تمام کام سلیقے سے انجام پا گئے تھےاور اب ربیکا اور اس کی بھابھی نے اس کو حجلہ عروسی میں پہنچا دیا ان دونو ں کےکمرے سے جانے کے بعد اس نے ٹوٹے ہوئے دل کی کرچیں سمیٹ کر آہستہ سےگھونگھٹ کی اوٹ سے کمرے کا جائزہ لیا ،ہر ،ہر شے نفیس تھی ،,,,,, ہر طرف رنگوں کی خوشبوؤں کی بارات تھی کمرے کے دروازے اور کھڑکیوں پر پڑے ہوئے حریری پردے اے ,سی کی نرم خنکی اور کمرے کی چھت کے درمیان لگے ہوئے سنہرے پینٹڈ پنکھے کی ہلکی ہوا میں رات کے ماحول کو خوابناک بنا رہے تھے اور اس ماحول میں وہ اکیلی تھی رات دھیرے دھیرے سرک رہی تھی اورپھولوں سے مہکتے چپر کھٹ جیسے حسین بیڈ پرتنہا بیٹھی ہوئ اپنے حا لیہ ماضی کے لئے سوچے جارہی تھی کہ کاش جب بڑی
آپا نے اس کو رشتے کے بارے میں جاننے کے لئے اور لڑکے کی تصاویر دیکھنےکے لئے لفافہ دیاتھا تو اس نے ایک نظر کیوں نہیں دیکھ لیا ،اگر وہ دیکھ لیتی تو شائد کوئ بھی بہانہ کر کے انکار کر دیتی,



 لیکن یہ تو اس کے گمان کے لاکھویں حصّے میں بھی نہیں تھا کہ کراچی کے لڑکے کا رشتہ اس کے ساتھ پنڈی میں طے ہوگا اور شادی پھر کراچی میں ہی ہو گی اور پھر بلکل اچانک ہی اس کا زہن یعسوب کی جانب چلا گیا ،یہ شب عروسی تو اس کو اپنے خوابوں کےشہزادے یعسوب کے ساتھ منانی تھی لیکن اس کے دل کے راج محل کا شہزادہ اسکے ارمانوں کی دنیا لوٹ کر منوں مٹی کے نیچے جاسویا تھا ،پھر یعسوب زہن سے محو ہو گیا اور ایک دم شجاعت کی سوچوں نے اس کے زہن پرقبضہ کیا ,, وہ جانتی تھی کہ یعسوب اس قسم کی باتوں سے کتنا ناراض ہوتاہے اس لئے وہ یعسوب کی غیر موجود گی میں ہی اپنا ہاتھ دکھا کر قسمت کاحال جاننا چاہتی تھی ایسے میں ایک دن جب وہ زویا کے ساتھ لائبریری میں ا سٹڈی کر رہی تھی اسےجیسے ہی شجاعت لائبریری میں نظر آیا اس نے زویا کو اس کے پاس بھیج کراسے اپنے پاس بلا لیا اور شجاعت نے اس کے ہاتھ کی لکیریں دیکھ کراس سےکہا تھا کہ لڑکی ابھی بھی وقت ہے سنبھل جاؤ اپنی کشتئء حیات کو بھنور میں ڈبونے کے بجائے کنارے پر لے آؤ ،پھر شجاعت نے کہا تھا ،تمھاری محبّت کے آسمان پر مجھ کو گہن لگتا دکھائ دے رہا ہے ، روشنی کی رمق بھی نہیں ہے،اور اس نے حیرا ن ہو کر اس سے پوچھا تھا کیا مطلب؟تو اس نے جوا بدیا تھاتم ایک دوسرے کو ٹو ٹ کر چاہو گے سب کو یقین ہو گا کہ تمھاری شادی ہو گی لیکن کمند یہا ں آکے پھر ٹوٹ جائے گی پھر جو شادی ہو گی اس کا ابتدائ عرصہ بہت تلخ ہوگا اس شادی کے آسمان پربہت زیادہ غلط فہمیاں ہیں ,,بد گمانیاں ہیں,, اور دوریاں ہیں اگر اس ڈولتی کشتی کواللہ نے سنبھال لیا تو ٹھیک ہے ورنہ یہ شادی اپنے اختتام کوپہنچ جائے گی-



اور اس نے کہا تھا ارے شجاعت زرا ہولے ہولے ڈراؤاور پھر جب اس نے ناجانےکس دھن میں یعسوب کو شجاعت کی کہی ہوئ باتیں بتائ تھیں تو یعسوب نے سخت غصّے کے عالم میں کہا تھا میں شجاعت کو شوٹ کردوں گا ،لیکن تقدیر کا لکھا پورا ہو کر رہا تھا اور اس کی زندگی کے آسمان پراندھیرا پھیل چکا تھا اور پھر ابھی اس کی بے خودی کا عا لم ٹوٹا نہیں تھاکہ شامیل نے کمرے میں اپنے داخل ہونے کی آہٹ کی اور وہ اپنے حواسو ں کی دنیا میں لوٹ آئ شامیل نے اندر آ کے کمرے کے دروازے کو لاک نہیں کیا بس بند کر دیا اورپہلے وہ کمرے میں ہی اپنی پشت پر دونو ں ہاتھ باندھے ٹہلتا رہا پھر اس نےکاٹ دار لہجے میں کہاہاں! کیا ہوا تمھارے اس عاشق کا جو مجنوں بنا تمھارے پیچھے پھرتا تھا ،اور شامیل کی آواز کہیں بہت دورسے اس کے کانوں میں آ ئ اور پھر طنز کےزہر میں ڈوبا ہواایک اور نشتر اس کی جانب پھینکا ,,یہ بھی خوب رہی جب ساری رنگ رلیاں منا لیں تو دوسرا شکار تلاش کر لیااب یہ نہیں معلوم کہ اس کا دل تم سے بھر گیا یا تمھارا دل اس سے بھر گیابہر خوب ، میرے ساتھ جو تم نے یہ کھیل کھیلا ہے اس کا حساب تو میں تم سےلے کے رہوں گا اور میرے گھر کی چھت صرف بابا جانی کی زندگی تک تمھارے لئےہے,اور پھر اس نے آگے بڑھ کر الماری سے اپنا نائٹ سوٹ نکالا ،اور پھر ہاتھ میں بغیر لفافے کے کچھ تصاویر اس کی جانب اچھال کر بولا آج کی رات دلہنوں کو منہ دکھائ بھی تو دی جاتی ہے ناں! یہ تمھاری آج کی رات کی منہ دکھائ ہےاور پھر وہ کپڑے تبدیل کرنے چلا گیا ،نگین نے اس کی پھینکی ہوئ تصاویرگھونگھٹ کے اندر سے چپکے چپکے دیکھیں 

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

پلہ مچھلی مچھلیوں کی ملکہ

    پلہ مچھلی کوسندھ میں مچھلیوں کا ” بادشاہ” بھی کہا جاتا ہے۔ پلہ مچھلی ایک بزرگ خواجہ خضر سندھ میں لائے تھے۔ بادشاہ محمد تغلق کو پلہ مچھلی...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر