آج مورخہ 25 فروری 2026 ء روزنامہ نواءے وقت میں ہمارے وطن کے محترم صحافی مطلوب وڑائچ رقمطراز ہیں کہ غریب لوگوں سے ان کی چھتیں چھین لی گئیں۔ کسی کے پاس ایک مرلے کا گھر تھا، کسی کے پاس دو مرلوں کی کچی پکی چھت — وہ بھی مٹی میں ملا دی گئی۔ میترانوالی کو یوں اجاڑا گیا جیسے کسی بستی پر جنگ اتر آئی ہو۔ کرینوں اور بلڈوزروں کی گھن گرج میں غریبوں کے گھر، دکانیں اور تھڑے زمین بوس کر دیے گئے۔ منظر ایسا تھا کہ دل بے اختیار کہہ اٹھا: یہ گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے۔ایک ایرانی کہاوت ہے ۔ ماں نے بیٹے سے پوچھا: ‘‘مجھے کیسے پتا چلے گا کہ تم جہاز اڑا رہے ہو؟’’ بیٹے نے ہنستے ہوئے کہا: ‘‘ماں! جب میں گھر کے اوپر سے گزروں گا تو ایک بم گرا دوں گا، آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ کا بیٹا گزرا ہے۔’’ آج اپنے ہی شہر پر جو گزر رہی ہے، وہ اسی مثال کی تلخ بازگشت محسوس ہوتی ہے۔میں یہ سطور کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں لکھ رہا۔ اس دھرتی کا قرض مجھ پر ہے — اس مٹی کا جس نے مجھے جنم دیا، پروان چڑھایا، پہچان دی۔ انٹرنیشنل سیاست کے ایوانوں تک پہنچنے کے بعد بہت سے لوگ اپنی جڑیں بھول جاتے ہیں،مگر میں اس مٹی کی خوشبو کو کیسے فراموش کر دوں؟ نہ مجھے کسی وضاحت کی ضرورت ہے، نہ کسی مقابلے کی۔ اللہ نے علم، فہم اور ادراک سے نوازا ہے، اور دنیا اس کا اعتراف بھی کرتی ہے۔آج میترانوالی کی غریب مائی، بیوہ عورتیں اور محنت کش خاندان اپنے اجڑے گھروں کے سامنے کھڑے ہیں
۔ میں اپنے گاؤں—نہیں، اپنے قصبے—میترانوالی کی بات کر رہا ہوں۔ میں نے اسے کبھی گاؤں نہیں کہا؛ یہ سیالکوٹ کے نمایاں قصبوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ پڑھے لکھے لوگوں کی دھرتی ہے، باوقار انسانوں کی بستی ہے۔ میں یہیں پیدا ہوا، یہیں تعلیم پائی، یہیں سیاست کا آغاز کیا، یہی میری طلبہ سیاست کی درسگاہ تھی۔مجھے یاد ہے 2011 ء یا 2012ء میں، جب میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے ان 26 اراکین میں شامل تھا جنہیں بے نظیر بھٹو نے منتخب کیا تھا، میں نے میترانوالی کے لیے سوئی گیس کا منصوبہ منظور کروایا۔ اْس وقت کے چیئرمین میاں مصباح الرحمن سے 6 کروڑ 30 لاکھ روپے کا منصوبہ منظور ہوا۔ کچھ منتخب نمائندوں نے اسمبلی میں شور مچایا کہ’’غیر منتخب افراد کے کہنے پر کام ہو رہے ہیں، کل ہمیں ووٹ کون دے گا؟‘‘میترنوالی کے ایک طرف سے لیکر دوسری طرف تک دو کلومیٹر سے بھی زیادہ عوام کا رش تھا اور شیخوں کے دائرے میں عوام کا ایک بہت بڑا جم غفیر جلسے کی صورت میں تھا۔ پھر وہی کہاوت سچ ثابت ہوئی — گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے۔میترانوالی صرف اینٹوں اور گلیوں کا نام نہیں، یہ ایک شعور ہے۔ یہاں ’’احساس‘‘ ویلفیئر سوسائٹی نے صفائی اور سیوریج کا نظام سنبھالا، جو دراصل حکومت کا کام تھا۔ اعجاز چیمہ اور امتیاز چیمہ کی ذاتی دلچسپی سے گلیوں اور سڑکوں کی حالت سنوری، پانی کے مسائل حل ہوئے اور ایک مخیر شخص نے میترنوالی کو پہلا صاف پانی کا پلانٹ گفٹ کیا۔ سید ریاض الحسن گیلانی، سابق ایڈووکیٹ جنرل وفاقی شرعی عدالت، نے رنگ روڈ جیسے منصوبے مکمل کرائے۔
بریگیڈیئر حامد سعید نے ترقیاتی کاموں کے دروازے کھولے اور میترانوالی کے بے شمار ترقیاتی کام مکمل کیے۔وہ مشرف دور میں بلدیات کے وزیر تھے مگر افسوس، ان کے ناموں کے بورڈ بھی کچھ لوگوں کو کھٹکنے لگے۔احساس ویلفیئر نے واٹر پلانٹ لگایا، پندرہ برس تک پورے قصبے کو صاف پانی فراہم کیا۔ بیس ہزار سے زائد آبادی کا نظام چند مخلص لوگوں نے اپنے ذاتی وسائل سے چلایا۔مگر جب سازشوں اور دھڑے بندیوں نے سر اٹھایا تو وہ ہاتھ کھینچ لیے گئے جو خدمت کے لیے اٹھے تھے۔ آج گھروں میں فریج اور ٹی وی تو ہیں، مگر گلیوں میں صفائی نہیں، سیوریج بیٹھ چکی ہے۔میترانوالی وہ دھرتی ہے جس نے کبھی چودھراہٹ اور بدمعاشی کو قبول نہیں کیا۔ یہاں پیدا ہونے والا ہر شخص اپنے وقار میں ’’چوہدری‘‘ ہے؛ کوئی کسی پر برتری کا تاج نہیں رکھتا۔ اس دھرتی نے خون خرابہ بھی دیکھا، اختلاف بھی، مگر آخرکار سبق یہی ملا کہ عزت خدمت میں ہے، نہ کہ دکھاوے میں۔جو سکون جھک کر خدمت کرنے میں ہے، وہ دولت کے انبار میں نہیں۔ کل کچھ نہ تھا، آج اللہ کے کرم سے بہت کچھ ہے، مگر اصل دولت دلوں کا اعتماد ہے۔ اور گھر کی چھت چھیننے والوں نے اپنا بھرم بھی ہمیشہ کے لئے چھین لیا ہے رمضان کے مقدس مہینے میں بے گھر لوگ حیران کھڑے ہیں کہاں جائیں
آئیے حسد نہیں، خدمت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا مقابلہ کریں۔ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے بجائے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں۔ یہی اس دھرتی کا قرض بھی ہے اور اس کا تقاضا بھی۔میری دھرتی، میرا قصبہ، میرا دکھ۔آج میترانوالی کی غریب مائیں، عورتیں—جن میں بیوہ خواتین بھی شامل ہیں—اپنے اجڑے گھروں کے سامنے کھڑی ہیں۔ ان کے گھر، دکانیں، تھڑے سب مٹا دیے گئے۔ میں اپنے گاؤں نہیں، اپنے قصبے میترانوالی کی بات کر رہا ہوں—سجناں دا شہر، سجناں دی دھرتی۔ اسی مٹی سے ہمارا تعلق ہے، اسی سے ہم پہچانے جاتے ہیں۔ میترانوالی کے معنی ہیں سجنوں کی دھرتی اورمیں اسی دھرتی کا باسی ہوں، یہیں تعلیم پائی، یہیں سیاست کا آغاز کیا، طلبہ سیاست بھی یہیں سے کی اور نام بھی یہیں سے کمایا۔آج اس دھرتی پر جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر دل کڑھتا ہے۔ میترانوالی کے ایک ٹک ٹاکر نے خدمت کے جذبے کے تحت میترانوالی کے مسائل کو سوشل میڈیا پر اجاگر کرنے کی کوشش کی اور حکومت نے اس کا نوٹس بھی لیا مگر ہمیشہ کی طرح میترانوالی کو پھر بدخواہوں کی نظر لگ گئی۔اور غریبوں نے چھپڑوں اور سرکاری املاک پر جو غیرقانونی گھر اور سر چھپانے کے لیے جھونپڑے بنا رکھے تھے وہ قانون اور کرینوں کی زد میں آ گئے۔اور اس طرح ہنستا مسکراتا میترانوالی غزہ کی مانند نظر آنے لگااور سوشل میڈیا کے توسط سے جو رحمت برسنے لگی تھی وہ زحمت میں تبدیل ہو گئی۔