ہندوستان کی زمین اپنی تاریخ، تہذیب، روحانیت اور علمی ورثے کے اعتبار سے ایک نہایت بابرکت سرزمین ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں صدیوں سے مختلف قومیں، زبانیں اور ثقافتیں ساتھ ساتھ پروان چڑھتی رہی ہیں۔ اس سرزمین نے نہ صرف بڑے بڑے دانشور، شاعر، عالم اور رہنما پیدا کیے بلکہ ایسے اولیاء و صلحاء بھی عطا کیے جنہوں نے اپنے اخلاق، محبت اور خدمت کے ذریعے دلوں کو جیت لیا۔ہندوستان کی برکت کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ یہاں دین و علم کی روشنی ہمیشہ قائم رہی۔ مدارس، خانقاہیں، مساجد اور علمی مراکز نے عوام کی دینی و اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ اس سرزمین پر آنے والے بزرگوں نے لوگوں کو محبت، امن، صبر، برداشت اور بھائی چارے کا درس دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی فضا میں روحانیت، رواداری اور اخلاق کی ایک خاص خوشبو محسوس ہوتی ہے۔یہ سرزمین قدرتی نعمتوں سے بھی مالا مال ہے۔ یہاں کی زرخیز زمینیں، بہتے ہوئے دریا، بلند پہاڑ، سرسبز میدان اور متنوع موسم اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ زراعت، تجارت، صنعت اور ہنر کے میدان میں بھی ہندوستان کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ یہاں کے لوگ محنتی، باصلاحیت اور تہذیب یافتہ ہیں، جو اس سرزمین کی مزید برکت کا سبب بنتے ہیں۔ یہاں کے صوفیاء اور اولیاء نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ اصل عظمت انسانیت کی خدمت، سچائی، عاجزی اور اخلاص میں ہے۔مختصراً، ہندوستان کی زمین واقعی بابرکت ہے کیونکہ یہ علم، روحانیت، محبت، ثقافت اور قدرتی حسن کا حسین امتزاج ہے اللہ کے ان درویشوں میں ایک مشہور ہندو شاعر دِلو رام ` کوثری گزرے ہیں
جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں بے شمار اشعار کہے. ان کا قلمی نام *کوثری* تھا.دراصل یہ باطنی احساس اور یہ نفسیاتی و جذباتی ہم آہنگی کا ایک گہرا اثر تھا *ہندو پس منظر۔*وہ کہتے ہیں عشقِ محمد میں نہیں شرطِ مسلماں ہونا ۔ہے کوثری ہندو بھی طلبگارِ محمد (ص)*آپ کی شاعری مسلمانوں اور ہندووں میں یکساں مقبول تھی۔جب ان کے دل میں عشقِ نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت اور عقیدت کا چراغ پوری آب و تاب سے چمکا تو انہوں نے محبوبِ کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت میں کثرت سے نعت کہنا شروع کردی۔ہندوؤں نے ان پر شدید اعتراض کیا اور کہا "کہ تم ہندو ہو کر مسلمانوں کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعریف میں اشعار کہتے ہوں تم کیسے ہندو ہو۔ ہندوؤں نے سختی سے کہا کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ تم نے ہندوؤں کا نام شرمندہ کیا ہے"۔دِلورام کوثری نے جواب دیا، "مجھے میرے پیار سے دور نہ کرو!" د لو رام نے اپنی نعت خوانی سے دنیا پر ثابت کر دیا کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) سے محبت کرنے کی کوئی شرط نہیں ہے! کوثری ہندو ہو کر بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا طلبگار ہے۔بسترِ مرگ پر معجزہ۔*دِلورام بہت بیمار ہو کر بستر مرگ پر پہنچ گئے۔ اخبارات اور رسائل کے ذریعہ بھارت بھر میں ان کی خراب صحت کی خبر پھیل گئی۔ 28 دسمبر 1931 کی وہ سرد صبح بھی آن پہنچی۔
جب یہ دیوانہ عاشقِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شدید تکلیف و بیماری کی حالت میں تھے۔ نزع کے وقت ان سے محبت و عقیدت رکھنے والوں نے انہیں گھیرا ہوا تھا اور لوگوں کی کثیر تعداد ان کے گرد جمع تھی۔ لیکن وہ مسلسل دروازے کی طرف دیکھے جارہے تھے جیسے کسی کا نتظار کررہے ہوں۔ تھوڑی دیر کے بعد، وہ اپنے ہاتھوں پر وزن ڈال کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگے اور اپنے پاس موجود افراد سے کہا کہ انہیں اٹھایا جائے لوگوں نے انہیں سہارا دیا تو وہ اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ لوگ حیرت و پریشانی سے یہ سب ماجرا دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے دِلورام سے پوچھا، "کیا معاملہ ہے؟" دِلورام آبدیدہ ہو گئے اور روتے ہوئے کہنے لگے۔ "میں نے ساری عمر جس کی تعریف کی ہے وہ آ گئے ہیں!"حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کے مبارک والد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہاں ہیں! حالانکہ میں نے ان کے مذہب کو بھی قبول نہیں کیا۔ یہ میرے محبوب کیسے کمال ہیں جو میری تکلیف میں پہنچ گئے ہیں۔"دِلورام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روتے ہوئے گفتگو شروع کردی۔ اور ساری دنیا سے بے نیاز ہوگئے۔ محبوبِ کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، "دِلورام تمہارا وقت تقریبا آن پہنچا ہے۔ عزرائیل یہاں موجود ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ جو شخص مجھے پسند کرتا ہے وہ جہنم میں جائے۔ میں اسے اپنے ساتھ جنت میں لیکے جانا چاہتا ہوں۔"
دِلورام نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ان الفاظ کو دھرایا اور بآوازِِ بلند کلمۂِ شہادت کی تلاوت کی۔ پھر کہنے لگے "اے میرے آقا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! آپ نے مجھے کلمہ سکھایا ہے اب آپ ہی مجھے آپنی پسند کا ایک مسلم نام بھی عطا فرما دیں۔ میں محسوس کر سکتا ہوں کہ موت کا فرشتہ تقریبا مجھ پر حاوی ہو رہا ہے"۔دِلورام نے کہا کہ حضور اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں *کوثر علی کوثری* کا نام عنایت فرمایا ہے۔بس یہ کہنا تھا تو جو چند لمحے پہلے *دِلورام* تھا *کوثر علی کوثری* بن گیا اور ان کی روح پرواز کر گئی۔انہیں لاہور میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔بے شک عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انسان کو ڈوبنے نہیں دیتا۔ذیل میں آپ کے چند اشعار درج ہیں اس دعا کے ساتھ کہ رب العالمین عاشقِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوثر علی کوثری (المعروف چوہدری دِلورام کوثری) کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے ان کے اشعار ان کے لیے صدقۂِ جاریہ بنیں اور اس میں سے ہمیں بھی کچھ حصہ عطا ہو۔
آمین یا رب العالمین
کچھ عشقِ محمد ﷺمیں نہیں شرطِ مسلماں۔
ہے کوثری ہندو بھی طلب گارِ محمد ﷺ۔
اللہ رے، کیا رونقِ بازارِ محمد ﷺ۔
کہ معبودِ جہاں بھی ہے خریدار محمد ﷺ۔
رحمت العالمین ؐ کے حشر میں معانی کھلے۔
خلق ساری شافعِ روزِ جزا کے ساتھ ہے۔
لیکے دلوُ رام کو جنت میں جب حضرت گئے۔
معلوم ہوا کہ ہندو بھی محبوبِؐ خدا کے ساتھ ہے۔
ہندو سمجھ کے مجھ کو جہنم نے دی صدا۔
جب پاس میں گیا تو نہ مجھ کو جلا سکا۔
بولا کہ تجھ پہ کیوں میری آتش ہوئی حرام۔
کیا وجہ تجھ پہ شعلہ جو قابو نہ پا سکا۔
کیا نام ہے تو کون ہے مذہب تیرا ہے کیا۔
حیران ہوں میں عذاب جو تجھ تک نہ جا سکا۔
میں نے کہا کہ جائے تعجب ذرا نہیں۔
واقف نہیں تو میرے دلِ حق شناس کا۔
ہندو سہی مگر ہوں ثنا خوان مصطفیٰ۔
اس واسطے نہ شعلہ تیرا مجھ تک آسکا۔
ہے نام دِلو رام تخلص ہے کوثری.
اب کیا کہوں بتا دیا جو کچھ بتا سکا.