پیر، 20 جولائی، 2026

ٹار نیڈو سے دنیا میں تباہی

 18 جولائ 2026ءہفتہ کا دن 'میں سو کر اٹھی اور حسب معمول  سیل فون پر نظر ڈالی کہ اگر بچوں کی خیر خبر لے لوں لیکن سیل فون کی اسکرین تھنڈر سٹارم اور ساتھ ہی  ٹانیڈو الرٹ کی ہدایا ت انٹاریو گورنمنٹ کی جانب سے آ ئ ہوئ تھیں -کینیڈا میں یہ موسم عام ہے لیکن   انٹاریو میں  پہلی مرتبہ  ٹارنیڈو الرٹ تھا -ٹارنیڈو کسی بھی طوفان ہے بادو باراں کا سب سے خطرناک مظہر ہوتا ہے جس میں تیزی سے گھومتی ہوئی ہوا زمین کے سطح پر موجود ہر چیز کو توڑ پھوڑ دیتی ہے اور اٹھا کر دور پھینک دیتی ہیں۔ امریکہ کے وسطی علاقوں میں خاص طور پر ٹارنیڈو کا بننا عام ہے اور اس علاقے کو ٹارنیڈو کا راستہ یا tornado Alley کہا جاتا ہے۔ جہاں اکثر لوگ ایسے طوفانوں میں اپنے گھروں میں پناہ لیتے ہیں وہیں کئی لوگ ویڈیو کیمرہ لے کر ٹارنیڈو کا ویڈیو بنانے کی کوشش میں ان کا پیچھا کرتے ہیں۔ انہیں Storm chasers کہا جاتا ہے اور ان کے بنائے گئے ویڈیوز عوام میں بہت مقبول ہوتے ہیں۔ اس ویڈیو میں بھی ایک ایسا ہی Storm chaser گروپ اس ٹارنیڈو کی ویڈیو بنا رہا ہے جس میں ٹارنیڈو کے بننے اور پھر زمین تک پہنچنے کا پراسیس صاف دیکھا جا سکتا ہے-                 شمالی امریکہ (امریکہ اور کینیڈا) دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں سب سے زیادہ ٹرنیڈوز آتے ہیں۔ یہاں سینکڑوں خوفناک اور حیران کن کہانیاں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں، جو کہ قدرت کی تباہ کاریوں اور لوگوں کی بقا کی کہانیاں بیان کرتی ہیں


۔شمالی امریکہ کے ٹرنیڈوز کی چند مشہور ترین اور سچی کہانیاں درج ذیل ہیں:1. ریجینا ٹورنیڈو، سسکچیوان (1912)کہانی: کینیڈا کی تاریخ کا سب سے مہلک ٹورنیڈو 30 جون 1912 کو ریجینا شہر سے ٹکرایا تھا۔ اس طوفان نے محض چند منٹوں میں 28 افراد کی جان لے لی اور ہزاروں افراد کو بے گھر کر دیا۔ اس کی تباہ کاریوں کے اثرات آج بھی Storm of the Century جیسی دستاویزی کہانیوں میں پڑھے جا سکتے ہیں۔2. ٹرائی اسٹیٹ ٹورنیڈو (1925)کہانی: یہ امریکہ کی تاریخ کا سب سے زیادہ تباہ کن اور ہلاکت خیز ٹرنیڈو مانا جاتا ہے جس نے 18 مارچ 1925 کو مسوری، الینوائے اور انڈیانا کے علاقوں کو تباہ کیا۔ اس نے ساڑھے 3 گھنٹے تک زمین پر خوفناک رقص کیا اور 695 افراد ہلاک ہوئے۔3. بیری (Barrie) اور ہورون-ایلڈری (Huron-Kinloss) ٹورنیڈوز (آونتاریو، کینیڈا)کہانی: 31 مئی 1985 کو آنٹاریو میں ایک ساتھ متعدد ٹورنیڈوز آئے جنہیں "Black Friday" کہا جاتا ہے۔ ان طوفان نے بیری شہر میں شدید تباہی مچائی، درجنوں جانیں گئیں اور $375 ملین سے زائد کا نقصان ہوا۔ مزید تفصیلات Canada Tornado Archive پر دیکھی جا سکتی ہیں۔4.             جِپلن ٹورنیڈو، مسوری (2011)کہانی: جدید تاریخ کے بدترین اور انتہائی تباہ کن ٹرنیڈوز میں سے ایک، جس نے مئی 2011 میں جپلن کے علاقے کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ اس میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے لیکن اس تباہی سے جڑے معجزات بھی سامنے آئے جہاں لوگوں نے کھائیوں، غسل خانوں اور تہہ خانوں میں چھپ کر جانیں بچائیں۔5


. حیران کن بقا کی کہانیاںامریکہ اور کینیڈا کے مختلف علاقوں (خاص طور پر "Tornado Alley" اور "Dixie Alley") سے طوفان کی عجیب و غریب کہانیاں بھی منسلک ہیں۔ ایسی ہی ایک کہانی میں ایک ماں کی دوسری منزل اڑ گئی لیکن اس کے بچے محفوظ مل گئے۔ شدید ٹورنیڈو میں ہوا سے اڑ کر دور جا گرنے اور پھر صحیح سلامت بچ جانے کے واقعات عام ہیں۔ مزید کہانیاں جاننے کے لیے Weather.gov Safety کے سروائیور پیجز کو وزٹ کریں۔کیا آپ ٹورنیڈو کی تاریخی معلومات، حالیہ سیزن کی اپڈیٹس، یا کسی مخصوص علاقے (جیسے کینیڈا یا امریکہ) میں ہونے والے طوفانوں کی  طوفانی بگولا Tornadoسیاہ سرمئی آسمان دیواروں کی طرح کے بادل گرج چمک اور بادلوں سے لٹکتے ہوئے قیف نما گھومتے بادل ذرائع ابلاغ کے ذریعے دیکھے ہوں گے یہ گھومتے بادل سطح زمین تک پہنچ جاتے ہیں تباہی و بربادی کی داستان رقم کرتے گزرتے ہیں بھاری اشیاء کی حیثیت محض تنکوں کی سی ہوتی ہے ہوا اڑاتی پھرتی ہو-گھومتے ہوئے قیف نما بادلوں کا ستون جو بادلوں سے سطح زمین تک پہنچا ہوا ہو انتہائی تیز رفتاری سے گھومتے اس بادلوں سے اترے قیف نما ستون کو طوفانی بگولا یا ٹورنیڈو Tornado 🌪 کہتے ہیںامریکہ میں طوفانی بگولے بننا معمول کی بات ہے لیکن ہمارے ہاں معمول سے ہٹ کر بنتے ہیں ٹارنیڈو کی شدت ناپنے کے سکیل کو فوجیتا سکیل Fujita scale اور اینہانسڈ فوجیتا سکیل enhanced Fujita scale کہتے ہیں جن کو 0 سے 5 درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے F0 یا EF0 سے F5 یا EF 5 تک شدت کے اظہار کے لئے ایک پیمانہ بنایا گیا ہےطوفانی بگولے عموماً کیومولونمبس بادلوں میں بنتے ہیں اور بھاری ژالہ کا باعث بھی ہوتے ہیں 


ٹارنیڈو تشکیل کے بعد اپنا راستہ منتخب کرتا ہے اور راستے میں آنے والی ہر چیز کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا ہے ان کی زندگی چند منٹ سے کئی گھنٹوں تک ہو سکتی ہےٹارنیڈو کی تشکیل اس وقت ممکن ہوتی ہے جب گرم نم آلود ہوائیں سرد خشک ہواؤں سے ٹکراتی ہیں سرد بھاری ہوا گرم ہوا کو اوپر اٹھا لیتی ہے تھنڈر سٹارم کی تشکیل ہوتی ہے اگر حالات سازگار رہیں تو طوفانی بگولا تشکیل پاتا ہےطوفانی بگولے کے اندر ہواؤں کی رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ سے 480 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہو سکتی ہےاتنی رفتار کا تصور بھی بھیانک ہے ٹارنیڈو کا جو حصہ زمین کے ساتھ لگا ہوتا ہے اس کا قطر 50 میٹر سے 3 کلومیٹر تک ہو سکتا ہے تشکیل کے بعد ٹارنیڈو چند میٹر سے درجنوں کلومیٹر تک کا سفر کر سکتے ہیں تاریخ میں سب سے لمبا سفر 18 مارچ 1925 کو بننے والے ٹارنیڈو نے کیا جو تین ریاستوں میں EF5 شدت کے ساتھ ساڑھے تین گھنٹوں میں 352 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر گیادنیا میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز ٹارنیڈو بنگلہ دیش کے نام ہے 26 اپریل 1989 کو مانک گنج ضلع میں آنے والا طوفانی بگولا 1300 افراد کی جانیں لے گیا

 

ہفتہ، 18 جولائی، 2026

دنیا کا تعمیراتی عجوبہ "دیوار چین"

 

دیوار چین کیوں تعمیر کی گئی ؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنے کی جستجو میں ان گنت تحقیقات ہوئی ہیں اور سب میں متعدد باتیں مشترک بھی پائی گئیں ان میں ایک یہ ہے کہ یہ دیوار دفاعی دفاعی نقطہ نگاہ سے تعمیر ہونا شروع ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ دیوار چین کی تعمیر یسوع مسیح کی پیدائش سے تقریبا دوسو سال پہلے شروع ہوئی تھی، (اس بارے میں تاریخ میں مختلف ادوار کا ذکر ملتا ہے)۔ ان دنوں چین کے بڑے دشمنوں میں منگول تاتار تھے  یہ چور ڈاکو اور جنگجو قسم کے لوگ تھے اور آئے دن چین پر حملہ آور ہوتے رہتے تھے۔ انہی حملوں سے بچاؤ کے لئے ایک حفاظتی اور دفاعی دیوار پندرہ سو کلومیٹر  تعمیر کی گئی -یسوع مسیح کی پیدائش سے تقریباً دو سو سال پہلے چین کے بادشاہ چن شی ہوانگ نے اپنے ملک کو دشمنوں کے حملوں سے محفوظ کرنے کے لیے شمالی سرحد پر ایک دیوار بنانے کی خواہش کی۔ اس دیوار کی ابتدا چین اور منچوکو کی سرحد کے پاس سے کی گئی۔ اس زمانے میں ہن اور تاتار چین کے بڑے دشمن تھے، جو وسط ایشیاء میں کافی طاقتور سمجھے جاتے تھے۔ یہ دیوار خلیج لیاؤتنگ سے منگولیا اور تبت کے سرحدی علاقے تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً تیرہ ہزار ایک سو ستر میل ہے اور یہ مختلف علاقوں میں بیس سے لے کر تیس فٹ تک اونچی ہے۔ بنیاد کے قریب اس کی چوڑائی پچیس فٹ اور اوپر سے بارہ فٹ کے قریب ہے۔ ہر دو سو گز کے فاصلے پر حفاظتی پہریداروں کے لیے مضبوط پناہ گاہیں بنی ہوئی ہیں۔


 مہینوں کا سفر اب محض گھنٹوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، دنیا کے کونے میں کہیں بھی ایک معمولی واقعہ ہو جائے تو اس کی خبر دنیا کے ان کناروں تک پہنچ جاتی ہے جہاں تک انسان رہتا ہے۔ اور تو اور اب دنیا کے کسی بھی چھوٹے سے کمرہ میں مقید ہوں تو ہزاروں میل دور بیٹھے اپنے عزیزو اقارب کے ساتھ ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے براہ راست گفتگو کرسکتے ہیں، کوسوں دور ہونے کے باوجود غمی، خوشی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ سائنس ہی کی بدولت ممکن ہوا ہے جو انسان ہی کا کارنامہ ہے لیکن آج کا انسان یہ بھول جاتا ہے کہ جب سائنس نہیں تھی، بجلی نہیں تھی، مشینیں نہیں تھیں اور آمدو رفعت کے ذرائع نہیں تھے بلکہ جانوروں کے ساتھ سفر کیا جاتا تھا، اس زمانے میں انسانوں نے اپنے ہاتھوں سے ایسی ایسی عمارتیں، بت، دیواریں اور نہ جانے کیاکچھ تعمیر کر چھوڑا جس کی نقل آج کے سائنسی دور میں بھی ممکن نہیں ہے اور وہ سب دنیا کی عظیم تعمیراتی عجائبات میں شامل ہوئیں، ایسے انسانوں کےبارے میں کیا سوچا جا سکتا ہے؟۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عظیم انسان کون ہے ؟ اگر آج کا انسان عظیم ہے تو پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ زمانہ قدیم کا انسان عظیم تر تھا اور ہے۔ انسانی ہاتھوں کی یہ تعمیرات اور تاریخ چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ زمانہ قدیم کے انسانوں نے ناممکن کو ممکن میں بدل ڈالا تھا۔ آج کی جس سائنس پر فخر کیا جاتا ہے


کیا وہ سائنس آج تاج محل، اہرام مصر، زیوس کا مجسمہ، اسکندریہ کا روشن مینار وغیرہ تعمیر کرسکتی ہے؟ تعمیر تو دور کی بات رہی، آج کی سائنس ان کی نقل کرنے میں بھی ناکام رہے گی۔   لیکن حقیقی عجائبات وہی ہیں جو ہزاروں سال قبل انسانی ہاتھوں سےتعمیر ہوئی تھیں۔ زمانہ قدیم کے انسانوں کے ہاتھوں تعمیراتی عجوبوں میں عظیم ایک دیوار چین The greatwall of China بھی ہے۔ اس کے متعلق ہو شربا قسم کے قصے، افسانے اور کہانیاں اقوام عالم کی زبانوں میں لکھے موجود ہیں، دیوار چین کی عظمت کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس بارے میں عالمی سطح پر یہ یقین کر لیا گیا تھاکہ اس کو چاند کی سطح سے بھی ایک لکیر کی مانند دیکھا گیا ہے،حالانکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جو لوگ چین جا کر دیوار چین دیکھنے کی سکت نہیں رکھتے وہ گوگل کے ذریعے دیوارچین کو دیکھ کر حیرت کے سمندر میں ڈوبکی لگا سکتے ہیں ،سانپ کی مانند بل کھاتی   چین کی یہ قدیم اور عظیم دیوار چین آج دنیا کے لئے سب سے بڑا نظارے کی حیثیت رکھتی ہے۔


یہ عظیم دیوار چین کے شمال میں واقع ہے جو حقیقت میں ایک قلعہ نما دیوار ہے جو پہاڑوں ، میدانوں ، سبزہ زاروں اور صحرائے گوپی سے بل کھاتی ہوئی گزرتی ہے۔ یہ صدیوں میں بننے والی مختلف دفاعی دیواروں کا مجموعہ ہے جس کی تعمیر کی ابتداء کئی سو سال پہلی قبل از مسیح (ق م) ہوئی تھی اور تکمیل 1644عیسوی میں ہوئی تھی ۔ تاریخ کے مطابق چین کے پندرہ سے زائد شاہی خاندانوں کے سینکڑوں برس کے ادوار میں بھی عظیم دیوار چین کی تعمیر ہوتی رہی تھی ۔ تاریخ دانوں نے اس کی تعمیر کی مدت1700 سے2000 سال بتائی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ چین کے 15 صوبوں میں سے ہو کر گزرتی ہے ۔ یونیسکو نے 1987 میں اس کو عالمی ورثہ قرار دیا تھا ۔  

جمعہ، 17 جولائی، 2026

سبیل حسین ع (پیاسوں کی داستاں سناتا ہوا پانی)

  

 اسلامی معاشروں میں پانی پلانا نہایت بڑی نیکی سمجھا جاتا تھا۔ اسی بنا پر بہت سے مسلمان صدقۂ جاریہ کے طور پر سبیل قائم کرتے تھے۔ اس کی بنیاد اس مشہور حدیث پر بھی رکھی جاتی ہے جس میں حضرت سعد بن عبادہ نے نبی کریم سے پوچھا کہ ان کی والدہ کے انتقال کے بعد ان کی طرف سے کون سی صدقہ افضل ہے، تو جواب میں فرمایا گیا: “پانی پلانا”۔   چنانچہ سعد بن عبادہ نے مدینہ میں ایک سبیل قائم کی جسے سقایۃ سعد کہا جاتا تھا۔ابتدا میں سبیلیں اکثر مساجد، مدارس یا خانقاہوں کے ساتھ تعمیر کی جاتی تھیں، مگر بعد کے زمانوں میں یہ آزاد عمارتوں کی شکل میں بھی بننے لگیں۔ بعض مقامات پر سبیل کے ساتھ قرآن کی تعلیم کے لیے مکتب یا کمرہ بھی بنایا جاتا تھا۔ سبیل (جمع: اسبلہ، سُبُل)ادراصل ایک ایسا وقفی انتظام ہوتا تھا جس کے ذریعے مسافروں اور راہ گیروں کو مفت پانی پلایا جاتا تھا تاکہ اس عمل سے ثواب حاصل کیا جائے۔سبیل کا مفہوملغت میں اسبلہ، لفظ سبیل کی جمع ہے۔ اصطلاح میں اس سے مراد ایسا عوامی مقام ہے جہاں پانی اس نیت سے فراہم کیا جائے کہ مسافر اور راہ گیر وہاں سے پانی پی سکیں۔ یہ عمل اسلامی معاشرے میں صدقہ اور خیرات کی ایک اہم صورت سمجھا جاتا تھا۔قرونِ وسطیٰ میں سبیلیںقرونِ وسطیٰ کے اسلامی شہروں میں سبیلوں کی تعمیر ایک عام روایت تھی۔ 


اگرچہ پانی کے چشمے یا فوارے قدیم زمانوں سے مختلف تہذیبوں میں موجود تھے، لیکن مسلمانوں نے انھیں وقف اور رفاہی خدمت کی صورت میں خاص اہمیت دی۔ امرا، سلاطین اور صاحبِ ثروت لوگ آپس میں نیکی کے جذبے سے سبیلیں بنانے میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اسی وجہ سے اسلامی شہروں کی گلیوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر سبیلیں قائم کی جاتی تھیں تاکہ عام لوگوں کو پینے کا پانی آسانی سے دستیاب ہو سکے۔ان تعمیرات کی سماجی اہمیت بھی بہت زیادہ تھی۔ سبیلیں صرف مسافروں ہی کے لیے نہیں بلکہ شہر کے عام باشندوں کے لیے بھی مفید ہوتی تھیں۔ بہت سی سبیلوں کے ساتھ مسافروں کے قیام کے لیے چھوٹے مکانات بھی تعمیر کیے جاتے تھے۔مصر اور دیگر علاقوں میں سبیلیں-مصر میں سبیلوں کی باقاعدہ تعمیر مملوک دور میں زیادہ نمایاں ہوئی اور اس کا آغاز تقریباً چھٹی صدی ہجری / بارہویں صدی عیسوی سے ہوا۔ ان میں سے زیادہ تر سبیلیں سلاطین، امرا اور ان کی خواتین کی طرف سے بنوائی جاتی تھیں۔ بعض لوگ انھیں اپنے گناہوں کے کفارے یا صدقۂ جاریہ کے طور پر تعمیر کرواتے تھے، جبکہ بعض انھیں اپنے مرحوم رشتہ داروں کے نام پر بنواتے تھے۔


۔ پورے برصغیر پاک و ہند میں ماہِ محرم الحرام کی آمد پر 'سبیلوں' (پانی اور دودھ کی سبیل) کا اہتمام ایک انتہائی نمایاں اور تاریخی روایت ہے۔ یہ سلسلہ حضرت امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کی عظیم قربانی کی یاد تازہ کرنے اور پیاسوں کو پانی پلانے کی نیت سے کیا جاتا ہے۔اس خوبصورت اور تاریخی روایت کے چند اہم پہلو یہ ہیں:مقصد اور جذبہ: نواسۂ رسولؐ اور شہدائے کربلا کی پیاس کی یاد میں عزاداروں اور راہگیروں کو ٹھنڈا پانی، دودھ، شربت اور سبیلِ حسینی پیش کی جاتی ہے۔مقام اور وسعت: یہ سبیلیں گلی محلوں، مرکزی شاہراہوں، امام بارگاہوں کے باہر اور جلوسوں کے راستوں پر انتہائی عقیدت کے ساتھ لگائی جاتی ہیں۔مذہبی ہم آہنگی: برصغیر میں یہ روایت صرف ایک خاص مکتبہ فکر تک محدود نہیں ہے، بلکہ مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر کے لوگ گرمی کی شدت میں اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔اکثر سبیلوں کے نیچے ایک بڑا پانی کا ذخیرہ (صہریج) بنایا جاتا تھا جس میں پانی محفوظ رکھا جاتا تھا۔ وہاں سے پانی نکال کر پینے کے لیے فراہم کیا جاتا تھا۔ 


ان سبیلوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ ہر مذہب اور قوم کے لوگ مسلمان، عیسائی، یہودی اور غیر ملکی مسافر—بلا امتیاز وہاں سے پانی پی سکتے تھے۔ اسی وجہ سے یہ ادارے اسلامی معاشروں میں انسانی خدمت اور رفاہ عامہ کی علامت سمجھے جاتے تھےبین المذاہب ہم آہنگی کی سبیلیں (گلگت بلتستان و نگر): گلگت اور وادیِ نگر جیسے علاقوں میں محرم کے دوران مقامی مسیحی برادری اور دیگر مذاہب کے لوگ عزاداروں کے لیے پانی اور چائے کی خصوصی سبیلیں لگاتے ہیں، جو مذہبی رواداری کی ایک بہترین مثال ہیں۔روہڑی اور سکھر کی تاریخی سبیلیں: سندھ کے شہر روہڑی میں نویں محرم کے تاریخی "نوڈھال جلوس" (Karbala Processions) کے موقع پر صدیوں پرانی روایتی سبیلیں قائم ہوتی ہیں جہاں زائرین کی خدمت کی جاتی ہے۔پاکستان میں محرم الحرام کے دوران لگائی جانے والی سبیلیں عقیدت، سخاوت اور لنگر حسینی کی تقسیم کا ایک عظیم الشان مظہر ہیں۔ ملک کے بڑے شہروں خصوصاً کراچی اور لاہور میں ایسی تاریخی اور وسیع سبیلیں لگائی جاتی ہیں جنہیں دنیا بھر میں ان کے حجم اور انفرادیت کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔پاکستان کی چند سب سے مشہور اور منفرد سبیلیں درج ذیل ہیں:1۔ کراچی کی سبیلیں (پاکستان کی سب سے بڑی سبیلیں)انچولی اور نمائش چورنگی کی سبیلیں: نمائش چورنگی (ایم اے جناح روڈ) اور انچولی سوسائٹی کراچی میں مرکزی جلوسوں کے راستے پر واقع ہیں۔ یہاں ملک کی سب سے بڑی سبیلیں قائم کی جاتی ہیں جہاں لاکھوں عزاداروں اور شہریوں کو ٹھنڈا دودھ، بادام و پستہ کا شربت، اور لنگر تقسیم کیا جاتا ہے۔کھارادر اور کھوڑی گارڈن کی سبیلیں: کراچی کے قدیم علاقوں میں کئی دہائیوں پرانی روایتی سبیلیں سجائی جاتی ہیں، جہاں شیرمال اور تافتان بھی خصوصی طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔2۔ لاہور کی تاریخی سبیلیںدربارِ بی بی پاک دامن کی سبیلیں: لاہور میں مزار بی بی پاک دامن کے ارد گرد محرم کے پہلے دس دن انتہائی بڑے پیمانے پر لنگر اور دودھ کی سبیلوں کا انتظام ہوتا ہے جہاں ہر مکتبہ فکر کے لوگ آتے ہیں۔شادمان کی عظیم الشان سبیل: لاہور کے علاقے شادمان میں محرم الحرام کے دوران ایک بہت بڑی سبیل اور لنگرِ حسینی کا اہتمام کیا جاتا ہے جو اپنے وسیع انتظامات کے لیے مشہور ہے


مکمل مضمون گوگل کا مرہون منت ہے

بدھ، 15 جولائی، 2026

ولی دکنی 'حیدر آبد دکن کے ابتدائ شاعر


 

ولی دکنی  کا شمار  حیدر آبا د کی مردم خیز سر زمین  پر اردو کے ابتدائی شاعروں میں ہوتا ہے۔اگر چہ ان سے پہلے بھی اردو شاعری  میں امیر خسرو دست یاب ہیں لیکن کلام کی خوب صورتی اور دل کشی کے حوالے سے   ولی کواردو کے ابتدائی شعرا میں خاص مقام و مرتبہ حاصل ہے۔انہوں نے اردو میں فارسی تراکیب کو رواج دیا بلکہ اردو غزل کو ایسا رنگ دنے کی سعی کی جو بالاخر اردو غزل کا طرہ امتیاز قرار پایا ۔اگر چہ ان سے پہلے بھی اردو شاعری کے نمونے دست یاب ہیں لیکن کلام کی خوب صورتی اور دل کشی کے حوالے ولی کواردو کے ابتدائی شعرا میں خاص مقام و مرتبہ حاصل ہے۔انہوں نے اردو میں فارسی تراکیب کو رواج دیا  ۔ ولی دکنی کے وطن  کی نسبت متضاد آرا ملتی ہیں۔گجرات والے انہیں بھارت کی ریاست گجرات سے بتاتے ہیں جب کہ حیدرآباد کے تحقیق کار ان کی پیدائش کا سلسلہ دکن سے جوڑتے ہیں۔تا ہم بعض مشہور روایات کے مطابق وہ عبداللہ قطب شاہ کے دور میں 1667کو اورنگ آباد پیدا ہوئے۔اگر چہ ولی دکنی کی عمر کا زیادہ تر حصہ احمد آباد بسر ہوا مگر انہوں نے دہلی کا سفر بھی کیا۔دہلی کے سفر سے پہلے ان کی شاعری کا رنگ ڈھنگ کچھ اور تھا۔وہاں ان کی ملاقات سعد اللہ گلشن   جیسے صوفی سے ہوئی۔سعد اللہ گلشن ان کے کلام سے بے حد متاثر ہوئے۔


انہوں نے ولی کو مشورہ دیا کہ پرانے فارسی کے مضامین کو ریختہ میں لانا چاہیے۔یوں ولی دکنی نے ریختہ گوئی کی ابتدا کی۔ان کی شاعری سے غزل کے نئے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ولی دکنی سے پہلے کے شعرا کہ جن میں قلی قطب شاہ اور امیر خسرو اگر چہ قابل ذکر ہیں ۔مگر ان کی زباں اور ولی کی زبان میں کافی فرق پایا جاتا ہےولی دکنی (اصل نام ولی محمد) اردو کے 'بابائے غزل' ہیں۔ ان کی پیدائش ۱۶۶۷ء میں اورنگ آباد اور وفات ۱۷۰۷ء میں ہوئی- ولی کی شاعری کا دائرہ گجرات، اورنگ آباد اور دہلی تک پھیلا ہوا تھا。 دہلی کے مشہور بزرگ صوفی 'شاہ سعد اللہ گلشن' سے ملاقات کے بعد انہوں نے فارسی مضامین کو اردو (ریختہ) میں ڈھالنا شروع کیا جس سے اردو غزل کو باقاعدہ عروج ملا۔  ولی کے اشعار سے دکنی ہونا ثابت ہے۔ بچپن کی تعلیم اپنے آبائ شہر میں حاصل کرنے   کے بعد حصول علم کے لیے احمد آباد آگئے۔ جو اس زمانے میں علم و فن کا مرکز تھا۔ وہاں حضرت شاہ وجیہ الدین کی خانقاہ کے مدرسے میں داخل ہو گئے۔ لیکن   ولی کی عمر کا بیشتر حصہ احمد آباد میں گذرا۔ اس شہر کے فراق میں انھوں نے ایک پردرد قطعہ بھی لکھا۔ 


 ولی نے گجرات، سورت اور دہلی کا سفر بھی کیا۔ اس کے متعلق اشارے ان کے کلام میں موجود ہیں۔دہلی میں ولی کی سعد اللہ گلشن سے ملاقات ہوئی۔ تو وہ ان کا کلام دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور مشورہ دیا کہ ان تمام مضامین کو جو فارسی میں بیکار پڑے ہیں۔ ریختہ کی زبان میں کام میں لانا چاہیے، تاہم یہ بات متنازع ہے  قائم چاند پوری نے اپنے تذکرے نکاتِ سخن میں لکھا ہے کہ ولی نے سعد کے مشورے پر عمل کیا اور دوسری مرتبہ دہلی گئے تو ان کے کلام کی خوب قدر ہوئی اور یہاں تک شہرت ہوئی کی امراءکی محفلوں میں اور جلسوں اور کوچہ و بازار میں ولی کے اشعار لوگوں کی زبان پر تھے۔ ولی دکنی کو محمد حسین آزاد نے اردو شاعری میں وہی مقام دیا ہے جو انگریزی شاعری میں چاسر اور فارسی شاعری میں رودکی کو حاصل ہےولی کی زباں کافی حد تک دور حاضر کی لسانی ساخت سے ملتی جلتی ہے۔دکن میں ولی سے قبل اردو غزل اس لیے بھی روایت نہ بنا سکی کہ دکن کی ریاستوں پر فارسی کا اثر تھا۔یہی وجہ ہے کہ دکن میں غزل کے ابتدائی ایام میں خارجیت کا رنگ غالب نظر آتا ہے۔انہوں نے اردو کو زبان اور بیان کے نئے سانچوں سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ولی دکنی کی غزل میں وہ تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں جو آنے والے ادوار میں غزل کی خاص پہچان بنیں۔



ولی نے ہندی ۔فارسی اور علاقائی زبانوں کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے اظہار کی نئی راہ نکالی۔ان کے کلام میں مختکف زبانوں کے ایسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو باہم ربط رکھتے ہیں اور ان کے کلام میں بے میل محسوس نہیں ہوتے۔انہوں نے ہندوستانی زبانوں کے ایسے الفاط برتے ہہیں جو عام فہم ہیں اور قاری کو تفہیم میں دقت محسوس نہیں ہوتی ۔یہی وجہ ہے کی صدیاں گزرنے کا باوجود ان کا کلام عام فہم ہے اور ان کے زیادہ تر الفاظ ہماری روز مرہ بول چال کے محسوس ہوتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ولی دکنی اردو زبان اور غزل کا ایسے  معمار تھے جس نے  زبان و ادب  کی ترویج  کے لئے  ایک عالی شان عمارت کی داغ بیل ڈالی۔ 

خوب رو خوب کام کرتے ہیں

یک نگہ میں غلام کرتے ہیں 

وو صنم جب سوں بسا دیدۂ حیران میں آ

آتش عشق پڑی عقل کے سامان میں آ

ناز دیتا نہیں گر رخصت گل گشت چمن

اے چمن‌‌ زار حیا دل کے گلستان میں آ

عیش ہے عیش کہ اس مہ کا خیال روشن

شمع روشن کیا مجھ دل کے شبستاں میں آ

یاد آتا ہے مجھے وو دو گل باغ   وفا

اشک کرتے ہیں مکاں گوشۂ دامان میں آ

موج بے تابیٔ دل اشک میں ہوئی جلوہ نما

جب بسی زلف صنم طبع پریشان میں آ

نالہ و آہ کی تفصیل نہ پوچھو مجھ سوں

دفتر درد بسا عشق کے دیوان میں آ

پنجۂ عشق نے بیتاب کیا جب سوں مجھے

چاک دل تب سوں بسا چاک گریبان میں آ

دیکھ اے اہل نظر سبزۂ خط میں لب لعل

رنگ یاقوت چھپا ہے خط ریحاں میں آ

حسن تھا پردۂ تجرید میں سب سوں آزاد

طالب عشق ہوا صورت انسان میں آ

شیخ یہاں بات تری پیش نہ جاوے ہرگز

عقل کوں چھوڑ کے مت مجلس رندان میں آ

درد منداں کو بجز درد نہیں صید مراد

اے شہ ملک جنوں غم کے بیابان میں آ

حاکم وقت ہے تجھ گھر میں رقیب بد خو

دیو مختار ہوا ملک سلیمان میں آ

چشمۂ آب بقا جگ میں کیا ہے حاصل

یوسف حسن ترے چاہ زنخدان میں آ

جگ کے خوباں کا نمک ہو کے نمک پروردہ

چھپ رہا آ کے ترے لب کے نمک دان میں آ

بس کہ مجھ حال سوں ہمسر ہے پریشانی میں

ظلم کو چھوڑ سجن شیوۂ احسان میں آ

یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا

ولی دکنی


بدھ، 8 جولائی، 2026

ہندوستان (امروہہ) میں سادات کی آمد

 

  امروہہ صوبہ اترپردیش کے مغرب میں واقع ہے جس کی کل آبادی: 200000 ہے اورمسلم آبادی 60  فیصد  اور  اسی میں شیعہ آبادی  کا تناسب  پندرہ فیصد بتایا جاتا  ہے  ۔ امروہہ کے نقوی سادات کےمورث اعلیٰ حضرت شرف الدین شاہ ولایت نقوی ہیں جن کا سلسلہ نسب امام علی نقی علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔سادات کا یہ قافلہ منگولوں کی ایران پر فوج کشی کے باعث ایران سے ہجرت کر کے امروہہ میں وارد ہوا سادات امروہہ کا شجرہ دو فٹ چوڑا اور 276 فٹ اور 6 انچ (92 گز اور 6 انچ) لمبا ہے، یہ شجرہ باریک جھلّی(پوست) پر مکمل طور پر خوبصورت و دیدہ زیب ہے ڈیزائن سے اول تا آخر مزین ہے اس شجرہ کی ابتداء حضرت آدمؑ اور رسولوں اور مشہور پیغمبروں سے ہوتے ہوئے مشہور صفی بزرگ حضرت سید شاہ شرف الدین واسطی جو شاہ ولایت کے نام سے معروف ہیں آٹھ سو سال پہلے قریہ امروہہ (یو۔پی) میں تشریف لائے اور وہیں کے ہوکر رہ گئےانکی اولادں کا سلسلہ جو آٹھ سو سالوں پر محیط ہے ، اولادوں میں سنی شیعہ دونوں ہیں اس شجرہ میں بلا تفریق ، عابدی، نقوی، تقوی، زیدی، کاظمی ، رضوی ، نقشبندی، اور چشتیہ وغیرہ ہیں۔سادات امروہہ (دوسرا حصہ) دو فٹ چوڑا اور 436 فٹ 8انچ (145 گز، 8،انچ)لمبا نقاشی وغیرہ سے مزیّن باریک جھلّی(پوست) پر ہے۔یہاں کے لوگ ہمیشہ دیندار رہے ہیں ان کی دینداری کی علامت 20/مساجد اور 72/ حسینیہ و کربلا ہیں۔ یہ لوگ ہمیشہ تعلیم یافتہ رہے ہیں اور درسگاہوں کو بھی بنایا


  دوسرے حصے میں شاہ ولایت رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد وقاضی سید امیر علی کی اولاد تاج الدین سید شرف الدین جہانگیر قاضی محمود سالار کی اولادوں کا سلسلہ نسب ہے ۔  اس شجرہ میں حضرت امام حسینؑ کی اولاد امام زین العابدین ، عبد اللہ الباھر، حضرت امام محمد باقرؑ، علی، عبداللہ، عمر الاشرف، علی الاصغر وغیرہ کا نسب نامہ ہے-امروہہ از لحاظ جغرافیائی : شہر امروہہ ہندوستان کی راجدھانی دہلی سے صرف 130 کیلومیٹر پر واقع ہے دہلی سے نزدیک ہونے کی وجہ سے، امروہہ کا موسم دہلی کی طرح ہے۔ یہ شہر علاقوں اور محلوں میں تقسیم کیا گیا ہے امروہہ ایک مسلم اکثریتی آبادی ہے۔امروہہ کے علمی، فرہنگی اور مذہبی مراکز: بیسویں صدی کی ابتدا میں سادات نے ترقی کی کو شش شروع کی اور چند روشن خیال ہستیوں نے قومی ادارے قائم کیے۔ حاجی سیدمقبول احمد نے بامداد دیگراں خاندان 1902ء میں امام المدارس کی ابتدا کی اس مدرسہ کے لیے حاجی سید مقبول احمد اور سید محمد باقر نے موضع "سربراہ " اور "قائم پور" وقف کیے اور مولوی سید مجتبے ٰ حسن عرف چاند کی کوششوں سے ہائی اسکول ہوا۔ جو اب انٹر میڈیٹ کالج ہے مولاناسید نجم الحسن کی تحریک پر نور المدارس قائم ہوا اور مولوی سید اعجاز حسن جن کو گزیٹر مراد آبا د 1911ء میں قائد سادات امروہہ لکھا گیاہے سید المدارس کے بانی ہوئے۔ ان تمام مدارس سے تعلیم کا بہت چرچاہوا خصوصاً امام المدارس سے انگریزی تعلیمی ترقی میں بہت مدد ملی۔امروہہ میں 72 عزاخانے (چھوٹے - بڑے)پائے جاتے ہیں  ۔

 

امروہہ کے سادات کو برصغیر میں علم، تقویٰ، اور شاعری کے حوالے سے ایک خاص مقام حاصل ہے۔ امروہہ میں آباد خاندان: امروہہ میں مختلف خاندان پائے جاتے ہیں جن میں نقوی، عابدی، تقوی اور زیدی کے نام لئے جاسکتے ہیں نیز غیر سادات خاندان بھی یہاں آباد ہیں۔امروہہ کی شخصیات :امروہہ شہر جسکو علم و ادب کا گہوارہ کہا جاتا ہے اس سرزمین پر ایک سے ایک بڑی شخصیات نے آنکھیں کھولیں ہیں مولانا سید قائم رضا نسیمؔ آپ کو اردو میں جدید مرثیہ کا بانی کہا جاتا ہے موصوف نے 300 کے قریب مرثئے کہے جو لاجواب ہیں ، سادات امروہہ کی اہم میراث-امروہہ ضلع امروہہ کی تاریخ پر طائرانہ نظر: پہلے شخص جو سرزمین امروہہ پر وارد ہو ئے وہ سید شاہ نصیر الد ین اور عابد ی خاندان کے مو رث تھے۔ ان کی حیات ہی میں چو دھویں صدی عیسوی اور ساتویں صدی ہجر ی کے آغا ز میں سید حسین شر ف الد ین شا ہ ولا یت مور ث اعلیٰ خاندان  سرزمین امروہہ پر وارد ہو ئے۔ ان حضر ات کا تعلق اس زمر ہ صوفیا ئے کرام سے تھا جو ممالک اسلامیہ خصو صاًایران پر مسلسل منگولو ں کے حملو ں کی وجہ سے واردہند ستان ہو ئے اور جن کی سعی و کوشش کی بدولت ہند و ستان کی سر زمین پراسلا م پھیلا اور اس طر ح منگولوں کا یہ فتنہ، اسلا م کے لیے مفید ثا بت ہوا۔



                            امروہہ میں سادات کی آمد اور قیام عزاداری   دوسری یہ کہ ہندووں کی تگا اور راجپوت قو میں برابر سر کشی اور بغاوت پر آمادہ رہتی تھیں یہ تھے علاقہ روہیلکھنڈ کے حالات جس کو اس وقت کٹھہر کہتے تھے جب سید شر ف الد ین شاہ ولا یت۔ ان کے اعزااور اسلا ف نے امر وہہ کو اپنا مر کز بنا کر تبلیغ اسلام اور استحکام حکو مت کی ذمہ داری سنبھا لی تبلیغ اس و سیع پیما نہ پر کی کہ آ پ شاہ ولا یت کہلائے اور حسب مقا صد العارفین وثمر ات القدوس آ پ کی ولا یت”ازگنگ تاسنگ“تھی۔ یعنی دریائے گنگ سے لے کر ہمالیہ پہاڑ تک جس میں وہ سب علاقہ شامل ہے جس کو روہیلکھنڈ کہتے ہیں۔ شاہ صاحب اور ان کے اسلاف کی تبلیغ کی بدولت اس شہر میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب ہندوستان کے دیگر علاقوں میں سب سے زیادہ ہے اور امروہہ کے حلقہ میں آج بھی تمام ہندوستان میں سب سے زیادہ مسلم ووٹوں کا تناسب ہے۔ اسی دور میں تبلیغ دین کے ساتھ ہما رے بزر گو ں نے ملک کی خدمت بھی انجام دی۔ انھوں نے اپنی بہادری اور شجا عت سے تما م سر کش گر وہوں کے سر کر کے امن وامان قائم کیا ان اسلامی خد ما ت کی بنا ء پر حسب گزیٹر ضلع مر اد آباد 1911ء شہنشاہ اکبر کے زمانہ سے بہت پہلے سادات امر وہہ کا شمار ہندو ستان کے ممتازتر ین خاندانوں میں تھا اور وہ ایک اعلیٰ شہر ت کے ما لک بن چکے تھے۔ معاشرتی اعتبار سے اس دور میں سادات کی زندگی بہت سادہ تھی اور ان کے  آمکا نا ت معمولی تھے۔ ان کا سامان خانہ داری چند ضروری اشیائے زندگی پر منحصرتھا۔ ان کا طعام دور مغلیہ کی لذّتوں سے  آشنا نا تھا۔ ان کی زبان عر بی اور فا رسی دونوں تھیں

تحریر کے لئے گوگل سے استفادہ کیا ہے

 

ایک مایہ ء ناز خاتون رہنما 'عقیلہ ناز

   

 


   پاکستان میں مزارعین کی خستہ حالی ایک دیرینہ اور پیچیدہ مسئلہ ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں غیر منصفانہ جاگیردارانہ نظام، زمین کے مالکانہ حقوق کا فقدان اور جدید زرعی بحران شامل ہیں۔ ان محنت کشوں کو بنیادی حقوق، تعلیم، اور صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔. مالکانہ حقوق کا فقدان-پاکستان میں بالخصوص صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ میں لاکھوں مزارعین نسلوں سے زمینوں پر کاشتکاری کر رہے ہیں، مگر انہیں زمین کی ملکیت سے محروم رکھا جاتا ہے۔ اس کی بڑی مثال اوکاڑہ اور پاک پتن کے اور پنجاب سیڈ کارپوریشن کے علاقے ہیں جہاں مزارعین کو مالکانہ حقوق دینے کی بجائے اکثر  با اثر لوگوں کی جانب سے بے دخلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے ایک ا نقلابی خاتون نے ان غریبوں کے لئے آواز اٹھائ  وہ آواز تھی عقیلہ ناز کی        لیکن یہ آواز بڑی جلدی خاموش ہو گئ - (اے ایم پی) کی ممتاز رہنما، کسان خواتین کی توانا آواز اور بے زمین مزارعین کے حقوق کی جدوجہد کی نمایاں علامت عقیلہ ناز کینسر کے مرض میں مبتلا رہنے کے بعد بدھ کے روز ملتان میں انتقال کر گئیں۔ ان کی عمر 50 سال تھی۔ان کی وفات سے کسانوں کی تحریک، انسانی حقوق کی تنظیموں، خواتین کے حقوق کے کارکنوں اور ترقی پسند حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔


ان کے ساتھی انہیں ایک ایسی نڈر اور بااصول رہنما کے طور پر یاد کر رہے ہیں جنہوں نے اوکاڑہ اور خانیوال کے فوجی فارموں کے مزارعین کی حقِ ملکیت کی تحریک میں صف اول کا کردار ادا کیا اور شدید ریاستی دباؤ، مقدمات، گرفتاریوں اور دھمکیوں کے باوجود کبھی اپنے مؤقف سے دستبردار نہیں ہوئیں۔عقیلہ ناز گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک پاکستان میں بے زمین کسانوں کی تحریک کا نمایاں چہرہ رہیں۔ ان کی جرات، استقامت اور قیادت نے ہزاروں دیہی خواتین کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے، منظم ہونے اور تحریک کا حصہ بننے کا حوصلہ دیا۔ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی ان کسان خاندانوں کے لیے وقف کر دی جن کے آباؤ اجداد نسلوں سے زمینیں کاشت کرتے آئے، لیکن انہیں کبھی ان زمینوں کی قانونی ملکیت نہیں ملی۔عقیلہ ناز کا تعلق پنجاب کے ضلع خانیوال کے ایک کسان خاندان سے تھا۔ انہوں نے ہائی اسکول تک تعلیم حاصل کی، مگر مالی مشکلات کے باعث مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکیں۔ تاہم، وہ خود کہا کرتی تھیں کہ انجمن مزارعین پنجاب نے انہیں عملی زندگی کا وہ شعور، تجربہ اور اعتماد دیا جو کسی اعلیٰ تعلیمی ڈگری سے کم نہیں تھا۔ان کی جدوجہد کی بنیاد ان کے خاندانی پس منظر میں بھی موجود تھی۔ ان کے والد سیموئل رحمت کسانوں کے حقوق کے سرگرم حامی تھے۔ ان کے آباؤ اجداد نے برطانوی دور میں پنجاب کے نہری علاقوں کی آبادکاری کے دوران زمینیں آباد کیں، لیکن دوسرے ہزاروں کسان خاندانوں کی طرح انہیں بھی ان زمینوں کی ملکیت حاصل نہ ہو سکی۔ یہی احساس محرومی بعد میں عقیلہ ناز کی زندگی کا مقصد بن گیا۔


انجمن مزارعین پنجاب کی تحریک کا آغاز 1988 میں ہوا، جب پنجاب کے مختلف اضلاع میں سرکاری اور فوجی فارموں کی زمینیں نسلوں سے کاشت کرنے والے مزارعین نے متعلقہ اداروں کے دعووں کو چیلنج کیا۔ کسانوں کا مؤقف تھا کہ سرکاری ریونیو ریکارڈ کے مطابق یہ ادارے زمینوں کے قانونی مالک نہیں ہیں، اس لیے نسلوں سے کاشتکاری کرنے والے خاندانوں کو ملکیتی حقوق دیے جائیں۔1990 کی دہائی میں یہ تحریک تیزی سے پھیلی اور پنجاب کے تقریباً دس اضلاع میں لاکھوں کسان اس میں شامل ہوگئے۔ تحریک کا نعرہ ‘مالکی یا موت’ پورے خطے میں مزاحمت کی علامت بن گیا۔عقیلہ ناز نے مئی 2000 میں، انجمن مزارعین پنجاب میں شمولیت اختیار کی۔ اس وقت شاید انہیں بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ تحریک ان کی پوری زندگی کا محور بن جائے گی۔ چند ہی برسوں میں وہ ایک سرگرم کارکن سے کسان خواتین کی صف اول کی رہنما بن گئیں اور خواتین کو تحریک کا مضبوط ستون بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔اوکاڑہ اور خانیوال کے فوجی فارموں کے مزارعین کی تحریک پاکستان کی اہم عوامی تحریکوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس تحریک کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ جن کسان خاندانوں نے چار نسلوں سے ان زمینوں کو آباد رکھا ہے، انہیں بے دخل کرنے کے بجائے ان زمینوں کی قانونی ملکیت دی جائے۔ اس مقصد کے لیے کسانوں نے طویل احتجاج، جلسے، ریلیاں اور لانگ مارچ کیے۔  


 انہیں پولیس، رینجرز اور دیگر ریاستی اداروں کی کارروائیوں، گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ان کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں کسان خواتین تحریک کے ہر مرحلے میں نمایاں کردار ادا کرنے لگیں۔ وہ جلسوں، احتجاجی مظاہروں، مذاکرات اور تنظیم سازی میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں اور ہر قسم کی دھمکیوں اور دباؤ کے باوجود پیچھے نہیں ہٹیں۔تحریک کے دوران عقیلہ ناز کو جھوٹے مقدمات، رینجرز اور پولیس کی کارروائیوں، بااثر زمینداروں کی مخالفت اور بعض مذہبی حلقوں کی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ مشکل ترین حالات میں بھی کارکنوں کا حوصلہ بلند رکھتیں اور ہمیشہ پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی تھیں۔انہوں نے انجمن مزارعین پنجاب کے بانی رہنماؤں، خصوصاً ڈاکٹر کرسٹوفر جان، کے ساتھ مل کر کسانوں کی تنظیم سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ 2008 سے 2011 تک تنظیم کی فنانس سیکریٹری رہیں، بعد ازاں ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن منتخب ہوئیں اور پھر جنرل سیکریٹری کے عہدے پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ ایک بہترین مقرر، مؤثر لکھاری اور کامیاب تنظیم ساز کے طور پر بھی جانی جاتی تھیں۔عقیلہ ناز کی خدمات کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انہیں 2010 میں بنگلہ دیش میں جنوبی ایشیا کے ابھرتے ہوئے سماجی کارکنوں کے لیے قائم ’میٹو میموریل ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز معروف سماجی کارکن کملا بھاسین نے اپنی مرحوم بیٹی Meetoکی یاد میں قائم کیا تھا۔ یہ ایوارڈ انہیں کسان خواتین کے حقوق، دیہی تنظیم سازی اور سماجی انصاف کے لیے ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔انہوں نے بعد میں ’پیزنٹ ویمن سوسائٹی‘ کے نام سے ایک الگ پلیٹ فارم قائم کیا تاکہ دیہی خواتین کے مسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے وہ خواتین کی زمین پر ملکیت، میاں بیوی کی مشترکہ ملکیت کے حق، زرعی خواتین مزدوروں کی اجرت وغیرہ وغیرہ



ہفتہ، 4 جولائی، 2026

بھوک کا درد بڑا ظالم ہوتا ہے

 

یہ کینیا میں اپنا غربت بھرا بچپن گزارنے والی ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جس نے  اپنی غربت سے لڑنے کا فیصلہ کیا -یہ لڑکی جیبوتی تھی اس نے  ایک پختہ عزم کیا کہ وہ اپنی محنت اور حوصلے سے صرف اپنی  نہیں بلکہ پورے گائوں کے لوگوں کی زندگی کو بہتر بنائے گی۔کچھ عرصے  کی سخت  جدوجہد  کے بعدقسمت  نے اس پر  مہربانی کی  اور اس کو آگسٹانا کالج سے اسکالرشپ مل گئی۔وہ امریکہ چلی گئی جہاں پڑھنے کے ساتھ وہ جاب بھی کرتی رہی۔رات تک وہ تھکن سے چور ہوجاتی۔وہ کمپیوٹر سے نابلد تھی۔ٹائپنگ نہ کرسکنے کی وجہ سے اس کو کئی گھنٹوں تک اپنی اسائنمنٹ لکھنی پڑتی،بالآخر اس کی زندگی میں ایک دلچسپ موڑآیا۔ اس کو ریاضی کے لیے ’’جاوا‘‘ کا کورس کرناتھااور یہیں سے اس کا رجحان کمپیوٹر کی طرف بڑھنے لگا۔اس کے دل میں اپنی قوم کادرد تھا۔وہ دن رات یہی سوچتی رہی کہ کیسے میں ان لوگوں کی زندگی بدل سکتی ہوں۔ایک رات اچانک اس کے ذہن میں ایک آئیڈیاآیا۔اس نے دیکھاکہ بڑی بڑی کمپنیوں میں استعمال ہونے والے کمپیوٹرز میں جب معمولی خرابی بھی آتی توانتظامیہ اس کوسٹور روم میں جمع کرتی اور کمپنی کے لیے نئے سسٹم آرڈرز کرتی۔اس نے کمپنیز سے بات کرکے یہ تمام کمپیوٹرز حاصل کیے اور انھیں کینیا منتقل کیا۔اس سارے عمل پرآنے والے اخراجات اس نے اپنی جیب سے بھرے ۔


پھر چیبوئ نے TechLit Africaکے نام سے ایک ادارہ بنایا،جس کے تحت امریکہ سے آنے والے کمپیوٹرز کو کھول کر ان کے ہارڈوئرز صاف کیے جاتے ، انھیں دوبارہ استعمال کے قابل بنادیاجاتااورپھر مقامی اسکولوں میں تقسیم کردیے جاتے ۔چیبوئی نے اپنے علاقے میں کمپیوٹر ایکسپرٹس کو ڈھونڈکرانھیں بچوں کو پڑھانے کی درخواست کی۔یوں پرانے اور کسی حدتک بے کار کمپیوٹرزکے ساتھ بچوں کوآئی ٹی اسکلز سکھائے جانے لگیں اور انتہائی کم وقت میں بڑے شاندار نتائج ملے ۔چیبوئی کہتی ہے: مجھے بھوک کادرد یاد ہے ۔یہ بہت ظالم ہے ۔میں نے اس کوبہت قریب سے دیکھاہے اور اسی درد نے میرے اندر وہ شعلہ روشن کیا جس کی بدولت میں نے اپنی زندگی اور اپنی قوم کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے جدوجہد شروع کی۔آج میرے ادارے میں چار ہزار سے زائد بچے جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کررہے ہیں اورمجھے امید ہے کہ یہاں سے پڑھنے والے بچے فری لانس مارکیٹ میں گرافک ڈیزائننگ، کوڈنگ، سوشل میڈیا مارکیٹنگ کی بدولت کینیا کی معیشت کوبدل کر رکھ دیں گے۔اس کائنات میں موجود ہر انسان خاص ہے۔تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے کسی نہ کسی قابلیت سے نوازرکھاہے۔وہ اگر ہمت سے کام لے تواس قابلیت کی بدولت اپنی زندگی اور دوسر ے انسانوں کی زندگیوں کو آسان بناسکتاہے۔روزمرہ زندگی میں ہر انسان کے سامنے مختلف طرح کے حالات آتے ہیں۔


یہ حالات کبھی کبھار انسان کو بے بس کردیتے ہیں ، وہ مایوس اور پریشان ہوجاتاہے اور ہمت ہارکر بیٹھ جاتاہے جبکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی پختہ ہمت کے سامنے کسی بھی طرح کے حالات کچھ اہمیت نہیں رکھتے ۔وہ جس قدربھی تنگی میں ہوں،اپناحوصلہ جوان رکھتے ہیں اور کسی نہ کسی طرح خود کو حالات کے اس بھنور سے نکال ہی دیتے ہیں۔ ہم اس بات  کو جانتے ہیں باہمت لوگوں کی وہ کون سی صفات ہوتی ہیں جو انھیں عام لوگوں سے ممتاز بنادیتی ہیں او ر وہ معاشرے میں ایک شاندار تبدیلی لے کرآتے ہیں اسی طرح کمزورلوگوں کی وہ کون سی خامیاں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے وہ پیچھے رہ جاتے ہیں اور زندگی میں کوئی نمایاں کام نہیں کرپاتے۔کمزور ہمت لوگ ہمیشہ اس یقین کے قیدی ہوتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔انھیں ہمیشہ ہارنے کااندیشہ ہوتاہے۔ناکام ہونے ، گرجانے اور ہدف پر نہ پہنچنے کا خوف۔انھیں دوسروں کی رائے سے بھی خوف آتاہے۔یہ تنقید سے ڈرتے ہیں۔ناپسندیدگی سے ان کی جان جاتی ہے۔لوگ ایسا نہ کہہ دیں ، ویسا نہ کہہ دیں۔میں اگر ناکام ہوگیاتو معلوم نہیں زمانہ کیا کہے گا۔یہ اورایسے متعدد خیالات نے انھیں اپنا قیدی بنایاہوتاہے اور اس وجہ سے یہ کوئی بھی عملی قدم نہیں اٹھاسکتے۔اس کے برعکس باہمت لوگ ہمیشہ پُرامیدرہتے ہیں۔وہ آزاد ہوتے ہیں۔وہ ہمیشہ کچھ کرنے کی جستجومیں ہوتے ہیں۔وہ ہمیشہ مثبت اورامیدافزاگفتگو کرتے ہیں کیوں کہ انھیں معلو م ہوتاہے کہ وہ جوبھی بولتے ہیں ،وہ الفاظ خیالات کا روپ دھارلیتے ہیں اورپھر اسی طرح کے واقعات ان کی زندگی میں رونما ہوناشروع ہوجاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ’’میں نہیں کرسکتا‘‘ ان کی زندگی میں نہیں ہوتا۔ان کے سامنے مشکل سے مشکل ہدف کیوں نہ ہو، اس کوحاصل کرنے کے لیے وہ سوچتے ہیں ، راستے بدل کر دیکھتے ہیں اور نئے امکانات کا جائزہ لے کراس کی طرف بڑھتے ہیں اور ایک نہ ایک دن اس کو کامیابی سے حاصل کرلیتے ہیں۔یہ تنقید سے ڈرتے ہیں۔لوگ ایسا نہ کہہ دیں ، ویسا نہ کہہ دیں۔میں اگر ناکام ہوگیاتو معلوم نہیں زمانہ کیا کہے گا۔زرا سوچئے !آپ کا شمار کن لوگوں میں ہوتا ہے

تحریر انٹر نیٹ کی مدد سے لکھی گئ ہے



نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

ٹار نیڈو سے دنیا میں تباہی

  18 جولائ 2026ءہفتہ کا دن 'میں سو کر اٹھی اور حسب معمول  سیل فون پر نظر ڈالی کہ اگر بچوں کی خیر خبر لے لوں لیکن سیل فون کی اسکرین تھنڈر...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر