جمعرات، 12 فروری، 2026

دروازے کی آہٹ پر وہ اپنے حواسو ں میں لوٹ آئ

 

  نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے بہت ہمّت کرلی تھی کہ اپنے آپ کو سنبھالا ہوا تھا مگر دل پر بھلا کس کو اختیار ہوسکتا ہے ،اور اس کا دل سینے کے پنجرے میں پھڑپھڑا رہا تھا کہ اس کو جان ودل سے ا پنا بنانے والا کبھی بھی واپس نہیں آنے کے لئے اس سے روٹھ کردنیا سے جا چکا تھا,,سو چوں کے انہی جان گسل لمحات میں ,ایجاب وقبول کے لئے مولاناصاحب طلال کے ہمراہ اس کے پاس آگئے'ایجاب و قبول کا مرحلہ شروع ہوا نصرت نگین بنت اسلام الدّین آپ کو مبلغمہر شرعی شامیل احمد ابن خلیق احمد کے ساتھ نکاح منظور ہے اور مولاناصاحب کے الفاظ پورے ہونے سے پہلے اس نے اپنے آپ کو بے ہوش ہونے سے بچایا ،اورپھر اس نے مولانا کے دوسر ی بار کے مرحلے پر پہنچنے پر آہستہ سے ہاںکہاور نکاح نامے کو اپنی موت کا پروانہ سمجھ کر سائن کر دئےاور نکاح کے بعد اس کی منجھلی آپا اور بڑی آپا نے اس کے دونو ں بازوتھام کر شامیل کے پہلو میں لا کر بٹھا دیا، اس نے نا تو اپنی نگاہیں اوپراٹھائیں اور ناہی شامیل نے اس کے پہلو کی قربت کو اپنے نزدیک پسند کیا اسلئے کچھ فاصلہ پر کھسک کر بیٹھ گیا جس کو سب نے اس کی شرم و حیا کی تعبیرجانا مووی بنتی رہی تصاویر کھینچی جاتی رہیںفو ٹو گرافر مووی میکر باربار اصر ار کرنے لگا زرا سا کلوز ہو جائیے ,,زرا سا کلوز ہو جائیے اور وہ زراسا کلوز ہوتا اور پھر دور ہوجاتا ، اور وہ بے روح کی مانند ساکت ہیرہی اور بغیر ایک آنسو بہائے رخصت ہو کرشامیل کے گھر میں سر جھکائے'جھکائے آ گئ'


اس شادی میں اس کے میکے میں ناکوئ رسمیں ہوئیں ناریتیں ہوئیں نا ڈھولک کی تھاپ پر کسی سہیلی نے کوئ سہاگ گیت گا یا ،بس منجھلی آپا ہی تو تھیں جنہوں نے اس کے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگا دی تھی اور بیوٹی پارلر لے جاکر دلہن بنوا لائ تھیں-شامیل کے ٹرپل اسٹوری گھر میں مہمان بھرے ہوئے تھے ،پہلے رسمیں ریتیں ہوئیں جن کو اس نے ایک مشینی روبو ٹ کی طرح پو را کروا لیاحالانکہ بہت کم وقت کے نوٹس پر یہ تقریب منعقد کی تھی مگر دونوں جانب سےسمجھدار لوگ اس تقریب کے کرتا دھرتا تھا ادھر سے طلال اور فرحین تھے ادھرسے ربیکا اور معروف تھے ،تمام کام سلیقے سے انجام پا گئے تھےاور اب ربیکا اور اس کی بھابھی نے اس کو حجلہ عروسی میں پہنچا دیا ان دونو ں کےکمرے سے جانے کے بعد اس نے ٹوٹے ہوئے دل کی کرچیں سمیٹ کر آہستہ سےگھونگھٹ کی اوٹ سے کمرے کا جائزہ لیا ،ہر ،ہر شے نفیس تھی ،,,,,, ہر طرف رنگوں کی خوشبوؤں کی بارات تھی کمرے کے دروازے اور کھڑکیوں پر پڑے ہوئے حریری پردے اے ,سی کی نرم خنکی اور کمرے کی چھت کے درمیان لگے ہوئے سنہرے پینٹڈ پنکھے کی ہلکی ہوا میں رات کے ماحول کو خوابناک بنا رہے تھے اور اس ماحول میں وہ اکیلی تھی رات دھیرے دھیرے سرک رہی تھی اورپھولوں سے مہکتے چپر کھٹ جیسے حسین بیڈ پرتنہا بیٹھی ہوئ اپنے حا لیہ ماضی کے لئے سوچے جارہی تھی کہ کاش جب بڑی
آپا نے اس کو رشتے کے بارے میں جاننے کے لئے اور لڑکے کی تصاویر دیکھنےکے لئے لفافہ دیاتھا تو اس نے ایک نظر کیوں نہیں دیکھ لیا ،اگر وہ دیکھ لیتی تو شائد کوئ بھی بہانہ کر کے انکار کر دیتی,



 لیکن یہ تو اس کے گمان کے لاکھویں حصّے میں بھی نہیں تھا کہ کراچی کے لڑکے کا رشتہ اس کے ساتھ پنڈی میں طے ہوگا اور شادی پھر کراچی میں ہی ہو گی اور پھر بلکل اچانک ہی اس کا زہن یعسوب کی جانب چلا گیا ،یہ شب عروسی تو اس کو اپنے خوابوں کےشہزادے یعسوب کے ساتھ منانی تھی لیکن اس کے دل کے راج محل کا شہزادہ اسکے ارمانوں کی دنیا لوٹ کر منوں مٹی کے نیچے جاسویا تھا ،پھر یعسوب زہن سے محو ہو گیا اور ایک دم شجاعت کی سوچوں نے اس کے زہن پرقبضہ کیا ,, وہ جانتی تھی کہ یعسوب اس قسم کی باتوں سے کتنا ناراض ہوتاہے اس لئے وہ یعسوب کی غیر موجود گی میں ہی اپنا ہاتھ دکھا کر قسمت کاحال جاننا چاہتی تھی ایسے میں ایک دن جب وہ زویا کے ساتھ لائبریری میں ا سٹڈی کر رہی تھی اسےجیسے ہی شجاعت لائبریری میں نظر آیا اس نے زویا کو اس کے پاس بھیج کراسے اپنے پاس بلا لیا اور شجاعت نے اس کے ہاتھ کی لکیریں دیکھ کراس سےکہا تھا کہ لڑکی ابھی بھی وقت ہے سنبھل جاؤ اپنی کشتئء حیات کو بھنور میں ڈبونے کے بجائے کنارے پر لے آؤ ،پھر شجاعت نے کہا تھا ،تمھاری محبّت کے آسمان پر مجھ کو گہن لگتا دکھائ دے رہا ہے ، روشنی کی رمق بھی نہیں ہے،اور اس نے حیرا ن ہو کر اس سے پوچھا تھا کیا مطلب؟تو اس نے جوا بدیا تھاتم ایک دوسرے کو ٹو ٹ کر چاہو گے سب کو یقین ہو گا کہ تمھاری شادی ہو گی لیکن کمند یہا ں آکے پھر ٹوٹ جائے گی پھر جو شادی ہو گی اس کا ابتدائ عرصہ بہت تلخ ہوگا اس شادی کے آسمان پربہت زیادہ غلط فہمیاں ہیں ,,بد گمانیاں ہیں,, اور دوریاں ہیں اگر اس ڈولتی کشتی کواللہ نے سنبھال لیا تو ٹھیک ہے ورنہ یہ شادی اپنے اختتام کوپہنچ جائے گی-



اور اس نے کہا تھا ارے شجاعت زرا ہولے ہولے ڈراؤاور پھر جب اس نے ناجانےکس دھن میں یعسوب کو شجاعت کی کہی ہوئ باتیں بتائ تھیں تو یعسوب نے سخت غصّے کے عالم میں کہا تھا میں شجاعت کو شوٹ کردوں گا ،لیکن تقدیر کا لکھا پورا ہو کر رہا تھا اور اس کی زندگی کے آسمان پراندھیرا پھیل چکا تھا اور پھر ابھی اس کی بے خودی کا عا لم ٹوٹا نہیں تھاکہ شامیل نے کمرے میں اپنے داخل ہونے کی آہٹ کی اور وہ اپنے حواسو ں کی دنیا میں لوٹ آئ شامیل نے اندر آ کے کمرے کے دروازے کو لاک نہیں کیا بس بند کر دیا اورپہلے وہ کمرے میں ہی اپنی پشت پر دونو ں ہاتھ باندھے ٹہلتا رہا پھر اس نےکاٹ دار لہجے میں کہاہاں! کیا ہوا تمھارے اس عاشق کا جو مجنوں بنا تمھارے پیچھے پھرتا تھا ،اور شامیل کی آواز کہیں بہت دورسے اس کے کانوں میں آ ئ اور پھر طنز کےزہر میں ڈوبا ہواایک اور نشتر اس کی جانب پھینکا ,,یہ بھی خوب رہی جب ساری رنگ رلیاں منا لیں تو دوسرا شکار تلاش کر لیااب یہ نہیں معلوم کہ اس کا دل تم سے بھر گیا یا تمھارا دل اس سے بھر گیابہر خوب ، میرے ساتھ جو تم نے یہ کھیل کھیلا ہے اس کا حساب تو میں تم سےلے کے رہوں گا اور میرے گھر کی چھت صرف بابا جانی کی زندگی تک تمھارے لئےہے,اور پھر اس نے آگے بڑھ کر الماری سے اپنا نائٹ سوٹ نکالا ،اور پھر ہاتھ میں بغیر لفافے کے کچھ تصاویر اس کی جانب اچھال کر بولا آج کی رات دلہنوں کو منہ دکھائ بھی تو دی جاتی ہے ناں! یہ تمھاری آج کی رات کی منہ دکھائ ہےاور پھر وہ کپڑے تبدیل کرنے چلا گیا ،نگین نے اس کی پھینکی ہوئ تصاویرگھونگھٹ کے اندر سے چپکے چپکے دیکھیں 

خبردار آپ کا مخاطب کا چشمہ آپ کی وڈیو بنا رہا ہے

 

سمارٹ چشمے  دنیا میں تیزی سے مقبولیت حاصل  کر رہے ہیں  بلکہ  انہیں  پہننے والی ٹیکنالوجی کا مستقبل کہا جا رہا ہے،۔ لیکن سماجی  ماہرین کہہ رہے ہیں  کہ یہ چشمے   خواتین کی پرائیویسی کو نقصان پہنچانے، ان کی توہین کرنے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کے لیے استعمال ہو  سکتے  ہیں۔ شیزی کہتی ہیں کہ ایک شخص نے ان کے علم میں لائے بغیر اور ان کی اجازت لیے بغیر سمارٹ چشمے سے ان کی ویڈیو بنائی۔ اس کے بعد وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی، جہاں اسے تقریباً 10 لاکھ بار دیکھا گیا اور سینکڑوں تبصرے کیے گئے۔ بہت سے تبصرے جنسی نوعیت کے اور توہین آمیز تھے۔ شیزی نے کہا   میرا کیا قصور تھا کہ مجھے ایک اجنبی سے راستے میں روکا اور مجھ سے کہا وہ مجھے جانتا ہے  آپ فلاں 'فلاں یو ٹیوبر ہیں   ’مجھے بالکل نہیں معلوم تھا کہ  وہ زراسی دیر میں مجھے کس طرح سے دھوکہ دے رہا ہے  ہاں تم نے صحیح پہچانا  اور وہ کچھ کہے بغیر چلا گیا ،  لیکن اس زرا سی دیر میں اس نے میری  وڈیو بنائ  - گھر جا کر  میری  اس وڈیو  کو فوٹو شاپ سے عریاں کیا  اور پیسہ کمانے کے لئے  اس کو وائرل کر دیا ۔ اس چیز نے مجھے بہت ڈرا دیا ہے۔ اب میں عوامی مقامات پر جانے سے ڈرتی ہوں۔


‘اونا کہتی ہیں کہ گذشتہ جون میں برائٹن کے ساحل پر دھوپ کا چشمہ پہنے ایک آدمی ان کے پاس آیااس شخص نے ان کا نام پوچھا، وہ کہاں سے ہیں اور کیا وہ اسے اپنا نمبر دے سکتی ہیں۔انھوں نے شائستگی سے انکار کیا اور کہا کہ ان کا بوائے فرینڈ ہے۔کچھ ہفتوں بعد انھیں ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو بھیجی گئی۔ یہ اس شخص کے ساتھ گفتگو کی ریکارڈنگ تھی جسے اس کے نقطہ نظر سے فلمایا گیا تھا۔ تب اونا کو احساس ہوا کہ وہ شخص انھیں اپنے چشموں سے فلما رہا ہے۔جو بھی سمارٹ چشمے پہنتا ہے اسے سمارٹ فون کی طرح ہی معلومات اور ایپس تک رسائی مل جاتی ہے۔ سمارٹ چشمے پہنے شخص نقشے دیکھ سکتا ہے، موسیقی سن سکتا ہے اور ویڈیو ریکارڈ کر سکتا ہے۔اونا کی ویڈیو کا سکرین شاٹ جو ٹک ٹاک سے لیا گیا ہے۔ وہ سڑک پار کر رہی ہیں اور گفتگو میں مصروف ہیں۔ ویڈیو اس شخص کے زاویے سے فلمائی گئی ہے جس سے وہ بات کر رہی ہیں،اونا کی ویڈیو تقریباً 10 لاکھ بار دیکھی گئی، ہزاروں لوگوں نے اسے لائک کیا اور سینکڑوں تبصرے کیے گئےاونا کہتی ہیں کہ ویڈیو پر ویوز بڑھتے دیکھ کر انھیں گھبراہٹ کا احساس ہونے لگاان کے مطابق ویڈیو سے یہ بھی معلوم ہو رہا تھا کہ وہ برطانیہ کے علاقے برائٹن میں رہتی ہیں، ویڈیو پر آنے والے تبصرے توہین آمیز تھے، ’یہ سب میرےاختیار سے بالکل باہر تھا اور یہی بات مجھے ڈرا رہی تھی۔‘اونا نے پولیس کو آگاہ کیا لیکن انھیں بتایا گیا کہ پولیس کچھ نہیں کر سکتی کیوں کہ عوامی مقامات پر لوگوں کی ویڈیو بنانا غیر قانونی نہیں ہے۔


اونا کہتی ہیں کہ ’ایسے واقعات ہر اس عورت کے ساتھ ہوتے ہیں جسے میں جانتی ہوںاور آپ کی  گفتگو فلمائی جا سکتی ہے اور آن لائن نشر کی جا سکتی ہے، یہ سوچنا بھی ’خوف ناک اور ڈراؤنا ہے۔‘بی بی سی نے اونا کی ویڈیو پوسٹ کرنے والے اکاؤنٹ کے مالک سے رابطہ کیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔جس شخص نے اونا کو فلمایا تھا، انھوں نے اپنے ٹک ٹاک پیج پر ایسی ہی سینکڑوں ویڈیوز پوسٹ کی ہوئی تھیں، اور وہ اکیلے ایسے نہیں جو اس طرح کا مواد بنا رہے ہیں۔ایک نوجوان لڑکی پارک میں بیٹھی ہے۔ اس کے بال سنہرے رنگ کے ہیں اور اس کے سر پر دھوپ کا  چشمہ رکھا ہے،  لندن سے تعلق رکھنے والی کیٹ بتاتی ہیں کہ سمارٹ چشمے پہنے ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان کے علم میں لائے بغیراور ان کی رضامندی لیے بغیر ان کی وڈیو بنا ئ۔وہ جم میں تھیں جب ایک آدمی ان کے پاس آیا اور ان کا نمبر مانگا لیکن کیٹ نے نمبر دینے سے انکار کر دیا۔اگلے دن اس گفتگو کی ویڈیو انھیں بھیجی گئی جو ٹک ٹاک پر اپ لوڈ کی گئی تھی۔آن لائن نشر ہونے کے چھ گھنٹے کے اندر اندر وہ ویڈیو تقریباً 50 ہزار بار دیکھی جا چکی تھی۔ ویڈیو پر کیٹ کیسی نظر آ رہی تھیں اور ان کا رویہ کیسا تھا، اس بارے میں بہت سے توہین آمیز اور نا مناسب تبصرے آئے۔گروک اے آئی کا خواتین کی نیم برہنہ تصاویر بنانے کے لیے استعمال: ’نامناسب مواد بنانے کا عمل تکنیکی خامی نہیں، کاروباری انتخاب ہے‘ہیلو! مجھے آپ کی ایک تصویر ملی ہے۔ 

۔‘: واٹس ایپ پر آنے والا پُراسرار پیغام جو اکاؤنٹ ہیک ہونے کا باعث بن سکتا ہےکیٹ نے بتایا، ’ایسا لگا مجھے الٹی آ جائے گی۔ میں پریشان ہوں، انٹرنیٹ پر لوگ میری نقلیں اتار رہے ہیں، میرا مذاق اڑا رہے ہیں، یہ سمجھے بغیر کہ جو کچھ ہوا اس میں میری رضامندی شامل نہیں تھی۔‘کیٹ کہتی ہیں کہ انھیں اس شخص پر سخت غصہ ہے جس نے انھیں فلمایا، ’یہ سب آن لائن سستی توجہ لینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ پھر آپ کو گندے تبصرے ملتے ہیں جس سے آپ کا اعتماد اور عزت نفس متاثر ہوتے ہیں۔‘کیٹ نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا کہ دو بار ان پر جنسی حملہ ہو چکا ہے، ’کبھی آپ کو لگتا ہے آپ کی ذہنی صحت بہتر ہو رہی ہے، لیکن پھر اس طرح کے واقعات سب کچھ الٹ دیتےہیں 
یہ تحریر میں نے انٹرنیٹ سے لی ہے

بدھ، 11 فروری، 2026

کیا بسنت کا موسم آیا ہے ؟

 

 
    موسم بہار کی آمد پر پانچ فروری کو لاہور اور پاکستان کے دیگر شہروں میں بسنت کا تہوار منایا جارہا ہے۔ جہاں پنجاب میں یہ سرکاری سطح پر بھی منایا جاتا ہے، وہیں سرحد کے معاشرے میں بسنت منانے کا رواج نہیں ہے۔ اس موقع پر چاروں طرف آسمان پتنگوں سے بھر جاتا ہے، رات کو سفید پتنگیں اور دن میں رنگ برنگی پتنگیں آسمان کے حسن میں اضافہ کرتی ہیں۔ محرم کی آمد کے سبب اس سال بسنت کا یہ تہوار جو پہلے فروری کےدوسرے یا تیسرے ہفتے میں منایا جاتا تھا اس سال پہلے ہفتے ہی میں منایا جارہا ہے۔بسنت کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اس موقع پر بہت لوگ ہلاک یا زخمی بھی ہوجاتے ہیں۔ ہلاکتیں عام طور پتنگ کٹ جانے کے بعد پیش آنے والے حالات کے باعث پیش آتی ہیں۔ پتنگ جب تک اڑتی ہے تب تک وہ زندگی کی علامت ہے اور جب اس کی ڈور کٹ جاتی ہے تو کبھی کبھی وہ موت بن کرگرتی ہے۔کٹی پتنگ کے ساتھ اگر دھاتی تار ہو تو خون خشک کرنےاورجھلسا دینے والا کرنٹ جان لے لیتا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی موت کا کھیل بن گئی ہے۔ دھاتی تار والی پتنت پر پابندی عائد ہے۔ صوبہ سرحد میں بسنت منانے کا رجحان نہیں ہے۔کیا اسلام میں تفریح پر کوئی پابندی ہے؟ پشاور یونیورسٹی کے اسلامک سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا ہے: ’اسلام تفریع پر کوئی پابندی نہیں لگاتا بس صرف اس کے لئے چند اصول اس نے وضع کیے ہیں، اگر ان کے اندر رہ کر تہوار منائے جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اسلام تو تیر اندازی جیسے شوق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے


۔‘دورِ مغلیہ میں تصوف کے پیروکار بسنت کے موقع پر پیلے کپڑے پہنتے تھے، پیلے پھولوں سے سزاتے تھے، اور رات دن قوالیاں گاتے اور سنتے تھے۔ بسنت کی تاریخ میں صوفیوں کی شراکت رہی ہے۔ آج کل پاپولر مذہبی رہنما ماڈرن پاکستان میں بسنت کی ہندو تہوار کی حیثیت سے مذمت کرتے ہیں۔ یہ رکنا چاہئے تھا۔ تاریخی اعتبار سے لاہور وہ شہر ہے جہاں پتنگ بازی عام ہونے لگی لیکن مجھے نہیں معلوم کہ یہ کب سے امراء کے مشغلہ بن گئی۔پنجاب کی اکثریت اس وقت اسلام سے دور ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے آرمی میں ان لوگوں کی اکثریت کے باوجود ہروہ کام جو ملک کو تباہی کے دہانے پر لائے جارہا ہے وہ پروموٹ کیا جارہا ہے، مجھ کو پاکستانی ہونے پر شرم ہے۔کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ ایک پاکستان میں دو پاکستان ہیں۔ غریبوں کا الگ پاکستان، امیروں کا الگ۔ اس جیسے خودساختہ تہواروں سے بےشک امیر لوگوں کو تفریح کا موقع ہاتھ آتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ غریب لوگ مزید احساس محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔ایک طرف تو ہم کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہزاروں لوگ تنگ دستی اور بےروزگار سے تنگ آکر خود کشی کرنے پر مجبور ہیں۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو لوگ روپئے کو پتنگ بناکر ہوا میں اڑا رہے ہیں۔ کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ ایک پاکستان میں دو پاکستان ہیں۔



 غریبوں کا الگ پاکستان، امیروں کا الگ۔ اس جیسے خودساختہ تہواروں سے بےشک امیر لوگوں کو تفریح کا موقع ہاتھ آتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ غریب لوگ مزید احساس محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔میرے خیال میں اگر مجھے کوئی چیز پسند نہیں تو کوئی بھی اس کو پسند نہ کرے۔ یا تو قدرت کا نظام ہی روزی دینے کا، جو لوگ اپنا بخار بھی کسی کو نہ دیں وہ بسنت والے دن ہزاروں روپئے خرچ کرتے ہیں اور اس دن اربوں روپئے خرچ ہوتے ہیں۔ کتنوں کا روزگار لگا ہوا ہے۔بی بی سی انڈائریکٹلی بسنت کو پروموٹ کررہی ہے، ورنہ اس کو میڈیا میں لانے کا کیا مقصد ہے۔ یہ پبلسٹی کا بہت اچھا طریقہ ہے۔ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔اگر جناب قبلہ ایاز صاحب اس کو جائز قرار دے رہے ہیں تو وہ اپنا قبلہ درست کریں۔ وہ سلطان پرویز مشرف غزنوی کا ایاز نہ بنیں۔ یہ حرام کی کمائی سے کھیلا جانے والا امیروں کا کھیل ہے۔ جس میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بیہودہ حرکات و سکنات سے لوگوں کو متوجہ کرنے کی وکشش کرتے ہیں۔ یہ نام نہاد مشرفِزم کو ہوا دیے کے لئے کیا جارہا ہے۔اسلام میں انٹرٹینمینٹ منا نہیں۔ لیکن انٹرٹینمینٹ تہذیب کے دائرے میں ہونی چاہئے۔اس کو سرکاری سطح پر منانا صحیح نہیں ہے۔ یہ غریب لوگوں کا انٹرٹینمینٹ تھا جسے گیارہ ستمبر کے بعد کے روشن خیالوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ہائیجیک کرلیا ہے۔پہلے تو اس کو ہم لوگ جشنِ بہاراں کا نام دیتے تھے لیکن اب ہم نے بسنت کہنا شروع کردیا ہے، یعنی کہ بہار کی آمد بہت ہی فضول رسم سے کرتے ہیں۔۔۔۔



یہ کام کافروں کا ہے مسلمانوں کا نہیں جو لوگ اللہ کے حکم کے آگے کاروں کو فالو کرتے ہیں ان کو اس کی سزا مرنے کے بعد بھگتنی پڑے گی اور جب کوئی اس گندے کام کو کرتے  اسلام کسی بھی قسم کی تفریح سے نہیں روکتا۔ بشرطیکہ یہ تفریح کسی کی جان، مال یا عزت کو داؤ پر لگاکر نا حاصل کی جائے۔ اسی طرح بسنت کے لئے بھی اسلام میں کوئی منادی نہیں ہے لیکن اس کے لئے ضابطۂ اخلافق ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ اول تو اس کھیل کو آبادی سے باہر منتقل کردیا جائے تاکہ دھاتی ڈور سے شہ رگ کٹنے کے واقعات نا ہوں اور نہ ہی کرنٹ لگنے کے واقعات ہوں۔ بسنت ہندو دھرم کا مخصوص تہوار ہے، جو ہزاروں سال سے اُن کی عید کے طور پر معروف چلا آرہا ہے، اس دن اِن کے ہاں طرح طرح کے کھانے پکاکربرہمنوں کوکھلائے جاتے تھے،مستند مؤرخ وریاضی دان ابوریحان البیرونی کہتے ہیں:”اسی مہینے ( یعنی بیساکھ) میں استواء ربیعی ہوتا ہے جس کا نام بسنت ہے، حساب سے اس وقت کا پتہ لگا کر اس دن عید کرتے اور برہمنوں کو کھلاتے ہیں ۔”بہار کے پہلے ہفتے جب کھیتوں میں سرسوں کے پیلے پھول لہرانے لگتے ہیں تو یہ لوگ زرد کپڑے پہنتے ہیں ، پیلے چاول کھاتے ہیں ، بھنگڑا ناچ ہوتا ہے، یہ تہوار مناکر اپنی دیوی”سرسوتی” اور دوسری دیویوں اور دیوتاؤں کو یہ لوگ خراج تحسین پیش کرتے ہیں 

پیر، 9 فروری، 2026

امجد اسلام امجد -اگر کبھی میری یاد آئے

 

 اگر کبھی میری یاد آئے
تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں
کسی ستارے کو دیکھ لینا
 ا مجد اسلام امجد-ایک  عالمی  اور  پاکستانی  شہرت یافتہ اردو شاعر، ڈراما نگار، گیت نگار، کالم نگار تھے۔ 50 سال پر محیط کیریئر میں انھوں نے ستر سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ انھیں اپنے ادبی کام، شاعری اور ٹی وی ڈراموں کے لیے بہت سے اعزازات ملے، جن میں تمغہ حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز اور ہلال امتیاز شامل ہیں۔سوانح۰امجد اسلام کی پیدائش 4 اگست 1944 کو لاہور میں ہوئی۔ انھوں نے اسلامیہ کالج لاہور سے بی۔ اے کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی            سے اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔  انھوں نے اپنے کیریئر کے آغاز ایم اے او کالج لاہور کے شعبہ اردو میں استاد کی حیثیت سے کیا۔ 1975ء اور 1979ء کے درمیان امجد پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے ڈائریکٹر رہے۔  1989ء میں انھیں اردو سائنس بورڈ کا ڈائریکٹر بنادیا گیا۔ انھوں نے چلڈرن لائبریری کامپلیکس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں۔اعزازات امجد اسلام امجد کو ان کی ادبی خدمات کی وجہ سے انھیں تمغائے حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔


امجد اسلام امجد ادبی محفلوں کی جان تھے اور اردو ادب کا مان بھی۔ ادب کے کئی شعبوں میں اپنے تخلیقی رنگ دکھائے۔ 40 سے زیادہ کتابیں لکھیں، تراجم کئے، کالم لکھے، نقاد اور ڈرامہ نگار کے حوالے سے نام کمایا، غزلیں تخلیق کیں اور جدید نظم نگاری کے موجد          قرار پائے۔ پی ٹی وی پر ان کے ڈراموں نے تو ہر طرف دھوم مچا دی ۔ پاکستان ہی نہیں بھارت میں بھی ان کے ڈرامے اتنے شوق سے دیکھے جاتے تھے کہ سڑکیں ویران اور بازار سنسان نظر آتے تھے۔  ۔ ان کی طبیعت میں زندہ دلی، شگفتگی تھی۔ وہ جس محفل میں بھی ہوتے وہاں قہقہے       گونجتےتھے۔پروڈیوسر ساحرہ نے ان سے سیریزکیلئے ''برزخ‘‘ کے نام سے ایک ڈرامہ لکھوایا۔ اسی سلسلے میں ''موم کی گڑیا‘‘ کے نام سے دوسرا ڈرامہ بھی ان کا ہی لکھا ہوا تھا۔انہوں نے 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں سرکاری ٹی وی کیلئے متعدد ایسے ڈرامے تحریر کیے جنہوں نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ یہ وہ ڈرامے ہیں جو شاید ہی کبھی ناطرین کے ذہنوں سے محو ہو سکیں۔ ان کے مقبول ترین ڈراموں میں وارث، دہلیز، سمندر، وقت، رات، فشار، دن، ایندھن سمیت دیگر شامل ہیں۔


 ان کی برجستگی، جملے بازی اور مزاح مشہور تھا۔ ان کے کالم میں تازہ کاری تھی اور توانائی بھی۔نہوں نے اپنے ڈراموں اور تصانیف کے ذریعے ایک نسل کی فکری آبیاری کی۔ ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں بہت سے ملکی اور غیر ملکی ایوارڈز سے نوازا گیا حکومت پاکستان نے انہیں 1987 میں تمغہ حسن کارکردگی اور 1998 میں ستارہ امتیاز سے نوازا۔ پانچ مرتبہ ٹیلی ویژن کے بہترین رائٹر، 16 گریجویٹ ایوارڈز حاصل کئے۔ 2019 میں انہیں ترکی کے اعلیٰ ثقافتی اعزاز نجیب فاضل انٹرنیشنل اینڈ کلچرل آرٹس سے نوازا گیا۔  اپنے کیریئر کا آغاز شعبہ تدریس سے کیا۔ پنجاب آرٹس کونسل، اردو سائنس بورڈ اورچلڈرن لائبریری کمپلیکس سمیت متعدد سرکاری اداروں میں سرکردہ عہدوں پر ذمہ داریاں نبھائیں۔مصروف ہونے کے باوجود تسلسل کے ساتھ درس و تدریس کے شعبے سے بھی جڑے رہے ، ان کی خاص بات تھی کہ وہ استاد کی حیثیت سے کتاب سامنے رکھ کر نہیں پڑھاتے تھے۔انہوں نے کہا کہ امجد اسلام امجد نے اپنی زندگی میں لاتعداد نوجوانوں کو پڑھایا ، وہ صرف زبان ہی نہیں سکھاتے تھے، بلکہ اس کو تخلیقی انداز میں استعمال کرنے کی ترغیب بھی دیتے تھے۔ ان کی تعلیم کی جانب ماڈرن اپروچ نے انہیں ہردل  عزیزی کی اونچی دہلیز پر لا کھڑا کیا تھا 


 اردو ادب کے فروغ کے لئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے قریبی      دوستوں کا کہنا ہے کہ مشاعرے کی روایت میں غزل سنائی جاتی ہے لیکن امجد اسلام امجد یہاں بھی اپنی الگ راہ بنانے والوں میں شامل تھے۔وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مشاعروں میں نظمیں سنانے میں ایسی کامیابی حاصل کی کہ اکثر ان کی نظمیں سامعین کو یاد ہوتی تھیں اور ان کے ساتھ ساتھ انہیں پڑھا کرتے تھے۔ایوب خاور کے بقول امجد اسلام امجد غزل کے تو اچھے شاعر تھے ہی، نظم اور نغمہ نگار ی میں بھی انہیں کمال حاصل تھا۔ ایک زمانےمیں ترقی پسند شاعر ی کی طرف رجحان ہونے کی وجہ سے ان کی شاعری میں ایک اور زاویے کا اضافہ ہوگیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مشاعروں میں نظمیں سنانے میں ایسی کامیابی حاصل کی کہ اکثر ان کی نظمیں سامعین کو یاد ہوتی تھیں اور ان کے ساتھ ساتھ انہیں پڑھا کرتے تھے۔ایوب خاور کے بقول امجد اسلام امجد غزل کے تو اچھے شاعر تھے ہی، نظم اور نغمہ نگار ی میں بھی انہیں کمال حاصل تھا۔ ایک زمانےمیں ترقی پسند شاعر ی کی طرف رجحان ہونے کی وجہ سے ان کی شاعری میں ایک اور زاویے کا اضافہ ہوگیا تھا۔
اور پھر قانون قدرت کے مطابق     انہوں نے دائ  اجل کو لبیک  کہا اور لاہور کی  زمین میں  خاک   کی چادر اوڑھ  کر سو گئے  تاریخ وفات:10 فروری 2023ء 
 

اتوار، 8 فروری، 2026

کلہوڑا خاندان کا دور سندھ کی تاریخ کا درخشاں با ب تھا،

                                                                    

کلہوڑا خاندان کا دور سندھ کی تاریخ کا درخشاں با ب تھا، جس کے آثار آج بھی خطے میں جا بجا نظر آتے ہیں۔ مغل سلطنت کے دور میں ملتان کے گورنر ، شہزادہ معزالدین نے کلہوڑاحکمرانوں کواپنے زیر نگین رکھنے کے لیے 1700ء میں ان کے مرکزی گائوں گاڑہی (موجودہ تحصیل خیرپور ناتھن شاہ) پر حملہ کیا، کلہوڑو کو شکست ہوئی اور ان کے سردار میاں دین محمد کلہوڑو گرفتار ہوئے، جنہیں ملتان لے جاکر ان کے 25 ساتھیوں کے ساتھ سزائے موت دی گئی۔ ان کے چھوٹے بھائی میاں یار محمد کلہوڑونے خیرپور ناتھن شاہ سے فرار ہوکر خان آف قلات کے پاس پناہ لی۔ ایک سال بعد1701ء میں میاں یارمحمد کلہوڑو سندھ آئے اور گائوں گاہا (تحصیل جوہی) میں’’ میانوال تحریک‘‘ کو فعال کیا اور سامتانی، مرکھپور اورفتح پور (اب دادو ضلع کے گائوں) کے علاقوں میں اپنا اثرنفوذ بڑھایا۔ انہوں نے مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے پاس ایلچی بھیجا جس نے انہیں ’’ خدایار‘‘ کا لقب دے کر سندھ پرحکم رانی کی سند عطا کی۔خدایار خان نے ضلع دادو میں’’ گاہا گائوں‘‘ کے قریب پنہور قبیلے کی “شکارپور پنہور‘‘ نامی بستی میں’’ خدا آباد‘‘ کے نام سے نیا شہرتعمیر کراکر اسے اپنا دارالحکومت قرار دیا۔ مورخین کے مطابق خدا آبادشہر وسیع و عریض رقبے پر محیط تھا۔ کلہوڑا حکم رانوں نے اس میں بے شمار تعمیرات کرائی تھیں۔ یہاں حکمرانوں کی حویلیوں، محلات کے علاوہ دیگر فلک بوس اور خوبصورت عمارتیں تھیں۔کلہوڑوں کا عظیم شہر ’’خدا آباد‘‘شہر کے عین وسط میں حکم رانوں کی رہائش کے لیے ایک محل تعمیر کرایا گیا تھا


جو  تعمیراتی فن کا اعلیٰ نمونہ تھا۔ اس کی عمارت اتنی بلند و بالا تھی کہ اس کی بلندی کی پیمائش کے لیے’’ اصطرلاب‘‘(ایک آلہ جس سے ستاروں کی بلندی ، مقام اور رفتار دریافت کرتے ہیں) اس شہر میں بڑے باغات تھے جن میں سو، بہی، ترنج، صنوبر، ناشاپاتی کے درخت اور انگور کی بیلیں لگی ہوئی تھیں۔ پھولوں میں گلاب، چنبیلی، نرگس، نسرین، نیلوفر، سوسن، سنبل، ہزارہ، گل خیرو کے پودے لگے ہوئے تھے، جب کہ ان میں مختلف اقسام کے پرندے جن میں کبوتر، تدرو، کبک اور اور دیگر، چہچہاتے پھرتے تھے۔ ایک باغ کا نام ’’علی باغ‘‘ تھا۔ اس میں نہریں بہتی تھیں جب کہ قریب ہی شکار گاہ تھی۔ نہر کے کنارے ہر وقت ایک کشتی موجود رہتی تھی، جس پر کلہوڑا حکم راں سیر کیا کرتے تھے۔ مورخین نے اس شہر میں ایک بازار کی موجودگی کی بھی نشان دہی کی ہے جس کے صرف کھنڈرات باقی رہ گئے ہیں۔ خدا آباد سے ایک میل کے فاصلے پر میاں یار محمد کلہوڑا کا مقبرہ ہےجسے میاں غلام شاہ کلہوڑا نے تعمیر کرایا تھا۔ یہ مربع شکل کی عمارت ہے جس پرخوب صورت گنبد بھی بنا ہوا ہے۔میاں یارمحمد نے جامع مسجدکی بنیاد رکھی جسےان کے بیٹے، میاں نور محمد کلہوڑو نے تعمیر کرایا،جو اسلامی فن تعمیر کا نادر نمونہ ہے ۔اس کی دیواریں مغلیہ اوراسلامی نقش و نگار سے آراستہ ہیں۔ قبہ (گنبد) اتنا بلند ہے کہ آسمان کو چھورہا ہے۔ نقش و نگار میں ((شنگرف ‘‘ کو با افراط استعمال کیا گیا تھا۔ اس کے صحن کے دو حصےتھے، ایک 80فٹ لمبا اور 21فٹ چوڑا جب کہ دوسرا 80فٹ لمبا اور 25 فٹ چوڑا ہے۔ 


’’میر علی شیر قانع ٹھٹھوی‘‘ نامور مؤرخ
میر علی شیر قانع کے خاندان کو کبھی بھی فکرِ معاش کا سامنا نہیں رہا۔ قدیم خاندانی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیر کا خاندان شروع سے ہی معاش کے حوالے سے خوشحال اور فارغ البال تھا۔میر علی شیر کے جدِ امجد میر سید شکر اللہ شیرازی جب 927 ھ میں ہجری میں ٹھٹھہ آئے تو ارغون سرکارکی طرف سے وظیفہ جاری ہوا۔ ہمایوں کے فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیر کے خاندان کو مغل شہنشاہ نصیر الدین ہمایوں کی طرف سے بھی وظیفہ جاری ہوا تھا ا ور ساکرو پرگنہ میں کچھ زمین بطورمالی تعاون بھی ملی تھی۔ مرزا جانی بیگ ترخان نے بھی ـجون پرگنہـ میں کئی گاؤں میر علی شیر کے خاندان کو بطور مالی تعاون دئیے ۔مغل بادشاہ جہانگیر نے سید ظہیر الدین بن سید شکر اللہ ثانی شیرازی کے لیے دھان کی فصل کا کچھ حصہ سالانہ بطور وظیفہ مقرر کیا۔میاں نور محمد کلہوڑو کے فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیر کے والدکو سید عزت اللہ شیرازی کو جگت پور اور ککراللہ کے کئی گاؤں بہ بطور جاگیر ملے تھے۔ اس کے علاوہ میاں غلام شاہ کلہوڑو اور میر فتح علی خان تالپور نے بھی میر علی شیر کے خاندان کو وظیفہ جات اور مراعات عطا کیں۔ میر علی شیر سندھ کے کلہوڑا دربار کے شاہی مورخ تھے۔ کلہوڑا حکمران میاں غلام شاہ کلہوڑو نے انہیں اپنےخاندان کی تاریخ لکھنے پر مامور کیا تھا لیکن وہ یہ کام نا معلوم وجوہات کی بنا پر مکمل نہ کرسکے۔میر علی شیر قانع بارہ سال کی عمر یعنی 1152ھ میں جب وہ مکتب میں تحصیل علم کررہے تھے ، مشقِ سخن کی ابتدا کی۔ اسی عمر میں آٹھ ہزار اشعار کا دیوان مرتب کیا جس میں سبھی اصنافِ سخن شامل تھیں، لیکن نا معلوم وجوہات کی بنا پر انہوں نے تمام دیوان دریا برد کردیا۔ تقریباً دو سالہ خاموشی کےبعد یعنی1155ھ میں میر علی شیر کی میر حیدر ابو تراب کامل جیسے استاد سے ملاقات ہوئی اور انہی بزرگ کی صحبت کی بہ دولت دوبارہ شاعری کا آغاز کرنے کے لیےان کی شاگردی اختیار کی۔ میر علی شیر قانع کثیر التصانیف مصنف تھے، انہوں نے شاعری، تاریخ، تذکرہ، سیرو سیاحت، لغت، دائرۃ المعارف اور سوانح سمیت مختلف موضوعات پر لاتعداد کتب تحریر کیں۔ ان تصانیف میں دیوان علی شیر ، مثنوی قضا و قدر، مثنوی قصۂ کامروپ ، دیوان قال غم،ساقی نامہ، واقعاتِ حضرت شاہ، تزویج نامہ حسن و عشق، اشعارِ متفرقہ در صنایع و تاریخ، بوستان بہار المعروف مکلی نامہ، مقالات الشعرا، تاریخ عباسیہ، تحفۃ الکرام ، اعلانِ غم (مثنوی)، زبدۃ المناقب (خلفائے راشدین اور حضرات اثنا عشری کے مناقب)، مختار نامہ (مختار ثقفی کے حالات)، نصاب البلغا(قاموس کی طرز پر کتاب)، مثنوی ختم السلوک، شجرۂ اطہر اہلبیت، معیارِ سالکان طریقت (سندھ اور بیرونِ سندھ 500 بزرگ و مشاہیر کا تذکرہ)، بیاض محک الشعراء اور انشائے قانع وغیرہ شامل ہیں جن میں سے سب سے زیادہ شہرت تحفۃ الکرام کو ملی۔ میر علی شیرکا مطالعہ وسیع تھا جس کا ثبوت تحقۃ الکرام میں جا بجا نظر آتا ہے۔انہوں نے تحفۃ الکرام قلمبند کرکے سندھ کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے اہلِ علم و قارئین پر عظیم احسان کیا ہے۔ اس کتاب کا میر علی شیر قانع کے ہاتھ سے تحریر کردہ دستخط شدہ نسخہ اورینٹل کالج لاہور کے سابق پرنسپل، پروفیسر مولوی محمد شفیع کے ذاتی کتب خانے میں اور دو نسخے برٹش میوزیم لندن میں موجود ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیرقانع 1188ھ تک مذکورہ کتاب میں ترامیم و اضافہ کرتے رہے تھے۔
افغان محقق عبد الحئی حبیبی کے مطابق’’میرقانع ایک توانا مصنف، دقیق مورخ اور فارسی زبان کے اعلیٰ درجہ کےشاعر تھے۔ ان کی منزلت اور ان کے علم کا اندازہ ان کی تالیف کردہ کتب سے لگایا جاسکتا ہے۔میر علی شیر قانع، فن تاریخ نویسی، صنائع و بدائعِ ادبی میں خاص طور پر مہارت رکھتے تھے۔فنِ لغت، الفاظ کی شناسائی اور مختلف زبانوں جیسے عربی، فارسی، ترکی ، سندھی اور ہندی وغیرہ کی اصطلاحات کے متعلق وسیع معلومات رکھتے تھے۔مختصر الفاظ میں کہا جائے تو میر علی شیر قانع جیسے بافضیلت اور ہنر مند رجال زمانے میں کم ہی نظر آتے ہیں‘‘۔ سندھ کے عظیم مورخ اور باکمال شاعر 1203ھ کو 64 سال کی عمر میں ٹھٹہ شہر میں اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے اور اپنے پیچھے علم و ادب کے شاہکار بطور یادگار چھوڑ گئے۔ 
 

ہفتہ، 7 فروری، 2026

ہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائد

 


زمانہ قدیم سے دوا کے طور پر استعمال کی جانے والی ہینگ اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلامیٹری خصوصیات کی حامل ہے،ہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائد                   ہینگ بے پناہ خوبیوں کی وجہ سے انسانی صحت کے لیے انتہائی مُفید ہے اور ہزاروں سال پرانی نباتاتی دوا ہے۔ہینگ کے متعدد استعمال ہیں، ہینگ مختلف اقسام  میں پائی جاتی ہے جن میں ہیرا ہینگ کو بہترین قرار دیا جاتا ہے، ہینگ جیب پر بھاری مگر افادیت کے اعتبار سے بے شمار فوائد کی حامل ہونے کے سبب بہت قیمتی بھی ہے، ہینگ کے استعمال سے دل اور نظام ہاضمہ خاص طور پر گیس، بلغم، پیٹ درد اور دوسری بہت سی بیماریوں کو ختم کرنے کے لیے اکسیر ہے۔ہینگ میں قدرتی طور پر اینٹی بائیوٹک خصوصیات پائی جاتی ہیں جس کے سبب یہ دمہ، کھانسی، سینے کے بلغم، کالی کھانسی اور پسلیاں چلنے کے درد اور سردی میں انتہائی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔استعمال-بلغمی کھانسی میں ہم وزن سونٹھ پاؤڈر اور شہد میں ایک چٹکی ہینگ ملا کر استعمال کرنے سے سے بلغمی کھانسی میں آرام ملتا ہے۔بلغم آنے کی وجہ سے سینے میں درد بھی ہوتا ہے، ایسے میں ہینگ اور پانی کو ملا کر سینے پر ملنے سے سکون کی نیند آتی ہے۔پسلی کے درد میں عمدہ ہینگ باریک پیس لیں اور انڈے کی زردی میں ملا کر لیپ کریں، پسلی کے درد میں آرام آئے گا ۔نزلے سے ہونے والا سر کا درد ہو یا پھر مائیگرین میں ہینگ کا استعمال فوری راحت دیتا ہے۔کافور، ہینگ، پیپر منٹ اور سونٹھ کو باریک پیس کر عرق گلاب میں ملا کر لیپ بنا لیں اور اس لیپ کو سر پر لگا کر ہلکے ہاتھ سے مسا ج کریں تھوڑی دیر میں سر کے درد میں آرام محسوس کریں گے۔



-پیٹ میں درد کا علاج                 'ہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدپیٹ کے درد،قے، جگر کا ورم، بد ہضمی، گردے کا درد، بھوک کی کمی ہو یا پیٹ میں گیس ہو تو ہینگ گرم پانی کے ساتھ کھانے سے پیٹ کا ہر طرح کا درد ٹھیک ہو جاتا ہے۔-معدہ کا درد-جن افراد کو معدہ کمزور اور بار بار معدے کی کارکردگی متاثر ہونے کی شکایت ہو تو ہینگ کا استعمال منقہ کے ساتھ کرنے سے افاقہ ہوتا ہے۔استعمال        منقہ کے بیج نکال کر اس میں زرا سی ہینگ بھریں اور کھا لیں ،معدے کے درد میں فوری آرام آئے گا، یہ ٹوٹکا ان لوگوں کے لیے بھی مفید ہے جنہیں معدے کے درد سے غنودگی طاری ہونے لگتی -ہو یا ان چکر آنے کی شکایت ہو۔بالوں کا جھڑناہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدہینگ کا استعمال بالوں کے لیے نہایت مفید ہے، اس کا بالوں کی جڑوں میں لیپ کرنے سے سے بال مضبوط اور چمکدار ہوتے ہیں۔-استعمالدو چمچ ہینگ میں آدھا چائے کا چمچ پسی پوئی کالی مرچ اور دو کھانے کے چمچ سرکہ ملا کر بالوں کی جڑوں میں مساج کریں، چند دنوں میں بال جھڑنا بند ہو جائیں گے۔-دانت کا دردہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدہینگ جسم کے ہر درد میں مفید اور سوجن ختم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے، دانت کے درد میں اس کا استعمال فوری راحت دیتا ہے، داڑھ کے درد میں ایک چٹکی ہیرا ہینگ داڑھ میں رکھنے سے فوراً آرام آتا ہے ۔کالی مرچ، ہینگ، نیم کے خشک پتے اور لاہوری نمک ہم وزن لے کر باریک پیس لیں، ہفتے میں دو بار اس منجن کا استعمال کریں، نہ دانت میں کیڑا لگے گا اور نہ ہی ٹھنڈا گرم لگنے کی شکایت ہو گی



۔موڈ خوشگوار -بنانے کے 5 آسان طریقےدانت کا رد میں ختم کرنے کے لیے ایک کپ پانی میں دو چٹکی ہینگ اور دو لونگیں ڈال کر ابال لیں اور اب اس پانی سے کلی کریں، دانت کے درد میں آرام آئے گا۔لیموں کے رس میں ہینگ ملا لیں اور روئی سے دانت پر لگائیں، دانت سے خون اور پیپ آنا بند ہو جائے گا۔کتے کے کاٹےکا علاج                         ہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدایک ماشہ ہیرا ہینگ کو عرق گلاب میں حل کر کے روزانہ پلائیں، ہینگ کو پانی میں گھول کر پاگل کتے کے کاٹے پر -لگانے سے آرام آتا ہے ۔چیونٹیاں بھگاناہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدہینگ کو پیس کر چیونٹیوں کے سوراخ میں ڈالنے سے چیونٹیاں بھاگ جاتی ہیں، کچن کے کیبنٹس کے کونوں میں بھی ہینگ لگانے سے چیونٹیاں اور لال بیگ نہیں آتے۔کان کے درد میں آرامہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائداکثر بچوں کے کان میں درد رہتا ہے اور بڑوں کو بھی نزلہ جم جانے کی وجہ سے کان کے درد کی شکایت رہتی ہے، ایسے میں ہینگ کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے ۔ استعمالایک تولہ ہینگ، ایک تولہ سونٹھ اور ثابت دھنیا پیس کر ایک کلو پانی اور آدھا پاؤ سرسوں کے تیل میں ہلکی آنچ پر پانی خشک ہو نے تک پکائیں۔اب تیل کو ٹھنڈا کر کے چھان کر بوتل میں بھر کر رکھ لیں۔کسی قسم کے بھی کان کے درد میں ہلکا گرم کر کے چند بوندیں کان میں ڈال لیں، اس عمل سے فوری آرام آئے گا۔/ہینگ کیا ہے؟ اس کے فوائد، استعمال، نقصانات کیا ہیں؟ہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدزمانہ قدیم سے دوا کے طور پر استعمال کی جانے والی ہینگ اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلامیٹری خصوصیات کی حامل ہے، ہینگ بے پناہ خوبیوں کی وجہ سے انسانی صحت کے لیے انتہائی مُفید ہے اور ہزاروں سال پرانی نباتاتی دوا ہے۔



ہینگ کے متعدد استعمال ہیں، ہینگ مختلف اقسام  میں پائی جاتی ہے جن میں ہیرا ہینگ کو بہترین قرار دیا جاتا ہے، ہینگ جیب پر بھاری مگر افادیت کے اعتبار سے بے شمار فوائد کی حامل ہونے کے سبب بہت قیمتی بھی ہے، ہینگ کے استعمال سے دل اور نظام ہاضمہ خاص طور پر گیس، بلغم، پیٹ درد اور دوسری بہت سی بیماریوں کو ختم کرنے کے لیے اکسیر ہے۔ہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدزمانہ قدیم سے دوا کے طور پر استعمال کی جانے والی ہینگ اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلامیٹری خصوصیات کی حامل ہے، ہینگ بے پناہ خوبیوں کی وجہ سے انسانی صحت کے لیے انتہائی مُفید ہے اور ہزاروں سال پرانی نباتاتی دوا ہے۔ہینگ کے متعدد استعمال ہیں، ہینگ مختلف اقسام  میں پائی جاتی ہے جن میں ہیرا ہینگ کو بہترین قرار دیا جاتا ہے، ہینگ جیب پر بھاری مگر افادیت کے اعتبار سے بے شمار فوائد کی حامل ہونے کے سبب بہت قیمتی بھی ہے، ہینگ کے استعمال سے دل اور نظام ہاضمہ خاص طور پر گیس، بلغم، پیٹ درد اور دوسری بہت سی بیماریوں کو ختم کرنے کے لیے اکسیر ہے۔-نز لہ، کھانسی، دمہہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدہینگ میں قدرتی طور پر اینٹی بائیوٹک خصوصیات پائی جاتی ہیں جس کے سبب یہ دمہ، کھانسی، سینے کے بلغم، کالی کھانسی اور پسلیاں چلنے کے درد اور سردی میں انتہائی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔استعمال  بلغمی کھانسی میں ہم وزن سونٹھ پاؤڈر اور شہد میں ایک چٹکی ہینگ ملا کر استعمال کرنے سے سے بلغمی کھانسی میں آرام ملتا ہے۔بلغم آنے کی وجہ سے سینے میں درد بھی ہوتا ہے، ایسے میں ہینگ اور پانی کو ملا کر سینے پر ملنے سے سکون کی نیند آتی ہے۔’اسافوئیٹیڈا‘ (Asafoetida) جسے اردو زبان میں ہینگ کہا جاتا ہے، ایک قدرتی گوند ہے جو پودے کی جڑ سے نکلنے والے دودھ سے حاصل کی جاتی ہے، یہ صدیوں سے کھانوں میں ذائقہ بڑھانے اور روایتی طب میں استعمال ہو رہی ہے تاہم جدید سائنس اس کے تمام فوائد کی مکمل تصدیق نہیں کرتی                     ہینگ افغانستان اور ایران میں پائی جانے والی جڑی بوٹی سے حاصل ہوتی ہے، خام حالت میں اس کی بو نہایت تیز اور ناگوار ہوتی ہے، اسی لیے اسے ’بدبودار گوند‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے لیکن پکانے کے بعد اس کا ذائقہ لہسن اور پیاز جیسا خوشگوار ہو جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق ہینگ میں اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو جسم میں سوزش کم کرنے اور خلیوں کو نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں، کچھ محدود مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ یہ بدہضمی، پیٹ کے پھولنے اور گیس میں کمی کے لیے مفید ہو سکتی ہے۔آیورویدک و طب میں ہیِنگ کو ہاضمہ بہتر بنانے، سانس کے امراض اور بعض دیگر بیماریوں کے علاج میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔جدید تحقیق میں اس کے جراثیم کُش ہونے، بلڈ پریشر کم کرنے، شوگر لیول گھٹانے اور دماغی صحت سے متعلق ممکنہ فوائد پر بھی ابتدائی شواہد سامنے آئے ہیں تاہم یہ تحقیق زیادہ تر جانوروں یا لیبارٹری کی سطح تک محدود ہے۔ممکنہ نقصانات:ماہرین کا کہنا ہے کہ ہینگ کا کھانوں میں معمولی مقدار میں استعمال عموماً محفوظ ہے لیکن اس کے زیادہ مقدار یا سپلیمنٹ کی شکل میں استعمال سے اسہال، گیس، سر درد یا دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور بچوں کو اس کے استعمال سے گریز تجویز کیا جاتا ہے۔بلڈ پریشر یا خون کو پتلا کرنے والی ادویات استعمال کرنے والوں کے لیے بھی ہینگ سے احتیاط کرنا ضروری ہے۔استعمال کا طریقہ:ہیِنگ عام طور پر گرم تیل میں ڈال کر استعمال کی جاتی ہے تاکہ اس کی تیز بو کم ہو جائے۔ 

عمر شریف گریٹ کامیڈی کنگ



1979    عمر شریف   نے اپنی معصوم عمر کی صرف چار بہاریں دیکھی تھیں کہ                        ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور ان کے خاندان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔وہ کراچی میں جس علاقے میں رہائش پذیر رہے وہاں قریب قوالوں کے بھی گھر تھے۔ بچپن اور لڑکپن میں ان کی دوستی ان قوالوں کے بچوں سے رہی اور جب ہوش سنبھالا تو اپنے محلے کے مختلف کرداروں سمیت مشہور فلمی اداکاروں کی بول چال اور انداز کی نقالی کرنے لگے۔یہی وجہ تھی کہ عمر شریف کی بذلہ سنجی، جملے بازی اور لطیفہ گوئی پورے علاقے میں مشہور ہو گئی تھی۔ سکول کے بعد عمر شریف جب گلی محلے میں نکلتے تو ان کے ارد گرد لڑکوں کا ہجوم ہوتا اور وہ انھیں ہنسانے میں مصروف ہو جاتے۔عمر شریف کراچی کے آدم جی ہال  کے کیفے ٹیریا میں جا کر بیٹھ جاتے  تھے ایک دن کا زکر ہے کہ جاری سٹیج ڈرامے کے ایک گجراتی اداکار کو اپنے عزیزکی وفات پر ڈرامہ چھوڑ کر جانا پڑا تو شو سے دو گھنٹے قبل عمرشریف کو بلایا گیا اور میک اپ روم میں کاغذات کا پلندہ ہاتھ میں یہ کہہ کر تھما دیا گیا کہ تمہیں جوتشی بننا ہے۔عمر شریف نے میک اپ کے دوران  ڈائلاگ یاد کئے  ان کو اس ڈرامے  میں  تین بار انٹری دینا تھی۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے متعدد فنکار بتاتے ہیں کہ پہلی ہی انٹری پر ہی عمرشریف نے اپنی پرفارمنس سے حاضرین کے دل جیت لیے اور جب وہ سٹیج سے ہٹے تو دیر تک تالیاں بجتی رہیں۔ 14 سال کے عمر شریف کو اس ڈرامے میں بہترین کارکردگی دکھانے پر شو کے آخری دن پانچ ہزار روپے، 70 سی سی موٹرسائیکل اور پورے سال کا پٹرول انعام میں دیا گیا تھا۔اور پھر انھوں نے اس میدان میں اداکاری کے علاوہ بطور مصنف اور ہدایتکار بھی اپنے فن کا لوہا منوایا۔



 عمر شریف نے 70 سے زائد ڈراموں کے سکرپٹ لکھے جن کے مصنف، ہدایتکار اور اداکار وہ خود تھے اور ان ڈراموں نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے۔بہروپیا‘ وہ کھیل تھا جس میں عمر شریف کا ٹیلنٹ کھل کر سامنے آیا اور پھر ’بڈھا گھر پہ ہے‘ اور ’بکرا قسطوں پہ‘ نے انھیں پاکستان کے ساتھ ساتھ انڈیا میں بھی وہ مقبولیت عطا کی کہ عمر شریف برصغیر کے پسندیدہ مزاحیہ فنکار بن گئے۔ڈرامہ بکرا قسطوں پہ کی مقبولیت اس قدر تھی کہ عمر شریف نے اس کے پانچ پارٹ بنائے۔ عمر شریف نے پہلی بار سٹیج ڈرامے ریکارڈ کرنے کا رواج بھی ڈالا۔ ’یس سر عید، نو سر عید‘ عمر شریف کا پہلا ڈرامہ تھا جس کی ویڈیو ریکارڈنگ کی گئی تھی۔ سٹیج ڈراموں کی ویڈیو ریکارڈنگ نے انھیں برصغیر سمیت دنیا بھر میں اردو اور پنجابی بولنے والوں کا پسندیدہ کامیڈین بنا دیا تھا۔  عمر شریف کا اصل نام محمد عمر تھا اور وہ سرکاری ٹی وی کے مطابق کراچی میں 19 اپریل 1960 کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کی عمر چار سال تھی کہ والد کا انتقال ہو گیا اور ان کے خاندان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔وہ کراچی میں جس علاقے میں رہائش پذیر رہے وہاں قریب قوالوں کے بھی گھر تھے۔ بچپن اور لڑکپن میں ان کی دوستی ان قوالوں کے بچوں سے رہی اور جب ہوش سنبھالا تو اپنے محلے کے مختلف کرداروں سمیت مشہور فلمی اداکاروں کی بول چال اور انداز کی نقالی کرنے لگے۔


یہی وجہ تھی کہ عمر شریف کی بذلہ سنجی، جملے بازی اور لطیفہ گوئی پورے علاقے میں مشہور ہو گئی تھی۔ سکول کے بعد عمر شریف جب گلی محلے میں نکلتے تو ان کے ارد گرد لڑکوں کا ہجوم ہوتا اور وہ انھیں ہنسانے میں مصروف ہو جاتے۔عمر شریف نے پہلی رات ہی کرشمہ کر دکھایا تھا!  ۔ عمر شریف نے 70 سے زائد ڈراموں کے سکرپٹ لکھے جن کے مصنف، ہدایتکار اور اداکار وہ خود تھے اور ان ڈراموں نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے۔بہروپیا‘ وہ کھیل تھا جس میں عمر شریف کا ٹیلنٹ کھل کر سامنے آیا اور پھر ’بڈھا گھر پہ ہے‘ اور ’بکرا قسطوں پہ‘ نے انھیں پاکستان کے ساتھ ساتھ انڈیا میں بھی وہ مقبولیت عطا کی کہ عمر شریف برصغیر کے پسندیدہ مزاحیہ فنکار بن گئے۔ڈرامہ بکرا قسطوں پہ کی مقبولیت اس قدر تھی کہ عمر شریف نے اس کے پانچ پارٹ بنائے۔ عمر شریف نے پہلی بار سٹیج ڈرامے ریکارڈ کرنے کا رواج بھی ڈالا۔ ’یس سر عید، نو سر عید‘ عمر شریف کا پہلا ڈرامہ تھا جس کی ویڈیو ریکارڈنگ کی گئی تھی۔ سٹیج ڈراموں کی ویڈیو ریکارڈنگ نے انھیں برصغیر سمیت دنیا بھر میں اردو اور پنجابی بولنے والوں کا پسندیدہ کامیڈین بنا دیا تھا۔عمر شریف کی میت آج علی الصبح کراچی پہنچی تھی عمر شریف کی نمازِ جنازہ مولانا بشیر فاروقی نے پڑھائی جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی


لیجنڈری کامیڈین عمر شریف کو ان کی خواہش کے مطابق کراچی میں عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک کردیا گیا۔عمر شریف کی بیوہ زرین غزل نے بتایا تھا کہ اداکار نے ان سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا کہ انہیں عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک کیا جائے۔زرین غزل نے سندھ حکومت سے اپیل کی تھی کہ عمر شریف کی تدفین عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں کرنے کی اجازت دی جائے، جس پر صوبائی حکومت نے مزار انتظامیہ کو ہدایات جاری کی تھیں۔عمر شریف کی تدفین کے موقع پر کئی اہم شخصیات موجود رہیں اور اس موقع پر سیکیورٹی کے انتظامات بھی سخت کیے گئے تھے۔اس سے قبل سہ پہر تین بجے عمر شریف کی نمازِ جنازہ کلفٹن میں واقع پارک میں مولانا بشیر فاروقی نے پڑھائی تھی، جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔قبل ازیں شریف کا جسدِ خاکی گلشن اقبال میں واقع رہائش گاہ سے کلفٹن میں ان کے نام سے منسوب پارک میں پہنچایا گیا تھا۔عمر شریف کی نمازِجنازہ میں سیاست و شوبز سے وابستہ شخصیات نے بھی شرکت کی اس موقع پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری جنازہ گاہ کے اطراف موجود تھی جبکہ میت کی منتقلی کے سلسلے میں بلاول چورنگی سے ضیا الدین ہسپتال جانے والی سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا تھا۔


نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

دروازے کی آہٹ پر وہ اپنے حواسو ں میں لوٹ آئ

    نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے بہت ہمّت کرلی تھی کہ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر