ہفتہ، 28 فروری، 2026

نہر سویز (انٹر نیشنل گیٹ وے آف 2 سیز)

 




نہر سوئز مصر کی ایک  اہم ترین سمندری گذرگاہ ہے جو  دو سمندروں (بحیرہ روم کو بحیرہ قلزم )کو درمیان سے ملاتی ہے۔ اس کے بحیرہ روم کے کنارے پر پورٹ سعید اور بحیرہ قلزم کے کنارے پر سوئز شہر موجود ہے۔ یہ نہر 163 کلومیٹر (101 میل) طویل اور کم از کم 300 میٹر چوڑی ہے۔اس نہر کی بدولت بحری جہاز افریقا کے گرد چکر لگائے بغیر یورپ اور ایشیا کے درمیان آمدورفت کرسکتے ہیں۔ 1869ء میں نہر کی تعمیر سے قبل اس علاقے سے بحری جہاز ایک جانب سامان اتارتے تھے اور بحیرہ قلزم تک اسے بذریعہ سڑک لے جایا جاتا تھا۔ 1869ء میں اس نہر کے کُھل جانے سے انگلینڈ سے ہندوستان کا بحری فاصلہ نہ صرف 4000 میل کم ہو گیا بلکہ مون سون پر انحصار بھی کم ہو گیا۔پہلے اس نہر پر برطانیہ، امریکا اور فرانس کا قبضہ تھا مگر جمال عبد الناصر نے اس نہر کو قومی ملکیت میں لے لیا جس پر برطانیہ، امریکا اور اسرائیل نے مصر سے جنگ چھیڑ دی۔بحیرۂ احمر کو بحرِ اوقیانوس سے ملانے والی نہر سوئز یورپ سے ایشیا کے درمیان تیز ترین آبی گزرہ گاہ ہے اور اس سے یومیہ اربوں روپے کا مالی فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔اس آبی گزرہ گاہ کے ذریعے دنیا کا سات فی صد تجارتی سامان گزرتا ہے جو مصر کے لیے زرِمبادلہ کمانے کا بڑا ذریعہ ہے۔یہ نہر کئی حوالوں سے مشہور ہے جس میں اس کا اہم ترین آبی گزر گاہ ہونا اور اس کی تعمیر پر فرانس اور برطانیہ میں کشمکش اور پھراس کا فنِ تعمیر کا عجوبہ ہونا شامل ہیں۔ دو سمندروں کو جوڑنے والی اس نہر سوئز کو تعمیر ہوئے اب ڈیڑھ سو سال سے زائد ہوچکے ہیں۔


ء 1956میں اس دور کے مصری صدر جمال عبدالناصر نے اسے ریاستی ملکیت میں لینے کا جو اعلان کیا تو یورپ میں اس پر ناامیدی کا اظہار کیا گیا تھا۔ میں قومیائے جانے سے پہلے اس نہر کی ملکیت زیادہ تر برطانوی فرانسیسی کمپنی سوئز سوسائٹی کے پاس تھی۔ برطانیہ اور فرانس نے اس دور کی قاہرہ حکومت کو مذاکرات کے ذریعے اس اقدام سے روکنے کی کوشش بھی کی تھی۔سوئز کینال کی تعمیر سے قبل بحیرہ روم اور بحیرہ احمر سے آبی گزرگاہ جو تجارتی مقاصد کی تکمیل کرسکے، اس کا تصور صدیوں پرانا تھا۔ اسے مسلمانوں کی خلافتِ راشدہ کے دور میں‌ بھی زیرِ غور لایا گیا اور بعد کے ادوار میں بھی اس حوالے سے کوشش کی گئی، لیکن نہر سوئز کے موجودہ آبی راستے پر کام شروع نہیں‌ کیا جاسکا۔ پھر 1798ء میں نیپولین کے دور میں فرانسیسی ماہرین تعمیرات مصر گئے اور انھوں نے بھی یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایسا کوئی بھی منصوبہ حقیقت پسندانہ نہیں ہو گا۔ اس کے بعد برطانوی ماہرین نے بھی اس حوالے سے یہی رپورٹ تیّار کی، لیکن بعد میں اسے حقیقت کی شکل دے دی گئی۔جدید نہرِ سوئز کا منصوبہ 19 ویں صدی کے وسط میں فرانسیسی سفارت کار فرڈیننڈ دے لیسپ نے تیار کیا تھا۔ اس منصوبے کو عملی پیش رفت کے لیے اس زمانے میں مصری  سعید پاشا کے سامنے رکھا گیا تو انھوں نے اجازت دی اور تب نہر کھودنے کے لیے سوئز کینال کمپنی قائم کی گئی۔


اس نہر کی تعمیر کے لیے لاکھوں مزدوروں نے دس سال کی مشقّت اٹھائی اور ہزاروں یورپی کارکن وہاں لائے گئے تھے۔ اس دوران متعدد مسائل اور حادثات کے ساتھ تکمیل کے حوالے سے تنقید اور مایوسی کا اظہار بھی کیا گیا، لیکن مصری حکم ران محمد سعید نے 1861ء میں بالائی مصر سے مزید مزدوروں کو بلوایا اور کام جاری رکھا گیا۔ بالآخر نہر تعمیر کرلی گئی۔17 نومبر 1869ء کو جدید نہر سوئز کا افتتاح کیا گیا بین الاقوامی انرجی ایڈمنسٹریشن کے مطابق خام اور صاف تیل دونوں سمتوں میں جاتا ہے، دسمبر اور فروری کے درمیان تین اعشاریہ چھ ملین بیرل روزانہ نہر کے ذریعے آگے جاتا ہے جس میں سے ایک اعشاریہ پانچ ملین بیرل خام تیل ہوتا ہے۔مشرق کی طرف خام تیل زیادہ جاتا ہے۔ تقریباً ایک اعشاریہ ایک ملین بیرل روزانہ اس عرصے کے دوران مشرق کی طرف گیا جبکہ سمندری راستے سے ایشیا کی طرف جانے والی تیل کا چار اعشاریہ پانچ فیصد بنتا ہے۔اسی طرح تقریباً چار لاکھ بیرل روزانہ مغرب خصوصاً یورپ کی طرف گیا۔ریفائنڈ پروڈکٹس-پچھلے ایک سال کے دوران صرف نو فیصد یا ایک اعشاریہ 54 ملین ریفائیڈ پروڈکٹس بیرل روزانہ نہر سویز کے راستے گزریں۔پلاسٹک اور اس قسم کی دوسری اشیا ریفائنڈ پروڈکٹس میں شامل ہیں۔بین الاقوامی انرجی ایڈمنسٹریشن کے مطابق مشرق کی طرف جانے والے سامان میں زیادہ تر ایندھن، نفتھا اور مائع پٹرولیم گیس شامل ہیں جبکہ زیادہ تر ڈیزل اور جیٹ فیول مغرب کی طرف گیا۔


کینال کے متوازی پائپ لائنز بھی ہیں؟امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹرین کے مطابق 320 کلومیٹر (200 میل) سمڈ پائپ لائن خلیج کو بحیرہ روم کے ساتھ ملاتی ہے اس کے ذریعے یورپ کو جانے والے تیل کا 80 فیصد حصہ جاتا ہے۔سمڈ پائپ لائن کی صلاحیت دو اعشاریہ آٹھ ملین بیرل تیل روزانہ گزارنے کی ہے تاہم عام طور پر اس کی استعداد سے کم کام ہی لیا جاتا ہے۔سویز کینال مصر کے زر مبادلہ کا اہم ذریعہ بھی ہے 2018 میں ایک اعشاری تین ملین بیرل روزانہ اسی نظام کے ذریعے بھجوایا گیا۔اسی طرح ایک اور آپشن افریقہ کے اردگرد کے لیے ہے۔ایل این جی کے لیے اہم بین الاقوامی انرجی ایڈمنسٹریشن کے مطابق نہر سویز 2020 کے دوران چھ اعشاریہ آٹھ فیصد یا بائیس ملین ٹن عالمی ایل این جی تجارت کے لیے استعمال ہوئی۔مشرق وسطیٰ سے یورپ جانے والی ایل این جی کا تقریباً 25 فیصد حصہ بھی یہیں سے گزرا۔نہر سویز کی تاریخ-بحیرہ احمر سے بحر روم کو ملانے کے لیے پہلی نہر فرعون کے دور (1849 تا 1887 قبل مسیح) میں کھو دی گئی۔ تاہم اس کو جدید نہر کی شکل 1869 میں دی گئی تھی۔

جمعہ، 27 فروری، 2026

مترانوالی بستی کے بے گھر مکین کہاں جائیں ؟حصہ دوم


 چوہدری اعجاز چیمہ نے ایک بار بتایا کہ اقتدار میں تھے تو انہیں کہا گیا گاؤں کے چھّڑوں میں ناجائز تجاوزات کو ختم کرائیں مگر میں نے اس وقت غریبوں کا احساس کرتے ہوئے  کہ جب تک انہیں کوئی متبادل جگہ نہیں مل جاتی اس منصوبے پر عمل درآمد سے روک دیا تھا۔ انہوں نے جواب دیا:’’  ترقی اپنی جگہ، مگر میں لوگوں کے گھر کیسے چھین لوں؟ جب میں انہیں چھت دے نہیں سکتا تو ان کی چھت کیوں چھینوں؟‘‘ یہ جملہ آج بھی میرے دل میں گونجتا ہے۔ڈسکہ کے بعد میترانوالی ان چند ایک قصبوں میں شامل ہے جہاں لڑکوں کا کالج ہے، لڑکیوں کا ہائی اسکول ہے، پوسٹ آفس ،کمرشل بینک، دو میل سے زیادہ لمبا بازار اور نوجوانوں کے لیے متعدد پلے گرائونڈ گذشتہ پچاس سالوں پہلے سے ہی موجود ہیں ہے۔ سب کچھ تھا، مگر دیکھ بھال نہ ہونے سے حالت خراب ہو گئی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آج غریبوں کے گھر گرا کر ان کی بددعائیں لی جائیں۔ زرا سوچئے یہ عبادتوں کے شبوروز -یہ روزے کے پابند لوگ  یہ روز کے کمانے اور کھانے والے لوگ  اور اجڑے گھروں کے ٹھنڈے چولھے   




مترانوالی بستی کے بے گھر مکین کہاں جائیں -اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کر زرا سی دیر کو سوچئے  یہ عبادتوں کا  مہینہ  'عید سر پر کھڑی ہے  محنت کشوں کو تو کما کر کنبہ پالنا ہوتا  ہے ان کے پلے جمع پونجی نہیں ہوتی ہے  'وہ وقت جب ان غریبوں نےکبھی چھپر  ڈال کر گھر بنائے تھے تو اْس وقت کی انتظامیہ نے کیوں نہ روکا؟ ایف آئی آر کیوں نہ درج کی؟ عدالت سے رجوع کیوں نہ کیا؟ آج اچانک گھر گرانا ا کہاں کا  انصاف ہے  ۔ہم دل جوڑنے کے لیے بیٹھے ہیں، دل توڑنے کے لیے نہیں۔ ہمیں دکھاوے کا خلوص نہیں چاہیے—نہ ٹک ٹاک اور یوٹیوب والا۔ ہمیں دلوں کا خلوص چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایک ہاتھ سے اگر دو تو دوسرے ہاتھ تک کو خبر نہ ہو۔ خدمت کا مقصد کسی کو طعنہ دینا نہیں بلکہ اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔پیسہ آنا بڑی بات نہیں؛ ظرف آنا بڑی بات ہے۔ میں نے دنیا دیکھی ہے—اسلام آباد سے بیرونِ ملک تک، عالمی فورمز پر ملاقاتیں کیں۔



پنجاب  حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف صاحبہ سے درخواست ہے کہ وہ غیرقانونی تجاوزات پر بے شک اپنا مشن اور عمل جاری رکھیں مگر رمضان شریف کے تقدس اور آنے والی عید الفطرکی خوشیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کم از کم اتنا وقت ضرور دیں کہ ان غریب لوگوں کو سر چھپانے کے لیے کوئی متبادل جگہ مل سکے۔یقینا یہ ہمارے ہی لوگ ہیں اور ہم میں سے ہی ہیں۔ہمیں ان کی غلطیوں کی سزا نہیں دینی بلکہ اصلاح کرنی ہے۔مجھے یقین ہے کہ پنجاب حکومت میری ان گزارشات کو قبولیت بخشے گی۔یہ میترانوالی کے سینکڑوں غریبوں کی نہ صرف اشک شوئی ہو گی بلکہ ایک اصلاح کا بھی احسن ترین موجب بنے گی۔ احساس ویلفیئر کے دوستوں—سید راحت علی شاہ، ذوالفقار علی چیمہ، افضال چیمہ، ظفر بھٹی صاحب، شکیل جنجوعہ، غفور رانا اور دیگر احباب نے حساس ویلفیئر کا دفتر اور عمارت کھڑی کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔میں آج اپنے گھر، اپنی دھرتی کی بات کر رہا ہوں۔




 مگر میترانوالی آ کر قصاب سعید صابری کے پھٹے سے لے کر جارج ساغر (مرحوم) کے پھٹے تک، اور گلشن کلاتھ والے بابا گلزار (مرحوم)کے بنچوں اور پھٹوں پربیٹھ کر میترانوالی کے شہریوں کو یہ پیغام دیتا تھا کہ ہم سب اس دھرتی کے باسی ہیں۔اگر یہ ترقی ہے کہ کرینوں اور بلڈوزروں سے غریبوں کے گھر گرائے جائیں، تو پھر یہ ترقی نہیں، تباہی ہے۔ ان لوگوں کو کیا پیغام دیا گیا جو روز ہزار دو ہزار کما کر بچوں کے لیے روٹی لے جاتے تھے؟غصے سے نہیں، عقل سے سوچیں۔ اقتدار مستقل نہیں ہوتا۔ کل بھٹو تھا، آج وہ قبر میں ہے۔ کل کپتان تھا، آج وہ جیل میں ہے۔ آج کوئی اور اقتدار میں ہے، کل کوئی اور ہوگا۔ مگر مظلوم کی آہ باقی رہتی ہے۔کسی غریب کی تسکین کا باعث بنیں، کسی ظالم کی تسکین کا نہیں۔ جس گھر میں ہانڈی نہیں پکتی، اس کی چھت گرا دینا آسان ہے، مگر اس کا حساب دینا آسان نہیں۔ اللہ کا گھیرا بے آواز ہوتا ہے—اللہ ہم سب کو اس گھیرا سے محفوظ رکھے۔آئیے میترانوالی، سیالکوٹ، ڈسکہ اور پورے پاکستان کے لیے دعا کریں۔ حسد نہیں، خدمت کا مقابلہ ہو۔ نفرت نہیں، اخلاص ہو۔ اور یہ دھرتی—جس نے ہمیں جنم دیا—ہماری نیکیوں سے پہچانی جائے، نہ کہ ہمارے ظلم سے۔

تحریر انٹر نیٹ  سے لی ہے


جمعرات، 26 فروری، 2026

جپسم ایک آبی عنصرکیلشیم سلفیٹ پر مشتمل ہوتا ہے

   


جپسم جو اجزائے ترکیبی کی مناسبت سے آبی کیلشیم سلفیٹ پر مشتمل ہوتا ہے تمام غیر دھاتی قدرتی وسائل میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے ،کیوں کہ یہ صدیوں سے طبی نقطۂ نظر سے سودمند ثابت ہوا ہے۔ مثلاً ہڈیوں کی خلل کی صورت میں ’’سرجری‘‘ کے بعد حفاظتی   خول (پلاسٹر) کے طور پر بہت ہی کارآمد ثابت ہوا ہے جب کہ دوسری طرف دور جدید میں زیر زمین تیل و گیس (پٹرولیم) بردار ساخت میں بطور حفاظتی تہہ کی حیثیت سے دریافت ہونے کی وجہ سے اس کی اہمیت اور بھی دوبالا ہوگئی ہے۔ قدرتی طور پر جپسم کا تعلق تبخیری معادنی خاندان سے ہے، جس میں کیلشیم آکسائیڈ 32.5فی صد، سلیکان ڈائی آکسائیڈ 46.6فی صداور پانی 20.9فی فی صد موجود ہوتا ہے۔ تبخیری معادن سے مراد ایسے تمام قدرتی مرکبات یا معادن جو سمندری پانی کے تبخیری عمل کے نتیجے میں وقع پذیر ہوتی ہیں۔ ’’تبخیری معادن‘‘ (Evaporites) کہلاتی ہیں۔ مثلاً چٹانی نمک (بیلائٹن)، جپسم، این بائیڈر رائیٹ اور دوسری مرکبات بھی شامل ہوتی ہیں جو عام طور پر سمندر کے ان حصوں میں تشکیل پاتی ہیں جو کھلے سمندر سے کٹ جاتی ہے اور طاس نما ساخت میں تبدیل ہوجاتی ہیں، جس میں سمندر کا نمکین پانی کا محلول داخل ہوتا ہے لیکن اس کی واپسی بہت کم ہوتی ہے۔گویا پانی کی بڑی مقدار طاس میں ساکن و جامد رہتی ہے، جس پر تبخیری عمل پر درجۂ حرارت پر اثرانداز ہوتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے پانی بھاپ بند کر فضا میں فرار ہوتا ہے اور طاس کے فرش پر نمک اور جپسم کی قلمیں مرکوز ہوجاتی ہیں لیکن محلول حل پذیری کی بنیاد پر جمع ہوتی ہیں یعنی سب سے کم حل پذیر مرکب سب سے پہلے قلم پذیر ہوتی ہیں۔



 مثلاً کاربونیٹ گروپ اور جس سے زیادہ حل پذیر مرکب والے مرکبات سب سے آخر میں قلم پذیر ہوتی ہیں۔ مثلاً کاربائیڈز۔ چناں چہ طاس میں سب سے پہلے جپسم ’’کیمیائی رسوب کی شکل اختیرا کرتی ہے اس طرح جپسم کی تہہ یکے بعد دیگرے چٹانی نمک کے ساتھ طاس کے فرش پر جمع ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں کیمیائی رسوب مثلاً کیلشیم کاربونیٹ، جپسم کی معتدل مقدار غیر آبی کیلشیم سلفیٹ (این ہائیڈرائٹ) کی آبدیدگی (Hydration) سے گہرائی میں بیرونی دباؤ (سب سے زیادہ گہرائی 100-150میٹر میں بھی تخلیق پاتی ہیں۔ یعنی اس دباؤ پر غیر آبی کیلشیم سلفیٹ پر پانی کی شمولیت اور جماڑ کے عمل سے آبی کیلشیم سلفیٹ کی تخلیق ہوتی ہے جو ’’جپسم‘‘ ہوتا ہے۔ ساتھ ہی اس کے حجم میں بھی تقریباً 35فی صد کا اضافہ ہوتا ہے۔ ’’جپسم‘‘ ایک اہم غیر دھاتی وسیلہ-یہاں پر اس بات کو ذہن میں رکھنا ہے کہ ایک معدن کے دو نام ہیں جو کیمیائی تعامل کے بعد ایک دوسرے سے تبدیل ہو کر وجود میں آتے ہیں۔ اس لئے یہ طریقہ ’عمل بدلاؤ (Reversable Rotaion) کہلاتا ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ جب جپسم بردار تہہ پر دباؤ کے زیر اثر آبیدگی (Hydration) کا عمل ہوتا ہے تو اس میں پانی کی شمولیت ہوتی ہے ،جس سے آبی کیلشیم سلفیٹ کی تشکیل ہوتی ہے لیکن جب ’’جپسم‘‘ پر ڈی ہائیڈریشن (Dehydration) کا عمل ہوتا ہے تو پانی باہر نکل جاتا ہے اور صرف کیلشیم سلفیٹ باقی رہ جاتا ہے جسے ’’این ہائیڈرائیٹ‘‘ کہتے ہیں۔ فرق صرف ان کی سختی میں ہوتا ہے۔



جپسم کی سمتی موز (Mohs) سختی کے پیمانے کی رو سے دو ہوتی ہے لیکن جب پانی باہر نکل جاتا ہے تو ’’این ہائیڈرائٹ‘‘ کی سختی تقریباً 2.5ہوجاتی ہے چوں کہ ناخن کی سختی 2.5ہوتی ہے۔اسی وجہ سے جپسم این ہائیڈرائٹ کے مقابلے میں آسانی سے کھرچ جاتا ہے ۔یعنی اس کا پاؤڈر آسانی سے ناخن پر آجاتا ہے جب کہ این ہائیڈرائٹ کی صورت میں ناخن کھرچنے لگتا ہے۔ دنیا میں پائی جانے والی ’’جپسم‘‘ کے ذخائر زیادہ تر اسی قسم کے عمل سے وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ریگستانی اور نیم ریگستانی خطوں میں نسوں گومڑ کی شکل میں موسم زدگی سے متاثرہ چٹانوں کے کرسٹ میں پائے جاتے ہیں۔ یہ گندھک کے تیزاب ملے پانی میں یا حل پذیر سلفائیڈز کے عمل سے بھی تشکیل پاتی ہیں۔ بعض اوقات یہ آکسائیڈز زون یا سلفائیڈ ذخائر میں بھی موجود ہوتے ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر مرحلوں میں جب سلفائیڈ دھات پائیرائٹ پر مشتمل ہوتا ہے تو اس کے تکبیدی عمل سے سطح پر موجود پانی میں گندھک کے تیزاب کے اجزا میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے تیزاب زدہ سطحی پانی ’’جپسم‘‘ کے ذخائر عام طور پر چٹانوں یا ابتدائی کچی دھات کے بالائی زون کے دراڑوں میں بعض دوسرے سلفیٹ کے ساتھ منسلک پائے گئے ہیں۔عمل تبخیر کے دوران مختلف نمکیات کی پائیداری کا تخمینہ تجرباتی طریقے یا پھر طبی کیمسٹری کے اعدادوشمار سے لگایا گیا ہے ،جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ کیلشیم سلفیٹ کی ترتیب دو صورتوں میں یعنی ہائیڈریٹڈ معدن (جپسم) اور غیر ہائیڈریٹڈ (این ہائیڈرائٹ) کے طور پر عمل میں آتی ہے۔



 دونوں صورتوں میں محلول کی بلند سپر شدگی درجۂ حرارت، حل پذیری اور بخارات کے دباؤ کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ اگر محلول میں صرف کیلشیم سلفیٹ موجود ہوتا ہے تو 60ڈگری سینٹی گریڈ پر ’’این ہائیڈریٹ‘‘ کی قلم پذیری عمل میں آتی ہے جب کہ 42ڈگری سینٹی گریڈ درجۂ حرارت پر جپسم کی تہہ نشینی ہوتی ہے۔ خلیج فارس میں موجود ذخائر اس کی ایک مثال ہے جہاں 80ڈگری سینٹی گریڈ پر ’’این ہائیڈرائٹ‘‘ کی ترتیب عمل میں آتی ہے۔جب کہ کھلے پانی جہاں کا درجۂ حرارت 42ڈگری سینٹی گریڈ وہاں جپسم یک تہہ نشینی عمل میں آتی ہے۔ ’’جپسم‘‘ میں ایک غیر معمولی خصوصیت پائی جاتی ہے کہ اس کل حل پذیری 37-38ڈگری سینٹی گریڈ پر بلند ہوتی ہے اور اس کے بعد اچانک کم ہو جاتی ہے اور اس کے بعد تیزی سے گرنے لگتا ہے۔ تیزی سے گرنے کا عمل 107ڈگری سینٹی گریڈ پر ہوتا ہے۔ تھرمو گراف (Thermograph) کے ذریعہ اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے کہ جب جپسم کو ہوائی دباؤ میں گرم کیا جاتا ہے تو 80-90 ڈگری سینٹی گریڈ پر پانی ضائع ہونے لگتا ہے جب کہ 120-140ڈگری پر مکمل طور پر پانی سے غیر موجود ہائیڈریٹ (Hemihydrate) کی تخلیق عمل میں آتی ہے۔جسے پلاسٹر جپسم یا پلاسٹر آف پیرس کہا جاتا ہے جو چیپ م (adhesive) ہوتا ہے ،جس میں یہ خاصیت ہوتی ہے کہ یہ ہڈیوں کے فریکچر کو درست پوزیشن میں پابند رکھتا ہے۔ جب کہ دور حاضر میں یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ جپسم تیل و گیس بردار ساخت میں سب سے بالائی جانب حفاظتی تہہ کے طور پر موجود ہوتا ہے


بدھ، 25 فروری، 2026

مترانوالی بستی کے بے گھر مکین کہاں جائیں ؟

 

آج مورخہ 25 فروری 2026  ء روزنامہ  نواءے وقت میں ہمارے وطن کے محترم صحافی  مطلوب وڑائچ   رقمطراز ہیں کہ غریب لوگوں سے ان کی چھتیں چھین لی گئیں۔ کسی کے پاس ایک مرلے کا گھر تھا، کسی کے پاس دو مرلوں کی کچی پکی چھت — وہ بھی مٹی میں ملا دی گئی۔ میترانوالی کو یوں اجاڑا گیا جیسے کسی بستی پر جنگ اتر آئی ہو۔ کرینوں اور بلڈوزروں کی گھن گرج میں غریبوں کے گھر، دکانیں اور تھڑے زمین بوس کر دیے گئے۔ منظر ایسا تھا کہ دل بے اختیار کہہ اٹھا: یہ گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے۔ایک ایرانی کہاوت ہے ۔ ماں نے بیٹے سے پوچھا: ‘‘مجھے کیسے پتا چلے گا کہ تم جہاز اڑا رہے ہو؟’’ بیٹے نے ہنستے ہوئے کہا: ‘‘ماں! جب میں گھر کے اوپر سے گزروں گا تو ایک بم گرا دوں گا، آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ کا بیٹا گزرا ہے۔’’ آج اپنے ہی شہر پر جو گزر رہی ہے، وہ اسی مثال کی تلخ بازگشت محسوس ہوتی ہے۔میں یہ سطور کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں لکھ رہا۔ اس دھرتی کا قرض مجھ پر ہے — اس مٹی کا جس نے مجھے جنم دیا، پروان چڑھایا، پہچان دی۔ انٹرنیشنل سیاست کے ایوانوں تک پہنچنے کے بعد بہت سے لوگ اپنی جڑیں بھول جاتے ہیں،مگر میں اس مٹی کی خوشبو کو کیسے فراموش کر دوں؟ نہ مجھے کسی وضاحت کی ضرورت ہے، نہ کسی مقابلے کی۔ اللہ نے علم، فہم اور ادراک سے نوازا ہے، اور دنیا اس کا اعتراف بھی کرتی ہے۔آج میترانوالی کی غریب مائی، بیوہ عورتیں اور محنت کش خاندان اپنے اجڑے گھروں کے سامنے کھڑے ہیں




۔ میں اپنے گاؤں—نہیں، اپنے قصبے—میترانوالی کی بات کر رہا ہوں۔ میں نے اسے کبھی گاؤں نہیں کہا؛ یہ سیالکوٹ کے نمایاں قصبوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ پڑھے لکھے لوگوں کی دھرتی ہے، باوقار انسانوں کی بستی ہے۔ میں یہیں پیدا ہوا، یہیں تعلیم پائی، یہیں سیاست کا آغاز کیا، یہی میری طلبہ سیاست کی درسگاہ تھی۔مجھے یاد ہے 2011 ء یا 2012ء  میں، جب میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے ان 26 اراکین میں شامل تھا جنہیں بے نظیر بھٹو نے منتخب کیا تھا، میں نے میترانوالی کے لیے سوئی گیس کا منصوبہ منظور کروایا۔ اْس وقت کے چیئرمین میاں مصباح الرحمن سے 6 کروڑ 30 لاکھ روپے کا منصوبہ منظور ہوا۔ کچھ منتخب نمائندوں نے اسمبلی میں شور مچایا کہ’’غیر منتخب افراد کے کہنے پر کام ہو رہے ہیں، کل ہمیں ووٹ کون دے گا؟‘‘میترنوالی کے ایک طرف سے لیکر دوسری طرف تک دو کلومیٹر سے بھی زیادہ عوام کا رش تھا اور شیخوں کے دائرے میں عوام کا ایک بہت بڑا جم غفیر جلسے کی صورت میں تھا۔ پھر وہی کہاوت سچ ثابت ہوئی — گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے۔میترانوالی صرف اینٹوں اور گلیوں کا نام نہیں، یہ ایک شعور ہے۔ یہاں ’’احساس‘‘ ویلفیئر سوسائٹی نے صفائی اور سیوریج کا نظام سنبھالا، جو دراصل حکومت کا کام تھا۔ اعجاز چیمہ اور امتیاز چیمہ کی ذاتی دلچسپی سے گلیوں اور سڑکوں کی حالت سنوری، پانی کے مسائل حل ہوئے اور ایک مخیر شخص نے میترنوالی کو پہلا صاف پانی کا پلانٹ گفٹ کیا۔ سید ریاض الحسن گیلانی، سابق ایڈووکیٹ جنرل وفاقی شرعی عدالت، نے رنگ روڈ جیسے منصوبے مکمل کرائے۔


 بریگیڈیئر حامد سعید نے ترقیاتی کاموں کے دروازے کھولے اور میترانوالی کے بے شمار ترقیاتی کام مکمل کیے۔وہ مشرف دور میں بلدیات کے وزیر تھے مگر افسوس، ان کے ناموں کے بورڈ بھی کچھ لوگوں کو کھٹکنے لگے۔احساس ویلفیئر نے واٹر پلانٹ لگایا، پندرہ برس تک پورے قصبے کو صاف پانی فراہم کیا۔ بیس ہزار سے زائد آبادی کا نظام چند مخلص لوگوں نے اپنے ذاتی وسائل سے چلایا۔مگر جب سازشوں اور دھڑے بندیوں نے سر اٹھایا تو وہ ہاتھ کھینچ لیے گئے جو خدمت کے لیے اٹھے تھے۔ آج گھروں میں فریج اور ٹی وی تو ہیں، مگر گلیوں میں صفائی نہیں، سیوریج بیٹھ چکی ہے۔میترانوالی وہ دھرتی ہے جس نے کبھی چودھراہٹ اور بدمعاشی کو قبول نہیں کیا۔ یہاں پیدا ہونے والا ہر شخص اپنے وقار میں ’’چوہدری‘‘ ہے؛ کوئی کسی پر برتری کا تاج نہیں رکھتا۔ اس دھرتی نے خون خرابہ بھی دیکھا، اختلاف بھی، مگر آخرکار سبق یہی ملا کہ عزت خدمت میں ہے، نہ کہ دکھاوے میں۔جو سکون جھک کر خدمت کرنے میں ہے، وہ دولت کے انبار میں نہیں۔ کل کچھ نہ تھا، آج اللہ کے کرم سے بہت کچھ ہے، مگر اصل دولت دلوں کا اعتماد ہے۔ اور گھر کی چھت چھیننے والوں نے اپنا بھرم بھی ہمیشہ کے لئے چھین لیا ہے رمضان کے مقدس مہینے میں بے گھر لوگ حیران کھڑے ہیں کہاں جائیں 



آئیے حسد نہیں، خدمت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا مقابلہ کریں۔ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے بجائے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں۔ یہی اس دھرتی کا قرض بھی ہے اور اس کا تقاضا بھی۔میری دھرتی، میرا قصبہ، میرا دکھ۔آج میترانوالی کی غریب مائیں، عورتیں—جن میں بیوہ خواتین بھی شامل ہیں—اپنے اجڑے گھروں کے سامنے کھڑی ہیں۔ ان کے گھر، دکانیں، تھڑے سب مٹا دیے گئے۔ میں اپنے گاؤں نہیں، اپنے قصبے میترانوالی کی بات کر رہا ہوں—سجناں دا شہر، سجناں دی دھرتی۔ اسی مٹی سے ہمارا تعلق ہے، اسی سے ہم پہچانے جاتے ہیں۔ میترانوالی کے معنی ہیں سجنوں کی دھرتی  اورمیں اسی دھرتی کا باسی ہوں، یہیں تعلیم پائی، یہیں سیاست کا آغاز کیا، طلبہ سیاست بھی یہیں سے کی اور نام بھی یہیں سے کمایا۔آج اس دھرتی پر جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر دل کڑھتا ہے۔ میترانوالی کے ایک ٹک ٹاکر نے خدمت کے جذبے کے تحت میترانوالی کے مسائل کو سوشل میڈیا پر اجاگر کرنے کی کوشش کی اور حکومت نے اس کا نوٹس بھی لیا مگر ہمیشہ کی طرح میترانوالی کو پھر بدخواہوں کی نظر لگ گئی۔اور غریبوں نے چھپڑوں اور سرکاری املاک پر جو غیرقانونی گھر اور سر چھپانے کے لیے جھونپڑے بنا رکھے تھے وہ قانون اور کرینوں کی زد میں آ گئے۔اور اس طرح ہنستا مسکراتا میترانوالی غزہ کی مانند نظر آنے لگااور سوشل میڈیا کے توسط سے جو رحمت برسنے لگی تھی وہ زحمت میں تبدیل ہو گئی۔



منگل، 24 فروری، 2026

اسٹینلے پارک، وینکوور، برٹش کولمبیا




  اسٹینلے پارک، وینکوور، برٹش کولمبیا1888 میں کھولا گیا اور گورنر جنرل لارڈ اسٹینلے کے اعزاز میں نامزد کیا گیا، یہ پارک اس دور کے بڑے شہری پارکوں کا مظہر ہے۔ اپنی شاندار ترتیب کے لیے قابل ذکر، یہ پارک اپنے قدرتی ماحول اور اس کی ثقافتی خصوصیات کے درمیان ہم آہنگی کا رشتہ ظاہر کرتا ہے۔ گھنے اور اونچے درختوں والے زمین کی تزئین کی، بنیادی طور پر انسانی ہاتھ سے غیر تبدیل شدہ، برٹش کولمبیا کے ساحلی جنگل کو ظاہر کرتا ہے۔ تفریحی سہولیات اور باغات جو سالوں میں متعارف کرائے گئے ہیں اس نے اسے بے حد مقبول بنانے میں مدد کی ہے۔ سمندر، شہر اور پہاڑوں کے درمیان واقع یہ شاندار 400 ہیکٹر پارک کینیڈا میں سب سے مشہور ہے۔ *نوٹ: اس عہدہ کی شناخت جائزہ لینے کے لیے کی گئی ہے۔ جائزہ مندرجہ ذیل وجوہات میں سے کسی ایک وجہ سے شروع کیا جا سکتا ہے - پرانی زبان یا اصطلاحات، تاریخ کی ایک اہم تہہ کی عدم موجودگی، حقائق پر مبنی غلطیاں، متنازعہ عقائد اور طرز عمل، یا اہم نیا علم۔تاریخی مقام کی تفصیل-اسٹینلے پارک نیشنل ہسٹورک سائٹ آف کینیڈا وینکوور کے بہت زیادہ تعمیر شدہ شہری منظر نامے کے درمیان ایک شاندار سبز نخلستان ہے۔ جنگلاتی اور تفریحی زمین پر مشتمل یہ پارک تین اطراف سے انگلش بے، فرسٹ ناروز، اور برارڈ انلیٹ سے گھرا ہوا ہے،


 چوتھی طرف مرکزی کاروباری ضلع اور وینکوور شہر کے مغربی کنارے کے رہائشی محلے سے متصل ہے۔ سرکاری شناخت سے مراد پارک کی حدود میں موجود قدرتی اور ثقافتی وسائل ہیں۔ہیریٹیج ویلیو-اسٹینلے پارک کو کینیڈا کا ایک قومی تاریخی مقام نامزد کیا گیا تھا کیونکہ: اس کی شاندار ترتیب میں اور اس کے قدرتی ماحول اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کے ثقافتی عناصر کے درمیان تعلق کے ذریعے، یہ کینیڈا کے بڑے شہری پارک کا مظہر ہے۔اسٹینلے پارک ایک جزیرہ نما پر تیار کیا گیا تھا جس نے پہلے اقوام متحدہ کی رسمی جگہ کے طور پر کام کیا، پھر ایک برطانوی فوجی ریزرو کے طور پر، اور پھر آخر کار 1888 میں ایک عوامی پارک کے طور پر قائم کیا گیا۔ 1913 اور 1936 کے درمیان وینکوور سٹی کی طرف سے تیار کیا گیا، اس کے ابتدائی سپرنٹنڈنٹ W.S. Rawlings برطانوی سابقہ سے متاثر تھا، باغات، ڈیزائن کردہ مناظر اور تفریحی سہولیات کے ساتھ قدرتی خصوصیات کو ملاتا تھا۔ جنگ کے بعد کے دور میں ایکویریم، چھوٹی ٹرین اور بچوں کے چڑیا گھر سمیت اضافی پرکشش مقامات شامل کیے گئے۔ یہ پارک ایک رسمی مقام بھی بنا ہوا ہے، جس میں قابل ذکر لوگوں اور واقعات کی یاد منائی جاتی ہے جیسے کہ پولین جانسن، لارڈ اسٹینلے، جان ڈرینی، وینکوور سینٹینیئل، برٹش کولمبیا لمبرمین، پہلی جنگ عظیم میں جاپانی کینیڈین، سالویشن آرمی، اور چیہالیس، ایچ ایم ایس، بیور، اور دیگر کے درمیان جہازوں کے ملبے۔کئی سالوں کے دوران، متعدد معماروں اور زمین کی تزئین کے معماروں نے پارک کے ماحول میں مخصوص شراکت کی ہے۔ 



ان میں ولیم لیونگ اسٹون (پویلین گارڈن، 1913)، تھامس ماوسن (لوسٹ لیگون اور کاز وے، 1916-26)، چارلس مارینگا (ہارڈنگ میموریل، 1923 اور پرومینیڈ، 1925)، واکر اور میک فیرسن (پِچ اور پٹ گالف کورس)، انڈر 19 پارکس، انڈر 19 پارکس شامل ہیں۔ 1946-50 اور گولف کورس ٹکٹ بوتھ، 1953-55)، اور ایلین کک (ٹیڈ اور میری گریگ روڈوڈینڈرون گارڈن، 1989)۔ اس کے علاوہ، پارک کئی خاص طور پر ہنر مند کاریگروں کے کام کی نمائش کرتا ہے جن میں جیمز کننگھم (ماسٹر میسن، دہاتی پتھر کا کام)، بل ریڈ (سکیڈنز مورچوری پول کی تولید جیکسن، چیف آف اسکائیڈ گیٹ)، ڈوگ کرینمر (نہی-اس-بِک سالمن پول کی تولید، پو کے ولی ریسٹورے اور پو ویزے کی وللی ریسٹوریل پول۔ افسانہ)، ایلن نیل (تھنڈر برڈ ہاؤس پوسٹس کی بحالی)، یورویا (وکیاس پول)، یااکوتلاس، چارلی جیمز (تھنڈر برڈ ہاؤس پوسٹس، سیسا کالس پول)، سڈنی مارچ (مجسمہ ساز، لارڈ اسٹینلے مونومنٹ)، شوسواپ فرسٹ نیشن (پیٹروگلیف راک)، اور ایلن بروڈ میں گرل، اور ایک لڑکی۔ 1970)۔ماخذ: تاریخی مقامات اور یادگاروں کا بورڈ آف کینیڈا، منٹس، 1988؛ یادگاری سالمیت کا بیان، جون 2002۔کردار کی تعریف کرنے والے عناصر-کلیدی عناصر جو سائٹ کے ورثے کے کردار میں حصہ ڈالتے ہیں ان میں شامل ہیں:


 اس کی ترتیب جو جنگل، پہاڑوں اور سمندر کو یکجا کرتی ہے۔ قدرتی اور ثقافتی علاقوں کے متعلقہ مقامات، افعال اور مادی اجزاء کے باہمی تعلقات؛ قدرتی عناصر کی سالمیت اور کثرت، جیسے کہ نئے اور پرانے نمو کے جنگلات، سمندری اور ساحل کے قریب رہائش گاہیں، اور بنیادی ارضیات؛ ثقافتی عناصر کا تنوع بشمول باغ کے مناظر، ڈیزائن کیے گئے پارک کے مناظر، پارک کی سرگرمیوں سے وابستہ عمارتیں اور ڈھانچے، یادگاریں، ایتھلیٹک سہولیات، اور آؤٹ ڈور میوزیم ڈسپلے؛ آپ میں ڈیزائن کیے گئے باغات کی ترتیب کی سالمیت، پودوں کی اقسام، خصوصیت کے عناصر اور ان کے اصل مواد اور تناسب کے ڈھانچے؛ ڈیزائن کیے گئے مناظر کے مقامات، ساخت، تعمیر شدہ خصوصیات اور پودے لگانا، بشمول لارڈ اسٹینلے مونومنٹ، بروکٹن پوائنٹ، سیپرلے میڈوز، دی سیوال، دی لوسٹ لیگون، دی پویلین اور مالکن باؤل، لمبر مینز آرچ، ٹینس کورٹ اور لان باؤلنگ گرین، گلاب کے باغ  خصوصی پودوں      کے ساتھ۔

پیر، 23 فروری، 2026

پنجاب کے سیاسی ڈیروں کی پہچان -موڑھے یا مونڈھے

 



اگر آپ راولپنڈی اسلام آباد سے جی ٹی روڈ کے راستے سفر کریں تو دریائے جہلم پار کرنے کے بعد آپ کو سڑک کے اطرف میں مچھلی فروشوں کے ڈھابوں کے بعد پنجاب کے سیاسی ڈیروں کی پہچان سمجھے جانے والے رنگارنگ موڑھے اور دلکش خوبصورت دھاگوں اور شیشوں سے مزین مختلف سجاوٹی اشیاء کی دکانیں نظر آئیں گی۔یہ دکانیں ایک زمانے میں بہت بڑی تعداد میں تھیں۔ اب اگرچہ ان کی تعداد کم ہوگئی ہے لیکن وہ سرائے عالمگیر کی مستقل پہچان بن چکی ہیں۔سرائے عالمگیر پاکستان کے صوبہ پنجاب ضلع گجرات کی تحصیل سرائے عالمگیر کا مرکزی قصبہ ہے۔ جو دریائے جہلم کے مشرقی کنارے پر 575 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ شہر کے مشرق میں نہر اپر جہلم ہے۔مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیرنے جی ٹی روڈ اور دریائے جہلم پر واقع سٹریٹجک محل وقوع اور کشمیر سے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں سرائے قائم کی تھی اور اسی کی نسبت سے اس کا نام بھی سرائے عالمگیر پڑگیایہ تو سرائے عالمگیر کا تعارف اور تاریخ ہے لیکن اس شہر کے بیچوں بیچ گزرتے جی ٹی روڈ پر واقع روائتی موڑھوں کی دکانیں بھی اپنے اندر ایک تاریخ سموئے ہوئے ہیں۔موڑھوں کی ایک دکان کے مالک چاچا سراج دین کے مطابق 'ان موڑھوں اور سجاوٹی اشیاء کے ان کے کاروبار کا سفر فیروز پور انڈیا سے شروع ہوتا ہے اور قصور کے راستے 55 سال قبل سرائے عالمگیر پہنچتا ہے۔'چاچا سراج دین نے بتایا کہ سرائے عالمگیر سے جہلم جانے والے پرانے راستے جس کے ساتھ ریلوے لائن بھی موجود ہے پر جائیں تو وہاں ان کے کاروبار سے متعلق خام مال تیار کرتے بچے بوڑھے اور جوان ملیں گے۔


 ان سب کے آباو اجداد انڈیا سے ہجرت کرکے قصور آئے تھے لیکن وہاں مزدوری نہ ہونے کے باعث یہاں آگئے کیوں کہ دریائے جہلم کے ساتھ  بیلے اور جنگل میں سے سر اور سرکنڈے اور مسجدوں کی صفیں تیار کرنے کے لیے ڈب آسانی سے بلا روک ٹوک کاٹنے کو مل جاتا ہے۔امداد علی نے 18 برس میں کم و بیش 20 ہزار سے زیادہ موڑھے بنائے ہیں  دکان کے پچھلے حصے میں کاریگر امداد علی موڑھے بنانے میں مصروف تھے۔ انھوں نے اپنا تعلق بھی قصور سے بتایا اور کہا کہ وہ عرصہ 18 سال سے موڑھے بنا رہے ہیں ویسے تو کبھی انھوں نے گنتی نہیں رکھی تاہم اس عرصے میں کم و بیش 20 ہزار سے زیادہ موڑھے بنائے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دکان کے مالک میٹریل یعنی سرکنڈے (بانس سے ملتا جلتا پودا جو سائز میں بہت پتلا اور چھوٹا ہوتا ہے)، سر (اسی پودے سے بننے والے تنکے) اور دیگر میٹریل مزدوروں سے خریدتے ہیں۔ مزدور یہ سب جنگل سے کاٹ کر لاتے ہیں اس کی صفائی کرتے ہیں اور پھرفروخت کرتے ہیں۔


موڑھا تیار کرنے کے لیے سائز کے لحاظ سے کٹائی کرتے ہیں اور پھر اسے ڈوری سے ایک ایک سرکنڈا جوڑ کر کھڑا کرتے ہیں۔ ایک موڑھا تیار کرنے میں کم از کم چار گھنٹے لگتے ہیں جس کے بعد ریکسین یا کپڑا لگانے والے کا کام شروع ہوتا ہے جو ڈیڑھ سو روپے مزدوری لیتا ہے۔'منھوں نے بتایا کہ 'ایسا بھی ہوا کہ ایک ڈیرے دار شخص کو دس موڑھے بنا کر دیے تو دس سال بعد وہ واپس آیا اور میرے کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دس سال پہلے والے موڑھے ابھی تک اسی حالت میں ہیں۔ اب نئے بنا کر دو ہمیں بہت پسند ہیں۔ میں نے دن رات محنت کرکے ان کو دوبارہ مال تیار کرکے دیا۔'سرائے عالمگیر میں بارشوں کے موسم میں کام میں تعطل آ جاتا ہے اسی دکان میں موجود ایک اور کاریگر محمد بلال نے فینسی شیشے، شو پیس، مہندی والی ٹوکریاں اور ہاتھ کے پنکھے بنانے کے بارے میں بتایا۔سرائے عالمگیر سے گزرنے والی ریلوے لائن کے سامنے خالی جگہ اور گھروں کے سامنے موڑھوں اور ان روائتی چیزوں میں استمال ہونے والی اشیا ’ سرکنڈوں‘، ’سر‘ اور ’ڈب‘ کے ڈھیر لگے پڑے رہتے ہیں۔بارشوں کے موسم میں یہاں کام میں تعطل آ جاتا ہے لیکن اس کے علاوہ پورا سال ہر گھر کے کم و بیش تمام افراد یہ اشیا بنانے کے کام میں جتے رہتے ہیں۔ کچھ ’سرکنڈوں‘ (بانس نما پودے) کی چھلائی کرتے ہیں، کچھ مسجدوں کی صفیں بناتے ہیں تو کوئی چیکیں (برآمدوں اور دالانوں کے باہر لگایا جانے والا پردہ)  بناتے ہیں۔ یہ چیزیں تیار کرکے وہ جی ٹی روڈ پر دکانداروں کو تھوک کے حساب سے فروخت کرتے ہیں۔


یہاں موجود ایک بزرگ محمد اکبر نے اردو نیوز کو بتایا کہ 'ہم انڈیا میں فروزپور رہتے تھے۔ تقسیم کے بعد قصور آئے اور گنڈا سنگھ بارڈر سے ڈب وغیرہ کاٹ کر صفیں اور پھوہڑ بناتے تھے۔ 65 کی جنگ کی وجہ سے قصور چھوڑنا پڑا اور سرائے عالمگیر آکر ڈیرے ڈالے۔ان کا کہنا تھا کہ بھٹو دور میں انہیں یہاں گھر بنانے کے لیے  پانچ پانچ مرلے زمین الاٹ ہوئی تھی جس کے بعد وہ یہاں مستقل طور پر مقیم ہو گئے'ہم گھر کے سارے افراد یہی کام کرتے ہیں۔ بڑے سرکنڈے اور ڈب کاٹ کر لاتے ہیں۔ چھوٹے صفائی کرتے ہیں۔ پھوہڑ بناتے ہیں، چیکیں بناتے ہیں اور سرکیاں تیار کرتے ہیں۔ آٹھ سال کی عمر کے بچے سے لے کر ساٹھ ستر سال کے بوڑھوں تک سب یہی کام کرتے ہیں۔ اب چونکہ صفوں کا کام ختم ہوتا جا رہا ہے تو ساتھ میں مستریوں کے ساتھ مزدوری بھی کرنا پڑ جاتی ہے۔'تاہم زمانے کی بدلتی روایات اور ضروریات کے تحت محمد اکبر کو اپنا ہنر ڈوبتا نظر آ رہا ہے۔  ’ہماری ساری عمر یہی کام کرتے گزر گئی ہے۔ وقت بدلنے کے ساتھ موڑھوں کی جگہ پلاسٹک کی کرسیوں نے لے لی ہے جبکہ صفوں کی جگہ کارپٹ اور چٹائیاں آگئی ہیں۔  وسائل اور علم کی کمی کے باعث ہم اپنے روائتی کام کو زیادہ جدت بھی نہیں دے سکے۔ اس لیے ہمیں مستقبل قریب میں یہ کام معدوم ہوتا نظر آتا ہے 
تحریر انٹر نیٹ سے لی ہے

اتوار، 22 فروری، 2026

جب ایک محنت کش کی مامتا جیت گئ

 

خادمة اور علاج  بالصدقةصدقہ جاریہ کا ایک خوبصورت اور سچا واقعہ، جو سعودی عرب کے ایک گھر میں پیش آیا۔ جس کی برکت ایسے ظاہر ہوئی کہ دنیا حیران رہ گئی۔ یہ واقعہ درجنوں عرب ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوا۔ ہم صحيفة الاقتصادية كے حوالے سے اسے نقل کررہے ہیں۔واقعہ سے قبل ایک حدیث پڑھ لیں: داووا مرضاكم بالصدقة اپنے بیماروں کا علاج صدقے سے کیا کرو۔انڈونیشیا سے خادمات کا سعودیہ میں آنا عام سی بات ہے۔ سعودی گھرانوں میں ہزاروں کی تعداد میں انڈونیشی خادمات کام کرتی ہیں۔ ایک سعودی گھرانے نے خادمات مہیا کرنے والے ریکروٹنگ ایجنٹ کی معرفت خادمہ بلوائی۔ خادمہ نے گھر میں کام کرنا شروع کر دیا۔گھر کی مالکن نے چند دن کے بعد غور کیا کہ خادمہ چپ چاپ اور اداس سی رہتی ہے۔ اس نے محسوس کیا کہ یہ چھپ چھپ کر روتی بھی رہتی ہے۔ سعودی عرب میں ابھی اسے ہفتہ دس دن ہی گزرے تھے۔ کسی نے اسے کچھ کہا بھی نہیں پھر یہ کیوں روتی ہے؟ ایک دن سعودی مالکن نے خادمہ کو اپنے سامنے بٹھا لیا۔ اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگی: میری بیٹی! بتاوٴ تم ہر وقت روتی کیوں رہتی ہو؟ ہر وقت تمہاری آنکھیں سوجی رہتی ہیں۔ خادمہ نے حوصلہ پا کر اشاروں سے اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بتایا: میں ایک مدت سے سعودی عرب آنے کی کوشش کر رہی تھی۔


 ایجنٹ کو نقد رقم اور پاسپورٹ جمع کرا رکھا تھا۔ اسی دوران میری شادی ہو گئی۔ وقت گزرتا چلا گیا۔ میری سعودی عرب آنے کی خواہش زوروں پر تھی۔ ایجنٹ کے ساتھ رابطہ تھا۔ اسی دوران خدا تعالیٰ نے مجھے بیٹا عطا فرمایا۔ میرے بیٹے کی عمر دس بارہ دن کی تھی کہ ایجنٹ نے بتایا کہ تمہارے کاغذات مکمل ہوگئے ہیں۔ تمہیں فوری طور پر سعودی عرب جانا ہوگا۔ ایک طرف بیٹا اور اس کی محبت، دوسری طرف غربت اور سعودی عرب آنے کی خواہش…میں گھریلو حالات سے مجبور تھی، اس لیے بیٹے کو چھوڑ کر سعودی عرب آ گئی۔ اب مجھے میرا بیٹا یاد آتا ہے۔ میں اس کی محبت میں دیوانی ہو گئی ہوں۔ اسے یاد کرکر کے روتی رہتی ہوں۔ سعودی مالکن نے ایک لمبی آہ بھری، کچھ سوچا۔ اس کے دل میں خیال آیا کہ یہ رب کو راضی کرنے کا اور صدقہ جاریہ کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اسلام میں سب سے بہترین کام کسی مسلمان کو خوشی مہیا کرنا ہے اور پھر اس نے ایک عجیب و غریب فیصلہ کیا۔ وہ اندر گئی، پیسوں والی الماری کو کھولا۔ اس کی کتنی تنخواہ ہے؟ اس نے دو سال کی تنخواہ کا حساب کیا۔ رقم گنی اور اسے لے کر خادمہ کے پاس آ گئی۔ کہنے لگی: یہ دو سال کی تنخواہ پیشگی پکڑو۔ میں ابھی تمہاری سیٹ بک کراتی ہوں۔ تم فوراً انڈونیشیا روانہ ہو جاوٴ۔ دو سال تک اپنے بیٹے کو دودھ پلاوٴ۔ جب دو سال کا ہو جائے تو ہمیں فون کر دینا، ہم تمہارے لیے دوبارہ ویزا بھجوا دیں گے اور تم پھر سے سعودی عرب آ جانا۔



ذرا غور کیجیے، اس عورت نے کتنا خوبصورت فیصلہ کیا۔ کیا یہ اس کے لیے صدقہ جاریہ نہیں؟ اس قسم کے فیصلے انسان کو انسانیت کے بلند مقام پر فائز کر دیتے ہیں اور حق تعالی کے نزدیک اس کے مرتبہ کو بہت بڑھا دیتے ہیں۔پھر دلچسپ بات یہ کہ یہ خادمہ صرف اس خاتون کیلئے بلائی گئی تھی جو خون کے کینسر میں مبتلا تھی، یہ تاکہ اس کی خدمت کرسکے۔ جب خاتون نے اسے واپس بھیجنے کا ارادہ کیا تو بیٹے نے کہا: امی جان آپ بیمار ہیں، آپ کیلئے تو اسے بلایا تھا، آپ اس کو واپس بھیجتی ہیں؟ خاتون نے کہا میں گزارہ کر سکتی ہوں اور پھر اسپتال میں اس کا معائنہ ہوتا رہتا۔ جب اگلی بار اسپتال گئی اس کی ٹیسٹ رپورٹ نیگیٹو آئی۔ اس کی مہلک بیماری کا نام ونشان مٹ چکا تھا۔ ڈاکٹر سارے حیران تھے کہ اس اسٹیج تک پہنچنے کے بعد یہ ٹیسٹ نیگیٹو کیسا آیا۔ احتیاطا دوبارہ ٹیسٹ کروائے گئے۔ مگر شافی الامراض رب کی طرف سے شفاء نازل ہوچکی تھی۔ سب مبارک باد دینے لگے۔


 یہ خاتون صرف اپنے رب کا شکریہ ادا کرتی رہی۔ بے شک صدقہ سے ہر بلا ٹلتی ہے۔اللہ سب کو اپنی حفاظت میں  رکھےنلا شبہ قدرت کی بنا ئ ہو    ئ    چیزوں میں شفا ہی شفا ہے-صدقہ کی مذید برکات - بے شک  صدقہ بلا ؤں  کو رد کرتا ہے
 ۔رسولُ الله ﷺ: الصَّدَقَةُ تَمنَعُ سَبعينَ نَوعا مِن أنواعِ البَلاءِ ، أهوَنُها الجُذامُ والبَرَصُ . (كنز العمّال :  )
 ۔رسول اللہ ص :صدقہ ستر قسم کی بلاؤں کو دور کرتا ہے جن میں سے آسان ترین بلا جذام اور برص ہے۔
 ۔عنه ﷺ: الصَّدَقةُ تَسُدُّ سَبعِينَ بابا مِن الشَّرِّ. (بحارالانوار : ۹۶ / ۱۳۲ / ۶۴) ۔رسول اللہ ص :صدقہ ستر برائیوں کے دروازے بند کردیتا ہے۔ ۔عنه ﷺ: الصَّدَقَةُ تَدفَعُ مِيتَةَ السُّوءِ . ( الكافي : ۴ / ۲ / ۱) ۔رسول اللہ ص :صدقہ بری موت سے بچاتا ہے۔ ۔عنه ﷺ: تَصَدَّقُوا وداوُوا مَرضاكُم بالصَّدَقَةِ ؛ فإنَّ الصدقةَ تَدفَعُ عنِ الأعراضِ والأمراضِ ، وهِيَ زيادَةٌ في أعمارِكُم وحَسَناتِكُم . (كنز العمّال : )  ۔رسول اللہ ص :صدقہ دیا کرو اور مریضوں کی دوا صدقہ سے کیا کرو، کیونکہ صدقہ عزتوں کی حفاظت کرتا ہے۔ بیماریوں سے بچاتا ہے اور اس سے تمہاری عمریں اور نیکیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ ۔الإمام عليٌّ ع : الصَّدَقةُ دَواءٌ مُنجِحٌ . (نهج البلاغة : الحكمة ۷) ۔امام علی ع:صدقہ شفا موثر دوا ہے۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

نہر سویز (انٹر نیشنل گیٹ وے آف 2 سیز)

  نہر سوئز مصر کی ایک  اہم ترین سمندری گذرگاہ ہے جو  دو سمندروں (بحیرہ روم کو بحیرہ قلزم )کو درمیان سے ملاتی ہے۔ اس کے بحیرہ روم کے کنارے پر...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر