پیر، 9 فروری، 2026

امجد اسلام امجد -اگر کبھی میری یاد آئے

 

 اگر کبھی میری یاد آئے
تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں
کسی ستارے کو دیکھ لینا
 ا مجد اسلام امجد-ایک  عالمی  اور  پاکستانی  شہرت یافتہ اردو شاعر، ڈراما نگار، گیت نگار، کالم نگار تھے۔ 50 سال پر محیط کیریئر میں انھوں نے ستر سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ انھیں اپنے ادبی کام، شاعری اور ٹی وی ڈراموں کے لیے بہت سے اعزازات ملے، جن میں تمغہ حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز اور ہلال امتیاز شامل ہیں۔سوانح۰امجد اسلام کی پیدائش 4 اگست 1944 کو لاہور میں ہوئی۔ انھوں نے اسلامیہ کالج لاہور سے بی۔ اے کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی            سے اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔  انھوں نے اپنے کیریئر کے آغاز ایم اے او کالج لاہور کے شعبہ اردو میں استاد کی حیثیت سے کیا۔ 1975ء اور 1979ء کے درمیان امجد پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے ڈائریکٹر رہے۔  1989ء میں انھیں اردو سائنس بورڈ کا ڈائریکٹر بنادیا گیا۔ انھوں نے چلڈرن لائبریری کامپلیکس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں۔اعزازات امجد اسلام امجد کو ان کی ادبی خدمات کی وجہ سے انھیں تمغائے حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔


امجد اسلام امجد ادبی محفلوں کی جان تھے اور اردو ادب کا مان بھی۔ ادب کے کئی شعبوں میں اپنے تخلیقی رنگ دکھائے۔ 40 سے زیادہ کتابیں لکھیں، تراجم کئے، کالم لکھے، نقاد اور ڈرامہ نگار کے حوالے سے نام کمایا، غزلیں تخلیق کیں اور جدید نظم نگاری کے موجد          قرار پائے۔ پی ٹی وی پر ان کے ڈراموں نے تو ہر طرف دھوم مچا دی ۔ پاکستان ہی نہیں بھارت میں بھی ان کے ڈرامے اتنے شوق سے دیکھے جاتے تھے کہ سڑکیں ویران اور بازار سنسان نظر آتے تھے۔  ۔ ان کی طبیعت میں زندہ دلی، شگفتگی تھی۔ وہ جس محفل میں بھی ہوتے وہاں قہقہے       گونجتےتھے۔پروڈیوسر ساحرہ نے ان سے سیریزکیلئے ''برزخ‘‘ کے نام سے ایک ڈرامہ لکھوایا۔ اسی سلسلے میں ''موم کی گڑیا‘‘ کے نام سے دوسرا ڈرامہ بھی ان کا ہی لکھا ہوا تھا۔انہوں نے 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں سرکاری ٹی وی کیلئے متعدد ایسے ڈرامے تحریر کیے جنہوں نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ یہ وہ ڈرامے ہیں جو شاید ہی کبھی ناطرین کے ذہنوں سے محو ہو سکیں۔ ان کے مقبول ترین ڈراموں میں وارث، دہلیز، سمندر، وقت، رات، فشار، دن، ایندھن سمیت دیگر شامل ہیں۔


 ان کی برجستگی، جملے بازی اور مزاح مشہور تھا۔ ان کے کالم میں تازہ کاری تھی اور توانائی بھی۔نہوں نے اپنے ڈراموں اور تصانیف کے ذریعے ایک نسل کی فکری آبیاری کی۔ ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں بہت سے ملکی اور غیر ملکی ایوارڈز سے نوازا گیا حکومت پاکستان نے انہیں 1987 میں تمغہ حسن کارکردگی اور 1998 میں ستارہ امتیاز سے نوازا۔ پانچ مرتبہ ٹیلی ویژن کے بہترین رائٹر، 16 گریجویٹ ایوارڈز حاصل کئے۔ 2019 میں انہیں ترکی کے اعلیٰ ثقافتی اعزاز نجیب فاضل انٹرنیشنل اینڈ کلچرل آرٹس سے نوازا گیا۔  اپنے کیریئر کا آغاز شعبہ تدریس سے کیا۔ پنجاب آرٹس کونسل، اردو سائنس بورڈ اورچلڈرن لائبریری کمپلیکس سمیت متعدد سرکاری اداروں میں سرکردہ عہدوں پر ذمہ داریاں نبھائیں۔مصروف ہونے کے باوجود تسلسل کے ساتھ درس و تدریس کے شعبے سے بھی جڑے رہے ، ان کی خاص بات تھی کہ وہ استاد کی حیثیت سے کتاب سامنے رکھ کر نہیں پڑھاتے تھے۔انہوں نے کہا کہ امجد اسلام امجد نے اپنی زندگی میں لاتعداد نوجوانوں کو پڑھایا ، وہ صرف زبان ہی نہیں سکھاتے تھے، بلکہ اس کو تخلیقی انداز میں استعمال کرنے کی ترغیب بھی دیتے تھے۔ ان کی تعلیم کی جانب ماڈرن اپروچ نے انہیں ہردل  عزیزی کی اونچی دہلیز پر لا کھڑا کیا تھا 


 اردو ادب کے فروغ کے لئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے قریبی      دوستوں کا کہنا ہے کہ مشاعرے کی روایت میں غزل سنائی جاتی ہے لیکن امجد اسلام امجد یہاں بھی اپنی الگ راہ بنانے والوں میں شامل تھے۔وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مشاعروں میں نظمیں سنانے میں ایسی کامیابی حاصل کی کہ اکثر ان کی نظمیں سامعین کو یاد ہوتی تھیں اور ان کے ساتھ ساتھ انہیں پڑھا کرتے تھے۔ایوب خاور کے بقول امجد اسلام امجد غزل کے تو اچھے شاعر تھے ہی، نظم اور نغمہ نگار ی میں بھی انہیں کمال حاصل تھا۔ ایک زمانےمیں ترقی پسند شاعر ی کی طرف رجحان ہونے کی وجہ سے ان کی شاعری میں ایک اور زاویے کا اضافہ ہوگیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مشاعروں میں نظمیں سنانے میں ایسی کامیابی حاصل کی کہ اکثر ان کی نظمیں سامعین کو یاد ہوتی تھیں اور ان کے ساتھ ساتھ انہیں پڑھا کرتے تھے۔ایوب خاور کے بقول امجد اسلام امجد غزل کے تو اچھے شاعر تھے ہی، نظم اور نغمہ نگار ی میں بھی انہیں کمال حاصل تھا۔ ایک زمانےمیں ترقی پسند شاعر ی کی طرف رجحان ہونے کی وجہ سے ان کی شاعری میں ایک اور زاویے کا اضافہ ہوگیا تھا۔
اور پھر قانون قدرت کے مطابق     انہوں نے دائ  اجل کو لبیک  کہا اور لاہور کی  زمین میں  خاک   کی چادر اوڑھ  کر سو گئے  تاریخ وفات:10 فروری 2023ء 
 

اتوار، 8 فروری، 2026

کلہوڑا خاندان کا دور سندھ کی تاریخ کا درخشاں با ب تھا،

                                                                    

کلہوڑا خاندان کا دور سندھ کی تاریخ کا درخشاں با ب تھا، جس کے آثار آج بھی خطے میں جا بجا نظر آتے ہیں۔ مغل سلطنت کے دور میں ملتان کے گورنر ، شہزادہ معزالدین نے کلہوڑاحکمرانوں کواپنے زیر نگین رکھنے کے لیے 1700ء میں ان کے مرکزی گائوں گاڑہی (موجودہ تحصیل خیرپور ناتھن شاہ) پر حملہ کیا، کلہوڑو کو شکست ہوئی اور ان کے سردار میاں دین محمد کلہوڑو گرفتار ہوئے، جنہیں ملتان لے جاکر ان کے 25 ساتھیوں کے ساتھ سزائے موت دی گئی۔ ان کے چھوٹے بھائی میاں یار محمد کلہوڑونے خیرپور ناتھن شاہ سے فرار ہوکر خان آف قلات کے پاس پناہ لی۔ ایک سال بعد1701ء میں میاں یارمحمد کلہوڑو سندھ آئے اور گائوں گاہا (تحصیل جوہی) میں’’ میانوال تحریک‘‘ کو فعال کیا اور سامتانی، مرکھپور اورفتح پور (اب دادو ضلع کے گائوں) کے علاقوں میں اپنا اثرنفوذ بڑھایا۔ انہوں نے مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے پاس ایلچی بھیجا جس نے انہیں ’’ خدایار‘‘ کا لقب دے کر سندھ پرحکم رانی کی سند عطا کی۔خدایار خان نے ضلع دادو میں’’ گاہا گائوں‘‘ کے قریب پنہور قبیلے کی “شکارپور پنہور‘‘ نامی بستی میں’’ خدا آباد‘‘ کے نام سے نیا شہرتعمیر کراکر اسے اپنا دارالحکومت قرار دیا۔ مورخین کے مطابق خدا آبادشہر وسیع و عریض رقبے پر محیط تھا۔ کلہوڑا حکم رانوں نے اس میں بے شمار تعمیرات کرائی تھیں۔ یہاں حکمرانوں کی حویلیوں، محلات کے علاوہ دیگر فلک بوس اور خوبصورت عمارتیں تھیں۔کلہوڑوں کا عظیم شہر ’’خدا آباد‘‘شہر کے عین وسط میں حکم رانوں کی رہائش کے لیے ایک محل تعمیر کرایا گیا تھا


جو  تعمیراتی فن کا اعلیٰ نمونہ تھا۔ اس کی عمارت اتنی بلند و بالا تھی کہ اس کی بلندی کی پیمائش کے لیے’’ اصطرلاب‘‘(ایک آلہ جس سے ستاروں کی بلندی ، مقام اور رفتار دریافت کرتے ہیں) اس شہر میں بڑے باغات تھے جن میں سو، بہی، ترنج، صنوبر، ناشاپاتی کے درخت اور انگور کی بیلیں لگی ہوئی تھیں۔ پھولوں میں گلاب، چنبیلی، نرگس، نسرین، نیلوفر، سوسن، سنبل، ہزارہ، گل خیرو کے پودے لگے ہوئے تھے، جب کہ ان میں مختلف اقسام کے پرندے جن میں کبوتر، تدرو، کبک اور اور دیگر، چہچہاتے پھرتے تھے۔ ایک باغ کا نام ’’علی باغ‘‘ تھا۔ اس میں نہریں بہتی تھیں جب کہ قریب ہی شکار گاہ تھی۔ نہر کے کنارے ہر وقت ایک کشتی موجود رہتی تھی، جس پر کلہوڑا حکم راں سیر کیا کرتے تھے۔ مورخین نے اس شہر میں ایک بازار کی موجودگی کی بھی نشان دہی کی ہے جس کے صرف کھنڈرات باقی رہ گئے ہیں۔ خدا آباد سے ایک میل کے فاصلے پر میاں یار محمد کلہوڑا کا مقبرہ ہےجسے میاں غلام شاہ کلہوڑا نے تعمیر کرایا تھا۔ یہ مربع شکل کی عمارت ہے جس پرخوب صورت گنبد بھی بنا ہوا ہے۔میاں یارمحمد نے جامع مسجدکی بنیاد رکھی جسےان کے بیٹے، میاں نور محمد کلہوڑو نے تعمیر کرایا،جو اسلامی فن تعمیر کا نادر نمونہ ہے ۔اس کی دیواریں مغلیہ اوراسلامی نقش و نگار سے آراستہ ہیں۔ قبہ (گنبد) اتنا بلند ہے کہ آسمان کو چھورہا ہے۔ نقش و نگار میں ((شنگرف ‘‘ کو با افراط استعمال کیا گیا تھا۔ اس کے صحن کے دو حصےتھے، ایک 80فٹ لمبا اور 21فٹ چوڑا جب کہ دوسرا 80فٹ لمبا اور 25 فٹ چوڑا ہے۔ 


’’میر علی شیر قانع ٹھٹھوی‘‘ نامور مؤرخ
میر علی شیر قانع کے خاندان کو کبھی بھی فکرِ معاش کا سامنا نہیں رہا۔ قدیم خاندانی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیر کا خاندان شروع سے ہی معاش کے حوالے سے خوشحال اور فارغ البال تھا۔میر علی شیر کے جدِ امجد میر سید شکر اللہ شیرازی جب 927 ھ میں ہجری میں ٹھٹھہ آئے تو ارغون سرکارکی طرف سے وظیفہ جاری ہوا۔ ہمایوں کے فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیر کے خاندان کو مغل شہنشاہ نصیر الدین ہمایوں کی طرف سے بھی وظیفہ جاری ہوا تھا ا ور ساکرو پرگنہ میں کچھ زمین بطورمالی تعاون بھی ملی تھی۔ مرزا جانی بیگ ترخان نے بھی ـجون پرگنہـ میں کئی گاؤں میر علی شیر کے خاندان کو بطور مالی تعاون دئیے ۔مغل بادشاہ جہانگیر نے سید ظہیر الدین بن سید شکر اللہ ثانی شیرازی کے لیے دھان کی فصل کا کچھ حصہ سالانہ بطور وظیفہ مقرر کیا۔میاں نور محمد کلہوڑو کے فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیر کے والدکو سید عزت اللہ شیرازی کو جگت پور اور ککراللہ کے کئی گاؤں بہ بطور جاگیر ملے تھے۔ اس کے علاوہ میاں غلام شاہ کلہوڑو اور میر فتح علی خان تالپور نے بھی میر علی شیر کے خاندان کو وظیفہ جات اور مراعات عطا کیں۔ میر علی شیر سندھ کے کلہوڑا دربار کے شاہی مورخ تھے۔ کلہوڑا حکمران میاں غلام شاہ کلہوڑو نے انہیں اپنےخاندان کی تاریخ لکھنے پر مامور کیا تھا لیکن وہ یہ کام نا معلوم وجوہات کی بنا پر مکمل نہ کرسکے۔میر علی شیر قانع بارہ سال کی عمر یعنی 1152ھ میں جب وہ مکتب میں تحصیل علم کررہے تھے ، مشقِ سخن کی ابتدا کی۔ اسی عمر میں آٹھ ہزار اشعار کا دیوان مرتب کیا جس میں سبھی اصنافِ سخن شامل تھیں، لیکن نا معلوم وجوہات کی بنا پر انہوں نے تمام دیوان دریا برد کردیا۔ تقریباً دو سالہ خاموشی کےبعد یعنی1155ھ میں میر علی شیر کی میر حیدر ابو تراب کامل جیسے استاد سے ملاقات ہوئی اور انہی بزرگ کی صحبت کی بہ دولت دوبارہ شاعری کا آغاز کرنے کے لیےان کی شاگردی اختیار کی۔ میر علی شیر قانع کثیر التصانیف مصنف تھے، انہوں نے شاعری، تاریخ، تذکرہ، سیرو سیاحت، لغت، دائرۃ المعارف اور سوانح سمیت مختلف موضوعات پر لاتعداد کتب تحریر کیں۔ ان تصانیف میں دیوان علی شیر ، مثنوی قضا و قدر، مثنوی قصۂ کامروپ ، دیوان قال غم،ساقی نامہ، واقعاتِ حضرت شاہ، تزویج نامہ حسن و عشق، اشعارِ متفرقہ در صنایع و تاریخ، بوستان بہار المعروف مکلی نامہ، مقالات الشعرا، تاریخ عباسیہ، تحفۃ الکرام ، اعلانِ غم (مثنوی)، زبدۃ المناقب (خلفائے راشدین اور حضرات اثنا عشری کے مناقب)، مختار نامہ (مختار ثقفی کے حالات)، نصاب البلغا(قاموس کی طرز پر کتاب)، مثنوی ختم السلوک، شجرۂ اطہر اہلبیت، معیارِ سالکان طریقت (سندھ اور بیرونِ سندھ 500 بزرگ و مشاہیر کا تذکرہ)، بیاض محک الشعراء اور انشائے قانع وغیرہ شامل ہیں جن میں سے سب سے زیادہ شہرت تحفۃ الکرام کو ملی۔ میر علی شیرکا مطالعہ وسیع تھا جس کا ثبوت تحقۃ الکرام میں جا بجا نظر آتا ہے۔انہوں نے تحفۃ الکرام قلمبند کرکے سندھ کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے اہلِ علم و قارئین پر عظیم احسان کیا ہے۔ اس کتاب کا میر علی شیر قانع کے ہاتھ سے تحریر کردہ دستخط شدہ نسخہ اورینٹل کالج لاہور کے سابق پرنسپل، پروفیسر مولوی محمد شفیع کے ذاتی کتب خانے میں اور دو نسخے برٹش میوزیم لندن میں موجود ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیرقانع 1188ھ تک مذکورہ کتاب میں ترامیم و اضافہ کرتے رہے تھے۔
افغان محقق عبد الحئی حبیبی کے مطابق’’میرقانع ایک توانا مصنف، دقیق مورخ اور فارسی زبان کے اعلیٰ درجہ کےشاعر تھے۔ ان کی منزلت اور ان کے علم کا اندازہ ان کی تالیف کردہ کتب سے لگایا جاسکتا ہے۔میر علی شیر قانع، فن تاریخ نویسی، صنائع و بدائعِ ادبی میں خاص طور پر مہارت رکھتے تھے۔فنِ لغت، الفاظ کی شناسائی اور مختلف زبانوں جیسے عربی، فارسی، ترکی ، سندھی اور ہندی وغیرہ کی اصطلاحات کے متعلق وسیع معلومات رکھتے تھے۔مختصر الفاظ میں کہا جائے تو میر علی شیر قانع جیسے بافضیلت اور ہنر مند رجال زمانے میں کم ہی نظر آتے ہیں‘‘۔ سندھ کے عظیم مورخ اور باکمال شاعر 1203ھ کو 64 سال کی عمر میں ٹھٹہ شہر میں اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے اور اپنے پیچھے علم و ادب کے شاہکار بطور یادگار چھوڑ گئے۔ 
 

ہفتہ، 7 فروری، 2026

ہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائد

 


زمانہ قدیم سے دوا کے طور پر استعمال کی جانے والی ہینگ اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلامیٹری خصوصیات کی حامل ہے،ہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائد                   ہینگ بے پناہ خوبیوں کی وجہ سے انسانی صحت کے لیے انتہائی مُفید ہے اور ہزاروں سال پرانی نباتاتی دوا ہے۔ہینگ کے متعدد استعمال ہیں، ہینگ مختلف اقسام  میں پائی جاتی ہے جن میں ہیرا ہینگ کو بہترین قرار دیا جاتا ہے، ہینگ جیب پر بھاری مگر افادیت کے اعتبار سے بے شمار فوائد کی حامل ہونے کے سبب بہت قیمتی بھی ہے، ہینگ کے استعمال سے دل اور نظام ہاضمہ خاص طور پر گیس، بلغم، پیٹ درد اور دوسری بہت سی بیماریوں کو ختم کرنے کے لیے اکسیر ہے۔ہینگ میں قدرتی طور پر اینٹی بائیوٹک خصوصیات پائی جاتی ہیں جس کے سبب یہ دمہ، کھانسی، سینے کے بلغم، کالی کھانسی اور پسلیاں چلنے کے درد اور سردی میں انتہائی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔استعمال-بلغمی کھانسی میں ہم وزن سونٹھ پاؤڈر اور شہد میں ایک چٹکی ہینگ ملا کر استعمال کرنے سے سے بلغمی کھانسی میں آرام ملتا ہے۔بلغم آنے کی وجہ سے سینے میں درد بھی ہوتا ہے، ایسے میں ہینگ اور پانی کو ملا کر سینے پر ملنے سے سکون کی نیند آتی ہے۔پسلی کے درد میں عمدہ ہینگ باریک پیس لیں اور انڈے کی زردی میں ملا کر لیپ کریں، پسلی کے درد میں آرام آئے گا ۔نزلے سے ہونے والا سر کا درد ہو یا پھر مائیگرین میں ہینگ کا استعمال فوری راحت دیتا ہے۔کافور، ہینگ، پیپر منٹ اور سونٹھ کو باریک پیس کر عرق گلاب میں ملا کر لیپ بنا لیں اور اس لیپ کو سر پر لگا کر ہلکے ہاتھ سے مسا ج کریں تھوڑی دیر میں سر کے درد میں آرام محسوس کریں گے۔



-پیٹ میں درد کا علاج                 'ہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدپیٹ کے درد،قے، جگر کا ورم، بد ہضمی، گردے کا درد، بھوک کی کمی ہو یا پیٹ میں گیس ہو تو ہینگ گرم پانی کے ساتھ کھانے سے پیٹ کا ہر طرح کا درد ٹھیک ہو جاتا ہے۔-معدہ کا درد-جن افراد کو معدہ کمزور اور بار بار معدے کی کارکردگی متاثر ہونے کی شکایت ہو تو ہینگ کا استعمال منقہ کے ساتھ کرنے سے افاقہ ہوتا ہے۔استعمال        منقہ کے بیج نکال کر اس میں زرا سی ہینگ بھریں اور کھا لیں ،معدے کے درد میں فوری آرام آئے گا، یہ ٹوٹکا ان لوگوں کے لیے بھی مفید ہے جنہیں معدے کے درد سے غنودگی طاری ہونے لگتی -ہو یا ان چکر آنے کی شکایت ہو۔بالوں کا جھڑناہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدہینگ کا استعمال بالوں کے لیے نہایت مفید ہے، اس کا بالوں کی جڑوں میں لیپ کرنے سے سے بال مضبوط اور چمکدار ہوتے ہیں۔-استعمالدو چمچ ہینگ میں آدھا چائے کا چمچ پسی پوئی کالی مرچ اور دو کھانے کے چمچ سرکہ ملا کر بالوں کی جڑوں میں مساج کریں، چند دنوں میں بال جھڑنا بند ہو جائیں گے۔-دانت کا دردہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدہینگ جسم کے ہر درد میں مفید اور سوجن ختم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے، دانت کے درد میں اس کا استعمال فوری راحت دیتا ہے، داڑھ کے درد میں ایک چٹکی ہیرا ہینگ داڑھ میں رکھنے سے فوراً آرام آتا ہے ۔کالی مرچ، ہینگ، نیم کے خشک پتے اور لاہوری نمک ہم وزن لے کر باریک پیس لیں، ہفتے میں دو بار اس منجن کا استعمال کریں، نہ دانت میں کیڑا لگے گا اور نہ ہی ٹھنڈا گرم لگنے کی شکایت ہو گی



۔موڈ خوشگوار -بنانے کے 5 آسان طریقےدانت کا رد میں ختم کرنے کے لیے ایک کپ پانی میں دو چٹکی ہینگ اور دو لونگیں ڈال کر ابال لیں اور اب اس پانی سے کلی کریں، دانت کے درد میں آرام آئے گا۔لیموں کے رس میں ہینگ ملا لیں اور روئی سے دانت پر لگائیں، دانت سے خون اور پیپ آنا بند ہو جائے گا۔کتے کے کاٹےکا علاج                         ہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدایک ماشہ ہیرا ہینگ کو عرق گلاب میں حل کر کے روزانہ پلائیں، ہینگ کو پانی میں گھول کر پاگل کتے کے کاٹے پر -لگانے سے آرام آتا ہے ۔چیونٹیاں بھگاناہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدہینگ کو پیس کر چیونٹیوں کے سوراخ میں ڈالنے سے چیونٹیاں بھاگ جاتی ہیں، کچن کے کیبنٹس کے کونوں میں بھی ہینگ لگانے سے چیونٹیاں اور لال بیگ نہیں آتے۔کان کے درد میں آرامہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائداکثر بچوں کے کان میں درد رہتا ہے اور بڑوں کو بھی نزلہ جم جانے کی وجہ سے کان کے درد کی شکایت رہتی ہے، ایسے میں ہینگ کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے ۔ استعمالایک تولہ ہینگ، ایک تولہ سونٹھ اور ثابت دھنیا پیس کر ایک کلو پانی اور آدھا پاؤ سرسوں کے تیل میں ہلکی آنچ پر پانی خشک ہو نے تک پکائیں۔اب تیل کو ٹھنڈا کر کے چھان کر بوتل میں بھر کر رکھ لیں۔کسی قسم کے بھی کان کے درد میں ہلکا گرم کر کے چند بوندیں کان میں ڈال لیں، اس عمل سے فوری آرام آئے گا۔/ہینگ کیا ہے؟ اس کے فوائد، استعمال، نقصانات کیا ہیں؟ہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدزمانہ قدیم سے دوا کے طور پر استعمال کی جانے والی ہینگ اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلامیٹری خصوصیات کی حامل ہے، ہینگ بے پناہ خوبیوں کی وجہ سے انسانی صحت کے لیے انتہائی مُفید ہے اور ہزاروں سال پرانی نباتاتی دوا ہے۔



ہینگ کے متعدد استعمال ہیں، ہینگ مختلف اقسام  میں پائی جاتی ہے جن میں ہیرا ہینگ کو بہترین قرار دیا جاتا ہے، ہینگ جیب پر بھاری مگر افادیت کے اعتبار سے بے شمار فوائد کی حامل ہونے کے سبب بہت قیمتی بھی ہے، ہینگ کے استعمال سے دل اور نظام ہاضمہ خاص طور پر گیس، بلغم، پیٹ درد اور دوسری بہت سی بیماریوں کو ختم کرنے کے لیے اکسیر ہے۔ہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدزمانہ قدیم سے دوا کے طور پر استعمال کی جانے والی ہینگ اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلامیٹری خصوصیات کی حامل ہے، ہینگ بے پناہ خوبیوں کی وجہ سے انسانی صحت کے لیے انتہائی مُفید ہے اور ہزاروں سال پرانی نباتاتی دوا ہے۔ہینگ کے متعدد استعمال ہیں، ہینگ مختلف اقسام  میں پائی جاتی ہے جن میں ہیرا ہینگ کو بہترین قرار دیا جاتا ہے، ہینگ جیب پر بھاری مگر افادیت کے اعتبار سے بے شمار فوائد کی حامل ہونے کے سبب بہت قیمتی بھی ہے، ہینگ کے استعمال سے دل اور نظام ہاضمہ خاص طور پر گیس، بلغم، پیٹ درد اور دوسری بہت سی بیماریوں کو ختم کرنے کے لیے اکسیر ہے۔-نز لہ، کھانسی، دمہہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدہینگ میں قدرتی طور پر اینٹی بائیوٹک خصوصیات پائی جاتی ہیں جس کے سبب یہ دمہ، کھانسی، سینے کے بلغم، کالی کھانسی اور پسلیاں چلنے کے درد اور سردی میں انتہائی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔استعمال  بلغمی کھانسی میں ہم وزن سونٹھ پاؤڈر اور شہد میں ایک چٹکی ہینگ ملا کر استعمال کرنے سے سے بلغمی کھانسی میں آرام ملتا ہے۔بلغم آنے کی وجہ سے سینے میں درد بھی ہوتا ہے، ایسے میں ہینگ اور پانی کو ملا کر سینے پر ملنے سے سکون کی نیند آتی ہے۔’اسافوئیٹیڈا‘ (Asafoetida) جسے اردو زبان میں ہینگ کہا جاتا ہے، ایک قدرتی گوند ہے جو پودے کی جڑ سے نکلنے والے دودھ سے حاصل کی جاتی ہے، یہ صدیوں سے کھانوں میں ذائقہ بڑھانے اور روایتی طب میں استعمال ہو رہی ہے تاہم جدید سائنس اس کے تمام فوائد کی مکمل تصدیق نہیں کرتی                     ہینگ افغانستان اور ایران میں پائی جانے والی جڑی بوٹی سے حاصل ہوتی ہے، خام حالت میں اس کی بو نہایت تیز اور ناگوار ہوتی ہے، اسی لیے اسے ’بدبودار گوند‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے لیکن پکانے کے بعد اس کا ذائقہ لہسن اور پیاز جیسا خوشگوار ہو جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق ہینگ میں اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو جسم میں سوزش کم کرنے اور خلیوں کو نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں، کچھ محدود مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ یہ بدہضمی، پیٹ کے پھولنے اور گیس میں کمی کے لیے مفید ہو سکتی ہے۔آیورویدک و طب میں ہیِنگ کو ہاضمہ بہتر بنانے، سانس کے امراض اور بعض دیگر بیماریوں کے علاج میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔جدید تحقیق میں اس کے جراثیم کُش ہونے، بلڈ پریشر کم کرنے، شوگر لیول گھٹانے اور دماغی صحت سے متعلق ممکنہ فوائد پر بھی ابتدائی شواہد سامنے آئے ہیں تاہم یہ تحقیق زیادہ تر جانوروں یا لیبارٹری کی سطح تک محدود ہے۔ممکنہ نقصانات:ماہرین کا کہنا ہے کہ ہینگ کا کھانوں میں معمولی مقدار میں استعمال عموماً محفوظ ہے لیکن اس کے زیادہ مقدار یا سپلیمنٹ کی شکل میں استعمال سے اسہال، گیس، سر درد یا دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور بچوں کو اس کے استعمال سے گریز تجویز کیا جاتا ہے۔بلڈ پریشر یا خون کو پتلا کرنے والی ادویات استعمال کرنے والوں کے لیے بھی ہینگ سے احتیاط کرنا ضروری ہے۔استعمال کا طریقہ:ہیِنگ عام طور پر گرم تیل میں ڈال کر استعمال کی جاتی ہے تاکہ اس کی تیز بو کم ہو جائے۔ 

عمر شریف گریٹ کامیڈی کنگ



1979    عمر شریف   نے اپنی معصوم عمر کی صرف چار بہاریں دیکھی تھیں کہ                        ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور ان کے خاندان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔وہ کراچی میں جس علاقے میں رہائش پذیر رہے وہاں قریب قوالوں کے بھی گھر تھے۔ بچپن اور لڑکپن میں ان کی دوستی ان قوالوں کے بچوں سے رہی اور جب ہوش سنبھالا تو اپنے محلے کے مختلف کرداروں سمیت مشہور فلمی اداکاروں کی بول چال اور انداز کی نقالی کرنے لگے۔یہی وجہ تھی کہ عمر شریف کی بذلہ سنجی، جملے بازی اور لطیفہ گوئی پورے علاقے میں مشہور ہو گئی تھی۔ سکول کے بعد عمر شریف جب گلی محلے میں نکلتے تو ان کے ارد گرد لڑکوں کا ہجوم ہوتا اور وہ انھیں ہنسانے میں مصروف ہو جاتے۔عمر شریف کراچی کے آدم جی ہال  کے کیفے ٹیریا میں جا کر بیٹھ جاتے  تھے ایک دن کا زکر ہے کہ جاری سٹیج ڈرامے کے ایک گجراتی اداکار کو اپنے عزیزکی وفات پر ڈرامہ چھوڑ کر جانا پڑا تو شو سے دو گھنٹے قبل عمرشریف کو بلایا گیا اور میک اپ روم میں کاغذات کا پلندہ ہاتھ میں یہ کہہ کر تھما دیا گیا کہ تمہیں جوتشی بننا ہے۔عمر شریف نے میک اپ کے دوران  ڈائلاگ یاد کئے  ان کو اس ڈرامے  میں  تین بار انٹری دینا تھی۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے متعدد فنکار بتاتے ہیں کہ پہلی ہی انٹری پر ہی عمرشریف نے اپنی پرفارمنس سے حاضرین کے دل جیت لیے اور جب وہ سٹیج سے ہٹے تو دیر تک تالیاں بجتی رہیں۔ 14 سال کے عمر شریف کو اس ڈرامے میں بہترین کارکردگی دکھانے پر شو کے آخری دن پانچ ہزار روپے، 70 سی سی موٹرسائیکل اور پورے سال کا پٹرول انعام میں دیا گیا تھا۔اور پھر انھوں نے اس میدان میں اداکاری کے علاوہ بطور مصنف اور ہدایتکار بھی اپنے فن کا لوہا منوایا۔



 عمر شریف نے 70 سے زائد ڈراموں کے سکرپٹ لکھے جن کے مصنف، ہدایتکار اور اداکار وہ خود تھے اور ان ڈراموں نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے۔بہروپیا‘ وہ کھیل تھا جس میں عمر شریف کا ٹیلنٹ کھل کر سامنے آیا اور پھر ’بڈھا گھر پہ ہے‘ اور ’بکرا قسطوں پہ‘ نے انھیں پاکستان کے ساتھ ساتھ انڈیا میں بھی وہ مقبولیت عطا کی کہ عمر شریف برصغیر کے پسندیدہ مزاحیہ فنکار بن گئے۔ڈرامہ بکرا قسطوں پہ کی مقبولیت اس قدر تھی کہ عمر شریف نے اس کے پانچ پارٹ بنائے۔ عمر شریف نے پہلی بار سٹیج ڈرامے ریکارڈ کرنے کا رواج بھی ڈالا۔ ’یس سر عید، نو سر عید‘ عمر شریف کا پہلا ڈرامہ تھا جس کی ویڈیو ریکارڈنگ کی گئی تھی۔ سٹیج ڈراموں کی ویڈیو ریکارڈنگ نے انھیں برصغیر سمیت دنیا بھر میں اردو اور پنجابی بولنے والوں کا پسندیدہ کامیڈین بنا دیا تھا۔  عمر شریف کا اصل نام محمد عمر تھا اور وہ سرکاری ٹی وی کے مطابق کراچی میں 19 اپریل 1960 کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کی عمر چار سال تھی کہ والد کا انتقال ہو گیا اور ان کے خاندان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔وہ کراچی میں جس علاقے میں رہائش پذیر رہے وہاں قریب قوالوں کے بھی گھر تھے۔ بچپن اور لڑکپن میں ان کی دوستی ان قوالوں کے بچوں سے رہی اور جب ہوش سنبھالا تو اپنے محلے کے مختلف کرداروں سمیت مشہور فلمی اداکاروں کی بول چال اور انداز کی نقالی کرنے لگے۔


یہی وجہ تھی کہ عمر شریف کی بذلہ سنجی، جملے بازی اور لطیفہ گوئی پورے علاقے میں مشہور ہو گئی تھی۔ سکول کے بعد عمر شریف جب گلی محلے میں نکلتے تو ان کے ارد گرد لڑکوں کا ہجوم ہوتا اور وہ انھیں ہنسانے میں مصروف ہو جاتے۔عمر شریف نے پہلی رات ہی کرشمہ کر دکھایا تھا!  ۔ عمر شریف نے 70 سے زائد ڈراموں کے سکرپٹ لکھے جن کے مصنف، ہدایتکار اور اداکار وہ خود تھے اور ان ڈراموں نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے۔بہروپیا‘ وہ کھیل تھا جس میں عمر شریف کا ٹیلنٹ کھل کر سامنے آیا اور پھر ’بڈھا گھر پہ ہے‘ اور ’بکرا قسطوں پہ‘ نے انھیں پاکستان کے ساتھ ساتھ انڈیا میں بھی وہ مقبولیت عطا کی کہ عمر شریف برصغیر کے پسندیدہ مزاحیہ فنکار بن گئے۔ڈرامہ بکرا قسطوں پہ کی مقبولیت اس قدر تھی کہ عمر شریف نے اس کے پانچ پارٹ بنائے۔ عمر شریف نے پہلی بار سٹیج ڈرامے ریکارڈ کرنے کا رواج بھی ڈالا۔ ’یس سر عید، نو سر عید‘ عمر شریف کا پہلا ڈرامہ تھا جس کی ویڈیو ریکارڈنگ کی گئی تھی۔ سٹیج ڈراموں کی ویڈیو ریکارڈنگ نے انھیں برصغیر سمیت دنیا بھر میں اردو اور پنجابی بولنے والوں کا پسندیدہ کامیڈین بنا دیا تھا۔عمر شریف کی میت آج علی الصبح کراچی پہنچی تھی عمر شریف کی نمازِ جنازہ مولانا بشیر فاروقی نے پڑھائی جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی


لیجنڈری کامیڈین عمر شریف کو ان کی خواہش کے مطابق کراچی میں عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک کردیا گیا۔عمر شریف کی بیوہ زرین غزل نے بتایا تھا کہ اداکار نے ان سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا کہ انہیں عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک کیا جائے۔زرین غزل نے سندھ حکومت سے اپیل کی تھی کہ عمر شریف کی تدفین عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں کرنے کی اجازت دی جائے، جس پر صوبائی حکومت نے مزار انتظامیہ کو ہدایات جاری کی تھیں۔عمر شریف کی تدفین کے موقع پر کئی اہم شخصیات موجود رہیں اور اس موقع پر سیکیورٹی کے انتظامات بھی سخت کیے گئے تھے۔اس سے قبل سہ پہر تین بجے عمر شریف کی نمازِ جنازہ کلفٹن میں واقع پارک میں مولانا بشیر فاروقی نے پڑھائی تھی، جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔قبل ازیں شریف کا جسدِ خاکی گلشن اقبال میں واقع رہائش گاہ سے کلفٹن میں ان کے نام سے منسوب پارک میں پہنچایا گیا تھا۔عمر شریف کی نمازِجنازہ میں سیاست و شوبز سے وابستہ شخصیات نے بھی شرکت کی اس موقع پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری جنازہ گاہ کے اطراف موجود تھی جبکہ میت کی منتقلی کے سلسلے میں بلاول چورنگی سے ضیا الدین ہسپتال جانے والی سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا تھا۔


جمعرات، 5 فروری، 2026

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

 



چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل طویل تھا۔ مائوزے تنگ کی لاکھوں مزدوروں اور کسانوں پر مشتمل ''پیپلز لبریشن آرمی'' تھی، جس کے پاس کوئی اسلحہ تو درکنار غذا اور سفر کی بنیادی سہولیات تک نہ تھیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس مارچ میں دو لاکھ افراد شریک تھے اور منزل پر پہنچتے تک اس کے شرکا صرف چالیس ہزار رہ گئے، باقی لوگ بھوک اور نامساعد حالات کا شکار ہوگئے۔ اس مارچ کو روس کی حمایت ضرور تھی، مگر روس خود ابھی انقلاب کے بعد سنبھل رہا تھا، لہٰذا مائو کو گوریلا کارروائیوں کا سہارا بھی لینا پڑا۔ فوج سے چھینے گئے سامان سے سرخ فوج کا شعبۂ مواصلات قائم کیا گیا۔ کسانوں کو پہلی مرتبہ چاقوئوں سے مسلح کیا گیا۔ بظاہر تجارت کی غرض سے مغربی اقوام چین میں وارد ہوئیں اور حالات اپنے موافق دیکھے، تو طاقت کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے اور سیاسی معاملات میں مداخلت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ انیسویں صدی میں یہ مہم شدید تر ہوگئی۔ یہاں تک کہ انگریزوں سے تجارتی معاملات پر مڈبھیڑ ہوئی اور انگریزوں نے چین کے علاقے ہانگ کانگ پر قبضہ کر لیا۔ یوں یہ استحصال بڑھتا ہی چلا گیا۔ 1840ء میں انگریزوں اور فرانسیسیوں نے چین کو بہ زور زیرنگیں کرلیا۔ 1894 ء میں چین کی جاپان سے جنگ نے مشکلات مزید بڑھا دیں۔ 


 سامراجیوں کی توسیع پسندی پر چینی عوام نے باقاعدہ مزاحمت کی اور حریت پسندی کا عَلم بلند کیا، مگر انہیں کچل دیا گیا اور اب چین سے باقاعدہ کسی مفتوحہ ملک جیسا برتائو کیا جانے لگا۔1905ء میں چینی راہ نمائوں نے نظام حکومت کی اصلاح کی خاطر پارلیمانی نظام کا مطالبہ کیا۔ بالآخر 1909ء میں صوبائی اور 1910ء میں قومی سطح پر منتخب ایوان قائم کیا گیا۔ قومی اسمبلی کے نصف ارکان منتخب، جب کہ نصف نام زَد تھے۔تاہم انہیں ابھی قانون سازی کا اختیار نہیں دیا گیا۔ یہ وعدہ کیا گیا کہ قانون سازی 1913ء میں کی جا سکے گی۔ فوری قانون سازی کے مطالبے کے ساتھ خاندانی حکومت کے خلاف بھی تحریک زور پکڑنے لگی۔جنگ کے ساتھ انہیں سخت موسم اور فاقہ کشی کا بھی سامنا تھا، اور یہ عوامل بھی ان کی اموات کا سبب تھے۔ تمام مفتوحہ علاقوں کی زمینیں کسانوں میں بانٹ دی جاتی تھیں۔ چین کے کروڑوں غریبوں نے سرخ فوج کا قول و فعل دیکھ لیا تھا۔ اب ان کو متنفر کرنا مشکل تھا، ان کی فوج کا حجم بڑھتا ہی چلا گیا۔مائوزے تنگ کی قیادت میں اشتمالیوں نے فتوحات حاصل کرنا شروع کیں اور چیانگ کی حکومت جزیرہ فارموسا میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئی۔ یکم اکتوبر 1949ء کو پورے چین پر کمیونسٹوں کا قبضہ ہو گیا اور عوامی جمہوریہ چین کا قیام عمل میں آیا۔عوامی جمہوریہ چین کو دنیا بھر کے ممالک نے تسلیم کر لیا، مگر امریکا 22 برس تک اس کا انکاری رہا۔ چیانگ کائی شیک کی حکومت جزیرہ تائیوان تک محدود تھی۔ امریکا تائیوان کی حکومت ہی کو چین کی نمائندہ حکومت قرار دیتا رہا۔ اسی بنا پر چین کو اقوام متحدہ کی رکنیت بھی نہ ملی۔ جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل میں بھی چین کی رکنیت بدستور تائیوان کو حاصل رہی۔ 1971ء میں واشنگٹن نے بیجنگ کو تسلیم کیا اور یوں 25 اکتوبر 1971ء کو عوامی جمہوریہ چین کو جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کا رکن بنایا گیا۔1911



 میں    پھر چین کے جمہوریت پسندوں نے باقاعدہ بغاوت کردی، جس کے نتیجے میں شہنشاہ تخت سے دست بردار ہو گیا اور جمہوریت کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔ چینی راہ نما سن یات سین (Sun Yat-sen) نے عارضی حکومت قائم کی اور پارلیمان نے عارضی دستور نافذ کیا۔ سن یات سین نے قومیت، جمہوریت اور اشتراکیت کے اصول کو اپنے لائحہ عمل کی آس قرار دیا، تاکہ قومی آزادی، نسلی اتحاد اور سیاسی مساوات اور کاشت کاروں اور مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے اور اپنے ان اصولوں کو روبہ عمل لانے کے لیے ایک نئی جماعت قائم کی، جو ''کومن تانگ'' (Kuomintang)کے نام سے مشہور ہوئی۔سن یات سین انتشار پسند عناصر کو ختم کر کے متحدہ مملکت قائم نہ کر سکا۔ بیرونی ریشہ دوانیاں اور چین کے فوجی سرداروں کی خودسری اس کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ تھیں۔ 1925ء میں سن یات سین کا انتقال ہوگیا اور ''چیانگ کائی شیک'' (Chiang Kai-shek) کومن تانگ کا قائد بنا، لیکن کومن تانگ کا سخت گیر حصہ، چیانگ کا مخالف اور اشتمالیت کا عَلم بردار تھا۔ چیانگ کیمونزم کو چین کے لیے خطرناک تصور کرتا تھا۔ چناں چہ چیانگ کی اپنے مخالفین سے جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ چیانگ ان کی قوت ختم کرنے میں ناکام رہا۔اور پھر چینیوں کا باپ ماؤزے تنگ میدان عمل میں اتر آیا  فوج سے چھینے گئے سامان سے سرخ فوج کا شعبۂ مواصلات قائم کیا گیا۔ کسانوں کو پہلی مرتبہ چاقوئوں سے مسلح کیا گیا۔ ہ ظاہر تجارت کی غرض سے مغربی اقوام چین میں وارد ہوئیں اور حالات اپنے موافق دیکھے، تو طاقت کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے اور سیاسی معاملات میں مداخلت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔



انیسویں صدی میں یہ مہم شدید تر ہوگئی۔ یہاں تک کہ انگریزوں سے تجارتی معاملات پر مڈبھیڑ ہوئی اور انگریزوں نے چین کے علاقے ہانگ کانگ پر قبضہ کر لیا۔ یوں یہ استحصال بڑھتا ہی چلا گیا۔ 1840ء میں انگریزوں اور فرانسیسیوں نے چین کو بہ زور زیرنگیں کرلیا۔ 1894 ء میں چین کی جاپان سے جنگ نے مشکلات مزید بڑھا دیں۔ تو کم خواب چینی بھی بیدار ہونے اور حریت پسندی کے سپنے بُننے لگے۔ انیسویں صدی کے آخری برسوں میں آزادی کی امنگ نے منظم تحریک کی شکل دھار لی۔ 1900ء میں سام راجیوں کی توسیع پسندی پر چینی عوام نے باقاعدہ مزاحمت کی اور حریت پسندی کا عَلم بلند کیا، مگر انہیں کچل دیا گیا اور اب چین سے باقاعدہ کسی مفتوحہ ملک جیسا برتائو کیا جانے لگا۔1905ء میں چینی راہ نمائوں نے نظام حکومت کی اصلاح کی خاطر پارلیمانی نظام کا مطالبہ کیا۔ بالآخر 1909ء میں صوبائی اور 1910ء میں قومی سطح پر منتخب ایوان قائم کیا گیا۔ قومی اسمبلی کے نصف ارکان منتخب، جب کہ نصف نام زَد تھے۔۔۔ تاہم انہیں ابھی قانون سازی کا اختیار نہیں دیا گیا۔ یہ وعدہ کیا گیا کہ قانون سازی 1913ء میں کی جا سکے گی۔۔۔ فوری قانون سازی کے مطالبے کے ساتھ خاندانی حکومت کے خلاف بھی تحریک زور پکڑنے لگی۔جنگ کے ساتھ انہیں سخت موسم اور فاقہ کشی کا بھی سامنا تھا، اور یہ عوامل بھی ان کی اموات کا سبب تھے۔ تمام مفتوحہ علاقوں کی زمینیں کسانوں میں بانٹ دی جاتی تھیں۔ چین کے کروڑوں غریبوں نے سرخ فوج کا قول و فعل دیکھ لیا تھا۔ اب ان کو متنفر کرنا مشکل تھا، ان کی فوج کا حجم بڑھتا ہی چلا گیا۔مائوزے تنگ کی قیادت میں اشتمالیوں نے فتوحات حاصل کرنا شروع کیں


منگل، 3 فروری، 2026

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

 

میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے بہت ہمّت کر کےاپنے آپ کو سنبھالا ہوا تھا مگر دل پر بھلا کس کو اختیار ہوسکتا ہے ،اور اس کا دل سینے کے پنجرے میں پھڑپھڑا رہا تھا کہ اس کو جان ودل سے ا پنا بنانے والا کبھی بھی واپس نہیں آنے کے لئے اس سے روٹھ کردنیا سے جا چکا تھا,,سو چوں کے انہی جان گسل لمحات میں ,ایجاب وقبول کے لئے مولاناصاحب طلال کے ہمراہ اس کے پاس آگئے'ایجاب و قبول کا مرحلہ شروع ہوا نصرت نگین بنت اسلام الدّین آپ کو مبلغ                   مہر شرعی شامیل احمد ابن خلیق احمد کے ساتھ نکاح منظور ہے اور مولاناصاحب کے الفاظ پورے ہونے سے پہلے اس نے اپنے آپ کو بے ہوش ہونے سے بچایا ،اورپھر اس نے مولانا کے دوسر ی بار کے مرحلے پر پہنچنے پر آہستہ سے ہاںکہاور نکاح نامے کو اپنی موت کا پروانہ سمجھ کر سائن کر دئےاور نکاح کے بعد اس کی منجھلی آپا اور بڑی آپا نے ,,نے اس کے دونو ں بازوتھام کر شامیل کے پہلو میں لا کر بٹھا دیا، اس نے نا تو اپنی نگاہیں اوپراٹھائیں اور ناہی شامیل نے اس کے پہلو کی قربت کو اپنے نزدیک پسند کیا اسلئے کچھ فاصلہ پر کھسک کر بیٹھ گیا جس کو سب نے اس کی شرم و حیا کی تعبیرجانا مووی بنتی رہی تصاویر کھینچی جاتی رہیںفو ٹو گرافر مووی میکر باربار اصر ار کرنے لگا زرا سا کلوز ہو جائیے ,,زرا سا کلوز ہو جائیے اور وہ زراسا کلوز ہوتا اور پھر دور ہوجاتا ،اور وہ بے روح کی مانند ساکت ہی رہی اور بغیر ایک آنسو بہائے رخصت ہو کرشامیل کے گھر میں سر جھکائےہوئے آ گئ'اس شادی میں اس کے میکے میں ناکوئ رسمیں ہوئیں ناریتیں ہوئیں نا ڈھولک کی تھاپ پر کسی سہیلی نے کوئ سہاگ گیت گا یا ،بس منجھلی آپا ہی تو تھیں جنہوں نے اس کے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگا دی تھی اور بیوٹی پارلر لے جاکر دلہن بنوا لائ تھیں-


البتّہ شامیل کے یہاں اس کے بابا جانی کی بیماری کے باوجود شادی کےہنگامے کا پورا پورا اہتمام اس لئے کیا گیا تھا کہ شامیل کہیں یہ نہیں سوچے کہ گھر میں چھوٹا ہونے کے سبب وہ نظر انداز کر دیا گیا- شامیل کے ساتھ انتہائ عجلت میں حادثاتی شادی نےجس میں اس کا پورا، پورا قصور شامل تھا ,اس کو زہنی اور جسمانی دونوں طرح سے بے حد تھکا دیا تھا ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب شامیل نے رات گئے کمرے میں آکے اس کواس کےماضی کے زہر بھرے کچوکے دئے تو اس کے زہن نے مزید بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا  کیونکہ اسکا د ماغ اب مذید بو جھ اٹھا نے سے  قا صر ہو چکا تھا جس کا نتیجہ اب ظاہر ہو ا اس کو پتا ہی نہیں چلا کہ کب وہ بے ہوش ہوگئ البتّہ جب اسے ہوش آیا تو کمرے میں گھپ اندھیرا چھایا  ہواتھا اور تمام  ماحول پر رات کی  خاموشی طاری تھی اور اس کے ہاتھوں اور پیروں کی طاقت سلب ہو چکی تھی ,کچھ دیرتو اس کی سمجھ ہی میں نہیں  آیا کہ کہ وہ کہاں پر ہے ؟ اورایک اجنبی گھر میں کیوں ہے ؟ اپنی بڑی آپا کے گھر کیوں نہیں ہے پھر جب کچھ, کچھ اس  کے حواس واپس ہونے لگے تو اس کو یاد آیا کہ اس کی شادی ہو چکی ہے اور اب وہ بڑی آپا کے گھر کے بجائے شامیل کے گھر میں موجود ہے ، پھر اس کے لئےتختہء دار پر گزرتی ہوئ اس شب مرگ و سوگ میں اس کا دھیان یعسوب کی جانب  چلا گیا جو اس کو حالات کے منجھد ھار میں مر ،مر کے جینے اور جی، جی کے مرنے  کے لئےتنہا  چھوڑ کر چلا گیا تھا 


اس نے سوچا کہ یعسوب کے بجائے اگر وہ مرجاتی تو کتنا اچھّا ہوتا بے اختیار اس کی آنکھوں سے اپنی بے بسی پر آنسوؤں کی جھڑی لگی تو اس نے آنسوپونچھنے کے لئے اپنے ہاتھ کو جیسےہی جنبش دی اس کی کلائیوں میں موجود کانچ کی چوڑیاں کھنک اٹھیں اور اس نے اپنا                 ہاتھ وہیں پر رو ک دیا اورسنبھل کر سو چا کہ کہ کہیں اس کے رونے سے کارپٹ پر سوئے ہوئے شامیل کی آنکھ نا کھل جائے اور پھر ایک نیا ہنگامہ کھڑا ہو جائے اس لئے اس نے خاموشی سے اپنے آنسوؤں کویونہی بہتے رہنے دیا اوریہ آنسوبہتے ہوئے اس کا تکیہ بھگوتے رہے اور اسی طرح وہ ناجانے کب نیند کی آغوش میں چلی گئ ,,اور پھر صبح سویرے جب اس کی آ نکھ کھلی تواس نے سب سے پہلے بیڈ پر پھیلی ہوئ اپنی, یعسوب کے ساتھ منگنی کی تمام بے تر تیب ا لٹی اور سیدھی پڑی ہوئ وہ ار مان بھرے جذبوں سے کھینچی ہوئ تصاویرجو اس وقت ان دونو ں کی                   زندگی کا یادگار ترین موقع تھا , جلدی جلدی سمیٹ کر تکئے کے نیچے چھپا دیں اور پھر اللہ کا شکر ادا کیا کہ شامیل کے سو کر اٹھنے سے پہلے ہی وہ خود اٹھ گئ , کھول کر اس میں سے گھر کے پہننے کے لئے سادہ جوڑا نکالا, حالانکہ اس کی ہر حرکت آہستہ آہستہ ''سے ہی عبارت تھی لیکن پھر بھی کلائیوں میں پہنی ہوئ کانچ کی چوڑیاں انہیں روکنے کے باوجود کھنک جانے سے شامیل کی آنکھ کھل گئ اور اس نے  کمرے میں پھیلی ہوئ ملگجی روشنی میں کارپٹ پرسوٹ کیس کھولے بیٹھی ہوئ نگین کو نیم وا آنکھوں سے دیکھا لیکن پھروہ جان بوجھ کرسوتا ہی بنا پڑا رہا 


, اور پھروہ وہا ں سے اپنے کپڑے لے کر فورا ہی چلی گئ ،اور پھر ڈ ریسنگ            روم سے تیّار ہو کر کمرے میں آئ تو شامیل کمرے سے جا چکا تھا , اس نے شامیل کے کمرے سے یوں چلے جانے پر اللہ کا شکر ادا کیا او ایک بار پھر بیڈ پر بیٹھ کر کمرے کا جا ئزہ لیا اس وقت حجلہء عروسی میں گزری ہوئ رات کے گلاب کے سارے تازہ مہکتے ہوئے پھولو ں پر مردنی چھائ ہوئ تھی اورموتئے کی کھلکھلاتی ہوئ تازہ معطّر کلیوں نے سہاگ رات کی سونی سیج کے سرہانےاپنی ہی بانہوں میں اداسی سے سر نیہو ڑا دیا تھا ریشمی حریریپردے اس طرح ساکت تھے جس طرح جنازہ اٹھنے سے پہلے ماحول کو سکوت ہوتا ہے اور پردوں میں کالے کوبراجنکی لال لال زبانیں رات کے اندھیرے میں اس کی طرف لپک رہی تھیں اب پردوں سے لپٹے ہوئے سو رہے تھے اور کمرے میں ہ rجگہ شامیل کی نفرت کی چنگاریا  ں چٹختی پھر رہی تھیں اور اس کی سہاگ رات زندگی بھر کا سوگ بن کر گزر گئ تھی اورپھر اس سے پہلے کہ اسکی وحشت اور بھی دو چند ہو جاتی ,,کہ کمرے کے دروازے پر دستک ہوئ ،اور وہ اپنی جگہ سےاٹھ کر دروازے کی جانب بڑھی  دروازہ بند تو تھا نہیں ادھ کھلا تھا ،چناچہ ربیکا دستک دے کراندر آ گئیں  اس نے فوراً ربیکا کو مودّبانہ سلام کیا تو ربیکا نے اسے گلے سے لگایا اور ماتھے پر پیار کر کے مسکراتے ہوئے کہنے لگیں........ ، کہو دلہن بیگم تمھیں ہمارا بھائ کیسا لگا

پیر، 2 فروری، 2026

شکار پور چار سو سالہ تہذیب و تمدن سے آراستہ شہر

 



 سندھ کی سرزمین اپنی ابتدا سے ہی ہر لحاظ سے ایک امیر کبیر دولت دے مالا مال رہی ہے اسی سر زمین پر دریائے سندھ کے بائیں کنارے سے کچھ ہی فاصلے پر واقع چار سوسالہ تاریخ کو اپنے اندر سمونے والابالائی سندھ کا یہ تاریخی شہر شکارپور ، ماضی میں اپنی خوب صورتی اور یہاں بسنے والے لوگوں کی تہذیب ، تمدن، تعلیم و تربیت کے ساتھ ، ساتھ تجارت کے باعث بھی جانا پہچانا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے اسے بّر صغیر سمیت دیگربیرونی ممالک کی کاروباری منڈیوں میں اہم تجارتی مرکز کی حیثیت بھی حاصل رہی ۔ اُسی زمانے میں تاجر قافلے اونٹ گاڑیوں پر سوار ہوکر یہاں پرقائم تاریخی قلعے قافلےمیں قیام و طعام کرکے اپنے تجارتی مقاصد حاصل کرلینے کے بعد یہاں سے اپنی منزلوں کو روانہ ہوجاتے تھے۔ سندھ میں برطانوی راج قائم ہونے کے بعد سندھ کو انتظامی لحاظ سے تین اضلاع کراچی،حیدرآباد اور شکارپور میں تقسیم کردیا گیا،پھر وقتاً فوقتاً یہاں مختلف شعبہ جات میں تبدیلیاں اور ترقیاں رونما ہونے لگیں، نئے طرز زندگی کو اپناتے ہوئے قدیم آلات کی جگہ جدید آلات نے لے لی۔ اس زمانے میں (ایس آر سی) سندھ ریلوے کمپنی کو کراچی سے کوٹری تک ریلوے لائین بچھانے کی ذمےداری دی گئی۔ اس سے پہلے دریائے سندھ میں انڈس فلوٹیلا کی اسٹیم بوٹس کے ذریعے سفرکیا جاتا تھا، جو کہ دریا کےبہاؤ کی مخالف سمت ہونے کے باعث کئی دن لے لیتا تھا، جب کہ واپسی کا سفر دریا کے بہاؤ کی درست سمت ہونے کے باعث کچھ کم دنوں میں طےہوپاتا تھا۔


 پھریہاں سفری سہولتوںاور مال کی ترسیل کے لیے ریل کی پٹڑیاں بچھائی گئیں، جن پرکالی تیز رفتار ریل گاڑیاں چلنے لگیں، جنہوں نے سفر کے طویل تر لمحات کو مختصر کرکے ریل کے سفر کو لوگوں کے لیےآنے جانے کا ایک آسان اور محفوظ ذریعہ بنادیا۔ اُن دنوں شکارپور سمیت دیگر ملحقہ علاقوں میں ،جن اشیائےخورونوش اور دیگراشیائے صرف کی دریائے سندھ کے راستے کشتیوں کےذریعے تجارت کی جاتی تھیں، وہ مال گاڑیوں کے ذریعےآنے جانےلگیں۔اُس وقت کوٹری براستہ دادو،ریلوے لائین پرضلع شکارپور کا پہلا ریلوےجنکشن ’’رُک اسٹیشن ‘‘ کے نام سے1898ء میں تعمیر کرایا گیا۔شروعاتی دور میں اس اسٹیشن کے ذریعے شکارپورکی تجارت کوپورےسندھ سمیت برصغیر ودیگر مغربی ممالک کے ساتھ جوڑدیا گیا۔ 120برس قبل تعمیر کرایا گیا ،یہ اسٹیشن آج تک فن تعمیر کی ایک زندہ مثال ہے،جو کہ اتنے برس بیت جانے کے باوجود آج بھی لوگوں کے لیے کسی شاہکار سے کم نہیں۔ اسٹیشن کے قیام کے بعد کئی دَہائیوں تک اس کی رونقیں دیکھنے لائق تھیں،کیوں کہ اس اسٹیشن سے ملحقہ شہروں اور دیہات کےزیادہ تر رہائشی ریل گاڑی کو ہی اپنا ذریعہ سفر بناتے تھے۔اُس وقت اسٹیشن تک پہنچنے کا ایک واحد ذریعہ بیل گاڑیاں ہوا کرتی تھیں ۔ گزشتہ دس پندرہ برسوں کے دوران پاکستان میں ریلوے کےزوال کے ساتھ ہی یہ ریلوے اسٹیشن بھی اپنی رونقیں کھو بیٹھا ہے۔

اب اس کی ویرانی کا یہ عالم ہے کہ نہ تو یہاں کوئی مسافر نظر آتا ہے اور نہ ہی یہاں وہ سہولتیں موجو دہیں، جو ماضی میں اس کا حسن ہوا کرتی تھیں۔ یہاں ریل گاڑیاں نہ رکنے کی وجہ سے آج کل ملحقہ علاقوں کے عام شہری اور دیہاتی سستے اور آرام دہ سفر سے محروم ہو چکے ہیں۔اس اسٹیشن کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ آج بھی سکون کے متلاشی لوگ اپنے دیہات میں گھومنے آتے ہیں ،تو ایک بار ہی سہی ، لیکن اس پُرسکون اور خوب صورت اسٹیشن کا چکر ضرور لگانے آتے ہیں۔ رُک کے بعد شکارپورریلوے اسٹیشن کی تعمیر کا کام عمل میں آیا،جسے 1901 میں مکمل طور پر تعمیر کر لیا گیا۔ اس اسٹیشن کو رُک اسٹیشن کی طرح زیادہ خوب صورت تو نہیں بنایا گیا تھا، لیکن شہر میں اسٹیشن کا قیام یہاں کے شہریوں سمیت تاجروں کے لیےنہایت ہی خوش آئند ثابت ہوا۔دیو قامت دھواں اڑاتے ہوئے کالے انجن والی یہ ریل گاڑیاں اس وقت کے لوگوں کے لیے حیران کن تو تھیں، ساتھ ساتھ سفری سہولتوں کے مزے لوٹنے کا ذریعہ بھی تھیں۔ اُونٹ گاڑیوں پر لدا ہوا مال اب مال گاڑیوں کے ذریعے آنے جانےلگا ۔117برس قبل تعمیر کرائے گئے اس اسٹیشن پر ریل گاڑیوں اور مال گاڑیوں کی آمد ورفت کے باعث یہاں بہت بڑا مال گودام بھی بنایا گیا، جس سےخاص طور پر یہاں پیدا ہونے والی نمایاں کاشت دھان اور گندم کے کاشت کاروں اور تاجروں کو بہت فائدہ پہنچا۔ 


بزرگوں کا کہنا ہے کہ ’’کسی زمانے میں یہاں اتنے مال کی آمد و رفت ہوتی تھی، کہ ریلوے کے گوداموں میں سامان رکھنے کی جگہ کم پڑ جاتی تھی۔ سارا دن گاڑیوں کی آمد ورفت کے باعث اسٹیشن پرلوگوں کا ہجوم ہر وقت رہنے کے باعث یہاں ایک میلے کا سماں بندھا رہتا تھا۔‘‘ اس اسٹیشن سے وابستہ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ایک زمانے میں اس اسٹیشن سے مختلف مقامات کو جانے والی ریل گاڑیوں کےریکارڈ ٹکٹ فروخت ہوئے تھے،کیوں کہ یہاں کے لوگوں کااپنی تعلیم، کاروبار اور ملازمت کے باعث پاکستان کے مختلف علاقوں میں آناجانا معمول کا حصہ تھا، لیکن اب یہ اسٹیشن تقریباً ساڑھے بارہ لاکھ کے آبادی رکھنے والے ضلع شکارپور کے عوام کے لیے امید کی ایک واحد کرن بنا ہوا ہے،۔ شکار پور ریلوے اسٹیشن ہمیشہ سےمقتددر حلقوں کی توجہ کا طالب رہا ہے۔ اس وقت یہاں سے مین لائین پررات کے اوقات میں کراچی کے لیے براستہ روہڑی صرف ایک گاڑی سکھر ایکسپریس چلتی ہے، جب کہ بولان میل، خوشحال خان خٹک ایکسپریس براستہ لاڑکانہ دادو لائین پر کراچی کے لیے ،اکبر ایکسپریس اور جعفرایکسپریس براستہ روہڑی تا پنجاب چلا کرتی ہیں، جن میں شکارپور کے کوٹے کی ٹوٹی پھوٹی خستہ حال بوگیاں کسی آفت زدہ علاقے سے آئی ہوئی لگتی ہیں،جن کے بیت الخلاءناقابلِ استعمال اورٹوٹی پھوٹی خستہ حال سیٹوں پر سفر مشکل ترین ہوجاتا ہے۔ شکارپور ریلوے اسٹیشن کی اراضی پر گزشتہ کئی برسوں سے منظور شدہ پارک تاحال نہیں بن پایا، جس سے ریلوے ملازمین سمیت اسٹیشن کے قریب رہنے والوں کے پاس صحت مند تفریح کے مواقع میسر نہیں ہیں۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

امجد اسلام امجد -اگر کبھی میری یاد آئے

   اگر کبھی میری یاد آئے تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں کسی ستارے کو دیکھ لینا  ا مجد اسلام امجد-ایک  عالمی  اور  پاکستانی  شہرت یافتہ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر