پاکستان کی تعلمی پسماندگی کا مجرم کون ہے اس ایک جملے کے پیچھے دیکھئے ' پاکستان جیسا خطہء زمین جو ایک جانب معدنی وسائل سے مالامال ہے تو دوسری جانب اس کا چپہ چپہ سیاحت کے دلدار نظارے لئے سیاحوں کی راہیں تکتا ہے 'لیکن جہاں کہیں فائدہ اٹھا یا بھی جاتا ہے تو سیدھا اشرافیہ کے خزانوں میں چلا جاتا ہے عام لوگ اس سے فیضیاب ہو ہی نہیں سکتے ہیں اور اس معاشرتی نا انصافی کے خلاف بول سکتےبہیں اس کے نتیجے میں ہماری معصوم بچہ قوم چکی کی کے پاٹوں میں پس گئ ہےکہیں ننھی کلیاں رات کو سڑک کے کنارے ابلے انڈے بیچ رہی ہیں تو کہیں ننھے پھول 'پھول بیچ کر گھر کی دال سڑکوں پر رُل رہے ہوتے ہیں یا دن کی جھلستی دھوپ میں کچھ بیچ رہے ہوتے ہیں تاکہ گھر کا خرچ چلا سکیں لیکن ہماری حکومتوں کی ترجیح تعلیم نہیں ہے صرف اپنے عشرت کدے ہیں اپنی شوگر ملیں ہیں اپنے آئ پی پیز ہیں امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا کے تر قی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز اُن کی تعلیمی پالیسوں میں پوشیدہ ہے،یعنی کسی بھی ملک کی تر قی وخوشحالی کا انحصار اُس کی تعلیمی پالیسی پر ہو تا ہے،آج برطانیہ،چین،جاپان اور سنگاپور سمیت دنیا کے بہت سے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں،دوسری جنگ عظیم کاشکست خوردہ جاپان آج ساری دنیا کو تعلیمی میدان میں پیچھے چھوڑچکا ہے،وہاں شر ح خواندگی 99 فیصدہے جو کہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بعد ہر طبقہ کے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کا کہنا ہے کہ دنیا کے221 ممالک میں مذکورہ بالا شرح خواندگی کے ساتھ پاکستان 180 ویں نمبر پر ہے۔حد تو یہ ہے کہ شرح خواندگی میں پاکستان جنوبی ایشیاء میں صرف افغانستان اور بنگلہ دیش سے اوپر ہے جبکہ چین، ایران، سری لنکا، نیپال اور حتیٰ کہ برما بھی پاکستان سے آگے ہے۔
اکثر طلبہ گھریلو زمہ داریوں سے نبردآزما ہونے کیلئے تعلیم کو خیر باد کہہ دیتے ہیں جبکہ چند ایک ہی اپنی تعلیمی اور معاشی ذمہ داریوں کو اکٹھا ادا کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے یونیسکو کی جاری کردہ اِسی رپورٹ کے حوالے سے کچھ مزید اعداد و شمار بھی جاری کئے ہیں، جن کی تفصیل کچھ اس طرح ہےلک بھر میں 75 فیصد لڑکے اور لڑکیاں میٹرک یعنی10ویں کلاس سے بھی پہلے سکول کو سدا کیلئے خیرباد کہہ دیتے ہیں۔3 سے 5 سال کی عمر کے سندھ سے تعلق رکھنے والے 72 اور بلوچستان کے 78 فیصد طلبا سکول نہیں جاتےجبکہ دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت پاکستان کی تعلیمی کا رکردگی کا جا ئزہ بتاتا ہے کہ ہماری شرح خواندگی جنوبی ایشیا کی کم ترین شرح خواندگی میں شمار ہوتی ہے،افسوسناک پہلو یہ ہے کہ خطے کے آٹھ ممالک بنگلہ دیش،بھوٹان،بھارت،ایران،مالدیپ نیپال اورسری لنکا میں پاکستان نیپال کے بعد پسماندگی کی انتہائی آخری صف میں کھڑا ہے،جہاں خواندگی کی شرح74 فیصد ہے،جبکہ نیپال میں شرح خواندگی65 فیصد،سری لنکا میں94 فیصد،بھارت میں92 فیصد،مالدیپ میں96فیصد،بنگلہ دیش میں85 فیصد،بھوٹان میں88 فیصد اور ایران میں 93 فیصد ہے۔پاکستان میں حکومتیں تعلیم پر کتنا خرچ کرتی رہی ہیں اِس کا اندازہ یونیسکو کے جاری کردہ اعداد وشمار سے ہو سکتا ہے،جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے حکمران تعلیم کو کتنی ترجیح دیتے ہیں،
جبکہ اقوام متحدہ نے مجموعی قومی پیداوار کا کم سے کم4 فیصد تعلیم کیلئے مختص کرنے کا عالمی معیار مقرر کر رکھاہے لیکن پاکستان کی زبوں حال تعلیمی تصویر یہ دلخراش منظر پیش کرتی ہے کہ 13 برس قبل بھی اور آج بھی ہم اپنے مجموعی بجٹ کاصرف 2 فیصد تعلیم کو دیتے ہیں۔ آج ہمارا حال یہ ہے کہ UNO کے ایجوکیشن انڈکس میں پا کستا ن کا 173ممالک میں 166واں نمبر ہے اور ہمارے اسکولوں میں بچوں کی تعداد ہر سال کم سے کم ہو تی جا ر ہی ہے، ایک رپورٹ کے مطابق 100میں سے صر ف 25بچے اسکول جا تے ہیں اور اِن 25میں سے 6 بچے ہی ہا ئی اسکول کی سطح تک پہنچ پا تے ہیں،اِس وقت ہمارے اسکولوں میں اساتذہ کی شدید قلت ہے اور ہر 60 بچوں کیلئے صرف ایک استاد موجود ہے جوکہ دنیا کا کم ترین تناسب ہے،جبکہ ہمارے بہت سے اسکولوں کی حالت ایسی ہے کہ وہ ”اسکو ل“ کہلائے جانے کے قابل ہی نہیں ہیں،اُن میں پڑھائی نہ ہونے کے برابر ہے اور اکثر اسکول پانی و بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں،اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کروڑ 70 لاکھ بچے زیور تعلیم سے محروم ہیں،جبکہ 67 لاکھ پاکستانی بچے تو ایسے ہیں جو بنیادی ابتدائی تعلیم سے بھی نابلد ہیں، /پاکستان میں بچوں کی صورتحال پر عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں بچوں کی تعداد 11 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ یا ملک کی مجموعی آبادی کا 47 فیصد ہے
جس کے نتیجے میں بنیادی خدمات پر بھاری دباؤ ہے جبکہ موسمیاتی خطرات، علاقائی عدم مساوات اور محدود مالی وسائل نے مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ملک میں 5 سے 16 سال عمر کے تقریباً دو کروڑ 51 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ اوریہ شرح نا خواندگی آگے بہت جلد ہی پاکستان کے مستقبل پر اثر انداز ہو گی جب تعلیم کا علم و تحقیق سے رشتہ ٹوٹ جاتا تو اس کا حال ایسے بیمار جسم جیسا ہوجاتا ہے جس پر مختلف جراثیم حملہ آور ہوجاتے ہیں۔ تحقیق اور علم سے تعلیم کا رشتہ ٹوٹنے کے بعد کسی نہ کسی طرح امتحانوں میں نمبر لینا، 8 یا 10 اے گریڈ لینا وغیرہ ہی لائق کہلانے کا واحد معیار رہ جاتا ہے۔ یہ ہے وہ صورتحال جس کا آج ہمیں سامنا ہے مگر ہماری ساری توجہ جڑ کے بجائے کہیں اور ہی ہے۔۔وزیر تعلیم کا مزید کہنا تھا کہ تعلیم بالغان کی مہم کا آغاز کیا گیا تھا لیکن اعلیٰ ثانوی تعلیم کے بعد سماجی کام بطور لازمی مضمون متعارف کروانے کی ضرورت ہے جس میں حصہ لینے والے بالغ طالبعلموں کو پڑھنے لکھنے کی بنیادی تربیت دی جائے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں قانونی تبدیلیوں اور صوبوں کی رضامندی شامل ہونا ضروری ہے۔اساتذہ، صحافیوں اور ڈاکٹروں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ پیسے کی دوڑ میں اس لیے شامل نہ ہوں کیوں کہ ان کے پیشے عظیم ہیں، محض دیوانے کا خواب ہے۔ امریکہ، یورپ، چین اور جاپان میں پیسہ پہلی قدر نہیں، وہاں کے استاد ہمارے جیسے ممالک سے کیوں زیادہ بہتر ہیں؟ وہاں تعلیمی معیار کیوں بہتر ہے؟ پیسے کے پہلی قدر بننے سے انکار نہیں مگر جس تعلیمی انحطاط کا ہمیں سامنا ہے اس کی بنیادی وجہ کچھ اور ہے۔ دیکھنے والی بات تو یہ ہے کہ کیا مسئلہ علم و ہنر سے تعلیم کے تعلق کا تو نہیں؟