ہفتہ، 21 فروری، 2026

کراچی عروس البلاد سے کھنڈر بننے تک کا سفر

  


کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور صنعتی، تجارتی، تعلیمی، مواصلاتی و اقتصادی مرکز ہے۔ اس کا شمار دنیا کے چند سب سے بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ صوبہ سندھ کا دارالحکومت اور دریائے سندھ کے مغرب میں بحیرہ عرب کی شمالی ساحل پر واقع ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ اور ہوائی اڈہ بھی یہاں ہے۔ کراچی 1947ء سے 1960ء تک پاکستان کا دارالحکومت بھی رہا۔ موجودہ کراچی کی جگہ پر واقع قدیم ماہی گیروں کی بستیوں میں سے ایک کا نام کولاچی جو گوٹھ تھا۔انگریزوں نے انیسویں صدی میں اس شہر کی تعمیر و ترقی کی بنیادیں ڈالیں۔ 1947ء میں پاکستان کی آزادی کے وقت کراچی کو نو آموز مملکت کا دارالحکومت منتخب کیا گیا۔ اس کی وجہ سے شہر میں لاکھوں مہاجرین کی آمد ہوئی۔ بین الاقوامی بندرگاہ ہونے کی وجہ سے شہر میں صنعتی سرگرمیاں دیگر شہروں سے قبل شروع ہو گئیں۔ 1959ء میں پاکستان کے دار الحکومت کی اسلام آباد منتقلی کے باوجود کراچی کی آبادی اور معیشت میں ترقی کی رفتار کم نہیں ہوئی۔پورے پاکستان سے لوگ روزگار کی تلاش میں کراچی آتے ہیں اور اس وجہ سے یہاں مختلف مذہبی، نسلی اور لسانی گروہ آباد ہیں۔ کراچی کو اسی وجہ سے منی پاکستان بھی کہتے ہیں۔


شہر کا رقبہ 3،527 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ ایک ناہموار میدانی علاقہ تھا، جس کی شمالی اور مغربی سرحدیں پہاڑیاں تھیں۔ شہر کے درمیان سے دو بڑی ندیاں گزرتی ہیں، ملیر ندی اورلیاری ندی۔ اس کے ساتھ ساتھ شہر سے کئی اور چھوٹی بڑی ندیاں گزرتی ہیں۔کراچی شہر کی بلدیہ کا آغاز 1933ء میں ہوا۔ ابتدا میں شہر کا ایک میئر، ایک نائب میئر اور 57 کونسلر ہوتے تھے۔ 1976ء میں بلدیہ کراچی کو بلدیہ عظمی کراچی بنا دیا گیا۔ سن 2000ء میں حکومت پاکستان نے سیاسی، انتظامی اور مالی وسائل اور ذمہ داریوں کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس کے بعد 2001ء میں اس منصوبے کے نفاذ سے پہلے کراچی انتظامی ڈھانچے میں دوسرے درجے کی انتظامی وحدت یعنی ڈویژن، کراچی ڈویژن، تھا۔ کراچی ڈویژن میں پانچ اضلاع، ضلع کراچی جنوبی، ضلع کراچی شرقی، ضلع کراچی غربی،ضلع کراچی وسطی اور ضلع ملیر شامل تھے۔سن 2001ء میں ان تمام ضلعوں کو ایک ضلعے میں جوڑ لیا گیا۔ اب کراچی کا انتظامی نظام تین سطحوں پر واقع ہے۔سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ، ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشن، یونین کونسل ایڈمنسٹریشن۔ضلع کراچی کو 18 ٹاؤن میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان سب کی منتخب بلدیاتی انتظامیہ موجود ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں اور اختیارات میں پانی کی فراہمی، نکاسی آب، کوڑے کی صفائی، سڑکوں کی مرمت، باغات، ٹریفک سگنل اور چند دیگر زمرے آتے ہیں۔


 بقیہ اختیارات ضلعی انتظامیہ کے حوالے ہیں۔یہ ٹاؤنز مزید 178 یونین کونسلوں میں تقسیم ہیں جو مقامی حکومتوں کے نظام کی بنیادی اکائی ہے۔ ہر یونین کونسل 13 افراد کی باڈی پر مشتمل ہے، جس میں ناظم اور نائب ناظم بھی شامل ہیں۔ یوسی ناظم مقامی انتظامیہ کا سربراہ اور شہری حکومت کے منصوبہ جات اور بلدیاتی خدمات کے علاوہ عوام کی شکایات حکام بالا تک پہنچانے کا بھی ذمہ دار ہے۔کراچی شہر مندرجہ ذیل قصبات میں تقسیم ہے: نیو کراچی ٹاؤن، نارتھ ناظم آباد، اورنگی ،صدر، شاہ فیصل، سائٹ، کیماڑی ، کورنگی ، لانڈھی، لیاقت آباد، لیاری، ملیر، بلدیہ ، بن قاسم ، گڈاپ ، گلبرگ ، گلشن اورجمشید ٹاؤن۔واضح رہے کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کراچی میں قائم ہے لیکن وہ کراچی کا ٹاؤن نہیں اور نہ ہی کسی ٹاؤن کا حصہ ہے بلکہ پاک افواج کے زیر انتظام ہے۔ایک اندازے کے مطابق ہر ماہ 45 ہزار افراد شہر قائد پہنچتے ہیں۔ کراچی میں سب سے زیادہ آبادی اردو بولنے والے مہاجرین کی ہے جو 1947ء میں تقسیم برصغیرکے بعد ہندوستان کے مختلف علاقوں سے آکر کراچی میں آباد ہوئے تھے۔ ہندوستان سے آئے ہوئے ان مسلم مہاجرین کو نو آموز مملکت پاکستان کی حکومت کی مدد سے مختلف رہائش گاہیں نوازی گئیں، 


جن میں سے اکثر پاکستان چھوڑ کر بھارت جانے والی ہندو اور سکھ برادری کی تھی۔1998ء کی مردم شماری کے مطابق شہر کی لسانی تقسیم اس طرح سے ہے: اردو بولنے والے 65 فیصد، پنجابی 8 فیصد، سندھی 7.22 فیصد، پشتو 11.42 فیصد، بلوچی 4.34 فیصد، سرائیکی 2.11 فیصد، دیگر 7.4 فیصد۔ دیگر میں گجراتی، داؤدی بوہرہ، میمن، گھانچی، براہوی، مکرانی، بروشسکی، عربی، فارسی اور بنگالی شامل ہیں۔ شہر کی اکثریت مسلمان ہے جن کی تعداد 96.49 فیصد ہے۔ عیسائی 2.35 فیصد، ہندو 0.83 فیصد، احمدی 0.17 فیصد اور دیگر 0.13 فیصد ہیں۔ دیگر میں پارسی، یہودی اور بدھ مت شامل ہیں۔قومی محصولات کا 70 فیصد کراچی سے حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان کے تمام سرکاری و نجی بینکوں کے دفاتر کراچی میں قائم ہیں۔ جن میں سے تقریبا تمام کے دفاتر پاکستان کی وال اسٹریٹ ’’آئی آئی چندریگر روڈ‘‘ پر قائم ہیں۔بینکنگ اور تجارتی دارالحکومت ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی میں پاکستان میں کام کرنے والے تمام کثیر القومی اداروں کے بھی دفاتر قائم ہیں۔ یہاں پاکستان کا سب سے بڑا بازار حصص کراچی اسٹاک ایکسچینج بھی موجود ہے جو 2005ء میں پاکستان کے جی ڈی پی میں 7 فیصد اضافے میں اہم ترین کردار قرار دیاجاتا ہے۔یہاں پاکستان کا سافٹ ویئر مرکز بھی ہے۔ کئی نجی ٹیلی وژن اور ریڈیو چینلوں کے صدر دفاتر بھی یہاں ہیں، جن میں سے جیو، اے آر وائی، ہم، اور آج مشہور ہیں۔کراچی میں کئی صنعتی زون واقع ہیں جن میں کپڑے، ادویات، دھاتوں اور آٹو موبائل کی صنعتیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔ مزيد برآں ایک نمائشی مرکز ایکسپو سینٹر بھی ہے، جس میں کئی علاقائی و بین الاقوامی نمائشیں منعقد ہوتی ہیں۔ ٹویوٹا اور سوزوکی موٹرز کے کارخانے بھی یہیں قائم ہیں۔ اس صنعت سے متعلق دیگر اداروں میں ملت ٹریکٹرز، آدم موٹر کمپنی اور ہینو پاک کے کارخانے بھی یہیں موجود ہیں۔کراچی بندرگاہ اور محمد بن قاسم بندرگاہ پاکستان کی دو اہم ترین بندرگاہیں ہیں

جمعہ، 20 فروری، 2026

اشفا ق احمد پاکستان کی مایہء ناز شخصیت

 



 

اشفاق احمد ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے مشہور و معروف افسانہ نگار، ڈراما نویس، ناول نگار، مترجم اور براڈ کاسٹر تھے۔ ان کا ڈراما سیریل ایک محبت سو افسانے پاکستان ٹیلی وژن کی لازوال ڈراما سیریل ہے۔حالات زندگی؛اشفاق احمد خان ہندوستان کے شہر ہوشیار پور کے ایک   گاؤں خان پور میں ڈاکٹر محمد خان کے گھر 22 اگست1925ء کو   ایک کھاتے پیتے پٹھان گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔  آپ کے والد ایک قابل محنتی ا نسا ن تھے۔ جن کی مرضی کے خلاف گھر میں پتا بھی نہیں ہل سکتا تھا۔ گھر کا ماحول روایتی تھا۔ بندشوں اور بہت سی روائتی پابندیوں  کا سامنا تھا  ۔تعلیم-اشفاق احمد کی پیدائش کے بعد اُن کے والد ڈاکٹر محمد خان کا تبادلہ خان پور (انڈیا) سے فیروز پور ہو گیا۔ اشفاق احمد نے اپنی تعلیمی زندگی کا آغاز اسی گائوں فیروز پورسے کیا۔ اور فیروز پور کے ایک قصبہ مکستر سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔اشفاق احمد نے ایف ۔ اے کا امتحان بھی اسی قصبہ فیروز پور کے ایک کالج ”رام سکھ داس “ سے پاس کیا ۔ اس کے علاوہ بی۔اے کا امتحان امتیازی نمبروں کے ساتھ فیروز پور کے ”آر، ایس ،ڈی “RSD کالج سے پاس کیا۔ قیام پاکستان کے بعد اشفاق احمداپنے خاندان کے ہمراہ فیروز پور (بھارت) سے ہجرت کرکے پاکستان آ گئے۔ پاکستان آنے کے بعد اشفاق احمد نے گورنمنٹ کالج لاہور کے ”شعبہ ارد و “ میں داخلہ لیا۔ جہاں کل چھ طلباءو طالبات زیر تعلیم تھے۔ کالج میں انگریزی کے اساتذہ اردو پڑھایا کرتے تھے۔کتابیں بھی انگریزی میں تھیں،جبکہ اپنے وقت کے معروف اساتذہ پروفیسر سراج الدین، خواجہ منظور حسین ،آفتاب احمد اور فارسی کے استاد مقبول بیگ بدخشانی گورنمنٹ کالج سے وابستہ تھے۔اور یہ سب اشفاق احمد کے استاد رہے۔




 اُس زمانے میں بانو قدسیہ (اہلیہ اشفاق احمد ) نے بھی ایم اے اردو میں داخلہ لیا۔جب بانو نے پہلے سال پہلی پوزیشن حاصل کی تو اشفاق احمد کے لیے مقابلے کا ایک خوشگوار ماحول پیدا ہوا۔ انھوں نے بھی پڑھائی پر توجہ مرکوز کر لی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سالِ آخر میں اشفاق احمد اوّل نمبر پر رہے۔ جبکہ بانو قدسیہ نے دوسری پوزیشن حاصل کی ” یہ وہ دور تھا جب اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی میں اردو کی کلاسیں ابھی شروع نہیں ہوئی تھیں۔اعلیٖ تعلیم-گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کیا، اٹلی کی روم یونیورسٹی اور گرے نوبلے یونیورسٹی فرانس سے اطالوی اور فرانسیسی زبان میں ڈپلومے کیے اور نیویارک یونیورسٹی سے براڈکاسٹنگ کی خصوصی تربیت حاصل کی۔ ملازمت اشفاق احمد نے ديال سنگھ کالج، لاہور میں دو سال تک اردو کے لیکچرر کے طور پر کام کیا اور بعد میں روم یونیورسٹی میں اردو کے استاد مقرر ہو گئے۔ وطن واپس آکر انھوں نے ادبی مجلہ داستان گو جاری کیا جو اردو کے آفسٹ طباعت میں چھپنے والے ابتدائی رسالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انھوں نے دو سال ہفت روزہ لیل و نہار کی ادارت بھی کی۔وہ 1967ء میں مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے جو بعد میں اردو سائنس بورڈ میں تبدیل ہو گیا۔ وہ 1989ء تک اس ادارے سے وابستہ رہے۔ وہ صدر جنرل ضیاءالحق کے دور میں وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر بھی مقرر کیے گئے۔



ازدواجی زندگی گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے کے دوران میں بانو قدسیہ ان کی ہم جماعت تھیں۔بانو قدسیہ کا تعلق فیروز وپور مشرقی پنجاب ( بھارت ) سے تھا۔ قیام پاکستان کے ہجرت کرکے لاہور میں آکر قیام کیا۔ دونوں میں ذہنی ہم آہنگی اتنی ہو گئی کہ شادی کا فیصلہ کر لیا۔ اُن کے والد ایک غیر پٹھان لڑکی کو بہو بنانے کے حق میں نہ تھے۔ بقول  ممتاز مفتی ' اس نے جوانی میں روایت توڑ محبت کی اسے اچھی طرح علم تھا کہ گھر والے کسی غیر پٹھان لڑکی کو بہو بنانے کے لیے تیار نہ ہوں گے ۔ اسے یہ بھی علم تھا کہ گھر میں اپنی محبت کا اعلان کرنے کی اس میں کبھی جرات پیدا نہ ہوگی اس کے باوجود ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ وہ محبت میں کامیاب ہو گیا۔ اگر چہ شادی کے بعد اُسے مجبوراً گھر چھوڑنا پڑا۔اشفاق احمد ان نامور ادیبوں میں شامل ہیں جو قیام پاکستان کے فوراً بعد ادبی افق پر نمایاں ہوئے۔1953ء میں ان کا افسانہ گڈریا ان کی شہرت کا باعث بنا۔ انھوں نے اردو میں پنجابی الفاظ کا تخلیقی طور پر استعمال کیا اور ایک خوبصورت شگفتہ نثر ایجاد کی جو انھی کا وصف سمجھی جاتی ہے۔ اردو ادب میں کہانی لکھنے کے فن پر اشفاق احمد کو جتنا عبور تھا وہ کم لوگوں کے حصہ میں آیا۔افسانہ نگار ی ایک محبت سو افسانے اور اجلے پھول ان کے ابتدائی افسانوں کے مجموعے ہیں۔ بعد میں سفردر سفر (سفرنامہ)، کھیل کہانی (ناول)، ایک محبت سو ڈرامے (ڈراما سیریز) اور توتا کہانی (ڈراما سیریز) ان کی نمایاں تصانیف ہیں۔ 



اشفاق احمد بتاتے ہیں کہ ان کی بیوی، بانو قدسیہ، یونیورسٹی میں پڑھاتی تھیں۔ وہ روزانہ صبح بانو قدسیہ کو یونیورسٹی چھوڑنے جاتے۔ یونیورسٹی کے گیٹ پر پہنچ کر خود گاڑی سے اترتے اور دوسری طرف جا کر بیوی کے لیے دروازہ کھولتے۔بانو قدسیہ بڑے وقار سے گاڑی سے اترتیں، اپنی سہیلیوں کے ساتھ گیٹ کے اندر داخل ہوتیں، اور اشفاق احمد واپس لوٹ جاتے۔ دوپہر کو وہ پھر بیوی کو لینے آتے، اور اسی عزت و احترام سے دروازہ کھول کر بٹھاتے۔بانو قدسیہ کی سہیلیاں روز یہ منظر دیکھتیں اور رشک سے کہتیں کہ کتنا محبت کرنے والا شوہر ہے! وہ دعائیں کرتیں کہ اللہ انہیں بھی ایسا شریکِ حیات عطا کرے۔ ان کے نزدیک یہ منظر محبت کی علامت تھا۔لیکن اشفاق احمد ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ اصل میں ایسی کوئی “خاص” محبت کی بات نہیں تھی۔ حقیقت یہ تھی کہ گاڑی کا دروازہ اندر سے کھلتا ہی نہیں تھا، اس لیے مجبوراً باہر سے کھولنا پڑتا تھا!کہانی کا اصل حسن یہی ہے کہ ایک چھوٹی سی مجبوری نے دوسروں کی نظروں میں ایک خوبصورت محبت کا روپ دھار لیا
    

بدھ، 18 فروری، 2026

ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا 'علم کی شمع فروزاں

 


دنیا میں ایسے کم ہی لوگ ہیں جو ایک سے زائد شعبوں میں نہ صرف عبور رکھتے ہیں بلکہ ان میں مہارت کے باعث معاشرے میں مثبت رویے کے فروغ کا باعث بھی بنتے ہیں۔ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ کا شمار بھی ان ہی چند لوگوں میں سے ایک تھا۔ میٹھاس بھری اردو اور شائستہ لب و لہجے میں ایسی گفتگو جو نصیحت، ذہانت ، علم اور تجربے سے آراستہ تھی اب شاید سننے کو نہ ملے۔ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ کا جب بھی نام لیا جائے گا تو ذہن میں ان کی علمی اور ادبی خدمات گردش کریں گی۔ڈاکٹرعارفہ  سیدہ زہرہ   کا مقام پاکستان کے تعلیمی اور ادبی حلقوں میں  بزرگ استاد اور دانشور کا تھا  -ڈاکٹر عارفہ سید زہرا نہ صرف اردو ادب اور زبان میں اپنی گہری علمیت کے باعث جانی جاتی تھیں بلکہ انسانی حقوق کی فعال کارکن اور شاعرہ کے طور پر بھی ممتاز مقام رکھتی تھیں۔وہ تعلیم، تاریخ اور سماجی علوم میں نمایاں خدمات کیلیے جانی جاتی تھیں اور ان کا شمار پاکستان کے مؤثر تعلیمی اور فکری شخصیات میں ہوتا تھا۔ نصف صدی سے زائد عرصے تک تدریس کے شعبے سے وابستہ رہنے والی ڈاکٹر عارفہ نے اپنی تعلیم اور خدمات کے ذریعے کئی نسلوں کی تربیت کی، سیدہ زہرانے پہلے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، پھر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور مزید ڈگری منووا میں ہوائی یونیورسٹی سے حاصل کی۔ عارفہ سیدہ فارمن کرسچن کالج میں تاریخ کی پروفیسر ہیں اور لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کی سابقہ پرنسپل ہیں۔ وہ خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن میں چیئرپرسن تھیں۔ وہ اردو زبان اور ادب کے بارے میں اپنی معلومات کے لیے پہچانی جاتی تھیں



 اور وہ دانشورانہ تاریخ اور جنوب ایشیائی معاشرتی امور میں مہارت رکھتی   تھیں     عارفہ سیدہ زہرا نے لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی سے آنرز کے ساتھ بیچلر آف آرٹس مکمل کیا۔ انھوں نے لاہور میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے اردو میں ماسٹر آف آرٹس حاصل کیا۔ انھوں نے منووا میں یونیورسٹی آف ہوائی سے ایشیائی تعلیم میں ماسٹر آف آرٹس اور ہسٹری میں فلسفہ ڈاکٹریٹ کیا ان کے 1983 کے مقالے کا عنوان سرسید احمد خان، 1817-1898 تھا:  ڈاکٹر عارفہ سید زہرا نہ صرف اردو ادب اور زبان میں اپنی گہری علمیت کے باعث جانی جاتی تھیں بلکہ انسانی حقوق کی فعال کارکن اور شاعرہ کے طور پر بھی ممتاز مقام رکھتی تھیں۔وہ تعلیم، تاریخ اور سماجی علوم میں نمایاں خدمات کیلیے جانی جاتی تھیں اور ان کا شمار پاکستان کے مؤثر تعلیمی اور فکری شخصیات میں ہوتا تھا۔ نصف صدی سے زائد عرصے تک تدریس کے شعبے سے وابستہ رہنے والی ڈاکٹر عارفہ نے اپنی تعلیم اور خدمات کے ذریعے کئی نسلوں کی تربیت کی، سیدہ زہرانے پہلے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، پھر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور مزید ڈگری منووا میں ہوائی یونیورسٹی سے حاصل کی۔ عارفہ سیدہ فارمن کرسچن کالج میں تاریخ کی پروفیسر ہیں اور لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کی سابقہ پرنسپل ہیں۔ وہ خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن میں چیئرپرسن تھیں۔ وہ اردو زبان اور ادب کے بارے میں اپنی معلومات کے لیے پہچانی جاتی تھیں اور وہ دانشورانہ تاریخ اور جنوب ایشیائی معاشرتی امور میں مہارت رکھتی     تھیں  عارفہ سیدہ زہرا نے لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی سے آنرز کے ساتھ بیچلر آف آرٹس مکمل کیا۔ انھوں نے لاہور میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے اردو میں ماسٹر آف آرٹس حاصل کیا۔  ان کی گفتگو سنیں تو یوں معلوم ہوتا جیسے زندگی کے تجربوں اور تجزیوں سے آراستہ ایک کھلی کتاب ہو۔



بچے کی نفسیات سے لے کر معاشرتی رویوں، اقدار، تاریخ اور حال کا ملاپ، علم کے حقیقی معنی، اردو زبان کی شیرینی و اہمیت اور جینے کا سلیقہ ،غرض کوئی ایسا موضوع نہیں بچا جس پر ڈاکٹر عارفہ زہرہ نے بھر پور روشنی نہ ڈالی ہو۔ان کی گفتگو ان کے غورو فکر کا بھرپور عکس تھی۔ گفتگو میں نرمی، لہجے میں وقار اور سوچ میں گہرائی ان کی پہچان تھی۔انسان کے ساتھ ایک مشن۔1966 سے 1972 تک، عارفہ سیدہ لاہور کالج فارویمن میں لیکچرار رہی۔ وہ 1972 میں اسسٹنٹ پروفیسر بن گئیں اور 1984 تک پڑھاتی رئیں۔ انھوں نے 1988-1989 تک پرنسپل بننے سے قبل 1985-1988ء تک لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کے وائس پرنسپل کی خدمات انجام دیں۔  1989 سے 2002 تک وہ گورنمنٹ کالج آف ویمن، گلبرگ کی پرنسپل رہی۔ 2002 سے 2005 تک وہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کی ممبر رہی۔ زہرہ خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن میں چیئرپرسن تھیں۔عارفہ سیدہ، پنجاب کی سابق نگران صوبائی وزیر بھی ہیں۔ انھوں نے اگست 2009 میں پروفیسر ہسٹری کے طور پر فورمان کرسچن کالج میں فیکلٹی میں شمولیت اختیار کی۔ وہ مندرجہ ذیل اداروں میں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز، نیشنل کالج آف آرٹس، نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ میں فیکلٹی کی رکن تھیں۔ . ان کی تحقیق دانشورانہ تاریخ، تاریخی تجزیہ اور تنقید، انسانی حقوق اور صنف ادب اور معاشرتی امور کے شعبوں میں ہے۔عارفہ سیدہ 1986ء تا 2009ء تک گورنمنٹ کالج فار ویمن گلبرگ لاہور کی پرنسپل رہیں۔ وہ 7 زبانوں پر عبور رکھتی تھیں۔عارفہ سیدہ تعلیمی، انتظامی، سماجی اور ثقافتی کمیٹیوں کی رُکن بھی رہیں


معروف پروفیسر ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا نومبر 2025انتقال کر گئیں۔إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
وہ   انسان دوستی کی روشن  مثال تھیں۔ان کی  گفتگو میں وقار، قلم میں بصیرت، اور علم، فکر اورعمل میں سچائی تھی۔قوم ایک ایسی عظیم شخصیت سے محروم ہو گئی جو ہمیشہ سچ بولنے اور حق کے لیے ڈٹ جانے کی مثال بنی رہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے اور اُن کے درجات بلند کرے۔آمین 🤲🏻پاکستانی ڈرامہ نگار، ٹی وی ڈرامہ سیریل کے مصنف اور شاعر اصغر ندیم سید نے  ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔اصغر ندیم سید نے عارفہ سیدہ کے انتقال پر گہرے دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کا انتقال لاہور میں ہوا، اِن کی کی نمازِ جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔الحمرا کے چیئرمین رضی احمد نے ڈاکٹر عارفہ سیدہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُنہوں نے اردو زبان کو تہذیب اور تحقیق کا موضوع بنایا۔رضی احمد نے کہا کہ نامور ادیبہ و دانشور ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا زبان وادب کا درخشندہ ستارہ تھیں، عارفہ سیدہ نے چالیس سال سے زائد عرصہ تدریسی خدمات انجام دیںوزیرِ اعظم شہباز شریف نے ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحومہ کی ارود زبان کے فروغ و ترویج،  تدریس اور تحقیق کے میدان میں خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔وزیرِ اعظم نے مرحومہ کی مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا بھی کی ہے۔پاکستانی ڈرامہ نگار، ٹی وی ڈرامہ سیریل کے مصنف اور شاعر اصغر ندیم سید نے  ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔اصغر ندیم سید نے عارفہ سیدہ کے انتقال پر گہرے دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کا انتقال لاہور میں ہوا، اِن کی کی نمازِ جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

منگل، 17 فروری، 2026

پلہ مچھلی مچھلیوں کی ملکہ

 

  پلہ مچھلی کوسندھ میں مچھلیوں کا ” بادشاہ” بھی کہا جاتا ہے۔ پلہ مچھلی ایک بزرگ خواجہ خضر سندھ میں لائے تھے۔ بادشاہ محمد تغلق کو پلہ مچھلی بہت پسند تھی۔ پلہ مچھلی بہت ڈرپوک ہوتی ہے۔ اگر دریا میں پانی کم ہو جائے اور بادلوں میں گرج چمک ہو تو وہ سمت کی طرف بھاگتی ہے۔ پلہ مچھلی جسامت کے لحاظ سے لمبوترا اور نیچے بطنی حصے میں بہت دبا ہوا یا چپکا ہوا ہوتا ہے پلے کے سارے جسم پر سفید چمکدار چھلکے ھوتے ھیں اور وه سلیٹی نظر آتا ہے اپنے چھلوں کی وجہ  سے پلا جب دریا میں ہوتا ہے تو پانی میں کہکشاں جیسے رنگ نمودار ہوتے ہیں.1930 میں سکھر کے قریب بیراج تعمیر ہونے کے بعد پلا اس کے دروازوں کو پار نہیں کر سکتا تھا جس کی وجہ  سے پلا سکھر سے واپس آتے ماہی گیروں کے ہاتھ لگتا یا پھر جو بچ جاتا وه سمندر میں چلا جاتا 1955 میں جامشورو کے قریب ایک اور بیراج بنایا گیا جس کے بعد پلا جے اس سفر کو پیش نظر رکھتے ہوئے  پلا مخالف سمت میں سفر کرتا ہے کوٹری بیراج کی تعمیر میں ایک زینہ  بنایا گیا ہے لیکن وه بھی کسی فنی طور پر اس قدر ناقص ثابت  ہوا کہ  پلا کوٹری سے آگے نا جا سکا یہاں تک  کہ مصنوعی طریقے سے پلا کو بیراج کی دوسری جانب دھکیلنے سے بھی وه مقصد پورا نہیں ہو سکاہے اس کا نتیجہ یہ  نکلا ہے کہ  کوٹری سے بالائی حصے میں پلا معدوم ہوچکا ہے کوٹری بیراج اور سکھر بیراج کی تعمیر بھی پلا کی نسل کو برقرار رکھنے اور اس اہم غذائی ذریعے کو بڑھانے میں مدد نہ  دے سکا تاھم پانی کے بہاءو میں جو کمی آئی ھے وه اس سلسلے کو تیز کرنے کے لئے کافی ھےسندھ میں راٹلو میان سے لے کر جام شورو اور ضلع ٹھٹہ میں کھارو چھار تک ایک زمانے میں پلہ پکڑنے کی ساٹھ/60 سے زائد جیٹیاں {JETTIE} موجود تھیں۔



 دریائے سندھ کے آخری علاقہ پلہ مچھلی کے خزانے سے خالی ہوگیا، ڈیلٹا کی 17 بڑی کریکس میں 6 ہزار سے زائد مچھلی کے نسل کش جال لگا دیئے گئے، پلہ کی آنی دریائے سندھ کے میٹھے پانی تک نہیں پہنچ سکی، سمندر میں ہی پلہ مچھلی کی نسل تباہ ہونے لگی، خطرناک جالوں کیخلاف قانون بے اثر، فشریز افسران اور مچھلی کی نسل کشی کرنے والی مافیا کروڑوں روپے کمانے لگے، ماہی گیر اور پلہ مچھلی کے شوقین مایوسی میں مبتلا ہیں۔ کراچی سے کاجر کریک سے دریائے سندھ کے آخری علاقے کی 17 بڑی کریکس میں 6 ہزار سے زائد مچھلی کے نسل کش جال لگا کر پلہ مچھلی کو مکمل طور پر ختم کیا گیا ہے، ہر سال جاری مہینوں میں نمکین پانی سے میٹھے پانی کی طرف سفر کرنے والی پلہ مچھلی کے راستوں پر نسل کش جا لگاکر پلہ کی آنی کو میٹھے پانی تک پہنچنے نہیں دیا گیا ہے۔ دریائے سندھ کے نمکین اور میٹھے پانی کے میلاپ سے 70ء کی دہائی تک 50 ہزار ٹن سالانہ پلہ مچھلی ماری جاتی تھی اور اس وقت مکمل آنی والا پلہ 20 روپے فی کس فروخت کیا جاتا تھا، پلہ مچھلی سے بھرپور سمندر اور دریا آہستہ آہستہ غیر فطری طریقوں، بااثر افراد کی لالچ اور محکمہ فشریز کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے آج پلہ مچھلی نایاب ہوگئی ہے۔جو عام آدمی کے کھانے کے بس کی بات نہیں



 رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نسل کش جال فشریز کے افسران کی رضا مندی اور بھاری رشوت کے عیوض پھٹی کریک، دبو کریک، چھان کریک، حجامڑو کریک، ترچھان کریک، سنہڑی کریک، گھوڑو کریک، مل کریک، والڑی ۔اس مچھلی میں کریک، کانیر کریک اور کاجر کریک تک اور دریائے سندھ کے راستوں چھریجا میان، موسیٰ میان، روہڑی میان، آتھرکی میان سمیت متعدد راستوں پر جال لگا کر پیمانے پر پلہ مچھلی کی نسل کشی کی جارہی ہے۔” المنظر کا خوبصورت منظر ہو اور “پلا”مچھلی کی اشتہا انگیز خوشبو۔ذائقے کے اعتبار سے مچھلیوں کی  ملکہ تصور کی جانے والی یہ مچھلی جس کا حیا تیاتی یا سا ئنسی نام tenualosa ilshaہے۔اس کا شہرہ صرف سندھ تک ہی محدود نہیں بلکہ اسے بنگلہ دیش اور بھارت میں بھی بہت پسند کیا جا تا ہے۔اپمے ذائقے اور خوشبو کی طرح اس کی زندگی بھی منفرد نوعیت کی ہے۔یہ مچھلی میٹھے اور کھارے دونوں پا نیوں میں رہتی ہے۔یہ اپنی زندگی کا زیادہ حصہ کھارے پانی میں گزارتی ہے۔مقامی لوگ اسے طاقتور مچھلی کہتے ہیں جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ پانی کے دھارے کی مخالف سمت میں سفر کر کے سمندر سے دریا میں داخل ہوتی ہے۔ایک زمانے میں پلا مچھلی یہ سفر کرتی ہوئی سکھر تک پہنچ جاتی تھی اور اس وقت اس کا وزن 5 کلو تک ہوجاتا تھا۔




مگر اب یہ صرف جامشورو تک ملتی ہے کیونکہ جب سے وہاں پر پل بنایا گیا ہے اب اس کے گیٹوں سے پلا کراس نہیں کر پاتی ہے۔ اب جیسے پانی کا اخراج زیادہ ہو گیا ہے اور ملک کے اندر سیلاب آ چکا ہے تو پانی کے بہاؤ کو آگے سمندر کی طرف چھوڑنے کے لیے جامشورو کے پل کے دروازے کھول دیے گئے ہیں جہاں سے کچھ پلا مچھلی نکل کر سکھر کی طرف روانہ ہو گئی ہے اور کچھ پلا وہاں بھی مل سکتی ہے اور یہ پلا وزن میں زیادہ ہو گی اور اس کی لمبائی بھی بڑی ہو گی اور اس کو کھانے میں بھی زیادہ مزا آئے گا۔ جب دریائے سندھ میں پانی اس مقدار میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ ڈیلٹا سے ہو کر سمندر میں گرے تو پلا مچھلی نے سندھ میں رکنے سے منہ موڑ لیا اور پھر آگے کہیں اپنا مسکن تلاش کیا مگر پھر بھی کچھ سمندر میں ملتی تھی۔ اب تو تین سال سے جیسے ہی دریائے سندھ کے پانی کی خوشبو پلا مچھلی کو ملی تو وہ اس طرف لوٹ آئی ہے۔ دریائے سندھ میں پلا جون، جولائی اور اگست تک رہتی ہے پھر واپس سمندر کی طرف لوٹ جاتی ہے اور باقی جو رہ جاتی ہے وہ بھی شکار ہو جاتی ہے۔پلا مچھلی کو بنگلہ دیش کی قومی مچھلی کا درجہ حاصل ہےاور اسے مغربی بنگال،اڈیسہ،تریپورہ،آسام(بھارت)میں بھی بہت مقبولیت حاصل ہے۔



پیر، 16 فروری، 2026

باب خیبر پاکستان کا خوبصورت چہرہ

 


جمرود کے مقام پر درہ خیبر کی تاریخی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے لیے جون 1963ء میں شارع پر ایک خوبصورت محرابی دروازہ ’’باب خیبر‘‘ تعمیر کیا گیا۔ یہ سطح سمندر سے 1066 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس دروازے پر مختلف تختیاں بھی نصب کی گئی ہیں، جن پر درہ سے گزرنے والے حکمرانوں اور حملہ آوروں کے نام بھی درج ہیں۔ درہ خیبر تاریخی، جغرافیائی اور محل وقوع کے لحاظ سے بے نظیر ہے۔ اسے برصغیر کا دروازہ کہا جاتا ہے، جو پشاور کے عین مغرب میں واقع ہے۔سلسلہ کوہ سلیمان، جو کوہ ہمالیہ کی شاخ ہے، سطح مرتفع سے شروع ہوتا ہے، اس سلسلے کی پہاڑیاں اور وادیاں خیبر پر پہنچ کر ایک ہو جاتی ہیں۔ اصل درہ قلعہ جمرود سے شمال مغرب میں تقریباً تین میل پر شروع ہوتا ہے اور کوئی 23 میل طویل ہے۔ درہ خیبر ویران و بے گیاہ اور دشوار و ہموار چٹانوں سے گزرتا ہوا علی مسجد کے قریب آکر رفتہ رفتہ تنگ ہوجاتا ہے اور مناظر بھی یکسر بدل جاتے ہیں۔ اس کے بعد درہ بَل کھاتا ہوا انتہائی بلندی پر لنڈی کوتل کی سطح مرتفع (3,518 فٹ) تک جا پہنچتا ہے۔ یہاں سے سڑک نشیب کا رُخ کرتی ہے اور شنواری علاقے سے گزرتی ہوئی طورخم پہنچتی ہے۔ اس جگہ ڈیورینڈ لائن (پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیاسی اور بین الاقوامی حد) دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے۔ جمرود سے اس کا فاصلہ تقریباً 33 کلومیٹر ہے


۔ پشاور سے کوئی پانچ دس منٹ کی مسافت پر واقع باب خیبر سے کابل جایا جا سکتا ہے۔ باب خیبر افغان سرحد سے متصل  پاکستان کی  ایک خوبصورت محرابی  دروازہ  ہے جسے دیکھنے دنیا بھر کے سیاح جوق در جوق آتے ہیں  ایک ایسی علامت ہے جو دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بن چکی ہے۔درہ خیبر  کی تاریخ اور سیاسی اہمیت کا اندازہ اسی ایک بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر یہ درہ نہ ہوتا تو آج برصغیر پاک وہند کی تاریخ بالکل ہی مختلف ہوتی۔ بظاہر یہ کوئی وادی گل پوش ہے نہ دلکش سیر گاہ، اس میں گنگناتے آبشار اور چشمے ہیں نہ خو ش منظر باغات، تاہم دنیا کے کونے کونے سے سیاح درہ خیبر دیکھنے آتے ہیں۔ وہ اس دشوار گزار اور پرپیچ پہاڑی راستے کی سیاسی اور جغرافیائی اہمیت کو جانتے ہیں۔ یہ درہ ہمیں مہم جوئی پر اکساتا ہے ہمارے خون کو حرارت اور دل کو ولولہ تازہ عطا کرتا ہے درس عمل دیتا ہے اور کچھ کارنامہ کر گزرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ درہ خیبر نے تاریخ میں اتنے زیادہ حملے دیکھے اور برداشت کئے ہیں جو ایشیاء کے کسی اور مقام بلکہ دنیا کے کسی اور علاقے نے ہر گز نہیں دیکھے جہاں سورج اور ہوا میں ایسی تاثیر ہے جو ان مردان کہستان کو الجھنے، بڑھنے اور مرنے مارنے پر اکساتی ہے۔ وہ اپنی آزادی کے تحفظ کا راز جانتے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ جو قوم اپنی ناموس کے لیے مرنا نہیں جانتی۔ وہ مٹ جایا کرتی ہے۔


 مشہور زمانہ ڈیورنڈ لائن درہ خیبر کے بلند پہاڑوں سے گزرتی ہوئی اپنا طویل فاصلہ طے کرتی ہے یہ دنیا کا مشہور درہ سلسلہ کوہ سلیمان میں پشاور سے ساڑھے 17 کلو میٹر(11 میل) کے فاصلے پر قلعہ جمرود سے شروع ہوتا ہے اور تورخم (پاک افغان بارڈر)56 کلو میٹر (35 میل) تک پھیلا ہوا ہے برصغیر جنوبی ایشیاء کے وسیع میدانوں تک رسائی کے لیے چاہے وہ نقل مکانی کی خاطر ہو یا حملے کی، اس درے نے ہمیشہ تاریخ کے نئے نئے ادوار قائم کئے ہیں۔ یہ درہ قوموں، تہذیبوں، فاتحوں اور نئے نئے مذاہب کی بقاء اور فنا عروج اور زوال کی ایک مکمل تاریخ ہے ایک ریلوے لائن جو فن انجینئرنگ کا  شاہکار  ہے- میٹر3500 فٹ اونچے درے میں سے گزرتی ہے اور لنڈی  کوتل پر ختم ہو جاتی ہے جو پشاور سے 52 کلو میٹر(32 میل) دور ہے۔ تورخم تک پختہ سڑک جاتی ہے۔ تورخم میں سیاحوں کے لیے ایک ہوٹل بھی قائم ہے اس کی لگژری کوچز، درہ خیبر تک چکر لگاتی رہتی ہیں۔ یہاں پہاڑی سلسلہ کبھی تو اتنا کشادہ ہو جاتا ہے کہ گزر گاہ ڈیڑھ کلو میٹر (ایک میل) ہوتی ہے اور کبھی اتنا تنگ کہ صرف 16 میٹر(52 فٹ) رہ جاتی ہے یہاں کی ریلوے لائن عجائبات میں شمار ہوتی ہے۔ جو مسلسل سرنگوں میں سے گزرتی ہوئی۔ انتہائی پیچیدہ راستوں اور پلوں کو پار کرتی ہوئی سرحد افغانستان تک پہنچتی ہے 


بہرحال یہ درہ خیبر ماقبل تاریخ سے آج تک اقوام عالم کی گزر گاہ رہا ہے اور تاریخ کے صفحات پر اس کے انمٹ نقوش ثبت ہیں۔ مشہور زمانہ ڈیورنڈ لائن درہ خیبر کے بلند پہاڑوں سے گزرتی ہوئی اپنا طویل فاصلہ طے کرتی ہے اور ہمیشہ ایسی کشمکش کو دھراتی ہے جس سے اس درہ کے دونوں طرف کے ممالک متاثر ہوتے ہیں۔ درہ خیبر، جس علاقے میں واقع ہے اسے خیبر ایجنسی کہا جاتا ہے یہ قبائلی علاقہ’’یاغستان‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ قبائلی عوام اب تک اپنی قبائلی علاقے کی قدیم روایات کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کے اپنے قانون اور دستور ہیں۔ ان کے تمام مقدمات اور معاملات قبائلی جرگوں میں طے کئے جاتے ہیں۔ پولیٹیکل ایجنسی کا حاکم پولیٹیکل ایجنٹ کہلاتا ہے۔ پولیس کے بجائے ایجنسی میں خاصہ دار اور خیبر رائفلز کے جوان امن و امان قائم رکھنے میں مدد دیتے ہیں خیبر ایجنسی اور تیراہ کے بیسیوں مقامات ایسے ہیں جنہیں مقامی لوگوں کے سوا اب تک کوئی دیکھ نہیں پایا۔ کسی بیرونی شخص کو وہاں جانے کی اجازت نہیں، نہ ہی قبائلی اپنے اندرونی معاملات میں کسی کی مداخلت کو پسند کرتے ہیں۔ خیبر ایجنسی میں پولیٹیکل تحصیلوں لنڈی کوتل، جمرود اور باڑہ پر مشتمل ہے اس کا رقبہ کوئی 995 مربع میل ہے اس علاقے کا انتظام براہ راست وفاقی حکومت کے تحت ہے۔ 

اتوار، 15 فروری، 2026

روز گارڈن آف ڈھاکہ فن تعمیر کا انمول نگینہ

 


 


 پرانے ڈھاکہ کے علاقے تکتلی میں داس لین، موتی جھیل کے جدید کاروباری ضلع کے قریب اور ڈھاکہ کے گوپی بگ علاقے میں بلدھا گارڈن کے قریب گلاب کے پھولوں سے لدی پھندی یہ   حویلی ایک ہندو زمیندار (زمیندار) ہرشی کیش داس نے بنوائی تھی۔ہریشی   تخلیق کار تھے جنہوں نے بلدھا گارڈن کو نمایاں کرنے کے لیے ولا کا کام شروع کیا تھا، وہ ایک دہائی تک حویلی میں مقیم رہے۔ 1927 میں، وہ دیوالیہ ہو گئے اور انہوں نے یہ حویلی ایک اور زمیندار بشارالدین سرکار کو فروخت کر دی  ۔ بعد ازاں بشارالدین سرکار کے خاندان نے اس کی موت کے بعد اس حویلی کو ایک تاجر کو فروخت کر دیا۔حکومت نے اس جگہ کو میوزیم میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا انکشاف کیا ہے۔روز گارڈن محل 19ویں صدی کے آخر میں ایک ہندو زمیندار ہرشیکیش داس نے تعمیر کروایا تھا۔ اس وقت کے آس پاس بلدھا گارڈن میں منعقد ہونے والے جلسے شہر کے امیر ہندو باشندوں کی سماجی زندگی کا ایک اہم حصہ تھے۔ کہانی یہ ہے کہ بلدھا گارڈن میں ایک جلسہ (پارٹی) میں کسی کے ذریعہ ہرشیکیش داس کی توہین کی گئی اور اس نے بلدھا گارڈن کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا باغ بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہاں انہوں نے اپنا جلسہ کیا۔ باغ کا مرکز ایک خوبصورت پویلین ہے۔ تاہم، یہ ایک رہائش گاہ کے طور پر نہیں بنایا گیا تھا، بلکہ موسیقی کی پرفارمنس جیسی تفریح ​​کے لیے ایک ترتیب (حالانکہ اس کے بعد کے مالکان نے اسے گھر کے طور پر استعمال کیا تھا)۔



 اس اسراف طرز زندگی کی وجہ سے ہرشیکیش داس دیوالیہ ہو گئے اور نتیجتاً وہ جائیداد بیچنے پر مجبور ہو گئے۔1937 میں روز گارڈن محل کو ڈھاکہ کے ایک ممتاز تاجر خان بہادر قاضی عبدالرشید نے برہمن باریا ضلع کے تحت مرحوم بشیر الدین سرکار کے خاندان کے افراد سے خریدا تھا۔ انہوں نے عمارت کا نام راشد منزل رکھ دیا۔ ان کے بیٹے قاضی رقیب کو وراثت میں ملی اور اس کے بعد اس کے زندہ رہنے والے خاندان نے اس جائیداد کی دیکھ بھال کی، اس کی دیکھ بھال میں ان کی اہلیہ لیلیٰ رقیب چیف نگراں تھیں۔عمارت کو اس کے سابقہ ​​مالکان نے اصل کردار کو پوری طرح برقرار رکھتے ہوئے اس کی تزئین و آرائش کی تھی۔بنگلہ دیش کی حکومت نے 9 اگست 2018 کو اعلان کردہ خریداری میں عمارت کو 331.70 کروڑ روپے میں خریدا۔ اس کے بعد حکومت نے اس مقام کو میوزیم میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔فن تعمیرلاج گراؤنڈ فلور پر آٹھ اپارٹمنٹس پر مشتمل ہے جس میں  ایک30’-0”+15’-0” مرکزی ہال ہے جب کہ اوپری منزل میں مزید پانچ اپارٹمنٹس ہیں جن میں درمیان میں 45’-0”+15’-0” کی پیمائش کا ایک بڑا ڈانس ہال ہے۔ تمام اپارٹمنٹس ایلیٹ موزیک، متعدد رنگ برنگی اسکائی لائٹس اور دیوار کے زیورات سے مزین ہیں۔ ان میں سے کچھ لکڑی، بیلجیم کے رنگین شیشے اور لوہے میں پودوں اور جانوروں کے خاکوں سے مزین ہیں۔ ڈانس ہال کے اوپر ایک شاندار گنبد ہے، اور رقص کا دائرہ جھرنوں سے گھرا ہوا ہے۔ چھت پھولوں کی طرز کی ہے اور بلجیئم سے سے منگوائے ہوئے سبز آئینوں  سے مزین ہے۔ لمبے کرسٹل فانوس چھت سے لٹک رہے ہیں۔



 بال روم چھت کی طرف جانے سے پہلے ایک پیچیدہ ڈیزائن کردہ سرپل سیڑھی۔ عمارت کے عقب میں مشرق کی طرف ایک برآمدہ تین محراب والا داخلی پورچ ہے جو اوپری منزل کے لیے سیڑھیوں کی طرف جاتا ہے۔ اصل میں باغ میں ایک آرائشی چشمہ تھا، جس کا ڈھانچہ اب بھی موجود ہے۔ باغ میں کئی کلاسیکی سنگ مرمر کے مجسمے ہیں،  .اسے روز گارڈن کہا جاتا ہے کیونکہ ایک زمانے میں یہ گھر دنیا بھر سے گلابوں سے بھرا ہوا ایک سرکلر ڈرائیو سے گھرا ہوا تھا۔ میرے دادا کا اصرار تھا کہ گلاب کی جو بھی قسم مل سکتی ہے اسے ان کے باغ میں شامل کیا جائے اور ہر رنگ کے پھول ہوں ر وز گارڈن پیلس 1830-1835 کے درمیان کسی وقت بنایا گیا تھا اور بالآخر میرے پردادا خان بہادر قاضی عبدالرشید کو فروخت کر دیا گیا تھا۔ (خان بہادر انگریزوں کا دیا ہوا لقب ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جو خاندان کے نام کو سب سے پہلے رکھتا ہے۔) میرے عظیم دادا پارلیمنٹ کے پہلے بنگالی رکن تھے۔ (تاریخ اور فن تعمیر کے بارے میں  روز گارڈن کے مالک کے پوتے کی زبانی ' یہ وہ گھر ہے جس میں میرے والد بڑے ہوئے ہیں۔ یہ اب ایک تاریخی مقام ہے، جو میری عظیم خالہ کی دیکھ بھال میں ہے، شادیوں اور پارٹیوں کے لیے کرائے پر دیا گیا ہے۔ میری خالہ اور اس کے بچے پراپرٹی پر ایک نئے گھر میں رہتے ہیں۔ جب کسی دوسری جگہ کا دورہ کیا تو ہم نے ایک وسیع گلاب کا باغ دیکھا جس کے بارے میں میرے چچا نے کہا کہ اس نے انہیں باغات کی یاد دلائی جو کبھی گھر کو گھیرے ہوئے تھے۔اسے روز گارڈن کہا جاتا ہے کیونکہ  اس گارڈن میں وسیع وعریض زمینی رقبے پر گلابوں کی کاشت کی ہوئی ہے۔  دنیا  بھر کے گلابوں کی نت نئ اقسام  اپنے باغ میں دیکھنے کے متمنی  کا کہنا تھا  کہ گلاب کی بھی  جو بھی قسم ملتی جائے  اسے ان کے باغ میں شامل کیا جائے


بلدہ گارڈن دراصل پرانے ڈھاکہ کے واری محلے میں ایک سڑک کے دونوں طرف دو باغات ہیں۔ اس بوٹینیکل گارڈن کی بنیاد 1909 میں مقامی زمیندار نریندر نارائن رائے چودھری (1880-1943) نے رکھی تھی، جو ایک مشہور ماہر فطرت اور انسان دوست تھے۔ باغات کا نام سائبیل اور سائیک یونانی افسانوں کے کرداروں کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ پراپرٹی حکومت نے 1962 میں حاصل کی تھی۔ باغات میں 672 پرجاتیوں کے 15,000 پودوں کا شاندار ذخیرہ ہے۔ بنگلہ دیش کا نیشنل بوٹینک گارڈن اور بنگلہ دیش نیشنل ہربیریم بنگلہ دیش میں پودوں کے تحفظ کا سب سے بڑا مرکز ہے، جس کا رقبہ تقریباً 84 ہیکٹر (210 ایکڑ) ہے۔ یہ بنگلہ دیش کے قومی چڑیا گھر کے قریب، ڈھاکہ میں میرپور-2 - 1216 میں واقع ہے۔ یہ 1961 میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ ایک نباتاتی باغ ہے، فطرت سے محبت کرنے والوں اور نباتات کے ماہرین کے لیے ایک علمی مرکز اور ایک سیاحتی مقام ہے۔ ہربیریم میں پودوں کے تقریباً 100,000 محفوظ نمونوں کا سائنسی ذخیرہ ہے۔ 

ہفتہ، 14 فروری، 2026

۔دلاور فگاراورعشق کا پرچہ

 

 شہنشاہِ ظرافت دلاور فگار، اردو کے ممتاز مزاح نگار اور پاکستان کے دانشور جن کا منفرد طرزِ ادائیگی بھی ان کی ایک الگ پہچان بنا، ۸ جولائی ۱۹۲۹ میں ہندوستان کے ایک شہر بدایوں میں پیدا ہوئے۔ اپنی ابتدائی تعلیم بدایوں میں ہی حاصل کی اور بعد ازاں آگرہ یونیورسٹی سے اُردو ادب میں پوسٹ گریجویشن کیا، مزید برآں انہوں نے معاشیات میں بھی ڈگری حاصل کی۔ پاکستان آنے کے بعد انہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی اور عبداللہ ہارون کالج میں درس وتدریس کے عہدے پر فائز ہوئے، جہاں اس دور میں فیض احمد فیض صاحب بطور پرنسپل تعینات تھے۔ روزگار کے سلسلے میں کراچی کے ترقیاتی ادارے کے۔ڈی۔اے میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ، ٹاؤن پلاننگ بھی منسلک رہے۔ دلاور فگار کا علمی سفر ۱۴ سال کی کم عمری سے ہی شروع ہوگیا تھا اور یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ سفر کی ابتداء ہی میں بدایوں کے مشہور شاعر   جناب ظفر یاب حسین جام نوائی کا ساتھ ملا جو کہ ان کے پڑوس ہی میں رہتے تھے اور ان کے بیٹے آفتاب ظفر اور مہتاب ظفر دلاور فگار کے دوست تھے جن کے توسط سے وہ جام نوائی صاحب سے ملے اور ان کی شاگردی اختیار کی۔ جب جام صاحب ہجرت کر کے پاکستان آگئے تو دلاور فگار نے ایک اور مشہور شاعر اور اسکالر جناب جامی بدایونی سے رہنمائی حاصل کی۔فگار صاحب کی طبعیت میں طنزو مزاح فطری طور پہ موجود تھا جو کہ ان کی سخت زندگی کے باوجود ان کے کلام میں بہت نمایاں ہے، ان کا پہلا مجموعۂ کلام “حادثے “ ان کے مشکل دنوں کی عکاسی کرتا ہے۔ بدایوں کے بلدیاتی انتخابات کے دوران فگار نے ایک طویل مزاحیہ نظم لکھی جو کہ ایک کتابچہ کی شکل میں شائع ہوئی اور اس ماحول کے حساب سے بہت مشہور ہوئی،



اور غالباً تب ہی سے فگار صاحب نے طنزو مزاح کو سنجیدگی سے اپنا اسلوب بنا لیا اور اس کے بعد ان کی نظمیں ریڈیو انٹرویو ، ماسٹر صاحب اور شاعرِ اعظم ان کی پہچان بنیں۔۱۹۶۸ تک فگار  صاحب ہندوستان کے ادبی حلقوں میں اپنی جگہ بنا چکے تھے لیکن پھر پاکستان آگئے، اپنی کتاب “انگلیاں فگار اپنی” کے دیباچہ میں انہوں نے ان حالات کا تذکرہ کیا ہے جو ان کے پاکستان آنے کا سبب بنے۔ ۱۹۷۰ کی دہائی کے عام انتخابات کے دوران پی ٹی وی نے ایک مشاعرہ ٹیلی کاسٹ کیا جس میں دلاور فگار نے اپنے مخصوص انداز سے نظم “میں اپنا ووٹ کس کو دوں” سنائی اور حیران کن کامیابی پائی، دلاور فگار کا نام راتوں رات زبان زدِ عام ہو گیا اور بعد میں ان کی نظمیں کے ڈی اے سے شکوہ، کراچی کی بس، گدھے کا قتل اور عشق کا پرچہ ان کو مقبولیت کی بلندیوں پر لے گئیں۔ دلاور فگار کا تعلق شاعروں کی اس نسل سے تھا جو شاعری کی فنی صلاحیتوں کی قدر کرتا ہے۔ انھوں نےمتناسب، طنزیہ زبان کے استعمال سے اپنے فن کو کمال بخشا ہے اور اپنے بہت سے ہم عصروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ دلاور فگار وہ مزاح نگار ہیں جنکا مزاح اتنا بر وقت محسوس ہوتا ہے جیسے کہ کل ہی لکھا گیا ہو، جیسا کہ دلاور فگار نے اپنے ایک شعر میں محاورتاً اشارہ کیا کہ “ حالاتِ حاضرہ کو کئی سال ہو گئے”۔انہوں نے ہندوستان کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش (یو پی) کے مشہور و معروف مردم خیز قصبے بدایوں کے ’حمیدی صدیقی‘ خاندان میں ماسٹر شاکر حسین کے گھر آنکھ کھولی۔ والد مقامی اسکول میں استاد تھے۔



 آپ نے اپنا پہلا شعر 14 برس کی عمر میں کہا تھا۔ بدایوں میں اعلیٰ تعلیم کا کوئی مرکز نہیں تھا، اس لیے وہاں سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی، بعدازاں 1953ء میں بی اے کیا اور پھر آگرہ یونیورسٹی سے فرسٹ ڈویژن میں اردو اور معاشیات میں ایم اے کیا۔ صرف یہی نہیں آپ انگریزی میں بھی ایم اے کرنا چاہتے تھے لیکن وہ معاش کی جدوجہد کی وجہ سے مکمل نہ ہوسکا۔ہندوستان میں ہی والد صاحب کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے، پھر جب 1968ء میں پاکستان آئے تو یہاں بھی ان کی شاعری کی بڑی پذیرائی ہوئی۔ یہاں کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ اپنی نظم ’شاعر اعظم‘ میں فیض صاحب کا عقیدت سے ذکر کرتے ہیں۔ وہ عبداللہ ہارون کالج لیاری میں بحیثیت لیکچرار کچھ عرصے تک اردو پڑھاتے رہے۔ فیض صاحب اس کالج کے پرنسپل تھے۔ درس و تدریس کے علاوہ وہ کچھ عرصہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ٹاؤن پلاننگ کے طور پر (کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی) کے ڈی اے سے بھی وابستہ رہے۔دلاور فگار من موجی، غالب اور جون ایلیا کی طرح مست اور شعر و شاعری کے نشے میں ڈوبے رہنے والے ایسے لوگوں میں سے تھے جنہوں نے سماجی اور معاشی زندگی کو بہتر بنانے اور مال و زر بنانے کی کبھی کوشش نہیں کی، وہ کچھ اور طرح کے ہی تھے۔انہوں نے ابتدا سنجیدہ غزل سے کی، اس ضمن میں وہ خود بتاتے ہیں کہ ’لوگ کہتے ہیں کہ میں طنز و مزاح نگار ہوں۔



گویا کہ طنز نگاری، شاعری یا کم از کم سنجیدہ شاعری سے الگ کوئی فن ہے۔ جہاں تک میری طنز نگاری کا تعلق ہے، یہ میری سنجیدہ شاعری ہی کی بنیاد پر مبنی ہے، ظاہر ہے کہ بالاخانے کو گراؤنڈ فلور سے الگ نہیں کیا جاسکتا‘۔آپ کی مزاحیہ شاعری کا تعارف یا آغاز بھی اتفاقی طور پر ہوا۔ وہ اپنے دوستوں کو مزاحیہ نظمیں لکھ کر دیتے تھے۔ ایک مشاعرے میں جس میں معروف فلم اسٹار دلیپ کمار مرحوم بھی موجود تھے اور اس کی میزبانی شکیل بدایونی کررہے تھے گلفام بدایونی نے دلاور فگار کی لکھی نظم پڑھی، لیکن شکیل بدایونی نے اسی مشاعرے میں گلفام سے اگلوایا کہ یہ اشعار انہیں دلاور فگار نے لکھ کردیے تھے۔ یوں شکیل بدایونی اور دوستوں کے کہنے پر دلاور فگار مشاعروں میں طنزیہ کلام خود پڑھنے لگے اور بے حد مقبول ہوئے۔بدایوں میں ہونے والے مشاعروں میں وہ ’شباب بدایوں‘ کی حیثیت سے باضابطہ شرکت کرتے رہے۔ آپ کے مزاحیہ شعری مجموعوں میں انگلیاں فگار اپنی، ستم ظریفیاں، آداب عرض، شامت اعمال، مطلع عرض ہے، سنچری، خدا جھوٹ نہ بلوائے، چراغِ خنداں اور کہا سنا معاف شامل ہیں۔دلاور فگار پاکستان آنے کے بعد درس و تدریس کے شعبے اور کے ڈی اے سے بھی منسلک رہےفگار نے اپنی زندگی میں کبھی مال و دولت جمع کرنے کی سعی نہیں کیپروفیسر ولی بخش قادری بچپن کے دوست بھی تھے اور ہم جماعت بھی۔ وہ دلاور فگار کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’وہ منکسر مزاج اور دوست نواز واقع ہوئے،

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کراچی عروس البلاد سے کھنڈر بننے تک کا سفر

   کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور صنعتی، تجارتی، تعلیمی، مواصلاتی و اقتصادی مرکز ہے۔ اس کا شمار دنیا کے چند سب سے بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر