دیوار چین کیوں تعمیر کی گئی ؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنے کی جستجو میں ان گنت تحقیقات ہوئی ہیں اور سب میں متعدد باتیں مشترک بھی پائی گئیں ان میں ایک یہ ہے کہ یہ دیوار دفاعی دفاعی نقطہ نگاہ سے تعمیر ہونا شروع ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ دیوار چین کی تعمیر یسوع مسیح کی پیدائش سے تقریبا دوسو سال پہلے شروع ہوئی تھی، (اس بارے میں تاریخ میں مختلف ادوار کا ذکر ملتا ہے)۔ ان دنوں چین کے بڑے دشمنوں میں منگول تاتار تھے یہ چور ڈاکو اور جنگجو قسم کے لوگ تھے اور آئے دن چین پر حملہ آور ہوتے رہتے تھے۔ انہی حملوں سے بچاؤ کے لئے ایک حفاظتی اور دفاعی دیوار پندرہ سو کلومیٹر تعمیر کی گئی -یسوع مسیح کی پیدائش سے تقریباً دو سو سال پہلے چین کے بادشاہ چن شی ہوانگ نے اپنے ملک کو دشمنوں کے حملوں سے محفوظ کرنے کے لیے شمالی سرحد پر ایک دیوار بنانے کی خواہش کی۔ اس دیوار کی ابتدا چین اور منچوکو کی سرحد کے پاس سے کی گئی۔ اس زمانے میں ہن اور تاتار چین کے بڑے دشمن تھے، جو وسط ایشیاء میں کافی طاقتور سمجھے جاتے تھے۔ یہ دیوار خلیج لیاؤتنگ سے منگولیا اور تبت کے سرحدی علاقے تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً تیرہ ہزار ایک سو ستر میل ہے اور یہ مختلف علاقوں میں بیس سے لے کر تیس فٹ تک اونچی ہے۔ بنیاد کے قریب اس کی چوڑائی پچیس فٹ اور اوپر سے بارہ فٹ کے قریب ہے۔ ہر دو سو گز کے فاصلے پر حفاظتی پہریداروں کے لیے مضبوط پناہ گاہیں بنی ہوئی ہیں۔
مہینوں کا سفر اب محض گھنٹوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، دنیا کے کونے میں کہیں بھی ایک معمولی واقعہ ہو جائے تو اس کی خبر دنیا کے ان کناروں تک پہنچ جاتی ہے جہاں تک انسان رہتا ہے۔ اور تو اور اب دنیا کے کسی بھی چھوٹے سے کمرہ میں مقید ہوں تو ہزاروں میل دور بیٹھے اپنے عزیزو اقارب کے ساتھ ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے براہ راست گفتگو کرسکتے ہیں، کوسوں دور ہونے کے باوجود غمی، خوشی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ سائنس ہی کی بدولت ممکن ہوا ہے جو انسان ہی کا کارنامہ ہے لیکن آج کا انسان یہ بھول جاتا ہے کہ جب سائنس نہیں تھی، بجلی نہیں تھی، مشینیں نہیں تھیں اور آمدو رفعت کے ذرائع نہیں تھے بلکہ جانوروں کے ساتھ سفر کیا جاتا تھا، اس زمانے میں انسانوں نے اپنے ہاتھوں سے ایسی ایسی عمارتیں، بت، دیواریں اور نہ جانے کیاکچھ تعمیر کر چھوڑا جس کی نقل آج کے سائنسی دور میں بھی ممکن نہیں ہے اور وہ سب دنیا کی عظیم تعمیراتی عجائبات میں شامل ہوئیں، ایسے انسانوں کےبارے میں کیا سوچا جا سکتا ہے؟۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عظیم انسان کون ہے ؟ اگر آج کا انسان عظیم ہے تو پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ زمانہ قدیم کا انسان عظیم تر تھا اور ہے۔ انسانی ہاتھوں کی یہ تعمیرات اور تاریخ چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ زمانہ قدیم کے انسانوں نے ناممکن کو ممکن میں بدل ڈالا تھا۔ آج کی جس سائنس پر فخر کیا جاتا ہے
کیا وہ سائنس آج تاج محل، اہرام مصر، زیوس کا مجسمہ، اسکندریہ کا روشن مینار وغیرہ تعمیر کرسکتی ہے؟ تعمیر تو دور کی بات رہی، آج کی سائنس ان کی نقل کرنے میں بھی ناکام رہے گی۔ لیکن حقیقی عجائبات وہی ہیں جو ہزاروں سال قبل انسانی ہاتھوں سےتعمیر ہوئی تھیں۔ زمانہ قدیم کے انسانوں کے ہاتھوں تعمیراتی عجوبوں میں عظیم ایک دیوار چین The greatwall of China بھی ہے۔ اس کے متعلق ہو شربا قسم کے قصے، افسانے اور کہانیاں اقوام عالم کی زبانوں میں لکھے موجود ہیں، دیوار چین کی عظمت کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس بارے میں عالمی سطح پر یہ یقین کر لیا گیا تھاکہ اس کو چاند کی سطح سے بھی ایک لکیر کی مانند دیکھا گیا ہے،حالانکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جو لوگ چین جا کر دیوار چین دیکھنے کی سکت نہیں رکھتے وہ گوگل کے ذریعے دیوارچین کو دیکھ کر حیرت کے سمندر میں ڈوبکی لگا سکتے ہیں ،سانپ کی مانند بل کھاتی چین کی یہ قدیم اور عظیم دیوار چین آج دنیا کے لئے سب سے بڑا نظارے کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ عظیم دیوار چین کے شمال میں واقع ہے جو حقیقت میں ایک قلعہ نما دیوار ہے جو پہاڑوں ، میدانوں ، سبزہ زاروں اور صحرائے گوپی سے بل کھاتی ہوئی گزرتی ہے۔ یہ صدیوں میں بننے والی مختلف دفاعی دیواروں کا مجموعہ ہے جس کی تعمیر کی ابتداء کئی سو سال پہلی قبل از مسیح (ق م) ہوئی تھی اور تکمیل 1644عیسوی میں ہوئی تھی ۔ تاریخ کے مطابق چین کے پندرہ سے زائد شاہی خاندانوں کے سینکڑوں برس کے ادوار میں بھی عظیم دیوار چین کی تعمیر ہوتی رہی تھی ۔ تاریخ دانوں نے اس کی تعمیر کی مدت1700 سے2000 سال بتائی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ چین کے 15 صوبوں میں سے ہو کر گزرتی ہے ۔ یونیسکو نے 1987 میں اس کو عالمی ورثہ قرار دیا تھا ۔