Zairas blogging
Do you know that blogging is a fun of writing, in simple words you can also call it a digital diary, where you can share your perspective, your experiences, observations and thoughts with millions of people. The word blog comes from the combination of the English words 'web' and 'log'. A blog refers to a writing or article that is published on the World Wide Web (digital media/electronic . You can comment on social issues, politics, education, sports, fashion and business and many other things
پیر، 14 ستمبر، 2026
نیٹی جیٹی پُرانا پُل آج کی بہترین فوڈ اسٹریٹ
اتوار، 13 ستمبر، 2026
عباسی شہید ہسپتال کل اور آج کے آئینے میں
عباسی شہید ہسپتال کل اور آج کے آئینے میں8 ستمبر 2026ء کی خاص خبر جو وطن عزیز کے دو موقر روزناموں میں چھپی- کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے سب سے بڑے طبی مراکز میں شمار ہونے والے عباسی شہید اسپتال میں گزشتہ 10 سال سے ایم آر آئی کی سہولت غیر فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔اسپتال میں نصب ایم آر آئی مشین 2016 میں خراب ہوئی تھی، تاہم ایک دہائی گزرنے کے باوجود مشین کی مرمت یا بحالی ممکن نہیں ہوسکی۔ایم آر آئ مشین کی اہمیتْ ایم آر آئی (MRI - Magnetic Resonance Imaging) مشین انسانی جسم کے اندرونی حصوں کی تفصیلی تصاویر لینے کے لیے طاقتور مقناطیس (Magnets)، ریڈیو لہروں (Radio Waves) اور کمپیوٹر کا استعمال کرتی ہے۔ اس میں کسی قسم کی نقصان دہ شعاعیں (جیسے ایکس رے یا سی ٹی اسکین میں ہوتی ہیں) استعمال نہیں ہوتیں۔یہ مشین بنیادی طور پر درج ذیل چار مراحل میں کام کرتی ہے:1. طاقتور مقناطیسی میدان (Magnetic Field)انسانی جسم کا تقریباً 70 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے، اور پانی میں ہائیڈروجن کے ایٹمز (Protons) ہوتے ہیں۔عام حالت میں یہ پروٹونز جسم میں مختلف سمتوں میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔جیسے ہی مریض کو ایم آر آئی مشین کے اندر لے جایا جاتا ہے، مشین کا انتہائی طاقتور مقناطیس ان تمام پروٹونز کو ایک سیدھ میں (ایک لائن میں) کر دیتا ہے۔2. ریڈیو لہروں کا استعمال (Radio Waves)پروٹونز کے سیدھے ہونے کے بعد، مشین جسم کے مطلوبہ حصے کی طرف ریڈیو فریکوئینسی (RF) کی لہریں چھوڑتی ہے۔یہ لہریں ان پروٹونز سے ٹکراتی ہیں اور انہیں اپنی جگہ سے تھوڑا سا ہٹا یا "ڈسٹرب" کر دیتی ہیں۔3. سگنل کا اخراج (Releasing Signals)جب ریڈیو لہروں کو بند کیا جاتا ہے، تو پروٹونز دوبارہ اپنی اصل مقناطیسی پوزیشن میں واپس آنے لگتے ہیں۔اپنی اصل جگہ واپس آتے ہوئے یہ پروٹونز خود سے کمزور ریڈیو سگنلز خارج کرتے ہیں۔
اس سارے عمل میں جسم کے مختلف حصے (جیسے ہڈیاں، پٹھے، یا چربی) مختلف رفتار سے اپنی جگہ واپس آتے ہیں، اس لیے ان کے سگنلز بھی الگ الگ ہوتے ہیں۔4. کمپیوٹر امیجنگ (Image Creation)مشین میں لگے ہوئے سینسرز ان سگنلز کو ریکارڈ کرتے ہیں اور کمپیوٹر کو بھیجتے ہیں۔کمپیوٹر ان سگنلز کا حساب لگا کر جسم کے اندرونی حصے کی انتہائی واضح اور تھری ڈی (3D) تصویر تیار کر دیتا ہے۔ ایم آر آئی ایک انتہائی اہم تشخیصی عمل ہے جس کے ذریعے دماغ، ریڑھ کی ہڈی، جوڑوں اور جسم کے دیگر پیچیدہ مسائل کی بروقت تشخیص ہوتی ہے۔ اس سہولت کی عدم دستیابی کے باعث غریب مریضوں کو جناح اور سول اسپتال جیسے دیگر مراکز کا رخ کرنا پڑتا ہے۔شہریوں نے اسپتال میں جاری اس بدانتظامی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 10 سال کا طویل عرصہ کسی مشین کی خرابی دور کرنے کے لیے نامناسب ہے -شہریوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک سرکاری اسپتال کی اہم مشین 10 سال سے خراب ہے
اور افسوس کا مقام ہے کہ حکو مت نے مکمل سرف نظر کیا ہوا ہے جس کی بناء پر عوامی حلقوں نے میئر کراچی اور کے ایم سی حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پرانی مشین اب قابل مرمت نہیں رہی تو فوری طور پر نئی ایم آر آئی مشین فراہم کی جائے تاکہ مریضوں کی مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ عباسی شہید اسپتال کراچی کا ایک بڑا سرکاری طبی مرکز ہے جہاں روزانہ بڑی تعداد میں مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ ایسے میں ایک بنیادی تشخیصی سہولت کا 10 سال سے بند ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔ شہرِ قائد کے سب سے بڑے طبی مراکز میں سے ایک عباسی شہید اسپتال میں ایم آر آئی کی اہم تشخیصی سہولت گزشتہ 10 برس سے مکمل طور پر غیر فعال ہے جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسپتال انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ یہ مشین 2016 میں خراب ہوئی تھی، تب سے اب تک اسے ٹھیک نہیں کیا جا سکا۔
انتظامیہ نے اس تشویشناک صورتحال پر میئر کراچی کو بارہا خطوط لکھے اور اعلیٰ حکام کو اس سنگین مسئلے سے آگاہ کیا، لیکن تاحال کے ایم سی کی جانب سے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔اسپتال انتظامیہ نے بھی مشین کی طویل عرصے سے خرابی کی تصدیق کردی ہے۔ جس کے بعد مشین کو قابل استعمال بنانے کے لیے مختلف اوقات میں ماہرین اور متعلقہ ٹیموں نے اسپتال کا دورہ کیا۔ تاہم مسئلہ حل نہیں ہوسکا اور ایم آر آئی کی سہولت مسلسل بند رہی۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مشین کا معائنہ کرنے والی ٹیموں نے اس کی خرابی اور درکار مرمت کے حوالے سے کے ایم سی کو بھی آگاہ کیا جبکہ اسپتال کی جانب سے بھی اس معاملے پر کئی مرتبہ میئر کراچی کو بھی خطوط لکھے جاچکے ہیں ۔مشین طویل عرصے سے آؤٹ آف آرڈر ہونے کے باعث ایم آر آئی وارڈ بھی مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔
منگل، 8 ستمبر، 2026
مخملیں وادیوں کی سر زمین 'جنت ارضی کشمیر
اتوار، 6 ستمبر، 2026
زرا عمررفتہ کو آواز دینا -میری کہانی میری زبانی
بدھ، 2 ستمبر، 2026
کلو چھولے والے کی شادی پارٹ 1(اشاعت مکرر)
اب میں اپنے قارئین کو ا پنی زندگی کے وہ اوّلین دن بتانے چلی ہوں جو بہت پر مشقّت تو تھے لیکن بچپن کی انوکھی آرزؤں سے معمور تھے ،ہمارے چاروں جانب ہندوستان کے شورش زدہ علاقوں سے آیا ہوا سماج تھا -بڑے بڑے قابل نام بھی تھے اور بہت چھوٹے چھوٹے سماجی حیثیت والے لوگ بھی جو اپنی جانیں بچا کر پاکستان کی آ بسے تھے -انہی لوگوں میں ایک گھر ایسا بھی تھا جس کے دو ہی نفوس تھے ایک بوڑھی ماں اور ایک اس کا بیٹا جن کی گزر بسر کے لئے بس ایک چھولے کا ٹھیلا تھا -اس زمانے میں جب کسی گھر میں شادی ہوتی تھی تو رات کے وقت ڈھو لک کی محفل ضرور سجتی تھی اور میرے پیروں میں پہئے لگ جاتے تھے کہ کس طرح میں اس گھر میں پہنچ جاؤں جہاں ڈھولک بج رہی ہے ،مقصد واحد ہوتا تھا کہ ڈھول بجانے ولی لڑکی کی انگلیاں کس طرح چل رہی ہیں خود دیکھوں اور سیکھوں مگر یہ شوق آ ج بھی ناتمام ہی رہی-ابّا جان تو رات کے وقت گھر سے قدم نکالنے کے ہی سخت مخالف تھے اور امّی جان ابّا جان کے تابع تھیں، میری عمر یہی کوئ سات یا آٹھ برس کے دور میں تھی ایسے میں ہمارے سامنے والے محلّے کے ایک گھر سے مجھے دن کے وقت ڈھولک بجنے کی آواز آئ اور میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ ابّا جان تو گھر پر نہیں ہیں مجھے اجازت دے دیجئے
بس امّی جان نے اجازت د ی اور میں نے جھٹ پٹ چھوٹے بھائ کوگود میں اٹھایا اور چند منٹ میں کلّو چھولے والے کے گھر پہنچ گئ ،میں بھائ کے بغیر گھر سے قدم نکالنے کی بھی مجاز نہیں تھی کیونکہ وہ ڈھائ برس کی جان میری واپسی تک امّی جان کا جینا حرام کردیتا ،-بہر حال میں نے گلی میں نکل دیکھا ڈھولک کی آواز کدھر سے آری ہے اچانک میری نظر ٹہری تو مجھے کلو چھولے والے کے گھر کے اندر عورتیں جاتی نظر آئیں اس وقت کلٰو چھولے والے کا گھر مجھے دور سے ہی پرستان کے شہزادے کا گھر دکھا ئ دینے لگا گھر کے اندر باہر بلاروک ٹوک آنا جانا لگا ہوا تھا میں بھی اسی آپا دھاپی میں اندر پہنچ کر شادی کے گھر کے مناظر کے مشاہدے میں لگ گئ --کچّے آنگن میں ایک طرف کوری ہانڈی میں پانی کے اندر ننھی ننھی مچھلیاں تیر رہی تھیں میں نے ہانڈی میں جھانکا اور پھر گود میں موجود بھائ کو مچھلیاں دکھائیں دوسری طرف بڑے سے تھال میں سل پر پیسی گئ کچّی مہندی بھیگی ہوئ تھی جس کی سوندھی خوشبو گلی کے اندر دور تک مہک رہی تھی اور ساتھ ہی مہکتے چنبیلی کے تیل میں ابٹن کی خوشبو بھی ملی جلی تھی-گھر کے کچّے آنگن کی ملتانی مٹّی سے شائد رات کو ہی لپائ کی گئ تھی آنگن بلکل صاف ستھرا تھا
اور اب اس پرگھر کی عورتیں ایک رسم ادا کرنے جا رہی تھیں یعنی لال رنگ کے بھیگے ہوئے گیرو اور صندل کے آمیزے میں سات سہاگنوں کے ہاتھ ڈبو کر ان کو آنگن کی دیوار پر چھاپنا تھا ،بڑی بوڑھی کا سختی سے حکم تھا کہ خبر دار ہاتھ الگ الگ تھال پر نا پڑے اور ٹیڑھا میڑھا بھی نا پڑے یہ سب بد شگونیاں سہاگ بھرے بھاگ کے گھر میں بد شگونیاں مانی جاتی ہیں-اس رسم کو پہلی دفع ہی دیکھنے کا میرا اتّفاق تھا گھر کی سب سے بڑی بوڑھی خاتون کو لا کر چار پائ پر بٹھا یا گیا اور گیرواور صندل کا سرخ آمیزے سے بھرا تھال ان کے آگے رکھ دیا گیا ساتھ ہی گڑ کا اور مرمروں کا بڑا سا تھا ل آیا اور پھرڈھولک کی تھاپ پر عورتوں نے کوئ اپنی دیہاتی زبان میں گیت گانا شروع کیا ساتھ ہی آوازیں بھی دی جانے لگیں اری او کہاں ہے آ ری آ ،آج ہمرے دوارے سہاگن آئ گیو رے ، عورتیں آتی گئیں ڈھول بجتی رہی اور صندل اور گیرو کے چھاپے دیوار کو سجاتے رہے
کلّو چھولے والے کا تعارف تو رہ ہی گیا یہ ایک بمشکل بیس بائیس سال کا انتہائ درجے کا سانولا لیکن دلکش نقوش والا نوجوان تھا ،جو ٹھیک دس بجے دوپہر سے پہلے اپنی ماں کے ہاتھ کے تیّار کئے ہوئے مزیدار چٹ پٹے چھولے کا ٹھیلا لے کر لب سڑک ہمارے گھر سے کچھ فاصلے کھڑا ہوجاتا تھا اور اس کے چھولے اتنے مذیدار ہوتے تھے کہ دوپہر کو یہ گھر واپس چلاجاتا تھا مجھے یا د ہے جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا تو بڑی حیرت سے دیکھتی رہی تھی سرسوں کے تیل میں چپڑا ہوا سرجس کے بال بلکل جٹ سیاہ اس پر سرسوں کے تیل کی اس کے ماتھے تک آئ ہوئ بہار، بڑی بڑی آنکھیں جن میں بہتا کاجل رچا ہوا ،لیکن وہ اپنے اطراف سے بیگانہ اپنے چھولوں کی دنیا میں مگن سر جھکا کے آتا اور سر جھکا کے واپس جا تا جب اس کی شادی ہوئ تب مجھے معلوم ہوا کہ یہ اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھا اور اس کی ماں نانی اور خالائیں اس کی شادی پر اپنے اپنے ارمان پورے کر رہی تھیں - خیر میری دلچسپی کا ساما ن اس گھر کی رسمیں تھیں میں جن کو دل و جان سے دیکھ بھی رہی تھی اور نگاہوں کے راستے حفظ بھی کر رہی تھی- -بہر حال میرا بچپن کا ایک انتہائ شوق تھا کہ میں کسی طرح ڈھولک بجانا سیکھ جاؤں
منگل، 1 ستمبر، 2026
سانحہ نیپال
قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال، جنگلات کی کٹائی، آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے اسباب نے قدرت کے نظام میں ایسی دراڑیں پیدا کردی ہیں جن کے نتائج اب دنیا کے سامنے ہیں۔ اس اعتبار سے نیپال کا سانحہ محض نیپال کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک انتباہ ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کے شمالی علاقے میں پہار کے ٹوٹنے کا سانحہ پیش آ چکا جس نے پوری جیتی جاگتی بستی کو نگل لیا تھا -بات یہ ہے کہ پاکستان بھی قطبی علاقوں کے علاوہ دنیا کے سب سے بڑے برفانی ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، بالخصوص قراقرم اور ہمالیائی سلسلہ کوہ میں موجود گلیشیئرز ہمارے آبی مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، مون سون کے بدلتے ہوئے انداز اور سرحد پار دریاں کے پانی کا انتظام ایسے معاملات ہیں جن کا تعلق براہِ راست ہماری قومی سلامتی اور مستقبل سے ہےانسانی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبیں اس وقت عروج پاتی ہیں جب وہ عقل، بصیرت اور دوراندیشی سے کام لیتی ہیں، اور اس وقت زوال کا شکار ہوتی ہیں جب ان کے سامنے موجود واضح نشانیاں اور انتباہات نظرانداز کر دئیے جاتے ہیں۔اگرانسان قدرت کے ساتھ بے اعتدالی کا سلوک جاری رکھتا رہا، اگر اقوام موسمیاتی تبدیلی اور آبی وسائل جیسے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہیں، تو آنے والی نسلوں کے لیے اس سے بھی بڑے سانحات منتظر ہوسکتے ہیں۔ سوچئے زرا جب فطرت مسکراتی ہے تو پہاڑوں پر سبزہ اترتا ہے، دریاں میں زندگی دوڑتی ہے اور وادیاں گیت گاتی ہیں؛ لیکن جب یہی اللہ کے جلال کا ایک رخ دکھاتی ہے تو پہاڑ بھی گویا رو پڑتے ہیں، وادیاں ماتم کدہ بن جاتی ہیں اور انسان اپنی تمام تر قوت، علم اور غرور کے باوجود اپنی بے بسی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانیت کو ہر قسم کی آفت، وبا، سیلاب، زلزلے اور قدرتی و انسانی تباہی سے محفوظ فرمائے،
اقوام کو عدل، تعاون اور باہمی احترام کی راہ دکھائے، ہمیں قدرت کے انتباہات کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، اور پاکستان سمیت پوری دنیا کو ایسے فیصلے کرنے کی بصیرت دے جو آنے والی نسلوں کے لیے امن، پانی، ماحول اور زندگی کو محفوظ بنا سکیں۔ آمین صبح 8 بج کر 37 منٹ قریب قریب نیپال اور چین کی سرحد کے قریب، کھٹمنڈو کے شمالی علاقے میں شام جھٹکے محسوس کرتے محسوس ہوئے۔ جیولوجیکل ابتدائی طور پر اس سمندر کو 4. شدید زلزلے سے تعبیر کیا گیا تھا، تاہم اس کے بعد مزید تجزیوں کے مختلف قرار دیے جانے کے بعد یو ایس جی ایس کے مطابق اس علاقے سے برف اور چٹانوں کا ایک بہت بڑا ملبہ نیچے آیا اور لدھیاں کھولا دریائے جا گرنے میں۔ یہ دریا آگے جاکر بھوٹے کوشی دریا میں شامل ہے، جو چین سے نیپال کی طرف بہت زیادہ ہے جیولوجیکل ابتدائی طور پر اس سمندر کو 4. شدید زلزلے سے تعبیر کیا گیا تھا، تاہم اس کے بعد مزید تجزیوں کے مختلف قرار دیے جانے کے بعد یو ایس جی ایس کے مطابق اس علاقے سے برف اور چٹانوں کا ایک بہت بڑا ملبہ نیچے آیا اور لدھیاں کھولا دریائے جا گرنے میں۔ یہ دریا آگے جاکر بھوٹے کوشی دریا میں شامل ہوتا ہے، جو چین سے نیپال کی طرف سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر رسک کنٹرول اتھارٹی کے مطابق ملک کے تازہ ترین اعداد و شمار اور سیلاب میں تباہ کن لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہونے والی تعداد 734 ہو گئی۔یپال اور تبت کی سرحد پر واقع ہمالیائی خطے میں گلیشیئر کا پھٹنا یا ٹوٹنا کسی زلزلے کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ موسمیاتی تبدیلی avalanche) کا ایک ملا جلا اور پیچیدہ واقعہ تھا۔
[1, 2, 3] (Climate Change)، پرما فراسٹ (برف جمی مٹی) کے پگھلنے اور چٹان و برف کے تودے گرنے (Ice-rockسائنسی تجزیات اور سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق یہ حادثہ درج ذیل وجوہات کی بنا پر پیش آیا:. گلیشیئر کا بڑا حصہ ٹوٹنا (Glacier Collapse)سمندر کی سطح سے تقریباً 5,200 میٹر کی بلندی پر واقع گلیشیئر (لانگ ٹانگ لیرونگ کے قریب) کا ایک بہت بڑا نچلا حصہ یکدم کٹ کر نیچے وادی میں جا گرا۔ ماہرین کے مطابق یہ حصہ تقریباً 1,300 میٹر چوڑا تھا اور یوں لگا جیسے کسی نے چاقو سے گلیشیئر کا نچلا دھڑ کاٹ کر پہاڑ سے نیچے پھینک دیا ہو۔ [1, 2, 3]2. بلندی سے گرنے کا شدید اثر (The Avalanche)برف اور چٹانوں کا یہ گرجتا ہوا تودہ تقریباً 1,200 میٹر (4,000 فٹ) نیچے موجود وادی (Lhende Khola) میں گرا۔ یہ اثر اتنا شدید تھا کہ زمین ہل گئی اور زلزلہ پیما مشینوں پر اس کی شدت 5.2 میگنیٹیوڈ ریکارڈ کی گئی، جسے شروع میں لوگ حقیقی زلزلہ سمجھ بیٹھے تھے۔ 3. عارضی بند (Natural Dam) اور اس کا پھٹنا-جب لاکھوں ٹن برف، مٹی اور بھاری چٹانیں تیز رفتاری سے نیچے دریا کی وادی میں گریں، تو انہوں نے وہاں بہنے والے دریا کا راستہ عارضی طور پر روک دیا اور ایک قدرتی بند یا جھیل بن گئی۔ چند ہی منٹوں میں پیچھے پانی کا دباؤ اس حد تک بڑھ گیا کہ یہ کمزور عارضی بند دھماکے سے پھٹ گیا۔ 4. مٹی اور پتھروں کا سونامی (Tsunami of Dirt)ند ٹوٹنے سے پانی، پگھلی ہوئی برف، کیچڑ اور دیو ہیکل چٹانوں کا ایک خوفناک ریلا 190 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی زیادہ کی رفتار سے نیچے کی طرف بڑھا۔ چونکہ یہ مون سون کا موسم تھا اور زمین پہلے ہی پانی سے بھری ہوئی تھی، اس لیے اس ریلے نے راستے کی مزید مٹی اور پتھروں کو اپنے اندر لپیٹ لیا۔ اسی وجہ سے صرف 30 منٹ کے اندر دریاؤں میں پانی کی سطح 9 میٹر (30 فٹ) تک بلند ہو گئی اور نیچے واقع بستیوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملااورسب کچھ تہس نہس ہو گیا ۔
نیپال میں آفات سے نمٹنے کے سرکاری ادارے کے مطابق تبت، نیپال کے سرحدی علاقے میں آنے والے تباہ کُن سیلاب کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس سیلاب کے بعد 3,900 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں 600 سے زیادہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ دریائے تریشولی کے کنارے واقع پن بجلی منصوبوں پر کام کر رہے تھے اور سیلاب کے باعث ان منصوبوں سے منسلک سرنگوں میں کیچڑ بھر جانے کے باعث وہ وہاں پھنس گئے ہیں۔سرنگوں میں پھنس جانے والے ان 600 کے لگ بھگ ورکرز کی زندگیاں بچانے کے لیے مختلف ممالک کے ماہر انجینیئرز سرنگوں کے اندر ہوا پمپ کر رہے ہیں۔ اگرچہ امدادی ٹیم ایک سرنگ میں داخل ہونے میں کامیاب بھی ہوئی، تاہم وہاں کسی شخص کے نہ ملنے پر یہ ٹیم واپس لوٹ آئی۔نیپال کے ایک پن بجلی منصوبے پر کام کرنے والے 33 سالہ لاپتہ انجینیئر اورَس بھنڈاری کی اہلیہ انوشیلا بھنڈاری نے بی بی سی نیپالی سے گفتگو میں کہا کہ ’کاش ہم انھیں ڈھونڈ سکیں۔ کاش وہ گھر واپس آ جائیں۔‘سرنگوں میں موجود افراد کو بچانے کے لیے کی جانے والی امدادی کارروائیوں کی قیادت چین اور نیپال کے فوجی اہلکاروں پر مشتمل ایک بین الاقوامی ٹیم کر رہی ہے، جبکہ انڈیا، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کے ماہرین بھی اس آپریشن میں شریک ہیں۔
نیپال میں ہندو مسلم فسادات
نیپال میں ہندوستانی مسلم فسادات، قوم کے کئی گھر، گاڑیاں نذرآتش جنوبی نیپال کے ملحقہ سرحدی علاقے میں ہندوستانی اور مسلم برادریوں کے درمیان پرتشد فسادات پھوٹ پڑے، جن کے دوران متعدد مسلم آبادی بھارت کے علاقے، دکانوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور پھوٹ پھوٹ کا واقعہ پیش کیا۔ سنجیدگی ہوئی پیش نظر آپ نے غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فسادات کا آغاز ضلع سنساری کے علاقے دیوان گنج میں ایک مذہبی کے دوران لاؤڈ اسپیکر کو مذہبی نشانوں کے استعمال پر تلخ کلامی سے ہوا، جو بعد ازاں سنگ باری اور پرتشد تصادم میں تبدیل ہو گیا۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے؟ حکومت نے کہا کہ حکومت نے سختی سے عمل درآمد اور سوشل میڈیا کی نگرانی جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا -بات یہ ہے کہ انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیزی اور کوششیں کی جا رہی تھیں کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جائے پھر یوں ہوا کہ ہے کہ انٹر نیٹ پر بھی دیکھا گیا کہ مسلمان بزرگوں کی داڑھیاں نوچی جا رہی ہیں اور ان کی تزلیل کی جا رہی ہے۔ مسلمانوں کے گھروں کو اور مساجد کو آگ لگائ گئ 1000 مسلمان شہید کئے گئے 100 مساجد اور قران پاک کو شہید کیا گیا -
کھٹمنڈو (صباح نیوز) جنوبی نیپال کے بھارت سے ملحقہ سرحدی اضلاع میں ہندو اور مسلم برادریوں کے درمیان پرتشدد فسادات پھوٹ پڑے، جن کے دوران متعدد علاقوں میں مسلم آبادی کے گھروں، دکانوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور توڑ پھوڑ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فسادات کا آغاز ضلع سنساری کے علاقے دیوان گنج میں ایک مذہبی جلوس کے دوران لاؤڈ اسپیکر اور مذہبی پرچموں کے استعمال پر ہونے والی تلخ کلامی سے ہوا، جو بعد ازاں سنگ باری اور پرتشدد تصادم میں تبدیل ہو گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق مشتعل ہجوم نے رہائشی علاقوں کا رخ کرتے ہوئے متعدد مکانات، دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی، جس کے باعث کئی خاندان اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔ پولیس اور مشتعل افراد کے درمیان جھڑپوں میں اب تک کم از کم 3 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔صورتحال پر قابو پانے کے لیے نیپال پولیس اور نیپال آرمی نے متاثرہ اضلاع میں فلیگ مارچ اور گشت شروع کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق املاک کو نقصان پہنچانے، گھروں کو نذر آتش کرنے اور تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ قانون ہاتھ میں لینے اور افواہیں پھیلانے والوں کی فوری گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔نیپال کی حکومت اور وزیراعظم نے عوام سے تحمل، مذہبی رواداری اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت نے متاثرہ اضلاع میں کرفیو پر سختی سے عمل درآمد اور سوشل میڈیا کی کڑی نگرانی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ اشتعال انگیز مواد اور افواہوں کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔ اگست کے آخری ہفتے تک کچھ ہندوستانی فسادات کے حق میں آگ لگنے کے بعد وہ اگست میں چھپے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ جھڑپوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔نیپال میں ایک احتجاج کے دوران ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کی گئی اور بعد ازاں اسے آگ لگا دی گئی۔ رپورٹس کے مطابق مسجد کے اندر موجود قرآنِ کریم کے نسخے اور احادیث کی کتابیں بھی جلا دی گئیں۔یہ واقعہ اس تباہ کن سیلاب سے تقریباً چار ہفتے قبل پیش آیا تھا جو بعد میں آیا
بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فسادات کا آغاز ضلع سنساری کے علاقے دیوان گنج میں ایک مذہبی جلوس کے دوران لاؤڈ اسپیکر اور مذہبی پرچموں کے استعمال پر ہونے والی تلخ کلامی سے ہوا، جو بعد ازاں سنگ باری اور پرتشدد تصادم میں تبدیل ہو گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق مشتعل ہجوم نے رہائشی علاقوں کا رخ کرتے ہوئے متعدد مکانات، دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی، جس کے باعث کئی خاندان اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔ پولیس اور مشتعل افراد کے درمیان جھڑپوں میں اب تک کم از کم 3 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔صورتحال پر قابو پانے کے لیے نیپال پولیس اور نیپال آرمی نے متاثرہ اضلاع میں فلیگ مارچ اور گشت شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق املاک کو نقصان پہنچانے، گھروں کو نذر آتش کرنے اور تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ قانون ہاتھ میں لینے اور افواہیں پھیلانے والوں کی فوری گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔نیپال کی حکومت اور وزیراعظم نے عوام سے تحمل، مذہبی رواداری اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت نے متاثرہ اضلاع میں کرفیو پر سختی سے عمل درآمد اور سوشل میڈیا کی کڑی نگرانی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ اشتعال انگیز مواد اور افواہوں کا بروقت تدارک کیا جا سکے
ہفتہ، 29 اگست، 2026
پھول جو بن کھلے مرجھا گئے
منگل، 25 اگست، 2026
نبئ آخر الؔزماں صلؔی اللہ علیہ واٰ لہ وسلؔم
پرور دگار عالم نے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو انسانوں کی راہبری کے لئے مبعوث کیا اور حیات انسانی کے اخلاقی پہلوؤں کو حضور اکرمؐ نے ا ن کو عملی صورت میں پیش کیا ہے۔آپؐ کے حسن خلق کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ آپؐ اپنے اہل وعیال ،اعزہ و اقارب اور اصحاب و رفقا کے ساتھ جو رویہ رکھتے اسی طرح کا رویہ اعداء کے ساتھ بھی رکھتے۔اگر اپنوں کی لغزشوں سے صرف نظر کرتے ہیں تو سخت اعداء کو بھی معاف کر دیتے ہیں۔مسلمان کی عیادت کوکار ثواب کہتے ہیں تو خود یہودی کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے ہیں۔ خدمت خلق کی تلقین کرتے ہیں تو خود سب کی خدمت میں سب سے زیادہ فعال نظرآتے ہیں۔حضور اکرمؐ نے تہذیب اخلاق کے حوالے سے مختلف صورتوں میں راہنمائی فرمائی۔انسانی حیات کی جتنی جہات ہیں، ان سب کے حوالے سے حضور اکرمؐ نے اپنا خلق پیش فرمایا۔ نہ صرف اپنے موجودہ عہد اور اپنے خطے کے مطابق بلکہ اس میں ہر عہد اورہر خطے کے ساتھ انسانی فطرت کے مطابق اس کے معاملات ،ضروریات اور خواہشات کی تہذیب و تطہیر کے تناظر میں ایک مکمل حسن خلق کا نمونہ پیش کیا۔
اس کے ساتھ انسانی کیفیات جیسے خوشی، غم ، غصہ فقر، تونگری وغیرہ مختلف مواقعوں پر ایک منضبط اور مہذب حالت کا اظہار ہی خلق عظیم کی ہر عمل کی احسن صورت ہےحضور اکرمؐ نے حسن اخلاق کے اظہار میں کبھی مقابل یا مخاطب کی خاندانی وسماجی یامعاشی حیثیت کو بنیاد نہ بنایا بلکہ آپؐ کے پیش نظر کسی کا انسان ہونا ہی کافی تھا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپؐ کامقصد احترام انسانیت کا فروغ اور وقار آدمیت کی پاسبانی تھا۔یہودی کا جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جانا ،مسلم و غیر مسلم وفود کی مہمان نوازی کرنا ،دیگر مذاہب کے ساتھ امن کے معاہدے کرنا یہ سب سماجی وبین الاقوامی اخلاقیات کے مظاہر تھے۔ اسی طرح عائلی اخلاقیات میں ازواج سے حسن سلوک کرنا ،راحت و رنج کا لحاظ کرنا ، خوش طبعی فرمانا، ضروریات کا خیال کرنا ، ان کے خاندانی و مذہبی پس منظر پر سکوت فرمانا ، ذہنی و جسمانی تشدد سے مکمل مجتنب اوران کی تربیت فرمانا وغیرہ یہ سب عائلی اخلاقیات کا حصہ ہیں۔ایک مسلمان سے دوسرے مسلمان سے تعلق کی بنیاد تو ایمان ہی ہے ’ کہ آپ کا اسوہ حسنہ تو قرآن ہی ہے۔‘
‘ گو کہ مکمل حیات انسانی کا عملی دستور ہے لیکن اگر اس کو صرف اخلاق حسنہ ہی کے تناظر میں دیکھ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ انسانی زندگی میں جو بھی معاملہ اخلاق کے حوالے سے ہے یا اس کا جامع، اکمل اور خوب صورت مظہر ذات رسالتؐ کے علاوہ کہیں اور نظر نہ آئے گا۔آپؐ کی ذات اقدس کا ظاہری حسن اگر نظر کو راحت دیتا تھا تو اخلاق و کردار کا جمال فکرو عمل کو کمال عطا کرتا ہے۔ قرآن کریم نے حیات انسانی کے اخلاقی پہلوؤں کے ضمن میں جو اصول بھی دیے ہیں حضور اکرمؐ نے اس کو عملی صورت میں پیش کیا ہے۔آپؐ کے حسن خلق کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ آپؐ اپنے اہل وعیال ،اعزہ و اقارب اور اصحاب و رفقا کے ساتھ جو رویہ رکھتے اسی طرح کا رویہ اعداء کے ساتھ بھی رکھتے۔اگر اپنوں کی لغزشوں سے صرف نظر کرتے ہیں تو سخت اعداء کو بھی معاف کر دیتے ہیں۔مسلمان کی عیادت کوکار ثواب کہتے ہیں تو خود یہودی کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے ہیں۔ خدمت خلق کی تلقین کرتے ہیں تو خود سب کی خدمت میں سب سے زیادہ فعال نظرآتے ہیں۔ مساوات کے ثمرات بیان کرتے ہیں تو خودمسجد نبوی کی تعمیر میں بنفس نفیس حصہ لیتے ہیں اور غزوہ خندق میں صحابہ کرام ؓ کے ساتھ خندق کھودتے نظر آتے ہیں۔
عمل کی کون سی جہت ہے جو اسوہ حسنہ میں نظر نہیں آتی ؟ خیر کا کون سے پہلو ہے جو آپؐ کی ذات میں نہیں اور کون سا وہ اخلاقی وصف ہے جو آپؐ نے نہیں پیش کیا ؟ جو کہا وہ کیا ،قول و فعل میں کامل مطابقت ہے اور مطابقت بھی ایسی کہ جوزندگی کو خوشگوار ، فکر کو رسا ،عمل کو استحکام اور اعضا ء کو توانا رکھتی ہے۔نبی کریمﷺجس خطے میں مبعوث ہوئے وہ معاشرہ اپنے رذائل کے اعتبار سے جہاں انتہائی پستی کا شکار تھا تو وہاں ان کے چند اخلاقی اوصاف ایسے بھی تھے جس سے اس معاشرے سے عمومی محاسن کا پتہ چلتا ہے جیسے مہمان نوازی ایفائے عہد،شجاعت ،جرات،حریت وغیرہ۔آپﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے مجھے سب سے محبوب اور آخرت میں میرے سب سے قریب وہ شخص ہو گا جو خوش خلق ہے‘‘ ۔عبادات اسلامیہ کو اگر ان کے وسیع اور جامع اثرات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوگا کہ یہ تشکیلِ کردار و اخلاق اور مثبت رویوں کی تربیت کا بڑا منظم ومرتب پلان ہے۔تمام عبادات مومن کو بااخلاق بنانے کے لیے مختلف جہات اور متنوع اندازسے تربیت اخلاق کرتی ہیں۔بد اخلاقی کی کوئی صورت کسی بھی موقع یا کسی بھی انداز سے قابل قبول نہیں اور نہ یہ مومن کو زیب دیتا ہے۔ حضور اکرمؐ نے ریاست مدینہ کی صورت میں جس معتدل اورانسان دوست معاشرہ کی بنیاد رکھی اس کی بنیاد ہی میں اخلاقی پہلو نظر آتے ہیں۔ان میں ایک عدل ہے اور دوسرا احسان۔عدل کا اظہار میثاق مدینہ کی صورت میں ہوا جبکہ احسان کا اظہار مواخات مدینہ کی صورت میں ہوا
نا ظم آباد کا وہ تاریخی پارک اور ایک یادگار عقدِ ثریا
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
نیٹی جیٹی پُرانا پُل آج کی بہترین فوڈ اسٹریٹ
بڑی مشہور مثل ہے 'ہاتھی مرے پہ سوا لاکھ کا 'جی جناب انگریز بہادر بھی کیا زیرک نگاہ تھا جس نے کراچی کی تاریخ ہی بدل ڈ...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
اب منجھلی آپا اپنی سسرال جا چکی تھیں - فریال بجو کا بی ایس سی کا رزلٹ آ چکا تھا فریال بجو یونیورسٹی جانے کے لئے پر تول رہی تھیں -لیکن می...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...