Zairas Blog World
Knowledge about different aspects of the world, One of the social norms that were observed was greetings between different nations. It was observed while standing in a queue. An Arab man saw another Arab man who apparently was his friend. They had extended greetings that included kisses on the cheeks and holding their hands for a prolonged period of time. , such warm greetings seem to be rareamong many people, . this social norm signifies the difference in the extent of personal space well.
پیر، 2 مارچ، 2026
آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی دلدوز شہادت
ہفتہ، 28 فروری، 2026
بی بی معصومہ قم (سلام اللہ علیہا)
امی جمہوریہ ایران کے اہم شہروں میں ایک شہر ہے۔ جسے قم المقدس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ایران کا آٹھواں بڑا شہر ہے ۔ اور شیعہ مسلمانوں کا نجف اشرف عراق کے بعد سب سے اہم علمی مرکز شمار ہوتاہے۔ قم، اہل تشیع کے لیے بہت اہمیت کا حامل شہر ہے ۔ اس شہر میں شیعوں کے آٹھویں امام علی بن موسی الرضامعروف بہ امام رضا کی بہن فاطمہ معصومہ کا مزار ہے جس کی زیارت کے لیے دنیا بھر سے شیعہ یہاں پر اکٹھے ہوتے ہیں۔2016ء کی مردم شماری کے مطابق قم کی آبادی 1201000 تھی ۔ اس آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ علما اور دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلاب کا ہے، ان علما اور طلاب میں ایرانیوں کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں افغانی، عراقی، پاکستانی، ہندوستانی ، لبنانی، کویتی، سعودی، بحرینی ،یمنی، جزائری، مراکشی، ترکی، آذری، انڈونیشین، ملائشین، تھائیلنڈی، چینی اور دیگر یورپی ممالک کے لوگ میں شامل ہیں۔ قم کی آبادی میں سے 99.76 فی صد آبادی شیعہ اثنا عشر ی ہیں یا پھر زرتشتی یا پھر مسیحی دین کے پیروکار آباد ہیں۔قم کا موسم بارشوں کی کمی کی وجہ سے خشک اور گرم رہتا ہے۔ چونکہ قم ایک صحرائی علاقہ میں آباد ہوا یہاں کی سوغات میں قم کا حلوا جسے یہاں کی زبان میں سوہان کہتے ہیں بہت معروف اور مشہو رہے۔آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق عرب مسلمانوں کے حملے سے قبل کئی ہزار سالوں سے شہر قم آباد تھا، پستہ اور زعفران کی پیداوار کے لحاظ سے معروف تھا۔ لیکن بہت سے ماہرین اور مورخین قم شہر کی آبادکاری کو عرب مسلمانوں کے حملے اور پھر عراق سے اشعری قبیلے کے افراد کی ہجرت سے جوڑتے ہیں
کہا جاتا ہے کہ قم ابو موسی اشعری نے فتح کیا اور اس فتح کے بعد اس علاقے میں عربوں کی ہجرتیں شروع ہوئیں۔ جن میں سے سب سے اہم اشعری قبیلے کی ہجرت تھی کہ جنھوں قم اور اس کے اردگرد کے دیہاتوں کو ملا کر اس شہر کی بنیاد رکھی اور چونکہ اشعری قبیلے کے افراد شیعہ مذہب سے تعلق رکھتے تھے اس لیے قم شیعہ اثنا عشری مسلمانوں کا مرکز بن گیا۔ اور فاطمہ معصومہ جو شیعہ مسلمانوں کے آٹھویں امام علی رضا کی بہن ہیں، کی ہجرت سے اس مرکز کی قوت ووسعت میں مزید اضافہ ہوا جس کی وجہ سے دنیا بھر کے شیعہ اور علما کی توجہ کا مرکز بن گیا۔شیعہ مذہب کے پیروکار ہونے کی وجہ اموی اور عباسی خلفاء کی طرف یہاں کے لوگوں پر بادشاہی ٹیکس کا تناسب زیادہ ہوا کرتا تھا جس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں نے ان حکومتوں کے خلاف مسلحانہ قیام و جدوجہد بھی کی اور قم شہر کوکئی مرتبہ تباہی وبربادی کا سامنا کرنا پڑا، آل بویہ اور سلجوقی کے دور میں قم کو ترقی ملی جبکہ صفوی خاندان کے دور میں شیعہ مذہب کے رسمی ہونے کے بعد قم مزید ترقی کی راہ پر گامزن ہو گیا۔قاجاری دور میں قاجاری بادشاہ فتح علی شاہ نے فاطمہ معصومہ کے حرم کی توسیع اور سنہری گنبد کی تعمیر کرائی ، جنگ عظیم اول نے قم شہر کو بھی متاثر کیا اور روس کے تہران پر حملے کے خطرے کے پیش نظر بہت سارے لوگوں نے قم میں پناہ لی جبکہ پہلوی خاندان کے دور میں روح اللہ خمینی معروف بہ امام خمینی نے پہلوی حکومت
کے خلاف قیام اور انقلاب کا آغاز بھی اسی شہر سے کیا۔ اور فروری 1979ء میں ایران کا اسلامی انقلاب کامیاب ہونے کے بعد ایران میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی اور ولایت فقیہ کی حکومت قائم ہوئی۔دینی مدارس ، تعلیمی و تحقیقی ادارے اور یونیورسٹیز-قم یونیورسٹی، المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی، مدرسۃ الزہراء ، مدرسہ شہید سید حسن شیرازی، مدرسہ امام حسین ، مدرسہ امام باقر ، مدرسہ علمیہ امام مہدی ، مدرسہامامالمنتظر، مدرسہ رسول اعظم، حوزہ علمیہ قم، مدرسہ رضویہ، مدرسہ ستیہ، مدرسہ امام خمینی، مدرسہ اباصالح، مدرسہ المہدی، مدرسہ الہادی، مدرسہ امام مہدی موعود، مدرسہ بقیۃ اللہ، مدرسہ حقانی، مدرسہ جانبازان، مدرسہ رسالت،مدرسہ شہیدین، مدرسہ صدوق، مدرسہ عترت، مدرسہ کرمانیہا، مدرسہ معصومیہ، مدرسہ امام عصر، مدرسہ سعد حلت، مدرسہ اثیرالملک، مدرسہ سید سعید عزالدین مرتضی، مدرسہ سید زین الدین، مدرسہ ابو الحسن کمیج، مدرسہ شمس الدین مرتضی، مدرسہ مرتضی کبیر، مدرسہ درب آستانہ، حکمت یونیورسٹی قم، طلوع مہر ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ قم، شہاب دانش صنعتی یونورسٹی ، تہران یونیورسٹی قم کیمپس، ٹی وی ریڈیو کالج، قم ، صنعتی یونیورسٹی قم، آزاد اسلامی یونیورسٹی، قم کیمپس، دانشگاہ جامع علمی کاربردی واحد استان قم، مفید یونیورسٹی، قم ، پیام نور یونیورسٹی، قم ، معصومیہ یونیورسٹی، قم ، ٹیکنیکل کالج فار بوائز، قم ، میڈیکل یونیورسٹی ، قم ، جامعہ المصطفی العالمیہ، باقر العلوم یونیورسٹی قم، امام خمینی، تعلیمی اور تحقیقی ادارہ، ادیان ومذاہب یونیورسٹی، قم ، اسلامی فکر وثقافتی تحقیقی ادارہ، اسلامک انسٹی ٹیوٹ آف کلچر اور سائنسز، شہید محلاتی کالج، اسلامک رائٹنگ اور ریسرچ کالج، قرآن وحدیث یونیورسٹی، قم ، معارف اسلامی یونیورسٹی، موسسہ فکر اسلامی، مجلس خبرگان رہبری کا سیکٹریٹ۔قم شہر کو مختلف القابات اور ناموں سے یاد کیا جاتاہے۔ جن میں سے مشہور شہر حرم اہل بیت، شہر علم، ایران کا علمی اور ثقافتی دار الخلافہ، عالم تشیع کا دار الحکومت، علما کا شہر، شہر کریمہ اہل بیت ہیں۔
قم شہر میں مختلف مزار اور زیارت گاہیں ہیں جن میں سے سب سے مشہور فاطمہ معصومہ کا مزار ہے جن کا لقب کریمہ اہل بیت ہے اور اس کے علاوہ مختلف امام زادوں کے مزارات اور قم کی مشہور ترین مسجد جمکران شہر کے جنوب مشرقی سمت میں واقع ہے-فاطمہ معصومہ جنہیں معصومہ قم یا حضرت معصومہ بھی کہاجاتاہے، مشہور قول کے مطابق یکم ذی القعدہ 173 ہجری مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں اور 10 ربیع الثانی ، 201 ہجری وفات پائی، جب عباسی خلیفہ مامون نے امام علی رضا کو خراسان بلایا تو ایک سال بعد فاطمہ معصومہ اپنے بھائی کی جدائی برداشت نہ کرسکنے کی وجہ خراسان کی عازم سفر ہوئیں۔ ،آپ کے پدر بزرگوار حضرت امام موسیٰ بن جعفرؑ اور آپکی مادر گرامی حضرت نجمہ خاتون ہیں۔ یہی خاتون آٹھویں امام کی بھی والدہ محترمہ ہیں لہٰذا حضرت معصومہؑ اور امام رضاؑ ایک ہی ماں سے ہیں -آپ کے پدر بزرگوار حضرت امام موسیٰ بن جعفرعلیہماالسلام اور آپکی مادر گرامی حضرت نجمہ خاتون ہیں۔ یہی خاتون آٹھویں امام کی بھی والدہ محترمہ ہیں لہٰذا حضرت معصومہؑ اور امام رضاؑ ایک ہی ماں سے ہیں ۔آپ کی ولادت با سعادت پہلی ذیقعدہ ۱۷۳ ہجریقمری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ابھی زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ بچپنے ہی میں آپ اپنے شفیق باپ کے سایۂ عطوفت سے محروم ہو گئیں، آپ کے والد کی شہادت ہارون رشیدکے قید خانہ، بغداد میں ہوئی۔باپ کی شہادت کے بعد آپ اپنے عزیز بھائی حضرت علی بن موسیٰ الرضاؑ کی آغوش تربیت میں آگئیں ۔
نہر سویز (انٹر نیشنل گیٹ وے آف 2 سیز)
جمعہ، 27 فروری، 2026
مترانوالی بستی کے بے گھر مکین کہاں جائیں ؟حصہ دوم
چوہدری اعجاز چیمہ نے ایک بار بتایا کہ اقتدار میں تھے تو انہیں کہا گیا گاؤں کے چھّڑوں میں ناجائز تجاوزات کو ختم کرائیں مگر میں نے اس وقت غریبوں کا احساس کرتے ہوئے کہ جب تک انہیں کوئی متبادل جگہ نہیں مل جاتی اس منصوبے پر عمل درآمد سے روک دیا تھا۔ انہوں نے جواب دیا:’’ ترقی اپنی جگہ، مگر میں لوگوں کے گھر کیسے چھین لوں؟ جب میں انہیں چھت دے نہیں سکتا تو ان کی چھت کیوں چھینوں؟‘‘ یہ جملہ آج بھی میرے دل میں گونجتا ہے۔ڈسکہ کے بعد میترانوالی ان چند ایک قصبوں میں شامل ہے جہاں لڑکوں کا کالج ہے، لڑکیوں کا ہائی اسکول ہے، پوسٹ آفس ،کمرشل بینک، دو میل سے زیادہ لمبا بازار اور نوجوانوں کے لیے متعدد پلے گرائونڈ گذشتہ پچاس سالوں پہلے سے ہی موجود ہیں ہے۔ سب کچھ تھا، مگر دیکھ بھال نہ ہونے سے حالت خراب ہو گئی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آج غریبوں کے گھر گرا کر ان کی بددعائیں لی جائیں۔ زرا سوچئے یہ عبادتوں کے شبوروز -یہ روزے کے پابند لوگ یہ روز کے کمانے اور کھانے والے لوگ اور اجڑے گھروں کے ٹھنڈے چولھے
مترانوالی بستی کے بے گھر مکین کہاں جائیں -اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کر زرا سی دیر کو سوچئے یہ عبادتوں کا مہینہ 'عید سر پر کھڑی ہے محنت کشوں کو تو کما کر کنبہ پالنا ہوتا ہے ان کے پلے جمع پونجی نہیں ہوتی ہے 'وہ وقت جب ان غریبوں نےکبھی چھپر ڈال کر گھر بنائے تھے تو اْس وقت کی انتظامیہ نے کیوں نہ روکا؟ ایف آئی آر کیوں نہ درج کی؟ عدالت سے رجوع کیوں نہ کیا؟ آج اچانک گھر گرانا ا کہاں کا انصاف ہے ۔ہم دل جوڑنے کے لیے بیٹھے ہیں، دل توڑنے کے لیے نہیں۔ ہمیں دکھاوے کا خلوص نہیں چاہیے—نہ ٹک ٹاک اور یوٹیوب والا۔ ہمیں دلوں کا خلوص چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایک ہاتھ سے اگر دو تو دوسرے ہاتھ تک کو خبر نہ ہو۔ خدمت کا مقصد کسی کو طعنہ دینا نہیں بلکہ اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔پیسہ آنا بڑی بات نہیں؛ ظرف آنا بڑی بات ہے۔ میں نے دنیا دیکھی ہے—اسلام آباد سے بیرونِ ملک تک، عالمی فورمز پر ملاقاتیں کیں۔
پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف صاحبہ سے درخواست ہے کہ وہ غیرقانونی تجاوزات پر بے شک اپنا مشن اور عمل جاری رکھیں مگر رمضان شریف کے تقدس اور آنے والی عید الفطرکی خوشیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کم از کم اتنا وقت ضرور دیں کہ ان غریب لوگوں کو سر چھپانے کے لیے کوئی متبادل جگہ مل سکے۔یقینا یہ ہمارے ہی لوگ ہیں اور ہم میں سے ہی ہیں۔ہمیں ان کی غلطیوں کی سزا نہیں دینی بلکہ اصلاح کرنی ہے۔مجھے یقین ہے کہ پنجاب حکومت میری ان گزارشات کو قبولیت بخشے گی۔یہ میترانوالی کے سینکڑوں غریبوں کی نہ صرف اشک شوئی ہو گی بلکہ ایک اصلاح کا بھی احسن ترین موجب بنے گی۔ احساس ویلفیئر کے دوستوں—سید راحت علی شاہ، ذوالفقار علی چیمہ، افضال چیمہ، ظفر بھٹی صاحب، شکیل جنجوعہ، غفور رانا اور دیگر احباب نے حساس ویلفیئر کا دفتر اور عمارت کھڑی کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔میں آج اپنے گھر، اپنی دھرتی کی بات کر رہا ہوں۔
مگر میترانوالی آ کر قصاب سعید صابری کے پھٹے سے لے کر جارج ساغر (مرحوم) کے پھٹے تک، اور گلشن کلاتھ والے بابا گلزار (مرحوم)کے بنچوں اور پھٹوں پربیٹھ کر میترانوالی کے شہریوں کو یہ پیغام دیتا تھا کہ ہم سب اس دھرتی کے باسی ہیں۔اگر یہ ترقی ہے کہ کرینوں اور بلڈوزروں سے غریبوں کے گھر گرائے جائیں، تو پھر یہ ترقی نہیں، تباہی ہے۔ ان لوگوں کو کیا پیغام دیا گیا جو روز ہزار دو ہزار کما کر بچوں کے لیے روٹی لے جاتے تھے؟غصے سے نہیں، عقل سے سوچیں۔ اقتدار مستقل نہیں ہوتا۔ کل بھٹو تھا، آج وہ قبر میں ہے۔ کل کپتان تھا، آج وہ جیل میں ہے۔ آج کوئی اور اقتدار میں ہے، کل کوئی اور ہوگا۔ مگر مظلوم کی آہ باقی رہتی ہے۔کسی غریب کی تسکین کا باعث بنیں، کسی ظالم کی تسکین کا نہیں۔ جس گھر میں ہانڈی نہیں پکتی، اس کی چھت گرا دینا آسان ہے، مگر اس کا حساب دینا آسان نہیں۔ اللہ کا گھیرا بے آواز ہوتا ہے—اللہ ہم سب کو اس گھیرا سے محفوظ رکھے۔آئیے میترانوالی، سیالکوٹ، ڈسکہ اور پورے پاکستان کے لیے دعا کریں۔ حسد نہیں، خدمت کا مقابلہ ہو۔ نفرت نہیں، اخلاص ہو۔ اور یہ دھرتی—جس نے ہمیں جنم دیا—ہماری نیکیوں سے پہچانی جائے، نہ کہ ہمارے ظلم سے۔
تحریر انٹر نیٹ سے لی ہے
جمعرات، 26 فروری، 2026
جپسم ایک آبی عنصرکیلشیم سلفیٹ پر مشتمل ہوتا ہے
بدھ، 25 فروری، 2026
مترانوالی بستی کے بے گھر مکین کہاں جائیں ؟
آج مورخہ 25 فروری 2026 ء روزنامہ نواءے وقت میں ہمارے وطن کے محترم صحافی مطلوب وڑائچ رقمطراز ہیں کہ غریب لوگوں سے ان کی چھتیں چھین لی گئیں۔ کسی کے پاس ایک مرلے کا گھر تھا، کسی کے پاس دو مرلوں کی کچی پکی چھت — وہ بھی مٹی میں ملا دی گئی۔ میترانوالی کو یوں اجاڑا گیا جیسے کسی بستی پر جنگ اتر آئی ہو۔ کرینوں اور بلڈوزروں کی گھن گرج میں غریبوں کے گھر، دکانیں اور تھڑے زمین بوس کر دیے گئے۔ منظر ایسا تھا کہ دل بے اختیار کہہ اٹھا: یہ گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے۔ایک ایرانی کہاوت ہے ۔ ماں نے بیٹے سے پوچھا: ‘‘مجھے کیسے پتا چلے گا کہ تم جہاز اڑا رہے ہو؟’’ بیٹے نے ہنستے ہوئے کہا: ‘‘ماں! جب میں گھر کے اوپر سے گزروں گا تو ایک بم گرا دوں گا، آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ کا بیٹا گزرا ہے۔’’ آج اپنے ہی شہر پر جو گزر رہی ہے، وہ اسی مثال کی تلخ بازگشت محسوس ہوتی ہے۔میں یہ سطور کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں لکھ رہا۔ اس دھرتی کا قرض مجھ پر ہے — اس مٹی کا جس نے مجھے جنم دیا، پروان چڑھایا، پہچان دی۔ انٹرنیشنل سیاست کے ایوانوں تک پہنچنے کے بعد بہت سے لوگ اپنی جڑیں بھول جاتے ہیں،مگر میں اس مٹی کی خوشبو کو کیسے فراموش کر دوں؟ نہ مجھے کسی وضاحت کی ضرورت ہے، نہ کسی مقابلے کی۔ اللہ نے علم، فہم اور ادراک سے نوازا ہے، اور دنیا اس کا اعتراف بھی کرتی ہے۔آج میترانوالی کی غریب مائی، بیوہ عورتیں اور محنت کش خاندان اپنے اجڑے گھروں کے سامنے کھڑے ہیں
۔ میں اپنے گاؤں—نہیں، اپنے قصبے—میترانوالی کی بات کر رہا ہوں۔ میں نے اسے کبھی گاؤں نہیں کہا؛ یہ سیالکوٹ کے نمایاں قصبوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ پڑھے لکھے لوگوں کی دھرتی ہے، باوقار انسانوں کی بستی ہے۔ میں یہیں پیدا ہوا، یہیں تعلیم پائی، یہیں سیاست کا آغاز کیا، یہی میری طلبہ سیاست کی درسگاہ تھی۔مجھے یاد ہے 2011 ء یا 2012ء میں، جب میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے ان 26 اراکین میں شامل تھا جنہیں بے نظیر بھٹو نے منتخب کیا تھا، میں نے میترانوالی کے لیے سوئی گیس کا منصوبہ منظور کروایا۔ اْس وقت کے چیئرمین میاں مصباح الرحمن سے 6 کروڑ 30 لاکھ روپے کا منصوبہ منظور ہوا۔ کچھ منتخب نمائندوں نے اسمبلی میں شور مچایا کہ’’غیر منتخب افراد کے کہنے پر کام ہو رہے ہیں، کل ہمیں ووٹ کون دے گا؟‘‘میترنوالی کے ایک طرف سے لیکر دوسری طرف تک دو کلومیٹر سے بھی زیادہ عوام کا رش تھا اور شیخوں کے دائرے میں عوام کا ایک بہت بڑا جم غفیر جلسے کی صورت میں تھا۔ پھر وہی کہاوت سچ ثابت ہوئی — گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے۔میترانوالی صرف اینٹوں اور گلیوں کا نام نہیں، یہ ایک شعور ہے۔ یہاں ’’احساس‘‘ ویلفیئر سوسائٹی نے صفائی اور سیوریج کا نظام سنبھالا، جو دراصل حکومت کا کام تھا۔ اعجاز چیمہ اور امتیاز چیمہ کی ذاتی دلچسپی سے گلیوں اور سڑکوں کی حالت سنوری، پانی کے مسائل حل ہوئے اور ایک مخیر شخص نے میترنوالی کو پہلا صاف پانی کا پلانٹ گفٹ کیا۔ سید ریاض الحسن گیلانی، سابق ایڈووکیٹ جنرل وفاقی شرعی عدالت، نے رنگ روڈ جیسے منصوبے مکمل کرائے۔
بریگیڈیئر حامد سعید نے ترقیاتی کاموں کے دروازے کھولے اور میترانوالی کے بے شمار ترقیاتی کام مکمل کیے۔وہ مشرف دور میں بلدیات کے وزیر تھے مگر افسوس، ان کے ناموں کے بورڈ بھی کچھ لوگوں کو کھٹکنے لگے۔احساس ویلفیئر نے واٹر پلانٹ لگایا، پندرہ برس تک پورے قصبے کو صاف پانی فراہم کیا۔ بیس ہزار سے زائد آبادی کا نظام چند مخلص لوگوں نے اپنے ذاتی وسائل سے چلایا۔مگر جب سازشوں اور دھڑے بندیوں نے سر اٹھایا تو وہ ہاتھ کھینچ لیے گئے جو خدمت کے لیے اٹھے تھے۔ آج گھروں میں فریج اور ٹی وی تو ہیں، مگر گلیوں میں صفائی نہیں، سیوریج بیٹھ چکی ہے۔میترانوالی وہ دھرتی ہے جس نے کبھی چودھراہٹ اور بدمعاشی کو قبول نہیں کیا۔ یہاں پیدا ہونے والا ہر شخص اپنے وقار میں ’’چوہدری‘‘ ہے؛ کوئی کسی پر برتری کا تاج نہیں رکھتا۔ اس دھرتی نے خون خرابہ بھی دیکھا، اختلاف بھی، مگر آخرکار سبق یہی ملا کہ عزت خدمت میں ہے، نہ کہ دکھاوے میں۔جو سکون جھک کر خدمت کرنے میں ہے، وہ دولت کے انبار میں نہیں۔ کل کچھ نہ تھا، آج اللہ کے کرم سے بہت کچھ ہے، مگر اصل دولت دلوں کا اعتماد ہے۔ اور گھر کی چھت چھیننے والوں نے اپنا بھرم بھی ہمیشہ کے لئے چھین لیا ہے رمضان کے مقدس مہینے میں بے گھر لوگ حیران کھڑے ہیں کہاں جائیں
آئیے حسد نہیں، خدمت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا مقابلہ کریں۔ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے بجائے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں۔ یہی اس دھرتی کا قرض بھی ہے اور اس کا تقاضا بھی۔میری دھرتی، میرا قصبہ، میرا دکھ۔آج میترانوالی کی غریب مائیں، عورتیں—جن میں بیوہ خواتین بھی شامل ہیں—اپنے اجڑے گھروں کے سامنے کھڑی ہیں۔ ان کے گھر، دکانیں، تھڑے سب مٹا دیے گئے۔ میں اپنے گاؤں نہیں، اپنے قصبے میترانوالی کی بات کر رہا ہوں—سجناں دا شہر، سجناں دی دھرتی۔ اسی مٹی سے ہمارا تعلق ہے، اسی سے ہم پہچانے جاتے ہیں۔ میترانوالی کے معنی ہیں سجنوں کی دھرتی اورمیں اسی دھرتی کا باسی ہوں، یہیں تعلیم پائی، یہیں سیاست کا آغاز کیا، طلبہ سیاست بھی یہیں سے کی اور نام بھی یہیں سے کمایا۔آج اس دھرتی پر جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر دل کڑھتا ہے۔ میترانوالی کے ایک ٹک ٹاکر نے خدمت کے جذبے کے تحت میترانوالی کے مسائل کو سوشل میڈیا پر اجاگر کرنے کی کوشش کی اور حکومت نے اس کا نوٹس بھی لیا مگر ہمیشہ کی طرح میترانوالی کو پھر بدخواہوں کی نظر لگ گئی۔اور غریبوں نے چھپڑوں اور سرکاری املاک پر جو غیرقانونی گھر اور سر چھپانے کے لیے جھونپڑے بنا رکھے تھے وہ قانون اور کرینوں کی زد میں آ گئے۔اور اس طرح ہنستا مسکراتا میترانوالی غزہ کی مانند نظر آنے لگااور سوشل میڈیا کے توسط سے جو رحمت برسنے لگی تھی وہ زحمت میں تبدیل ہو گئی۔
منگل، 24 فروری، 2026
اسٹینلے پارک، وینکوور، برٹش کولمبیا
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی دلدوز شہادت
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ شہید سید علی خامنہ ای کے بھارت میں نمائندے ڈاکٹر عبدالماجد حکیم الٰہی نے کہا ہے کہ سیکیورٹی حکام نے بارہا ...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...
-
نام تو اس کا لینارڈ تھا لیکن اسلام قبول کر لینے کے بعد فاروق احمد لینارڈ انگلستانی ہو گیا-یہ سچی کہانی ایک ایسے انگریز بچّے لی...