18 جولائ 2026ءہفتہ کا دن 'میں سو کر اٹھی اور حسب معمول سیل فون پر نظر ڈالی کہ اگر بچوں کی خیر خبر لے لوں لیکن سیل فون کی اسکرین تھنڈر سٹارم اور ساتھ ہی ٹانیڈو الرٹ کی ہدایا ت انٹاریو گورنمنٹ کی جانب سے آ ئ ہوئ تھیں -کینیڈا میں یہ موسم عام ہے لیکن انٹاریو میں پہلی مرتبہ ٹارنیڈو الرٹ تھا -ٹارنیڈو کسی بھی طوفان ہے بادو باراں کا سب سے خطرناک مظہر ہوتا ہے جس میں تیزی سے گھومتی ہوئی ہوا زمین کے سطح پر موجود ہر چیز کو توڑ پھوڑ دیتی ہے اور اٹھا کر دور پھینک دیتی ہیں۔ امریکہ کے وسطی علاقوں میں خاص طور پر ٹارنیڈو کا بننا عام ہے اور اس علاقے کو ٹارنیڈو کا راستہ یا tornado Alley کہا جاتا ہے۔ جہاں اکثر لوگ ایسے طوفانوں میں اپنے گھروں میں پناہ لیتے ہیں وہیں کئی لوگ ویڈیو کیمرہ لے کر ٹارنیڈو کا ویڈیو بنانے کی کوشش میں ان کا پیچھا کرتے ہیں۔ انہیں Storm chasers کہا جاتا ہے اور ان کے بنائے گئے ویڈیوز عوام میں بہت مقبول ہوتے ہیں۔ اس ویڈیو میں بھی ایک ایسا ہی Storm chaser گروپ اس ٹارنیڈو کی ویڈیو بنا رہا ہے جس میں ٹارنیڈو کے بننے اور پھر زمین تک پہنچنے کا پراسیس صاف دیکھا جا سکتا ہے- شمالی امریکہ (امریکہ اور کینیڈا) دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں سب سے زیادہ ٹرنیڈوز آتے ہیں۔ یہاں سینکڑوں خوفناک اور حیران کن کہانیاں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں، جو کہ قدرت کی تباہ کاریوں اور لوگوں کی بقا کی کہانیاں بیان کرتی ہیں
۔شمالی امریکہ کے ٹرنیڈوز کی چند مشہور ترین اور سچی کہانیاں درج ذیل ہیں:1. ریجینا ٹورنیڈو، سسکچیوان (1912)کہانی: کینیڈا کی تاریخ کا سب سے مہلک ٹورنیڈو 30 جون 1912 کو ریجینا شہر سے ٹکرایا تھا۔ اس طوفان نے محض چند منٹوں میں 28 افراد کی جان لے لی اور ہزاروں افراد کو بے گھر کر دیا۔ اس کی تباہ کاریوں کے اثرات آج بھی Storm of the Century جیسی دستاویزی کہانیوں میں پڑھے جا سکتے ہیں۔2. ٹرائی اسٹیٹ ٹورنیڈو (1925)کہانی: یہ امریکہ کی تاریخ کا سب سے زیادہ تباہ کن اور ہلاکت خیز ٹرنیڈو مانا جاتا ہے جس نے 18 مارچ 1925 کو مسوری، الینوائے اور انڈیانا کے علاقوں کو تباہ کیا۔ اس نے ساڑھے 3 گھنٹے تک زمین پر خوفناک رقص کیا اور 695 افراد ہلاک ہوئے۔3. بیری (Barrie) اور ہورون-ایلڈری (Huron-Kinloss) ٹورنیڈوز (آونتاریو، کینیڈا)کہانی: 31 مئی 1985 کو آنٹاریو میں ایک ساتھ متعدد ٹورنیڈوز آئے جنہیں "Black Friday" کہا جاتا ہے۔ ان طوفان نے بیری شہر میں شدید تباہی مچائی، درجنوں جانیں گئیں اور $375 ملین سے زائد کا نقصان ہوا۔ مزید تفصیلات Canada Tornado Archive پر دیکھی جا سکتی ہیں۔4. جِپلن ٹورنیڈو، مسوری (2011)کہانی: جدید تاریخ کے بدترین اور انتہائی تباہ کن ٹرنیڈوز میں سے ایک، جس نے مئی 2011 میں جپلن کے علاقے کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ اس میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے لیکن اس تباہی سے جڑے معجزات بھی سامنے آئے جہاں لوگوں نے کھائیوں، غسل خانوں اور تہہ خانوں میں چھپ کر جانیں بچائیں۔5
. حیران کن بقا کی کہانیاںامریکہ اور کینیڈا کے مختلف علاقوں (خاص طور پر "Tornado Alley" اور "Dixie Alley") سے طوفان کی عجیب و غریب کہانیاں بھی منسلک ہیں۔ ایسی ہی ایک کہانی میں ایک ماں کی دوسری منزل اڑ گئی لیکن اس کے بچے محفوظ مل گئے۔ شدید ٹورنیڈو میں ہوا سے اڑ کر دور جا گرنے اور پھر صحیح سلامت بچ جانے کے واقعات عام ہیں۔ مزید کہانیاں جاننے کے لیے Weather.gov Safety کے سروائیور پیجز کو وزٹ کریں۔کیا آپ ٹورنیڈو کی تاریخی معلومات، حالیہ سیزن کی اپڈیٹس، یا کسی مخصوص علاقے (جیسے کینیڈا یا امریکہ) میں ہونے والے طوفانوں کی طوفانی بگولا Tornadoسیاہ سرمئی آسمان دیواروں کی طرح کے بادل گرج چمک اور بادلوں سے لٹکتے ہوئے قیف نما گھومتے بادل ذرائع ابلاغ کے ذریعے دیکھے ہوں گے یہ گھومتے بادل سطح زمین تک پہنچ جاتے ہیں تباہی و بربادی کی داستان رقم کرتے گزرتے ہیں بھاری اشیاء کی حیثیت محض تنکوں کی سی ہوتی ہے ہوا اڑاتی پھرتی ہو-گھومتے ہوئے قیف نما بادلوں کا ستون جو بادلوں سے سطح زمین تک پہنچا ہوا ہو انتہائی تیز رفتاری سے گھومتے اس بادلوں سے اترے قیف نما ستون کو طوفانی بگولا یا ٹورنیڈو Tornado 🌪 کہتے ہیںامریکہ میں طوفانی بگولے بننا معمول کی بات ہے لیکن ہمارے ہاں معمول سے ہٹ کر بنتے ہیں ٹارنیڈو کی شدت ناپنے کے سکیل کو فوجیتا سکیل Fujita scale اور اینہانسڈ فوجیتا سکیل enhanced Fujita scale کہتے ہیں جن کو 0 سے 5 درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے F0 یا EF0 سے F5 یا EF 5 تک شدت کے اظہار کے لئے ایک پیمانہ بنایا گیا ہےطوفانی بگولے عموماً کیومولونمبس بادلوں میں بنتے ہیں اور بھاری ژالہ کا باعث بھی ہوتے ہیں
ٹارنیڈو تشکیل کے بعد اپنا راستہ منتخب کرتا ہے اور راستے میں آنے والی ہر چیز کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا ہے ان کی زندگی چند منٹ سے کئی گھنٹوں تک ہو سکتی ہےٹارنیڈو کی تشکیل اس وقت ممکن ہوتی ہے جب گرم نم آلود ہوائیں سرد خشک ہواؤں سے ٹکراتی ہیں سرد بھاری ہوا گرم ہوا کو اوپر اٹھا لیتی ہے تھنڈر سٹارم کی تشکیل ہوتی ہے اگر حالات سازگار رہیں تو طوفانی بگولا تشکیل پاتا ہےطوفانی بگولے کے اندر ہواؤں کی رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ سے 480 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہو سکتی ہےاتنی رفتار کا تصور بھی بھیانک ہے ٹارنیڈو کا جو حصہ زمین کے ساتھ لگا ہوتا ہے اس کا قطر 50 میٹر سے 3 کلومیٹر تک ہو سکتا ہے تشکیل کے بعد ٹارنیڈو چند میٹر سے درجنوں کلومیٹر تک کا سفر کر سکتے ہیں تاریخ میں سب سے لمبا سفر 18 مارچ 1925 کو بننے والے ٹارنیڈو نے کیا جو تین ریاستوں میں EF5 شدت کے ساتھ ساڑھے تین گھنٹوں میں 352 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر گیادنیا میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز ٹارنیڈو بنگلہ دیش کے نام ہے 26 اپریل 1989 کو مانک گنج ضلع میں آنے والا طوفانی بگولا 1300 افراد کی جانیں لے گیا