بدھ، 11 مارچ، 2026

ولیہء کاملہ حضرت رابعہ بصری رحمہ اللہ

 

  حضرت رابعہ بصری    وہ ولیہ  ءکاملہ جنہوں نے اپنے زہدوتقویٰ، عبادت و ریاضت اور                   پاکیزگی وپرہیزگاری                         مخلوقِ خدا کی خدمت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے حضور بلند مقام حاصل کیا۔ رشدوہدایت کے راستوں پر چلانے والی ایک ہی ذات ہے۔ آپؒ کا شمار قرون اولیٰ کی اُن شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کاہر پل اور ہر لمحہ اطاعت وبندگی کی نذر کرکے اپنے قلب و ذہن کو ربّ العالمین کے دربار میں سرگوشی ومناجات کے لیے وقف کردیا تھا۔ رابعہ بصریؒ کو جو بلند پایہ مقام اور اعلیٰ مرتبہ حاصل ہوا اُس کے پیچھے اسلامی تعلیم کی وہ برکتیں کارفرماہیں جن سے فیض پاکر رابعہ عدویہ نامی ایک عام خاتون حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہا جیسے بلند مقام پر فائز ہوگئیںرابعہ بصریؒ کی زندگی کے حالات وواقعات کا اکثر حصہ پردۂ اخفا میں ہے۔ قدیم تذکرہ نگاروں نے اس بارے میں بہت ہی کم لکھا ہے۔ آپ کی پیدائش کے بارے میں تذکرہ نگاروں نے   سنہ ۹۷؍ہجری بیان کیا ہے۔ مشہور فرانسیسی مستشرق میسنیون (Massignon)نے ۹۵؍ہجری یا ۹۹؍ ہجری پر زور دیا ہے اسی طرح ڈاکٹر مارگریٹ سمتھ نے بھی اپنے پی ایچ ڈی کے مقالہ (Rabia The Mystic) میں(جو کتابی شکل میں بھی شائع ہوچکا ہے ) ۹۵؍ یا ۹۹؍ ہجری کا ذکر کیا ہے۔ حضرت رابعہ بصریؒ کی پیدائش سے پہلے آپ کے والدین کے ہاں تین بیٹیوں کی پیدائش ہوچکی تھی۔ اسی مناسبت سے آپ کا نام رابعہ یعنی چوتھی رکھا گیا۔ 


۔ رابعہ بصریؒ کا بچپن عام بچوں سے قدرے مختلف تھا جو اسرارومعرفت کے متعدد واقعات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔آپؒ بیان کرتے ہیں کہ جس رات آپ کی پیدائش ہوئی،اس روز شیخ اسماعیل کے ہاں کوئی فالتو کپڑا تک نہ تھا جو نومولودہ کو اوڑھایا جاسکتا، نہ ہی رات کے وقت چراغ جلانے کے لیے گھر میں تیل تھا اس حالت زار میں              ننھی رابعہ کی والدہ نے آپ کے والد سے کہا کہ ہمسائے کے گھر جاکر تھوڑا سا تیل مانگ لائیں تاکہ گھر میں روشنی کا کچھ بندوبست کیا جاسکے اور ننھی بچی کی ناف پر تیل لگایا جاسکے۔ شیخ اسماعیل نے اس بات کا عہد کر رکھا تھا کہ سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا۔ مگر بیوی کے اصرار پر مجبوراً ہمسائے کے گھر گئے اور خالی ہاتھ لوٹ آئے۔.عربی زبان میں رابعہ کا مطلب چوتھی ہے.جب آپ کی ولادت ہوئی تو گھرمیں فاقوں کی نوبت تھی لہذا بی بی صاحبہ نے کہا پڑوس سے کچھ قرض لے لیں تا کہ یہ کڑوا وقت کٹ جائے. شیخ صاحب آدھی رات کو پڑوسی کے دروازے پر بادلِ نا خواستہ دستک دینے گئے کیونکہ غیر اللہ سے سوال کرنا ان کی غیرت ایمانی کو گوارہ نہ تھا. پڑوسی نیند میں تھا. کسی نے دروازہ کھٹکھانے کی آواز سنی نہ دروازہ کھولا. خالی ہاتھ گھر لوٹے تو بی بی صاحبہ بہت پریشان ہوئی. شیخ صاحب رحمۃاللہ علیہ بھی اسی پریشانی کے عالم میں سو گئے. خواب میں سرورِ کائنات حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلّم تشریف لائے. بیٹی کی ولادت پر مبارک باد دی اور فرمایا اسمٰعیل! پریشان نہ ہو تیری یہ بچی عارفہ کاملہ ہو گی. اگر مالی پریشانی ہے تو صبح حاکم بصرہ عیسٰی زردان کے پاس جانا. میری طرف سے ایک خط لکھ لینا کہ تم مجھ پر ہر روز سو مرتبہ اور ہر جمعرات کو چار سو مرتبہ درود بھیجتے ہو. اس جمعرات کو تحفہ دینا بھول گئے ہو


.اس لئے چار سو دینار کفارہ حاملِ رقعہِ ہذا کو دے دو.صبح جب شیخ صاحب خط لے کر حاکم بصرہ عیسٰی کے پاس گئے تو اس نے دوڑ لگائی دروازے پر پہنچا. شیخ صاحب کا نہایت مودبانہ انداز میں شکریہ ادا کیا کہ آپ کی وجہ سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے مجھے یاد فرمایا. اسی خوشی میں ہزار دینار غرباءمیں تقسیم کئے اور چار سو دینار شیخ صاحب کو دئیے.چار پانچ سال کی عمر میں ہی والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا. جب آٹھ برس کی عمر کو پہنچیں تو بصرہ سخت قحط کا شکار ہو گیااور کسی شقی القلب نے پکڑ کر آپ رحمۃ اللہ علیہ کو بصرہ کے ایک متمول شخص عتیق کے ہاتھوں بیچ دیا. چار پانچ سال تک آپ انکی خدمت کرتی رہی.انکا حاکم بہت ظالم تھا بہت بھوکا پیاسا رکھتا تھا اور سخت کام بھی لیتا. ایک روز آپ کسی کام سے جا رہی تھیں کہ کوئی نا محرم سامنے آ گیا.آپ اسے دیکھ کر بھاگیں، بھاگتے ہوئے ٹھوکر کھا کے گر گئیں اور ان کا ہاتھ ٹوٹ گیا. ربِّ کریم سے رو رو کر عرض کیا” میں غریب، یتیم اور قیدی ہوں، اب ہاتھ بھی ٹوٹ گیا، اس کا مجھے کچھ غم نہیں مگر میں چاہتی ہوں کہ ساری امانتیں، ہاتھ، پاؤں، عزت،جان وغیرہ جو تیری میرے پاس ہیں انھیں اسی طرح لوٹا دوں کہ تو مجھ سے راضی ہو جائے. ، اگر تو راضی نہیں تو پھر یہ سب میرے اعمال کی شامتیں ہیں”.. بس ایک پل میں ہی کایا پلٹ گئی،تاجر نے ان کی مناجات سن کر ان کو آزاد کر دیا. تاجر عتیق کی غلامی سے آزاد ہونے کے بعد سیدہ رابعہ بصرہ سے ایک بڑے علمی مرکز کوفہ چلی گئیں جہاں اس وقت کے بڑے بڑے علماء موجود رہتے تھے. وہاں آپ نے بہت کم وقت میں قرآن حفظ کر لیا.




 بڑے بڑے علماء آپ رحمۃاللہ علیہ سے بہت عقیدت رکھتے تھے اب ان کے گرد فرشتوں کی موجودگی کا ادراک حاصل کرلیا ایک مرتبہ آپ  کے گھر میں چور آیا اور آپ کی چادر اٹھا کر جانے لگا  تو باہر نکلنے کا راستہ ہی نظر نہیں آیا  چور نے چادر رکھ دی تو راستہ نظر آگیا  . چور کو آواز آئی اب بھی نہ باز آئے تو دائمی اندھے ہو جاؤ گے.اس گھر کی مالکہ ہماری دوست ہے،اور چور چادر چھوڑ کر چلا گیاایک دفعہ ایک بزرگ ملاقات اور کھانے کی خواہش سےحاضر ہوئے. سیّدہ رابعہ بصری نے گوشت ہنڈیا میں ڈال کر چولہے پر چڑھایا ہوا تھا لیکن آگ نہیں جلائی، زہدوتقوٰی کی گفتگو میں نہ بزرگ کو بھوک رہی اور نہ سیّدہ رابعہ کو آگ جلانے کا خیال آیا، دیکھا تو ہنڈیا میں لذیذکھانا پکا ہوا تھا.سب تعریفیں اللہ جل شانہ کیلئے ہیں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی مالک نہیں، جو سب خزانوں، سب طاقتوں کا مالک ہے، جو ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا، جس کا کوئی شریک کوئی ہمسر نہیں. باقی ہر شے فانی ہے. عدم سے وجود اور وجود سے عدم، یہی انسان کا اور ہر مخلوق کا مقدر ہے. اسی اصل تقدیر کے مطابق سیّدہ رابعہ طاہرہ عارفہ کاملہ بصریہ نے جس دوست کی رضا کے لئے زندگی گزار دی، اسی نے185 ہجری میں ملاقات کے لئے بلا لیا
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

1 تبصرہ:

  1. ۔ وہ تمام رات عبادت و ریاضت میں گزار دیتی تھیں اور اس خوف سے نہیں سوتی تھیں کہ کہیں عشق الٰہی سے دور نہ ہوجائیں۔ جیسے جیسے رابعہ بصری کی شہرت بڑھتی گئی،آپ کے معتقدین کی تعدادمیں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ آپ نے اپنے وقت کے جید علما ومحدثین اور فقہا سے مباحثوں میں حصہ لیا۔ رابعہ بصری کی بارگاہ میں بڑے بڑے علما نیازمندی کے ساتھ حاضر ہواکرتے تھے۔ ان بزرگوں اور علما میں سرفہرست حضرت امام سفیان ثوری ہیں، جو امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے ہم عصر تھے اورجنہیں ’امیر المومنین فی الحدیث‘ کے لقب سے بھی یادکیا جاتا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

ولیہء کاملہ حضرت رابعہ بصری رحمہ اللہ

    حضرت رابعہ بصری    وہ ولیہ  ءکاملہ جنہوں نے اپنے زہدوتقویٰ، عبادت و ریاضت اور                    پاکیزگی وپرہیزگاری                     ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر