پیر، 9 فروری، 2026

امجد اسلام امجد -اگر کبھی میری یاد آئے

 

 اگر کبھی میری یاد آئے
تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں
کسی ستارے کو دیکھ لینا
 ا مجد اسلام امجد-ایک  عالمی  اور  پاکستانی  شہرت یافتہ اردو شاعر، ڈراما نگار، گیت نگار، کالم نگار تھے۔ 50 سال پر محیط کیریئر میں انھوں نے ستر سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ انھیں اپنے ادبی کام، شاعری اور ٹی وی ڈراموں کے لیے بہت سے اعزازات ملے، جن میں تمغہ حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز اور ہلال امتیاز شامل ہیں۔سوانح۰امجد اسلام کی پیدائش 4 اگست 1944 کو لاہور میں ہوئی۔ انھوں نے اسلامیہ کالج لاہور سے بی۔ اے کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی            سے اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔  انھوں نے اپنے کیریئر کے آغاز ایم اے او کالج لاہور کے شعبہ اردو میں استاد کی حیثیت سے کیا۔ 1975ء اور 1979ء کے درمیان امجد پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے ڈائریکٹر رہے۔  1989ء میں انھیں اردو سائنس بورڈ کا ڈائریکٹر بنادیا گیا۔ انھوں نے چلڈرن لائبریری کامپلیکس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں۔اعزازات امجد اسلام امجد کو ان کی ادبی خدمات کی وجہ سے انھیں تمغائے حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔


امجد اسلام امجد ادبی محفلوں کی جان تھے اور اردو ادب کا مان بھی۔ ادب کے کئی شعبوں میں اپنے تخلیقی رنگ دکھائے۔ 40 سے زیادہ کتابیں لکھیں، تراجم کئے، کالم لکھے، نقاد اور ڈرامہ نگار کے حوالے سے نام کمایا، غزلیں تخلیق کیں اور جدید نظم نگاری کے موجد          قرار پائے۔ پی ٹی وی پر ان کے ڈراموں نے تو ہر طرف دھوم مچا دی ۔ پاکستان ہی نہیں بھارت میں بھی ان کے ڈرامے اتنے شوق سے دیکھے جاتے تھے کہ سڑکیں ویران اور بازار سنسان نظر آتے تھے۔  ۔ ان کی طبیعت میں زندہ دلی، شگفتگی تھی۔ وہ جس محفل میں بھی ہوتے وہاں قہقہے       گونجتےتھے۔پروڈیوسر ساحرہ نے ان سے سیریزکیلئے ''برزخ‘‘ کے نام سے ایک ڈرامہ لکھوایا۔ اسی سلسلے میں ''موم کی گڑیا‘‘ کے نام سے دوسرا ڈرامہ بھی ان کا ہی لکھا ہوا تھا۔انہوں نے 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں سرکاری ٹی وی کیلئے متعدد ایسے ڈرامے تحریر کیے جنہوں نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ یہ وہ ڈرامے ہیں جو شاید ہی کبھی ناطرین کے ذہنوں سے محو ہو سکیں۔ ان کے مقبول ترین ڈراموں میں وارث، دہلیز، سمندر، وقت، رات، فشار، دن، ایندھن سمیت دیگر شامل ہیں۔


 ان کی برجستگی، جملے بازی اور مزاح مشہور تھا۔ ان کے کالم میں تازہ کاری تھی اور توانائی بھی۔نہوں نے اپنے ڈراموں اور تصانیف کے ذریعے ایک نسل کی فکری آبیاری کی۔ ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں بہت سے ملکی اور غیر ملکی ایوارڈز سے نوازا گیا حکومت پاکستان نے انہیں 1987 میں تمغہ حسن کارکردگی اور 1998 میں ستارہ امتیاز سے نوازا۔ پانچ مرتبہ ٹیلی ویژن کے بہترین رائٹر، 16 گریجویٹ ایوارڈز حاصل کئے۔ 2019 میں انہیں ترکی کے اعلیٰ ثقافتی اعزاز نجیب فاضل انٹرنیشنل اینڈ کلچرل آرٹس سے نوازا گیا۔  اپنے کیریئر کا آغاز شعبہ تدریس سے کیا۔ پنجاب آرٹس کونسل، اردو سائنس بورڈ اورچلڈرن لائبریری کمپلیکس سمیت متعدد سرکاری اداروں میں سرکردہ عہدوں پر ذمہ داریاں نبھائیں۔مصروف ہونے کے باوجود تسلسل کے ساتھ درس و تدریس کے شعبے سے بھی جڑے رہے ، ان کی خاص بات تھی کہ وہ استاد کی حیثیت سے کتاب سامنے رکھ کر نہیں پڑھاتے تھے۔انہوں نے کہا کہ امجد اسلام امجد نے اپنی زندگی میں لاتعداد نوجوانوں کو پڑھایا ، وہ صرف زبان ہی نہیں سکھاتے تھے، بلکہ اس کو تخلیقی انداز میں استعمال کرنے کی ترغیب بھی دیتے تھے۔ ان کی تعلیم کی جانب ماڈرن اپروچ نے انہیں ہردل  عزیزی کی اونچی دہلیز پر لا کھڑا کیا تھا 


 اردو ادب کے فروغ کے لئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے قریبی      دوستوں کا کہنا ہے کہ مشاعرے کی روایت میں غزل سنائی جاتی ہے لیکن امجد اسلام امجد یہاں بھی اپنی الگ راہ بنانے والوں میں شامل تھے۔وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مشاعروں میں نظمیں سنانے میں ایسی کامیابی حاصل کی کہ اکثر ان کی نظمیں سامعین کو یاد ہوتی تھیں اور ان کے ساتھ ساتھ انہیں پڑھا کرتے تھے۔ایوب خاور کے بقول امجد اسلام امجد غزل کے تو اچھے شاعر تھے ہی، نظم اور نغمہ نگار ی میں بھی انہیں کمال حاصل تھا۔ ایک زمانےمیں ترقی پسند شاعر ی کی طرف رجحان ہونے کی وجہ سے ان کی شاعری میں ایک اور زاویے کا اضافہ ہوگیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مشاعروں میں نظمیں سنانے میں ایسی کامیابی حاصل کی کہ اکثر ان کی نظمیں سامعین کو یاد ہوتی تھیں اور ان کے ساتھ ساتھ انہیں پڑھا کرتے تھے۔ایوب خاور کے بقول امجد اسلام امجد غزل کے تو اچھے شاعر تھے ہی، نظم اور نغمہ نگار ی میں بھی انہیں کمال حاصل تھا۔ ایک زمانےمیں ترقی پسند شاعر ی کی طرف رجحان ہونے کی وجہ سے ان کی شاعری میں ایک اور زاویے کا اضافہ ہوگیا تھا۔
اور پھر قانون قدرت کے مطابق     انہوں نے دائ  اجل کو لبیک  کہا اور لاہور کی  زمین میں  خاک   کی چادر اوڑھ  کر سو گئے  تاریخ وفات:10 فروری 2023ء 
 

اتوار، 8 فروری، 2026

کلہوڑا خاندان کا دور سندھ کی تاریخ کا درخشاں با ب تھا،

                                                                    

کلہوڑا خاندان کا دور سندھ کی تاریخ کا درخشاں با ب تھا، جس کے آثار آج بھی خطے میں جا بجا نظر آتے ہیں۔ مغل سلطنت کے دور میں ملتان کے گورنر ، شہزادہ معزالدین نے کلہوڑاحکمرانوں کواپنے زیر نگین رکھنے کے لیے 1700ء میں ان کے مرکزی گائوں گاڑہی (موجودہ تحصیل خیرپور ناتھن شاہ) پر حملہ کیا، کلہوڑو کو شکست ہوئی اور ان کے سردار میاں دین محمد کلہوڑو گرفتار ہوئے، جنہیں ملتان لے جاکر ان کے 25 ساتھیوں کے ساتھ سزائے موت دی گئی۔ ان کے چھوٹے بھائی میاں یار محمد کلہوڑونے خیرپور ناتھن شاہ سے فرار ہوکر خان آف قلات کے پاس پناہ لی۔ ایک سال بعد1701ء میں میاں یارمحمد کلہوڑو سندھ آئے اور گائوں گاہا (تحصیل جوہی) میں’’ میانوال تحریک‘‘ کو فعال کیا اور سامتانی، مرکھپور اورفتح پور (اب دادو ضلع کے گائوں) کے علاقوں میں اپنا اثرنفوذ بڑھایا۔ انہوں نے مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے پاس ایلچی بھیجا جس نے انہیں ’’ خدایار‘‘ کا لقب دے کر سندھ پرحکم رانی کی سند عطا کی۔خدایار خان نے ضلع دادو میں’’ گاہا گائوں‘‘ کے قریب پنہور قبیلے کی “شکارپور پنہور‘‘ نامی بستی میں’’ خدا آباد‘‘ کے نام سے نیا شہرتعمیر کراکر اسے اپنا دارالحکومت قرار دیا۔ مورخین کے مطابق خدا آبادشہر وسیع و عریض رقبے پر محیط تھا۔ کلہوڑا حکم رانوں نے اس میں بے شمار تعمیرات کرائی تھیں۔ یہاں حکمرانوں کی حویلیوں، محلات کے علاوہ دیگر فلک بوس اور خوبصورت عمارتیں تھیں۔کلہوڑوں کا عظیم شہر ’’خدا آباد‘‘شہر کے عین وسط میں حکم رانوں کی رہائش کے لیے ایک محل تعمیر کرایا گیا تھا


جو  تعمیراتی فن کا اعلیٰ نمونہ تھا۔ اس کی عمارت اتنی بلند و بالا تھی کہ اس کی بلندی کی پیمائش کے لیے’’ اصطرلاب‘‘(ایک آلہ جس سے ستاروں کی بلندی ، مقام اور رفتار دریافت کرتے ہیں) اس شہر میں بڑے باغات تھے جن میں سو، بہی، ترنج، صنوبر، ناشاپاتی کے درخت اور انگور کی بیلیں لگی ہوئی تھیں۔ پھولوں میں گلاب، چنبیلی، نرگس، نسرین، نیلوفر، سوسن، سنبل، ہزارہ، گل خیرو کے پودے لگے ہوئے تھے، جب کہ ان میں مختلف اقسام کے پرندے جن میں کبوتر، تدرو، کبک اور اور دیگر، چہچہاتے پھرتے تھے۔ ایک باغ کا نام ’’علی باغ‘‘ تھا۔ اس میں نہریں بہتی تھیں جب کہ قریب ہی شکار گاہ تھی۔ نہر کے کنارے ہر وقت ایک کشتی موجود رہتی تھی، جس پر کلہوڑا حکم راں سیر کیا کرتے تھے۔ مورخین نے اس شہر میں ایک بازار کی موجودگی کی بھی نشان دہی کی ہے جس کے صرف کھنڈرات باقی رہ گئے ہیں۔ خدا آباد سے ایک میل کے فاصلے پر میاں یار محمد کلہوڑا کا مقبرہ ہےجسے میاں غلام شاہ کلہوڑا نے تعمیر کرایا تھا۔ یہ مربع شکل کی عمارت ہے جس پرخوب صورت گنبد بھی بنا ہوا ہے۔میاں یارمحمد نے جامع مسجدکی بنیاد رکھی جسےان کے بیٹے، میاں نور محمد کلہوڑو نے تعمیر کرایا،جو اسلامی فن تعمیر کا نادر نمونہ ہے ۔اس کی دیواریں مغلیہ اوراسلامی نقش و نگار سے آراستہ ہیں۔ قبہ (گنبد) اتنا بلند ہے کہ آسمان کو چھورہا ہے۔ نقش و نگار میں ((شنگرف ‘‘ کو با افراط استعمال کیا گیا تھا۔ اس کے صحن کے دو حصےتھے، ایک 80فٹ لمبا اور 21فٹ چوڑا جب کہ دوسرا 80فٹ لمبا اور 25 فٹ چوڑا ہے۔ 


’’میر علی شیر قانع ٹھٹھوی‘‘ نامور مؤرخ
میر علی شیر قانع کے خاندان کو کبھی بھی فکرِ معاش کا سامنا نہیں رہا۔ قدیم خاندانی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیر کا خاندان شروع سے ہی معاش کے حوالے سے خوشحال اور فارغ البال تھا۔میر علی شیر کے جدِ امجد میر سید شکر اللہ شیرازی جب 927 ھ میں ہجری میں ٹھٹھہ آئے تو ارغون سرکارکی طرف سے وظیفہ جاری ہوا۔ ہمایوں کے فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیر کے خاندان کو مغل شہنشاہ نصیر الدین ہمایوں کی طرف سے بھی وظیفہ جاری ہوا تھا ا ور ساکرو پرگنہ میں کچھ زمین بطورمالی تعاون بھی ملی تھی۔ مرزا جانی بیگ ترخان نے بھی ـجون پرگنہـ میں کئی گاؤں میر علی شیر کے خاندان کو بطور مالی تعاون دئیے ۔مغل بادشاہ جہانگیر نے سید ظہیر الدین بن سید شکر اللہ ثانی شیرازی کے لیے دھان کی فصل کا کچھ حصہ سالانہ بطور وظیفہ مقرر کیا۔میاں نور محمد کلہوڑو کے فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیر کے والدکو سید عزت اللہ شیرازی کو جگت پور اور ککراللہ کے کئی گاؤں بہ بطور جاگیر ملے تھے۔ اس کے علاوہ میاں غلام شاہ کلہوڑو اور میر فتح علی خان تالپور نے بھی میر علی شیر کے خاندان کو وظیفہ جات اور مراعات عطا کیں۔ میر علی شیر سندھ کے کلہوڑا دربار کے شاہی مورخ تھے۔ کلہوڑا حکمران میاں غلام شاہ کلہوڑو نے انہیں اپنےخاندان کی تاریخ لکھنے پر مامور کیا تھا لیکن وہ یہ کام نا معلوم وجوہات کی بنا پر مکمل نہ کرسکے۔میر علی شیر قانع بارہ سال کی عمر یعنی 1152ھ میں جب وہ مکتب میں تحصیل علم کررہے تھے ، مشقِ سخن کی ابتدا کی۔ اسی عمر میں آٹھ ہزار اشعار کا دیوان مرتب کیا جس میں سبھی اصنافِ سخن شامل تھیں، لیکن نا معلوم وجوہات کی بنا پر انہوں نے تمام دیوان دریا برد کردیا۔ تقریباً دو سالہ خاموشی کےبعد یعنی1155ھ میں میر علی شیر کی میر حیدر ابو تراب کامل جیسے استاد سے ملاقات ہوئی اور انہی بزرگ کی صحبت کی بہ دولت دوبارہ شاعری کا آغاز کرنے کے لیےان کی شاگردی اختیار کی۔ میر علی شیر قانع کثیر التصانیف مصنف تھے، انہوں نے شاعری، تاریخ، تذکرہ، سیرو سیاحت، لغت، دائرۃ المعارف اور سوانح سمیت مختلف موضوعات پر لاتعداد کتب تحریر کیں۔ ان تصانیف میں دیوان علی شیر ، مثنوی قضا و قدر، مثنوی قصۂ کامروپ ، دیوان قال غم،ساقی نامہ، واقعاتِ حضرت شاہ، تزویج نامہ حسن و عشق، اشعارِ متفرقہ در صنایع و تاریخ، بوستان بہار المعروف مکلی نامہ، مقالات الشعرا، تاریخ عباسیہ، تحفۃ الکرام ، اعلانِ غم (مثنوی)، زبدۃ المناقب (خلفائے راشدین اور حضرات اثنا عشری کے مناقب)، مختار نامہ (مختار ثقفی کے حالات)، نصاب البلغا(قاموس کی طرز پر کتاب)، مثنوی ختم السلوک، شجرۂ اطہر اہلبیت، معیارِ سالکان طریقت (سندھ اور بیرونِ سندھ 500 بزرگ و مشاہیر کا تذکرہ)، بیاض محک الشعراء اور انشائے قانع وغیرہ شامل ہیں جن میں سے سب سے زیادہ شہرت تحفۃ الکرام کو ملی۔ میر علی شیرکا مطالعہ وسیع تھا جس کا ثبوت تحقۃ الکرام میں جا بجا نظر آتا ہے۔انہوں نے تحفۃ الکرام قلمبند کرکے سندھ کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے اہلِ علم و قارئین پر عظیم احسان کیا ہے۔ اس کتاب کا میر علی شیر قانع کے ہاتھ سے تحریر کردہ دستخط شدہ نسخہ اورینٹل کالج لاہور کے سابق پرنسپل، پروفیسر مولوی محمد شفیع کے ذاتی کتب خانے میں اور دو نسخے برٹش میوزیم لندن میں موجود ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیرقانع 1188ھ تک مذکورہ کتاب میں ترامیم و اضافہ کرتے رہے تھے۔
افغان محقق عبد الحئی حبیبی کے مطابق’’میرقانع ایک توانا مصنف، دقیق مورخ اور فارسی زبان کے اعلیٰ درجہ کےشاعر تھے۔ ان کی منزلت اور ان کے علم کا اندازہ ان کی تالیف کردہ کتب سے لگایا جاسکتا ہے۔میر علی شیر قانع، فن تاریخ نویسی، صنائع و بدائعِ ادبی میں خاص طور پر مہارت رکھتے تھے۔فنِ لغت، الفاظ کی شناسائی اور مختلف زبانوں جیسے عربی، فارسی، ترکی ، سندھی اور ہندی وغیرہ کی اصطلاحات کے متعلق وسیع معلومات رکھتے تھے۔مختصر الفاظ میں کہا جائے تو میر علی شیر قانع جیسے بافضیلت اور ہنر مند رجال زمانے میں کم ہی نظر آتے ہیں‘‘۔ سندھ کے عظیم مورخ اور باکمال شاعر 1203ھ کو 64 سال کی عمر میں ٹھٹہ شہر میں اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے اور اپنے پیچھے علم و ادب کے شاہکار بطور یادگار چھوڑ گئے۔ 
 

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

امجد اسلام امجد -اگر کبھی میری یاد آئے

   اگر کبھی میری یاد آئے تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں کسی ستارے کو دیکھ لینا  ا مجد اسلام امجد-ایک  عالمی  اور  پاکستانی  شہرت یافتہ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر