اتوار، 8 فروری، 2026

کلہوڑا خاندان کا دور سندھ کی تاریخ کا درخشاں با ب تھا،

                                                                    

کلہوڑا خاندان کا دور سندھ کی تاریخ کا درخشاں با ب تھا، جس کے آثار آج بھی خطے میں جا بجا نظر آتے ہیں۔ مغل سلطنت کے دور میں ملتان کے گورنر ، شہزادہ معزالدین نے کلہوڑاحکمرانوں کواپنے زیر نگین رکھنے کے لیے 1700ء میں ان کے مرکزی گائوں گاڑہی (موجودہ تحصیل خیرپور ناتھن شاہ) پر حملہ کیا، کلہوڑو کو شکست ہوئی اور ان کے سردار میاں دین محمد کلہوڑو گرفتار ہوئے، جنہیں ملتان لے جاکر ان کے 25 ساتھیوں کے ساتھ سزائے موت دی گئی۔ ان کے چھوٹے بھائی میاں یار محمد کلہوڑونے خیرپور ناتھن شاہ سے فرار ہوکر خان آف قلات کے پاس پناہ لی۔ ایک سال بعد1701ء میں میاں یارمحمد کلہوڑو سندھ آئے اور گائوں گاہا (تحصیل جوہی) میں’’ میانوال تحریک‘‘ کو فعال کیا اور سامتانی، مرکھپور اورفتح پور (اب دادو ضلع کے گائوں) کے علاقوں میں اپنا اثرنفوذ بڑھایا۔ انہوں نے مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے پاس ایلچی بھیجا جس نے انہیں ’’ خدایار‘‘ کا لقب دے کر سندھ پرحکم رانی کی سند عطا کی۔خدایار خان نے ضلع دادو میں’’ گاہا گائوں‘‘ کے قریب پنہور قبیلے کی “شکارپور پنہور‘‘ نامی بستی میں’’ خدا آباد‘‘ کے نام سے نیا شہرتعمیر کراکر اسے اپنا دارالحکومت قرار دیا۔ مورخین کے مطابق خدا آبادشہر وسیع و عریض رقبے پر محیط تھا۔ کلہوڑا حکم رانوں نے اس میں بے شمار تعمیرات کرائی تھیں۔ یہاں حکمرانوں کی حویلیوں، محلات کے علاوہ دیگر فلک بوس اور خوبصورت عمارتیں تھیں۔کلہوڑوں کا عظیم شہر ’’خدا آباد‘‘شہر کے عین وسط میں حکم رانوں کی رہائش کے لیے ایک محل تعمیر کرایا گیا تھا


جو  تعمیراتی فن کا اعلیٰ نمونہ تھا۔ اس کی عمارت اتنی بلند و بالا تھی کہ اس کی بلندی کی پیمائش کے لیے’’ اصطرلاب‘‘(ایک آلہ جس سے ستاروں کی بلندی ، مقام اور رفتار دریافت کرتے ہیں) اس شہر میں بڑے باغات تھے جن میں سو، بہی، ترنج، صنوبر، ناشاپاتی کے درخت اور انگور کی بیلیں لگی ہوئی تھیں۔ پھولوں میں گلاب، چنبیلی، نرگس، نسرین، نیلوفر، سوسن، سنبل، ہزارہ، گل خیرو کے پودے لگے ہوئے تھے، جب کہ ان میں مختلف اقسام کے پرندے جن میں کبوتر، تدرو، کبک اور اور دیگر، چہچہاتے پھرتے تھے۔ ایک باغ کا نام ’’علی باغ‘‘ تھا۔ اس میں نہریں بہتی تھیں جب کہ قریب ہی شکار گاہ تھی۔ نہر کے کنارے ہر وقت ایک کشتی موجود رہتی تھی، جس پر کلہوڑا حکم راں سیر کیا کرتے تھے۔ مورخین نے اس شہر میں ایک بازار کی موجودگی کی بھی نشان دہی کی ہے جس کے صرف کھنڈرات باقی رہ گئے ہیں۔ خدا آباد سے ایک میل کے فاصلے پر میاں یار محمد کلہوڑا کا مقبرہ ہےجسے میاں غلام شاہ کلہوڑا نے تعمیر کرایا تھا۔ یہ مربع شکل کی عمارت ہے جس پرخوب صورت گنبد بھی بنا ہوا ہے۔میاں یارمحمد نے جامع مسجدکی بنیاد رکھی جسےان کے بیٹے، میاں نور محمد کلہوڑو نے تعمیر کرایا،جو اسلامی فن تعمیر کا نادر نمونہ ہے ۔اس کی دیواریں مغلیہ اوراسلامی نقش و نگار سے آراستہ ہیں۔ قبہ (گنبد) اتنا بلند ہے کہ آسمان کو چھورہا ہے۔ نقش و نگار میں ((شنگرف ‘‘ کو با افراط استعمال کیا گیا تھا۔ اس کے صحن کے دو حصےتھے، ایک 80فٹ لمبا اور 21فٹ چوڑا جب کہ دوسرا 80فٹ لمبا اور 25 فٹ چوڑا ہے۔ 


’’میر علی شیر قانع ٹھٹھوی‘‘ نامور مؤرخ
میر علی شیر قانع کے خاندان کو کبھی بھی فکرِ معاش کا سامنا نہیں رہا۔ قدیم خاندانی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیر کا خاندان شروع سے ہی معاش کے حوالے سے خوشحال اور فارغ البال تھا۔میر علی شیر کے جدِ امجد میر سید شکر اللہ شیرازی جب 927 ھ میں ہجری میں ٹھٹھہ آئے تو ارغون سرکارکی طرف سے وظیفہ جاری ہوا۔ ہمایوں کے فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیر کے خاندان کو مغل شہنشاہ نصیر الدین ہمایوں کی طرف سے بھی وظیفہ جاری ہوا تھا ا ور ساکرو پرگنہ میں کچھ زمین بطورمالی تعاون بھی ملی تھی۔ مرزا جانی بیگ ترخان نے بھی ـجون پرگنہـ میں کئی گاؤں میر علی شیر کے خاندان کو بطور مالی تعاون دئیے ۔مغل بادشاہ جہانگیر نے سید ظہیر الدین بن سید شکر اللہ ثانی شیرازی کے لیے دھان کی فصل کا کچھ حصہ سالانہ بطور وظیفہ مقرر کیا۔میاں نور محمد کلہوڑو کے فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیر کے والدکو سید عزت اللہ شیرازی کو جگت پور اور ککراللہ کے کئی گاؤں بہ بطور جاگیر ملے تھے۔ اس کے علاوہ میاں غلام شاہ کلہوڑو اور میر فتح علی خان تالپور نے بھی میر علی شیر کے خاندان کو وظیفہ جات اور مراعات عطا کیں۔ میر علی شیر سندھ کے کلہوڑا دربار کے شاہی مورخ تھے۔ کلہوڑا حکمران میاں غلام شاہ کلہوڑو نے انہیں اپنےخاندان کی تاریخ لکھنے پر مامور کیا تھا لیکن وہ یہ کام نا معلوم وجوہات کی بنا پر مکمل نہ کرسکے۔میر علی شیر قانع بارہ سال کی عمر یعنی 1152ھ میں جب وہ مکتب میں تحصیل علم کررہے تھے ، مشقِ سخن کی ابتدا کی۔ اسی عمر میں آٹھ ہزار اشعار کا دیوان مرتب کیا جس میں سبھی اصنافِ سخن شامل تھیں، لیکن نا معلوم وجوہات کی بنا پر انہوں نے تمام دیوان دریا برد کردیا۔ تقریباً دو سالہ خاموشی کےبعد یعنی1155ھ میں میر علی شیر کی میر حیدر ابو تراب کامل جیسے استاد سے ملاقات ہوئی اور انہی بزرگ کی صحبت کی بہ دولت دوبارہ شاعری کا آغاز کرنے کے لیےان کی شاگردی اختیار کی۔ میر علی شیر قانع کثیر التصانیف مصنف تھے، انہوں نے شاعری، تاریخ، تذکرہ، سیرو سیاحت، لغت، دائرۃ المعارف اور سوانح سمیت مختلف موضوعات پر لاتعداد کتب تحریر کیں۔ ان تصانیف میں دیوان علی شیر ، مثنوی قضا و قدر، مثنوی قصۂ کامروپ ، دیوان قال غم،ساقی نامہ، واقعاتِ حضرت شاہ، تزویج نامہ حسن و عشق، اشعارِ متفرقہ در صنایع و تاریخ، بوستان بہار المعروف مکلی نامہ، مقالات الشعرا، تاریخ عباسیہ، تحفۃ الکرام ، اعلانِ غم (مثنوی)، زبدۃ المناقب (خلفائے راشدین اور حضرات اثنا عشری کے مناقب)، مختار نامہ (مختار ثقفی کے حالات)، نصاب البلغا(قاموس کی طرز پر کتاب)، مثنوی ختم السلوک، شجرۂ اطہر اہلبیت، معیارِ سالکان طریقت (سندھ اور بیرونِ سندھ 500 بزرگ و مشاہیر کا تذکرہ)، بیاض محک الشعراء اور انشائے قانع وغیرہ شامل ہیں جن میں سے سب سے زیادہ شہرت تحفۃ الکرام کو ملی۔ میر علی شیرکا مطالعہ وسیع تھا جس کا ثبوت تحقۃ الکرام میں جا بجا نظر آتا ہے۔انہوں نے تحفۃ الکرام قلمبند کرکے سندھ کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے اہلِ علم و قارئین پر عظیم احسان کیا ہے۔ اس کتاب کا میر علی شیر قانع کے ہاتھ سے تحریر کردہ دستخط شدہ نسخہ اورینٹل کالج لاہور کے سابق پرنسپل، پروفیسر مولوی محمد شفیع کے ذاتی کتب خانے میں اور دو نسخے برٹش میوزیم لندن میں موجود ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیرقانع 1188ھ تک مذکورہ کتاب میں ترامیم و اضافہ کرتے رہے تھے۔
افغان محقق عبد الحئی حبیبی کے مطابق’’میرقانع ایک توانا مصنف، دقیق مورخ اور فارسی زبان کے اعلیٰ درجہ کےشاعر تھے۔ ان کی منزلت اور ان کے علم کا اندازہ ان کی تالیف کردہ کتب سے لگایا جاسکتا ہے۔میر علی شیر قانع، فن تاریخ نویسی، صنائع و بدائعِ ادبی میں خاص طور پر مہارت رکھتے تھے۔فنِ لغت، الفاظ کی شناسائی اور مختلف زبانوں جیسے عربی، فارسی، ترکی ، سندھی اور ہندی وغیرہ کی اصطلاحات کے متعلق وسیع معلومات رکھتے تھے۔مختصر الفاظ میں کہا جائے تو میر علی شیر قانع جیسے بافضیلت اور ہنر مند رجال زمانے میں کم ہی نظر آتے ہیں‘‘۔ سندھ کے عظیم مورخ اور باکمال شاعر 1203ھ کو 64 سال کی عمر میں ٹھٹہ شہر میں اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے اور اپنے پیچھے علم و ادب کے شاہکار بطور یادگار چھوڑ گئے۔ 
 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

امجد اسلام امجد -اگر کبھی میری یاد آئے

   اگر کبھی میری یاد آئے تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں کسی ستارے کو دیکھ لینا  ا مجد اسلام امجد-ایک  عالمی  اور  پاکستانی  شہرت یافتہ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر