سمارٹ چشمے دنیا میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں بلکہ انہیں پہننے والی ٹیکنالوجی کا مستقبل کہا جا رہا ہے،۔ لیکن سماجی ماہرین کہہ رہے ہیں کہ یہ چشمے خواتین کی پرائیویسی کو نقصان پہنچانے، ان کی توہین کرنے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ شیزی کہتی ہیں کہ ایک شخص نے ان کے علم میں لائے بغیر اور ان کی اجازت لیے بغیر سمارٹ چشمے سے ان کی ویڈیو بنائی۔ اس کے بعد وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی، جہاں اسے تقریباً 10 لاکھ بار دیکھا گیا اور سینکڑوں تبصرے کیے گئے۔ بہت سے تبصرے جنسی نوعیت کے اور توہین آمیز تھے۔ شیزی نے کہا میرا کیا قصور تھا کہ مجھے ایک اجنبی سے راستے میں روکا اور مجھ سے کہا وہ مجھے جانتا ہے آپ فلاں 'فلاں یو ٹیوبر ہیں ’مجھے بالکل نہیں معلوم تھا کہ وہ زراسی دیر میں مجھے کس طرح سے دھوکہ دے رہا ہے ہاں تم نے صحیح پہچانا اور وہ کچھ کہے بغیر چلا گیا ، لیکن اس زرا سی دیر میں اس نے میری وڈیو بنائ - گھر جا کر میری اس وڈیو کو فوٹو شاپ سے عریاں کیا اور پیسہ کمانے کے لئے اس کو وائرل کر دیا ۔ اس چیز نے مجھے بہت ڈرا دیا ہے۔ اب میں عوامی مقامات پر جانے سے ڈرتی ہوں۔
‘اونا کہتی ہیں کہ گذشتہ جون میں برائٹن کے ساحل پر دھوپ کا چشمہ پہنے ایک آدمی ان کے پاس آیااس شخص نے ان کا نام پوچھا، وہ کہاں سے ہیں اور کیا وہ اسے اپنا نمبر دے سکتی ہیں۔انھوں نے شائستگی سے انکار کیا اور کہا کہ ان کا بوائے فرینڈ ہے۔کچھ ہفتوں بعد انھیں ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو بھیجی گئی۔ یہ اس شخص کے ساتھ گفتگو کی ریکارڈنگ تھی جسے اس کے نقطہ نظر سے فلمایا گیا تھا۔ تب اونا کو احساس ہوا کہ وہ شخص انھیں اپنے چشموں سے فلما رہا ہے۔جو بھی سمارٹ چشمے پہنتا ہے اسے سمارٹ فون کی طرح ہی معلومات اور ایپس تک رسائی مل جاتی ہے۔ سمارٹ چشمے پہنے شخص نقشے دیکھ سکتا ہے، موسیقی سن سکتا ہے اور ویڈیو ریکارڈ کر سکتا ہے۔اونا کی ویڈیو کا سکرین شاٹ جو ٹک ٹاک سے لیا گیا ہے۔ وہ سڑک پار کر رہی ہیں اور گفتگو میں مصروف ہیں۔ ویڈیو اس شخص کے زاویے سے فلمائی گئی ہے جس سے وہ بات کر رہی ہیں،اونا کی ویڈیو تقریباً 10 لاکھ بار دیکھی گئی، ہزاروں لوگوں نے اسے لائک کیا اور سینکڑوں تبصرے کیے گئےاونا کہتی ہیں کہ ویڈیو پر ویوز بڑھتے دیکھ کر انھیں گھبراہٹ کا احساس ہونے لگاان کے مطابق ویڈیو سے یہ بھی معلوم ہو رہا تھا کہ وہ برطانیہ کے علاقے برائٹن میں رہتی ہیں، ویڈیو پر آنے والے تبصرے توہین آمیز تھے، ’یہ سب میرےاختیار سے بالکل باہر تھا اور یہی بات مجھے ڈرا رہی تھی۔‘اونا نے پولیس کو آگاہ کیا لیکن انھیں بتایا گیا کہ پولیس کچھ نہیں کر سکتی کیوں کہ عوامی مقامات پر لوگوں کی ویڈیو بنانا غیر قانونی نہیں ہے۔
اونا کہتی ہیں کہ ’ایسے واقعات ہر اس عورت کے ساتھ ہوتے ہیں جسے میں جانتی ہوںاور آپ کی گفتگو فلمائی جا سکتی ہے اور آن لائن نشر کی جا سکتی ہے، یہ سوچنا بھی ’خوف ناک اور ڈراؤنا ہے۔‘بی بی سی نے اونا کی ویڈیو پوسٹ کرنے والے اکاؤنٹ کے مالک سے رابطہ کیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔جس شخص نے اونا کو فلمایا تھا، انھوں نے اپنے ٹک ٹاک پیج پر ایسی ہی سینکڑوں ویڈیوز پوسٹ کی ہوئی تھیں، اور وہ اکیلے ایسے نہیں جو اس طرح کا مواد بنا رہے ہیں۔ایک نوجوان لڑکی پارک میں بیٹھی ہے۔ اس کے بال سنہرے رنگ کے ہیں اور اس کے سر پر دھوپ کا چشمہ رکھا ہے، لندن سے تعلق رکھنے والی کیٹ بتاتی ہیں کہ سمارٹ چشمے پہنے ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان کے علم میں لائے بغیراور ان کی رضامندی لیے بغیر ان کی وڈیو بنا ئ۔وہ جم میں تھیں جب ایک آدمی ان کے پاس آیا اور ان کا نمبر مانگا لیکن کیٹ نے نمبر دینے سے انکار کر دیا۔اگلے دن اس گفتگو کی ویڈیو انھیں بھیجی گئی جو ٹک ٹاک پر اپ لوڈ کی گئی تھی۔آن لائن نشر ہونے کے چھ گھنٹے کے اندر اندر وہ ویڈیو تقریباً 50 ہزار بار دیکھی جا چکی تھی۔ ویڈیو پر کیٹ کیسی نظر آ رہی تھیں اور ان کا رویہ کیسا تھا، اس بارے میں بہت سے توہین آمیز اور نا مناسب تبصرے آئے۔گروک اے آئی کا خواتین کی نیم برہنہ تصاویر بنانے کے لیے استعمال: ’نامناسب مواد بنانے کا عمل تکنیکی خامی نہیں، کاروباری انتخاب ہے‘ہیلو! مجھے آپ کی ایک تصویر ملی ہے۔
۔‘: واٹس ایپ پر آنے والا پُراسرار پیغام جو اکاؤنٹ ہیک ہونے کا باعث بن سکتا ہےکیٹ نے بتایا، ’ایسا لگا مجھے الٹی آ جائے گی۔ میں پریشان ہوں، انٹرنیٹ پر لوگ میری نقلیں اتار رہے ہیں، میرا مذاق اڑا رہے ہیں، یہ سمجھے بغیر کہ جو کچھ ہوا اس میں میری رضامندی شامل نہیں تھی۔‘کیٹ کہتی ہیں کہ انھیں اس شخص پر سخت غصہ ہے جس نے انھیں فلمایا، ’یہ سب آن لائن سستی توجہ لینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ پھر آپ کو گندے تبصرے ملتے ہیں جس سے آپ کا اعتماد اور عزت نفس متاثر ہوتے ہیں۔‘کیٹ نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا کہ دو بار ان پر جنسی حملہ ہو چکا ہے، ’کبھی آپ کو لگتا ہے آپ کی ذہنی صحت بہتر ہو رہی ہے، لیکن پھر اس طرح کے واقعات سب کچھ الٹ دیتےہیں
یہ تحریر میں نے انٹرنیٹ سے لی ہے
ہر قدم ترقی کیا جانب گامزن دنیا اخلاقی پستی کی پاتال کی جانب سفر کر رہی ہے
جواب دیںحذف کریں