تین زبانوں میں گیت گانے والی پاکستانی فوک گلو کارہ نصیبو لال ۔ نصیبولال کی والدہ کلورکوٹ کی مشہور "ببلی گڈوی والی" تھیں۔1970 میں اسی ببلی گڈوی والی کی بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام نصیبولال رکھا گیا اور واقعی وہ نصیبولال ثابت ہوئی۔ نصیبولال نے بھی کلورکوٹ میں اپنے خاندان کے ساتھ گانے بجانے کا کام کیا اور کلورکوٹ میں ان کو گڈوی والی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ نصیبولال کے خاندان کے لوگ کلورکوٹ سے باہر بھی گانا گانے جاتے تھے اور کچھ ان کے لوگ مستقل طور پر بڑے شہروں میں چلے گئے۔ ایک محفل میں نصیبولال کو گانے کا موقع دیا گیا جس کی آواز کو اتنا پسند کیا گیا کہ ان کو بہت سے شادی کے گانے کے پروگرام میں بلایا گیا۔ اسی طرح نصیبولال ریڈیو پاکستان تک پہنچ گئی جہاں انہوں نے اپنی آواز کے ایسے سُر بکھیرے کہ لوگ نصیبولال کو ڈھونڈنے لگے۔ انھوں نے کوک اسٹوڈیو کے نویں سیزن میں بطور نمایاں فنکار کے طور پر کام کیا، انہوں نے راجپوتانہ ، ہندوستان میں ایک خانہ بدوش گھرانے میں جنم لیا ۔ بچپن کی ابتدائی عمر میں ہی گلوکاری کا آغاز کیا اور مشہور ہوگئیں۔ ان کے کریڈٹ میں ان کے بہت سے گانے ہند و پاک دونوں ملکوں میں یکساں مقبول ہیں ۔آپ کو بین الاقوامی میوزک شوز میں بھی مدعو کیا جاتا ہے-پاکستان کی مایہ ناز گلوکارہ نصیبولال کا خاندان 1947 سے پہلے انڈیا علاقہ راجھستان میں رہتے تھے۔
Knowledge about different aspects of the world, One of the social norms that were observed was greetings between different nations. It was observed while standing in a queue. An Arab man saw another Arab man who apparently was his friend. They had extended greetings that included kisses on the cheeks and holding their hands for a prolonged period of time. , such warm greetings seem to be rareamong many people, . this social norm signifies the difference in the extent of personal space well.
ہفتہ، 6 دسمبر، 2025
تین زبانوں میں گیت گانے والی پاکستانی فوک گلو کارہ نصیبو لال
جمعہ، 5 دسمبر، 2025
ٹورانٹو کنیڈا کا اہم ترین شہر ہے
ٹورنٹو کنیڈا کا اہم ترین شہر ہے جس میں آدھے شہری امیگرنٹس ہیں یہاں کے ریسٹورنٹس انہی کے دم قدم سے بھرے رہتے ہیں بس آپ گوگل پر دیسی ریسٹورینٹ لکھئے اور بے شمار نام آ پ کے سامنے آ جائیں گے-بسوں میں سفر کے دیکھئے اسی فیصد ڈرائیورز دیسی ملیں گے -زبان کا کوئ مسئلہ نہیں اردو ہندی پنجابی انگلش جو آپ بولنا پسند کیجئے گا وہی زبان آپ کو بولنے والا مل جائے گا ٍ-اس کا کل رقبہ 630 مربع کلومیٹر ہے۔ شمالاً جنوباً کل 21 کلومیٹر جبکہ شرقاً غرباً 43 کلومیٹر لمبا ہے۔ جھیل اونٹاریو کے کنارے اس کا ساحل کل 26 کلومیٹر طویل ہے اور ٹورنٹو کے کچھ جزائر اس جھیل کے اندر بھی موجود ہیں۔ اس شہر کی جنوبی حد جھیل اونٹاریو، ایٹوبیکو کی کھاڑی اور ہائی وے نمبر 426 شمال میں، سٹیلز ایونیو شمال میں جبکہ روگ دریا مشرق میں حد بندی کا کام دیتا ہے۔شہر کے درمیان سے دو دریا اور ان کی ڈھیر ساری شاخیں گذرتی ہیں۔ ہمبر دریا مغربی حصے سے جبکہ ڈون دریا مشرق سے گذرتا ہے۔ شہر کی بندرگاہ قدرتی طور پر جھیل اونٹاریو کی لہروں کے نتیجے میں ریت وغیرہ کے جمع ہونے سے بنی ہے۔ اسی عمل کے نتیجے میں بندرگاہ کے پاس موجود جزائر بھی بنے تھے۔ جھیل میں گرنے والے بہت سارے دریاؤں نے اپنی گذرگاہوں میں گھنے جنگلات سے بھری ہوئی کھائیاں بنا دی ہیں۔ تاہم یہ کھائیاں شہر کے نقشے میں مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ تاہم ان کھائیوں کی مدد سے شہر میں بارش وغیرہ کے سیلابی پانی کی نکاسی بہت آسان ہو جاتی ہے۔
پچھلے برفانی دور میں ٹورنٹو کا نشیبی حصہ گلیشئر کی جھیل اروکوئس کے نیچے تھا۔ آج بھی شہری حدود اس جھیل کے کناروں کی نشان دہی کرتی ہیں۔ اگرچہ ٹورنٹو زیادہ تر پہاڑی نہیں تاہم جھیل سے اس کی بلندی بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔ جھیل اونٹاریو کا کنارہ سطح سمندر سے 75 میٹر جبکہ یارک یونیورسٹی کے مقام پر یہ بلندی 209 میٹر ہو جاتی ہے۔جھیل کا کنارہ زیادہ تر 19ویں صدی کے اواخر میں کی گئی منصوعی بھرائی سے بنا ہے۔کینیڈا کے جنوبی حصے میں واقع ہونے کی وجہ سے ٹورنٹو کا موسم معتدل نوعیت کا ہے۔ ٹورنٹو کی گرمیاں گرم اور نم جبکہ سردیاں سرد تر ہوتی ہیں۔ شہر میں 4 الگ الگ نوعیت کے موسم پائے جاتے ہیں اور روز مرہ کا درجہ حرارت سردیوں میں بالخصوص کافی فرق ہو سکتا ہے۔ شہری آبادی اور آبی زخیرے کے نزدیک ہونے کی وجہ سے ٹورنٹو میں دن اور رات کے درجہ حرارت میں کافی تغیر دیکھنے کو ملتا ہے۔ گنجان آباد علاقوں میں رات کا درجہ حرارت سردیوں میں بھی نسبتاً کم سرد رہتا ہے۔ تاہم بہار اور اوائل گرما میں سہہ پہر کا وقت کافی خنک بھی ہو سکتا ہے جس کی وجہ جھیل سے آنے والی ہوائیں ہیں۔ تاہم بڑی جھیل کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے برفباری، دھند اور بہار اور خزاں کا موسم تاخیر سے بھی آ سکتا ہے۔ٹورنٹو میں موسم سرما میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کچھ وقت کے لیے منفی 10 ڈگری سے نیچے رہ سکتا ہے جو ہوا کی رفتار کی وجہ سے زیادہ سرد محسوس ہوتا ہے۔ اگر اس صورت حال میں برفباری یا بارش بھی شامل ہو جائے تو روز مرہ کی زندگی کے کام کاج رک جاتے ہیں اور ٹرینوں، بسوں اور ہوائی ٹریفک میں خلل واقع ہوتا ہے۔ نومبر سے وسط اپریل تک ہونے والی برفباری زمین پر جمع ہو جاتی ہے۔
تاہم سردیوں میں اکثر درجہ حرارت کچھ وقت کے لیے 5 سے 12 ڈگری تک بھی چلا جاتا ہے جس سے برف پگھل جاتی ہے اور موسم خوشگوار ہو جاتا ہے۔ ٹورنٹو میں گرمیوں کا موسم نم رہتا ہے۔ عموماً درجہ حرارت 23 سے 31 ڈگری تک رہتا ہے اور دن کے وقت درجہ حرارت 35 ڈگری تک بھی پہنچ سکتا ہے جو ناخوشگوار بن جاتا ہے۔ بہار اور خزاں موسم کی تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں۔بارش اور برفباری سال بھر ہوتی رہتی ہیں تاہم گرمیوں میں بارش کی مقدار کافی زیادہ رہتی ہے۔ اگرچہ بارشوں میں طویل وقفہ بھی آ جاتا ہے تاہم قحط سالی جیسی صورت حال سے کبھی کبھار ہی واسطہ پڑتا ہے۔ سال بھر میں 32 انچ سے زیادہ بارش جبکہ 52 انچ سے زیادہ برف گرتی ہے۔ ٹورنٹو میں اوسطاً 2038 گھنٹے سورج چمکتا ہے۔وِل السوپ اور ڈینیئل لیبیس کائنڈ جیسے ماہرین کے نزدیک ٹورنٹو میں کوئی ایک طرزِ تعمیر نہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہاں کی عمارات کا طرزِ تعمیر بدلتا رہتا ہے۔ٹورنٹو کے افق پر سب سے اہم عمارت سی این ٹاور ہے جو 553 میٹر سے زیادہ بلند ہے۔ برج خلیفہ کی تعمیر سے قبل یہ دنیا کی سب سے اونچی آزاد کھڑی عمارت تھی۔ٹورنٹو میں فلک بوس عمارات کی تعداد 2000 سے زیادہ ہے جن کی بلندی 90 میٹر یا اس سے زیادہ ہے۔ اونچی عمارات کی تعداد کے لحاظ سے شمالی امریکا میں نیو یارک اس سے آگے ہے۔ٹورنٹو کا سب سے اہم سیاحتی مرکز سی این ٹاور ہے۔ اس ٹاور کے خالقین کے لیے یہ بات خوشگوار حیرت کا سبب ہے کہ ان کے اندازوں کے برعکس 30 سال سے زیادہ عرصے تک یہ عمارت دنیا کی بلند ترین عمارت شمار ہوتی رہی ہے
۔ اونٹاریو کا شاہی عجائب گھر بھی سیاحوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہے جہاں دنیا کی ثقافت اور مظاہر قدرت کے متعلق چیزیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 5000 سے زیادہ حیوانی نمونے موجود ہیں جو 260 سے زیادہ انواع کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی مختلف نوعیت کے کئی عجائب گھر یہاں موجود ہیں۔یارک ولے نامی مضافاتی علاقہ ٹورنٹو بھر میں اپنے ریستورانوں اور خریداری کے مراکز کی وجہ سے مشہور ہے۔ اکثر اس علاقے میں شمالی امریکا کے فلمی ستارے اور اہم شخصیات خریداری کرتی یا کھانا کھاتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہاں سالانہ اوسطاً 5 کروڑ سے زیادہ سیاح آتے ہیںگریک ٹاؤن میں موجود ریستورانوں کی تعداد فی کلومیٹر دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ٹورنٹو کاروباری اور معاشی لحاظ سے اہم بین الاقوامی مرکز ہے۔ عموماً اسے کینیڈا کا معاشی مرکز مانا جاتا ہے۔ ٹورنٹو سٹاک ایکسچینج کو کاروباری سرمائے کے اعتبار سے دنیا بھر میں 8ویں بڑی مارکیٹ مانا جاتا ہے۔ کینیڈا کے پانچوں بڑے بینکوں اور دیگر بڑے کاروباری اداروں کے صدر دفاتر ٹورنٹو میں قائم ہیں۔اس شہر کو میڈیا، پبلشنگ، مواصلات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فلمی صنعت کا اہم مرکز مانا جاتا ہے۔اگرچہ یہاں کی زیادہ تر مینو فیکچرنگ کے مراکز شہر کی حدود سے باہر واقع ہیں تاہم ٹورنٹو ہول سیل اور ڈسٹری بیوشن کے حوالے سے اہم حیثیت رکھتا ہے۔ کیبویک اور ونڈسر کی راہداری میں اپنے اہم جغرافیائی محلِ وقوع اور ریل اور سڑکوں کے بہترین نظام کی بدولت آس پاس موجود گاڑیاں بنانے، فولاد، سٹیل، خوراک، مشینری، کیمیکل اور کاغذ کی مصنوعات ٹورنٹو سے ہی آگے بھیجی جاتی ہیں
موسم سرما کے پھلوں کے فوائد
موسم سرما کے پھلوں کے کیا فوائد ہیں؟کینو، مالٹے، فروٹر، انار، انگور، سیب، ناشپاتی، امرود اور کیلے یہ تمام وہ پھل ہیں جن کا شمار سردی کےخاص پھلوں میں ہوتا ہے، ماہرینِ غذائیت کا کہنا ہے کہ جسمانی نظام کے لیے منرلز اور وٹامنز بہت ضروری ہیں جن کو قدرتی طور پر حاصل کرنے کے لیے پھلوں کو اپنی غذا کا حصہ بنانا لازمی ہے۔کینو، ما لٹا، فروٹرمالٹے کی کئی اقسام موجود ہیں جیسے کہ نارنجی، کینو، فروٹر اور مالٹا، ان پھلوں کے جوس کے استعمال سے دنوں میں وزن کم کرنے سمیت متحرک رہنے میں مدد ملتی ہے اور قوتِ مدافعت مضبوط ہوتی ہے۔ہمارے ہاں عام طور سے یہ پھل ’کینو ‘ کہلاتاہے، جو صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان کا شمار مالٹےاور کینو پیدا کرنے والے چھٹے بڑے ملک کے طور پر ہوتا ہے۔موسمی پھلوں کے استعمال سے ناصرف صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ اس کے براہِ راست مثبت اثرات خوبصورتی پر بھی آتے ہیں جس کے نتیجے میں جِلد، ناخن اور بالوں کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے اور خوبصورت میں اضافہ ہوتاانار دل، دماغ، گردوں اور نظام ہاضمہ کے لیے ایک قدرتی ٹانک ہے اور یہ خون کی کمی دور کرنے، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے دیگر فوائد میں نظامِ ہاضمہ کو مضبوط کرنا، قوتِ مدافعت میں اضافہ، جلد اور بالوں کی صحت میں بہتری، اور وزن کم کرنے میں مدد شامل ہیں۔ یہ پھل وٹامن سی اور کے، فلیوونائڈز اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے۔
مالٹے اور کینو نظام ہضم کو بہتر بناتے، وزن میں کمی کرتے، وٹامن سی کی زائد مقدار کے باعث جینیاتی بوسیدگی اور عمر رسیدگی کے اثرات سے بچاتے اور آیورویدک علاج میں بلغم و کھانسی کو کم کرتے ہیں۔انار، موسم سرما کا خاص پھل ہے جو تقریباً ہر ایک کا ہی پسندیدہ ہوتا ہے۔ یہ فائبر ، پوٹاشیم ، وٹامن سی اورB6سے بھرپور ہے۔اس کے استعمال سے دل اور جگر کو طاقت ملتی ہے، متعدد بیماریوں جیسے کہ پھیپھڑوں، چھاتی کے سرطان، امراضِ قلب، الزائمر، ذیابیطس، موٹاپے اور جوڑوں کی سوزش میں انار مفید ثابت ہوتا ہے۔اس کے علاوہ انار کا روزانہ استعمال رنگت بھی نکھارتا ہے۔انگورپاکستان میں مختلف رنگوں کے انگور پائے جاتے ہیں جن میں سرخ، جامنی، ہرے اور پیلے انگور شامل ہیں، انگور میں وٹامن اے کا خزانہ پایا جاتا ہے جبکہ انگوروں میں دیگر وٹامنز یعنی، ڈی 3، ای، سی، ڈی، بی12، بی 6 اور کے بھی پایا جاتا ہےماہرینِ غذائیت کے مطابق انگور کا استعمال دل کے امراض دور کرتا ہے اور کارکردگی بہتر بناتا ہے، اس کے علاوہ ذیابیطس، کینسر، جوڑوں کے درد، وائرل، انفیکشن اور الرجی سے بچاتا ہے۔کیلے سے بلڈپریشر کا علاج ممکن ہے؟
سیب-سیب میں موجود کاپر، پوٹاشیم اور وٹامن سی کی زائد مقدار جِلد کو قدرتی چمک، نکھار اور جسم پر نکلنے والے دھبوں کے نشان ختم کرنے میں جادوئی تاثیر رکھتی ہے۔سرخ سیب کے علاوہ سبز سیب میں فائبر، منرلز اور وٹامنز کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے۔ جِلد کے کینسر سے بچائو کے لیے ہرے سیب کا استعمال کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ اس کے استعمال سے جِلد صحت مند رہتی ہے۔ ناشپاتی کا شمار سیب کے خاندان سے ہے۔ سیب کے بعد یہ سب سے بہترین پھل ہے، جسے سیب کی طرحہی کھایا جاتا ہے۔ یہ امریکا و پاکستان کا اہم پھل ہے جو سبز، زرد اور سرخ رنگوں میں پایا جاتا ہے۔اس کے غذائی اجزا اور نشاستوں میں پروٹین 0.38گرام اور کولیسٹرول کی صفر مقدار ہے جبکہ یہ وٹامن اے، سی، ای اور کے سے بھرپور ہے۔ معدنیا ت میں کیلشیم، کاپر، آئرن، میگنیشیم، میگنیز، فاسفورس اور زنک شامل ہیں۔ناشپاتی جلد کے لیے ہمیشہ سودمند اور نشاستوں سے بھرپور ہوتی ہے۔ اس میں وٹامن کے کی کثیر مقدار خون کو جمنے سے روکتی ہے ، ساتھ ہی بلند اور کم فشار خون کی شکایت کو دور رکھتی ہے۔موسم سرما میں بچوں کی صحت کی حفاظت کیسے کریں؟
امرود-فائبر اور وٹامن اے، بی6 اور سی سے بھر پور امرود کو بھی سپر فوڈز میں شمار کیا جاتا ہے، اس پھل کا سلاد اور چاٹ بنا کر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق امرود کو غذا میں شامل کر لینے سے قبض سے نجات ملتی ہے، ٹھنڈ اور کھانسی میں افاقہ ہوتا ہے، وزن میں کمی، کینسر کے خدشات کم کرتا ہے اور ہارمونز کی افزائش میں کردار ادا کرتا ہے۔امرود ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک ذہین انتخاب ہے۔ اس میں فائبر کا اعلیٰ مواد شوگر کے جذب کو کم کرکے خون میں شکر کی سطح کو منظم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ مزید برآں، امرود کے پتوں کے فوائد میں خون کی شکر کو کم کرنے کی صلاحیت شامل ہے جب اسے چائے یا عرق کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، ادویات میں اس کے استعمال پر زور دیا جاتا ہے۔کیلے میں فائبر اور تین اقسام کی شکر (سکروز، فرکٹوز اور گلوکوز) پائی جاتی ہے، کیلا فوراً انرجی بحال کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ماہرینِ غذائیت کے مطابق ایک وقت میں 2 کیلے کھانے سے 90 منٹ تک انسان خود کو تر و تازہ اور توانا محسوس کرتا ہے اسی لیے یہ دنیا بھر کے ایتھلیٹس کی خوراک کا اہم حصہ ہوتا ہے۔کیلے میں ایک مخصوص پروٹین پایا جاتا ہے جو انسان کو تھکاوٹ میں سکون پہنچاتا اور موڈ کو بہتر بناتا ہے، اسے کھانے سے نیند کی کمی کی شکایت دور ہوتی ہے۔وٹامنز اور منرلز کے لحاظ سے کیلے میں آئرن اور پوٹاشیئم بھرپور مقدار میں پایا جاتا ہے۔
بدھ، 3 دسمبر، 2025
قلعہ سیف اللہ کی انتظامیہ کو یہ اعزاز حاصل ہے
قلعہ سیف اللہ کی انتظامیہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے نوجوان نسل کو بے راہ روی اور منشیات جیسی لعنتوں سے بچانے کے لیے فٹ بال اسٹیڈیم اور ریلوے اسٹیشن کر کٹ گراونڈ بنائے ہیں ۔ تعلیم کی اگر بات کی جائے تو گذشتہ دو دہائیوں سے قلعہ سیف اللہ کے طالب علموں نے یہاں تعلیمی میدان میں ناقابل یقین کامیابیاں حاصل کی ہیں جبکہ مقامی انتظامیہ نے بھی اپنے طالب علموں کے لئے بے مثال کام کئے ہیں اور یہاں نسائی کے مقام پر کیڈٹ کالج کے ساتھ ساتھ ڈگری کالج، ایلیمنٹری کالج،بلوچستان یونیورسٹی کیمپس کئی ہائی ،مڈل اور پرائمری اسکول قائم کئے ہیں جن کے علاوہ لاتعداد نجی اسکول اور کالج بھی تعلیمی خدمات میں پیش پیش ہیں۔اللہ پاک میرے وطن کے لوگوں کو تمام دنیا میں سر بلند کرے آمین - یہاں بہت سے ترقیاتی کام اپنی مدت میں مکمل ہو چکے ہیں جن میں ژوب تا کو ئٹہ براستہ قلعہ سیف اللہ قومی شاہراہ سر فہرست ہیں جن سے نہ صرف قلعہ سیف اللہ کے لوگوں کے آمدورفت کا مسئلہ کافی حد تک حل ہوا ہے بلکہ اقتصادی راہداری کے مختصرترین لنک کا اعزاز بھی اس شاہراہ کوحاصل ہے۔قلعہ سیف اللہ مین بازار شاہین چوک تا ریلوے اسٹیشن دو رویہ سڑک کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے اور سڑک کے دونوں اطراف میں نکاسی آب کے نالے بھی بن چکے ہیں۔سڑک کے کنارے شمسی توانائی سے روشن ہونے والی اسٹرٹ لائیٹس انتہائی نفاست سے نصب کر دی گئی ہیں۔
رات کے وقت ان کے روشن ہونے سے قلعہ سیف اللہ کا بازارجدیدشہر کا منظر پیش کرتا ہے جو ڈیشل کمپلیکس،زرعی دفاتر،ایجوکیشن آفس ،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس اور جدید سہولیات سے آراستہ ڈسٹر کٹ ہسپتال اور تھانہ بھی تعمیر ہو چکا ہے۔ ضلع کا رقبہ 11600مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے اور اس کی دو تحصیل ہیں جو قلعہ سیف اللہ اور مسلم باغ کہلاتے ہیں۔ قلعہ سیف اللہ 14دسمبر 1988کو ضلع بنا۔ اس سے پہلے یہ ضلع ژوب کا حصہ ہوتا تھا۔ ضلع کی آبادی لگ بھگ دو لاکھ تیس ہزار ہے-قلعہ سیف اللہ سطح سمندر سے 1500تا 2200میٹرز کی بلندی پر ہے، قلعہ سیف اللہ میں گرمیوں میں زیادہ گرمی اور سردیوں میں بہت سردی پڑ تی ہے، یونین کونسل کان مہترزئی جو سطح سمندر سے 2170کی بلندی پر ہے وہاں جنوری اور فروری کے مہینوں میں پہاڑ وں کی چوٹیاں برف سے ڈھکی رہتی ہیں اور غضب کی سردی پورے علاقہ کو اپنی لپیٹ میں رکھتی ہے ۔ ضلع قلع سیف اللہ بنیادی طو ر پر ایک زرعی علاقہ ہے، جہاں 22سو کے لگ بھگ ٹیوب ویل اور لاکھوں ایکڑ پر زراعت پھیلی ہوئی ہے، عوام کا زیادہ تر حصہ زراعت پر ہی گزر بسر کرتا ہے، زرعی فعالیت کی وجہ سے ملک بھر کی منڈیوں میں قلعہ سیف اللہ کی سبزی اور پھل مہنگے داموں بکتے ہیں۔ ضلع میں سب کی مختلف قسمیں پیدا ہوتی ہیں سائبریا سے آنے والے موسمی پرندے دریاژوب کے کناروں کو اپنی محفوظ آما جگاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں
یہاں کی سرزمین انتہائی زرخیز ہے اسی وجہ سے قلعہ سیف اللہ کو بلوچستان کے اہم زرعی شہروں میں شمار کیا جاتاہے۔یہاں پر گندم،تمباکو اورمکئی کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں جو علاقائی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہےں۔سبزیاں خصوصاًبھنڈی ،توری ،کریلا، کدواور ٹماٹر وغیرہ بکثرت پائے جاتے ہیں۔جن سے علاقے کے ساتھ ساتھ ملکی ضروریات کو بھی کافی حد تک پورا کر رہے ہیں۔یہاں تقریباً60% حصہ باغات پر مشتمل ہے سیب (چاروں قسم کندھاری،تور کلواور شین کلو)انار ،آڑو،آلوچہ،بادام اور آخروٹ وغیرہ سر فہرست ہیں۔ کے علاوہ خوبانی، انگور، انار اور سبزیوں میں گاجر، سبز مرچ اور سرخ مرچ اور کئی اقسام کی دالیں بھی پیدا ہوتی ہیں، یہاں کا ٹماٹر اپنے ذائقہ کے لیے بہت مشہور ہے- یہاں کی فصلیں،سبزیاں اور پھل نا صرف صوبہ کی سطح بلکہ قومی سطح پر بھی انتہائی پسندیدگی کی نظر سے دیکھی جاتی ہیں۔
منگل، 2 دسمبر، 2025
سرمائ پرندوں کی ہجرت
پیر، 1 دسمبر، 2025
شمس العلماء خان بہادر حافظ ڈپٹی مولوی نذیر احمد
شمس العلماء خان بہادر حافظ ڈپٹی مولوی نذیر احمد ضلع بجنور کی تحصیل نگینہ کے ایک گاؤں ریہر میں پیدا ہوئے۔ ایک مشہور بزرگ شاہ عبد الغفور اعظم پوری کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے، لیکن آپ کے والد مولوی سعادت علی غریب آدمی تھے اور یو پی کے ضلع بجنور کے رہنے والے تھے۔شروع کی تعلیم والد صاحب سے حاصل کی۔ چودہ برس کے ہوئے تو دلی آ گئے اور یہاں اورنگ آبادی مسجد کے مدرسے میں داخل ہو گئے۔ مولوی عبدالخالق ان کے استاد تھے۔یہ وہ زمانہ تھا کہ مسلمانوں کی حالت اچھی نہ تھی۔ دہلی کے آس پاس برائے نام مغل بادشاہت قائم تھی۔ دینی مدرسوں کے طالب علم محلوں کے گھروں سے روٹیاں لا کر پیٹ بھرتے تھے اور تعلیم حاصل کرتے تھے۔ نذ یر احمد کو بھی یہی کچھ کرنا پڑتا تھا، بلکہ ان کے لیے تو ایک پریشانی یہ تھی کہ وہ جس گھر سے روٹی لاتے تھے اس میں ایک ایسی لڑکی رہتی تھی جو پہلے ان سے ہانڈی کے لیے مصالحہ یعنی مرچیں، دھنیا اور پیاز وغیرہ پسواتی تھی اور پھر روٹی دیتی تھی اور اگر کام کرتے ہوئے سُستی کرتے تھے تو ان کی انگلیوں پر سل کا بٹہ مارتی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس لڑکی سے ان کی شادی ہوئی۔کچھ عرصہ بعد دلی کالج میں داخل ہوئے جہاں انھوں نے عربی، فلسفہ اور ریاضی کی تعلیم حاصل کی۔مولوی نذیر احمد نے اپنی زندگی کا آغاز ایک مدرس کی حیثیت سے کیا لیکن خداداد ذہانت اور انتھک کوششوں سے جلد ہی ترقی کرکے ڈپٹی انسپکٹر مدارس مقرر ہوئے۔
جارجیا کی سب سے حیرت انگیز مثال پولیس کا مکمل خاتمہ تھی
جارجیا کی سب سے حیرت انگیز مثال پولیس کا مکمل خاتمہ تھی اور انتہائی حیران کن پہلو یہ تھا کہ انہوں نے پورے کے پورے اداروں کو مکمل طور پر ختم کر کے نئے سرے سے بنایا۔سب سے حیرت انگیز مثال پولیس کا مکمل خاتمہ تھی۔2004 سے پہلے جارجیا کی پولیس کرپشن میں اتنی ڈوبی ہوئی تھی کہ ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے رشوت لازمی تھی عوام پولیس سے خوفزدہ رہتی تھی پولیس خود مجرموں کے ساتھ ملی ہوئی تھی-نئی حکومت نے کیا کیا؟ایک رات کے اندر پوری کی پوری پولیس فورس برطرف کر دی-یہ قدم انتہائی حیران کن تھا۔ایک رات میں سب کے سب پولیس اہلکاروں کی جگہ نئے اہلکاروں نے کام سنبھال لیانئی پولیس کے لیے ایک بھی پرانا اہلکار نہیں رکھا گیا-صرف ایک سال کے اندر کرپشن 90% تک کم ہو گئی عوام کا پولیس پر اعتماد مکمل بحال ہو گیا-جرائم کی شرح میں تیز ترین کمی آئی-یہ دنیا بھر میں اصلاحات کی تاریخ کا سب سے بڑا اور جرات مندانہ تجربہ تھا۔ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ پورے کا پورا ادارہ ختم کر کے نئے سرے سے بنایا جا سکتا ہے۔جارجیا نے ثابت کیا کہ کبھی کبھی مرمت سے کام نہیں چلتا، بلکہ پورا ڈھانچہ ہی توڑ کر نیا بنانا پڑتا ہے۔
اتوار، 30 نومبر، 2025
اجنٹا کے غار -عجوبہءروزگار
جنوبی ہند کے غار، جو قدیم زمانے کے انتہائ ماہر کاریگروں نے پہاڑ تراش کر بنائے تھے۔ دراصل یہ حیدرآباد دکن کے نزدیک اورنگ آباد سے تیرہ میل شمال مغرب کی جانب واقع ہیں۔ ان کا زمانہ پانچویں سے دسویں صدی عیسوی خیال کیاجاتا ہے اور یہ 4\1 مربع میل علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ کل غار یا عمارتیں چونتیس ہیں۔ ان میں بدھ مت کی بارہ۔ برہمنوں کی سترہ اور جینیوں کی پانچ ہیں۔پہاڑ کی جن چٹانوں کو تراش کر یہ غار بنائے گئے ہں۔ وہ خشک پہاڑ ہیں۔ ان غاروں کی ترتیب اور تراش میں معماروں نے کمال دکھایا ہے۔ چٹانوں کو کاٹ کر دو منزلہ اور سہ منزلہ عمارتیں تیار کی گئی ہیں۔ ایک ہی چٹان سے دو منزلہ اور سہ منزلہ عمارت کے چھت ،پیلپائے، دلان، حجرے، سیڑھیاں اور دیواروں کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے بت بنانا آسان کام نہیں۔ ان سنگ تراشوں کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ انھوں نے نہایت کامیابی کے ساتھ یہ اندازہ کر لیا کہ چٹان میں وہ عمارت کھودنے والے ہیں وہ اندر سے ٹھوس اور دراڑ کے بغیر ہےن عمارتوں کے کمرے بھی اس قدر وسیع ہیں کہ ان میں ایک ہزار سے زیادہ آدمی ایک ساتھ بیٹھ سکتے ہیں۔
تمام عمارتوں میں دو طرفہ زینے تراشے گئے ہیں جن پر چار رپانچ آدمی بیک وقت ایک ساتھ چڑھ سکتے ہیں۔ اسی سے باقی عمارتوں کی وسعت اور عظمت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ ان میں ہوا اور روشنی کا بھی انتظام تھا۔ صرف چند کمرے ایسے ہیں جنھیں تاریک کہا جا سکتا ہے۔ان غاروں میں بے شمار تراشیدہ بت ہیں جن کی ساخت بتاتی ہے کہ اس زمانے کے سنگ تراش اپنے فن میں کس قدر ماہر تھے۔ بعض بت بہت بڑے لیکن طبعی تناسب کے لحاظ سے کاریگری کے بہترین نمونے ہیں۔ سب سے زیادہ بت بدھ،مہادیو اور پاربتی کے ہیں۔ مشہور ہے کہ مہادیو سب سے پہلے انھی پہاڑیوں پر ظاہر ہوئے تھے اور اپنی بیوی پاربتی کے ساتھ یہاں رہا کرتے تھے۔ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ ایلورا کی عمارتیں کسی ایک زمانے میں تعمیر نہیں ہوئیں بلکہ مختلف زمانوں میں ایک طویل عرصے یعنی صدیوں کی محنت اور صبر و استقلال کا نتیجہ ہیں۔یہ غار دنیا بھر کے سیاحوں کی دلچسپی کاباعث ہیں ا جنتا کے غاروں کی نقاشی کا سب سے بڑا راز ان کی خطوط کشی ہے۔ خطوط کا جتنا نظر نواز استعمال اجنتا کی نقاشی میں پایا جاتا ہے اس کی مثال کسی اور جگہ نہیں ملتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تصویریں ابھی بول پڑیں گی۔کنول کے پھول کو اجنتا کی مصوری میں ہر موقع پر کام میں لایا گيا ہے اور کنول کی یہ امتیازی شان ہمیں کہیں اور نظر نہیں آتی
عورت کی عظمت کو اجنتا کی نقاشی میں نمایاں مقام دیا گيا ہے جس سے ان دور میں عورت کے مرتبے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ہاتھی کی تصویر کشی بھی اجنتا کی مصوری کا موضوع ہے۔ ڈیزائن سازی میں غاروں کے نقاش اپنا جواب نہیں رکھتے۔ دیوی دیوتاؤں، چرند و پرند اور انسانوں سے لے کر پھولوں کومنقش کیا ہے سنہ 1822 میں ایک دوسرے شخص ولیم آئیکسن نے ان غاروں پر مبنی ایک مقالہ پڑھا اور صدیوں سے دنیا کی نظروں سے اوجھل ان غاروں کو زندہ جاوید کر دیا۔ بہت جلد یہ غار اپنی نقاشی اور سنگ تراشی کے بہترین نمونوں کی وجہ سے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں مشہور ہوئے اور دنیا بھر سے نامور نقاش اور سنگ تراش انھیں دیکھنے آنے لگے۔ دھیرے دھیرے یہ غار سیاحوں کا پسندیدہ مرکز بن گئے۔جب اورنگ آباد کا علاقہ ریاست حیدرآباد کا حصہ بنا تو نظام نے ان غاروں کی تجدید پر توجہ دی اور سنہ 1920 میں غاروں کو میوزیم کی شکل دی، آمد و رفت کے ذرائع فراہم کیے اور داخلے کی فیس مقرر کر دی۔ آج بھی لوگ جوق در جوق ان غاروں کو دیکھنے آتے ہیں۔عالمی ادارے یونیسکو کا کہنا ہے کہ یہ 30 غاروں کا یہ مجموعہ مختلف زمانے میں بنا ہے۔
پہلا مجموعہ قبل مسیح کا ہے تو دوسرا مجموعہ بعد از مسیح کا ہے۔ الغرض اجنتا کے ان غاروں کی نقاشی قابل دید ہے جو تیز رنگوں سے بنائی گئی ہے اور تصویریں ہوش ربا منظر پیش کرتی ہیں۔ نقاشی میں استعمال کیے جانے والے رنگی بیشتر، سرخ، زرد، بھورے، کالے یا سفید ہیں۔ لاجورد اور زرد رنگ کی آمیزش سے سبز رنگ تیار کیا گيا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی بھی رنگ کو نقاشی میں دوبارہ استعمال نہیں کیا گيا ہے۔ان غاروں میں مہاتما بدھ کے آثارو احوال کو پیش کیا گيا ہےیہ غار مہاتما بدھ کے آثار کا آئینہ ہیں اور بودھ مت کی مختلف کہانیوں کے عکاس ہیں۔ اس کے ذریعے بودھ مت کی تاریخی اور تہذیبی عظمت کے ساتھ مصوری کی ارتقائي صورت بھی نظروں کے سامنے آ جاتی ہے۔ ان کی ساخت، چہروں پر چھائے جذبات، حرکات و سکنات کے دلفریب انداز ایسا منظر پیش کرتے ہیں کہ جن کا تصور برسوں تک دماغ سے محو نہیں ہوتا۔ا۔اس کی نرم و نازک پنکھڑیوں سے لے کر ڈنٹھل تک کی نقاشی میں وہ مہارت ہے کہ اصل کا دھوکہ ہوتا ہے۔
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا
میں سہاگن بنی مگر !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...
-
نام تو اس کا لینارڈ تھا لیکن اسلام قبول کر لینے کے بعد فاروق احمد لینارڈ انگلستانی ہو گیا-یہ سچی کہانی ایک ایسے انگریز بچّے لی...