blogger'blog لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
blogger'blog لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 22 مارچ، 2026

باکو جدید اور قدیم کے آئینے میں

 ملک کا دارالحکومت   تیل کی دولت سے مالا مال اس ملک کا سمند ر پانیوں کے ساتھ ساتھ تیل بھی اگلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باکو شہر کے نواح کا سفر کرتے ہوئے یا پھر شہر سے باہر نکل کر دیگر علاقوں کی طرف جائیں تو سمندر میں لگی ہوئی کرینیں نظر آئیں گی۔ یہ مشینیں تیل کی تلاش کا کام کرتی ہیں۔جہاں تک آذربائیجان میں نظامِ حکومت  کا سوال ہے تو وہاں بھی ایک  غیر جمہوری حکومت ہے ۔ الہام علیوف ملک کے صدر ہیں   جو ان کے اجداد کی مسند ہے ۔  آبادی کے لحاظ سے یہ ایک بڑا شہر ہے۔ یہ آذربائیجان کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ بحیرہ کیسپیئن کے کنارے واقع ہے۔ باکو تیل کی دولت سے مالا مال علاقے میں واقع ہونے کے باعث تیل کی صنعتوں کا مرکز ہے۔ شہر 11 اضلاع اور 48 قصبہ جات میں تقسیم ہے۔ باکو کے وسط میں قدیم شہر واقع ہے جس کے گرد فصیل ہے۔ دسمبر 2000ء میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ شطرنج کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی گیری کیسپاروف کا تعلق اسی شہر سے ہے۔جزیرہ نما آبشاران سے پہلی مرتبہ مشینوں کے ذریعے 1842ء میں تیل نکالا گیا۔ 1877ء میں یہاں ریلوے لائن بچھائی گئی۔ 1907ء میں باکو سے باطوم (بحیرہ اسود) تک تیل کی پائپ لائن مکمل ہو گئی اور معدنی تیل برآمد ہونے لگا۔ روسی انقلاب کے بعد 31 جولائی 1918ء سے 28 اپریل 1920ء تک باکو آزاد مملکت آذربائیجان کا دار الحکومت رہا، پھر سرخ فوج نے اس پر قبضہ کر لیا۔ دسمبر 1991ء میں سقوط روس کے بعد باکو آزاد جمہوریہ آذربائیجان کا صدر مقام بن گیا۔ باکو کے قریب پارسیوں (مجوسیوں) کا آتش کدہ آج بھی قائم ہے۔ مجوسی مذہب کے بانی زرتشت کا تعلق آذربائیجان ہی سے تھا۔


اس شہر کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ پہاڑ پر تعمیر کردہ عمارات پر مشتمل ہے۔ یہاں کہیں آپ کو سیڑھیاں اُتر کر غاروں میں تعمیرشُدہ دُکانوں میں جانا پڑتا ہے، تو کہیں سیڑھیاں چڑھ کر پتّھر سے بنی سڑک کے دونوں اطراف واقع غار نما دُکانوں کا رُخ کرنا پڑتا ہے، جن میں آذربائیجان کی مقامی مصنوعات فروخت کے لیے رکھی گئی ہیں اور ان میں بھی قالین اور شالیں نمایاں ہیں۔ ساحل پر واقع نیشنل پارک تھا۔ طویل ساحلی پٹّی پر جدید طرزِ تعمیر کے حامل ہوٹلز، ریسٹورنٹس، شاپنگ مالز اور وسیع و عریض باغ واقع ہے۔   ساحل پر غیر مُلکی سیّاحوں کے علاوہ مقامی باشندے بھی بہت بڑی تعداد میں موجود تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پورا باکو شہر ہی ساحل پر اُمڈ آیا ہے۔ یہاں بنے شاپنگ مالز میں دُنیا کے تمام بڑے برانڈز کی مصنوعات اور تفریحِ طبع کا سامان موجود ہے۔نیشنل پارک میں ایک ’’مِنی وینس‘‘ بھی ہے، جہاں نہریں بہہ رہی ہیں اور ان کے کنارے دِیدہ زیب سنگِ مرمر سے پختہ کیے گئے ہیں۔ نہروں کے کنارے پُھولوں سے ڈھکی راہ داریاں اور اوپر چھوٹے چھوٹے پُل ہیں۔ مِنی وینس کی سَیر کے دوران ہمیں تازہ بلیو بیری اور اسٹرا بیری فروخت کرنے والا ایک مقامی باشندہ دکھائی دیا۔ اگر آپ کے پاس مغربی پاسپورٹ ہو تو  آپ کی باکو سماج میں آؤ بھگت ہو گی  ۔باکو معاشرے میں رشوت ستانی عام ہے  میرے نزدیک اس رشوت ستانی کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان و پاکستان کے نوجوان یورپ جانے کے چکر میں آذربائیجان جاتے ہیں پھر وہاں سے یورپ نکلنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ آذری حکام جانتے ہیں کہ یہ لوگ کیوں آرہے ہیں‘ ان کی اس خواہش اور ویزہ کے حصول میں غلط بیانی ان لوگوں کی کمزوری بن جاتی ہے 



اور یوں ان کے لیے رشوت دینا لازم ہوجاتا ہے۔ ایک پاکستانی کا کہنا ہے  کہ میرے ساتھ باکو ایئر پورٹ پر جب اس طرح کا برتائو کیا جانے لگا تو میں نے اپنا تعارفی کارڈ پیش کیا‘ اس پر امیگریشن افسر نے خوش اسلوبی سے نہ صرف مہر لگائی بلکہ ادب سے سلام بھی کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہمارے اپنے معاملات درست ہوں تو ایسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ آذربائیجان کے کسی بھی باشندے کو آپ ملیں تو اس کی وضع قطع اور گفت و شنید سے آپ کو مسلم ہونے کا تاثر نہیں ملے گا۔ لوگوں کی اکثریت آذری زبان کے ساتھ ساتھ روسی اور فارسی زبان بھی سمجھتی ہے۔ یہ ایک شیعہ اکثریتی ملک ہے اوراس کے ایران کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات ہیں۔ روسی اور مغربی کلچر کے مظہر اس ملک میں عملاً اسلام دور دور تک نظر نہیں آتا۔ شہر کے فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے یا زیرِ زمین میٹرو ٹرین کے سٹیشنوں پر جاتے ہوئے آپ کو جگہ جگہ شراب کے ٹھیلے نظر آئیں گے، یہاں شرب پانی کے بھاؤ بکتی ہے اور سرِ بازار کھلے آسمان تلے رقص و سرود کا انتظام ہوتا ہے۔ فٹ پاتھ کے ساتھ ساتھ واقع شراب خانوں میں نوجوان لڑکیوں کا ناچنا ایک مکمل انڈسڑی کی صورت اختیار کرچکاہے۔ 



کچھ ایسے پاکستانی بھی نظر آئے جو ماؤں اور بہنوں کا زیور بیچ کر تو کوئی زمین کے ٹکڑے اور مال مویشی بیچ کراس لیے آذربائیجان آ تے ہیں  کہ  یہاں سے کسی یورپ کےملک نکل جا ئیں گے اور اپنے رزق حلال سے اپنے گھر والوں کا مقدر بدل دیں  گے۔اس معا شرے میں  نوجوان لڑکیاں اور لڑکے کسی بھی مغربی ملک سے کہیں زیادہ مادر پدر آزاد اور بے راہ روی کا شکار نظر آتے ہیں ۔ خواتین دکانیں چلاتی اور کاروبار کرتی ہیں۔ کھانا پینا اور طرزِ زندگی سو فیصد روسیوں والا ہے۔ باکو ائیر پورٹ دارالحکومت میں واقع ہے  ۔ شہر میں زیرِ زمین ریل کا نظام پہلے سے موجود ہے اور اسے مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ آذری کرنسی کا نامــ’منات ‘ہے جو تقریباً ایک128 روپے کے برابر ہے یعنی یہ ڈالر سے بھی زیادہ مستحکم ہے۔ باکو کا نام فارسی لفظ بادکوبہ (ہواؤں کا مارا ہوا) سے مشتق ہے اور اس کے محل وقوع کے لحاظ سے بہت موزوں ہے۔ قرون وسطٰی کے مورخین اسے باکویہ، بلاکوہ اور باکہ بھی لکھتے ہیں۔ تاریخ میں اس کا ذکر تیسری صدی ہجری کے بعد برابر آتا ہے۔ باکو عرصے تک شاہان شیروان کے ماتحت رہا۔ 1550ء میں صفوی سلطان طہماسپ اول کا اس پر قبضہ ہو گیا۔ 1583ء تا 1660ء یہ شہر عثمانی ترکوں کے ماتحت رہا۔ 1806ء میں روسیوں نے اسے ایرانیوں سے چھین لیا۔  باکو کے دو بڑے قدیم ترین اور تاریخی اہمیت کے حامل مقامات کی  معلومات  اگلی تحریر  میں 

اس تحریر میں گوگل سرچ سے استفادہ کیا گیا     ہے

 

بدھ، 18 مارچ، 2026

‏قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں میں تقسیم تھا

 

 ‏قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں میں تقسیم تھا‘ قلات سب سے بڑی ریاست تھی‘ اس کے پاس بلوچستان کا 20 فیصد رقبہ تھا جب کہ باقی 80 فیصد علاقہ خاران‘ بیلا‘ مکران اور برٹش بلوچستان میں تقسیم تھا‘ قلات ریاست 1405 میں بنی اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی جغرافیائی حدود افغانستان میں قندہار‘ ایران میں بندر عباس اور کرمان تک پھیل گئیں‘ اس زمانے میں قلات میں بلوچ اور براہوی دونوں قبائل آباد تھے لہٰذا قلات کو بلوچ براہوی سلطنت کہا جاتا تھا‘ انگریز نے 1876میں کوئٹہ پر قبضہ کیا اور یہاں چھاؤنی بنا لی‘انگریز نے بعدازاں کوئٹہ سے ملحقہ علاقے خان آف قلات سے لیز پر لے لیے اور یوں برٹش بلوچستان وجود میں آ گیا۔بلوچستان کا نام اس سے قبل تاریخ میں موجود نہیں تھا‘ انگریز کا فوکس پشتون علاقوں کی طرف تھا لہٰذا وہ افغان سرحد کے ساتھ ساتھ پشتون علاقوں میں اپنا اثرورسوخ بڑھاتے چلے گئےکوئٹہ کے بعد زیارت اور فورٹ سنڈیمن ان کے بڑے مرکز تھے‘ ڈیرہ بگٹی‘ کوہلو‘ سبی‘ چاغی‘ لورا لائی اور پشین بھی ان میں شامل تھے‘ باقی تمام ریاستیں اور علاقے خودمختار رہے‘ بہرحال 1947میں انگریز نے ہندوستان کی 565 پرنسلی اسٹیٹس کی طرح بلوچستان کی ریاستوں کو بھی دو آپشن دیے‏بھارت میں شامل ہوجائیں یا پھر پاکستان کے ساتھ مل جائیں‘ برٹش بلوچستان (یعنی کوئٹہ) نے جون 1947میں پاکستان کے حق میں قرارداد پاس کر دی‘ نواب آف خاران نے لیڈ لی اور یہ پاکستان میں شامل ہو گئے۔چند دن بعد ریاست بیلا اور مکران بھی پاکستان میں شامل ہو گئی یوں قلات پیچھے رہ گئی‘






خان آف قلات میر احمد یار خان اپنے سرداروں کو قائل کر رہے تھے لیکن اس میں بہت وقت ضایع ہو گیا‘ اس دوران آل انڈیا ریڈیو نے قلات کے بھارت میں شامل ہونے کی خبر نشر کر دی‘ اس سے افراتفری پھیل گئ خان آف قلات نے قائداعظم سے ملاقات کی اور 30 مارچ 1948 کو پاکستان میں شمولیت کا اعلان کر دیا‘ اس اعلان میں ان کا خاندان اور دوسرے سرداروں کی رضامندی شامل نہیں تھی چناں چہ میر احمد یار خان کے بھائی پرنس عبدالکریم خان نے بلوچستان نیشنل لبریشن کمیٹی (بی این ایل سی) کے نام سے گوریلا تنظیم بنائی اور بغاوت شروع کر دی۔ پاکستان نے بی این ایل سی کو کچلنے کے لیے بلوچستان میں فوج داخل کر دی اور اس کے بعد بلوچستان میں کبھی امن قائم نہ ہو سکا‘ اس زمانے میں مشرقی پاکستان آبادی کے لحاظ سے بڑا صوبہ تھا‘ باقی صوبے چھوٹے تھے چناں چہ الیکشن کی صورت میں مشرقی پاکستان کے ایم این اے زیادہ تعداد میں اسمبلی آ جاتے تھے اور یوں حکومت بنگالیوں کے پاس چلی جاتی تھی اور یہ اسٹیبلشمنٹ کو سوٹ نہیں کرتا تھا چناں چہ سکندر مرزا کے دور میں ون یونٹ بنا دیا گیا‏جس کے بعد مشرقی پاکستان ایک صوبہ اور باقی چار صوبے مل کر دوسرا صوبہ بن گئے‘ بلوچستان نے اسے تسلیم نہیں کیا اور یوں یہاں دوسری مرتبہ بغاوت شروع ہو گئی‘ اس بغاوت کو کچلنے کے لیے فیلڈ مارشل ایوب خان نے بلوچستان میں دوسری مرتبہ فوج چڑھا دی‘ قلات پر قبضہ ہو گیا اور خان آف قلات کا محل لوٹ لیا گیا‘ اس کے بعد پے در پے آپریشن ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ نوبت جعفر ایکسپریس پر قبضے تک پہنچ گئی۔ہمیں آگے بڑھنے سے قبل دو حقیقتوں کا ادراک کرنا ہوگا‘ پہلی حقیقت بلوچستان کی جغرافیائی صورت حال ہے‘ بلوچستان ایک بنجر اور بیابان علاقہ ہے جس کی وجہ سے م



‘ سکندر اعظم سے لے کر برطانیہ تک کبھی کسی بڑی فوج نے یہاں سے گزرنے کی غلطی نہیں کی‘ اس کی وجہ چارے‘ پانی اور خوراک کی کمی تھی‘ ماضی میں فوجیں گھوڑوں پر سفر کرتی تھیں اور گھوڑوں کو چارہ اور پانی درکار ہوتا تھا اور بلوچستان میں یہ دونوں نہیں تھے‏لہٰذا بلوچستان کو ماضی میں کسی بڑی یلغار کا سامنا نہیں کرنا پڑا‘ تمام طاقتوں بشمول مغل اور برطانیہ انھیں آزاد تسلیم کرتے رہے اوی کی تمام حکومتیں اور بادشاہ بلوچستان کے سرداروں سے ڈیل کرتے رہے‏یہ سرداروں کو دے دلا کر راضی کرلیتے تھے اور یوں بلوچستان ان کے ہاتھ میں رہتا تھا‘ انگریز نے بھی خان آف قلات سے ہزاروں مربع میل کا علاقہ کرائے پر لے رکھا تھا اور یہ انھیں اس کا کرایہ دیتے تھے چناں چہ بڑی طاقتوں اور حکومتوں سے وصولی سرداروں کے ڈی این اے میں شامل ہو گئی ہے۔ حکومت پاکستان بھی یہ غلطی کرتی رہی‘ اس نے ہر دور میں سرداروں کو ہاتھ میں رکھا‘ یہ کبھی ایک سردار کو اقتدار دے کر دوسروں کو کنٹرول کرتی تھی اور کبھی دوسرے سرداروں کو آگے لا کر پہلے سرداروں کو قابو کر لیتی تھی‘ 



صوبے کا ترقیاتی بجٹ بھی یہ سب آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں‘ آپ المیہ دیکھیے عبدالقدوس بزنجو صرف 544 ووٹ لے کر ایم پی اے بنے (ٹوٹل رجسٹرڈ ووٹ 57666 تھے) اور یہ ان 544 ووٹوں کے ذریعے بعدازاں وزیراعلیٰ بن گئے‘ لوگ انھیں سلیپنگ وزیراعلیٰ کہتے تھے کیوں کہ یہ اپنی شبینہ مصروفیات کی وجہ سے دن بارہ بجے اٹھتے تھے اور اس کے بعد اگلی مصروفیات کا بندوبست شروع کر دیتے تھے اور یہ کھیل بلوچستان میں ہزار سال سے جاری ہے یعنی سرداروں کو ہاتھ میں رکھیں‘ ان کے مطالبات پورے کرتے رہیں اور سسٹم چلاتے رہیں‘ اس بندوبست میں سردار امیر سے امیر ہوتے چلے گئے جب کہ عوام غریب سے غریب ہوتے چلے گئے۔  


منگل، 17 مارچ، 2026

موسم سرما کے ہجرتی پرندوں کا مسکن ہالیجی جھیل

  



ہالیجی جھیل  ٹھٹھہ سے پہلے شمال کی جانب اپنی نوعیت کی انمول جھیل ہونے کے ساتھٍ  پاکستان کے آبی مقامات میں ایک بہترین تفریح گاہ ہے۔                                          کبھی جا کر دیکھئے تاحدِ نگاہ بہتا ہوا پانی، لہراتی سرسراتی تازہ ہوائیں، پیپل کے درختوں کی راحت بھری چھاؤں اور خوبصورت چہچہاتے پرندے یہاں کے ماحول میں ایسی دلکشی پیدا کر تے ہیھے کہ دیکھنے والے کے قلب کا تصور ناقابل بیان ہوتا ہے۔اِس بار ہم نے سفر کے لیے ہالیجی جھیل کا انتخاب کیا۔ ہالیجی جھیل کراچی سے ٹھٹھہ جانیوالی شاہراہ پر تقریباً 85 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ ٹھٹھہ سے پہلے شمال کی جانب یہ جھیل اپنی نوعیت کی انمول جھیل ہے۔ اِس نفسا نفسی کے دور میں جہاں زندگی اتنی تیز ہوگئی ہے کہ کسی کو کسی کا کچھ خیال ہی نہیں، وہاں اِس قدر پُرسکون ماحول کی موجودگی میں انسان وہ سب کچھ بھول جاتا ہے جو وہ چھوڑ کر آیا ہے۔معلومات کے مطابق اِس جھیل کی لمبائی 685 مربع میل بتائی جاتی ہے اور اِس کی گہرائی اوسط 17 فٹ تک ہے۔ اِس جھیل میں کنجھر جھیل سے بھی پانی چھوڑا جاتا تھا، لیکن اب یہ بند کردیا گیا ہے۔پرندوں حیوانات اور نباتات کی بہتات نے اسے قدرتی مناظر اور ماحول کے متلاشی لوگوں کیلئے اہم مقام بنا دیا ہے۔ کراچی سے قریب اور قومی شاہراہ سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہونے کی وجہ سے اس جھیل پر پہنچنا بھی آسان ہے اور یہ اس کی مقبولیت کی ایک اور بڑی وجہ ہے۔پاکستان کی خوبصورت جھیلیں ہر سال روس ، سائبیریا اور شمال وسطی ایشیائی ریاستوں کے انتہائی سرد علاقوں سے لا کھوں کی تعداد میں آنے والے ہجرتی مہمان پرندوں کا عارضی مسکن ہوتی ہیں  'جن میں ہالیجی جھیل خاص طور پر  ان پرندوں سے آباد ہو کر لہلہاتی ہے 



ہالیجی جھیل کی ساری دلکشی اور تمام تر حسن اس کا نیلا پانی، مقامی اور مہمان پرندوں کی بہتات اور اس کے دلکش جزیروں کے باسیوں سے عبارت ہے۔آج سے اٹھارہ ہزار سال قبل جب زمین کے موسمی حالات نے تبدیل ہونا شروع کیا اور زمین کا درجہ حرارت بتدریج بڑھنے لگا تو اس کے نتیجے میں قطبوں پر جمی برف پگھلنا شروع ہو گئی، بلندی سے پگھلتی ہوئی یہ برف زمین پر پانی بن کر پھیل گئی، جس کی وجہ سے زمین کئی خطوں میںتقسیم ہو گئی۔ پاکستان میں کئی پہاڑی سلسلے ہیں، ان پر جمی برف کے پگھلنے کے باعث یہاں بہت زیادہ آبی ذخائر بھی ہیں اور بہت سی آبی گزرگاہیں بھی۔ ہمالیائی سلسلوں سے نکلنے والے آبی راستے شمال کے بلندو بالا پہاڑوں سے جنوب کی دلدلی علاقوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔دریائے سندھ ہمارے ملک کا مرکزی دریا ہے جو شمال کے بلندو بالا ہمالیائی خطوں سے شروع ہوتا ہے اور پھر بحیرۂ عرب میں جا گرتا ہے۔ ہالیجی جھیل در حقیقت ایک تالاب تھا جہاں بارش کا پانی جمع رہتا تھا اس کے اطراف میں قسم قسم کے پرندے، حیوانات اور نباتات پائے جاتے تھے لیکن اس صدی کی تیسری دہائی میں اس تالاب کو ایک وسیع ذخیرہ آب کی شکل دے دی گئی جس کے باعث یہ کراچی شہر کی آبادی کو پانی کی فراہمی کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن گیا۔محل و قوع کے اعتبار سے ہالیجی جھیل قومی شاہراہ پر واقع ہے۔ کراچی سے باآسانی چند گھنٹے کی مسافت کے بعد بذریعہ سڑک وہاں پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ کراچی سے 88کلو میٹر اور ٹھٹھہ سے صرف 21کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ،جب آپ کراچی سے ٹھٹھہ کی جانب قومی شاہراہ پر سفر کریں تو 88کلو میٹر اور بائیں جانب ایک بورڈ نظر آتا ہے جو ہالیجی جھیل جانے والے کچے راستے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس راستے پر 5کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد آپ ہالیجی جھیل کی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں۔ہالیجی کے گردو نواح میں بھی مزید خوبصورت جھیلیں واقع ہیں۔ بائیں جانب جو جھیل ہالیجی سے ملحق ہے اس کا نام چنیجی جھیل ہے جس میں موسم برسات کے بعد کافی عرصہ پانی جمع رہتا ہے۔ جب اس میں پانی کی کثرت ہو تو یہاں پرندوں کی بھی بہتات ہو جاتی ہے۔ہڈیرو جھیل ہالیجی کے نواح میں دوسری جھیل ہے یہاں نمکین پانی ہے۔ پانی جب چٹانی کناروں سے ٹکراتا ہے تو ایک قابل دید منظر ہوتا ہے، اس جھیل میں آبی پرندوں کی انتہائی نایاب اقسام بھی پائی جاتی ہیں۔ ان میں بگلے، کونج اور پیلی کسن نمایاں ہیں۔  


۔ان دو جھیلوں کے علاوہ تیسری جھیل کنیھجر جھیل ہے۔ یہاں بھی انواح و اقسام کے پرندے پائے جاتے ہیں۔یہ ایک خوبصورت تفریحی مقام ہے۔ ہالیجی سے اس کا فاصلہ 50کلو میٹر ہے۔ کراچی کے باشندوں اور ملکی سیاحوں کیلئے اس پر فضا مقام پر تیراکی، پانی میں ڈبکیاں لگانا اور کھیل کود ایک پسندیدہ مشغلہ ہے۔ ہالیجی جھیل اور کینھجر جھیل دونوں بین الاقوامی اہمیت کے آبی مقامات قرار دیئے گئے ہیں۔ ہالیجی پرندوں کے مشاہدے کیلئے ایک بہترین مقام ہے، جہاں انگنت اقسام کے پرندے  تمام  سال ہی موجود ہوتے  ہیں۔یہاں پرندوں کے جھنڈ اور پودے ایک دوسرے میں مدغم نظر آتے ہیں۔شکاری پرندے مثلاً باز،شکرے وغیرہ چھوٹے پرندوں پر بار بار حملہ کرتے نظر آتے ہیں۔ سارس اور بگلے کبھی کبھار گھنٹوں پانی ہی میں کھڑے اپنی غذا سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔  ہالیجی اور ملحقہ علاقوں میں ان کی آمد ستمبر کے مہینے سے شروع ہوتی ہے۔جھیل کی اس پرسکون دنیا کے اوپر بھی ایک دنیا محو پرواز نظر آتی ہے جس میں مچھلی خور شاہین، سار اور چیلیں وغیرہ شامل ہیں ۔حکومت سندھ نے ٹھٹھہ ضلع میں پرندوں کی جنت کےنام سے مقبول ہالیجی جھیل کو تازہ پانی کی فراہمی شروع کردی ہے۔ محکمہ جنگلی و آبی حیات کے ماہرین کو توقع ہے کہ پانی کی فراہمی کے بعد تباہ شدہ جھیل دوبارہ ملکی و غیرملکی پرندوں کی آماجگاہ اور سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بن سکے گی۔کراچی سے اسی کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہالیجی جھیل کے بارے میں محکمہ جنگلی حیات سندھ کے سربراہ کنزرویٹر حسین بخش بھاگت نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہالیجی جھیل کو بحال رکھنے کے لیے اٹھائیس فٹ پانی درکار ہوتا ہے اور حکومت سندھ کی حالیہ کوششوں کے بعد اب تک انیس فٹ پانی جھیل میں جمع ہوچکا ہے۔


ہالیجی جھیل کو کراچی واٹر بورڈ کے زیرانتظام جام برانچ نامی کینال سے پانی فراہم ہوتا رہا ہے جو ضلع ٹھٹھہ میں واقع ایک اور جھیل کینجھر سے پانی حاصل کرتا ہے مگر گزشتہ چند برسوں سے جھیل کو پانی کی اس طرح فراہمی کا سلسلہ بند ہوگیا تھا۔پانی کی کمی کی وجہ سے ہالیجی جھیل میں پرندوں کی آمد کا سلسلہ کم ہوگیا ہے۔ حسین بخش کے مطابق ان کےمحکمے کے انیس سو چہتر میں کیے گئے ایک سروے کےمطابق ہالیجی جھیل پر اندرون ملک اور بیرون ملک سے دو لاکھ پرندوں کی آمد ہوئی ہے جس میں ستر یا اسی قسم کے مختلف رنگ و نسل کے پرندے شامل ہیں مگر پانی کی کمی کی وجہ سے گزشتہ سال ان کےمحکمے کے سروے کے مطابق بمشکل آٹھ سے دس ہزار دیسی پرندوں کی آمد ہوئی ہے۔ہالیجی جھیل کےبارے میں محکمہ جنگلی حیات کی کتابوں میں درج ہے کہ برطانوی راج کے دوران ہالیجی جھیل کو پانی جمع کرنے کی جگہ بنایا گیا تاکہ کراچی میں کیمپ کرنے والے دستوں کو پانی فراہم کیا جاسکے۔ پاکستان کی آزادی سے پہلے ہی ہالیجی جھیل پانی جمع کرنے والے تالاب سے بڑھ کر ایک مکمل جھیل کی شکل اختیار کرچکی تھی۔ون یونٹ کے خاتمےکےبعد ہالیجی کا انتظام وائلڈ لائف مینیجمنٹ فنڈ نے سنبھالا۔ایران میں انیس سو اکہتر کے دوران عالمی کنزرویشن مینجمنٹ کی جانب سے ویٹ لینڈ کی فہرست بنائی گئی۔ جس کے تحت ہالیجی کو پاکستان کی پہلی ’رامسر‘ سائٹ قرار دیا گیا ہے۔ 

اتوار، 15 مارچ، 2026

زراعت و معیشت میں پاکستانی عورت کا کردار

  پاکستان  ایک زرعی ملک ہے۔ اور یہاں کی تقریباً ۷۰؍ فبصد آبادی زراعت کرتی ہے۔  پاکستان میں دیہی علاقوں کی   عورتیں بیج بویائی سے فصل کی تیاری اور اس کی کٹائی، اس کے بعد کے عمل سے لے کر مارکیٹنگ وغیرہ مراحل میں سرگرم رہتی ہیں۔ زرعی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ کام کرنے والی عورتوں کا تناسب مردوں کے مقابل بڑھا ہے۔ ملک کی معاشی ترقی اور خوشحال زندگی کے لئے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ جس سے ملک کی معیشت میں کافی مدد ہوئی ہے۔ وہی حکومت نے بھی عورتوں کے لئے مخلتف اسکیموں اور دیگر سہولیات کا انتظام کیا ہے۔ لیکن عورتوں کی کم علمی انہیں ان سہولتوں سے محروم رکھے ہوئے ہیں۔ یہ عورتیں واقعی میں ہمت و شجاعت اور خود اعتمادی کی مثال ہیں۔ ان کے کاموں کی فہرست بنانا ناممکن ہے تب بھی کچھ کا ذکر اس طرح....کھیت میں کام کرنے والی عورتوں کو کھیت کے سارے بھاری کاموں سے نمٹنا پڑتا ہے، رات دن بغیر کسی توقف کے وہ کھیت اور گھر کی ذمہ داریاں سنبھالتی ہیں۔ کٹائی کا زمانہ ہو یا ہل چلانے کا وقت، وہ مرد کے ساتھ ساتھ کام کرتی ہیں۔ اُس کے علاوہ انہیں پالتو جانوروں کی دیکھ بھال، چھوٹے موٹے گھریلو کام اور بچوں کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے۔ وہ اپنی ساری ذمہ داریاں نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیتی ہیں۔ ان عورتوں کو واقعی خراج تحسین پیش کیا جانا چاہئے،



 اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت کو آج کے دور میں معاشی کفالت کے لئے اپنے شوہر کا ساتھ دینا پڑتا ہے اور ماں، بیٹی، بہن، بہو اور بیوی کے روپ میں بھی اہم کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ گھریلو عورتیں بھی دن رات اپنی ذمہ داریوں کو خوشدلی ہی سے ادا کرتی ہیں اور ملازمت پیشہ بھی۔ لیکن ان میں کھیتوں میں کام کرنے والی مزدور عورتیں ’’ محنت کش ‘‘ عورتیں ہیں۔ وہ اپنے کاموں میں اس قدر گھری رہتی ہیں کہ انہیں اپنے آپ کو سنوارنے، بناؤ سنگھار کرنے تک کا موقع نہیں ملتا۔ دہری زندگی جینے کے باوجود یہ عورتیں اپنے ماتھے پر کوئی شکن نہیں لاتی نہ ہی زبان سے شکایت کرتی ہیں۔ ان کے کپڑے ملگجے ہوتے ہیں، بال بکھرے ہوئے پھر بھی ان کے چہرے سے بشاشت ٹپکتی نظر آتی ہے۔ وہ ہمت اور دلیری کی مثال ہے۔ غربت، مفلسی، رہنے کے لئے ڈھنگ سے گھر نہیں اور تن ڈھانکنے کے لئے صحیح سےکپڑے نہیں تب بھی وہ مسکراتی ہیں۔ زندگی کو پوری طرح نہ جیتے ہوئے بھی جیتی ہیں۔  زمانے کی  مشکلات جھیل  کر بھی وہ سورج کی پہلی کرن کے ساتھ کمر کس کر کھیت میں جٹ جاتی ہیں۔ گرمی اور سردی کے موسم ہو یا بارش یہ موسم کی سختی برداشت کر کے کام کرتی ہیں اور مہنگائی کا مقابلہ کرتی ہیں۔غریب خاندان میں عورت کے لئے زندگی بالخصوص دشوار ہوتی ہے۔پھر بھی وہ اپنے   گھر کی معاشی حالت میں اضافہ کے لئے کوشاں رہتی ہیں۔ 


یہ وہ باہمت عورتیں ہیں جو معاشی صورتحال سے نبرد آزما ہوکر بھی معاشرے کی بنیادی تشکیل کرتی ہیں۔ جبکہ وہ بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہوتی ہیں۔ ایک اینکر پرسن  کے ساتھ  ایک محنت کش  عورت سے بات چیت کے دوران اس نے مجھے بتایا کہ، ’’بیٹی دکھ اور تکلیف کسے نہیں  ہوتے ہیں .. یہ تو زندگی کا حصہ ہے، میرے حصے میں جو آیاہے، اسے خوشی سے جی رہی ہوں۔ ‘‘بیشک یہ عورتیں خود اعتمادی، با ہمت اور دلیری کی مثال ہیں لیکن اب بھی ان میں تعلیمی بیداری پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ وہ حکومت کے ذریعے فراہم کی جانے والی سہولیات سے مستفید ہوسکیں۔ خاندانی ملکیت میں انہیں حق حاصل ہے اس کی طرف بھی توجہ دینی ضروری ہے۔ یہ عورتیں زیا دہ پڑھی لکھی نہیں ہیں تب بھی وہ پوری ایمانداری اور خود اعتمادی سے اپنا کام کرتی ہیں۔ کھیتوں میں فصلوں کو لہلہاتے دیکھ خوش ہوتی ہیں مانو خدا نے ان کی محنت کا ثمر انہیں دے دیا ہو۔ ان مزدور عورتوں سے ہمیں جہاں ہمت و خود اعتمادی کا درس ملتا ہے وہی اس بات کا احساس بھی ہوتا ہے کہ ہماری پر سکون زندگی کے پیچھے ان کا اہم کردار پوشیدہ ہے۔


 متعلقہ خبرلیکن ہر جگہ عدم مساوات اور امتیازی سلوک زرعی نظام میں خواتین کے لیے رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔ پوری دنیا میں، خواتین عام طور پر مردوں سے بدتر حالات اور کم اجرت پر کام کرتی ہیں اور بہت سے ممالک میں اب بھی زمین کی ملکیت سے متعلق خواتین کے لیے قانونی تحفظ ناکافی ہے۔ایف اے او کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، جب تک انہیں مویشیوں، پانی اور بیجوں کے ساتھ ساتھ زمین، ٹیکنالوجی اور اپنے روزگار بڑھانے کے لیے درکار مالی وسائل تک مکمل رسائی اور کنٹرول حاصل نہیں ہوتا، خواتین زرعی نظام میں اپنا مکمل   حصہ نہیں ڈال سکتیں۔امریکہ کے امداد کے عالمی ادارے یو ایس ایڈ کے فیڈ دی فیوچر پروگرام کی ڈپٹی کوآرڈینیٹر ڈینا آسپیسیٹو کا کہنا ہے "اگر زرعی نظام میں خواتین کو مردوں جیسی سہولتوں تک رسائی حاصل ہو، ان سے زیادہ نا بھی ہوں – صرف ان جیسی ہوں ۔ تو ہم قومی مجموعی پیداوار کو دس کھرب ڈالر تک پہنچا سکتے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے بھوکے لوگوں کی تعداد میں ساڑھے چار کروڑ تک کمی لا سکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یو ایس ایڈ نے خواتین کے لیے گرو نامی پروگرام شروع کیا ہے جس سے خواتین کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ڈپٹی کوآرڈینیٹر نے کہا کہ ’’ اس کے لیے کوشش کے تین پہلو ہیں۔ پہلا خواتین کسانوں کی پیداواری صلاحیت اور لچک پر مرکوز ہے۔


ہفتہ، 14 مارچ، 2026

جنگیں 'انسانیت کی ہلاکت اور سرمایہ کی بربادی لاتی ہیں

 


’ہر شخص کو جنگ کے بارے میں کیا جاننا چاہیے‘کرس ہیجیز کی مشہور تصنیف ''’ہر شخص کو جنگ کے بارے میں کیا جاننا چاہیے‘‘ شاید ان چند ایک کتابوں میں شامل ہے، جو ماحولیاتی نقصان پر تفصیل سے بات کرتی ہیں لیکن اس کتاب کا محور بھی انسانی ہلاکتیں اور دوسرے عناصر ہیں۔مثال کے طور پر مذکورہ بالا کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تقریباﹰ ساڑھے تین ہزار سالوں پر محیط معلوم   انسانی تاریخ میں ابن آدم نے صرف 248 سال حالت امن میں گزارے ہیں، جو ریکارڈ ڈ ہسٹری کا صرف آٹھ فیصد بنتا ہے۔اس کتاب کا یہ دعویٰ ہے کہ صرف بیسویں صدی میں ایک سو آٹھ ملین افراد جنگوں میں ہلاک ہوئے، جو کہ ناقدین کے مطابق ایک محتاط اندازہ ہے کیونکہ یہ تعداد اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہو سکتی ہے۔ پوری انسانی تاریخ میں جنگوں سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ پندرہ ملین سے لے کر ایک ارب تک کا ہے۔واضح رہے کہ یہ اعدادوشمار 2003ء تک کے ہیں۔ اس کے بعد بھی دنیا میں بہت سارے مسلح تصادم ہوئے ہیں اور اس کے علاوہ کئی ملک خانہ جنگی کا شکار بھی ہوئے اور ان پر بیرونی حملے بھی کیے گئے۔ 2003ءکے بعد بھی ایک اندازے کے مطابق 15 لاکھ سے زائد افراد جنگ، مسلح تصادم اور خانہ جنگی کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔جنگوں میں صرف انسانی جانوں کے نقصان پر ہی توجہ مرکوز رکھی جاتی ہے جب کہ ماحولیات کو پہنچنے والے نقصان پر بہت کم بات کی جاتی ہےہیجز کی اس تصنیف میں  جنگ کی ہولناکیاں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ بھی بتایا جائے کہ جنگ سے کس طرح ماحول اور ماحولیات کو نقصان پہنچتا ہے کیونکہ ہمیں زندگی گذارنے کے لئے ہوا سے لے کر پانی اور پانی سے لے کر تمام دوسرے قدرتی وسائل درکار ہوتے ہیں، جو قدرتی ماحول کا ایک حصہ ہیں۔ناقدین کا خیال ہے کہ ہمیں اکثر یہ تو بتایا جاتا ہے کہ اگر ایک پلاسٹک کا ڈبہ فلاں جگہ پر رکھ دیا جائے تو اس کا ماحولیات پر کیا اثر ہوتا ہے یا کوئی کچرے کا ڈبہ کسی سمندری حدود میں پھینک دیا جائے تو وہ ماحول کو کس طرح متاثر کرتا ہے۔ یعنی وہ عمل جو شاید ماحول کو اتنی بری طرح متاثر نہیں کرتے ہیں



، ان کا تذکرہ تو ہوتا ہے لیکن جنگ، دفاعی اخراجات، جنگ کی تیاریاں، حربی مشقیں اور ہتھیاروں کے تجربات کس طرح ماحولیات کو ایک ناقابل تلافی تباہی کا شکار کر تے ہیں، اس پر بہت کم بولا اور لکھا جاتا ہے۔تیل اور ہتھیاروں کی تجارت-شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں ہتھیاروں اور تیل کی خریدوفروخت میں ملوث لابیا ں بہت مضبوط ہیں اور ان دونوں لابیوں کا آپس میں بہت گہرا رشتہ ہے۔ مثال کے طور پر دنیا کی افواج کو اگر مختلف ادارہ جاتی اکائیوں میں سے ایک اکائی سمجھا جائے تو شاید یہ واحد اکائی  ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ تیل استعمال کرتی ہے اور جس کے جلنے اور جلانے سے ماحولیات پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔بالکل اسی طرح پینٹاگون بحیثیت ایک ادارے کے  دنیا کا وہ واحد ادارہ ہے، جو شاید سب سے زیادہ تیل استعمال کرتا ہے۔ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ چند جنگی طیاروں میں جتنا ایندھن استعمال ہوتا ہے وہ شاید روڈ پر چلنے والی سینکڑوں بسوں یا ممکنہ طور پر ہزاروں بسوں سے بھی زیادہ ہو۔کیوں کہ دنیا بھر کی مسلح افواج اور ان کے اضافی تربیت یافتہ دستے عالمی افرادی قوت کا ایک اچھا خاصا حصہ ہیں،س لیے یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے اور ماحول کو خراب کرنے میں ان کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔یہ خیال کیا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں مسلح افواج کی تعداد دو کروڑ دس لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ اسی طرح کیونکہ یہ افواج کھربوں ڈالر خرچ کرتی ہیں اس لیے اس بات کا بھی امکان ہے کہ اس خرچ سے ماحولیات پر بہت برے اثرات پڑتے ہیں۔دثال کے طور پر کر س ہی



جز کی مذکورہ  بالا کتاب میں کیے گئے ایک دعوے کے مطابق امریکہ نے 1975ء سے لے ک 2003 تک اپنے اپنی قومی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کا  اوسطاﹰ تقریبا تین سے چھ فیصد حصہ قومی دفاع پر لگایا ہے، جو وفاقی بجٹ کا سالانہ 15 سے 30 فیصد حصہ بنتا ہے۔اکیسویں صدی کے ابتدائی سالوں میں یہ بجٹ تقریباﹰ 350 بلین ڈالر سالانہ تھا۔ جب کہ تعلیم کے لیے سالانہ 60 بلین ڈالرز اور ریاستی و بین الاقوامی معاونت کے لیے صرف 15 بلین ڈالر مختص تھے۔ انیس سو چالیس سے لے کر انیس سو چھیانوے تک امریکہ نے فوج پر 16.3 ٹریلین ڈالر خرچ کیے، جس میں سے پانچ ٹریلین ڈالر سے زیادہ جوہری ہتھیاروں پر خرچ کیے گئے تھے۔ اتنے وسیع پیمانے پر اخراجات سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے ماحولیات پر کیا اثرات مرتب کیے ہوں گے۔ یہ خرچہ اس کے علاوہ ہے جو عراق اور افغانستان کی جنگوں میں کیا گیا۔ براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق امریکہ ان جنگوں میں پانچ ٹریلین ڈالر سے زیادہ خرچ کر چکا ہے۔ کچھ اور اندازوں کے مطابق یہ خرچہ آٹھ ٹریلین ڈالر کا ہے۔لہذا اس سیریز میں ہم کوشش کریں گے کہ یہ بتایا جا سکے کہ جنگی تیاریاں، جنگی مشقیں، ہتھیاروں کے تجربات، دفاعی بجٹ اور خانہ جنگی کس طرح ماحولیات کو متاثر کر رہی ہےآبنائےہرمز وہ قدرتی آبی گذر گاہ ہے ہاں سے دنیا بھر میں استعمال ہونےوالے تیل اور قدرتی گیس کاپانچواں حصہ گذرتا ہے۔ لیکن ایران نے اپنے اوپر امریکی و اسرائیلی مشترکہ جنگ کے بعد اسے امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے جہازوں کے لیےبند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران کے شمالی ساحل سے متعلق ایک تنگ مگر انتہائی اہم آبی راہگذر ہے۔ 28 فروری سے جاری جنگی صورت حال میں ایران کی طرف سے کیے گئے اس اقدام کے باعث جہازوں کی تعداد 97 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔



یہ اعدادو شمار اقوام متحدہ کی طرف سے دیا گیا ہے۔امریکہ جو اس خطے میں تقربآ دو ہفتوں سے جنگ کا کلیدی فریق ہے۔ اس کی کوشش ہےکہ جنگ جاری رہنے کے باوجود اس کے اثرات عالمی منڈیوں کے لیے تیل اور گیس کی فراہمی کے امور پر جنگی اثرات نہ پڑیں اور تیل اور گیس کی ترسیل سے متعلق اس کے اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ ممکن رہے ۔ تاکہ توانائی کے کسی بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بلا شبہ توانائی کی ضرورت صرف امن کے دنوں میں ہی نہیں ہوتی جنگ کے دنوں میں اس کی ضروریات کئی سطحوں پر بڑھ جاتی ہیں۔خطرے میں کیاہے ؟جیساکہ اوپر کی سطور میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک تنگ مگر انتہائی اہمیت کی حامل آبی راہداری ہے۔ یہ ایران اور اومان کے درمیان ہے۔ یہ خلیج اور خلیج اوان کوجوڑتی ہے۔ اس ناطے تیل کی ترسیل کا واحد راستہ ہے جو اس خطے میں پایا جاتا ہے۔ جسے کویت، ایران، قطر اور متحدہ عرب امارات وغیرہ بھی استعمال کرتے ہیںاس کی بندش اور جنگی اثرات کی زد میں آجانے سے دنیا میں تیل کی قیمتوں میں ایک بڑا اضافہ یوکرین کی جنگ کی وجہ سے ہوا تھا اور جس میں یوکرین پر روس نے فروری 2022 میں حملہ کیا تھا ۔ وہ جنگ ابھی تک جاری ہے۔ اب فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف یوکرین کے خلاف روسی حملے سے کہیں زیادہ تیاری اور وسعت کے ساتھ ایک نئی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اس تناظر میں اقوام متحدہ کو تشویش ہے کہ تیل کی قیمتیں مزید اونچی ہو جائیں گی۔جنگ کے اثرات صرف توانائی کے امور پر مرتب ہوتے میں ہوتے دنیا بھر کے لیے کھادوں کی تیاری و ترسیل بھی بھی متاثر ہوتی ہے اور کھادوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یقینآ جنگ جوں جوں لمبی ہوتی جاتی ہے اس کے اثرات زرعی شعبے کو بی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں


۔ اہم بات ہےکہ دنیا بھر میں استعمال کی جانے والی کھادوں کو 33فیصد بھی اسی آبنائے ہرمز سے گذرتا ہے۔یوں ایک پھیلتی چلی جانے والی جنگ جو خوش قسمتی سے امریکہ اور اسرائیل دونوں کی سرحدوں اور عوام کی زندگیوں اور مفادات سے ہزاروں میل کی دوری پر ہے اور دونوں ملکوں نے لازمآ مشکل جنگی دنوں کی بھی خود تو تیاری پیشگی بنیادوں پر کی ہوگی مگر اصل مسئلہ دوسرے ملکوں کو ہے جو کسی بھی اس جنگ میں شریک ہیں نہ اس کا دعویٰ رکھتتے ہیں۔



 اس لیے خطرہ 1970 کی دہائی میں ایندھن کی قیمتوں کے ذریعے پیداہونے والا تازہ بحران ایک نئے عالمی معاشی بحران کو جنم دے گا۔ایرانی دھمکی ؟پاسداران انقلاب کور نے انتباہکررکھا ہے کہ کہ آبنائے ہرمز سے اس کے سائے سے کوئی ایسا جہاز نہیں گزر سکے گا جسے ایران نہیں چاہے گا۔ ایسا جہاز جو بھی گذرے گا اسے نشانہ بنایا جائے گا، اب تک کم از کم 11 جہازوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔سمندر سفر اور نقل وحمل سے تعلق اعدادوشمار مرتب کرنے والے اور جائزے ترتیب دینے والے ایک ادارے کے مطابق ابتک زیادہ تر نقل وحمل رک چکی ہے۔ انتہائی کم تعداد باقی ہے جبکہ انشورینس کمپنیوں نے پریمیئم میں 300 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔امریکہ اور دوسرے ملکوں کا وعدہ کیا ہے ؟صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 3مارچ کو کہا امریکہ کی اس جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے گذرنے والی ٹریفک کو تحفظ دیا جائے گا۔ تاکہ تیل کے بھرے ٹینکر آسانی سے گذرتے رہیں۔ ٹرمپ نے اس سلسلے میں امریکی ڈویلپمنٹ اینڈ فنانس کارپوریشن کو حکم جاری کیا کہ وہ جہاز راںکمپنیوں کو پوری طرح انشورنس اور ضمانتیں فراہم کرے۔ تاکہ جنگ بھی رہے اور امن بھی ہو۔فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے کئی یورپی ملکوں کے علاوہ بھارت اور دیگر ایشیائی ملکوں سمیت منصوبہ بندی کررہے ہیں کہ جہازوں کو آبنائے ہرمز ،یں مشترکہ طور پر تحفظ فراہم کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اجتماعی کوشش بحیرہ احمرکی طرح کی ہوگی جس کی صورت اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے حامی یورپی ملکوں نے امریکہ کے ساتھ مل کر پیدا کی تھی۔ تاکہ حوثی حملے روکے جائیں اور مل کر حوثیوں کے یمن میں مراکز کو نشانہ بنایا جائے۔



البتہ ان کے مطابق یہ تحفظ بعد از جنگ دینے کا منصوبہ ہے۔ گویا جنگ کے بعد ایران کی اس آبنائے پر کنٹرول اور اجارہ داری کو باقی ررہنے نہیں دیا جائے گا، کہ یہ 'ہتھیار ' بھی ایران کے ہاتھ میں نہ رہے۔ان کے بقول فرانس اپنی بحری فوج کی 12 کے قریب جنگی کشتیاں اور ایک طیارہ بردار جہاز تعینات کرنے والا ہے۔ یہ فورس مشرقی بحر متوسط ، بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز کو امکانی طور پر دیکھے گا۔برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر نے منگل کے روزجرمنی اور اٹلی کی قیادتوں سے اسی تناظر میں بات کی ہے تاکہ آبنائے ہرمز کو بے خطر بنایا جائے

جمعہ، 13 مارچ، 2026

چائے پاکستانی ثقا فت کا اہم جزو ہے

  سرکاری اور چائے کے کاروبار سے منسلک اداروں کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً دو کھرب روپے کی چائے قانونی طور پر درآمد کی جاتی ہے جبکہ محتاط اندازوں کے مطابق قانونی طور پر درآمد ہونے والے چائے کے علاوہ لگ بھگ ایک کھرب کی چائے پاکستان میں غیر قانونی طور پر لائی جا رہی ہے۔پاکستان میں پہلی مرتبہ چائے کی کاشت کا کامیاب تجربہ نیشنل ٹی ریسرچ انسٹیئیوٹ شنکیاری، جو کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں واقع ہے، نے بفہ نامی علاقے میں کیا تھا۔پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں چائے کی ’کامیاب‘ کاشت محمد اختر نعیم کہتے ہیں کہ اُن کی معلومات کی حد تک ’پاکستان میں چائے کی کامیاب کاشت کے تجربے علاقے کی سیاسی و سماجی شخصیت اور مرحوم رستم خان ایڈووکیٹ نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں کیے تھے۔ رستم خان ایڈووکیٹ علاقے کے ایک بڑے زمیندار ہونے کے علاوہ اپنی زمینوں پر نئی فصلیں کاشت کرنے کے تجربے کرتے رہتے تھے۔‘وہ بتاتے ہیں کہ ’ایک برطانوی ڈاکٹر برابنٹ چائے کی کاشت کے ماہر تھے۔ وہ اس وقت کے قائم کردہ پاکستان ٹی بورڈ کی معاونت کر رہے تھے۔ انھوں نے کر اس وقت کے مغربی پاکستان میں چائے کی کاشت کے کامیاب تجربات کیے تھے۔ ڈاکٹر برابنٹ نے کئی مرتبہ رستم خان ایڈووکیٹ کے پاس پاکستان دورے کیے تھے پاکستان » مانسہرہ کے باغات جن کی چائے کو چینی کالج نے ’بہترین‘ چائے قرار دیامانسہرہ کے باغات جن کی چائے کو چینی کالج نے ’بہترین‘ چائے قرار دیاسی پیک روٹ کے متصل ضلع مانسہرہ کے علاقے شنکیاری میں چائے کے باغات کے ساتھ ہی چائے بنانے کی فیکٹری بھی لگائی گئی ہے




۔ کسان کو چائے کی فصل اگانے کے لیے پانچ سے چھ بار  قربانی دینی ہوتی ہے۔ اس لیے انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ و  ہ  کو  کسانوں کو معاوضہ دے تاکہ وہ اسے کاشت کرنے پر آمادہ ہوں۔انہوں نے کہا: ’اس بار 52 کروڑ ڈالر کی چائے درآمد کی ہے، اگر ہم چائے کا ایک ایک پیالہ بھی پینا چھوڑ دیں تو ہماری بچت ہو جائے گی۔‘خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے علاقے شنکیاری میں میلوں دور تک چائے کے باغات پھیلے ہوئے ہیں جن سے ملنے والی چائے کو چین کے ایک ادارے کی جانب سے بہترین چائے قرار دیے جانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔شنکیاری میں 1986 میں قائم کیے گئے نیشنل ٹی اینڈ ریسرچ سنٹر کے ڈائریکٹر عبدالوحید کے مطابق پاکستان میں کاشت کی گئی چائے کو چین کے ٹین فو ٹی کالج نے 2008، 2009 اور 2013 میں بہترین چائے کا ایوارڈ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ٹین فو ٹی کالج دنیا کا واحد کالج ہے جہاں چائے پر تحقیق کی جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق شمالی علاقہ جات، کشمیر، مانسہرہ، بٹگرام اور سوات میں کل ایک لاکھ ایکڑ کے قریب زمین چائے کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔ تاہم ملک میں اب تک صرف پانچ سو ایکڑ رقبے پر کی چائے کاشت کی جاتی ہے۔


 پاکستان میں استعمال ہونے والی زیادہ تر چائے درآمد ہوتی ہے۔،پاکستان اس وقت صرف 200ایکڑ پر چائے کی کاشت کرتا ہے یہ پاکستان کی چائے کی وسیع ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کافی نہیں ہے، پا اس سے صرف سالانہ سات سے آٹھ ٹن چائے پیدا ہوتی ہے پاکستان دنیا میں چائے کے سب سے بڑے درآمد کنندگان میں سے ایک ہے۔ گوادر پرو کے مطابق چینی ثقافت کے تانے بانے میں چائے کی جڑیں گہری ہیں ۔چائے ایک عام، من پسند اور سستا مشروب ہے اس لیے اسے دنیا کے کئی ممالک میں شہری و دیہی علاقوں کے لوگ اسے شوق سے پیتے ہیں اور مہمانوں کی تواضع بھی اسی سے کرتے ہیں۔بطور ایک ڈاکٹر اور ایک سیاح، مجھے تو چائے کی شدید طلب رہتی ہے      چائے جسم کو تروتازہ اور چاق و چوبند رکھنے کے ساتھ نزلہ، سر درد اور زکام میں بھی راحت پہنچاتی ہے۔ ایک اور تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ چائے کینسر کی روک تھام میں بھی مددگار ہے۔پاکستان میں چائے کی کھپت اور درآمدچائے طویل عرصے سے دنیا بھر میں ایک محبوب مشروب رہا ہے، لیکن کچھ ممالک نے اس کی کھپت کو ایک فن کی شکل میں بڑھایا ہےان قوموں نے چائے پینے کا کلچر پروان چڑھایا ہے، جہاں چائے کے گرم گھونٹ، روزمرہ کی زندگی کا لازمی حصہ بن گئے ہیں۔

  ایک تحقیق کے مطابق 2021 میں پاکستان نے پانچ سو چھیانوے ملین ڈالر مالیت کی 2،258،000 کلو سبز اور کالی چائے درآمد کی تھی۔ یوں پاکستان 2021 میں سب سے زیادہ چائے درآمد کرنے والا ملک بن گیا۔2023 ۔پاکستان میں چائے کی کاشت کا آغازپاکستان میں چائے کی اہمیت اور ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے 1982 میں چین سے چائے کی کاشت کا ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت صوبہ خیبر پختونخواہ میں ایک تفصیلی سروے کے ذریعے چائے کے لیے موزوں علاقوں کا انتخاب کیا گیا۔ضلع مانسہرہ کے خوب صورت مقام، شنکیاری میں 33 ایکڑ رقبے پر چائے کی تجرباتی کاشت شروع کر دی۔ تجربہ کام یاب رہا تو ایک چائے ساز کمپنی نے بھی 1986 میں مانسہرہ کے مقام ''اچھڑیاں'' میں ایک تحقیقاتی اسٹیشن قائم کیا، جس کا کام شنکیاری میں پیدا ہونے والی چائے کا موازنہ عالمی منڈی میں دوسرے ممالک کی چائے سے کیا گیا۔ بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے پر نہ صرف پاکستان کی کئی کمپنیوں نے اس پراجیکٹ میں بھرپور دل چسپی کا اظہار کیا بلکہ اردگرد کے کسانوں نے بھی اپنی زمینوں پر چائے کی کاشت شروع کردی۔نیشنل ٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، 1986 میں شنکیاری ضلع مانسہرہ میں 50 ایکڑ اراضی پر ریسرچ اسٹیشن کے طور پر قائم کیا گیا تھا جو نیشنل فوڈ سیکیوریٹی اسلام آباد کے تحت کام کر رہا تھا۔   
مضمون کی تیاری میں گوگل سے مدد لی گئ

جمعرات، 12 مارچ، 2026

ایک شخص نے بیٹی کی شادی پر 90 گھر غریبوں میں تقسیم کئے

 

اجے منوت اورنگ آباد، بھارت کے چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہوئے بچپن اور جوانی شدید مشکلات اور محنت سے گزارا. مہاراشٹر آیا، کپڑے اور گندم کا کاروبار شروع کیا اور اپنی محنت سے لکھ پتی بن گئے. اجے نے اپنی بیٹی شریا منوت کی شادی کے لیے کروڑ روپے جمع کیے لیکن اس نے اپنی بیٹی کا جہیز نہیں بنایا، کپڑے جوتے اور زیورات نہیں بنائے،  داماد کو نئی گاڑی لے کر نہیں دی..اس نے اپنی بیوی، بیٹی اور داماد سے مشورہ کیا، دو ایکڑ زمین خریدی اور اس پر   نوے   گھر بنوا دئیے. پھر یہ گھر جھونپڑیوں میں رہنے والوں میں تقسیم کر دئیے. ہر گھر 20فٹ12 ہے، اس میں کچن بھی ہے، بجلی بھی ہے اور پینے کا صاف پانی بھی. گھر بانٹتے ہوئے اجے منوت کی فیملی نے خود کچی آبادیوں کا رخ کیا اور مستحق خاندانوں میں ہی گھر بانٹے گئے، یہ بھی خیال رکھا گیا کہ کوئی چرسی شرابی یا جرائم پیشہ یہ گھر نہ لے سکے.شادی کے دن شریا نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر خود گھروں کی چابیاں مستحق خاندانوں میں تقسیم کیں. نوے خاندانوں کے سینکڑوں افراد نے دولہا دلہن کی زندگی میں خوشیوں کے لیے دعائیں کیں اور یہ آج تک روزانہ صبح شام ان کے لیے دعائیں کر رہے ہیں. اجے منوت اور اس کی بیٹی جین مت کے ماننے والے ہیں، ان کا اللہ رسول سے، روز قیامت سے جزا و سزا سے جنت دوزخ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے.



.اب آئیے پاکستان کی طرف، ملتان کے ایک امیر کبیر تاجر شبیر قریشی نے اپنے بیٹے نعمان کی شادی کی، بارات کے لیے دس لیموزین گاڑیاں منگوائی گئیں، دولہے کو سونے تاج پہنا کر شیر کے پنجرے پر بٹھایا گیا، اس کے علاوہ مہمانوں کی سینکڑوں گاڑیاں الگ تھیں. شادی کارڈز ہیلی کاپٹر سے پورے ملتان شہر پر پھینکے گئے۔ دلہن کے ماں باپ نے بھی اپنی بیٹی کو پانچ کروڑ روپے کا جہیز دیا جس میں ایک فل فرنشڈ گھر اور گاڑی شامل ہے. اس شادی پر ایف بی آر نے دونوں خاندانوں کو اثاثہ جات، آمدنی اور ٹیکس گوشواروں کی تفصیل جمع کروانے کے لیے نوٹس جاری کر دیئے۔قارئین، شبیر قریشی مسلمان ہے، اللہ اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے، یہ عاشق رسول بھی ہے اور اسے امت مسلمہ کی زبوں حالی پر پریشانی بھی ہے لیکن شبیر قریشی اجے منوت کی طرح قربانی اور ایثار کے لیے تیار نہیں.. شبیر قریشی جیسے پاکستان میں ڈھیروں امراء اشرافیہ موجود ہیں، یہ لوگ خود گاڑی میں بیٹھتے ہیں اور ملازموں کو ڈگی میں بٹھا دیتے ہیں، ملازموں کے ساتھ ہوٹل جاتے ہیں خود پیزا کھاتے ہیں اور ملازم کو ماش کی دال ملتی ہے. آپ شہر کی کسی بھی بڑی شادی کا حال دیکھ لیں، کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، شرابیں چلتیں ہیں، کنجریوں پر لاکھوں پھینکے جاتے ہیں، لاکھوں کی فائرنگ ہوتی ہے، لیکن غریبوں کو ولیمے سے بچ جانے والا کھانا بھی نہیں ملتا..



آپ پاکستان کی تباہی و بربادی کی وجوہات تلاش کرنا چاہتے ہیں؟ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں انگلیوں پر گن لیں اجے منوت جیسے کتنے ہیں اور شبیر قریشی؟شادی کی تصاویر اور ویڈیوز منظر عام پر آتے ہی مریم نواز سوشل میڈیا پر خصوصی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں اور اس کی وجہ ان کے مہنگے جوڑے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے بیٹے کی مہندی کی تقریب کے لیے مشہور پاکستانی ڈیزائنر نومی انصاری کے ڈیزائن کیے ہوئے پیلے رنگ کے خوبصورت لہنگے کا انتخاب کیا جس پر باریک گوٹا، کامدار کڑھائی اور نفیس نقش و نگار نمایاں ہیں۔نومی انصاری کی آفیشل ویب سائٹ پر جوڑوں کی قیمتیں درج نہیں ہوتیں لیکن  زیادہ تر ان کے ڈیزائن کیے ہوئے جوڑوں کی قیمت 5 لاکھ روپے سے زیادہ ہی ہوتی ہے۔مریم نواز نے بیٹے کی بارات کے دن پاکستانی ڈیزائنر اقبال حسین کے ڈیزائن کیے ہوئے خوبصورت جوڑے کا انتخاب کیا، ان کے جوڑے پر دھاگے اور سلور زردوزی کا بھاری بھرکم کام نمایاں تھا۔یہ خوبصورت جوڑا اقبال حسین کی پریمیم برائیڈل لائن میں شامل ہے اور برانڈ کی مخصوص قیمتوں کے مطابق اس جوڑے کی قیمت 2 سے 4 لاکھ روپے کے درمیان ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی اہلیہ شانزے علی روحیل کے بارات آؤٹ فٹ کی تفصیلات سامنے آگئیں۔جنید صفدر کی شادی کی تقریبات ان دنوں پوری آب و تاب کے ساتھ سوشل میڈیا پر چھائی ہوئی ہیں، شادی کی تقریبات کا آغاز جاتی اُمرا میں منعقدہ مہندی سے ہوا،


 جس میں شریف خاندان کے اہم افراد بشمول میاں نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر اعوان سمیت قریبی عزیز و اقارب نے شرکت کی۔ نکاح کی پروقار تقریب لاہور کے ایک خوبصورت فارم ہاؤس میں منعقد کی گئی،  اس موقع پر دلہا اور دلہن دونوں نہایت خوبصورت دکھائی دیے۔شانزے علی روحیل کا بارات پر پہنا گیا لباس فیشن حلقوں میں خاص طور پر سراہا گیا، انہوں نے معروف بھارتی ڈیزائنر ترون تہیلیانی کا تیار کردہ دیدہ زیب لباس زیب تن کیا جو حال ہی میں بالی ووڈ اداکارہ اننیا پانڈے بھی ایک تقریب میں پہن چکی ہیں۔ شانزے علی روہیل کی گہری سرخ ساڑھی پر مدھم سنہری اور آئیوری رنگ کے ریشمی دھاگوں، کشیدہ کاری اور سیکوئنز سے روایتی انداز میں نفیس کام کیا گیا تھا۔انہوں نے ساڑھی کے ساتھ بڑا دوپٹہ اوڑھا، جسے مختلف مواقع پر گھونگھٹ کے طور پر بھی استعمال کیا گیا، بلاؤز کو خاص طور پر شانزے علی روحیل کے لیے کسٹمائز کیا گیا تھا۔زیورات میں انہوں نے پولکی اور زمرد سے جڑا خوبصورت ہار اور بالیاں زیب تن کیں اور ہاتھوں میں چوڑیاں پہنیں، اگرچہ اس مخصوص ترون تہیلیانی کی ساڑھی کی درست قیمت عوامی طور پر ظاہر نہیں کی گئی، تاہم اسی نوعیت کی ہائی اینڈ ساڑھیاں اور لباس عموماً 2949 پاؤنڈ سے 6862 پاؤنڈ (تقریباً 32 لاکھ سے 75 لاکھ بھارتی روپے) کے درمیان فروخت ہوتے ہیں۔

بدھ، 11 مارچ، 2026

ولیہء کاملہ حضرت رابعہ بصری رحمہ اللہ

 

  حضرت رابعہ بصری    وہ ولیہ  ءکاملہ جنہوں نے اپنے زہدوتقویٰ، عبادت و ریاضت اور                   پاکیزگی وپرہیزگاری                         مخلوقِ خدا کی خدمت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے حضور بلند مقام حاصل کیا۔ رشدوہدایت کے راستوں پر چلانے والی ایک ہی ذات ہے۔ آپؒ کا شمار قرون اولیٰ کی اُن شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کاہر پل اور ہر لمحہ اطاعت وبندگی کی نذر کرکے اپنے قلب و ذہن کو ربّ العالمین کے دربار میں سرگوشی ومناجات کے لیے وقف کردیا تھا۔ رابعہ بصریؒ کو جو بلند پایہ مقام اور اعلیٰ مرتبہ حاصل ہوا اُس کے پیچھے اسلامی تعلیم کی وہ برکتیں کارفرماہیں جن سے فیض پاکر رابعہ عدویہ نامی ایک عام خاتون حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہا جیسے بلند مقام پر فائز ہوگئیںرابعہ بصریؒ کی زندگی کے حالات وواقعات کا اکثر حصہ پردۂ اخفا میں ہے۔ قدیم تذکرہ نگاروں نے اس بارے میں بہت ہی کم لکھا ہے۔ آپ کی پیدائش کے بارے میں تذکرہ نگاروں نے   سنہ ۹۷؍ہجری بیان کیا ہے۔ مشہور فرانسیسی مستشرق میسنیون (Massignon)نے ۹۵؍ہجری یا ۹۹؍ ہجری پر زور دیا ہے اسی طرح ڈاکٹر مارگریٹ سمتھ نے بھی اپنے پی ایچ ڈی کے مقالہ (Rabia The Mystic) میں(جو کتابی شکل میں بھی شائع ہوچکا ہے ) ۹۵؍ یا ۹۹؍ ہجری کا ذکر کیا ہے۔ حضرت رابعہ بصریؒ کی پیدائش سے پہلے آپ کے والدین کے ہاں تین بیٹیوں کی پیدائش ہوچکی تھی۔ اسی مناسبت سے آپ کا نام رابعہ یعنی چوتھی رکھا گیا۔ 


۔ رابعہ بصریؒ کا بچپن عام بچوں سے قدرے مختلف تھا جو اسرارومعرفت کے متعدد واقعات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔آپؒ بیان کرتے ہیں کہ جس رات آپ کی پیدائش ہوئی،اس روز شیخ اسماعیل کے ہاں کوئی فالتو کپڑا تک نہ تھا جو نومولودہ کو اوڑھایا جاسکتا، نہ ہی رات کے وقت چراغ جلانے کے لیے گھر میں تیل تھا اس حالت زار میں              ننھی رابعہ کی والدہ نے آپ کے والد سے کہا کہ ہمسائے کے گھر جاکر تھوڑا سا تیل مانگ لائیں تاکہ گھر میں روشنی کا کچھ بندوبست کیا جاسکے اور ننھی بچی کی ناف پر تیل لگایا جاسکے۔ شیخ اسماعیل نے اس بات کا عہد کر رکھا تھا کہ سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا۔ مگر بیوی کے اصرار پر مجبوراً ہمسائے کے گھر گئے اور خالی ہاتھ لوٹ آئے۔.عربی زبان میں رابعہ کا مطلب چوتھی ہے.جب آپ کی ولادت ہوئی تو گھرمیں فاقوں کی نوبت تھی لہذا بی بی صاحبہ نے کہا پڑوس سے کچھ قرض لے لیں تا کہ یہ کڑوا وقت کٹ جائے. شیخ صاحب آدھی رات کو پڑوسی کے دروازے پر بادلِ نا خواستہ دستک دینے گئے کیونکہ غیر اللہ سے سوال کرنا ان کی غیرت ایمانی کو گوارہ نہ تھا. پڑوسی نیند میں تھا. کسی نے دروازہ کھٹکھانے کی آواز سنی نہ دروازہ کھولا. خالی ہاتھ گھر لوٹے تو بی بی صاحبہ بہت پریشان ہوئی. شیخ صاحب رحمۃاللہ علیہ بھی اسی پریشانی کے عالم میں سو گئے. خواب میں سرورِ کائنات حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلّم تشریف لائے. بیٹی کی ولادت پر مبارک باد دی اور فرمایا اسمٰعیل! پریشان نہ ہو تیری یہ بچی عارفہ کاملہ ہو گی. اگر مالی پریشانی ہے تو صبح حاکم بصرہ عیسٰی زردان کے پاس جانا. میری طرف سے ایک خط لکھ لینا کہ تم مجھ پر ہر روز سو مرتبہ اور ہر جمعرات کو چار سو مرتبہ درود بھیجتے ہو. اس جمعرات کو تحفہ دینا بھول گئے ہو


.اس لئے چار سو دینار کفارہ حاملِ رقعہِ ہذا کو دے دو.صبح جب شیخ صاحب خط لے کر حاکم بصرہ عیسٰی کے پاس گئے تو اس نے دوڑ لگائی دروازے پر پہنچا. شیخ صاحب کا نہایت مودبانہ انداز میں شکریہ ادا کیا کہ آپ کی وجہ سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے مجھے یاد فرمایا. اسی خوشی میں ہزار دینار غرباءمیں تقسیم کئے اور چار سو دینار شیخ صاحب کو دئیے.چار پانچ سال کی عمر میں ہی والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا. جب آٹھ برس کی عمر کو پہنچیں تو بصرہ سخت قحط کا شکار ہو گیااور کسی شقی القلب نے پکڑ کر آپ رحمۃ اللہ علیہ کو بصرہ کے ایک متمول شخص عتیق کے ہاتھوں بیچ دیا. چار پانچ سال تک آپ انکی خدمت کرتی رہی.انکا حاکم بہت ظالم تھا بہت بھوکا پیاسا رکھتا تھا اور سخت کام بھی لیتا. ایک روز آپ کسی کام سے جا رہی تھیں کہ کوئی نا محرم سامنے آ گیا.آپ اسے دیکھ کر بھاگیں، بھاگتے ہوئے ٹھوکر کھا کے گر گئیں اور ان کا ہاتھ ٹوٹ گیا. ربِّ کریم سے رو رو کر عرض کیا” میں غریب، یتیم اور قیدی ہوں، اب ہاتھ بھی ٹوٹ گیا، اس کا مجھے کچھ غم نہیں مگر میں چاہتی ہوں کہ ساری امانتیں، ہاتھ، پاؤں، عزت،جان وغیرہ جو تیری میرے پاس ہیں انھیں اسی طرح لوٹا دوں کہ تو مجھ سے راضی ہو جائے. ، اگر تو راضی نہیں تو پھر یہ سب میرے اعمال کی شامتیں ہیں”.. بس ایک پل میں ہی کایا پلٹ گئی،تاجر نے ان کی مناجات سن کر ان کو آزاد کر دیا. تاجر عتیق کی غلامی سے آزاد ہونے کے بعد سیدہ رابعہ بصرہ سے ایک بڑے علمی مرکز کوفہ چلی گئیں جہاں اس وقت کے بڑے بڑے علماء موجود رہتے تھے. وہاں آپ نے بہت کم وقت میں قرآن حفظ کر لیا.




 بڑے بڑے علماء آپ رحمۃاللہ علیہ سے بہت عقیدت رکھتے تھے اب ان کے گرد فرشتوں کی موجودگی کا ادراک حاصل کرلیا ایک مرتبہ آپ  کے گھر میں چور آیا اور آپ کی چادر اٹھا کر جانے لگا  تو باہر نکلنے کا راستہ ہی نظر نہیں آیا  چور نے چادر رکھ دی تو راستہ نظر آگیا  . چور کو آواز آئی اب بھی نہ باز آئے تو دائمی اندھے ہو جاؤ گے.اس گھر کی مالکہ ہماری دوست ہے،اور چور چادر چھوڑ کر چلا گیاایک دفعہ ایک بزرگ ملاقات اور کھانے کی خواہش سےحاضر ہوئے. سیّدہ رابعہ بصری نے گوشت ہنڈیا میں ڈال کر چولہے پر چڑھایا ہوا تھا لیکن آگ نہیں جلائی، زہدوتقوٰی کی گفتگو میں نہ بزرگ کو بھوک رہی اور نہ سیّدہ رابعہ کو آگ جلانے کا خیال آیا، دیکھا تو ہنڈیا میں لذیذکھانا پکا ہوا تھا.سب تعریفیں اللہ جل شانہ کیلئے ہیں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی مالک نہیں، جو سب خزانوں، سب طاقتوں کا مالک ہے، جو ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا، جس کا کوئی شریک کوئی ہمسر نہیں. باقی ہر شے فانی ہے. عدم سے وجود اور وجود سے عدم، یہی انسان کا اور ہر مخلوق کا مقدر ہے. اسی اصل تقدیر کے مطابق سیّدہ رابعہ طاہرہ عارفہ کاملہ بصریہ نے جس دوست کی رضا کے لئے زندگی گزار دی، اسی نے185 ہجری میں ملاقات کے لئے بلا لیا
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

پیر، 9 مارچ، 2026

خطبہ از نہج البلاغہ بزبان امیر المومنین

تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے ، جس کی مدح تک بولنے والوں کی رسائی نہیں، جس کی نعمتوں کو گننے والے گن نہیں سکتے، نہ کوشش کرنے والے اس کا حق ادا کر سکتے ہیں، نہ بلند پرواز ہمتیں اسے پا سکتی ہیں، نہ عقل و فہم کی گہرائیاں اس کی تہ تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس کے کمالِ ذات کی کوئی حد معین نہیں، نہ اس کیلئے توصیفی الفاظ ہیں، نہ اس (کی ابتدا) کیلئے کوئی وقت ہے جسے شمار میں لایا جا سکے، نہ اس کی کوئی مدت ہے جو کہیں پر ختم ہو جائے- اس نے مخلوقات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا، اپنی رحمت سے ہواؤں کو چلایا اور تھرتھراتی ہوئی زمین پر پہاڑوں کی میخیں گاڑیں۔دین کی ابتدا  اس کی معرفت ہے، کمالِ معرفت اس کی تصدیق ہے، کمالِ تصدیق توحید ہے، کمالِ توحید تنزیہ و اخلاص ہے اور کمالِ تنزیہ و اخلاص یہ ہے کہ اس سے صفتوں کی نفی کی جائے، کیونکہ ہر صفت شاہد ہے کہ وہ اپنے موصوف کی غیر ہے اور ہر موصوف شاہد ہے کہ وہ صفت کے علاوہ کوئی چیز ہے۔لہٰذا جس نے ذاتِ الٰہی کے علاوہ صفات مانے اس نے ذات کا ایک دوسرا ساتھی مان لیا اور جس نے اس کی ذات کا کوئی اور ساتھی مانا اس نے دوئی پیدا کی اور جس نے دوئی پیدا کی اس نے اس کیلئے جز بنا ڈالا اور جو اس کیلئے اجزا کا قائل ہوا وہ اس سے بے خبر رہا اور جو اس سے بے خبر رہا


 اس نے اسے قابلِ اشارہ سمجھ لیا اور جس نے اسے قابلِ اشارہ سمجھ لیا اس نے اس کی حد بندی کر دی اور جو اسے محدود سمجھا وہ اسے دوسری چیزوں ہی کی قطار میں لے آیا اور جس نے یہ کہا کہ ’’وہ کس چیز میں ہے‘‘؟ اس نے اسے کسی شے کے ضمن میں فرض کر لیا اور جس نے یہ کہا کہ ’’وہ کس چیز پر ہے؟‘‘ اس نے اور جگہیں اس سے خالی سمجھ لیں۔ لہٰذا اوہ ہے ہوا نہیں، موجود ہے مگر عدم سے وجود میں نہیں آیا، وہ ہر شے کے ساتھ ہے نہ جسمانی اتصال کی طرح، وہ ہر چیز سے علیحدہ ہے نہ جسمانی دوری کے طور پر، وہ فاعل ہے لیکن حرکات و آلات کا محتاج نہیں، وہ اس وقت بھی دیکھنے والا تھا جب کہ مخلوقات میں کوئی چیز دکھائی دینے والی نہ تھی، وہ یگانہ ہے اس لئے کہ اس کا کوئی ساتھی ہی نہیں ہے کہ جس سے وہ مانوس ہو اور اسے کھو کر پریشان ہو جائے۔س نے پہلے پہل خلق کو ایجاد کیا بغیر کسی فکر کی جولانی کے اور بغیر کسی تجربہ کے جس سے فائدہ اٹھانے کی اسے ضرورت پڑی ہو اور بغیر کسی حرکت کے جسے اس نے پیدا کیا ہو اور بغیر کسی ولولہ اور جوش کے جس سے وہ بیتاب ہوا ہو۔ ہر چیز کو اس کے وقت کے حوالے کیا، بے جوڑ چیزوں میں توازن و ہم آہنگی پیدا کی، ہر چیز کو جداگانہ طبیعت اور مزاج کا حامل بنایا اور ان طبیعتوں کیلئے مناسب صورتیں ضروری قرار دیں۔ وہ ان چیزوں کو ان کے وجود میں آنے سے پہلے جانتا تھا، ان کی حد و نہایت پر احاطہ کئے ہوئے تھا اور ان کے نفوس و اعضاء کو پہچانتا تھا۔



 اسی طرح امیر المومنین علیہ السلام پیغمبر ﷺ کی سیرت کو مشعل راہ بناتے ہوئے تلوار کی قوت اور دست و بازو کے زور کا مظاہرہ نہیں کرتے، چونکہ آپؑ سمجھ رہے تھے کہ دشمن کے مقابلہ میں بے ناصر و مددگار اٹھ کھڑا ہونا کامرانی و کامیابی کے بجائے شورش انگیزی و زیاں کاری کا سبب بن جائے گا۔ اس لئے اس موقع کے لحاظ سے طلب امارت کو ایک گدلے پانی اور گلے میں پھنس جانے والے لقمہ سے تشبیہ دی ہے۔ چنانچہ جن لوگوں نے چھینا جھپٹی کر کے اس لقمہ کو چھین لیا تھا اور ٹھونس ٹھانس کر اسے نگل لینا چاہا تھا، ان کے گلے میں بھی یہ لقمہ اٹک کر رہ گیا کہ نہ نگلتے بنتی تھی اور نہ اُگلتے بنتی تھی۔ یعنی نہ تو وہ اسے سنبھال سکتے تھے جیسا کہ ان لغزشوں سے ظاہر ہے جو اسلامی احکام کے سلسلے میں کھائی جاتی تھیں اور نہ یہ پھندا اپنے گلے سے اتار نے کیلئے تیار ہوتے تھے۔ فرمایا ہے کہ:پھر یہ کہ اس نے کشادہ فضا، وسیع اطراف و اکناف اور خلا کی وسعتیں خلق کیں اور ان میں ایسا پانی بہایا جس کے دریائے مواج کی لہریں طوفانی اور بحر زخار کی موجیں تہ بہ تہ تھیں، اگر میں ان ناساز گار حالات میں خلافت کے ثمر نا رسیدہ کو توڑنے کی کوشش کرتا تو اس سے باغ بھی اجڑتا اور میرے ہاتھ بھی کچھ نہ آتا۔ جیسے ان لوگوں کی حالت ہے کہ غیر کی زمین میں کھیتی تو کر بیٹھے مگر نہ اس کی حفاظت کر سکے نہ جانوروں سے اسے بچا سکے، نہ وقت پر پانی دے سکے اور نہ اس سے کوئی جنس حاصل کر سکے



،  ان    اقتدار  پر بیٹھنے والوں کے لئے مولا نے فرمایا 'لوگوں کی تو یہ حالت ہے کہ اگر کہتا ہوں کہ اس زمین کو خالی کر و تا کہ اس کا مالک خود کاشت کرے اور خود نگہداشت کرے تو یہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ کتنے حریص اور لالچی ہیں اور چپ رہتا ہوں تو یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ موت سے ڈر گئے ہیں۔ بھلا یہ تو بتائیں کہ میں کس موقعہ پر ڈرا اور کب جان بچا کر میدان سے بھاگا، جبکہ ہر چھوٹا بڑا معرکہ میری بے جگری کا شاہد اور میری جرأت و ہمت کا گواہ ہے۔ جو تلواروں سے کھیلے اور پہاڑوں سے ٹکرائے وہ موت سے نہیں ڈرا کرتا۔ میں تو موت سے اتنا مانوس ہوں کہ بچہ ماں کی چھاتی سے اتنا مانوس نہیں ہوتا۔ سنو! میرے چپ رہنے کی وجہ وہ علم ہے جو پیغمبر ﷺ نے میرے سینے میں ودیعت فرمایا ہے۔ اگر ابھی سے اسے ظاہر کر دوں تو تم سراسیمہ و مضطرب ہو جاؤ گئے، کچھ دن گزرنے دو تو تم خود میری خاموشی کی وجہ جان لو گے اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے کہ اسلام کے نام سے کیسے کیسے لوگ اس مسند پر آئیں گے اور کیا کیا تباہیاں مچائیں گے۔ میری خاموشی کا یہی سبب ہے کہ یہ ہو کر رہے گا، ورنہ بے وجہ خاموشی نہیں۔ اگر بولتا ہوں تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ دنیوی سلطنت پر مٹے ہوئے ہیں اور چپ رہتا ہوں تو کہتے ہیں کہ موت سے ڈر گئے۔ افسوس! اب یہ بات جب کہ میں ہر طرح کے نشیب و فراز دیکھے بیٹھا ہوں۔ خدا کی قسم! ابو طالبؑ کا بیٹا موت سے  مانوس ہے

اتوار، 8 مارچ، 2026

جنگ بدر کا 17 رمضان کو معرکہ ہوا


غزوہ بدر  : کفر اور اسلام  کی  سب سے پہلی اور اہم جنگ تھی جو ـ تاریخ 17 رمضان سنہ 2 ہجری کو بمقام بدر ـ مسلمانوں اور مشرکین قریشکے درمیان لڑی گئی۔ اس جنگ میں گوکہ مسلمانوں کی افراد قوت کم تھی لیکن انھوں نے مشرکین پر فتح پائی۔ تاریخی حوالوں کے مطابق مسلمانوں کی فتح کے اسباب میں ایک اہم سبب مسلمانوں ـ اور بطور خاص مولا  علی علیہ السلام اور حضرت حمزہ سید الشہداء کی خاص جانفشانی تھی۔ اس جنگ میں صبح کے وقت پیغمبر نے اپنے لشکر کی صف آرائی کا اہتمام کیا اور اسی اثناء میں قریش کی سپاہ عَقَنْقَل نامی ٹیلے سے ظاہر ہوئی۔ رسول خدا  حضرت محمد سرور ا نبیاءصلی  اللہ علیہ واٰلہ وسلمنے دیکھا تو بارگاہ احدیت میں التجا کی: "اے رب متعال! یہ قریش ہیں جو غرور و تکبر کے ساتھ تجھ سے لڑنے اور تیرے رسول کو جھٹلانے آئے ہیں؛ بار خدایا! میں اس نصرت کا خواہاں ہوں جس کا تو نے مجھے وعدہ دیا ہے! انہیں صبح کے وقت نیست و نابود کردے”۔قیادت کا پرچم ـ بنام عقاب جو صرف اکابرین اور خاص افراد کو ملا کرتا تھا، مولا علی  علیہ السلامکے ہاتھ میں تھا۔دو بدو لڑائی شروع ہونے سے قبل، ابو جہل نے اپنے لشکریوں کے جذبات ابھارنے اور انہیں مشتعل کرنے کی غرض سے "عامر حضرمی” کو حکم دیا کہ اپنا سر مونڈ لے اور سر پر مٹی ڈال کر اپنے بھائی عمرو حضرمی کے خون کا مطالبہ کرے۔ مروی ہے کہ: عامر پہلا شخص تھا جو مسلمانوں کی صفوں پر حملہ آور ہوا تاکہ ان کی صفوں کو درہم برہم کرے؛ لیکن                           حضرت محمد سرور ا نبیاءصلی  اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے سپاہیوں نے ثابت قدمی دکھائی         لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب عتبہ ابن ربیعہ اس کا بیٹا الولید اور اس کا بھائی شیبہ (تمام امیہ سے تھے) اپنی مشرک فوج کے سامنے کھڑے ہوئے



اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ان کے پاس ان کے برابر کے لوگ بھیجیں۔ سینکڑوں صحابہ آپ کے اردگرد تھے اور ان میں سے بہت سے اس بات کی توقع کر رہے تھے کہ آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بلایا جائے گا لیکن آپ نے اپنے خاندان سے شروع کرنے کا انتخاب کیا۔آ پ نے عقاب نام کا پرچم  مولا علی کو دیا مسلمانوں نے پیغمبر اسلام(ص) کے لئے ایک سائبان بنایا اور سعد بن مُعاذ سمیت انصار کے چند افراد نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالی؛ تاہم                  مسند ابن حنبل میں علی علیہ السلام سے منقولہ روایت کے مطابق ـ جو زیادہ تر تاریخی منابع میں بھی نقل ہوئی ہے ـ بدر کے روز رسول خدا(ص) کا ٹھکانا دشمن سے قریب ترین نقطے پر تھا اور جب جنگ میں شدت آجاتی تھی تو مسلمان آپ(ص) کی پناہ میں چلے جاتے تھے۔ امکان پایا جاتا ہے کہ متذکرہ بالا سائبان جنگ کی قیادت و ہدایت کے مرکز کے عنوان سے بنایا گیا ہوگا اور رسول اللہ حضرت محمد سرور ا نبیاءصلی  اللہ علیہ واٰلہ وسلم کبھی کبھی اس میں مستقر ہوتے رہے ہونگے۔رسول خداحضرت محمد سرور ا نبیاءصلی  اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے چچا حمزہ، علی (ع) اور عبیدہ بن حارث کو میدان میں بھیجا؛ حمزہ نے عتبہ کو ہلاک کیا اور علی(ع) نے ولید کو اور عبیدہ نے حمزہ اور علی(ع) کی مدد سے شیبہ کا کام تمام کیا۔ امام علی(ع) سے منقولہ روایت کے مطابق، آپ(ع) تینوں افراد کے قتل میں شریک ہوئے تھے۔بوجھ بہت زیادہ تھا اور بھاری بوجھ صرف وہی لوگ اٹھا سکتے تھے جن سے اس کا تعلق تھا۔




اس نے علی حمزہ اور عبیدہ ابن الحارث (تمام رسول کے قبیلے سے) کو تینوں جنگجوؤں کا سامنا کرنے کے لیے بلایا۔عتبہ، شیبہ اور ولید کے ہلاک ہوجانے کے بعد جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے لیکن اللہ کی غیبی امداد اور مسلمانوں کی شجاعت اور پامردی کے نتیجے میں مشرکین بہت جلد مغلوب ہوئے۔ تواریخ کے مطابق گھمسان کی لڑائی کے دوران، رسول خدا              حضرت محمد سرور ا نبیاءصلی  اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مٹھی بھر ریت اٹھا کر قریشیوں کی جانب پھینک دی اور ان پر نفرین کی۔ یہی امر مشرکین کے فرار ہونے اور ان کی شکست و ناکامی کا سبب ہوا۔ قریش کا لشکر اپنا مال و اسباب چھوڑ کر میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ گیا اور بعض افراد شکست کی خبر مکیوں کے لئے لے گئے۔جنگ بدر میں 14 مسلمان شہید ہوئے (جن میں سے 6 کا تعلق مہاجرین اور 8 کا تعلق انصار سے تھا) اور مشرکین میں سے 70 افراد ہلاک ہوئے اور اتنے ہی افراد کو قیدی بنایا گیا۔ابن قتیبہ دینوری نے مشرکین کے مقتولین کی تعداد 50 اور قیدیوں کی تعداد 44 بتائی ہے جن میں سے 35 افراد علی (ع) کے ہاتھوں مارے گئے۔ دریں اثناء سینکڑوں قریشی اطراف کے صحراؤں میں منتشر ہوگئے تھے اور رات کے اندھیرے اور مسلمانوں کے ہاتھ سے نجات پانے کے لئے گوشہ عافیت ڈھونڈ رہے تھے۔رسول خدا(ص) کو ابو جہل کی ہلاکت کی خبر سننے کا انتظار تھا اور آپ   حضرت محمد سرور ا نبیاءصلی  اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کو پیشوایان کفر کا سرکردہ اور فرعون امت جیسے خطابات سے نوازا تھا،


چنانچہ آپ(ص) نے اس کی ہلاکت کی خبر سنتے ہی فرمایا: "اے میرے رب! تو نے مجھ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرکے دکھایا ابو جہل دو نو عمر نوجوانوں "معاذ ‌بن عمرو” اور "معاذ‌ بن عفراء” کے ہاتھوں مارا گیا اور ابھی اس کی جان میں جان تھی جب عبداللہ بن مسعود نے اس کا سر تن جدا کیا۔جنگ کے نتائج کی اہمیت سے اتنا واقف کوئی نہیں تھا جتنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم۔ ہم جنگ شروع ہونے سے پہلے اس کی دعا میں اس کی پریشانی کی گہرائی کو پڑھ سکتے ہیں جب وہ اپنے رب سے دعا کرتے ہوئے کھڑا ہوا تھا: "خدایا یہ قریش ہے، یہ اپنے تمام غرور اور گھمنڈ کے ساتھ تیرے رسول کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ خدا میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ کل ان کو ذلیل کر دے۔ خدا اگر آج یہ مسلمان گروہ فنا ہو جائے تو تیری عبادت نہیں ہوگی!"اس جنگ میں جس میں کافر فوج 950 جنگجوؤں پر مشتمل تھی اور مسلمانوں کی تعداد 314 سے زیادہ نہیں تھی-پھر بھی اللہ تعلیٰ نے مسلمانوں کو صبرو استقامت کے ساتھ فتح نصیب کی

ہفتہ، 7 مارچ، 2026

گیارہ برس کا عالم ایک طلسماتی شخصیت خامنہ ای

 


 
اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
اللہ پاک جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے'آمین-شہادت  سے قبل جب ان سے کہا گیا کہ انکو بنکر میں ہونا چاہئے تو - انہوں نے سوال کیا 'کیا بنکر اتنا  بڑا  ہے جس میں پورا ایران آ جائےپھر انہوں نے کہا میرا مرنا اور جینا ایرانی عوام کے ساتھ ہے-آیت اللہ علی خامنہ ای نے سنہ دو ہزار نو میں کہا تھا ’میری روح غریب ہے اور جسم نامکمل اور میرے پاس وہ تھوڑی سی عزت ہے جو آپ نے مجھے دی ہے۔ میں یہ سب انقلاب اور اسلام کے لیے قربان کر دوں گا‘۔ایران میں علی خامنہ ای کے منہ سے نکلی بات حتمی ہوتی ہے۔ وہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اپنے ملک کے رہبرِ اعلٰی ہیں۔لیکن باہر کی دنیا شاید ان کے بارے میں صرف دو چیزیں جانتی ہے: ایک تو یہ کہ ان کا نام ان کے پیشرو آیت اللہ خمینی جیسا ہی ہے اور دوسرے یہ کہ وہ اس شخص کے سائے میں جی رہے ہیں جو درجے میں ان کے کم ہیں یعنی صدر محمود احمدی نژاد۔ہم اکثر علی خامنہ ای کو امریکہ کے خلاف خطبے دیتے دیکھتے ہیں اور وہ سیاہ پگڑی اور سفید داڑھی میں ایک ایسی شخصیت لگتے ہیں جس تک رسائی ممکن نہ ہو۔علی خامنہ ای ایران کے مقدس ترین شہر مشہد میں سنہ 1939 میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے عالم بننے کا فیصلہ کیا۔ یہ ایک آسان فیصلہ نہیں تھا کیونکہ وہ شاہ محمد رضا پہلوی کے دورِ حکومت میں بڑے ہوئے۔ رضا شاہ ایک سیکولر بادشاہ تھا جو مذہب کو ایک قدیم اور مشکوک چیز سمجھتا تھا۔آیت اللہ خامنہ ای کی سوانح عمری لکھنے والے مہدی خلجی کا کہنا ہے کہ ’خامنہ ای بہت کم عمری میں صرف گیارہ برس کی عمر میں عالم بن گئے تھے‘۔بطور ایک بااثر خطیب، وہ شاہِ ایران کے ناقدین میں شامل ہوئے۔



علی خامنہ ای " زندگی، اقتدار اور اثرات  آیت اللہ سید علی خامنہ ای گزشتہ کئی دہائیوں تک ایران کی سب سے طاقتور شخصیت رہے۔ وہ 1989 سے رہبرِ اعلیٰ کے منصب پر فائز تھے اور ریاستی نظام، فوج، عدلیہ اور بڑے سیاسی فیصلوں پر حتمی اختیار رکھتے تھے۔  1979 کے انقلاب کے بعد، جس کی قیادت روح اللہ خمینی نے کی، خامنہ ای نئی اسلامی حکومت کے اہم چہروں میں شامل ہو گئے۔1981 میں وہ ایران کے صدر منتخب ہوئے۔ ان کا دور صدارت ایران عراق جنگ کے مشکل سالوں پر مشتمل تھا۔1989 میں روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد ماہرینِ مجلس نے انہیں رہبرِ اعلیٰ منتخب کیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب وہ عملی طور پر ملک کے سب سے بااختیار فرد بن گئے۔رہبرِ اعلیٰ کی حیثیت سے خامنہ ای کو مسلح افواج کی کمان-عدلیہ اور ریاستی میڈیا پر اثر اہم عہدیداروں کی تقرری-بڑے حکومتی فیصلوں پر ویٹو پاور حاصل رہی۔ ایرانی صدور آتے جاتے رہے، لیکن ریاستی پالیسیوں کی بنیادی سمت ان کے ہاتھ میں رہی۔ان کے چھ بچے ہیں، مگر خاندان عمومی طور پر میڈیا سے دور رہا-علی خامنہ ای کی زندگی طاقت، نظریے اور طویل المدتی حکمرانی کی مثال ہے۔ وہ تقریباً تین دہائیوں تک ایک ایسے نظام کے ستون رہے جس میں مذہبی اور سیاسی قیادت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ان کے حامی انہیں استحکام اور مزاحمت کی علامت کہتے تھے جبکہ ناقدین انہیں سخت گیر پالیسیوں کا ذمہ دار قرار دیتے تھے، عرصہ دراز سے امریکہ کیساتھ خراب تعلقات کی وجہ سے اسے بار بار ٹارگٹ کیا گیا لیکن کچھ ہاتھ نا اسکا، امریکا اسرائیل نے اسے جھکانے کی ہر قسم کوشش کی لیکن کچھ نا کر سکیں




اخر کار گزشتہ دن کو ایک حملے میں اس عظیم دور کا خاتمہ ہوا اور علی خامنہ ای شہید ہوگئے، اس کی شہادت کے تصدیق ایرانی سرکاری ٹی وی سے کی گئی، 40 دن کا سوگ کا اعلان کیا گیا،آیت اللہ خامنہ ای سنہ 1939 میں ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد کے ایک مذہبی خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر پر ہیں اور ان کے والد ایک  غیر معروف شیعہ عالم تھے۔انھوں نے بچپن میں مذہبی تعلیم حاصل کی اور 11 برس کی عمر میں وہ ایک عالم کے طور پر اہل ہو گئے تھے۔اپنے دور کے دیگر عالموں کی طرح، ان کے کام کی نوعیت مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی بھی تھی۔بطور ایک بااثر خطیب، وہ شاہِ ایران کے نقادین میں شامل ہوئے۔ بالآخر سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے نتیجے میں ایران کے شاہ کا تختہ الٹ دیا گیا۔پولیس نے انھیں چھ مرتبہ گرفتار کیا اور انھیں تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔سنہ 1979 کے انقلاب کے ایک سال بعد، آیت اللہ روح اللہ خمینی نے انھیں تہران میں جمعے کی نماز کا امام مقرر کر دیا۔سنہ 1981 میں خامنہ ای ایران کے صدر منتخب ہوئے جبکہ سنہ 1989 میں روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد مذہبی رہنماؤں نے انھیں آیت اللہ خمینی کا جانشین مقرر کر دیاخامنہ ای بہت کم ایران سے باہر جاتے ہیں۔ وہ مرکزی تہران میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ ایک سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ ۔1980 کی دہائی میں ان پر ہونے والے ایک قاتلانہ حملے کے بعد سے خامنہ ای اپنا دایاں بازو استعمال نہیں کر سکتے ہیں۔ بالآخر سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے نتیجے میں ایران کے شاہ کا تختہ الٹ دیا گیا۔خامنہ ای کئی برسوں تک روپوش رہے اور انھیں جیل بھی کاٹنی پڑی۔ 



شاہِ ایران کی خفیہ پولیس نے انھیں چھ مرتبہ گرفتار کیا اور انھیں تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔سنہ 1979 کے انقلاب کے ایک سال بعد، آیت اللہ روح اللہ خمینی نے انھیں تہران میں جمعے کی نماز کا امام مقرر کر دیا۔سنہ 1981 میں خامنہ ای ایران کے صدر منتخب ہوئے جبکہ سنہ 1989 میں روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد مذہبی رہنماؤں نے انھیں آیت اللہ خمینی کا جانشین مقرر کر دیا۔آیت اللہ خامنہ ای ایران کے سب کے طاقر شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں۔خامنہ ای بہت کم ایران سے باہر جاتے تھے اور مرکزی تہران میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ ایک سادہ زندگی گزارتے تھے۔کہا جاتا ہے کہ وہ باغبانی اور شاعری کے شوقین تھے۔  سید علی خامنہ ای نے اپنی تعلیم کا آغاز چار سال کی عمر میں مکتب اور قرآن کریم کے درمیان کیا۔ انہوں نے پرائمری اسکول میں اپنی تعلیم جاری رکھی، اور کچھ قاری قرآن کی تلاوت اور تجوید کی گواہی سے مستفید ہوئے ، اور پرائمری اسکول کا مرحلہ مکمل کرنے کے بعد آپ نے سلیمان خان اسلامی مدرسہ میں دینی علوم کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔ آپ نے مدرسہ نواب کا درمیانی مرحلہ مکمل کیا۔ اس نے مقدمات اور درجات میں اپنے والد کا احسان حاصل کیا۔ ہمزمان با تحصیل ہوزوی، ہائی سکول راو ہور تو سیکنڈری ایجوکیشن۔سنہ 1334 ہجری میں آپ نے آیت اللہ سید محمد ہادی میلانی کے درس میں شرکت کی اور دو سال بعد سنہ 1336 میں آپ اپنے اہل خانہ کے ساتھ نجف گئے اور حوزہ علمیہ نجف کے مشہور اساتذہ کے اسباق میں شرکت کی لیکن آپ کے والد نجف میں رہنے پر راضی نہ ہوئے، اس لیے آپ نے ایک سال تک تعلیم حاصل کی اور ایک سال تک تعلیم حاصل کی۔  اور کروڑوں  ایرانی عوام کے دلوں پر طویل عرصے تک  راج  کرتے ہوئے با الآخر جنت الفردوس کے سفر پر روانہ ہوگئے 
تحریر و تلخیص 'سیدہ زائرہ عابدی 

جنگ خندق کفر اور اسلام کی معرکۃ الآرا جنگ

 

۔اس جنگ کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ بنو نضیر کو جب حضور انور  ﷺنے مدینہ منورہ سے جلا وطن کر دیا تو وہ خیبر میں جا کر بھی شرارتوں سے باز نہ آئے، ان کے بڑے مکہ معظمہ پہنچے اور قریش مکہ سے کہا کہ آؤ ہم تم مل کر داعئی اسلام ﷺسے جنگ کریں اور ان کو، ان کے کام کو اور ان کے ساتھیوں کو، سب کو ختم کر دیں، قریش کو آمادہ کرنے کے بعد  یہ لوگ یہودیوں کے سردار قبیلہ بنی غطفان کے پاس گئے اور انہیں بتایا کہ دیکھو محمدﷺسے جنگ کرنی ہے، قریش مکہ نے ہمارا ساتھ دینے کا وعدہ کر لیا ہے، تم لوگ بھی ہمارے ساتھ جنگ میں شریک ہو جاؤ؛ تاکہ اسلام اور مسلمانوں کا قصہ ہی ختم ہو جائے۔ ان کے علاوہ دیگر قبائل کی جماعتیں بھی جنگ کرنے کے لیے تیار ہو گئیں    ۔اس سلسلے میں کفار نے  کئی معاہدے کیے اور ایک بہت بڑی فوج اکٹھی کر لی مگر مسلمانوں نے سلمان فارسی کے مشورہ سے مدینہ کے ارد گرد ایک خندق کھود لی۔ خندق کھودنے کی عرب میں یہ پہلی مثال تھی کیونکہ اصل میں یہ ایرانیوں کا طریقہ تھا۔ ایک ماہ کے محاصرے اور اپنے بے شمار افراد کے قتل کے بعد مشرکین مایوس ہو کر واپس چلے گئے۔ اسے غزوہ خندق یا جنگِ احزاب کہا جاتا ہے۔ احزاب کا نام اس لیے دیا جاتا ہے کہ اصل میں یہ کئی قبائل کا مجموعہ تھی۔ جیسے آج کل امریکا، برطانیہ وغیرہ کی اتحادی افواج کہلاتی ہیں۔ اس جنگ کا ذکر قرآن میں سورۃ الاحزاب میں ہے۔غزوہ خندق کے مقام پر مسجد فتح (اوپر) اور مسجد سلمان فارسی (نیچے)جنگ احد کے بعد قریش، یہودی اور عرب کے دیگر بت پرست قبائل کے درمیان میں طے پایا کہ مل جل کر اسلام کو ختم کیا جائے۔ 



اس سلسلے میں پہلا معاہدہ قریش کے سردار ابوسفیان اور مدینہ سے نکالے جانے والے یہودی قبیلہ بنی نضیر کے درمیان میں ہوا۔ اس کے بعد بنی نضیر کے نمائندے نجد روانہ ہوئے اور وہاں کے مشرک قبائل 'غطفان' اور 'بنی سلیم' کو ایک سال تک خیبر کا محصول دے کر مسلمانوں کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا۔ اسلام کے خلاف اس اتحاد کو قرآن نے احزاب کا نام دیا ہے۔ ان میں ابوسفیان کی قیادت میں 4000 پیدل فوجی، 300 گھڑ سوار اور 1500 کے قریب شتر سوار (اونٹوں پر سوار) شامل تھے۔ دوسری بڑی طاقت قبیلہ غطفان کی تھی جس کے 1000 سوار انینہ کی قیادت میں تھے۔ اس کے علاوہ بنی مرہ کے 400، بنی شجاع کے 700 اور کچھ دیگر قبائل کے افراد شامل تھے۔ مجموعی طور پر تعداد دس ہزار سے تجاوز کر گئی جو اس زمانے میں اس علاقے کے لحاظ سے ایک انتہائی بڑی فوجی طاقت تھی۔ یہ فوج تیار ہو کر ابو سفیان کی قیادت میں فروری یا مارچ 627ء میں مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لیے مدینہ روانہ ہو گئی۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس سازش کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اصحاب سے مشورہ کیا۔ سلمان فارسی نے ایک دفاعی خندق کھودنے کا مشورہ دیا جو عربوں کے لیے ایک نئی بات تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ مشورہ پسند آیا چنانچہ خندق کی تعمیر شروع ہو گئی۔ مدینہ کے اردگرد پہاڑ تھے اور گھر ایک دوسرے سے متصل تھے جو ایک قدرتی دفاعی فصیل کا کام کرتے تھے۔ ایک جگہ کوہِ عبیدہ اور کوہ راتج کے درمیان میں سے حملہ ہو سکتا تھا اس لیے وہاں خندق کھودنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کی کھدائی میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سمیت سب لوگ شریک ہوئے۔




 اس دوران میں سلمان فارسی نہایت جوش و خروش سے کام کرتے رہے اور اس وجہ سے انصار کہنے لگے کہ سلمان ہم میں سے ہیں اور مہاجرین کہنے لگے کہ سلمان ہم میں سے ہیں۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ 'سلمان میرے اہلِ بیت سے ہیں'۔ کھدائی کے دوران میں سلمان فارسی کے سامنے ایک بڑا سفید پتھر آ گیا جو ان سے اور دوسرے ساتھیوں سے نہ ٹوٹا۔ آخر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود تشریف لائے اور کلہاڑی کی ضرب لگائی۔ ایک بجلی سی چمکی اور پتھر کا ایک ٹکرا ٹوٹ کر الگ ہو گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تکبیر بلند کی۔ دوسری اور تیسری ضرب پر بھی ایسا ہی ہوا۔ سلمان فارسی نے سوال کیا کہ ہر دفعہ بجلی سی چمکنے کے بعد آپ تکبیر کیوں بلند کرتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا کہ جب پہلی دفعہ بجلی چمکی تو میں نے یمن اور صنعاء کے محلوں کو کھلتے دیکھا۔ دوسری مرتبہ بجلی چمکنے پر میں نے شام و مغرب کے کاخہائے سرخ کو فتح ہوتے دیکھا اور جب تیسری بار بجلی چمکی تو میں نے دیکھا کہ کاخہائے کسریٰ میری امت کے ہاتھوں مسخر ہو جائیں گے'۔ بیس دن میں خندق مکمل ہو گئی۔ جو تقریباً پانچ کلومیٹر لمبی تھی، پانچ ہاتھ (تقریباً سوا دو سے ڈھائی میٹر) گہری تھی اور اتنی چوڑی تھی کہ ایک گھڑ سوار جست لگا کر بھی پار نہ کر سکتا تھا۔مسلمانوں کی تعداد 3000 کے قریب تھیغزوہ خندق کا مقام-خندق کھدنے کے تین روز بعد دشمن کی فوج مدینہ پہنچ گئی اور خندق دیکھ کر مجبوراً رک گئی۔ ان کی عظیم فوج اس خندق کی وجہ سے ناکارہ ہو کر رہ گئی۔ کئی دن تک ان کے سپاہی خندق کو پار کرنے کی کوشش کرتے رہے۔




بیرونی محاذ: ایمان کفر کے مقابلے پر-کچھ دن کے بعد عمرو ابن عبد ود کی قیادت میں پانچ سواروں(عمرو بن عبد ود، عکرمہ بن ابو جہل، ضرار بن الخطاب، نوفل بن عبد اللہ اور ابن ابی وھب) نے خندق کو ایک کم چوڑی جگہ سے پار کر لیا۔ عمرو بن عبد ود عرب کا مشہور سورما تھا اور اس کی دہشت سے لوگ کانپتے تھے۔ اس نے سپاہ اسلام کو للکار کر جنت کا مذاق بناتے ہوئے کہا کہ 'اے جنت کے دعویدارو کہاں ہو؟ کیا کوئی ہے جسے میں جنت کو روانہ کر دوں یا وہ مجھے دوزخ میں بھیج دے' اور اپنی بات کی تکرار کرتا رہا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ 'کوئی ہے جو اس کے شر کو ہمارے سروں سے دور کرے؟'۔ علی نے آمادگی ظاہر کی۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو اجازت نہ دی اور دوسری اور پھر تیسری دفعہ پوچھا۔ تینوں دفعہ علی ہی تیار ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انھیں اپنا عمامہ اور تلوار عطا کی اور فرمایا کہ ' کل ایمان کل کفر کے مقابلے پر جا رہا ہے'۔ ایک سخت جنگ جس کے دوران میں گردو غبار چھا گیا تھا نعرہ تکبیر کی آواز آئی۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ 'خدا کی قسم علی نے اسے قتل کر دیا ہے'۔ عمرو بن عبد ود کے قتل کی دہشت اتنی تھی کہ اس کے باقی ساتھی فوراً فرار ہونے لگے۔ نوفل بن عبد اللہ فرار ہوتے وقت خندق میں گر گیا جسے نیچے اتر کر علی نے قتل کر دیا۔ باقی فرار ہو گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ' روزِ خندق علی کی ضربت تمام جن و انس کی عبادت سے افضل ہے

جمعرات، 5 مارچ، 2026

روشن آنکھیں مسکراتا چہرہ جس کا نام ہے لبنیٰ ٹوانہ

 

لبنیٰ ٹوانہ سندھ پولیس کی ایک نامور اور بہادر خاتون افسر ہیں، جو 1999 سے خدمات انجام دے رہی ہیں اور 2000 میں بطور ایس ایچ او (SHO) کام کرنے والی ابتدائی خواتین میں شامل ہیں। وہ کراچی میں ایس پی (SP) پولیس کے عہدے پر خدمات سرانجام دے چکی ہیں اور ایف آئی اے (FIA) کی پہلی خاتون اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھی رہ چکی ہیں، جنہیں خصوصاً خواتین کے مسائل حل کرنے میں مہارت حاصل ہے جرائم کا خاتمہ پولیس کا اولین فرض                                                 اس حقیقت سے کوئی انکاری نہیں کہ موجودہ دور میں کسی بھی شعبے یا ادارے میں مردوں کے ساتھ خواتین کی شمولیت نا گزیر ہو چکی ہے ۔ قابل، باصلاحیت اور باہمت خواتین نے مردوں کے شانہ بشانہ چل کر جواں مردی، سے اپنا لوہا بھی منوایا ہے اس وقت ہر شعبہ خواتین کے بغیر اد ھوراہی نظر آتا ہے۔ان ہی میں پنجاب کے زمیندار سیاسی راجپوت ٹوانہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی سندھ پولیس کی باصلاحیت ،قابل نڈر خاتون ایس پی لبنی ٹوانہ کا شماربھی ہو تا ہے ان کے والد بھی سرکاری آفیسر تھے، بڑی بہن راحیلہ ٹوانہ سابق مشیر وزیراعلی سندھ اور سابق ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی تھیں، بھائی ایف بی آر میں ڈپٹی کمشنر ہیں ایک بہن پاکستان کی پہلی کمسن شاعرہ اور احمد فراز، پیر نصیر الدین نصیر گولڑہ شریف کی شاگرد ہیں، ایک بہن فری لانس صحافی اورایک ہاوس وائف ہے۔ایک شادی شدہ بیٹی ہے۔ معروف سیاستداں ، ، پولیس اور ایف آئی اے میں مختلف عہدوں پرفائز رہنے والی لبنی ٹوانہ آج کل ایس پی کمپلینٹ سیل ضلع ایسٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دےرہی ہیں ۔ صاف گو، نرم مزاج اور خوش گفتار لبنی ٹوانہ سےکی گئی بات چیت کا احوال قارئین کی نذر ہے۔



 ·س۔ سب سے پہلے ہمیں اپنی جائے پیدائش اور ابتدائی تعلیم کے بارے میں کچھ بتائیں ؟ج۔ میری پیدائش فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے قریب اپنے آبائی گاؤں میں ہوئی۔ والد صاحب پاکستان مشین ٹول فیکٹری کراچی میں سرکاری آفیسر تھے ، ہماری رہائش بھی پی ایم ٹی ایف کالونی میں تھی۔ تعلیم کا آغاز کے جی سے پی ایم ٹی ایف ماڈل اسکول سے کیا ۔ میٹرک آرمی پبلک اسکول کراچی سے، گریجویشن پی ای سی ایچ ایس گورنمنٹ گرلز کالج سے کیا۔س۔ خاتون ہوتے ہوئے پولیس کے شعبے کا انتخاب آپ کی خواہش تھی یا حادثاتی طور پر آ ئیں ؟ج۔ بی اے کرنے کے بعد پہلی نوکری پی ایم ٹی ایف ماڈل اسکول میں بحیثیت ٹیچر ایک سال کی، بعد ازاں محکمہ پولیس کا رخ کرلیا، پولیس میں آنے کی پہلی وجہ اس کی خوبصورت یونیفارم ،جب کہ دوسری وجہ بچپن سے خدمت خلق کا جذبہ بننی۔ خوشی اس بات کی ہے کہ میں اپنی سروس کا حق ادا کر رہی ہوں۔س۔ یہ بتائیں پولیس میں پہلی تعیناتی کہاں اور کس عہدے پر ہوئی ؟ج۔ اگست 1994 میں بحیثیت لیڈی انسپکٹر بھرتی ہوئی۔ پولیس ٹریننگ کالج سعیدآباد سے ایک سال کی اکیڈمک ٹریننگ کرنے کے بعد پولیس کے ABCD کئے اور پہلی تقرری بحیثیت ایس ایچ او ویمن پولیس اسٹیشن ضلع ملیر میں ہوئی، جہاں ضلع ملیر کے 16 تھانوں کے مقدمات تفتیش کے لیے بھیجےجاتے تھے۔س۔ ایس پی بننے سے قبل کن عہدوں پر اور کہاں کہاں خدمات انجام دیں ۔ پولیس میں بحیثیت ایس ایچ او، ویمن پولیس اسٹیشن کراچی 2000 تک کام کیا۔ اس کے بعد مئی 2000 میں میری خدمات فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی(ایف آئی اے) کے حوالے کردی گئیں ،



جہاں پہلی انسپکٹر امیگریشن انچارج ، پہلی انسپکٹر انویسٹی گیشن تعینات رہنے کے بعد پہلی خاتون اسسٹنٹ ڈائریکٹ امیگریشن بنی ، ایف آئی اے کے تمام شعبوں میں تفتیشی آفیسر کے طور پر کامیاب تفتیش کی، جن میں امیگریشن، کمرشل بینک سرکل، کارپوریٹ کرائم سرکل، اینٹی کرپشن سرکل، سائبر کرائم سرکل، اینٹیہیومن ٹریفکنگ سرکل وغیرہ میں کام کیا۔س۔ اگر پولیس افسر نہ ہو تیں تو کس محکمے میں جانا پسند کرتیں ؟ج۔ مجھے درس و تدریس کا شعبہ بھی بہت پسند ہے، اگر پولیس میں نہیں ہوتی توایک استاد ہوتی۔س۔ مزاجاََ کیسی ہیں، غصہ آتاہے ؟ج۔ مجموعی طور پر میں نرم مزاج ہوں، دوران گفتگو بد زبانی اور بدتمیزی کی قائل نہیں ، غصہ آنا یا غصہ کرنا ایک نارمل عمل ہے، جب کوئی خلاف مزاج بات ہو یا کوئی جھوٹ بول کر آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرے، ہٹ دھرمی دکھائے ،دھوکا دے یا کسی پر ظلم کرے تو غصہ آتا ہے۔س۔ کیا محکمہ پولیس میں خواتین مردوں سے بہتر انداز میں خدمات انجام دے ر ہی ہیں ؟ج۔ پولیس میں خواتین زیادہ محنت اور لگن سے کام کرتی ہیں، مگر انھیں وسائل میسر نہیں ، کوئی ہمدرد اور اچھا افسر ہو تو ان کو کافی حد تک سہولتیں فراہم کر دیتے ہیں۔س۔ اعلی پولیس افسران کے دعوؤں کے باوجود شہر میں اسٹریٹ کرائمز کا جن کیوں بے قابو ہے ؟ج۔ ہوشربا مہنگا ئی، بےروزگاری اور منشیات کا فروغ شہر میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز کا اصل سبب ہیں ،جن پر قابو پانا ناگزیر ہے۔س۔ دوران سروس کوئی ناقابل فراموش واقعہ پیش آیا؟ج۔ جی ہاں،ویسےتو کئی واقعات ہیں،


س۔ گھر میں اور خاندان والوں کے ساتھ بھی کیا پولیس افسرکا رویہ ہوتا ہے ؟ج۔ جی ہاں اس وقت خاص طور پر جب کسی کو کوئی قانونی مدد یا مشورے کی ضرورت ہو ورنہ عام حالات میں گھر والوں یا خاندان والوں کے سامنے نرم مزاج اور ملنسار ہوں۔ س۔ ایک دن کے لیے آئی جی سندھ بنا دیا جائے تو پہلا کام کون سا کریں گی ؟ ج۔ ایک دن کا آئی جی بننے کا کوئی فائدہ نہیں پھر بھی اگر ایسا ہوا تو ڈی ایس پی سے لے کر کانسٹیبل تک سب کو ان کا جائز حق دوں گی جن کی ترقی صرف نذرانے نہ دینے کی وجہ سے رکی ہوئی ہے۔ ان کی فوری ترقی اور جو مراعات ان کا حق ہے وہ ان کو دوں گی۔ ایس پی لبنیٰ ٹوانہ نمائندہ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے س۔ کیا ملازمت علاوہ گھر کے کام خود کرتی ہیں یا ملازم رکھے ہیں؟ج۔ مجھے گھر کے کام کرنا ہمیشہ سے پسند ہے۔ ہماری والدہ ،نانی، خالہ اور پھوپھی نےسب بہنوں کو گھر گرستی کے تمام کام سکھا دیئے تھے ، جن سے ہماری زندگی میں کافی آسانیاں ہیں۔س ۔ کیا گھومنے پھرنے کی شوقین ہیں ؟ج۔ جی ہاں مجھے گھومنے پھرنے کا جنوں کی حدتک شوق ہے، تاریخی مقام دیکھنا، پکنک پر سب کے ساتھ جانا، خریداری کرنا، بہت اچھا لگتا ہے۔س۔ فارغ اوقات یا چھٹی کیسے گزارتیں ہیں ؟ج۔ پولیس اور ایف آئی اے کی ملازمت میں فارغ اوقات کا ملنا بہت مشکل ہے۔ جب کبھی تھوڑا وقت مل جائے توگھر کےہی کسی کام میں وقت گزر جاتا ہے یا اپنی فیملی کے ساتھ گپ شپ میں وقت گزار لیا۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

باکو جدید اور قدیم کے آئینے میں

  ملک کا دارالحکومت   تیل کی دولت سے مالا مال اس ملک کا سمند ر پانیوں کے ساتھ ساتھ تیل بھی اگلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باکو شہر کے نواح کا سفر ک...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر