منگل، 3 فروری، 2026

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

 

میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے بہت ہمّت کر کےاپنے آپ کو سنبھالا ہوا تھا مگر دل پر بھلا کس کو اختیار ہوسکتا ہے ،اور اس کا دل سینے کے پنجرے میں پھڑپھڑا رہا تھا کہ اس کو جان ودل سے ا پنا بنانے والا کبھی بھی واپس نہیں آنے کے لئے اس سے روٹھ کردنیا سے جا چکا تھا,,سو چوں کے انہی جان گسل لمحات میں ,ایجاب وقبول کے لئے مولاناصاحب طلال کے ہمراہ اس کے پاس آگئے'ایجاب و قبول کا مرحلہ شروع ہوا نصرت نگین بنت اسلام الدّین آپ کو مبلغ                   مہر شرعی شامیل احمد ابن خلیق احمد کے ساتھ نکاح منظور ہے اور مولاناصاحب کے الفاظ پورے ہونے سے پہلے اس نے اپنے آپ کو بے ہوش ہونے سے بچایا ،اورپھر اس نے مولانا کے دوسر ی بار کے مرحلے پر پہنچنے پر آہستہ سے ہاںکہاور نکاح نامے کو اپنی موت کا پروانہ سمجھ کر سائن کر دئےاور نکاح کے بعد اس کی منجھلی آپا اور بڑی آپا نے ,,نے اس کے دونو ں بازوتھام کر شامیل کے پہلو میں لا کر بٹھا دیا، اس نے نا تو اپنی نگاہیں اوپراٹھائیں اور ناہی شامیل نے اس کے پہلو کی قربت کو اپنے نزدیک پسند کیا اسلئے کچھ فاصلہ پر کھسک کر بیٹھ گیا جس کو سب نے اس کی شرم و حیا کی تعبیرجانا مووی بنتی رہی تصاویر کھینچی جاتی رہیںفو ٹو گرافر مووی میکر باربار اصر ار کرنے لگا زرا سا کلوز ہو جائیے ,,زرا سا کلوز ہو جائیے اور وہ زراسا کلوز ہوتا اور پھر دور ہوجاتا ،اور وہ بے روح کی مانند ساکت ہی رہی اور بغیر ایک آنسو بہائے رخصت ہو کرشامیل کے گھر میں سر جھکائےہوئے آ گئ'اس شادی میں اس کے میکے میں ناکوئ رسمیں ہوئیں ناریتیں ہوئیں نا ڈھولک کی تھاپ پر کسی سہیلی نے کوئ سہاگ گیت گا یا ،بس منجھلی آپا ہی تو تھیں جنہوں نے اس کے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگا دی تھی اور بیوٹی پارلر لے جاکر دلہن بنوا لائ تھیں-


البتّہ شامیل کے یہاں اس کے بابا جانی کی بیماری کے باوجود شادی کےہنگامے کا پورا پورا اہتمام اس لئے کیا گیا تھا کہ شامیل کہیں یہ نہیں سوچے کہ گھر میں چھوٹا ہونے کے سبب وہ نظر انداز کر دیا گیا- شامیل کے ساتھ انتہائ عجلت میں حادثاتی شادی نےجس میں اس کا پورا، پورا قصور شامل تھا ,اس کو زہنی اور جسمانی دونوں طرح سے بے حد تھکا دیا تھا ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب شامیل نے رات گئے کمرے میں آکے اس کواس کےماضی کے زہر بھرے کچوکے دئے تو اس کے زہن نے مزید بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا  کیونکہ اسکا د ماغ اب مذید بو جھ اٹھا نے سے  قا صر ہو چکا تھا جس کا نتیجہ اب ظاہر ہو ا اس کو پتا ہی نہیں چلا کہ کب وہ بے ہوش ہوگئ البتّہ جب اسے ہوش آیا تو کمرے میں گھپ اندھیرا چھایا  ہواتھا اور تمام  ماحول پر رات کی  خاموشی طاری تھی اور اس کے ہاتھوں اور پیروں کی طاقت سلب ہو چکی تھی ,کچھ دیرتو اس کی سمجھ ہی میں نہیں  آیا کہ کہ وہ کہاں پر ہے ؟ اورایک اجنبی گھر میں کیوں ہے ؟ اپنی بڑی آپا کے گھر کیوں نہیں ہے پھر جب کچھ, کچھ اس  کے حواس واپس ہونے لگے تو اس کو یاد آیا کہ اس کی شادی ہو چکی ہے اور اب وہ بڑی آپا کے گھر کے بجائے شامیل کے گھر میں موجود ہے ، پھر اس کے لئےتختہء دار پر گزرتی ہوئ اس شب مرگ و سوگ میں اس کا دھیان یعسوب کی جانب  چلا گیا جو اس کو حالات کے منجھد ھار میں مر ،مر کے جینے اور جی، جی کے مرنے  کے لئےتنہا  چھوڑ کر چلا گیا تھا 


اس نے سوچا کہ یعسوب کے بجائے اگر وہ مرجاتی تو کتنا اچھّا ہوتا بے اختیار اس کی آنکھوں سے اپنی بے بسی پر آنسوؤں کی جھڑی لگی تو اس نے آنسوپونچھنے کے لئے اپنے ہاتھ کو جیسےہی جنبش دی اس کی کلائیوں میں موجود کانچ کی چوڑیاں کھنک اٹھیں اور اس نے اپنا                 ہاتھ وہیں پر رو ک دیا اورسنبھل کر سو چا کہ کہ کہیں اس کے رونے سے کارپٹ پر سوئے ہوئے شامیل کی آنکھ نا کھل جائے اور پھر ایک نیا ہنگامہ کھڑا ہو جائے اس لئے اس نے خاموشی سے اپنے آنسوؤں کویونہی بہتے رہنے دیا اوریہ آنسوبہتے ہوئے اس کا تکیہ بھگوتے رہے اور اسی طرح وہ ناجانے کب نیند کی آغوش میں چلی گئ ,,اور پھر صبح سویرے جب اس کی آ نکھ کھلی تواس نے سب سے پہلے بیڈ پر پھیلی ہوئ اپنی, یعسوب کے ساتھ منگنی کی تمام بے تر تیب ا لٹی اور سیدھی پڑی ہوئ وہ ار مان بھرے جذبوں سے کھینچی ہوئ تصاویرجو اس وقت ان دونو ں کی                   زندگی کا یادگار ترین موقع تھا , جلدی جلدی سمیٹ کر تکئے کے نیچے چھپا دیں اور پھر اللہ کا شکر ادا کیا کہ شامیل کے سو کر اٹھنے سے پہلے ہی وہ خود اٹھ گئ , کھول کر اس میں سے گھر کے پہننے کے لئے سادہ جوڑا نکالا, حالانکہ اس کی ہر حرکت آہستہ آہستہ ''سے ہی عبارت تھی لیکن پھر بھی کلائیوں میں پہنی ہوئ کانچ کی چوڑیاں انہیں روکنے کے باوجود کھنک جانے سے شامیل کی آنکھ کھل گئ اور اس نے  کمرے میں پھیلی ہوئ ملگجی روشنی میں کارپٹ پرسوٹ کیس کھولے بیٹھی ہوئ نگین کو نیم وا آنکھوں سے دیکھا لیکن پھروہ جان بوجھ کرسوتا ہی بنا پڑا رہا 


, اور پھروہ وہا ں سے اپنے کپڑے لے کر فورا ہی چلی گئ ،اور پھر ڈ ریسنگ            روم سے تیّار ہو کر کمرے میں آئ تو شامیل کمرے سے جا چکا تھا , اس نے شامیل کے کمرے سے یوں چلے جانے پر اللہ کا شکر ادا کیا او ایک بار پھر بیڈ پر بیٹھ کر کمرے کا جا ئزہ لیا اس وقت حجلہء عروسی میں گزری ہوئ رات کے گلاب کے سارے تازہ مہکتے ہوئے پھولو ں پر مردنی چھائ ہوئ تھی اورموتئے کی کھلکھلاتی ہوئ تازہ معطّر کلیوں نے سہاگ رات کی سونی سیج کے سرہانےاپنی ہی بانہوں میں اداسی سے سر نیہو ڑا دیا تھا ریشمی حریریپردے اس طرح ساکت تھے جس طرح جنازہ اٹھنے سے پہلے ماحول کو سکوت ہوتا ہے اور پردوں میں کالے کوبراجنکی لال لال زبانیں رات کے اندھیرے میں اس کی طرف لپک رہی تھیں اب پردوں سے لپٹے ہوئے سو رہے تھے اور کمرے میں ہ rجگہ شامیل کی نفرت کی چنگاریا  ں چٹختی پھر رہی تھیں اور اس کی سہاگ رات زندگی بھر کا سوگ بن کر گزر گئ تھی اورپھر اس سے پہلے کہ اسکی وحشت اور بھی دو چند ہو جاتی ,,کہ کمرے کے دروازے پر دستک ہوئ ،اور وہ اپنی جگہ سےاٹھ کر دروازے کی جانب بڑھی  دروازہ بند تو تھا نہیں ادھ کھلا تھا ،چناچہ ربیکا دستک دے کراندر آ گئیں  اس نے فوراً ربیکا کو مودّبانہ سلام کیا تو ربیکا نے اسے گلے سے لگایا اور ماتھے پر پیار کر کے مسکراتے ہوئے کہنے لگیں........ ، کہو دلہن بیگم تمھیں ہمارا بھائ کیسا لگا

پیر، 2 فروری، 2026

شکار پور چار سو سالہ تہذیب و تمدن سے آراستہ شہر

 



 سندھ کی سرزمین اپنی ابتدا سے ہی ہر لحاظ سے ایک امیر کبیر دولت دے مالا مال رہی ہے اسی سر زمین پر دریائے سندھ کے بائیں کنارے سے کچھ ہی فاصلے پر واقع چار سوسالہ تاریخ کو اپنے اندر سمونے والابالائی سندھ کا یہ تاریخی شہر شکارپور ، ماضی میں اپنی خوب صورتی اور یہاں بسنے والے لوگوں کی تہذیب ، تمدن، تعلیم و تربیت کے ساتھ ، ساتھ تجارت کے باعث بھی جانا پہچانا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے اسے بّر صغیر سمیت دیگربیرونی ممالک کی کاروباری منڈیوں میں اہم تجارتی مرکز کی حیثیت بھی حاصل رہی ۔ اُسی زمانے میں تاجر قافلے اونٹ گاڑیوں پر سوار ہوکر یہاں پرقائم تاریخی قلعے قافلےمیں قیام و طعام کرکے اپنے تجارتی مقاصد حاصل کرلینے کے بعد یہاں سے اپنی منزلوں کو روانہ ہوجاتے تھے۔ سندھ میں برطانوی راج قائم ہونے کے بعد سندھ کو انتظامی لحاظ سے تین اضلاع کراچی،حیدرآباد اور شکارپور میں تقسیم کردیا گیا،پھر وقتاً فوقتاً یہاں مختلف شعبہ جات میں تبدیلیاں اور ترقیاں رونما ہونے لگیں، نئے طرز زندگی کو اپناتے ہوئے قدیم آلات کی جگہ جدید آلات نے لے لی۔ اس زمانے میں (ایس آر سی) سندھ ریلوے کمپنی کو کراچی سے کوٹری تک ریلوے لائین بچھانے کی ذمےداری دی گئی۔ اس سے پہلے دریائے سندھ میں انڈس فلوٹیلا کی اسٹیم بوٹس کے ذریعے سفرکیا جاتا تھا، جو کہ دریا کےبہاؤ کی مخالف سمت ہونے کے باعث کئی دن لے لیتا تھا، جب کہ واپسی کا سفر دریا کے بہاؤ کی درست سمت ہونے کے باعث کچھ کم دنوں میں طےہوپاتا تھا۔


 پھریہاں سفری سہولتوںاور مال کی ترسیل کے لیے ریل کی پٹڑیاں بچھائی گئیں، جن پرکالی تیز رفتار ریل گاڑیاں چلنے لگیں، جنہوں نے سفر کے طویل تر لمحات کو مختصر کرکے ریل کے سفر کو لوگوں کے لیےآنے جانے کا ایک آسان اور محفوظ ذریعہ بنادیا۔ اُن دنوں شکارپور سمیت دیگر ملحقہ علاقوں میں ،جن اشیائےخورونوش اور دیگراشیائے صرف کی دریائے سندھ کے راستے کشتیوں کےذریعے تجارت کی جاتی تھیں، وہ مال گاڑیوں کے ذریعےآنے جانےلگیں۔اُس وقت کوٹری براستہ دادو،ریلوے لائین پرضلع شکارپور کا پہلا ریلوےجنکشن ’’رُک اسٹیشن ‘‘ کے نام سے1898ء میں تعمیر کرایا گیا۔شروعاتی دور میں اس اسٹیشن کے ذریعے شکارپورکی تجارت کوپورےسندھ سمیت برصغیر ودیگر مغربی ممالک کے ساتھ جوڑدیا گیا۔ 120برس قبل تعمیر کرایا گیا ،یہ اسٹیشن آج تک فن تعمیر کی ایک زندہ مثال ہے،جو کہ اتنے برس بیت جانے کے باوجود آج بھی لوگوں کے لیے کسی شاہکار سے کم نہیں۔ اسٹیشن کے قیام کے بعد کئی دَہائیوں تک اس کی رونقیں دیکھنے لائق تھیں،کیوں کہ اس اسٹیشن سے ملحقہ شہروں اور دیہات کےزیادہ تر رہائشی ریل گاڑی کو ہی اپنا ذریعہ سفر بناتے تھے۔اُس وقت اسٹیشن تک پہنچنے کا ایک واحد ذریعہ بیل گاڑیاں ہوا کرتی تھیں ۔ گزشتہ دس پندرہ برسوں کے دوران پاکستان میں ریلوے کےزوال کے ساتھ ہی یہ ریلوے اسٹیشن بھی اپنی رونقیں کھو بیٹھا ہے۔

اب اس کی ویرانی کا یہ عالم ہے کہ نہ تو یہاں کوئی مسافر نظر آتا ہے اور نہ ہی یہاں وہ سہولتیں موجو دہیں، جو ماضی میں اس کا حسن ہوا کرتی تھیں۔ یہاں ریل گاڑیاں نہ رکنے کی وجہ سے آج کل ملحقہ علاقوں کے عام شہری اور دیہاتی سستے اور آرام دہ سفر سے محروم ہو چکے ہیں۔اس اسٹیشن کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ آج بھی سکون کے متلاشی لوگ اپنے دیہات میں گھومنے آتے ہیں ،تو ایک بار ہی سہی ، لیکن اس پُرسکون اور خوب صورت اسٹیشن کا چکر ضرور لگانے آتے ہیں۔ رُک کے بعد شکارپورریلوے اسٹیشن کی تعمیر کا کام عمل میں آیا،جسے 1901 میں مکمل طور پر تعمیر کر لیا گیا۔ اس اسٹیشن کو رُک اسٹیشن کی طرح زیادہ خوب صورت تو نہیں بنایا گیا تھا، لیکن شہر میں اسٹیشن کا قیام یہاں کے شہریوں سمیت تاجروں کے لیےنہایت ہی خوش آئند ثابت ہوا۔دیو قامت دھواں اڑاتے ہوئے کالے انجن والی یہ ریل گاڑیاں اس وقت کے لوگوں کے لیے حیران کن تو تھیں، ساتھ ساتھ سفری سہولتوں کے مزے لوٹنے کا ذریعہ بھی تھیں۔ اُونٹ گاڑیوں پر لدا ہوا مال اب مال گاڑیوں کے ذریعے آنے جانےلگا ۔117برس قبل تعمیر کرائے گئے اس اسٹیشن پر ریل گاڑیوں اور مال گاڑیوں کی آمد ورفت کے باعث یہاں بہت بڑا مال گودام بھی بنایا گیا، جس سےخاص طور پر یہاں پیدا ہونے والی نمایاں کاشت دھان اور گندم کے کاشت کاروں اور تاجروں کو بہت فائدہ پہنچا۔ 


بزرگوں کا کہنا ہے کہ ’’کسی زمانے میں یہاں اتنے مال کی آمد و رفت ہوتی تھی، کہ ریلوے کے گوداموں میں سامان رکھنے کی جگہ کم پڑ جاتی تھی۔ سارا دن گاڑیوں کی آمد ورفت کے باعث اسٹیشن پرلوگوں کا ہجوم ہر وقت رہنے کے باعث یہاں ایک میلے کا سماں بندھا رہتا تھا۔‘‘ اس اسٹیشن سے وابستہ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ایک زمانے میں اس اسٹیشن سے مختلف مقامات کو جانے والی ریل گاڑیوں کےریکارڈ ٹکٹ فروخت ہوئے تھے،کیوں کہ یہاں کے لوگوں کااپنی تعلیم، کاروبار اور ملازمت کے باعث پاکستان کے مختلف علاقوں میں آناجانا معمول کا حصہ تھا، لیکن اب یہ اسٹیشن تقریباً ساڑھے بارہ لاکھ کے آبادی رکھنے والے ضلع شکارپور کے عوام کے لیے امید کی ایک واحد کرن بنا ہوا ہے،۔ شکار پور ریلوے اسٹیشن ہمیشہ سےمقتددر حلقوں کی توجہ کا طالب رہا ہے۔ اس وقت یہاں سے مین لائین پررات کے اوقات میں کراچی کے لیے براستہ روہڑی صرف ایک گاڑی سکھر ایکسپریس چلتی ہے، جب کہ بولان میل، خوشحال خان خٹک ایکسپریس براستہ لاڑکانہ دادو لائین پر کراچی کے لیے ،اکبر ایکسپریس اور جعفرایکسپریس براستہ روہڑی تا پنجاب چلا کرتی ہیں، جن میں شکارپور کے کوٹے کی ٹوٹی پھوٹی خستہ حال بوگیاں کسی آفت زدہ علاقے سے آئی ہوئی لگتی ہیں،جن کے بیت الخلاءناقابلِ استعمال اورٹوٹی پھوٹی خستہ حال سیٹوں پر سفر مشکل ترین ہوجاتا ہے۔ شکارپور ریلوے اسٹیشن کی اراضی پر گزشتہ کئی برسوں سے منظور شدہ پارک تاحال نہیں بن پایا، جس سے ریلوے ملازمین سمیت اسٹیشن کے قریب رہنے والوں کے پاس صحت مند تفریح کے مواقع میسر نہیں ہیں۔

اتوار، 1 فروری، 2026

ایک درویش منصف اعلیٰ' جسٹس منیر مغل

   ہائی کورٹ کا ایک ولی صفت جج

میرے پاس چند دن قبل ایک ریٹائرڈ پولیس افسر آئے۔ ان کا چھوٹا سا مسئلہ تھا، میں نے ان کی جتنی مدد کر سکتا تھا کر دی۔ اس کے بعد گفتگو شروع ہوئی تو میں نے ان سے زندگی کا کوئی حیران کن واقعہ سنانے کی درخواست کی۔میری فرمائش پر انہوں نے ایک ایسا واقعہ سنایا جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا اور میں نے سوچا، مجھے یہ آپ کے ساتھ بھی شیئر کرنا چاہیے۔ پولیس افسر کا کہنا تھا: میں 1996ء میں لاہور میں ایس ایچ او تھا۔ میرے والد علیل تھے، میں نے انھیں سروسز اسپتال میں داخل کرا دیا۔ سردیوں کی ایک رات میں ڈیوٹی پر تھا اور والد اسپتال میں اکیلے تھے۔ اچانک ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی اور وہ الٹیاں کرنے لگے۔میرے خاندان کا کوئی شخص ان کے پاس نہیں تھا۔ وہ دو مریضوں کا کمرہ تھا، ان کے ساتھ دوسرے بیڈ پر ایک مریض داخل تھا۔ اس مریض کا اٹینڈنٹ موجود تھا۔ وہ اٹھا، اس نے ڈسٹ بین اور تولیہ لیا اور میرے والد کی مدد کرنے لگا۔ وہ ساری رات ابا جی کی الٹیاں صاف کرتا رہا۔ اس نے انھیں قہوہ بھی بنا کر پلایا اور ان کا سر اور بازو بھی دبائے۔ صبح ڈاکٹر آیا تو اس نے اسے میرے والد کی کیفیت بتائی اور اپنے مریض کی مدد میں لگ گیا۔ میں نو بجے صبح وردی پہن کر تیار ہو کر والد سے ملنے اسپتال آ گیا۔اباجی کی طبیعت اس وقت تک بحال ہو چکی تھی۔ مجھے انھوں نے اٹینڈنٹ کی طرف اشارہ کر کے بتایا: "رات میری اس مولوی نے بڑی خدمت کی۔" میں نے اٹینڈنٹ کی طرف دیکھا۔ وہ ایک درمیانی عمر کا باریش دھان پان سا ملازم تھا۔ میں نے مسکرا کر اس کا شکریہ ادا کیا لیکن پھر سوچا، اس نے ساری رات میرے والد کی خدمت کی ہے، مجھے اسے ٹپ دینی چاہیے۔ 


میں نے جیب سے پانچ سو روپے نکالے اور اس کے پاس چلا گیا۔ وہ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اسے پانچ سو روپے پکڑانے لگا۔ وہ کرسی پر کسمسایا لیکن میں نے رعونت بھری آواز میں کہا: "لے مولوی، رکھ یہ رقم، تیرے کام آئے گی۔" وہ نرم آواز میں بولا: "نہیں بھائی نہیں، مجھے کسی معاوضے کی ضرورت نہیں۔ میں نے رات دیکھا، آپ کے والد اکیلے ہیں اور تکلیف میں ہیں۔ میں فارغ تھا، لہٰذا میں اللہ کی رضا کے لیے ان کی خدمت کرتا رہا۔ آپ لوگ بس میرے لیے دعا کردیں، وغیرہ وغیرہ۔" لیکن میں باز نہ آیا، میں نے فیصلہ کر لیا کہ ہر صورت اسے پیسے دے کر رہوں گا۔پولیس افسر رکے، اپنی گیلی آنکھیں اور بھاری گلہ صاف کیا اور پھر بولے: "انسان جب طاقت میں ہوتا ہے تو یہ معمولی معمولی باتوں پر ضد باندھ لیتا ہے۔ یہ ہر صورت اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا ہے۔ میں نے بھی پیسے دینے کی ضد بنا لی تھی، مگر مولوی مجھ سے زیادہ ضدی تھا۔ وہ نہیں مان رہا تھا۔ میں اس کی جیب میں پیسے ڈالتا تھا اور وہ نکال کر کبھی میری جیب میں ڈال دیتا تھا اور کبھی ہاتھ میں پکڑا دیتا تھا۔"میں نے اس دھینگا مشتی میں اس سے پوچھا: "مولوی یار تم کرتے کیا ہو؟" اس نے جواب دیا: "بس ایسے ہی لوگوں کی خدمت کرتا ہوں۔" وہ مجھے اپنا کام نہیں بتانا چاہتا تھا۔ میں نے اب اس کا ذریعہ روزگار جاننے کی ضد بھی بنا لی،


 اس سے بار بار اس کا کام پوچھنے لگا۔ اس نے تھوڑی دیر ٹالنے کے بعد بتایا: "میں کچہری میں کام کرتا ہوں۔" مجھے محسوس ہوا یہ کسی عدالت کا اردلی یا کسی وکیل کا چپڑاسی ہو گا۔ میں نے ایک بار پھر پانچ سو روپے اس کی مٹھی میں دے کر اوپر سے اس کی مٹھی دبوچ لی اور پھر رعونت سے پوچھا: "مولوی تم کچہری میں کیا کرتے ہو؟"اس نے تھوڑی دیر میری طرف دیکھا اور پھر اپنے والد کی طرف دیکھا۔ لمبی سانس لی اور آہستہ آواز میں بولا: "مجھے اللہ نے انصاف کی ذمے داری دی ہے۔ میں لاہور ہائی کورٹ میں جج ہوں۔"مجھے اس کی بات پر یقین نہ آیا، میں نے پوچھا: "کیا کہا؟ تم جج ہو!" اس نے آہستہ کہا: "جی ہاں، میرا نام جسٹس منیر احمد مغل ہے اور میں لاہور ہائی کورٹ کا جج ہوں۔"یہ سن کر میرے ہاتھ سے پانچ سو روپے گر گئے اور میرا وہ ہاتھ جو میں نے پندرہ منٹ سے اس کے کندھے پر رکھا ہوا تھا، وہ اس کے کندھے پر ہی منجمد ہو گیا۔جسٹس صاحب نے بڑے پیار سے میرا ہاتھ اپنے کندھے سے اتارا، کھڑے ہوئے، جھک کر فرش سے پانچ سو روپے اٹھائے، میری جیب میں ڈالے اور پھر بڑے پیار سے اپنے مریض کی طرف اشارہ کر کے بتایا: "یہ میرے والد ہیں۔ میں ساری رات ان کی خدمت کرتا رہا، ان کا پاخانہ تک صاف کیا۔ اس میں شکریے کی کوئی ضرورت نہیں۔"میں نے رات دیکھا، آپ کے والد اکیلے ہیں اور ان کی طبیعت زیادہ خراب ہے، لہٰذا میں انھیں اپنا والد سمجھ کر ان کی خدمت کرتا رہا۔ اس میں شکریے کی کوئی ضرورت نہیں۔ (جاوید چودھری)


جسٹس منیر مغل نے ایم۔اے اور ایل۔ایل۔بی کے بعد مولانا عبیداللہ سندھی کی تفسیر پر پی ایچ ڈی کیا۔ ان کا دوسرا پی ایچ ڈی جامعۃ الازہر مصر سے تھا، جس کے لیے انہوں نے عربی زبان بھی سیکھی۔ ان کے علاوہ ملکی جسٹس منیر مغل نے ایم۔اے اور ایل۔ایل۔بی کے بعد مولانا عبیداللہ سندھی کی تفسیر پر پی ایچ ڈی کیا۔ ان کا دوسرا پی ایچ ڈی جامعۃ الازہر مصر سے تھا، جس کے لیے انہوں نے عربی زبان بھی سیکھی۔ ان کے علاوہ ملکی و بین الاقوامی قوانین پر 24 کتابیں تصنیف کیں۔ وہ عدالت میں تیزی سے مقدمات نمٹانے کے لیے مشہور تھے۔ ان کی عدالت میں انصاف کا انداز نہایت متاثر کن تھا۔ ایک مقدمے میں جب امیر لوگوں کے وکیل اور غریب استاد کا کیس آیا، جسٹس صاحب نے استاد کے احترام میں سارا دن عدالت کھڑے ہو کر مقدمات نمٹائے اور پانچ منٹ میں فیصلہ سنایا۔جسٹس مغل والدین کی خدمت کے حوالے سے بھی مشہور تھے۔ ان کے سامنے یوں دست بستہ کھڑے ہوا کرتے تھے کہ گویا نماز کی نیت باندھ رکھی ہے۔ والد کے زیادہ بیمار ہونے پر انہوں نے بیڈ کے قریب گھنٹی رکھی تاکہ والد پاؤں سے دبائیں اور وہ فوراً پہنچ جاتے۔ اپنی بیوی اور بچوں کو بھی والد کے کام میں ہاتھ نہیں لگانے دیتے تھے۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی علم، محنت اور والدین کی خدمت میں گزاری۔ عدالت میں بھی ان کا رویہ عاجزانہ اور ایماندارانہ تھا۔15 اپریل 2024 کو یہ فرشتہ صفت دنیا سے رخصت ہوا۔ ن کی سادہ زندگی، عاجزی اور والدین کے لیے غیر معمولی خدمت آج بھی عدلیہ اور معاشرے کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ اللہ قرب کے اعلیٰ مراتب سے نوازے۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر