ہفتہ، 24 جنوری، 2026

پلازہ کے نقشے میں ہنگامی اخراج کا کوئی ذکر تک نہیں ہے

  

سال 2005 میں پریڈی کوارٹرز میں کوارٹر نمبر 32 پر مقدمہ نمبر 56/2005 درج ہوا۔ یہ وہی کوارٹر ہے جہاں گل پلازہ قائم ہے۔ اس مقدمے میں کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سابق چیف کنٹرولر مرحوم بریگیڈیئر (ر) اے ایس ناصر سمیت کئی افسران اور نجی فریقین کو بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور جعلسازی کے الزامات کے تحت نامزد کیا گیا تھا۔ استغاثہ نے اس وقت گل محمد خانانی نامی شخص کو پریڈی کوارٹرز(گل پلازہ) کا مالک قرار دیا تھا۔کراچی کے علاقے صدر، پریڈی کوارٹرز میں واقع گل پلازہ ماضی میں تعمیر اور غیر قانونی منظوریوں، بلڈنگ کنٹرول کی بدعنوانی اور سیاسی مداخلت کے ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آتا رہا ہے جبکہ حال ہی میں آگ لگنے کے واقعے میں کئی لوگوں کی جانوں کا  نقصان  آپ کے سامنے ہے۔ اس پلازہ کی کہانی آج سے کوئی 15 سال قبل ایک کیس کے تناظر میں خوب سمجھ آسکتی ہے مذکورہ کیس کا آغاز سن 2005 میں ہوا جب کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بعض افسران اور نجی فریقین کے خلاف بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور جعلسازی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ یہ مقدمہ ایف آئی آر نمبر 56/2005 کے تحت قائم ہوا جس کا تعلق پلاٹ نمبر PR-I/32، پریڈی کوارٹرز سے تھا۔ یہ وہی پلاٹ ہے جہاں بعد میں گل پلازہ تعمیر ہوا جو وقت کے ساتھ ساتھ درآمدی اشیا کا ایک بڑا تجارتی مرکز بن گیا۔ استغاثہ کے مطابق پلاٹ میں جو جگہ گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے مختص تھی اسے غیرقانونی طور پر دکانوں اور تجارتی استعمال میں تبدیل کیا گیا تھا جس سے شہری قوانین اور بلڈنگ ریگولیشنز کی صریح خلاف ورزی ہوئی تھی


۔اس مقدمے میں گل محمد خانانی کو گل پلازہ کے مالک کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ الزام یہ تھا کہ انہوں نے کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے ایسی منظوری حاصل کی جو سندھ ریگولرائزیشن کنٹرول آرڈیننس 2002 کی دفعہ 5-C کے خلاف تھی۔ یوں گل محمد خانانی اس غیرقانونی تعمیر کے براہ راست فائدہ اٹھانے والے فریق قرار پائے۔5 جنوری 2008 کو خصوصی اینٹی کرپشن جج کراچی سید گل منیر شاہ نے اس مقدمے میں سابق چیف کنٹرولر کے بی سی اے بریگیڈیئر (ر) اے ایس ناصر، دیگر افسران اور دیگر ملزمان کے ساتھ ساتھ گل محمد خانانی پر بھی فرد جرم عائد کی۔ تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا اور مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان پر تعزیرات پاکستان اور انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 کے تحت متعدد سنگین دفعات لگائی گئیں جن میں کرپشن، جعلسازی اور دھوکہ دہی شامل تھیں۔2008 کے دوران یہ مقدمہ مختلف سماعتوں اور التوا کا شکار رہا۔ عدالت میں ملزمان کی جانب سے مقدمہ خارج کرنے کی درخواستیں بھی دائر کی گئیں تاہم کیس بدستور زیر سماعت رہا اور استغاثہ کی جانب سے موقف برقرار رکھا گیا کہ سرکاری افسران نے نجی فائدے کے لیے قانون کی خلاف ورزی کی       بالآخر اپریل 2010 میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جب حکومت سندھ نے فوجداری ضابطہ کارروائی کی دفعہ 494 کے تحت یہ مقدمہ واپس لینے کی درخواست دائر کی۔ 


عدالت نے اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے سابق کے بی سی اے چیف سمیت تمام ملزمان بشمول گل محمد خانانی کو الزامات سے بری کر دیا۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق مقدمہ کسی عدالتی ٹرائل کے منطقی انجام تک پہنچے بغیر حکومتی فیصلے کے نتیجے میں ختم ہوا۔سابق کے بی سی اے چیف بریگیڈیئر ریٹائرڈ اے ایس ناصر سال 2024 جنوری کو گھر میں گر کر زخمی ہوئے اور کئی دنوں تک زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کر گئے جبکہ حالیہ چند رپورٹس کے مطابق گل محمد خانانی سے متعلق بھی ابہام پایا جا رہا ہے کہ آیا وہ اس پلازہ کے مالک ہیں یا نہیں؟ بتایا جا رہا ہے کہ اس پلازہ کے مالک کا اصل نام بھی درست نہیں ہے تاہم ماضی میں گل محمد خانانی ہی مالک کے طور پر اس کیس میں نامزد کیے گئے تھے۔ ماضی کا یہ کیس اور اس پر کیا گیا فیصلہ کراچی میں غیرقانونی تعمیرات، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے کمزور نظام اور احتساب کے سوالات کو آج بھی زندہ رکھا ہوا ہے۔ یوں سرکاری اداروں کی کمزوریوں سے بھی آپ کو اندازہ ہوگا کہ کس قدر یہ نظام کھوکھلا چلا آرہا ہے۔ 31 اکتوبر 2004 کو کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ایک ٹیم سولجر بازار میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن کرنے پہنچی تھی۔ یہ ٹیم فیروزآباد تھانے کی حدود میں واقع غیرقانونی تعمیرات گرانے کے لیے پہنچی تھی۔ یہ کارروائی سندھ ہائی کورٹ کے احکامات پر کی جا رہی تھی تاہم پولیس نے اس پوری ٹیم کو ہی حراست میں لے لیا۔


 اطلاع ملنے پر کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے چیف کنٹرولر بریگیڈیئر (ر) اے ایس ناصر نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا جن کی مداخلت کے بعد کے بی سی اے کے اہلکاروں کو رہا کر دیا گیا۔حالیہ کیس میں گل پلازہ میں لگنے والی آگ اور ان واقعات کی کڑیاں ملائیں تو بہت کچھ کلئیر ہوجاتا ہے۔ یہ تمام واقعات میڈیا پر بھی رپورٹ ہوچکے ہیں۔حالیہ میڈیا رپورٹس کے مطابق گل پلازہ کی عمارت اصل میں 1980 کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی۔ ابتدائی تعمیر کے بعد 1998 میں اس میں اضافی منزلیں بنائی گئیں اور 14 اپریل 2003 کو مالک نے کمپلیشن سرٹیفیکیٹ حاصل کیا تھا۔ نقشے کے مطابق اس میں بیسمنٹ سمیت تین منزلوں کی اجازت تھی لیکن حقیقت میں وہاں 1021 سے زائد دکانیں (تقریباً 1200) بن گئی تھیں اور کچھ دکانیں تو باہر نکلنے کے راستوں پر بھی تعمیر ہو چکی تھیں جس نے آگ کے دوران لوگوں کی انخلا کو مزید مشکل بنایا جبکہ بعض رپورٹس میں آتا ہے کہ پارکنگ اور بیسمنٹ میں اضافی سامان بھی رکھا جاتا رہا ہے۔ دعویٰ یہ بھی سامنے آرہا ہے کہ پلازہ کے نقشے میں ہنگامی اخراج کا کوئی ذکر تک نہیں ہے۔ یوں گل پلازہ میں لگنے والی آگ اور جانوں کے ضیاع سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ جب قانون پر عملدرآمد کرنے والے ادارے خود کمزور، باہمی کشمکش کا شکار اور سیاسی و انتظامی مداخلتوں کے تابع ہوں تو غیرقانونی تعمیرات سانحات کی بنیادیں بن جاتی ہیں 

ادیب  یوسف زئ  کی یہ  تحریر میں نے  اپنی فیس بک سے لی ہے

جمعہ، 23 جنوری، 2026

فا ٹا حکومت کی توجہ چاہتا ہے

 

‏اللہ تعالیٰ نے بلوچستان میں سونے اور تانبے کے ذخائر رکھے ہیں۔ جن کی مالیت دو کھرب ڈالر سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ 54ملین ٹن سونے کے ذخائر موجود ہیں۔ ‏اور بلوچستان میں موجود ریکوڈیک کان دنیا کی پانچویں بڑے ذخائر ہیں۔ ضلع چاغی میں موجود ریکوڈیک کے سونے ذخائر اتنی مقدار میں موجود ہیں کہ اسے نکالنے کے لیے 20 سال زائد کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ یہ سونے کا پہاڑ 100 کلومیٹر سے زائد کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اور اب مزید سونا سندھ کے علاقے تھر پارکر کے قصبے نگر پارکر سونے کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ مشیر معدنیات سندھ نے کہا کہ نجی کمپنی کی کھدائی کے بعد سونے کے ذخائر کی تصدیق ہو گئی ہے۔مہمند: سنگ مرمر کی کانوں کے تنازعے اور 'تاریخ پر تاریخ'مہمند کے رہائشی وزیر خان کے مطابق قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے قبل جرگہ سسٹم تھا لیکن اب جس کا بھی مسئلہ ہو وہ عدالت میں پیشیوں پر جاتا ہے، جہاں ایک تاریخ کے بعد دوسری تاریخ ملتی ہے اور کیس جلدی ختم نہیں ہوتے۔قبائلی ضلع مہمند سنگ مرمر (ماربل) کے پتھر کے قیمتی ذخائر کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے اور یہاں سے ملک کے اندر اور باہر خوبصورت سنگ مرمر فراہم کیا جاتا ہے، تاہم آج کل مہمند میں سنگ مرمر کی تقریباً 80 فیصد کانیں بند ہیں، مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس صنعت کو پوری طرح بحال کیا جائے تو یہاں روزگار کے مواقع میسر ہوں گے، جس سے غربت کم ہوگی۔



مہمند کے ایک رہائشی وزیر خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ضلع مہمند میں زیارت پہاڑی کا سنگ مرمر نہ صرف پاکستان میں بلکہ ایشیا بھر میں مشہور ہے لیکن یہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ کہ ٹھیکیداروں کو بلاسٹنگ کے لیے بارود نہیں مل رہا اور جن کانوں پر قومی تنازع ہے، وہاں صرف عدالتی پیشیاں ہوتی ہیں اور کام ختم نہیں ہوتا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہاں کام چل جائے اور سڑک بن جائے تو لوگوں کو سہولت ہو جائے گی، کاروبار چلے گا اور غربت میں کمی ہوگی۔وزیر خان نے بتایا کہ قبائلی علاقوں کے صوبہ خیبرپختونخوا میں انضمام سے قبل جرگہ سسٹم تھا تو لوگوں کو جو مسئلے ہوتے تھے وہ مشیران کے ذریعے آپس میں بیٹھ کر ہی حل ہو جاتے تھے، لیکن اب جس کا بھی مسئلہ ہو وہ عدالت میں پیشیوں پر جاتا ہے، جہاں ایک تاریخ کے بعد دوسری تاریخ ملتی ہے اور کیس جلدی ختم نہیں ہوتے۔مہمند میں چھپے اربوں کے قدرتی خزانے اور سرکاری بے پروائیمہمند ڈیم: کام شروع ہوا نہیں لیکن نام پر تنازع شروع-مہمند: چہل پہل کی واپسی تو بس سطحی باتیں ہیں-ضلع مہمند کے علاقہ گندہاب میں سنگ مرمر کے کارخانے کے مالک زاہد شاہ کو بھی کافی مسائل کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے روزگار پر اثر پڑا ہے۔انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ حکومت کی پالیسوں کی وجہ سے پہاڑ اور سنگ مرمر کی کانیں بند ہیں۔ پتھر نہیں مل رہا اور سڑک خراب ہونے کی وجہ سے کھلی کانوں تک گاڑیوں کے ذریعے سے رسائی بھی مشکل ہے تو اس سے ان کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے کیونکہ وہ گاہکوں کی ڈیمانڈ پوری نہیں کر پا رہے۔



زاہد شاہ نے بتایا کہ مہمند کا سنگ مرمر مشہور ہے، جس میں زیارت کے ماربل، خانقاہ اور آج کل سٹرابیری ماربل کی بہت زیادہ مانگ ہے جبکہ زیارت وائٹ اور سٹرابیری ماربل یہاں کارخانوں میں تیار کرکے پنجاب، کراچی اور ملک کے دوسرے علاقوں کے علاوہ بیرون ممالک بھی بھیجا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا: 'یہاں ماربل کے پہاڑ علاقے کے عوام کی ملکیت سمجھے جاتے ہیں تاہم انضمام کے بعد حکومت نے کانوں کو لیز کرنے کا نیا قانون متعارف کرایا ہے جس سے اب کچھ علاقوں کے ماربل کی کانیں حکومت کی لیز کے مسائل کی وجہ سے بند ہیں اور مالکان عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں جکہ کچھ سنگ مرمر کی کانوں پر مقامی افراد کے آپس میں رائیلٹی پر اختلافات ہیں جس کی وجہ سے قیمتی اور خوبصورت سنگ مرمر کی اکثر کانیں بند پڑی ہوئی ہیں۔'زاہد شاہ نے بتایا کہ خیبر پخنونخوا میں انضمام کے بعد ماربل کے کارخانوں اور دیگر کو پانچ سال کے لیے ٹیکس فری زون قرار دیا گیا تھا لیکن ہمارے بجلی کے بلوں میں ٹیکس ابھی تک شامل ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ایک کارخانے دار ہر ماہ بجلی کے بل میں 80 ہزار سے لے کر ایک لاکھ تک ٹیکس جمع کرواتا ہے۔انہوں نے سوال کیا: ’ٹیکس فری زون قرار دینے کے بعد ہم سے کیوں ٹیکس لیا جاتا ہے؟ یہ ہمارے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ہمارے بجلی کے بلوں کو ٹیکس فری کیا جائے۔زاہد شاہ نے ضلع مہمند میں حکومت کی جانب سے ماربل سٹی پراجیکٹ کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے تو ماربل سٹی کے لیے زمین لے لی ہے اور کچھ لوگوں نے کارخانوں کے لیے پلاٹ بھی لیے ہیں لیکن سرکار کی جانب سے ترقیاتی کام بند ہونے کی وجہ سے کارخانے نہیں لگائے جا رہے۔



سنگ مرمر کے پتھر پہاڑوں میں سے بغیر کسی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے نکالے جاتے ہیں جس میں 40 سے 60 فیصد سنگ مرمر کے پتھر ضائع ہوجاتے ہیں۔یہاں اگر تمام پتھر کی کانوں میں کام ہوتا ہو تو روزانہ کی بنیاد پر ڈھائی سے تین سو تک ٹرک لوڈ کیے جا سکتے ہیں جن میں سے فی ٹرک 60 ٹن کے پتھر ہوتے ہیں۔ایک ٹن کی قیمت چار ہزار سے 12 ہزار روپے تک ہوتی ہے جس میں سے زیارت کا وائٹ ماربل پوری دنیا میں خصوصیت رکھتا ہے اور دھوپ میں ٹھنڈا ہونے کی خاصیت رکھنے پر زیادہ قیمت پر فروخت ہوتا ہے۔سنگ مرمر کے بڑے پتھر تراشنے اور اسے مختلف سائز میں کاٹنے کے لیے کارخانوں میں لے جایا جاتا ہے لیکن ضلع مہمند میں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے صرف چند ہی کارخانے لگائے گئے ہیں۔مچنی کے علاقے میں فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ماربل سٹی کی منظوری دی تھی جس کے لیے 600 ایکڑ سے زائد زمین بھی مقامی لوگوں سے خریدی جا چکی ہے اور وہاں پر بجلی کی گرڈ سٹیشن پر بھی کام مکمل کیا جاچکا ہے لیکن خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد فاٹا ڈویلمنٹ اتھارٹی کا وجود ختم ہوگیا، جس کے بعد ماربل سٹی پر کام بند ہو گیا

جمعرات، 22 جنوری، 2026

اشاعت مکرر 'نقیب انقلاب کربلا 'بی بی زینب سلام اللہ علیہا

 


سیّدالاصفیا ء خاتم الانبیاء تاجدار دوعالم حضرت رسول خدا محمّد مصطفٰے صلّی ا للہ علیہ واٰلہ وسلّم کی پیاری بیٹی جناب حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی آغوش مبارک میں گلستان نبوّت کی ایک تروتازہ کلی نے آنکھ کھولی تو آ پ سے دو برس بڑے بھائ اپنے والد گرامی حضرت امیرالمومنین کی انگلی تھام کر اپنی مادر گرامی کے حجرے میں آئے ،اور ننھی بہن کے ننّھے ملکوتی چہرے کو مسکرا کر دیکھا اور پھر اپنے پدر گرامی مولائے متّقیان کو دیکھ کر مسکرائے  اور سلطان اولیاء مولائے کائنات نے اپنی آنکھوں میں آئے ہوئے آنسو بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے چھپاتے ہوئے فرمایا کہ ,حضرت محمّد رسول اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم تشریف لے آئیں توبچّی کا نام بھی آپ ہی تجویز کریں گے جس طرح اپنے نواسوں کے نام حسن وحسین تجویز کئے تھےنبئ اکرم ہادئ معظّم صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم بی بی زینب کی ولاد ت کے وقت شہر مدینہ سے باہر حالت سفر تھے۔چنانچہ تین دن کے بعدسفرسے واپس تشریف لائے تو حسب عادت سب سے پہلے بی بی سیّدہ کےسلام اللہ علیہا حجرے پر تشریف لائے جہاں جناب فاطمہ زہرا کی آغو ش مبارک میں ننّھی نواسی جلوہ افروز تھی آپ نے وفورمحبّت و مسرّ ت سے بچّی کو آغوش نبوّت میں لیا اور جناب حسن وحسین علیہم السّلام کی مانند بچّی کےدہن مبارک کو اپنےپاکیزہ ومعطّر دہن مبارک سے آب وحی سےسرفراز کیا جناب رسالت مآ ب سرور کائنات حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم بچّی کو آغوش نبوّت میں  لئے ہوئے نگاہ اشتیاق سےننّھی نواسئ معصومہ کا چہرہ دیکھتے رہے جہاں بی بی خد یجتہ الکبریٰ کی عظمت و تقویٰ اور جناب سیّدہ سلام اللہ علیہاٰ کے چہرے کے نورانی عکس جھلملا رہے تھے-



وہیں آپ صلعم کے وصی اور اللہ کے ولی مولا علی مرتضیٰ کا دبد بہ اور حشمت ہویدا تھی ننّھی نواسی کا ملکوتی چہرہ دیکھ کر حضور اکرم حضرت محمّد مصطفٰے صلّی اللہ علیہواٰ لہ وسلّم کا چہرہء مبارک خوشی سے کھلا ہوا تھااور اسی وقت بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنے محترم بابا جان سے مخاطب ہوئیں بابا جان ہم س انتظار میں تھے کہ آپ تشریف لے آئیں تو بچّی کا نام تجویز کریں تاجدار دوعالم  صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے بی بی فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا سے فرمایا کہ بیٹی میں اس معاملے میں اللہ کے حکم کا پابند ہوں جبرئیل امیں کے آنے پر ہی بچّی کا نام تجویز ہوسکے گا ،،اور پھر اسی وقت آپ کے رخ انور پر آثار وحی نمودار ہوئے اور آ پ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے بی بی فاطمہ زہرا کے سر پر ہاتھ  رکھّا اور مولائے کائنات کو اپنے قریب بلاکر فرمایا گلستان رسالت کی اس کلی کا نام جبرئیل امیں بارگاہ ربّ العالمین سے‘‘ زینب ‘‘  لے کر آئےہیں یہی نام وہاں لو ح محفوظ پر بھی کندہ ہےبیت الشّرف میں اس نام کو سب نے پسند فرمایا ،پھر رسالتماآب صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے نے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں دعاء کی اے تمام جہانوں کے سب سے بہترین مالک میں تیری حمد وثناء بیان کرتے ہوئے تجھ سے دعاء مانگتا ہوں کہ تو نے  جس طرح ہمارے بچّوں کو دین مبین کی حفاظت کا زریعہ قرادیا ہے اسی طرح اس بچّی کو بھی عزّت اور سعادتو ں سے بہرہ مند فرما ،میں تیرے کرم کا شکر گزار ہوں۔اس دعائے شکرانہ میں جناب حضرت فاطمہ زہرا اور جناب حضرت علی مرتضٰی بھی شامل ہو ئےاور پھر گلستان رسالت کی یہ ترتازہ کلی ہوائے مہرو محبّت میں پروان چڑھنے لگی _وہ جس گھر میں آئ تھی


یہ دنیا کا کوئ عام گھرانہ نہیں تھا یہ گھر بیت الشّرف کہلاتا تھا ،اس محترم گھر کے مکین اہل بیت کے لقب سے سرفراز کئےگئے تھے ،اس پاکیزہ و محترم گھرکے منّو ر و ہوائے بہشت سےمعطّر آنگن میں پیغا مبر بزرگ فرشتے حضرت جبرئیل امیں وحی پروردگارعالم عرش بریں سے لےکراترتے تھے اس میں اقامت پذیر نورانی ہستیوں پر ملائکہ اور خود اللہ  درود و سلام بھیجتے تھے اور پھر بوستان محمّد کی یہ ترو تازہ کلی جس کا نام زینب( یعنی اپنے والد کی مدد گار) پرورد گار عالم نے منتخب کر کے لوح محفوظ پر کندہ کر دیا تھا ،فضائے مہرومحبّت میں پروان چڑھنے لگی چادر کساء کے زیر سایہ اس گھر کے مکینوں سے زینب سلام اللہ علیہا نے نبوّت و امامت کے علوم کے خزینے اپنے دامن علم میں سمیٹے توآپ سلام اللہ علیہا کی زبان پر بھی اپنے باباجان علی مرتضیعلیہ اسّلام اور والدہ گرامی جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا کی مانند اللہ کی حمد و ثناء ومناجا ت کے پھول کھلنے لگے ،بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے ہوش سنبھالتے ہی اپنے بابا جان کو اور مادرگرامی کو  اور اپنے نانا جان حضرت محّمد صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کو،فقرا و مساکین کو حاجتمندوں کی مدد کرتے ہوئے دیکھا تھا ،یہ وہ متبرّک ہستیاں تھیں جو اپنی بھوک کو سائل کی بھوک کے پس پشت رکھ دیتے تھے،کسی بھی سوال کرنے والے کے سوال کو سوالی کااعزاز بنا دیتے تھے مشورہ مانگنے والے کو صائب مشورہ دیتے تھے۔ہادیوں کے اس گھرانے کو کوئ دنیاوی معلّم تعلیم دینے نہیں آتا تھا ،


یہاں تو بارگاہ ربّ العا لمین سے حضرت جبرئیل امیں علوم کےخزانے بزریعہ وحئ الٰہی لا کر بنفس نفیس دیتے تھے چنا نچہ انہی سماوی و لدنّی علوم سےبی بی زینب سلام اللہ علیہا کی شخصیت کو مولائے کائنات اور بی بی سیّدہ سلام اللہ علیہا نے سنوارااور سجایا ،آپ جیسے ،جیسے بڑی ہونے لگیں آپ کی زات میں بی بی سیّدہ سلام اللہ علیہا کی زات کے جوہر اس طرح 
نکھرنے لگے کہ آپ کو د یکھنے والی مدینے کی عورتو ں نے آپ کا لقب ہی ثانئ زہراسلام اللہ علیہا  رکھ دیا-لیکن آپ سلام اللہ علیہا نے بچپن سے  ہی خطابت کا جوہر اپنے والد گرامی حضرت  علی علیہ السلام سے اس طرح لیا کہ جب آپ خطاب  کرتیں تو مدینے کی عورتوں کو محسوس ہوتا جیسے مولائے متقیان  بول رہے ہوں ۔''اور یہی  خطابت بعد از کربلا  نقیب انقلاب کربلا بن گئ 
خدا رحمت کند ایں عاشقان  پاک طینت را

بدھ، 21 جنوری، 2026

میر امن دہلوی برصغیر کے ایک معروف اور بہترین نثر نگار


میر امن  ایک پائے کے نثر نگار تھے  جنہوں نے اردو نثر نگاری کو چار چاند لگائےان کے بزرگ ہمایوں کے عہد میں مغلیہ دربار سے وابستہ ہوئے۔ آپ دہلی میں پیدا ہوئے اور یہیں  مکتب کی تعلیم حاصل کی ۔مغلوں کے دور آخر میں جب دلی کو احمد شاہ ابدالی نے تاراج کیا تو میر امن دہلی  چھوڑ کر عظیم آباد پہنچے۔ وہاں سے کلکتہ گئے کچھ دن بیروزگاری میں گذرے۔ بالاخر میر بہادر علی حسینی نے ان کا تعارف فورٹ ولیم کالج کے شعبہ ہندوستانی کے سربراہ ڈاکٹر گل کرائسٹ سے کرایا۔ انھوں نے میر امن کو کالج میں ملازم رکھا لیا۔ اور قصہ چہار درویش (فارسی) سلیس نثر میں لکھنے پر مامور کیا۔ چنانچہ ان کی فرمائش پر 1801ء میں باغ و بہار لکھنی شروع کی۔ 1802ء میں مکمل ہوئی اور اسی سال ہندوستانی مینول میں اس کے 102 صفحے شائع ہوئے۔ بعد ازاں 1804ء میں نظر ثانی شدہ مکمل ایڈیشن منظر عام پر آیا۔ میر امن کی دوسری کتاب گنج خوبی ہے جو ملا حسین واعظ کاشفی کی (اخلاق محسنی) کا ترجمہ ہےمیر امن کی زندگی کے حالات کسی کتاب یا تذکرہ میں نہیں ملتے، لہذا ان کی ولادت، وفات اور مدفن کے متعلق کسی کو صحت کے ساتھ کچھ معلوم نہیں۔میر امن دہلوی کا نام میر امان اللہ تھا اور امن ان کا تخلص۔ پہلے انہوں نے اپنا تخلص لطف رکھا تھا۔ میرامن دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے۔ محققین کے نزدیک ان کی پیدائش ۱۷۵۰ کے آس پاس محمد شاہ کے عہد میں ہوئی۔ بعض لوگوں نے 1732کو خاص کیا ہے اور کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ1747 میں پیدا ہوئے۔ احمد شاہ ابدالی کے حملے کی وجہ سے میر امن کے خاندان نے دہلی چھوڑ کر پٹنہ کا رخ کیا۔  میر امن وہاں سے کلکتہ گئے تاکہ انہیں روزگار مل سکے۔ وہاں نواب دلاور جنگ کے چھوٹے بھائی میر محمد کاظم  خاں کو تعلیم دینے کےلیے مقرر کیے گئے۔

 اسی دوران ان کی ملاقات میر بہارد علی حسینی سے ہوئی۔  ان کے ذریعہ میرامن فورٹ ولیم کالج پہنچے  اور انہیں اس کالج میں ملازمت حاصل ہوئی۔ میر امن اس کالج کے ہندوستانی شعبہ میں 40روپے مہینے کے حساب سے منشی کے طور پر مقرر کیے گئے۔ میر امن نے اس کالج سے  وابستہ رہ  کر ’’باغ و بہار‘‘ میں لکھی۔  یہ کتاب امیر خسرو کی فارسی داستان ’’قصہ چہار درویش ‘‘کا آسان اردو ترجمہ ہے۔ اسے انہوں نے جان گلکرسٹ کی فرمائش پر لکھی۔ میر امن نے اس کتاب کے ذریعہ سادہ سلیس اور آسان زبان و اسلوب کی بنیاد ڈالی۔ میر امن اپنے اسی اسلوب کی وجہ سے کافی مقبول ہوئے۔ اردو ادب میں اپنی اسی کتاب کی بدولت میر امن اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔ اسی کالج سے ہی  وابستہ رہ کر  انہوں نے دوسری کتاب ’’گنج خوبی‘‘ لکھی جوکہ ملاحسین واعظ کاشفی کی کتاب ’’اخلاق محسنی‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ لیکن اس کتاب کو اتنی مقبولیت نہ ملی۔ میر امن اس کالج سے پانچ سال تک  وابستہ رہے 

 باغ و بہار کا تعارف:باغ و بہار میر امن کی معروف و مشہور داستانوی کتاب ہے۔ اسے انہوں نے ۱۸۰۲ میں لکھی اور پہلی بار ۱۸۰۴ میں یہ شائع ہوئی۔ یہ داستان امیر خسرو کی فارسی  داستان ’’قصہ چہار درویش‘‘  کا اردو ترجمہ ہے۔ اس سے پہلے میر عطا حسین خاں تحسین نے اس داستان کا ترجمہ ’’نوطرز مرصع ‘‘ کے نام سے کیا جس کی زبان بہت مشکل ہے۔ اس کے بعد میر امن نے اس کا آسان اردو ترجمہ کیا۔ مولوی عبدالحق کا ماننا ہے کہ میر امن کی اس کتاب کا اصل ماخذ ’’نوطرز مرصع‘‘ ہے۔باغ و بہار کی خصوصیات:باغ و بہار کی خصوصیت یہ ہے اس میں ہندوستانی تہذیب و معاشرت کا عکس پیش کیا گیا ہے۔ خاص طور سے میر امن نے دہلی کی تہذیب کی عکاسی کی ہے۔ اس کتاب سے اس وقت کی دہلوی تہذیب، معاشرت،طرز زندگی، شادی بیاہ، رسم و رواج اور روایات سے ہمیں واقفیت  حاصل ہوتی ہے۔اسی طرح شاہی دربار، نوابوں کی حویلیاں، مختلف موسمی پھل اور مختلف کھانوں کا ذکر اس داستان میں موجود ہےمیر امن کی نثر نگاری۱۔زبان کی سادگی:   میر امن کی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے اردو نثر میں آسان، سادہ اور عام فہم زبان کی بنیاد ڈالی ہے۔ میر امن سے پہلے سادہ اور آسان زبان میں لکھنے کا رواج نہ تھا۔ بلکہ مشکل سے مشکل عبارت لکھی جاتی تھی جو کہ اس وقت مہارت کی دلیل تھی۔


 لیکن میر امن نے آسان زبان کا استعمال کرکے اردو کو سادگی کا راستہ دکھایا جس کو بعد میں غالبؔ وغیرہ نے بھی اختیار کیا۲۔ زبان کی لطافت       میر امن کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے عبارت کو پر لطف بناکر پیش کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریر پڑھ کر قاری کو اکتاہت کا احساس نہیں ہوتا  بلکہ قاری مزے لے لے کر پڑھتا جاتا ہے۔۳۔ الفاظ کا استعمال:میر امن کا کمال یہ ہے انہوں نے موقع و محل کے اعتبار سے مناسب الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ میر امن کے پاس بہت سے الفاظ ہوتے ہیں۔ پھر ان الفاظ کی جہاں ضرورت محسوس ہوئی وہاں انہوں نے استعمال میں لایا۔۴۔ لفظوں کی تکرار یا تابع مہمل:میر امن نے لفظوں کی تکرار اور تابع مہمل کے ذریعہ بھی اپنی نثر کو خوبصورت بنایا ہے۔ یہ دونوں چیزیں ان کے یہاں کثرت سے نظر آتی ہیں۔ مثال کے طور پر گھر گھر، پل پل، روتا دھوتا، لڑکے بالے وغیرہ۔۵۔ متروک الفاظ:میر امن کے یہاں ایسے الفاظ کی بھی کثرت ہے جو پہلے بولے اور لکھے جاتے  تھے لیکن آج ان الفاظ کا بولنا اور لکھنا چھوڑ دیا گیا ہے۔ مثلا کبھو، کدھو اور ایدھر اودھر وغیرہ۔۶۔ عربی و فارسی کے الفاظ:          میر امن نے ضرورت کے اعتبار سے عربی اور فارسی  کے الفاظ کو بھی بہت خوبصورتی سے استعمال میں لایا ہے۔ ایسے الفاظ مشکل نہیں ہوتے ہیں بلکہ وہ عام فہم ہوتے ہیں۔۷۔ ہندی الفاظ:            میر امن کی نثر کی ایک خوبی یہ ہے انہوں نے ہندی الفاظ کا بھی خوبصورت استعمال کیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ عربی اور فارسی کے آسان الفاظ جو اردو میں رائج ہیں ایسے الفاظ کی جگہ پر انہوں نے ہندی الفاظ کو ترجیح دی ۔
۔ کچھ لوگوں کے مطابق   1806اور زیادہ تر لوگوں کے مطابق 1808 کو کلکتہ میں ان کا انتقال ہوا

منگل، 20 جنوری، 2026

گل پلازہ شہر کراچی کی تاریخ کا ہولناک سانحہ

    

فائر 1200 جلتی ہوئ دکانوں کی مارکیٹ میں اس وقت لگ بھگ 6000 ہزار افراد موجود تھے جن کے نکلنے کے لئے صرف دو دروازے کھلے تھے  باقی چوبیس دروازے بند تھے  اور اس طر وہ قیامت برپا ہوئ جس کو روکا بھی جا  سکتا تھا لیکن ہمارے پاکستان میں عا م آدمی کی جان کی قیمت کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں ہے   -ااطلاع دینے کے پورے دو گھنٹے  بعد فائر بریگیڈ آئ جس کے پاس پانی بھی   مناسب مقدار میں نہیں تھا    ایک ہی گاڑی آئ جس کا پانی ختم ہوجاتا تھا پھر وہ پانی لینے جاتی تھی- شہر کے تمام  وسائل پر  پیپلز پارٹی  کا قبضہ ہے جن  کے کرتاؤں دھرتاؤں کی سائن کے بغیر خاکروبوں کی تنخواہ بھی نہیں دی جا سکتی ہے  ' تو ایسے میں کراچی والوں کو منہ دھو رکھنا چاہئے  -یہ شہر تو ویسے بھی ایوب خان کے منصوبے کے تحت لاوارث چل رہا ہے -گل پلازہ کوئی عام مارکیٹ نہیں بلکہ شہر کے بڑے ہول سیل اور ریٹیل مراکز میں سے ایک تھا۔ آج سینکڑوں دکاندار اپنی زندگی بھر کی کمائی جلتے دیکھ کر بے بس  رہے۔ اگر 2009 میں جیل روڈ حادثے کے بعد مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جاتے تو گل پلازہ جیسے سانحات ٹل سکتے تھے،  ۔ پچھلےپندرہ سالوں میں متعدد بڑے حادثات — جیل روڈ 2009، گلشنِ اقبال 2011، صدر مارکیٹ 2013 اور دیگر صنعتی علاقے 2015 تا 2017 — پیش آئے، لیکن ہر بار ردِعمل سست، غیر منظم اور ناکافی رہا۔ نتیجتاً انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور اربوں روپے کا تجارتی سرمایہ تباہ ہوا۔کراچی کے تجارتی اور شہری زندگی کے دل ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ نے شہر کے تمام حفاظتی دعوؤں کو خاک میں ملا دیا۔


 یہ کوئی معمولی حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا المیہ تھا جس نے انسانی جانوں، دکانداروں کے خواب اور اربوں روپے کے تجارتی سرمایہ کو راکھ میں تبدیل کر دیا۔گل پلازہ میں آتشزدگی رات 9:45 سے 10:15 کے درمیان شروع ہوئی اور 1200 سے زائد دکانیں جل گئیں۔ گل پلازہ کی آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی 22 گاڑیاں، 10 واٹر باؤزرز اور 4 اسنارکل گاڑیاں شامل کی گئیں، مگر ابتدائی گھنٹوں میں پانی کی کمی اور ریسکیو اہلکاروں کی محدود رسائی انسانی جانوں کے  زیاں  کی اہم وجہ بنی۔ ریسکیو1122 کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی مراحل میں عمارت میں داخل ہونا انتہائی دشوار تھا۔ ۔۔ 2009 میں جیل روڈ کے ”چیز اپ“ اسٹور میں لگنے والی آگ، 2011 میں گلشنِ اقبال صنعتی گودام کی تباہی اور 2013 میں صدر مارکیٹ میں ہونے والی آگ اس بات کی واضح مثالیں ہیں، سانحہ گل پلازہ کیسے رونما ہوا ؟  دل دہلا دینے والے انکشافات سامنے آگئےالمناک سانحے کے وقت عمارت میں موجود لوگوں کو 26 میں سے 24 دروازے بند ملے ، کوئی ایمرجنسی ایگزٹ نہیں تھا, متاثرہ دکاندارسانحہ گل پلازہ کیسے رونما ہوا ؟ حادثہ سانحے میں کیسے بدلا؟ دل دہلا دینے والے انکشافات سامنے آگئے۔متاثرہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ عمارت کے کُل 26 داخلی و خارجی دروازے ہیں ، رات دس بجے تمام گیٹ بند کرکے صرف دو دروازے کُھلے رکھے جاتے ہیں۔  آگ انتہائی تیزی سے پھیل رہی تھی، پوری مارکیٹ میں دھواں ہی دھواں بھر چکا تھا۔دکانداروں کے مطابق آگ لگنے کے کچھ دیر بعد کچھ لوگ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے، دکانداروں نے بہت سے لوگوں کو  اپنی مدد  آپ کے تحت ہی عمارت سے باہر  نکالا۔



یاد رہے کہ کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر  واقع شاپنگ مال گل پلازہ میں آگ بجھنے کے بعد ملبہ ہٹانے اور لاپتا افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔ اب تک 26 ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے  جبکہ واقعے کے بعد اب بھی 76 افراد لاپتا ہیں اور اربوں روپے کا نقصان اور قیمتی جانوں کا ضائع ہو گیا اور جعلی میئر مرتضیٰ وہاب اور مراد علی  لوگوں کے نقصان کا ذمہ دار ہیں   جنہوں   نے اتنے بڑے شہر کے وسائل اپنی جیبوں میں ڈال کر اس شہر کے لوگوں کو بے یارو مدد گار چھوڑ رکھا  ہےپورے شہر کو جو کبھی پورے ملک کی معیشت کی ریڑ کی ہڈی کے طور پر جانا جاتا تھا اور پورے ملک کے لوگوں کے روزگار کی پہچان کے طور پر پہچانا جاتا تھا اس کے علاوہ خوبصورتی میں بھی اپنی کمال حیثیت رکھتا تھاآج یہ شہر بے بسی کی تصویر بن چکا ہے پورے شہر کا نظام کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے فائر  فائٹر 24 گھنٹے بعد کراچی کے آتش زدہ گل پلازہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے، جلی ہوئی دکانوں میں محدود پیمانے کا سرچ آپریشن کیا، ریسکیو ورکرز صدائیں لگا لگا کر زندگی کے نشان ڈھونڈتے رہے، مگر جلی ہوئی عمارت کے اندر ان صداؤں پر لبیک کہنے والا کوئی نہ مِلا۔لوگ بے بسی کی تصویر بنے ہفتے کی رات سوا 10 بجے سے جلتی ہوئی عمارت کے باہر کھڑے اپنے پیاروں کی راہ تک رہے ہیں۔سانحے میں 1200 دکانیں جل کر خاکستر ہو گئيں، آگ سے متاثرہ عمارت کے حصے ٹوٹ کر گرنے لگے ہیں۔ کراچی میں گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کو 26 گھنٹے گزر چکے ہیں، آگ پر 80 فیصد تک قابو پا لیا گیا، باقی فائر ٹینڈر اب بھی بچی کھچی آگ بجھانے میں مصروف ہیں، عمارت میں پھنسے لوگوں کے موبائل فون بند ہو گئے ہیں اور ان سے رابطہ ختم ہو گیا ہے۔



سانحے میں 1200 دکانیں جل کر خاکستر ہو گئيں، آگ سے متاثرہ عمارت کے حصے ٹوٹ کر گرنے لگے ہیں۔ عمارت میں کتنے لوگ پھنسے ہیں، درست تعداد کا اندازہ نہیں، اب تک 38 افراد کے اہلخانہ نے انتظامیہ سے رابطہ کیا ہے، حادثے میں 6 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے جبکہ 22 افراد زخمی ہوئے ہیں۔آتشزدگی کے نتیجے میں فائر فائٹر فرقان شوکت سمیت 6 افراد جاں بحق، جبکہ متعدد بے ہوش افراد کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا،خوفناک آگ نے شہر کی فضا سوگوار کردی۔ کراچی (18 جنوری 2026): گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں لگنے والی خوفناک آتشزدگی کے باعث کئی افراد تاحال لاپتا ہیں تاہم 40 افراد کی فہرست سامنے آئی ہے جن میں نام اور عمریں درج ہیں۔اے آر وائی نیوز کو موصول فہرست میں اُن افراد کے نام شامل ہیں جنہیں اہل خانہ اور قریبی رشتے دار گزشتہ رات سے رابطہ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔گل پلازہ آتشزدگی کے بعد سے اب تک درجنوں افراد کے لاپتا ہونے کی تفصیل جمع کروائی گئی ہے جن میں مرد و خواتین کے ساتھ ساتھ بچے بھی شامل ہیں۔سندھ حکومت کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر جنوبی نے مسنگ پرسن کیلیے ڈیسک قائم کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر جنوبی نے کہا ہے کہ لوگ اپنے پیاروں کے لاپتا ہونے کی تفصیلات جمع کروا رہے ہیں۔ کراچی کے شہری اور تجارتی حلقے برسوں سے یہ بات دہراتے آئے ہیں کہ شہر میں فائر سیفٹی کے نام پر کوئی عملی اقدامات نہیں کیے جاتے۔

پیر، 19 جنوری، 2026

گائے گی دنیا گیت میرے-موسیقار نثار بزمی

   


گائے گی دنیا گیت میرے-سریلے رنگ میں نرالے رنگ میں نےبھرے ہیں ارمانوں میں، کانوں میں رس گھولنے والی نثار بزمی کی  موسیقی  سے سجا ہوا یہ گیت جب اس وقت کے پردہء سیمیں پر آیا تو  گلی گلی مشہور ہو گیا نثار بزمی ہماری فلم انڈسٹری کے بڑے نامور موسیقار   تھے  انہوں  نے  فن موسیقی میں بڑے بڑے فن کاروں  سے بڑھ کر  اپنی فنی خدمات سے شہرت پائی۔ پاک و ہند کی فلمی موسیقی نے نامور موسیقار اور گلوکار پیدا کیے۔ ان میں ایک معتبر نام موسیقار نثار بزمی کا بھی ہے۔ ان کا پُورا نام سید نثاراحمد تھا لیکن  موسیقی کی دنیا میں نثار بزمی کے نام سے شہرت پائی۔پاکستان میں فضل احمد کریم فضلی کی فلم ’ایسا بھی ہوتا ہے‘ بطور موسیقار نثار بزمی کی پہلی فلم تھی، لیکن تقسیمِ‌ ہند سے قبل اور بعد میں‌ بھارت میں قیام کے دوران وہ 40 سے زائد فلموں کی موسیقی ترتیب دے چکے تھے۔ یہ 1946ء کی بات ہے اور 1961ء تک وہ بھارت میں فلم انڈسٹری کے لیے کام کرتے رہے۔ تاہم کوئی خاص کام یابی ان کا مقدّر نہیں بنی تھی۔ نثار بزمی نے 1962ء میں پاکستان ہجرت کی تو جیسے قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہوگئی۔ وہ اپنے عزیز و اقارب سے ملنے کے لیے کراچی آئے تھے اور کراچی کی گرم آغوش میں ان کے مقدر کا ستارہ چمکا  اور پھر وہ بھارت واپس نہیں جا سکے اور یہیں کے ہو رہے۔ پاکستان میں نثار بزمی نے فلم انڈسٹری کے لیے لازوال دھنیں تخلیق کیں۔


فلم ‘لاکھوں میں ایک’ کا مشہور گیت ’چلو اچھا ہوا تم بھول گئے‘ کی دھن نثار بزمی نے ترتیب دی تھی۔ اس کے علاوہ ‘اے بہارو گواہ رہنا، اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا، رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ، آپ دل کی انجمن میں حسن بن کر آ گئے، دل دھڑکے، میں تم سے یہ کیسے کہوں، کہتی ہے میری نظر شکریہ، کاٹے نہ کٹے رتیاں، سیاں تیرے پیار میں جیسے لازوال گیتوں کے اس موسیقار نے یہاں‌ عزّت، مقام و مرتبہ پایا۔ان کی ترتیب دی ہوئی دھنوں پر اپنے دور کے مشہور و معروف گلوکاروں نے اپنی آواز کا جادو جگایا۔ نوعمری ہی سے انھیں موسیقی سے لگاؤ پیدا ہوگیا تھا اور ان کا شوق اور موسیقی سے رغبت دیکھتے ہوئے والد نے انھیں استاد امان علی خان کے پاس بمبئی بھیج دیا جن سے انھوں نے اس فن کے اسرار و رموز سیکھے۔نثار بزمی نے آل انڈیا ریڈیو میں چند سال میوزک کمپوزر کی حیثیت سے کام کیا اور 1946ء میں فلم نگری سے موسیقار کے طور پر اپنا سفر شروع کیا، وہ تقسیم کے پندرہ برس تک ہندوستان کی فلم انڈسٹری سے وابستہ رہے اور پھر پاکستان آگئے جہاں اپنے فن کی بدولت بڑا نام اور مرتبہ پایا۔نثار بزمی نے طاہرہ سیّد، نیرہ نور، حمیرا چنا اور عالمگیر جیسے گلوکاروں کو فلمی دنیا میں آواز کا جادو جگانے کا موقع دیا۔ مختلف شعرا کے کلام پر دھنیں ترتیب دینے والے نثار بزمی خود بھی شاعر تھے۔ ان کا مجموعۂ کلام ’پھر سازِ صداخاموش ہوا‘ کے نام سے شایع ہوا۔حکومتِ‌ پاکستان نے نثار بزمی کو پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا تھا  ۔


 اس سے قبل وہ آل انڈیا ریڈیو بمبئی پر بہ طور موسیقار ملازم بھی رہے۔ نثار بزمی ایک اعلیٰ پائے کے موسیقار تھے جو میعار پرسمجھوتہ نہیں کرتے تھے اور اس وجہ سے بڑا نقصان بھی اٹھاتے تھے۔انھوں نے فلم شمع اور پروانہ (1970) کا گیت:میں تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا۔۔پہلے خانصاحب مہدی حسن سے گوایا تھا لیکن مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ پھر وہی گیت گلوکار مجیب عالم سے گوایا تو ان کی کارکردگی سے اتنے خوش ہوئے تھے کہ ان سے فلم کے چھ گیت گوا لیے تھے۔نثار بزمی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل موسیقار تھے۔ ان کی شاندار دھنوں کی بدولت کئی فلموں نے عدیم النظیر کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے پاکستان نیوی کیلئے ترانوں کی موسیقی بھی دی۔ انہوں نے شاعری بھی کی جو کتابی شکل میں دستاب ہے۔ ان کی شاعری کی کتاب کا عنوان ہے '' پھر ساز صدا خاموش ہوا ‘‘ ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ نثار بزمی نے جن فلموں کا سنگیت دیا ان میںسے اکثرسپر ہٹ ہوئیں،جو فلمیں ناکام رہیںان کی موسیقی کو بھی پسند کیا گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب وہ بھارت میں تھے تو مشہور موسیقاروں کی جوڑی لکشمی کانت پیارے لال ان سے موسیقی کے اسرارورموز سیکھتے تھے۔ 70ء کی دہائی کے آغاز میں رونا لیلیٰ کی آواز کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا۔


 دراصل یہ نثار بزمی تھے جنہوں نے رونا لیلیٰ کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور ان سے حیرت انگیز گیت گوائے۔نثار بزمی نے مشہور زمانہ فلم '' امر ائو جان ادا ‘‘ کا صرف ایک گیت میڈم نور جہاں سے گوایا باقی تمام نغمات رونا لیلیٰ سے گوائے۔ اس بارے میں وہ کہتے تھے میڈم نور جہاں نے جو گیت گایا وہ کوئی اور گلوکارہ گا ہی نہیں سکتی تھی۔اسی طرح رونا لیلیٰ نے ان کی موسیقی میں جو گیت ''انجمن‘‘ اور ''تہذیب‘‘ کیلئے گائے وہ بھی باکمال ہیں۔اسی طرح1972ء میں ریلیز ہونے والی فلم ''ناگ منی ‘‘ کے سارے نغمات بزمی صاحب نے میڈم نور جہاں سے گوائے۔ یہاں ان کو مؤقف یہ تھا کہ اس فلم کے تمام گیتوں کے لئے میڈم نورجہاں کا انتخاب ہی درست تھا کیونکہ یہ بڑے مشکل گیت تھے۔ہدایتکار حسن طارق کی بیشتر سپر ہٹ فلموں کا میوزک نثار بزمی نے دیا۔ 22 مارچ 2007ء کو نثار بزمی اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ اہل موسیقی انہیں کبھی نہیں بھول پائیں گے۔ ان کی آخری فلم ویری گڈ دنیا ویری بیڈ لوگ تھی جو 2000ء میں نمائش پذیر ہوئی تھی۔ نثار بزمی کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ وہ ایک خوش گو شاعر بھی تھے اور ان کا شعری مجموعہ پھر ساز صدا خاموش ہوا بھی شائع ہوچکا ہے۔ وہ شمالی کراچی میں قبرستان محمد شاہ میں آسودۂ خاک ہیں۔ 

 

اتوار، 18 جنوری، 2026

فرزند نبی (ص)امام نہم حضرت محمد تقی علیہ السلام

 


 اہل بیت   اطہار میں امامت کی منزل نہم پر  آپ  حضرت محمد بن علی رضا  علیہ السلام ہیں۔ آپ کا نام ’’محمد‘‘ ہے اور مشہور لقب ’’تقی‘‘ اور ’’جواد‘‘ ہے اسی وجہ سے آپ کو امام محمد تقی یا امام محمد جواد کہا جاتا ہے۔ آپ کی کنیت ابو جعفر ہے۔ تاریخ ومقام ولادت اور شہادت: آپ کی ولادت باسعادت سن195 ہجری میں ہوئی اور آپ نے سن220 ہجری میں 25سال کی عمر میں جام شہادت نوش کیا۔ آپ نے اپنے والد کے ساتھ 7سال زندگی گزاری اور اپنے والد کی شہادت کے بعد 18سال زندہ رہے۔ والدہ ماجدہ: آپ کی والدہ ام ولد ہیں کہ جن کا نام جناب سکن ہے۔ اولاد: شیخ مفید لکھتے ہیں کہ امام محمد تقی علیہ السلام کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں بیٹے امام علی نقی علیہ السلام اور موسی ہیں جبکہ بیٹیوں کے نام فاطمہ اور امامہ ہیں۔ مامون کے ساتھ: شیخ مفید لکھتے ہیں کہ جب مامون نے دیکھا کہ امام محمد تقی علیہ السلام کے کم سنی میں ہی ظاہر ہونے والے فضائل و مناقب، علم و دانائی، تہذیب و ادب اور عقل کے کمال میں اُس زمانے کا کوئی بھی شخص برابری نہیں کر سکتا تو اس کا دل امام محمد تقی علیہ السلام کے لیے ظاہری طور پر نرم ہو گیا اور اس نے اپنی بیٹی ام فضل کی شادی امام محمد تقی علیہ السلام سے کر دی اور اسے امام کے ساتھ ہی مدینہ بھیج دیا۔



 مامون ہمیشہ امام محمد تقی علیہ السلام کی بہت زیادہ تعظیم کرتا۔ عباسیوں نے مامون کو اپنی بیٹی کی شادی امام محمد تقی علیہ السلام سے کرنے سے روکا اور کہا: ہم تمہیں اللہ کا واسطہ دیتے ہیں جس کام کا تم نے ارادہ کیا ہے اسے نہ کرو، ہمیں ڈر ہے کہ کہیں حکومت ہمارے ہاتھ سے نہ نکل جائے اور ہمارے اور ابو طالب کی اولاد کے درمیان جو کچھ ہے اسے تم بخوبی جانتے ہو۔ مامون نے ان کے جواب میں کہا: جو اختلاف و دشمنی تمہارے اور ابوطالب کی اولاد میں ہے اس کا سبب تم خود ہو اگر تم انصاف سے کام لو تو وہ تم سے زیادہ افضل و اولی ہیں، میں نے محمد بن علی   علیہ السلام  کو اختیار کر لیا ہے کیونکہ وہ اپنی کم سنی کے باوجود تمام اہلِ علم و فضل سے برتر اور افضل ہے عنقریب وہ تمہارے سامنے آئے گا اور پھر تمہیں بھی معلوم ہو جائے گا کہ صحیح فیصلہ وہی ہے جو میں نے کیا ہے۔ عباسیوں نے کہا: وہ تو ابھی کافی چھوٹا ہے اس کے پاس علمی معرفت، فقہ اور سمجھ بوجھ نہیں ہے۔ مامون نے کہا: تمہاری بربادی ہو میں اُسے تم سے زیادہ جانتا ہوں، وہ اہل بیت میں سے ہے اور اہل بیت کا علم اللہ کی طرف سے عطا کردہ ہوتا ہے، اب تک اس کے آباء و اجداد دینی و ادبی علوم میں لوگوں سے بے نیاز ہیں اگر تم چاہتے ہو تو اس کا امتحان لے لو تاکہ تم پر بھی یہ بات واضح ہو جائے۔ عباسیوں نے کہا: ٹھیک ہے ہم اس بات پہ راضی ہیں۔


پھر عباسیوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ قاضی القضاۃ یعنی چیف جسٹس یحیی بن اکثم کو امام محمد تقی     علیہ السلام کے مقابلے میں لایا جائے۔ مقررہ دن عباسی اپنے قاضي القضاة يحيى بن اكثم کو مامون کے دربار میں لے آئے، جبکہ مامون کے ساتھ امام محمد تقی                     علیہ السلام  تشریف لائے، اس علمی مقابلے کو دیکھنے کے لیے دونوں کے گرد لوگوں کی بہت بڑی تعداد جمع تھی۔ یحیی بن اکثم نے امام محمد تقی   علیہ السلام سے پوچھا: احرام کی حالت میں شکار کرنے والے کا کیا کفارہ ہے؟ تو امام محمد تقی    علیہ السلام نے اس سے کہا: کیا اس نے حرم کے علاقے میں شکار کو مارا ہے یا حرم کے علاقہ سے باہر ایسا کیا ہے؟ کیا وہ احرام میں شکار کرنے کے حرام ہونے کو جانتا تھا یا اسے اس کا علم نہیں تھا؟ کیا اس نے جان بوجھ کر ارادی طور پر شکار کیا یا اس سے یہ کام غلطی سے ہو گیا؟ احرام میں شکار کرنے والا آزاد تھا یا کسی کا غلام تھا؟ کیا وہ کم سن تھا یا بڑا تھا؟ اس نے پہلی مرتبہ شکار کیا تھا یا بار بار شکار کر چکا تھا؟ شکار پرندہ تھا یا کو ئی اور جانور تھا؟ شکار چھوٹے پرندوں میں سے تھا یا وہ بڑا پرندہ تھا؟ شکار ی شکار کرنے پر مُصِر تھا یا اسے ایسا کرنے پہ شرمندگی تھی؟ اس نے یہ شکار رات میں کیا تھا یا دن میں؟ اس نے حج کے لیے احرام باندھا تھا یا عمرہ کے لیے؟ امام کی گفتگو سننے کے بعد یحییٰ کے ہوش اڑ گئے اُس نے اپنے ذہن میں کبھی اتنی شقیں نہیں سو چی تھیں وہ عاجز اورخاموش ہو گیا۔



 مجمع میں اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کی آوازیں بلند ہونے لگیں، سب پر یہ آشکار ہو گیا کہ اللہ نے اہل بیت  کو علم و حکمت اور دانائی اسی طرح عطا کی ہے جس طرح اُس نے انبیاء اور رسولوں کو عطا کی تھی۔ یہ سب دیکھ کر مامون نے کہا:اِس نعمت اور توفیق پر خدا کی حمد وثنا ہے۔ پھر مامون نے اپنے خاندان والوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا: کیا تمہیں اب اُس کی معرفت ہو گئی جس کا تم انکار کر رہے تھے ؟ عباسیوں نے کہا: تم نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے بارے میں تم ہم سے زیادہ جانتے ہو۔ مامون نے کہا: یہ جو فضل و کمال تم دیکھ رہے ہو پوری مخلوق میں صرف اس گھرانہ کے افراد کو عطا کیا گیا ہے، ان کی کم سنی ان کے کمالات میں حائل نہیں ہوتی، رسول خدا  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم                                نے حضرت علی  علیہ السلام  کو جب اسلام کی دعوت دی تو وہ دس سال کے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم    صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت علی  علیہ السلام سے ان کے اسلام کو قبول کیا اور ان کے لیے اسلام کا حکم لگایا، جس طرح سے حضرت علی   علیہ السلام  کو 
اس کم سنی میں اسلام کی دعوت دی گئی  

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی چند حدیثیں
امام أبو جعفر محمّد تقی الجواد بن علی بن موسی الرضا (علیہ السلام) نے فرمایا:
1۔ تین خصلتوں کی حاجت
"الْمُؤمِنُ يَحْتاجُ إلى ثَلاثِ خِصالٍ: تَوْفيقٍ مِنَ اللّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَواعِظٍ مِنْ نَفْسِهِ، وَقَبُولٍ مِمَّنْ يَنْصَحُهُ؛
مؤمن ہر حال میں تین خصلتوں کا محتاج ہے؛ توفیق اللہ کی جانب سے، واعظ اپنے اندر سے، اس شخص کی نصیحت و خیرخواہی قبول کرنا جو اس کو نصیحت کرے”۔
2۔ بھائیوں سے ملاقات
"مُلاقاةُ الإخوانِ نَشْرَةٌ، وَتَلْقيحٌ لِلْعَقْلِ وَإنْ كانَ نَزْرا قَليلا؛
ایمانی بھائیوں سے ملاقات دل کی طراوت اور نورانیت کا باعث اور عقل و درایت کی پھلنے پھولنے کا سبب ہے خواہ وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو”۔
3۔ اشرار سے دور رہو
"إيّاكَ وَمُصاحَبَةُ الشَّريرِ، فَإنَّهُ كَالسَّيْفِ الْمَسْلُولِ، يَحْسُنُ مَنْظَرُهُ وَيَقْبَحُ أثَرُهُ؛
خیال رکھو شریر اور شرپسند افراد کی رفاقت و مصاحبت سے، کیونکہ یہ مصاحبت سونتی ہوئی تلوار کی مانند ہے جو بظاہر خوبصورت ہے لیکن اس کے اثرات قبیح اور خطرناک ہیں”۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر