منگل، 20 جنوری، 2026

گل پلازہ شہر کراچی کی تاریخ کا ہولناک سانحہ

    

فائر 1200 جلتی ہوئ دکانوں کی مارکیٹ میں اس وقت لگ بھگ 6000 ہزار افراد موجود تھے جن کے نکلنے کے لئے صرف دو دروازے کھلے تھے  باقی چوبیس دروازے بند تھے  اور اس طر وہ قیامت برپا ہوئ جس کو روکا بھی جا  سکتا تھا لیکن ہمارے پاکستان میں عا م آدمی کی جان کی قیمت کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں ہے   -ااطلاع دینے کے پورے دو گھنٹے  بعد فائر بریگیڈ آئ جس کے پاس پانی بھی   مناسب مقدار میں نہیں تھا    ایک ہی گاڑی آئ جس کا پانی ختم ہوجاتا تھا پھر وہ پانی لینے جاتی تھی- شہر کے تمام  وسائل پر  پیپلز پارٹی  کا قبضہ ہے جن  کے کرتاؤں دھرتاؤں کی سائن کے بغیر خاکروبوں کی تنخواہ بھی نہیں دی جا سکتی ہے  ' تو ایسے میں کراچی والوں کو منہ دھو رکھنا چاہئے  -یہ شہر تو ویسے بھی ایوب خان کے منصوبے کے تحت لاوارث چل رہا ہے -گل پلازہ کوئی عام مارکیٹ نہیں بلکہ شہر کے بڑے ہول سیل اور ریٹیل مراکز میں سے ایک تھا۔ آج سینکڑوں دکاندار اپنی زندگی بھر کی کمائی جلتے دیکھ کر بے بس  رہے۔ اگر 2009 میں جیل روڈ حادثے کے بعد مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جاتے تو گل پلازہ جیسے سانحات ٹل سکتے تھے،  ۔ پچھلےپندرہ سالوں میں متعدد بڑے حادثات — جیل روڈ 2009، گلشنِ اقبال 2011، صدر مارکیٹ 2013 اور دیگر صنعتی علاقے 2015 تا 2017 — پیش آئے، لیکن ہر بار ردِعمل سست، غیر منظم اور ناکافی رہا۔ نتیجتاً انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور اربوں روپے کا تجارتی سرمایہ تباہ ہوا۔کراچی کے تجارتی اور شہری زندگی کے دل ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ نے شہر کے تمام حفاظتی دعوؤں کو خاک میں ملا دیا۔


 یہ کوئی معمولی حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا المیہ تھا جس نے انسانی جانوں، دکانداروں کے خواب اور اربوں روپے کے تجارتی سرمایہ کو راکھ میں تبدیل کر دیا۔گل پلازہ میں آتشزدگی رات 9:45 سے 10:15 کے درمیان شروع ہوئی اور 1200 سے زائد دکانیں جل گئیں۔ گل پلازہ کی آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی 22 گاڑیاں، 10 واٹر باؤزرز اور 4 اسنارکل گاڑیاں شامل کی گئیں، مگر ابتدائی گھنٹوں میں پانی کی کمی اور ریسکیو اہلکاروں کی محدود رسائی انسانی جانوں کے  زیاں  کی اہم وجہ بنی۔ ریسکیو1122 کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی مراحل میں عمارت میں داخل ہونا انتہائی دشوار تھا۔ ۔۔ 2009 میں جیل روڈ کے ”چیز اپ“ اسٹور میں لگنے والی آگ، 2011 میں گلشنِ اقبال صنعتی گودام کی تباہی اور 2013 میں صدر مارکیٹ میں ہونے والی آگ اس بات کی واضح مثالیں ہیں، سانحہ گل پلازہ کیسے رونما ہوا ؟  دل دہلا دینے والے انکشافات سامنے آگئےالمناک سانحے کے وقت عمارت میں موجود لوگوں کو 26 میں سے 24 دروازے بند ملے ، کوئی ایمرجنسی ایگزٹ نہیں تھا, متاثرہ دکاندارسانحہ گل پلازہ کیسے رونما ہوا ؟ حادثہ سانحے میں کیسے بدلا؟ دل دہلا دینے والے انکشافات سامنے آگئے۔متاثرہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ عمارت کے کُل 26 داخلی و خارجی دروازے ہیں ، رات دس بجے تمام گیٹ بند کرکے صرف دو دروازے کُھلے رکھے جاتے ہیں۔  آگ انتہائی تیزی سے پھیل رہی تھی، پوری مارکیٹ میں دھواں ہی دھواں بھر چکا تھا۔دکانداروں کے مطابق آگ لگنے کے کچھ دیر بعد کچھ لوگ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے، دکانداروں نے بہت سے لوگوں کو  اپنی مدد  آپ کے تحت ہی عمارت سے باہر  نکالا۔



یاد رہے کہ کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر  واقع شاپنگ مال گل پلازہ میں آگ بجھنے کے بعد ملبہ ہٹانے اور لاپتا افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔ اب تک 26 ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے  جبکہ واقعے کے بعد اب بھی 76 افراد لاپتا ہیں اور اربوں روپے کا نقصان اور قیمتی جانوں کا ضائع ہو گیا اور جعلی میئر مرتضیٰ وہاب اور مراد علی  لوگوں کے نقصان کا ذمہ دار ہیں   جنہوں   نے اتنے بڑے شہر کے وسائل اپنی جیبوں میں ڈال کر اس شہر کے لوگوں کو بے یارو مدد گار چھوڑ رکھا  ہےپورے شہر کو جو کبھی پورے ملک کی معیشت کی ریڑ کی ہڈی کے طور پر جانا جاتا تھا اور پورے ملک کے لوگوں کے روزگار کی پہچان کے طور پر پہچانا جاتا تھا اس کے علاوہ خوبصورتی میں بھی اپنی کمال حیثیت رکھتا تھاآج یہ شہر بے بسی کی تصویر بن چکا ہے پورے شہر کا نظام کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے فائر  فائٹر 24 گھنٹے بعد کراچی کے آتش زدہ گل پلازہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے، جلی ہوئی دکانوں میں محدود پیمانے کا سرچ آپریشن کیا، ریسکیو ورکرز صدائیں لگا لگا کر زندگی کے نشان ڈھونڈتے رہے، مگر جلی ہوئی عمارت کے اندر ان صداؤں پر لبیک کہنے والا کوئی نہ مِلا۔لوگ بے بسی کی تصویر بنے ہفتے کی رات سوا 10 بجے سے جلتی ہوئی عمارت کے باہر کھڑے اپنے پیاروں کی راہ تک رہے ہیں۔سانحے میں 1200 دکانیں جل کر خاکستر ہو گئيں، آگ سے متاثرہ عمارت کے حصے ٹوٹ کر گرنے لگے ہیں۔ کراچی میں گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کو 26 گھنٹے گزر چکے ہیں، آگ پر 80 فیصد تک قابو پا لیا گیا، باقی فائر ٹینڈر اب بھی بچی کھچی آگ بجھانے میں مصروف ہیں، عمارت میں پھنسے لوگوں کے موبائل فون بند ہو گئے ہیں اور ان سے رابطہ ختم ہو گیا ہے۔



سانحے میں 1200 دکانیں جل کر خاکستر ہو گئيں، آگ سے متاثرہ عمارت کے حصے ٹوٹ کر گرنے لگے ہیں۔ عمارت میں کتنے لوگ پھنسے ہیں، درست تعداد کا اندازہ نہیں، اب تک 38 افراد کے اہلخانہ نے انتظامیہ سے رابطہ کیا ہے، حادثے میں 6 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے جبکہ 22 افراد زخمی ہوئے ہیں۔آتشزدگی کے نتیجے میں فائر فائٹر فرقان شوکت سمیت 6 افراد جاں بحق، جبکہ متعدد بے ہوش افراد کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا،خوفناک آگ نے شہر کی فضا سوگوار کردی۔ کراچی (18 جنوری 2026): گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں لگنے والی خوفناک آتشزدگی کے باعث کئی افراد تاحال لاپتا ہیں تاہم 40 افراد کی فہرست سامنے آئی ہے جن میں نام اور عمریں درج ہیں۔اے آر وائی نیوز کو موصول فہرست میں اُن افراد کے نام شامل ہیں جنہیں اہل خانہ اور قریبی رشتے دار گزشتہ رات سے رابطہ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔گل پلازہ آتشزدگی کے بعد سے اب تک درجنوں افراد کے لاپتا ہونے کی تفصیل جمع کروائی گئی ہے جن میں مرد و خواتین کے ساتھ ساتھ بچے بھی شامل ہیں۔سندھ حکومت کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر جنوبی نے مسنگ پرسن کیلیے ڈیسک قائم کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر جنوبی نے کہا ہے کہ لوگ اپنے پیاروں کے لاپتا ہونے کی تفصیلات جمع کروا رہے ہیں۔ کراچی کے شہری اور تجارتی حلقے برسوں سے یہ بات دہراتے آئے ہیں کہ شہر میں فائر سیفٹی کے نام پر کوئی عملی اقدامات نہیں کیے جاتے۔

1 تبصرہ:

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر