گائے گی دنیا گیت میرے-سریلے رنگ میں نرالے رنگ میں نےبھرے ہیں ارمانوں میں، کانوں میں رس گھولنے والی نثار بزمی کی موسیقی سے سجا ہوا یہ گیت جب اس وقت کے پردہء سیمیں پر آیا تو گلی گلی مشہور ہو گیا نثار بزمی ہماری فلم انڈسٹری کے بڑے نامور موسیقار تھے انہوں نے فن موسیقی میں بڑے بڑے فن کاروں سے بڑھ کر اپنی فنی خدمات سے شہرت پائی۔ پاک و ہند کی فلمی موسیقی نے نامور موسیقار اور گلوکار پیدا کیے۔ ان میں ایک معتبر نام موسیقار نثار بزمی کا بھی ہے۔ ان کا پُورا نام سید نثاراحمد تھا لیکن موسیقی کی دنیا میں نثار بزمی کے نام سے شہرت پائی۔پاکستان میں فضل احمد کریم فضلی کی فلم ’ایسا بھی ہوتا ہے‘ بطور موسیقار نثار بزمی کی پہلی فلم تھی، لیکن تقسیمِ ہند سے قبل اور بعد میں بھارت میں قیام کے دوران وہ 40 سے زائد فلموں کی موسیقی ترتیب دے چکے تھے۔ یہ 1946ء کی بات ہے اور 1961ء تک وہ بھارت میں فلم انڈسٹری کے لیے کام کرتے رہے۔ تاہم کوئی خاص کام یابی ان کا مقدّر نہیں بنی تھی۔ نثار بزمی نے 1962ء میں پاکستان ہجرت کی تو جیسے قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہوگئی۔ وہ اپنے عزیز و اقارب سے ملنے کے لیے کراچی آئے تھے اور کراچی کی گرم آغوش میں ان کے مقدر کا ستارہ چمکا اور پھر وہ بھارت واپس نہیں جا سکے اور یہیں کے ہو رہے۔ پاکستان میں نثار بزمی نے فلم انڈسٹری کے لیے لازوال دھنیں تخلیق کیں۔
فلم ‘لاکھوں میں ایک’ کا مشہور گیت ’چلو اچھا ہوا تم بھول گئے‘ کی دھن نثار بزمی نے ترتیب دی تھی۔ اس کے علاوہ ‘اے بہارو گواہ رہنا، اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا، رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ، آپ دل کی انجمن میں حسن بن کر آ گئے، دل دھڑکے، میں تم سے یہ کیسے کہوں، کہتی ہے میری نظر شکریہ، کاٹے نہ کٹے رتیاں، سیاں تیرے پیار میں جیسے لازوال گیتوں کے اس موسیقار نے یہاں عزّت، مقام و مرتبہ پایا۔ان کی ترتیب دی ہوئی دھنوں پر اپنے دور کے مشہور و معروف گلوکاروں نے اپنی آواز کا جادو جگایا۔ نوعمری ہی سے انھیں موسیقی سے لگاؤ پیدا ہوگیا تھا اور ان کا شوق اور موسیقی سے رغبت دیکھتے ہوئے والد نے انھیں استاد امان علی خان کے پاس بمبئی بھیج دیا جن سے انھوں نے اس فن کے اسرار و رموز سیکھے۔نثار بزمی نے آل انڈیا ریڈیو میں چند سال میوزک کمپوزر کی حیثیت سے کام کیا اور 1946ء میں فلم نگری سے موسیقار کے طور پر اپنا سفر شروع کیا، وہ تقسیم کے پندرہ برس تک ہندوستان کی فلم انڈسٹری سے وابستہ رہے اور پھر پاکستان آگئے جہاں اپنے فن کی بدولت بڑا نام اور مرتبہ پایا۔نثار بزمی نے طاہرہ سیّد، نیرہ نور، حمیرا چنا اور عالمگیر جیسے گلوکاروں کو فلمی دنیا میں آواز کا جادو جگانے کا موقع دیا۔ مختلف شعرا کے کلام پر دھنیں ترتیب دینے والے نثار بزمی خود بھی شاعر تھے۔ ان کا مجموعۂ کلام ’پھر سازِ صداخاموش ہوا‘ کے نام سے شایع ہوا۔حکومتِ پاکستان نے نثار بزمی کو پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا تھا ۔
اس سے قبل وہ آل انڈیا ریڈیو بمبئی پر بہ طور موسیقار ملازم بھی رہے۔ نثار بزمی ایک اعلیٰ پائے کے موسیقار تھے جو میعار پرسمجھوتہ نہیں کرتے تھے اور اس وجہ سے بڑا نقصان بھی اٹھاتے تھے۔انھوں نے فلم شمع اور پروانہ (1970) کا گیت:میں تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا۔۔پہلے خانصاحب مہدی حسن سے گوایا تھا لیکن مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ پھر وہی گیت گلوکار مجیب عالم سے گوایا تو ان کی کارکردگی سے اتنے خوش ہوئے تھے کہ ان سے فلم کے چھ گیت گوا لیے تھے۔نثار بزمی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل موسیقار تھے۔ ان کی شاندار دھنوں کی بدولت کئی فلموں نے عدیم النظیر کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے پاکستان نیوی کیلئے ترانوں کی موسیقی بھی دی۔ انہوں نے شاعری بھی کی جو کتابی شکل میں دستاب ہے۔ ان کی شاعری کی کتاب کا عنوان ہے '' پھر ساز صدا خاموش ہوا ‘‘ ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ نثار بزمی نے جن فلموں کا سنگیت دیا ان میںسے اکثرسپر ہٹ ہوئیں،جو فلمیں ناکام رہیںان کی موسیقی کو بھی پسند کیا گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب وہ بھارت میں تھے تو مشہور موسیقاروں کی جوڑی لکشمی کانت پیارے لال ان سے موسیقی کے اسرارورموز سیکھتے تھے۔ 70ء کی دہائی کے آغاز میں رونا لیلیٰ کی آواز کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا۔
دراصل یہ نثار بزمی تھے جنہوں نے رونا لیلیٰ کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور ان سے حیرت انگیز گیت گوائے۔نثار بزمی نے مشہور زمانہ فلم '' امر ائو جان ادا ‘‘ کا صرف ایک گیت میڈم نور جہاں سے گوایا باقی تمام نغمات رونا لیلیٰ سے گوائے۔ اس بارے میں وہ کہتے تھے میڈم نور جہاں نے جو گیت گایا وہ کوئی اور گلوکارہ گا ہی نہیں سکتی تھی۔اسی طرح رونا لیلیٰ نے ان کی موسیقی میں جو گیت ''انجمن‘‘ اور ''تہذیب‘‘ کیلئے گائے وہ بھی باکمال ہیں۔اسی طرح1972ء میں ریلیز ہونے والی فلم ''ناگ منی ‘‘ کے سارے نغمات بزمی صاحب نے میڈم نور جہاں سے گوائے۔ یہاں ان کو مؤقف یہ تھا کہ اس فلم کے تمام گیتوں کے لئے میڈم نورجہاں کا انتخاب ہی درست تھا کیونکہ یہ بڑے مشکل گیت تھے۔ہدایتکار حسن طارق کی بیشتر سپر ہٹ فلموں کا میوزک نثار بزمی نے دیا۔ 22 مارچ 2007ء کو نثار بزمی اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ اہل موسیقی انہیں کبھی نہیں بھول پائیں گے۔ ان کی آخری فلم ویری گڈ دنیا ویری بیڈ لوگ تھی جو 2000ء میں نمائش پذیر ہوئی تھی۔ نثار بزمی کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ وہ ایک خوش گو شاعر بھی تھے اور ان کا شعری مجموعہ پھر ساز صدا خاموش ہوا بھی شائع ہوچکا ہے۔ وہ شمالی کراچی میں قبرستان محمد شاہ میں آسودۂ خاک ہیں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں