ہفتہ، 16 اگست، 2025

ہمارے وطن کی فضایہ کے قابل فخر شاہین

 



 ائیر مارشل نور خان سے پہلے ائیرمارشل اصغر خان پاک فضائیہ کے سربراہ تھے۔ انھوں نے پاک فوج کے طیارے اور سازوسامان حاصل کرنے کی بھرپور اور کامیاب کوشش کی۔ انھوں نے پائلٹوں کی تربیت کے لیے بھی بہت محنت کی لیکن اپریل، مئی 1965 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میں رن آف کچھ کے تنازعے پر انھوں نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کو فون کر کے دونوں ممالک کی ائر فورسز کو اس تنازعے سے دور رکھنے کا اہتمام کیا۔ بادی النظر میں یہ اقدام معمولی نظر آتا ہے لیکن اس سے فضائیہ کے مورال پر بہر طور منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اصغر خان کے اس طرز عمل پر 23 جولائی 1965 کو آنے والے ائر چیف نور خان نے شدید تنقید کی تھی اور فوری طور فضائیہ کو الرٹ پر ڈال کر کشمیر اور ملحقہ علاقوں میں پروازیں شروع کرادی تھیں۔ جس سے پاک فضایہ جنگ کے لیے تیار ہو گئی اور اس نے جنگ میں بہترین مہارت کا ثبوت دیا۔



ائرہیڈ کوارٹر ماری پور (کراچی) میں تھا اور بعد کو پشاور منتقل ہوا۔ اس منتقلی سے پہلے وہاں پر فلائنگ بیس کے علاوہ بہت سے دفاتر بھی تھے جو ملک کے شمالی حصے کی فضائی نگرانی کرتے تھے۔ ان کے سربراہ ائر وائس مارشل نورخان تھے جو ائر آفیسر کمانڈنگ (AOC) کہلاتے تھے۔ اب نور خان صاحب میں ایک خاص صلاحیت تھی وہ ایک اچھے کھلاڑی کو فوراً بھانپ لیتے تھے۔ کھلاڑی کسی کھیل کا ہو، اس سے بحث نہیں، مگر اس میں آگے بڑھنے کی رمق ہوتی تو وہ نور خان صاحب کی نظر سے اوجھل نہیں رہ سکتی تھی۔ پشاور کے قریب ایک چھوٹا سا گائوں تھا، بلکہ اب بھی ہے، جسے غالباً نواں کلی کہتے ہیں۔ وہاں کے بیشتر رہنے والے پشاور ائر فورس بیس پر ملازم تھے۔ آفیسر میس کے تمام بیرے تو تقریباً اسی گائوں سے تھے، ان کے علاوہ جو ٹینس اور سکوائش کھلانے پر معمور تھے، یعنی ان دو کھیلوں کے مارکر، وہ بھی اسی گائوں سے تھے۔ ان میں سے ایک کا نام تھا ہاشم، جو سکوائش کھلایا کرتا تھا۔



اب نور خان صاحب نے کہیں اسے کھیلتے دیکھ لیا اور انہیں اس میں کچھ ایسی صلاحیت نظر آئی کہ وہ اسے انگلستان بھیجنے پر تُل گئے تاکہ وہ عالمی مقابلہ جیت سکے۔ یہ غالباً 1959ء کا واقعہ ہے۔ اسے بھیجنے کا خرچ پورا کرنے کے لیے انہوں نے افسروں سے چندے کی اپیل کی۔ مجھے یاد ہے میں نے بھی اس کارخیر کے لیے دس بیس روپے دیے تھے۔ بہرحال نورخان صاحب نے کسی نہ کسی طرح اپنے پشاور آفیسر میس کے سکوائش مارکر کو لندن بھجوا دیا اور سکوائش کی دنیا میں ایک نیا نام ابھرا… ہاشم خان۔ اس کے بعد تو اس کے عزیز و اقارب سکوائش کی دنیا پر چھا گئے۔ ہاشم خان نے جو کمال کر دکھایا وہ تو اپنی جگہ مگر نورخان صاحب کی نظر کا کمال بھی بھلایا نہیں جا سکتاہے اگر غازی ایم ایم عالم کا ذکر کریں تو وہ 1965ء میں انہوں نے وہ عالمی فضائی ریکارڈ قائم کیا جس کو آج تک کوئی توڑ نہیں پایا۔انہوں نے بھارت کے کل 9طیاروں کو مارگرایا جبکہ ایک منٹ میں 5 طیارے مار گرانے کا ریکارڈ الگ ہے۔


ایم ایم عالم نے پوری فارمیشن کوٹارگٹ کیا۔ 6 ستمبر کو پاک فضائیہ نے پٹھانکوٹ، جام نگر، آدم پور، ہلواڑہ، کلائی کنڈا اور باغ دوگرا پر کامیاب حملے کرکے اہدا ف حاصل کیے۔7 ستمبر کو بھارتی ایئر فورس نے 33 حملے کیے لیکن وہ شاہینوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔1965ء کی جنگ میں ایئر چیف، پائلٹس انجینئرز اور دیگر زمینی عملے نے مل کر شب و روز کام کیا اورملک کا نہ صرف کامیاب دفاع کیا بلکہ دشمن کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ تقسیم کے وقت یہ بے ایمانی کی گئی تھی کہ فوج اور ایئر فورس کو اس کا پورا سامان نہیں دیا گیا تھا لیکن کم وسائل کے باوجود بھارت کے حملے کا منہ توڑ جواب دیا گیا۔


 اس جنگ کے پہلے دو دنوں میں ہی بھارت کے 35 جہاز تباہ ہوگئے تھے۔پاک فضائیہ نے بھارت کے کل 110 طیارے مارگرائے۔ ہر سال 7 ستمبر کو یوم فضائیہ ان شہدا اور غازیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہوں نے اپنی جان کی بازی لگا کر ملک وقوم کا دفاع کیا اور بھارت کے لاہور اور سیالکوٹ پر قبضے کے خواب کو خاک میں ملا دیا۔شہیدسرفراز احمد رفیقی اور یونس حسین شہید جیسے جانباز پائلٹس کے جسدِ خاکی بھی بھارت نے واپس نہیں کیے اور وہ بھارت میں ہی مدفون ہیں۔شاہینوں کا جذبہ اب بھی تازہ دم ہے

زہانت کا پیکر افتخار عارف

  

  ایک ادیب ہو یا  شاعر ہو اس کے فن  میں  پختگی  اس وقت آتی ہے جب فنکار حالات و واقعات  پر مظبوط گرفت رکھتا ہو -اسی گرفت کی خوبی کے سبب  فنکار کا رشتہ اپنے قاری سے قریب تر ہوتا جاتا ہے ۔ اور افتخار عارف  کا کلام جدید اردو شاعری میں ایک منفرد آواز کے ساتھ قاری کے دل و دماغ پر دیر تک چھایا رہتا ہے۔اور ابلاغی تاثیر خود بخود قاری کو  اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔افتخار عارف کا کلام ایک ایسا جدید گلدستہ ہے جو کلاسیکی گلزار سخن کے رنگ و خوشبو سے ہم آمیز ہے۔کلاسیکی لفظیات کو نئے مفاہیم کے اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔لفظ کے مزاج سے واقفیت رکھتے ہیں اس لیے بیشتر اشعار میں زبان کا خلاقانہ اظہار ہوا ہے۔انھوں نے پرانی غزل کے احساس کے ساتھ ساتھ نئی غزل کے تقاضوں کو بھی پورا کیا ہے۔-افتخار عارف نے جس طرح ایک عام موضوع پر قلم اٹھایا اور اسے ایک خاص شعری ہیئت میں ڈھال کر ایک نیا رنگ و آہنگ عطا کر کے جو حسن بخشا وہ واقعی امتیازی وصف کے لائق ہے۔


 افتخار عارف 21مارچ 1944کو لکھنو ٔ میں پیدا ہوئے ان کا خاندان تعلیم یافتہ تھا خود انھوں نے لکھنؤیونی ورسٹی سے ایم اے کیا اور عملی زندگی میں اتر آئے ۔ریڈیو پاکستان میں نیوز کاسٹر کی حیثیت سے منسلک ہوئے اور دس روپئے فی بلیٹن کے حساب سے خبریں پڑھنے لگے۔کچھ دنوں کے بعد پی ٹی وی سے جڑ گئے اور خوب محنت سے کام کیا ۔ان کا پروگرام ’’کسوٹی ‘‘ بہت زیادہ پسند کیا گیا ۔تمام لوگوں نے اس پروگرام کو کافی سراہا ۔افتخار عارف علمی و ادبی حوالے سے کہیں آگے نکل جانے کے بائوجود آج بھی ’’کسوٹی ‘‘سے پہچانے جاتے ہیں ۔کسوٹی نے گھر گھر ان کی ذہانت کا چرچا کیا۔اس عہد نے افتخار عارف کو منفردشناخت بخشی انہوں نے  ان عہدوں پر بہترین کا م کیا ۔1977  سے  1980تعلقات عامہ بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس لندن۔پھر1981تا1990ایگزیکٹو انچارج، اردو مرکز لندن افتخار عارف نے اپنی بہترین انتظامی صلاحیتوں کی بنا پر اردو مرکز لندن کو پوری دنیا میں متعارف کرایا۔ 


1990میں مرکز بند ہوگیا افتخار عارف پاکستان واپس آگئے یہاں ایک بار پھر انھیں محبت و عزت سے نوازاگیا ۔حکومت پاکستان نے 19مئی 1991کو انھیں اکادمی ادبیات پاکستان کا ڈائرکٹر جنرل بنایا اس عہدے پر وہ 1995تک رہے ۔پھر آگے چل کر انھیں مقتدرہ قومی زبان کا صدر بنایا گیا۔یہاں بھی وہ اپنے منصب کے تقاضے بحسن خوبی نبھاتے رہے۔انھوں نے لا تعداد کتابوں کے فلیپ اور مقتدرہ کے زیر اہتمام شائع ہونے والے منصوبوں کے ابتدائیے لکھے۔افتخار عارف کی ادبی ارتقا کی اولین شناخت ان کی شاعری ہےجدیداردو شاعری میں ایک اہم نام افتخار عارف کا ہے ۔وہ حقیقت پسند واقع ہوئے ہیں ،افتخار عاف کے یہاں کلاسیکی شاعری کا مطالعہ بہت عمیق ہے۔مروجہ اوزان اور بحروں کو بھی نئے تجربے کے ساتھ خوب استعمال کیے ہیں ۔افتخار عارف نے پرانی اور مذہبی تلمیحات کو اپنی شاعری میں استعمال کرکے تنوع پیدا کیا ہے اور دور حاضر کے مسائل سے ہم آہنگ کرکے اردو ادب کے دامن کو خوب وسعت بخشی ہے۔افتخار عارف اپنی شاعری میں ایسی تاثیر عطا کرتے ہیں جو پڑھنے والوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے ،اور شعری لوازمات کا بھر پور استعمال کی وجہ سے ان کی شاعری میں چار چاند لگ جاتا ہے۔انھوں نے نہ صرف علامتوں،مبالغوں،استعاروں اور تلمیحوں کو وسعت دی ہیں بلکہ ہم عصر مسائل کو بھی اپنی شاعری میں بحسن خوبی پیش کیا ہے۔


جب افتخار عارف  نے بھی وطن سے دوری  کےعذاب جھیلے اور  یہ دکھ ان کی شاعری میں سمٹ   آئے     تو انھیں دنیا کے  ہر منظر کی کشش سے زیادہ وطن عزیز کی کشش  نظر آتی ہے۔وطن سے لگا ؤ گھر کی بے گھری گھر کے احوال کی نشان دہی اور گھر کے منظر سے اسودگی افتخار عارف کو جدید شاعروں میں سب سے الگ اور نمایاں کرتی ہیں۔ان کا ذخیرہ الفاظ اس قدر صاحب ثروت ہے کہ وہ جیسے چاہتے ہیں انھیں صفحہ قرطاس پر موتیوں کی طرح بکھیرتے چلے جاتے ہیں ۔انھیں کبھی الفاظ کی کمی نہیں پڑتی اور اپنے احساس افکار اور گفتار کو پیراہن و پیکر عطا کرنے کی دولت سے مالا مال ہیں ۔حسی تجربہ شاعر کے لاشعور میں پوری طرح جڑیں پکڑ لیتا ہے تو کسی آمد کے لمحے میں ذہن کے روشن حصے کی طرف آجاتا ہے۔اب شاعر اسے پوری ذہنی بیداری کے ساتھ دیکھتا ہے،اور جو کچھ دیکھتا ہے ایک فطری سحر کاری کے ساتھ الفاظ میں بیان کردیتا ہے۔


افتخار عارف کی شاعری سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے یہاں حسی تجربے کے ساتھ ذہنی عمل کی مناسب کار فرمائی موجود ہے سچے اور اچھے فنکار کی پہچان یہ ہے کہ وہ عام زمان و مکان سے الگ دوسرا زمان و مکان اپنے اندر رکھتا ہو۔اور بالکل اسی طرح انسان کو ایک کھلاڑی سے تعبیر کرکے اس کو اپنی باری کا منتظر دکھایا ہے۔جو اپنا کردار ادا کرنے کا منتظر ہے۔یعنی ہم زندگی کے کھیل میں لگے ہوئے ہیں اور اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں ۔آخیر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ افتخار عارف کی شاعری زندگی کی بولتی قدروں کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہوئے اپنے لہجہ کی الگ پہچان بنائی ہے۔ افتخار عارف کی شخصیت کا مطالعہ کرتے ہوئے میں اس نتیجے پر پہنچی ہو ں کہ علامہ اقبال نے بلکل صحیح کہا تھا 
زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

جمعہ، 15 اگست، 2025

کالج آف نرسنگ شیخ زید میڈیکل کالج رحیم یار خان

 




  شیخ زیدسلطا ن النہیان نے بنفس نفیس  رحیم یار خان میں جن فلاحی کاموں کا بیڑہ اٹھا یا ان میں  میڈیکل کالج رحیم یار خان اس لئے سر فہرست مانا جائے گا کہ اس کا تعلق  صحت کے شعبے سے ہے ،PHA  -انڈرگریجویٹ پروگرام-کالج پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، پاکستان نرسنگ کونسل اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ذریعے تسلیم شدہ انڈر گریجویٹ پروگرام پیش کر رہا ہے۔ ، یہ ایک پبلک میڈیکل کالج ہے جو رحیم یار خان، پنجاب، پاکستان میں واقع ہے۔ اس کا نام شیخ زید بن سلطان النہیان کے اعزاز میں رکھا گیا ہے۔ میڈیکل کالج کا الحاق شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان سے ہے جس میں 900 بستر ہیں اور یہ ضلع رحیم یار خان کا سب سے بڑا ہسپتال ہے۔ شیخ زید میڈیکل کالج مارچ 2003 میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال، رحیم یار خان میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ رحیم یار خان میں جدید سہولیات سے آراستہ ہسپتال ہے۔



 شیخ زید میڈیکل کالج (جے ایس زیڈ ایم سی) کا جریدہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سپورٹ یونٹ، شیخ زید میڈیکل کالج/ہسپتال، رحیم یار خان کے تحت انسٹی ٹیوٹ اور ریجن میں ہیلتھ ریسرچ پبلیکیشن کے مرکز کے طور پر کام کر رہا ہے۔شیخ زید میڈیکل کالج رحیم یار خان انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن کے لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے ذریعے تسلیم شدہ۔ہر سال، کالج یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، لاہور کے زیر اہتمام داخلہ امتحان کے ذریعے اوپن میرٹ پر 150 طلبہ کو داخلہ دیتا ہے۔ کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف پاکستان کے ذریعے تسلیم شدہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور سے الحاق شدہ۔ الحاق شدہ ادارے-شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان ( پہلے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے نام سے جانا جاتا تھا ) ایم بی بی ایس-ڈاکٹر آف فزیکل تھراپی-بی ایس سی (آپریشن تھیٹر ٹیکنالوجی -بی ایس سی (میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجی)بی ایس سی آنرز۔ (میڈیکل امیجنگ ٹیکنالوجی) نر  سنگ ڈپلوماپوسٹ گریجویٹ پروگرام


-شیخ زاید میڈیکل کالج اور اس سے منسلک ادارے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف پاکستان اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ذریعے تسلیم شدہ ہیں اور درج ذیل میں تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ان پروگراموں میں داخلہ پنجاب ریذیڈنسی پروگرام کے تحت سنٹرل انڈکشن پالیسی کے ذریعے ہے۔ شعبه جات-اناٹومی-بائیو کیمسٹری-کمیونٹی میڈیسن- فرانزک دوا-پیتھالوجی-فارماکولوجی-فزیالوجی-طب اور اس سے متعلقہ محکمے۔کارڈیالوجی-ڈرمیٹولوجی-عام دوا-نیورولوجی-اطفال-بنیادی سائنس کے شعبے  - روک تھام کی دوانفسیات-پلمونولوجی ( سینے کی دوا )-ریڈیو تھراپی-یورولوجیسرجری اور متعلقہ شعبہ جات-اینستھیزیالوجی-کارڈیک سرجری--کاسمیٹک سرجری-جنرل سرجری-نیورو سرجریپرسوتی اور امراض نسواں-امراض چشم-زبانی اور میکسیلو فیشل سرجری-آرتھوپیڈکس-


Otorhinolaryngologyپیڈیاٹرک سرجری-ریڈیولوجی-سٹوڈنٹ سوسائٹیزشیخ زید میڈیکل کالج میں درج ذیل سوسائٹیز طلبہ کے لیے کام کر رہی ہیں:زیدیان آگاہی اور ادبی سوسائٹی (ZALS)زیدیان میڈیا آرٹس اینڈڈرامیٹکس(ZMAD)زیدیان ایتھلیٹک اینڈ اسپورٹس کلب (ZASC)زیدیان بلڈ ڈونر سوسائٹی (ZBDS)پسماندہ طبی امداد کے نیٹ ورک کی مدد کرنا (HUMANe)پیشنٹ کیئر سوسائٹی (PCS)SZMC کے طالب علم نے مصر میں اپنے الما میٹر کی نمائندگی کی۔انڈرگریجویٹ ریسرچرز


-شیخ زید میڈیکل کالج کے طلبہ کو ہمیشہ اصل تحقیق کرنے، دنیا بھر میں قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں مقالے پیش کرنے اور ہم مرتبہ نظرثانی شدہ جرائد میں شائع ہونے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ایس زیڈ ایم سی کے ایک طالب علم نے اپریل 2006 میں لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز حیدرآباد میں منعقدہ پاکستان فزیالوجیکل سوسائٹی کی 10ویں دو سالہ بین الاقوامی فزیالوجی کانفرنس میں بہترین پیپر پریزنٹیشن کا ایوارڈ جیتا تھا] SZMC کے طلبہ نے پہلی سارک، شفا کالج آف میڈیسن، اسلام آباد میں نومبر 2008 میں منعقدہ 11ویں دو سالہ بین الاقوامی فزیالوجی کانفرنس میں 5 اصل تحقیقی مقالے پیش کیے تھےSZMC کے ایک طالب علم نے فروری 2009 میں قاہرہ میں 17ویں بین الاقوامی عین شمس میڈیکل اسٹوڈنٹس کانگریس میں اپنا مقالہ پیش کیا  ایس زیڈ ایم سی کے طلبہ نے ایم بی بی ایس کے دوران اپنے اصلی تحقیقی مقالے معروف قومی جرائد میں شائع کیے ہیں۔


بدھ، 13 اگست، 2025

شیخ زید النہیان جن کا دوسرا گھر رحیم یار خان

      شیخ  زید  النہیان  کا جب  پاکستان سے دوستانہ  استوار ہو  تب انہوں نے اپنے لئے   چولستان کے علاقے میں ایک  تعمیر کرنے کا ارادہ بنایا ایک محل اور اس کے لئے  رحیم یار خان شہر سے چند کلومیٹر کی دوری پر  ایک قطعہ زمین کا انتخاب کیا گیا   پھر محل اور شہر سے آمدو رفت کے لیے ایئرپورٹ سے محل تک  خصوصی شاہراہ تعمیر ہوئی۔ اور پھر یہ محل اور یہ شاہراہ  پنجاب کے لوگوں کے لئے  بہت کشادگی کا باعث بن گئ  رفتہ رفتہ شہر کا پھیلاؤ بھی اسی جانب ہوتا چلا گیا اور اب محل سے صرف کچھ ہی فاصلے پرحکمران نہیں، پوری حکومت آتی تھی رئیس عباس زیدی کے مطابق ستر کی دہائی میں پہلی بار شیخ زید نے رحیم یار خان ضلع میں سرکاری زمین لیز پر حاصل کی جو ریگستان میں واقع تھی۔ان کے مطابق اس کے بعد ان کے دور میں چار ہزار ایکڑ مزید زمین لیز پر لی گئی جو بنجر اور بے آباد تھی۔ ’وہاں پانی نہیں تھا لیکن اس زمین کو آباد کیا گیا، سڑکیں بنائی گئیں، اور صحرا کے خانہ بدوشوں کی زندگی بدل گئی۔‘تاہم رئیس عباس زیدی کے مطابق بطور ڈپٹی کمشنر متحدہ عرب امارات کے حکمران کی رحیم یار خان آمد کے بعد ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری بڑھ جایا کرتی تھی۔


جب شیخ زید زیادہ عرصے کے لیے آتے تھے تو ان کی مجلس یعنی کابینہ کا اجلاس بھی ادھر ہی ہوا کرتا تھا اور اکثر دوسرے ممالک کے عہدیداران ملاقات کے لیے آیا کرتے تھے۔ اس دوران بینظیر بھٹو وزیراعظم تھیں جو خود شیخ زید سے ملنے آیا کرتی تھیں جبکہ نواز شریف اپوزیشن لیڈر تھے، وہ بھی آتے تھے۔‘رئیس عباس زیدی کہتے ہیں کہ ’محل میں شیخ زید کے کمرے کے باہر چیتے کی کھال لگی تھی جو ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ کے طور پر دی تھی اور ان کی ہدایت تھی کہ اس کھال کو ہٹایا نہ جائے۔‘عرب حکمرانوں کا شکار کے لیے پاکستان آنے کا سلسلہ کب شروع ہوا؟ ایک خیال یہ ہے کہ پاکستان میں خلیجی ممالک کے سربراہان کی شکار کے لیے آمد کا باقاعدہ سلسلہ جنرل ایوب خان کے دورِ حکومت سے شروع ہوا تھا۔جبکہ ایک اور عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ پاکستان میں عرب حکمرانوں کی شکار کے ارادے سے آمد کا سلسلہ 1970 کی دہائی میں اس وقت شروع ہوا جب اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تیل کی دولت سے مالامال مشرق وسطی کی ریاستوں سے بہتر تعلقات استوار کیے۔


مصنف ندیم فاروق پراچہ کی ایک تحریر میں بھی یہی دعویٰ کیا گیا ہے کہ 1970 کی دہائی کے وسط میں رحیم یار خان شکار کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کا پسندیدہ علاقہ بن گیا کیونکہ ان کے اپنے صحراؤں میں تلور معدوم ہوتا جا رہا تھا۔ یہ شیوخ دسمبر سے فروری کے مہینوں میں آتے کیونکہ پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں نایاب سمجھا جانے والا پرندہ تلور موسمِ سرما گزارتا ہے۔رفتہ رفتہ یہ حکومت اور مقامی لوگوں کے لیے منافع بخش کام بھی بن گیا۔ 2019 میں معاشی امور پر رپورٹ کرنے والے جریدے ’دی اکانمسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ ڈالر کے عوض شکار گاہ، ایک لاکھ ڈالر کے عوض دس دن کا اجازت نامہ دیا جانے لگا جس کے تحت صرف سو تلور کے شکار کی اجازت دی جاتی اور ہر تلور کے عوض ایک ہزار ڈالر اضافی دینا ہوتے۔



تاہم اس سے قبل یہ معاملہ اس وقت متنازع ہو گیا تھا جب بلوچستان ہائی کورٹ نے نومبر 2014 میں اپنے ایک فیصلے میں عرب شیوخ کو شکار گاہیں الاٹ کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ اس کے بعد اگست 2015 میں اس وقت کے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے تلور کے شکار پر پابندی عائد کرنے کے بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔تاہم پھر جنوری 2016 میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے تلور کے شکار پر مکمل پابندی عائد کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔اس وقت جسٹس میاں ثاقب نثار نے فیصلے میں لکھا تھا کہ عالمی ادارہ برائ ے جنگلی حیات نے تلور کو اُن پرندوں میں شامل نہیں کیا جن کی نسل معدوم ہو رہی ہے اور اقوامِ متحدہ کا کنونشن اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ان نسلوں کی افزائش کر کے شکار کیا جا سکتا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ قانون کا جائزہ لے کر عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ تلور کے شکار پر مستقل پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔


شیخ زید النہیان کا ’دوسرا گھر‘تحقیق سے علم ہوتا ہے کہ ستر کی دہائی میں شیخ زید نے رحیم یار خان میں فلاحی منصوبوں کا آغاز کر دیا تھا۔ ڈان اخبار کی 24 جنوری 1974 کی خبر کے مطابق اس دن شیخ زید نے رحیم یار خان کے محل میں ایک پریس کانفرنس کی اور اعلان کیا کہ شہر سے صحرا تک 19 میل طویل سڑک تعمیر کروائی جائے گی جبکہ ہسپتال اور مسجد کی تعمیر کا اعلان بھی کیا گیا۔ شہر کے ڈپٹی کمشنر نے اس سڑک کا نام شیخ زید روڈ رکھنے کا اعلان کیا۔رئیس عباس زیدی، جو اس وقت پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ہیں، 1993 سے 1996 تک رحیم یار خان کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ان کا دعویٰ ہے کہ ’متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ زید اس وقت بھی رحیم یار خان آیا کرتے تھے جب ان کا ملک تیل کی وجہ سے امیر نہیں ہوا تھا۔‘شیخ زید کے رحیم یار خان سے تعلق کے بارے میں بتاتے ہوئے اہم سفارتی ذرائع نے بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی کہ متحدہ عرب امارات کے قیام سے قبل ہی شیخ زید النہیان رحیم یار خان کے دوروں پر آیا کرتے تھے۔

اربعین حسینی -فکر حسینی کا ارتقاء

 

 
  آج بھی کربلا سے شام تک قدم قدم پہ حسینی کارواں سے بچھڑے ہوئے بچوں اور بچیوں کے مزار موجود ہیں جو زائرین کو سرائے کربلا کی ان یادگاروں کی یاد دلاتے ہیں‌۔ مظلوموں کا  یہ قافلہ کوفہ میں‌وارد ہوا تو انہیں ابن زیاد کے دربار میں‌لا یاگیا۔ ابن زیاد  ملعون کو بھرے دربار میں ذلیل و رسوا کرنے کے بعد اسیروں کا  یہ قافلہ  دمشق کی  جانب  روانہ  کیا گیا  تا کہ دربار یزید میں بھی حاضر کر کے انعام و اکرام جلد سے جلد وصول کیا جا سکے۔نوک نیزہ پر امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک نے سورہء کہف کی تلاوت کرنا شروع کر دی۔شام کے بازاروں اور درباروں میں‌جگہ جگہ جناب زینب سلام اللہ علیہا،، جناب ام کلثوم، جناب فاطمہ کبریٰ اور امام وقت سید سجاد علیہ السلام کے حق آفریں خطبوں اور تقریروں نے ، یزیدی کبر و نخوت میں چور مسرتوں کے شادیانوں کو، ذلت و رسوائی کی بانسریوں میں‌تبدیل کر دیا تھا۔


اور پھر شام کے خرابے میں حسین علیہ السلام کی چار سالہ بچی کی شہادت نے شام کی پوری فضا کو سوگوار بنا دیا۔۔اور یزید نے اپنے ظلم و ستم پر پردہ ڈالنے کے لئے اہل حرم کی رہائی کے حکم کے ساتھ ہی جناب زینب سلام اللہ علیہا کے کہنے  پر شام میں نواسئہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ کے مقدس خانوادے کی   شہادت  کی مجلس برپا کرنے کی اجازت دے دی۔اور پھرتین دنوں تک دمشق میں نوحہ و ماتم کے بعد اہل حرم شام سے کربلا کی طرف واپس ہوئے۔کربلا کے دشت نے جو روز اول سے ہی حسین علیہ السلام اور ان کے جاں نثاروں کے خون کا امین تھا زینب سلام اللہ علیہا اور سید سجاد علیہ السلام کے استقبال کے لیئے اپنی آغوش وا کر دی وہ حسین علیہ السلام کا چہلم کا دن تھا۔روایت کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک محترم صحابی رضی اللہ عنہ جناب جابر ابن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ اپنے ایک رفیق عطیہ عوفی کے ساتھ نواسئہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیئے وہاں پہلے سے موجود تھے۔

عطیہ عوفی کا بیان ہے کہ قبر حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیئے جب ہم کربلا پہنچے تو قریب سے ہی بہنے والی فرات کے تیز و تند دھاروں کی آواز نے صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جو اب نابینا ہو چکے تھے غم و اندوہ سے تڑپا دیا اور وہ اس خیال سے آنسو بہانے لگے کہ آہ اسی دریائے فرات کے کنارے خاندان رسول کو تشنہ لب شہید کر دیا گیا۔جابر فرات کے کنارے بیٹھے دیر تک آنسو بہاتے رہے پھر اٹھے اور غسل کیا اور کسی محرم کی مانند قبر حسین علیہ السلام کی طرف قدم بڑھائے اور تسبیح و تہلیل کے ساتھ آگے بڑھتے رہے میں ان کی انگلی پکڑے ہوئے تھا جیسے ہی قبر امام علیہ السلام پر پہنچے خود کو قبر پر گرا دیا اور روتے روتے بیہوش ہو گئے میں‌نے پانی کا چھینٹا دیا تو آنکھ کھولی اور فرمایا حسین علیہ السلام یاحسین علیہ السلام یاحسین علیہ السلام اور جب کوئی جواب نہ ملا تو کہا: کیا دوست اپنے دوست کا  جواب نہیں‌دے گا اور پھر خود ہی کہا: ہاں آپ کیسے جواب دیں‌گے آپ کی گردن آپ کے  خون  سے رنگین ہے اور سر تن  سے جدا ہے۔

میں‌گواہی دیتا ہوں آپ فخر انبیاء علیہ السلام کے فرزند امام المتقین علیہ السلام کے دلبند اور سید النسا حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے پارہء دل ہیں آپ نے پاکیزہ زندگی گزاری اور خدا کی پسندیدہ موت قبول کی۔اس میں‌کوئی شک نہیں‌کہ آپ زندہ ہیں آپ زندہ ہیں۔آپ پر خدا کا درودوسلام ہو۔میں‌گواہی دیتا ہوں کہ آپ کی شہادت کی داستان بھی حضرت یحییٰ علیہ السلام ابن زکریا علیہ السلام کی شہادت کی مانند ہے۔اس کے بعد جناب جابر ابن عبداللہ انصاری نے قبر امام علیہ السلام کے گرد و نواح کا رخ کیا اور فرمایا: درودوسلام ہو تم پر اے پاک و پاکیزہ روحو! کہ تم نے امام حسین علیہ السلام کے گرد جگہ پائی  -آج اربعين حسيني کي مناسبت سے تمام انسانيت کو اور خاندان عصمت و طہارت کے محبين کي خدمت ميں تعزيت پيش کرتے ہيں،اور بی بی زینب  سلام اللہ علیہا کو ان کے بھائی کا بھرے گھر کا پرسہ دیتے ہیں.

 ہر سال امام حسین علیہ السلام کے چہلم میں شرکت کے لئے، شام اور کربلائے معلی جانے والے زائرین بیشمار ھوتےہیں. اگر ہم لوگ اربعین  کے دن حضرت امام حسین  علیہ السلام کے حرم کي زيارت نہيں کر سکتے تو آپ کی زيارت پڑھ کر، آپ کي زيارت کر سکتے ہيں. امام کے ایک صحابی جابر بن وبد اللہ انصاری کہتے ہیں اشہد انک تسمع کلامي و ترد سلامي و تري مقامي» آپ فرماتے ہيں کہ : اے امام! ميں اس چيز کي گواہي ديتا ہوں کہ آپ ميري بات کو سن رہے ہيں اور ميرے سلام کا جواب ضرور ديتے ہيں اور مجھے ديکھ رہے ہیں!ماہ صفر کی بیسویں تاریخ کو  یہ زیارت پڑھی جاتی  ہے. اس کا طریقہ یوں ہے  کہ زیر  آسمان  حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہ مقدس کی طرف اشارہ کرکے کہو:
بسم اللہ الرحمن الرحيم
السلام علیک یا ابا عبد اﷲ
(سلام ھو آپ پے اے ابا عبداللہ)
اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ رَسُولِ اللہِ
(سلام ھو آپ پے اے رسول اللہ کے فرزند)
اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ اَميرِ الْمُؤْمِنينَ وَابْنَ سَيِّدِ الْوَصِيّينَ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ فاطِمَہ سَيِّدَہ نِساءِ الْعالَمينَ،
اَلسَّلامُ عَلَى الْحُسَيْنِ
وَعَلى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ
وَعَلى اَوْلادِ الْحُسَيْنِ
وَعَلى اَصْحابِ الْحُسَيْنِ،
اَللّـہمَّ الْعَنْ اَوَّلَ ظالِم ظَلَمَ حَقَّ مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد
اَللّـہُمَّ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدَ الشّاكِرينَ
اَللّـہہمَّ ارْزُقْني شَفاعَتَ الْحُسَيْنِ يَوْمَ الْوُرُودِ
السلام علیک و رحمت اﷲ و برکاتہ
 اَللّـہہمَّ ارْزُقْني شَفاعَتَ الْحُسَيْنِ يَوْمَ الْوُرُودِ
السلام علیک و رحمت اﷲ و برکاتہ
یا خدا ھم امام حسین علیہ السلام کے مقدس خون کا واسطہ دے کر تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ ائمہ، اھل بیت علیہم السلام کے بارے میں ہماری معرفت اور آگاہی میں اضافہ فرما اور ہمارے دلوں کو نور  ولایت سے  منور فرما اور ہماری نسل اور اولاد میں سے کسی کو دشمن اہل بیت علیہم السلام قرار نہ دے۔ امین

ڈیجیٹل زمانے کی محبتوں میں سماجی ا خلاقی زوال

 



   محبت بذات خود بری بات نہیں لیکن کسی کا ہنستا بستا آنگن اجاڑ کر اس آنگن کے بچے در بدر کر کے  اپنا آنگن محبت کے نام پر بسا لینا   اخلاقی  انحطاط کی بد ترین مثال ہے -ا نجو اور نصر اللہ کی  محبت  کی یہ کہانی کیسے شروع ہوئی اور انجو کو پاکستان کا ویزہ اور دیر بالا جانے کی اجازت کیسے ملی؟ لیکن پہلے جانتے ہیں کہ انجو کے شوہر نے اس صورتحال کے بارے میں کیا کہا ہے۔انجو کا فون کبھی چیک نہیں کیا کیونکہ ’اس سے رشتہ خراب ہوتا ہے‘انجو کے شوہر اروند نے بی بی سی ہندی کو بتایا ہے کہ ’میں 40 سال کا ہوں اور انجو 35 کے لگ بھگ ہے۔ ۔‘وہ بتاتے ہیں کہ ’ہماری شادی سنہ 2007 میں ہوئی تھی۔ اب ہمارے دو بچے ہیں۔ بڑی بیٹی کی عمر 15 سال ہے اور ایک چھوٹا بیٹا ہے اور وہ دونوں سکول جاتے ہیں۔‘اروند کا کہنا ہے کہ انھوں نے بارہویں تک تعلیم حاصل کی ہے جبکہ ان کی اہلیہ انجو دسویں پاس ہے۔اروند کے مطابق ’انجو بھیواڑی میں ہی ایک کمپنی میں کام کرتی ہیں۔ میں بھی پاس ہی کی ایک اور کمپنی میں کام کرتا ہوں۔‘اروند کہتے ہیں کہ انھوں نے کبھی بھی انجو کا فون چیک نہیں کیا کیونکہ ’اس سے رشتہ خراب ہوتا ہے۔‘انجو کے شوہر اروند نے فی الحال اس سلسلے میں پولیس میں کوئی شکایت درج نہیں کروائی ہے۔ویزہ حاصل کرنے میں دو سال لگے


نصر اللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا انجو سے فیس بک کے ذریعے چند سال پہلے رابطہ ہوا۔لیکن اس پہلے رابطے کے بعد اگلے مراحل بہت جلدی طے ہوئے۔جب بی بی سی نے انجو سے بات کرنے کی درخواست کی تو نصر اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انجو اس وقت میڈیا سے بات نہیں کرنا چاہتیں۔نصر اللہ کہتے ہیں کہ ’پہلے یہ رابطہ دوستی اور پھر محبت میں تبدیل ہو گیا جس کے بعد ہم دونوں نے ایک ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا تھا۔‘نصر اللہ کے مطابق ان کے گھر والے اس فیصلے میں ان کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’دونوں میں طے ہوا کہ انجو پاکستان کا دورہ کریں گی، میرے خاندان سے ملیں گی اور ہم پاکستان میں منگنی کریں گے، جس کے کچھ عرصے بعد ہم شادی کر لیں گے۔‘نصراللہ کا کہنا تھا کہ ’انجو کے لیے پاکستان کا ویزہ حاصل کرنا بہت مشکل تھا، مگر ہماری نیت تھی اور خلوص تھا جس کی وجہ سے ہم دونوں نے بالکل ہمت نہیں ہاری ہے۔‘ایک جانب انجو دہلی میں پاکستانی سفارت خانے کے چکر لگاتی رہیں جبکہ نصر اللہ پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزارت خارجہ اور دیگر دفاتر کے چکر کاٹتے رہے۔


نصر اللہ کا کہنا تھا کہ ’وہ وہاں پر حکام کو قائل کرتی رہیں اور میں یہاں پر حکام کو قائل کرتا رہا کہ ویزہ انجو کا حق ہے اور ہم اگر ملنا چاہتے ہیں تو ہمیں ملنے دینا چاہیے۔‘ان کی کوششیں بلاآخر رنگ لائیں۔ لیکن حکام کو قائل کرنے میں ان کو دو سال کا عرصہ لگا جس کے بعد انجو کو پاکستان کا ویزہ بھی مل گیا اور ان کو دیر بالا جانے کی اجازت بھی دے دی گئی۔نصراللہ کا کہنا ہے کہ ’پاکستان اور پھر دیر بالا داخلے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔‘’انجو اور میں نے ویزہ حاصل کرنے کے لیے ہزاروں روپے خرچ کیے ہیں۔ اب ایک دفعہ ویزہ لگ گیا ہے تو امید ہے کہ کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔‘  پاکستانی اور انڈین جوڑی کی شادی کیسے ممکن ہوئی؟مستقبل کا فیصلہ شادی کے بعد کریں گے‘نصر اللہ بتاتے ہیں کہ انجو انڈیا میں اپنی کمپنی سے چھٹی لے کر پاکستان آئی ہیں اور دوبارہ واپس جا کر اپنی ملازمت جاری رکھیں گی۔انھوں نے بتایا کہ ’انجو اس وقت میرے گھر میں ہے جہاں پر وہ بالکل پرسکون اور آرام سے رہائش پزیر ہے۔‘تاہم یہ خبر منظر عام پر آنے کے بعد میڈیا کی موجودگی سے وہ خوش نہیں۔


بہت بڑی تعداد میں میڈیا اور لوگ اکھٹے ہوچکے ہیں۔ میں سب سے کہتا ہوں کہ جو ضروری ہوگا میں خود میڈیا کو بتا دوں گا۔ میں نہیں چاہتا کہ ہمارے تعلق کو کوئی مسئلہ بنایا جائے۔ ہمارے تعلق میں مذہب بھی شامل نہیں ہے۔انجو مذہب تبدیل کرے گی یا نہیں، یہ اس کا اپنا فیصلہ ہو گا اور میں اس کے فیصلے کا احترام کروں گا جیسے وہ میرے فیصلے کا احترام کرتی ہے۔‘نصراللہ کا کہنا تھا کہ ان کے تعلق سے انجو کے خاندان کو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔’اس لیے میں کہتا ہوں کہ ہماری پرائیویسی کا احترام کیا جانا چاہیے۔    انجو پختونوں کی مہمان ہے‘ایک انڈین خاتون کی موجودگی سے اہل علاقہ بھی خوش ہیں لیکن موسم اور حالات ان کے استقبال کی تیاریوں کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔نصر اللہ کے مقامی علاقے کی سیاسی و سماجی شخصیت فرید اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’انجو جمعہ کے روز صبح کے وقت پہنچی جب شدید بارش ہو رہی تھی۔‘اہلیان علاقہ شدت سے اس کا انتظار کر رہے تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ ہم سنیچرکو شاندار استقبالہ دیں گے مگر بدقسمتی سے علاقے میں ایک فوتگی ہو گئی۔ اب ہم یہ استقبالیہ جلد دیں گے۔‘


فرید اللہ کا کہنا تھا کہ ’انجو پختونوں کی مہمان اور بہو ہے۔ہم اس بات کو ہر صورت میں یقینی بنائیں گے کہ اس کو ہمارے پاس کوئی تکلیف نہ پہنچے اور اس کو ساری سہولتیں میسر ہوں۔‘انھوں نے بتایا کہ ’ہمارے علاقے میں خوشی کا سماں ہے۔ ہمارے گھروں کی خواتین جوق در جوق انجو کو ملنے جا رہی ہیں، اس کو تحفے تحائف بھی دے رہی ہیں اور اس کو یہ یقین بھی دلا رہی ہیں کہ وہ کسی بات کی فکر نہ کرے۔‘ڈی پی او دیر بالا محمد مشتاق کے مطابق دیر بالا پہنچنے والی انڈین لڑکی انجو کے ویزہ کاغذات کی ’پولیس نے جانچ پڑتال کی اور وہ کاغذات بالکل درست ہیں۔‘انھوں نے بتایا کہ انجو کو ایک ماہ کا ویزہ دیا گیا ہے اور ان کو دیر بالا میں داخلے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے اتوار کی شام نصراللہ اور انجو کو مقامی پولیس سٹیشن ایک رسمی پوچھ گچھ کے لیے طلب کر رکھا ہے۔’یہ رسمی انٹرویو تمام غیر ملکیوں کے لیے ہوتا ہے جہاں پر ان سے بات کرنے اور انٹرویو کرنے کے بعد ان کو واپسی کی اجازت دے دی جائے گی۔‘محمد مشتاق کا کہنا تھا کہ ’پولیس انجو کو مکمل سیکورٹی فراہم کرے گی اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی پرائیویسی کا بھی مکمل خیال رکھے گی

منگل، 12 اگست، 2025

ڈیجیٹل زمانے کی ڈیجیٹل محبتیں اور ہمارا اخلاقی زوال


 ڈیجیٹل  زمانے کی ڈیجیٹل محبتیں 'کیا کبھی خواب میں کسی نے اس دور کے بارے میں سوچا ہو گا   کہ ایک عورت جس کے پاس باوفا شوہر بھی ہوگا   اور بچے بھی ہوں گے وہ گھر میں بچوں اور شوہر کو آگاہ کئے بغیر دوسرے ملک محض اس لئے چلی آئ   ہو گی کہ اس کو ایک دوسرے  مرد کی محبت نے  اپنا اسیر  کر لیا ہو گا  'یہ ہے ڈیجیٹل میڈیا کا کمال   ْہوا یوں کہ  پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع دیر بالا کے رہائشی نصر اللہ کی چند سال قبل انڈیا کی ریاست اتر پردیش کی ایک خاتون انجو سے سوشل میڈیا کے ذریعے  کوئ  گیم کھیلتے ہوئے بات چیت ہونا شروع ہوئی جو وقت کے ساتھ محبت میں بدل گئی اور اب انجو اس پاکستانی نوجوان سے ’ملنے‘ کے لیے پاکستان پہنچ گئی ہیں۔بی بی سی ہندی کو معلوم ہوا ہے کہ انڈین شہری انجو پہلے سے شادی شدہ ہیں اور وہ اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ انڈیا کے الور شہر کے علاقے بھیواڑی میں رہتی تھیں۔صحافی موہر سنگھ مینا نے بی بی سی ہندی کے لیے بھیواڑی میں موجود انجو کے چالیس سالہ شوہر اروند سے بات کی ہے۔

 
انجو کے شوہر نے بتایا ہے کہ ان کی اہلیہ ’21 جولائی کو یہ کہہ کر گھر سے نکلی تھیں کہ وہ جے پور جائیں گی۔ تب سے ہم ان سے واٹس ایپ پر بات کر رہے تھے۔‘23 جولائی کی شام جب بیٹے کی طبیعت خراب ہوئی تو انجو سے پوچھا گیا کہ وہ کب واپس آئیں گی۔ تو انھوں نے بتایا کہ وہ پاکستان میں ہیں اور جلد ہی واپس آ جائیں گی۔روند کے مطابق انجو نے کسی کو اپنے پاکستان جانے کے بارے میں کبھی شک نہیں ہونے دیا اور انھیں بس اتنا معلوم تھا کہ انجو کے پاس کئی سال پہلے بنوایا گیا پاسپورٹ تھا۔پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا کے رہائشی نصر اللہ سے ملنے اور مبینہ طور پر ’منگنی‘ کرنے کے لیے آنے والی انڈین خاتون انجو کا کہنا ہے کہ انھوں نے انڈیا میں اپنے شوہر اور بچوں کو بتا دیا تھا کہ وہ پاکستان جا رہی ہیں۔انڈیا کے ٹی وی چینل زی نیوز سے ویڈیو کال کے ذریعے بات کرتے ہوئے انڈین خاتون انجو کا کہنا تھا کہ ’شوہر کو یہ علم تو تھا ہی کہ میں باہر جا رہی ہوں اور میں نے سوچا کہ جب میں بارڈر پار کر لوں گی تو انھیں بتا دوں گی اور میں نے انھیں بتایا بھی تھا۔‘ان کا کہنا تھا کہ میں چاہتی تھی کہ میں اپنے بیٹے کو بھی پاکستان ساتھ لے کر آؤں لیکن مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس کو بھی پاسپورٹ کی ضرورت ہو گی۔


زی ٹی وی کے اینکر کے اس سوال پر کہ کیا آپ پاکستان میں نصراللہ سے شادی کرنے والی ہیں، انجو نے کہا کہ وہ پاکستان نصراللہ سے شادی کرنے نہیں آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نصراللہ ان کے دوست ہیں اور وہ یہاں ان سے ملنے آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میری ان کے پورے خاندان سے ملاقات ہوئی ہے اور یہ سب لوگ بہت اچھے ہیں اور میرا بہت خیال رکھا جاتا ہے’میرا ایسا کوئی ارادہ بھی نہیں ہے۔ وہ بس میرے دوست ہیں، ان سے ملنے اور پاکستان گھومنے آئی ہوں۔‘پاکستان جانے کا خیال کیسے آیا کے سوال پر انجو نے کہا کہ ہماری سوشل میڈیا کے ذریعے بات چیت ہوتی تھی۔ مجھے وہاں جانے کے متعلق کچھ پتا نہیں تھا تو میں نے نصراللہ سے کہا کہ وہ انڈیا آ جائیں لیکن اس میں بہت وقت لگتا ہے۔ پھر میں نے نصراللہ سے کہا کہ میری درخواست کے لیے کاغذات جمع کروا دو۔ایک سوال میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے نصر اللہ سے ملنے کا شوق تو تھا ہی لیکن میں یہاں آنا چاہتی تھی کیونکہ عام جگہوں پر تو سب چلے جاتے ہیں لیکن پاکستان آنے کا خطرہ تو کوئی کوئی مول لیتا ہے۔


انجو نے بتایا کہ میں نصراللہ سے کہتی تھی کہ مجھے دیر اور اپنا علاقہ دکھاؤ۔انجو نے انڈیا میں اپنے ایک دفتری ساتھی کی جانب سے ہراساں کرنے اور تنگ کرنے کے متعلق بھی بات کی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ مجھے اغوا کرنے اور مارنے کی دھمکی دیتے تھے اور میں نے اس متعلق پولیس کو بھی بتایا تھا۔وہ کہتی ہیں کہ ایسا نہیں کہ انڈیا میں ان کے شوہر سے ان کے تعلقات ٹھیک نہیں ہیں، بلکہ وہ صرف پاکستان گھومنے آئی ہیں۔ادھر ڈسڑکٹ پولیس افسر دیر بالا مشتاق احمد خان نے سوموار کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس نے نصراللہ اور ان کے خاندان  کو پابند کیا ہے کہ انڈین خاتون انجو ایک ماہ بعد 21 اگست سے پہلے دیر بالا چھوڑ دیں۔ان کا کہنا ہے کہ انجو کے پاس صرف اپر دیر کی رہائش کا ایک ماہ کا ویزہ اور این او سی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے انڈین خاتون انجو سے رسمی انٹرویو کیا ہے۔’اس انٹرویو میں ہم نے نہ تو منگنی اور نہ ہی شادی کی بات سنی ہے۔ بہرحال یہ فیس بک کی دوستی ہے۔ اس سے آگے کا فیصلہ نصراللہ اور ان کا خاندان کرے گا کہ یہ منگنی کرتے ہیں یا شادی، یہ ان کا اپنا گھریلو معاملہ ہے۔‘مشتاق احمد خان کا کہنا تھا کہ رسمی انٹرویو کے بعد ہم نے انجو کی ذاتی زندگی کا خیال رکھا اور ان کو سیکیورٹی فراہم کردی گئی ہےنصراللہ کی انجو سے فیس بک پر دوستی ہوئی تھی۔ اس کے بعد پاکستانی سفارت خانے کو 2022 میں درخواست بھیجی گئی تھی۔
 

 نصراللہ کی اس درخواست پر انڈیا میں پاکستانی سفارت خانے نے انجو کو ویزہ جاری کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انجو نے لاہور کے واہگہ بارڈر پر امریگیشن کی ہے۔ لاہور سے راولپنڈی تک انجو نے بس کا سفر کیا تھا۔راولپنڈی میں نصراللہ نے انجو کا استقبال کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا خطہ کی مہمان نوازی مشہور ہے اور ہم انجو کی مہمان نوازی کریں گے۔دوسری جانب 29 برس کے پاکستانی نوجوان نصر اللہ کے مطابق وہ اگلے دو سے تین دن میں انجو سے باضابطہ منگنی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے دس بارہ دن بعد انجو واپس انڈیا چلی جائیں گی۔انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کے بعد انجو دوبارہ شادی کے لیے پاکستان آئیں گی۔ یہ میری اور انجو کی ذاتی زندگی ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ اس میں مداخلت کی جائے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ میڈیا سے بھی دور رہا جائے۔‘اس وقت انجو دیر بالا میں نصراللہ کے گھر میں رہائش پذیر ہیں۔ ڈی پی او دیر بالا محمد مشتاق نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انڈین شہری کی اس وقت انجو دیر بالا میں نصراللہ کے گھر میں رہائش پذیر ہیں۔ڈی پی او دیر بالا محمد مشتاق نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انڈین شہری کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔انجو کے لیے بھی پاکستان کا ویزہ حاصل کرنا آسان نہیں تھا۔ خصوصاً دیر بالا تک پہنچنے کے لیے جو ایک دور دراز ضلع ہے جس کی ایک سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔
 

جابر بن عبد اللہ انصاری

 



جابر بن عبد اللہ   انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗ ہجرتِ مدینہ سے 16 سال قبل پیدا ہوئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دادا عمرو بن حرام انصاری اپنے قبیلے کے سردار تھے  19 کے قریب تمام بڑے غزوات میں نبی پاک ﷺ کے ساتھ شریک رہے۔ آپؓ نے بڑی عمر کی بیوہ سے شادی کی، تاکہ آپؓ کی 9 چھوٹی بہنوں کی تربیت و اُمورِ خانہ داری قائم رہ سکیں۔حضرت جابرؓ نے غزوۂ خندق کے موقع پر آپ ﷺ کی دعوت کی۔ آپؐ نے صحابہ کرامؓ کے سامنے اعلان کرا دیا کہ جابر کے ہاں تمام اہلِ خندق کی دعوت ہے۔ چناں چہ اس موقع پر آپؐ کی برکت سے چند افراد کا کھانا 1400 صحابہ کرامؓ نے کھایا۔ ایک موقع پر آپؐ نے 25 بار حضرت جابرؓ کے لیے استغفار کی دعا پڑھی۔ آپؐ کو اگر قرض کی ضرورت پڑتی تو آپؐ حضرت جابرؓ سے قرض بھی لے لیتے تھے۔حضرت جابرؓ سے سینکڑوں احادیث مروی ہیں، جن میں سے ایک یہ حدیث بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’میری اُمت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر رہے گی، 



یہاں تک کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں‘‘۔ حضرت جابرؓ نے طویل عمر پائی ۔ آپؓ تفسیر، حدیث اور فقہِ دین میں کمال درجے کی مہارت رکھتے تھے۔ آپؓ نے خلفائے راشدینؓ کے زمانے میں بھی مختلف سماجی ذمہ داریوں پر فائز رہ کر بھر پور کردار ادا کیا۔ تابعینؒ کے ہر طبقے نے آپؓ سے کسبِ فیض کیا ہے۔ ایک قول کے مطابق جابر واقعہ کربلا کے چالیس دن بعد یعنی اربعین کو کربلا پہنچے۔ آپ کو حسین ابن علی کے پہلے زائر ہونے کا شرف حاصل ہے-ان کے والد نے غزوۂ احد میں شہادت حاصل کی کافروں نے مثلہ کر دیا تھا اس لیے جنازہ کپڑوں میں اڑھا کر لایا گیا، حضرت جابرؓ نے کپڑا اٹھا دیا اور دیکھنا چاہا لوگوں نے منع کیا،آنحضرت ﷺ نے یہ دیکھ کر کپڑا اٹھا دیا ، بہن پاس کھڑی تھیں، بھائی کی حالت دیکھ کر ایک چیخ ماری، آنحضرت ﷺ نے پوچھا کون ہے؟لوگوں نے کہا ان کی بہن ،فرمایا تم روؤ یا نہ روؤ جب تک جنازہ رکھا رہا ،فرشتے پروں سے سایہ کیے تھے  حضرت عبد اللہؓ نے دس لڑکیاں چھوڑیں  ،انھوں نے اپنے بھائی حضرت جابرؓ کے پاس ایک اونٹ بھیجا کہ ابا جان کی لاش گھر لے آئیں اور مقبرہ بنی سلمہ میں دفن کر دیں، وہ تیار ہو گئے،آنحضرت ﷺ کو خبر ہوئی فرمایا کہ جہاں ان کے دوسرے بھائی شہداء دفن کیے جائیں گے، وہیں وہ بھی دفن ہوں گے ؛چنانچہ احد کے گنج شہیداں میں دفن کیے گئے۔



ان پر قرض بہت تھا، حضرت جابرؓ بن عبد اللہ کو اس کے ادا کرنے کی فکر ہوئی، لیکن ادا کہاں سے کرتے؟ کل دو باغ تھے جن کی پوری پیدا وار قرض کو کافی نہ تھی، رسول اللہ ﷺ کے پاس گھبرائے ہوئے آئے اور کہا یہودیوں کو بلاکر کچھ کم کرا دیجئے، آپ نے ان لوگوں کو طلب فرماکر حضرت جابرؓ بن عبد اللہ کا مدعا بیان کیا انھوں نے چھوڑنے سے انکار کیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اچھا دو مرتبہ میں اپنا قرض وصول کرلو، نصف اس سال اور نصف دوسرے سال، وہ لوگ اس پر رضا مند نہ ہوئے، آپ ﷺ نے یہ دیکھ کر حضرت جابرؓ بن عبد اللہ کو تسکین دی اور فرمایا کہ سنیچر(ہفتہ) کے دن تمھارے ہاں آؤں گا، چنانچہ سنیچر کو صبح کے و قت تشریف لے گئے، پانی کے پاس بیٹھ کر وضو کیا،مسجد میں جاکر دو رکعت نماز پڑھی، پھر خیمہ میں آکر متمکن ہوئے، اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ صدیق و حضرت عمرؓ بھی پہنچ گئے، تقسیم کا وقت آیا تو ارشاد ہوا کہ چھوہاروں کو قسم دار الگ کرکے خبر کرنا، چنانچہ آپ کو خبر کی گئی ،آپ تشریف لائے اور ایک ڈھیر پر بیٹھ گئے،


حضرت جابرؓ بن عبد اللہ نے بانٹنا شروع کیا اور آپ دعا کرتے رہے، خدا کی قدرت کہ قرض ادا ہونے کے بعد بھی جو کچھ بچ گیا، حضرت جابرؓ خوشی خوشی آپ کے پاس آئے اور بیان کیا کہ قرض ادا ہو گیا اور اتنا فاضل ہے، آپ نے خدا کا شکر ادا کیا، حضرت ابوبکرؓ صدیق وحضرت عمرؓ کو بھی بہت مسرت ہوئی۔اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مکان لے گئے اور گوشت ،خرما اور پانی پیش کیا، آپ نے فرمایا شاید تم کو معلوم ہے کہ میں گوشت رغبت سے کھاتا ہوں،چلنے کا وقت آیا تو اندر سے آواز آئی کہ مجھ پر اور میرے شوہر پر درود پڑھیے، فرمایا: اللھم صل علیھم   والد کی موجودگی تک انھوں نے کسی غزوہ میں حصہ نہیں لیا۔ مسلم میں ہے کہ انھوں نے غزوہ بدر میں میدان کا عزم کیا،


  1932ء میں عراق کے اس وقت کے بادشاہ شاہ فیصل کو خواب میں صحابیِ رسول حذیفہ بن یمانی (معروف بہ حذیفہ یمانی) کی زیارت ہوئی جس میں انھوں نے بادشاہ کو کہا کہ اے بادشاہ میری قبر میں دجلہ کا پانی آ گیا ہے اور جابر بن عبد اللہ کی قبر میں دجلہ کا پانی آ رہا ہے چنانچہ ہماری قبر کشائی کر کے ہمیں کسی اور جگہ دفن کر دو۔ اس کے بعد ان دونوں اصحابِ رسول کی قبریں سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں کھولی گئیں جن میں مفتیِ اعظم فلسطین، مصر کے شاہ فاروق اول اور دیگر اہم افراد شامل تھے۔ ان دونوں کے اجسام حیرت انگیز طور پر تازہ تھے، جیسے ابھی دفنائے گئے ہوں۔ ان کی کھلی آنکھوں سے ایسی روشنی خارج ہو رہی تھی کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں چکا چوند ہو گئیں۔ ہزاروں لوگوں کو ان کی زیارت بھی کروائی گئی جن کے مطابق ان دونوں کے کفن تک سلامت تھے اور یوں لگتا تھا جیسے وہ زندہ ہوں۔ ان دونوں اجسام کو سلمان فارسی رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی قبر مبارک کے بالکل قریب سلمان پاک نامی جگہ پر دوبارہ دفنا دیا گیا جو بغداد سے تیس میل کے فاصلے پر ہے۔

حضرت سلیمان ع کی فضائ چھا ؤنی کا رقبہ کتنا تھا

 



حضرت سلیمان علیہ السلام    کے لشکر کی چھاونی سو   فرسخ (ایک فرسخ  تین میل ہوتے ہیں )میں تھی ان میں سے پچیس   فرسخ جنوں کے لیے، پچیس   انسانوں کے لیے، پچیس  پرندوں کے لیے اور پچیس   فرسخ دیگر جانوروں کے لیے تھے- آپ کے لیے لکڑی کے تخت پر سو   گھر تھے جن میں آپ کی باندیاں رہائش پذیر تھیں- ان میں سے تین سو منکوحہ تھیں اور سات سو لونڈیاں تھیں- آپ تیز ہوا کو حکم دیتے تو وہ آپ کو لے کر چل پڑتی تھی- پس ایک دن آپ علیہ السلام زمین و آسمان کے درمیان جا رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی کہ میں نے آپ کی حکومت میں اضافہ کر دیا ہے وہ اس طرح کہ مخلوق سے جو بھی کہیں بات کرے گا ہوا اسے آپ کے پاس لے آئے گی اور آپ کو اس سے آگاہ کردے گی‘‘-  تفسیر مظہری، ج:5، ص723   وادیٔ نملہ کا سفر:ایک مرتبہ آپ کے لشکر کا گزر ایک وادی سے ہوا جو وادیٔ نملہ کہلاتی تھی- نملہ کی یہ وادی عسقلان کے قریب ہے- جب لشکر اس وادی کے قریب پہنچا تو ایک چیونٹی نے کہا کہ :-

﴿81یٰآَیُّہَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰکِنَکُمْ لَا یَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُہ، وَ ہُمْ لَا یَشْعُرُوْن﴾﴿النمل: ﴾



’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بِلوں    میں گھس جائو کہیں تم کو سلیمان   اور ان کے لشکر والے بے خبری میں روند نہ ڈالیں‘‘-حضرت سلیمان   نے ان کی یہ بات سن لی اور اللہ کی مخلوقات میں سے جو بھی مخلوق کوئی بات کرتی تھی تو ہوا اس بات کو حضرت سلیمان   کے کانو ں میں پہنچا دیتی تھی- مقاتل رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ :-حضرت سلیمان  نے چیونٹی کی بات کو تین میل کی مسافت سے سن لیا تھا‘‘- امام بغوی ، معالم و التنزیل، ج: 3، ص:153 ، العلمیہ حضرت سلیمان کا چیونٹی سے مکالمہ :حضرت سلیمان   نے فرمایا کہ چیونٹی کو میرے پاس لاؤ- چنانچہ چیونٹی حاضر کی گئی -حضرت سلیمان  : اے چیونٹی! کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ میر الشکر کسی پر ظلم و ستم نہیں کرتا-چیونٹی: بے شک میرا عقیدہ یہی ہے کہ آپ کا لشکر ظلم و ستم نہیں کرتا لیکن چونکہ مَیں ان سب کی سردار ہو ں اس لیے میرا فرضِ منصبی تھاکہ میں انہیں ہر نشیب و فراز سے آگاہ کروں-حضرت سلیمان  : تیری اس تقریر سے میرے نزدیک تیری قدر و منزلت بڑھ گئی ہے- لہٰذا میرا جی چاہتا ہے کہ تو مجھے کوئی پند و نصیحت سنا ئے-



چیونٹی: آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے والد گرامی کا نام داؤد  کیوں رکھا گیا؟حضرت سلیمان  :مجھے معلوم نہیں!چیونٹی: آپ کے والد گرامی کا نام داؤد   اس لیے تھا کہ انہوں نے زخمی دل کا علاج کیا- گویا ان کانام ’’داوی جراحۃ قلبہ‘‘ کا مخفف ہے-پھر چیونٹی نے سوال کیا کہ اے حضرت سلیمان  کیا آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ آپ کا نام سلیمان کیوں ہے؟حضرت سلیمان  : مجھے معلوم نہیں!چیونٹی: اس لیے کہ آپ ’’سلیم الصدر و القلب‘‘ ہیں- گویا سلیمان انہی الفاظ کا مخفف ہے-تفسیر روح البیان میں علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’کشف الاسرار‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ :-’حضرت سلیمان  نے چیونٹی سے پوچھا کہ تمھاری سلطنت کا حدود اربع اور تمہارے لشکر کی تعداد کتنی ہے؟ چیونٹی نے عرض کی کہ لشکر کی نگرانی کے لیے مَیں چار ہزار    کوتوال رکھتی ہوں اور ان میں سے ہر ایک کے ماتحت چالیس ہزار  نقیب ہیں پھر ہر ایک نقیب کے تحت چالیس ہزار چیونٹیاں رہتی ہیں-



 پھر حضرت سلیمان  نے چیونٹی سے فرمایا کہ تو اپنے لشکر سے باہر کیوں نہیں جاتی؟ چیونٹی نے عرض کی کہ اے پیارے نبی  مجھے روئے زمین کا اختیار دیا گیا ہے لیکن میں نے ٹھکرا دیا صرف اس لیے کہ مجھے اپنے لشکر  کو چھوڑ کر کہیں جانا گوارا نہیں بلکہ عرض کی کہ اے پروردگارِ عالَم ہمیں زیرِ زمین رکھنا تا کہ تیرے سوا ہمیں کوئی نہ جانے اور ہم بھی تیرے سوا کسی کو نہ جانیں‘‘-  جلد: 6، ص :753، اس کے بعد چیونٹی نے حضرت سلیمان   سے کہا کہ آپ بھی تو مجھے بتا دیں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے سب سے بڑی کون سی نعمت عطا فرمائی ہے ؟ حضرت سلیمان  نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو میرے تابع کر دیا ہے- مَیں صبح کو مشرق میں ہوتا ہوں اور شام کو مغرب میں- چیونٹی نے کہا کہ یہ تو کوئی بڑا کمال نہیں بلکہ اس میں تو یہ اشارہ ہے کہ آپ کی بادشاہی گویا ہوا پر سہارا کر رہی ہے-   چیونٹی کی بات سن کر حضرت سلیمان   نے دعا مانگی کہ:-

رَبِّ اَوْزِعْنِیْْٓ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ



’اے میرے رب! مجھے اس بات کی توفیق دے کہ میں تیری نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر فرمائی‘‘-  النمل:۹۱ ’’قرآن پا ک کی نظر میں آقا و غلام برابر ہیں- کوئی بوریا نشیں ہو یا تخت کا وارث ان میں کوئی فرق نہیں‘‘- رموزِ بیخودی، حکایت سلطان مرادیہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٰ وسلم تک جتنے بھی انبیائے کرام تشریف لائے وہ سب اسلام کے سلسلے کی ہی مختلف کڑیاں ہیں اس لیے ان کی زندگیوں کو اسلام اور قرآن کی تعلیمات سے الگ نہیں کیا جاسکتا- حضرت سلیمان   کے فیصلے:حضرت داؤد  اس امر سے آگاہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان   کو علم و دانش ذکاوت و خطابت اور مقدمات کے فیصلے کی صلاحیت بچپن ہی سے عطا کردی تھی

یرقان کے بر وقت علاج سے کالے بخار سے بچا سکتا ہے


 


  یہ ایک ایسا مرض ہے جس میں جِلد اور آنکھ کا سفید  حصہ پیلا پڑ جاتا ہے ۔ یہ بیماری خون، جگر، یا پتے کے مسائل کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ یرقان کا سامنا اس وقت کرنا پڑتا جب خون میں بلی روبین کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ یہ ایک زرد سے نارنجی رنگ کا مادہ ہوتا ہے جو خون کے سرخ خلیوں میں موجود ہوتا ہے۔ جب یہ خلیےختم ہو جاتے ہیں تو جگر انہیں خون سے فلٹر کر لیتا ہے۔ لیکن اگر جگر صحیح طرح سے کام نہ کرے تو بلی روبین کی مقدار بڑھنا شروع ہو جاتی ہے جس کی وجہ  سے جِلد پیلی معلوم ہوتی ہے-یرقان کی وجوہا ت-یرقان کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔ہیپاٹائٹس-یہ انفیکشن ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے جو کہ مختصر وقت تک بھی لاحق ہو سکتا ہے اور دائمی بھی۔ اگر دائمی لاحق ہو تو پھر یہ چھ ماہ تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مدافعتی نظام کی کمزوری اور مخصوص ادویات کا استعمال ہیپاٹائٹس کی وجہ بن سکتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہیپاٹائٹس جگر کو متاثر کر کے یرقان کا سبب بن سکتا ہے۔بعض ادویات کا استعمال-پینسیلین نامی اینٹی بائیو ٹکس، حمل روکنے والی دوائیں، اور اسٹیرائڈز کا استعمال جگر کو متاثر کر سکتا  ہے جس سے یرقان کے خطرات بڑھ جاتے ہیں

 

پت نالی میں رکاوٹ-یہ تنگ نالی ہوتی ہے جس میں سیال (پت) دوڑتا ہے۔ یہ نالی سیال کو جگر اور پتے سے چھوٹی آنت تک پہنچاتی ہے۔ کبھی کبھی یہ نالی کینسر، جگر کے امراض، یا پتے کی پتھری کی وجہ سے بند ہو جاتی ہے جس سے یرقان لاحق ہو سکتا ہے۔لبلبے کا کینسر-یہ کینسر عورتوں میں پایا جانے والا نواں جب کہ مردوں میں پایا جانے والا دسواں سب سے عام کینسر ہے۔ یہ کینسر بھی پت نالی بلاک کر سکتا ہے جس سے یرقان لاحق ہونے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔جگر کا کینسر-جگر کا کینسر اس وقت لاحق ہوتا ہے جب جگر کے سیلز کینسر زدہ بن جاتے ہیں اور بہت زیادہ مقدار میں بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ جگر کے کینسر کی وجہ سے بھی یرقان لاحق ہو سکتا ہے۔یرقان کی وجوہات کے ساتھ ساتھ اس کی علامات بھی مختلف ہوتی ہیں۔یرقان کی علامات-یرقان کی علامات مندرجہ ذیل ہو سکتی ہیں۔ 

 

اگر آپ کو کھانا کھانے کے بعد متلی یا قے کی لگاتار شکایت رہتی ہے تو آپ کو فوری طور پر معائنہ کروانے کی ضرورت ہے کیوں کہ متلی اور قے یرقان کی علامات ہو سکتی ہیں۔جِلد اور آنکھوں کی پیلاہٹ-جِلد اور آنکھوں کی پیلاہٹ یرقان کی سب سے عام علامت ہے۔ یرقان کی وجہ سے جِلد کا کوئی حصہ یا آنکھوں کا سفید حصہ پیلا ہو جاتا ہے۔بھوک اور وزن میں کمی ایسے افراد جو یرقان کا شکار ہوں ان کو بھوک کم لگتی ہے جس کی وجہ سے ان کا وزن تیزی سے گھٹنے لگتا ہے۔یرقان کے شکار افراد کو اکثر پیٹ درد کی شکایت رہتی ہےتھکاوٹ یرقان کی وجہ سے آپ کو جلد تھکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تھوڑا سا کام کرنے کے بعد بھی آپ تھکاوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں۔خارش، بخار، اور پیشاب کا گہرا رنگ -یرقان کی وجہ سے جسم کے کسی بھی حصے پر خارش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جب کہ بخار کی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یرقان کے مریضوں میں پیشاب کا رنگ بہت گہرا ہو جاتا ہے۔یرقان کی علامات کے دوران عمومی طور پر ادویات تجویز نہیں کی جاتیں اور گھریلو علاج کے ذریعے اس کی علامات کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔


 

ہلدی کا استعمال-ہلدی اینٹی آکسیڈنٹس خصوصیات سے بھرپور ہوتی ہے جس سے جگر کے سیلز مضبوط ہوتے ہیں-کد دو کو ٹکڑوں میں کاٹ کر شوربے دار پکائیں۔ کوشش کریں کہ اس شوربے میں چکنائی نہ ہو۔ بہترین ذائقے کے لیے سفید زیرہ، دھنیا، ادرک، ہلکا سا نمک، کالی مرچ، اور لہسن شامل کیا جا سکتا ہے۔ جب کہ ہری یا سرخ مرچ، کھٹائی، اور کسی بھی قسم کا گرم مصالحہ شامل کرنے سے گریز کریں۔ بھوک لگنے کی صورت میں کدو کے ٹکڑے کھا کر شوربہ پی لیں۔کھیرے کے استعمال سے معدے اور جگر کی گرمی ختم ہوتی ہے اس لیے یرقان کے دوران اس کا استعمال نہایت مفید ہوتا ہے۔ آپ کھانے سے پہلے کھیرے پر کالا نمک بھی چھڑک سکتے ہیں

 

ادرک-تھوڑی سی ادرک، پودینہ کی دس پتیاں، اور سونف ایک چائے کا چمچ ایک کپ پانی میں شامل کر کے قہوہ بنا لیں اور دن میں تین سے چار مرتبہ استعمال کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ پسی ہوئی ادرک، ایک چمچ پانی، لیموں، پودینے کا عرق، اور ایک شہد کا چمچ شامل کر کے آمیزہ بنا لیں اور اس آمیزے کو بھی دن میں تین سے چار مرتبہ استعمال کریں۔ارجن کے پتے-شام کے وقت ارجن کے پتے پانی میں بھگو دیں۔ صبح انہیں پانی میں مکس کرنے کے بعد چھان کر پی لیں۔ صبح کے وقت پھر ان پتوں کو بھگو دیں اور شام کے وقت استعمال کر لیں۔مولی-یرقان کا شکار افراد کے لیے یہ سبزی نہایت مفید ہے۔ اسے کچا کھائیں۔ اس کے ساتھ آپ گُڑ بھی استعمال کر سکتے ہیں تا کہ یہ جلدی ہضم ہو جائےگاجر-اس مرض میں مبتلا مریضوں کے لیے گاجر کا مربہ بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ مربہ آپ گھر پر بھی بنا سکتے ہیں اور بازار سے بھی خرید سکتے ہیں۔ ہر روز دو چمچ مربہ کھانے کے بعد سونف اور سبز الائچی کا قہوہ پی لیں۔لیموں -ہر روز دو سے تین لیموں کا رس پانی میں استعمال کرنے سے کچھ دنوں میں یرقان کی علامات ختم ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔انار-یرقان کی علامات کے دوران انار کا رس بھی نہایت مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ ہر روز رات کو اس کا رس استعمال کرنے سے علامات میں واضح کمی آئے گی۔ اس مرض میں  گنے کے رس کا استعمال نہایت شفاء بخش ہوتا ہے۔

ایک بات زہن نشین کر لیجئے کہ یرقان کا مرض بگڑ جائے یا  مریض اپنے مرض سے ہی لا علم ہو  تب کالا بخار ہوتا ہے 

پیر، 11 اگست، 2025

مراکش کی مقدس ترین زیارت گاہ

 مراکش میں مولائے  إدريس جبل زرہون‘ کے دامن میں واقع ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔یہ المغرب کے پہلے بڑے مسلمان حکمران ادریس بن عبداللہ کی قبر کی جگہ ہونے کی وجہ سے مشہور ہے، جن کے نام پر اس قصبے کا نام رکھا گیا ہے۔یہ مکناس کے قریب واقع ہے اور چند کلومیٹر دور ولیلی کے کھنڈر کے قریب ہے مراکش کے اس مقدس‘ قصبہ جس کے کچھ حصوں میں عمارتیں سبز و سفید اور راہداریاں اور زینے مختلف  رنگوں سے مزین نظر آتی ہیں، 1912 تک ا قصبے میں غیرمسلموں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع تھارنگوں اور روایتوں میں ڈوبا یہ چھوٹا سا قصبہ صدیوں تک بیرونی دنیا کی نگاہوں سے اوجھل رہا ہے۔ ’یہ قصبہ مولائے   ادریس زرہون  مراکش کے شہر ’شیفشاون‘ سے تین گھنٹے کی مسافت پر ہے-


تاریخی طور پر غیر مسلموں کے لیے بند ہونے اور براہ راست یہاں تک ٹرین کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے مولائے ادریس سیاحوں کی نظروں سے اوجھل رہا ہے۔ اس رنگ برنگے قصبے کا مراکش کی پہلی اسلامی سلطنت کے بانی ادریس اول سے تعلق ہے اور مولائے ادریس کو مراکش کی مقدس ترین زیارت گاہ تصور کیا جاتا ہے۔اگر آپ مولائے ادریس زیارت کے لیے آئیں، تو یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ نے سعودی عرب کے شہر مکہ کی زیارت کی ہو۔‘اپنے شاندار رنگوں اور مقدس حیثیت کے باوجود، یہاں کی زندگی سادہ، خاموش اور روایتوں میں رچی بسی ہے۔ اس قصبے میں غیرمسلموں کے داخلے پر عائد پابندی سنہ 1912 میں ختم کر دی گئی تھی اور اب مراکش کے تیز رفتار ریلوے نظام میں بہتری کے ایک منصوبے کے تحت یہاں آنا مزید آسان ہو جائے گا، کیونکہ اس قصبے کے قریب واقع شہر ’مکناس‘ میں ایک نیا ریلوے سٹیشن بنایا جا چکا ہے۔



عماد المیلودی کہتے ہیں: کہ ’ہم مزید زائرین کے منتظر ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کو مراکش کے اس اہم شہر کے بارے میں پتہ چلے۔‘کھنڈرات میں پناہ -یہ شہر سترہویں صدی میں آباد ہونا شروع ہوا تھا -سنہ 786 میں ایک ناکام بغاوت کے بعد مراکش کی پہلی اسلامی سلطنت کے بانی ادریس اول یعنی ادریس بن عبداللہ (جن کا نسب پیغمبر اسلام کے خاندان سے جا ملتا ہے) نے ولوبیلس یا ولیلی نامی کھنڈرات کو اپنا مرکز بنایا تاکہ وہ اسلام کی تبلیغ کر سکیں۔سنہ 791 میں زہر دیے جانے کے سبب ادریس اول کی موت واقع ہو گئی اور انھیں ان کھنڈرات سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر دفنایا گیا۔ کچھ ہی عرصے بعد ان کے پیروکاروں نے اُن کی قبر کے گرد گھر بنانا شروع کیے، جس سے اس قصبے کی بنیاد پڑی۔آج ولیلی کے کھنڈرات میں ستونوں، قدیم گھروں، عوامی حماموں اور نقش و نگار سے مزین در و دیوار کی باقیات، زرد پھولوں سے بھرے کھیتوں، زیتون اور انگوروں کے باغات کے بیچ، بکھری ہوئی ہیں۔ 


پہلے لوگ یہاں زرخیز زمین کی وجہ سے آباد ہوئے۔ ان کے پاس سب کچھ تھا۔‘مقدس شہروں کا مرکزاس قصبے کا وہ مقام جہاں سے آگے آج بھی غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہےجیسے جیسے مولای ادریس نے ترقی کرنا شروع کی یہ تیزی سے مراکش کا سب سے اہم مذہبی شہر بنتا گیا۔ اس کی تقدیس کو برقرار رکھنے کے لیے، اس میں غیرمسلموں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی جو سنہ 1912 تک نافذ العمل رہی۔اس کے بعد بھی یہاں غیرمسلموں کو رات گزارنے کی اجازت نہیں تھی تاہم سنہ 2005 میں مراکش کے بادشاہ حمد ششم کے حکم پر غیر مسلموں کو یہاں رات گزارنے کی اجازت دی گئی۔ اس اجازت کا مقصد مغربی تہذیبوں اور مراکش کے درمیان فاصلے کم کرنا اور مولای ادریس کو دنیا کے سامنے متعارف کروانا  ضروری سمجھا گیا تھا۔


تاہم اس کے باوجود اس قصبے کے کچھ سب سے مقدس مقامات آج بھی صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص ہیں، جیسے ادریس اول کا مزار اور اُن سے منسلک مسجد۔ قصبے کے مرکزی چوک سے ایک محرابی راستے کے ذریعے آپ چمکدار سفید فرش پر چلتے ہوئے مسجد اور مزار کے اندر جاتے ہیں، یہاں وہ مقام ہے جہاں سے آگے غیرمسلموں کا داخلہ ممنوع ہے اور اس کے آگے صرف مسلمان ہی جا سکتے ہیں۔اذان کی آواز-مقامی گیسٹ ہاؤس میں میرے میزبانوں میں سے ایک صاحبہ ضاحک مجھے کئی پُرپیچ راستوں سے گزارتے ہوئے مسجد کے سامنے ایک عام نظروں سے اوجھل مقام پر لے گئیں۔ یہاں اذان کی آواز تنگ گلیوں میں گونج رہی تھی۔ محراب دار کھڑکیوں سے ہم نے چند نمازیوں کو مسجد کی طرف جاتے ہوئے دیکھا۔جب ہم سبز و سفید پتھروں سے بنی ایک راہداری سے مسجد کو دیکھ رہے تھے تو انھوں نے کہا کہ ’رمضان میں یہ راہداریاں نمازیوں سے بھری ہوتی ہیں۔ اور ماہ اگست میں، مولای ادریس کی تعظیم میں ایک تہوار منایا جاتا ہے جس میں پورے مراکش سے مسلمان شریک ہوتے ہیں۔ اس تہوار کے دوران لوگ زمین پر سوتے ہیں، اور موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔


اتوار، 10 اگست، 2025

راک فیلر-جو مرتے مرتے بھی جی گیا حصہ دوم

 


''  اب وہ مصمم ارادہ کر چکا تھا کہ وہ اب اپنی زندگی اور اپنی دولت  فلاحی کاموں میں خرچ کرے گا ۔اس نے ''راک فلر فاؤنڈیشن'' کی بنیاد رکھی کیونکہ  فیلر جا  ن چکا تھا کہ دنیا میں بے شمار اچھے کام ہیں جن کو انجام دینے سے  دلی سکون اور راحت حاصل کی جا سکتی  ہے اس نے سوچا صرف تریپن برس کی عمر میں اس کے پاس صرف وہ دولت  ہے جو اس کی زندگی نہیں خرید سکتی ہے  اس کی صحت اور زہنی سکون نہیں خرید سکتی ہے ،اس نے بار بار سوچا اور  اس نتیجے پر پہنچا کہ انسان کی زندگی اور اس کی تمام حرکات سکنات کا ملک ایک اس زات سے  ہے جس کے پاس اختیارات کی کنجی ہے پھر اس نے    ان فلاحی تنظیموں کے بارے میں  سوچا ، جنہیں باشعور اور دانشمند اور انسانیت  کے لئے درد رکھنے والے انسان چلا رہے ہیں، یہ لوگ  مختلف علوم و فنون میں تحقیقات کرتے ہیں، کالج  اور دوسرے ادارے قائم کرتے  جاتے ہیں۔ کسی بیماری کا تدارک کرنے کے لیے ڈاکٹرز جدوجہد کرتے ہیں۔ لیکن اکثر اوقات یہ اعلیٰ پائے کا کام محض روپے کی کمی کی وجہ سے ادھورا اور نامکمل رہ جاتا ہے۔ اس نے انسانیت کے ان  مسیحا ؤں  کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔  انہیں مالی مدد دینے کا تاکہ وہ اپنی مدد آپ کرسکیں۔



جب ڈاکٹروں نے راک فیلر کی زندگی بچانے کی ذمہ داری قبول کی، تو انہوں نے اسے تین اصول بتائے، جن پر وہ آخری دم تک حرف بہ حرف عمل کرتا رہا اور وہ اصول مندرجہ ذیل ہیں۔- فکر و تردد سے گریز کریں۔ کسی حالت میں بھی کسی چیز کے متعلق پریشان نہ ہوں۔ اپنے جسم کو آرام پہنچائیے اور کھلی ہوا میں کافی دیر تک ہلکی ورزش کریں۔ اپنی خوراک کا خاص خیال رکھیں۔ جب ابھی تھوڑی سی بھوک باقی ہو، کھانے سے ہاتھ کھینچ لیں۔جان ڈی راک فیلر ان اصولوں پر عمل کرنے لگا اور غالباً انہی نے اس کی جان بچائی، وہ کام سے سبکدوش ہوگیا۔ اس نے گولف کھیلنا سیکھا۔ وہ باغبانی میں دلچسپی لینے لگا اور اپنے پڑوسیوں سے ہنسی مذاق کرنے لگا۔ وہ مختلف قسم کے کھیل کھیلنے اور گیت گنگنانے لگا۔ 


لیکن اس نے اس کے علاوہ بھی کچھ کیا اذیت کے ایام اور بے خوابی کی راتوں کے دوران میں جان کو سوچنے کا موقع ملا۔ وہ دوسرے لوگوں کے متعلق سوچنے لگا۔ اس نے فوراً سوچنا چھوڑ دیا کہ وہ کس قدر روپیہ کما سکتا ہے، اس کے بجائے وہ سوچنے لگا کہ وہ روپے کے عوض کس طرح انسانی مسرت خرید سکتا ہے۔''اس نے ''راک فلر فاؤنڈیشن'' کی بنیاد رکھی۔ ۔ آج آپ اور میں راک فیلر کے شکر گزار ہیں کہ اس نے پنسلین اور درجنوں معجزاتی دریافتوں سے دنیا کو مستفید ہونے کے مواقع بہم پہنچائے۔ اس کی دولت نے انہیں معرض وجود میں لانے اور پھلنے پھولنے میں مدد دی۔اور پھر راک فیلر کا کیا بنا؟ جب وہ اپنی دولت تقسیم کرنے لگا تو کیا اسے ذہنی سکون مل گیا؟ ہاں آخر کار وہ بالکل مطمئن ہوگیا۔ ایلن نیونز کا کہنا ہے،''اگر 1900ء کے بعد بھی لوگ سمجھیں کہ وہ سٹینڈرڈ آئل کمپنی کی مخالفت کے متعلق سوچ رہا تھا تو وہ سخت غلطی پر ہیں۔



'' راک فیلر خوش تھا، اس میں مکمل تبدیلی آچکی تھی۔ وہ اب بالکل پریشان نہیں ہوتا تھا۔ حتیٰ کہ جب اسے اپنی زندگی کے سب سے بڑے نقصان کو قبول کرنے پر مجبور ہونا پڑا تو یہ حقیقت ہے کہ اس نے ایک رات کی نیند بھی گنوانے سے انکار کردیا۔ اس کا اسے اس وقت سامنے کرنا پڑا جب اس کی قائم کردہ عظیم الشان کارپوریشن، سٹینڈرڈ آئل کو،''تاریخ کا سب سے بڑا جرمانہ'' ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ حکومت امریکا کے دعوے کے مطابق سٹینڈرڈ آئل ایک اجارہ دار کمپنی تھی، جو انٹی ٹرسٹ قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتی تھی۔ یہ عدالتی جنگ پانچ سال تک جاری رہی۔ ملک کے بہترین قانونی دماغوں نے اس مقدمے میں حصہ لیا، جسے اس وقت تاریخ کا سب سے بڑا عدالتی مقدمہ کہا جاتا تھا۔ لیکن سٹینڈرڈ آئل کو شکست ہوئی جب جسٹس کینے ٹاؤماؤنٹین لینڈس نے اپنے فیصلے کا اعلان کیا، راک فیلر کے وکیلوں کو اندیشہ ہوا کہ وہ اسے برداشت نہیں کرسکے گا۔


 لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ راک فیلر میں کتنی بڑی تبدیلی آچکی ہے۔ اس شام کو ایک وکیل نے اسے فون کیا اور جس قدر ممکن تھا، نرم ترین لہجے میں اس کے ساتھ اس موضوع پر بات چیت کی اور پھر متفکر ہوکر کہا۔''مجھے امید ہے کہ آپ کو یہ فیصلہ بے چین نہیں کرے گا، مسٹر راک فیلر، مجھے امید ہے کہ آپ رات کو اچھی طرح سو سکیں گے۔'' اس نے فوراً سے ٹیلی فون پر جواب دیا۔''مسٹر جانسن فکر نہ کیجئے۔ میں رات کو سونا چاہتا ہوں اور آپ کو بھی پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اچھا شب بخیر۔''یہ اس شخص کے الفاظ ہیں جو ایک دفعہ محض اس لیے بیمار ہوگیا تھا کہ اسے ڈیڑھ سو ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ ہاں جان راک فیلر کو اپنے تفکرات، اپنی پریشانیوں اور اپنی الجھنوں پر غالب آنے میں کافی وقت لگا۔ وہ 53 سال کی عمر میں موت کی آغوش میں جارہا تھا لیکن وہ 97سال تک زندہ رہا۔یہ نئی سمت بالآخر پینسلین کی دریافت کا باعث بنی، ملیریا، تپ دق اور خناق کا علاج۔ اپنی موت سے پہلے، اس نے اپنی ڈائری میں  لکھا، *"سپریم انرجی نے مجھے سکھایا، کہ سب کچھ اس کا ہے، اور میں اس کی خواہشات کی تعمیل کرنے کے لیے صرف ایک چینل ہوں۔میری زندگی ایک طویل، خوشگوار چھٹی رہی؛  کام اور کھیل سے بھرپور۔میں نے پریشانی کو راستے میں چھوڑ دیا اب میں تھا اور میرا خدا تھا_میرے لیے ہر دن اچھا تھا۔ 

راک فیلر-جو مرتے مرتے بھی جی گیا حصہ اول





  جان ڈی راک فیلر سینئر 33 سال کی عمر میں لکھ پتی بن چکا تھا اور 43 سال کی عمر میں اس نے دنیا میں تیل کی سب سے بڑی کمپنی، سٹینڈرڈ آئل کمپنی، قائم کرلی تھی۔لیکن 53 ویں سال وہ کہاں تھا؟ 53 سال کی عمر میں پریشانیاں اس پر غالب آچکی تھیں۔ تفکرات اور اعصاب زدگی کی زندگی اس کی صحت کا پہلے ہی دیوالیہ نکال چکی تھی۔ اس کے ایک سوانح نگار جان کے ونکر کے الفاظ میں،''53 سال کی عمر میں وہ ایک حنوظ شدہ نعش کی مانند نظر آتا تھا۔'' 53 سال کی عمر میں ہاضمے اور معدے کی عجیب و غریب اور پراسرار بیماریوں نے راک فیلر پر حملہ کیا اور پلکوں سمیت اس کے سارے بال گرادیئے۔ صرف اس کی بھنوؤں کی ہلکی سی لکیر باقی رہ گئی۔ ونکر لکھتا ہے،''اس کی حالت اس قدر خطرناک ہوچکی تھی کہ وہ صرف دودھ پر گزارہ کرنے پر مجبور ہوگیا۔''عالم شباب میں راک فیلر کی جسمانی بناوٹ آہنی تھی۔


 اس نے ایک زراعتی فارم پر پرورش پائی تھی اور اس زمانے میں اس کے بازو تنومند، اس کی کاٹھی مضبوط اور سیدھی، اس کی ٹانگیں لکڑی کی طرح سخت اور چال میں چستی چالاکی اور بندر کی سی پھرتی تھی۔ لیکن صرف53 سال کی عمر میں، جب اکثر لوگ بھرپور صحت مند زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، اس کے کندھے خمیدہ ہوگئے اور اس کی چال میں لڑکھڑاہٹ پیدا ہوگئی۔ حالت اس قدر خطرناک ہوچکی تھی کہ وہ صرف دودھ پر گزارہ کرنے پر مجبور ہوگیاراک فیلر 53 سال کی عمر میں موت کے قریب پہنچ کر بھی وہ 97 برس کیسے زندہ رہا؟ اس کا ایک دوسرا سوانح نگار جان۔ ٹی۔ فلین کہتا ہے،''جب اس نے آئینے میں اپنی صورت دیکھی تو اسے ایک بوڑھا آدمی نظر آیا۔ مسلسل کام، پیہم پریشانیاں، بے خواب راتیں، گالیوں کی بوچھاڑ، ورزش اور آرام کی عدم موجودگی اپنا رنگ دکھانے لگے۔'' انہوں نے اس کے جسم کا رس نکال لیا اور اسے گھٹنوں پر جھکا دیا۔



 وہ اب دنیا کا امیر ترین شخص تھا۔ پھر بھی اسے ایسی خوراک پر گزر بسر کرنی پڑتی جسے ایک بھکاری بھی ٹھکرا دے۔ اس کی ہفتہ وار آمدنی 10 لاکھ ڈالر تھی۔ لیکن جو کچھ وہ کھاتا تھا، اس پر ایک ہفتے میں غالباً دو ڈالر سے زیادہ خرچ نہیں آتا تھا اور وہ کھاتا کیا تھا؟ دودھ اور چند بسکٹ۔ ڈاکٹروں نے اسے صرف یہی کھانے کی اجازت دی تھی۔ اس کی جلد کا رنگ اڑ چکا تھا۔ اسے سوائے معجزاتی علاج کے دنیا کی ایسی کوئی چیز نہ بچا سکتی تھی، جسے پیسوں سے خریدا جا سکتا ہو۔یہ سب کیسے ہوا؟ پریشانیاں، تفکرات، صدمات، دباؤ اور کشمکش کی زندگی اور اعصابی تناؤ اس چیز کے ذمہ دار تھے۔ سچ پوچھیے تو وہ موت کی آغوش میں پہنچ چکا تھا۔ 23 سال کی عمر میں بھی راک فیلر اتنے آہنی عزم کے ساتھ اپنے نصب العین کے پیچھے لگا ہوا تھا کہ اس کے جاننے والوں کے الفاظ میں ''اچھے سودے کی خبر کے سوا کوئی چیز اس کے چہرے کو گداز نہ کرسکتی۔'' جب اسے کہیں سے معقول منافع ہوتا تو وہ ایک عجیب و غریب قسم کا جنگی رقص کرتا۔


 اپنی ٹوپی اتار کر فرش پر پھینک دیتا اور ناچنے لگتا۔ لیکن اگر اسے خسارہ ہوتا تو وہ بیمار پڑجاتا۔ اس نے ایک دفعہ گریٹ لیکس کے راستے 40 ہزار ڈالر کا اناج ایک دخانی جہاز پر باہر بھیجا۔ اس کا بیمہ نہیں کرایا گیا تھا کیونکہ رقم ''بہت زیادہ'' تھی۔ کتنی؟ ایک سو پچاس ڈالر۔ اس رات جھیل ایری میں خوفناک طوفان آیا۔ راک فیلر جہاز کے تباہ ہونے کے متعلق اس قدر متردد اور پریشان تھا کہ جب اس کا شریک کار جاج گارڈنر صبح کے وقت دفتر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ راک فیلر نہایت بے قراری سے فرش پر ٹہل رہا ہے۔جلدی کرو،'' اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا،''اگر دیر نہ ہوگئی ہو تو جلد از جلد جہاز کا بیمہ کرا لو- گارڈنر شہر کی طرف بھاگا اور بیمہ کرا آیا۔ لیکن وہ واپس دفتر پہنچا تو اس نے راک فیلر کو پہلے سے بھی بدترین حالت میں دیکھا۔ گارڈنر کی عدم موجودگی میں ایک تار آیا تھا کہ جہاز لنگر انداز ہوچکا ہے اور طوفان سے بالکل صحیح سلامت نکل آیا ہے۔


اس کی حالت بہت خراب ہوچکی تھی کیونکہ اس نے ڈیڑھ سو ڈالر خوامخواہ ضائع کردیئے تھے۔ اسے اس ''نقصان عظیم'' کا اس قدر صدمہ پہنچا کہ وہ شدید بخار میں مبتلا ہوگیا اور اسے گھر جاکر آرام کرنا پڑا۔جب ڈاکٹروں نے راک فیلر کی زندگی بچانے کی ذمہ داری قبول کی، تو انہوں نے اسے تین اصول بتائے، جن پر وہ آخری دم تک حرف بہ حرف عمل کرتا رہا اور وہ اصول مندرجہ ذیل ہیں1 فکر و تردد سے گریز کریں۔ کسی حالت میں بھی کسی چیز کے متعلق پریشان نہ ہوں۔-2 اپنے جسم کو آرام پہنچائیے اور کھلی ہوا میں کافی دیر تک ہلکی ورزش کریں۔-3 اپنی خوراک کا خاص خیال رکھیں۔ جب ابھی تھوڑی سی بھوک باقی ہو، کھانے سے ہاتھ کھینچ لیں۔جان ڈی راک فیلر ان اصولوں پر عمل کرنے لگا اور غالباً انہی نے اس کی جان بچائی، وہ کام سے سبکدوش ہوگیا۔ اس نے گولف کھیلنا سیکھا۔ وہ باغبانی میں دلچسپی لینے لگا اور اپنے پڑوسیوں سے ہنسی مذاق کرنے لگا۔ وہ مختلف قسم کے کھیل کھیلنے اور گیت گنگنانے لگا۔ لیکن اس نے اس کے علاوہ بھی کچھ کیا۔ ونکلر لکھتا ہے،''اذیت کے ایام اور بے خوابی کی راتوں کے دوران میں جان کو سوچنے کا موقع ملا۔ وہ دوسرے لوگوں کے متعلق سوچنے لگا۔ اس نے فوراً سوچنا چھوڑ دیا کہ وہ کس قدر روپیہ کما سکتا ہے، اس کے بجائے وہ سوچنے لگا کہ وہ روپے کے عوض کس طرح انسانی مسرت خرید سکتا ہے۔

 

لال سوہانرا نیشنل پارک، صوبہ پنجاب ضلع بہاولپور

 




  کیا  نہیں ہے میرے وطن میں شور مچاتے دریا   گنگناتے آبشار فلک بوس پہاڑ'گھنے جنگل  طویل ساحل بس اگر کمی ہے تو ایمان دار لوگوں کی جو اس وطن کوسنوار دیں -چلئے اس موضوع کو پھر کبھی دیکھیں گے ابھی تو میں بھاولپور کے ضلع میں واقع ایک خوبصور ت پارک  کی بابت بتانا چاہوں گی اس پار ک کا نام ہے  لال سوہانرا نیشنل پارک،یہ صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولپور میں32کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔اس کا رقبہ ایک لاکھ24ہزار480ہیکٹرز پر مشتمل ہے۔ بتایا جاتا ہے کیونکہ اس میں مقامی آبادی بھی ہے ،صحرائی اور میدانی علاقے بھی ہیں اور گھنے جنگل اور بنجر علاقے بھی۔نہریں بھی ہیں اور بے آباد  ویرانے بھی۔بتایاجاتا ہے کہ لال سوہانرا نیشنل پارک کو کالے ہرن کے تحفظ کے لئے قائم کیا گیا تھا جو اس علاقے سے نا پید ہوچکے تھے۔ ورلڈ وائلڈ فنڈ فارنیچر کی اپیل کے جواب میں امریکہ سے جنگلی حیات کے حامیوں نے دس کالے ہرنوں کو ان کے اصل مسکن چولستان کے صحرائی علاقے میں بھیجا     



:سفاری پارک:یہ حقیقت بھی دلچسپی کا باعث ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکی فضائیہ کا ایک افسر بہاولپور سے سیاہ ہرنوں کا تحفہ امریکہ لے گیا تھا اور اب وہاں ان کی تعداد 50ہزار سے زائد ہوچکی ہے جبکہ پاکستان میں اندھا دھند شکار کے باعث اس کی نسل ختم ہو گئی ہے۔ دراصل امریکہ سے کالے ہرنوں کا تحفہ امریکی فضائیہ کے افسر کو دئیے گئے تحفے کی واپسی تھی۔ ورلڈ وائلڈ فنڈ کی ایک اور اپیل کے جواب میں ہالینڈ کے بچوں نے اپنا جیب خرچ چندے میں دے کر12فٹ بلند اور70کلومیٹر طویل تار کی جالیاں تحفے میں دیں تاکہ کالے ہرن کی قیمتی اور نایاب نسل کی مزید افزائش کے لئے لال سوہانرا نیشنل پارک میں حفاظتی جنگلے بنائے جاسکیں۔ چنانچہ اس عطیے سے 18 کلو میٹر، 9کلومیٹر اور 8 کلو میٹر کے رقبے کے چار بڑے انکلوژر بنائے گئے۔ ان محفوظ باڑوں میں کالے ہرن کی تعداد اپریل1996 ء میں325 کے لگ بھگ تھی۔سیاہ ہرن کی افزائش نسل گھنے جنگل میں ممکن نہ تھی اس طرح شکاری ان کو ہر گز نہ چھوڑتے۔ حالانکہ انکلوژر میں بھی وہ شکاریوں کے دست برد سے محفوظ نہیں ہیں



حکومت پنجاب نے منصوبہ بنایاہے کہ یہاں معیاری قسم کا سفاری پارک قائم کیاجائے یہاں شیروں کے لیے قدرتی ماحول بنایاجائے گا تاکہ سیاح شیروں کو ان کے اصلی مسکن میں قریب سے دیکھ سکیں اس کے علاوہ نیپال سے لائے گئے گینڈوں کے لیے نسل میں اضافہ کے لیے ایک مرکز بھی ہے جو پاکستان میں معدوم ہے تقریباََ400 سے زائد جنگلی جانوروں اور پرندوں کی نسل افزائش کے لیے کام کیاجا رہاہے مثلاََ کالا ہرن، جو پاکستان میں خطرناک حد تک کم ہو رہاہے۔ یہ پارک آبی حیا ت سے مالا مال ہے  -ان میں سے کچھ کا تعارف اس طرح ہےیہ پارک جنگلی حیات (جنگلی پرندوں اور جنگلی جانوروں) سے بھر پور ہے۔ جنگلی بلی،خرگوش،تلور،ہرن، چھپکلیاں، سانپ، کوبرا، عقاب،شاہین،گدھیں،روسی عقاب،چڑیاں،الو یہاں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں،اس کے علاوہ تالابوں اور جھیلوں میں پانی کےجانور(مچھلیاں،کچھوے) بھی پائے جاتے ہیں یہاں تقریباََ 10 ہزار سے 30 ہزار تک آبی پرندوں کی آمدورفت جاری رہتی ہے

 


لیکن اس طرح پھر بھی ان کی حفاظت اور دیکھ بھال نسبتاً آسان ہو گئی ہے۔ سیاہ ہرن کو ان وسیع و عریض انکلوژرز میں چنکاراGazellاور نیل گائے کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ اس پارک میں جنگلی حیات کی اقسام میں کالے ہرن کے علاوہ ہرن کے سہیہ، بھیڑیا، لومڑی، صحرائی لومڑی، گورپٹ، مشک بلاؤ،سرمئی نیولا،قراقال،بلی،صحرائی بلی،کلغی والاخارپشت، بڑے خرگوش، کالا تیتر، بھورا تیتر، کونک، بڑااُلو،چتی دار چھوٹا الو، کچھوے،چتی سانپ، سنگھاڑاور کھگا مچھلی شامل ہیں۔لال سوہانرا نیشنل پارک میں داخل ہوں تو ایک پختہ سڑک دور تک بل کھاتی جاتی ہے۔ تھوڑے فاصلے پر بہاول نہر ایک پیڈ ریگولیٹر کی مدد سے کئی شاخوں میں تقسیم ہوتی ہے جس کے بائیں جانب چلڈرن پارک ہے جہاں جھولوں اور سبزہ زار کے علاوہ مختلف حیوانوں کے جنگلے ہیں جن میںہندوستان نسل کے گینڈے، چنکارا، مختلف پرندے اور بندروغیرہ رکھے گئے ہیں۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر