بدھ، 13 اگست، 2025

اربعین حسینی -فکر حسینی کا ارتقاء

 

 
  آج بھی کربلا سے شام تک قدم قدم پہ حسینی کارواں سے بچھڑے ہوئے بچوں اور بچیوں کے مزار موجود ہیں جو زائرین کو سرائے کربلا کی ان یادگاروں کی یاد دلاتے ہیں‌۔ مظلوموں کا  یہ قافلہ کوفہ میں‌وارد ہوا تو انہیں ابن زیاد کے دربار میں‌لا یاگیا۔ ابن زیاد  ملعون کو بھرے دربار میں ذلیل و رسوا کرنے کے بعد اسیروں کا  یہ قافلہ  دمشق کی  جانب  روانہ  کیا گیا  تا کہ دربار یزید میں بھی حاضر کر کے انعام و اکرام جلد سے جلد وصول کیا جا سکے۔نوک نیزہ پر امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک نے سورہء کہف کی تلاوت کرنا شروع کر دی۔شام کے بازاروں اور درباروں میں‌جگہ جگہ جناب زینب سلام اللہ علیہا،، جناب ام کلثوم، جناب فاطمہ کبریٰ اور امام وقت سید سجاد علیہ السلام کے حق آفریں خطبوں اور تقریروں نے ، یزیدی کبر و نخوت میں چور مسرتوں کے شادیانوں کو، ذلت و رسوائی کی بانسریوں میں‌تبدیل کر دیا تھا۔


اور پھر شام کے خرابے میں حسین علیہ السلام کی چار سالہ بچی کی شہادت نے شام کی پوری فضا کو سوگوار بنا دیا۔۔اور یزید نے اپنے ظلم و ستم پر پردہ ڈالنے کے لئے اہل حرم کی رہائی کے حکم کے ساتھ ہی جناب زینب سلام اللہ علیہا کے کہنے  پر شام میں نواسئہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ کے مقدس خانوادے کی   شہادت  کی مجلس برپا کرنے کی اجازت دے دی۔اور پھرتین دنوں تک دمشق میں نوحہ و ماتم کے بعد اہل حرم شام سے کربلا کی طرف واپس ہوئے۔کربلا کے دشت نے جو روز اول سے ہی حسین علیہ السلام اور ان کے جاں نثاروں کے خون کا امین تھا زینب سلام اللہ علیہا اور سید سجاد علیہ السلام کے استقبال کے لیئے اپنی آغوش وا کر دی وہ حسین علیہ السلام کا چہلم کا دن تھا۔روایت کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک محترم صحابی رضی اللہ عنہ جناب جابر ابن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ اپنے ایک رفیق عطیہ عوفی کے ساتھ نواسئہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیئے وہاں پہلے سے موجود تھے۔

عطیہ عوفی کا بیان ہے کہ قبر حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیئے جب ہم کربلا پہنچے تو قریب سے ہی بہنے والی فرات کے تیز و تند دھاروں کی آواز نے صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جو اب نابینا ہو چکے تھے غم و اندوہ سے تڑپا دیا اور وہ اس خیال سے آنسو بہانے لگے کہ آہ اسی دریائے فرات کے کنارے خاندان رسول کو تشنہ لب شہید کر دیا گیا۔جابر فرات کے کنارے بیٹھے دیر تک آنسو بہاتے رہے پھر اٹھے اور غسل کیا اور کسی محرم کی مانند قبر حسین علیہ السلام کی طرف قدم بڑھائے اور تسبیح و تہلیل کے ساتھ آگے بڑھتے رہے میں ان کی انگلی پکڑے ہوئے تھا جیسے ہی قبر امام علیہ السلام پر پہنچے خود کو قبر پر گرا دیا اور روتے روتے بیہوش ہو گئے میں‌نے پانی کا چھینٹا دیا تو آنکھ کھولی اور فرمایا حسین علیہ السلام یاحسین علیہ السلام یاحسین علیہ السلام اور جب کوئی جواب نہ ملا تو کہا: کیا دوست اپنے دوست کا  جواب نہیں‌دے گا اور پھر خود ہی کہا: ہاں آپ کیسے جواب دیں‌گے آپ کی گردن آپ کے  خون  سے رنگین ہے اور سر تن  سے جدا ہے۔

میں‌گواہی دیتا ہوں آپ فخر انبیاء علیہ السلام کے فرزند امام المتقین علیہ السلام کے دلبند اور سید النسا حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے پارہء دل ہیں آپ نے پاکیزہ زندگی گزاری اور خدا کی پسندیدہ موت قبول کی۔اس میں‌کوئی شک نہیں‌کہ آپ زندہ ہیں آپ زندہ ہیں۔آپ پر خدا کا درودوسلام ہو۔میں‌گواہی دیتا ہوں کہ آپ کی شہادت کی داستان بھی حضرت یحییٰ علیہ السلام ابن زکریا علیہ السلام کی شہادت کی مانند ہے۔اس کے بعد جناب جابر ابن عبداللہ انصاری نے قبر امام علیہ السلام کے گرد و نواح کا رخ کیا اور فرمایا: درودوسلام ہو تم پر اے پاک و پاکیزہ روحو! کہ تم نے امام حسین علیہ السلام کے گرد جگہ پائی  -آج اربعين حسيني کي مناسبت سے تمام انسانيت کو اور خاندان عصمت و طہارت کے محبين کي خدمت ميں تعزيت پيش کرتے ہيں،اور بی بی زینب  سلام اللہ علیہا کو ان کے بھائی کا بھرے گھر کا پرسہ دیتے ہیں.

 ہر سال امام حسین علیہ السلام کے چہلم میں شرکت کے لئے، شام اور کربلائے معلی جانے والے زائرین بیشمار ھوتےہیں. اگر ہم لوگ اربعین  کے دن حضرت امام حسین  علیہ السلام کے حرم کي زيارت نہيں کر سکتے تو آپ کی زيارت پڑھ کر، آپ کي زيارت کر سکتے ہيں. امام کے ایک صحابی جابر بن وبد اللہ انصاری کہتے ہیں اشہد انک تسمع کلامي و ترد سلامي و تري مقامي» آپ فرماتے ہيں کہ : اے امام! ميں اس چيز کي گواہي ديتا ہوں کہ آپ ميري بات کو سن رہے ہيں اور ميرے سلام کا جواب ضرور ديتے ہيں اور مجھے ديکھ رہے ہیں!ماہ صفر کی بیسویں تاریخ کو  یہ زیارت پڑھی جاتی  ہے. اس کا طریقہ یوں ہے  کہ زیر  آسمان  حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہ مقدس کی طرف اشارہ کرکے کہو:
بسم اللہ الرحمن الرحيم
السلام علیک یا ابا عبد اﷲ
(سلام ھو آپ پے اے ابا عبداللہ)
اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ رَسُولِ اللہِ
(سلام ھو آپ پے اے رسول اللہ کے فرزند)
اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ اَميرِ الْمُؤْمِنينَ وَابْنَ سَيِّدِ الْوَصِيّينَ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ فاطِمَہ سَيِّدَہ نِساءِ الْعالَمينَ،
اَلسَّلامُ عَلَى الْحُسَيْنِ
وَعَلى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ
وَعَلى اَوْلادِ الْحُسَيْنِ
وَعَلى اَصْحابِ الْحُسَيْنِ،
اَللّـہمَّ الْعَنْ اَوَّلَ ظالِم ظَلَمَ حَقَّ مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد
اَللّـہُمَّ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدَ الشّاكِرينَ
اَللّـہہمَّ ارْزُقْني شَفاعَتَ الْحُسَيْنِ يَوْمَ الْوُرُودِ
السلام علیک و رحمت اﷲ و برکاتہ
 اَللّـہہمَّ ارْزُقْني شَفاعَتَ الْحُسَيْنِ يَوْمَ الْوُرُودِ
السلام علیک و رحمت اﷲ و برکاتہ
یا خدا ھم امام حسین علیہ السلام کے مقدس خون کا واسطہ دے کر تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ ائمہ، اھل بیت علیہم السلام کے بارے میں ہماری معرفت اور آگاہی میں اضافہ فرما اور ہمارے دلوں کو نور  ولایت سے  منور فرما اور ہماری نسل اور اولاد میں سے کسی کو دشمن اہل بیت علیہم السلام قرار نہ دے۔ امین

1 تبصرہ:

  1. ہم عزادار امام علیہ السلا م بی بی سیدہ کو اربعین کی مناسبت سےان کی آل اطہار کی شہادت کا پرسہ پیش کرتے ہیں

    جواب دیںحذف کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر