ہفتہ، 4 اپریل، 2026

ایران کی ایک عالی دما غ مقناطیسی شخصیت 'علی ارد شیرلاریجانی

 

علی اردشیر لاریجانی (3 جون 1958– 17 مارچ 2026ء)، ایران کے ایک قدامت پسند سیاست دان، فلسفی اور سابق فوجی افسر تھے۔وہ قُم کے حلقہ انتخاب سے منتخب ہوئے اور 12 جون 2008 سے مجلس شورائ اسلامی ایران کے سپیکر رہے تھے۔مارچ 2016 میں مجلس شورائی اسلامی ایران کے دسویں دور کے انتخابات میں قُم سے دوسری بار منتخب ہوئے۔ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نشریاتی ادارے کے سربراہ، وزیر ثقافت و اسلامی راہنمائی اور سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔علی لاریجانی: ’فلسفی‘ سے ایران کی طاقتور ترین شخصیت تکلاریجانی ایک ہی وقت میں دانشور، سخت گیر قانون ساز اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر تھے۔ ان کے قتل کے بعد ایران کی جنگی حکمت عملی کیا رخ اختیار کرے گی؟ایران کے طاقتور ترین خاندانوں میں سے ایک سے تعلق رکھنے والے علی لاریجانی ایرانی سیاست کا ایک ایسا نام تھے جو گذشتہ تین دہائیوں سے طاقت کے ایوانوں میں مسلسل موجود رہے-علی لاریجانی کی طاقت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جنوری 2026 میں منتخب صدر مسعود پزشکیان نے کابینہ اجلاس میں تسلیم کیا تھا کہ انٹرنیٹ پابندیاں ہٹوانے کے لیے انہیں لاریجانی سے اپیل کرنی پڑتی ہے۔ان کا پورا نام علی اردشیر لاریجانی تھا اور وہ ہر فن مولا شخص تھے۔ انہوں نے مشہور جرمن فلسفی امانوئل کانٹ پر کتاب لکھی، اس کے ساتھ ہی انہوں نے پاسداران انقلاب میں اہم عہدوں پر کام کیا۔ وہ پارلیمان کی سپیکر شپ سے لے کر جوہری مذاکرات تک ہر محاذ پر موجود رہے


۔وہ اسرائیلی حملے میں قتل ہونے سے قبل سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری کی حیثیت سے ایرانی کی سب سے طاقتور شخصیات میں سے ایک تھے۔ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ منتخب صدر مسعود پزشکیان کی بجائے عملی طور پر ایران کی روزمرہ حکومت چلا رہے تھے۔تین جون 1958 کو پیدا ہونے والے علی لاریجانی کا تعلق ایران کی مذہبی اور سیاسی اشرافیہ سے ہے۔ والد آیت اللہ میرزا ہاشم آملی ایک معروف عالم دین تھے جو 1931 میں رضا شاہ کے دباؤ کی وجہ سے نجف چلے گئے تھے، لیکن 1961 میں ایران واپس آئےلاریجانی خاندان ایران میں طاقت کا مترادف ہے۔ ان کے بھائی صادق لاریجانی عدلیہ کے سابق سربراہ رہے۔ دوسرے بھائی محمد جواد اور باقر لاریجانی نے بھی اعلیٰ مذہبی اور تعلیمی عہدے سنبھالے۔ لاریجانی خود آیت اللہ مرتضیٰ مطہری کے داماد تھے، جب کہ مطہری ایران کے 1979 کے انقلاب کے نظریاتی بانیوں میں سے ایک تھے۔ایران کی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کی موت کی تصدیقکی-ایران میں اس وقت انچارج کون ہے، نیا سپریم لیڈر کون ہوسکتا ہے؟۔انہی خاندانی روابط کی بنا پر لاریجانی نے ایرانی معاشرے کے دو طاقتور ترین مراکز میں اہمیت حاصل کی، ایک طرف وہ علما کے قریب تھے جب کہ دوسری جانب پاسداران سے بھی ان کے گہرے تعلقات تھے، جب کہ بیوروکریسی میں ان کے حامی موجود تھے۔فلسفی سپاہی-لاریجانی کی شخصیت کا سب سے دلچسپ پہلو ان کا تعلیمی سفر ہے۔ انہوں نے قم کے مدرسے سے روایتی مذہبی تعلیم حاصل کی، لیکن ساتھ ہی آریامہر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے کمپیوٹر سائنس اور ریاضی میں بیچلرز کی ڈگری لی۔اس کے بعد انہوں نے تہران یونیورسٹی سے مغربی فلسفے میں پی ایچ ڈی کی۔


 ان کی تحقیق کا موضوع امانوئل کانٹ، ساؤل کرپکے، اور ڈیوڈ لیوس تھے۔ لاریجانی نے ان فلسفیوں پر کتابیں لکھیں، اور تہران یونیورسٹی میں ادب اور انسانیت کے شعبے میں تدریس بھی کی۔ یہ وہ دور تھا جب وہ بیک وقت ایک اکیڈمک اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر تھے۔سیاسی سفر-لاریجانی کا سیاسی سفر انقلاب کے فوراً بعد شروع ہوا۔ پہلے محنت و سماجی امور کے نائب وزیر، پھر انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے نائب وزیر مقرر ہوئے۔ 1994 میں انہیں اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ کا سربراہ بنایا گیا۔ ایک ایسا عہدہ جو ایران میں انتہائی طاقتور سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ عوامی رائے کو تشکیل دیتا ہے۔اس عہدے پر دس سال تک 2004 تک لاریجانی نے ایران کی میڈیا پالیسی کو کنٹرول کیا۔2004  میں لاریجانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سکیورٹی مشیر بنے، کہا جاتا ہے کہ انہیں خامنہ ای کا مکمل اعتماد حاصل تھا۔2005  میں صدر احمدی نژاد نے انہیں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا اور لاریجانی نے مغرب کے ساتھ جوہری مذاکرات کی سربراہی سنبھالی۔


 یہ وہ دور تھا جب ایران کے جوہری پروگرام پر دنیا کی نظریں تھیں اور لاریجانی نے تکنیکی علم اور سفارتی مہارت دونوں کا مظاہرہ کیا۔لیکن احمدی نژاد کے ساتھ پالیسی اختلافات کی بنا پر 2007 میں لاریجانی نے استعفیٰ دے دیا۔2008 میں لاریجانی ایران کی پارلیمنٹ (مجلس) کے سپیکر منتخب ہوئے اور مسلسل 12 سال اس عہدے پر رہے۔ اس دوران انہوں نے مختلف دھڑوں میں توازن برقرار رکھا، اور خود کو ایک تجربہ کار قانون ساز کے طور پر ثابت کیا۔اس دوران لاریجانی کو ’قدامت پسند سے اعتدال پسند‘ کی طرف بڑھنے والے سیاست دان کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ 2016 کے پارلیمانی انتخابات میں اصلاح پسندوں کی تحریک نے انہیں سپورٹ کیا، حالانکہ وہ خود کو ’آزاد امیدوار‘ کہتے رہے۔میں اسرائیلی حملے میں مارے جانے والے ایران کے چیف سکیورٹی افسر علی لاریجانی اور بسیج فورس کے کمانڈر غلام سلیمانی کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔

تحریر انٹر نیٹ سے لی گئ ہے 

منگل، 31 مارچ، 2026

عظیم جراح اور طبیب ابوالقاسم خلف ابن العباس الزہراوی

 اسپین کےجنوبی علاقہ  اندلس کے مردم خیز خطے                 اورقرطبہ کے شمال   میں شہر الزہرا میں    پیدا ہونے والے  عظیم تر جراح اور طبیب                       ابوالقاسم خلف ابن العباس  الزہراوی                مانے جاتے ہیں جن کی جراحی کا شہرہ گزرے  ہوئے کل میں بھی تھا اور آج بھی  ہے، ان کا زمانہ اندلس میں چوتھی صدی ہجری (دسویں صدی عیسوی) ہے، ان کی زندگی جلیل القدر کارناموں سے بھرپور ہے جس کے نتیجے میں قیمتی آثار چھوڑے، وہ عبد الرحمن سوم الناصر کے طبیبِ خاص تھے، پھر ان کے بیٹے الحکم دوم المستنصر کے طبیبِ خاص ہوئے، ۔  ان کی سب سے بڑی تصنیف “التصریف لمن عجز عن التالیف” ہے جو کئی زبانوں میں ترجمہ ہوکر کئی بار شائع ہو چکی ہے۔دنیائے اسلام میں ایسے ایسے نامور مسلم سائنسدان ، فلسفی ، موجد اور طبیب وغیرہ پیدا ہوئے ہیں کہ جو روشنی کے مینارے ہیں۔ جن کے کارناموں ، ایجادات نظریات سے آج بھی استفادہ حاصل کیا جاتا ہے۔الزہراوی جنھیں سرجری یعنی جراحت کے پیشے کا باوا آدم کہا اور مانا جاتا ہے ۔ ایک مسلم سائنسدان مصنف ، موجد ، جراح اور طبیب تھے- انھوں نے بہت سے آلاتِ جراحی ایجاد کئےاسی لیئے یہ موجد بھی ہیں۔ ان کے ایجاد کردہ آلاتِ جراحی کی تصاویر ان کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اسی لیئے الزہراوی علم جراحت کے بانی کہلاتے ہیں۔زہراوی کی علمی طبّی کاوشوں کا یورپ کے طبّی مدارس میں بہت گہرا اثر رہا ہے ان کی کتابوں کا کئی یورپی زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے ۔ ان کی کتابوں کو یورپی یونیورسٹیوں میں سر جری کے طالب علموں کو بطورِ نصاب بھی پڑھایا جاتا رہا ہے اور حوالے کی کتاب (ریفرنس بک ) کے طور پر بھی یہ کتابیں شاملِ نصاب رہی ہیں-


ابوالقاسم نے نہایت عمدہ اسلامی اور علمی ماحول میں آنکھ کھولی اور اپنے زمانے کی بہترین یونی ورسٹی میں علم حاصل کیا۔ بڑے بڑے شفاخانوں میں اس نے جراحی میں کمال پیدا کیا۔ ابوالقاسم کے زمانے میں مسلمان اس فن میں ماہر تھے اور ہسپتال میں انسان کے بدن کی تشریح سکھانے اور جراحی میں ماہر بنانے کے لیے طالب علموں کو لاشوں کی چیرپھاڑ کی مشق بھی کرائی جاتی تھی، جیسے آج کل میڈیکل کالجوں میں کرائی جاتی ہے۔ ان میں         بیان کردہ کئی اوزار آج بھی ہسپتالوں میں استعمال ہورہے ہیں جب کہ طبابت کا علم سائنس کے زور سے بہت ترقی کر چکا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹروں کو سرجری میں جو رتبہ حاصل ہو اہے، وہ ابوالقاسم اور ایسے ہی دوسرے عربی اطبا کا طفیل ہے۔ انگریز دانش وروں نے بھی ابوالقاسم کی تعریف کی ہے۔ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ انہوں نے شروع میں سے بہت کچھ سیکھا اور جراحی کی کتاب سے خوب روشنی حاصل کی۔1368ء میں ابوالقاسم کی سرجری یورپ میں خوب مشہور ہو چکی تھی۔ ان کا تعلق اندلس سے تھا جسے اسلام کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی تاریخ میں بڑا مقام اور اہمیت حاصل رہی ہے۔اس مسلمان سائنس داں کو قرطبہ کے شمال مغرب میں امویوں بسائے گئے شہر الزہراء سے نسبت رکھنے کے سبب الزہراوی کہا جاتا ہے۔محققین کے مطابق وہ عبد الرّحمن سوم الناصر کے طبیبِ خاص تھے اور بعد میں ان کے بیٹے الحکم دوم المستنصر کے طبیبِ خاص مقرر ہوئے۔ الزہراوی کی زندگی کے حقائق اور تفصیلات بہت کم معلوم ہوئے ہیں، لیکن ان کی اہم تصانیف میں ان کی کتاب “الزہراوی” ہے جب کہ ابوالقاسم کی کتاب التصریف برسوں تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی گئی خاص طور پر اٹلی میں اس کو بڑی لگن اورتوجہ سے پڑھایا گیا۔ یہ کتاب پہلی بار 1497ء میں لاطینی زبان میں وینس میں چھاپی گئی، پھر 1500ء میں لوکے ٹس میں چھپی، اس کے بعد 1541 میں سٹرس برگ میں اور پانچ سال بعد باسل میں چھاپی گئی۔ اس کی شرحیں بھی لکھی گئیں۔ ابوالقاسم نے اس کتاب کے علاوہ بھی طب پر کئی کتابیں لکھیں ۔ اب ان کے لاطینی ترجمے یورپی لائبریریوں میں مل سکتے ہیں۔

 

 


الزہراوی نے فن ِجراحت( سرجری) کے کئی طریقوں کو ایجاد کیا ، ان کی تکنیک ، اور آلاتِ جراحی ایجاد کئے ۔موجودہ دور میں بھی ان کے آلاتِ جراحی کے نمونوں سے دنیا آج بھی مُستفید ہورہی ہے۔الزہراوی نہ صرف جراح تھے بلکہ عظیم طبیب بھی تھے-آپ نے آنکھوں کے موتیا ، مختلف امراضِ چشم ،حلق، دانت، مسوڑھے، جبڑہ ، زبان، اور ہڈیوں کے ٹوٹنے اور ہڈیوں کےاُکھڑنے اور گردوں اور سر وغیرہ کے باے میں تفصیلا ًبیان کیاہے۔ فنِ جراحی میں انھوں نے پتھری نکالنے کا طریقہ بھی بیان کیاہے جو میڈیکل سا ئنس میں جدید طریقہ سمجھا جاتا ہے ۔دانت کی دوبارہ تنصیب دانتوں کی تراش ان ہی کا کا میاب جراحی عمل ہےانھوں نے اپنی کتا بوں میں طب، خاص کر علمِ جراحت ،علم الادویہ اور صحت پر بحث کی ہے ۔ان کی تصانیف میں ایک مشہور کتاب “ الزہراوی ” ہے جبکہ ان کی ایک اور قابلِ ستائش تصنیف “التصریف لمن عجز عن التالیف” ہے جس کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔انھوں نے ہی تصاویر کی مدد سے آلاتِ جراحی کی ساخت ، شکل کو بیان کیا اور اپنی کتابوں میں درج کیا ہے اور اُن کا استعمال بھی بتایا ہے اور اسی لیےسرجری یعنی علمِ جراحی میں انکا بڑا نام ہے۔ ابو القاسم الزہراوی "قرون ِ وسطیٰ کے متعدد بار حوالہ شد جراحی نمائندہ" کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ڈونلڈ کیمپ بیل، عرب ادویات کے تاریخ دان، یورپ میں الزہراوی کی مقبولیت کو یوں بیان کرتے ہیں:"یورپ کے طبی نظام پر ابو القاسم کا بڑا اثر یہ تھا کہ اس کے قابلِ فہم انداز اور پیش کرنے کے طریقے نے مغرب کے علما میں عربی ادب کی حمایت میں احساس اجاگر کیا:



 ابو القاسم کے طریقوں نے گیلن کے طریقوں کو گرہن لگا دیا اور پانچ سو سال تک طبی یورپ میں نمایاں حیثیت برقرار رکھی، حتیٰ کہ اس کے فائدہ مند نہ ہونے کے بعد بھی یہ اہم مقام رکھتے ہیں۔ تاہم، اس نے عیسائی یورپ میں جراحت کے معیار کو بڑھانے میں مدد کی  ہڈیوں کے چٹخنے اور جوڑنے پر اپنی کتاب میں، وہ بیان کرتا ہے کہ "جراحت کا یہ حصہ بے ہودہ اور غیرتہذیب یافتہ اذہان کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے، اسی وجہ سے یہ حقارت میں شمار کیا جاتا ہے۔"الزہراوی نے ناسور کے علاج کے لیے ایک آلہ دریافت کیا اور بہت سارے امراض کا استری سے علاج کیا، زہراوی وہ پہلے طبیب تھے جنھوں نے “ہیموفیلیا” نہ صرف دریافت کیا بلکہ اس کی تفصیل بھی لکھی                           زہراوی کا یورپ میں بڑا عظیم اثر رہا، ان کی کتب کا یورپ کی بہت ساری زبانوں میں ترجمہ کیا گیا اور یورپ کی طبی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہیں، یورپ کے جراحوں نے ان سے خوب استفادہ کیا اور ان سے اقتباس بھی کیا، حتی کہ بعض اوقات بغیر حوالہ دیے ان کی دریافتیں اپنے نام منسوب کر لیں، ان کی کتاب “الزہراوی” پندرہویں صدی عیسوی کے شروع سے لے کر اٹھارویں صدی عیسوی کے اواخر تک یورپ کے اطباء کا واحد ریفرنس رہی۔ ان کے ایجاد کردہ آلات جراحی آج تک استعمال ہوتے ہیں۔قرطبہ کی گلیاں جہاں وہ رہتا تھا کو، اس کے اعزاز میں "ابو القاسم گلی" کے نام سے منسوم کیا گیا۔ اس گلی میں گھر نمبر 6 میں رہتا تھا جس کی آج طلائی تختی یافتہ ہسپانوی سیاح بورڈ حفاظت کرتا ہے جس پر کنندہ ہے : "یہ وہ گھر ہے جہاں الزہراوی رہتا تھا۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

ہیموفیلیا - تشخیص، علاج، روک تھام

    ہیموفیلیا -  تشخیص، علاج، روک تھام  -ہیموفیلیا ایک موروثی جینیاتی بیماری ہے جس میں خون کو بہنے سے روکنے والے اجزا کی کمی ہوتی ہے۔چوٹ لگن...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر