ہفتہ، 9 مئی، 2026

ہیموفیلیا - تشخیص، علاج، روک تھام

 



  ہیموفیلیا -  تشخیص، علاج، روک تھام  -ہیموفیلیا ایک موروثی جینیاتی بیماری ہے جس میں خون کو بہنے سے روکنے والے اجزا کی کمی ہوتی ہے۔چوٹ لگنے کی صورت میں مریض کا خون ایک صحتمند انسان کے خون کی طرح نہیں رک سکتا جب تک ان مریضوں کو بلڈ فیکٹر پر منتقل نہ کیا جائے۔جس نے 19ویں اور 20ویں صدی میں انگلینڈ، جرمنی، روس اور سپین کے شاہی خاندان کو متاثر کیا تھا(مہنگے علاج کے باعث بھی)۔ انگلینڈ کی ملکہ وکٹوریاجنہوں نے 1837-1901 تک حکومت کی، ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ہیمو فیلیا بی یا فیکٹر09 کی کیرئیر تھیں۔ انہوں نے یہ جین اپنے 9میں سے 3 بچوں میں منتقل کی اور پھر یہ بیماری مختلف صورتوں میں نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔ایک اندازے کے مطابق ہر 4ہزار سے 5ہزار میں ایک بچہ ہیمو فیلیاA اور ہر 10ہزار تا 20ہزار میں سے ایک بچہ ہیمو فیلیاB سے متاثر پیدا ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں ہر سال 17 اپریل کو ورلڈ ہیموفیلیا ڈے منایا جاتا ہے۔ اِس دن کو فرینک شنیبل( Frank Schnabel) کی تاریخ پیدائش کی مناسبت سے منایا جاتا ہے۔ فرینک شنیبل (WHF) ورلڈ فیڈریشن آف ہیموفیلیا کے بانی بھی ہیں۔ ہیمو فیلیا ڈے منانے کا مقصد لوگوں میں اس بیماری کے بارے میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور ان مریضوں کے علاج کے لیے آسا نیاں اور سہولتوں میں اضافہ کرنا ہے تاکہ اس مرض کے شکار افراد کی زندگیوں کو بہتر اور محفوظ بنایا جاسکے۔


ہیمو فیلیا اور خون کی دیگربیماریوں کو عالمی معیار کے مطابق علاج معالجہ کی سہولتیں دی جائیں تاکہ یہ مریض بھی اچھی زندگی گزار سکیں۔ماہرین کے مطابق تشویش ناک امر یہ ہے کہ متعدد افراد میں مرض تشخیص نہیں ہوپاتا، وہ ناکافی علاج کروا رہے ہوتے ہیں یا پھر انہیں علاج کی سہولتیں سِرے سے دستیاب ہی نہیں۔ پاکستان کا ذکر کریں تو یہ صورت حال  بہت تکلیف دہ  ہے کہ ملک بھر میں سرکاری طور پر رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے متاثرہ بچوں کی درست تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت 15سے 20 ہزار بچے اس مرض کا شکار ہیں۔ہیموفیلیا ایک نایاب حالت ہے جس میں خون عام طور پر جم نہیں پاتا کیونکہ اس میں خون جمنے والے پروٹین (جمنے کے عوامل) کی کمی ہوتی ہے۔ اگر آپ کو ہیموفیلیا ہے تو آپ کا خون عام طور پر جمنے کی صورت میں آپ کی نسبت زیادہ اور زیادہ وقت تک بہہ سکتا ہے۔ چھوٹے زخم عام طور پر بہت زیادہ پریشانی کا سبب نہیں بنتے ہیں۔ سب سے بڑی تشویش اس وقت ہوتی ہے جب آپ کو بیماری کا شدید کیس ہو جس کی وجہ سے اندرونی خون بہہ رہا ہو۔ اندرونی خون بہنا جان لیوا خطرہ لاحق ہوتا ہے اور آپ کی بافتوں اور اعضاء کو نقصان پہنچا سکتا 


۔  جیسا کہ ہم کو معلوم ہوا کہ ہیمو فیلیا اے جو فیکٹر 8 کی کمی کے باعث ہوتا ہے اور ہیمو فیلیا Bجو فیکٹر 9 کی کمی کے باعث ہوتا ہے۔ چوٹ سے بہت زیادہ خون بہنا، خاص طور پر سرجری یا دانتوں کی صفائی یا علاج کے دوران، حفاظتی ٹیکوں سے غیر معمولی خون بہنا، جوڑوں کی تکلیف، ورم یا سختی،بو ل  و  براز میں خون، چھوٹے بچوں میں چڑچڑا پن، دماغ میں خون کی کمی، شدید ہیموفیلیا والے کچھ افراد سر میں معمولی چوٹ کے بعد دماغ میں خون بہنے کا شکار ہو چکے ہیں۔اِس بیماری کا علاج صاف اور صحت مند خون کا بر وقت انتقال ہے۔ جسے ( Fresh Frozen Plazma ) FFP بھی کہا جاتا ہے یا (Dry Factor ) ہیں جو انجکشن کی صورت میں دستیاب ہیں۔ ہیمو فیلیا میں مبتلا ہیموفیلیا اے کی تشخیص کے لیے کئی لیبارٹری ٹیسٹ استعمال کیے جاتے ہیں ۔ہیمو فیلیا کا مرض بچوں کی نفسیات پر بھی اثرات ڈالتا ہے، جس کے نتیجے میں بچوں میں بے چینی، پژمردگی (ڈپریشن)، کسی کام کو بار بار دہرانے کی نفسیاتی بیماری (او سی ٹی)، احساس کمتری جس کے نتیجے میں دواؤں پر انحصار بڑھ جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مرض کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ آگاہی فراہم کی جائے، تاکہ اس مرض کے بارے میں لوگوں کو معلومات ہوں اوروہ اچھے طریقے سے علاج کرا سکیں۔یا ورزش نہیں کر سکتا۔


اگر مرض شدت اختیار کرلے، تو کسی حادثے کے بغیر بھی مریض کے جسم سے خون خارج ہو سکتا ہے۔ پلازما میں خون جمانے والے فیکٹرز پائے جاتے ہیں، جن کا کام چوٹ لگنے کی صْورت میں خون بہنے کا عمل روکنا ہے۔ جب کسی عام صحت مند فرد کو چوٹ لگتی ہے، تو قدرتی طور پر ایک خاص وقت تک خون بہنے کے بعد ا پر خودبخود ایک جھلّی سی بن جاتی ہے۔یہ عمل خون جمانے والے فیکٹرز انجام دیتے ہیں جب کہ جھلی خون روکنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ یہ جھلی طبّی اصطلاح میں کلاٹ کہلاتی ہے۔ اگر جھلی بنانے والے پروٹین یعنی فیکٹرکی جین متاثر ہو جائے، تو پروٹین بننے کا عمل بھی رک جاتا ہے،جس کے نتیجے میں خون جمنے کا عمل غیر موثر ہوکرہیموفیلیا کا سبب بنتاہے-ہیموفیلیا کی علامات  جو کلاٹنگ فیکٹرز کے لیول پر انحصار کرتی ہیں۔  جسم پر نیلے دھبّے پڑنا، جوڑوں میں درد اور سوجن وغیرہ شامل ہیں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

ہیموفیلیا - تشخیص، علاج، روک تھام

    ہیموفیلیا -  تشخیص، علاج، روک تھام  -ہیموفیلیا ایک موروثی جینیاتی بیماری ہے جس میں خون کو بہنے سے روکنے والے اجزا کی کمی ہوتی ہے۔چوٹ لگن...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر