گلیلیو نے 1634ء اپنی اجرام فلکی سے متعلق کتاب کیا شائع کی تو سارا ملک اس کے خلاف ہو گیا اور روم کی مذہبی عدالت میں اس پر مقدمہ چلایا گیا۔ اس نے ستاروں کے علم کا مزید مطالعہ کیا اور اپنے دوستوں کو بتایا کہ نظام شمسی کا مرکز آفتاب ہے1607 میں نیدر لینڈ کے ایک چشمے کے لینس کاریگر ہانس لپرہے نے جب دو لینس ایک دفتی کے ٹیوب میں رکھے تو اس نے یہ دیکھا کے اس کی مدد سے دور کی چیزیں بڑی اور پاس دکھائی دیتی ہیں۔ جلد ہی یہ پہلی دوربین بچوں کے کھلونے کی شکل میں یورپ کے شہروں میں بازاروں اور میلوں میں مقبول ہونے لگی، خاص طور پر فرانس میں۔1609 میں جب گیلیلیو نے اس کھلونے کے بارے میں سنا تو اس کو اس کی اہمیت کا احساس ہوا اور اس نے فوراً ہی اس کو بجائے زمین پر دور کی چیزوں کو دیکھنے کے اس کا رخ آسمان کی طرف کیا جو آج تک کسی نے نہیں کیا تھا۔ یہ کائنات میں انسان اور ہماری زمین سے مطابق ہماری سمجھ میں آنے والے ایک زبردست انقلاب کی شروعات تھی۔سب سے پہلے گیلیلیو نے اپنے اس نئے کھلونے کا رخ چاند کی طرف کیا تو اس نے یہ پایا کہ چاند کی سطح اوبڑ کھابڑ ہے کہیں گڈھے ہیں تو کہیں چھوٹی پہاڑیاں اور بڑے پہاڑ ہیں۔ارسطو کے نظریہ کے مطابق ہماری زمین اٹل ہے اور سورج ، چاند ، سیارے اور ستارے اس کے گر د چکر لگاتے ہیں ۔ اس سمجھ کو عیسائی چرچ کی پر زور حمایت حاصل تھی اور یہ یورپ کی مکمل سمجھ کا صدیوں تک حصہ رہی ۔ اس سمجھ کو پہلا سخت چیلنج سولہویں صدی میں ’کوپرنیکس‘ نے کیا۔ اس نے مشاہدہ کی بنیاد پر یہ کہا کہ اصل میں سارے سیار ے (مع ہماری زمین) سورج کے چاروں طرف چکر لگاتے ہیں ۔ارسطو کے حرکت کے بارے میں فلسفہ کو پوری طرح غلط ثابت کرنے کا اصل سہرا گیلیلیو کے سر ہی جاتا ہے۔ گیلیلیو ایک ریاضی داں ، فلسفی تھا اور فلورینس کے بادشاہ کا مشیر خاص تھا۔
اس نے نہ صرف ریاضی کی لیاقت کا استعمال کیا بلکہ بڑی ہوشیاری کے ساتھ تجربات بھی کئے۔اس کی مشہور کتاب (Dialogue Concerning the Two Chief World Systems) نہایت دلچسپ طریقہ سے دو لوگوں کی بات چیت کی شکل میں سائنسی دلائل کے استعمال کی بہترین مثال ہے۔ اس کتاب میں اس نے دلیلوں کی مدد سے ارسطو کی سمجھ کو ہمیشہ کے لئے غلط ثابت کردیا اور سائنسی سمجھ کی بنیاد کو شاید پہلی بار مشاہدوں کی کسوٹی پر پرکھنے کا طریقہ رائج کیا۔گلیلیو کایہ کہنا کہ زمین سورج کے چاروں طرف گھومتی ہے چرچ کو بہت ہی ناگوار گزرا جس کے نتیجہ میں اس کو نظر بند کر دیا گیا ۔ چرچ کو اپنی غلطی ماننے میں تقریباً 400 سال لگے۔ارسطو کا ماننا تھا کہ حرکت کے لئے مستقل قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ گلیلیو صحیح معنی میں حرکت اور قوت کے رشتہ کو سمجھ پایا۔ اس نے تجربہ کرکے یہ دکھایا کہ قوت صرف حرکت میں تبدیلی کے لئے ضروری ہوتی ہے اور اگر قوت کا استعمال نہ ہوتا تو حرکت کرنے والی چیز کی رفتار میں کوئی تبدیلی نہ ہوگی۔ لیکن کتنی قوت سے رفتار میں کتنی تبدیلی ہوگی یہ تب معلوم ہوا جب1687 میں نیوٹن کی کتاب (The Mathematical Principle of Natural Philosophy) منظر عام پر آئی۔ اس کتاب میں حرکت کو سمجھنے اور ناپنے کے تین مقولوں نے ساری سمجھ کو صاف کردیا۔ اس کے اس مشاہدے سے یہ بھرم ٹوٹ گیا کہ آسمانی چیزیں کسی ایسی خاص مادہ سے نہیں بنی ہیں جو ہم اپنی زمین پر ہر جگہ دیکھتے ہیں۔
اس نے پھر دوربین کو اپنی کہکشاں (Miley Way) کو دیکھنے کے لئے استعمال کیا۔ اس وقت یہ خیال تھا کہ یہ کہکشاں آسمان میں پھیلے ہوئے ایک بادل کی طرح ہے۔ دوربین سے دیکھنے کے بعد اس نے یہ پایا کہ بجائے ایک بادل کے اس کہکشاں میں کروڑوں ستارے ہیں۔گیلیلیو کو سب سے زیادہ حیرت انگیز چیز دکھائی دی جب اس نے اپنی دوربین کا رخ جوپیٹر (عطارو) کی طرف کیا۔ اس وقت تک فلکیاتی سائنسداں جوپیٹر کو ایک آوارہ سیارہ کے نام سے جانتےتھے اور آسمان میں اس کے چلنے کے راستہ کو اچھی طرح سمجھنے میں کافی دشواریاں تھیں اور ایسا لگتا تھا کہ یہ سیارہ کچھ اپنی مرضی سے گھوم رہا ہے۔گیلیلیو حیرت میں پڑ گیا جب اس نے دوربین سے جوپیٹر کے پاس تین چھوٹے کالے نقطے دیکھے۔ شروع میں اس نے سوچا کہ شائد یہ کچھ نئے ستارے ہیں جن سے کسی وجہ سے روشنی نہیں آرہی ہے۔ کچھ دن اور انتظار کرنے کے بعد جب اس نے دوبارہ دوربین سے دیکھا تو اس مرتبہ تین کے بجائے چار چھوٹے نقطے کچھ اپنی جگہ سے ہٹے دکھائی دیئے اس مشاہدے کے بعد گیلیلیو فوراً ہی سمجھ گیا کہ یہ چار نقطے اصل میں جوپیٹر کے چاند ہیں جو اس کے چاروں طرف چکر لگا رہیں ہیں۔ اس دریافت کے اس زمانے میں بڑے دور رس نتائج تھے۔ یہ ثابت ہوا کہ جس طرح ہماری زمین کے گِرد ایک چاند چکر لگا رہا ہے ویسے اور سیاروں کے گرد بھی ان کے چاند چکر لگا رہے ہیں۔ یعنی کائنات میں ہماری زمین کی کوئی خاص جگہ نہیں ہے کہ ہر چیز اس کے گرد چکر لگائے ۔
یہ سوچ کہ سارا علم پرانی کتابوں میں موجود ہے سائنسی مشاہدوں نے بار بار غلط ثابت کیا ہے کہ سارے سیارے سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں یہ سمجھ اور مستحکم ہوئی جب گیلیلیو نے اپنی دوربین کا رخ وینس (زہرہ) کی طرف کیا۔ اس نے یہ دیکھا کہ بالکل جس طرح ہمارے چاند کا روشن حصہ مہینہ بھر میں بدلتا ہے ویسے ہی زہرہ کا روشن حصہ وقت کے ساتھ بدلتا ہے۔ جیسے چاند کی پہلی تاریخ سے چودہ تاریخ تک چاند کا روشن زیادہ ہوتا ہوا روشن حصہ دکھائی دیتا ہے اور اس کے بعد پھر چاند سے آنے والی روشنی غائب ہو جاتی ہے اسی طرح زہرہ (وینس) کا روشن حصہ وقت کے ساتھ بدلتا ہے صرف فرق یہ کہ زہرہ کے روشن حصہ میں بدلاؤ پورے ایک سال میں ہوتا ہے۔ ان مشاہدوں نے یہ ثابت کردیا کہ سارے سیارے سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ گیلیلیو نے یہ بھی ثابت کیا کہ زہرہ (وینس) زمین اور سورج کے بیچ میں ہے۔یہ ساری حیرت انگیز دریافت ایک معمولی سے دفتی کے سلینڈر میں دورلینس کی دوربین سے ہے۔اب بھی بہت چیزیں دریافت ہونے کے انتظار میں ہیں صرف اپنے اندھے اعتقادوں کو چھوڑنے کی ضرورت ہے۔گلیلیو (انگریزی: Galileo) ایک اطالوی ماہر فلکیات اور فلسفی تھا۔ سائنسی انقلاب پیدا کرنے میں گیلیو کا کردار اہم ہے۔ وہ شاقول اور دوربین كا نامور موجد ہے- گالی لیو نے اشیا کی حرکات، دوربین، فلکیات کے بارے میں بیش قیمت معلومات فراہم کیں۔ اسے جدید طبیعیات کا باپ کہا جاتا ہے۔