جمعہ، 2 جنوری، 2026

مظفّرگڑھ صوبہ پنجاب کا ایک زرخیز شہر ہے-parT 1

 تاریخی اعتبار سے اہمیت کا حامل ،مظفّرگڑھ، صوبہ پنجاب کا ایک زرخیز شہر ہے، جس کی بنیاد، اُس وقت کے ملتان کے حاکم، نواب مظفّر خان نے 1794ء میں رکھی۔قبل ازیں اس ضلعے کا نام خان گڑھ تھا۔ 1849 ء میں انگریزوں کے زیر تسلط آجانے کے بعد تک اس کا ہیڈکوارٹر، خان گڑھ اور نام ضلع خان گڑھ ہی رہا۔ اس وقت یہ 4 تحصیلوں رنگ پور، کنجھر، خان گڑھ اور سیت پور پر مشتمل تھا، جب کہ گڑھ مہاراجہ اور احمد پور سیال بھی اس کا حصّہ تھے۔1861ء میں مظفّر گڑھ سے رنگ پور تحصیل ختم کرکے، گڑھ مہاراجہ اور احمد پور کے علاقے جھنگ اورکوٹ ادّو، ضلع لیّہ سے علیحدہ کرکےاس میں شامل کردیئے گئے۔ بعدازاں، 1909ء میں لیّہ کوبھی مظفّرگڑھ سے علیحدہ کرکے اور ضلعے کا درجہ دے کراس کا ڈیرہ غازی خان سے الحاق کردیا گیا۔مسجد سکینۃ الصغریٰ-ضلع مظفّرگڑھ اپنی تہذیب و ثقافت،زراعت و صنعت،سیاست و تجارت،علم و ادب اور جغرافیائی محلِ وقوع کی بنا پر منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس کی 4 تحصیلیں کوٹ ادّو،مظفّرگڑھ،علی پور اور جتوئی ہیں۔ مشرق میں دریائے چناب اور مغرب میں دریائے سندھ بہتے ہیں۔40لاکھ سے زائد آبادی کے اس ضلعے کا کُل رقبہ 8250 کلومیٹر پر محیط ہے۔مقامی زبان سرائیکی کے علاوہ یہاںپنجابی اور اردو بھی بولی جاتی ہے۔87 فی صد لوگ دیہات اور 13 فی صد شہروں میں رہتے ہیں۔ آب و ہوا مجموعی طور پر گرم اور خشک ہے اورزیرِ کاشت رقبہ گیارہ لاکھ بیس ہزار آٹھ سو نوّے ایکڑ ہے۔


 اہم فصلوں میں گندم، کپاس، گنّا، چاول شامل ہیں، جب کہ کھجور، آم اور انار کے باغات ضلعے کی وجۂ شہرت ہیں۔ تمام قسم کی سبزیوں کی پیداوار کے علاوہ لائیو اسٹاک اور فشریز میں بھی مظفّرگڑھ کا شمار صف ِاوّل میں ہوتا ہے۔ ضلعے کے 984 مواضعات میں بہترین نہری نظام موجود ہے، جو زرعی زمینوں کو سیراب کرتا ہے، جب کہ کوٹ ادّو کے نزدیک تونسہ بیراج اور علی پور کے نزدیک ہیڈ پنجند میں پانچوں دریائوں کا ملاپ ہوتا ہے۔ ڈیلٹائی خصوصیات کی بِنا پر فصلوں اور پھلوں کا معیاراعلیٰ ہے، تو ریونیو کے اعتبار سے بھی مظفّر گڑھ صوبے بھر میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔یہاں کے زیادہ تر غریب اور محنت کش طبقے کا گزر بسر محنت مزدوری اور کھیتی باڑی پرہے، جس کی وجہ سے خواندگی کی شرح خاصی کم ہے۔حنا ربانی کھر-1964ء میں پہلی تھل جوٹ مِل (ایشیا کی سب سے بڑی جوٹ مل) کے قیام کے بعد سے مظفّرگڑھ میں ترقی کا دَورشروع ہوا،اس سے قبل یہاں کے باشندوں کا ذریعۂ معاش کھیتی باڑی تک محدود تھا۔ اس وقت ضلعے میں متعدد ٹیکسٹائل، جوٹ، کاٹن، شوگر اور فلورملز کے علاوہ 300رجسٹرڈ کارخانہ جات بھی ہیں، جب کہ یہاں قائم 3بڑے تھرمل پاور اسٹیشن پورے ملک میں پیدا ہونے والی بجلی کا بیس فی صد سے زائد مہیّا کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، 1996ء میں قصبہ گجرات میں قائم کی گئی ایک وسیع آئل ریفائنری سے روزانہ ایک لاکھ بیرل تیل پورے ملک کو سپلائی کیا جاتا ہے۔سردار کوڑا خان پبلک ہائر سیکنڈری اسکو


ل-1770ء سے 1794ء کے دوران تعمیر کیے گئے قلعہ مظفّر گڑھ اور قلعہ خان کے علاوہ قلعہ محمود کوٹ،قلعہ غضنفر گڑھ،قلعہ دائرہ دین پناہ،قلعہ شاہ گڑھ جیسے تاریخی مقامات اگرچہ ماضی کا حصّہ بن چکے ہیں، تاہم ان کی باقیات اور نشانیاں اب بھی ماضی بعید کی یاددلاتی ہیں۔ 1475 ء میں تعمیر کی گئی شاہی مسجد اور مقبرہ طاہر خان نہڑبھی تاریخی اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں، جب کہ 1909ء میں تعمیرکیا گیا ’’وکٹوریہ میموریل ہال‘‘ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ 1988 ء میں اس وقت کے ڈپٹی کمشنر نے اس کا نام تبدیل کرکے ’’یادگار کلب‘‘ رکھ دیا۔جتوئی شہر کے نزدیک گاؤں کوٹلہ رحم علی شاہ میں واقع مسجد’’ سکینتہ الصغریٰ‘‘ ترک فنِ تعمیر کا نمونہ، ہے، جو32 گنبدوں اور 2 بڑے میناروں پر مشتمل ہے۔مسجد کا کل رقبہ 52 کنال ہےاور اس میں 5 ہزار افراد کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔شہر کا واحد ’’فیاض پارک‘‘ قریباً4 دہائی قبل اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر فیاض بشیر کی ذاتی دل چسپی اور کاوش سے قائم ہوا، تاہم یہ خوب صورت پارک بھی سیاست اور کرپشن کی نذر ہوکر اجڑ گیا، اور اب نشے کے عادی افراد اور ہیروئنچیوں کی آماج گاہ ہے، جب کہ سعودی فرماں رواں، شاہ فیصل کے نام پر تعمیر کیا گیا ’’فیصل اسٹیڈیم‘‘ بھی ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کرقریباً غیر فعال ہوچکا ہے۔ اسی طرح برطانوی دورِحکومت میں بنائے جانے والے ریلوے اسٹیشن سمیت اس دَور میں تعمیر کیے گئے ڈپٹی کمشنرآفس، ڈسٹرکٹ جیل، ضلع کاؤنسل ہال، پوسٹ آفس، محکمہ انہاراور محکمہ صحت کے دفاتربھی اپنی مدت پوری کرکے بوسیدہ اور ناکارہ ہوچکے ہیں


، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ان قدیم تعمیرات پر خصوصی توجّہ دے کر انہیں دوبارہ ماضی کی طرح جاذبِ نظراور فعال بنایا جائے۔مظفّرگڑھ میں ہیڈ تونسہ بیراج اور ہیڈ پنجند جیسے اہمیت کے حامل مقامات بھی اپنی مثال آپ ہیں۔تاہم،بدقسمتی سے وافر آمدنی کے حامل ضلعے میں درست حکمتِ عملی کے فقدان اور کرپشن کے باعث پَس ماندگی اور غربت میں اضافہ ہی ہوتاجارہا ہے۔یہاں کے لاتعداد مسائل میں معیاری تعلیم کا فقدان، غربت، بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی، جاگیرداری نظام، کرپٹ سیاست دان اور بیورو کریسی وغیرہ سرفہرست ہیں۔ اگرچہ متعدد تعلیمی ادارے تو تعمیر کردیے گئے، لیکن ملّت کی تعمیر جیسے عظیم مقصد کو پسِ پشت ڈالنے کے باعث ضلعے میں جرائم کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔ غیرت کے نام پر قتل، خودکشی، قتل و اقدامِ قتل، خواتین پر تشدد، لڑائی جھگڑے، اغوا و زیادتی، چوری ڈکیتی، گھریلو جھگڑے اور طلاق کے واقعات کی شرح خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ ستم بالائے ستم متعدد وسائل کے باوجود یہاں کے عوام بنیادی سہولتوں تک سے محروم ہیں۔ سرکاری اسپتال تو موجود ہیں، لیکن علاج معالجے کی دیگر سہولتوں اور ادویہ کی کمی کے باعث تقریباً غیرفعال ہیں۔ پھرموذی اور وبائی امراض کے حوالے سے آگاہی نہ ہونے اور علاج معالجے کی ناکافی سہولتوں کے باعث بھی ہر سال ہزاروں موت کے منہ میں جارہے ہیں۔


 

جمعرات، 1 جنوری، 2026

شوگر کوٹڈ کونین کی گولی'آؤٹ سورس

 

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں کی آئوٹ سورسنگ سے متعلق سٹیئرنگ کمیٹی کا 10واں اجلاس جمعرات کو یہاں میں منعقد ہوا۔ نائب وزیراعظم کے آفس سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں وزیر دفاع و ہوابازی، وزیر قانون و انصاف، سیکرٹری ایوی ایشن، بورڈ آف انویسٹمنٹ، سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کی ٹیم نے شرکت کی۔ آئی ایف سی ٹیم نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آئوٹ سورسنگ پر پیشرفت رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں پر مشتمل مختلف کنسورشیمز کے درمیان صحت مند مقابلہ 15 جولائی 2024ء کو متوقع ہے۔ سٹیئرنگ کمیٹی نے لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی آئوٹ سورسنگ پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا اور اب تک کیے گئے کام پر اطمینان کا اظہار کیا۔ منصوبے کے مطابق دونوں ہوائی اڈوں کے لئے رعایتی ڈھانچہ اس سال اگست کے وسط تک تیار ہوجائے گا۔ بیان کے مطابق اجلاس میں اس توقع کا اظہار کیا گیا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آئوٹ سورسنگ کے نتیجے میں صارفین کو بہتر تجربے کے ساتھ عالمی معیار کی سروس میسر آئے گی۔کراچی : وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی جانب سے کراچی، لاہور اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آپریشنز کو آؤٹ سورس کرنے کے حوالے سے اقدامات کے بعد اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔


اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے معاملے میں متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، چین اور سعودی عرب کی خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق یو اے ای نے اسلام آباد ایئرپورٹ کو ٹھیکے پر لینے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، سعودی عرب کی بھی پاکستان کے ایئرپورٹس آؤٹ سورسنگ پر لینے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔قطر حکومت ایئرپورٹ کارگو شعبہ لینے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے، حکومت کراچی، لاہور، اسلام آباد ائیرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا ارادہ رکھتی ہے۔’’اسلام آباد ایئرپورٹ کو آؤٹ سورس کردیا جائے گا‘‘ایرپورٹس آؤٹ سورسنگ کے لیے عالمی بینک کا ذیلی ادارہ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن بطور فنانشل ایڈوائزرز سی اے اے پاکستان کے لیے کام کر رہا ہے۔فائل فوٹو: اے ایف پیملک کے تین اہم ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ اور پی آئی اے کی نجکاری کے لیے وفاقی وزیر دفاع اور ہوا بازی خواجہ آصف کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ڈان نیوز کے مطابق وفاقی کابینہ نے کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دے دی جس کے بعد کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی ایئرپورٹ مینجمنٹ کی آؤٹ سورسنگ کا جائزہ لے گی اور پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق امور کی نگرانی بھی کرے گی۔کمیٹی ارکان میں وزیر نجکاری عبدالعلیم خان کے ساتھ ساتھ وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، سیکریٹری نجکاری اور سیکریٹری ہوا بازی ڈویژن بھی شامل ہیں۔



ہوا بازی ڈویژن کمیٹی کے لیے سیکریٹریل سپورٹ فراہم کرے گیااس سے قبل رواں ہفتے حکومت نے غیرملکی سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشنز کی درخواست پر ملک کے تین اہم ایئرپورٹس کی مینجمنٹ اور آپریشنز کے امور آؤٹ سورس کرنے کے لیے بولیاں جمع کرانے کا عمل دو ماہ کے لیے موخر کردیا تھا۔اسلام آباد، کراچی اور لاہور ایئرپورٹ کی مینجمنٹ اور آپریشنز کے امور آؤٹ سورس کرنے کے لیے بولیاں جمع کرانے کا عمل موخر کرنے کا فیصلہ وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔پاکستان-اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کیلئے ٹینڈر کی تاریخ میں 2 ماہ توسیع کا فیصلہ-سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لیے ٹینڈر کی تاریخ میں توسیع کا فیصلہ کرلیا۔ڈان نیوز‘ کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ٹینڈر کی تاریخ میں 2 ماہ کی توسیع کردی ہے۔سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ٹینڈر کی تاریخ میں توسیع کا نیا حکم نامہ جاری کردیا اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لیے بولی کی تاریخ 15 مئی مقرر کردی ہے۔اسلام آباد ایئرپورٹ کو ٹھیکے پر لینے میں دلچسپی رکھنے والی ملکی اور بین الاقوامی کمپنیوں سے درخواستیں بھی طلب کرلی گئی ہیں۔


حکم نامے کے مطابق حکومت اسلام آباد کراچی اور لاہور ایرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے ذریعے اربوں روہے فنڈز اکٹھا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، پہلے مرحلے میں اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ 31 دسمبر 2022 کو وفاقی حکومت نے ملک میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے کے لیے پہلے مرحلے میں ملک کے 3 ہوائی اڈوں کو انٹرنیشنل آپریٹرز کے ذریعے چلانے کا فیصلہ کیا تھا۔بعدازاں 27 جون 2023 کو حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کو فی الحال صرف اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک محدود رکھا جائے گا۔16 جولائی 2023 کو اُس وقت کے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے اسٹیک ہولڈرز سے کہا تھا کہ وہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آپریشنز کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے 12 اگست تک تمام رسمی کارروائیوں کو حتمی شکل دے دیں۔12 اگست 2023 اُس وقت برسراقتدار پی ڈی ایم حکومت کی مدت کا آخری دن تھا، امکان یہی ظاہر کیا جارہا تھا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ 12 اگست تک آؤٹ سورس کردیا جائے گا تاہم ایسا نہ ہوسکا اور نگران حکومت نے اقتدار سنبھال لیا۔


جسٹس کے ایم صمدانی'عدلیہ کا تابناک چہرہ

  معزز جج کی یاد آج اس لیے آئی ہے  اس بہادر جج نے کسی کرنل یا بریگیڈیئر کے سامنے نہیں چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق کے سامنے انکار کیا اور اسی انکار نے انہیں تاریخ میں ہمیشہ کیلئے زندہ کردیا۔ ۔ کہ اگر وہ بھی کسی بند کمرے میں تھوڑا سا جھک جاتے اور کسی فیصلے کے ذریعے تھوڑا سا گر جاتے تو بڑی آسانی سے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بن جاتے۔ مزید جھکتے جھکاتے سپریم کورٹ بھی پہنچ جاتے اور آخر ایک دن چیف جسٹس آف پاکستان بھی بن جاتے لیکن وہ ایک اصلی جج تھے لہٰذا نہ تو بند کمرے میں جھکے اور نہ ہی کسی عدالتی فیصلے میں اپنے آپ کو گرایا بلکہ طاقت کے سامنے کھڑے ہو کر انکار کر دیا۔ اور اب تاریخ میں امر ہو چکے ہیں سلام ہے اس مرد مجاہد جسٹس صمدانی کے انکار کو گورڈن کالج راولپنڈی کا قابل فخر طالب علم ایک جج کے انکار کی کہانیا ںآ                          ج کل اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کو عہدوں کے حصول اور نوکریاں بچانے کیلئے اپنے آپ کو طاقتور لوگوں کے سامنے جھکتے دیکھتا ہوں تو مجھے ایک جج صاحب بہت یاد آتے ہیں جو واقعی معزز تھے۔ اس معزز جج کی یاد اسلئے آئی ہے کہ اگر وہ بھی کسی بند کمرے میں تھوڑا سا جھک جاتے اور کسی فیصلے کے ذریعے تھوڑا سا گر جاتے تو بڑی آسانی سے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بن جاتے۔



 مزید جھکتے جھکاتے سپریم کورٹ بھی پہنچ جاتے اور ایک دن چیف جسٹس آف پاکستان بھی بن جاتے لیکن وہ ایک اصلی جج تھے لہٰذا نہ تو بند کمرے میں جھکے نہ ہی کسی عدالتی فیصلے میں اپنے آپ کو گرایا بلکہ طاقت کے سامنے کھڑے ہو کر انکار کردیا۔ جسٹس صمدانی کی زندگی کے واقعات پر نظر ڈالیں تو یقین نہیں آتا کہ کوئی جج اتنا درویش بھی ہو سکتا ہے کہ سچائی اور انصاف کی خاطر عدلیہ کے اعلیٰ ترین عہدوں کے پاس پہنچ کر بھی سب کچھ ٹھکرا دیا۔ جسٹس کے ایم صمدانی حیدرآباد دکن کے علاقے کریم نگر میں 1932ء میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔ گورڈن کالج راولپنڈی میں پروفیسر خواجہ مسعود جیسے استاد کے شاگرد بنے۔ غیرمعمولی ذہانت کے باعث اسکالر شپ حاصل کیا اور امریکا کی ییل یونیورسٹی سے ایل ایل ایم کیا۔ سی ایس ایس کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کرکے اعلیٰ سرکاری افسر بننے کی بجائے جوڈیشل سروس میں آگئے۔ ایک نوجوان ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی حیثیت سے کام شروع کیا تو جنرل ایوب خان پاکستان کے حکمران تھے۔ ایک دن عدالت میں بیٹھے تھے کہ ایک خاتون حکمرانِ وقت کی والدہ کا سفارشی خط لیکر آئیں۔ جسٹس کے ایم صمدانی نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ خاتون نے بڑی تمکنت سے کہا جنرل ایوب خان کی والدہ کا خط ہے۔ جج صاحب نے یہ خط پھاڑ کر آتش دان میں پھینک دیا


۔ جب ان کی پوسٹنگ سیالکوٹ میں تھی تو ایک دن چیف جسٹس آف پاکستان اے آر کارنیلئس ایک ڈسپنسری کے افتتاح کیلئے وہاں آئے۔ ڈسپنسری کا افتتاح وہ ذاتی حیثیت میں کرنے آئے۔ شہر کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے ایم صمدانی کو چیف جسٹس آف پاکستان کا استقبال کرنا چاہئے تھا لیکن یہ ان کے فرائض میں شامل نہ تھا لہٰذا انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو نظر انداز کردیا -رقیبوں نے چیف جسٹس کے سامنے کافی لگائی بجھائی کی لیکن اے آر کارنیلئس بھی ایک اصول پرست جج تھے انہوں نے کے ایم صمدانی کی گستاخی نظرانداز کردی۔ 1972ء میں جسٹس کے ایم صمدانی کو لاہور ہائیکورٹ میں جج مقرر کردیا گیا۔ 1977ء میں مارشل لانافد ہوگیا تو کچھ عرصے کے بعد وہ لاہور ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس بن گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو پر احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان کے قتل کا پرانا مقدمہ کھول کر دوبارہ تحقیقات کی ذمہ داری ایف آئی اے کو سونپی گئی۔ بھٹو صاحب کوٹ لکھپت جیل میں تھے اور ان کے وکلا ہائیکورٹ کے ذریعہ بھٹو صاحب کیلئے چھوٹی چھوٹی سہولتیں حاصل کرنے لگے جنکی قانون میں گنجائش موجود تھی۔ ایک دفعہ جسٹس کے ایم صمدانی نے بھٹو صاحب کو جیل میں کاغذ اور قلم فراہم کرنیکا حکم دیا تو انکے ساتھی جج جسٹس مولوی مشتاق حسین ان کے پاس آئے اور کہا کہ صمدانی صاحب آپ تو بھٹو کو کچھ زیادہ ہی فیور دے رہے ہیں۔ صمدانی صاحب نے جواب میں کہا کہ بطور جج میں آپ کا ماتحت نہیں مجھے بہتر علم ہے کہ میں نے عدالت میں کیا کرنا ہے۔ کچھ ہی دنوں بعد ذوالفقار علی بھٹو کی درخواست ضمانت دائر کردی گئی۔ جسٹس کے ایم صمدانی قائم مقام چیف جسٹس تھے انہوں نے بطور سینئر جج اپنی عدالت میں اس درخواست کی سماعت کی اور بھٹو کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ذوالفقار علی بھٹو کی ضمانت پر رہائی نے جنرل ضیاءالحق کو آگ بگولا کر دیا۔ انہوں نے پنجاب کے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر سے پوچھا تم نے بھٹو کو رہائی کے بعد گرفتار کیوں نہ کیا؟ جنرل اقبال نے جواب میں کہا کہ بھٹو کیخلاف کوئی دوسرا مقدمہ نہیں تھا۔ پھر بھٹو کو مارشل لا ریگولیشن کے تحت گرفتار کرلیا گیا۔


 جسٹس مولوی مشتاق حسین کے جنرل ضیاء الحق سے قریبی روابط تھے۔ وہ پہلے ہی جنرل ضیاء کو جسٹس کے ایم صمدانی سے بدظن کر چکے تھے لہٰذا صمدانی صاحب کو انکے عہدے سے ہٹا کر وفاقی سیکرٹری قانون بنا دیاگیا اور مولوی مشتاق حسین لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بن گئے۔ 1979ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد جنرل ضیاء الحق ایک ایسے خونخوار فوجی ڈکٹیٹربن چکے تھے جن کو امریکا کی پشت پناہی بھی حاصل تھی۔ ایک دن فوجی ڈکٹیٹر کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر رہا تھا۔ اجلاس میں تمام وفاقی سیکرٹری بھی موجود تھے۔ فوجی ڈکٹیٹر نے بڑی رعونت سے کہا کہ بعض سیکرٹری بڑے کرپٹ ہیں میرا جی چاہتا ہے کہ انکی پتلون اتار کر انہیں الٹا لٹکا دوں۔ اس فقرے کے بعد کابینہ کے اجلاس میں سناٹا چھا گیا۔ وفاقی سیکرٹری  وفاقی سیکرٹری ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ سب خاموش تھے سب کو اپنی نوکری کی فکر تھی۔ جسٹس کے ایم صمدانی بدستور جج تھے۔ ڈیپوٹیشن پر لا سیکرٹری بنائے گئے تھے۔ وہ اجلاس میں کھڑے ہوگئے اور کہا کہ جنرل صاحب! میرا بھی جی چاہتا ہے کہ کرپٹ جرنیلوں کی پتلون اتار کر انہیں الٹا لٹکا دوں۔ یہ سنکر جنرل ضیاء سٹپٹا گئے۔ اجلاس میں بریک لیا گیا تو جنرل ضیاء نے جسٹس کے ایم صمدانی کو علیحدگی میں بلایا اور کہا کہ آپ مجھ سے معذرت کریں۔ جسٹس کے ایم صمدانی نے جواب دیا کہ اجلاس دوبارہ شروع ہوتے ہی آپ اپنے الفاظ واپس لیں تو میں بھی اپنے الفاظ واپس لے لوں گا۔ جنرل ضیاء نے معذرت سے انکار کیا تو جسٹس کے ایم صمدانی نے بھی معذرت سے انکار کر دیا۔ مارچ 1980ء میں پیش آنیوالا یہ واقعہ جسٹس کے ایم صمدانی نے کئی سال کے بعد جناب عامر خاکوانی کو خود سنایا تھا۔ جنرل ضیاء نے انہیں واپس لاہور ہائیکورٹ بھیج دیا۔ 1981ء میں ججوں سے کہا گیا کہ پی سی او پر حلف لو۔ جسٹس کے ایم صمدانی نے پی سی او پر حلف لینے سے انکار کردیا۔ جی او آر لاہور میں گیارہ ایکمین روڈ پر انکی سرکاری رہائشگاہ تھی۔ ساتھی ججوں اور وکلا نے کہا کہ جج صاحب حلف لے لیں اور چیف جسٹس بن جائیں۔ انکی عمر صرف 46 برس تھی۔  انکار پر قائم رہے اور استعفیٰ دیدیا۔ اس وقت سب سے چھوٹی بیٹی کی عمر صرف پانچ سال تھی۔ پھر انکے دربدر ہونے کی ایک لمبی کہانی ہے لیکن ابنِ عربی اور واصف علی واصف کے مداح اس درویش جج کا جرنیل کے سامنے انکار انہیں تاریخ میں ہمیشہ کیلئے زندہ کرگیا۔ آج کل کے اکثر ججوں کو تاریخ میں زندہ رہنے کا کوئی شوق نہیں لہٰذا وہ بند کمروں میں اقرار کرکے بہت کچھ پا لیتے ہیں

انٹر نیٹ سے ماخوذ تحریر

میوزیم ' آرٹ گیلریزاور اعلیٰ تعلیمی اداروں کا شہر مانٹریال

 

مونٹریال ٹورنٹو کے بعد کینیڈا کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے جس کی تخمینہ 4 ملین سے زیادہ آبادی ہے۔ کینیڈا میں مونٹریال تجارت، فن تعمیر، فنون اور ثقافت میں بہت اہم ہے کیونکہ یہ کینیڈا کے سب سے زیادہ فعال سماجی مرکزوں میں سے ایک ہے۔  یہاں کی ثقافت، متنوع تفریح ​​اور غیر معمولی طور پر قبول کرنے والے لوگوں نے کینیڈا اور دنیا بھر سے لوگوں کو بڑی تعداد میں مونٹریال آنے کی طرف راغب کیا ہے۔ مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک اولڈ مونٹریال ہے، جو مونٹریال شہر کی ابتدائی تاریخ کا ایک زندہ میوزیم ہے۔ مونٹریال شہر میں بھی دوستانہ اور خوشگوار رہائشی ہیں جو شہر کے دورے کو بہت یادگار بناتے ہیں۔ گلیوں اور شہر کے راستوں کی گہرائی میں رہتے ہوئے، شہر کے چاروں طرف پر سکون، پُرسکون اور پُرسکون ماحول کی وجہ سے ہمیشہ امن و سکون کا یقین دلایا جاتا ہے۔مونٹریال کی متنوع ثقافتی واقفیت                          تقریباً تمام انسانی تہذیبوں کی ایک مقبول ثقافت ہے جس سے وہ منسلک ہیں کیونکہ ثقافت ایک علامتی اظہار کے طور پر کام کرتی ہے جس کے ذریعے اس کے حامی اپنے اصولوں اور نظریات کو جوڑتے ہیں اور ان کا ایک دوسرے کے ساتھ بہت زیادہ اعتراف کرتے ہیں۔ جیسا کہ یہ پتہ چلتا ہے، ثقافت کسی بھی کمیونٹی کے لئے بہت اہم ہے. چاہے کوئی ہم عصر ہپ ہاپ ثقافت یا شہر کے رہائشیوں یا اس کے متعدد تارکین وطن کی کسی دوسری ثقافت کی تلاش کر رہا ہو، مونٹریال شہر میں پیش کرنے کے لیے سب کچھ ہے۔


 اپنے تاریخی، دلکش، ملنسار اور متنوع ثقافتی رجحان کی وجہ سے، مونٹریال میرے لیے بالکل اسی طرح دلچسپی کا مرکز بن گیا جس طرح دوسرے لوگ سال کے چار موسموں میں شہر کی سیر کرتے اور آتے ہیں۔ یہ شہر کئی سالوں سے وجود میں ہے اور میں نے مانٹریال میں ہونے والی کارروائی کو ناقابل یقین حد تک ناقابل یقین پایا، جس کی وجہ سے یہ شاید صوبہ کیوبیک کا واحد شہر ہے جس نے اتنی ساری ذیلی ثقافتوں اور مختلف طرز زندگی کو ایک ساتھ رکھا ہے۔مونٹریال میں فروغ پزیر آرٹس اور میڈیا انڈسٹریزمیں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ مونٹریال میں آرٹس اور میڈیا کی صنعتیں بہت زیادہ ترقی یافتہ ہیں، فیشن اور آرٹ شوز کے ساتھ جو شہر کی فیشن انڈسٹری کا ایک اہم حصہ بھی ہیں۔ شہر کے لوگ بہت سے تہواروں کا انعقاد کرتے ہیں، جو لوگوں کی ثقافت سے منسلک ہوتے ہیں اور ان کی ثقافت، اقدار اور اصولوں کو منانے میں مدد کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، مونٹریال جاز فیسٹیول شاید شہر کا اب تک کا سب سے بڑا میوزیکل موقع ہے۔ ہر سال، دنیا بھر سے سینکڑوں نامور موسیقار اور موسیقی کے ہزاروں شائقین پرفارمنس میں شرکت کے لیے سفر کرتے ہیں جو کہ شہر کے ثقافتی رجحان کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔


مانٹریال کا شہر کیوبیک کے صوبے کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے۔ شہر کا اصل رقبہ جزیرے کے بڑے حصے پر سینٹ لارنس اور اوٹاوا دریا کے سنگم پر واقع ہے۔ مانٹریال کی بندرگاہ سینٹ لارنس کی آبی گذرگاہ کے ایک سرے پر واقع ہے۔ یہ آبی گذرگاہ عظیم جھیلوں کو بحرِ اوقیانوس سے ملاتی ہے۔ شہر کا نام جزیرے کے سب سے اہم اور نمایاں جغرافیائی مقام یعنی رائل نامی پہاڑ کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ پہاڑ انگریزی میں ماؤنٹ رائل کہلاتا ہے اور سطح سمندر سے 232 میٹر بلند ہے۔مونٹریال - ڈیزائن اور فیشن کا ایک مرکزمزید برآں، مجھے پتہ چلا کہ مونٹریال یقینی طور پر ڈیزائنرز کا شہر ہے کیونکہ یہ شہر بڑی تعداد میں پیشہ ورانہ ڈیزائنرز کی میزبانی کرتا ہے جو بڑے پیمانے پر شہر کے ثقافتی شعبے کے معاشی اثرات میں حصہ ڈالتے ہیں۔ شہر کی انتظامیہ نے ایسی حکمت عملی وضع کی ہے جس نے ان ڈیزائنرز کے کاروبار کو بڑھایا اور بہتر بنانے میں مدد کی ہے، اس طرح شہر کو عالمی فیشن کے نقشے پر رکھا گیا ہے۔ شہر میں ایسے مقامات کی ایک قابل ذکر تعداد بھی ہے جو بین الاقوامی ڈیزائن کی سرگرمیاں منعقد کرتی ہیں جیسے کہ Université du Québec کے ڈیزائن سینٹر۔مونٹریال میں تعلیم اور ثقافتی ترقی              تعلیم شہر کی ثقافتی ترقی


 
 مونٹریال میں متعدد تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ میوزیم اور آرٹ گیلریوں کا ایک بڑا نیٹ ورک بھی ہے۔ مثال کے طور پر مونٹریال میوزیم آف فائن آرٹس میں کینیڈین آرٹ کا متنوع ذخیرہ موجود ہے جو دنیا بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ مونٹریال کے لوگ ثقافتی طور پر مذہبی ہیں اور مشہور چرچ جیسے کہ اورٹری، کینیڈا کا سب سے بڑا چرچ شہر میں واقع ہے، جو سیاحوں کی توجہ کا ایک بڑا مرکز بھی ہے۔مونٹریال - ثقافتی تنوع کا جشن       دوسری ثقافتی کمیونٹیز، جو شہر میں ہجرت کر کے آئی ہیں، نے مونٹریال شہر کی ثقافت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کمیونٹیز کی حمایت کا جشن منانے کے لیے بہت سی ثقافتی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے، جیسے کہ، یونانی یوم آزادی جو مونٹریال کے ثقافتی ورثے میں ایک اہم شراکت دار رہا ہے اور اپنے ثقافتی اور سماجی خدمات کے اجتماعی اداروں کی بڑی تعداد کے لیے مشہور ہے۔مونٹریال کی دوستانہ اور خوش آئند فطرت یہاں کے  لوگوں کی دوستانہ اور مہمان نواز طبیعت کو دیکھ کر  خود بخود قریب آتے ہیں وہ ہر وقت کسی مہمان کی مدد کے لیے تیار رہتے  ہیں ۔اس  جذبےنے شہر کو دنیا کے سب سے دوستانہ حوالوں میں سے ایک  دل لبھانے والا   اور  عالمی سطح پر رہنے کے لیے خوشگوار شہر بنا دیا ہے۔ 

منگل، 30 دسمبر، 2025

میں سہاگن بنی مگرـاماں ابھی تو میرے ابا کا کفن بھی میلا نہیں ہوا ہوگا

                                

طلال  بھائ بڑی آپا کو معہ  بیٹے کے چھوڑ گئے تھے انہوں نے کہا تھا چالیسویں پرجب آئیں گے تب ان کو لے جائیں گے طلال بھائ بھی ایک مہینے کی چھٹی لے کر آئے ہوئے تھے -لیکن وہ تینوں تایا ابو کے ساتھ ان کے گھر ٹھرے ہوئے تھے لیکن  دن ہم لوگوں کے ساتھ گزارنے آجاتے تھے  ہمارے  گھر کی فضاء بدستور سوگوار ہی تھی ، وہ پرسے دار جو ابّا کے مرنے پر نہیں آسکے تھے وہ بھی  گاہے بگاہے چلے آرہے تھے ایسے میں ایک رات منجھلی آپا سہ پہر کو رفاقت بھائ  کے ساتھ ہمارے گھر آئیں دونوں بچے ساتھ نہیں تھے ہم بہنیں ڈر گئے لیکن منجھلی آپا سیدھی اماں کے پاس چلی گئیں ہماری آنکھوں میں تجسس دیکھ کر انہوں نے کہا سب ٹھیک ہےپھر وہ چلی بھی گئیں -اب اماں ہمارے پاس آ گئیں   اس سے اگلے روزمنجھلی آپا صبح صبح اپنی ساس کے ساتھ ہمارے گھرآگئیں ،ویسے تو ابّا کےمرنے پر بھی وہ ہمارے گھر آ ئیں تھیں لیکن شائد میں ان کی صحت پر توجّہ  نہیں سکی ہوں گی جو اس بار مجھے وہ بہت کمزور ،کمزور سی دکھائ دے رہی تھیں,, آتے ہی انہوں نے امّاں سے کہا کہ وہ تخلیے میں ملاقات چاہتی ہیں اور امّاں ان  کو لے کر بیٹھک کے لئے مخصوص کونے کے کمرے میں چلی گئیں اورمنجھلی آپا نے ناشتے کا انتظام سنبھالنے کے لئے باورچی خانے کارخ کیا تو میں نے نرگس آپی سے کہا کہ میں ان دونوں کی باتوں کی سن گن لینے  جارہی ہوں ،نرگس آپی نے کہا میں تم کو منع بھی کر وں گی تو تم کو ن سی  میری بات سنو گی اور میں حسب معمول کسی بہانے سے کمرے کے دروازے کی اوٹ میں کھڑی ہو گئ لیکن  اس سے اگلے روزمنجھلی آپا صبح صبح اپنی ساس کے ساتھ ہمارے گھرآگئیں ،


ویسے تو ابّا کےمرنے پر بھی وہ ہمارے گھر آ ئیں تھیں لیکن شائد میں ان کی صحت پر توجّہ  نہیں سکی ہوں گی جو اس بار مجھے وہ بہت کمزور ،کمزور سی دکھائ دے رہی تھیں,, آتے ہی انہوں نے امّاں سے کہا کہ وہ تخلیے میں ملاقات چاہتی ہیں اور امّاں ان  کو لے کر بیٹھک کے لئے مخصوص کونے کے کمرے میں چلی گئیں اورمنجھلی آپا نے ناشتے کا انتظام سنبھالنے کے لئے باورچی خانے کارخ کیا تو میں نے نرگس آپی سے کہا کہ میں ان دونوں کی باتوں کی سن گن لینے  جارہی ہوں ،نرگس آپی نے کہا میں تم کو منع بھی کر وں گی تو تم کو ن سی  میری بات سنو گی اور میں حسب معمول کسی بہانے سے کمرے کے دروازے کی اوٹ میں کھڑی ہو گئ اوٹ کے پیچھے سے میں نے سنا منجھلی آپا کی سا س امّا ں سے کہ رہی تھی میں  سوالی بن کے آئ ہوں صداقت نیک ہے کماؤہے نمازی ہے اور جو بھی آپ سمجھیں وہ ہے ،اب وہ باہر جارہا ہے میں نے سنا منجھلی آپا کی ساس بہت خوشامدانہ لہجے میں امّاں سے کہ رہی  تھیں بہن صداقت کی خوا ہش   اور ساتھ میں میری بھی خواہش  ہے کہ صداقت کواپنا بیٹا بنا لو ،میں چاہتی ہوں صداقت اکیلا باہر نہیں جائے دیکھو بھائ اسلا م الدین کا تو وقت آگیا تھا اب تم ہی ان کی رکھوالی ہو    مجھے خالی دامن نا لو ٹانا ، اور امّاں کی آواز آئ چلئے چل کر چائے پی لیتے ہیں پھر بات ہوگی اور امّاں کی آواز آتے ہی میں بھاگ کر سائبان کی  دیوار کی اوٹ میں ہو گئ اور وہ دونو ں باہر آ گئیں ،


منجھلی آپا نے ناشتے کی میز سجا دی تھی'امّا ں نے منجھلی آپا کی ساس کو وہیں ناشتے کی میز پر بٹھایا اور خودمنجھلی آپا سے آ کر کہا ،نرگس کی مرضی پوچھ لو صداقت کے لئے،اور پھرامّاں منجھلی آپاکی ساس کے ساتھ جا کر بیٹھ گئیں'منجھلی آپا نے نرگس آپی سے سرگوشیوں میں جانے کیا پوچھا ہو گا ،نرگس آپی  نے کہا منجھلی آپا ابھی تو ہمارے ابّا کا کفن بھی میلا نہیں ہوا ہو گا,,یہ کیسی قیامت ہے ؟ میری ماں نے بیوگی کی چادر اوڑھی ہے اور میں دلہن بن جاؤں ،نرگس آپی جھر جھر رونے لگیں تو منجھلی آپا نے ان کو اپنے ساتھ لپٹا لیااور کہنے لگیں ،نرگس اس طرح تمھاری جانب سے امّاں کا بوجھ ہلکا ہو جائےگا تم غور تو کرو ،نرگس آپی نے  اپنا آنسوؤں سے تر چہرہ اوپر اٹھایا اور منجھلی آپا سے کہا ٹھیک ہے امّاں کی مرضی ہے تو میں بھی راضی ہوں ،منجھلی آپا نے ا ن کے ماتھے پر پیار کیا اور اٹھ کر کمرے سے چلی گئیں اور پھر منجھلی آپا نے اپنی ساس سے ناجانے کیا کہا کہ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر نرگس آپی کے پاس چلی آئیں ، نرگس آپی کی نظر جیسے ہی ان پر پڑی انہوں نے اپنا سر اپنے زانو ؤں پراوندھا کر چھپا لیا اور چپکے چپکے رونے لگیں منجھلی آپا کی ساس نے نرگس آپی کو اپنے ساتھ لپٹا لیا اور کہنے لگیں بیٹی ,,اللہ کی رضا واقع ہو کررہتی ہے لیکن کیا کریں دستور دنیا بھی نباہنا ہوتے ہیں تم سب کے دلوں پر لگا یہ گھاؤ زندگی بھر نہیں بھر سکتا ہے'لیکن کیا کریں جینے کی راہوں کو بھی تو سونا نہیں رکھا جا سکتا ہے


پھر انہوں نے اپنے پرس میں سے گلابی رنگ کا لفافہ نکال کر نرگس آپی کی ہاتھ پر رکھا   اور ان کے ماتھے پر پیار کر کے ان کے پاس سے واپس اماں کے پاس چلی گئیں -پھر  اماں کے ساتھ کچھ رازو نیاز کی باتیں کرتی رہیں  -پھرمنجھلی آپا ہمارے پاس آگئیں اور انہوں نے  نرگس آپی سے کہا نرگس اپنا ایک جوڑا دے دو درزی کو ناپ بھیجا جائے گا  - نرگس آپی سسکیاں لیتی ہوئ اٹھیں اور آہستہ سے بولیں منجھلی آپا مجھ سے پہلے فریال بجو ہیں ان کی شادی مجھ سے پہلے ہونی چاہیے پلیز آ پ فریال بجو سے بات کر لیجئے -نرگس آپی کے جواب میں منجھلی آپا نے کہا نرگس تم صداقت کا انتخاب   ہو اگر انہوں نے فریال کا نام لیا ہوتا تب میں فریال سے بات کرتی  منجھلی آپا کی بات پر مجھے وہ دن یاد آگیا جب منجھلی آپا کے یہاں منا پیدا ہواتھا اور میں اور نرگس آپی وارڈ میں تھے اور نرگس آپی نے بیٹے کو گود میں اٹھا یا ہوا تھا نرگس آپی کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا  اور انہی لمحات میں صداقت بھائ وارڈ میں آواز دیتے ہوئے اندر آ گئے تھے  ان کے آتے ہی نرگس آپی نے منے کو منجھلی آ پا کے پہلو واپس لٹانا چاہا تو صداقت بھائ نے کہا اسے مجھے دے دو نرگس آپی نے منے کو ان کی گود میں دیا تب وہ وہ نرگس آپی کا چہرہ دیکھ رہے تھے اور  نرگس آپی کی نگاہیں جھکی ہوئ تھیں  


پیر، 29 دسمبر، 2025

باکمال لوگوں سے بے کمال لوگوں کے سفر کے درمیان پی آئ اے


 با کمال لوگوں سے بے کمال لوگوں کے سفر میں پی آئ اے  'پورے پاکستان میں محب وطن لوگوں کے دل پی آئ اے کی نجکاری کی خبر سن کر  غم اورغصے سے بھر گئے ہیں  تحریک انصاف  کے  رہنما شوکت یوسفزئی نے قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل مکمل ہونے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق شوکت یوسفزئی نے پی آئی اے کی نجکاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے پر ان کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے،  دنیا بھر میں قومی اثاثوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں نااہل حکمرانوں کی مبینہ کرپشن اور ناقص پالیسیوں کے باعث قومی ادارے مسلسل زوال پذیر ہو رہے ہیں۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پی آئی اے جیسے قومی ادارے کی فروخت صرف ایک ادارے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک خطرناک ابتدا ہے، جس کے بعد مزید قومی ادارے بھی فروخت کیے جا سکتے ہیں، آخر ان قومی اداروں کو اس نہج تک پہنچانے کے ذمہ دار کون ہیں اور ان کا تعین کب کیا جائے گا؟پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ قومی ادارے عوام کی امانت ہوتے ہیں اور ان کی تباہی یا فروخت سے پہلے ان افراد کا احتساب ہونا چاہیے جن کی غلط پالیسیوں، بدانتظامی اور کرپشن کے باعث یہ ادارے خسارے میں گئے


، انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی آئی اے سمیت دیگر قومی اداروں کے معاملات کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔اورفارم 47 کے ذریعے مسلط کئے گئے حکمران گھر کاسامان اونے پونے بیچ کرجشن منانے میں مصروف ہیں۔اصلاح اوربہتری لانے کی بجائے قومی اداروں کی نجکاری حکومتی نااہلی اورملک دشمنی کے مترادف ہے ۔گزشتہ روز اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پی آئی اے دنیا کی بہترین ایئرلائن تھی اور اس نے ایمریٹس ،سنگاپور اور مالٹا ائیر لائن کو بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھامگرسیاسی مداخلت ومیرٹ کا قتل اورکرپشن کی وجہ سے ہرادارا تباہی کے دہانے پرکھڑاہے-واضح رہے کہ نجکاری کمیشن بورڈ کی جانب سے قومی ایئرلائن کی بولی کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی سب سے زیادہ بولی لگا کر پی آئی اے کے 75 فیصد حصص خرید لیے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نجکاری کا مقصد قومی ایئرلائن کو مالی طور پر مستحکم کرنا ہے، تاہم اپوزیشن جماعتیں اس فیصلے کو قومی مفادات کے خلاف قرار دے رہی ہیں۔جماعت اسلامی سندھ کے امیرکاشف سعید شیخ نے قومی ایئرلائن پی آئی اے کوفروخت کرنے والے حکومتی عمل پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ دنیا اپنے قومی اثاثوں کی حفاظت کرتی ہے۔


‏یہ ائر لائن   محترم اصفہانی  نے پاکستان کو   دی تھی لیکن پوری ایئرلائن وطنِ عزیز کو گفٹ کرنے پر اِن کے حصے میں صرف کراچی کی ایک سڑک کا نام "ابوالحسن اصفہانی روڈ" آیا ۔ ابو الحسن اصفہانی    قائدِاعظم کے نہایت قریب  اور دیرینہ رفیق تھے ۔قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے محض سیاسی خدمات تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ عملی طور پر بھی اس ملک کو مستحکم کرنے کے لیے اپنی تمام توانائیاں وقف کر دیں۔ ان کے خاندان نے 1946 میں “اورینٹ ایئرویز” کے نام سے ایک ایئرلائن قائم کی تھی جو قیامِ پاکستان کے وقت ایک مکمل فعال فضائی ادارہ تھی۔ جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو مرزا ابوالحسن اصفہانی نے اپنی یہ ذاتی ایئرلائن بغیر کسی مالی مطالبے کے حکومتِ پاکستان کے حوالے کر دی۔ یہ وہی “اورینٹ ایئرویز” تھی جو بعد میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) کہلائی — وہ قومی ایئرلائن جس نے پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ایک نیا مقام دیا۔یعنی ایک پورا فضائی ادارہ، اپنی چلتی ہوئی ایئرلائن، حکومتِ پاکستان کو صرف اس محبت میں عطیہ کر دی گئی کہ یہ وطن جس قربانی سے حاصل ہوا ہے، اسے مضبوط بنیاد پر کھڑا کیا جا سکے۔ لیکن افسوس کہ ایسے کردار ہمارے نصاب میں جگہ نہ پا سکے۔ پوری ایئرلائن وطنِ عزیز کو تحفے میں دینے پر ان کے حصے میں صرف کراچی کی ایک سڑک کا نام آیا — “ابوالحسن اصفہانی روڈ”۔ یہ شاہراہ آج گلشنِ اقبال اور گلستانِ جوہر کے درمیان سے گزرتی ہے اور اسی مردِ مومن کی یاد دلاتی ہے جس نے ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دی۔مرزا ابوالحسن اسفہانی صرف ایک کاروباری شخصیت نہیں تھے بلکہ پاکستان کے پہلے سفارت کاروں میں سے بھی تھے۔ انہوں نے 1948 سے 1952 تک امریکہ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔


وہ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے پہلے نمائندوں میں شامل تھے، بعد ازاں برطانیہ میں ہائی کمشنر، وفاقی وزیرِ تجارت و صنعت اور افغانستان کے لیے سفیر بھی مقرر ہوئے۔ ان کی سفارت کاری نے پاکستان کے عالمی تعلقات کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔انہوں نے اپنی زندگی کے تجربات کو کتابی صورت میں بھی محفوظ کیا۔ ان کی تصنیف “The Case of Muslim India” تحریکِ پاکستان کے ابتدائی دور کی فکری جھلک پیش کرتی ہے، جبکہ “Quaid-e-Azam Jinnah as I Knew Him” قائدِاعظم کے ساتھ گزری یادوں کا تاریخی مجموعہ ہے۔مرزا ابوالحسن اسفہانی ان چند مہاجروں میں سے تھے جنہوں نے لفظ “قربانی” کا عملی مفہوم دنیا کو دکھایا۔ وہ نہ صرف اپنے وطنِ نیا کی محبت میں سب کچھ چھوڑ کر آئے بلکہ جو کچھ ان کے پاس تھا وہ بھی وطن کے نام کر دیا۔ کاش ہمارے نصاب میں ان کا ذکر ہوتا، تاکہ نئی نسل جان پاتی کہ پاکستان کے خمیر میں کن لوگوں کی اخلاص بھری قربانیاں شامل ہیں۔کراچی کی “ابوالحسن اصفہانی روڈ” آج بھی ان کے نام کی طرح روشن ہے — ایک خاموش مگر ابدی یادگار اُن کرداروں کی، جنہوں نے اپنے عمل سے پاکستان کو اوجِ ثریا تک پہنچانے کا خواب دیکھا

اتوار، 28 دسمبر، 2025

مفت عمرے کے بدلے 25 برس کی قید کی کہانی


 بات ہر پھر کے علم کے فقدان پر آ جاتی ہے اگر ان معصوم دیہاتی خواتین کو علم ہوتا کہ مفت کا عمرہ ان کو 80 سال کی عمر میں خدا کے گھر کے بجائے 25 سال کے لئے جیل میں پہنچا دیگا تو یقینا! عمرے پر جانے کی حامی نا بھرتیں   اُس  روز زیارت بی بی اور انور بی بی بہت خوش تھیں۔ بات ہی کچھ ایسی تھی۔ 30 ستمبر 2024 کا دن تھا اور یہ دونوں بزرگ خواتین عمرے کی ادائیگی کے لیے روانہ ہونے والی تھیں۔پنجاب کے ضلع فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والی خواتین اپنے ایک قریبی رشتہ دار نیئر عباس کے ہمراہ قریب کے ایک اور گاؤں پہنچیں، جہاں کے امام مسجد محمد ریاض بھی اپنی اہلیہ کے ساتھ اس سفر میں اُن کے ساتھ شریک ہونے والے تھے۔اِن پانچوں افراد کے عمرے کا بندوبست مبینہ طور پر مقامی زمیندار صدام حسین نے کروایا تھا جنھوں نے نہ صرف عمرے کے اخراجات ادا کیے بلکہ پانچوں افراد کو اسلام آباد ایئر پورٹ بھی اپنے خرچے پر بھیجا۔لیکن پاکستان سے روانگی کے صرف ایک ہفتے بعد اِن پانچوں افراد کی سعودی عرب میں گرفتاری کی خبر ملنے پر اُن کے اہلخانہ ہکا بکا رہ گئے۔ اور اُن کی پریشانی اُس وقت مزید بڑھ گئی جب لگ بھگ پانچ ماہ بعد، 17 فروری 2025، کو ان تین خواتین سمیت پانچوں افراد کو منشیات کی سمگلنگ کے الزام میں ایک سعودی عدالت نے پچیس، پچیس سال قید کی سزا کا حکم دے دیا۔یہ معاملہ کیا ہے؟ اس بارے میں پتہ چلا ہے کہ کیسے سادہ لوح افراد کو عمرے کا جھانسا دے کر روانگی سے تھوڑی دیر پہلے انھیں زبردستی ایسا سامان پکڑایا گیا جس میں منشیات چھپائی گئی تھی


۔لیکن سعودی عرب جانے سے پہلے یہ کیسے ہوا؟ اور اب یہ پانچ افراد بشمول زیارت بی بی اور انور بی بی کہاں ہیں؟ 30 ستمبر 2024 کے دن جڑانوالہ   کے ابرار حسین نے اپنی والدہ کو اسلام آباد ایئر پورٹ تک چھوڑنے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن مبینہ طور پر اِس سفر کا بندوبست کرنے والے صدام حسین نے انھیں ایسا کرنے سے روک دیا۔عمرے پر جانے والوں کی ’خدمت‘ اور ’تحائفپانچوں افراد 30 ستمبر 2024 کو ائیر سیال کی فلائٹ نمبر پی ایف 718 کے ذریعے صبح چھ بج کر دس منٹ پر جدہ روانہ ہوئے تھے-25 سال قید کی سزا پانے والی ضعیف خاتون زیارت بی بی کے بیٹے ابرار حسین کی خواہش تھی کہ وہ اپنی والدہ کو اسلام آباد ائیرپورٹ پر خود الوداع کرنے جاتے لیکن، اُن کا دعویٰ ہے کہ صدام حسین نے کہا کہ ’آپ لوگوں کو اسلام آباد آنے جانے کا خرچہ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟‘اُن کے مطابق صدام حسین نے انھیں بتایا کہ ’ہم اگر اِن کو ایصالِ ثواب کی نیت سے عمرہ کے لیے بھجوا رہے ہیں تو اسلام آباد میں اُن کو کوئی تکلیف پہنچنے نہیں دیں گے۔دوسرا کیسکراچی    ،ٹریول گینگ کا مبینہ کارنامہ، عمرے پر جانیوالی فیملی سعودی عرب میں پھنس گئی Sep 23, 2025 | 03:00 PMکراچی    ،ٹریول گینگ کا مبینہ کارنامہ، عمرے پر جانیوالی فیملی سعودی عرب میں پھنس گئی کراچی (آئی این پی )کراچی کے علاقے سرجانی ٹائون سے عمرے پر جانے والی فیملی سعودی عرب میں پھنس گئی۔رپورٹ  کے مطابق عمرہ کرانے کے نام پر منشیات اسمگل کرنے والے ٹریول گینگ کے سرگرم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔متاثرہ اہلخانہ نے وزیراعظم، وزیر خارجہ، اعلی حکام سے اپیل کی ہے کہ بے گناہ گھر والوں کو فوری پاکستان لایا جائے۔8


 ستمبر کو ایک ہی خاندان کے 4 افراد عمرے کی ادائیگی کے لئے گئے، زائرین میں 23 سالہ زاہدہ، 26 سالہ جمیل، 28 سالہ ذاکر اور 45 سالہ انوری شامل ہیں۔اہلخانہ نے بتایا کہ جمیل مزدوری کرتا ہے اس کا ایک نوزائیدہ بیٹا ہے، زاہدہ کی دو بچیاں ہیں، 8 ستمبر کو گھر والے عمرے کے لیے کراچی سے جدہ روانہ ہوئے، 10 دن تک ان سے رابطہ نہیں ہورہا تھا، 19 ستمبر کو غیرملکی نمبر سے کال آئی، بتایا گیا کہ ہمارے سامان سے منشیات، ممنوعہ اشیا برآمد ہوئی ہیں۔متاثرہ اہلخانہ کے مطابق بتایا گیا کہ گھر والے سعودی حکومت کی حراست میں ہیں، لیگیج احرام، عمرے میں استعمال ہونے والی اشیا ٹریول ایجنٹ علی نے دی تھیں اور گھر والوں کے سامان کو منع کرکے خود سے سامان دیا۔اہلخانہ نے بتایا کہ ٹریول ایجنٹ سے مزید برآں، حکام نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ منشیات کی اسمگلنگ یا اس نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف قانون بلاامتیاز حرکت میں لایا جائےرابطے کی کوشش کررہے ہیں لیکن وہ مفرور ہے، ہمارے گھر والے بے گناہ ہیں، منشیات کے کیس میں پھنسایا گیا ہے۔


  ایک اور دلخراش خبر: سعو دی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں منشیات اسمگلنگ کے سنگین جرم میں ملوث دو پاکستانی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔سعودی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق، دونوں پاکستانی شہریوں نے ہیروئن اور دیگر ممنوعہ منشیات جسم کے مختلف حصوں میں چھپا کر سعودی عرب اسمگل کرنے کی کوشش کی، جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔حکام کے مطابق، عدالت میں مقدمے کی مکمل سماعت کے بعد جرم ثابت ہونے پر دونوں ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے سزا کے خلاف دائر اپیل مسترد کر دی، جس کے بعد شاہی فرمان کے تحت سزا پر عمل درآمد کی منظوری دی گئی۔سعودی وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ دونوں پاکستانی شہریوں کو آج مکہ مکرمہ میں سزائے موت دی گئی۔وزارتِ داخلہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ سعودی عرب میں منشیات اسمگلنگ اور اس سے متعلق جرائم کو انتہائی سنگین تصور کیا جاتا ہے، اور ایسے جرائم میں ملوث افراد کو سخت ترین سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر