با کمال لوگوں سے بے کمال لوگوں کے سفر میں پی آئ اے 'پورے پاکستان میں محب وطن لوگوں کے دل پی آئ اے کی نجکاری کی خبر سن کر غم اورغصے سے بھر گئے ہیں تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل مکمل ہونے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق شوکت یوسفزئی نے پی آئی اے کی نجکاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے پر ان کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے، دنیا بھر میں قومی اثاثوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں نااہل حکمرانوں کی مبینہ کرپشن اور ناقص پالیسیوں کے باعث قومی ادارے مسلسل زوال پذیر ہو رہے ہیں۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پی آئی اے جیسے قومی ادارے کی فروخت صرف ایک ادارے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک خطرناک ابتدا ہے، جس کے بعد مزید قومی ادارے بھی فروخت کیے جا سکتے ہیں، آخر ان قومی اداروں کو اس نہج تک پہنچانے کے ذمہ دار کون ہیں اور ان کا تعین کب کیا جائے گا؟پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ قومی ادارے عوام کی امانت ہوتے ہیں اور ان کی تباہی یا فروخت سے پہلے ان افراد کا احتساب ہونا چاہیے جن کی غلط پالیسیوں، بدانتظامی اور کرپشن کے باعث یہ ادارے خسارے میں گئے
، انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی آئی اے سمیت دیگر قومی اداروں کے معاملات کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔اورفارم 47 کے ذریعے مسلط کئے گئے حکمران گھر کاسامان اونے پونے بیچ کرجشن منانے میں مصروف ہیں۔اصلاح اوربہتری لانے کی بجائے قومی اداروں کی نجکاری حکومتی نااہلی اورملک دشمنی کے مترادف ہے ۔گزشتہ روز اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پی آئی اے دنیا کی بہترین ایئرلائن تھی اور اس نے ایمریٹس ،سنگاپور اور مالٹا ائیر لائن کو بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھامگرسیاسی مداخلت ومیرٹ کا قتل اورکرپشن کی وجہ سے ہرادارا تباہی کے دہانے پرکھڑاہے-واضح رہے کہ نجکاری کمیشن بورڈ کی جانب سے قومی ایئرلائن کی بولی کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی سب سے زیادہ بولی لگا کر پی آئی اے کے 75 فیصد حصص خرید لیے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نجکاری کا مقصد قومی ایئرلائن کو مالی طور پر مستحکم کرنا ہے، تاہم اپوزیشن جماعتیں اس فیصلے کو قومی مفادات کے خلاف قرار دے رہی ہیں۔جماعت اسلامی سندھ کے امیرکاشف سعید شیخ نے قومی ایئرلائن پی آئی اے کوفروخت کرنے والے حکومتی عمل پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ دنیا اپنے قومی اثاثوں کی حفاظت کرتی ہے۔
یہ ائر لائن محترم اصفہانی نے پاکستان کو دی تھی لیکن پوری ایئرلائن وطنِ عزیز کو گفٹ کرنے پر اِن کے حصے میں صرف کراچی کی ایک سڑک کا نام "ابوالحسن اصفہانی روڈ" آیا ۔ ابو الحسن اصفہانی قائدِاعظم کے نہایت قریب اور دیرینہ رفیق تھے ۔قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے محض سیاسی خدمات تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ عملی طور پر بھی اس ملک کو مستحکم کرنے کے لیے اپنی تمام توانائیاں وقف کر دیں۔ ان کے خاندان نے 1946 میں “اورینٹ ایئرویز” کے نام سے ایک ایئرلائن قائم کی تھی جو قیامِ پاکستان کے وقت ایک مکمل فعال فضائی ادارہ تھی۔ جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو مرزا ابوالحسن اصفہانی نے اپنی یہ ذاتی ایئرلائن بغیر کسی مالی مطالبے کے حکومتِ پاکستان کے حوالے کر دی۔ یہ وہی “اورینٹ ایئرویز” تھی جو بعد میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) کہلائی — وہ قومی ایئرلائن جس نے پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ایک نیا مقام دیا۔یعنی ایک پورا فضائی ادارہ، اپنی چلتی ہوئی ایئرلائن، حکومتِ پاکستان کو صرف اس محبت میں عطیہ کر دی گئی کہ یہ وطن جس قربانی سے حاصل ہوا ہے، اسے مضبوط بنیاد پر کھڑا کیا جا سکے۔ لیکن افسوس کہ ایسے کردار ہمارے نصاب میں جگہ نہ پا سکے۔ پوری ایئرلائن وطنِ عزیز کو تحفے میں دینے پر ان کے حصے میں صرف کراچی کی ایک سڑک کا نام آیا — “ابوالحسن اصفہانی روڈ”۔ یہ شاہراہ آج گلشنِ اقبال اور گلستانِ جوہر کے درمیان سے گزرتی ہے اور اسی مردِ مومن کی یاد دلاتی ہے جس نے ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دی۔مرزا ابوالحسن اسفہانی صرف ایک کاروباری شخصیت نہیں تھے بلکہ پاکستان کے پہلے سفارت کاروں میں سے بھی تھے۔ انہوں نے 1948 سے 1952 تک امریکہ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
وہ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے پہلے نمائندوں میں شامل تھے، بعد ازاں برطانیہ میں ہائی کمشنر، وفاقی وزیرِ تجارت و صنعت اور افغانستان کے لیے سفیر بھی مقرر ہوئے۔ ان کی سفارت کاری نے پاکستان کے عالمی تعلقات کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔انہوں نے اپنی زندگی کے تجربات کو کتابی صورت میں بھی محفوظ کیا۔ ان کی تصنیف “The Case of Muslim India” تحریکِ پاکستان کے ابتدائی دور کی فکری جھلک پیش کرتی ہے، جبکہ “Quaid-e-Azam Jinnah as I Knew Him” قائدِاعظم کے ساتھ گزری یادوں کا تاریخی مجموعہ ہے۔مرزا ابوالحسن اسفہانی ان چند مہاجروں میں سے تھے جنہوں نے لفظ “قربانی” کا عملی مفہوم دنیا کو دکھایا۔ وہ نہ صرف اپنے وطنِ نیا کی محبت میں سب کچھ چھوڑ کر آئے بلکہ جو کچھ ان کے پاس تھا وہ بھی وطن کے نام کر دیا۔ کاش ہمارے نصاب میں ان کا ذکر ہوتا، تاکہ نئی نسل جان پاتی کہ پاکستان کے خمیر میں کن لوگوں کی اخلاص بھری قربانیاں شامل ہیں۔کراچی کی “ابوالحسن اصفہانی روڈ” آج بھی ان کے نام کی طرح روشن ہے — ایک خاموش مگر ابدی یادگار اُن کرداروں کی، جنہوں نے اپنے عمل سے پاکستان کو اوجِ ثریا تک پہنچانے کا خواب دیکھا
پاکستان کی سرکاری ایئرلائن کمپنی پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں فروخت کر دیا گیا ہے۔ پاکستان نے منگل (23 دسمبر) کو قومی ایئرلائن کی نجکاری کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کو ایک مقامی سرمایہ کاری کمپنی کی سربراہی میں ’کنسورشیم‘ کو فروخت کر دیا گیا ہے۔ نیلامی کی تقریب اسلام آباد میں منعقد کی گئی۔ جہاں لکی سیمنٹ، پرائیویٹ ایئرلائن ایئربلیو اور انویسٹمنٹ فرم عارف حبیب سمیت تینوں پری کوالیفائڈ پارٹیوں نے اپنی مہر بند بولیاں ایک ٹرانسپیرنٹ باکس میں جمع کیں۔
جواب دیںحذف کریں