بات ہر پھر کے علم کے فقدان پر آ جاتی ہے اگر ان معصوم دیہاتی خواتین کو علم ہوتا کہ مفت کا عمرہ ان کو 80 سال کی عمر میں خدا کے گھر کے بجائے 25 سال کے لئے جیل میں پہنچا دیگا تو یقینا! عمرے پر جانے کی حامی نا بھرتیں اُس روز زیارت بی بی اور انور بی بی بہت خوش تھیں۔ بات ہی کچھ ایسی تھی۔ 30 ستمبر 2024 کا دن تھا اور یہ دونوں بزرگ خواتین عمرے کی ادائیگی کے لیے روانہ ہونے والی تھیں۔پنجاب کے ضلع فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والی خواتین اپنے ایک قریبی رشتہ دار نیئر عباس کے ہمراہ قریب کے ایک اور گاؤں پہنچیں، جہاں کے امام مسجد محمد ریاض بھی اپنی اہلیہ کے ساتھ اس سفر میں اُن کے ساتھ شریک ہونے والے تھے۔اِن پانچوں افراد کے عمرے کا بندوبست مبینہ طور پر مقامی زمیندار صدام حسین نے کروایا تھا جنھوں نے نہ صرف عمرے کے اخراجات ادا کیے بلکہ پانچوں افراد کو اسلام آباد ایئر پورٹ بھی اپنے خرچے پر بھیجا۔لیکن پاکستان سے روانگی کے صرف ایک ہفتے بعد اِن پانچوں افراد کی سعودی عرب میں گرفتاری کی خبر ملنے پر اُن کے اہلخانہ ہکا بکا رہ گئے۔ اور اُن کی پریشانی اُس وقت مزید بڑھ گئی جب لگ بھگ پانچ ماہ بعد، 17 فروری 2025، کو ان تین خواتین سمیت پانچوں افراد کو منشیات کی سمگلنگ کے الزام میں ایک سعودی عدالت نے پچیس، پچیس سال قید کی سزا کا حکم دے دیا۔یہ معاملہ کیا ہے؟ اس بارے میں پتہ چلا ہے کہ کیسے سادہ لوح افراد کو عمرے کا جھانسا دے کر روانگی سے تھوڑی دیر پہلے انھیں زبردستی ایسا سامان پکڑایا گیا جس میں منشیات چھپائی گئی تھی
۔لیکن سعودی عرب جانے سے پہلے یہ کیسے ہوا؟ اور اب یہ پانچ افراد بشمول زیارت بی بی اور انور بی بی کہاں ہیں؟ 30 ستمبر 2024 کے دن جڑانوالہ کے ابرار حسین نے اپنی والدہ کو اسلام آباد ایئر پورٹ تک چھوڑنے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن مبینہ طور پر اِس سفر کا بندوبست کرنے والے صدام حسین نے انھیں ایسا کرنے سے روک دیا۔عمرے پر جانے والوں کی ’خدمت‘ اور ’تحائفپانچوں افراد 30 ستمبر 2024 کو ائیر سیال کی فلائٹ نمبر پی ایف 718 کے ذریعے صبح چھ بج کر دس منٹ پر جدہ روانہ ہوئے تھے-25 سال قید کی سزا پانے والی ضعیف خاتون زیارت بی بی کے بیٹے ابرار حسین کی خواہش تھی کہ وہ اپنی والدہ کو اسلام آباد ائیرپورٹ پر خود الوداع کرنے جاتے لیکن، اُن کا دعویٰ ہے کہ صدام حسین نے کہا کہ ’آپ لوگوں کو اسلام آباد آنے جانے کا خرچہ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟‘اُن کے مطابق صدام حسین نے انھیں بتایا کہ ’ہم اگر اِن کو ایصالِ ثواب کی نیت سے عمرہ کے لیے بھجوا رہے ہیں تو اسلام آباد میں اُن کو کوئی تکلیف پہنچنے نہیں دیں گے۔دوسرا کیسکراچی ،ٹریول گینگ کا مبینہ کارنامہ، عمرے پر جانیوالی فیملی سعودی عرب میں پھنس گئی Sep 23, 2025 | 03:00 PMکراچی ،ٹریول گینگ کا مبینہ کارنامہ، عمرے پر جانیوالی فیملی سعودی عرب میں پھنس گئی کراچی (آئی این پی )کراچی کے علاقے سرجانی ٹائون سے عمرے پر جانے والی فیملی سعودی عرب میں پھنس گئی۔رپورٹ کے مطابق عمرہ کرانے کے نام پر منشیات اسمگل کرنے والے ٹریول گینگ کے سرگرم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔متاثرہ اہلخانہ نے وزیراعظم، وزیر خارجہ، اعلی حکام سے اپیل کی ہے کہ بے گناہ گھر والوں کو فوری پاکستان لایا جائے۔8
ستمبر کو ایک ہی خاندان کے 4 افراد عمرے کی ادائیگی کے لئے گئے، زائرین میں 23 سالہ زاہدہ، 26 سالہ جمیل، 28 سالہ ذاکر اور 45 سالہ انوری شامل ہیں۔اہلخانہ نے بتایا کہ جمیل مزدوری کرتا ہے اس کا ایک نوزائیدہ بیٹا ہے، زاہدہ کی دو بچیاں ہیں، 8 ستمبر کو گھر والے عمرے کے لیے کراچی سے جدہ روانہ ہوئے، 10 دن تک ان سے رابطہ نہیں ہورہا تھا، 19 ستمبر کو غیرملکی نمبر سے کال آئی، بتایا گیا کہ ہمارے سامان سے منشیات، ممنوعہ اشیا برآمد ہوئی ہیں۔متاثرہ اہلخانہ کے مطابق بتایا گیا کہ گھر والے سعودی حکومت کی حراست میں ہیں، لیگیج احرام، عمرے میں استعمال ہونے والی اشیا ٹریول ایجنٹ علی نے دی تھیں اور گھر والوں کے سامان کو منع کرکے خود سے سامان دیا۔اہلخانہ نے بتایا کہ ٹریول ایجنٹ سے مزید برآں، حکام نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ منشیات کی اسمگلنگ یا اس نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف قانون بلاامتیاز حرکت میں لایا جائےرابطے کی کوشش کررہے ہیں لیکن وہ مفرور ہے، ہمارے گھر والے بے گناہ ہیں، منشیات کے کیس میں پھنسایا گیا ہے۔
‘ ایک اور دلخراش خبر: سعو دی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں منشیات اسمگلنگ کے سنگین جرم میں ملوث دو پاکستانی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔سعودی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق، دونوں پاکستانی شہریوں نے ہیروئن اور دیگر ممنوعہ منشیات جسم کے مختلف حصوں میں چھپا کر سعودی عرب اسمگل کرنے کی کوشش کی، جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔حکام کے مطابق، عدالت میں مقدمے کی مکمل سماعت کے بعد جرم ثابت ہونے پر دونوں ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے سزا کے خلاف دائر اپیل مسترد کر دی، جس کے بعد شاہی فرمان کے تحت سزا پر عمل درآمد کی منظوری دی گئی۔سعودی وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ دونوں پاکستانی شہریوں کو آج مکہ مکرمہ میں سزائے موت دی گئی۔وزارتِ داخلہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ سعودی عرب میں منشیات اسمگلنگ اور اس سے متعلق جرائم کو انتہائی سنگین تصور کیا جاتا ہے، اور ایسے جرائم میں ملوث افراد کو سخت ترین سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جواب دیںحذف کریں25 سال قید کی سزا پانے والی ضعیف خاتون زیارت بی بی کے بیٹے ابرار حسین کی خواہش تھی کہ وہ اپنی والدہ کو اسلام آباد ائیرپورٹ پر خود الوداع کرنے جاتے لیکن، اُن کا دعویٰ ہے کہ صدام حسین نے کہا کہ ’آپ لوگوں کو اسلام آباد آنے جانے کا خرچہ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟‘