ہفتہ، 27 دسمبر، 2025

امام باقر علیہ السلام ولادت اور فضائل

 




تمام  عالمین کی مومن مخلوقات کو فرزند نبی (صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ) پنجم کی ولادت با سعادت مبارک ہو حضرت امام محمد باقر علیہ السلام  حضرت امام زین العابدین                 علیہ السلام کے فرزند اور اہل تشیع کے پانچویں امام ہیں. آپ کو امام باقر علیہ السّلام کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔  آپ کا سلسلہ نسب ماں اور باپ دونوں کی طرف حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم )  تک جا پہنچتا ہے۔ آپ کے دادا سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السّلام ہیں جو حضرت رسول خدامحمدمصطفیٰ کے چھوٹے نواسے ہیں اور آپ کی والدہ جناب ام عبد اللہ فاطمہ علیہا السّلام حضرت امام حسن علیہ السّلام کی صاحبزادی ہیں جو حضرت رسول کے بڑے نواسے ہیں۔ ولادت با سعادت -آپ کی ولادت روز جمعہ یکم رجب 57ھ میں ہوئی . یہ وہ وقت تھا جب امام حسن علیہ السّلام کی وفات کو سات برس ہوچکے تھے اور امام حسین علیہ السّلام مدینہ میں خاموشی کی زندگی بسر کررہے تھے اور وقت کی رفتار تیزی سے واقعہ کربلا کے اسباب فراہم کررہی تھی . یہ زمانہ آل رسول علیہم السّلام اور شیعانِ اہل بیت علیہم السّلام کے لیے بے حد پرآشوب تھا . چُن چُن کر محبانِ علی علیہ السّلام گرفتار کیے جارہے تھے،  تلوار کے گھاٹ اتارے جارہے تھے یا سولیوں پر چڑھائے جارہے تھے ۔  سانحہ کربلا -تین برس امام محمد باقر علیہ السّلام اپنے جد بزرگوار حضرت امام حسین علیہ السّلام کے زیرِسایہ رہے . جب آپ کاسن پورے تین سال کا ہوا تو امام حسین علیہ السّلام کے ہمراہ مدینہ سے سفر کرتے ہوئے کربلا پہنچے . یہ خالق کی منشاء کی ایک تکمیل تھی کہ وہ روز عاشور میدان ُ قربانی میں نہیں لائے گئے .


 ورنہ جب ان سے چھوٹے سن کا بچہ علی اصغر علیہ السّلام تیر ستم کا نشانہ ہوسکتا تھا تو امام محمد باقر علیہ السّلام کابھی قربان گاہ شہادت پر لاناممکن تھا . مگر سلسلہ امامت کادنیامیں قائم رہنا نظام کائنات کے برقرار رہنے کے لیے ضروری اور اہم تھا اور امام محمد باقر علیہ السّلام کربلا کے میدان اور کوفہ و شام کےبازاروں اور درباروں میں آل رسول پر ہونے والے مظالم کے گواہ اور عینی شاہد بنے اور انقلاب کربلا کی قربانیوں کو رائیگاں ہونے سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔  واقعہ کربلا کے بعد امام زین العابدین علیہ السّلام کو مسلمانوں کی بد ترین بے وفائی اور حکمرانوں کے ظلم و ستم نے ظاہری طور پر بالکل الگ اور نہایت سکوت کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا لہذا آپ امامت کے فرائض کی ادائيگی کرتے ہوئے اہل دنیا کو حقیقی اسلام اور حقیقی اسلامی کی تعلیمات و عقائد سے آگاہ کرنے کے لیے کبھی محراب عبادت اور مناجات کا سہارا لیتے اور کبھی اپنے مظلوم بابا کاماتم کر کے دنیا والوں کو وارثانِ رسالت اور نمائندگانِ شریعت کی معرفت اور ان کی دین کے لیے قربانیوں کو جاننے کی دعوت دیتے.یہ وہی زمانہ تھا جس میں امام محمد باقر علیہ السّلام نے نشونما پائی .61 ھ سے 95ھ تک 34برس اپنے بابا کی زندگی کامطالعہ کرتے رہے اور اپنے فطری اور خداداد ذاتی کمالات کے ساتھ ان تعلیمات سے فائدہ اٹھاتے رہے جو انھیں اپنے والد ُ بزرگوار کی زندگی کے آئینہ میں برابر نظر آتی رہیں۔ 


 امامت کی ذمہ داری -حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام کو 38 برس کی عمر میں اپنے والد بزرگوار حضرت امام زین العابدین علیہ السّلام کی شہادت کا صدمہ سہنا پڑااور اس کے ساتھ ہی امامت کی ذمہ داریاں بھی آپ ہی کےسپرد کر دی گئی۔ آپ رسول خدا کے پانچویں برحق جانشین اور امام قرار پائے۔ آپ کا دورامامت یہ وہ زمانہ تھا جب بنی امیہ کی سلطنت اپنی مادری طاقت کے لحاظ سے بڑھاپے کی منزلوں سے گزر رہی تھی. بنی ہاشم پر ظلم وستم اورخصوصاً کربلا کے واقعہ نے کسی حد تک دنیا کی آنکھوں کو کھول دیا توابین کا جہاد، مختار اور ان کے ہمراہیوں کے خون حسین علیہ السّلام کا بدلہ لینے میں اقدامات اور نہ جانے کتنے ہی ایسے واقعات سامنے آ چکے تھے جن سے سلطنت شام کی بنیادیں ہل گئیں تھیں جس کے نتیجہ میں امام محمد باقر علیہ السّلام کے زمانہ امامت کو حکومت کے ظلم وتشدد کی گرفت سے کچھ آزادی نصیب ہوئی اور آپ کو خلق خدا کی اصلاح وہدایت کا کچھ زیادہ موقع مل گیا . امام حسین علیہ السّلام کی عزاداری اور تبلیغ دین سانحہ کربلا کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور اپنے بابا کی تمام زندگی کا امام مظلوم علیہ السّلام کے غم میں تنہا رونے کا مطالعہ کرچکنے کے بعد آپ کے دل میں یہ تکلیف دہ احساس ایک فطری امر تھا کہ جس غم ورنج، گریہ وزاری اور اہتمام کے ساتھ دنیا والوں کو امام حسین علیہ السّلام کا ماتم برپا کرنا چاہیے تھا ویسا دنیا والوں نے نہیں کیا۔ لہذا امام محمد باقر علیہ السّلام نے اس پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے مجالس عزاء کا سارا سال انعقاد فرماتے اور کمیت بن زید اسدی بڑے شاعروں کو بلا کر مراثیہائے امام حسین علیہ السّلام پڑھواتے اور سنتے اور ان مجالس میں لوگوں کو شرکت کی دعوت دیتے ۔



 رجب 60ء کو جب سید الشہداء امام حسین علیہ السلام نے اسلام کی بقاء کا سفر شروع کیا تو ان میں آپ علیہ السلام بھی شریک تھے۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک 4 سال کے لگ بھگ تھی۔ آپ نے اپنی آنکھوں سے پاکیزہ اوصاف کی رذائل کیساتھ جنگ دیکھی۔ آپ  علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے اپنے پیاروں اور 72 جانثاروں کو تہہ تیغ ہوتے دیکھا۔ تین دن کی سخت ترین گرمی اور دھوپ میں پیاس کی شدت کو برداشت کرنے والوں میں آپ بھی شریک تھے۔ شب عاشور خیموں کے لُٹنے، چادروں کے چھننے اور سید سجاد علیہ السلام کی علالت کو آپ نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تھا۔ کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور شام سے مدینہ تک کے تمام مظالم کو سر کرنے والوں میں آپ بھی شامل تھے۔ کربلا کے پیغام رسانوں، مقصد امام حسین کی پہچان کرانے والوں اور روداد غم سنانے والوں میں آپ سید سجاد علیہ السلام اور سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے ساتھ برابر کے شریک تھے۔ وگرنہ یزید نے یہ ٹھان لیا تھا کہ حسین علیہ السلام کے مقصد کو کربلا میں ہی دفن کر دیا جائے،ایک مرتبہ آپ سات سال کی عمر میں اپنے والد کے ساتھ حج پر جا رہے تھے۔ راستے میں ایک حیرت زدہ شخص نے سوال کیا، فرزند! تم کون ہو ؟ کہاں جا رہے ہو اور زاد راہ کیا ہے ؟ آپ نے اپنے جواب سے اُس شخص کو لا جواب کر دیا، اور فرمایا میرا سفر من اللہ اور الی اللہ (اللہ سے اور اللہ کی طرف) ہے۔ میرا زادِ راہ تقوی ہے۔ میرا نام محمد ابن علی ابن الحسین ابن علی ابن ابی طالب ہے۔

 

1 تبصرہ:

  1. آ پ نے اپنے زمانے میں تشیُّع کے فروغ کے لئے مناسب تاریخی حالات کو دیکھتے ہوئے عظیم شیعہ علمی تحریک کا آغاز کیا جو آپ کے فرزند ارجمند امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانے میں اپنے عروج کو پہنچ گئی۔ آپ کے شاگرد اور صحابی کی تعداد کو 462 نفر ذکر کیا گیا ہے۔ آپ کے دورہ امامت میں اخلاق، فقہ، کلام و تفسیر جیسے موضوعات میں شیعوں کا نظریہ تحریر ہونا شروع ہوا۔

    جواب دیںحذف کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر