طلال بھائ بڑی آپا کو معہ بیٹے کے چھوڑ گئے تھے انہوں نے کہا تھا چالیسویں پرجب آئیں گے تب ان کو لے جائیں گے طلال بھائ بھی ایک مہینے کی چھٹی لے کر آئے ہوئے تھے -لیکن وہ تینوں تایا ابو کے ساتھ ان کے گھر ٹھرے ہوئے تھے لیکن دن ہم لوگوں کے ساتھ گزارنے آجاتے تھے ہمارے گھر کی فضاء بدستور سوگوار ہی تھی ، وہ پرسے دار جو ابّا کے مرنے پر نہیں آسکے تھے وہ بھی گاہے بگاہے چلے آرہے تھے ایسے میں ایک رات منجھلی آپا سہ پہر کو رفاقت بھائ کے ساتھ ہمارے گھر آئیں دونوں بچے ساتھ نہیں تھے ہم بہنیں ڈر گئے لیکن منجھلی آپا سیدھی اماں کے پاس چلی گئیں ہماری آنکھوں میں تجسس دیکھ کر انہوں نے کہا سب ٹھیک ہےپھر وہ چلی بھی گئیں -اب اماں ہمارے پاس آ گئیں اس سے اگلے روزمنجھلی آپا صبح صبح اپنی ساس کے ساتھ ہمارے گھرآگئیں ،ویسے تو ابّا کےمرنے پر بھی وہ ہمارے گھر آ ئیں تھیں لیکن شائد میں ان کی صحت پر توجّہ نہیں سکی ہوں گی جو اس بار مجھے وہ بہت کمزور ،کمزور سی دکھائ دے رہی تھیں,, آتے ہی انہوں نے امّاں سے کہا کہ وہ تخلیے میں ملاقات چاہتی ہیں اور امّاں ان کو لے کر بیٹھک کے لئے مخصوص کونے کے کمرے میں چلی گئیں اورمنجھلی آپا نے ناشتے کا انتظام سنبھالنے کے لئے باورچی خانے کارخ کیا تو میں نے نرگس آپی سے کہا کہ میں ان دونوں کی باتوں کی سن گن لینے جارہی ہوں ،نرگس آپی نے کہا میں تم کو منع بھی کر وں گی تو تم کو ن سی میری بات سنو گی اور میں حسب معمول کسی بہانے سے کمرے کے دروازے کی اوٹ میں کھڑی ہو گئ لیکن اس سے اگلے روزمنجھلی آپا صبح صبح اپنی ساس کے ساتھ ہمارے گھرآگئیں ،
ویسے تو ابّا کےمرنے پر بھی وہ ہمارے گھر آ ئیں تھیں لیکن شائد میں ان کی صحت پر توجّہ نہیں سکی ہوں گی جو اس بار مجھے وہ بہت کمزور ،کمزور سی دکھائ دے رہی تھیں,, آتے ہی انہوں نے امّاں سے کہا کہ وہ تخلیے میں ملاقات چاہتی ہیں اور امّاں ان کو لے کر بیٹھک کے لئے مخصوص کونے کے کمرے میں چلی گئیں اورمنجھلی آپا نے ناشتے کا انتظام سنبھالنے کے لئے باورچی خانے کارخ کیا تو میں نے نرگس آپی سے کہا کہ میں ان دونوں کی باتوں کی سن گن لینے جارہی ہوں ،نرگس آپی نے کہا میں تم کو منع بھی کر وں گی تو تم کو ن سی میری بات سنو گی اور میں حسب معمول کسی بہانے سے کمرے کے دروازے کی اوٹ میں کھڑی ہو گئ اوٹ کے پیچھے سے میں نے سنا منجھلی آپا کی سا س امّا ں سے کہ رہی تھی میں سوالی بن کے آئ ہوں صداقت نیک ہے کماؤہے نمازی ہے اور جو بھی آپ سمجھیں وہ ہے ،اب وہ باہر جارہا ہے میں نے سنا منجھلی آپا کی ساس بہت خوشامدانہ لہجے میں امّاں سے کہ رہی تھیں بہن صداقت کی خوا ہش اور ساتھ میں میری بھی خواہش ہے کہ صداقت کواپنا بیٹا بنا لو ،میں چاہتی ہوں صداقت اکیلا باہر نہیں جائے دیکھو بھائ اسلا م الدین کا تو وقت آگیا تھا اب تم ہی ان کی رکھوالی ہو مجھے خالی دامن نا لو ٹانا ، اور امّاں کی آواز آئ چلئے چل کر چائے پی لیتے ہیں پھر بات ہوگی اور امّاں کی آواز آتے ہی میں بھاگ کر سائبان کی دیوار کی اوٹ میں ہو گئ اور وہ دونو ں باہر آ گئیں ،
منجھلی آپا نے ناشتے کی میز سجا دی تھی'امّا ں نے منجھلی آپا کی ساس کو وہیں ناشتے کی میز پر بٹھایا اور خودمنجھلی آپا سے آ کر کہا ،نرگس کی مرضی پوچھ لو صداقت کے لئے،اور پھرامّاں منجھلی آپاکی ساس کے ساتھ جا کر بیٹھ گئیں'منجھلی آپا نے نرگس آپی سے سرگوشیوں میں جانے کیا پوچھا ہو گا ،نرگس آپی نے کہا منجھلی آپا ابھی تو ہمارے ابّا کا کفن بھی میلا نہیں ہوا ہو گا,,یہ کیسی قیامت ہے ؟ میری ماں نے بیوگی کی چادر اوڑھی ہے اور میں دلہن بن جاؤں ،نرگس آپی جھر جھر رونے لگیں تو منجھلی آپا نے ان کو اپنے ساتھ لپٹا لیااور کہنے لگیں ،نرگس اس طرح تمھاری جانب سے امّاں کا بوجھ ہلکا ہو جائےگا تم غور تو کرو ،نرگس آپی نے اپنا آنسوؤں سے تر چہرہ اوپر اٹھایا اور منجھلی آپا سے کہا ٹھیک ہے امّاں کی مرضی ہے تو میں بھی راضی ہوں ،منجھلی آپا نے ا ن کے ماتھے پر پیار کیا اور اٹھ کر کمرے سے چلی گئیں اور پھر منجھلی آپا نے اپنی ساس سے ناجانے کیا کہا کہ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر نرگس آپی کے پاس چلی آئیں ، نرگس آپی کی نظر جیسے ہی ان پر پڑی انہوں نے اپنا سر اپنے زانو ؤں پراوندھا کر چھپا لیا اور چپکے چپکے رونے لگیں منجھلی آپا کی ساس نے نرگس آپی کو اپنے ساتھ لپٹا لیا اور کہنے لگیں بیٹی ,,اللہ کی رضا واقع ہو کررہتی ہے لیکن کیا کریں دستور دنیا بھی نباہنا ہوتے ہیں تم سب کے دلوں پر لگا یہ گھاؤ زندگی بھر نہیں بھر سکتا ہے'لیکن کیا کریں جینے کی راہوں کو بھی تو سونا نہیں رکھا جا سکتا ہے
پھر انہوں نے اپنے پرس میں سے گلابی رنگ کا لفافہ نکال کر نرگس آپی کی ہاتھ پر رکھا اور ان کے ماتھے پر پیار کر کے ان کے پاس سے واپس اماں کے پاس چلی گئیں -پھر اماں کے ساتھ کچھ رازو نیاز کی باتیں کرتی رہیں -پھرمنجھلی آپا ہمارے پاس آگئیں اور انہوں نے نرگس آپی سے کہا نرگس اپنا ایک جوڑا دے دو درزی کو ناپ بھیجا جائے گا - نرگس آپی سسکیاں لیتی ہوئ اٹھیں اور آہستہ سے بولیں منجھلی آپا مجھ سے پہلے فریال بجو ہیں ان کی شادی مجھ سے پہلے ہونی چاہیے پلیز آ پ فریال بجو سے بات کر لیجئے -نرگس آپی کے جواب میں منجھلی آپا نے کہا نرگس تم صداقت کا انتخاب ہو اگر انہوں نے فریال کا نام لیا ہوتا تب میں فریال سے بات کرتی منجھلی آپا کی بات پر مجھے وہ دن یاد آگیا جب منجھلی آپا کے یہاں منا پیدا ہواتھا اور میں اور نرگس آپی وارڈ میں تھے اور نرگس آپی نے بیٹے کو گود میں اٹھا یا ہوا تھا نرگس آپی کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا اور انہی لمحات میں صداقت بھائ وارڈ میں آواز دیتے ہوئے اندر آ گئے تھے ان کے آتے ہی نرگس آپی نے منے کو منجھلی آ پا کے پہلو واپس لٹانا چاہا تو صداقت بھائ نے کہا اسے مجھے دے دو نرگس آپی نے منے کو ان کی گود میں دیا تب وہ وہ نرگس آپی کا چہرہ دیکھ رہے تھے اور نرگس آپی کی نگاہیں جھکی ہوئ تھیں
یہ میری سبق آموز ناول ہے
جواب دیںحذف کریں