بدھ، 18 مارچ، 2026

‏قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں میں تقسیم تھا

 

 ‏قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں میں تقسیم تھا‘ قلات سب سے بڑی ریاست تھی‘ اس کے پاس بلوچستان کا 20 فیصد رقبہ تھا جب کہ باقی 80 فیصد علاقہ خاران‘ بیلا‘ مکران اور برٹش بلوچستان میں تقسیم تھا‘ قلات ریاست 1405 میں بنی اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی جغرافیائی حدود افغانستان میں قندہار‘ ایران میں بندر عباس اور کرمان تک پھیل گئیں‘ اس زمانے میں قلات میں بلوچ اور براہوی دونوں قبائل آباد تھے لہٰذا قلات کو بلوچ براہوی سلطنت کہا جاتا تھا‘ انگریز نے 1876میں کوئٹہ پر قبضہ کیا اور یہاں چھاؤنی بنا لی‘انگریز نے بعدازاں کوئٹہ سے ملحقہ علاقے خان آف قلات سے لیز پر لے لیے اور یوں برٹش بلوچستان وجود میں آ گیا۔بلوچستان کا نام اس سے قبل تاریخ میں موجود نہیں تھا‘ انگریز کا فوکس پشتون علاقوں کی طرف تھا لہٰذا وہ افغان سرحد کے ساتھ ساتھ پشتون علاقوں میں اپنا اثرورسوخ بڑھاتے چلے گئےکوئٹہ کے بعد زیارت اور فورٹ سنڈیمن ان کے بڑے مرکز تھے‘ ڈیرہ بگٹی‘ کوہلو‘ سبی‘ چاغی‘ لورا لائی اور پشین بھی ان میں شامل تھے‘ باقی تمام ریاستیں اور علاقے خودمختار رہے‘ بہرحال 1947میں انگریز نے ہندوستان کی 565 پرنسلی اسٹیٹس کی طرح بلوچستان کی ریاستوں کو بھی دو آپشن دیے‏بھارت میں شامل ہوجائیں یا پھر پاکستان کے ساتھ مل جائیں‘ برٹش بلوچستان (یعنی کوئٹہ) نے جون 1947میں پاکستان کے حق میں قرارداد پاس کر دی‘ نواب آف خاران نے لیڈ لی اور یہ پاکستان میں شامل ہو گئے۔چند دن بعد ریاست بیلا اور مکران بھی پاکستان میں شامل ہو گئی یوں قلات پیچھے رہ گئی‘






خان آف قلات میر احمد یار خان اپنے سرداروں کو قائل کر رہے تھے لیکن اس میں بہت وقت ضایع ہو گیا‘ اس دوران آل انڈیا ریڈیو نے قلات کے بھارت میں شامل ہونے کی خبر نشر کر دی‘ اس سے افراتفری پھیل گئ خان آف قلات نے قائداعظم سے ملاقات کی اور 30 مارچ 1948 کو پاکستان میں شمولیت کا اعلان کر دیا‘ اس اعلان میں ان کا خاندان اور دوسرے سرداروں کی رضامندی شامل نہیں تھی چناں چہ میر احمد یار خان کے بھائی پرنس عبدالکریم خان نے بلوچستان نیشنل لبریشن کمیٹی (بی این ایل سی) کے نام سے گوریلا تنظیم بنائی اور بغاوت شروع کر دی۔ پاکستان نے بی این ایل سی کو کچلنے کے لیے بلوچستان میں فوج داخل کر دی اور اس کے بعد بلوچستان میں کبھی امن قائم نہ ہو سکا‘ اس زمانے میں مشرقی پاکستان آبادی کے لحاظ سے بڑا صوبہ تھا‘ باقی صوبے چھوٹے تھے چناں چہ الیکشن کی صورت میں مشرقی پاکستان کے ایم این اے زیادہ تعداد میں اسمبلی آ جاتے تھے اور یوں حکومت بنگالیوں کے پاس چلی جاتی تھی اور یہ اسٹیبلشمنٹ کو سوٹ نہیں کرتا تھا چناں چہ سکندر مرزا کے دور میں ون یونٹ بنا دیا گیا‏جس کے بعد مشرقی پاکستان ایک صوبہ اور باقی چار صوبے مل کر دوسرا صوبہ بن گئے‘ بلوچستان نے اسے تسلیم نہیں کیا اور یوں یہاں دوسری مرتبہ بغاوت شروع ہو گئی‘ اس بغاوت کو کچلنے کے لیے فیلڈ مارشل ایوب خان نے بلوچستان میں دوسری مرتبہ فوج چڑھا دی‘ قلات پر قبضہ ہو گیا اور خان آف قلات کا محل لوٹ لیا گیا‘ اس کے بعد پے در پے آپریشن ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ نوبت جعفر ایکسپریس پر قبضے تک پہنچ گئی۔ہمیں آگے بڑھنے سے قبل دو حقیقتوں کا ادراک کرنا ہوگا‘ پہلی حقیقت بلوچستان کی جغرافیائی صورت حال ہے‘ بلوچستان ایک بنجر اور بیابان علاقہ ہے جس کی وجہ سے م



‘ سکندر اعظم سے لے کر برطانیہ تک کبھی کسی بڑی فوج نے یہاں سے گزرنے کی غلطی نہیں کی‘ اس کی وجہ چارے‘ پانی اور خوراک کی کمی تھی‘ ماضی میں فوجیں گھوڑوں پر سفر کرتی تھیں اور گھوڑوں کو چارہ اور پانی درکار ہوتا تھا اور بلوچستان میں یہ دونوں نہیں تھے‏لہٰذا بلوچستان کو ماضی میں کسی بڑی یلغار کا سامنا نہیں کرنا پڑا‘ تمام طاقتوں بشمول مغل اور برطانیہ انھیں آزاد تسلیم کرتے رہے اوی کی تمام حکومتیں اور بادشاہ بلوچستان کے سرداروں سے ڈیل کرتے رہے‏یہ سرداروں کو دے دلا کر راضی کرلیتے تھے اور یوں بلوچستان ان کے ہاتھ میں رہتا تھا‘ انگریز نے بھی خان آف قلات سے ہزاروں مربع میل کا علاقہ کرائے پر لے رکھا تھا اور یہ انھیں اس کا کرایہ دیتے تھے چناں چہ بڑی طاقتوں اور حکومتوں سے وصولی سرداروں کے ڈی این اے میں شامل ہو گئی ہے۔ حکومت پاکستان بھی یہ غلطی کرتی رہی‘ اس نے ہر دور میں سرداروں کو ہاتھ میں رکھا‘ یہ کبھی ایک سردار کو اقتدار دے کر دوسروں کو کنٹرول کرتی تھی اور کبھی دوسرے سرداروں کو آگے لا کر پہلے سرداروں کو قابو کر لیتی تھی‘ 



صوبے کا ترقیاتی بجٹ بھی یہ سب آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں‘ آپ المیہ دیکھیے عبدالقدوس بزنجو صرف 544 ووٹ لے کر ایم پی اے بنے (ٹوٹل رجسٹرڈ ووٹ 57666 تھے) اور یہ ان 544 ووٹوں کے ذریعے بعدازاں وزیراعلیٰ بن گئے‘ لوگ انھیں سلیپنگ وزیراعلیٰ کہتے تھے کیوں کہ یہ اپنی شبینہ مصروفیات کی وجہ سے دن بارہ بجے اٹھتے تھے اور اس کے بعد اگلی مصروفیات کا بندوبست شروع کر دیتے تھے اور یہ کھیل بلوچستان میں ہزار سال سے جاری ہے یعنی سرداروں کو ہاتھ میں رکھیں‘ ان کے مطالبات پورے کرتے رہیں اور سسٹم چلاتے رہیں‘ اس بندوبست میں سردار امیر سے امیر ہوتے چلے گئے جب کہ عوام غریب سے غریب ہوتے چلے گئے۔  


منگل، 17 مارچ، 2026

موسم سرما کے ہجرتی پرندوں کا مسکن ہالیجی جھیل

  



ہالیجی جھیل  ٹھٹھہ سے پہلے شمال کی جانب اپنی نوعیت کی انمول جھیل ہونے کے ساتھٍ  پاکستان کے آبی مقامات میں ایک بہترین تفریح گاہ ہے۔                                          کبھی جا کر دیکھئے تاحدِ نگاہ بہتا ہوا پانی، لہراتی سرسراتی تازہ ہوائیں، پیپل کے درختوں کی راحت بھری چھاؤں اور خوبصورت چہچہاتے پرندے یہاں کے ماحول میں ایسی دلکشی پیدا کر تے ہیھے کہ دیکھنے والے کے قلب کا تصور ناقابل بیان ہوتا ہے۔اِس بار ہم نے سفر کے لیے ہالیجی جھیل کا انتخاب کیا۔ ہالیجی جھیل کراچی سے ٹھٹھہ جانیوالی شاہراہ پر تقریباً 85 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ ٹھٹھہ سے پہلے شمال کی جانب یہ جھیل اپنی نوعیت کی انمول جھیل ہے۔ اِس نفسا نفسی کے دور میں جہاں زندگی اتنی تیز ہوگئی ہے کہ کسی کو کسی کا کچھ خیال ہی نہیں، وہاں اِس قدر پُرسکون ماحول کی موجودگی میں انسان وہ سب کچھ بھول جاتا ہے جو وہ چھوڑ کر آیا ہے۔معلومات کے مطابق اِس جھیل کی لمبائی 685 مربع میل بتائی جاتی ہے اور اِس کی گہرائی اوسط 17 فٹ تک ہے۔ اِس جھیل میں کنجھر جھیل سے بھی پانی چھوڑا جاتا تھا، لیکن اب یہ بند کردیا گیا ہے۔پرندوں حیوانات اور نباتات کی بہتات نے اسے قدرتی مناظر اور ماحول کے متلاشی لوگوں کیلئے اہم مقام بنا دیا ہے۔ کراچی سے قریب اور قومی شاہراہ سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہونے کی وجہ سے اس جھیل پر پہنچنا بھی آسان ہے اور یہ اس کی مقبولیت کی ایک اور بڑی وجہ ہے۔پاکستان کی خوبصورت جھیلیں ہر سال روس ، سائبیریا اور شمال وسطی ایشیائی ریاستوں کے انتہائی سرد علاقوں سے لا کھوں کی تعداد میں آنے والے ہجرتی مہمان پرندوں کا عارضی مسکن ہوتی ہیں  'جن میں ہالیجی جھیل خاص طور پر  ان پرندوں سے آباد ہو کر لہلہاتی ہے 



ہالیجی جھیل کی ساری دلکشی اور تمام تر حسن اس کا نیلا پانی، مقامی اور مہمان پرندوں کی بہتات اور اس کے دلکش جزیروں کے باسیوں سے عبارت ہے۔آج سے اٹھارہ ہزار سال قبل جب زمین کے موسمی حالات نے تبدیل ہونا شروع کیا اور زمین کا درجہ حرارت بتدریج بڑھنے لگا تو اس کے نتیجے میں قطبوں پر جمی برف پگھلنا شروع ہو گئی، بلندی سے پگھلتی ہوئی یہ برف زمین پر پانی بن کر پھیل گئی، جس کی وجہ سے زمین کئی خطوں میںتقسیم ہو گئی۔ پاکستان میں کئی پہاڑی سلسلے ہیں، ان پر جمی برف کے پگھلنے کے باعث یہاں بہت زیادہ آبی ذخائر بھی ہیں اور بہت سی آبی گزرگاہیں بھی۔ ہمالیائی سلسلوں سے نکلنے والے آبی راستے شمال کے بلندو بالا پہاڑوں سے جنوب کی دلدلی علاقوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔دریائے سندھ ہمارے ملک کا مرکزی دریا ہے جو شمال کے بلندو بالا ہمالیائی خطوں سے شروع ہوتا ہے اور پھر بحیرۂ عرب میں جا گرتا ہے۔ ہالیجی جھیل در حقیقت ایک تالاب تھا جہاں بارش کا پانی جمع رہتا تھا اس کے اطراف میں قسم قسم کے پرندے، حیوانات اور نباتات پائے جاتے تھے لیکن اس صدی کی تیسری دہائی میں اس تالاب کو ایک وسیع ذخیرہ آب کی شکل دے دی گئی جس کے باعث یہ کراچی شہر کی آبادی کو پانی کی فراہمی کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن گیا۔محل و قوع کے اعتبار سے ہالیجی جھیل قومی شاہراہ پر واقع ہے۔ کراچی سے باآسانی چند گھنٹے کی مسافت کے بعد بذریعہ سڑک وہاں پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ کراچی سے 88کلو میٹر اور ٹھٹھہ سے صرف 21کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ،جب آپ کراچی سے ٹھٹھہ کی جانب قومی شاہراہ پر سفر کریں تو 88کلو میٹر اور بائیں جانب ایک بورڈ نظر آتا ہے جو ہالیجی جھیل جانے والے کچے راستے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس راستے پر 5کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد آپ ہالیجی جھیل کی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں۔ہالیجی کے گردو نواح میں بھی مزید خوبصورت جھیلیں واقع ہیں۔ بائیں جانب جو جھیل ہالیجی سے ملحق ہے اس کا نام چنیجی جھیل ہے جس میں موسم برسات کے بعد کافی عرصہ پانی جمع رہتا ہے۔ جب اس میں پانی کی کثرت ہو تو یہاں پرندوں کی بھی بہتات ہو جاتی ہے۔ہڈیرو جھیل ہالیجی کے نواح میں دوسری جھیل ہے یہاں نمکین پانی ہے۔ پانی جب چٹانی کناروں سے ٹکراتا ہے تو ایک قابل دید منظر ہوتا ہے، اس جھیل میں آبی پرندوں کی انتہائی نایاب اقسام بھی پائی جاتی ہیں۔ ان میں بگلے، کونج اور پیلی کسن نمایاں ہیں۔  


۔ان دو جھیلوں کے علاوہ تیسری جھیل کنیھجر جھیل ہے۔ یہاں بھی انواح و اقسام کے پرندے پائے جاتے ہیں۔یہ ایک خوبصورت تفریحی مقام ہے۔ ہالیجی سے اس کا فاصلہ 50کلو میٹر ہے۔ کراچی کے باشندوں اور ملکی سیاحوں کیلئے اس پر فضا مقام پر تیراکی، پانی میں ڈبکیاں لگانا اور کھیل کود ایک پسندیدہ مشغلہ ہے۔ ہالیجی جھیل اور کینھجر جھیل دونوں بین الاقوامی اہمیت کے آبی مقامات قرار دیئے گئے ہیں۔ ہالیجی پرندوں کے مشاہدے کیلئے ایک بہترین مقام ہے، جہاں انگنت اقسام کے پرندے  تمام  سال ہی موجود ہوتے  ہیں۔یہاں پرندوں کے جھنڈ اور پودے ایک دوسرے میں مدغم نظر آتے ہیں۔شکاری پرندے مثلاً باز،شکرے وغیرہ چھوٹے پرندوں پر بار بار حملہ کرتے نظر آتے ہیں۔ سارس اور بگلے کبھی کبھار گھنٹوں پانی ہی میں کھڑے اپنی غذا سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔  ہالیجی اور ملحقہ علاقوں میں ان کی آمد ستمبر کے مہینے سے شروع ہوتی ہے۔جھیل کی اس پرسکون دنیا کے اوپر بھی ایک دنیا محو پرواز نظر آتی ہے جس میں مچھلی خور شاہین، سار اور چیلیں وغیرہ شامل ہیں ۔حکومت سندھ نے ٹھٹھہ ضلع میں پرندوں کی جنت کےنام سے مقبول ہالیجی جھیل کو تازہ پانی کی فراہمی شروع کردی ہے۔ محکمہ جنگلی و آبی حیات کے ماہرین کو توقع ہے کہ پانی کی فراہمی کے بعد تباہ شدہ جھیل دوبارہ ملکی و غیرملکی پرندوں کی آماجگاہ اور سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بن سکے گی۔کراچی سے اسی کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہالیجی جھیل کے بارے میں محکمہ جنگلی حیات سندھ کے سربراہ کنزرویٹر حسین بخش بھاگت نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہالیجی جھیل کو بحال رکھنے کے لیے اٹھائیس فٹ پانی درکار ہوتا ہے اور حکومت سندھ کی حالیہ کوششوں کے بعد اب تک انیس فٹ پانی جھیل میں جمع ہوچکا ہے۔


ہالیجی جھیل کو کراچی واٹر بورڈ کے زیرانتظام جام برانچ نامی کینال سے پانی فراہم ہوتا رہا ہے جو ضلع ٹھٹھہ میں واقع ایک اور جھیل کینجھر سے پانی حاصل کرتا ہے مگر گزشتہ چند برسوں سے جھیل کو پانی کی اس طرح فراہمی کا سلسلہ بند ہوگیا تھا۔پانی کی کمی کی وجہ سے ہالیجی جھیل میں پرندوں کی آمد کا سلسلہ کم ہوگیا ہے۔ حسین بخش کے مطابق ان کےمحکمے کے انیس سو چہتر میں کیے گئے ایک سروے کےمطابق ہالیجی جھیل پر اندرون ملک اور بیرون ملک سے دو لاکھ پرندوں کی آمد ہوئی ہے جس میں ستر یا اسی قسم کے مختلف رنگ و نسل کے پرندے شامل ہیں مگر پانی کی کمی کی وجہ سے گزشتہ سال ان کےمحکمے کے سروے کے مطابق بمشکل آٹھ سے دس ہزار دیسی پرندوں کی آمد ہوئی ہے۔ہالیجی جھیل کےبارے میں محکمہ جنگلی حیات کی کتابوں میں درج ہے کہ برطانوی راج کے دوران ہالیجی جھیل کو پانی جمع کرنے کی جگہ بنایا گیا تاکہ کراچی میں کیمپ کرنے والے دستوں کو پانی فراہم کیا جاسکے۔ پاکستان کی آزادی سے پہلے ہی ہالیجی جھیل پانی جمع کرنے والے تالاب سے بڑھ کر ایک مکمل جھیل کی شکل اختیار کرچکی تھی۔ون یونٹ کے خاتمےکےبعد ہالیجی کا انتظام وائلڈ لائف مینیجمنٹ فنڈ نے سنبھالا۔ایران میں انیس سو اکہتر کے دوران عالمی کنزرویشن مینجمنٹ کی جانب سے ویٹ لینڈ کی فہرست بنائی گئی۔ جس کے تحت ہالیجی کو پاکستان کی پہلی ’رامسر‘ سائٹ قرار دیا گیا ہے۔ 

اتوار، 15 مارچ، 2026

زراعت و معیشت میں پاکستانی عورت کا کردار

  پاکستان  ایک زرعی ملک ہے۔ اور یہاں کی تقریباً ۷۰؍ فبصد آبادی زراعت کرتی ہے۔  پاکستان میں دیہی علاقوں کی   عورتیں بیج بویائی سے فصل کی تیاری اور اس کی کٹائی، اس کے بعد کے عمل سے لے کر مارکیٹنگ وغیرہ مراحل میں سرگرم رہتی ہیں۔ زرعی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ کام کرنے والی عورتوں کا تناسب مردوں کے مقابل بڑھا ہے۔ ملک کی معاشی ترقی اور خوشحال زندگی کے لئے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ جس سے ملک کی معیشت میں کافی مدد ہوئی ہے۔ وہی حکومت نے بھی عورتوں کے لئے مخلتف اسکیموں اور دیگر سہولیات کا انتظام کیا ہے۔ لیکن عورتوں کی کم علمی انہیں ان سہولتوں سے محروم رکھے ہوئے ہیں۔ یہ عورتیں واقعی میں ہمت و شجاعت اور خود اعتمادی کی مثال ہیں۔ ان کے کاموں کی فہرست بنانا ناممکن ہے تب بھی کچھ کا ذکر اس طرح....کھیت میں کام کرنے والی عورتوں کو کھیت کے سارے بھاری کاموں سے نمٹنا پڑتا ہے، رات دن بغیر کسی توقف کے وہ کھیت اور گھر کی ذمہ داریاں سنبھالتی ہیں۔ کٹائی کا زمانہ ہو یا ہل چلانے کا وقت، وہ مرد کے ساتھ ساتھ کام کرتی ہیں۔ اُس کے علاوہ انہیں پالتو جانوروں کی دیکھ بھال، چھوٹے موٹے گھریلو کام اور بچوں کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے۔ وہ اپنی ساری ذمہ داریاں نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیتی ہیں۔ ان عورتوں کو واقعی خراج تحسین پیش کیا جانا چاہئے،



 اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت کو آج کے دور میں معاشی کفالت کے لئے اپنے شوہر کا ساتھ دینا پڑتا ہے اور ماں، بیٹی، بہن، بہو اور بیوی کے روپ میں بھی اہم کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ گھریلو عورتیں بھی دن رات اپنی ذمہ داریوں کو خوشدلی ہی سے ادا کرتی ہیں اور ملازمت پیشہ بھی۔ لیکن ان میں کھیتوں میں کام کرنے والی مزدور عورتیں ’’ محنت کش ‘‘ عورتیں ہیں۔ وہ اپنے کاموں میں اس قدر گھری رہتی ہیں کہ انہیں اپنے آپ کو سنوارنے، بناؤ سنگھار کرنے تک کا موقع نہیں ملتا۔ دہری زندگی جینے کے باوجود یہ عورتیں اپنے ماتھے پر کوئی شکن نہیں لاتی نہ ہی زبان سے شکایت کرتی ہیں۔ ان کے کپڑے ملگجے ہوتے ہیں، بال بکھرے ہوئے پھر بھی ان کے چہرے سے بشاشت ٹپکتی نظر آتی ہے۔ وہ ہمت اور دلیری کی مثال ہے۔ غربت، مفلسی، رہنے کے لئے ڈھنگ سے گھر نہیں اور تن ڈھانکنے کے لئے صحیح سےکپڑے نہیں تب بھی وہ مسکراتی ہیں۔ زندگی کو پوری طرح نہ جیتے ہوئے بھی جیتی ہیں۔  زمانے کی  مشکلات جھیل  کر بھی وہ سورج کی پہلی کرن کے ساتھ کمر کس کر کھیت میں جٹ جاتی ہیں۔ گرمی اور سردی کے موسم ہو یا بارش یہ موسم کی سختی برداشت کر کے کام کرتی ہیں اور مہنگائی کا مقابلہ کرتی ہیں۔غریب خاندان میں عورت کے لئے زندگی بالخصوص دشوار ہوتی ہے۔پھر بھی وہ اپنے   گھر کی معاشی حالت میں اضافہ کے لئے کوشاں رہتی ہیں۔ 


یہ وہ باہمت عورتیں ہیں جو معاشی صورتحال سے نبرد آزما ہوکر بھی معاشرے کی بنیادی تشکیل کرتی ہیں۔ جبکہ وہ بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہوتی ہیں۔ ایک اینکر پرسن  کے ساتھ  ایک محنت کش  عورت سے بات چیت کے دوران اس نے مجھے بتایا کہ، ’’بیٹی دکھ اور تکلیف کسے نہیں  ہوتے ہیں .. یہ تو زندگی کا حصہ ہے، میرے حصے میں جو آیاہے، اسے خوشی سے جی رہی ہوں۔ ‘‘بیشک یہ عورتیں خود اعتمادی، با ہمت اور دلیری کی مثال ہیں لیکن اب بھی ان میں تعلیمی بیداری پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ وہ حکومت کے ذریعے فراہم کی جانے والی سہولیات سے مستفید ہوسکیں۔ خاندانی ملکیت میں انہیں حق حاصل ہے اس کی طرف بھی توجہ دینی ضروری ہے۔ یہ عورتیں زیا دہ پڑھی لکھی نہیں ہیں تب بھی وہ پوری ایمانداری اور خود اعتمادی سے اپنا کام کرتی ہیں۔ کھیتوں میں فصلوں کو لہلہاتے دیکھ خوش ہوتی ہیں مانو خدا نے ان کی محنت کا ثمر انہیں دے دیا ہو۔ ان مزدور عورتوں سے ہمیں جہاں ہمت و خود اعتمادی کا درس ملتا ہے وہی اس بات کا احساس بھی ہوتا ہے کہ ہماری پر سکون زندگی کے پیچھے ان کا اہم کردار پوشیدہ ہے۔


 متعلقہ خبرلیکن ہر جگہ عدم مساوات اور امتیازی سلوک زرعی نظام میں خواتین کے لیے رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔ پوری دنیا میں، خواتین عام طور پر مردوں سے بدتر حالات اور کم اجرت پر کام کرتی ہیں اور بہت سے ممالک میں اب بھی زمین کی ملکیت سے متعلق خواتین کے لیے قانونی تحفظ ناکافی ہے۔ایف اے او کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، جب تک انہیں مویشیوں، پانی اور بیجوں کے ساتھ ساتھ زمین، ٹیکنالوجی اور اپنے روزگار بڑھانے کے لیے درکار مالی وسائل تک مکمل رسائی اور کنٹرول حاصل نہیں ہوتا، خواتین زرعی نظام میں اپنا مکمل   حصہ نہیں ڈال سکتیں۔امریکہ کے امداد کے عالمی ادارے یو ایس ایڈ کے فیڈ دی فیوچر پروگرام کی ڈپٹی کوآرڈینیٹر ڈینا آسپیسیٹو کا کہنا ہے "اگر زرعی نظام میں خواتین کو مردوں جیسی سہولتوں تک رسائی حاصل ہو، ان سے زیادہ نا بھی ہوں – صرف ان جیسی ہوں ۔ تو ہم قومی مجموعی پیداوار کو دس کھرب ڈالر تک پہنچا سکتے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے بھوکے لوگوں کی تعداد میں ساڑھے چار کروڑ تک کمی لا سکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یو ایس ایڈ نے خواتین کے لیے گرو نامی پروگرام شروع کیا ہے جس سے خواتین کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ڈپٹی کوآرڈینیٹر نے کہا کہ ’’ اس کے لیے کوشش کے تین پہلو ہیں۔ پہلا خواتین کسانوں کی پیداواری صلاحیت اور لچک پر مرکوز ہے۔


نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

بابائے جدید طبیعیات ( گلیلیوگلیلی)حصہ دوم

  گلیلیو نے 1634ء اپنی اجرام فلکی سے متعلق  کتاب  کیا شائع کی تو سارا ملک اس کے خلاف ہو گیا اور روم کی مذہبی عدالت میں اس پر مقدمہ چلایا گیا...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر