بدھ، 8 جولائی، 2026

ہندوستان (امروہہ) میں سادات کی آمد

 

  امروہہ صوبہ اترپردیش کے مغرب میں واقع ہے جس کی کل آبادی: 200000 ہے اورمسلم آبادی 60  فیصد  اور  اسی میں شیعہ آبادی  کا تناسب  پندرہ فیصد بتایا جاتا  ہے  ۔ امروہہ کے نقوی سادات کےمورث اعلیٰ حضرت شرف الدین شاہ ولایت نقوی ہیں جن کا سلسلہ نسب امام علی نقی علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔سادات کا یہ قافلہ منگولوں کی ایران پر فوج کشی کے باعث ایران سے ہجرت کر کے امروہہ میں وارد ہوا سادات امروہہ کا شجرہ دو فٹ چوڑا اور 276 فٹ اور 6 انچ (92 گز اور 6 انچ) لمبا ہے، یہ شجرہ باریک جھلّی(پوست) پر مکمل طور پر خوبصورت و دیدہ زیب ہے ڈیزائن سے اول تا آخر مزین ہے اس شجرہ کی ابتداء حضرت آدمؑ اور رسولوں اور مشہور پیغمبروں سے ہوتے ہوئے مشہور صفی بزرگ حضرت سید شاہ شرف الدین واسطی جو شاہ ولایت کے نام سے معروف ہیں آٹھ سو سال پہلے قریہ امروہہ (یو۔پی) میں تشریف لائے اور وہیں کے ہوکر رہ گئےانکی اولادں کا سلسلہ جو آٹھ سو سالوں پر محیط ہے ، اولادوں میں سنی شیعہ دونوں ہیں اس شجرہ میں بلا تفریق ، عابدی، نقوی، تقوی، زیدی، کاظمی ، رضوی ، نقشبندی، اور چشتیہ وغیرہ ہیں۔سادات امروہہ (دوسرا حصہ) دو فٹ چوڑا اور 436 فٹ 8انچ (145 گز، 8،انچ)لمبا نقاشی وغیرہ سے مزیّن باریک جھلّی(پوست) پر ہے۔یہاں کے لوگ ہمیشہ دیندار رہے ہیں ان کی دینداری کی علامت 20/مساجد اور 72/ حسینیہ و کربلا ہیں۔ یہ لوگ ہمیشہ تعلیم یافتہ رہے ہیں اور درسگاہوں کو بھی بنایا


  دوسرے حصے میں شاہ ولایت رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد وقاضی سید امیر علی کی اولاد تاج الدین سید شرف الدین جہانگیر قاضی محمود سالار کی اولادوں کا سلسلہ نسب ہے ۔  اس شجرہ میں حضرت امام حسینؑ کی اولاد امام زین العابدین ، عبد اللہ الباھر، حضرت امام محمد باقرؑ، علی، عبداللہ، عمر الاشرف، علی الاصغر وغیرہ کا نسب نامہ ہے-امروہہ از لحاظ جغرافیائی : شہر امروہہ ہندوستان کی راجدھانی دہلی سے صرف 130 کیلومیٹر پر واقع ہے دہلی سے نزدیک ہونے کی وجہ سے، امروہہ کا موسم دہلی کی طرح ہے۔ یہ شہر علاقوں اور محلوں میں تقسیم کیا گیا ہے امروہہ ایک مسلم اکثریتی آبادی ہے۔امروہہ کے علمی، فرہنگی اور مذہبی مراکز: بیسویں صدی کی ابتدا میں سادات نے ترقی کی کو شش شروع کی اور چند روشن خیال ہستیوں نے قومی ادارے قائم کیے۔ حاجی سیدمقبول احمد نے بامداد دیگراں خاندان 1902ء میں امام المدارس کی ابتدا کی اس مدرسہ کے لیے حاجی سید مقبول احمد اور سید محمد باقر نے موضع "سربراہ " اور "قائم پور" وقف کیے اور مولوی سید مجتبے ٰ حسن عرف چاند کی کوششوں سے ہائی اسکول ہوا۔ جو اب انٹر میڈیٹ کالج ہے مولاناسید نجم الحسن کی تحریک پر نور المدارس قائم ہوا اور مولوی سید اعجاز حسن جن کو گزیٹر مراد آبا د 1911ء میں قائد سادات امروہہ لکھا گیاہے سید المدارس کے بانی ہوئے۔ ان تمام مدارس سے تعلیم کا بہت چرچاہوا خصوصاً امام المدارس سے انگریزی تعلیمی ترقی میں بہت مدد ملی۔امروہہ میں 72 عزاخانے (چھوٹے - بڑے)پائے جاتے ہیں  ۔

 

امروہہ کے سادات کو برصغیر میں علم، تقویٰ، اور شاعری کے حوالے سے ایک خاص مقام حاصل ہے۔ امروہہ میں آباد خاندان: امروہہ میں مختلف خاندان پائے جاتے ہیں جن میں نقوی، عابدی، تقوی اور زیدی کے نام لئے جاسکتے ہیں نیز غیر سادات خاندان بھی یہاں آباد ہیں۔امروہہ کی شخصیات :امروہہ شہر جسکو علم و ادب کا گہوارہ کہا جاتا ہے اس سرزمین پر ایک سے ایک بڑی شخصیات نے آنکھیں کھولیں ہیں مولانا سید قائم رضا نسیمؔ آپ کو اردو میں جدید مرثیہ کا بانی کہا جاتا ہے موصوف نے 300 کے قریب مرثئے کہے جو لاجواب ہیں ، سادات امروہہ کی اہم میراث-امروہہ ضلع امروہہ کی تاریخ پر طائرانہ نظر: پہلے شخص جو سرزمین امروہہ پر وارد ہو ئے وہ سید شاہ نصیر الد ین اور عابد ی خاندان کے مو رث تھے۔ ان کی حیات ہی میں چو دھویں صدی عیسوی اور ساتویں صدی ہجر ی کے آغا ز میں سید حسین شر ف الد ین شا ہ ولا یت مور ث اعلیٰ خاندان  سرزمین امروہہ پر وارد ہو ئے۔ ان حضر ات کا تعلق اس زمر ہ صوفیا ئے کرام سے تھا جو ممالک اسلامیہ خصو صاًایران پر مسلسل منگولو ں کے حملو ں کی وجہ سے واردہند ستان ہو ئے اور جن کی سعی و کوشش کی بدولت ہند و ستان کی سر زمین پراسلا م پھیلا اور اس طر ح منگولوں کا یہ فتنہ، اسلا م کے لیے مفید ثا بت ہوا۔



                            امروہہ میں سادات کی آمد اور قیام عزاداری   دوسری یہ کہ ہندووں کی تگا اور راجپوت قو میں برابر سر کشی اور بغاوت پر آمادہ رہتی تھیں یہ تھے علاقہ روہیلکھنڈ کے حالات جس کو اس وقت کٹھہر کہتے تھے جب سید شر ف الد ین شاہ ولا یت۔ ان کے اعزااور اسلا ف نے امر وہہ کو اپنا مر کز بنا کر تبلیغ اسلام اور استحکام حکو مت کی ذمہ داری سنبھا لی تبلیغ اس و سیع پیما نہ پر کی کہ آ پ شاہ ولا یت کہلائے اور حسب مقا صد العارفین وثمر ات القدوس آ پ کی ولا یت”ازگنگ تاسنگ“تھی۔ یعنی دریائے گنگ سے لے کر ہمالیہ پہاڑ تک جس میں وہ سب علاقہ شامل ہے جس کو روہیلکھنڈ کہتے ہیں۔ شاہ صاحب اور ان کے اسلاف کی تبلیغ کی بدولت اس شہر میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب ہندوستان کے دیگر علاقوں میں سب سے زیادہ ہے اور امروہہ کے حلقہ میں آج بھی تمام ہندوستان میں سب سے زیادہ مسلم ووٹوں کا تناسب ہے۔ اسی دور میں تبلیغ دین کے ساتھ ہما رے بزر گو ں نے ملک کی خدمت بھی انجام دی۔ انھوں نے اپنی بہادری اور شجا عت سے تما م سر کش گر وہوں کے سر کر کے امن وامان قائم کیا ان اسلامی خد ما ت کی بنا ء پر حسب گزیٹر ضلع مر اد آباد 1911ء شہنشاہ اکبر کے زمانہ سے بہت پہلے سادات امر وہہ کا شمار ہندو ستان کے ممتازتر ین خاندانوں میں تھا اور وہ ایک اعلیٰ شہر ت کے ما لک بن چکے تھے۔ معاشرتی اعتبار سے اس دور میں سادات کی زندگی بہت سادہ تھی اور ان کے  آمکا نا ت معمولی تھے۔ ان کا سامان خانہ داری چند ضروری اشیائے زندگی پر منحصرتھا۔ ان کا طعام دور مغلیہ کی لذّتوں سے  آشنا نا تھا۔ ان کی زبان عر بی اور فا رسی دونوں تھیں

تحریر کے لئے گوگل سے استفادہ کیا ہے

 

ایک مایہ ء ناز خاتون رہنما 'عقیلہ ناز

   

 


   پاکستان میں مزارعین کی خستہ حالی ایک دیرینہ اور پیچیدہ مسئلہ ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں غیر منصفانہ جاگیردارانہ نظام، زمین کے مالکانہ حقوق کا فقدان اور جدید زرعی بحران شامل ہیں۔ ان محنت کشوں کو بنیادی حقوق، تعلیم، اور صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔. مالکانہ حقوق کا فقدان-پاکستان میں بالخصوص صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ میں لاکھوں مزارعین نسلوں سے زمینوں پر کاشتکاری کر رہے ہیں، مگر انہیں زمین کی ملکیت سے محروم رکھا جاتا ہے۔ اس کی بڑی مثال اوکاڑہ اور پاک پتن کے اور پنجاب سیڈ کارپوریشن کے علاقے ہیں جہاں مزارعین کو مالکانہ حقوق دینے کی بجائے اکثر  با اثر لوگوں کی جانب سے بے دخلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے ایک ا نقلابی خاتون نے ان غریبوں کے لئے آواز اٹھائ  وہ آواز تھی عقیلہ ناز کی        لیکن یہ آواز بڑی جلدی خاموش ہو گئ - (اے ایم پی) کی ممتاز رہنما، کسان خواتین کی توانا آواز اور بے زمین مزارعین کے حقوق کی جدوجہد کی نمایاں علامت عقیلہ ناز کینسر کے مرض میں مبتلا رہنے کے بعد بدھ کے روز ملتان میں انتقال کر گئیں۔ ان کی عمر 50 سال تھی۔ان کی وفات سے کسانوں کی تحریک، انسانی حقوق کی تنظیموں، خواتین کے حقوق کے کارکنوں اور ترقی پسند حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔


ان کے ساتھی انہیں ایک ایسی نڈر اور بااصول رہنما کے طور پر یاد کر رہے ہیں جنہوں نے اوکاڑہ اور خانیوال کے فوجی فارموں کے مزارعین کی حقِ ملکیت کی تحریک میں صف اول کا کردار ادا کیا اور شدید ریاستی دباؤ، مقدمات، گرفتاریوں اور دھمکیوں کے باوجود کبھی اپنے مؤقف سے دستبردار نہیں ہوئیں۔عقیلہ ناز گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک پاکستان میں بے زمین کسانوں کی تحریک کا نمایاں چہرہ رہیں۔ ان کی جرات، استقامت اور قیادت نے ہزاروں دیہی خواتین کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے، منظم ہونے اور تحریک کا حصہ بننے کا حوصلہ دیا۔ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی ان کسان خاندانوں کے لیے وقف کر دی جن کے آباؤ اجداد نسلوں سے زمینیں کاشت کرتے آئے، لیکن انہیں کبھی ان زمینوں کی قانونی ملکیت نہیں ملی۔عقیلہ ناز کا تعلق پنجاب کے ضلع خانیوال کے ایک کسان خاندان سے تھا۔ انہوں نے ہائی اسکول تک تعلیم حاصل کی، مگر مالی مشکلات کے باعث مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکیں۔ تاہم، وہ خود کہا کرتی تھیں کہ انجمن مزارعین پنجاب نے انہیں عملی زندگی کا وہ شعور، تجربہ اور اعتماد دیا جو کسی اعلیٰ تعلیمی ڈگری سے کم نہیں تھا۔ان کی جدوجہد کی بنیاد ان کے خاندانی پس منظر میں بھی موجود تھی۔ ان کے والد سیموئل رحمت کسانوں کے حقوق کے سرگرم حامی تھے۔ ان کے آباؤ اجداد نے برطانوی دور میں پنجاب کے نہری علاقوں کی آبادکاری کے دوران زمینیں آباد کیں، لیکن دوسرے ہزاروں کسان خاندانوں کی طرح انہیں بھی ان زمینوں کی ملکیت حاصل نہ ہو سکی۔ یہی احساس محرومی بعد میں عقیلہ ناز کی زندگی کا مقصد بن گیا۔


انجمن مزارعین پنجاب کی تحریک کا آغاز 1988 میں ہوا، جب پنجاب کے مختلف اضلاع میں سرکاری اور فوجی فارموں کی زمینیں نسلوں سے کاشت کرنے والے مزارعین نے متعلقہ اداروں کے دعووں کو چیلنج کیا۔ کسانوں کا مؤقف تھا کہ سرکاری ریونیو ریکارڈ کے مطابق یہ ادارے زمینوں کے قانونی مالک نہیں ہیں، اس لیے نسلوں سے کاشتکاری کرنے والے خاندانوں کو ملکیتی حقوق دیے جائیں۔1990 کی دہائی میں یہ تحریک تیزی سے پھیلی اور پنجاب کے تقریباً دس اضلاع میں لاکھوں کسان اس میں شامل ہوگئے۔ تحریک کا نعرہ ‘مالکی یا موت’ پورے خطے میں مزاحمت کی علامت بن گیا۔عقیلہ ناز نے مئی 2000 میں، انجمن مزارعین پنجاب میں شمولیت اختیار کی۔ اس وقت شاید انہیں بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ تحریک ان کی پوری زندگی کا محور بن جائے گی۔ چند ہی برسوں میں وہ ایک سرگرم کارکن سے کسان خواتین کی صف اول کی رہنما بن گئیں اور خواتین کو تحریک کا مضبوط ستون بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔اوکاڑہ اور خانیوال کے فوجی فارموں کے مزارعین کی تحریک پاکستان کی اہم عوامی تحریکوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس تحریک کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ جن کسان خاندانوں نے چار نسلوں سے ان زمینوں کو آباد رکھا ہے، انہیں بے دخل کرنے کے بجائے ان زمینوں کی قانونی ملکیت دی جائے۔ اس مقصد کے لیے کسانوں نے طویل احتجاج، جلسے، ریلیاں اور لانگ مارچ کیے۔  


 انہیں پولیس، رینجرز اور دیگر ریاستی اداروں کی کارروائیوں، گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ان کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں کسان خواتین تحریک کے ہر مرحلے میں نمایاں کردار ادا کرنے لگیں۔ وہ جلسوں، احتجاجی مظاہروں، مذاکرات اور تنظیم سازی میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں اور ہر قسم کی دھمکیوں اور دباؤ کے باوجود پیچھے نہیں ہٹیں۔تحریک کے دوران عقیلہ ناز کو جھوٹے مقدمات، رینجرز اور پولیس کی کارروائیوں، بااثر زمینداروں کی مخالفت اور بعض مذہبی حلقوں کی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ مشکل ترین حالات میں بھی کارکنوں کا حوصلہ بلند رکھتیں اور ہمیشہ پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی تھیں۔انہوں نے انجمن مزارعین پنجاب کے بانی رہنماؤں، خصوصاً ڈاکٹر کرسٹوفر جان، کے ساتھ مل کر کسانوں کی تنظیم سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ 2008 سے 2011 تک تنظیم کی فنانس سیکریٹری رہیں، بعد ازاں ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن منتخب ہوئیں اور پھر جنرل سیکریٹری کے عہدے پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ ایک بہترین مقرر، مؤثر لکھاری اور کامیاب تنظیم ساز کے طور پر بھی جانی جاتی تھیں۔عقیلہ ناز کی خدمات کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انہیں 2010 میں بنگلہ دیش میں جنوبی ایشیا کے ابھرتے ہوئے سماجی کارکنوں کے لیے قائم ’میٹو میموریل ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز معروف سماجی کارکن کملا بھاسین نے اپنی مرحوم بیٹی Meetoکی یاد میں قائم کیا تھا۔ یہ ایوارڈ انہیں کسان خواتین کے حقوق، دیہی تنظیم سازی اور سماجی انصاف کے لیے ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔انہوں نے بعد میں ’پیزنٹ ویمن سوسائٹی‘ کے نام سے ایک الگ پلیٹ فارم قائم کیا تاکہ دیہی خواتین کے مسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے وہ خواتین کی زمین پر ملکیت، میاں بیوی کی مشترکہ ملکیت کے حق، زرعی خواتین مزدوروں کی اجرت وغیرہ وغیرہ



نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

عظیم مسلم سرجن و فزیشن ' ابو القاسم الزھراوی

   مسلم دنیا کا  عظیم  جراح اور طبیب ابو القاسم خلف ابن العباس الزھراوی   اندلس  کے جنوب میں پیدا  ہوا جن کی جراحی کی مہارت ماضی میں بھی مشہ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر