منگل، 18 اگست، 2026

پاکستان میں جنسی جرائم میں ہولناک اضافہ

 

-پاکستان میں جنسی جرائم میں ہولناک اضافہ -پاکستان میں کوئی ایک بھی ایسا ادارہ نہیں ہے، جو صرف اس طرح کے جرائم پر ریسرچ کر رہا ہو۔ پاکستان میں سن دس ہزار انیس میں پندرہ ہزار سے زائد جنسی ہراسانی کے کیس رپورٹ ہوئے، جن میں اس طرح کے بلیک میلنگ کے واقعات بھی تھے۔ لیکن ماہرین اور متاثرہ افراد کا خیال ہے کہ اس نوعیت کے سینکڑوں واقعات سماج کے خوف کی وجہ سے رپورٹ ہی نہیں ہوتےکسی بھی معاشرے کی اخلاقی صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین افراد، خصوصاً بچوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ بدقسمتی سے آج کا پاکستانی سماج اس کسوٹی پر مسلسل ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ کراچی میں حالیہ انکشافات، جہاں ایک ہی شخص کے ہاتھوں درجنوں بلکہ ممکنہ طور پر سو سے زائد بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سامنے آئے، محض ایک واقعہ یا پولیس کیس نہیں بلکہ ایک تہذیبی بحران کی علامت ہیں۔ یہ سوال اب محض یہ نہیں رہا کہ جرم ہوا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایسا جرم بار بار کیوں ہو رہا ہے؟ اور ہماری اجتماعی آنکھیں کیوں بند رہتی ہیں؟ گزشتہ دہائی میں جس تیزی سے اخلاقی اقدار کمزور ہوئیں، خاندانی نگرانی ختم ہوئی، اور ڈیجیٹل دنیا بے لگام ہوئی، اسی رفتار سے درندگی کو بھی سماجی آکسیجن میسر آئی۔ مغرب کی اندھی تقلید، نام نہاد جدت پسندی، اور ’’ذاتی آزادی‘‘ کے مسخ شدہ تصورات نے شرم، حیا اور ذمے داری جیسے بنیادی انسانی اصولوں کو متروک  بنا دیا   ہے


 اسکول، گھر، اور محلے میں وہ نظام جو کبھی بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرتا تھا، اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ والدین مصروفیت اور زندگی کے دباؤ میں گم ہیں، بچے موبائل اور انٹرنیٹ کی دنیا میں الجھ گئے ہیں اور معاشرہ یہ سوچ کر خاموش ہے کہ شاید یہ مسئلہ کسی اور کا ہے۔ اعداد وشمار ہمارے سماجی زوال کی ایک خوفناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ گزشتہ چھے سال میں صرف ایک صوبے میں کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 5,761 سے زائد مقدمات درج کیے گئے، جن میں 638 اجتماعی زیادتی کے واقعات شامل تھے۔ مجموعی طور پر 9,524 ملزمان نامزد ہوئے، مگر 1,073 ملزمان گرفتاری سے بچ گئے، جبکہ اجتماعی زیادتی کے 1,710 ملزمان میں سے 258 قانون کی گرفت سے باہر رہے۔ کراچی کے حالیہ واقعات نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ یہ جرائم انفرادی نہیں، بلکہ ایک سماجی مرض بن چکے ہیں، سماجی بے حسی نے درندوں کے لیے ماحول فراہم کر دیا ہے۔ اکثر والدین بدنامی کے خوف میں خاموش رہتے ہیں، بچے خوف اور شرمندگی میں کچھ نہیں کہتے اور یوں مجرم سال ہا سال بغیر مزاحمت کے کام کرتا رہتا ہے۔ 


یہاں ایک اور پہلو قابل غور ہے: محلہ سسٹم کی کمی۔ وہ محلہ جہاں کبھی بزرگ شام کو بچوں کو کھیلتے دیکھتے، ان پر نظر رکھتے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کو فوراً نوٹ کرتے تھے، اب وہاں دروازے بند ہوگئے ہیں، نظریں نیچی ہیں، اور ذمے داری محدود ہو گئی ہے۔ پڑوسی ایک دوسرے کے بچوں کو نہیں جانتے، نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ کون کہاں جا رہا ہے یا کس کے ساتھ وقت گزار رہا ہے۔ یہی خلا درندوں کے لیے سازگار ہوا ہے۔ اب ضروری ہے کہ بزرگ دوبارہ اپنا ماضی والا کردار ادا کریں، بچوں کی حفاظت کے لیے حساس رہیں اور غیر متعلقہ افراد پر بھی نظر رکھیں۔ بچوں کی حفاظت صرف والدین کی نہیں، پورے سماج کی ذمے داری ہے۔ ڈیجیٹل فحاشی اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ اسمارٹ فون، غیر فلٹر شدہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے جنسی مواد کو چند لمحوں میں ہر عمر کی دسترس میں دے دیا ہے۔ یہ نہ صرف بچوں کے ذہنوں کو متاثر کر رہا ہے بلکہ بڑوں کے رویوں کو بھی مسخ کر رہا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جنسی جرائم میں ملوث افراد کی بڑی تعداد کی ذہنی اور نفسیاتی تشکیل میں آن لائن فحش مواد بنیادی عنصر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جرم صرف ذاتی بگاڑ یا اخلاقی کمزوری نہیں، بلکہ یہ سماجی اور تکنیکی ماحول کے نتائج بھی ہیں۔ قانونی اور عدالتی نظام کی کمزوری اس المیے کو اور بڑھا دیتی ہے۔ فاسٹ ٹریک عدالتیں نہ ہونا، پراسیکیوشن کا کمزور ہونا، تفتیشی اداروں کی تربیت میں خلا اور مقدمات کی سست روی، سب مل کر جرم کو مزید پراثر بناتے ہیں۔ حالیہ گرفتاریوں کے بعد سندھ حکومت نے بیانات دیے اور پولیس کو شاباش دی، مگر یہ کافی نہیں۔



 محض بیانات اور وقتی کارروائیاں درندوں کی تعداد کم نہیں کر سکتیں۔ سخت قانونی سزائیں، فاسٹ ٹریک عدالتیں، پولیس اور تفتیشی اداروں کی تربیت، ڈیجیٹل مواد پر مؤثر کنٹرول اور متاثرہ بچوں کے لیے نفسیاتی بحالی مراکز ناگزیر ہیں۔ مگر قانون سے پہلے کردار اور شعور کی ضرورت ہے، اور یہ کردار گھر، اسکول اور محلے میں بنتا ہے۔ اس معاشرتی بحران میں خاموشی سب سے بڑا دشمن ہے۔ ہم اکثر خبر پڑھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، لیکن یہ خبر ہر روز کی حقیقت ہے۔ یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جب معاشرہ خاموش ہو جائے، تو درندے بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہر وہ لمحہ جس میں ہم نے نظرانداز کیا، ہر وہ دن جس میں ہم نے خاموشی اختیار کی، دراصل ہم نے ایک اور بچے کو خطرے کے حوالے کیا۔ یہ المیہ یہ بھی بتاتا ہے کہ محض ریاستی اقدامات کافی نہیں۔ سماجی سطح پر بھی ہر فرد کی ذمے داری ہے۔ ہر شخص کو اپنے اور دوسرے بچوں پر نظر کے ساتھ اپنے محلے میں حرکت پر نظر رکھنی ہوگی، غیر متعلقہ افراد کی موجودگی پر حساس ہونا ہوگا اور والدین کے ساتھ مل کر بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی بات سنیں اور ان کی آن لائن سرگرمیوں پر نگرانی رکھیں۔ یہ معاشرتی زوال صرف آج کا نہیں، بلکہ برسوں کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ ہر نسل جسے ہم نے تعلیم، تربیت اور حفاظت کی جگہ بے حسی اور غفلت میں پرورش دی، آج وہ نتیجہ سامنے ہے۔ اخلاقی اقدار کی کمزوری، خاندانی روابط کی ٹوٹ پھوٹ اور ڈیجیٹل فحاشی نے بچوں کی زندگیوں پر اثرات ڈالے ہیں۔ اگر ہم نے آج اس بحران کے خلاف سنجیدہ قدم نہ اٹھایا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ وقت ہے کہ ہم صرف خبریں نہ پڑھیں بلکہ اپنی سماجی ذمے داری سمجھیں، محلے، گھر اور اسکول میں کردار ادا کریں، اور بچوں کی حفاظت کو ہر ممکنہ اقدام کے ساتھ یقینی بنائیں۔ جب معاشرہ اپنی ذمے داری کو سنجیدگی سے نبھائے گا، تب ہی ایسے درندوں کے لیے کوئی جگہ نہیں رہے گی۔ یہی وہ وقت ہے جب ہم اپنے ضمیر، اپنے محلے اور اپنے بچوں کے لیے کھڑے ہوں، کیونکہ بچوں کی حفاظت صرف قانون کی نہیں بلکہ پورے معاشرتی شعور کی ضرورت ہے

موسیقار شیام سندرنےایک جوہری کی طرح رفیع کو پرکھ لیا

   کہا جاتا ہے کہ ایک روز کندن لال سہگل`                         کا پروگرام تھا۔ وہ اپنے وقت کے مشہور گلوکار تھے اور انھیں سننے کے لیے سینکڑوں کا مجمع تھا، مگر بجلی فیل ہونے کی وجہ سے سہگل نے گانے سے انکار کر دیا۔ اسی وقت رفیع کے بھائی نے پروگرام کے منتظمین سے کہا کہ ان کا بھائی بھی ایک گلوکار ہے اور اسے موقع دیا جائے۔مجمعے کی ناراضی کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے رفیع کو گانے کا موقع دیا۔ 13 سال کی عمر میں انھوں نے اِسٹیج پر   جب فر فارمنس دی تو لوگ بھول گئے کہ وہ تو سہگل کو سننے آئے  تھے ۔ اسی پروگرام میں موسیقار شیام سندر موجود تھے۔ انھوں نے ایک جوہری کی طرح رفیع کو پرکھ لیا اور انھیں بمبئی آنے کی دعوت دی۔ بس یہیں سے رفیع کا گلوکاری کا یادگار سفر شروع ہوا۔رفیع کی زندگی میں سب سے بڑا موڑ اس وقت آیا جب موسیقار اعظم نوشاد نے انھیں گانے کا موقع دیا۔ اس وقت نوشاد علی اور طلعت محمود کی جوڑی بہت کامیاب تھی نوشاد کا ہر گیت طلعت گاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز نوشاد نے طلعت کو گانے سے قبل سگریٹ پیتے دیکھ لیا۔ اصولوں کے پکے نوشاد بہت برہم ہوئے اور انھوں نے طلعت کی بجائے رفیع کو چن لیا۔ رفیع نے زندگی میں کبھی سگریٹ یا شراب کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔نوشاد کے ساتھ رفیع کی جوڑی بہت کامیاب رہی۔ بیجوباؤرا کے سارے نغمے ہٹ ہوئے۔من تڑپت ہری درشن کو آج،جیسا کلاسیکی گیت ہو یاتقسیم ہند سے قبل انھوں نے کئی فلموں میں نغمے گائے۔ 



’یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے‘ان کے ہزا رہا یاد گار نغموں میں سے ایک ہے۔-نوشاد سے ملاقات چاہے مجھے کوئی جنگلی کہےکا چنچل نغمہ رفیع کو ہر طرح کے گیت گانے میں مہارت حاصل تھی۔ انھوں نے وہ نغمے بھی گائے جسے اس وقت کے دوسرے گلوکاروں نے گانے سے منع کر دیا تھا۔ کشور کمار نے ’ہاتھی میرے ساتھی کا گیت             نفرت کی دنیا کو چھوڑ کر‘گانے سے منع کر دیا تھا کیونکہ اس میں آواز کی لے کافی اونچی تھی لیکن رفیع نے یہ گیت گایا اور بہت مقبول ہوا۔نغمگی کا یہ سفر بہت کامیاب رہا۔ انھوں نے اردو ،ہندی ،مراٹھی، گجراتی، بنگالی بھوجپوری تمل کے علاوہ کئی زبانوں میں گیت گائے۔ رفیع کی خاصیت تھی کہ وہ جس فنکار کے لیے گاتے اسی کی آواز اور اسی کے انداز کو اپناتے۔فلم پیاسا میں جانی واکر کے لیے انھوں نے ’تیل مالش’ کا جو گیت گایا اسے سن کر لگتا ہے کہ سامنے جانی واکر ہی گا رہے ہیں اور اس کا اعتراف خود جانی واکر نے بھی کیا تھا۔رفیع بہت سیدھے اور صاف دل انسان تھے۔ کئی مرتبہ انھوں نے بغیر ایک پیسہ لیے گیت گایا۔ ایک بڑے موسیقار نے رفیع کی موت کے بعد اعتراف کیا کہ ان کے پاس رفیع کو دینے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ گیت ختم ہونے کے بعد انھوں نے رفیع صاحب سے نظریں نہیں ملائیں اور دنیا کو دکھانے کے لیے ایک خالی لفافہ پکڑا دیا۔ رفیع نے اسے لے لیا لیکن بعد میں ملاقات کے بعد کبھی اس کا تذکرہ بھی نہیں کیا جب بھی ملے مسکرا کر ملے۔



گلوکار محمد رفیع دنیائے موسیقی کے ان نامور اور شہرت یافتہ گلوکار رہے کہ جنھوں نے اپنے فن کیرئیر میں 4516 گیت گا کر بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔ انھوں نے انمول گھڑی، میلہ، انداز، دیدار، بیجو باورہ، دوبیگھا زمین، دیوداس، چوری چوری، پیاسا، کاغذ کے پھول، تیرے گھر کے سامنے، گائیڈ، ارادھنا، ابھیمان، نیا دور، کشمیر کی کلی، مغل اعظم، جنگلی، پروفیسر، چائنا ٹاؤن، تاج محل، میرے محبوب، سنگم، دوستی، وقت، خاندان، جانور، تیسری منزل، میرا سایہ، دل دیا درد لیا، کھلونا، دوستانہ، پاکیزہ، کاروان، لیلیٰ مجنوں سمیت تقریباً ہزار کے قریب فلموں میں گیت گائے، ان کے یادگار گیتوں میں ’کیا ہوا تیرا وعدہ‘، ’بہاروں پھول برساؤ‘، ’لکھے جو خط تجھے‘، ’چُرا لیا ہے تم نے جو دل کو‘، ’تیری پیاری پیاری صورت کو کسی کی نظر نہ لگے‘، ’دل کے جھرکوں پے تجھ کو بٹھا کے ‘، ’چاہے مجھے کوئی جنگلی کہے‘، ’چودھویں کا چاند ہو‘، ’بابل کی دعائیں لیتی جا‘، ’تعریف کروں کیا اس کی‘، ’چاہوں گا میں تمھیں سانجھ سویرے‘، ’یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں‘، ’تیری آنکھوں کے سوا‘، ’چھپ گئے سارے نظارے ‘، ’پردہ ہے پردہ ‘، ’او میری محبوبہ‘، ’یہ ریشمی زلفیں‘، ’آنکھوں ہی آنکھوں میں ‘، ’اٹھرا برس کی تو‘، ’یہ میرا پریم پتر پڑھ کر‘، ’تجھے جیون کی ڈور سے ‘، ’یونہی تم مجھ سے بات کرتی ہو‘، ’مجھے تیری محبت کا سہارا‘، ’بھری دنیا میں آخر دل کو سمجھانے ‘، ’آدمی مسافر ہے‘، ’میرے دشمن تو میری دوستی کو ترسے‘، ’رم جھم کے گیت ساون گائے‘، ’یہ دل تم بن کہیں لگتا نہیں‘، ’آجا تجھ کو پکارے میرے گیت‘، ’سہانی رات ڈھل چکی‘، ’زندہ باد زندہ باد اے محبت‘، ’تمھاری نظر کیوں خفا ہو گئی‘، ’تیری دنیا سے دور‘، ’جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا‘، ’میرے متوا میرے میت رے‘، ’میرے پیار کی آواز پے چلی آنا‘، ’وعدہ کرلے ساجنا‘،



 ’یہ چاند سا روشن چہرہ‘، ’اکیلے اکیلے کہاں جا رہے ہو‘، ’ایسا موقع پھر کہاں ملے گا‘، ’آنے سے اس کے آئے بہار‘، ’خوش رہے تو سدا‘، ’بار بار دیکھو‘،’باغوں میں بہار ہے‘، ’ہوئے ہم عشق میں برباد ہیں برباد رہیں گے‘، ’میرے دوست قصہ یہ ‘، ’سلامت رہے دوستانہ‘، وغیرہ شامل ہیں۔اوپی نیر رفیع کے زبردست مداح تھے، اور 60 کی دہائی کے آخر میں ہونے والی گرماگرمی سے پہلے رفیع او پی کی ہر فلم کا لازمی جزو ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے 194 گیتوں میں رفیع کی آواز استعمال کی۔ او پی ردم کے بادشاہ کہلاتے تھے اور انہوں نے پنجاب کے کھلے میدانوں کھلیانوں کے بےمحابا کھلنڈرے پن اور شاداب شوخیوں کو برصغیر کے گوشے گوشے تک پہنچا دیا۔یہ کام وہ رفیع کے بغیر نہیں کر سکتے تھے، کیوں کہ 40 کی دہائی کے اواخر تک بالی وڈ میں ناک سے گانے والے گلوکاروں کا راج تھا۔ رفیع بھرے گلے سے گانے والے پہلے گلوکار تھے جو او پی نیر کی تھرکتی الھڑ دھنوں سے انصاف کر سکتے تھے۔  دوسری طرف او پی نیر نے جس تنوع اور کثرت سے رفیع کی آواز کے امکانات کھنگالے ہیں، اگر وہ ہمارے سامنے نہ ہوتے تو رفیع کا نام سن کر جو تصویر ذہن میں آتی ہے، اس کے رنگ ذرا پھیکے رہتے۔ مگر یہ سوال اب بھی اٹھتا ہے کہ ان  کی فرشتوں کے پروں جیسی ملائم اور مے ناب جیسی نشیلی آواز کو کس موسیقار نے سب سے عمدگی سے استعمال کیاہے ا کر تمام اہم موسیقاروں کے ساتھ رفیع کے کام کا بغور جائزہ لیا۔  محمد رفیع امرتسر کے ایک گاؤں کوٹلہ سلطان سنگھ میں پیدا ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے بچپن کے دنوں میں ایک فقیر ان کی گلی میں آتا تھا، جو بلند آواز میں گیت گاتا تھا۔ رفیع کو اسے گنگناتا دیکھ کر ان کے بڑے بھائی نے استاد وحید خان کی سرپرستی میں انھیں موسیقی کی تعلیم دلوائی 

خدا کے گھر کا رزق کن کو ملتا ہے

مختصر تفسیر :وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوٰتًا :

اور جو اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا 

 ں مردہ مت کہو (القران)اس آیت میں شہداء کو مردہ کہنے سے منع کیا گیا ہے ، نہ زبان سے انہیں مردہ کہنے کی اجازت ہے اور نہ دل میں انہیں مردہ سمجھنے کی اجازت ہے ، جیسا کہ ایک اور مقام پر فرمانِ باری تعالیٰ ہے : وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوٰتًا ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوۡنَ ۔ (ال عمران:۱۶۹)ترجمہ : اور جو اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں ، انہیں رزق دیا جاتا ہے ۔موت کے بعد اللہ تعالیٰ شہداء کو زندگی عطا فرماتا ہے ، ان کی ا رواح پر رزق پیش کیا جاتا ہے ، انہیں راحتیں دی جاتی ہیں ، ان کے عمل جاری رہتے ہیں ، ان کا اجرو ثواب بڑھتا رہتا ہے ، حدیث شریف میں ہے کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے بدن میں جنت کی سیر کرتی اور وہاں کے میوے اور نعمتیں کھاتی ہیں ۔ (شعب الایمان ، السبعون من شعب الایمان، ۷/۱۱۵، الحدیث: ۹۶۸۶)حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : اہل جنت میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا :اے ابن آدم!تو نے اپنی منزل و مقام کو کیسا پایا ۔ وہ عرض کرے گا : اے میرے رب ! عَزَّوَجَلَّ ، بہت اچھی منزل ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ’’تو مانگ اور کوئی تمنا کر ۔ وہ عرض کرے گا : میں تجھ سے اتنا سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے دنیا کی طرف لوٹا دے اور میں دس مرتبہ تیری راہ میں شہید کیا جاؤں ۔ (وہ یہ سوال اس لئے کرے گا ) کہ اس نے شہادت کی فضیلت ملاحظہ کر لی ہو گی ۔(سنن نسائی ، کتاب الجہاد، ما یتمنی اہل الجنۃ، ص۵۱۴، الحدیث: ۳۱۵۷)بعض شہداء وہ ہیں کہ ان پر دنیا کے یہ احکام تو جاری نہیں ہوتے لیکن آخرت میں ان کے لیے شہادت کا درجہ ہے جیسے ڈوب کر یا جل کر یا دیوار کے نیچے دب کر مرنے والا،طلب ِعلم اورسفرِحج غرض راہ خدا میں مرنے والا یہ سب شہید ہیں۔ حدیثوں میں ایسے شہداء کی تعداد چالیس سے زائد ہے۔ 


 یعنی یہ بات تو قطعی ہے کہ شہداء زندہ ہیں لیکن ان کی حیات کیسی ہے اس کا ہمیں شعور نہیں اسی لئے ان پر شرعی احکام عام میت کی طرح ہی جاری ہوتے ہیں جیسے قبر ، دفن، تقسیمِ میراث ، ان کی بیویوں کا عدت گزارنا ، عدت کے بعد کسی دوسرے سے نکاح کرسکنا وغیرہ      -شانِ نزول :حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جب تمہارے بھائی اُحد میں شہید ہوئے تواللہ تعالیٰ نے ان کی اَرواح کو سبز پرندوں کے جسم عطا فرمائے ، وہ جنتی نہروں پر سیر کرتے پھرتے ہیں ، جنتی میوے کھاتے ہیں ، سونے کی اُن قندیلوں میں رہتے ہیں جو عرش کے نیچے لٹک رہی ہیں ۔ جب ان شہداء کرام نے کھانے ، پینے اور رہنے کے پاکیزہ عیش پائے تو کہا کہ پیچھے دنیا میں رہ جانے والے ہمارے بھائیوں کو کون خبر دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور جنگ سے بیٹھ نہ رہیں ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں انہیں تمہاری خبر پہنچاؤں گا۔ پس یہ آیت نازل فرمائی ۔ 


 (ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فی فضل الشہادۃ، ۳/۲۲، الحدیث: ۲۵۲۰)اس سے ثابت ہوا کہ اَرواح باقی ہیں جسم کے فنا ہونے کے ساتھ فنا نہیں ہوتیں ۔ یہاں آیت میں شہدا ء کی کئی شانیں بیان ہوئی ہیں : فرمایا کہ وہ کامل زندگی والے ہیں ، وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس ہیں ۔ آیتِ مبارکہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ شہیدوں کے روح اور جسم دونوں زندہ ہیں ۔ علماء نے فرمایا کہ شہداء کے جسم قبروں میں محفوظ رہتے ہیں ، مٹی ان کو نقصان نہیں پہنچاتی اور صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے زمانے میں اور اس کے بعداس بات کا بکثرت معائنہ ہوا ہے کہ اگر کبھی شہداء کی قبریں کھل گئیں تو ان کے جسم تر و تازہ پائے گئے ۔ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ ۔جنت میں جانے کے بعد شہید یہ تمنا کرے گا کہ مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے اور دس بار (اللہ کے راستے میں ) قتل کیا جاؤں۔دُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے: میری یہ تمنا ہے کہ میں اللہتعالیٰ کے راستے میں جہاد کروں ، پھر شہید کیا جاؤں ، پھر جہاد کروں ، پھر شہید کیا جاؤں ، پھر جہاد کروں پھر شہید کیا جاؤں۔



اللہ کے راستے میں جان دینے والا ، بلکہ حیاتِ ابدی ودائمی کی سرفرازی و سرخروئی سے بہرہ مند اور زندہ جاوید ہو کر انسانوں کے لئے نشانِ عظمت بن جاتا ہے۔ شہادت اور شہید کا قرآن و حدیث میں بہت بلند و ارفع مقام و مرتبہ بیان کیا گیا ہے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نظر میں شہید انتہائی معزز و مکرم ہوتا ہے۔قرآن کریم میں شہادت کی عظمت و فضیلت کو متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے اور اس کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے کہ یہ کتنی بڑی اور عظیم سعادت ہے اور مومن کو کس بلندی پر فائز کر دیتی ہے۔ مومن کی زندگی کی حقیقت یہ ہے کہ اس کی جان و مال اللہ تعالیٰ نے جنت کےعوض خریدلی ہے۔ فرمایاگیا کہ ’’یقیناً اللہ نے مومنوں سے ان کی جان و مال جنت کے بدلے خریدلئے ہیں کہ جنت انہی کی ہے، وہ اللہ کے راستے میں جنگ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں قتل کرتے ہیں اور قتل ہوتے بھی ہیں۔ یہ سچا وعدہ ہے تورات ، انجیل اور قرآن میں، اور اللہ سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے۔ لہٰذا اس سودے پر خوشی مناؤ جو اس نے تم سے کیا ہے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔‘‘ (سورۃ التوبہ:111) 

بلاگنگ شروع کرنے کے لیے، کیا کیا کام کرنا ضروری ہیں

 

-niche بلاگنگ شروع کرنے کے لیے، کیا کیا کام کرنا ضروری ہیں -پہلے اپنے پسندیدہ موضوع کا انتخاب کریں جس کو نیش    کہتے ہیں ، پھر ورڈپریس یا بلاگر پر بلاگ بنائیں، معیاری مضامین لکھیں اور سرچ انجن آپٹیمائزیشن (SEO) کے ذریعے اپنی ویب سائٹ پر ٹریفک لائیں۔ موضوع کا انتخاب ایک ایسے موضوع کا انتخاب کریں جس میں آپ کی مہارت یا گہری دلچسپی ہو۔ عوام کی ضروریات اور مطالبات کو مدنظر رکھیں۔ پلیٹ فارم سلیکشن بلاگر: ابتدائیوں کے لیے مفت اور آسان ترین پلیٹ فارم۔ ورڈپریس: پیشہ ورانہ اور مکمل کنٹرول کے لیے بہترین۔ ڈومین اور ہوسٹنگ اپنے بلاگ کے لیے ایک مختصر اور سادہ ڈومین نام خریدیں۔ اچھی اور تیز ویب ہوسٹنگ کا انتخاب کریں۔ مواد کی تیاری اور SEO اچھے، مفید اور قارئین کو حل کرنے والے مضامین لکھیں۔ گوگل پر رینکنگ کے لیے گوگل سرچ سینٹرل کے بنیادی اصولوں کے مطابق SEO کریں۔ کمائی (منیٹائزیشن) بلاگ کے مشہور ہونے کے بعد گوگل ایڈسینس یا ایفیلیٹ مارکیٹنگ کے ذریعے کمانا شروع کریں۔LiveJournal ایک اور مفت اور مقبول بلاگنگ سروس ہے جو آپ کو نجی جرائد، بلاگز، ڈسکشن فورمز، اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس بنانے کی اجازت دیتی ہے۔ 1999 سے اب تک 14 ملین سے زیادہ بلاگز اور کمیونٹیز بن چکی ہیں۔ LiveJournal آپ کو اپنے موبائل فون سے بلاگ پوسٹ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ چند سال پہلے تک بلاگز صرف لکھنے تک محدود تھے لیکن اب بلاگنگ صرف لکھنے تک محدود نہیں رہی بلکہ فوٹو بلاگز، اسکیچ بلاگز، ویڈیو بلاگز، میوزک بلاگز اور آڈیو (پوڈکاسٹ) کی آمد سے اس کا دائرہ بہت وسیع ہوگیا ہے اور یہ سب اب انٹرنیٹ کا ایک بڑا حصہ بن چکے ہیں۔



بلاگنگ کیوں؟بلا شبہ آج کل انٹرنیٹ پر بلاگنگ سب سے اہم سرگرمی ہے۔ لاکھوں لوگ اپنے بلاگ لکھتے ہیں یا دوسرے لوگوں کے بلاگ پڑھتے ہیں۔بلاگنگ شروع کرنے کے لیے، پہلے اپنے پسندیدہ موضوع (Niche) کا انتخاب کریں، پھر ورڈپریس یا بلاگر پر ایک بلاگ بنائیں، معیاری مضامین لکھیں، اور سرچ انجن آپٹیمائزیشن (SEO) کے ذریعے اپنی ویب سائٹ پر ٹریفک چلائیں۔اپنے بلاگ کے لیے ایک مختصر اور سادہ ڈومین نام خریدیں۔  ’گوگل بلاگر‘ کے مطابق، جو شاید اس وقت بلاگنگ کا سب سے بڑا مرکز ہے، ’بلاگ آپ کی ذاتی ڈائری ہے، آپ کی روزمرہ کی سرگرمیوں کی ایک ڈائری، ایک ایسی جگہ جہاں سے آپ رابطہ قائم کرتے ہیں، ایک ایسا ذریعہ ہے جہاں سے اہم ترین خبریں نکلتی ہیں،‘ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی دریافتوں، ایجادات اور خیالات کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہے۔ وہ اپنی سوچ سے دوسروں کو سوچتا دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ وہ جستجو ہے جو لوگوں کو بلاگ لکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ کیونکہ بلاگز وہ جگہ ہے جہاں وہ کھل کر اپنے خیالات، اپنی دریافتوں، اپنے منصوبوں کا اظہار کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، انہیں بلاگز کی شکل میں ایک دنیا ملتی ہے جہاں وہ حکمرانی کرتے ہیں۔بہت سی کمپنیاں اپنے ملازمین کو بلاگ لکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ مائیکرو سافٹ کے سینکڑوں ملازمین باقاعدگی سے بلاگ لکھتے ہیں۔ یہی حال دوسری بڑی کمپنیوں کا بھی ہے جن کے ملازمین اپنے اہم تجربات اور مشاہدات کو اپنے بلاگز میں بیان کر کے اپنے قارئین کی رہنمائی کرتے ہیں۔بلاگز کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ سیاست کا ایک اہم ہتھیار بن چکے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بہت سی سیاسی شخصیات اپنے بلاگ لکھتی ہیں۔بلاگ دو انگریزی الفاظ ویب   اور  لاگ کا مجموعہ ہے، جو ان ویب سائٹس کے لیے استعمال ہوتا ہے جو معلومات کو تاریخی ترتیب میں محفوظ کرتی ہیں۔


ویب لاگ کا لفظ سب سے پہلے 1997 میں Jorn Barger نے استعمال کیا، جو robotwisdom.com کے نام سے ایک ویبلاگ سائٹ چلاتے ہیں۔ اس کے بعد، لفظ بلاگ کو پیٹر مرہولز نے مزاحیہ انداز میں لفظ "ویبلاگ" کو توڑ کر استعمال کیا جیسا کہ ہم بلاگ کرتے ہیں، اور یہیں سے لفظ "بلاگ" مقبول ہوا۔ Xanga نامی سائٹ جو بلاگنگ میں ایک بڑا نام ہے، 1998 تک اس کے صرف 100 بلاگ تھے، لیکن 2005 تک یہ تعداد 20 ملین سے تجاوز کر گئی۔ اس کے بعد بلاگ ہوسٹنگ کے دیگر لاتعداد ٹولز میدان میں آئے اور بلاگنگ کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ اوپن ڈائری بلاگنگ پہلا تھا جس نے صارفین کو کسی بھی بلاگ پر تبصرہ کرنے کی اجازت دی، جو بہت کامیاب رہا۔‘ یہ انسانی فطر ت ہے کہ وہ اپنی دریافت، ایجاد اور خیالات دوسروں کو بتانا چاہتا ہے۔ وہ اپنی سوچ سے دوسرے کو سوچتے دیکھنا چاہتا ہے۔ یہی وہ جستجو ہے جو لوگوں کو بلاگز لکھنے پر مجبور کرتی ہے کیوں کہ بلاگ ہی وہ جگہ ہے جہاں وہ اپنے خیالات، اپنی دریافتیں ، اپنے منصوبے کھْل کر بیان کرسکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں انہیں بلاگ کی صورت میں ایک دنیا مل جاتی ہے ،جہاں وہ حکومت کرتے ہیں۔ بہت سی کمپنیاں اپنے ملازمین کو بلاگز لکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ مائیکروسافٹ کے سیکڑوں ملازمین باقاعدگی سے بلاگ لکھتے ہیں۔


 یہی حال دیگر اہم کمپنیوں کا ہے جن کے ملازمین اپنے بلاگز میں اپنے اہم تجربات اور مشاہدات بیان کر کے اپنے قارئین کی رہنمائی کرتے ہیں۔ بلاگز کے بارے میں یہ بھی کہاجاتا ہے کہ یہ سیاست کا ایک اہم اوزار بن چکے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ ترقی یافتہ اقوام کی بہت سی سیاسی شخصیتیں اپنے بلاگز لکھتی ہیں۔ بلاگز کی سیاسی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے ۔ اسی طرح دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی یہ صورتِ حال دیکھنے میں آتی رہتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ عہدیداران ہوں یا کسی یونی ورسٹی کے محققین، فلمی ستارے ہوں یا ذرائع ابلاغ سے منسلک لوگ، بلاگز سب کی ضرورت بن چکے ہیں۔ بلاگز اتنے مشہور ہو چکے ہیں کہ اب یہ پیسہ کمانے کا ایک ذریعہ بھی بن چکے ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا مشہور بلاگ ہو جسے آپ اشتہارات سے پاک دیکھیں۔ لوگوں میں دوسروں کے بلاگ پڑھنے کا رجحان، اپنے بلاگ لکھنے سے بھی زیادہ ہے۔ اس لئے بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ پوری ویب سائٹ کے مقابلے میں اسی سائٹ پر موجود کسی مخصوص بلاگ کے ملاحظہ کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں۔ اس لئے ایسے بلاگز پر اشتہارات لگا کر ان کی شہرت سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے جب کہ گوگل ایڈسنس کے اشتہارات تو آپ کو تقریباً ہر چھوٹے بڑے بلاگ پر نظر آتے ہی رہتے ہیں

 مضمون انٹر نیٹ کی مدد سے لکھا گیا پہے


نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

پاکستان میں جنسی جرائم میں ہولناک اضافہ

  -پاکستان میں جنسی جرائم میں ہولناک اضافہ - پاکستان میں کوئی ایک بھی ایسا ادارہ نہیں ہے، جو صرف اس طرح کے جرائم پر ریسرچ کر رہا ہو۔ پاکستان...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر