منگل، 18 اگست، 2026

پاکستان میں جنسی جرائم میں ہولناک اضافہ

 

-پاکستان میں جنسی جرائم میں ہولناک اضافہ -پاکستان میں کوئی ایک بھی ایسا ادارہ نہیں ہے، جو صرف اس طرح کے جرائم پر ریسرچ کر رہا ہو۔ پاکستان میں سن دس ہزار انیس میں پندرہ ہزار سے زائد جنسی ہراسانی کے کیس رپورٹ ہوئے، جن میں اس طرح کے بلیک میلنگ کے واقعات بھی تھے۔ لیکن ماہرین اور متاثرہ افراد کا خیال ہے کہ اس نوعیت کے سینکڑوں واقعات سماج کے خوف کی وجہ سے رپورٹ ہی نہیں ہوتےکسی بھی معاشرے کی اخلاقی صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین افراد، خصوصاً بچوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ بدقسمتی سے آج کا پاکستانی سماج اس کسوٹی پر مسلسل ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ کراچی میں حالیہ انکشافات، جہاں ایک ہی شخص کے ہاتھوں درجنوں بلکہ ممکنہ طور پر سو سے زائد بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سامنے آئے، محض ایک واقعہ یا پولیس کیس نہیں بلکہ ایک تہذیبی بحران کی علامت ہیں۔ یہ سوال اب محض یہ نہیں رہا کہ جرم ہوا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایسا جرم بار بار کیوں ہو رہا ہے؟ اور ہماری اجتماعی آنکھیں کیوں بند رہتی ہیں؟ گزشتہ دہائی میں جس تیزی سے اخلاقی اقدار کمزور ہوئیں، خاندانی نگرانی ختم ہوئی، اور ڈیجیٹل دنیا بے لگام ہوئی، اسی رفتار سے درندگی کو بھی سماجی آکسیجن میسر آئی۔ مغرب کی اندھی تقلید، نام نہاد جدت پسندی، اور ’’ذاتی آزادی‘‘ کے مسخ شدہ تصورات نے شرم، حیا اور ذمے داری جیسے بنیادی انسانی اصولوں کو متروک  بنا دیا   ہے


 اسکول، گھر، اور محلے میں وہ نظام جو کبھی بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرتا تھا، اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ والدین مصروفیت اور زندگی کے دباؤ میں گم ہیں، بچے موبائل اور انٹرنیٹ کی دنیا میں الجھ گئے ہیں اور معاشرہ یہ سوچ کر خاموش ہے کہ شاید یہ مسئلہ کسی اور کا ہے۔ اعداد وشمار ہمارے سماجی زوال کی ایک خوفناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ گزشتہ چھے سال میں صرف ایک صوبے میں کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 5,761 سے زائد مقدمات درج کیے گئے، جن میں 638 اجتماعی زیادتی کے واقعات شامل تھے۔ مجموعی طور پر 9,524 ملزمان نامزد ہوئے، مگر 1,073 ملزمان گرفتاری سے بچ گئے، جبکہ اجتماعی زیادتی کے 1,710 ملزمان میں سے 258 قانون کی گرفت سے باہر رہے۔ کراچی کے حالیہ واقعات نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ یہ جرائم انفرادی نہیں، بلکہ ایک سماجی مرض بن چکے ہیں، سماجی بے حسی نے درندوں کے لیے ماحول فراہم کر دیا ہے۔ اکثر والدین بدنامی کے خوف میں خاموش رہتے ہیں، بچے خوف اور شرمندگی میں کچھ نہیں کہتے اور یوں مجرم سال ہا سال بغیر مزاحمت کے کام کرتا رہتا ہے۔ 


یہاں ایک اور پہلو قابل غور ہے: محلہ سسٹم کی کمی۔ وہ محلہ جہاں کبھی بزرگ شام کو بچوں کو کھیلتے دیکھتے، ان پر نظر رکھتے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کو فوراً نوٹ کرتے تھے، اب وہاں دروازے بند ہوگئے ہیں، نظریں نیچی ہیں، اور ذمے داری محدود ہو گئی ہے۔ پڑوسی ایک دوسرے کے بچوں کو نہیں جانتے، نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ کون کہاں جا رہا ہے یا کس کے ساتھ وقت گزار رہا ہے۔ یہی خلا درندوں کے لیے سازگار ہوا ہے۔ اب ضروری ہے کہ بزرگ دوبارہ اپنا ماضی والا کردار ادا کریں، بچوں کی حفاظت کے لیے حساس رہیں اور غیر متعلقہ افراد پر بھی نظر رکھیں۔ بچوں کی حفاظت صرف والدین کی نہیں، پورے سماج کی ذمے داری ہے۔ ڈیجیٹل فحاشی اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ اسمارٹ فون، غیر فلٹر شدہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے جنسی مواد کو چند لمحوں میں ہر عمر کی دسترس میں دے دیا ہے۔ یہ نہ صرف بچوں کے ذہنوں کو متاثر کر رہا ہے بلکہ بڑوں کے رویوں کو بھی مسخ کر رہا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جنسی جرائم میں ملوث افراد کی بڑی تعداد کی ذہنی اور نفسیاتی تشکیل میں آن لائن فحش مواد بنیادی عنصر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جرم صرف ذاتی بگاڑ یا اخلاقی کمزوری نہیں، بلکہ یہ سماجی اور تکنیکی ماحول کے نتائج بھی ہیں۔ قانونی اور عدالتی نظام کی کمزوری اس المیے کو اور بڑھا دیتی ہے۔ فاسٹ ٹریک عدالتیں نہ ہونا، پراسیکیوشن کا کمزور ہونا، تفتیشی اداروں کی تربیت میں خلا اور مقدمات کی سست روی، سب مل کر جرم کو مزید پراثر بناتے ہیں۔ حالیہ گرفتاریوں کے بعد سندھ حکومت نے بیانات دیے اور پولیس کو شاباش دی، مگر یہ کافی نہیں۔



 محض بیانات اور وقتی کارروائیاں درندوں کی تعداد کم نہیں کر سکتیں۔ سخت قانونی سزائیں، فاسٹ ٹریک عدالتیں، پولیس اور تفتیشی اداروں کی تربیت، ڈیجیٹل مواد پر مؤثر کنٹرول اور متاثرہ بچوں کے لیے نفسیاتی بحالی مراکز ناگزیر ہیں۔ مگر قانون سے پہلے کردار اور شعور کی ضرورت ہے، اور یہ کردار گھر، اسکول اور محلے میں بنتا ہے۔ اس معاشرتی بحران میں خاموشی سب سے بڑا دشمن ہے۔ ہم اکثر خبر پڑھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، لیکن یہ خبر ہر روز کی حقیقت ہے۔ یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جب معاشرہ خاموش ہو جائے، تو درندے بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہر وہ لمحہ جس میں ہم نے نظرانداز کیا، ہر وہ دن جس میں ہم نے خاموشی اختیار کی، دراصل ہم نے ایک اور بچے کو خطرے کے حوالے کیا۔ یہ المیہ یہ بھی بتاتا ہے کہ محض ریاستی اقدامات کافی نہیں۔ سماجی سطح پر بھی ہر فرد کی ذمے داری ہے۔ ہر شخص کو اپنے اور دوسرے بچوں پر نظر کے ساتھ اپنے محلے میں حرکت پر نظر رکھنی ہوگی، غیر متعلقہ افراد کی موجودگی پر حساس ہونا ہوگا اور والدین کے ساتھ مل کر بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی بات سنیں اور ان کی آن لائن سرگرمیوں پر نگرانی رکھیں۔ یہ معاشرتی زوال صرف آج کا نہیں، بلکہ برسوں کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ ہر نسل جسے ہم نے تعلیم، تربیت اور حفاظت کی جگہ بے حسی اور غفلت میں پرورش دی، آج وہ نتیجہ سامنے ہے۔ اخلاقی اقدار کی کمزوری، خاندانی روابط کی ٹوٹ پھوٹ اور ڈیجیٹل فحاشی نے بچوں کی زندگیوں پر اثرات ڈالے ہیں۔ اگر ہم نے آج اس بحران کے خلاف سنجیدہ قدم نہ اٹھایا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ وقت ہے کہ ہم صرف خبریں نہ پڑھیں بلکہ اپنی سماجی ذمے داری سمجھیں، محلے، گھر اور اسکول میں کردار ادا کریں، اور بچوں کی حفاظت کو ہر ممکنہ اقدام کے ساتھ یقینی بنائیں۔ جب معاشرہ اپنی ذمے داری کو سنجیدگی سے نبھائے گا، تب ہی ایسے درندوں کے لیے کوئی جگہ نہیں رہے گی۔ یہی وہ وقت ہے جب ہم اپنے ضمیر، اپنے محلے اور اپنے بچوں کے لیے کھڑے ہوں، کیونکہ بچوں کی حفاظت صرف قانون کی نہیں بلکہ پورے معاشرتی شعور کی ضرورت ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

پاکستان میں جنسی جرائم میں ہولناک اضافہ

  -پاکستان میں جنسی جرائم میں ہولناک اضافہ - پاکستان میں کوئی ایک بھی ایسا ادارہ نہیں ہے، جو صرف اس طرح کے جرائم پر ریسرچ کر رہا ہو۔ پاکستان...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر