Do you know that blogging is a fun of writing, in simple words you can also call it a digital diary, where you can share your perspective, your experiences, observations and thoughts with millions of people. The word blog comes from the combination of the English words 'web' and 'log'. A blog refers to a writing or article that is published on the World Wide Web (digital media/electronic . You can comment on social issues, politics, education, sports, fashion and business and many other things
اتوار، 20 ستمبر، 2026
اسپینش فلو جو 5 کروڑ جانیں لے گیا
دلوں کے بادشاہ عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ
جمعہ، 18 ستمبر، 2026
کزن میرج کا نتیجہ موروثی بیما ری کی منتقلی
کزن میر ج (چچا زاد، پھوپھی زاد، ماموں زاد یا خالہ زاد بہن بھائیوں کے درمیان شادی) اور تھیلیسیمیا: ان کیفیات کو موروثی یا جینیاتی بیماریاں کہا جاتا ہے، اور فی الحال ان کا کوئی علاج موجود نہیں ہے۔ تھیلیسیمیا پاکستان میں سب سے عام موروثی بیماری ہے۔ ملک میں ایک کروڑ (10 ملین) افراد 'تھیلیسیمیا مائنر' (Thalassemia Minor) کے کیریئر (حامل) ہیں۔ اگرچہ کیریئر ہونا بذاتِ خود کوئی بیماری نہیں ہے، لیکن اگر ایسا شخص کسی دوسرے 'تھیلیسیمیا مائنر' کیریئر سے شادی کرتا ہے، تو ہر حمل کے دوران 25 فیصد امکان ہوتا ہے کہ بچہ 'تھیلیسیمیا میجر' (Thalassemia Major) کے ساتھ پیدا ہوگا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ پیچیدہ میوٹیشنز (جینیاتی تبدیلیاں) کہاں سے جنم لیتی ہیں؟ میوٹیشنز فائدہ مند بھی ہو سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں نئی خصوصیات یا صلاحیتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہر جین دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے جنہیں "ایلیلز" (alleles) کہا جاتا ہے—ایک ماں سے اور دوسرا باپ سے ورثے میں ملتا ہے۔ اس طرح، بچے کا جین والدین کے جینز کا ایک منفرد امتزاج ہوتا ہے۔ اسے واضح کرنے کے لیے، فرض کریں کہ کسی خاندان میں موروثی بیماری (جیسے تھیلیسیمیا) کا کوئی کیریئر موجود ہے۔
اتصور کیجئے ایک جوڑے کے چھ بچے ہیں، جو بظاہر صحت مند نظر آتے ہیں۔ یہ بچے خاندان کے اندر ہی شادی کرتے ہیں، اور نتیجے کے طور پر، ہر ایک اس مخصوص جین اپنے تین بچوں میں منتقل کرتا ہے۔ جیسے جیسے قریبی رشتہ داروں میں شادی کا یہ سلسلہ تیسری نسل تک پہنچتا ہے، دونوں والدین کے کیریئر ہونے کا امکان نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ اگرچہ بچوں میں تھیلیسیمیا کی علامات ظاہر نہ بھی ہوں، تب بھی کیریئر اولاد پیدا ہونے کا امکان دوگنا ہو جاتا ہے۔ اگر کزنز (چچا، پھوپھی، ماموں یا خالہ کی اولاد) کے درمیان شادیوں کا رجحان جاری رہا تو چوتھی نسل میں بہت سے بچے تھیلیسیمیا کا شکار ہوں گے۔ عام لوگ تھیلیسیمیا کے مریض کی دیکھ بھال میں شامل بے پناہ چیلنجوں کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں 65 سے 75 فیصد شادیاں خاندان کے اندر ہوتی ہیں، جن میں سے 80 فیصد قریبی کزنز (جیسے چچا، پھوپھی، ماموں یا خالہ کی اولاد) کے درمیان ہوتی ہیں۔ جب جوڑے میں شامل دونوں افراد میں کوئی ناقص جین موجود ہو، تو ان کی اولاد میں بیماری کی منتقلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
تھیلیسیمیا پاکستان میں سب سے عام جینیاتی بیماری ہے جو خاندانوں کے ذریعے اگلی نسلوں میں منتقل ہوتی ہے۔ ملک میں ایک کروڑ (10 ملین) افراد ایسے ہیں جو 'تھیلیسیمیا مائنر' کے کیریئر ہیں۔ اگرچہ یہ بذاتِ خود کوئی بیماری نہیں ہے، لیکن اگر 'تھیلیسیمیا مائنر' (Thalassemia Minor) کا کیریئر (یعنی وہ فرد جس میں اس کا جین موجود ہو) کسی دوسرے 'تھیلیسیمیا مائنر' کیریئر سے شادی کرتا ہے، تو ہر حمل کے دوران اس بات کا 25 فیصد امکان ہوتا ہے کہ پیدا ہونے والا بچہ 'تھیلیسیمیا میجر' (Thalassemia Major) کا شکار ہو سکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق، موروثی (جینیاتی) بیماریوں پر قابو پانے کا واحد طریقہ ان سے منسلک جینز کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ ضروری نہیں کہ ایسے جوڑے کے ہاں پیدا ہونے والا ہر بچہ ان مسائل سے متاثر ہو؛ تاہم، یہ ایک حقیقت ہے کہ کزن (قریبی رشتہ داروں) کے درمیان شادیوں میں بچوں کے اس بیماری کا شکار ہونے کا خطرہ 35 فیصد ہوتا ہے، جبکہ خاندان سے باہر شادیوں کی صورت میں یہ شرح کم ہو کر پانچ فیصد رہ جاتی ہے۔
یہ اعداد و شمار ان افراد پر لاگو ہوتے ہیں جن میں پہلے سے ہی یہ ناقص جین موجود ہوتا ہے۔ ایک ڈاکٹر نے اپنا تجربہ بیان کیا: "میرے بھائی نےاپنی کزن سے شادی کی۔ جب ان کا پہلا بچہ پیدا ہوا تو اس کے خون کے خلیات نے کام کرنا چھوڑ دیا اور بچہ انتقال کر گیا۔ دوسرے حمل سے ایک صحت مند بچہ پیدا ہوا، لیکن تیسرا بچہ ایک مختلف جینیاتی عارضے کا شکار ہوا؛ وہ بچہ بھی زندہ نہ رہ سکا۔" پاکستان میں شادی سے قبل تھیلیسیمیا کے ٹیسٹ کو لازمی قرار دینے کا قانون موجود ہے۔ 'تھیلیسیمیا میجر' کے مریضوں کو ماہانہ بنیادوں پر خون کی منتقلی (blood transfusion) کی ضرورت پڑتی ہے؛ اس عمل کے نتیجے میں خون میں آئرن جمع ہونے لگتا ہے، جس سے جگر کو نقصان پہنچنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس نقصان کو کم کرنے کے لیے ادویات دی جاتی ہیں تاکہ آئرن کی اضافی مقدار کو کم کیا جا سکے۔ اب، کزن میرج (قریبی رشتہ داروں میں شادی) میں تھیلیسیمیا کی منتقلی پر غور کرتے ہیں؛ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، یہ ایک موروثی بیماری ہے، یعنی یہ جینیاتی نقائص کی وجہ سے والدین سے اولاد میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ کیفیت جسم کی خون پیدا کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ -اس لئے بیتر یہی ہے کہ خاندان باہر شادی کر کے خطرات سے بچا جائے
پیر، 14 ستمبر، 2026
نیٹی جیٹی پُرانا پُل آج کی بہترین فوڈ اسٹریٹ
اتوار، 13 ستمبر، 2026
عباسی شہید ہسپتال کل اور آج کے آئینے میں
عباسی شہید ہسپتال کل اور آج کے آئینے میں8 ستمبر 2026ء کی خاص خبر جو وطن عزیز کے دو موقر روزناموں میں چھپی- کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے سب سے بڑے طبی مراکز میں شمار ہونے والے عباسی شہید اسپتال میں گزشتہ 10 سال سے ایم آر آئی کی سہولت غیر فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔اسپتال میں نصب ایم آر آئی مشین 2016 میں خراب ہوئی تھی، تاہم ایک دہائی گزرنے کے باوجود مشین کی مرمت یا بحالی ممکن نہیں ہوسکی۔ایم آر آئ مشین کی اہمیتْ ایم آر آئی (MRI - Magnetic Resonance Imaging) مشین انسانی جسم کے اندرونی حصوں کی تفصیلی تصاویر لینے کے لیے طاقتور مقناطیس (Magnets)، ریڈیو لہروں (Radio Waves) اور کمپیوٹر کا استعمال کرتی ہے۔ اس میں کسی قسم کی نقصان دہ شعاعیں (جیسے ایکس رے یا سی ٹی اسکین میں ہوتی ہیں) استعمال نہیں ہوتیں۔یہ مشین بنیادی طور پر درج ذیل چار مراحل میں کام کرتی ہے:1. طاقتور مقناطیسی میدان (Magnetic Field)انسانی جسم کا تقریباً 70 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے، اور پانی میں ہائیڈروجن کے ایٹمز (Protons) ہوتے ہیں۔عام حالت میں یہ پروٹونز جسم میں مختلف سمتوں میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔جیسے ہی مریض کو ایم آر آئی مشین کے اندر لے جایا جاتا ہے، مشین کا انتہائی طاقتور مقناطیس ان تمام پروٹونز کو ایک سیدھ میں (ایک لائن میں) کر دیتا ہے۔2. ریڈیو لہروں کا استعمال (Radio Waves)پروٹونز کے سیدھے ہونے کے بعد، مشین جسم کے مطلوبہ حصے کی طرف ریڈیو فریکوئینسی (RF) کی لہریں چھوڑتی ہے۔یہ لہریں ان پروٹونز سے ٹکراتی ہیں اور انہیں اپنی جگہ سے تھوڑا سا ہٹا یا "ڈسٹرب" کر دیتی ہیں۔3. سگنل کا اخراج (Releasing Signals)جب ریڈیو لہروں کو بند کیا جاتا ہے، تو پروٹونز دوبارہ اپنی اصل مقناطیسی پوزیشن میں واپس آنے لگتے ہیں۔اپنی اصل جگہ واپس آتے ہوئے یہ پروٹونز خود سے کمزور ریڈیو سگنلز خارج کرتے ہیں۔
اس سارے عمل میں جسم کے مختلف حصے (جیسے ہڈیاں، پٹھے، یا چربی) مختلف رفتار سے اپنی جگہ واپس آتے ہیں، اس لیے ان کے سگنلز بھی الگ الگ ہوتے ہیں۔4. کمپیوٹر امیجنگ (Image Creation)مشین میں لگے ہوئے سینسرز ان سگنلز کو ریکارڈ کرتے ہیں اور کمپیوٹر کو بھیجتے ہیں۔کمپیوٹر ان سگنلز کا حساب لگا کر جسم کے اندرونی حصے کی انتہائی واضح اور تھری ڈی (3D) تصویر تیار کر دیتا ہے۔ ایم آر آئی ایک انتہائی اہم تشخیصی عمل ہے جس کے ذریعے دماغ، ریڑھ کی ہڈی، جوڑوں اور جسم کے دیگر پیچیدہ مسائل کی بروقت تشخیص ہوتی ہے۔ اس سہولت کی عدم دستیابی کے باعث غریب مریضوں کو جناح اور سول اسپتال جیسے دیگر مراکز کا رخ کرنا پڑتا ہے۔شہریوں نے اسپتال میں جاری اس بدانتظامی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 10 سال کا طویل عرصہ کسی مشین کی خرابی دور کرنے کے لیے نامناسب ہے -شہریوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک سرکاری اسپتال کی اہم مشین 10 سال سے خراب ہے
اور افسوس کا مقام ہے کہ حکو مت نے مکمل سرف نظر کیا ہوا ہے جس کی بناء پر عوامی حلقوں نے میئر کراچی اور کے ایم سی حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پرانی مشین اب قابل مرمت نہیں رہی تو فوری طور پر نئی ایم آر آئی مشین فراہم کی جائے تاکہ مریضوں کی مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ عباسی شہید اسپتال کراچی کا ایک بڑا سرکاری طبی مرکز ہے جہاں روزانہ بڑی تعداد میں مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ ایسے میں ایک بنیادی تشخیصی سہولت کا 10 سال سے بند ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔ شہرِ قائد کے سب سے بڑے طبی مراکز میں سے ایک عباسی شہید اسپتال میں ایم آر آئی کی اہم تشخیصی سہولت گزشتہ 10 برس سے مکمل طور پر غیر فعال ہے جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسپتال انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ یہ مشین 2016 میں خراب ہوئی تھی، تب سے اب تک اسے ٹھیک نہیں کیا جا سکا۔
انتظامیہ نے اس تشویشناک صورتحال پر میئر کراچی کو بارہا خطوط لکھے اور اعلیٰ حکام کو اس سنگین مسئلے سے آگاہ کیا، لیکن تاحال کے ایم سی کی جانب سے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔اسپتال انتظامیہ نے بھی مشین کی طویل عرصے سے خرابی کی تصدیق کردی ہے۔ جس کے بعد مشین کو قابل استعمال بنانے کے لیے مختلف اوقات میں ماہرین اور متعلقہ ٹیموں نے اسپتال کا دورہ کیا۔ تاہم مسئلہ حل نہیں ہوسکا اور ایم آر آئی کی سہولت مسلسل بند رہی۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مشین کا معائنہ کرنے والی ٹیموں نے اس کی خرابی اور درکار مرمت کے حوالے سے کے ایم سی کو بھی آگاہ کیا جبکہ اسپتال کی جانب سے بھی اس معاملے پر کئی مرتبہ میئر کراچی کو بھی خطوط لکھے جاچکے ہیں ۔مشین طویل عرصے سے آؤٹ آف آرڈر ہونے کے باعث ایم آر آئی وارڈ بھی مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔
منگل، 8 ستمبر، 2026
مخملیں وادیوں کی سر زمین 'جنت ارضی کشمیر
اتوار، 6 ستمبر، 2026
زرا عمررفتہ کو آواز دینا -میری کہانی میری زبانی
بدھ، 2 ستمبر، 2026
کلو چھولے والے کی شادی پارٹ 1(اشاعت مکرر)
اب میں اپنے قارئین کو ا پنی زندگی کے وہ اوّلین دن بتانے چلی ہوں جو بہت پر مشقّت تو تھے لیکن بچپن کی انوکھی آرزؤں سے معمور تھے ،ہمارے چاروں جانب ہندوستان کے شورش زدہ علاقوں سے آیا ہوا سماج تھا -بڑے بڑے قابل نام بھی تھے اور بہت چھوٹے چھوٹے سماجی حیثیت والے لوگ بھی جو اپنی جانیں بچا کر پاکستان کی آ بسے تھے -انہی لوگوں میں ایک گھر ایسا بھی تھا جس کے دو ہی نفوس تھے ایک بوڑھی ماں اور ایک اس کا بیٹا جن کی گزر بسر کے لئے بس ایک چھولے کا ٹھیلا تھا -اس زمانے میں جب کسی گھر میں شادی ہوتی تھی تو رات کے وقت ڈھو لک کی محفل ضرور سجتی تھی اور میرے پیروں میں پہئے لگ جاتے تھے کہ کس طرح میں اس گھر میں پہنچ جاؤں جہاں ڈھولک بج رہی ہے ،مقصد واحد ہوتا تھا کہ ڈھول بجانے ولی لڑکی کی انگلیاں کس طرح چل رہی ہیں خود دیکھوں اور سیکھوں مگر یہ شوق آ ج بھی ناتمام ہی رہی-ابّا جان تو رات کے وقت گھر سے قدم نکالنے کے ہی سخت مخالف تھے اور امّی جان ابّا جان کے تابع تھیں، میری عمر یہی کوئ سات یا آٹھ برس کے دور میں تھی ایسے میں ہمارے سامنے والے محلّے کے ایک گھر سے مجھے دن کے وقت ڈھولک بجنے کی آواز آئ اور میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ ابّا جان تو گھر پر نہیں ہیں مجھے اجازت دے دیجئے
بس امّی جان نے اجازت د ی اور میں نے جھٹ پٹ چھوٹے بھائ کوگود میں اٹھایا اور چند منٹ میں کلّو چھولے والے کے گھر پہنچ گئ ،میں بھائ کے بغیر گھر سے قدم نکالنے کی بھی مجاز نہیں تھی کیونکہ وہ ڈھائ برس کی جان میری واپسی تک امّی جان کا جینا حرام کردیتا ،-بہر حال میں نے گلی میں نکل دیکھا ڈھولک کی آواز کدھر سے آری ہے اچانک میری نظر ٹہری تو مجھے کلو چھولے والے کے گھر کے اندر عورتیں جاتی نظر آئیں اس وقت کلٰو چھولے والے کا گھر مجھے دور سے ہی پرستان کے شہزادے کا گھر دکھا ئ دینے لگا گھر کے اندر باہر بلاروک ٹوک آنا جانا لگا ہوا تھا میں بھی اسی آپا دھاپی میں اندر پہنچ کر شادی کے گھر کے مناظر کے مشاہدے میں لگ گئ --کچّے آنگن میں ایک طرف کوری ہانڈی میں پانی کے اندر ننھی ننھی مچھلیاں تیر رہی تھیں میں نے ہانڈی میں جھانکا اور پھر گود میں موجود بھائ کو مچھلیاں دکھائیں دوسری طرف بڑے سے تھال میں سل پر پیسی گئ کچّی مہندی بھیگی ہوئ تھی جس کی سوندھی خوشبو گلی کے اندر دور تک مہک رہی تھی اور ساتھ ہی مہکتے چنبیلی کے تیل میں ابٹن کی خوشبو بھی ملی جلی تھی-گھر کے کچّے آنگن کی ملتانی مٹّی سے شائد رات کو ہی لپائ کی گئ تھی آنگن بلکل صاف ستھرا تھا
اور اب اس پرگھر کی عورتیں ایک رسم ادا کرنے جا رہی تھیں یعنی لال رنگ کے بھیگے ہوئے گیرو اور صندل کے آمیزے میں سات سہاگنوں کے ہاتھ ڈبو کر ان کو آنگن کی دیوار پر چھاپنا تھا ،بڑی بوڑھی کا سختی سے حکم تھا کہ خبر دار ہاتھ الگ الگ تھال پر نا پڑے اور ٹیڑھا میڑھا بھی نا پڑے یہ سب بد شگونیاں سہاگ بھرے بھاگ کے گھر میں بد شگونیاں مانی جاتی ہیں-اس رسم کو پہلی دفع ہی دیکھنے کا میرا اتّفاق تھا گھر کی سب سے بڑی بوڑھی خاتون کو لا کر چار پائ پر بٹھا یا گیا اور گیرواور صندل کا سرخ آمیزے سے بھرا تھال ان کے آگے رکھ دیا گیا ساتھ ہی گڑ کا اور مرمروں کا بڑا سا تھا ل آیا اور پھرڈھولک کی تھاپ پر عورتوں نے کوئ اپنی دیہاتی زبان میں گیت گانا شروع کیا ساتھ ہی آوازیں بھی دی جانے لگیں اری او کہاں ہے آ ری آ ،آج ہمرے دوارے سہاگن آئ گیو رے ، عورتیں آتی گئیں ڈھول بجتی رہی اور صندل اور گیرو کے چھاپے دیوار کو سجاتے رہے
کلّو چھولے والے کا تعارف تو رہ ہی گیا یہ ایک بمشکل بیس بائیس سال کا انتہائ درجے کا سانولا لیکن دلکش نقوش والا نوجوان تھا ،جو ٹھیک دس بجے دوپہر سے پہلے اپنی ماں کے ہاتھ کے تیّار کئے ہوئے مزیدار چٹ پٹے چھولے کا ٹھیلا لے کر لب سڑک ہمارے گھر سے کچھ فاصلے کھڑا ہوجاتا تھا اور اس کے چھولے اتنے مذیدار ہوتے تھے کہ دوپہر کو یہ گھر واپس چلاجاتا تھا مجھے یا د ہے جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا تو بڑی حیرت سے دیکھتی رہی تھی سرسوں کے تیل میں چپڑا ہوا سرجس کے بال بلکل جٹ سیاہ اس پر سرسوں کے تیل کی اس کے ماتھے تک آئ ہوئ بہار، بڑی بڑی آنکھیں جن میں بہتا کاجل رچا ہوا ،لیکن وہ اپنے اطراف سے بیگانہ اپنے چھولوں کی دنیا میں مگن سر جھکا کے آتا اور سر جھکا کے واپس جا تا جب اس کی شادی ہوئ تب مجھے معلوم ہوا کہ یہ اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھا اور اس کی ماں نانی اور خالائیں اس کی شادی پر اپنے اپنے ارمان پورے کر رہی تھیں - خیر میری دلچسپی کا ساما ن اس گھر کی رسمیں تھیں میں جن کو دل و جان سے دیکھ بھی رہی تھی اور نگاہوں کے راستے حفظ بھی کر رہی تھی- -بہر حال میرا بچپن کا ایک انتہائ شوق تھا کہ میں کسی طرح ڈھولک بجانا سیکھ جاؤں
منگل، 1 ستمبر، 2026
سانحہ نیپال
قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال، جنگلات کی کٹائی، آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے اسباب نے قدرت کے نظام میں ایسی دراڑیں پیدا کردی ہیں جن کے نتائج اب دنیا کے سامنے ہیں۔ اس اعتبار سے نیپال کا سانحہ محض نیپال کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک انتباہ ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کے شمالی علاقے میں پہار کے ٹوٹنے کا سانحہ پیش آ چکا جس نے پوری جیتی جاگتی بستی کو نگل لیا تھا -بات یہ ہے کہ پاکستان بھی قطبی علاقوں کے علاوہ دنیا کے سب سے بڑے برفانی ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، بالخصوص قراقرم اور ہمالیائی سلسلہ کوہ میں موجود گلیشیئرز ہمارے آبی مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، مون سون کے بدلتے ہوئے انداز اور سرحد پار دریاں کے پانی کا انتظام ایسے معاملات ہیں جن کا تعلق براہِ راست ہماری قومی سلامتی اور مستقبل سے ہےانسانی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبیں اس وقت عروج پاتی ہیں جب وہ عقل، بصیرت اور دوراندیشی سے کام لیتی ہیں، اور اس وقت زوال کا شکار ہوتی ہیں جب ان کے سامنے موجود واضح نشانیاں اور انتباہات نظرانداز کر دئیے جاتے ہیں۔اگرانسان قدرت کے ساتھ بے اعتدالی کا سلوک جاری رکھتا رہا، اگر اقوام موسمیاتی تبدیلی اور آبی وسائل جیسے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہیں، تو آنے والی نسلوں کے لیے اس سے بھی بڑے سانحات منتظر ہوسکتے ہیں۔ سوچئے زرا جب فطرت مسکراتی ہے تو پہاڑوں پر سبزہ اترتا ہے، دریاں میں زندگی دوڑتی ہے اور وادیاں گیت گاتی ہیں؛ لیکن جب یہی اللہ کے جلال کا ایک رخ دکھاتی ہے تو پہاڑ بھی گویا رو پڑتے ہیں، وادیاں ماتم کدہ بن جاتی ہیں اور انسان اپنی تمام تر قوت، علم اور غرور کے باوجود اپنی بے بسی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانیت کو ہر قسم کی آفت، وبا، سیلاب، زلزلے اور قدرتی و انسانی تباہی سے محفوظ فرمائے،
اقوام کو عدل، تعاون اور باہمی احترام کی راہ دکھائے، ہمیں قدرت کے انتباہات کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، اور پاکستان سمیت پوری دنیا کو ایسے فیصلے کرنے کی بصیرت دے جو آنے والی نسلوں کے لیے امن، پانی، ماحول اور زندگی کو محفوظ بنا سکیں۔ آمین صبح 8 بج کر 37 منٹ قریب قریب نیپال اور چین کی سرحد کے قریب، کھٹمنڈو کے شمالی علاقے میں شام جھٹکے محسوس کرتے محسوس ہوئے۔ جیولوجیکل ابتدائی طور پر اس سمندر کو 4. شدید زلزلے سے تعبیر کیا گیا تھا، تاہم اس کے بعد مزید تجزیوں کے مختلف قرار دیے جانے کے بعد یو ایس جی ایس کے مطابق اس علاقے سے برف اور چٹانوں کا ایک بہت بڑا ملبہ نیچے آیا اور لدھیاں کھولا دریائے جا گرنے میں۔ یہ دریا آگے جاکر بھوٹے کوشی دریا میں شامل ہے، جو چین سے نیپال کی طرف بہت زیادہ ہے جیولوجیکل ابتدائی طور پر اس سمندر کو 4. شدید زلزلے سے تعبیر کیا گیا تھا، تاہم اس کے بعد مزید تجزیوں کے مختلف قرار دیے جانے کے بعد یو ایس جی ایس کے مطابق اس علاقے سے برف اور چٹانوں کا ایک بہت بڑا ملبہ نیچے آیا اور لدھیاں کھولا دریائے جا گرنے میں۔ یہ دریا آگے جاکر بھوٹے کوشی دریا میں شامل ہوتا ہے، جو چین سے نیپال کی طرف سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر رسک کنٹرول اتھارٹی کے مطابق ملک کے تازہ ترین اعداد و شمار اور سیلاب میں تباہ کن لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہونے والی تعداد 734 ہو گئی۔یپال اور تبت کی سرحد پر واقع ہمالیائی خطے میں گلیشیئر کا پھٹنا یا ٹوٹنا کسی زلزلے کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ موسمیاتی تبدیلی avalanche) کا ایک ملا جلا اور پیچیدہ واقعہ تھا۔
[1, 2, 3] (Climate Change)، پرما فراسٹ (برف جمی مٹی) کے پگھلنے اور چٹان و برف کے تودے گرنے (Ice-rockسائنسی تجزیات اور سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق یہ حادثہ درج ذیل وجوہات کی بنا پر پیش آیا:. گلیشیئر کا بڑا حصہ ٹوٹنا (Glacier Collapse)سمندر کی سطح سے تقریباً 5,200 میٹر کی بلندی پر واقع گلیشیئر (لانگ ٹانگ لیرونگ کے قریب) کا ایک بہت بڑا نچلا حصہ یکدم کٹ کر نیچے وادی میں جا گرا۔ ماہرین کے مطابق یہ حصہ تقریباً 1,300 میٹر چوڑا تھا اور یوں لگا جیسے کسی نے چاقو سے گلیشیئر کا نچلا دھڑ کاٹ کر پہاڑ سے نیچے پھینک دیا ہو۔ [1, 2, 3]2. بلندی سے گرنے کا شدید اثر (The Avalanche)برف اور چٹانوں کا یہ گرجتا ہوا تودہ تقریباً 1,200 میٹر (4,000 فٹ) نیچے موجود وادی (Lhende Khola) میں گرا۔ یہ اثر اتنا شدید تھا کہ زمین ہل گئی اور زلزلہ پیما مشینوں پر اس کی شدت 5.2 میگنیٹیوڈ ریکارڈ کی گئی، جسے شروع میں لوگ حقیقی زلزلہ سمجھ بیٹھے تھے۔ 3. عارضی بند (Natural Dam) اور اس کا پھٹنا-جب لاکھوں ٹن برف، مٹی اور بھاری چٹانیں تیز رفتاری سے نیچے دریا کی وادی میں گریں، تو انہوں نے وہاں بہنے والے دریا کا راستہ عارضی طور پر روک دیا اور ایک قدرتی بند یا جھیل بن گئی۔ چند ہی منٹوں میں پیچھے پانی کا دباؤ اس حد تک بڑھ گیا کہ یہ کمزور عارضی بند دھماکے سے پھٹ گیا۔ 4. مٹی اور پتھروں کا سونامی (Tsunami of Dirt)ند ٹوٹنے سے پانی، پگھلی ہوئی برف، کیچڑ اور دیو ہیکل چٹانوں کا ایک خوفناک ریلا 190 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی زیادہ کی رفتار سے نیچے کی طرف بڑھا۔ چونکہ یہ مون سون کا موسم تھا اور زمین پہلے ہی پانی سے بھری ہوئی تھی، اس لیے اس ریلے نے راستے کی مزید مٹی اور پتھروں کو اپنے اندر لپیٹ لیا۔ اسی وجہ سے صرف 30 منٹ کے اندر دریاؤں میں پانی کی سطح 9 میٹر (30 فٹ) تک بلند ہو گئی اور نیچے واقع بستیوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملااورسب کچھ تہس نہس ہو گیا ۔
نیپال میں آفات سے نمٹنے کے سرکاری ادارے کے مطابق تبت، نیپال کے سرحدی علاقے میں آنے والے تباہ کُن سیلاب کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس سیلاب کے بعد 3,900 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں 600 سے زیادہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ دریائے تریشولی کے کنارے واقع پن بجلی منصوبوں پر کام کر رہے تھے اور سیلاب کے باعث ان منصوبوں سے منسلک سرنگوں میں کیچڑ بھر جانے کے باعث وہ وہاں پھنس گئے ہیں۔سرنگوں میں پھنس جانے والے ان 600 کے لگ بھگ ورکرز کی زندگیاں بچانے کے لیے مختلف ممالک کے ماہر انجینیئرز سرنگوں کے اندر ہوا پمپ کر رہے ہیں۔ اگرچہ امدادی ٹیم ایک سرنگ میں داخل ہونے میں کامیاب بھی ہوئی، تاہم وہاں کسی شخص کے نہ ملنے پر یہ ٹیم واپس لوٹ آئی۔نیپال کے ایک پن بجلی منصوبے پر کام کرنے والے 33 سالہ لاپتہ انجینیئر اورَس بھنڈاری کی اہلیہ انوشیلا بھنڈاری نے بی بی سی نیپالی سے گفتگو میں کہا کہ ’کاش ہم انھیں ڈھونڈ سکیں۔ کاش وہ گھر واپس آ جائیں۔‘سرنگوں میں موجود افراد کو بچانے کے لیے کی جانے والی امدادی کارروائیوں کی قیادت چین اور نیپال کے فوجی اہلکاروں پر مشتمل ایک بین الاقوامی ٹیم کر رہی ہے، جبکہ انڈیا، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کے ماہرین بھی اس آپریشن میں شریک ہیں۔
نیپال میں ہندو مسلم فسادات
نیپال میں ہندوستانی مسلم فسادات، قوم کے کئی گھر، گاڑیاں نذرآتش جنوبی نیپال کے ملحقہ سرحدی علاقے میں ہندوستانی اور مسلم برادریوں کے درمیان پرتشد فسادات پھوٹ پڑے، جن کے دوران متعدد مسلم آبادی بھارت کے علاقے، دکانوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور پھوٹ پھوٹ کا واقعہ پیش کیا۔ سنجیدگی ہوئی پیش نظر آپ نے غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فسادات کا آغاز ضلع سنساری کے علاقے دیوان گنج میں ایک مذہبی کے دوران لاؤڈ اسپیکر کو مذہبی نشانوں کے استعمال پر تلخ کلامی سے ہوا، جو بعد ازاں سنگ باری اور پرتشد تصادم میں تبدیل ہو گیا۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے؟ حکومت نے کہا کہ حکومت نے سختی سے عمل درآمد اور سوشل میڈیا کی نگرانی جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا -بات یہ ہے کہ انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیزی اور کوششیں کی جا رہی تھیں کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جائے پھر یوں ہوا کہ ہے کہ انٹر نیٹ پر بھی دیکھا گیا کہ مسلمان بزرگوں کی داڑھیاں نوچی جا رہی ہیں اور ان کی تزلیل کی جا رہی ہے۔ مسلمانوں کے گھروں کو اور مساجد کو آگ لگائ گئ 1000 مسلمان شہید کئے گئے 100 مساجد اور قران پاک کو شہید کیا گیا -
کھٹمنڈو (صباح نیوز) جنوبی نیپال کے بھارت سے ملحقہ سرحدی اضلاع میں ہندو اور مسلم برادریوں کے درمیان پرتشدد فسادات پھوٹ پڑے، جن کے دوران متعدد علاقوں میں مسلم آبادی کے گھروں، دکانوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور توڑ پھوڑ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فسادات کا آغاز ضلع سنساری کے علاقے دیوان گنج میں ایک مذہبی جلوس کے دوران لاؤڈ اسپیکر اور مذہبی پرچموں کے استعمال پر ہونے والی تلخ کلامی سے ہوا، جو بعد ازاں سنگ باری اور پرتشدد تصادم میں تبدیل ہو گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق مشتعل ہجوم نے رہائشی علاقوں کا رخ کرتے ہوئے متعدد مکانات، دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی، جس کے باعث کئی خاندان اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔ پولیس اور مشتعل افراد کے درمیان جھڑپوں میں اب تک کم از کم 3 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔صورتحال پر قابو پانے کے لیے نیپال پولیس اور نیپال آرمی نے متاثرہ اضلاع میں فلیگ مارچ اور گشت شروع کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق املاک کو نقصان پہنچانے، گھروں کو نذر آتش کرنے اور تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ قانون ہاتھ میں لینے اور افواہیں پھیلانے والوں کی فوری گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔نیپال کی حکومت اور وزیراعظم نے عوام سے تحمل، مذہبی رواداری اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت نے متاثرہ اضلاع میں کرفیو پر سختی سے عمل درآمد اور سوشل میڈیا کی کڑی نگرانی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ اشتعال انگیز مواد اور افواہوں کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔ اگست کے آخری ہفتے تک کچھ ہندوستانی فسادات کے حق میں آگ لگنے کے بعد وہ اگست میں چھپے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ جھڑپوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔نیپال میں ایک احتجاج کے دوران ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کی گئی اور بعد ازاں اسے آگ لگا دی گئی۔ رپورٹس کے مطابق مسجد کے اندر موجود قرآنِ کریم کے نسخے اور احادیث کی کتابیں بھی جلا دی گئیں۔یہ واقعہ اس تباہ کن سیلاب سے تقریباً چار ہفتے قبل پیش آیا تھا جو بعد میں آیا
بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فسادات کا آغاز ضلع سنساری کے علاقے دیوان گنج میں ایک مذہبی جلوس کے دوران لاؤڈ اسپیکر اور مذہبی پرچموں کے استعمال پر ہونے والی تلخ کلامی سے ہوا، جو بعد ازاں سنگ باری اور پرتشدد تصادم میں تبدیل ہو گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق مشتعل ہجوم نے رہائشی علاقوں کا رخ کرتے ہوئے متعدد مکانات، دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی، جس کے باعث کئی خاندان اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔ پولیس اور مشتعل افراد کے درمیان جھڑپوں میں اب تک کم از کم 3 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔صورتحال پر قابو پانے کے لیے نیپال پولیس اور نیپال آرمی نے متاثرہ اضلاع میں فلیگ مارچ اور گشت شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق املاک کو نقصان پہنچانے، گھروں کو نذر آتش کرنے اور تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ قانون ہاتھ میں لینے اور افواہیں پھیلانے والوں کی فوری گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔نیپال کی حکومت اور وزیراعظم نے عوام سے تحمل، مذہبی رواداری اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت نے متاثرہ اضلاع میں کرفیو پر سختی سے عمل درآمد اور سوشل میڈیا کی کڑی نگرانی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ اشتعال انگیز مواد اور افواہوں کا بروقت تدارک کیا جا سکے
ہفتہ، 29 اگست، 2026
پھول جو بن کھلے مرجھا گئے
منگل، 25 اگست، 2026
نبئ آخر الؔزماں صلؔی اللہ علیہ واٰ لہ وسلؔم
پرور دگار عالم نے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو انسانوں کی راہبری کے لئے مبعوث کیا اور حیات انسانی کے اخلاقی پہلوؤں کو حضور اکرمؐ نے ا ن کو عملی صورت میں پیش کیا ہے۔آپؐ کے حسن خلق کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ آپؐ اپنے اہل وعیال ،اعزہ و اقارب اور اصحاب و رفقا کے ساتھ جو رویہ رکھتے اسی طرح کا رویہ اعداء کے ساتھ بھی رکھتے۔اگر اپنوں کی لغزشوں سے صرف نظر کرتے ہیں تو سخت اعداء کو بھی معاف کر دیتے ہیں۔مسلمان کی عیادت کوکار ثواب کہتے ہیں تو خود یہودی کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے ہیں۔ خدمت خلق کی تلقین کرتے ہیں تو خود سب کی خدمت میں سب سے زیادہ فعال نظرآتے ہیں۔حضور اکرمؐ نے تہذیب اخلاق کے حوالے سے مختلف صورتوں میں راہنمائی فرمائی۔انسانی حیات کی جتنی جہات ہیں، ان سب کے حوالے سے حضور اکرمؐ نے اپنا خلق پیش فرمایا۔ نہ صرف اپنے موجودہ عہد اور اپنے خطے کے مطابق بلکہ اس میں ہر عہد اورہر خطے کے ساتھ انسانی فطرت کے مطابق اس کے معاملات ،ضروریات اور خواہشات کی تہذیب و تطہیر کے تناظر میں ایک مکمل حسن خلق کا نمونہ پیش کیا۔
اس کے ساتھ انسانی کیفیات جیسے خوشی، غم ، غصہ فقر، تونگری وغیرہ مختلف مواقعوں پر ایک منضبط اور مہذب حالت کا اظہار ہی خلق عظیم کی ہر عمل کی احسن صورت ہےحضور اکرمؐ نے حسن اخلاق کے اظہار میں کبھی مقابل یا مخاطب کی خاندانی وسماجی یامعاشی حیثیت کو بنیاد نہ بنایا بلکہ آپؐ کے پیش نظر کسی کا انسان ہونا ہی کافی تھا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپؐ کامقصد احترام انسانیت کا فروغ اور وقار آدمیت کی پاسبانی تھا۔یہودی کا جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جانا ،مسلم و غیر مسلم وفود کی مہمان نوازی کرنا ،دیگر مذاہب کے ساتھ امن کے معاہدے کرنا یہ سب سماجی وبین الاقوامی اخلاقیات کے مظاہر تھے۔ اسی طرح عائلی اخلاقیات میں ازواج سے حسن سلوک کرنا ،راحت و رنج کا لحاظ کرنا ، خوش طبعی فرمانا، ضروریات کا خیال کرنا ، ان کے خاندانی و مذہبی پس منظر پر سکوت فرمانا ، ذہنی و جسمانی تشدد سے مکمل مجتنب اوران کی تربیت فرمانا وغیرہ یہ سب عائلی اخلاقیات کا حصہ ہیں۔ایک مسلمان سے دوسرے مسلمان سے تعلق کی بنیاد تو ایمان ہی ہے ’ کہ آپ کا اسوہ حسنہ تو قرآن ہی ہے۔‘
‘ گو کہ مکمل حیات انسانی کا عملی دستور ہے لیکن اگر اس کو صرف اخلاق حسنہ ہی کے تناظر میں دیکھ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ انسانی زندگی میں جو بھی معاملہ اخلاق کے حوالے سے ہے یا اس کا جامع، اکمل اور خوب صورت مظہر ذات رسالتؐ کے علاوہ کہیں اور نظر نہ آئے گا۔آپؐ کی ذات اقدس کا ظاہری حسن اگر نظر کو راحت دیتا تھا تو اخلاق و کردار کا جمال فکرو عمل کو کمال عطا کرتا ہے۔ قرآن کریم نے حیات انسانی کے اخلاقی پہلوؤں کے ضمن میں جو اصول بھی دیے ہیں حضور اکرمؐ نے اس کو عملی صورت میں پیش کیا ہے۔آپؐ کے حسن خلق کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ آپؐ اپنے اہل وعیال ،اعزہ و اقارب اور اصحاب و رفقا کے ساتھ جو رویہ رکھتے اسی طرح کا رویہ اعداء کے ساتھ بھی رکھتے۔اگر اپنوں کی لغزشوں سے صرف نظر کرتے ہیں تو سخت اعداء کو بھی معاف کر دیتے ہیں۔مسلمان کی عیادت کوکار ثواب کہتے ہیں تو خود یہودی کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے ہیں۔ خدمت خلق کی تلقین کرتے ہیں تو خود سب کی خدمت میں سب سے زیادہ فعال نظرآتے ہیں۔ مساوات کے ثمرات بیان کرتے ہیں تو خودمسجد نبوی کی تعمیر میں بنفس نفیس حصہ لیتے ہیں اور غزوہ خندق میں صحابہ کرام ؓ کے ساتھ خندق کھودتے نظر آتے ہیں۔
عمل کی کون سی جہت ہے جو اسوہ حسنہ میں نظر نہیں آتی ؟ خیر کا کون سے پہلو ہے جو آپؐ کی ذات میں نہیں اور کون سا وہ اخلاقی وصف ہے جو آپؐ نے نہیں پیش کیا ؟ جو کہا وہ کیا ،قول و فعل میں کامل مطابقت ہے اور مطابقت بھی ایسی کہ جوزندگی کو خوشگوار ، فکر کو رسا ،عمل کو استحکام اور اعضا ء کو توانا رکھتی ہے۔نبی کریمﷺجس خطے میں مبعوث ہوئے وہ معاشرہ اپنے رذائل کے اعتبار سے جہاں انتہائی پستی کا شکار تھا تو وہاں ان کے چند اخلاقی اوصاف ایسے بھی تھے جس سے اس معاشرے سے عمومی محاسن کا پتہ چلتا ہے جیسے مہمان نوازی ایفائے عہد،شجاعت ،جرات،حریت وغیرہ۔آپﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے مجھے سب سے محبوب اور آخرت میں میرے سب سے قریب وہ شخص ہو گا جو خوش خلق ہے‘‘ ۔عبادات اسلامیہ کو اگر ان کے وسیع اور جامع اثرات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوگا کہ یہ تشکیلِ کردار و اخلاق اور مثبت رویوں کی تربیت کا بڑا منظم ومرتب پلان ہے۔تمام عبادات مومن کو بااخلاق بنانے کے لیے مختلف جہات اور متنوع اندازسے تربیت اخلاق کرتی ہیں۔بد اخلاقی کی کوئی صورت کسی بھی موقع یا کسی بھی انداز سے قابل قبول نہیں اور نہ یہ مومن کو زیب دیتا ہے۔ حضور اکرمؐ نے ریاست مدینہ کی صورت میں جس معتدل اورانسان دوست معاشرہ کی بنیاد رکھی اس کی بنیاد ہی میں اخلاقی پہلو نظر آتے ہیں۔ان میں ایک عدل ہے اور دوسرا احسان۔عدل کا اظہار میثاق مدینہ کی صورت میں ہوا جبکہ احسان کا اظہار مواخات مدینہ کی صورت میں ہوا
نا ظم آباد کا وہ تاریخی پارک اور ایک یادگار عقدِ ثریا
پیر، 24 اگست، 2026
مرادیں ایسے بھی بر آتی ہیں
ایک سچی کہانی :-- ایک مرتبہ کا زکر ہے ایک شخص فجر کی نماز کے بعد مسجد سے نکل رہا تھا۔ اس نے اپنے پڑوسی کو سلام کیا، مگر پڑوسی نے جواب نہ دیا۔ اسے تعجب ہوا، کیونکہ دونوں کے درمیان بہت اچھے تعلقات تھے۔ پھر اس نے محسوس کیا کہ شاید پڑوسی کسی شدید پریشانی میں مبتلا ہے؛ وہ گم سم، فکرمند اور لوگوں سے بے نیاز سا چلا جا رہا تھا۔وہ اس کے قریب گیا اور پوچھا:’’کیا بات ہے؟‘‘پڑوسی نے کہا:’’عمارت کے مالک نے مجھے کرایہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے مکان خالی کرنے کو کہا ہے، اور اللہ کی قسم! میرے پاس کرایہ دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔‘‘اس نے کہا ’’انشاء اللہ، میں کوئی انتظام کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔‘‘وہ شخص بیان کرتا ہے:’’عصر کی نماز سے تقریباً پانچ منٹ پہلے اچانک میرے دل میں خیال آیا کہ میں مسجدِ عکاشہ بن محصن میں نماز پڑھوں۔
یہ مسجد ہمارے علاقے سے زیادہ دور نہیں تھی، لیکن مجھے خود بھی معلوم نہیں کہ یہ خیال اچانک کیوں آیا۔نماز ختم ہوئی ااور ہم باہر نکلنے لگے تو میری ملاقات ایک ایسے دوست سے ہوگئی جسے میں نے بہت عرصے سے نہیں دیکھا تھا۔اس نے بتایا کہ وہ بہت دور رہتا ہے، لیکن آج اس علاقے میں رہنے والے ایک رشتہ دار کے ہاں دوپہر کے کھانے پر آیا تھا، اس لیے اس نے اسی مسجد میں نماز پڑھنے کا فیصلہ کیا۔گفتگو کے دوران اس دوست نے اچانک، بغیر کسی خاص مناسبت کے، مجھ سے پوچھا:’کیا تم کسی ایسے غریب خاندان کو جانتے ہو جس کے پاس رہنے کے لیے جگہ نہ ہو؟‘میں نے پوچھا:’کیوں؟‘اس نے کہا:’میں ایک چھوٹے سے وقف کا نگران ہوں جسے اس کے مالک نے اللہ تعالیٰ کے لیے وقف کیا تھا
اس بلڈنگ میں بیس فلیٹ ہیں۔ کل ان میں سے ایک خاندان اپنے مالی حالات بہتر ہوجانے کی وجہ سے وہاں سے منتقل ہوگیا ہے۔ اس نے سوچا کہ اب یہ جگہ کسی زیادہ ضرورت مند خاندان کو دے دی جائے۔‘میں بے اختیار پکار اٹھا:’میرے پاس ایسا خاندان ہے! اپنا فون نمبر دو اور خدا کے لیے یہ فلیٹ کسی اور کو مت دینا۔‘اس نے کہا:’فکر نہ کرو، اسے اپنی طرف سے ا لاٹ سمجھو۔ اور جس خاندان کو تم لاؤ گے، اسے ایک پیسہ بھی ادا نہیں کرنا ہوگا، کیونکہ یہ اللہ کے لیے وقف ہےہمیشہ کے لیے۔‘وہ شخص کہتا ہے’’واپسی پر اپنے محلے کی طرف جاتے ہوئے میں ان حیرت انگیز واقعات کے بارے میں سوچتا رہا۔ فجر کے وقت اچانک اپنے پڑوسی کی پریشانی معلوم ہونا، پھر عصر کی نماز کے لیے ایک ایسی مسجد میں چلے جانا جہاں میں نے زندگی میں کبھی نماز نہیں پڑھی تھی،
ایسے علاقے میں جانا جہاں برسوں سے نہیں گیا تھا، اور وہاں اتفاقاً ایک ایسے دوست سے ملاقات ہوجانا جسے دس سال سے نہیں دیکھا تھا، حتیٰ کہ میرے پاس اس کا فون نمبر بھی نہیں تھا—اور پھر اسی شخص کے پاس ایک ضرورت مند خاندان کے لیے مفت رہائش موجود ہونا میں سوچنے لگا کہ شاید میرے پڑوسی کا اپنے رب کے ہاں کوئی خاص مقام ہے، کوئی پوشیدہ نیکی ہے، یا اس نے کوئی ایسا عظیم عمل کیا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی پریشانی دور کردی۔‘‘جب وہ اپنے محلے میں پہنچا تو فوراً اپنے غریب پڑوسی کے گھر گیا اور اسے خوش خبری سنائی۔خبر سنتے ہی وہ شدتِ خوشی سے رونے لگا۔ یہاں تک کہ زمین پر بیٹھ گیا اور کھڑا نہ رہ سکا۔اس شخص نے اس سے پوچھا ’’فجر کی نماز کے بعد سے اب تک تم نے ایسا کیا عمل کیا ہے؟‘‘غریب پڑوسی نے جواب دیا:’’اللہ کی قسم! میں نے کچھ خاص نہیں کیا۔البتہ فجر کی نماز سے واپس آیا تو میری بیوی نے مجھے بہت پریشان دیکھا۔ اس نے مشورہ دیا کہ ہم دونوں مل کر غروبِ آفتاب تک مسلسل نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتے رہیں۔ ہم نے یہی کیا، اور اب تم یہ خوش خبری لے کر میرے پاس آگئے ہو۔ یقین کرو، ہم نے اس دوران درود شریف پڑھنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔‘‘
اللّٰهم صلِّ وسلم وبارك على نبينا محمد ﷺ۔
نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجیے ۔
جمعہ، 21 اگست، 2026
فائر بریگیڈ کراچی 'تباہی سے دوچار محکمہ
کراچی جیسے میگا شہر میں ریسکیو 1122 کے پاس کوئی فائر اسٹیشن نہیں بلکہ عملہ گاڑیوں کے ساتھ فٹ پاتھوں پر ڈیوٹیاں کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 نے 4 عارضی فائر اسٹیشن قائم کیے ہیں جن میں ایک گلشن اقبال میں ہیڈ کوارٹر، دوسرا راشد منہاس روڈ پر لکی ون مال کے قریب اسپتال، تیسرا فائر ڈیفنس اور چوتھا گلشن معمار میں ہے۔ تاہم ریسکیو 1122 کے پاس اسنار کل دستیاب نہیں۔دلچسپ امر یہ کہ آتشزدگی اور ایمبولنس کے لیے بھی کالز اسی کنٹرول روم میں وصول کی جاتی ہیں مگر ایمبولنس کسی اور ادارے سے روانہ کی جاتی ہے۔کراچی میں فائر اسٹیشن کی بہت کمی ہے، ہم چندگاڑیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں: چیف فائر آفیسر-بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک لاکھ کی آبادی پر ایک ماڈل فائر اسٹیش گاڑیاں اور 144 افراد کا عملہ ہونا ضروری ہے۔اس حساب سے 2 کروڑ کی آبادی کے شہر کو 200 فائر اسٹیشن، 800 گاڑیاں اور 28 ہزار 800 کا عملہ درکار ہے۔جب اتنے بڑے شہر میں کُل 28 فائر اسٹیشن ہوں تو قدرتی طور پر آگ لگنے کے مقام سے ان کا فاصلہ اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہےکہ کوشش کے باوجود متعلقہ عملہ بروقت نہیں پہنچ پاتا جس کے باعث آگ بے قابو ہونے اور جانی و مالی نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔دوسری جانب کراچی فائر بریگیڈ کی 30 سے زائد گاڑیاں سالوں سے خراب ہیں اوران کی مرمت اب تک نہیں ہوپائی ہے۔-
اس وقت بھی محکمہ فائر بریگیڈ میں ڈرائیورز سمیت 440 اسامیاں خالی -وفاقی حکومت نے 2021 میں 50 فائر ٹینڈرز اور دو باؤزرز کے ایم سی کو فراہم کیے تھے جو شہر کے فائر اسٹیشنز کے علاوہ صنعتی ایریاز کو بھی دو دو کے حساب سے فراہم کیے گئے۔ تاہم عملے کی کمی یہاں بھی آڑے آرہی ہے۔ حالت یہ ہے کہ آج بھی محکمہ فائر بریگیڈ میں ڈرائیورز سمیت 440 اسامیاں خالی ہیں۔میئرکراچی مرتضیٰ وہاب نے فائر فائٹرز کی نئی بھرتیوں کے لیے سندھ حکومت سے اجازت طلب تو کرلی ہے لیکن شہر کی بہتری کے لیے اُن سے جن انقلابی فیصلوں اور ٹھوس اقدامات کی توقع کی جارہی تھی وہ تاحال پوری نہیں ہوئی۔سب سے زیادہ ریونیو وصول کرنے والی وفاقی حکومت بھی کراچی کی بہتری کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کر رہی۔ بلدیہ عظمی کراچی کا محکمہ فائر بریگیڈ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا، فائر بریگیڈ کی 10 سال سے 250 اسامیاں خالی ہیں، نئے فائرٹینڈرز آخری بار25 سال پہلے خریدے گئے تھے، ڈیزل کی عدم دستیابی اور فائر ٹینڈرز کی مرمت نہ ہونے کے باعث شہر قائد کے 16 فائر اسٹیشن غیر فعال ہوگئے ہیں،
سردی کے خشک موسم میں تیز ہواؤں سے آتشزدگی کے بڑھتے واقعات پر قابو پانا مشکل ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق فائر ٹینڈرز نہ ملنے اور وسائل کی شدید کمی سے بلدیہ عظمی کراچی کا محکمہ فائربریگیڈ تباہی سے دوچار ہے، محکمہ فائر بریگیڈ میں ڈرائیوروں کی 242 اسامیاں خالی ہیں محکمے میں آخری بار سال2009 میں بھرتیاں ہوئی تھیں جس کے بعد سے اب تک 10سال گزرگئے کوئی اپائٹمنٹ نہیں ہوا ہے، ہر سال 20 سے 25 ملازمین رٹائرڈ ہوجاتے ہیں-(پی پی آئی) کراچی میں محکمہ فائر بریگیڈ کے پاس عالمی معیار کا عملہ ہے نہ آلات ،یہی سبب ہے کہ سانحہ بلدیہ ہو یا مہران ٹائون کا واقعہ، محکمہ فائر بریگیڈ کی کارکردگی پر ہمیشہ سوالیہ نشان اٹھتے رہتے ہیں،بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک لاکھ کی آبادی پر ایک ماڈل فائر اسٹیشن میں چار گاڑیاں اور 144 افراد کا عملہ ہونا ضروری ہے۔اس حساب سے ڈھائی کروڑ کی آبادی کے شہر کو 250 فائر اسٹیشن، 1000 گاڑیاں اور ۶۳ ہزار کا عملہ درکار ہے۔لیکن یہاں 20 فائر اسٹیشن، 36 گاڑیاں اور 687 افراد کا عملہ میسرہے جو نہ صرف ناکافی ہے بلکہ ایمر جنسی کی صورت میںہولناک تباہی کے خدشات بھی حقیقت بن سکتے ہیں ۔
پاکستان کا سب سے بڑا شہر ،کراچی فائر بریگیڈ کے محکمہ کی حالت زار سے پریشان ہے۔ شہر بھر میں 24 فائرٹینڈر میں سے 18 فائر ٹینڈر کی گاڑیاں خراب ہیں۔22فائر اسٹیشن میں سے صرف 6 فائر اسٹیشن فعال اور چار اسنار کل میں سے صرف ایک کام کر رہی ہے-گر شہر میں کوئی بڑی آگ لگ جائے تو اس محکمے کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ فوری آگ پر قابو پایا جا سکے ۔جبکہ حکمران محکمہ فائربریگیڈ کی زبوں حالی پر خاموش ہیں
بدھ، 19 اگست، 2026
کراچی کا فائر بریگیڈ کا خستہ حال محکمہ 'پارٹ 1
کراچی کے دارالخلافہ کی حیثیت ختم کر کے جب اسے اسلام آباد شفٹ کیا گیا اسی وقت سے کرچی کا زوال ہو گیا اور ہر محکمہ بد حال ہو گیا 'اب کراچی صرف سونے کے انڈے دینے والی مرغی ہے جس کے کھانے پینے کی حکومت کو کوئ پرواہ نہیں ہے 'گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ کے دوران 29 سالہ فائر فائٹر فرقان شوکت کو جلتی ہوئی عمارت کے اندر سے کسی شخص کی مدد کے لیے پکار سنائی دی۔ پلازے کا ڈھانچہ کمزور ہو چکا تھا اور کسی بھی لمحے گرنے کا خطرہ تھا، لیکن فرقان نے باہر کھڑے رہنے کے بجائے یہ کہتے ہوئے دوبارہ اندر جانے کا فیصلہ کیا کہ اسے پھنسے ہوئے شخص کو بچانا ہے۔تیسرے درجے کی اس شدید آگ نے گل پلازا کی تقریباً 1200 دکانوں کو تباہ کر دیا، متعدد افراد جان سے گئے جبکہ کئی لوگ لاپتا ہوئے۔ بند اور گنجان کمرشل عمارت میں دھواں، شدید گرمی، ناقص راستے، آگ بجھانے کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی اور غیر محفوظ تعمیرات ریسکیو آپریشن کو انتہائی خطرناک بنا رہی تھیں۔ انہی حالات میں فرقان اپنے ساتھیوں کے ساتھ لوگوں کی جان بچانے کے لیے عمارت کے اندر موجود تھا۔فرقـان کے ساتھ کام کرنے والے سینئر فائر افسر واجد علی کے مطابق عمارت گرنے سے کچھ دیر پہلے دونوں کی بات ہوئی تھی۔ فرقان نے انہیں محتاط رہنے کا کہا تو واجد علی نے جواب دیا کہ تم خود بھی احتیاط کرو کیونکہ تم ابھی نوجوان اور نئے ہو۔ آگ شدت اختیار کرنے اور عمارت کا ڈھانچہ گرنے کے قریب پہنچنے پر ٹیم نے باہر نکلنے کی کوشش کی۔
فرقان بھی دوڑا، لیکن راستے میں ٹھوکر کھا کر گر گیا اور اسی لمحے عمارت کا ملبہ اس پر آ گرا۔اس حادثے میں فرقان کی کمر، چہرہ، ہاتھ اور جسم کا بڑا حصہ بری طرح جھلس گیا۔ اس کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ جدید حفاظتی لباس، سانس لینے کے آلات اور دیگر ضروری سامان کے بغیر صرف عام یونیفارم میں اتنی خطرناک آگ کا مقابلہ کر رہا تھا۔ ان کے بھائی محمد نعمان کے مطابق مناسب حفاظتی سوٹ ہوتا تو شاید فرقان کا جسم اس قدر نہ جلتا۔فرقـان شوکت نے صرف تین سال قبل کراچی فائر بریگیڈ میں ملازمت اختیار کی تھی اور وہ اپنی ٹیم کا سب سے کم عمر رکن تھا۔ لوگوں کی مدد کا جذبہ اسے بچپن سے تھا۔ اس نے یہ پیشہ اپنے والد سے حاصل کیا تھا، جنہوں نے 35 سال فائر بریگیڈ میں خدمات انجام دیں، ڈیوٹی کے دوران مفلوج ہوئے اور 2018 میں ملازمت کے دوران ہی انتقال کر گئے تھے۔فرقـان کے گھر والوں نے اس رات جاگتے ہوئے گزاری۔ انہیں معلوم تھا کہ وہ جلتی ہوئی عمارت کے اندر موجود ہے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کی بے چینی بڑھ رہی تھی۔ بعد میں جب اس کی شہادت کی خبر پہنچی تو یہ خاندان کے لیے دوسری نسل کی قربانی بن گئی۔
فرقـان اپنے پیچھے نوجوان بیوہ اور شیر خوار بیٹا محمد رحیم چھوڑ گیا۔ وہ اپنے بیٹے کو بڑا ہو کر وکیل بنانا چاہتا تھا۔ اس کی بہن شمیلہ شوکت نے اپنے بھائی کا خواب پورا کرنے کا عزم کرتے ہوئے کہا کہ وہ محمد رحیم کو قانون کی تعلیم دلائیں گی۔گل پلازا کا سانحہ صرف ایک عمارت اور بازار کی تباہی نہیں، بلکہ کراچی کے فائر فائٹرز کو درپیش سنگین مسائل کی ایک دردناک مثال بھی ہے۔ دو کروڑ سے زیادہ آبادی والے شہر میں محدود فائر اسٹیشن، پرانی گاڑیاں، ہائیڈرنٹ نظام کی عدم موجودگی، حفاظتی لباس، سانس کے آلات، تھرمل کیمروں اور جدید تربیت کی کمی ایسے اہلکاروں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہی ہے جو دوسروں کو بچانے کے لیے اپنی جانیں داؤ پر لگا دیتے ہیں۔فرقـان شوکت بھی اپنی جان بچا سکتا تھا، لیکن عمارت کے اندر سے آنے والی مدد کی آواز سن کر وہ واپس آگ میں چلا گیا۔ اس کی بہن کے الفاظ میں: ہم نے اپنا چھوٹا ہیرو کھو دیا، وہ دنیا سے چلا گیا لیکن ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گاکراچی میں محکمہ فائر بریگیڈ کی بدحالی کے برعکس سندھ حکومت کے تحت ریسکیو 1122 کو بین الاقوامی طرز پر شاندار ادارہ بنادیا گیا ہے۔
گلشن اقبال میں ادارے کے ہیڈ کوارٹر میں قائم ریسکیو 1122 کنٹرول روم جدید ترین سہولتوں سے آراستہ ہے جہاں ایک وقت شفٹ میں 36 آپریٹرز ڈیوٹی کرتے ہیں۔ترجمان حسان الحسیب نے اس نمائندے کو دورہ کرتے ہوئے بتایا کہ کنٹرول روم میں صوبے بھر سے موصول ہونے والی تمام کالز ریکارڈ کی جاتی ہیں۔ کال فوری طور پر ڈسپیچر کے ذریعے قریب ترین گاڑی کے عملے کو فارورڈ کر دی جاتی ہے جو فوراً روانہ ہو جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 کیلئے کراچی میں کل 1500 ملازمین بھرتی کیے جا چکے ہیں جن میں سے 224 فائر فائٹرز بھی شامل ہیں۔کراچی فائر بریگیڈ کا دکھڑا یہ ہے کہ ان کے پاس 28 فائر اسٹیشنز پر عملہ ناکافی ہے۔ ریسکیو 1122 کا المیہ یہ ہے کہ ان کے پاس ابتدائی تمام عملہ اور وسائل موجود ہیں مگر مطلوبہ تعداد میں فائر ٹینڈرز نہیں ہیں۔حسان الحسیب کے مطابق کراچی کی آبادی کے تناسب سے ان کے پاس 200 فائر ٹینڈر ہونا چاہئیں مگر صرف 3 بڑے اور 7 چھوٹی فائر بریگیڈ گاڑیاں ہیں جو آٹے میں نمک برابر بھی نہیں۔
۔
منگل، 18 اگست، 2026
پاکستان میں جنسی جرائم میں ہولناک اضافہ
-پاکستان میں جنسی جرائم میں ہولناک اضافہ -پاکستان میں کوئی ایک بھی ایسا ادارہ نہیں ہے، جو صرف اس طرح کے جرائم پر ریسرچ کر رہا ہو۔ پاکستان میں سن دس ہزار انیس میں پندرہ ہزار سے زائد جنسی ہراسانی کے کیس رپورٹ ہوئے، جن میں اس طرح کے بلیک میلنگ کے واقعات بھی تھے۔ لیکن ماہرین اور متاثرہ افراد کا خیال ہے کہ اس نوعیت کے سینکڑوں واقعات سماج کے خوف کی وجہ سے رپورٹ ہی نہیں ہوتےکسی بھی معاشرے کی اخلاقی صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین افراد، خصوصاً بچوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ بدقسمتی سے آج کا پاکستانی سماج اس کسوٹی پر مسلسل ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ کراچی میں حالیہ انکشافات، جہاں ایک ہی شخص کے ہاتھوں درجنوں بلکہ ممکنہ طور پر سو سے زائد بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سامنے آئے، محض ایک واقعہ یا پولیس کیس نہیں بلکہ ایک تہذیبی بحران کی علامت ہیں۔ یہ سوال اب محض یہ نہیں رہا کہ جرم ہوا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایسا جرم بار بار کیوں ہو رہا ہے؟ اور ہماری اجتماعی آنکھیں کیوں بند رہتی ہیں؟ گزشتہ دہائی میں جس تیزی سے اخلاقی اقدار کمزور ہوئیں، خاندانی نگرانی ختم ہوئی، اور ڈیجیٹل دنیا بے لگام ہوئی، اسی رفتار سے درندگی کو بھی سماجی آکسیجن میسر آئی۔ مغرب کی اندھی تقلید، نام نہاد جدت پسندی، اور ’’ذاتی آزادی‘‘ کے مسخ شدہ تصورات نے شرم، حیا اور ذمے داری جیسے بنیادی انسانی اصولوں کو متروک بنا دیا ہے
اسکول، گھر، اور محلے میں وہ نظام جو کبھی بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرتا تھا، اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ والدین مصروفیت اور زندگی کے دباؤ میں گم ہیں، بچے موبائل اور انٹرنیٹ کی دنیا میں الجھ گئے ہیں اور معاشرہ یہ سوچ کر خاموش ہے کہ شاید یہ مسئلہ کسی اور کا ہے۔ اعداد وشمار ہمارے سماجی زوال کی ایک خوفناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ گزشتہ چھے سال میں صرف ایک صوبے میں کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 5,761 سے زائد مقدمات درج کیے گئے، جن میں 638 اجتماعی زیادتی کے واقعات شامل تھے۔ مجموعی طور پر 9,524 ملزمان نامزد ہوئے، مگر 1,073 ملزمان گرفتاری سے بچ گئے، جبکہ اجتماعی زیادتی کے 1,710 ملزمان میں سے 258 قانون کی گرفت سے باہر رہے۔ کراچی کے حالیہ واقعات نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ یہ جرائم انفرادی نہیں، بلکہ ایک سماجی مرض بن چکے ہیں، سماجی بے حسی نے درندوں کے لیے ماحول فراہم کر دیا ہے۔ اکثر والدین بدنامی کے خوف میں خاموش رہتے ہیں، بچے خوف اور شرمندگی میں کچھ نہیں کہتے اور یوں مجرم سال ہا سال بغیر مزاحمت کے کام کرتا رہتا ہے۔
یہاں ایک اور پہلو قابل غور ہے: محلہ سسٹم کی کمی۔ وہ محلہ جہاں کبھی بزرگ شام کو بچوں کو کھیلتے دیکھتے، ان پر نظر رکھتے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کو فوراً نوٹ کرتے تھے، اب وہاں دروازے بند ہوگئے ہیں، نظریں نیچی ہیں، اور ذمے داری محدود ہو گئی ہے۔ پڑوسی ایک دوسرے کے بچوں کو نہیں جانتے، نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ کون کہاں جا رہا ہے یا کس کے ساتھ وقت گزار رہا ہے۔ یہی خلا درندوں کے لیے سازگار ہوا ہے۔ اب ضروری ہے کہ بزرگ دوبارہ اپنا ماضی والا کردار ادا کریں، بچوں کی حفاظت کے لیے حساس رہیں اور غیر متعلقہ افراد پر بھی نظر رکھیں۔ بچوں کی حفاظت صرف والدین کی نہیں، پورے سماج کی ذمے داری ہے۔ ڈیجیٹل فحاشی اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ اسمارٹ فون، غیر فلٹر شدہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے جنسی مواد کو چند لمحوں میں ہر عمر کی دسترس میں دے دیا ہے۔ یہ نہ صرف بچوں کے ذہنوں کو متاثر کر رہا ہے بلکہ بڑوں کے رویوں کو بھی مسخ کر رہا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جنسی جرائم میں ملوث افراد کی بڑی تعداد کی ذہنی اور نفسیاتی تشکیل میں آن لائن فحش مواد بنیادی عنصر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جرم صرف ذاتی بگاڑ یا اخلاقی کمزوری نہیں، بلکہ یہ سماجی اور تکنیکی ماحول کے نتائج بھی ہیں۔ قانونی اور عدالتی نظام کی کمزوری اس المیے کو اور بڑھا دیتی ہے۔ فاسٹ ٹریک عدالتیں نہ ہونا، پراسیکیوشن کا کمزور ہونا، تفتیشی اداروں کی تربیت میں خلا اور مقدمات کی سست روی، سب مل کر جرم کو مزید پراثر بناتے ہیں۔ حالیہ گرفتاریوں کے بعد سندھ حکومت نے بیانات دیے اور پولیس کو شاباش دی، مگر یہ کافی نہیں۔
محض بیانات اور وقتی کارروائیاں درندوں کی تعداد کم نہیں کر سکتیں۔ سخت قانونی سزائیں، فاسٹ ٹریک عدالتیں، پولیس اور تفتیشی اداروں کی تربیت، ڈیجیٹل مواد پر مؤثر کنٹرول اور متاثرہ بچوں کے لیے نفسیاتی بحالی مراکز ناگزیر ہیں۔ مگر قانون سے پہلے کردار اور شعور کی ضرورت ہے، اور یہ کردار گھر، اسکول اور محلے میں بنتا ہے۔ اس معاشرتی بحران میں خاموشی سب سے بڑا دشمن ہے۔ ہم اکثر خبر پڑھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، لیکن یہ خبر ہر روز کی حقیقت ہے۔ یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جب معاشرہ خاموش ہو جائے، تو درندے بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہر وہ لمحہ جس میں ہم نے نظرانداز کیا، ہر وہ دن جس میں ہم نے خاموشی اختیار کی، دراصل ہم نے ایک اور بچے کو خطرے کے حوالے کیا۔ یہ المیہ یہ بھی بتاتا ہے کہ محض ریاستی اقدامات کافی نہیں۔ سماجی سطح پر بھی ہر فرد کی ذمے داری ہے۔ ہر شخص کو اپنے اور دوسرے بچوں پر نظر کے ساتھ اپنے محلے میں حرکت پر نظر رکھنی ہوگی، غیر متعلقہ افراد کی موجودگی پر حساس ہونا ہوگا اور والدین کے ساتھ مل کر بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی بات سنیں اور ان کی آن لائن سرگرمیوں پر نگرانی رکھیں۔ یہ معاشرتی زوال صرف آج کا نہیں، بلکہ برسوں کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ ہر نسل جسے ہم نے تعلیم، تربیت اور حفاظت کی جگہ بے حسی اور غفلت میں پرورش دی، آج وہ نتیجہ سامنے ہے۔ اخلاقی اقدار کی کمزوری، خاندانی روابط کی ٹوٹ پھوٹ اور ڈیجیٹل فحاشی نے بچوں کی زندگیوں پر اثرات ڈالے ہیں۔ اگر ہم نے آج اس بحران کے خلاف سنجیدہ قدم نہ اٹھایا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ وقت ہے کہ ہم صرف خبریں نہ پڑھیں بلکہ اپنی سماجی ذمے داری سمجھیں، محلے، گھر اور اسکول میں کردار ادا کریں، اور بچوں کی حفاظت کو ہر ممکنہ اقدام کے ساتھ یقینی بنائیں۔ جب معاشرہ اپنی ذمے داری کو سنجیدگی سے نبھائے گا، تب ہی ایسے درندوں کے لیے کوئی جگہ نہیں رہے گی۔ یہی وہ وقت ہے جب ہم اپنے ضمیر، اپنے محلے اور اپنے بچوں کے لیے کھڑے ہوں، کیونکہ بچوں کی حفاظت صرف قانون کی نہیں بلکہ پورے معاشرتی شعور کی ضرورت ہے
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
اسپینش فلو جو 5 کروڑ جانیں لے گیا
اسپینش فلو (1918–1920) انسانی تاریخ کی مہلک ترین وبائی امراض میں سے ایک تھا، جو 5 کروڑ سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بن گیا ۔ جب میں خود ...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
اب منجھلی آپا اپنی سسرال جا چکی تھیں - فریال بجو کا بی ایس سی کا رزلٹ آ چکا تھا فریال بجو یونیورسٹی جانے کے لئے پر تول رہی تھیں -لیکن می...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...