پیر، 14 ستمبر، 2026

نیٹی جیٹی پُرانا پُل آج کی بہترین فوڈ اسٹریٹ

 

     بڑی مشہور مثل ہے 'ہاتھی مرے پہ سوا لاکھ کا  'جی جناب  انگریز  بہادر  بھی کیا زیرک نگاہ   تھا جس نے کراچی کی    تاریخ ہی بدل ڈالی              ویسے تو   کراچی کے طول عرض میں ایسے اعلیٰ پائے کے  میگا منصوبے کھڑے کر دئے  جو بوسیدہ و کہنہ ہو کے بھی نا صرف کراچی بلکہ کراچی آنے والے  لاگوں کے لئے آج بھی سود مند ثابت ہو رہے ہیں -اس ضمن میں  سمندر میں پتھر ڈال کر بوٹ بیسن     نیٹی  جیٹی  کی بندرگاہ بنا کر کراچی کو بہترین سمندری  پورٹ مہیا کی اور ریل کی پڑی اس بیسن  کے   کنارے تک بچھائ -یہ تو ہوا نیٹی جیٹی کا تجارتی پہلو  دوسری  ایک اہم سہولت     کراچی کے قرب و جوار میں  سمندر کے سینے پر پھیلے ہوئے لاتعداد  جزیروں  کے باسیوں کے لئے بھی  سمندری آمدورفت کے لئے  راستہ بنایا جسے کے پی ٹی  عملہ، عوام اور پاکستان بحریہ کے ملازمین بھی  آنے جانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔1998سنہء 1864 میں بننے والی اس جیٹی   کے  (بنیادی ستونوں) میں شدید زنگ لگنے کا انکشاف ہوا، جس سے جیٹی کی ساختی حفاظت اور استحکام متاثر ہوا اور عوام کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔ حال ہی میں، کے پی ٹی انتظامیہ نے جیٹی  کی باقی ماندہ پرانے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لیے 'بوٹ بیسن فیز-II   تعمیرِ نو' کا منصوبہ شروع کیا۔ اس منصوبے میں جیٹی کے بوسیدہ ڈھانچے کو گرانا اور ڈریجنگ (تہہ کی صفائی اور گہرائی بڑھانے) کی بہتر گہرائی کے ساتھ جدید جیٹی کی تعمیر شامل تھی۔جب برطانوی حکام نے اس راستے کی تعمیر شروع کی جس نے آبی علاقے کو تقسیم کر دیا تھا، تو انہوں نے احتیاط سے اس بات کا جائزہ لیا کہ آیا چنا کریک (Chinna Creek) کے مغربی جانب آبی گزرگاہوں کو بند کرنے سے بندرگاہ میں موجود جہازوں پر کوئی منفی اثر پڑے گا یا نہیں۔


 یہ راستہ 1864 میں 643,440 روپے کی لاگت سے مکمل ہوا، اور اس کے ساتھ ایک اضافی ریلوے پل بھی تعمیر کیا گیا۔یہ پل اسی عرصے کے دوران تعمیر کیا گیا تھا جب علاقے میں دیگر اہم پل تعمیر کیے گئے تھے۔ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر، ایک نیا اور کشادہ پل، 'جناح برج'، تعمیر کیا گیا جس نے پرانے پل کی جگہ لے لی۔ آج، پرانے پل کو ایک 'فوڈ اسٹریٹ' میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور اسے 'پورٹ گرینڈ فوڈ اینڈ انٹرٹینمنٹ کمپلیکس' کا نام دیا گیا ہے۔ ان دو پلوں کے متوازی 'پورٹ گرینڈ ٹرین ٹریک' (جسے 'چنا کریک برج' بھی کہا جاتا ہے) موجود ہے، جو کراچی سٹی اسٹیشن کو کراچی منکی یارڈ کے راستے کیماڑی سے ملاتا ہے۔ پاکستان ریلویز کے زیرِ انتظام 379 میٹر (1,243.4 فٹ) طویل یہ پل خصوصی طور پر مال بردار ٹرینوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ کراچی کو ویسے تو روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے۔  لیکن  آج کل  کراچی  کے  طول عرض میں  بجلی کی بندش سے بڑی بد دلی   سی پھیلی ہوئ ہے ۔اور جب بجلی   موجود ہو تو اس علاقے کی رونق دیدنی ہوتی اور علاقہ بقعہءنور بنا ہوتا ہے   چنا کریک (China Creek) ماضی میں کراچی کی ایک قدرتی کھاڑی (Creek)  جہاں  بحری جہاز آتے اور جاتے تھے تھا، اب اس علاقے میں کئ ایکڑ پر مشتل بینظیر پارک بنایا جا چکا ہے ۔اس کے بارے میں کچھ اہم حقائق یہ ہیں:تاریخی حیثیت: یہ کراچی کی بندرگاہ (برٹش دور) کے قریب واقع ایک قدرتی آبی گزرگاہ تھی جہاں سمندر کا پانی اندرونی حصوں تک آتا تھا۔نام کی وجہ: مانا جاتا ہے کہ ماضی میں یہاں چینی باشندوں کی بستیاں  موجود تھیں، جس کی وجہ سے اس کا نام 'چنا کریک' پڑا۔موجودہ صورتحال: وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زمین کی بھرائی (Land reclamation) اور ترقیاتی کاموں کی وجہ سے یہ کھاڑی سکڑ گئی۔ آج اس کا زیادہ تر حصہ کراچی پورٹ ٹرسٹ  نیٹی جیٹی کے آس پاس کے علاقوں میں تبدیل ہو چکا ہے، اور اب یہ ماضی کی طرح ایک کھلی کھاڑی نہیں رہی جہاں دیو ہیکل بحری جہاز آ کر لنگر انداز ہوں  لیکن اس کے کنارے ایک بہترین کئ ایکڑ پر محیط بینظیر بھٹو پارک بن چکا ہے 

 



شام ڈھلتے ہی شہر کے  پرانے  پل   پر  لوگوں کی آمد شروع ہو جاتی ہے۔ جن میں کثیر تعداد میں عور تیں  اور  بچوں سے لے کر بوڑھوں تک شامل ہوتے  ہیں۔ پل کے فٹ پاتھ پر  لو گ گندھا ہواآٹا لے کر فروخت  کرتے نظر آتے ہیں     یہ آٹا پلاسٹک کی پلیٹوں میں رکھا ہوتا ہے۔  اور پانچ روپئے اور دس روپئے  قیمت  دے کر  اکثر لوگ یہ پلیٹیں لے کر آٹا پل کے نیچےگزرنے والے پانی میں پھینک دیتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ یہ آٹا مچھلی کھائےگی اور ان کے دل کی مراد پوری ہوگی۔  اس طرح یہ پل لوگوں کی  منتیں مرادیں  پوری کرنے کے لیے بھی ایک اہم مقام بن گیا ہے۔ایک نوجوان   جو پل پر خراماں  خراماں  مٹر گشتی کر رہا تھا  اس کا کہنا ہے کہ اس نے کوئی منت نہیں مانگی البتہ اس کے دوست امتحانوں کے دنوں میں یہاں آتے ہیں اور کامیابی کی منت مانگتے ہیں۔کیا کسی کی مراد پوری ہوئی ہے؟ نوجوان نے بتایا کہ ان کے ایک رشتے دار سرکاری افسر ہیں۔ ان کی اولاد نہیں تھی۔ وہ ہر جمعرات کو یہاں آتے تھے۔ تین سال قبل ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی۔نیٹِو جیٹی پر منت مانگنے کا یہ سلسلہ کب سے جاری ہے، کسی کو نہیں معلوم۔


میانوالی کے رہنے والے کمال بتاتے ہیں کہ وہ بہت عرصے سے یہاں آٹا بیچ رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ رکشہ چلاتے تھے۔ مگر پیٹرول مہنگا ہوگیا اور انہوں نے آٹا فروخت کرنا شروع کر دیا۔ اب وہ روزانہ تقریباً ڈیڑھ سو روپے کما لیتے ہیں۔ وہ روزانہ تین کلو آٹا بیچتے ہیں۔ جبکہ مخصوص راتوں کو یہ مقدار دگنی ہو جاتی ہے۔ایک باریش پتھارے والے نے بتایا کہ وہ گزشتہ آٹھ سال سے یہ کام کر رہے ہیں۔ شب برات کو یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ ان کے پاس ایک سفید پرچی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عریضہ ہے جس پر جو بھی مراد ہو تحریر کی جاتی ہے۔ پھر اس کو آٹے میں گوندھ کر درود شریف پڑھنے کے بعد سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے۔لیاری سے آنے والے ایک جوڑے میں سے محمود نے بتایا کہ وہ یہاں ہوا خوری کے لیے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ یہاں نوکری، اولاد اور شادی کی منتیں مانگنے آتے ہیں۔ اور منت پوری ہونے پر ایک کلو آٹا یا باجرہ یا گھر سے اناج لے کر آتے ہیں اور پانی میں بہا دیتے ہیں۔ہر جمعرات اور پیر کی رات کو بڑی بھیڑ ہوتی ہے۔ گاڑیوں والے بھی یہاں آٹا بہاتے نظر آتے ہیں۔ یہاں آنے والی خواتین نے عموماً نقاب اوڑھا ہوتا ہے

اتوار، 13 ستمبر، 2026

عباسی شہید ہسپتال کل اور آج کے آئینے میں

 



عباسی شہید ہسپتال کل اور آج کے آئینے میں8 ستمبر  2026ء کی خاص خبر جو وطن عزیز کے دو موقر روزناموں میں چھپی- کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے سب سے بڑے طبی مراکز میں شمار ہونے والے عباسی شہید اسپتال میں گزشتہ 10 سال سے ایم آر آئی کی سہولت غیر فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔اسپتال میں نصب ایم آر آئی مشین 2016 میں خراب ہوئی تھی، تاہم ایک دہائی گزرنے کے باوجود مشین کی مرمت یا بحالی ممکن نہیں ہوسکی۔ایم آر آئ مشین کی اہمیتْ   ایم آر آئی (MRI - Magnetic Resonance Imaging) مشین انسانی جسم کے اندرونی حصوں کی تفصیلی تصاویر لینے کے لیے طاقتور مقناطیس (Magnets)، ریڈیو لہروں (Radio Waves) اور کمپیوٹر کا استعمال کرتی ہے۔ اس میں کسی قسم کی نقصان دہ شعاعیں (جیسے ایکس رے یا سی ٹی اسکین میں ہوتی ہیں) استعمال نہیں ہوتیں۔یہ مشین بنیادی طور پر درج ذیل چار مراحل میں کام کرتی ہے:1. طاقتور مقناطیسی میدان (Magnetic Field)انسانی جسم کا تقریباً 70 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے، اور پانی میں ہائیڈروجن کے ایٹمز (Protons) ہوتے ہیں۔عام حالت میں یہ پروٹونز جسم میں مختلف سمتوں میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔جیسے ہی مریض کو ایم آر آئی مشین کے اندر لے جایا جاتا ہے، مشین کا انتہائی طاقتور مقناطیس ان تمام پروٹونز کو ایک سیدھ میں (ایک لائن میں) کر دیتا ہے۔2. ریڈیو لہروں کا استعمال (Radio Waves)پروٹونز کے سیدھے ہونے کے بعد، مشین جسم کے مطلوبہ حصے کی طرف ریڈیو فریکوئینسی (RF) کی لہریں چھوڑتی ہے۔یہ لہریں ان پروٹونز سے ٹکراتی ہیں اور انہیں اپنی جگہ سے تھوڑا سا ہٹا یا "ڈسٹرب" کر دیتی ہیں۔3. سگنل کا اخراج (Releasing Signals)جب ریڈیو لہروں کو بند کیا جاتا ہے، تو پروٹونز دوبارہ اپنی اصل مقناطیسی پوزیشن میں واپس آنے لگتے ہیں۔اپنی اصل جگہ واپس آتے ہوئے یہ پروٹونز خود سے کمزور ریڈیو سگنلز خارج کرتے ہیں۔


اس سارے عمل میں جسم کے مختلف حصے (جیسے ہڈیاں، پٹھے، یا چربی) مختلف رفتار سے اپنی جگہ واپس آتے ہیں، اس لیے ان کے سگنلز بھی الگ الگ ہوتے ہیں۔4. کمپیوٹر امیجنگ (Image Creation)مشین میں لگے ہوئے سینسرز ان سگنلز کو ریکارڈ کرتے ہیں اور کمپیوٹر کو بھیجتے ہیں۔کمپیوٹر ان سگنلز کا حساب لگا کر جسم کے اندرونی حصے کی انتہائی واضح اور تھری ڈی (3D) تصویر تیار کر دیتا ہے۔ ایم آر آئی ایک انتہائی اہم تشخیصی عمل ہے جس کے ذریعے دماغ، ریڑھ کی ہڈی، جوڑوں اور جسم کے دیگر پیچیدہ مسائل کی بروقت تشخیص ہوتی ہے۔ اس سہولت کی عدم دستیابی کے باعث غریب مریضوں کو جناح اور سول اسپتال جیسے دیگر مراکز کا رخ کرنا پڑتا ہے۔شہریوں نے اسپتال میں جاری اس بدانتظامی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 10 سال کا طویل عرصہ کسی مشین کی خرابی دور کرنے کے لیے نامناسب ہے -شہریوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک سرکاری اسپتال کی اہم مشین 10 سال سے خراب ہے


 اور افسوس کا مقام  ہے کہ حکو مت نے مکمل سرف نظر کیا ہوا ہے جس کی بناء پر عوامی حلقوں نے میئر کراچی اور کے ایم سی حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پرانی مشین اب قابل مرمت نہیں رہی تو فوری طور پر نئی ایم آر آئی مشین فراہم کی جائے تاکہ مریضوں کی مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ عباسی شہید اسپتال کراچی کا ایک بڑا سرکاری طبی مرکز ہے جہاں روزانہ بڑی تعداد میں مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ ایسے میں ایک بنیادی تشخیصی سہولت کا 10 سال سے بند ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔ شہرِ قائد کے سب سے بڑے طبی مراکز میں سے ایک عباسی شہید اسپتال میں ایم آر آئی کی اہم تشخیصی سہولت گزشتہ 10 برس سے مکمل طور پر غیر فعال ہے جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسپتال انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ یہ مشین 2016 میں خراب ہوئی تھی، تب سے اب تک اسے ٹھیک نہیں کیا جا سکا۔


انتظامیہ نے اس تشویشناک صورتحال پر میئر کراچی کو بارہا خطوط لکھے اور اعلیٰ حکام کو اس سنگین مسئلے سے آگاہ کیا، لیکن تاحال کے ایم سی کی جانب سے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔اسپتال انتظامیہ نے بھی مشین کی طویل عرصے سے خرابی کی تصدیق کردی ہے۔ جس کے بعد مشین کو قابل استعمال بنانے کے لیے مختلف اوقات میں ماہرین اور متعلقہ ٹیموں نے اسپتال کا دورہ کیا۔ تاہم مسئلہ حل نہیں ہوسکا اور ایم آر آئی کی سہولت مسلسل بند رہی۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مشین کا معائنہ کرنے والی ٹیموں نے اس کی خرابی اور درکار مرمت کے حوالے سے کے ایم سی کو بھی آگاہ کیا جبکہ اسپتال کی جانب سے بھی اس معاملے پر کئی مرتبہ میئر کراچی کو بھی خطوط لکھے جاچکے ہیں ۔مشین طویل عرصے سے آؤٹ آف آرڈر ہونے کے باعث ایم آر آئی وارڈ بھی مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

نیٹی جیٹی پُرانا پُل آج کی بہترین فوڈ اسٹریٹ

       بڑی مشہور مثل ہے 'ہاتھی مرے پہ سوا لاکھ کا  'جی جناب  انگریز  بہادر  بھی کیا زیرک نگاہ   تھا جس نے کراچی کی    تاریخ ہی بدل ڈ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر