منگل، 1 ستمبر، 2026

سانحہ نیپال

   قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال، جنگلات کی کٹائی، آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے اسباب نے قدرت کے نظام میں ایسی دراڑیں پیدا کردی ہیں جن کے نتائج اب دنیا کے سامنے ہیں۔ اس اعتبار سے نیپال کا سانحہ محض نیپال کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک انتباہ ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کے شمالی علاقے میں پہار کے ٹوٹنے کا سانحہ پیش آ چکا جس نے پوری جیتی جاگتی بستی کو  نگل لیا تھا -بات یہ ہے کہ پاکستان بھی قطبی علاقوں کے علاوہ دنیا کے سب سے بڑے برفانی ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، بالخصوص قراقرم اور ہمالیائی سلسلہ کوہ میں موجود گلیشیئرز ہمارے آبی مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، مون سون کے بدلتے ہوئے انداز اور سرحد پار دریاں کے پانی کا انتظام ایسے معاملات ہیں جن کا تعلق براہِ راست ہماری قومی سلامتی اور مستقبل سے ہےانسانی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبیں اس وقت عروج پاتی ہیں جب وہ عقل، بصیرت اور دوراندیشی سے کام لیتی ہیں، اور اس وقت زوال کا شکار ہوتی ہیں جب ان کے سامنے موجود واضح نشانیاں اور انتباہات نظرانداز کر دئیے جاتے ہیں۔اگرانسان قدرت کے ساتھ بے اعتدالی کا سلوک جاری رکھتا رہا، اگر اقوام موسمیاتی تبدیلی اور آبی وسائل جیسے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہیں، تو آنے والی نسلوں کے لیے اس سے بھی بڑے سانحات منتظر ہوسکتے ہیں۔ سوچئے زرا  جب  فطرت مسکراتی ہے تو پہاڑوں پر سبزہ اترتا ہے، دریاں میں زندگی دوڑتی ہے اور وادیاں گیت گاتی ہیں؛ لیکن جب یہی اللہ  کے  جلال کا ایک رخ دکھاتی ہے تو پہاڑ بھی گویا رو پڑتے ہیں، وادیاں ماتم کدہ بن جاتی ہیں اور انسان اپنی تمام تر قوت، علم اور غرور کے باوجود اپنی بے بسی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانیت کو ہر قسم کی آفت، وبا، سیلاب، زلزلے اور قدرتی و انسانی تباہی سے محفوظ فرمائے،


اقوام کو عدل، تعاون اور باہمی احترام کی راہ دکھائے، ہمیں قدرت کے انتباہات کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، اور پاکستان سمیت پوری دنیا کو ایسے فیصلے کرنے کی بصیرت دے جو آنے والی نسلوں کے لیے امن، پانی، ماحول اور زندگی کو محفوظ بنا سکیں۔ آمین  صبح 8 بج کر 37 منٹ قریب قریب نیپال اور چین کی سرحد کے قریب، کھٹمنڈو کے شمالی علاقے میں شام جھٹکے محسوس کرتے محسوس ہوئے۔ جیولوجیکل ابتدائی طور پر اس سمندر کو 4. شدید زلزلے سے تعبیر کیا گیا تھا، تاہم اس کے بعد مزید تجزیوں کے مختلف قرار دیے جانے کے بعد یو ایس جی ایس کے مطابق اس علاقے سے برف اور چٹانوں کا ایک بہت بڑا ملبہ نیچے آیا اور لدھیاں کھولا دریائے جا گرنے میں۔ یہ دریا آگے جاکر بھوٹے کوشی دریا میں شامل ہے، جو چین سے نیپال کی طرف بہت زیادہ ہے جیولوجیکل ابتدائی طور پر اس سمندر کو 4. شدید زلزلے سے تعبیر کیا گیا تھا، تاہم اس کے بعد مزید تجزیوں کے مختلف قرار دیے جانے کے بعد یو ایس جی ایس کے مطابق اس علاقے سے برف اور چٹانوں کا ایک بہت بڑا ملبہ نیچے آیا اور لدھیاں کھولا دریائے جا گرنے میں۔ یہ دریا آگے جاکر بھوٹے کوشی دریا میں شامل ہوتا ہے، جو چین سے نیپال کی طرف سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر رسک کنٹرول اتھارٹی کے مطابق ملک کے تازہ ترین اعداد و شمار اور سیلاب میں تباہ کن لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہونے والی تعداد 734 ہو گئی۔یپال اور تبت کی سرحد پر واقع ہمالیائی خطے میں گلیشیئر کا پھٹنا یا ٹوٹنا کسی زلزلے کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ موسمیاتی تبدیلی avalanche) کا ایک ملا جلا اور پیچیدہ واقعہ تھا۔


 [1, 2, 3] (Climate Change)، پرما فراسٹ (برف جمی مٹی) کے پگھلنے اور چٹان و برف کے تودے گرنے (Ice-rockسائنسی تجزیات اور سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق یہ حادثہ درج ذیل وجوہات کی بنا پر پیش آیا:. گلیشیئر کا بڑا حصہ ٹوٹنا (Glacier Collapse)سمندر کی سطح سے تقریباً 5,200 میٹر کی بلندی پر واقع گلیشیئر (لانگ ٹانگ لیرونگ کے قریب) کا ایک بہت بڑا نچلا حصہ یکدم کٹ کر نیچے وادی میں جا گرا۔ ماہرین کے مطابق یہ حصہ تقریباً 1,300 میٹر چوڑا تھا اور یوں لگا جیسے کسی نے چاقو سے گلیشیئر کا نچلا دھڑ کاٹ کر پہاڑ سے نیچے پھینک دیا ہو۔ [1, 2, 3]2. بلندی سے گرنے کا شدید اثر (The Avalanche)برف اور چٹانوں کا یہ گرجتا ہوا تودہ تقریباً 1,200 میٹر (4,000 فٹ) نیچے موجود وادی (Lhende Khola) میں گرا۔ یہ اثر اتنا شدید تھا کہ زمین ہل گئی اور زلزلہ پیما مشینوں پر اس کی شدت 5.2 میگنیٹیوڈ ریکارڈ کی گئی، جسے شروع میں لوگ حقیقی زلزلہ سمجھ بیٹھے تھے۔  3. عارضی بند (Natural Dam) اور اس کا پھٹنا-جب لاکھوں ٹن برف، مٹی اور بھاری چٹانیں تیز رفتاری سے نیچے دریا کی وادی میں گریں، تو انہوں نے وہاں بہنے والے دریا کا راستہ عارضی طور پر روک دیا اور ایک قدرتی بند یا جھیل بن گئی۔ چند ہی منٹوں میں پیچھے پانی کا دباؤ اس حد تک بڑھ گیا کہ یہ کمزور عارضی بند دھماکے سے پھٹ گیا۔ 4. مٹی اور پتھروں کا سونامی (Tsunami of Dirt)ند ٹوٹنے سے پانی، پگھلی ہوئی برف، کیچڑ اور دیو ہیکل چٹانوں کا ایک خوفناک ریلا 190 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی زیادہ کی رفتار سے نیچے کی طرف بڑھا۔ چونکہ یہ مون سون کا موسم تھا اور زمین پہلے ہی پانی سے بھری ہوئی تھی، اس لیے اس ریلے نے راستے کی مزید مٹی اور پتھروں کو اپنے اندر لپیٹ لیا۔ اسی وجہ سے صرف 30 منٹ کے اندر دریاؤں میں پانی کی سطح 9 میٹر (30 فٹ) تک بلند ہو گئی اور نیچے واقع بستیوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں  ملااورسب کچھ  تہس نہس  ہو گیا ۔ 

 

نیپال میں آفات سے نمٹنے کے سرکاری ادارے کے مطابق تبت، نیپال کے سرحدی علاقے میں آنے والے تباہ کُن سیلاب کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس سیلاب کے بعد 3,900 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں 600 سے زیادہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ دریائے تریشولی کے کنارے واقع پن بجلی منصوبوں پر کام کر رہے تھے اور سیلاب کے باعث ان منصوبوں سے منسلک سرنگوں میں کیچڑ بھر جانے کے باعث وہ وہاں پھنس گئے ہیں۔سرنگوں میں پھنس جانے والے ان 600 کے لگ بھگ ورکرز کی زندگیاں بچانے کے لیے مختلف ممالک کے ماہر انجینیئرز سرنگوں کے اندر ہوا پمپ کر رہے ہیں۔ اگرچہ امدادی ٹیم ایک سرنگ میں داخل ہونے میں کامیاب بھی ہوئی، تاہم وہاں کسی شخص کے نہ ملنے پر یہ ٹیم واپس لوٹ آئی۔نیپال کے ایک پن بجلی منصوبے پر کام کرنے والے 33 سالہ لاپتہ انجینیئر اورَس بھنڈاری کی اہلیہ انوشیلا بھنڈاری نے بی بی سی نیپالی سے گفتگو میں کہا کہ ’کاش ہم انھیں ڈھونڈ سکیں۔ کاش وہ گھر واپس آ جائیں۔‘سرنگوں میں موجود افراد کو بچانے کے لیے کی جانے والی امدادی کارروائیوں کی قیادت چین اور نیپال کے فوجی اہلکاروں پر مشتمل ایک بین الاقوامی ٹیم کر رہی ہے، جبکہ انڈیا، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کے ماہرین بھی اس آپریشن میں شریک ہیں۔

نیپال میں ہندو مسلم فسادات

   نیپال میں ہندوستانی مسلم فسادات، قوم کے کئی گھر، گاڑیاں نذرآتش     جنوبی نیپال کے ملحقہ سرحدی علاقے میں ہندوستانی اور مسلم برادریوں کے درمیان پرتشد فسادات پھوٹ پڑے، جن کے دوران متعدد مسلم آبادی بھارت کے علاقے، دکانوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور پھوٹ پھوٹ کا واقعہ پیش کیا۔ سنجیدگی ہوئی پیش نظر آپ نے غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فسادات کا آغاز ضلع سنساری کے علاقے دیوان گنج میں ایک  مذہبی کے دوران لاؤڈ اسپیکر  کو مذہبی نشانوں کے استعمال پر تلخ کلامی سے ہوا، جو بعد ازاں سنگ باری اور پرتشد تصادم میں تبدیل ہو گیا۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے؟ حکومت نے کہا کہ حکومت نے سختی سے عمل درآمد اور سوشل میڈیا کی نگرانی جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا  -بات یہ ہے کہ انتہا   پسند ہندوؤں کی جانب سے مسلسل  اشتعال انگیزی اور کوششیں  کی جا رہی  تھیں کہ مسلمانوں کو نقصان  پہنچایا جائے  پھر یوں ہوا کہ ہے کہ  انٹر نیٹ پر بھی دیکھا گیا  کہ مسلمان بزرگوں کی  داڑھیاں نوچی جا رہی ہیں اور ان کی تزلیل کی جا رہی ہے۔  مسلمانوں کے گھروں کو اور مساجد کو آگ لگائ گئ   1000 مسلمان شہید کئے گئے 100 مساجد اور قران پاک کو شہید کیا گیا -

 

کھٹمنڈو (صباح نیوز) جنوبی نیپال کے بھارت سے ملحقہ سرحدی اضلاع میں ہندو اور مسلم برادریوں کے درمیان پرتشدد فسادات پھوٹ پڑے، جن کے دوران متعدد علاقوں میں مسلم آبادی کے گھروں، دکانوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور توڑ پھوڑ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فسادات کا آغاز ضلع سنساری کے علاقے دیوان گنج میں ایک مذہبی جلوس کے دوران لاؤڈ اسپیکر اور مذہبی پرچموں کے استعمال پر ہونے والی تلخ کلامی سے ہوا، جو بعد ازاں سنگ باری اور پرتشدد تصادم میں تبدیل ہو گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق مشتعل ہجوم نے رہائشی علاقوں کا رخ کرتے ہوئے متعدد مکانات، دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی، جس کے باعث کئی خاندان اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔ پولیس اور مشتعل افراد کے درمیان جھڑپوں میں اب تک کم از کم 3 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔صورتحال پر قابو پانے کے لیے نیپال پولیس اور نیپال آرمی نے متاثرہ اضلاع میں فلیگ مارچ اور گشت شروع کر دیا ہے۔


 حکام کے مطابق املاک کو نقصان پہنچانے، گھروں کو نذر آتش کرنے اور تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ قانون ہاتھ میں لینے اور افواہیں پھیلانے والوں کی فوری گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔نیپال کی حکومت اور وزیراعظم نے عوام سے تحمل، مذہبی رواداری اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت نے متاثرہ اضلاع میں کرفیو پر سختی سے عمل درآمد اور سوشل میڈیا کی کڑی نگرانی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ اشتعال انگیز مواد اور افواہوں کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔ اگست کے آخری ہفتے تک کچھ ہندوستانی فسادات کے حق میں آگ لگنے کے بعد وہ اگست میں چھپے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ جھڑپوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔نیپال میں ایک احتجاج کے دوران ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کی گئی اور بعد ازاں اسے آگ لگا دی گئی۔ رپورٹس کے مطابق مسجد کے اندر موجود قرآنِ کریم کے نسخے اور احادیث کی کتابیں بھی جلا دی گئیں۔یہ واقعہ اس تباہ کن سیلاب سے تقریباً چار ہفتے قبل پیش آیا تھا جو بعد میں آیا 


بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فسادات کا آغاز ضلع سنساری کے علاقے دیوان گنج میں ایک مذہبی جلوس کے دوران لاؤڈ اسپیکر اور مذہبی پرچموں کے استعمال پر ہونے والی تلخ کلامی سے ہوا، جو بعد ازاں سنگ باری اور پرتشدد تصادم میں تبدیل ہو گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق مشتعل ہجوم نے رہائشی علاقوں کا رخ کرتے ہوئے متعدد مکانات، دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی، جس کے باعث کئی خاندان اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔ پولیس اور مشتعل افراد کے درمیان جھڑپوں میں اب تک کم از کم 3 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔صورتحال پر قابو پانے کے لیے نیپال پولیس اور نیپال آرمی نے متاثرہ اضلاع میں فلیگ مارچ اور گشت شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق املاک کو نقصان پہنچانے، گھروں کو نذر آتش کرنے اور تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ قانون ہاتھ میں لینے اور افواہیں پھیلانے والوں کی فوری گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔نیپال کی حکومت اور وزیراعظم نے عوام سے تحمل، مذہبی رواداری اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت نے متاثرہ اضلاع میں کرفیو پر سختی سے عمل درآمد اور سوشل میڈیا کی کڑی نگرانی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ اشتعال انگیز مواد اور افواہوں کا بروقت تدارک کیا جا سکے

 

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

سانحہ نیپال

    قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال، جنگلات کی کٹائی، آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے اسباب نے قدرت کے نظام میں ایسی دراڑیں پیدا کردی ہیں جن کے...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر