ہفتہ، 18 جولائی، 2026

دنیا کا تعمیراتی عجوبہ "دیوار چین"

 

دیوار چین کیوں تعمیر کی گئی ؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنے کی جستجو میں ان گنت تحقیقات ہوئی ہیں اور سب میں متعدد باتیں مشترک بھی پائی گئیں ان میں ایک یہ ہے کہ یہ دیوار دفاعی دفاعی نقطہ نگاہ سے تعمیر ہونا شروع ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ دیوار چین کی تعمیر یسوع مسیح کی پیدائش سے تقریبا دوسو سال پہلے شروع ہوئی تھی، (اس بارے میں تاریخ میں مختلف ادوار کا ذکر ملتا ہے)۔ ان دنوں چین کے بڑے دشمنوں میں منگول تاتار تھے  یہ چور ڈاکو اور جنگجو قسم کے لوگ تھے اور آئے دن چین پر حملہ آور ہوتے رہتے تھے۔ انہی حملوں سے بچاؤ کے لئے ایک حفاظتی اور دفاعی دیوار پندرہ سو کلومیٹر  تعمیر کی گئی -یسوع مسیح کی پیدائش سے تقریباً دو سو سال پہلے چین کے بادشاہ چن شی ہوانگ نے اپنے ملک کو دشمنوں کے حملوں سے محفوظ کرنے کے لیے شمالی سرحد پر ایک دیوار بنانے کی خواہش کی۔ اس دیوار کی ابتدا چین اور منچوکو کی سرحد کے پاس سے کی گئی۔ اس زمانے میں ہن اور تاتار چین کے بڑے دشمن تھے، جو وسط ایشیاء میں کافی طاقتور سمجھے جاتے تھے۔ یہ دیوار خلیج لیاؤتنگ سے منگولیا اور تبت کے سرحدی علاقے تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً تیرہ ہزار ایک سو ستر میل ہے اور یہ مختلف علاقوں میں بیس سے لے کر تیس فٹ تک اونچی ہے۔ بنیاد کے قریب اس کی چوڑائی پچیس فٹ اور اوپر سے بارہ فٹ کے قریب ہے۔ ہر دو سو گز کے فاصلے پر حفاظتی پہریداروں کے لیے مضبوط پناہ گاہیں بنی ہوئی ہیں۔


 مہینوں کا سفر اب محض گھنٹوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، دنیا کے کونے میں کہیں بھی ایک معمولی واقعہ ہو جائے تو اس کی خبر دنیا کے ان کناروں تک پہنچ جاتی ہے جہاں تک انسان رہتا ہے۔ اور تو اور اب دنیا کے کسی بھی چھوٹے سے کمرہ میں مقید ہوں تو ہزاروں میل دور بیٹھے اپنے عزیزو اقارب کے ساتھ ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے براہ راست گفتگو کرسکتے ہیں، کوسوں دور ہونے کے باوجود غمی، خوشی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ سائنس ہی کی بدولت ممکن ہوا ہے جو انسان ہی کا کارنامہ ہے لیکن آج کا انسان یہ بھول جاتا ہے کہ جب سائنس نہیں تھی، بجلی نہیں تھی، مشینیں نہیں تھیں اور آمدو رفعت کے ذرائع نہیں تھے بلکہ جانوروں کے ساتھ سفر کیا جاتا تھا، اس زمانے میں انسانوں نے اپنے ہاتھوں سے ایسی ایسی عمارتیں، بت، دیواریں اور نہ جانے کیاکچھ تعمیر کر چھوڑا جس کی نقل آج کے سائنسی دور میں بھی ممکن نہیں ہے اور وہ سب دنیا کی عظیم تعمیراتی عجائبات میں شامل ہوئیں، ایسے انسانوں کےبارے میں کیا سوچا جا سکتا ہے؟۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عظیم انسان کون ہے ؟ اگر آج کا انسان عظیم ہے تو پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ زمانہ قدیم کا انسان عظیم تر تھا اور ہے۔ انسانی ہاتھوں کی یہ تعمیرات اور تاریخ چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ زمانہ قدیم کے انسانوں نے ناممکن کو ممکن میں بدل ڈالا تھا۔ آج کی جس سائنس پر فخر کیا جاتا ہے


کیا وہ سائنس آج تاج محل، اہرام مصر، زیوس کا مجسمہ، اسکندریہ کا روشن مینار وغیرہ تعمیر کرسکتی ہے؟ تعمیر تو دور کی بات رہی، آج کی سائنس ان کی نقل کرنے میں بھی ناکام رہے گی۔   لیکن حقیقی عجائبات وہی ہیں جو ہزاروں سال قبل انسانی ہاتھوں سےتعمیر ہوئی تھیں۔ زمانہ قدیم کے انسانوں کے ہاتھوں تعمیراتی عجوبوں میں عظیم ایک دیوار چین The greatwall of China بھی ہے۔ اس کے متعلق ہو شربا قسم کے قصے، افسانے اور کہانیاں اقوام عالم کی زبانوں میں لکھے موجود ہیں، دیوار چین کی عظمت کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس بارے میں عالمی سطح پر یہ یقین کر لیا گیا تھاکہ اس کو چاند کی سطح سے بھی ایک لکیر کی مانند دیکھا گیا ہے،حالانکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جو لوگ چین جا کر دیوار چین دیکھنے کی سکت نہیں رکھتے وہ گوگل کے ذریعے دیوارچین کو دیکھ کر حیرت کے سمندر میں ڈوبکی لگا سکتے ہیں ،سانپ کی مانند بل کھاتی   چین کی یہ قدیم اور عظیم دیوار چین آج دنیا کے لئے سب سے بڑا نظارے کی حیثیت رکھتی ہے۔


یہ عظیم دیوار چین کے شمال میں واقع ہے جو حقیقت میں ایک قلعہ نما دیوار ہے جو پہاڑوں ، میدانوں ، سبزہ زاروں اور صحرائے گوپی سے بل کھاتی ہوئی گزرتی ہے۔ یہ صدیوں میں بننے والی مختلف دفاعی دیواروں کا مجموعہ ہے جس کی تعمیر کی ابتداء کئی سو سال پہلی قبل از مسیح (ق م) ہوئی تھی اور تکمیل 1644عیسوی میں ہوئی تھی ۔ تاریخ کے مطابق چین کے پندرہ سے زائد شاہی خاندانوں کے سینکڑوں برس کے ادوار میں بھی عظیم دیوار چین کی تعمیر ہوتی رہی تھی ۔ تاریخ دانوں نے اس کی تعمیر کی مدت1700 سے2000 سال بتائی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ چین کے 15 صوبوں میں سے ہو کر گزرتی ہے ۔ یونیسکو نے 1987 میں اس کو عالمی ورثہ قرار دیا تھا ۔  

جمعہ، 17 جولائی، 2026

سبیل حسین ع (پیاسوں کی داستاں سناتا ہوا پانی)

  

 اسلامی معاشروں میں پانی پلانا نہایت بڑی نیکی سمجھا جاتا تھا۔ اسی بنا پر بہت سے مسلمان صدقۂ جاریہ کے طور پر سبیل قائم کرتے تھے۔ اس کی بنیاد اس مشہور حدیث پر بھی رکھی جاتی ہے جس میں حضرت سعد بن عبادہ نے نبی کریم سے پوچھا کہ ان کی والدہ کے انتقال کے بعد ان کی طرف سے کون سی صدقہ افضل ہے، تو جواب میں فرمایا گیا: “پانی پلانا”۔   چنانچہ سعد بن عبادہ نے مدینہ میں ایک سبیل قائم کی جسے سقایۃ سعد کہا جاتا تھا۔ابتدا میں سبیلیں اکثر مساجد، مدارس یا خانقاہوں کے ساتھ تعمیر کی جاتی تھیں، مگر بعد کے زمانوں میں یہ آزاد عمارتوں کی شکل میں بھی بننے لگیں۔ بعض مقامات پر سبیل کے ساتھ قرآن کی تعلیم کے لیے مکتب یا کمرہ بھی بنایا جاتا تھا۔ سبیل (جمع: اسبلہ، سُبُل)ادراصل ایک ایسا وقفی انتظام ہوتا تھا جس کے ذریعے مسافروں اور راہ گیروں کو مفت پانی پلایا جاتا تھا تاکہ اس عمل سے ثواب حاصل کیا جائے۔سبیل کا مفہوملغت میں اسبلہ، لفظ سبیل کی جمع ہے۔ اصطلاح میں اس سے مراد ایسا عوامی مقام ہے جہاں پانی اس نیت سے فراہم کیا جائے کہ مسافر اور راہ گیر وہاں سے پانی پی سکیں۔ یہ عمل اسلامی معاشرے میں صدقہ اور خیرات کی ایک اہم صورت سمجھا جاتا تھا۔قرونِ وسطیٰ میں سبیلیںقرونِ وسطیٰ کے اسلامی شہروں میں سبیلوں کی تعمیر ایک عام روایت تھی۔ 


اگرچہ پانی کے چشمے یا فوارے قدیم زمانوں سے مختلف تہذیبوں میں موجود تھے، لیکن مسلمانوں نے انھیں وقف اور رفاہی خدمت کی صورت میں خاص اہمیت دی۔ امرا، سلاطین اور صاحبِ ثروت لوگ آپس میں نیکی کے جذبے سے سبیلیں بنانے میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اسی وجہ سے اسلامی شہروں کی گلیوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر سبیلیں قائم کی جاتی تھیں تاکہ عام لوگوں کو پینے کا پانی آسانی سے دستیاب ہو سکے۔ان تعمیرات کی سماجی اہمیت بھی بہت زیادہ تھی۔ سبیلیں صرف مسافروں ہی کے لیے نہیں بلکہ شہر کے عام باشندوں کے لیے بھی مفید ہوتی تھیں۔ بہت سی سبیلوں کے ساتھ مسافروں کے قیام کے لیے چھوٹے مکانات بھی تعمیر کیے جاتے تھے۔مصر اور دیگر علاقوں میں سبیلیں-مصر میں سبیلوں کی باقاعدہ تعمیر مملوک دور میں زیادہ نمایاں ہوئی اور اس کا آغاز تقریباً چھٹی صدی ہجری / بارہویں صدی عیسوی سے ہوا۔ ان میں سے زیادہ تر سبیلیں سلاطین، امرا اور ان کی خواتین کی طرف سے بنوائی جاتی تھیں۔ بعض لوگ انھیں اپنے گناہوں کے کفارے یا صدقۂ جاریہ کے طور پر تعمیر کرواتے تھے، جبکہ بعض انھیں اپنے مرحوم رشتہ داروں کے نام پر بنواتے تھے۔


۔ پورے برصغیر پاک و ہند میں ماہِ محرم الحرام کی آمد پر 'سبیلوں' (پانی اور دودھ کی سبیل) کا اہتمام ایک انتہائی نمایاں اور تاریخی روایت ہے۔ یہ سلسلہ حضرت امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کی عظیم قربانی کی یاد تازہ کرنے اور پیاسوں کو پانی پلانے کی نیت سے کیا جاتا ہے۔اس خوبصورت اور تاریخی روایت کے چند اہم پہلو یہ ہیں:مقصد اور جذبہ: نواسۂ رسولؐ اور شہدائے کربلا کی پیاس کی یاد میں عزاداروں اور راہگیروں کو ٹھنڈا پانی، دودھ، شربت اور سبیلِ حسینی پیش کی جاتی ہے۔مقام اور وسعت: یہ سبیلیں گلی محلوں، مرکزی شاہراہوں، امام بارگاہوں کے باہر اور جلوسوں کے راستوں پر انتہائی عقیدت کے ساتھ لگائی جاتی ہیں۔مذہبی ہم آہنگی: برصغیر میں یہ روایت صرف ایک خاص مکتبہ فکر تک محدود نہیں ہے، بلکہ مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر کے لوگ گرمی کی شدت میں اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔اکثر سبیلوں کے نیچے ایک بڑا پانی کا ذخیرہ (صہریج) بنایا جاتا تھا جس میں پانی محفوظ رکھا جاتا تھا۔ وہاں سے پانی نکال کر پینے کے لیے فراہم کیا جاتا تھا۔ 


ان سبیلوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ ہر مذہب اور قوم کے لوگ مسلمان، عیسائی، یہودی اور غیر ملکی مسافر—بلا امتیاز وہاں سے پانی پی سکتے تھے۔ اسی وجہ سے یہ ادارے اسلامی معاشروں میں انسانی خدمت اور رفاہ عامہ کی علامت سمجھے جاتے تھےبین المذاہب ہم آہنگی کی سبیلیں (گلگت بلتستان و نگر): گلگت اور وادیِ نگر جیسے علاقوں میں محرم کے دوران مقامی مسیحی برادری اور دیگر مذاہب کے لوگ عزاداروں کے لیے پانی اور چائے کی خصوصی سبیلیں لگاتے ہیں، جو مذہبی رواداری کی ایک بہترین مثال ہیں۔روہڑی اور سکھر کی تاریخی سبیلیں: سندھ کے شہر روہڑی میں نویں محرم کے تاریخی "نوڈھال جلوس" (Karbala Processions) کے موقع پر صدیوں پرانی روایتی سبیلیں قائم ہوتی ہیں جہاں زائرین کی خدمت کی جاتی ہے۔پاکستان میں محرم الحرام کے دوران لگائی جانے والی سبیلیں عقیدت، سخاوت اور لنگر حسینی کی تقسیم کا ایک عظیم الشان مظہر ہیں۔ ملک کے بڑے شہروں خصوصاً کراچی اور لاہور میں ایسی تاریخی اور وسیع سبیلیں لگائی جاتی ہیں جنہیں دنیا بھر میں ان کے حجم اور انفرادیت کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔پاکستان کی چند سب سے مشہور اور منفرد سبیلیں درج ذیل ہیں:1۔ کراچی کی سبیلیں (پاکستان کی سب سے بڑی سبیلیں)انچولی اور نمائش چورنگی کی سبیلیں: نمائش چورنگی (ایم اے جناح روڈ) اور انچولی سوسائٹی کراچی میں مرکزی جلوسوں کے راستے پر واقع ہیں۔ یہاں ملک کی سب سے بڑی سبیلیں قائم کی جاتی ہیں جہاں لاکھوں عزاداروں اور شہریوں کو ٹھنڈا دودھ، بادام و پستہ کا شربت، اور لنگر تقسیم کیا جاتا ہے۔کھارادر اور کھوڑی گارڈن کی سبیلیں: کراچی کے قدیم علاقوں میں کئی دہائیوں پرانی روایتی سبیلیں سجائی جاتی ہیں، جہاں شیرمال اور تافتان بھی خصوصی طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔2۔ لاہور کی تاریخی سبیلیںدربارِ بی بی پاک دامن کی سبیلیں: لاہور میں مزار بی بی پاک دامن کے ارد گرد محرم کے پہلے دس دن انتہائی بڑے پیمانے پر لنگر اور دودھ کی سبیلوں کا انتظام ہوتا ہے جہاں ہر مکتبہ فکر کے لوگ آتے ہیں۔شادمان کی عظیم الشان سبیل: لاہور کے علاقے شادمان میں محرم الحرام کے دوران ایک بہت بڑی سبیل اور لنگرِ حسینی کا اہتمام کیا جاتا ہے جو اپنے وسیع انتظامات کے لیے مشہور ہے


مکمل مضمون گوگل کا مرہون منت ہے

بدھ، 15 جولائی، 2026

ولی دکنی 'حیدر آبد دکن کے ابتدائ شاعر


 

ولی دکنی  کا شمار  حیدر آبا د کی مردم خیز سر زمین  پر اردو کے ابتدائی شاعروں میں ہوتا ہے۔اگر چہ ان سے پہلے بھی اردو شاعری  میں امیر خسرو دست یاب ہیں لیکن کلام کی خوب صورتی اور دل کشی کے حوالے سے   ولی کواردو کے ابتدائی شعرا میں خاص مقام و مرتبہ حاصل ہے۔انہوں نے اردو میں فارسی تراکیب کو رواج دیا بلکہ اردو غزل کو ایسا رنگ دنے کی سعی کی جو بالاخر اردو غزل کا طرہ امتیاز قرار پایا ۔اگر چہ ان سے پہلے بھی اردو شاعری کے نمونے دست یاب ہیں لیکن کلام کی خوب صورتی اور دل کشی کے حوالے ولی کواردو کے ابتدائی شعرا میں خاص مقام و مرتبہ حاصل ہے۔انہوں نے اردو میں فارسی تراکیب کو رواج دیا  ۔ ولی دکنی کے وطن  کی نسبت متضاد آرا ملتی ہیں۔گجرات والے انہیں بھارت کی ریاست گجرات سے بتاتے ہیں جب کہ حیدرآباد کے تحقیق کار ان کی پیدائش کا سلسلہ دکن سے جوڑتے ہیں۔تا ہم بعض مشہور روایات کے مطابق وہ عبداللہ قطب شاہ کے دور میں 1667کو اورنگ آباد پیدا ہوئے۔اگر چہ ولی دکنی کی عمر کا زیادہ تر حصہ احمد آباد بسر ہوا مگر انہوں نے دہلی کا سفر بھی کیا۔دہلی کے سفر سے پہلے ان کی شاعری کا رنگ ڈھنگ کچھ اور تھا۔وہاں ان کی ملاقات سعد اللہ گلشن   جیسے صوفی سے ہوئی۔سعد اللہ گلشن ان کے کلام سے بے حد متاثر ہوئے۔


انہوں نے ولی کو مشورہ دیا کہ پرانے فارسی کے مضامین کو ریختہ میں لانا چاہیے۔یوں ولی دکنی نے ریختہ گوئی کی ابتدا کی۔ان کی شاعری سے غزل کے نئے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ولی دکنی سے پہلے کے شعرا کہ جن میں قلی قطب شاہ اور امیر خسرو اگر چہ قابل ذکر ہیں ۔مگر ان کی زباں اور ولی کی زبان میں کافی فرق پایا جاتا ہےولی دکنی (اصل نام ولی محمد) اردو کے 'بابائے غزل' ہیں۔ ان کی پیدائش ۱۶۶۷ء میں اورنگ آباد اور وفات ۱۷۰۷ء میں ہوئی- ولی کی شاعری کا دائرہ گجرات، اورنگ آباد اور دہلی تک پھیلا ہوا تھا。 دہلی کے مشہور بزرگ صوفی 'شاہ سعد اللہ گلشن' سے ملاقات کے بعد انہوں نے فارسی مضامین کو اردو (ریختہ) میں ڈھالنا شروع کیا جس سے اردو غزل کو باقاعدہ عروج ملا۔  ولی کے اشعار سے دکنی ہونا ثابت ہے۔ بچپن کی تعلیم اپنے آبائ شہر میں حاصل کرنے   کے بعد حصول علم کے لیے احمد آباد آگئے۔ جو اس زمانے میں علم و فن کا مرکز تھا۔ وہاں حضرت شاہ وجیہ الدین کی خانقاہ کے مدرسے میں داخل ہو گئے۔ لیکن   ولی کی عمر کا بیشتر حصہ احمد آباد میں گذرا۔ اس شہر کے فراق میں انھوں نے ایک پردرد قطعہ بھی لکھا۔ 


 ولی نے گجرات، سورت اور دہلی کا سفر بھی کیا۔ اس کے متعلق اشارے ان کے کلام میں موجود ہیں۔دہلی میں ولی کی سعد اللہ گلشن سے ملاقات ہوئی۔ تو وہ ان کا کلام دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور مشورہ دیا کہ ان تمام مضامین کو جو فارسی میں بیکار پڑے ہیں۔ ریختہ کی زبان میں کام میں لانا چاہیے، تاہم یہ بات متنازع ہے  قائم چاند پوری نے اپنے تذکرے نکاتِ سخن میں لکھا ہے کہ ولی نے سعد کے مشورے پر عمل کیا اور دوسری مرتبہ دہلی گئے تو ان کے کلام کی خوب قدر ہوئی اور یہاں تک شہرت ہوئی کی امراءکی محفلوں میں اور جلسوں اور کوچہ و بازار میں ولی کے اشعار لوگوں کی زبان پر تھے۔ ولی دکنی کو محمد حسین آزاد نے اردو شاعری میں وہی مقام دیا ہے جو انگریزی شاعری میں چاسر اور فارسی شاعری میں رودکی کو حاصل ہےولی کی زباں کافی حد تک دور حاضر کی لسانی ساخت سے ملتی جلتی ہے۔دکن میں ولی سے قبل اردو غزل اس لیے بھی روایت نہ بنا سکی کہ دکن کی ریاستوں پر فارسی کا اثر تھا۔یہی وجہ ہے کہ دکن میں غزل کے ابتدائی ایام میں خارجیت کا رنگ غالب نظر آتا ہے۔انہوں نے اردو کو زبان اور بیان کے نئے سانچوں سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ولی دکنی کی غزل میں وہ تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں جو آنے والے ادوار میں غزل کی خاص پہچان بنیں۔



ولی نے ہندی ۔فارسی اور علاقائی زبانوں کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے اظہار کی نئی راہ نکالی۔ان کے کلام میں مختکف زبانوں کے ایسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو باہم ربط رکھتے ہیں اور ان کے کلام میں بے میل محسوس نہیں ہوتے۔انہوں نے ہندوستانی زبانوں کے ایسے الفاط برتے ہہیں جو عام فہم ہیں اور قاری کو تفہیم میں دقت محسوس نہیں ہوتی ۔یہی وجہ ہے کی صدیاں گزرنے کا باوجود ان کا کلام عام فہم ہے اور ان کے زیادہ تر الفاظ ہماری روز مرہ بول چال کے محسوس ہوتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ولی دکنی اردو زبان اور غزل کا ایسے  معمار تھے جس نے  زبان و ادب  کی ترویج  کے لئے  ایک عالی شان عمارت کی داغ بیل ڈالی۔ 

خوب رو خوب کام کرتے ہیں

یک نگہ میں غلام کرتے ہیں 

وو صنم جب سوں بسا دیدۂ حیران میں آ

آتش عشق پڑی عقل کے سامان میں آ

ناز دیتا نہیں گر رخصت گل گشت چمن

اے چمن‌‌ زار حیا دل کے گلستان میں آ

عیش ہے عیش کہ اس مہ کا خیال روشن

شمع روشن کیا مجھ دل کے شبستاں میں آ

یاد آتا ہے مجھے وو دو گل باغ   وفا

اشک کرتے ہیں مکاں گوشۂ دامان میں آ

موج بے تابیٔ دل اشک میں ہوئی جلوہ نما

جب بسی زلف صنم طبع پریشان میں آ

نالہ و آہ کی تفصیل نہ پوچھو مجھ سوں

دفتر درد بسا عشق کے دیوان میں آ

پنجۂ عشق نے بیتاب کیا جب سوں مجھے

چاک دل تب سوں بسا چاک گریبان میں آ

دیکھ اے اہل نظر سبزۂ خط میں لب لعل

رنگ یاقوت چھپا ہے خط ریحاں میں آ

حسن تھا پردۂ تجرید میں سب سوں آزاد

طالب عشق ہوا صورت انسان میں آ

شیخ یہاں بات تری پیش نہ جاوے ہرگز

عقل کوں چھوڑ کے مت مجلس رندان میں آ

درد منداں کو بجز درد نہیں صید مراد

اے شہ ملک جنوں غم کے بیابان میں آ

حاکم وقت ہے تجھ گھر میں رقیب بد خو

دیو مختار ہوا ملک سلیمان میں آ

چشمۂ آب بقا جگ میں کیا ہے حاصل

یوسف حسن ترے چاہ زنخدان میں آ

جگ کے خوباں کا نمک ہو کے نمک پروردہ

چھپ رہا آ کے ترے لب کے نمک دان میں آ

بس کہ مجھ حال سوں ہمسر ہے پریشانی میں

ظلم کو چھوڑ سجن شیوۂ احسان میں آ

یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا

ولی دکنی


نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

نبئ آخر الؔزماں صلؔی اللہ علیہ واٰ لہ وسلؔم

   پرور دگار عالم نے آپ  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم  کو     انسانوں کی راہبری کے لئے  مبعوث کیا     اور حیات انسانی کے اخلاقی پہلوؤں کو حضور ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر