جمعہ، 17 جولائی، 2026

سبیل حسین ع (پیاسوں کی داستاں سناتا ہوا پانی)

  

 اسلامی معاشروں میں پانی پلانا نہایت بڑی نیکی سمجھا جاتا تھا۔ اسی بنا پر بہت سے مسلمان صدقۂ جاریہ کے طور پر سبیل قائم کرتے تھے۔ اس کی بنیاد اس مشہور حدیث پر بھی رکھی جاتی ہے جس میں حضرت سعد بن عبادہ نے نبی کریم سے پوچھا کہ ان کی والدہ کے انتقال کے بعد ان کی طرف سے کون سی صدقہ افضل ہے، تو جواب میں فرمایا گیا: “پانی پلانا”۔   چنانچہ سعد بن عبادہ نے مدینہ میں ایک سبیل قائم کی جسے سقایۃ سعد کہا جاتا تھا۔ابتدا میں سبیلیں اکثر مساجد، مدارس یا خانقاہوں کے ساتھ تعمیر کی جاتی تھیں، مگر بعد کے زمانوں میں یہ آزاد عمارتوں کی شکل میں بھی بننے لگیں۔ بعض مقامات پر سبیل کے ساتھ قرآن کی تعلیم کے لیے مکتب یا کمرہ بھی بنایا جاتا تھا۔ سبیل (جمع: اسبلہ، سُبُل)ادراصل ایک ایسا وقفی انتظام ہوتا تھا جس کے ذریعے مسافروں اور راہ گیروں کو مفت پانی پلایا جاتا تھا تاکہ اس عمل سے ثواب حاصل کیا جائے۔سبیل کا مفہوملغت میں اسبلہ، لفظ سبیل کی جمع ہے۔ اصطلاح میں اس سے مراد ایسا عوامی مقام ہے جہاں پانی اس نیت سے فراہم کیا جائے کہ مسافر اور راہ گیر وہاں سے پانی پی سکیں۔ یہ عمل اسلامی معاشرے میں صدقہ اور خیرات کی ایک اہم صورت سمجھا جاتا تھا۔قرونِ وسطیٰ میں سبیلیںقرونِ وسطیٰ کے اسلامی شہروں میں سبیلوں کی تعمیر ایک عام روایت تھی۔ 


اگرچہ پانی کے چشمے یا فوارے قدیم زمانوں سے مختلف تہذیبوں میں موجود تھے، لیکن مسلمانوں نے انھیں وقف اور رفاہی خدمت کی صورت میں خاص اہمیت دی۔ امرا، سلاطین اور صاحبِ ثروت لوگ آپس میں نیکی کے جذبے سے سبیلیں بنانے میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اسی وجہ سے اسلامی شہروں کی گلیوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر سبیلیں قائم کی جاتی تھیں تاکہ عام لوگوں کو پینے کا پانی آسانی سے دستیاب ہو سکے۔ان تعمیرات کی سماجی اہمیت بھی بہت زیادہ تھی۔ سبیلیں صرف مسافروں ہی کے لیے نہیں بلکہ شہر کے عام باشندوں کے لیے بھی مفید ہوتی تھیں۔ بہت سی سبیلوں کے ساتھ مسافروں کے قیام کے لیے چھوٹے مکانات بھی تعمیر کیے جاتے تھے۔مصر اور دیگر علاقوں میں سبیلیں-مصر میں سبیلوں کی باقاعدہ تعمیر مملوک دور میں زیادہ نمایاں ہوئی اور اس کا آغاز تقریباً چھٹی صدی ہجری / بارہویں صدی عیسوی سے ہوا۔ ان میں سے زیادہ تر سبیلیں سلاطین، امرا اور ان کی خواتین کی طرف سے بنوائی جاتی تھیں۔ بعض لوگ انھیں اپنے گناہوں کے کفارے یا صدقۂ جاریہ کے طور پر تعمیر کرواتے تھے، جبکہ بعض انھیں اپنے مرحوم رشتہ داروں کے نام پر بنواتے تھے۔


۔ پورے برصغیر پاک و ہند میں ماہِ محرم الحرام کی آمد پر 'سبیلوں' (پانی اور دودھ کی سبیل) کا اہتمام ایک انتہائی نمایاں اور تاریخی روایت ہے۔ یہ سلسلہ حضرت امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کی عظیم قربانی کی یاد تازہ کرنے اور پیاسوں کو پانی پلانے کی نیت سے کیا جاتا ہے۔اس خوبصورت اور تاریخی روایت کے چند اہم پہلو یہ ہیں:مقصد اور جذبہ: نواسۂ رسولؐ اور شہدائے کربلا کی پیاس کی یاد میں عزاداروں اور راہگیروں کو ٹھنڈا پانی، دودھ، شربت اور سبیلِ حسینی پیش کی جاتی ہے۔مقام اور وسعت: یہ سبیلیں گلی محلوں، مرکزی شاہراہوں، امام بارگاہوں کے باہر اور جلوسوں کے راستوں پر انتہائی عقیدت کے ساتھ لگائی جاتی ہیں۔مذہبی ہم آہنگی: برصغیر میں یہ روایت صرف ایک خاص مکتبہ فکر تک محدود نہیں ہے، بلکہ مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر کے لوگ گرمی کی شدت میں اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔اکثر سبیلوں کے نیچے ایک بڑا پانی کا ذخیرہ (صہریج) بنایا جاتا تھا جس میں پانی محفوظ رکھا جاتا تھا۔ وہاں سے پانی نکال کر پینے کے لیے فراہم کیا جاتا تھا۔ 


ان سبیلوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ ہر مذہب اور قوم کے لوگ مسلمان، عیسائی، یہودی اور غیر ملکی مسافر—بلا امتیاز وہاں سے پانی پی سکتے تھے۔ اسی وجہ سے یہ ادارے اسلامی معاشروں میں انسانی خدمت اور رفاہ عامہ کی علامت سمجھے جاتے تھےبین المذاہب ہم آہنگی کی سبیلیں (گلگت بلتستان و نگر): گلگت اور وادیِ نگر جیسے علاقوں میں محرم کے دوران مقامی مسیحی برادری اور دیگر مذاہب کے لوگ عزاداروں کے لیے پانی اور چائے کی خصوصی سبیلیں لگاتے ہیں، جو مذہبی رواداری کی ایک بہترین مثال ہیں۔روہڑی اور سکھر کی تاریخی سبیلیں: سندھ کے شہر روہڑی میں نویں محرم کے تاریخی "نوڈھال جلوس" (Karbala Processions) کے موقع پر صدیوں پرانی روایتی سبیلیں قائم ہوتی ہیں جہاں زائرین کی خدمت کی جاتی ہے۔پاکستان میں محرم الحرام کے دوران لگائی جانے والی سبیلیں عقیدت، سخاوت اور لنگر حسینی کی تقسیم کا ایک عظیم الشان مظہر ہیں۔ ملک کے بڑے شہروں خصوصاً کراچی اور لاہور میں ایسی تاریخی اور وسیع سبیلیں لگائی جاتی ہیں جنہیں دنیا بھر میں ان کے حجم اور انفرادیت کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔پاکستان کی چند سب سے مشہور اور منفرد سبیلیں درج ذیل ہیں:1۔ کراچی کی سبیلیں (پاکستان کی سب سے بڑی سبیلیں)انچولی اور نمائش چورنگی کی سبیلیں: نمائش چورنگی (ایم اے جناح روڈ) اور انچولی سوسائٹی کراچی میں مرکزی جلوسوں کے راستے پر واقع ہیں۔ یہاں ملک کی سب سے بڑی سبیلیں قائم کی جاتی ہیں جہاں لاکھوں عزاداروں اور شہریوں کو ٹھنڈا دودھ، بادام و پستہ کا شربت، اور لنگر تقسیم کیا جاتا ہے۔کھارادر اور کھوڑی گارڈن کی سبیلیں: کراچی کے قدیم علاقوں میں کئی دہائیوں پرانی روایتی سبیلیں سجائی جاتی ہیں، جہاں شیرمال اور تافتان بھی خصوصی طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔2۔ لاہور کی تاریخی سبیلیںدربارِ بی بی پاک دامن کی سبیلیں: لاہور میں مزار بی بی پاک دامن کے ارد گرد محرم کے پہلے دس دن انتہائی بڑے پیمانے پر لنگر اور دودھ کی سبیلوں کا انتظام ہوتا ہے جہاں ہر مکتبہ فکر کے لوگ آتے ہیں۔شادمان کی عظیم الشان سبیل: لاہور کے علاقے شادمان میں محرم الحرام کے دوران ایک بہت بڑی سبیل اور لنگرِ حسینی کا اہتمام کیا جاتا ہے جو اپنے وسیع انتظامات کے لیے مشہور ہے


مکمل مضمون گوگل کا مرہون منت ہے

1 تبصرہ:

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

ٹار نیڈو سے دنیا میں تباہی

  18 جولائ 2026ءہفتہ کا دن 'میں سو کر اٹھی اور حسب معمول  سیل فون پر نظر ڈالی کہ اگر بچوں کی خیر خبر لے لوں لیکن سیل فون کی اسکرین تھنڈر...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر