منگل، 30 دسمبر، 2025

میں سہاگن بنی مگرـاماں ابھی تو میرے ابا کا کفن بھی میلا نہیں ہوا ہوگا

                                

طلال  بھائ بڑی آپا کو معہ  بیٹے کے چھوڑ گئے تھے انہوں نے کہا تھا چالیسویں پرجب آئیں گے تب ان کو لے جائیں گے طلال بھائ بھی ایک مہینے کی چھٹی لے کر آئے ہوئے تھے -لیکن وہ تینوں تایا ابو کے ساتھ ان کے گھر ٹھرے ہوئے تھے لیکن  دن ہم لوگوں کے ساتھ گزارنے آجاتے تھے  ہمارے  گھر کی فضاء بدستور سوگوار ہی تھی ، وہ پرسے دار جو ابّا کے مرنے پر نہیں آسکے تھے وہ بھی  گاہے بگاہے چلے آرہے تھے ایسے میں ایک رات منجھلی آپا سہ پہر کو رفاقت بھائ  کے ساتھ ہمارے گھر آئیں دونوں بچے ساتھ نہیں تھے ہم بہنیں ڈر گئے لیکن منجھلی آپا سیدھی اماں کے پاس چلی گئیں ہماری آنکھوں میں تجسس دیکھ کر انہوں نے کہا سب ٹھیک ہےپھر وہ چلی بھی گئیں -اب اماں ہمارے پاس آ گئیں   اس سے اگلے روزمنجھلی آپا صبح صبح اپنی ساس کے ساتھ ہمارے گھرآگئیں ،ویسے تو ابّا کےمرنے پر بھی وہ ہمارے گھر آ ئیں تھیں لیکن شائد میں ان کی صحت پر توجّہ  نہیں سکی ہوں گی جو اس بار مجھے وہ بہت کمزور ،کمزور سی دکھائ دے رہی تھیں,, آتے ہی انہوں نے امّاں سے کہا کہ وہ تخلیے میں ملاقات چاہتی ہیں اور امّاں ان  کو لے کر بیٹھک کے لئے مخصوص کونے کے کمرے میں چلی گئیں اورمنجھلی آپا نے ناشتے کا انتظام سنبھالنے کے لئے باورچی خانے کارخ کیا تو میں نے نرگس آپی سے کہا کہ میں ان دونوں کی باتوں کی سن گن لینے  جارہی ہوں ،نرگس آپی نے کہا میں تم کو منع بھی کر وں گی تو تم کو ن سی  میری بات سنو گی اور میں حسب معمول کسی بہانے سے کمرے کے دروازے کی اوٹ میں کھڑی ہو گئ لیکن  اس سے اگلے روزمنجھلی آپا صبح صبح اپنی ساس کے ساتھ ہمارے گھرآگئیں ،


ویسے تو ابّا کےمرنے پر بھی وہ ہمارے گھر آ ئیں تھیں لیکن شائد میں ان کی صحت پر توجّہ  نہیں سکی ہوں گی جو اس بار مجھے وہ بہت کمزور ،کمزور سی دکھائ دے رہی تھیں,, آتے ہی انہوں نے امّاں سے کہا کہ وہ تخلیے میں ملاقات چاہتی ہیں اور امّاں ان  کو لے کر بیٹھک کے لئے مخصوص کونے کے کمرے میں چلی گئیں اورمنجھلی آپا نے ناشتے کا انتظام سنبھالنے کے لئے باورچی خانے کارخ کیا تو میں نے نرگس آپی سے کہا کہ میں ان دونوں کی باتوں کی سن گن لینے  جارہی ہوں ،نرگس آپی نے کہا میں تم کو منع بھی کر وں گی تو تم کو ن سی  میری بات سنو گی اور میں حسب معمول کسی بہانے سے کمرے کے دروازے کی اوٹ میں کھڑی ہو گئ اوٹ کے پیچھے سے میں نے سنا منجھلی آپا کی سا س امّا ں سے کہ رہی تھی میں  سوالی بن کے آئ ہوں صداقت نیک ہے کماؤہے نمازی ہے اور جو بھی آپ سمجھیں وہ ہے ،اب وہ باہر جارہا ہے میں نے سنا منجھلی آپا کی ساس بہت خوشامدانہ لہجے میں امّاں سے کہ رہی  تھیں بہن صداقت کی خوا ہش   اور ساتھ میں میری بھی خواہش  ہے کہ صداقت کواپنا بیٹا بنا لو ،میں چاہتی ہوں صداقت اکیلا باہر نہیں جائے دیکھو بھائ اسلا م الدین کا تو وقت آگیا تھا اب تم ہی ان کی رکھوالی ہو    مجھے خالی دامن نا لو ٹانا ، اور امّاں کی آواز آئ چلئے چل کر چائے پی لیتے ہیں پھر بات ہوگی اور امّاں کی آواز آتے ہی میں بھاگ کر سائبان کی  دیوار کی اوٹ میں ہو گئ اور وہ دونو ں باہر آ گئیں ،


منجھلی آپا نے ناشتے کی میز سجا دی تھی'امّا ں نے منجھلی آپا کی ساس کو وہیں ناشتے کی میز پر بٹھایا اور خودمنجھلی آپا سے آ کر کہا ،نرگس کی مرضی پوچھ لو صداقت کے لئے،اور پھرامّاں منجھلی آپاکی ساس کے ساتھ جا کر بیٹھ گئیں'منجھلی آپا نے نرگس آپی سے سرگوشیوں میں جانے کیا پوچھا ہو گا ،نرگس آپی  نے کہا منجھلی آپا ابھی تو ہمارے ابّا کا کفن بھی میلا نہیں ہوا ہو گا,,یہ کیسی قیامت ہے ؟ میری ماں نے بیوگی کی چادر اوڑھی ہے اور میں دلہن بن جاؤں ،نرگس آپی جھر جھر رونے لگیں تو منجھلی آپا نے ان کو اپنے ساتھ لپٹا لیااور کہنے لگیں ،نرگس اس طرح تمھاری جانب سے امّاں کا بوجھ ہلکا ہو جائےگا تم غور تو کرو ،نرگس آپی نے  اپنا آنسوؤں سے تر چہرہ اوپر اٹھایا اور منجھلی آپا سے کہا ٹھیک ہے امّاں کی مرضی ہے تو میں بھی راضی ہوں ،منجھلی آپا نے ا ن کے ماتھے پر پیار کیا اور اٹھ کر کمرے سے چلی گئیں اور پھر منجھلی آپا نے اپنی ساس سے ناجانے کیا کہا کہ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر نرگس آپی کے پاس چلی آئیں ، نرگس آپی کی نظر جیسے ہی ان پر پڑی انہوں نے اپنا سر اپنے زانو ؤں پراوندھا کر چھپا لیا اور چپکے چپکے رونے لگیں منجھلی آپا کی ساس نے نرگس آپی کو اپنے ساتھ لپٹا لیا اور کہنے لگیں بیٹی ,,اللہ کی رضا واقع ہو کررہتی ہے لیکن کیا کریں دستور دنیا بھی نباہنا ہوتے ہیں تم سب کے دلوں پر لگا یہ گھاؤ زندگی بھر نہیں بھر سکتا ہے'لیکن کیا کریں جینے کی راہوں کو بھی تو سونا نہیں رکھا جا سکتا ہے


پھر انہوں نے اپنے پرس میں سے گلابی رنگ کا لفافہ نکال کر نرگس آپی کی ہاتھ پر رکھا   اور ان کے ماتھے پر پیار کر کے ان کے پاس سے واپس اماں کے پاس چلی گئیں -پھر  اماں کے ساتھ کچھ رازو نیاز کی باتیں کرتی رہیں  -پھرمنجھلی آپا ہمارے پاس آگئیں اور انہوں نے  نرگس آپی سے کہا نرگس اپنا ایک جوڑا دے دو درزی کو ناپ بھیجا جائے گا  - نرگس آپی سسکیاں لیتی ہوئ اٹھیں اور آہستہ سے بولیں منجھلی آپا مجھ سے پہلے فریال بجو ہیں ان کی شادی مجھ سے پہلے ہونی چاہیے پلیز آ پ فریال بجو سے بات کر لیجئے -نرگس آپی کے جواب میں منجھلی آپا نے کہا نرگس تم صداقت کا انتخاب   ہو اگر انہوں نے فریال کا نام لیا ہوتا تب میں فریال سے بات کرتی  منجھلی آپا کی بات پر مجھے وہ دن یاد آگیا جب منجھلی آپا کے یہاں منا پیدا ہواتھا اور میں اور نرگس آپی وارڈ میں تھے اور نرگس آپی نے بیٹے کو گود میں اٹھا یا ہوا تھا نرگس آپی کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا  اور انہی لمحات میں صداقت بھائ وارڈ میں آواز دیتے ہوئے اندر آ گئے تھے  ان کے آتے ہی نرگس آپی نے منے کو منجھلی آ پا کے پہلو واپس لٹانا چاہا تو صداقت بھائ نے کہا اسے مجھے دے دو نرگس آپی نے منے کو ان کی گود میں دیا تب وہ وہ نرگس آپی کا چہرہ دیکھ رہے تھے اور  نرگس آپی کی نگاہیں جھکی ہوئ تھیں  


پیر، 29 دسمبر، 2025

باکمال لوگوں سے بے کمال لوگوں کے سفر کے درمیان پی آئ اے


 با کمال لوگوں سے بے کمال لوگوں کے سفر میں پی آئ اے  'پورے پاکستان میں محب وطن لوگوں کے دل پی آئ اے کی نجکاری کی خبر سن کر  غم اورغصے سے بھر گئے ہیں  تحریک انصاف  کے  رہنما شوکت یوسفزئی نے قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل مکمل ہونے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق شوکت یوسفزئی نے پی آئی اے کی نجکاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے پر ان کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے،  دنیا بھر میں قومی اثاثوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں نااہل حکمرانوں کی مبینہ کرپشن اور ناقص پالیسیوں کے باعث قومی ادارے مسلسل زوال پذیر ہو رہے ہیں۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پی آئی اے جیسے قومی ادارے کی فروخت صرف ایک ادارے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک خطرناک ابتدا ہے، جس کے بعد مزید قومی ادارے بھی فروخت کیے جا سکتے ہیں، آخر ان قومی اداروں کو اس نہج تک پہنچانے کے ذمہ دار کون ہیں اور ان کا تعین کب کیا جائے گا؟پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ قومی ادارے عوام کی امانت ہوتے ہیں اور ان کی تباہی یا فروخت سے پہلے ان افراد کا احتساب ہونا چاہیے جن کی غلط پالیسیوں، بدانتظامی اور کرپشن کے باعث یہ ادارے خسارے میں گئے


، انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی آئی اے سمیت دیگر قومی اداروں کے معاملات کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔اورفارم 47 کے ذریعے مسلط کئے گئے حکمران گھر کاسامان اونے پونے بیچ کرجشن منانے میں مصروف ہیں۔اصلاح اوربہتری لانے کی بجائے قومی اداروں کی نجکاری حکومتی نااہلی اورملک دشمنی کے مترادف ہے ۔گزشتہ روز اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پی آئی اے دنیا کی بہترین ایئرلائن تھی اور اس نے ایمریٹس ،سنگاپور اور مالٹا ائیر لائن کو بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھامگرسیاسی مداخلت ومیرٹ کا قتل اورکرپشن کی وجہ سے ہرادارا تباہی کے دہانے پرکھڑاہے-واضح رہے کہ نجکاری کمیشن بورڈ کی جانب سے قومی ایئرلائن کی بولی کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی سب سے زیادہ بولی لگا کر پی آئی اے کے 75 فیصد حصص خرید لیے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نجکاری کا مقصد قومی ایئرلائن کو مالی طور پر مستحکم کرنا ہے، تاہم اپوزیشن جماعتیں اس فیصلے کو قومی مفادات کے خلاف قرار دے رہی ہیں۔جماعت اسلامی سندھ کے امیرکاشف سعید شیخ نے قومی ایئرلائن پی آئی اے کوفروخت کرنے والے حکومتی عمل پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ دنیا اپنے قومی اثاثوں کی حفاظت کرتی ہے۔


‏یہ ائر لائن   محترم اصفہانی  نے پاکستان کو   دی تھی لیکن پوری ایئرلائن وطنِ عزیز کو گفٹ کرنے پر اِن کے حصے میں صرف کراچی کی ایک سڑک کا نام "ابوالحسن اصفہانی روڈ" آیا ۔ ابو الحسن اصفہانی    قائدِاعظم کے نہایت قریب  اور دیرینہ رفیق تھے ۔قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے محض سیاسی خدمات تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ عملی طور پر بھی اس ملک کو مستحکم کرنے کے لیے اپنی تمام توانائیاں وقف کر دیں۔ ان کے خاندان نے 1946 میں “اورینٹ ایئرویز” کے نام سے ایک ایئرلائن قائم کی تھی جو قیامِ پاکستان کے وقت ایک مکمل فعال فضائی ادارہ تھی۔ جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو مرزا ابوالحسن اصفہانی نے اپنی یہ ذاتی ایئرلائن بغیر کسی مالی مطالبے کے حکومتِ پاکستان کے حوالے کر دی۔ یہ وہی “اورینٹ ایئرویز” تھی جو بعد میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) کہلائی — وہ قومی ایئرلائن جس نے پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ایک نیا مقام دیا۔یعنی ایک پورا فضائی ادارہ، اپنی چلتی ہوئی ایئرلائن، حکومتِ پاکستان کو صرف اس محبت میں عطیہ کر دی گئی کہ یہ وطن جس قربانی سے حاصل ہوا ہے، اسے مضبوط بنیاد پر کھڑا کیا جا سکے۔ لیکن افسوس کہ ایسے کردار ہمارے نصاب میں جگہ نہ پا سکے۔ پوری ایئرلائن وطنِ عزیز کو تحفے میں دینے پر ان کے حصے میں صرف کراچی کی ایک سڑک کا نام آیا — “ابوالحسن اصفہانی روڈ”۔ یہ شاہراہ آج گلشنِ اقبال اور گلستانِ جوہر کے درمیان سے گزرتی ہے اور اسی مردِ مومن کی یاد دلاتی ہے جس نے ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دی۔مرزا ابوالحسن اسفہانی صرف ایک کاروباری شخصیت نہیں تھے بلکہ پاکستان کے پہلے سفارت کاروں میں سے بھی تھے۔ انہوں نے 1948 سے 1952 تک امریکہ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔


وہ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے پہلے نمائندوں میں شامل تھے، بعد ازاں برطانیہ میں ہائی کمشنر، وفاقی وزیرِ تجارت و صنعت اور افغانستان کے لیے سفیر بھی مقرر ہوئے۔ ان کی سفارت کاری نے پاکستان کے عالمی تعلقات کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔انہوں نے اپنی زندگی کے تجربات کو کتابی صورت میں بھی محفوظ کیا۔ ان کی تصنیف “The Case of Muslim India” تحریکِ پاکستان کے ابتدائی دور کی فکری جھلک پیش کرتی ہے، جبکہ “Quaid-e-Azam Jinnah as I Knew Him” قائدِاعظم کے ساتھ گزری یادوں کا تاریخی مجموعہ ہے۔مرزا ابوالحسن اسفہانی ان چند مہاجروں میں سے تھے جنہوں نے لفظ “قربانی” کا عملی مفہوم دنیا کو دکھایا۔ وہ نہ صرف اپنے وطنِ نیا کی محبت میں سب کچھ چھوڑ کر آئے بلکہ جو کچھ ان کے پاس تھا وہ بھی وطن کے نام کر دیا۔ کاش ہمارے نصاب میں ان کا ذکر ہوتا، تاکہ نئی نسل جان پاتی کہ پاکستان کے خمیر میں کن لوگوں کی اخلاص بھری قربانیاں شامل ہیں۔کراچی کی “ابوالحسن اصفہانی روڈ” آج بھی ان کے نام کی طرح روشن ہے — ایک خاموش مگر ابدی یادگار اُن کرداروں کی، جنہوں نے اپنے عمل سے پاکستان کو اوجِ ثریا تک پہنچانے کا خواب دیکھا

اتوار، 28 دسمبر، 2025

مفت عمرے کے بدلے 25 برس کی قید کی کہانی


 بات ہر پھر کے علم کے فقدان پر آ جاتی ہے اگر ان معصوم دیہاتی خواتین کو علم ہوتا کہ مفت کا عمرہ ان کو 80 سال کی عمر میں خدا کے گھر کے بجائے 25 سال کے لئے جیل میں پہنچا دیگا تو یقینا! عمرے پر جانے کی حامی نا بھرتیں   اُس  روز زیارت بی بی اور انور بی بی بہت خوش تھیں۔ بات ہی کچھ ایسی تھی۔ 30 ستمبر 2024 کا دن تھا اور یہ دونوں بزرگ خواتین عمرے کی ادائیگی کے لیے روانہ ہونے والی تھیں۔پنجاب کے ضلع فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والی خواتین اپنے ایک قریبی رشتہ دار نیئر عباس کے ہمراہ قریب کے ایک اور گاؤں پہنچیں، جہاں کے امام مسجد محمد ریاض بھی اپنی اہلیہ کے ساتھ اس سفر میں اُن کے ساتھ شریک ہونے والے تھے۔اِن پانچوں افراد کے عمرے کا بندوبست مبینہ طور پر مقامی زمیندار صدام حسین نے کروایا تھا جنھوں نے نہ صرف عمرے کے اخراجات ادا کیے بلکہ پانچوں افراد کو اسلام آباد ایئر پورٹ بھی اپنے خرچے پر بھیجا۔لیکن پاکستان سے روانگی کے صرف ایک ہفتے بعد اِن پانچوں افراد کی سعودی عرب میں گرفتاری کی خبر ملنے پر اُن کے اہلخانہ ہکا بکا رہ گئے۔ اور اُن کی پریشانی اُس وقت مزید بڑھ گئی جب لگ بھگ پانچ ماہ بعد، 17 فروری 2025، کو ان تین خواتین سمیت پانچوں افراد کو منشیات کی سمگلنگ کے الزام میں ایک سعودی عدالت نے پچیس، پچیس سال قید کی سزا کا حکم دے دیا۔یہ معاملہ کیا ہے؟ اس بارے میں پتہ چلا ہے کہ کیسے سادہ لوح افراد کو عمرے کا جھانسا دے کر روانگی سے تھوڑی دیر پہلے انھیں زبردستی ایسا سامان پکڑایا گیا جس میں منشیات چھپائی گئی تھی


۔لیکن سعودی عرب جانے سے پہلے یہ کیسے ہوا؟ اور اب یہ پانچ افراد بشمول زیارت بی بی اور انور بی بی کہاں ہیں؟ 30 ستمبر 2024 کے دن جڑانوالہ   کے ابرار حسین نے اپنی والدہ کو اسلام آباد ایئر پورٹ تک چھوڑنے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن مبینہ طور پر اِس سفر کا بندوبست کرنے والے صدام حسین نے انھیں ایسا کرنے سے روک دیا۔عمرے پر جانے والوں کی ’خدمت‘ اور ’تحائفپانچوں افراد 30 ستمبر 2024 کو ائیر سیال کی فلائٹ نمبر پی ایف 718 کے ذریعے صبح چھ بج کر دس منٹ پر جدہ روانہ ہوئے تھے-25 سال قید کی سزا پانے والی ضعیف خاتون زیارت بی بی کے بیٹے ابرار حسین کی خواہش تھی کہ وہ اپنی والدہ کو اسلام آباد ائیرپورٹ پر خود الوداع کرنے جاتے لیکن، اُن کا دعویٰ ہے کہ صدام حسین نے کہا کہ ’آپ لوگوں کو اسلام آباد آنے جانے کا خرچہ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟‘اُن کے مطابق صدام حسین نے انھیں بتایا کہ ’ہم اگر اِن کو ایصالِ ثواب کی نیت سے عمرہ کے لیے بھجوا رہے ہیں تو اسلام آباد میں اُن کو کوئی تکلیف پہنچنے نہیں دیں گے۔دوسرا کیسکراچی    ،ٹریول گینگ کا مبینہ کارنامہ، عمرے پر جانیوالی فیملی سعودی عرب میں پھنس گئی Sep 23, 2025 | 03:00 PMکراچی    ،ٹریول گینگ کا مبینہ کارنامہ، عمرے پر جانیوالی فیملی سعودی عرب میں پھنس گئی کراچی (آئی این پی )کراچی کے علاقے سرجانی ٹائون سے عمرے پر جانے والی فیملی سعودی عرب میں پھنس گئی۔رپورٹ  کے مطابق عمرہ کرانے کے نام پر منشیات اسمگل کرنے والے ٹریول گینگ کے سرگرم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔متاثرہ اہلخانہ نے وزیراعظم، وزیر خارجہ، اعلی حکام سے اپیل کی ہے کہ بے گناہ گھر والوں کو فوری پاکستان لایا جائے۔8


 ستمبر کو ایک ہی خاندان کے 4 افراد عمرے کی ادائیگی کے لئے گئے، زائرین میں 23 سالہ زاہدہ، 26 سالہ جمیل، 28 سالہ ذاکر اور 45 سالہ انوری شامل ہیں۔اہلخانہ نے بتایا کہ جمیل مزدوری کرتا ہے اس کا ایک نوزائیدہ بیٹا ہے، زاہدہ کی دو بچیاں ہیں، 8 ستمبر کو گھر والے عمرے کے لیے کراچی سے جدہ روانہ ہوئے، 10 دن تک ان سے رابطہ نہیں ہورہا تھا، 19 ستمبر کو غیرملکی نمبر سے کال آئی، بتایا گیا کہ ہمارے سامان سے منشیات، ممنوعہ اشیا برآمد ہوئی ہیں۔متاثرہ اہلخانہ کے مطابق بتایا گیا کہ گھر والے سعودی حکومت کی حراست میں ہیں، لیگیج احرام، عمرے میں استعمال ہونے والی اشیا ٹریول ایجنٹ علی نے دی تھیں اور گھر والوں کے سامان کو منع کرکے خود سے سامان دیا۔اہلخانہ نے بتایا کہ ٹریول ایجنٹ سے مزید برآں، حکام نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ منشیات کی اسمگلنگ یا اس نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف قانون بلاامتیاز حرکت میں لایا جائےرابطے کی کوشش کررہے ہیں لیکن وہ مفرور ہے، ہمارے گھر والے بے گناہ ہیں، منشیات کے کیس میں پھنسایا گیا ہے۔


  ایک اور دلخراش خبر: سعو دی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں منشیات اسمگلنگ کے سنگین جرم میں ملوث دو پاکستانی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔سعودی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق، دونوں پاکستانی شہریوں نے ہیروئن اور دیگر ممنوعہ منشیات جسم کے مختلف حصوں میں چھپا کر سعودی عرب اسمگل کرنے کی کوشش کی، جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔حکام کے مطابق، عدالت میں مقدمے کی مکمل سماعت کے بعد جرم ثابت ہونے پر دونوں ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے سزا کے خلاف دائر اپیل مسترد کر دی، جس کے بعد شاہی فرمان کے تحت سزا پر عمل درآمد کی منظوری دی گئی۔سعودی وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ دونوں پاکستانی شہریوں کو آج مکہ مکرمہ میں سزائے موت دی گئی۔وزارتِ داخلہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ سعودی عرب میں منشیات اسمگلنگ اور اس سے متعلق جرائم کو انتہائی سنگین تصور کیا جاتا ہے، اور ایسے جرائم میں ملوث افراد کو سخت ترین سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

ہفتہ، 27 دسمبر، 2025

امام باقر علیہ السلام ولادت اور فضائل

 




تمام  عالمین کی مومن مخلوقات کو فرزند نبی (صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ) پنجم کی ولادت با سعادت مبارک ہو حضرت امام محمد باقر علیہ السلام  حضرت امام زین العابدین                 علیہ السلام کے فرزند اور اہل تشیع کے پانچویں امام ہیں. آپ کو امام باقر علیہ السّلام کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔  آپ کا سلسلہ نسب ماں اور باپ دونوں کی طرف حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم )  تک جا پہنچتا ہے۔ آپ کے دادا سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السّلام ہیں جو حضرت رسول خدامحمدمصطفیٰ کے چھوٹے نواسے ہیں اور آپ کی والدہ جناب ام عبد اللہ فاطمہ علیہا السّلام حضرت امام حسن علیہ السّلام کی صاحبزادی ہیں جو حضرت رسول کے بڑے نواسے ہیں۔ ولادت با سعادت -آپ کی ولادت روز جمعہ یکم رجب 57ھ میں ہوئی . یہ وہ وقت تھا جب امام حسن علیہ السّلام کی وفات کو سات برس ہوچکے تھے اور امام حسین علیہ السّلام مدینہ میں خاموشی کی زندگی بسر کررہے تھے اور وقت کی رفتار تیزی سے واقعہ کربلا کے اسباب فراہم کررہی تھی . یہ زمانہ آل رسول علیہم السّلام اور شیعانِ اہل بیت علیہم السّلام کے لیے بے حد پرآشوب تھا . چُن چُن کر محبانِ علی علیہ السّلام گرفتار کیے جارہے تھے،  تلوار کے گھاٹ اتارے جارہے تھے یا سولیوں پر چڑھائے جارہے تھے ۔  سانحہ کربلا -تین برس امام محمد باقر علیہ السّلام اپنے جد بزرگوار حضرت امام حسین علیہ السّلام کے زیرِسایہ رہے . جب آپ کاسن پورے تین سال کا ہوا تو امام حسین علیہ السّلام کے ہمراہ مدینہ سے سفر کرتے ہوئے کربلا پہنچے . یہ خالق کی منشاء کی ایک تکمیل تھی کہ وہ روز عاشور میدان ُ قربانی میں نہیں لائے گئے .


 ورنہ جب ان سے چھوٹے سن کا بچہ علی اصغر علیہ السّلام تیر ستم کا نشانہ ہوسکتا تھا تو امام محمد باقر علیہ السّلام کابھی قربان گاہ شہادت پر لاناممکن تھا . مگر سلسلہ امامت کادنیامیں قائم رہنا نظام کائنات کے برقرار رہنے کے لیے ضروری اور اہم تھا اور امام محمد باقر علیہ السّلام کربلا کے میدان اور کوفہ و شام کےبازاروں اور درباروں میں آل رسول پر ہونے والے مظالم کے گواہ اور عینی شاہد بنے اور انقلاب کربلا کی قربانیوں کو رائیگاں ہونے سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔  واقعہ کربلا کے بعد امام زین العابدین علیہ السّلام کو مسلمانوں کی بد ترین بے وفائی اور حکمرانوں کے ظلم و ستم نے ظاہری طور پر بالکل الگ اور نہایت سکوت کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا لہذا آپ امامت کے فرائض کی ادائيگی کرتے ہوئے اہل دنیا کو حقیقی اسلام اور حقیقی اسلامی کی تعلیمات و عقائد سے آگاہ کرنے کے لیے کبھی محراب عبادت اور مناجات کا سہارا لیتے اور کبھی اپنے مظلوم بابا کاماتم کر کے دنیا والوں کو وارثانِ رسالت اور نمائندگانِ شریعت کی معرفت اور ان کی دین کے لیے قربانیوں کو جاننے کی دعوت دیتے.یہ وہی زمانہ تھا جس میں امام محمد باقر علیہ السّلام نے نشونما پائی .61 ھ سے 95ھ تک 34برس اپنے بابا کی زندگی کامطالعہ کرتے رہے اور اپنے فطری اور خداداد ذاتی کمالات کے ساتھ ان تعلیمات سے فائدہ اٹھاتے رہے جو انھیں اپنے والد ُ بزرگوار کی زندگی کے آئینہ میں برابر نظر آتی رہیں۔ 


 امامت کی ذمہ داری -حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام کو 38 برس کی عمر میں اپنے والد بزرگوار حضرت امام زین العابدین علیہ السّلام کی شہادت کا صدمہ سہنا پڑااور اس کے ساتھ ہی امامت کی ذمہ داریاں بھی آپ ہی کےسپرد کر دی گئی۔ آپ رسول خدا کے پانچویں برحق جانشین اور امام قرار پائے۔ آپ کا دورامامت یہ وہ زمانہ تھا جب بنی امیہ کی سلطنت اپنی مادری طاقت کے لحاظ سے بڑھاپے کی منزلوں سے گزر رہی تھی. بنی ہاشم پر ظلم وستم اورخصوصاً کربلا کے واقعہ نے کسی حد تک دنیا کی آنکھوں کو کھول دیا توابین کا جہاد، مختار اور ان کے ہمراہیوں کے خون حسین علیہ السّلام کا بدلہ لینے میں اقدامات اور نہ جانے کتنے ہی ایسے واقعات سامنے آ چکے تھے جن سے سلطنت شام کی بنیادیں ہل گئیں تھیں جس کے نتیجہ میں امام محمد باقر علیہ السّلام کے زمانہ امامت کو حکومت کے ظلم وتشدد کی گرفت سے کچھ آزادی نصیب ہوئی اور آپ کو خلق خدا کی اصلاح وہدایت کا کچھ زیادہ موقع مل گیا . امام حسین علیہ السّلام کی عزاداری اور تبلیغ دین سانحہ کربلا کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور اپنے بابا کی تمام زندگی کا امام مظلوم علیہ السّلام کے غم میں تنہا رونے کا مطالعہ کرچکنے کے بعد آپ کے دل میں یہ تکلیف دہ احساس ایک فطری امر تھا کہ جس غم ورنج، گریہ وزاری اور اہتمام کے ساتھ دنیا والوں کو امام حسین علیہ السّلام کا ماتم برپا کرنا چاہیے تھا ویسا دنیا والوں نے نہیں کیا۔ لہذا امام محمد باقر علیہ السّلام نے اس پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے مجالس عزاء کا سارا سال انعقاد فرماتے اور کمیت بن زید اسدی بڑے شاعروں کو بلا کر مراثیہائے امام حسین علیہ السّلام پڑھواتے اور سنتے اور ان مجالس میں لوگوں کو شرکت کی دعوت دیتے ۔



 رجب 60ء کو جب سید الشہداء امام حسین علیہ السلام نے اسلام کی بقاء کا سفر شروع کیا تو ان میں آپ علیہ السلام بھی شریک تھے۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک 4 سال کے لگ بھگ تھی۔ آپ نے اپنی آنکھوں سے پاکیزہ اوصاف کی رذائل کیساتھ جنگ دیکھی۔ آپ  علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے اپنے پیاروں اور 72 جانثاروں کو تہہ تیغ ہوتے دیکھا۔ تین دن کی سخت ترین گرمی اور دھوپ میں پیاس کی شدت کو برداشت کرنے والوں میں آپ بھی شریک تھے۔ شب عاشور خیموں کے لُٹنے، چادروں کے چھننے اور سید سجاد علیہ السلام کی علالت کو آپ نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تھا۔ کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور شام سے مدینہ تک کے تمام مظالم کو سر کرنے والوں میں آپ بھی شامل تھے۔ کربلا کے پیغام رسانوں، مقصد امام حسین کی پہچان کرانے والوں اور روداد غم سنانے والوں میں آپ سید سجاد علیہ السلام اور سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے ساتھ برابر کے شریک تھے۔ وگرنہ یزید نے یہ ٹھان لیا تھا کہ حسین علیہ السلام کے مقصد کو کربلا میں ہی دفن کر دیا جائے،ایک مرتبہ آپ سات سال کی عمر میں اپنے والد کے ساتھ حج پر جا رہے تھے۔ راستے میں ایک حیرت زدہ شخص نے سوال کیا، فرزند! تم کون ہو ؟ کہاں جا رہے ہو اور زاد راہ کیا ہے ؟ آپ نے اپنے جواب سے اُس شخص کو لا جواب کر دیا، اور فرمایا میرا سفر من اللہ اور الی اللہ (اللہ سے اور اللہ کی طرف) ہے۔ میرا زادِ راہ تقوی ہے۔ میرا نام محمد ابن علی ابن الحسین ابن علی ابن ابی طالب ہے۔

 

جمعہ، 26 دسمبر، 2025

شا لامار باغ حسن تعمیر کا نمونہ

 

 

شالیمار باغ یا شالامار باغ مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے لاہور میں 1641ء-1642ء میں تعمیر کرایا۔ باغ ایک مستطیل شکل میں ہے اور اس کے اردگرد اینٹوں کی ایک اونچی دیوار ہے۔ شمال سے جنوب کی طرف لمبائی 658 میٹر اور مشرق سے مغرب کی طرف چوڑائی 258 میٹر ہے۔ باغ 3 حصوں میں بٹا ہوا ہے اور تینوں کی بلندی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ایک حصہ دوسرے سے 4.5 میٹر تک بلند ہے۔ ان حصوں کے نام فرح بخش، فیض بخش اور حیات بخش ہیں۔باغ کو ایک نہر سیراب کرتی ہے۔ اس میں 410 فوارے، 5 آبشاریں اور آرام کے لیے کئی عمارتیں ہیں اور مختلف اقسام کے درخت ہیں۔اہمیت شالامار باغ لاہور مغلیہ طرزِ تعمیر کا بہترین نمونہ ہے۔ جس میں خوبصورت چبوترے راستے پانی کی نہریں آبشاریں اور فوارے شامل ہیں۔ یونیسکو کی بین الاقوامی ثقافتی ور کمیٹی نے اس باغ کی خوبصورتی اور اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو 30 اگست 1981ء کو دنیا کے محفوظ عجائبات کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ تا کہ اس کی صحیح معنوں میں نگہداشت ہو سکے۔اس کی تعمیر شہنشاہ شاہجہاں کے حکم سے 1641ء میں شروع کی گئی اور یہ 1642ء میں مکمل ہوا۔ باغ کی تعمیر شاہجہاں کے ایک امیر اللہ خان کی نگرانی میں علی مردان اور ملا وا ملک تولی کے تعاون سے ہوئی۔شالامار باغ کے چاروں اطراف بلند حصاری دیوار ہے۔ یہ شمالاً جنوباً تین تختوں پر بنایا گیا ہے۔ اس کا بالائی تختہ "مزح بخش" درمیانی تختہ "فیض بخش" اور زیریں تختہ "حیات بخش" کے نام سے موسوم ہے۔ باغ کا رقبہ شمالاً جنوباً 658 میٹر طول اور شرقاً غرباً 258 میٹر عرض پر محیط ہے۔ اس کے بالائی تختہ میں 105 فوارے نصب ہیں جبکہ درمیانی تختہ میں 152 فوارے اور زیریں تختہ 153 فوارے نصب ہیں۔ اس طرح ان فواروں کی کل تعداد 410 بنتی ہے۔


اس کے علاوہ یہاں پر پانی کے بہاؤ کے لیے پانچ تختے ہیں جس میں سنگ مر مر کا عظیم تخت اور ساون بھادوں کی بارودری بھی ہے۔ شالامار باغ مغلیہ باغات کی تمام تر اہم خصوصیات کا مرقع ہے جس میں بلند راستے اور پانی کے بہاؤ کی نہریں وغیرہ شامل ہیں۔ باغ کو سیراب کرنے کے لیے 100 میل لمبی نہر دور بھارت میں وادھو پور کے مقام سے نکالی گئی جسے "شاہ نہر" اور بعد ازاں "ہنسی نہر" کا نام دیا گیا۔ باغ میں موسم سرما اور گرما کے پھلدار درخت جن میں آم، چیری، خوبانی، آلوچہ، جامن، سیب، بادام، کھٹے میٹھے نارنگیاں اور دیگر پھلدار اور خوشبودار پودے بکثرت لگائے گئے۔باغ میں متعدد عظیم عمارات بھی ہیں۔ ان متاثر کن عمارات میں بارہ دریاں، دیوان خاص و عام، خواب گاہ، شاہی حمام، دروازے اور برجیاں شامل ہیں۔ خاص کر دیوان خاص و عام، آرام گاہ، بیگم صاحبہ کی خواب گاہ، ساون بھادوں کی بارہ دری اور نقار خانہ کی عمارات شامل ہیں۔ ان عمارات کے کونوں میں برج اس کے تاریخی حسن کو دوبالا کرتے ہیں۔  مغل بادشاہ شاہجہان نے جب لاہور میں دربار لگایا تو علی مردان خان نے اسے بتایا کہ اس کے پاس ایک ایسا شخص موجود ہے جو نہر بنانے میں بڑی مہارت رکھتا ہے۔ شاہ جہاں نے خوش ہو کر حکم دیا کہ دریائے راوی سے ایک نہر نکال کر لاہور کے پاس سے گزاری جائے۔ شاہ جہان نے یہ نہر تیار کرنے کے لیے دو لاکھ روپے دیے۔ ایک سال کے بعد جب شاہ جہاں دوبارہ لاہور آیا تو نہر مکمل ہو چکی تھی۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ اس نہر کے کنارے ایک وسیع و عریض اور بہت خوبصورت باغ تعمیر کیا جائے اور اس باغ میں بارہ دری، شاہی غسل خانے، فوارے اور جابجا پھلدار درخت لگائے جائیں۔


 شاہی ماہر تعمیرات نے باغ کی تعمیر کے لیے جس زمین کا انتخاب کیا وہ علاقہ کے معروف زمیندار میاں محمد یوسف عرف مہر مہنگا کی ذاتی ملکیت تھی۔ بادشاہ کو جب اس بات کا علم ہوا تو میاں محمد یوسف کو منہ مانگی رقم دینا چاہی پر میاں محمد یوسف نے یہ زمین بلا معاوضہ بادشاہ کو تحفہ کے طور پر پیش کر دی۔ بادشاہ اس رویہ پر اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے باغ کی تعمیر مکمل ہونے پر میاں محمد یوسف کو ہی ناظم شالامار مقرر کر دیا۔ باغ کے تعمیر کے لیے بادشاہ نے خلیل اللہ خان کو مقرر کیا لہٰذا خلیل اللہ خان نے ملک کے کئی اور افسروں کو ساتھ لگا کر اس باغ کی تعمیر شروع کر دی۔ باغ کے لیے درختوں کے پورے قندھار اور کابل سے منگوائے گئے۔ یہ باغ شالا مار تھا جو اسی(80) ایکڑ زمین پر پھیلا ہوا ہے اس باغ کا سنگ بنیاد 1637ء میں رکھا گیا۔ اس پر چھ لاکھ روپے کے لگ بھگ لاگت آئی ڈیڑھ سال کے عرصہ میں یہ مکمل ہوا تھا۔  باغ میں ایک دلکش تالاب بھی بنا ہوا ہے جس میں بہت سارے فوارے لگے ہوئے ہیں۔ فواروں کا پانی سنگ مرمر کے حوضوں میں گرتا ہے۔ یہ فوارے گرمیوں کے موسم میں جگہ ٹھنڈی رکھنے کے لیے لگوائے گئے تھے۔ یہاں پر سنگ مرمر کی پانچ خوبصورت بارہ دریاں بنائی گئی ہیں۔ بادشاہ ان بارہ دریوں میں بیٹھ کر برسات کا نظارہ کیا کرتا تھا۔ باغ کے ایک حصے میں جسے حیات بخش کہتے ہیں۔ سنگ مرمر کا ایک بہت ہی خوشنما تخت بنوایا گیا ہے شاہ جہاں اس تخت پر بیٹھ کر اپنا دربار لگایا کرتا تھا۔ کچھ فاصلے پر سنگ مرمر کی ایک آبشار بنی ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر کی بیٹی زیب النساء چونکہ شاعرہ تھی اس لیے اکثر اس جگہ بیٹھ کر شعر کہا کرتی تھی۔


 شالا مار باغ میں شاہ جہاں نے اپنے لیے حمام بھی بنوایا تھا۔ حمام کے تین حصے تھے ایک حصے میں دو فوارے اور دوسرے حصے میں حوض ہے اس حوض میں گرم اور ٹھنڈا دونوں طرح کا پانی لایا جاتا تھا۔ سنگ مرمر کے کئی طاقچے چراغ رکھنے کے لیے بنوائے گئے تھے۔ جب یہاں چراغ جلائے جاتے تھے تو حوض میں گرنے والا پانی بارش کا سماں پیدا کرتا اور چراغ کی روشنی بجلی کی چمک کی طرح معلوم ہوتی بادشاہ اس نظارے سے بہت لطف اٹھاتا تھا۔ باغ فرح بخش، جسے پائیں باغ بھی کہا جاتا تھا حیات بخش سے نیچے بنا ہوا ہے شالا مار باغ میں بہت پھلدار درخت لگے ہوئے ہیں۔ شاہجہان جب لاہور آیا تو امیروں اور وزیروں نے عرض کی کہ حضور! شالامار باغ مکمل ہو چکا ہے۔ بادشاہ باغ میں داخل ہوا تو شالامار کا حسن دیکھ کر باغ باغ ہو گیا۔ اس وقت شاہجہان کے نائبین نے حاضر ہو کر مبارکبادیں دیں اور سب نے مل کر شاہی حکومت کی بہتری اور برتری کے لیے دعائیں مانگیں۔ اس موقع پر ملک کے بڑے بڑے عالم، فاضل اور بزرگ موجود تھے۔ ان عالموں نے بادشاہ سے کہا کہ آج تک دنیا میں ایسا خوبصورت باغ نہ کہیں دیکھا نہ سنا ہے۔ باغ کے گرد اونچی اونچی دیواریں بنائی گئیں۔ لاہور کا شالا مار باغ دنیا کے عظیم الشان باغوں میں شمار ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب کسی دوست ملک کا سربراہ، بادشاہ یا کوئی نامور شخص پاکستان کے دورے پر آتا ہے تو لاہور میں شالا مار باغ کی سیر ضرور کرتا ہے اس باغ میں معزز مہمانوں کو شہریوں کی طرف سے استقبالیہ دیا جاتا ہے ہزاروں شہری معزز مہمان سے ملتے ہیں اور بات چیت کرکے محظوظ ہوتے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد دوست ملکوں کے سربراہ اور نامور رہنماء اکثر یہاں آتے رہتے ہیں اور باغ میں استقبالیہ ان کے پروگرام کا لازمی جزو ہوتا ہے۔

 

جمعرات، 25 دسمبر، 2025

ہم جنس پرستوں کا راکھ میں مدفون شہر'پومپئ'

 

  انسانی بستیوں سے چھینا گیا وہ شہر جسے قدرت نے 1500 سال بعد لفظ بہ لفظ دنیا کے سامنے پیش کر دیاکیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کوئی پورا شہر، جس کی گلیاں، مکانات، کھانے پینے کی اشیاء اور یہاں تک کہ دیواروں پر لکھیہوئی روزمرہ کی باتیں بھی ایک ہی لمحے میں وقت کے ہاتھوں منجمد ہو جائیں، اور پھر ڈیڑھ ہزار سال بعد بالکل اسی طرح دوبارہ دریافت ہو جائیں؟ یہ کسی ٹائم کیپسول کی کہانی نہیں بلکہ رومن سلطنت کے مشہور شہر "پومپیئی" (Pompeii) کا سنسنی خیز اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔یہ واقعہ 79 عیسوی کا ہے، جب پومپیئی شہر اپنے عروج پر تھا اور رومن امراء کے لیے عیش و عشرت کا مرکز مانا جاتا تھا۔ یہ شہر نیپلز کے قریب، Mount Vesuvius نامی خوبصورت پہاڑ کے دامن میں واقع تھا۔ شہر کے باسی اس بات سے بے خبر تھے کہ یہ پہاڑ دراصل ایک خطرناک آتش فشاں تھا جو صدیوں سے خاموش تھا۔24 اگست 79 عیسوی کو، ظہر کے وقت، Mount Vesuvius اچانک اور بغیر کسی وارننگ کے پھٹ پڑا۔ یہ پھٹنا اتنا خوفناک تھا کہ آسمان کالے دھوئیں، راکھ اور چٹانوں کے ٹکڑوں سے بھر گیا۔ راکھ کا یہ طوفان 15 میل کی اونچائی تک جا پہنچا۔ 



چند ہی گھنٹوں میں، پومپیئی شہر 20 فٹ سے زیادہ آتش فشانی راکھ کی موٹی تہہ کے نیچے دب گیا، اور اس کے ساتھ ہی شہر کی تمام زندگی بھی دفن ہو گئی۔ یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ ہزاروں لوگ بھاگ نہیں پائے اور وہ جس حالت میں تھے، اسی میں منجمد ہو کر رہ گئے۔پومپیئی شہر اگلے 1500 سال تک دنیا کی نظروں سے اوجھل رہا اور تاریخ کے اوراق سے مٹ گیا۔ پھر 1748 میں اتفاقی طور پر جب کھدائی کا کام شروع ہوا تو ماہرین آثار قدیمہ نے جو کچھ دریافت کیا، وہ دنیا کے لیے ایک صدمہ اور تاریخی معجزہ تھا۔راکھ کی یہ موٹی تہہ شہر کے لیے سب سے بڑی محافظ ثابت ہوئی۔ اس نے شہر کو وقت اور موسم کے اثرات سے مکمل طور پر بچا لیا۔ جب آثار قدیمہ کے ماہرین نے راکھ ہٹائی، تو انہیں ایک ایسا شہر ملا جو ڈیڑھ ہزار سال پہلے تھم گیا تھا۔ انہیں دیواروں پر رنگین پینٹنگز، بازاروں میں روٹیاں، ہوٹلوں میں کھانے کے برتن، اور سڑکوں پر چلتے ہوئے لوگوں کی باقیات ملیں۔ گھروں کے اندر ان کا فرنیچر، سامان اور یہاں تک کہ چولہے پر رکھا کھانا بھی اسی طرح موجود تھا۔ دیواروں پر گرافیٹی (دیواروں پر لکھے گئے پیغامات) اور انتخابی پوسٹرز بھی اتنے تازہ تھے جیسے کل ہی لکھے گئے ہوں۔اس شہر کو وقت میں منجمد کرنے کا سب سے خوفناک پہلو انسانی باقیات تھیں۔ جب لاشیں سڑ گل گئیں تو ان کے گرد سخت راکھ کا ایک خول بن گیا۔ ماہرین نے ان خالی خولوں میں پلاسٹر آف پیرس بھر کر ان لوگوں کے حتمی لمحات کو مجسم کر دیا۔ آج بھی جب آپ پومپیئی جاتے ہیں، تو آپ ان لوگوں کی اشکال دیکھ سکتے ہیں جو اپنی جان بچانے کی آخری کوشش کر رہے تھے، یا بستروں پر سوئے ہوئے تھے، یا اپنے خاندان کو گلے لگا رہے تھے۔ یہ منظر کسی بھی زائر کو جذباتی کر دیتا ہے کیونکہ یہ ایک شہر کی ہولناک موت کی خاموش گواہی ہے۔پومپیئی کی دریافت نے رومی تاریخ، ثقافت، طرزِ زندگی اور فن تعمیر کے بارے میں معلومات کا خزانہ کھول دیا۔ ہمیں رومن سوسائٹی کے بارے میں وہ تفصیلات معلوم ہوئیں جو ہمیں تاریخی کتابوں سے کبھی نہ ملتیں۔


 قدرت کے اس شدید غضب نے ایک ایسا المناک معجزہ پیدا کیا جس نے شہر کو فنا تو کر دیا، لیکن اسے تاریخ کے ہاتھوں سے بچا کر ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ پومپیئی آج بھی ایک ایسی کھڑکی ہے جو ہمیں ڈیڑھ ہزار سال پہلے کی رومن زندگی میں جھانکنے کا موقع دیتی ہے۔موجودہ ملک اٹلی کے علاقے کمپانیہ میں ناپولی کے نزدیک واقع تھا جولگ بھگ 2ہزار سال قبل 79ءمیں ویسوویوس نامی آتش فشاں پہاڑ کے پھٹنے سے یہ تباہ ہو گیا تھا۔ آتش فشاں سے اس قدر لاوہ اور راکھ نکلی تھی کہ یہ شہر 4 سے 6 میٹر (13 سے 20 فٹ) راکھ کے نیچے دفن ہو گیا۔ماہرین نے کھدائی کرکے پومپئی کے آثار دریافت کیے ہیں جن کی دیواریں پر اس قدیم زمانے کی زبان میں کچھ تحاریر موجود تھیں۔ اب ان تحریروں کا ترجمہ کر لیا گیا ہے جس سے ایسا انکشاف ہوا ہے جس نے اس شہر پر عذاب الہٰی نازل ہونے کی حقیقت بیان کر دی ہے۔دوہزار سال قبل لاوے اور راکھ میں دبنے کے باوجود جب اس شہر کی دریافت کے بعد کھدائی کی گئی توماہرین آثار قدیمہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے تھے کہ لوگ مردہ حالت میں محفوظ ہیں اور ایسا لگ رہا تھا کہ خدا نے اخلاق باختہ حرکتیں کرنے والی قوم کو آنے والی دنیاکے لئے نشانِ عبرت بنادیا ہ

بدھ، 24 دسمبر، 2025

قلعہ بالا حصار 'پشاور

،  زمانہ قدیم کی تاریخ دیکھئے  شہر فصیل بند بنائے جاتے تھے تاکہ حملہ آوروں سے  شہر اور ان کے باسیوں کو بچا  یا جا سکے،  پھر قلعوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ  ان قلعوں کی موجودگی شاہی طاقت اور حکمرانی کا مرکز ہوتی تھی،  یہ عسکری ضروریات  کے لئے  اپنے زمانے کا رائج اسلحہ محفوظ رکھتے تھے اس کے علاوہ  سیاسی اور انتظامی امور کی انجام دہی کے لیے استعمال ہوتے تھے، جن میں محل، مسجدیں،  بھی شامل تھے، جیسا کہ لاہور قلعہ. قلعوں کی تعمیر کے اہم مقاصد:دفاعی تحفظ: یہ سب سے اہم وجہ تھی۔ قلعے مضبوط دیواروں، برجوں اور خفیہ راستوں سے بنائے جاتے تھے تاکہ دشمن کے حملوں سے خود کو اور اندر موجود آبادی کو محفوظ رکھا جا سکے  -ان قلعوں میں بارش کا پانی جمع کرنے اور پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے تالاب اور ذخائر بھی بنائے جاتے تھے. اس کے ساتھ یہ قلعےطاقت اور رعب کا مظہر اور اختیار کی علامت ہوتے تھے. ان کی عظیم الشان تعمیرات سے عوام پر رعب قائم کیا جاتا تھا ثقافتی اور مذہبی مرکز: قلعوں میں مساجد، دربار اور دیگر مذہبی مقامات بھی تعمیر کیے جاتے تھے، جو فن تعمیر کا شاہکار ہوتے تھے. مختصر یہ کہ قلعے صرف فوجی چوکی نہیں ہوتے تھے، بلکہ یہ ایک مکمل سیاسی، سماجی، اور دفاعی نظام کا مرکز تھے، جو حکمرانوں کو تحفظ اور اقتدار فراہم کرتے تھے. ،بالاحصار پشاور میں واقع ایک قدیم قلعہ اور تاریخی مقام ہے ۔ تیمور شاہ درانی نے اس قلعے کا نام بالاحصار رکھا جس کے لفظی معنی بلند قلعہ کے ہیں۔ یہ قلعہ ایک طویل عرصے تک درانیوں کا زیر استعمال رہا،


 19ویں صدی میں جب سکھوں نے پشاور پر حملہ کیا تو یہ قلعہ ان کے زیر استعمال آیا اور انھوں نے اس کا نام سمیر گڑھ رکھا لیکن مقامی طور پر سمیر گڑھ کا نام مشہور نہ ہو سکا۔ اس وقت قلعے کو بطور فرنٹیئر کورپس ہیڈکوارٹر استعمال کیا جا رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ قلعہ اتنا پرانا ہے جتنا کہ پشاور کا شہر، قلعہ کی زمین سے مجموعی بلندی 92 فٹ ہے اس کی دیواریں پختہ سرخ اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہیں قلعہ کی اندرونی دیوار کی بلندی 50فٹ ہے۔ دوہری دیواروں والے اس قلعہ کا کل رقبہ سوا پندرہ ایکڑ رقبہ پر محیط ہے جبکہ اس کا اندرونی رقبہ دس ایکڑ بنتا ہے  -اس خوبصورت قلعے کے اندر ایک خوبصورت میوزیم بنایا گیا ہے جہاں مختلف کمروں میں فرنٹیئر کورپس کی مختلف شاخوں کی نمائندگی کی گئی ہے جن میں خیبر رائفلز، سوات سکاؤٹس، مہمند رائفلز، چترال سکاؤٹس، کُرم ملٹری، باجوڑ سکاؤٹس، شوال رائفلز، دیر سکاؤٹس، جنوبی وزیرستان و ٹوچی سکاؤٹس اور خٹک سکاؤٹس شامل ہیں۔ یہاں ان علاقوں میں مختلف آپریشنز سے بازیاب کیے گئے آلاتِ حرب، نقشے، سپاہوں کی وردیاں، تصاویر، تلواریں، پستول، جھنڈے، مختلف علاقوں کی ثقافتیں، ٹرک آرٹ اور چھوٹی توپیں شامل ہیں۔ یہاں ایک پھانسی گھاٹ اور خوبصورت چھوٹی سی سووینیئر شاپ بھی ہے جہاں سے آپ پشاور کی مشہور پشاوری چپل اور درہ خیبر کے ماڈل خرید سکتے ہیں۔ یہاں موجود ایک تختی پہ روڈیارڈ کپلنگ کے وہ مشہور الفاظ بھی درج ہیں جو انھوں نے اس فورس کے بارے میں کہے تھے :



الاحصار قلعہ پشاور،پاکستان میں واقع ایک قلعہ پشاور کا سب سے قدیم اور تاریخی مقام ہے ۔درانی سلطنت کا پشاور موسم سرما اور کابل موسم گرما میں دار الحکومت ہوتا تھا، اس لیے سردیوں میں درانی شاہان اس قلعے میں رہا کرتے تھے۔تیمور شاہ درانی نے اس قلعے کا نام بالاحصار رکھا جس کے لفظی معنی بلند قلعہ کے ہے۔ یہ قلعہ ایک طویل عرصے تک درانیوں کا زیر استعمال رہا، 19ویں صدی میں جب سکھوں نے پشاور پر حملہ کیا تو یہ قلعہ ان کے زیر استعمال آیا اور   اس وقت  سےقلعے کو فرنٹیئر کانسٹبلری بطور ہیڈکوارٹر استعمال کر رہی ہے۔ہندوکش زلزلہ 2015ء کے دوران میں اس قلعہ کا ایک دیوار جزوی طور پر متاثر ہوا تھا جسے دوبارہ تعمیر کرایا گیا ہے۔ یہ قلعہ اتنا پرانا ہے جتنا کہ پشاور کا شہر، قلعہ کی زمین سے مجموعی بلندی 92 فٹ ہے اس کی دیواریں پختہ سرخ اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہیں قلعہ کی اندرونی دیوار کی بلندی 50فٹ ہے۔ دوہری دیواروں والے اس قلعہ کا کل رقبہ سوا پندرہ ایکڑ رقبہ پر محیط ہے جبکہ اس کا اندرونی رقبہ دس ایکڑ بنتا ہے ایک پختہ سڑک بل کھاتی ہوئی قلعہ کے اندر تک جاتی ہے۔مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر نے اپنی خودنوشت تزک بابری میں قلعہ بالا حصار کا ذکر کیا ہے۔ وہ باگرام (پشاور) کے قریب اپنی فوجوں کے اترنے اور شکار کے لیے روانگی کا ذکر کرتا ہے۔ 


جب مغل بادشاہ ہمایوں نے افغان بادشاہ شیر شاہ سوری سے شکست کھائی تو افغانوں نے قلعہ بالا حصار کو تباہ کر دیا۔جب ہمایوں نے شاہ ایران کی مدد سے اپنا کھویا ہوا تخت دوبارہ حاصل کر لیا تو اس نے کابل سے واپسی پر پشاور میں قیام کیا اور قلعہ بالا حصار کو دوبارہ تعمیر کروایا اس نے قلعہ میں ایک بڑا فوجی دستہ تعینات کیا اور ایک ازبک جرنیل سکندر خان کو قلعہ کا نگران مقرر کیا۔ پہلی مرتبہ قلعے میں یہاں توپیں نصب کی گئیں۔احمد شاہ ابدالی نے بھی وادی پشاور مغلوں سے چھین لی تھی۔ احمد شاہ ابدالی کے فرزند تیمور ابدالی نے پشاور کو اپنا سرمائی دار الخلافہ بنالیا۔ اس نے قلعہ بالا حصار میں اپنی رہائش کے لیے محلات تعمیر کروائے اور اپنے حفاظتی دستے کے لیے ایرانی اور تاجک سپاہی بھرتی کیے۔ جب 1779ء میں ارباب فیض اللہ خان نے قلعہ بالا حصار پر یلغار کی تو اسی حفاظتی دستے نے تیمور شاہ کی حفاظت کی۔ 1793ء میں تیمور شاہ کی وفات کے بعد شاہ زمان سریر آرائے سلطنت ہوا۔ اس کے دور میں سکھ پنجاب پر قابض ہو گئے۔1834ء میں سکھوں نے پشاور پر قبضہ کر لیا پہلے تو سکھوں نے قلعہ بالا حصار کی اینٹ سے اینٹ بجا دی لیکن جلد ہی انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ہری سنگھ نلوہ اور سردار کھڑک سنگھ نے اس قلعہ کی اہمیت کے پیش نظر اسے دوبارہ تعمیر کرایا۔ مہاراجا رنجیت سنگھ کے حکم پر شیر سنگھ نے قلعہ بالا حصار کچی اینٹوں سے بنوایا   تھا۔ سکھوں کے دور کی ایک لوح آج بھی قلعہ بالا حصار کی مرکزی دیوار میں نصب دیکھی جا سکتی ہے 


منگل، 23 دسمبر، 2025

رانا بھگوان داس محب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم

 

سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس   کے بارے میں  یہ ایک پرانا مضمون ہے  جو میں نے  اب پبلش کیا ہے-جمعہ کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے سربراہ کا عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور کمیشن میں تعینات کیے جانے والے دو نئے ارکان سے حلف لیا۔جمعرات کو چئرمین فیڈرل سروس کمیش کا حلف اٹھایا تھا۔18 دسمبر 2009سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے جمعہ کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے سربراہ کا عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور کمیشن میں تعینات کیے جانے والے دو نئے ارکان سے حلف لیا۔سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے جمعرات کو چئرمین فیڈرل سروس کمیش کا حلف اٹھایا تھا۔ ان کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی اور صدر آصف علی زرداری نے رانا بھگوان داس سے حلف لیا۔سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی بطور چئرمین پبلک سروس کمیشن تقرری کا خیر مقدم کیا گیا ہے اور اسے ایک مثبت قدم قرار دیا گیا ہے۔مبصرین کے مطابق ایک ایماندار اور منصف شخص کو اس ادارے کی قیادت سونپنے سے ملکی افسر شاہی کو سیاست سے پاک کرنے میں بڑی حد تک مدد ملے گی۔


ان مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس قسم کی شکایت سامنے آتی رہی ہیں کہ مختلف حکومتوں کے دورے میں بیوروکریسی میں سیاسی بنیادوں پر تعیناتیاں ہوتی رہی ہیں جس سے بیوروکریسی بھی سیاسی رسہ کشی کا حصہ بنتی رہی ہے۔سابق سکریٹری اطلاعات اشفاق گوندل نے رانا بھگوان داس کی تعیناتی پر کہاکہ وہ ایک نہایت ایماندار اور اچھی شہرت کے حامل جج رہے ہیں اور ان کا چئرمین بننا ایک مثبت قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ فیڈرل سروس کمیشن وہ واحد ادارہ ہے جو میرٹ کی بنیاد پر سرکاری نوکریوں میں بھرتیاں کرنے کا مجاز ہے اور اس ادارے میں ایک ایماندار اور انصاف پسند شخص کی موجودگی ہے میرٹ کی پالیسی کو یقینی بنانے میں بہت مدد ملے گی۔انہوں نے کہ اس ادارے کے تحت مقابلے کے امتحانات کے ذریعے ایک عام آدمی کو بھی اعلی سرکاری نوکری حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے-انہوں نے کہا کہ اور ایسی جگہ پر بھگوان داس جیسے شخص کی موجودگی ایک بہت ہی خوش آئند قدم ہے۔


فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے اختیارات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں حال ہی میں ریٹائر ہونے والے سکریٹری اطلاعات نے کہا کہ صدر مشرف کے دور میں اس ادارے کے اس وقت کے سربراہ جمشید گلزار کیانی کو قومی سلیکشن بورڈ کو بھی سربراہ بنا دیا گیا تھا۔سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے جمعرات کو چئرمین فیڈرل سروس کمیش کا حلف اٹھایا تھا۔ ان کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی اور صدر آصف علی زرداری نے رانا بھگوان داس سے حلف لیا۔سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی بطور چئرمین پبلک سروس کمیشن تقرری کا خیر مقدم کیا گیا ہے اور اسے ایک مثبت قدم قرار دیا گیا ہے۔

مبصرین کے مطابق ایک ایماندار اور منصف شخص کو اس ادارے کی قیادت سونپنے سے ملکی افسر شاہی کو سیاست سے پاک کرنے میں بڑی حد تک مدد ملے گی۔ ان مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس قسم کی شکایت سامنے آتی رہی ہیں کہ مختلف حکومتوں کے دورے میں بیوروکریسی میں سیاسی بنیادوں پر تعیناتیاں ہوتی رہی ہیں جس سے بیوروکریسی بھی سیاسی رسہ کشی کا حصہ بنتی رہی ہے۔سابق سکریٹری اطلاعات اشفاق گوندل نے رانا بھگوان داس کی تعیناتی پر کہا کہ وہ ایک نہایت ایماندار اور اچھی شہرت کے حامل جج رہے ہیں اور ان کا چئرمین بننا ایک مثبت قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ فیڈرل سروس کمیشن وہ واحد ادارہ ہے جو میرٹ کی بنیاد پر سرکاری نوکریوں میں بھرتیاں کرنے کا مجاز ہے اور اس ادارے میں ایک ایماندار اور انصاف پسند شخص کی موجودگی ہے میرٹ کی پالیسی کو یقینی بنانے میں بہت مدد ملے گی۔انہوں نے کہ اس ادارے کے تحت مقابلے کے امتحانات کے ذریعے ایک عام آدمی کو بھی اعلی سرکاری نوکری حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اور ایسی جگہ پر بھگوان داس جیسے شخص کی موجودگی ایک بہت ہی خوش آئند قدم ہے۔

 

۔ منتخب نعتیہ کلام بطور خراجِ تحسین

این جمالِ دو عالم تری ذاتِ عالی​

دو عالم کی رونق تری خوش جمالی​

خدا کا جو نائب ہوا ہے یہ انسان​

یہ سب کچھ ہے تری ستودہ خصالی ​

تو فیاضِ عالم ہے دانائے اعظم​

مبارک ترے در کا ہر اِک سوالی​

نگاہِ کرم ہو نواسوں کا صدقہ​

ترے در پہ آیا ہوں بن کے سوالی ​

میں جلوے کا طالب ہوں ، اے جان عالم!​

دکھادے ،دکھادے وہ شانِ جمالی ​

ترے آستانہ پہ میں جان دوں گا ​

نہ جاؤں، نہ جاؤں، نہ جاؤں گا خالی ​

تجھے واسطہ حضرتِ فاطمہؓ کا​

میری لاج رکھ لے دو عالم کے والی ​

نہ مایوس ہونا ہے یہ کہتا ہے بھگوانؔ

کہ جودِ محمدﷺ ہے سب سے نرالی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عرش حق کی طرف جب چلے مجتبی

جلوہ آرا تھا ہر سمت نور خدا

کہکشاں سے بنا اک نیا راستہ

فرش خاکی تا سدرة المنتہی

احتراما تھے ایستادہ جن و ملک

نغمہ گر حور و غلماں تھے صل اعلی

نعرہ کرتے تھے سب اصفیاء اتقیاء

آج دولہا بنا سید الانبیاء

عرش اعظم سے آنے لگی یہ صدا

مرحبا  مصطفیﷺ  مرحبا مصطفیﷺ 

زد میں گردوں ہی کیا ماہ و انجم بھی ہیں

کس نے جانا ہے یاں عشق کا مرتبہ

پہنچے معراج میں جب رسول خدا

کائنات دوعالم سے آئی صدا

جب خودی کی حقیقت سے پردہ اٹھا

پھر کہاں دوسرا میں رہا دوسرا

حسن اور عشق میں آج پردہ کشا

فرش پہ مصطفیﷺ عرش پہ کبریا

شان معراج سے بس یہ عقدہ کھلا

مرکز عشق ہیں خاتم الانبیاءﷺ

لا نبیﷺ بعدی ہے قول محبوب حق

ورد اس کا ہے بھگوانؔ صبح و مسا[5]////


عظیم الشان رومن سلطنت جب رو بہ زوال ہوئ


سلطنت روما میں  اس عہد کا سب سے بڑا تھیٹر تعمیر کیا گیا جسے2007ء میں دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔روم میں کولوزیم، جو دنیا کی سب سے مشہور اور حیرت انگیز تاریخی یادگاروں میں سے ایک ہے، رومی سلطنت کی طاقت کی علامت ہے اور اٹلی کے قدیم ترین ڈھانچے میں سے ایک ہے۔ یہ عظیم ایمفی تھیٹر، جو 2000 سال سے زیادہ پرانا ہے، قدیم روم میں گلیڈی ایٹر کی لڑائیوں، تاریخی شوز اور شاندار تقریبات کا مقام رہا ہے۔ غیر معمولی فن تعمیر اور تاریخی اتار چڑھاؤ سے لے کر ان کہانیوں تک جو تاریخی پتھر کی دیواروں کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں۔ کولوسیم کی تعمیر غالباً نیرو کے دور میں ہی شروع ہو گئی تھی کیونکہ اس میں نیرو کا ایک دیوہیکل مجسمہ نصب تھا، اسی لیے یہ   کے نام سے معروف ہو گیا ورنہ اس کا اصل نام فلیوین ایمفی تھیٹر تھا۔یہاں گلیڈیٹر کے نام سے باقاعدہ تربیت یافتہ غلاموں کو حکمرانوں اور شہریوں کی تفریح  طبع کے لیے شیروں سے لڑایا جاتا اور ان کے بے بسی سے مرنے کا تماشا دیکھا جاتا۔ ان تماشوں سے یہاں بیک وقت 50 ہزار تماشائی لطف اندوز ہو سکتے تھے۔ ہالی ووڈ کی فلم گلیڈیٹر میں اسی انسانیت سوز کھیل کو فوکس کیا گیا۔


برطانیہ کے قدیم قبرستان سے ملنے والے انسانی ڈھانچے پر شیر کے  دانتوں کے کاٹنے کے نشانات ملے ہیں، جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ رومن دور میں  انسانوں کو شیروں سے لڑوایا جاتا تھا۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق قدیم رومن دور کی تاریخ میں انسانوں کو جنگلی جانوروں سے لڑوائے جانے کے قصے ملتے ہیں جنہیں اس وقت کی تحریروں اور فن پاروں کا موضوع بھی بنایا جاتا رہا ہے،   برطانیہ کے قدیم شہر یارک کے ایک قبرستان میں انسانی باقیات ملی ہیں جو اس حوالے سے واضح ثبوت فراہم کرتی ہیں۔یارک شہر سے ملنے والے ایک انسانی ڈھانچے کے نچلے حصے پر شیر یا کسی وحشی جانور کے دانتوں کے کاٹنے کے واضح نشانات موجود ہیں۔آئر لینڈ کی مائینوتھ یونی ورسٹی سے تعلق رکھنے والے آرکیالوجسٹ پروفیسر ٹم تھامسن نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ شیروں کے ساتھ انسانوں کو لڑوایا جاتا تھا، جب یارک سے ملے ایک انسانی ڈھانچے کا فارنزک تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ انسانی ڈھانچے پر پائے گئے دانتوں کے نشانات کسی بڑے جانور غالباً شیر کے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ملنے والے اس انسانی ڈھانچے پر دانتوں کے نشان کے علاوہ چوٹوں کے نشانات بھی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کسی بڑے گوشت خور جانور کی جانب سے لگائے گئے تھے۔


اس تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ میں رومن دور میں یہاں خطرناک جانوروں اور انسانوں کی لڑائیاں کرائی جاتی تھیں۔واضح رہے کہ ان خونی کھیلوں میں حصہ لینے والے رومن جنگجوؤں کو گلیڈی ایٹرز کہا جاتا ہےاسی طرح معروف فلم بین حر BENHUR یروشلم میں 70ء یہودی بغاوت کے پس منظر میں بنی ہے جسکے مرکزی کردار ایک یہودی کو رومی اپنا غلام بنا کر روم لے آتے ہیں۔ یاد رہے کہ پہلی صدی عیسوی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانے والے یہی رومی تھے۔رومی سلطنت پرعیسائیت کا غلبہ اور یونانی علمی ورثے کی تبا ہی تھی صدی عیسوی میں قسطنطین اعظم وہ پہلا رومی بادشاہ تھا جس نے عیسائیت قبول کی اور قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کو روم کا دارالحکومت بنایا۔ بعد ازاں عیسائیت کو رومی سلطنت کے سرکاری مذہب کی حیثیت دیدی گئی، یوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت پر ایمان لانے والوں کو پہلی مرتبہ غلبہ اور اقتدار حاصل ہوا۔ قسطنطین ہی کے زمانے سے چرچ نے سیاسی معاملات میں کردار ادا کرنا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے شرک پر مبنی قدیم رومی مذاہب کے ماننے والوں اور ان کی ثقافت کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کے مندروں کو گرجاؤں میں تبدیل کیا، پاگان عبادت پر پابندی لگا دی گئی یہاں تک کہ ان کے علمی ورثہ تک کو تباہ کر دیا گیا۔


 اسی صورتحال کا نتیجہ صرف روم ہی نہیں بلکہ پورے یورپ کے فکری و شعوری زوال کے طور پر سامنے آیا۔ اسی کے بعد کیتھولک چرچ کے زیراثر جو کلچر پروان چڑھا اس میں علم کی تحصیل خانقاہوں یا کانوینٹس (Convents) تک ہی محدود ہو کر رہ گئی۔بعد ازاں رومی سلطنت مشرقی (صدر مقام قسطنطنیہ) اور مغربی حصوں (صدر مقام روم) میں بٹ گئی۔  عوام میں پسماندگی پھیل گئ اور بادشاہوں میں عیش پرستی بڑھ گئ زراعت تباہ ہوگئ اور کسان شہروں کی جانب نقل مکانی کرنے لگےشہروں میں گندگی کے ڈھیر لگ  گئے  جس کی صفائ مفقود ہو گئ  مغربی رومی سلطنت جو کیتھولک چرچ کے زیراثر تھی، عظیم الشان رومن سلطنت کو زوال کیوں ہوا-اس زوال کی ابتداء رومن ایمپائر کی دو حصوں  میں تقسیم سے ہوئ مشرق اور مغرب روم -مغربی رومی سلطنت کا زوال  -رومیوں کی تاریخ کا ایک لمحہ ہے، جس میں مغربی رومی سلطنت کے   زوال کو بیان کیا گیا ہے کیونکہ وہ اپنی حکمرانی کو برقرار رکھنے اور اپنی حکمرانی کو نافذ کرنے میں ناکام رہے کیونکہ ان کے جوانوں کا بڑا حصہ راہبانہ راستے پر چل پڑااور آخر کار ان کا وسیع علاقہ منہدم اور منتشر ہو گیا۔ آج کے مورخین فوج کی غیر موثریت اور کمی، روم کی صحت اور آبادی میں کمی، معیشت کا عدم استحکام، شہنشاہوں کی نااہلی، اقتدار کے حصول پر اندرونی کشمکش، وقتاً فوقتاً مذہبی تبدیلیوں اور نا اہلی جیسے عوامل پر غور کرتے ہیں۔ اندرونی حکومت کی طاقت اور صلاحیت کے کھو جانے کی وجہ کے طور پر جس نے رومیوں کو مشق کرنے کی اجازت دی وہ کہتے ہیں کہ یہ ان کے زیر اقتدار علاقوں اور صوبوں پر موثر تھا۔ نیز رومی تہذیب کے اردگرد وحشیوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور حملے  روم کے زوال اور تباہی کا سبب بنے۔ 

اتوار، 21 دسمبر، 2025

شازیہ کیانی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی '' تحریر ''

     

 

 ·شازیہ کیانی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی اس  تحریر نے میرے دل کو خون کے آنسو رلایا ہے 

ہجرت کے نئے ریکارڈ — پاکستان کی بلند ترین “مہاجر ت”

 پاکستان کے نام ایک نیا ریکارڈ درج ہو رہا ہے، مگر یہ وہ ریکارڈ نہیں جس پر فخر کیا جائے۔ ہمارے ہاں جس “ہجرت” کا چرچا ہو رہا ہے، وہ کسی تہوار کی خوشی نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر روز ہمارے دلوں میں درد، ذہنوں میں سوالوں اور مستقبل کے بارے میں خوف کا بیج بوتی جا رہی ہے۔ حیرت کی بات نہیں کہ رواں سال بھی لاکھوں پاکستانی اپنے وطن سے باہر جا رہے ہیں — وہ تعلیم یافتہ جوان، ہنر مند پیشہ ور، ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ماہر، اور وہ مزدور بھی جو اپنے خاندان کے لیے بہتر زندگی کا خواب دیکھتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ تین سالوں میں تقریباً 2,894,645 پاکستانی ملک چھوڑ چکے ہیں — تقریباً 2.9 ملین انسان جو پاکستان سے باہر مواقع کی تلاش میں نکلے ہیں۔  یہ صرف ایک تعداد نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہماری قومی ناکامی، حکومتی عدم دلچسپی اور مستقبل کے بحران کی گواہ ہے۔پاکستان سے جانے والوں میں صرف غیر ہنرمند مزدور ہی نہیں بلکہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں ہم اپنی قوم کی امید سمجھتے تھے — ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی اسپیشلسٹس، اساتذہ، اور دیگر پیشہ ور۔ 

اور یہ اعداد و شمار ہی نہیں رُکتے۔ صرف سال 2024 میں ہی 727,381 پاکستانی قانونی ملازمتوں کے لیے بیرون ملک منتقل ہوئے، جبکہ 2023 میں یہ تعداد 862,625 تھی — جو خود ایک بے مثال ہجرتی لہر تھی۔ یہ کوئی افواہ نہیں، یہ حقیقت ہے۔پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کی بلند ترین ہجرت دیکھ رہا ہے —اور ذمہ دار وہی ہیں جو روز ٹی وی پر “سب اچھا ہے” کے نعرے لگاتے ہیں۔تقریباً 29 لاکھ پاکستانی صرف پچھلے تین سال میں ملک چھوڑ چکے ہیں۔

2023 میں 8 لاکھ 62 ہزار2024 میں 7 لاکھ 27 ہزار اور یہ سب کوئی فارغ لوگ نہیں تھےیہ ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ایکسپرٹس، اساتذہ، اور ہنر مند نوجوان تھے۔ یعنی قوم کا دماغ، قوم کا مستقبل،قوم کی امید — سب جہاز میں بیٹھ گیا۔پھر حیرت ہوتی ہے کہ ایئرپورٹس پر لڑائیاں کیوں ہوتی ہیں؟

سوال جواب کیوں؟

غصہ کیوں؟ جناب!

جب کوئی لاکھوں روپے لگا کراس “منحوس نظام” سے جان بچا کر نکلنے کی کوشش کرے گاتو وہ مسکرائے گا نہیں — وہ چیخے گا۔ طنز یہ ہے کہ

ایک طرف لوگوں پر آف لوڈنگ،دوسری طرف باہر ممالک سے بین لگوانے کی کوششیں،اور تیسری طرف قوم کو بتایا جا رہا ہے کہ دیکھیں! برین ڈرین رک گیا ہے”۔ واہ!لوگوں کو زبردستی قید کر کے کہا جا رہا ہے“دیکھو، سب خوشحال ہیں”۔ یہ ہجرت نہیں…یہ اعتماد کا قتل ہے۔یہ ریاست سے مایوسی ہے۔یہ اس نوجوان کا جنازہ ہےجو کبھی کہتا تھا:میں پاکستان میں کچھ کر کے دکھاؤں گا” آج وہی نوجوان کہتا ہے:

“بس کسی طرح یہاں سے نکل جاؤں” یاد رکھیں:قومیں سرحدیں بند کر کے نہیں بچتیں  قومیں امید دے کر بچتی ہیں۔ اور جہاں امید ختم ہو جائے

وہاں پاسپورٹ ہی سب سے قیمتی دستاویز بن جاتا ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے لاکھوں روپے کی ڈگریوں،سخت محنت، اور شب و روز آسانی سے نہیں حاصل کیں — مگر اب وہ اپنے وطن کے دروازوں کی بجائے دوسرے ملکوں کے سفرناموں میں نظر آ رہے ہیں۔یہ وہی لوگ ہیں جنہیں کبھی پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لیے کہا جاتا تھا، مگر آج وہ اپنی صلاحیتیں، خواب اور مستقبل سب کے سب لے کر جا رہے ہیں — بس ملک چھوڑنے کا ٹکٹ ہاتھ میں ہے۔اب اگر کوئی حیران ہوتا ہے کہ جب لوگ لاکھوں روپے خرچ کر کے یہ ملک چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں تو لڑائی جھگڑا، سوال جواب اور غصہ کیوں؟ جواب بالکل سادہ ہے: یہ لوگ اپنے َمستقبل، عزت، اور تحفظ کے لیے سوال پوچھ رہے ہیں — سوال جو شاید برسوں سے جواب کے انتظار میں رہ گیا ہے۔ اور ساتھ ہی، ہمارے یہاں حکومتی بیان بازیاں جاری ہیں کہ “سب ٹھیک ہے، خوشحالی نظر آ رہی ہے، ترقی کی رفتار تیز ہے” — ایسے بیانات جیسے ایک مایوس نوجوان کو تسلی دے دیں گے کہ واقعی ساری مشکلات ختم ہو گئی ہیں! حقیقت میں، نعرے بڑھتے جا رہے ہیں مگر زندگیاں اور خواب باہر نکل رہے ہیں۔ جب پاکستان دنیا بھر میں لوگوں کی بین الاقوامی امیج کو بہتر بنانے کے لیے نئی پالیسیاں اپناتا ہے، وہی پالیسیاں لاکھوں شہریوں کو مجبوراً ملک چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہیں — اور یہ کوئی “ہجرت” نہیں، یہ ایک خروج ہے، ایک بھاگ نکلنے کی داستان ہے جس کا اختتام نظر نہیں آتا۔ آخر میں ایک سچ — یہ ہجرت صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ ایک ایسا بریہ اشارہ ہے کہ اگر پاکستان نے آج اپنی نوجوان قوت کو روکنے کے لیے پالیسیاں، مواقع اور حقیقی مستقبل نہ دیا تو کل وہ لوگ نہ صرف ملے گے بلکہ وہ نام بھی دنیا کے نقشے پر پاکستان سے زیادہ روشن ہوں گے۔ پاکستان نے بہت سی بار اعلانِ ترقی کیے، مگر اصل ترقی تب آئے گی جب یہ نوجوان وطن میں رہ کر ترقی کے سفر کا حصہ بنیں، نہ کہ دروازہ کھول کر باہر کی زمین پر قدم جمانے کو مجبور ہوں۔  

ہفتہ، 20 دسمبر، 2025

پروفیسر سلیمہ ہاشمی پاکستان کے علمی افق پر درخشاں نام

 


ہاشمی پاکستان کے  فنون لطیفہ کے اسٹیج پر  ایک  درخشاں  نام ہے       -پروفیسر سلیمہ ہاشمی مقبول شاعر فیض احمد فیض کی سب سے بڑی بیٹی ہیں وہ 1942 میں ہندوستان کے شہر دہلی میں پیدا ہوئیں۔ والدہ کانام ایلس تھا جو کہ برطانوی نژادخاتون تھیں۔ابتدائی زندگی کا کچھ عرصہ شملہ اور کچھ عرصہ دہلی میں گزرا۔قیام پاکستان کے بعدفیض صاحب لاہور منتقل ہوئے اور سلیمہ ہاشمی نے ابتدائی تعلیم کا آغاز لاہور سے کیا ۔چونکہ شروع سے ہی آرٹ سے خاصا لگاؤ تھا اس لئے 1962میں نیشنل کالج آف آرٹس لاہور سے فن مصوری میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔اور اسی مضمون میں اعلیٰ تعلیم کی غرض سے انگلینڈ چلی گئیں۔ دوران تعلیم پینٹنگ اور فوٹوگرافی سلیمہ ہاشمی کے پسندیدہ مضامین تھے 1965میں باتھ اکیڈمی آف آرٹ(کورشم) سے آرٹ ایجوکیشن میں  ڈپلومہ حاصل                           سلیمہ ہاشمی کی عمر آٹھ سال کے قریب تھی جب فیض احمد فیض کو سیاسی خیالات کی بنا پر قید کر دیا گیا۔ انھیں، جیل میں والد کی عیادت کی یاد آتی ہے۔ بعد ازاں ، جنرل ضیاء الحق کی حکمرانی کے جابرانہ سالوں کے دوران، سلیمہ کے والد کو ضیا کی حکومت کی طرف سے درپیش پریشانی کے نتیجے میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ لہذا، سلیمہ ایک سیاسی چارج والے ماحول میں پلی بڑھیں۔ پینٹنگ ان کا شعبہ بن گیا         ۔سلیمہ  نے رہوڈے آئی لینڈاسکول آف ڈیزائن امریکا سے تعلیم بھی حاصل کی



۔وطن واپس لوٹیں اورنیشنل کالج آف آرٹس کے کھلے دروازوں کی جانب قدم بڑھائے اور درس وتدریس کے ایک طویل سفر کا آغاز کیا ۔نیشنل کالج آف آرٹس میں انھوں نے تقریبا 31برس درس وتدریس کے فرائض انجام دیے چار برس پرنسپل کے عہدے پر بھی رہیں۔ ۔ان کی بنائی گئی مصوری کو ملکی سطح کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سطح پر بھی خوب پذیرائی حاصل ہوئی انھوں نے دنیا بھر کے ممالک کا سفر کیا اور انگلینڈ ،یورپ،امریکا ،آسٹریلیا ،جاپان اور بھارت میں ان کی بنائی ہوئی پینٹنگ کے لئے نمائش کا انعقاد کیا گیا ۔وہ آرٹسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ کیوریٹر اور کنٹیمپریری آرٹ کی تاریخ نویس بھی ہیں۔پاکستانی خواتین پینٹرز کو بین الاقوامی طور پر متعارف کروانے کا سہرا بھی سلیمہ ہاشمی کو ہی جاتا ہےانھوں نے بیرون ملک پاکستانی مصوروں کا مختلف طریقوں سے پیش کیا جس کے باعث بیرون ملک میں پاکستانی خواتین سے متعلق لوگوں کے منفی خیالات بدلنے میں مدد ملی۔جس کے بعد پاکستانی مصوروں کا کام دنیا بھر میں نمائش کےلیے پیش کیا گیا ۔سلیمہ ہاشمی مصورہ ہونے کے ساتھ چار مستند کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔مصورہ ہونے کے ناتے انھوں نے بیشمار تبصرے اور تنقیدی مضامین بھی لکھے جوفن مصوری کے طالب علموں کے لئے ایک ’’قیمتی خزانے‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں


۔ انھوں نے پاکستانی خواتین مصوروں کی حیات اور فن کے بارے میں کتابیں لکھیں۔بھارت اور پاکستان کے ایام آزادی میں صرف ایک دن کا فرق ہے ایک ہی وقت شروع ہونے والے اس سفر میں پاکستان کی مصورات کئی مراحل سے گزری ہیں۔اس مشکل سفر کو معروف مصورہ سلیمہ ہاشمی نے اپنی کتاب Unvailing the Visible کا موضوع بنایا ۔پاکستان کی خاتون مصوروں کی زندگی اور کام پر کتاب لکھنے کی وجوہات سے متعلق سلیمہ ہاشمی کا اپنے ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ’’ ضیاالحق کے زمانے میں جب پاکستان میں انسانی حقوق پامال کئے جارہے تھے اور خاص طور پر عورتیں اسکا نشانہ بن رہی تھیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ میں دیکھ رہی تھی کہ عورتوں کا فن اس کے باوجود پختہ ہوتا جارہا تھا۔ مجھے حیرت بھی ہوئی کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ خواتین خراب ترین حالات میں بھی اچھا کام کررہی ہیں؟ لہٰذامیں نے سوچا کہ یہ ایک کہانی ہے اور یقینًا کہی جانی چاہیے۔سلیمہ ہاشمی نےپاکستان ٹیلی ویژن کے مزاحیہ پروگرام ٹال مٹول اور سچ گپ میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے ۔شعیب ہاشمی کے ہمراہ اسٹیج ڈراموں میں کام کیا اور1965 میں شعیب ہاشمی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں۔ان کا ایک بیٹا یاسرحسنین اور ایک ہی بیٹی صدف ہاشمی ہے۔ سلیمہ ہاشمی کے گھر میں مہمان بننے والے افراد ان کی شخصیت کی طرح ان کے گھر سے متا ثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتے کیونکہ آرٹسٹ کی سوچ نہ صرف اس کی شخصیت اور اسٹائل میں نظر آتی ہے بلکہ اس کا پرتو گھر کی سجاوٹ اور رہن سہن سے بھی اجاگر ہوتا ہے۔اور سلیمہ ہاشمی کا گھر ان کی شخصیت کی طرح آرٹسٹک ہے۔قدیم طرز تعمیر،قدیم اور علاقائی ستکاریاںاور فرنیچر ان کے گھر کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک ہیں


۔14 اگست 1998ء کو حکومت پاکستان نے ان کی قلمی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا ۔آرٹ اینڈ ایجوکیشن کے لئے پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا 2011میں’’وویمن آف انسپریشن ایوارڈ ،،کے لئے بھی منتخب کی گئیں 2013میں ایک مختصر دورانیے کے لیے پنجاب کی نگراں کابینہ میں بھی شامل رہیںسلیمہ ہاشمی کی عمر آٹھ سال کے قریب تھی جب فیض احمد فیض کو سیاسی خیالات کی بنا پر قید کر دیا گیا۔ انھیں، جیل میں والد کی عیادت کی یاد آتی ہے۔ بعد ازاں ، جنرل ضیاء الحق کی حکمرانی کے جابرانہ سالوں کے دوران، سلیمہ کے والد کو ضیا کی حکومت کی طرف سے درپیش پریشانی کے نتیجے میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ لہذا، سلیمہ ایک سیاسی چارج والے ماحول میں پلی بڑھیں۔سلیمہ ہاشمی نے 2001 میں " انویلنگ دا ویزیبل: لائیوز اینڈ ورکس آف ویمن آرٹسٹس آف پاکستان " کے عنوان سے ایک تنقیدی طور پر سراہی جانے والی کتاب بھی تصنیف کی۔آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے ذریعہ 2006 میں ، ہاشمی نے ہندوستانی آرٹ مورخ یشودھرا ڈالمیا کے ساتھ ایک کتاب "میموری، میٹافر، میوٹیشن: معاصر آرٹ آف ہندوستان اور پاکستان" کے ساتھ مشترکہ تصنیف کی۔ ان کا تازہ ترین کام، اپنے شوہر شعیب ہاشمی کے کیے گئے فیض کی شاعری کے انگریزی ترجمے کی اشاعت کے سلسلے میں ہے۔پینٹنگ اسلیمہ ہاشمی نے 2001 میں " انویلنگ دا ویزیبل: لائیوز اینڈ ورکس آف ویمن آرٹسٹس آف پاکستان " کے عنوان سے ایک تنقیدی طور پر سراہی جانے والی کتاب بھی تصنیف کی۔

جمعہ، 19 دسمبر، 2025

پشاور کا تاریخی سیٹھی ہاؤس معماروں کے زوق تعمیر کا اظہار

 

 پشاور کا تاریخی محلہ سیٹھیاں اور سیٹھی ہاؤس جسے دیکھ کر اس کے معماروں کا زوق تعمیر عروج پر نظر آتا ہے - اس بے نظیر محلے کی آباد کاری  اس طرح  ہوئ  کہ پشاور کے محلہ سیٹھیاں میں قیامِ پاکستان سے قبل ایک امیرترین کاروباری خاندان اس خطے میں آ کر آباد ہوا، جس نے ہندوستان اور وسطی ایشیا کے درمیان پُل کا کام کیا۔ لاہوری دروازہ اور گھنٹہ گھر کے وسط میں واقع اس محلہ کی عمارتیں تہذیبی و تاریخی اہمیت کی حامل ہیں۔ محلہ کے تمام مکانات دو اور تین منزلہ ہیں، جن کی تعمیر بخارا کے طرزِ تعمیر کے مطابق کی گئی ہے۔ ان رہائشی عمارتوں کی تعمیر کے لیے مختلف ریاستوں کے ماہر کاریگروں کی خدمات حاصل کی گئیں جبکہ ان کی آرائش کے لیے سامان بھی وسط ایشیائی ریاستوں سے منگوایا گیا۔ ان مکانات کی تعمیر میں کیا گیا لکڑی کا کام دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ کہیں لکڑی پر بیل بوٹے کندہ ہیں، کہیں لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جوڑ کر دروازوں اور چوکھٹوں کی سجاوٹ کی گئی ہے جبکہ جالیاں بھی نہایت نفیس ہیں۔ باہر سے نظر آنے والی بالکونیاں بھی لکڑی سے بنائی گئی ہیں۔ ان گھروں کے مرکزی دروازے، چھت پر لگے شہتیروں، روشن دان، پنجالیوں، دیواروں میں لگی الماریوں، چار پائیوں کے پایوں، باورچی خانہ میں جالی کی بنی ہوئی الماریوں اور چینی خانے کے فریموں سمیت ہر چیز کو تراشنے میں بڑی مہارت اور کمال فن کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔



ان مکانات کی تعمیر میں ’وزیری اینٹ‘بہ کثرت استعمال کی گئی جو کہ 3انچ چوڑی، 6انچ لمبی اور ایک سے ڈیڑھ انچ موٹی ہوتی ہے۔ گزشتہ ادوار میں نفاست لانے کے لیے اس اینٹ کا استعمال کیا جاتا تھا، جبھی تو ان مکانات کی شان و شوکت آج تک قائم ہے۔ مکانات میں داخلے کے ساتھ ہی کشادہ صحن بنے ہوئے ہیں، جہاں درمیان میں فوارہ لگا ہوا ہے۔ اس کے ارد گرد کمرے بنے ہوئے ہیں، جن کی دیواروں پر کاشی گری کے نمونے موجود ہیں۔ صحن میں کھلنے والی لکڑی کی کھڑکیوں کے شیشے رنگ برنگے ہیں۔ ان مکانات کی ڈیزائننگ اس طرح کی گئی ہے کہ یہ سردی میں گرم اور گرمی میں ٹھنڈے اور ہوا دار ہیں، اس خطے کے موسم کے اعتبار سے یہ بہترین تعمیرات ہیں۔ مرکزی کمرے یا مہمان خانہ کی آرائش کے لیے چینی خانے بھی بنائے گئے ہیں، جن میں وسطی ایشیا اور روس سے لائے گئے انتہائی نفیس اور مہنگے برتن (گردنر) سجائے جاتے تھے۔ محلہ سیٹھیاں میں تعمیر کیے گئے مکانات اس خاندان کے عمدہ ذوقِ تعمیر کی گواہی دیتے ہیں۔ اگر ان کی تزئین نو کرکے مناسب دیکھ بھال کا انتظام کیا جائے تو اس ثقافتی ورثہ کو دیکھنے کہیں زیادہ تعداد میں سیاح آئیں گے۔محلہ سیٹھیاں میں    صدر دروازے سے داخلے کے بعد صحن کے بیچوں بیچ فوارہ نظر آتا ہے۔ اس میں بارہ کمرے، ایک ہال، تختِ سلیمانی، چمنی خانہ اور تین تہ خانے ہیں۔ محلے کے دیگر مکانات کی طرح اس میں بھی زیادہ تر لکڑی کا کام کیا گیا ہے۔ کمروں کے دروازوں پر دیدہ زیب لکڑی کندہ ہےجبکہ چھتوں پر لکڑی سے نفیس، رنگ برنگی اور خوبصورت اشکال بنی ہوئی ہیں۔ سیٹھی ہاؤس کی تعمیر میں آرائشی شیشوں کا کافی استعمال کیا گیا ہے۔ ہر کمرے میں یورپ میں تیار ہونے والے ایک سے زائد شیشے لگائے گئے ہیں



سیٹھی ہاؤس-محلہ سیٹھیاں میں جداگانہ حیثیت رکھنے والے سیٹھی ہاؤس کے انوکھے طرزِ تعمیر میں جابجا امارت نظر آتی ہے۔ صدر دروازے سے داخلے کے بعد صحن کے بیچوں بیچ فوارہ نظر آتا ہے۔ اس میں بارہ کمرے، ایک ہال، تختِ سلیمانی، چمنی خانہ اور تین تہ خانے ہیں۔ محلے کے دیگر مکانات کی طرح اس میں بھی زیادہ تر لکڑی کا کام کیا گیا ہے۔ کمروں کے دروازوں پر دیدہ زیب لکڑی کندہ ہےجبکہ چھتوں پر لکڑی سے نفیس، رنگ برنگی اور خوبصورت اشکال بنی ہوئی ہیں۔ سیٹھی ہاؤس کی تعمیر میں آرائشی شیشوں کا کافی استعمال کیا گیا ہے۔ ہر کمرے میں یورپ میں تیار ہونے والے ایک سے زائد شیشے لگائے گئے ہیں۔ کمروں میں محراب بنے ہوئے ہیں جن کےاندر چراغ رکھنے کے لیے ترتیب سے چھوٹے چھوٹے محراب جوڑئے گئے ہیں۔ ہر محراب کے اندر آئینہ بنوایا گیا ہے جس پر گلدستہ اور پھول بنے ہوئے ہیں۔ آئینہ لگانے کا مقصد پورے کمرے میں چراغ کی روشنی کو پھیلانا تھا۔ آگ جلانے کیلئے کمروں کے درمیان چمنی خانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی باورچی خانہ موجود ہے، جس کے اندر کھانا کھانے کیلئے بالکونی نما ایک جگہ بنائی گئی ہے۔اگرچہ برتنوں کے بارے میں براہ راست معلومات نہیں ہیں، لیکن سیٹھی ہاؤس کی مجموعی شان و شوکت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی کٹلری بھی بہت اعلیٰ، نفیس اور ڈیزائن والی ہوگی، جو ان کے دولت مندانہ اور ذوق پر مبنی طرزِ زندگی کی عکاسی کرتی ہے 


 غسل خانوں میں روشنی کے حصول کیلئےروشندان کی جگہ آئینے لگائے گئے ہیں جن سے سورج کی کرنیں منعکس ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ دیوار کے ساتھ پانی کی ایک ٹینکی بنوائی گئی، جس کے پتھروں سے بنے پائپ کے ذریعہ پانی استعمال کیا جاتا تھا۔اس کے ہال کی الماریوں اور درو دیوار پر سونے کا کام کیا گیا ہے۔ سیٹھی ہاؤس کے تہہ خانوں کی سیڑھیاں سرخ اینٹوں سے بنی ہیں۔ پہلے تہہ خانے میں بینک ہوا کرتا تھا جہاں سیٹھی خاندان کے پیسے جمع تھے۔ اس میں لکڑی کی بڑی الماریاں موجود تھیں۔ اس کے ساتھ دو اور کمرے بھی تھے جہاں بینک کے عہدیدار مالی امور کی دیکھ بھال پر مامور تھے۔ سیٹھی ہاؤس میں پانی کی ترسیل کا جدید نظام موجود ہے۔ آخری تہہ خانہ میں ایک کنواں ہے، جو اُوپر کی طرف جاتا ہے اور ہر منزل پر کنویں سے پانی حاصل کرنے کیلئے پنگھٹ بنایا گیا ہے۔ اس کی چھت پر لکڑی سے بنے بڑے چبوترے کو ’تختِ سلیمانی‘کہا جاتا ہے، جہاں بیٹھ کر خاندان کی عورتیں دھوپ سینکا کرتی تھیں۔ اس قدیم مکان کے درودیواراور لکڑیوں پر بنے دلکش نقش و نگار سنہرے دور کی یاد تازہ کرتے ہیں

بابا بلھے شاہ کی شاعری شرح عشق اور شرع کی مالا

 


بلھے شاہ کا اصل نام عبد اللہ شاہ ہے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ 3 مارچ 1680ء (1091ھ) میں مغلیہ سلطنت کے عروج میں اوچ گیلانیاں میں پیدا ہو ئے۔ کچھ عرصہ یہاں رہنے کے بعد قصور کے قریب پانڈومیں منتقل ہو گئے۔ان کے والد سخی شاہ محمد درویش مسجد کے امام تھے اور مدرسے میں بچوں کو پڑھاتے تھے۔ بلّہے شاہ نے والد سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعد قصور جا کر قرآن، حدیث، فقہ اور منطق میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ قرآن ناظرہ کے علاوہ گلستان بوستان بھی پڑھی اور منطق، نحو، معانی، کنز قدوری،شرح وقایہ، سبقاء اور بحراطبواة بھی پڑھا۔ شطاریہ خیالات سے بھی مستفید ہو ئے۔ ایک خاص سطح تک حصولِ علم کے بعد ان پر انکشاف ہوا کہ دنیا بھر کے علم کو حاصل کر کے بھی انسان کا دل مطمئن نہیں ہو سکتا۔ سکونِ قلب کے لیے صرف اللہ کا تصور ہی کافی ہے۔ اسے اپنی ایک کافی میں یوں بیان کیا۔علموں بس کر او یار۔اکّو الف تیرے درکار،،،وہ خود سیّد زادے تھے لیکن انھوں نے شاہ عنایت کے ہاتھ پر بیعت کی جو ذات کے آرائیں تھے اس طرح بلّہے شاہ نے ذات پات، فرقے اور عقیدے کے سب بندھن توڑ کر صلح کل کا راستہ اپنایا۔ 


مرشد کی حیثیت سے شاہ عنایت کے ساتھ ان کا جنون آمیز رشتہ ان کی مابعد الطبیعیات سے پیدا ہوا تھا۔ وہ پکے وحدت الوجودی تھے، اس لیے ہر شے کو مظہر خدا جانتے تھے۔ مرشد کے لیے انسان کامل کا درجہ رکھتے تھے۔ مصلحت اندیشی اور مطابقت پذیری کبھی ان کی ذات کا حصہ نہ بن سکی۔ ظاہر پسندی پر تنقید و طنز ہمہ وقت ان کی شاعری کا پسندیدہ جزو رہی۔ انھوں نے شاعری میں شرع اور عشق کو ایک لڑی میں پرو دیا اور عشق کو شرع کی معراج قرار دیاان کے کام میں عشق ایک ایسی زبردست قوت بن کر سامنے آتا ہے جو شرع پر چل کر پیغام حسینیت کو فروغ دیتا ہے اور یزیدیت کو ہمیشہ کے لیے شکست دیتا ہے بلّہے شاہ نے پیار محبت کے پیغام کو فروغ دیا عربی فارسی میں عالم ہونے کے باوجود انھوں نے پنجابی کو ذریعۂ اظہار بنایا تاکہ عوام سے رابطے میں آسکیں۔ ۔زندگی-بلھے شاہ مغلیہ سلطنت کے عالمگیری عہد کی روح کے خلاف رد عمل کانمایاں ترین مظہر ہیں۔ ان کا تعلق صوفیاء کے قادریہ مکتب فکر سے تھا۔ ان کی ذہنی نشو و نما میں قادریہ کے علاوہ شطاریہ فکر نے بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ اسی لیے ان کی شاعری کے باغیانہ فکر کی بعض بنیادی خصوصیات شطاریوں سے مستعار ہیں۔


ایک بزرگ شیخ عنایت اللہ قصوری، محمد علی رضا شطاری کے مرید تھے۔ صوفیانہ مسائل پر گہری نظر رکھتے تھے اور قادریہ سلسلے سے بھی بیعت تھے اس لیے ان کی ذات میں یہ دونوں سلسلے مل کر ایک نئی ترکیب کا موجب بنے۔ بلھے شاہ انہی شاہ عنایت کے مرید تھے۔شاعری اپنی شاعری میں وہ مذہبی ضابطوں پر ہی تنقید نہیں کرتے بلکہ ترکِ دنیا کی مذمت بھی کرتے ہیں اور محض علم کے جمع کر نے کو وبالِ جان قرار دیتے ہیں۔ علم کی مخالفت اصل میں ” علم بغیر عمل“ کی مخالفت ہے۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ بلھے شاہ کی شاعری عالمگیری عقیدہ پرستی کے خلاف رد عمل ہے۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ چونکہ لاقانونیت، خانہ جنگی، انتشار اور افغان طالع آزماؤں کی وحشیانہ مہموں میں بسر ہوا تھا، اس لیے اس کا گہرا اثر ان کے افکار پر بھی پڑا۔ ان کی شاعری میں صلح کل، انسان دوستی اور عالم گیر محبت کا جو درس ملتا ہے ،وہ اسی معروضی صورت حال کے خلاف رد عمل ہے۔


انتقال

بلھے شاہ کا انتقال بعمر 77 سال 22 اگست 1757ء میں قصور میں ہوا اور یہیں دفن ہوئے۔ان کے مزار پر آج تک عقیدت مند ہر سال ان کی صوفیانہ شاعری گا کر انھیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ تاریخِ وصال کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔بقول تذکرہ اولیائے پاکستان ،1181ھ ہے۔آپ کا مزار مبارک " قصور" ریلوے روڈ پر زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔آپ کاعرس ہرسال شمسی ماہ بھا دوں میں جو چاند نظر آئے اس کی 11،12 تاریخ کو قصور میں منعقد ہوتا  ہے میں ملکی اور غیر ملکی عقیدت مند ہزاروں کی تعداد میں شرکت کر تے ہیں -اس تقریب سعید میں شہر میں ہر طرف گہما گہمی  نظر آتی ہے اور ہر طرف عید کا سماں ہو تا ہے عر س مبارک پر ملک بھر اور بیرون ملک سے آنے والے زائرین کا قصوریوں کی جانب سے جگہ جگہ استقبال کیا جاتا ہے۔ زائرین کیلئے پانی،دودھ کی سبیلوں کے ساتھ ساتھ لنگر کا وسیع انتظام کیا جاتا ہے دور دراز اور بیرون ممالک سے آنے والے زائرین کی رہائش کے انتظامات بھی کئے جاتے ہیں ہے ۔



جمعرات، 18 دسمبر، 2025

اوورسیز میں پاکستانی گداگرایک صوبے میں منظم مافیا

 

    آج ہی یہ تحریر انٹرنیٹ سے ملی ہے غور سے پڑھئے

سعودی عرب نے پاکستانی بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر سخت اقدامات کیے ہیں، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں: بڑے پیمانے پر ملک بدری: سال 2025 میں اب تک 24,000 سے زائد پاکستانیوں کو بھیک مانگنے کے الزام میں سعودی عرب سے ڈی پورٹ (ملک بدر) کیا جا چکا ہے۔ مجموعی طور پر حالیہ برسوں میں سعودی عرب سے ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانی بھکاریوں کی تعداد 56,000 تک پہنچ گئی ہے۔ویزہ پالیسی میں تبدیلی: فروری 2025 سے سعودی حکومت نے پاکستان سمیت 14 ممالک کے لیے ملٹی پل انٹری وزٹ ویزے معطل کر دیے ہیں اور اب صرف 30 دن کا سنگل انٹری ویزہ جاری کیا جا رہا ہے تاکہ ویزے کے غلط استعمال اور غیر قانونی قیام کو روکا جا سکے۔پاکستان میں سخت کارروائی: حکومتِ پاکستان نے بھکاریوں کی وجہ سے ملک کی بدنامی روکنے کے لیے ان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) کے تحت مقدمات چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔     2025 ایف آئی اے نے  اب تک 51,000 افراد کو مشکوک سفری دستاویزات یا بھیک مانگنے کے شبے میں ایئرپورٹس سے آف لوڈ کیا ہے۔


 اس کے علاوہ بھکاریوں کے گروہ چلانے والوں کے پاسپورٹ بلاک کرنے اور ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ یا بلیک لسٹ میں ڈالنے کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔عمرہ ویزے کا غلط استعمال: حکام کے مطابق بہت سے پیشہ ور بھکاری عمرہ ویزہ حاصل کر کے وہاں جاتے ہیں اور مقررہ مدت کے بعد واپس نہیں آتے،۔ کچھ عرب ممالک اور عراق میں گرفتار کیے جانے والے بھکاریوں میں سے 90 فیصد کا تعلق پاکستان سے ہوتا ہے۔ حرم کے اندر زیادہ تر جیب کترے بھی پاکستانی ہوتے ہیں۔پیشہ ور بھکاری عمرے یا وزٹ ویزا پر جاتے ہیں-، اسلام آباد میں مقیم سفیر ہمیں کہتے ہیں کہ آپ عادی مجرم ہمارے پاس بھیجتے ہیں جس سے ہماری جیلیں بھر گئی ہیں۔ یہ انسانی اسمگلنگ کا مسئلہ ہے۔ بھکاری زیادہ تر عمرے یا وزٹ ویزے پر جاتے ہیں اور زیارات کے مقامات پر بھیک مانگتے ہیں۔ ہمارے کئی افراد اس لیے ڈی پورٹ ہو رہے ہیں کہ وہ وہاں جاکر بھکاری بن جاتے ہیں۔"پاکستانی زائرین پر اب عراق میں بھی نظر رکھی جارہی ہے۔ کیونکہ یہ افراد وہاں بھی گداگری کا پیشہ اپنا لیتے ہیں۔



  اب عراق نے بھی پاکستانی زائرین پر کافی سختی کر دی ہے، جس کا سبب پاکستانیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں ہیں، ”عراق میں معاوضہ ڈالر کی شکل میں ملتا ہے اس لیے کچھ لوگ زائرین کے روپ میں وہاں کمائی کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ ایسے افراد اربعین کے دنوں میں بھیک مانگتے ہیں اور بعد میں وہیں چھپ کر مزدوری کرنے لگتے ہیں۔ جیسے ہی پکڑے جائیں تو ڈی پورٹ کر دیے جاتے ہیں۔‘‘عراقی قوانین میں بھکاریوں پر مالی جرمانہ اور ایک سے چھ ماہ تک کی قید کی سزا ہے۔ سید ہادی حسن کے مطابق یہ افسوسناک ہے لیکن بعض پاکستانی شہری ایسی سرگرمیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں جو باقی کمیونٹی کے لیے شرمندگی کا باعث ہوتا ہے،''اب جب تک زائرین کے قافلے میں شامل تمام افراد واپسی پر ساتھ نہ ہوں عراقی حکام پلٹنے نہیں دیتے، چاہے کئی کئی دن سرحد پر انتظار ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔"عراق سے شائع ہونے والے آن لائن نیوز پیپر عراقی نیوز نے 2018ء میں دو سو پاکستانی بھکاریوں کی گرفتاری کی خبر دی تھی۔متحدہ عرب امارات سے شائع ہونے والے اخبار دی نیشنل میں2017ء کے دوران ایک رپورٹ 'عمان اور یمن میں رمضان کے دوران پاکستانی بھکاریوں کے جھرمٹ‘ کے نام سے پبلش ہوئی۔اس کے مطابق، ”رمضان کے مہینے میں کچھ پاکستانی گوادر کے راستے عمان اور یمن پہنچ کر بھیک مانگتے ہیں۔ یہ گداگر مساجد کے باہر ہی نہیں بلکہ در در جا کر بھی یہ کام کرتے ہیں۔"



اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر  کہتے ہیں، ''بہت معمولی تعداد یہ شرمناک حرکت کرتی ہے مگر بطور پاکستانی بدنامی ہم سب کی ہوتی ہے۔"وہ کہتے ہیں، ”ہر سال لاکھوں پاکستانی محنت مزدوری کرنے ملک سے باہر جاتے ہیں ان میں کتنے افراد بھیک مانگتے ہیں؟ زیادہ سے زیادہ چند سو جو مجموعی تعداد کا ایک فیصد بھی نہیں بنتا۔ بعض اوقات میڈیا نان ایشو کو ایشو بنا دیتا ہے۔"وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس سے ملک کی ساکھ مجروح ہوتی ہے اور ایسے افراد کے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں جو واقعی پڑھنے کے لیے، زیارات کے لیے یا مزدوری کے لیے ورک ویزا پر جا رہے ہوتے ہیں۔لیکن دیلھا جاے تو ایک مسئلہ ہمارے ملکی معاشی حالات بھی ہیں جہاں ہماری بہت سے فیکٹریاں بند ہو چکی ہیی۔کاروبار چل نہیں رہے اور کسی بھی قسم کی بیرونی انویسٹمنٹ اس وقت ملک میں نہیں آرہی ہے جسکی وجہ سے بے روزگاری میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے اور ہر سال ان بے روزگار نوجوانوں کی تعداد میں مزیر اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ان نوجوانوں کی  اتنی بڑی تعداد کو مثبت طریقے سے ملکی ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہوگا۔ورنہ یہ ایک چلتا پھرتا اٹامک بمب ہیں۔جنکو بہت سے غلط سرگرمیوں میں ملوث لوگ چند پیسوں کا لالچ دے کر اپنی طرف مائل کر سکتے ہیں۔حکومتی سطح پر ایک سنجیدہ سوچ کا ہونا بہت ضروری ہے۔طلبہ کو ڈگریوں کی بجاے ٹیکنیکل تعلیم کی طرف لے کر جانا ہو گا۔سکلڈ ورکرز کی پوری دنیا میں مانگ ہوتی ہے۔اور کم از کم سکلڈ لوگ عزت سے پیسے کماتے ہیں اور ملکی عزت میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔زرا سوچئے

منگل، 16 دسمبر، 2025

اللہ کی یونیورسٹی سے ڈگری ہولڈر انجینئر پرندہ ننھا بیا

  

  

ٍکیا آ پ جانتے ہیں کہ بیا جیسا ننھا پرندہ اپنی زات میں آرکیٹکٹ بھی ہے سول انجینئر بھی ہے اور انتہائ سگھڑ بھی ہے اس کے گھونسلے میں ایک کمرے میں اس کے بچوں کا  جھولا بھی ہوتا ہے- بئے ہمیشہ مشرق کی سمت گھونسلے بناتے ہیں اس کی وجہ یہ ہےکہ جنوب مغربی مون سون سے اس کا گھونسلہ محفوظ رہ سکے ۔ عموماً میل بیا ہی گھونسلہ بناتا ہے جو 18 دن کے اندر مکمل کرلیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ  میل بیا  مکمل گھونسلہ نہیں بناتا ہے  بلکہ فیمیل بیا  پہلے اس گھونسلہ کی وذٹ  کرتی ہے اور دونوں جب ساتھ رہنے پر رضا مند ہوجاتے ہیں تب فیمیل بیا بھی گھونسلہ بنانے میں مدد دیتی ہے۔ مادہ ‘اندرونی آرائش کرتی ہے ۔میل بیا  میٹھے سروں میں گانا گا کر فیمیل بیا کو لبھاتا ہے  ہے اور فیمیل بیا اس دھن پر لہک لہک کر میل بیا کے ساتھ گھونسلے کو بناتی جاتی ہے۔’’میل بیا ‘ ایک سے زائد چڑیوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہے یہ پرندہ حالات کے اعتبار سے مادہ کو رجھانے کے لئے نیا گھونسلہ بنانے کے بجائے کسی پرانے گھونسلے پر توجہ دیتا ہے اور اس کو نئے انداز سے سجاتا ہے۔اسی لئے ہمیں ایک ہی درخت پر نئے پرانے ، مکمل ادھورے گھونسلے دکھائی دیتے ہیں


چاول، گھاس پھوس یا چھوٹے موٹے کیڑوں مکوڑوں وغیرہ پر زندگی گذارتا ہے ۔یہ سماجی پرندہ ہے جو عام طور پر مل جل کر زندگی گذارنا پسند کرتا ہے۔یعنی یہ  ہوتا ہے۔اسی لئے یہ اپنے گھونسلے بھی کالونی کی شکل میں بناتا ہے۔اس کی آواز میں زیادہ سریلا پن نہیں ہوتا ، اس کی آواز چٹ، چٹ جیسی ہوتی ہے۔یہ مزاج کے اعتبار سے نفیس پرندہ کیونکہ ان کو زمین پر اتر کر مٹی میں نہانا پسند نہیں ہوتا ۔اس پرندے کی شہرت کی وجہ اس کے گھونسلے ہیں،یہ گھونسلے کے درختوں یا ٹیلیفون کے تاروں یا درختوں پر بنائے جاتے ہیں یہ گھونسلے الٹی بوٹل جیسی ساخت یا  شکل کے ہوتے ہیں اس شکل کو’’ معوجہ ‘‘ کہا جاتا ہے، جس میں درمیانی حصہ درخت سے زمین کی سمت نیچے لٹکا رہتا ہے اس گول حصے کا درمیانی علاقہ رہائشی ہوتا ہے اور اسی حصے کے اوپری جانب لمبی ٹیوب نما حصہ لگا رہتا ہے جس کے ذریعہ چڑیا گھونسلے کے اندرداخل ہوتی ہے۔اس پرندے کا ’’نر‘‘ گھونسلوں کو بناتا ہے ، ان گھونسلے بنانے کے لئے یہ چڑیا عام طور پر چاول کے لمبے پتوں  کے دھاگوں، گھاس پھوس کے تنکوں وغیرہ کو استعمال کرتی ہے،یہ دھاگے جیسی ساختیں عام طور پر 20 تا 30 سنٹی میٹر لمبی ہوتی ہیں۔ایک گھونسلے کو بنانے کے لئے اس چڑیا کواس مقام کے زائد از 500چکر کرنے پڑتے ہیں جہاں سے وہ گھونسلہ بننے کے لئے خام مال حاصل کرتی ہے۔


 نیا گھونسلہ بنانے کے لئےچڑیا پہلے پتوں کو کاٹتی ہے اور پھر اس کی درمیانی ورید کو علیحدہ کرتی ہے جس کو وہ سوکھنے سے قبل استعمال کرتی ہے کیونکہ سوکھے پتے کی وریدیں حسب منشا استعمال نہیں کیں جاسکتیں اسی لئے گھونسلہ بنانے کا عمل ان پتوں کی وریدوں کے سوکھنے سے قبل انجام پاتا ہے۔کبھی کبھار ان نسیجی دھاگوں کو نرم اور مضبوط بنانے کے لئے یہ چڑیا انہیں اپنی چونچ میں لے کر اونچا ہواؤں میں اڑتی ہے، عام طور پرایک گھونسلیمیں زائد از 3500نسیجی دھاگے ہوتے ہیں جن کی لمبائی 5 سنٹی میٹر سے 50 سنٹی میٹر تک ہو سکتی ہے ۔ گھونسلے کی ابتدا وہ دروازے سے کرتی ہے جس کو گول انداز میں بناتی ہے۔ ان کے گھونسلے اکثر اوقات ایسے درختوں کی شاخوں پر بنائے جاتے ہیں جو پانی کے اوپر پھیلے رہتے ہیں ۔ یہ چڑیا اپنا گھونسلہ بنانے کے لئے مسلسل گرہیں ڈالتی جاتی ہے اور ایک مخصوص پروگرام اور سونچے سمجھے منصوبے کے تحت اس کو بناتی جاتی ہے۔اس کی گرہ ڈالنے کا انداز مکمل اور تعجب خیز ہوتا ہے کہ اس قدر مکمل گرہیں انسان بھی بآسانی نہیں ڈال سکتا ۔ درخت کی شاخ پرجھولتے ہوئے ان گھونسلوں کونیچے گرنے سے روکنے کے لئے اختیار کی جانے والی تدابیر،


ایک کے بعد دیگرے منصوبہ بند طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت، گھونسلے کو مخصوص شکل دینے کے لئے درمیانی دائروی حجم میں اضافہ کرنا ، گھونسلے کی دیواروں کو حسب ضرورت موٹا یا باریک کرنا اور گھونسلے کی مجموعی ساخت میں مضبوطی پیدا کرنے کی کوشش کرنا، ۔ایک طرف تو یہ نسیجی دھاگوں کو پیروں سے تھامے رہتی ہے اور دوسری طرف اپنی چونچ کی مدد سے ان نسیجی دھاگوں سے گھونسلے کی ساخت بنتی رہتی ہے۔کہیں بھی اس کے عمل سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ یہ کام پہلی مرتبہ انجام دے رہی ہے۔ کبھی کبھار یہ چڑیا گیلی مٹی بھی اپنے گھونسلے میں لگاتی ہے اور انہیں مضبوطی بخشتی ہے۔صرف یہی خصوصیت انسان کو اچھنبے میں نہیں ڈالتی بلکہ اس چڑیا کا درخت پر گھونسلہ بنانے کے لئے جگہ کا انتخاب بھی انسان کو حیران کردیتا ہے ۔ یہاں اس بات کا اظہار نا مناسب نہ ہوگا کہ کی بعض انواع پودوں کی نرم شاخوں میں اپنے لعاب  کو شامل کرکے خام مال تیار کرتی ہیں جو گھونسلے کو نہ صرف مضبوطی عطا کرتا ہے بلکہ گھونسلے کو واٹر پروف بھی بناتا ہے، زرا سوچئے  یہ تمام  سمجھ بوجھ اس ننھی سی جان کو کس نے عطا کی ہے

پیر، 15 دسمبر، 2025

پشاور کی مشہور اور قدیم ترین مسجد ’مہابت خان مسجد

 مسجد مہابت خان، مغلیہ عہد حکومت کی ایک قیمتی یاد گار ہے اس سنہرے دور میں جہاں مضبوط قلعے اور فلک بوس عمارتیں تیار ہوئیں وہاں بے شمار عالیشان مسجدیں بھی تعمیر کی گئیں۔ مسجد مہابت خان، ایسی ہی شاندار مساجد میں سے ایک ہے جو مغلیہ دور حکومت میں پشاور کے حاکم مہابت خان نے تعمیر کروائی تھی چنانچہ یہ اسی کے نام سے مشہور ہوئی۔ یہ مسجد پشاور شہر کے عین وسط میں واقع ہے اس کی کرسی بہت اونچی ہے اندر داخل ہونے کے لیے تین شاندار دروازے ہیں جن پر چڑھنے کے لیے تینوں طرف زینے لگے ہوئے ہیں     مغل سلاطین  نے دنیا   کےجن جن ملکوں میں اپنے قدم جمائے وہاں'وہاں  بڑے بڑے محلات،باغات، قلعے، دروازے، مساجد ومقبرے وغیرہ تعمیر کرائے لیکن  مساجد پر بالخصوص بہت دیدہ ریزی سے کام کیا - مسجد مہابت خان بھی اسی دور کی ایک خوبصورت مسجد بھی ہے جو پشاورکے  قدیم تہذیب و تمدن اور تاریخی حیثیت کے حامل شہر  میں  قلعہ بالا حصار سے 50فٹ کے فاصلے پر اندرون شہر واقع ہے۔شہنشاہ شاہ جہاں کے دورِ حکومت میں تعمیر کردہ 17ویں صدی کے مغل دور کے فنِ تعمیر کا ایک حسین شاہکار  ہے- یہ مسجد 1670ء میں مغلیہ دورِ حکومت میں کابل کے گورنر،مہابت خان نے تعمیر کروائ اور اسی کے نام سے منسوب کی گئ  ۔



 پشاور کے قدیمی گنجان آباد علاقے میں تعمیر شدہ یہ مسجد 30ہزار اسکوئر فٹ رقبے پر    پشاور میں قدیم فصیل بند شہر میں بنائ گئ ۔یہ  نا صرف ایک مغل شاہکاربلکہ ماہ مقدس میں نمازیوں کی توجہ کامرکز نگاہ بھی ہے -گل کاری اور عربی خطاطی کی آرائش سے مزین یہ مسجد غیر ملکی  سیاحوں  کو بھی متوجہ کرتی ہے-مسجد مہابت خان بالخصوص ماہِ رمضان کے دوران روحانیت کا ایک پررونق مرکز بن جاتی ہے ۔ مقدس ماہِ رمضان میں ہمیشہ نمازیوں کی ایک بڑی تعداد میں آمد ہوتی  ہے جب لوگ خصوصی نمازِ تراویح ادا کرتے ہیں جس میں تقریباً چار ہفتوں کے دوران مکمل قرآن پاک کی تلاوت کی جاتی ہے-مہابت خان مسجد اپنے مغل طرزِ تعمیر کی بنا پر نمایاں مقام کی حامل ہے جس میں ایک کشادہ صحن، نیلے رنگ کے ٹائلوں والا وضو کا تالاب اور گل کاری کے ڈیزائن اور عربی خطاطی کے ساتھ وسیع آرائش ہے۔اپنے تاریخی جوہر کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ بحالی کی اہم کوششوں سے گذری ہے۔ آج یہ ایک پررونق عبادت گاہ اور ایک ثقافتی ورثے کا مقام ہے جو زائرین کو اپنی شاندار تعمیراتی تفصیلات کی طرف راغب کرتی ہے اور پشاور کی بھرپور ثقافت کے ثبوت کے طور پر کام کرتی ہے  اس کے قدیم گنبد اور محراب دور دراز سے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتے تھے۔


مسجد مہابت خان 400 سے 450 سال پرانی ہے اور اس جگہ پر عرب اور دیگر ریاستوں سمیت بیرونی ممالک سے بہت زیادہ لوگ آتے ہیں۔"دوسرے ممالک سےآنے والے لوگ اس جگہ کا دورہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ایک تاریخی مسجد ہے۔ وہ اس کی تاریخ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہاں  ایسی جگہ بھی ہے۔ یہ ایک تاریخی مسجد ہے اور یہاں بڑی تعداد مین لوگ رمضان میں عبادت کرتے ہیں۔"پشاور کے ایک 31 سالہ رہائشی ضیاء الرحمٰن نے کہا کہ فصیل بند شہر میں آنے والے لوگ ہمیشہ اس مسجد میں نماز ادا کرنے کی خواہش کرتے تھے۔"رمضان میں وہ تمام لوگ جو ملحقہ سٹی بازار کی سیر کے لیے آتے ہیں ہمیشہ اپنی نماز پڑھنے مسجد میں آتے ہیں۔" ۔اس کا صحن 35 میٹر لمبا اور تقریباً 30 میٹر چوڑا ہے۔صحن کے درمیان میں ایک بہت بڑا حوض ہے۔ مسجد کی دیواروں اور گنبدوں کاشی کاری کے علاوہ نقش نگاری اور مرقع نگاری سے مزین کیا گیا ہے۔ مسجد کے 34 میٹر بلند و بالا میناروں کے درمیان 6 چھوٹے چھوٹے مینار بھی ہیں۔اس کی چھت پر کل 7 گنبد تعمیر کیے گئے ہیں جن میں 3 گنبد کافی بڑے ہیں۔اس میں داخل ہونے کے لیے دو دروازے ہیں، ایک آساماہی روڈ پرجبکہ دوسرا اندرون شہرمیں کھلتا ہے۔


جب کوئی شخص مسجد دیکھنے کے لیے دروازوں زینے پر چڑھ کر اندر داخل ہوتا ہے تو مسجد کے وسیع و عریض صحن کو دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے اس صحن کے درمیان میں ایک حوض ہے جس کے اندر فوارہ لگا ہوا ہے اور جس سے پانی اوپر کی طرف اچھل کر قطروں کی شکل میں یوں نیچے گرتا ہے جیسے چمکدار موتیوں کی بارش ہو رہی ہو۔ صحن کے ایک طرف کنواں ہے جسے سردیوں میں بند کر دیا جاتا ہے صرف گرمیوں میں کھولا جاتا ہے تب اس کا پانی اتنا ٹھنڈا ہوتا ہے جیسے برفیلے چشمے کا پانی ہو۔ مسجد کے طویل صحن کے بعد ایک دالان شروع ہوتا ہے یہ دالان بھی کافی لمبا چوڑا ہے اس میں ایک منبر ہے جس پر قاری صاحب بیٹھ کر خطبہ پڑھتے ہیں یہ خالص سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے۔ پتھر کو تراش کر اس پر جو بیل بوٹے بنائے گئے ہیں وہ دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ مسجد کے گنبد بھی سنگ مرمر کے بنے ہوئے ہیں ان کی رنگت اتنی سفید ہے کہ دن کے وقت جب دھوپ چمک رہی ہو تو ان پر نگاہ نہیں ٹھہرتی۔ مسجد کے دونوں گوشوں پر دو بلند مینار ہیں جس کے اندرونی حصوں میں زینے بنے ہوئے
 ہیں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

عظیم تر جراح اور طبیب ابوالقاسم خلف ابن العباس الزہراوی

   اسپین کےجنوبی علاقہ  اندلس کے مردم خیز خطے                 اورقرطبہ کے شمال   میں شہر الزہرا میں    پیدا ہونے والے  عظیم تر جراح اور طبیب...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر