جمعرات، 25 دسمبر، 2025

ہم جنس پرستوں کا راکھ میں مدفون شہر'پومپئ'

 

  انسانی بستیوں سے چھینا گیا وہ شہر جسے قدرت نے 1500 سال بعد لفظ بہ لفظ دنیا کے سامنے پیش کر دیاکیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کوئی پورا شہر، جس کی گلیاں، مکانات، کھانے پینے کی اشیاء اور یہاں تک کہ دیواروں پر لکھیہوئی روزمرہ کی باتیں بھی ایک ہی لمحے میں وقت کے ہاتھوں منجمد ہو جائیں، اور پھر ڈیڑھ ہزار سال بعد بالکل اسی طرح دوبارہ دریافت ہو جائیں؟ یہ کسی ٹائم کیپسول کی کہانی نہیں بلکہ رومن سلطنت کے مشہور شہر "پومپیئی" (Pompeii) کا سنسنی خیز اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔یہ واقعہ 79 عیسوی کا ہے، جب پومپیئی شہر اپنے عروج پر تھا اور رومن امراء کے لیے عیش و عشرت کا مرکز مانا جاتا تھا۔ یہ شہر نیپلز کے قریب، Mount Vesuvius نامی خوبصورت پہاڑ کے دامن میں واقع تھا۔ شہر کے باسی اس بات سے بے خبر تھے کہ یہ پہاڑ دراصل ایک خطرناک آتش فشاں تھا جو صدیوں سے خاموش تھا۔24 اگست 79 عیسوی کو، ظہر کے وقت، Mount Vesuvius اچانک اور بغیر کسی وارننگ کے پھٹ پڑا۔ یہ پھٹنا اتنا خوفناک تھا کہ آسمان کالے دھوئیں، راکھ اور چٹانوں کے ٹکڑوں سے بھر گیا۔ راکھ کا یہ طوفان 15 میل کی اونچائی تک جا پہنچا۔ 



چند ہی گھنٹوں میں، پومپیئی شہر 20 فٹ سے زیادہ آتش فشانی راکھ کی موٹی تہہ کے نیچے دب گیا، اور اس کے ساتھ ہی شہر کی تمام زندگی بھی دفن ہو گئی۔ یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ ہزاروں لوگ بھاگ نہیں پائے اور وہ جس حالت میں تھے، اسی میں منجمد ہو کر رہ گئے۔پومپیئی شہر اگلے 1500 سال تک دنیا کی نظروں سے اوجھل رہا اور تاریخ کے اوراق سے مٹ گیا۔ پھر 1748 میں اتفاقی طور پر جب کھدائی کا کام شروع ہوا تو ماہرین آثار قدیمہ نے جو کچھ دریافت کیا، وہ دنیا کے لیے ایک صدمہ اور تاریخی معجزہ تھا۔راکھ کی یہ موٹی تہہ شہر کے لیے سب سے بڑی محافظ ثابت ہوئی۔ اس نے شہر کو وقت اور موسم کے اثرات سے مکمل طور پر بچا لیا۔ جب آثار قدیمہ کے ماہرین نے راکھ ہٹائی، تو انہیں ایک ایسا شہر ملا جو ڈیڑھ ہزار سال پہلے تھم گیا تھا۔ انہیں دیواروں پر رنگین پینٹنگز، بازاروں میں روٹیاں، ہوٹلوں میں کھانے کے برتن، اور سڑکوں پر چلتے ہوئے لوگوں کی باقیات ملیں۔ گھروں کے اندر ان کا فرنیچر، سامان اور یہاں تک کہ چولہے پر رکھا کھانا بھی اسی طرح موجود تھا۔ دیواروں پر گرافیٹی (دیواروں پر لکھے گئے پیغامات) اور انتخابی پوسٹرز بھی اتنے تازہ تھے جیسے کل ہی لکھے گئے ہوں۔اس شہر کو وقت میں منجمد کرنے کا سب سے خوفناک پہلو انسانی باقیات تھیں۔ جب لاشیں سڑ گل گئیں تو ان کے گرد سخت راکھ کا ایک خول بن گیا۔ ماہرین نے ان خالی خولوں میں پلاسٹر آف پیرس بھر کر ان لوگوں کے حتمی لمحات کو مجسم کر دیا۔ آج بھی جب آپ پومپیئی جاتے ہیں، تو آپ ان لوگوں کی اشکال دیکھ سکتے ہیں جو اپنی جان بچانے کی آخری کوشش کر رہے تھے، یا بستروں پر سوئے ہوئے تھے، یا اپنے خاندان کو گلے لگا رہے تھے۔ یہ منظر کسی بھی زائر کو جذباتی کر دیتا ہے کیونکہ یہ ایک شہر کی ہولناک موت کی خاموش گواہی ہے۔پومپیئی کی دریافت نے رومی تاریخ، ثقافت، طرزِ زندگی اور فن تعمیر کے بارے میں معلومات کا خزانہ کھول دیا۔ ہمیں رومن سوسائٹی کے بارے میں وہ تفصیلات معلوم ہوئیں جو ہمیں تاریخی کتابوں سے کبھی نہ ملتیں۔


 قدرت کے اس شدید غضب نے ایک ایسا المناک معجزہ پیدا کیا جس نے شہر کو فنا تو کر دیا، لیکن اسے تاریخ کے ہاتھوں سے بچا کر ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ پومپیئی آج بھی ایک ایسی کھڑکی ہے جو ہمیں ڈیڑھ ہزار سال پہلے کی رومن زندگی میں جھانکنے کا موقع دیتی ہے۔موجودہ ملک اٹلی کے علاقے کمپانیہ میں ناپولی کے نزدیک واقع تھا جولگ بھگ 2ہزار سال قبل 79ءمیں ویسوویوس نامی آتش فشاں پہاڑ کے پھٹنے سے یہ تباہ ہو گیا تھا۔ آتش فشاں سے اس قدر لاوہ اور راکھ نکلی تھی کہ یہ شہر 4 سے 6 میٹر (13 سے 20 فٹ) راکھ کے نیچے دفن ہو گیا۔ماہرین نے کھدائی کرکے پومپئی کے آثار دریافت کیے ہیں جن کی دیواریں پر اس قدیم زمانے کی زبان میں کچھ تحاریر موجود تھیں۔ اب ان تحریروں کا ترجمہ کر لیا گیا ہے جس سے ایسا انکشاف ہوا ہے جس نے اس شہر پر عذاب الہٰی نازل ہونے کی حقیقت بیان کر دی ہے۔دوہزار سال قبل لاوے اور راکھ میں دبنے کے باوجود جب اس شہر کی دریافت کے بعد کھدائی کی گئی توماہرین آثار قدیمہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے تھے کہ لوگ مردہ حالت میں محفوظ ہیں اور ایسا لگ رہا تھا کہ خدا نے اخلاق باختہ حرکتیں کرنے والی قوم کو آنے والی دنیاکے لئے نشانِ عبرت بنادیا ہ

1 تبصرہ:

  1. مردہ شہر کے تمام علاقے حیران کن طور پر برقرار ہیں، ایک ایسی جگہ کا ایک خوفناک باقیات جو آج کے آس پاس کی کسی بھی چیز کی طرح ترقی یافتہ اور مہذب معلوم ہوتا ہے

    جواب دیںحذف کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر