ہفتہ، 1 اگست، 2026

ہم جو تاریک کانوں میں مارے گئے

 

 

 ۔‘ہم جو تاریک کانوں میں مارے گئے ' انتہائ بوجھل دل کے ساتھ خبر پڑھی 'یہ معلوم ہونا چاہئے کہ  بیشتر ممالک میں کان کنوں کی جان و مال کے تحفظ کے لئے کوئ  پیشگی انتظامات نہیں ہوتے ہیں  اور حادثے کی صورت میں یہ غریب طبقہ جان کی بازی ہار جاتا ہے 'بلوچستان (31 جولائی، 2026) سے تقریباً 40 کلومیٹر (25 میل) دور سورنج کے علاقے میں کوئلے کی کان میں  بہت زوردار دھماکہ ہوا -پاکستانی حکام کے مطابق، جنوب مغربی پاکستان میں کوئلے کی کان میں دھماکے سے 34 کان کن ہلاک ہو گئے ہیں۔جمعرات کو ہونے والا مہلک دھماکہ، جو ممکنہ طور پر میتھین گیس کے جمع ہونے کی وجہ سے ہوا  دھماکے کے وقت 40 کے قریب کان کن جائے وقوعہ پر موجود تھے۔بلوچستان کے سینیئر سرکاری کان کنی اہلکار غنی بلوچ نے کہا کہ تمام کان کنوں کی تلاش تک امدادی کارروائیاں جاری رہیں گی، تاہم انہوں نے مزید کہا کہ میتھین کے دھماکوں کی وجہ سے آکسیجن تیزی سے ضائع ہونے کی وجہ سے "کسی کے زندہ ہونے کے امکانات کم ہو گئے ہیں"مائنز کے چیف انسپکٹر نے بتایا کہ بچاؤ کی کوششیں 4,000 فٹ (1,219 میٹر) کی گہرائی میں ہو رہی تھیں متاثرین کے لیے اظہار تعزیت کرتے ہوئے، بلوچستان کے وزیر برائے معدنیات و معدنیات شعیب نوشیروانی نے کہا کہ ہر متاثرہ خاندان کے لیے 500,000 پاکستانی روپے دئے جائیں گے انہوں نے دھماکے کی وجہ کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ بلوچستان بھر میں کوئلے کی کانوں کے حفاظتی جائزے کا وعدہ کیا-


سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع شانگلہ کی آبادی ساڑھے آٹھ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس ضلع میں کان کنی کے حادثات نے بیواؤں، یتیم بچوں اور عمر بھر کے لیے معذور ہونے والے مزدوروں کی ایک بڑی تعداد بھی چھوڑ دی ہے۔پیرآباد میاں کلے کے رہائشی شاہ خالد کے لیے یہ حادثہ دو نسلوں پر پھیلا ایک المیہ ہے۔ انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’میرے ایک بھائی کی اس حادثے میں  جا ن گئی ہے جبکہ میرے تین چچا زاد بھائی بھی اس میں شامل ہیں۔ ان کی عمریں 17، 19، 21 اور 23 سال تھیں۔‘وہ بتاتے ہیں کہ ایک نوجوان نے ایف اے تک تعلیم حاصل کی تھی جبکہ باقیوں نے پانچویں جماعت کے بعد تعلیم چھوڑ دی تھی۔ ’ان سب کی شادیاں ہو چکی تھیں۔ وہ صرف اپنی شادیوں کے قرضے اتارنے کے لیے کان میں کام کر رہے تھے۔‘ شاہ خالد بتاتے ہیں کہ حادثے کے وقت ان کے دو بھائی دن کی شفٹ مکمل کر کے باہر آ چکے تھے جبکہ سب سے چھوٹا بھائی رات کی ڈیوٹی کے لیے اندر گیا تھا۔ یہ اس خاندان کے لیے یہ دوسرا بڑا سانحہ ہے۔شاہ خالد نے روتے ہوئے اردو نیوز کو بتایا ’میرے والد بھی 2003 میں کوئٹہ کی ایک کوئلہ کان میں حادثے کا شکار ہو کر جاں بحق ہوئے تھے۔ میری والدہ اس صدمے کو دوبارہ برداشت نہیں کر پا رہیں۔ اور اب میرے بھائی کی شادی کو صرف تین ماہ ہوئے تھے۔ ایک چچا زاد بھائی کا ایک بیٹا ہے،  


  بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے سورینج میں کوئلے کی دو کوئلہ کانوں میں دھماکے کے بعد 32 مزدوروں کی لاشیں نکالی لی گئی ہیں جن میں سے 31 مزدوروں کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ سے بتایا گیا ہے جبکہ انہی 31 افراد میں سے 23 افراد ایک ہی یونین کونسل پیرآباد میاں کلے سے تعلق رکھتے ہیں-کوئٹہ سے قریباً 35 کلومیٹر دور سورینج میں واقع شیخ عزیز لیز کی سردار عثمان اور علی بھائی کول کمپنیوں کی دو کوئلہ کانوں میں یہ حادثہ جمعرات کو پیش آیا تھا اور جمعے کو دوسرے روز بھی آپریشن جاری رہا۔  جبکہ ضلع شانگلہ میں سوگ کا سماں ہے اور مقامی سطح پر عوام احتجاج بھی کر ریے ہیں۔ یونین کونسل پیرآباد میں ’آل پاکستان مائنز لیبر فیڈریشن‘ کے مرکزی صدر عابد یار نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’حادثہ جمعرات کو دوپہر قریباً دو بجے اس وقت پیش آیا جب سورینج میں دو مختلف کوئلہ کانوں میں میتھین گیس کا دھماکہ ہوا۔


 شانگلہ پولیس کی جانب سے بلوچستان کوئلہ کان حادثے میں جاں بحق مزدوروں کی میتوں کو مکمل سیکیورٹی اور پروٹوکول فراہم.ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے کوئلہ کان حادثے میں جاں بحق محنت کش ودود اللہ کی میت جب ضلع شانگلہ کے داخلی مقام دندئی چیک پوسٹ پر پہنچی تو ایس ڈی پی او بشام عثمان منیر اور ایس ایچ او تھانہ دندئی محمد افضل نے پولیس نفری کے ہمراہ میت کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرتے ہوئے تعزیتی طور پراس کا استقبال کیا۔  مینگورہ سے تقریباً 40 کلومیٹر دور واقع ضلع شانگلہ کی پانچوں تحصیلوں میں ہزاروں خاندانوں کا روزگار آج بھی بلوچستان اور ملک کے دوسرے حصوں کی کوئلہ کانوں سے وابستہ ہے۔ غربت، محدود زرعی وسائل اور مقامی سطح پر روزگار کی کمی نے نوجوانوں کو ایسے پیشے سے وابستہ کر رکھا ہے جہاں ہر شفٹ زندگی اور موت کے درمیان ایک نئے امتحان کی مانند ہوتی ہے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ شانگلہ کے درجنوں گھر ایک ساتھ اجڑے ہوں۔ نو جنوری 2025 کو بلوچستان کے علاقے سنجدی میں کوئلے کی کان میں دھماکے کے نتیجے میں 12 مزدور جان سے گئے تھے جن میں سے 10 کا تعلق شانگلہ سے تھا۔ اس سے پہلے 2011 میں بلوچستان میں پاکستان مائن ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کی کان میں ہونے والے دھماکے کے بعد ایک ہی دن شانگلہ کے علاقے پیرآباد میں 42 کان کنوں کی لاشیں پہنچائی گئی تھیں۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

ہم جو تاریک کانوں میں مارے گئے

     ۔‘ہم جو تاریک کانوں میں مارے گئے ' انتہائ بوجھل دل کے ساتھ خبر پڑھی 'یہ معلوم ہونا چاہئے کہ  بیشتر ممالک میں کان کنوں کی جان و ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر