Knowledge about different aspects of the world, One of the social norms that were observed was greetings between different nations. It was observed while standing in a queue. An Arab man saw another Arab man who apparently was his friend. They had extended greetings that included kisses on the cheeks and holding their hands for a prolonged period of time. , such warm greetings seem to be rareamong many people, . this social norm signifies the difference in the extent of personal space well.
منگل، 31 دسمبر، 2024
پاکستان کی ہیلن کیلر صائمہ سلیم
جون ایلیا ' اپنے زمانے کا یگانہ شاعر
چاہتا ہوں بھول جاؤں تمہیں
اور خود بھی نہ یاد آؤں تمہیں
جیسے تم صرف اک کہانی تھیں
جیسے میں صرف اک فسانہ تھا
جون ایلیا 14 دسمبر 1931 کو امروہہ، ہندوستان میں ایک تعلیم یافتہ شیعہ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، شفیق حسن ایلیا، ادب اور فلکیات کے اسکالر تھے جو عربی، انگریزی، فارسی، عبرانی اور سنسکرت زبانوں پر عبور رکھتے تھے اور برٹرینڈ رسل جیسے معروف دانشوروں کے ساتھ خط و کتابت کرتے تھے۔ جون ایلیا اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔جون ایلیا کا نام سید حسین سبطِ اصغر نقوی ہے،عام طور پر اپنے قلمی نام جون ایلیا سے پہچانے جاتے ہیں،آپ ایک پاکستانی شاعر تھے۔ جدید ترین اردو شاعروں میں سے ایک، جو اپنے غیر روایتی طریقوں کے لیے مشہور ہیں، انہوں نے "فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، مسلم صوفی روایت، مسلم مذہبی علوم، مغربی ادب اور قبالہ کا علم حاصل کیا۔" وہ اردو، عربی ، سندھی، انگریزی، فارسی، سنسکرت اور عبرانی۔میں روانی رکھتے تھے۔ پاکستان کے مشہور صحافی، ماہر نفسیات رئیس امروہی اور جنگ اخبار کے پہلے ایڈیٹر اور فلسفی سید محمد تقی جون ایلیا کے بھائی تھے، جب کہ مشہور خطاط اور مصور صادقین، فلمساز کمال امروہی ان کے کزن تھے۔
ان کا پہلا شعری مجموعہ شاید اس وقت شائع ہوا جب ان کی عمر 60 سال کی تھی۔ نیازمندانہ کے عنوان سے جون ایلیا کے لکھے ہوئے اس کتاب کے پیش لفظ میں انہوں نے ان حالات اور ثقافت کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیاہے جس میں رہ کر انہیں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ ان کی شاعری کا دوسرا مجموعہ یعنی ان کی وفات کے بعد 2003ء میں شائع ہوا اور تیسرا مجموعہ بعنوان گمان 2004ء میں شائع ہوا۔ وہ شاعری میں اپنے منفرد لب و لہجے اور روایت شکنی کے سبب خاص و عام میں مقبول ہوئے،انہوں نے اپنے کلام میں محبوب کو براہِ راست اورنہایت بے تکلفی سے مخاطب کیا، ان کی شاعری ہر عمر اور طبقے میں پسند کی گئی ۔ جون ایلیا کی شاعری میں علامتی نظام کے جائزے کے بعد یہ واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے جدید شاعری میں رائج لفظوں کو ہی اپنی شاعری میں برتا ہے اور جدید شعراء کی طرح ہی بہ طور علامت نظم کیا ہے۔ ان علامتوں میں کوئی نیا پن محسوس نہیں ہوتا البتہ اتنا ضرور ہے کہ ان علامتوں میں ان کا انداز بیان نمایاںہے۔ جو الفاظ عموماً غزل میں استعمال نہیں ہوتے ہیں ان الفاظ کوبھی جون ایلیا نے اپنی غزلوں میں علامت بنا کر پیش کیاہے۔ کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ نظم کیا ہے۔ جون ایلیا نے اپنی شاعری کو فکروفن کا حسین امتزاج جو دیا تو شاعری کی دنیا میں وہ ایک بلکل الگ اور انوکھی شناخت لے کر وارد ہوئے اور اپنے ہم عصر شعراء کو پیچھے چھوڑ دیا
کیا کہا عشق جاودانی ہے!
آخری بار مل رہی ہو کیا
،،
میری بانہوں میں بہکنے کی سزا بھی سن لے
اب بہت دیر میں آزاد کروں گا تجھ کو
پاکستانی سینئر اداکار منور سعید بھی جون ایلیا کے رشتے دار ہیں۔ جون ایلیا کی تعلیم امروہہ کے مدرسوں میں ہوئی جہاں انہوں نے اردو، عربی اور فارسی سیکھی۔ اسے نصابی کتابوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ بڑے ہونے کے بعد وہ فلسفہ اور ادب میں دلچسپی لینے لگے۔ انہوں نے اردو، فارسی اور فلسفہ میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ انگریزی، پہلوی اور عبرانی، سنسکرت اور فرانسیسی بھی جانتے تھے۔ جوانی میں وہ کمیونزم کی طرف راغب ہو گئے۔سنہ ء۱۹۵۶ میں اپنے والدین کی وفات کے بعد وہ جبراً پاکستان آئے۔ لیکن امروہہ تمام زندگی ان کے دل میں آباد رہا ۔وہ کراچی میں آباد ہو گئے تھے لیکن امروہے کے گلی کوچوں میں ہی اپنے شب و روز بسر کرتے تھےجون ایلیا کو کام میں مشغول کرنے اور انہیں ہجرت کے دباؤ سے آزاد کرنے کے لیے،ان کے بڑے بھائ رئیس امروہوی نے ایک علمی اور ادبی جریدہ "انشا" شروع کیا، جس میں جون ایلیا نے اداریے لکھے۔
بعد میں اس رسالے کو "ورلڈ ڈائجسٹ" میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس عرصے کے دوران جان نے قبل از اسلام مشرق وسطیٰ کی سیاسی تاریخ مرتب کی اور باطنیت اور فلسفہ پر کتابوں کا انگریزی، عربی اور فارسی میں ترجمہ کیا۔ انہوں نے کل 35 کتابیں مرتب کیں۔ وہ اردو ڈویلپمنٹ بورڈ (پاکستان) سے بھی وابستہ رہے، جہاں انہوں نے ایک عظیم اردو لغت کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔جون ایلیا کا مزاج بچپن سے ہی رومانوی تھا۔ وہ اکثر اپنے تصور میں اپنے محبوب سے باتیں کیا کرتے تھا۔ جون ایلیا جس زمانے میں ’’انشا‘‘ میں کام کر رہے تھے اس دوران ان کی ملاقات مشہور صحافی اور افسانہ نگار زاہدہ حنا سے ہوئی۔سال 1970 میں دونوں کی شادی ہوگئی۔ زاہدہ حنا نے ان کا خوب خیال رکھا اور وہ آپس میں خوش تھے لیکن دونوں کے مزاج میں فرق نے آہستہ آہستہ اپنا رنگ دکھایا۔ آخر کار تین بچوں کی پیدائش کے بعد دونوں میں طلاق ہو گئی۔ انکی دو بیٹیاں سنینا ایلیا، فینانا فرنام ، اور ایک بیٹا زریون ایلیا ہیں۔
جون ایلیا کی شخصیت کو ان کے دوست نے کچھ یوں پیش کیا ہے۔ "ایک تیز مزاج لیکن انتہائی مخلص دوست، ایک مہربان اور صاف گو استاد، اپنے خیالات میں ڈوبا ہوا راہگیر، ایک دلچسپ بحث کرنے والا، ایک مغرور فلسفی، ایک جلد باز سوگوار، غیر معقول طور پر خودغرض اور سرکش۔ ایک عاشق، ایک ویران۔ جو ہر وقت تمباکو نوشی کرتا ہے، ایک محفل پسند، بہت کمزور لیکن جھگڑا کرنے کا شوقین ایک ہی وقت میں پوری دنیا کے ساتھ، ایک غیر محرم جو ہر وقت کو اپنا محرم سمجھتا ہے، انتہائی غیر ذمہ دار، بیمار، شدید جذبے کا شاعر، یہ فنکار ہے جسے جون ایلیا کہتے ہیں۔ جون ایلیا نے پاکستان پہنچتے ہی اپنی شاعری کا جھنڈا گاڑ دیا تھا، شاعری کے ساتھ ساتھ ان کے ڈرامائی انداز سے بھی سامعین محظوظ ہوئےان کی شرکت ہی مشاعروں کی کامیابی کی ضمانت تھی۔ ممتاز شعراء ان مشاعروں میں شرکت سے گھبراتے تھے جن میں جون ایلیا بھی شامل تھے۔ جان کو عجوبہ بن کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا شوق تھا۔ گرمیوں میں کمبل اوڑھ کر باہر نکلنا، رات کو دھوپ کا چشمہ لگانا اور لمبے جوتے پہن کر لوگوں سے ملنے نکلنا ان کا عام تھا۔ زاہدہ حنا سے علیحدگی جون کے لیے بہت بڑا صدمہ تھا۔ وہ نیم تاریک کمرے میں اکیلے بیٹھے رہا کرتے تھے۔ سگریٹ نے بھی ان کی صحت کو متاثر کیا۔ ان کا انتقال 8 نومبر (2002) کو ہوا
ساری گلی سنسان پڑی تھی باد فنا کے پہرے میں
ہجر کے دالان اور آنگن میں بس اک سایہ زندہ تھا
اتوار، 29 دسمبر، 2024
اور حضرت زکریا ّٗع 'کا قلم پانی میں ٹہر گیا
از روئے قران قصہ بی بی مریم سلام اللہ علیہا ' بنتِ عمران علیہ السلام
حضرت مریم ؑ کی والدہ حنّہ بنتِ فاقوذ بن قبیل نہایت برگزیدہ خاتون تھیں۔ آپ کا حضرت دائود علیہ السلام کے خانوادے سے تعلق تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مال و دولت سمیت ہر طرح کی آسائش سے نوازا، لیکن اولاد کی نعمت سے محروم تھیں۔ اُن کے شوہر عمران بن ہاشم بھی عابدوزاہد، متقّی و پرہیزگار شخص تھے، جن کا شمار بنی اسرائیل کے بڑے عالموں میں ہوتا تھا۔ گرمیوں کی ایک سہ پہر کا ذکر ہے، بی بی حنّہ اپنے گھر کے صحن میں درختوں کے نیچے آرام کررہی تھیں کہ اچانک اُن کی نظر درخت کی ایک ٹہنی پر پڑی، جہاں ایک چڑیا اپنے معصوم بچّے کو دانہ کِھلانے میں مصروف تھی۔ بچّے سے ماں کی بے لوث محبّت کے اس منظر نے حنّہ کی ماں بننے کی خواہش کو دل میں جگا دیا۔ بے اختیار ربّ ِذوالجلال کی بارگاہ میں ہاتھ بلند کردیئے اور عاجزی و انکساری کے ساتھ دُعا گو ہوئیں، ’’اے پروردگار! اسی طرح مجھے بھی اولادعطافرما۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنی نیک بندی کی دُعا قبول فرمائی اور بی بی حنّہ کو گود ہری ہونے کی نوید مل گئ
اس خُوش خبری کے بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ سے منّت مان لی، جس کا ذکر قرآنِ کریم میں باری تعالیٰ نے یوں فرمایا، ترجمہ: ’’جب عمران کی بیوی نے کہا، اے میرے ربّ! جو کچھ میرے پیٹ میں ہے، سب سے آزاد کرکے مَیں نے تیری نذر کیا۔ سو، تُو مجھ سے قبول فرما، بے شک تُو ہی سُننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘ اور جب بچّی پیدا ہوئی، توکہنے لگیں کہ ’’اے میرے ربّ! مَیں نے تو وہ لڑکی جَنی ہے۔ اور جو کچھ اُس نے جنا ہے، اللہ اُسے خُوب جانتا ہے، اور بیٹا، بیٹی کی طرح نہیں ہوتا، اور مَیں نے اِس کا نام مریم رکھا اور میں اِسے اور اِس کی اولاد کو شیطان مردود سے بچا کر تیری پناہ میں دیتی ہوں۔‘‘ (سورۂ آلِ عمران، آیات نمبر 35،36)حضرت مریم کی ماں نے جو نذر مانی تھی، وہ بیت المقدس کی خدمت تھی اور بیت المقدس کی خدمت کے کام لڑکے ہی کرسکتے تھے۔ بیت المقدس کی خدمت کے لیے لڑکیوں اور عورتوں کے لینے کا رواج نہیں تھا۔
لیکن جب حضرت عمران کی بیوی کو لڑکی پیداہوگئی تو انھوں نے بڑی حسرت و یاس سے اپنے رب کو پکارا اور فرمایاخدایا! میں تو اسے تیرے نام وقف کرچکی تھی، لیکن مجھے تو لڑکی ہوئی ہے۔ نذر مانتے وقت ان کے خیال میں یہی تھا کہ لڑکاہوگا مگر لڑکی پیدا ہوگئی۔ معذرت پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ اب میری نذر کا کیا ہوگا؟ اللہ نے انھیں تسلی دی اور اطمینان دلایاکہ نذر مانتے ہوئے تمہیں اس کا علم نہیں تھا کہ کیا پیدا ہوگا مگر اللہ تعالیٰ تو جانتاتھا کہ تمہیں لڑکی پیدا ہوگی اور وہ لڑکی اور اس کے بطن سے پیدا ہونے والا لڑکا دونوں ہی اللہ کی نشانیوں میں سے ہوں گے۔ تمہیں اس لڑکی کی ابھی قدر معلوم نہیں ہے، اس لیے تم حسرت کررہی ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے پھر جب بچی اس کے یہاں پیدا ہوئی تو اس نے کہا: مالک! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوگئی ہے۔ حالانکہ جو کچھ اس نے جناتھا اللہ کو اس کی خبر تھی۔ اور لڑکا لڑکی کی طرح نہیں ہوتا۔ خیر، میں نے اس کا نام مریم رکھ دیاہے اور اسے اور اس کی آیندہ نسل کو شیطان مردود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہیں۔
خرکار اس کے رب نے اس لڑکی کو بخوشی قبول فرمالیا۔ اُسے بڑی اچھی لڑکی بناکر اُٹھایا اور زکریا کو اس کا سرپرست بنادیا۔ زکریا جب کبھی اس کے پاس محراب میں جاتے تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان ہوتا۔آپ پوچھتے مریم! یہ تمھارے پاس کہاں سے آیا؟ وہ جواب دیتیں اللہ کے پاس سے آیا ہے۔ اللہ جسے چاہتاہے بے حساب رزق دیتا ہے‘‘۔مریمؑ حضرت زکریا ؑ کی کفالت میں اللہ کی طرف سے نذر قبول ہوگئی اور حضرت مریم بیت المقدس کی خدمت اور اس میں عبادت کے لیے خاص کردی گئیں تو اب سوال اٹھاکہ ان کی کفالت کون کرے۔ پہلے ذکر ہوچکاہے کہ ان کے والد عمران بن ماثان کا ان کی ولادت سے پہلے ہی انتقال ہوچکاتھا۔ اللہ کی طرف سے والدۂ مریم کی نذر اس لڑکی کی شکل میں قبول ہوجانے کے بعد اس کی بڑی اہمیت اور فضیلت ہوگئی تھی۔ بیت المقدس کے خدمت گاروں اور کارندوں میں اس بات پر جھگڑا ہونے لگا اور ہر کوئی چاہیے لگاکہ یہ عظیم لڑکی اس کی کفالت میں دی جائے۔جب کسی معاملے میں کوئی فیصلہ کرنا مشکل ہوتو پھر ایک شرعی طریقہ یہ ہے کہ قرعہ اندازی کی جائے اور اس میں جو نکل جائے اسی کو فیصلہ مان لیاجائے۔ حضرت مریم کی کفالت کے سلسلہ میں بھی قرعہ اندازی ہوئی، لیکن یہ قرعہ اندازی دوسری شکل میں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
ذٰلِکَ مِنْ اَنْبَ آئِ الغَیْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْکَ وَمَاکُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَیُّھُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ وَمَاکُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ ﴿اٰل عمران: ۴۴﴾
وَکَفَّلَھَازَکَرِیَّا ﴿اٰل عمران: ۳۷﴾ ’’اور زکریا کواس کا سرپرست بنادیا’’
حضرت زکریاؑ حضرت مریمؑ کے سگے خالو تھے اور اپنے اس رشتہ اور قرابت کی وجہ سے انھوں نے دعویٰ کیاکہ اس لڑکی کی سرپرستی مجھے ملنی چاہیے۔ لیکن ان کی اس دلیل کو لوگوں نے تسلیم نہیں کیا تو پھر فیصلے کے لیے قرعہ ڈالاگیا۔ قرعہ ڈالنے کی شکل یہ ہوئی کہ بیت المقدس کے خدمت گاروں نے اپنے وہ قلم جن سے وہ توریت لکھتے تھے، سب نہراردن میں ڈال دیے اور کہاکہ جس کا قلم پانی کے بہائو کے ساتھ نہیں بہے گا، وہی اس لڑکی کا کفیل اور سرپرست ہوگا۔ چنانچہ سب کے قلم پانی کے بہائو کے ساتھ بہہ گئے۔ حضرت زکریاؑ کا قلم پانی کے بہائو کے ساتھ نہیں بہا اور ٹھہرا رہ گیا۔ اس طرح حضرت مریمؑ حضرت زکریا کی کفالت و سرپرستی میں دے دی گئیں ۔ ‘‘یہ بھی اللہ کاخاص فضل ہواکہ ان کی کفالت و تربیت کی ذمہ داری حضرت زکریاؑ نے اٹھائی جو حضرت مریم کے خالو تھے اور اس دور میں بیت المقدس کے اسرائیلی اصطلاح میں کاہنِ اعظم بھی‘‘۔ ﴿تدبر قرآن ، ج ۲، ص:۷۷﴾
ہفتہ، 28 دسمبر، 2024
دیو مالائ حسین وادی میں شندور پولو میلہ
شندور میلہ اور شندور پولو کی تاریخ ۔۔۔ قدرتی حسن سے مالا مال دیو مالائ حسین وادی میں چاند کی روشنی میں کھیلا جانے والا یہ منفرد کھیل اب پوری دنیا میں پاکستان کے خو بصورت چہرے سے روشناس کروا رہا ہے -آئے پہلے اس کھیل اور اپنے جنت گمان گلگت بلتستان کے بارے میں کچھ جانتے ہیں
بنیادی طور پر گلگت بلتستان دو خطوں پر مشتمل ہے۔ایک حصہ '' بلتستان'' جب کہ دوسرا ''گلگت'' کہلاتا ہے۔ سحر انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی جغرافیائی حیثیت بھی خوب اہمیت کی حامل ہے۔ کوہِ قراقرم، کوہِ ہمالیہ اور کوہ ِہندوکش کے پہاڑی سلسلوں کے سنگلاخ و د ل فریب قدرتی حصار میں انمول ہیرے کی طرح جگمگاتا گلگت بلتستان کا خطہ پہلے شمالی علاقہ جات کے نام سے مشہور تھا۔ تقریباً پندرہ لاکھ آبادی اور چودہ اضلاع پر مشتمل یہ صوبہ حسین وادیوں،دل موہ لینے والے میدانوں، برف پوش پربتوں، قدرت کی رعنائیوں،نایاب پھولوں اور رسیلے پھلوں سے لدے خوب صورت باغات کی بدولت جنت نظیر کا درجہ رکھتا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں ملکی و غیر ملکی سیاح ہر برس گلگت بلتستان کے خوب صورت ترین مقامات کی سیر و سیاحت اور تفریح کے لیے پاکستان کا رُخ کرتے ہیں۔ صوبے کے اہم سیاحتی مقامات میں دیوسائی، شنگریلا، فیری میڈوز، کچورا جھیل، خنجراب، بابوسر ٹاپ، عطا آباد جھیل، خلتی جھیل،ستپارا جھیل، راما، سرد صحرا، پھنڈر، شندور وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ موسمِ گرما کا آغاز ہوتے ہی پاکستان کے مختلف شہروں سمیت دنیا بھرکے لوگ سیر و سیاحت کی غرض سے یہاں کھچے چلے آتے ہیں۔ چند ہی برسوں میں یہ صوبہ اپنی مبہوت کر دینے والے حسن و دل کشی، سحر انگیزپربتوں اور بے پناہ قدرتی وسائل کی بدولت اپنی الگ شناخت بنا چکا ہے۔
چترال میں واقع شندور ٹاپ جہاں مشہور شندور پولو میچ کھیلا جاتا ہے اور اسی مناسبت سے شندور میلہ کے نام سے جانا جاتا ہے اس میں ملکی و غیرملکی سیاحوں کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے ۔ خوبصورت پہاڑوں ، سرسبز میدانوں، شفاف نیلگوں پانی کی نہروں ، چنار کے درختوں اور پھولوں میں گھرے اس علاقے کی خوبصورتی کشاں کشاں لوگوں کو دنیا بھر سے کھینچ لاتی ہے۔ شندور میلے کے دوران چترال اور گلگت کی ٹیموں کے درمیان میچ کھیلا جاتا ہے جس کو دیکھنے کیلئے ایک بڑی تعداد جمع ہوتی ہے اور ہر حملے پر داد وتحسین کے نعرے بلند کئے جاتے ہیں یہ روایت سینکڑوں سالوں سے اسی طرح چلی آرہی ہے ۔ پولو کا یہ میدان3734 میٹر کی بلندی پر شندور پاس کے پاس واقع ہے ۔ تین روزہ میچ کے دوران میدان کے گرد سیاح ٹینٹ لگاتے ہیں اور رہائش اور کھانے کا بندوبست کرتے ہیں ۔ اس دوران مختلف علاقوں اور ملکوں سے آئے ہوئے لوگوں کی چہل پہل دیدنی ہوتی ہے ۔ اس میلے میں پہنچنے کیلئے عمومی طور پر سیاحوں کا سفر اسلام آباد سے شروع ہوتا ہے ،’’فور ویلر‘‘ گاڑ ی میں سوات اور دیر کی وادیوں سے گزرتے ہوئے لواری پاس سے ہوتے چترال پہنچتے ہیں۔
کیلاش کی وادی بھی رستے میں پڑتی ہے ، کیلاش کے قبائل تین علاقوں میں منقسم ہیں جن میں بھمبورٹ، رمبر اور بھر شامل ہیں جنہیں سکندر اعظم کی فوج کی نسل سے قرار دیا جاتا ہے ۔کو ہ ہندوکش میں ترچ میر کی برف میں ڈھکی خوبصورت چوٹی کو بھی یہیں سے گزرتے ہوئے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ سفر کے دوران آپ کے پاس کیا ہونا چاہیے:پانی کی بوتل، ٹارچ، کیپ، ہلکے اور گرم کپڑے، واٹرپروف جیکٹس، کیمرہ، نوٹ بک، تولیہ، جاگنگ شوزیا ٹریکنگ شوز، چھتری، واکنگ چھڑی ، صابن۔شندور تک پہنچنے کیلئے اسلام آباد سے بذریعہ سڑک یا اسلام آباد ٹو گلگت بذریعہ ہوائی جہاز سفر اختیار کیا جاسکتا ہے ۔گلگت شہر سے خضر شندور تک سڑک بہت اچھی بنی ہوئی ہے اور رستے میں بہت سے قدرتی مناظر کو دیکھتے ہوئے انسان کی آنکھیں اللہ پاک کی کبریائی کے آگے جھک جاتی ہیں۔خلتی و پھنڈر جھیل اور شندور جھیل کے دل کو موہ لینے والے مناظر سے متاثر ہوئے بنا کو ئی سیاح رہ نہیں پاتا۔ یہاں کے خوشگوار موسم میں جولائی اگست کے مہینے میں شندور میلا منعقد ہوتا ہے جو کہ تین روز تک جاری رہتا ہے ۔
شندور کو عام طور پر دنیا کی چھت کہا جاتا ہے ۔پنجی کے مقام پر خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کو الگ کرنے والی پٹی بھی واقع ہے ۔ شندور ٹاپ پر ہموار میدان ہے جو کہ شندور جھیل کے ساتھ واقع ہے جہاں گرائونڈ پر پولو میچ کھیلا جاتا ہے ۔یہ گرائونڈ سکردو کے راجہ علی شیر خان انچن نے تعمیر کروائی تھی ۔ پولو ٹورنامنٹ 1936ء سے ہر سال کھیلا جاتا ہے جسے دیکھنے کیلئے ملک بھر سے اور بیرون ملک سے لوگ آتے ہیں ۔ شندور فیسٹیول میں پولو میچ کے لئے فائنل ٹیمیں منتخب کرنے کیلئے ضلع چترال اور ضلع گلگت کی ٹیموں کے درمیان متعدد میچز ہوتے ہیں ۔میچ کا وقت ایک گھنٹہ رکھا جاتا ہے اور اس میںدو وقفے ہوتے ہیں ۔گرائونڈ کو دو سو میٹر لمبا اور56 میٹر چوڑا رکھا جاتا ہے ۔ دونوں اطراف کی ٹیموں کو سپورٹ کرنے کیلئے ان کے سپورٹر ز جمع ہوتے ہیں اورمیچ نہایت جوش و جذبہ اور انہماک سے دیکھا جاتا ہے ۔ اس موقع پر مقامی فوک میوزک، بار بی کیو اور کیمپنگ کا بھی اہتمام ہوتا ہے ۔شندور میں پولو کی شروعات برطانوی باشندوںنے رکھی ۔
یہ کہا جاتا ہے کہ 1935 ء میں، شمالی علاقوں کے لئے برطانوی ایڈمنسٹریٹر ایولین ہے کوب نے نیات قبول حیات کاکا خیل کو شندور میں ایک اچھی پولیو گرائونڈ تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے لوگوں کی مدد سے پولو گرائونڈ بنائی۔ بعد میں اس پولو زمین کو’’ماس جنالی‘‘ کا نام دیا گیا ۔ ’’ماس جنالی‘‘ لفظ کھوار زبان سے حاصل کیا گیا ہے ۔لفظ ’’ماس‘‘ کا مطلب چاند اور ’’جنالی‘‘ کا مطلب ہے پولو گرائونڈ۔میجر ہے کوب پورے چاند کی روشنی میں پولو کھیلنے کا شوقین تھا اور شندور جھیل کے قریب پورے چاند کی رات میں پولو کھیلنے کا اپنا ہی لطف تھا جس کیلئے اس نے 37 سو میٹر کی بلندی پر پولو گرائونڈ بنواکر آنے والی نسلوں کے لئے ایک تفریحی مقام بنا دیا۔ کاکاخیل کی خدمات کے صلہ میں ہے کوب نے انہیں انعامات سے نوازنے کا اعلان کیا جسے انہوں نے شکریہ کے ساتھ لینے سے انکار کرتے ہوئے ٹرائوٹ مچھلی مقامی جھیلوں میں ڈالنے کی فرمائش کی جسے پورا کرتے ہوئے ہے کوب نے انگلینڈ سے زندہ ٹرائوٹ منگوائی اور انہیںدریائے خضر میں ڈلوادیا۔اس طرح محکمہ فشریز قائم ہوا اور سینکڑوں مقامی افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئے۔اب ان مچھلیوں کی پیداوار ہدراب جھیل میں اور بہا جھیل میں خاصی ہو چکی ہے ۔ اس طرح ماس جنالی گلگت اورخیبرپختونوا کے لوگوں کے درمیان ایک تعلق کا ذریعہ بن گیا۔خضر اور چترال کی ٹیموں کے درمیان میچ ابھی تک ایک دلچسپ مقابلے اور میلے کی صورت اختیار کرچکا ہے
میں نے یہ آرٹیکل انٹر نیٹ کی مدد سے لکھا ہے
شکریہ گوگل
جمعہ، 27 دسمبر، 2024
دیوسائی نیشنل پارک-بھورے ریچھوں کی سر زمین-parT -1
دیوسائی نیشنل پارک-بھورے ریچھوں کی سر زمین
دیوسائی نیشنل پارک دنیا کے خوبصورت اور بلند ترین سطح مرتفع سے 13 ہزار 500 فٹ بلند اور 3 لاکھ 58 ہزار 400 ہیکٹرز پر مشتمل ہے۔دیوسائی کو دنیا کی چھت اور لینڈ آف جائینٹز ‘land of the giants’ بھی کہا جاتا ہے۔ نانگا پربت کے برفیلے پہاڑ، شفاف ندی نالے، مچھلیاں، پرندے، سیکڑوں اقسام کے پودے (150 کے قریب ادویاتی پودے) اور کہیں کہیں بکری اور بھیڑ دیکھ کر دیوسائی پر جنت کا گماں ہونے لگتا ہے۔دنیا کا یہ بلند ترین میدان 8 ماہ برف کی چادر اوڑھے رکھتا ہے اور پھر بہار میں اس کے میدانوں میں دنیا کے نایاب رنگوں کے پھول کھل اٹھتے ہیں اور سیاح کھنچے چلے آتے ہیں۔اس خوبصورت مقام دیوسائی کو 1993ء میں نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا اور اس میدان میں پھلتے پھولتے تمام جاندار محفوظ قرار پائے اور اس میں سب سے اہم فلیگ شپ نوع بھورے ریچھ کا تحفظ تھا، لیکن اسی تحفظ یافتہ بھورے ریچھ کے حوالے سے کمیونٹی میں بہت سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔یہ ریچھ ہمارے جانوروں کو کھا جاتا ہے، ایسا نہ ہو کہ ہم اس بھورے ریچھ کو مار ڈالیں‘، مقامی نوجوان نے ناراضی کا اظہار کیا۔ہم اسکردو سے 30 کلومیٹر دُور سدپارہ گاؤں میں بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ گاؤں دیوسائی نیشنل پارک کے بفرزون میں آتا ہے۔ گاؤں والوں کی ناراضی کی وجہ ان کا یقین ہے کہ دیوسائی کا بھورا ریچھ جسے ہمالین براؤن بیئر یا ursus arctos بھی کہا جاتا ہے ان کے جانوروں کا شکار کرتا ہے جبکہ نیشنل پارک کی انتظامیہ اس سے انکار کرتی ہے۔دیوسائی نیشنل پارک کی انتظامیہ اور مقامی آبادی کے مابین ریچھ کے حوالے سے ابتدا ہی سے یہ تنازع موجود ہے اور 26 سال گزرنے کے باوجود یہ جھگڑا طے نہیں ہوسکا کہ براؤن بیئر جانور کھاتا ہے یا نہیں؟
دیوسائی پر پائے جانے والے بھورے ریچھ ursus arctos کی یہ قسم omnivore یعنی سبزی اور گوشت خور ہے۔ ریچھوں کی یہ قسم پاکستان کے علاوہ نارتھ امریکا میں بھی پائی جاتی ہے۔ پاکستان میں یہ الپائن میڈو اینڈ سب الپائن اسکرب میں پائی جاتی ہے۔ چند ریچھوں کو راما اور بیافو گلیشئرز جبکہ چند ایک چترال اور خنجراب نیشنل پارک میں بھی دیکھے گئے لیکن ان کا اصل مسکن دیوسائی کے میدان اور برفیلے پہاڑ ہیں۔دیوسائی پر پائے جانے والے بھورے ریچھ ursus arctos کی یہ قسم omnivore یعنی سبزی اور گوشت خور ہے—فوٹو: کامران سلیمنیشنل پارک کے قیام سے پہلے ریچھوں کی تعداد بہت کم تھی۔ وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ اسلام آباد سے وابستہ وقار ذکریا نے دیوسائی کو نیشنل پارک کا درجہ دلوانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ وقار ذکریہ پیشے کے اعتبار سے تو انجینئر ہیں لیکن جنگلی حیات کے تحفظ کے حوالے سے ان کی خدمات 38 سالوں پر محیط ہیں۔وقار ذکریہ بتاتے ہیں کہ جب 20، 25 سال پہلے ہم یہاں ٹریکنگ کرتے تھے تو ہمیں کوئی ریچھ نظر نہیں آتا تھا۔
لیکن جب ہم نے سروے کیا تو صرف 17 ریچھ ملے تھے لہٰذا ہم نے کوشش کرکے دیوسائی کو نیشنل پارک ڈیکلیئر کروایا اور اب تازہ ترین سروے کے مطابق یہ تعداد 76 ہوچکی ہے۔ یقیناً یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔لیکن مقامی آبادی نیشنل پارک میں ریچھوں کی اس بڑھتی ہوئی تعداد کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ جانوروں کے ایک مقامی ڈاکٹر غلام رسول کا کہنا ہے کہ ’چونکہ ریچھوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے اور نیشنل پارک میں ان کے لیے خوراک کافی نہیں رہی اس لیے اب یہ شکار کے لیے آبادیوں کے قریب نالوں میں آجاتے ہیں‘۔سدپارہ کے عباس جان کا کہنا ہے کہ نیشنل پارک کا یہ رقبہ ریچھوں کی اتنی بڑی تعداد کے لیے بہت کم ہے۔ اس لیے اب یہ نیشنل پارک کے حدود کے باہر موجود نالوں میں آجاتے ہیں جہاں ہمارے جانور چرتے ہیں تو اب ہم اپنے جانور کہاں لے جاکر چرائیں؟ انہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ پچھلے سال صرف میلپن نالے میں 8 بکریاں شکار ہوئیں۔ اگر ایک گائے یا بکری بھی ماری جاتی ہے تو غریب آدمی کا ہزاروں کا نقصان ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں ہمارے نقصان کا ازالہ کیا جانا چاہیے لیکن ڈپارٹمنٹ کے لوگ ہماری بات سننے کے بجائے ہمارا مذاق اڑاتے ہیں۔
عباس جان نے مزید کہا کہ پچھلے سال جہاں جانور مرا تھا وہاں نہ صرف ریچھ کے قدموں کے نشانات موجود تھے بلکہ اس کا فضلہ بھی موجود تھا۔ ہم نے تمام ثبوت ڈپارٹمنٹ کو دیے مگر انہوں نے ہماری بات ماننے سے انکار کردیا-دنیا کا یہ بلند ترین میدان 8 ماہ برف کی چادر اوڑھے رکھتا ہےایک اور گاؤں چلم استور کے فدا علی سلطانی جن کا ہوٹل بھی ہے، وہ عباس کی تائید کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ریچھ شدید سردیوں سے پہلے خوراک کی تلاش میں دیوسائی سے نیچے اتر کر نالوں میں آجاتے ہیں۔ اس سال 50 سے 60 جانور ریچھ کی خوراک بن چکے ہیں۔ ریچھ کو ہم نے گاؤں میں گھومتے بھی دیکھا ہے۔اس کا ثبوت دیتے ہوئے فدا علی کہتے ہیں کہ ہمارے گاؤں کا ایک شخص بشارت حسین ہوٹل سے رات کے وقت واپس گھر جارہا تھا تو اسے اپنے گھر کے دروازے پر ریچھ نظر آیا اور اس نے بمشکل گھر میں داخل ہوکر اپنی جان بچائی۔وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر انیس الرحمٰن بھی ایسے تمام شواہد کو رد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دیوسائی کا براؤن بیئر omnivore ہے یعنی گھاس خور بھی ہے اور گوشت خور بھی، لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ مقامی آبادی کے جانور کا شکار کرتا ہے۔
بیئر کی feces کا تجزیہ اور تحقیق موجود ہے جس کے مطابق اس کی خوراک جڑی بوٹیاں اور دیوسائی پر پائے جانے والے چھوٹے چوہے (voles) ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ مقامی آبادی کے جانور مرتے ضرور ہوں گے مگر اس کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں۔ دیوسائی میں اور بھی تو جانور ہیں مثلاً بھیڑیے ہیں اور اسنو لیوپرڈ بھی دیکھا گیا ہے لیکن چونکہ نیشنل پارک بننے کے بعد ریچھ کی اہمیت بڑھ چکی ہے اس لیے ریچھ پر الزام لگایا جاتا ہے۔ ۔ ریچھ کو ہم نے گاؤں میں گھومتے بھی دیکھا ہے-اس کا ثبوت دیتے ہوئے فدا علی کہتے ہیں کہ ہمارے گاؤں کا ایک شخص بشارت حسین ہوٹل سے رات کے وقت واپس گھر جارہا تھا تو اسے اپنے گھر کے دروازے پر ریچھ نظر آیا اور اس نے بمشکل گھر میں داخل ہوکر اپنی جان بچائی۔وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر انیس الرحمٰن بھی ایسے تمام شواہد کو رد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دیوسائی کا براؤن بیئر omnivore ہے یعنی گھاس خور بھی ہے اور گوشت خور بھی، لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ وہ مقامی آبادی کے جانور کا شکار کرتا ہے۔ بیئر کی feces کا تجزیہ اور تحقیق موجود ہے جس کے مطابق اس کی خوراک جڑی بوٹیاں اور دیوسائی پر پائے جانے والے چھوٹے چوہے (voles) ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ مقامی آبادی کے جانور مرتے ضرور ہوں گے مگر اس کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں۔
شبینہ فراز سینئر صحافی ہیں، پچھلے 15 برسوں سے ماحولیات کے موضوع پر لکھ رہی ہیں۔ آپ کو مختلف ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ہے۔ آپ غیر ملکی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کا اعزاز رکھنے کے ساتھ ساتھ مختلف بین الاقوامی فیلو شپ بھی حاصل کرچکی ہیں۔میں شبینہ فراز بیٹی کا مضمون ان کے شکرئیے کے ساتھ اپنی ویب سائٹ پر دے رہی ہوں
لواری ٹنل 42 سالہ تعمیراتی دور سے گزر کر مکمل ہوئی
بدھ، 25 دسمبر، 2024
یا اللہ !جنت میں میرا ہم سایہ کون ہوگا؟حضرت موسیٰ علیہ السلام
منگل، 24 دسمبر، 2024
صا حب کشف و کرامت ولی اللہ حضرت بہا الدین زکریا ملتانی
حضرت محمد مصطفےٰصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اعلان نبوت کے آغاز سے ہی بھارت میں اسلام کی تبلیغ کا سلسلہ شروع ہوا۔ جس کا دائرہ طویل ہوتے ہوئے اس وقت کے غیر منقسم ہندوستان کے خطہ ملتان تک آ پہنچا جہاں صوفیائے کرام نے اپنے علم اور حلم سے اپنے حلقہ ارادت بنائے اور عوام الناس کو علم دین سے روشناس کیا - اللہ کے ان ولیوں میں حضرت بہا الدین زکریا ملتانی کا نام ایک روشن سورج کی مانند ہے -حضرت بہاؤ الدین ذکریا ملتانیؒ 565ھ کو ملتان میں ایک ہاشمی گھرانے میں پیدا ہوئے -حضرت بہاؤالدینؒ سے کشف و کرامات کے بہت سے واقعات منسوب ہیں اور جو مورخین کے مطابق حقیقت پر مبنی ہیں، ان جیسی عظیم ہستیوں نے اپنی پوری عمر عبادت و ریاضت اور مخلوق خدا کی خدمت کرنے میں بسر کی، دنیا کی محبت اور کشش ان کے لیے بے معنی تھی۔حضرت شیخ بہاؤالدین ذکریاؒ فرمایا کرتے تھے کہ میرے پاس جو کچھ ہے وہ نماز کا صدقہ ہے اور جو کچھ مجھے حاصل ہوا ہے وہ نماز کے ذریعے حاصل ہوا ہے۔
حضرت نظام الدین اولیا ءکی ایک کرامت کی روایت ہے کہ شیخ الاسلام حضرت شیخ بہاء الدین زکریاؒ اپنی طویل سیاحت کے دوران سراندیہ بھی تشریف لے گئے تھے اور ایک پہاڑ پر سال بھر تک آپ کا قیام رہا تھا۔ ایک دن ایک بوڑھا شخص اپنے سر پر لکڑیوںکا گٹھر اٹھائے ہوئے آپ کے قریب سے گزرا۔ گرم موسم اور ناتوانی کے سبب وہ بوڑھا لڑکھڑایا اور لکڑیاں اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گر پڑیں۔ بوڑھے نے دوبارہ اس بوجھ کو اٹھانے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ حضرت شیخ بہاء الدین زکریاؒ کچھ دیر تک یہ منظر دیکھتے رہے۔ بوڑھا شخص بار بار لکڑیوں کے گٹھر کو اٹھانے کی کوشش کرتا لیکن ہر مرتبہ اس کی طاقت جواب دے جاتی تھی۔ آخر حضرت شیخ بہاء الدین زکریاؒ پہاڑ سے اُترے اور بوڑھے شخص کے پاس تشریف لائے۔’بابا! اس ضعیفی میں تم اتنی محنت کیوں کرتے ہو؟‘‘ حضرت شیخ بہاء الدین زکریاؒ نے بوڑھے شخص کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’کیا تمہارا کوئی بیٹا نہیں جو یہ کام انجام دے سکے؟‘‘’یہی تو میری مجبوری ہے کہ میں کوئی بیٹا نہیں رکھتا۔‘‘ بوڑھے شخص نے انتہائی افسردہ لہجے میں کہا۔ ’’گھر میں کئی جوان بیٹیاں بیٹھی ہیں، ان ہی کے شادی بیاہ کے لئے محنت کر رہا ہوں۔‘‘
حضرت شیخ بہاء الدین زکریاؒ کو بوڑھے کی حالت زار سُن کر بہت افسوس ہوا۔ ’’چلو ہم دونوں مل کر اس بوجھ کو اٹھاتے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر حضرت شیخ بہاء الدین زکریاؒ نے لکڑیاں اٹھا کر بوڑھے کے سر پر رکھ دیں۔بوڑھے نے حضرت شیخؒ کا شکریہ ادا کیا۔ ’’خدا کرے کہ یہ بھاری بوجھ گھر تک پہنچ جائے۔ اگر کہیں راستے میں ہی گر گیا تو کوئی سر پر اٹھا کر رکھنے والا بھی نہیں ہو گا۔ لوگ تو میری ضعیفی کا تماشا ہی دیکھتے رہتے ہیں۔ اللہ تمہارا بھلا کرے کہ تم نے میرا حال تو پوچھا۔‘‘مجھے اسی کام لئے یہاں بٹھایا گیا تھا۔ انشاء اللہ اب تمہارے سر سے یہ بوجھ اُتر جائے گا۔‘‘ حضرت شیخ بہاء الدین زکریاؒ نے فرمایا اور بوڑھا شخص آپ کو دعائیں دیتا ہوا چلا گیا۔
پھر جب وہ ضعیف انسان لکڑیوں کا بوجھ لے کر گھر پہنچا تو حیرت زدہ رہ گیا۔ تمام لکڑیاں چمکتے ہوئے سونے میں تبدیل ہو گئی تھیں۔ بوڑھے کی بیوی اور بچیاں حیران تھیں کہ یہ ناقابل یقین واقعہ کس طرح پیش آ گیا؟ آخر بہت غور و فکر کے بعد بوڑھے کو حضرت شیخ بہاء الدین زکریاؒ یاد آئے اور وہ بے اختیار چیخ اُٹھا :’ہاں! یہ اُسی مردِ حق کی کرامت ہے۔‘‘ بوڑھا جوشِ مسرت میں بہت مضطرب نظر آ رہا تھا ’’اُسی نے گری ہوئی لکڑیاں اُٹھا کر میرے سر پر رکھی تھیں۔‘‘بوڑھا اسی وقت پہاڑ کی طرف روانہ ہو گیا مگر جب وہاں پہنچا تو حضرت شیخ بہاء الدین زکریاؒ اپنے سفر پر جا چکے تھے۔
ایک اور موقع پر حضرت شیخ نے ایک ایسی بات کا انکشاف کیا، جسے سن کر حاضرین بھی حیرت میں مبتلا ہوگئے، ''میں نے بڑے بڑے مشائخ کے جملہ وظائف کا ورد کیا مگر مجھ سے ختم قرآن نہ ہوسکا۔'' مجلس سے ایک عقیدت مند نے اٹھ کر سوال کیا، ''مخدوم! آپ تو حافظ قرآن ہیں، ہزاروں بار کلام الٰہی ختم کرچکے ہیں۔''حضرت شیخ نے جواباً فرمایا، کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ فلاں بزرگ صبح صادق سے طلوع آفتاب تک قرآن ختم کرلیا کرتے تھے، میں نے بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکا، مگر خاصان خدا کے لیے بہت آسان ہے۔ حضرت شیخ نے سخت سے سخت ریاضتیں کی تھیں اور انھی وظائف نے انھیں روحانیت کے درجے پر پہنچایا، ایک موقع پر بہاؤ الدین ذکریاؒ نے دو رکعت نماز میں پورا قرآن پاک ختم کرنے کا شرف حاصل کیا تھا، ایک رکعت میں ایک قرآن اور چار پارے ختم کیے اور دوسری رکعت میں سورہ اخلاص پڑھی۔ اور پھر ایک زمانے کو اپنی علمی اور روحانی بصیرت تقسیم کرتے ہوئے 666ھ میں اپنی جان جان آفریں کے سپرد کی اور ملتان میں ہی آسودہء خاک ہوئے
کراچی میں کرائے کے اسلحے سے وارداتیں -پارٹ 2
پیر، 23 دسمبر، 2024
کراچی میں کرائے کے اسلحے سے وارداتیں
ہفتہ، 21 دسمبر، 2024
گنیز ورلڈ ریکارڈ رکھنے والی ٹی ایم مشین -درہ خنجراب
گنیز ورلڈ ریکارڈ رکھنے والی یہ اے ٹی ایم مشین دنیا کی بلند ترین کیش مشین چین اور پاکستان کے درمیان خنجراب پاس سرحد پر واقع ہے-سوست برانچ کے منیجر خنجراب میں بنے اے ٹی ایم کو کیش سے بھرنے کے لیے سخت موسم، دشوار پہاڑی گزرگاہوں اور بار بار لینڈ سلائیڈنگ کا مقابلہ کرتے ہوئے باقاعدگی سے سرحد تک سفر کرتے ہیں -خنجراب پاس پر بنی دنیا کی بلند ترین اے ٹی ایم جہاں پہنچنے کے لیے بادلوں سے گزرنا پڑتا ہےہم دنیا کی بلند ترین ’کیش مشین‘ (یعنی اے ٹی ایم) کی طرف جا رہے تھے جو پاکستان کے شمالی صوبہ گلگت بلتستان میں چین اور پاکستان کے درمیان خنجراب پاس کی سرحد پر واقع ہے۔ برف سے ڈھکی قراقرم کی چوٹیوں کے درمیان بنی سڑک خنجراب نیشنل پارک سے گزرتی ہے جہاں پاکستان کے قومی جانور مارخور کے علاوہ برفانی چیتے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ا س دور دراز اور بلند پہاڑی علاقے کے بیچ میں ایک اے ٹی ایم کیوں لگایا گیا ہے؟2016 میں نیشنل بینک آف پاکستان کی طرف سے تعمیر کی گئی، شمسی توانائی اور ہوا سے چلنے والی اے ٹی ایم مشین اس سرحدی کراسنگ کے اردگرد رہنے والے رہائشیوں، سرحدی فوجیوں اور سیاحوں کے کام آ رہی ہے۔کسی دوسرے اے ٹی ایم کی طرح ہی کام کرتی ہے۔ اسے نقد رقم نکالنے، یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی اور انٹر بینک فنڈ ٹرانسفر کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔بے شک اوپر پہنچنے پر آکسیجن کی کمی کا مسلہ ہوتا ہے لیکن اوپر پہنچنے کے بعد علاقہ کی دلداری سب بھول جانے پر مجبور کر دیتی ہے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کی طرف سے سنہ 2016 میں بنائے گئی، شمسی اور ہوا کی توانائی سے چلنے والی یہ اے ٹی ایم مشین اس سرحدی کراسنگ کے اردگرد کے رہائشیوں اور سرحدی فوجیوں کی محدود تعداد کے کام آ رہی ہے۔ سیاح اس اے ٹی ایم میں جانا ایک اعزاز سمجھتے ہیں، اور یہاں سے رقم نکالنے کی ایسی تصویریں لیتے ہیں جو ’کولڈ ہارڈ کیش‘ کے فقرے کو نئے معنی دیتی ہیں۔
دنیا کی بلند ترین کیش مشین چین اور پاکستان کے درمیان خنجراب پاس سرحد پر واقع ہےجنوبی افریقہ سے آئی ریٹائرڈ پرنسپل عائشہ بیات، جو اپنے شوہر کے ساتھ چھٹیوں پر آئی تھیں نے مزاحیہ انداز میں کہا ’میرا اکاؤنٹ فریز ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’ہم ایک ایسے ملک سے آئے ہیں جہاں ہمارے پاس بھی پہاڑی سلسلے ہیں۔۔۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہے۔ میں خوبصورت نظارے دیکھ رہی ہوں۔‘
بیات کے شوہر فاروق نے کہا ’ایفل ٹاور کی طرح تاریخی نشانیوں کا ہونا ضروری ہے۔ یہ باقی علاقے کو دیکھنے کا بہانہ بن جاتی ہیں۔‘لیکن اس تاریخی نشانی کی تعمیر کوئی چھوٹا کارنامہ نہیں تھا۔ اور نہ ہی اسے فعال رکھنا آسان ہے۔اس اے ٹی ایم کی نگرانی کرنے والی افسر شاہ بی بی نے بتایا کہ اس منصوبے کی تکمیل میں تقریباً چار ماہ لگے۔ قریب ترین این بی پی بینک سوست میں ہے جو یہاں سے 87 کلومیٹر دور ہے۔سوست برانچ کے منیجر زاہد حسین چوٹی پر بنے اس اے ٹی ایم کو رقم سے بھرنے کے لیے سخت موسم، دشوار پہاڑی گزرگاہوں اور بار بار لینڈ سلائیڈنگ کا مقابلہ کرتے ہوئے باقاعدگی سے یہاں تک کا سفر کرتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ’اوسطاً 15 دنوں کے اندر یہاں سے تقریباً 40-50 لاکھ روپے نکالے جاتے ہیں۔
‘اس دوران بی بی ریئل ٹائم ڈیٹا مانیٹر کرتی اور سوست برانچ کو فراہم کرتی ہیں۔ انھیں سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی، سولر پاور بیک اپ، نقد رقم واپس لینے اور پھنسے کارڈز (پچھلے سال تیز ہواؤں نے اے ٹی ایم کو عارضی طور پر بند کر دیا) سے متعلق ہنگامی صورتحال سے بھی نمٹنا ہے۔بی بی نے بتایا ’زمین پر موجود ایک شخص کو اے ٹی ایم تک پہنچنے اور مرمت کرنے میں تقریباً دو سے ڈھائی گھنٹے لگتے ہیں۔‘کچھ لوگ ایسے دور دراز مقام پر اے ٹی ایم کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔ لیکن حسین کہتے ہیں کہ ’ہم ان لوگوں کو بھول جاتے ہیں جو ہماری سرحدوں کی 24/7 حفاظت کرتے ہیں۔ وہ تعداد میں معمولی ہو سکتے ہیں، لیکن وہ ایک بڑے پارک میں رہتے ہیں اور ان کے پاس اپنے پیاروں اور خاندان والوں کو اپنی تنخواہیں منتقل کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے- برانچ کے منیجر خنجراب میں بنے اے ٹی ایم کو کیش سے بھرنے کے لیے سخت موسم، دشوار پہاڑی گزرگاہوں اور بار بار لینڈ سلائیڈنگ کا مقابلہ کرتے ہوئے باقاعدگی سے سرحد تک سفر کرتے ہیں -بختاور نے مجھے بتایا ’صرف پچھلے چند گھنٹوں میں، میں نے تین خواتین کو آکسیجن دی ہے۔ کل سات تھیں۔‘وہ کہتے ہیں کہ چڑھائی پر آنے سے پہلے اگر آپ نے تیل والا یا زیادہ کھانا کھایا ہے تو اس سے آپ کی حالت خراب ہو گی۔انھوں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ سیاحوں کے لیے ایک بڑی پریشانی ان کا کارڈ پھنس جانا ہے، حالانکہ انھوں نے اندازہ لگایا کہ کسی دوسرے اے ٹی ایم کی طرح ایسا یا تو کسی دن بہت بار ہوتا ہے یا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔کارڈ پھنس جائے تو پھر آپ کو یہاں کے شدید موسم میں کم از کم دو گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے یا اگلے دن دوبارہ واپس آنا ہوتا ہے ، بختاور نے مسکراہٹ کے ساتھ کہا ’اسے دوبارہ حاصل کرنے کا آسان سفر نہیں ہے۔‘تاہم بینک مینیجر زاہد کے لیے یہ خنجراب پاس اے ٹی ایم پر کام کرنے کے شوق کا حصہ ہے۔ اپنے کام کی اہمیت جانتے ہوئے اور اس حوالے سے شدید دباؤ کے باوجود وہ کہتے ہیں ’میں ان شاندار قدرتی مناظر پر بنی ٹیکنالوجی کے پیراڈائم شفٹ کا حصہ بننا اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں۔‘
جمعہ، 20 دسمبر، 2024
سنو جاناں ! مجھے تم سے ایک بات کہنی ہے
سنو جاناں
مجھے تم سے ایک بات کہنی ہے
اور وہ بات تم کو یاد رکھنی ہے '
کہ تم خوابوں میں میرے اس طرح
نہیں آیا کرو
تمھارے یوں چلے آنے سے
ہوتا ہے یہ
کہ خواب میرے ٹوٹ جاتے ہیں
اور نیند آنکھوں سے میری پھر روٹھ جاتی ہے
اور میرے دل کے شوالے میں
وہ پجارن جاگ جاتی ہے
جو تمھارے پیار کے چرنوں کی داسی تھی
پھر پجارن ایک کہانی کہہ سناتی ہے
ہاں گلابی رنگ برساتی کہانی
یاد ہے تم کو؟
وہ افسانہ بھی تم کو یاد تو ہوگا ؟
جسے ہم خود ادھورا چھوڑ کر بچھڑے
اس افسانے کو دہراتے ہوئے
بھیگتی جاتی ہیں آنکھیں خود بخود میری
پھر تم اپنا ہاتھ شانے پر میرے
رکھ کے مجھ سے کہتے ہو
سنو خود کو سمجھا لو
اپنے دل کو بہلا لو
مگر میں کیا بتاوں یہ
مجھے
خود کو سمجھانا نہیں آتا
پجارن کو منانا بھی نہیں آتا
اور پجارن کو منانے میں
میں خود بھی ٹوٹ جاتی ہوں
زائرہ عابدی
زمانہ قدیم کا فقید المثال 'ما ہر ریاضی ' وتعمیرات ''ارشمیدس"
اس کے والد، ایک ماہر فلکیات تھے جن کو فیڈیاس کے نام سے جانا جاتا تھا، اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا خاندان اعلیٰ طبقے میں شمار کیا جاتا تھا، یا ممکنہ طور پر اشرافیہ میں، کیونکہ وہ اسے تعلیم کے لیے اسکندریہ بھیجنے کے متحمل تھے۔ ارشمدیسی کا پہلا موجودہ حوالہ پولی بیئس کے مسودات سے اخذ کیا گیا ہے، ایک یونانی ماہر تعمیرات، فقید المثال معمار اور موجد تھا جسے زمانہ قدیم کا سب سے عظیم ریاضی دان مانا جاتا ہے اور جنہیں اب تک کی انسانی تاریخ کے سب سے بلند رتبہ ماہران ریاضی میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے سر کئی ایجادات کا سہرا رکھا گیا ہے جو آج بھی مستعمل ہیں (جیسے ارشدمیدیس پچی: سکریِو) اور اسے ریاضی اور ریاضی کی طبیعیات کا باوا آدم بھی کہا جاتا ہے۔انہوں نے یونانی زیر تسلط سسلی کے شہر سیراکیوز (سرقوسہ) میں آنکھ کھولی، اور انہوں نے اپنی ساری زندگی وہیں گزاری بجز کچھ عرصے کے جو انہوں نے تعلیم کی پیاس بجھانے کی خاطر اسکندریہ، مصر میں گزارا۔ سکندریہ میں گزارا گیا وقت ا رشمیدیس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہون نے ایسے فلکیاتی آلات ایجاد کیے جو سورج، چاند اور سیاروں کیے مقامات اور حرکات کی شناخت کر سکتے تھے۔ارشمیدیس کی زندگی کے بارے میں تقریباً کچھ معلوم نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ سائراکیز، سسلی میں پیدا ہوئے تھے، جو اس وقت اس خطے کا حصہ تھا جسے میگنا گریشیا ("گریٹر یونان یا یونان عظیم") کہا جاتا تھا، جو کہ جنوبی اٹلی میں یونانی نوآبادیات کے ذریعے آباد کیے گئے علاقوں کے لیے رومی اصطلاح ہے
پولی بیئس نے غالباً ارشمیدیس کی زندگی کے بارے میں معلومات کو حذف کر دیا یا انہیں تحریر کرنا اس قدراہم نہ سمجھا کیونکہ ایک ارشمیدیس کی زندگی پر ایک سوانح عمری پہلے ہی شائع ہو چکی تھی جو اب تاریخ کے دھارے میں کہیں گم ہو گئی ہے۔اس کے والد نے اسے اسکندریہ بھیجا جو اس وقت بطلیما خاندان (۳۲۳ تا ۳۰ قبل مسیح) کے زیر سایہ ایتھنز کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک دانشورانہ مرکز کے طور پر ترقی کر رہا تھا۔ اسکندریہ میں، اس کی دوستی سائرین کے ایراتوسٹینیز اور ساموس کے کونون سے ہوئی، جو شہر کے معروف ترین دانشوران تھے۔ کونن ایک معزز ماہر فلکیات اور ریاضی دان تھا، اور ایراسٹوتھینز اسکندریہ کی لائبریری کا سربراہ اور ایک جامع علوم پر دسترس رکھنے والا معلم تھا جس نے سب سے پہلے زمین کے احاطے کا تخمینہ لگایا۔ ،ہ (جسے اینٹیکیتھرا ڈیوائس بھی کہا جاتا ہے) کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا پہلا اینالاگ کمپیوٹر ہے۔ یہ آلہ، ۱۹۰۱ میں یونانی جزیرے اینٹیکیتھراسے دریافت ہوا، جو دوسری صدی کے اواخر/پہلی صدی قبل مسیح کا ہے اور اسے سورج، چاند اور سیاروں کی پوزیشن کا حساب لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ آلہ بابل اور مصری فلکیاتی اصولوں پر انحصار کرتا تھا لیکن اس میں یونانی حروف تہجی کے حروف استعمال کیے گئے تھے اور اسے یونان میں تیار کیا گیا تھا۔ کرینک کو موڑ کر، کسی نے ایک پوائنٹر کو منتقل کیا، جو چاند کے مرحلے، سیاروں کے مقام کو دکھانے کے لیے جگہ پر کلک کرتا ہے، اور چاند گرہن کا حساب بھی لگا سکتا ہے۔ارشمیدس اس آلے کے موجد کے طور پر صرف ایک امیدوار ہے کیونکہ اس کا انتساب نیسیا کے رہائشی ابرخش (دور حیات ۱۹۰ تا ۱۲۰ قبل مسیح) اور دیگر افراد سے بھی کیا گیا ہے۔ تاہم، ارشمیدس کی اسی طرح کی ایجادات کے بارے میں سیسرو کے ذکر کی تصدیق اسکندریہ کے ریاضی دان پاپس (دور حیات ۲۹۰ تا ۲۵۰ عیسوی) نے بھی کی ہے، جس نے دعویٰ کیا کہ ارشمیدس نے ایسے آلات کی تعمیر اور تیاری کے بارے میں ایک کتاب لکھی تھی۔
ارشمیدیس نے اپنے پیشرو کو اس قدر تعظیم کی نگاہ سے دیکھا کہ انہوں نے اپنے کام دی میتھڈ (ضوابط اصول ریاضیات کو ان سے منسوب کر دیا۔ارشمیدس کا سکرو (پیچ) ایک سلنڈر (اُسطوانہ) تھا جس میں ایک مڑا ہوا بلیڈ تھا جو اوپر کی طرف گھومتا تھا جب ایک کرینک (چکر دھنی)سے گھمایا جاتا تھا اور یہ طریقہ کار آج بھی مستعمل ہےیہ امر یہاں اس قدر قابل ذکر اور قابل توجہ نہیں ہے کہ آیا کہ وہ واقعی ہی اینٹیکیتھرا ڈیوائس کا خالق تھا یا نہیں، لیکن اس کی حیثیت ارشمیدس اسکرو کے موجد کے طور پر ہمیشہ قائم رہے گی، جو پانی کو نچلی سطح سے اوپر تک کھینچنے کا ایک ذریعہ ہے۔ جیسا کہ حجم،ارشمیدس کی زندگی سے متعلق بہت سی کہانیوں اور روایات منسوب ہیں، اسی طرح ارشمیدس سکرو کی ایجاد کا محرک بننے والے حالات و واقعات سے بھی ایسی ہی روایات منسوب کی جاتی ہیں، لیکن ایک بات تو مسلم ہے، اور وہ یہ کہ ان سب مفروضہ جات میں جہاز کے نچلے حصے سے پانی کے اخراج کا مسئلہ موجود تھا۔
ان روایات سے سب سے مشہور روایت یونانی مصنف ناکراٹس کے اتھیناؤس کا بیان کردہ ہے، جو بتاتا ہے کہ کس طرح ہئیرو دوم نے ارشمیدس سے اس کے لیے ایک بہت بڑا جہاز ڈیزائن کرنے کی درخواست کی، ایک ایسا جہاز جو کسی جاگتی آنکھ نے نہ دیکھا ہو اور جو کسی فعال کان نے نہ سنا ہو، شاید ایسا جو کہ چشم تخیل میں بھی نہ آسکے۔ جو کہ بطور سوار جہاز، ایک شاہانہ نمونہ کے فرائض انجام دے سکے، اور بیک وقت ضرورت پڑنے پر جنگ میں ایک مضطوط اور توانا عنصر کے طور پر بھی۔ ارشمیدس نے اس وقت تک کی انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور عظیم الشان جہاز تیار کیا، اور اس کا نام سیراکوزیا رکھا گیا، اس جہاز میں افروڈائٹ دیوی کے لیے ایک وسیع مندر، باغات، ایک جم، ریاستی کمرے، اور دیگر سہولیات موجود تھیں، ۱۹۰۰ سے زیادہ مسافروں، عملے، اور فوجیوں کے لیے کافی جگہ موجود تھی، اور جنگی میناروں کے ساتھ ساتھ ایک تختے پر بہت عظیم الجثہ منجنیق بھی نسب تھی۔ یہ جہاز ارشمیدس کے منصوبے کے مطابق تیار گیا تھا لیکن پھر اچانک ہی دیکھا گیا کہ جہاز کی اس قدر جسمات اور وزن کی وجہ سے جہاز کی بیرونی سطح سے کثیر مقدار میں پانی کا اخراج ہو رہا تھا۔
ارشمیدس کا سکرو (پیچ) ایک سلنڈر (اُسطوانہ) تھا جس میں ایک مڑا ہوا بلیڈ تھا جو اوپر کی طرف گھومتا تھا جب ایک کرینک (چکر دھنی)سے گھمایا جاتا تھا اور یہ طریقہ کار آج بھی مستعمل ہے ۔ سلنڈر کے ایک سرے کو پانی میں رکھ کر اور کرینک کو موڑ کر پانی کو کھینچ کر جہاز سے خارج کیا جاتا تھا۔ یہ طریقہ کار آج بھی دنیا بھر میں متعدد حوالوں سے استعمال ہوتا ہے۔ سیراکوزیا نے صرف ایک بار سمندری میدان پر قدم رکھا، اور یہ سفر سیراکیوز سے اسکندریہ تک کا تھا، جہاں اسے بطلیموس سوم یورگیٹیس کو تحفے کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن اس کے بعد اس عظیم الشان اور قوی المرتبت جہاز کا نصیب کیا بنا،یہاں تاریخ ہمیں خاموش دکھائ دیتی ہے کہا جاتا ہے کہ ارشمیدس نے فلکیات کے موضوع پر مختلف النوع تحریرات مسودات تیار کئے، جن کا حوالہ بعد میں آنے والے مصنفین اور محققین نے دیا، لیکن ان میں سے کوئی بھی مسودہ وقت کے گرداب سے بچ نہ سکا سوائے سینڈ ریکنر (حاسب ریت) کے، جس کی مدد سے ارشدمیس نے کائنات کے حجم کا حساب لگایا
پھر ایک نئ ڈنکی نے ڈ بویا
کیا کوئ نوجوان اس حقیقت کی تہہ تک پہنچ سکتا ہے کہ ایک ماں اس کو جنم دینے سے لے کر جوانی حد تک پہنچانے کی منزل آنے تک کتنے مراحل سے گرتی ہے -اور وہ اپنی اس قیمتی جان کا سودا کتنی آسانی سے کر لیتا ہے -ان کو نہیں معلوم ہے کہ سمندر برد ہونے سے بچ جانے والے جب میتوں کی شکل میں واپس آتے ہیں تو زمین کی آ غوش میں سو جاتے ہیں لیکن وہ ماں زندہ لاش بن کے جیتی ہے جس نے اس کو جنم دیا تھا -اس کے اہل خانہ مدتوں اپنے پیارے کا داغ دل میں لئے گم سم رہتے ہیں -یو نان میں پاکستانی سفیر عامر آفتاب قریشی نے کہا ہے کہ کشتی حادثے میں اب بھی درجنوں پاکستانی لاپتا ہیں جن کے بچنے کی امیدیں بہت کم ہیں جب کہ حادثے میں جاں بحق پاکستانیوں کی لاشیں سفارتخانہ اپنے خرچ پر پاکستان بھیجے گا۔یونان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ کشتیوں کو حادثہ ضرورت سے زیادہ افراد سوار ہونے کی وجہ سے پیش آیا، جس کشتی میں پاکستانی سوار تھے اس کے اندر پہلے شگاف پڑا اور پھر ڈوب گئی۔انہوں نے کہا کہ لیبیا سے غیر قانونی طریقے سے جانے والی 5 کشتیوں پر پاکستانی سوار تھے، جس کشتی پر سوار تھے اس کا نہ انجن ٹھیک تھا نہ واکی ٹاکی اور نہ ہی کشتی کا ناخدا کشتی پر تھا جب کہ متاثرہ کشتیوں میں پاکستانی بچے بھی تھے۔ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو خود باہر بھیجا جارہا ہے جو سنگین مسئلہ ہے،
پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ ان کی پاکستانی والدین سے درخواست ہے کہ اپنے بچوں کو ایسے خطرناک سفر پر نہ بھیجیں۔پاکستانی سفیر نے کہا کہ کشتی پر 80 سے زائد پاکستانی سوار تھے، کتنا افسوسناک ہےکہ یہ لوگ نامعلوم جگہ پر ہزاروں فٹ گہرے سمندر میں ڈوب گئے -انہوں نے کہا کہ حادثے میں اب بھی درجنوں پاکستانی لاپتا ہیں، جن میں کم عمر بچے بھی شامل ہیں، جائے حادثہ پر ریسکیو آپریشن جاری ہے تاہم لاپتا افراد کے بچنے کی امیدیں کم ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے بنائی گئی کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وزیراعظم کو رپورٹ پیش کرے، جو لوگ اس مکروہ کاروبار میں ملوث ہیں انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔خیال رہے کہ چند روز قبل یونان کے جنوبی جزیرے گاوڈوس کے قریب کشتی الٹنے کے بعد لاتعداد تارکین وطن ڈوب کر ہلاک جب کہ کئی لاپتا ہوگئے --
’اپنے کم عمر بیٹے کو اُس کی ضد کے ہاتھوں مجبور ہو کر غیرقانونی راستے سے یورپ بھجوانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ہمارے علاقے میں کام کرنے والے ایجنٹ گاؤں کے درجنوں لڑکوں کو یونان اور اٹلی بھجوا چکے تھے۔ میرا بیٹا کچے ذہن کا تھا جو اُن کی باتوں میں آ گیا اور ہمیں بار بار یہی کہتا تھا کہ اگر آپ نے مجھے یورپ نہیں بھجوانا تو میں گھر چھوڑ دوں گا۔‘سعودی عرب میں روزگار کے سلسلے میں مقیم جاوید اقبال اب اپنے اُس فیصلے پر بُری طرح پچھتا رہے ہیں کہ جب 13 سالہ بیٹے کی ’ضد‘ کے ہاتھوں مجبور ہو کر انھوں نے غیرقانونی طریقے سے اسے یورپ بھجوانے کا فیصلہ کیا۔پاکستان کے دفتر خارجہ نے غیرقانونی تارکین وطن کے تین کشتیوں پر سوار ہو کر یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران یونان میں پیش آئے حادثے کے نتیجے میں پانچ پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
اور ان پانچ افراد میں جاوید کے 13 سالہ بیٹے محمد عابد بھی ہیں۔یونان میں موجود سفارتخانے کے حکام کے مطابق فی الحال پانچ ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 47 پاکستانی شہریوں کو ریسکیو کر لیا گیا جنھیں اب یونان کے حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اگرچہ اس حادثے کے دوران لاپتہ ہونے والی پاکستانی شہریوں کی اصل تعداد کا تو علم نہیں تاہم یہ درجنوں میں ہو سکتے ہیں۔سعودی عرب سے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے جاوید اقبال نے بتایا کہ وہ صوبہ پنجاب کے ضلع سیالکوٹ کی تحصیل پسرور کے رہائشی ہیں اور فرنیچر کے کاریگر ہیں۔ جاوید کے چار بچے ہیں جن میں محمد عابد تیسرے نمبر پر تھے۔عابد کے چچا کی جانب سے بی بی سی اُردو کو عابد کا ب فارم اور پاسپورٹ بھی بھیجا گیا جس میں اُن کی تاریخ پیدائش 20 اگست 2011 ہے اور یوں اُن کی عمر محض لگ بھگ 13 سال چار ماہ بنتی ہے۔
حادثے میں 47 پاکستانی شہریوں کو ریسکیو کر لیا گیا تھا جو اب یونان کے ایک حراستی مرکز میں ہیں ہمیں نہیں پتا تھا کہ جسے وہ منزل سمجھ رہا تھا وہ یورپ نہیں بلکہ موت ہے‘جاوید اقبال نے بتایا کہ ’عابد سے بڑا بھائی اور بہن تو سکول جاتے ہیں، لیکن عابد نے سکول جانا چھوڑ دیا تھا اور بس یہی کہتا تھا کہ ملک سے باہر ہی تو جانا ہے تو پڑھ لکھ کر کیا کرنا۔ میں نے اسے کہا کہ میرے پاس سعودی عرب آ جاؤ، لیکن اس کی یہی رٹ تھی کہ اسے یورپ جانا ہے
بدھ، 18 دسمبر، 2024
۔پیر سید نصیر الدین نصیرؒ -ایک خورشید تاباں
مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی
وہ نگاہ شوق سے دور ہیں رگ جاں سے لاکھ قریں سہی
ہمیں جان دینی ہے ایک دن وہ کسی طرح وہ کہیں سہی
ہمیں آپ کھینچے دار پر جو نہیں کوئی تو ہمیں سہی
غم زندگی سے فرار کیا یہ سکون کیوں یہ قرار کیا
غم زندگی بھی ہے زندگی جو نہیں خوشی تو نہیں سہی
سر طور ہو سر حشر ہو ہمیں انتظار قبول ہے
وہ کبھی ملیں وہ کہیں ملیں وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی
نہ ہو ان پہ جو مرا بس نہیں کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں
میں انہیں کا تھا میں انہیں کا ہوں وہ مرے نہیں تو نہیں سہی
مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے مری آرزو کا بھرم رہے
تری انجمن میں اگر نہیں تری انجمن کے قریں سہی
ترے واسطے ہے یہ وقف سر رہے تا ابد ترا سنگ در
کوئی سجدہ ریز نہ ہو سکے تو نہ ہو مری ہی جبیں سہی
مری زندگی کا نقیب ہے نہیں دور مجھ سے قریب ہے
مجھے اس کا غم تو نصیب ہے وہ اگر نہیں تو نہیں سہی
جو ہو فیصلہ وہ سنائیے اسے حشر پر نہ اٹھائیے
جو کریں گے آپ ستم وہاں وہ ابھی سہی وہ یہیں سہی
اسے دیکھنے کی جو لو لگی تو نصیرؔ دیکھ ہی لیں گے ہم
وہ ہزار آنکھ سے دور ہو وہ ہزار پردہ نشیں سہی
!BlogThisX پر اشتراک کریںFacebook پر اشتراک کریںPinterest پر اشتراک کریں
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
عظیم تر جراح اور طبیب ابوالقاسم خلف ابن العباس الزہراوی
اسپین کےجنوبی علاقہ اندلس کے مردم خیز خطے اورقرطبہ کے شمال میں شہر الزہرا میں پیدا ہونے والے عظیم تر جراح اور طبیب...