ہفتہ، 27 جون، 2026

کثیر التصانیف ادیب و عالم شمس العلماء مرزا قلیچ بیگ

    

مرزا قلیچ بیگ 4 اکتوبر،1853ء ٹنڈو ٹھوڑو، حیدرآباد، سندھ، بمبئی پریزیڈنسی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرزا فریدون بیگ کا تعلق وسطی ایشیا کے علاقے جارجیا   سے  تھا لیکن  ان کے دشمنوں نے کے  ایک جنگ میں قید کر کے سندھ کے مرزا خُسرو بیگ کے ہاتھ ایک غلام کے طور پر فروخت کر دیا گیا۔ خُسرو بیگ، مرزا فریدون کو اپنے ساتھ سندھ لے آیا اور انھیں آزاد کر کے تعلیم و تربیت دلوائی۔ فریدون بیگ نے خُسرو بیگ کی بیٹی سے شادی کی۔ برطانیہ افواج کے ہاتھوں تالپور میروں کی حکومت کے خاتمے اور سندھ پر انگریزوں کے قبضے کے بعد فریدون بیگ حیدرآباد کے مضافات میں واقع ایک گھر میں سکونت پزیر ہوئے ۔مرزا قلیچ بیگ نے ابتدائی تعلیم مکتب سے حاصل کی اور بعد ازاں گورنمنٹ ہائی اسکول حیدرآباد میں داخلہ لے لیا۔ اس کے بعد انھوں نے الفنسٹن کالج بمبئی (Elphinstone College ) میں داخلہ لیا۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد سندھ واپس لوٹے اور انھوں نے عدالتی امتحان پاس کر کے مختیار کار کے طور پر شکارپور میں تعینات ہوئے۔ برطانوی راج کی تیس سالہ ملازمت کے اختتام پر 1910ء میں ڈپٹی کلکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے سندھ سے تعلق رکھنے والے انیسویں صدی کے مشہور و معروف عالم، صاحبِ دیوان شاعر، ماہرِ لسانیات، ماہرِ لطیفیات، مورخ، مترجم، ناول نگار اور ڈراما نویس تھے۔


 انھوں نے آٹھ مختلف زبانوں میں تقریباً 457 کتابیں تصنیف، تالیف و ترجمہ کیں، ان میں عربی، بلوچی، انگریزی، فارسی، سندھی، سرائیکی، ترکی اور اردو زبانیں شامل ۔ ان کی کتب تاریخ، لطیفیات، شاعری، بچوں کا ادب، تنقید، سائنس کے علاوہ لاتعداد موضوعات پر مشتمل ہیں۔ انھوں نے زینت کے نام سے پہلا سندھی ناول اور ابتدائی سندھی ڈراموں میں سے ایک خورشید لکھا۔ اس کے علاوہ انھوں نے شیکسپئر کے لاتعداد ڈراموں کو سندھی کے قالب میں ڈھالا۔ -مرزا قلیچ بیگ کے والد دراصل جارجیا یا گرجستان کے رہنے والے تھے۔ مرزا قلیچ بیگ کی پوتی مہر افروز مرزا حبیب نے " جارجین ساگا " کے نام سے کتاب لکھی ہے جس میں مرزا قلیچ بیگ کے خاندان کو صرف ایک نسل پہلے جارجیا سے سندھ آمد کا تفصیلی بیان ہے مرزا صاحب اپنے دو کی سب سے بڑی سندھی علمی شخصیت کے طور پر ابھرے۔آپ کثیر التصانیف تھےانہوں نے 140 سے زیادہ کتابیں لکھیں۔انہوں نے کم عمری سے ہی دوسروں کو تعلیم دینا شروع کردی تھی اور ابھی اسکول میں تھے کہ لوگ اُن سے فارسی پڑھنے آنے لگےپھر انہوں نے الفنٹن کالج بمبئی میں پڑھتے ہوئے وہاں درس وتدریس کا سلسلہ بھی شروع کردیا۔وہ سندھی, فارسی ترکی اور انگریزی میں مہارت سے لکھتے پڑھتے تھے اور ایک شاعر, ماہر تعلیم اور معلم کے طور پر سندھ میں اُن کا بڑا مقام ہے۔ "مرزا صاحب نے ہی پہلی سندھی ادبی کانفرنس لاڑکانہ میں منعقد کرائی۔


 اگر کتابوں کے ساتھ اُن کے کتابچے بھی شامل کرلیے جائیں تو انہوں نے اپنی پچاس سالہ زندگی میں ساڑے چار سو سے زائد تصانیف, تالیف و ترجمہ چھوڑی ہیں۔ اُن میں عربی, بلوچی, انگریزی, فارسی, سندھی, سرائیکی, ترکی اور اُردو زبان میں تحریریں شامل ہیں۔ ا نتہائی ذہین ہونے کی وجہ سے وہ   انگریزی میں پہلا رینک حاصل کرتے رہے ۔ اپنی 76 سالہ زندگی میں انہوں نے 18 سال کے بعد ہی لکھنا شروع کیا ہوگا، ان حسابات کے مطابق وہ ہمیں ہر سال اوسطاً 7 کتابیں دے چکے ہیں جو کہ ایک ریکارڈ بھی ہے اور سندھی ادب پر ​​احسان بھی۔مرزا قلیچ بیگ نے تقریباً دس ڈرامے اور بیس ناول لکھے۔ ان کے ناول مان زینت، دلارام، خدایاوری، حاجی بابا اصفغانی اور جولین ہوم سبھی مقبول تھے۔ سندو کے ناول زینت اور دلارام وہ ناول ہیں جو سماجی مسائل پر مبنی تھے جن میں اچھے برے اور اخلاقی مسائل شامل تھے۔ ان ناولوں میں بنیادی طور پر سوانح اور تقدیر ہے جو فلسفہ ہے۔ ان کی علمی، ادبی اور تعلیمی خدمات کے اعتراف میں اس وقت کی حکومت نے انہیں 1924ء میں ’’شمس علما (علماء)‘‘ کا خطاب دیا۔مرزا قلیچ بیگ سندھی ادب کے عظیم ادیب، سندھی ادب کے سچے خادم اور سندھی ادب کے خزانے میں ایک عظیم تخلیق کار بن گئے ہیں۔

 

 (بعض جگہوں پر   ان کی  450 سے زائد  تصنیفات  کا ذکر ہے) جن میں سے 42 کتابوں کا انگریزی اور سندھی میں ترجمہ کیا۔ اپنی 76 سالہ زندگی میں انہوں نے 18 سال کے بعد ہی لکھنا شروع کیا ہوگا، ان حسابات کے مطابق وہ ہمیں ہر سال اوسطاً 7 کتابیں دے چکے ہیں جو کہ ایک ریکارڈ بھی ہے اور سندھی ادب پر ​​احسان بھی۔ مرزا قلیچ بیگ نے دس کے قریب ڈرامے اور بیس ناول لکھے۔ ان کے ناول مان زینت، دلارام، خدایاوری، حاجی بابا اصفغانی اور جولین ہوم سبھی مقبول تھے۔ سندو کے ناول زینت اور دلارام وہ ناول ہیں جو سماجی مسائل پر مبنی تھے جن میں اچھے برے اور اخلاقی مسائل شامل تھے۔ ان ناولوں میں بنیادی طور پر فلسفہ ہے۔  جب مرزا قلیچ بیگ 19 اگست 1928ء کو ریٹائر ہونے کے بعد بمبئی چلے گئے تو وہ گردے کی بیماری میں مبتلا ہوگئے اور اس دوران ڈاکٹروں نے انہیں کتابیں لکھنے سے روک دیا لیکن بہت ساری محبت کی وجہ سے وہ انہیں لکھنے سے روک نہیں سکے۔ ادب بمبئی سے واپسی کے بعد اپریل 1929 کی پہلی تاریخ کو ہالہ کے مخدوم صاحب کے پاس گئے، واپسی پر ان کی گردن میں شدید درد محسوس ہوا اور پھر انہوں نے لکھنا چھوڑ دیا۔ وہ سو گئے اور اسی حالت میں 3 جولائی 1929 کو ان کی روح پرواز کر گئی اور خود خالق کو پا لیا۔

منگل، 23 جون، 2026

شیزو فرینیا ایک نظر نا آ نے والی لیکن تکلیف دہ بیماری ہے

 

  بڑا ہی مشہور مقولہ ہے 'تندرستی ہزار نعمت ہے 'اللہ پاک ہر ایک کو بیماری سے بچائے لیکن بہر حال یہ امتحان بھی زندگی میں آتے رہتے ہیں 'ہماری زندگی میں بیماری کی شکل میں آنے  والی  ایک  بیماری  شیزو فرینیا بھی ایک ہے یہ بیماری ظاہری  طور پر نظر نہیں آتی ہے لیکن مریض کے اندر ڈیرے جمائے ہوتی ہے شیزوفرینیا کے مریضوں ک و عجیب و غریب خیالات ستاتے رہتے ہیں، ان کی باتوں میں اور سوچ میں ربط نہیں پایا جاتا۔ ان کے خیالات بھٹکتے رہتے ہیں۔ ان کے فقروں سے مطلب نکالنا عام طور پر مشکل ہوتا ہے۔ ان کے کپڑے گندے اور بعض اوقات کیچڑ وغیرہ سے لت پت ہوتے ہیں۔ ان میں اعتماد کی کمی اور معاملات کو جانچنے کی صلاحیت کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ان کے خیالات بگاڑ کا شکار ہوتے ہیں مثلاً وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے دماغ میں جو خیالات آتے ہیں وہ ان کے ذاتی نہیں ہیں بلکہ کسی اور نے ان کے دماغ میں ان کو ٹھونسا ہے۔ یہ لوگ کسی بات پر اپنا ردعمل بھی ظاہر نہیں کرتے۔ ایسے مریض اپنے آپ کو وہ تصور کرتے ہیں جو وہ ہوتے نہیں مثلاً اپنے آپ کو بہت مشہور ایکڑ ماننا یا کسی ملک کا صدر اور وزیراعظم سمجھنا یا پھر اپنے آپ کو کسی جگہ کی شہزادی  یا ملکہ بتا نا نتیجتاً  ا ن  باتوں کے سبب  یہ لوگ خود کو تنہائی کا شکار بنا لیتے ہیں۔


 ایسے لوگوں کوکام کرنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شیزوفرینیا کے نصف یا کچھ کم مریض اس بات کو ماننے کے لئے ہی تیار نہیں ہوتے کہ وہ کسی بیماری کا شکار ہیں لہٰذا وہ ادویات کو مناسب طریقے سے استعمال بھی نہیں کرتے۔ ان مریضوں کے چہرے عام طور پر کسی قسم کے جذبات سے عاری ہوتے ہیں۔ ایک بہت اہم علامت جو زیادہ تر مریضوں میں پائی جاتی ہے وہ نفسیاتی طور پر پائی جانے والی پیاس کی زیادتی ہے جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ پانی یا دوسرے مشروب پیتے رہتے ہیں۔شیزوفرینیا کی علامات کو مثبت اور منفی دو درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ مثبت علامات عام طور پر وہ ہوتی ہیں جن سے کسی نارمل صحت مند انسان کا واسطہ نہیں پڑتا۔ اچھی بات یہ ہے کہ ان پر ادویات کا بہتر اثر ہوتا ہے۔ اگرچہ ان کو مثبت علامات کہا جاتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ اچھی بھی ہوں۔ ان پر مریضوں کو جو آوازیں سنائی دیتی ہیں وہ آپس میں باتیں بھی کر سکتی ہیں اور مریض کے مطابق اس کو مختلف قسم کے خطرات سے بھی آگاہ کرتی رہتی ہیں۔کچھ مریض یہ تصور کرتے ہیں کہ ان کو مافوق الفطرت قوتیں حاصل ہیں۔ بعض اوقات مریض مزاحیہ انداز کی حرکات کرنے لگتے ہیں مثلاً بلاوجہ کودنے لگ جانا یا کسی ایک خاص زاویے سے جسم کو موڑ توڑ کر بیٹھے رہنا۔منفی علامات یا منفی درجے میں ان مریضوں کو شامل کیا جاتا ہے جو زندگی میں اپنی دلچسپی کھو دیتے ہیں حتیٰ کہ وہ ان کاموں کو بھی سرانجام نہیں دے سکتے جو وہ پہلے بآسانی کر لیتے تھے


 لیکن ان علامات کو پہچاننا اتنا آسان ثابت نہیں ہوتا خصوصاً نوجوانوں میں کیونکہ صحت مند نوجوانوں کے موڈ میں بھی نارملی بہت زیادہ اتار چڑھائو دیکھنے کو ملتا ہے۔ بعض اوقات ایسے مریضوں میں جذبات نامی کوئی چیز نظر نہیں آتی حتیٰ کہ جب وہ بات بھی کرتے ہیں تو چہرہ ہر قسم کے تاثرات سے خالی ہوتا ہے یعنی نہ خوشی نہ غم ان کے چہرے پر آتا ہے۔ ایسے لوگ اگر کوئی کام شروع کرتے ہیں تو اس کو انجام تک پہنچانا ان کے بس کا روگ نہیں ہوتا بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ سوچتے ہی رہتے ہیں  ۔ یہ مرض چالیس فیصد لڑکوں اور بیس فیصد سے زائد لڑکیوں میں انیس سال کی عمر سے پہلے شروع ہو جاتا ہے۔شیزوفرینیا کی وجوہات موروثی اور سماجی دونوں کا مجموعہ ہوتی ہیں۔ اگر کسی کے خونی رشتہ داروں میں مرض پایا جاتا ہے تو اس کو مرض ہونے کے امکانات سات فیصد بڑھ جاتے ہیں۔جڑواں بچوں میں سے اگر ایک کو مرض لاحق ہو تو دوسرے بچے کو مریض ہونے کے چالیس فیصد امکانات ہیں۔ اگر والدین میں سے ایک کو مرض ہو تو بچوں میں تیرہ فیصد جبکہ دونوں والدین کے متاثر ہونے کی صورت میں امکانات پچاس فیصد ہو جاتے ہیں اور سماجی وجوہات میں بچے کا ماحول ،نشہ آور ادویات کا استعمال اور والدین اور رشتہ داروں کا رویہ اہم ہیں۔بعض والدین بہت زیادہ سخت اور غصہ والے ہوتے ہیں یا والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کی وفات ہو جانا بھی بچے پر برا اثر ڈالتی ہے۔ جنسی بداخلاقی بھی باعث بن سکتی ہے۔


 نشہ آور اشیاء کا استعمال بھی ایک وجہ بن سکتا ہے۔ ماں کو اگر حمل کے دوران وائرل انفکشن ہو جائے یا پیدا ہونے سے قبل بچے میں آکسیجن کی کمی واقع ہو جائے یا ماں غذائی قلت کا شکار ہو جائے تو اس کا اثر پیٹ میں پرورش پانے والے بچے پر ہوتا ہے۔شیزوفرینیا ایک کرانک، زیادہ شدت والی اور مضمحل کرنے والی ذہنی بیماری کا نام ہے۔ اس میں مریض کے خیالات بکھرے ہوتے ہیں اور اس کا معاشرتی رویہ نارمل نہیں ہوتا بلکہ عام طور پر سوسائٹی کے قوانین اور رسم و رواج کے مخالف ہوتا ہے۔اس مرض میں مبتلا فرد اپنے قریب ترین افراد کو اپنا دشمن اور غیروں کو اپنا دوست سمجھتا ہے۔ اور ہر لمحہ اپنوں کی ایذا رسانی میں مصروف کار رہتا ہے۔غیروں  کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے اپنوں کی برائیا ں کرتا ہے اور اپنے آ پ کو مظلوم ظاہر کرتا ہے اس مرض میں مبتلا افراد سمجھتے ہیں کہ باقی سب غلط ہیں اور وہ خود ٹھیک ہیں۔ 
یہ مضمون انٹر نیٹ کی مدد سے لکھا گیا  ہے 

پیر، 22 جون، 2026

عظیم تر جراح اور طبیب ابوالقاسم خلف ابن العباس الزہراوی

 

 اسپین کےجنوبی علاقہ  اندلس کے مردم خیز خطے                 اورقرطبہ کے شمال   میں شہر الزہرا میں    پیدا ہونے والے  عظیم تر جراح اور طبیب                       ابوالقاسم خلف ابن العباس  الزہراوی                مانے جاتے ہیں جن کی جراحی کا شہرہ گزرے  ہوئے کل میں بھی تھا اور آج بھی  ہے، ان کا زمانہ اندلس میں چوتھی صدی ہجری (دسویں صدی عیسوی) ہے، ان کی زندگی جلیل القدر کارناموں سے بھرپور ہے - وہ عبد الرحمن سوم الناصر کے طبیبِ خاص تھے، پھر ان کے بیٹے الحکم دوم المستنصر کے طبیبِ خاص ہوئے، ۔  ان کی سب سے بڑی تصنیف “التصریف لمن عجز عن التالیف” ہے جو کئی زبانوں میں ترجمہ ہوکر کئی بار شائع ہو چکی ہے۔دنیائے اسلام میں ایسے ایسے نامور مسلم سائنسدان ، فلسفی ، موجد اور طبیب وغیرہ پیدا ہوئے ہیں کہ جو روشنی کے مینارے ہیں۔ جن کے کارناموں ، ایجادات نظریات سے آج بھی استفادہ حاصل کیا جاتا ہے۔الزہراوی جنھیں سرجری یعنی جراحت کے پیشے کا باوا آدم کہا اور مانا جاتا ہے ۔ ایک مسلم سائنسدان مصنف ، موجد ، جراح اور طبیب تھے- انھوں نے بہت سے آلاتِ جراحی ایجاد کئےاسی لیئے یہ موجد بھی ہیں۔ ان کے ایجاد کردہ آلاتِ جراحی کی تصاویر ان کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اسی لیئے الزہراوی علم جراحت کے بانی کہلاتے ہیں۔زہراوی کی علمی طبّی کاوشوں کا یورپ کے طبّی مدارس میں بہت گہرا اثر رہا ہے ان کی کتابوں کا کئی یورپی زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے ۔ ان کی کتابوں کو یورپی یونیورسٹیوں میں سر جری کے طالب علموں کو بطورِ نصاب بھی پڑھایا جاتا رہا ہے اور حوالے کی کتاب (ریفرنس بک ) کے طور پر بھی یہ کتابیں شاملِ نصاب رہی ہیں-


ابوالقاسم نے نہایت عمدہ اسلامی اور علمی ماحول میں آنکھ کھولی اور اپنے زمانے کی بہترین یونی ورسٹی میں علم حاصل کیا۔ بڑے بڑے شفاخانوں میں اس نے جراحی میں کمال پیدا کیا۔ ابوالقاسم کے زمانے میں مسلمان اس فن میں ماہر تھے اور ہسپتال میں انسان کا پوسٹ مارٹم بھی سکھایا جاتا تھا،۔ ان میں         بیان کردہ کئی اوزار آج بھی ہسپتالوں میں استعمال ہورہے ہیں جب کہ طبابت کا علم سائنس کے زور سے بہت ترقی کر چکا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹروں کو سرجری میں جو رتبہ حاصل ہو اہے، وہ ابوالقاسم اور ایسے ہی دوسرے عربی اطبا کا طفیل ہے۔ انگریز دانش وروں نے بھی ابوالقاسم کی تعریف کی ہے۔ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ انہوں نے شروع میں سے بہت کچھ سیکھا اور جراحی کی کتاب سے خوب روشنی حاصل کی۔1368ء میں ابوالقاسم کی سرجری یورپ میں خوب مشہور ہو چکی تھی۔ ان کا تعلق اندلس سے تھا جسے اسلام کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی تاریخ میں بڑا مقام اور اہمیت حاصل رہی ہے۔اس مسلمان سائنس داں کو قرطبہ کے شمال مغرب میں امویوں بسائے گئے شہر الزہراء سے نسبت رکھنے کے سبب الزہراوی کہا جاتا ہے۔۔ الزہراوی کی زندگی کے حقائق اور تفصیلات بہت کم معلوم ہوئے ہیں، لیکن ان کی اہم تصانیف میں ان کی کتاب “الزہراوی” ہے جب کہ ابوالقاسم کی کتاب التصریف برسوں تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی گئی خاص طور پر اٹلی میں اس کو بڑی لگن اورتوجہ سے پڑھایا گیا۔ یہ کتاب پہلی بار 1497ء میں لاطینی زبان میں وینس میں چھاپی گئی، پھر 1500ء میں لوکے ٹس میں چھپی، اس کے بعد 1541 میں سٹرس برگ میں اور پانچ سال بعد باسل میں چھاپی گئی۔ اس کی شرحیں بھی لکھی گئیں۔ ابوالقاسم نے اس کتاب کے علاوہ بھی طب پر کئی کتابیں لکھیں ۔ اب ان کے لاطینی ترجمے یورپی لائبریریوں میں مل سکتے ہیں۔


الزہراوی نے فن ِجراحت( سرجری) کے کئی طریقوں کو ایجاد کیا ، ان کی تکنیک ، اور آلاتِ جراحی ایجاد کئے ۔موجودہ دور میں بھی ان کے آلاتِ جراحی کے نمونوں سے دنیا آج بھی مُستفید ہورہی ہے۔الزہراوی نہ صرف جراح تھے بلکہ عظیم طبیب بھی تھے-آپ نے آنکھوں کے موتیا ، مختلف امراضِ چشم ،حلق، دانت، مسوڑھے، جبڑہ ، زبان، اور ہڈیوں کے ٹوٹنے اور ہڈیوں کےاُکھڑنے اور گردوں اور سر وغیرہ کے باے میں تفصیلا ًبیان کیاہے۔ فنِ جراحی میں انھوں نے پتھری نکالنے کا طریقہ بھی بیان کیاہے جو میڈیکل سا ئنس میں جدید طریقہ سمجھا جاتا ہے ۔دانت کی دوبارہ تنصیب دانتوں کی تراش ان ہی کا کا میاب جراحی عمل ہےانھوں نے اپنی کتا بوں میں طب، خاص کر علمِ جراحت ،علم الادویہ اور صحت پر بحث کی ہے ۔ان کی تصانیف میں ایک مشہور کتاب “ الزہراوی ” ہے جبکہ ان کی ایک اور قابلِ ستائش تصنیف “التصریف لمن عجز عن التالیف” ہے جس کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔انھوں نے ہی تصاویر کی مدد سے آلاتِ جراحی کی ساخت ، شکل کو بیان کیا اور اپنی کتابوں میں درج کیا ہے اور اُن کا استعمال بھی بتایا ہے اور اسی لیےسرجری یعنی علمِ جراحی میں انکا بڑا نام ہے۔ ابو القاسم الزہراوی "قرون ِ وسطیٰ کے متعدد بار حوالہ شد جراحی نمائندہ" کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ڈونلڈ کیمپ بیل، عرب ادویات کے تاریخ دان، یورپ میں الزہراوی کی مقبولیت کو یوں بیان کرتے ہیں:"یورپ کے طبی نظام پر ابو القاسم کا بڑا اثر یہ تھا کہ اس کے قابلِ فہم انداز اور پیش کرنے کے طریقے نے مغرب کے علما میں عربی ادب کی حمایت میں احساس اجاگر کیا:


 ابو القاسم کے طریقوں نے گیلن کے طریقوں کو گرہن لگا دیا اور پانچ سو سال تک طبی یورپ میں نمایاں حیثیت برقرار رکھی، حتیٰ کہ اس کے فائدہ مند نہ ہونے کے بعد بھی یہ اہم مقام رکھتے ہیں۔ تاہم، اس نے عیسائی یورپ میں جراحت کے معیار کو بڑھانے میں مدد کی  ہڈیوں کے چٹخنے اور جوڑنے پر اپنی کتاب میں، وہ بیان کرتا ہے کہ "جراحت کا یہ حصہ بے ہودہ اور غیرتہذیب یافتہ اذہان کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے، اسی وجہ سے یہ حقارت میں شمار کیا جاتا ہے۔"الزہراوی نے ناسور کے علاج کے لیے ایک آلہ دریافت کیا اور بہت سارے امراض کا استری سے علاج کیا، زہراوی وہ پہلے طبیب تھے جنھوں نے “ہیموفیلیا” نہ صرف دریافت کیا بلکہ اس کی تفصیل بھی لکھی                           زہراوی کا یورپ میں بڑا عظیم اثر رہا، ان کی کتب کا یورپ کی بہت ساری زبانوں میں ترجمہ کیا گیا اور یورپ کی طبی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہیں، یورپ کے جراحوں نے ان سے خوب استفادہ کیا اور ان سے اقتباس بھی کیا، حتی کہ بعض اوقات بغیر حوالہ دیے ان کی دریافتیں اپنے نام منسوب کر لیں، ان کی کتاب “الزہراوی” پندرہویں صدی عیسوی کے شروع سے لے کر اٹھارویں صدی عیسوی کے اواخر تک یورپ کے اطباء کا واحد ریفرنس رہی۔ ان کے ایجاد کردہ آلات جراحی آج تک استعمال ہوتے ہیں۔قرطبہ کی گلیاں جہاں وہ رہتا تھا کو، اس کے اعزاز میں "ابو القاسم گلی" کے نام سے منسوم کیا گیا۔ اس گلی میں گھر نمبر 6 میں رہتا تھا جس کی آج طلائی تختی یافتہ ہسپانوی سیاح بورڈ حفاظت کرتا ہے جس پر کنندہ ہے : "یہ وہ گھر ہے جہاں الزہراوی رہتا تھا

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

اسپینش فلو جو 5 کروڑ جانیں لے گیا

  اسپینش فلو (1918–1920) انسانی تاریخ کی مہلک ترین وبائی امراض میں سے ایک تھا، جو 5 کروڑ سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بن گیا ۔ جب  میں خود ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر