منگل، 23 جون، 2026

شیزو فرینیا ایک نظر نا آ نے والی لیکن تکلیف دہ بیماری ہے

 

  بڑا ہی مشہور مقولہ ہے 'تندرستی ہزار نعمت ہے 'اللہ پاک ہر ایک کو بیماری سے بچائے لیکن بہر حال یہ امتحان بھی زندگی میں آتے رہتے ہیں 'ہماری زندگی میں بیماری کی شکل میں آنے  والی  ایک  بیماری  شیزو فرینیا بھی ایک ہے یہ بیماری ظاہری  طور پر نظر نہیں آتی ہے لیکن مریض کے اندر ڈیرے جمائے ہوتی ہے شیزوفرینیا کے مریضوں ک و عجیب و غریب خیالات ستاتے رہتے ہیں، ان کی باتوں میں اور سوچ میں ربط نہیں پایا جاتا۔ ان کے خیالات بھٹکتے رہتے ہیں۔ ان کے فقروں سے مطلب نکالنا عام طور پر مشکل ہوتا ہے۔ ان کے کپڑے گندے اور بعض اوقات کیچڑ وغیرہ سے لت پت ہوتے ہیں۔ ان میں اعتماد کی کمی اور معاملات کو جانچنے کی صلاحیت کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ان کے خیالات بگاڑ کا شکار ہوتے ہیں مثلاً وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے دماغ میں جو خیالات آتے ہیں وہ ان کے ذاتی نہیں ہیں بلکہ کسی اور نے ان کے دماغ میں ان کو ٹھونسا ہے۔ یہ لوگ کسی بات پر اپنا ردعمل بھی ظاہر نہیں کرتے۔ ایسے مریض اپنے آپ کو وہ تصور کرتے ہیں جو وہ ہوتے نہیں مثلاً اپنے آپ کو بہت مشہور ایکڑ ماننا یا کسی ملک کا صدر اور وزیراعظم سمجھنا یا پھر اپنے آپ کو کسی جگہ کی شہزادی  یا ملکہ بتا نا نتیجتاً  ا ن  باتوں کے سبب  یہ لوگ خود کو تنہائی کا شکار بنا لیتے ہیں۔


 ایسے لوگوں کوکام کرنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شیزوفرینیا کے نصف یا کچھ کم مریض اس بات کو ماننے کے لئے ہی تیار نہیں ہوتے کہ وہ کسی بیماری کا شکار ہیں لہٰذا وہ ادویات کو مناسب طریقے سے استعمال بھی نہیں کرتے۔ ان مریضوں کے چہرے عام طور پر کسی قسم کے جذبات سے عاری ہوتے ہیں۔ ایک بہت اہم علامت جو زیادہ تر مریضوں میں پائی جاتی ہے وہ نفسیاتی طور پر پائی جانے والی پیاس کی زیادتی ہے جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ پانی یا دوسرے مشروب پیتے رہتے ہیں۔شیزوفرینیا کی علامات کو مثبت اور منفی دو درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ مثبت علامات عام طور پر وہ ہوتی ہیں جن سے کسی نارمل صحت مند انسان کا واسطہ نہیں پڑتا۔ اچھی بات یہ ہے کہ ان پر ادویات کا بہتر اثر ہوتا ہے۔ اگرچہ ان کو مثبت علامات کہا جاتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ اچھی بھی ہوں۔ ان پر مریضوں کو جو آوازیں سنائی دیتی ہیں وہ آپس میں باتیں بھی کر سکتی ہیں اور مریض کے مطابق اس کو مختلف قسم کے خطرات سے بھی آگاہ کرتی رہتی ہیں۔کچھ مریض یہ تصور کرتے ہیں کہ ان کو مافوق الفطرت قوتیں حاصل ہیں۔ بعض اوقات مریض مزاحیہ انداز کی حرکات کرنے لگتے ہیں مثلاً بلاوجہ کودنے لگ جانا یا کسی ایک خاص زاویے سے جسم کو موڑ توڑ کر بیٹھے رہنا۔منفی علامات یا منفی درجے میں ان مریضوں کو شامل کیا جاتا ہے جو زندگی میں اپنی دلچسپی کھو دیتے ہیں حتیٰ کہ وہ ان کاموں کو بھی سرانجام نہیں دے سکتے جو وہ پہلے بآسانی کر لیتے تھے


 لیکن ان علامات کو پہچاننا اتنا آسان ثابت نہیں ہوتا خصوصاً نوجوانوں میں کیونکہ صحت مند نوجوانوں کے موڈ میں بھی نارملی بہت زیادہ اتار چڑھائو دیکھنے کو ملتا ہے۔ بعض اوقات ایسے مریضوں میں جذبات نامی کوئی چیز نظر نہیں آتی حتیٰ کہ جب وہ بات بھی کرتے ہیں تو چہرہ ہر قسم کے تاثرات سے خالی ہوتا ہے یعنی نہ خوشی نہ غم ان کے چہرے پر آتا ہے۔ ایسے لوگ اگر کوئی کام شروع کرتے ہیں تو اس کو انجام تک پہنچانا ان کے بس کا روگ نہیں ہوتا بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ سوچتے ہی رہتے ہیں  ۔ یہ مرض چالیس فیصد لڑکوں اور بیس فیصد سے زائد لڑکیوں میں انیس سال کی عمر سے پہلے شروع ہو جاتا ہے۔شیزوفرینیا کی وجوہات موروثی اور سماجی دونوں کا مجموعہ ہوتی ہیں۔ اگر کسی کے خونی رشتہ داروں میں مرض پایا جاتا ہے تو اس کو مرض ہونے کے امکانات سات فیصد بڑھ جاتے ہیں۔جڑواں بچوں میں سے اگر ایک کو مرض لاحق ہو تو دوسرے بچے کو مریض ہونے کے چالیس فیصد امکانات ہیں۔ اگر والدین میں سے ایک کو مرض ہو تو بچوں میں تیرہ فیصد جبکہ دونوں والدین کے متاثر ہونے کی صورت میں امکانات پچاس فیصد ہو جاتے ہیں اور سماجی وجوہات میں بچے کا ماحول ،نشہ آور ادویات کا استعمال اور والدین اور رشتہ داروں کا رویہ اہم ہیں۔بعض والدین بہت زیادہ سخت اور غصہ والے ہوتے ہیں یا والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کی وفات ہو جانا بھی بچے پر برا اثر ڈالتی ہے۔ جنسی بداخلاقی بھی باعث بن سکتی ہے۔


 نشہ آور اشیاء کا استعمال بھی ایک وجہ بن سکتا ہے۔ ماں کو اگر حمل کے دوران وائرل انفکشن ہو جائے یا پیدا ہونے سے قبل بچے میں آکسیجن کی کمی واقع ہو جائے یا ماں غذائی قلت کا شکار ہو جائے تو اس کا اثر پیٹ میں پرورش پانے والے بچے پر ہوتا ہے۔شیزوفرینیا ایک کرانک، زیادہ شدت والی اور مضمحل کرنے والی ذہنی بیماری کا نام ہے۔ اس میں مریض کے خیالات بکھرے ہوتے ہیں اور اس کا معاشرتی رویہ نارمل نہیں ہوتا بلکہ عام طور پر سوسائٹی کے قوانین اور رسم و رواج کے مخالف ہوتا ہے۔اس مرض میں مبتلا فرد اپنے قریب ترین افراد کو اپنا دشمن اور غیروں کو اپنا دوست سمجھتا ہے۔ اور ہر لمحہ اپنوں کی ایذا رسانی میں مصروف کار رہتا ہے۔غیروں  کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے اپنوں کی برائیا ں کرتا ہے اور اپنے آ پ کو مظلوم ظاہر کرتا ہے اس مرض میں مبتلا افراد سمجھتے ہیں کہ باقی سب غلط ہیں اور وہ خود ٹھیک ہیں۔ 
یہ مضمون انٹر نیٹ کی مدد سے لکھا گیا  ہے 

1 تبصرہ:

  1. ایک عام فرد شیزوفرینیا کی علامات اور علامات ظاہر کر سکتا ہے لیکن اسے شیزوفرینیا کا مریض نہیں سمجھا جا سکتا جب تک کہ ایسی علامات کم از کم 6 ماہ تک برقرار نہ رہیں۔ بعض اوقات، زندگی میں اچانک اور ناقابل قبول تبدیلی کی وجہ سے کسی شخص کو شیزوفرینیا کی ایک قسط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم، جب کچھ مراحل گزر جاتے ہیں، تو وہ اس سے ٹھیک ہو جاتے ہیں اور دوبارہ ایسی اقساط کا تجربہ نہیں کریں گے۔ تناؤ شیزوفرینیا کو متحرک یا خراب کرسکتا ہے لیکن مطالعات سے ثابت ہوتا ہے کہ تناؤ ہی شیزوفرینیا کی وجہ نہیں ہے

    جواب دیںحذف کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

شیزو فرینیا ایک نظر نا آ نے والی لیکن تکلیف دہ بیماری ہے

    بڑا ہی مشہور مقولہ ہے 'تندرستی ہزار نعمت ہے 'اللہ پاک ہر ایک کو بیماری سے بچائے لیکن بہر حال یہ امتحان بھی زندگی میں آتے رہتے ہی...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر