دلوں کے بادشاہ عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ - دنیا میں حکومت دو قسم کی ہوتی ہے ایک خطہ زمین پر اور دوسری حکومت جو قلوب پر کی جاتی ہے عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کی حکومت ظاہر و باطن دونوں پر قائم ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پاک کا یہ درخشاں ستارہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی تیسری نسل مبارک میں طلوع ہوا ۔اور تبلیغ اسلام کی کرنیں بکھیرتا ہوا دشمنان اہل بیت عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور دوانقی کے حکم پر شہید کر دیا گیا -آپ گھوڑوں کے تاجر کے روپ میں سر زمین سندھ پر وارد ہوئے آپ کا مزار کراچی کے علاقے کلفٹن میں ایک اونچے ریتلے ٹیلے یا پہاڑی پر واقع ہے۔ تاریخی روایات اور سوانحی بیانات کے مطابق آپ کو ساحلی پٹی کے اس بلند مقام پر دفن کرنے یا آپ کی آرام گاہ یہاں بننے کی چند اہم وجوہات یہ تھیں:حفاظت قبر : اس دور میں عباسی حکومت کی طرف سے سادات اور اہل بیت کے خلاف سخت ترین سیاسی دباؤ اور ظلم و ستم کا سلسلہ جاری تھا۔ شہادت کے بعد آپ کے مریدوں اور عقیدت مندوں نے آپ کے جسدِ خاکی کی حفاظت کے لیے اس بلند و بالا اور قدرے ناہموار پہاڑی مقام کا انتخاب کیا تاکہ سرکاری یا مخالف عناصر کی رسائی آسان نہ ہو اور وہ آپ کی قبر کی حفاظت کر سکیں۔ ساحلی محل وقوع: ماضی میں یہ پہاڑی ٹیلہ اپنے اردگرد سمندری پانی اور لہروں سے گھرا ہوا ایک تنہا اور ایسا مقام تھا جس عوام الناس کے لئے کوئ کشش نہیں تھی ،
حضرت عبد اللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کے بعد آپ کے ساتھیوں اور مریدوں نے جو حکومتی قوتوں کی نظروں سے بچاؤ کے لئے آپ کی تدفین کے لئے اس ویران ٹیلہ کا انتخاب کیا ۔مریدین کا قیام: آپ کے عقیدت مند اپنی حیات تک اسی پہاڑی پر ہی خیمہ زن رہے تاکہ قبرِ مبارک کی پہرہ داری کی جا سکے اور قبر کو یا آپ کے جسد کو نقصان پہنچانے سے بچایا جا سکے۔ لیکن شان خداوندی دیکھئے کہ میلوں دور تک سمندر کے کھارے پانی سے گھرے ہوئے اس ٹیلے کے دامن میں اللہ پاک نے آپ کی قبر کی رکھوالی کرنے والوں کے لئے میٹھے پانی کا چشمہ جاری و ساری کر دیا جو آج تک جاری ہے-151ہجری میں ابو جعفر منصور کومعلوم ہواکہ عبداﷲ شاہ الاشتر سندھ میں مقیم ہیں جس پر منصور کی پریشانی بڑھتی جارہی تھی ۔وہ حضرت عبد اﷲ شاہ غازی کو سندھ میں عباسی حکومت کیلئے خطرہ محسوس کررہا تھا ، اُس نے گورنرعمر بن حفص سے جواب طلبی کی اور ُاسے گورنرسندھ سے معزول کرکے افریقہ کا گورنر بنا کر افریقہ بھیج دیا اور ہشام بن عمروتغلبی کوسندھ کا نیا گورنر بنا کر خصوصی ہدایات کیساتھ بھیجا کہ عبد اﷲ شاہ غازی کوگرفتار کرواور راجہ کی طرف سے کسی قسم کی رکاوٹ ہوتو راجہ کو قتل کردیا جائے مگر ہشام بن عمرو جو خود بھی سادات کا احترام کرتا اور اُن سے دلی عقیدت رکھتا تھا
عبداﷲ شاہ الاشتر کی سند ھ میں غیر معمولی شہرت ومقبولیت کی وجہ سے نئے گورنرہشام بن عمرو انہیں گرفتار کرنے میں ترد کاشکار رہا مختلف حیلوں اور بہانوں سے عبداﷲ شاہ غازی کی گرفتاری سے متعلق ابو جعفر منصور کو ٹالتا رہا وہ اہل بیت کے خون ناحق کو اپنی گردن کا طوق نہیں بنانا چاہتا تھا -انہی دنوں میں سندھ کے ایک اور علاقے میں بغاوت ہوئی جوکہ عبد اﷲ شاہ غازی کے قیام کے قریب کا علاقہ تھا گورنرہشام بن عمرو نے اپنے بھائی سفیع بن عمر کو عبد اﷲ شاہ غازی کے قتل کا حکم دے کر سندہ کو روانہ کیا کیونکہ سندھ اس وقت حجاز کا حصہ تھا آپ اس وقت صبح کی ہوا خوری کے لئے بمعہ مریدوں کے ساحل سمندر پر موجود تھے نکلے ہوئے تھے -سفیع بن عمرو لشکریوں کے ہمراہ اس علاقے میں ٹھہرا ہوا تھا دور سے عبداﷲ شاہ غازی ، رحمۃ اللہ علیہ کے گھوڑوں کو دیکھا اور حملہ آوار ہوا اس کے ساتھ اس کے فوجی تھے جبکہ آپ کے ساتھ دس یا بارہ ساتھی تھے آپ نے بے جگری سے مقابلہ کیا لیکن پھر بالآخر شہید ہو گئے
قرب وجوار کے لوگوں کوجب آپ کی شہادت کے واقعہ کا علم ہوا تو بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے ادھر سفیع نے اپنے بھائی گورنر ہشام بن عمروکواس کی اطلاع دی گورنر کچھ بول نہیں سکا کیونکہ یہ عباسی حکمراں ابو جعفر منصور کے حکم کی بجا آوری تھی اس نے اس کی اطلاع بغداد میں ابو جعفر منصور کودی ۔ادھر آپ کے مریدوں نے آپ کے جسد مبارک کو چھپا کر دور ایک اونچی پہاڑی پر لے گئے اور اسی پہاڑی پر آپ کو سپر دخاک کیا گیا ۔ اس وقت یہاں کئی کئی میل کوئی آبادی نہیں تھی بحری آمد و رفت بھی اُس وقت صرف دیبل موجو دہ بن قاسم پورٹ پر ہوا کرتی تھی اس لئے آپ کی قبر دشمنان اہل بیت کی نظروں سے اوجھل رہی آپ صاحب کشف و کرامت ولی خدا ہیں اور عوام کے دلوں پر آ پ کی باشاہت قائم ہے اور بالخصوص پورے ملک میں جبکہ بالعموم پوری دنیا میں آ پ کے عقیدت مند کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
تحریر و تلخیص سیدہ زائرہ عابدی