اسپینش فلو (1918–1920) انسانی تاریخ کی مہلک ترین وبائی امراض میں سے ایک تھا، جو 5 کروڑ سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بن گیا ۔ جب میں خود اس تباہ کن وبا کے اوپر غور کیا تو میرا زہن پہلی جنگ عظیم کی جانب گیا لاکھوں سپاہی اپنے اپنے گھروں سے دور سرد موسم میں ناکافی خوراک کے ساتھ لڑ رہے تھے جن میں بالآخر قوت مدافعت جواب دے گئ اور وہ نمو نیہ جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہوئے تو دوسری جانب اس بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کی ایک بنیادی وجہ اس دور میں طبی سہولتوں کا شدید فقدان اور بیماری کی آ گہی نا ہونا تھا ۔ عوام اسے ایک بیکٹیریل انفیکشن سمجھتے رہے۔سائنسی معلومات اور ادویات کی کمی-ویکسین اور اینٹی بائیوٹکس کا نہ ہونا: اس وقت انفلوئنزا کی کوئی ویکسین دستیاب نہیں تھی۔ مزید یہ کہ ثانوی انفیکشن (جیسے نمونیا) کے علاج کے لیے اینٹی بائیوٹکس (جیسے پینسلین) ابھی ایجاد نہیں ہوئی تھیں۔پہلی جنگِ عظیم کا اثر: یہ وبا پہلی جنگِ عظیم کے آخری مہینوں میں پھیلی۔ بہترین ڈاکٹرز، نرسیں اور طبی وسائل جنگی محاذوں پر تعینات تھے، جس کی وجہ سے شہری ہسپتال خالی اور بے یارومددگار رہ گئے۔ہسپتالوں میں جگہ ختم ہو گئی۔ اسکولوں، گرجا گھروں اور سرکاری عمارتوں کو عارضی ہسپتالوں میں تبدیل کرنا پڑا، جہاں بنیادی طبی سہولتیں تک موجود نہیں تھیں۔
. حفاظتی سامان (PPE) اور آلات کا فقدان-مریضوں کے لیے آکسیجن سلنڈر اور وینٹی لیٹرز جیسی لائف سپورٹ مشینیں موجود نہیں تھیں۔طبی عملے کے پاس حفاظتی ماسک اور دستانے انتہائی ناقص معیار کے تھے، جس کی وجہ سے ڈاکٹر اور نرسیں خود بڑی تعداد میں اس بیماری کا شکار ہو کر ہلاک ہو گئے۔ جس کی وجہ سے عوام کو وبا کی شدت کا بروقت علم نہ ہو سکا اور احتیاطی تدابیر (جیسے لاک ڈاؤن یا ماسک کا استعمال) میں بہت تاخیر ہوئی۔ طبی تاریخ کے اس اہم اور ہولناک واقعے کے بارے میں چند اہم حقائق درج ذیل ہیں: پہلی جنگِ عظیم کی وجہ سے جرمنی، برطانیہ، فرانس اور امریکہ جیسے ممالک میں میڈیا پر سخت سنسرشپ تھی تاکہ فوجیوں کا حوصلہ پست نہ ہو، اس لیے انہوں نے اس بیماری کی خبروں کو چھپایا۔اسپین کا کردار: چونکہ اسپین اس جنگ میں غیر جانبدار تھا، وہاں کے میڈیا نے اس بیماری کے پھیلاؤ کی خبریں کھل کر شائع کیں۔ دنیا نے پہلی بار اس خطرناک بیماری کی خبریں اسپین کے اخبارات سے سنیں، جس کی وجہ سے اس کا نام غلطی سے "اسپینش فلو" پڑ گیا۔یہ کیوں اتنا خطرناک تھا؟
نوجوانوں پر حملہ: عام طور پر فلو یا زکام بچوں اور بوڑھوں کے لیے خطرناک ہوتا ہے، لیکن اسپینش فلو کی سب سے عجیب اور ہولناک بات یہ تھی کہ اس نے 20 سے 40 سال کے صحت مند نوجوانوں کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا۔تیز رفتار اثر: یہ وائرس اتنا شدید تھا کہ کچھ مریضوں میں علامات ظاہر ہونے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر پھیپھڑوں میں پانی بھر جاتا تھا اور وہ دم گھٹنے کی وجہ سے وفات پا جاتے تھے۔وائرس کی طاقت: ماہرین کے مطابق یہ ایک انتہائی متعدی اور شدید نوعیت کا ایویئن (پرندوں سے منتقل ہونے والا) انفلوئنزا وائرس تھا جس نے انسانوں میں تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت پیدا کر لی تھی۔اس تباہ کن وبا کے بعد ہی دنیا بھر میں جدید پبلک ہیلتھ سسٹمز، قرنطینہ(Quarantine) کے قوانین اور وائرسز پر تحقیق کے طریقوں میں انقلابی تبدیلیاں لائی گئیں مییہ وبا 1918 میں شروع ہوئی اور اس کی تین لہریں (یعنی بیماری کے پھیلاؤ میں تیزی کے ادوار) آئیں: بہار، خزاں اور موسم سرما میں۔ خزاں کی لہر سب سے زیادہ مہلک ثابت ہوئی۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ 1920 میں اس کی ایک چوتھی لہر بھی آئی تھی۔ موسمی فلو اور دیگر بیماریوں کے برعکس (جن میں اس عمر کے لوگوں کے شدید بیمار ہونے کا امکان کم ہوتا ہے)، اس وبا میں 20 سے 40 سال کی عمر کے غیر معمولی طور پر زیادہ لوگ ہلاک ہوئے۔ سائنسدان اب بھی اس بات کا مطالعہ کر رہے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا تھا۔
1918 اور 1919 کے درمیان دنیا بھر میں تقریباً 5 کروڑ (50 ملین) افراد فلو کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ کچھ ماہرین کے اندازے کے مطابق یہ تعداد 10 کروڑ (100 ملین) تک بھی ہو سکتی ہے۔ صرف امریکہ میں تقریباً 6 لاکھ 75 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔پہلی جنگِ عظیم 11 نومبر 1918 کو پہلی جنگ عظیم ختم ہوئی تھی- اسپینش فلو (Spanish flu) کی عالمی وبا دنیا میں 1918ء سے 1920ء کے دوران پھیلی تھی۔اہم تفصیلات:آغاز: اس کی ابتدائی لہر مارچ 1918ء میں شروع ہوئی، جبکہ خزاں 1918ء (اکتوبر اور نومبر) میں اس کی دوسری اور سب سے زیادہ خطرناک لہر نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔مدت: یہ تباہ کن وبا جنوری 1918ء سے لے کر دسمبر 1920ء تک مختلف مراحل میں جاری رہی۔متاثرہ افراد: اس سے دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی (یعنی لگ بھگ 50 کروڑ افراد) متاثر ہوئی تھی۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں