·شازیہ کیانی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی اس تحریر نے میرے دل کو خون کے آنسو رلایا ہے
ہجرت کے نئے ریکارڈ — پاکستان کی بلند ترین “مہاجر ت”
پاکستان کے نام ایک نیا ریکارڈ درج ہو رہا ہے، مگر یہ وہ ریکارڈ نہیں جس پر فخر کیا جائے۔ ہمارے ہاں جس “ہجرت” کا چرچا ہو رہا ہے، وہ کسی تہوار کی خوشی نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر روز ہمارے دلوں میں درد، ذہنوں میں سوالوں اور مستقبل کے بارے میں خوف کا بیج بوتی جا رہی ہے۔ حیرت کی بات نہیں کہ رواں سال بھی لاکھوں پاکستانی اپنے وطن سے باہر جا رہے ہیں — وہ تعلیم یافتہ جوان، ہنر مند پیشہ ور، ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ماہر، اور وہ مزدور بھی جو اپنے خاندان کے لیے بہتر زندگی کا خواب دیکھتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ تین سالوں میں تقریباً 2,894,645 پاکستانی ملک چھوڑ چکے ہیں — تقریباً 2.9 ملین انسان جو پاکستان سے باہر مواقع کی تلاش میں نکلے ہیں۔ یہ صرف ایک تعداد نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہماری قومی ناکامی، حکومتی عدم دلچسپی اور مستقبل کے بحران کی گواہ ہے۔پاکستان سے جانے والوں میں صرف غیر ہنرمند مزدور ہی نہیں بلکہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں ہم اپنی قوم کی امید سمجھتے تھے — ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی اسپیشلسٹس، اساتذہ، اور دیگر پیشہ ور۔
اور یہ اعداد و شمار ہی نہیں رُکتے۔ صرف سال 2024 میں ہی 727,381 پاکستانی قانونی ملازمتوں کے لیے بیرون ملک منتقل ہوئے، جبکہ 2023 میں یہ تعداد 862,625 تھی — جو خود ایک بے مثال ہجرتی لہر تھی۔ یہ کوئی افواہ نہیں، یہ حقیقت ہے۔پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کی بلند ترین ہجرت دیکھ رہا ہے —اور ذمہ دار وہی ہیں جو روز ٹی وی پر “سب اچھا ہے” کے نعرے لگاتے ہیں۔تقریباً 29 لاکھ پاکستانی صرف پچھلے تین سال میں ملک چھوڑ چکے ہیں۔
2023 میں 8 لاکھ 62 ہزار2024 میں 7 لاکھ 27 ہزار اور یہ سب کوئی فارغ لوگ نہیں تھےیہ ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ایکسپرٹس، اساتذہ، اور ہنر مند نوجوان تھے۔ یعنی قوم کا دماغ، قوم کا مستقبل،قوم کی امید — سب جہاز میں بیٹھ گیا۔پھر حیرت ہوتی ہے کہ ایئرپورٹس پر لڑائیاں کیوں ہوتی ہیں؟
سوال جواب کیوں؟
غصہ کیوں؟ جناب!
جب کوئی لاکھوں روپے لگا کراس “منحوس نظام” سے جان بچا کر نکلنے کی کوشش کرے گاتو وہ مسکرائے گا نہیں — وہ چیخے گا۔ طنز یہ ہے کہ
ایک طرف لوگوں پر آف لوڈنگ،دوسری طرف باہر ممالک سے بین لگوانے کی کوششیں،اور تیسری طرف قوم کو بتایا جا رہا ہے کہ دیکھیں! برین ڈرین رک گیا ہے”۔ واہ!لوگوں کو زبردستی قید کر کے کہا جا رہا ہے“دیکھو، سب خوشحال ہیں”۔ یہ ہجرت نہیں…یہ اعتماد کا قتل ہے۔یہ ریاست سے مایوسی ہے۔یہ اس نوجوان کا جنازہ ہےجو کبھی کہتا تھا:میں پاکستان میں کچھ کر کے دکھاؤں گا” آج وہی نوجوان کہتا ہے:
“بس کسی طرح یہاں سے نکل جاؤں” یاد رکھیں:قومیں سرحدیں بند کر کے نہیں بچتیں قومیں امید دے کر بچتی ہیں۔ اور جہاں امید ختم ہو جائے
وہاں پاسپورٹ ہی سب سے قیمتی دستاویز بن جاتا ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے لاکھوں روپے کی ڈگریوں،سخت محنت، اور شب و روز آسانی سے نہیں حاصل کیں — مگر اب وہ اپنے وطن کے دروازوں کی بجائے دوسرے ملکوں کے سفرناموں میں نظر آ رہے ہیں۔یہ وہی لوگ ہیں جنہیں کبھی پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لیے کہا جاتا تھا، مگر آج وہ اپنی صلاحیتیں، خواب اور مستقبل سب کے سب لے کر جا رہے ہیں — بس ملک چھوڑنے کا ٹکٹ ہاتھ میں ہے۔اب اگر کوئی حیران ہوتا ہے کہ جب لوگ لاکھوں روپے خرچ کر کے یہ ملک چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں تو لڑائی جھگڑا، سوال جواب اور غصہ کیوں؟ جواب بالکل سادہ ہے: یہ لوگ اپنے َمستقبل، عزت، اور تحفظ کے لیے سوال پوچھ رہے ہیں — سوال جو شاید برسوں سے جواب کے انتظار میں رہ گیا ہے۔ اور ساتھ ہی، ہمارے یہاں حکومتی بیان بازیاں جاری ہیں کہ “سب ٹھیک ہے، خوشحالی نظر آ رہی ہے، ترقی کی رفتار تیز ہے” — ایسے بیانات جیسے ایک مایوس نوجوان کو تسلی دے دیں گے کہ واقعی ساری مشکلات ختم ہو گئی ہیں! حقیقت میں، نعرے بڑھتے جا رہے ہیں مگر زندگیاں اور خواب باہر نکل رہے ہیں۔ جب پاکستان دنیا بھر میں لوگوں کی بین الاقوامی امیج کو بہتر بنانے کے لیے نئی پالیسیاں اپناتا ہے، وہی پالیسیاں لاکھوں شہریوں کو مجبوراً ملک چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہیں — اور یہ کوئی “ہجرت” نہیں، یہ ایک خروج ہے، ایک بھاگ نکلنے کی داستان ہے جس کا اختتام نظر نہیں آتا۔ آخر میں ایک سچ — یہ ہجرت صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ ایک ایسا بریہ اشارہ ہے کہ اگر پاکستان نے آج اپنی نوجوان قوت کو روکنے کے لیے پالیسیاں، مواقع اور حقیقی مستقبل نہ دیا تو کل وہ لوگ نہ صرف ملے گے بلکہ وہ نام بھی دنیا کے نقشے پر پاکستان سے زیادہ روشن ہوں گے۔ پاکستان نے بہت سی بار اعلانِ ترقی کیے، مگر اصل ترقی تب آئے گی جب یہ نوجوان وطن میں رہ کر ترقی کے سفر کا حصہ بنیں، نہ کہ دروازہ کھول کر باہر کی زمین پر قدم جمانے کو مجبور ہوں۔
رواں سال بھی لاکھوں پاکستانی اپنے وطن سے باہر جا رہے ہیں — وہ تعلیم یافتہ جوان، ہنر مند پیشہ ور، ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ماہر، اور وہ مزدور بھی جو اپنے خاندان کے لیے بہتر زندگی کا خواب دیکھتے ہیں۔
جواب دیںحذف کریں