جب علم کی بساط پر شاہی شملہ جھک گیا -
ناظم آباد کا وہ تاریخی پارک اور ایک یادگار عقدِ ثریا
تاریخ کے اوراق میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صرف دو افراد کے ملاپ کا نام نہیں ہوتے، بلکہ دو مختلف تہذیبوں، طبقوں اور تاریخ کے دھاروں کے سنگم کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک ناقابلِ فراموش اور سچا تاریخی واقعہ پچھلی صدی کے وسط میں روشنیوں کے شہر کراچی کے ایک عوامی مرکز میں رونما ہوا، جس نے اِکژ و ناکژ امیر و غریب کو ششدر کر دیا۔ یہ واقعہ تھا خطیبِ آلِ محمد، مفکرِ اسلام علامہ رشید ترابی کی صاحبزادی کا عقد، جو کہ ریاستِ خیرپور کے آخری باقاعدہ تاجدار کے ساتھ انجام پایا۔اس رشتہِ ازدواج کی سب سے خوبصورت اور دلفریب حقیقت یہ تھی کہ جہاں ایک طرف دولہا وقت کا حکمران اور نواب تھا، وہیں دلہن ایک ایسے عظیم علمی خانوادے کی چشم و چراغ تھیں جن کا خطابت اور فلسفے میں کوئی ثانی نہ تھا۔ اس سچی داستان کے دامن میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں، بلکہ یہ علم اور اقتدار کے ایک انوکھے امتزاج کی حقیقی دستاویزی تاریخ ہے اس تاریخی عقدِ مسعود کے دونوں مرکزی کردار اپنے اپنے دائرے میں نہایت معتبر نام رکھتے تھے:
دلہن کا مکمل نام: محترمہ ایلیا ترابی ( صاحبزادی علامہ رشید ترابی )۔ دولہا کا مکمل نام: ہز ہائینس میر علی مراد خان تالپور ثانی (نواب و آخری خودمختار حکمران، ریاستِ خیرپور)شادی کا اصل مقام اور منفرد سادگی: عام طور پر شاہی خاندانوں کی شادیاں بڑے بڑے محلات جیسے کہ خیرپور کے "فیض محل" یا کسی شاندار شاہی قلعے میں منعقد ہوا کرتی تھیں۔ لیکن علم کے اس عظیم مرکز یعنی علامہ رشید ترابی کے گھرانے کا مزاج شاہی طمطراق کے بجائے عوامی اور علمی تھا۔چنانچہ نوابِ خیرپور کی اس بارات کا استقبال کسی عالی شان محل کے بجائے کراچی کے ایک عوامی مقام پر کیا گیا:اصل مقام: ناظم آباد نمبر 4، کراچی کا ایک چیدہ عوامی پارک ۔ اس پارک کو شامیانوں اور روایتی روشنیوں سے سجایا گیا تھا، جہاں ناظم آباد کے متوسط اور عام شہریوں کے درمیان وقت کا نواب اپنی بارات لے کر پہنچا۔ علم کی برتری کا یہ ایک ایسا عملی مظاہرہ تھا کہ شاہی دبدبہ فقرِ غیور کے سامنے سرنگوں نظر آیا۔
معزز مہمانانِ گرامی کی کہکشاں: اس تقریب کی خاص بات وہ نامور سیاسی، سماجی، اور ادبی شخصیات تھیں جنہوں نے اس میں شرکت کر کے اس محفل کو چار چاند لگا دیے۔ مہمانوں کی فہرست میں برصغیر کے نامور عمائدین شامل تھے جن میں سرِفہرست یہ نام ہیں: راجہ صاحب محمود آباد (امیر احمد خان): تحریکِ پاکستان کے سرگرم رہنما، قائدِ اعظم کے قریبی رفیق اور مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانی، جنہوں نے اس محفل میں اپنی مخصوص علمی و وجاہتی شخصیت کے ساتھ شرکت کی۔سید ہاشم رضا: نامور بیوروکریٹ، ادیب اور کراچی کے سابق ایڈمنسٹریٹر۔ فیض احمد فیض: اردو ادب کے بے تاج بادشاہ اور انقلابی شاعر۔شمالی و جنوبی سندھ کے مقتدر خوانین: تالپور اور عباسی خاندان (بہاولپور) کے قریبی خونی رشتہ دار اور نوابین ۔ کراچی کے چیدہ اہل علم اور شعرا: علامہ رشید ترابی کے قریبی ادبی اور مذہبی حلقے کے احباب، جن میں پروفیسر سحر انصاری اور دیگر معاصرین شامل تھے۔فکری پس منظر: یہ نکاح نامور مجتہدین کی موجودگی میں پڑھا گیا اور اس نے یہ ثابت کیا کہ فکر و فلسفہ کی امارت، مادی ریاستوں کی نوابی پر ہمیشہ بھاری رہتی ہے۔
میر علی مراد خان تالپور (جو کیمبرج کے تعلیم یافتہ تھے) نے علامہ ترابی کی فکری بلندی کے احترام میں اس سادگی کو بخوشی قبول کیا۔_ محترمہ ایلیا ترابی کے بطن سے بعد ازاں صاحبزادہ میر عباس رضا خان تالپور (ولی عہد) اور صاحبزادہ میر مہدی رضا خان تالپور پیدا ہوئے، جنہوں نے اس شاہی اور علمی نسل کو آگے بڑھایا۔ ناظم آباد کا وہ پارک آج بھی اس بات کا گواہ ہے کہ جب وقت کا نواب، ایک خطیبِ بے بدل کے در پر آیا، تو تاریخ نے علم کو تاج و تخت پر حکمرانی کرتے دیکھا۔ ( یاد رہے کہ یہ شادی 11 ذیقعدہ , 6 اپریل 1963 بروز ہفتہ ہوئی تھی )اہم نقطہ_علامہ رشید ترابی ضحیح معنوں میں عالم دین تھے اور دیگر مسالک کے علما کا بھی احترام کرتے تھے ذرا تصور کریں ان کے بیٹے.نصیر ترابی کے۔ نکاح کا خطبہ مولانا احتشام الحق تھانوی نے پڑھا تھا _
تحریر تحقیق اور ترتیب _
ندیم انصاری ٹورنٹو
مورخہ 22 اگست 2026
'''
یہ خوبصورت آرٹیکل بغیر ایک لفظ کے ردو بدل کے میں نے محترم ندیم انصاری کی وال سے لیا ہے
بے شک یہ ایک بڑی یادگار شادی تھی
جواب دیںحذف کریں