پیر، 24 اگست، 2026

مرادیں ایسے بھی بر آتی ہیں

 

ایک  سچی کہانی    :--       ایک مرتبہ کا زکر ہے  ایک شخص فجر کی نماز کے بعد مسجد سے نکل رہا تھا۔ اس نے اپنے پڑوسی کو سلام کیا، مگر پڑوسی نے جواب نہ دیا۔ اسے تعجب ہوا، کیونکہ دونوں کے درمیان بہت اچھے تعلقات تھے۔ پھر اس نے محسوس کیا کہ شاید پڑوسی کسی شدید پریشانی میں مبتلا ہے؛ وہ گم سم، فکرمند اور لوگوں سے بے نیاز سا چلا جا رہا تھا۔وہ اس کے قریب گیا اور پوچھا:’’کیا بات ہے؟‘‘پڑوسی نے کہا:’’عمارت کے مالک نے مجھے کرایہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے مکان خالی کرنے کو کہا ہے، اور اللہ کی قسم! میرے پاس کرایہ دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔‘‘اس نے کہا ’’انشاء اللہ، میں کوئی انتظام کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔‘‘وہ شخص بیان کرتا ہے:’’عصر کی نماز سے تقریباً پانچ منٹ پہلے اچانک میرے دل میں خیال آیا کہ میں مسجدِ عکاشہ بن محصن میں نماز پڑھوں۔


یہ مسجد ہمارے علاقے سے زیادہ دور نہیں تھی، لیکن مجھے خود بھی معلوم نہیں کہ یہ خیال اچانک کیوں آیا۔نماز ختم ہوئی ااور ہم باہر نکلنے لگے تو میری ملاقات ایک ایسے دوست سے ہوگئی جسے میں نے بہت عرصے سے نہیں دیکھا تھا۔اس نے بتایا کہ وہ بہت دور رہتا ہے، لیکن آج اس علاقے میں رہنے والے ایک رشتہ دار کے ہاں دوپہر کے کھانے پر آیا تھا، اس لیے اس نے اسی مسجد میں نماز پڑھنے کا فیصلہ کیا۔گفتگو کے دوران اس دوست نے اچانک، بغیر کسی خاص مناسبت کے، مجھ سے پوچھا:’کیا تم کسی ایسے غریب خاندان کو جانتے ہو جس کے پاس رہنے کے لیے جگہ نہ ہو؟‘میں نے پوچھا:’کیوں؟‘اس نے کہا:’میں ایک چھوٹے سے وقف کا نگران ہوں جسے اس کے مالک نے اللہ تعالیٰ کے لیے وقف کیا تھا


اس   بلڈنگ میں بیس فلیٹ ہیں۔ کل ان میں سے ایک خاندان اپنے مالی حالات بہتر ہوجانے کی وجہ سے وہاں سے منتقل ہوگیا ہے۔ اس نے سوچا کہ اب یہ جگہ کسی زیادہ ضرورت مند خاندان کو دے دی جائے۔‘میں بے اختیار پکار اٹھا:’میرے پاس ایسا خاندان ہے! اپنا فون نمبر دو اور خدا کے لیے یہ فلیٹ کسی اور کو مت دینا۔‘اس نے کہا:’فکر نہ کرو، اسے اپنی طرف سے  ا لاٹ سمجھو۔ اور جس خاندان کو تم لاؤ گے، اسے ایک پیسہ بھی ادا نہیں کرنا ہوگا، کیونکہ یہ اللہ کے لیے وقف ہےہمیشہ کے لیے۔‘وہ شخص کہتا ہے’’واپسی پر اپنے محلے کی طرف جاتے ہوئے میں ان حیرت انگیز واقعات کے بارے میں سوچتا رہا۔ فجر کے وقت اچانک اپنے پڑوسی کی پریشانی معلوم ہونا، پھر عصر کی نماز کے لیے ایک ایسی مسجد میں چلے جانا جہاں میں نے زندگی میں کبھی نماز نہیں پڑھی تھی،


 ایسے علاقے میں جانا جہاں برسوں سے نہیں گیا تھا، اور وہاں اتفاقاً ایک ایسے دوست سے ملاقات ہوجانا جسے دس سال سے نہیں دیکھا تھا، حتیٰ کہ میرے پاس اس کا فون نمبر بھی نہیں تھا—اور پھر اسی شخص کے پاس ایک ضرورت مند خاندان کے لیے مفت رہائش موجود ہونا میں سوچنے لگا کہ شاید میرے پڑوسی کا اپنے رب کے ہاں کوئی خاص مقام ہے، کوئی پوشیدہ نیکی ہے، یا اس نے کوئی ایسا عظیم عمل کیا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی پریشانی دور کردی۔‘‘جب وہ اپنے محلے میں پہنچا تو فوراً اپنے غریب پڑوسی کے گھر گیا اور اسے خوش خبری سنائی۔خبر سنتے ہی وہ شدتِ خوشی سے رونے لگا۔ یہاں تک کہ زمین پر بیٹھ گیا اور کھڑا نہ رہ سکا۔اس شخص نے اس سے پوچھا ’’فجر کی نماز کے بعد سے اب تک تم نے ایسا کیا عمل کیا ہے؟‘‘غریب پڑوسی نے جواب دیا:’’اللہ کی قسم! میں نے کچھ خاص نہیں کیا۔البتہ فجر کی نماز سے واپس آیا تو میری بیوی نے مجھے بہت پریشان دیکھا۔ اس نے مشورہ دیا کہ ہم دونوں مل کر غروبِ آفتاب تک مسلسل نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتے رہیں۔ ہم نے یہی کیا، اور اب تم یہ خوش خبری لے کر میرے پاس آگئے ہو۔ یقین کرو، ہم نے اس دوران درود شریف پڑھنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔‘‘

اللّٰهم صلِّ وسلم وبارك على نبينا محمد ﷺ۔

نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجیے  ۔

1 تبصرہ:

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

مرادیں ایسے بھی بر آتی ہیں

  ایک  سچی کہانی    :--       ایک مرتبہ کا زکر ہے  ایک شخص فجر کی نماز کے بعد مسجد سے نکل رہا تھا۔ اس نے اپنے پڑوسی کو سلام کیا، مگر پڑوسی ن...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر