کراچی جیسے میگا شہر میں ریسکیو 1122 کے پاس کوئی فائر اسٹیشن نہیں بلکہ عملہ گاڑیوں کے ساتھ فٹ پاتھوں پر ڈیوٹیاں کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 نے 4 عارضی فائر اسٹیشن قائم کیے ہیں جن میں ایک گلشن اقبال میں ہیڈ کوارٹر، دوسرا راشد منہاس روڈ پر لکی ون مال کے قریب اسپتال، تیسرا فائر ڈیفنس اور چوتھا گلشن معمار میں ہے۔ تاہم ریسکیو 1122 کے پاس اسنار کل دستیاب نہیں۔دلچسپ امر یہ کہ آتشزدگی اور ایمبولنس کے لیے بھی کالز اسی کنٹرول روم میں وصول کی جاتی ہیں مگر ایمبولنس کسی اور ادارے سے روانہ کی جاتی ہے۔کراچی میں فائر اسٹیشن کی بہت کمی ہے، ہم چندگاڑیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں: چیف فائر آفیسر-بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک لاکھ کی آبادی پر ایک ماڈل فائر اسٹیش گاڑیاں اور 144 افراد کا عملہ ہونا ضروری ہے۔اس حساب سے 2 کروڑ کی آبادی کے شہر کو 200 فائر اسٹیشن، 800 گاڑیاں اور 28 ہزار 800 کا عملہ درکار ہے۔جب اتنے بڑے شہر میں کُل 28 فائر اسٹیشن ہوں تو قدرتی طور پر آگ لگنے کے مقام سے ان کا فاصلہ اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہےکہ کوشش کے باوجود متعلقہ عملہ بروقت نہیں پہنچ پاتا جس کے باعث آگ بے قابو ہونے اور جانی و مالی نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔دوسری جانب کراچی فائر بریگیڈ کی 30 سے زائد گاڑیاں سالوں سے خراب ہیں اوران کی مرمت اب تک نہیں ہوپائی ہے۔-
اس وقت بھی محکمہ فائر بریگیڈ میں ڈرائیورز سمیت 440 اسامیاں خالی -وفاقی حکومت نے 2021 میں 50 فائر ٹینڈرز اور دو باؤزرز کے ایم سی کو فراہم کیے تھے جو شہر کے فائر اسٹیشنز کے علاوہ صنعتی ایریاز کو بھی دو دو کے حساب سے فراہم کیے گئے۔ تاہم عملے کی کمی یہاں بھی آڑے آرہی ہے۔ حالت یہ ہے کہ آج بھی محکمہ فائر بریگیڈ میں ڈرائیورز سمیت 440 اسامیاں خالی ہیں۔میئرکراچی مرتضیٰ وہاب نے فائر فائٹرز کی نئی بھرتیوں کے لیے سندھ حکومت سے اجازت طلب تو کرلی ہے لیکن شہر کی بہتری کے لیے اُن سے جن انقلابی فیصلوں اور ٹھوس اقدامات کی توقع کی جارہی تھی وہ تاحال پوری نہیں ہوئی۔سب سے زیادہ ریونیو وصول کرنے والی وفاقی حکومت بھی کراچی کی بہتری کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کر رہی۔ بلدیہ عظمی کراچی کا محکمہ فائر بریگیڈ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا، فائر بریگیڈ کی 10 سال سے 250 اسامیاں خالی ہیں، نئے فائرٹینڈرز آخری بار25 سال پہلے خریدے گئے تھے، ڈیزل کی عدم دستیابی اور فائر ٹینڈرز کی مرمت نہ ہونے کے باعث شہر قائد کے 16 فائر اسٹیشن غیر فعال ہوگئے ہیں،
سردی کے خشک موسم میں تیز ہواؤں سے آتشزدگی کے بڑھتے واقعات پر قابو پانا مشکل ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق فائر ٹینڈرز نہ ملنے اور وسائل کی شدید کمی سے بلدیہ عظمی کراچی کا محکمہ فائربریگیڈ تباہی سے دوچار ہے، محکمہ فائر بریگیڈ میں ڈرائیوروں کی 242 اسامیاں خالی ہیں محکمے میں آخری بار سال2009 میں بھرتیاں ہوئی تھیں جس کے بعد سے اب تک 10سال گزرگئے کوئی اپائٹمنٹ نہیں ہوا ہے، ہر سال 20 سے 25 ملازمین رٹائرڈ ہوجاتے ہیں-(پی پی آئی) کراچی میں محکمہ فائر بریگیڈ کے پاس عالمی معیار کا عملہ ہے نہ آلات ،یہی سبب ہے کہ سانحہ بلدیہ ہو یا مہران ٹائون کا واقعہ، محکمہ فائر بریگیڈ کی کارکردگی پر ہمیشہ سوالیہ نشان اٹھتے رہتے ہیں،بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک لاکھ کی آبادی پر ایک ماڈل فائر اسٹیشن میں چار گاڑیاں اور 144 افراد کا عملہ ہونا ضروری ہے۔اس حساب سے ڈھائی کروڑ کی آبادی کے شہر کو 250 فائر اسٹیشن، 1000 گاڑیاں اور ۶۳ ہزار کا عملہ درکار ہے۔لیکن یہاں 20 فائر اسٹیشن، 36 گاڑیاں اور 687 افراد کا عملہ میسرہے جو نہ صرف ناکافی ہے بلکہ ایمر جنسی کی صورت میںہولناک تباہی کے خدشات بھی حقیقت بن سکتے ہیں ۔
پاکستان کا سب سے بڑا شہر ،کراچی فائر بریگیڈ کے محکمہ کی حالت زار سے پریشان ہے۔ شہر بھر میں 24 فائرٹینڈر میں سے 18 فائر ٹینڈر کی گاڑیاں خراب ہیں۔22فائر اسٹیشن میں سے صرف 6 فائر اسٹیشن فعال اور چار اسنار کل میں سے صرف ایک کام کر رہی ہے-گر شہر میں کوئی بڑی آگ لگ جائے تو اس محکمے کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ فوری آگ پر قابو پایا جا سکے ۔جبکہ حکمران محکمہ فائربریگیڈ کی زبوں حالی پر خاموش ہیں
خدا کرے کہ ہماری وفاقی حکومت کراچی پر توجہ دے
جواب دیںحذف کریں