کراچی کے دارالخلافہ کی حیثیت ختم کر کے جب اسے اسلام آباد شفٹ کیا گیا اسی وقت سے کرچی کا زوال ہو گیا اور ہر محکمہ بد حال ہو گیا 'اب کراچی صرف سونے کے انڈے دینے والی مرغی ہے جس کے کھانے پینے کی حکومت کو کوئ پرواہ نہیں ہے 'گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ کے دوران 29 سالہ فائر فائٹر فرقان شوکت کو جلتی ہوئی عمارت کے اندر سے کسی شخص کی مدد کے لیے پکار سنائی دی۔ پلازے کا ڈھانچہ کمزور ہو چکا تھا اور کسی بھی لمحے گرنے کا خطرہ تھا، لیکن فرقان نے باہر کھڑے رہنے کے بجائے یہ کہتے ہوئے دوبارہ اندر جانے کا فیصلہ کیا کہ اسے پھنسے ہوئے شخص کو بچانا ہے۔تیسرے درجے کی اس شدید آگ نے گل پلازا کی تقریباً 1200 دکانوں کو تباہ کر دیا، متعدد افراد جان سے گئے جبکہ کئی لوگ لاپتا ہوئے۔ بند اور گنجان کمرشل عمارت میں دھواں، شدید گرمی، ناقص راستے، آگ بجھانے کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی اور غیر محفوظ تعمیرات ریسکیو آپریشن کو انتہائی خطرناک بنا رہی تھیں۔ انہی حالات میں فرقان اپنے ساتھیوں کے ساتھ لوگوں کی جان بچانے کے لیے عمارت کے اندر موجود تھا۔فرقـان کے ساتھ کام کرنے والے سینئر فائر افسر واجد علی کے مطابق عمارت گرنے سے کچھ دیر پہلے دونوں کی بات ہوئی تھی۔ فرقان نے انہیں محتاط رہنے کا کہا تو واجد علی نے جواب دیا کہ تم خود بھی احتیاط کرو کیونکہ تم ابھی نوجوان اور نئے ہو۔ آگ شدت اختیار کرنے اور عمارت کا ڈھانچہ گرنے کے قریب پہنچنے پر ٹیم نے باہر نکلنے کی کوشش کی۔
فرقان بھی دوڑا، لیکن راستے میں ٹھوکر کھا کر گر گیا اور اسی لمحے عمارت کا ملبہ اس پر آ گرا۔اس حادثے میں فرقان کی کمر، چہرہ، ہاتھ اور جسم کا بڑا حصہ بری طرح جھلس گیا۔ اس کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ جدید حفاظتی لباس، سانس لینے کے آلات اور دیگر ضروری سامان کے بغیر صرف عام یونیفارم میں اتنی خطرناک آگ کا مقابلہ کر رہا تھا۔ ان کے بھائی محمد نعمان کے مطابق مناسب حفاظتی سوٹ ہوتا تو شاید فرقان کا جسم اس قدر نہ جلتا۔فرقـان شوکت نے صرف تین سال قبل کراچی فائر بریگیڈ میں ملازمت اختیار کی تھی اور وہ اپنی ٹیم کا سب سے کم عمر رکن تھا۔ لوگوں کی مدد کا جذبہ اسے بچپن سے تھا۔ اس نے یہ پیشہ اپنے والد سے حاصل کیا تھا، جنہوں نے 35 سال فائر بریگیڈ میں خدمات انجام دیں، ڈیوٹی کے دوران مفلوج ہوئے اور 2018 میں ملازمت کے دوران ہی انتقال کر گئے تھے۔فرقـان کے گھر والوں نے اس رات جاگتے ہوئے گزاری۔ انہیں معلوم تھا کہ وہ جلتی ہوئی عمارت کے اندر موجود ہے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کی بے چینی بڑھ رہی تھی۔ بعد میں جب اس کی شہادت کی خبر پہنچی تو یہ خاندان کے لیے دوسری نسل کی قربانی بن گئی۔
فرقـان اپنے پیچھے نوجوان بیوہ اور شیر خوار بیٹا محمد رحیم چھوڑ گیا۔ وہ اپنے بیٹے کو بڑا ہو کر وکیل بنانا چاہتا تھا۔ اس کی بہن شمیلہ شوکت نے اپنے بھائی کا خواب پورا کرنے کا عزم کرتے ہوئے کہا کہ وہ محمد رحیم کو قانون کی تعلیم دلائیں گی۔گل پلازا کا سانحہ صرف ایک عمارت اور بازار کی تباہی نہیں، بلکہ کراچی کے فائر فائٹرز کو درپیش سنگین مسائل کی ایک دردناک مثال بھی ہے۔ دو کروڑ سے زیادہ آبادی والے شہر میں محدود فائر اسٹیشن، پرانی گاڑیاں، ہائیڈرنٹ نظام کی عدم موجودگی، حفاظتی لباس، سانس کے آلات، تھرمل کیمروں اور جدید تربیت کی کمی ایسے اہلکاروں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہی ہے جو دوسروں کو بچانے کے لیے اپنی جانیں داؤ پر لگا دیتے ہیں۔فرقـان شوکت بھی اپنی جان بچا سکتا تھا، لیکن عمارت کے اندر سے آنے والی مدد کی آواز سن کر وہ واپس آگ میں چلا گیا۔ اس کی بہن کے الفاظ میں: ہم نے اپنا چھوٹا ہیرو کھو دیا، وہ دنیا سے چلا گیا لیکن ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گاکراچی میں محکمہ فائر بریگیڈ کی بدحالی کے برعکس سندھ حکومت کے تحت ریسکیو 1122 کو بین الاقوامی طرز پر شاندار ادارہ بنادیا گیا ہے۔
گلشن اقبال میں ادارے کے ہیڈ کوارٹر میں قائم ریسکیو 1122 کنٹرول روم جدید ترین سہولتوں سے آراستہ ہے جہاں ایک وقت شفٹ میں 36 آپریٹرز ڈیوٹی کرتے ہیں۔ترجمان حسان الحسیب نے اس نمائندے کو دورہ کرتے ہوئے بتایا کہ کنٹرول روم میں صوبے بھر سے موصول ہونے والی تمام کالز ریکارڈ کی جاتی ہیں۔ کال فوری طور پر ڈسپیچر کے ذریعے قریب ترین گاڑی کے عملے کو فارورڈ کر دی جاتی ہے جو فوراً روانہ ہو جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 کیلئے کراچی میں کل 1500 ملازمین بھرتی کیے جا چکے ہیں جن میں سے 224 فائر فائٹرز بھی شامل ہیں۔کراچی فائر بریگیڈ کا دکھڑا یہ ہے کہ ان کے پاس 28 فائر اسٹیشنز پر عملہ ناکافی ہے۔ ریسکیو 1122 کا المیہ یہ ہے کہ ان کے پاس ابتدائی تمام عملہ اور وسائل موجود ہیں مگر مطلوبہ تعداد میں فائر ٹینڈرز نہیں ہیں۔حسان الحسیب کے مطابق کراچی کی آبادی کے تناسب سے ان کے پاس 200 فائر ٹینڈر ہونا چاہئیں مگر صرف 3 بڑے اور 7 چھوٹی فائر بریگیڈ گاڑیاں ہیں جو آٹے میں نمک برابر بھی نہیں۔
۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں